Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-086

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 06 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔86 ومنها ان ياخذ المعنى ويغير اللفظ ويكون الكلام الثاني دون الاول او مساويا له، كما قال ابو الطيب في قول ابي تمام۔ فن ثالث کا خاتمہ چل رہا ہے اور اس میں سب سے پہلے مصنف آپ سب سے پہلے مصنف نے آپ کو سرقہ کے بارے میں بتلایا کہ کسی دوسرے کا کلام چوری کرنا بھئی۔ بعض صورتیں کسی کا کلام لینے کی بعض صورتیں مذموم اور قبیح ہیں اور بعض صورتیں ایسی ہیں کہ جو ان کو مذموم ہونے سے نکال دیتی ہیں، تو یہاں وہ صرف وہ صورتیں ذکر کر رہے ہیں جو مذموم ہیں۔ پہلی صورت یہ ذکر کی کوئی کہ کوئی شخص دوسرے کا کلام بعینہٖ پورے کے پورے کلام کو لے لیتا ہے بغیر اس میں کوئی تبدیلی کیے ہوئے اور یہ دعویٰ کر دیتا ہے کہ یہ میرا کلام ہے، تو یہ مذموم ہے اور قبیح ہے۔ اور اسی کے مثل ہے کہ الفاظ کو ان کے مترادف کے ساتھ بدل دیا جائے، باقی سارا معنیٰ وہی ہو۔ اور اسی کے قریب یہ ہے کہ الفاظ کو ان کے متضاد لفظوں سے بدل دیا جائے جن کے معنیٰ ان کے متضاد ہوں، البتہ نظم اور ترتیب وغیرہ وہی ہوتی ہے بھئی۔ آج مزید اسی میں تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ ومنها، اور اسی میں سے ہے کہ ان ياخذ المعنى ويغير اللفظ، کہ مثلاً ایک شخص نے ایک بات کہی تھی اور بعد والا کیا کرتا ہے؟ معنیٰ کو لے لیتا ہے اور لفظوں کو بدل دیتا ہے، لفظوں میں تبدیلی کر دیتا ہے، ويكون الكلام الثاني دون الاول، اور جو دوسرا کلام ہے یہ پہلے کلام سے کم درجے کا ہوتا ہے، او مساويا له، یا اس کے برابر ہوتا ہے بھئی۔ ایک شخص نے ایک بات پہلے کہی تھی اور دوسرا شخص کیا کرتا ہے؟ معنیٰ اس کا لے لیتا ہے البتہ لفظوں کو بدل دیتا ہے، اور یہ جو دوسرا قائل ہے اس کا کلام پہلے شخص کے کلام کے سے کم درجے کا ہوتا ہے یا اس کے برابر ہے بھئی، برابر ہوتا ہے، تو یہ بھی یاد رکھیے مذموم اور قبیح ہے۔ ہاں البتہ اگر دوسرے شخص کا کلام پہلے شخص کے کلام سے اعلیٰ ہو تو یہ اس کو مذموم ہونے سے نکال دے گا، سمجھ میں آیا؟ کہ بھئی اس کا کلام اس سے اعلیٰ ہے۔ ومنها ان ياخذ المعنى ويغير اللفظ، اور اسی کی میں سے ہے سرقہ میں سے ہی ہے کہ لے لے دوسرا قائل وہ معنیٰ کو لے لے اور لفظ کو بدل دے، ويكون الكلام الثاني دون الاول او مساويا له، اور دوسرا کلام جو ہوتا ہے دون الاول پہلے سے کم درجے کا ہوتا ہے او مساويا له یا اس کے برابر درجے کا ہوتا ہے، كما قال ابو الطيب في قول ابي تمام، جیسے کہ ابو الطیب شاعر نے کہا ابو تمام شاعر کے قول میں۔ تمام، یہ میم مشدد ہے یاد رکھیے بھئی، ابو تمام شاعر۔ تو دیکھیے دو شعر ذکر کریں گے، پہلا شعر جو ہے ابو تمام کا ہے، اور پھر بعد میں ابو الطیب شاعر نے اسی کے ایک مصرعے کو اس کے معنیٰ کو اپنے شعر میں وہ لے آتا ہے، اور یہ دوسرا مصرع جو ہے دوسرا ابو الطیب کا جو مصرع ہے جس نے بعد میں کہا اور اس کے کلام کو لیا، اس کا مصرع وہ پہلے شاعر یعنی ابو تمام کے مصرعے سے کم درجے کا ہے بھئی، کم درجے کا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پہلے ابو تمام کا شعر ہے: هيهات لا ياتي الزمان بمثله ان الزمان بمثله لبخيل هيهات، ہیہات آپ نے پڑھا ہے اسمِ فعل ہے، بمعنیٰ بَعُدَ کے، بمعنیٰ بَعُدَ کے، کہ یہ بات بڑی بعید ہے، یہ بات بڑی دور کی ہے کہ زمانہ اس کے مثل لائے بھئی۔ لا ياتي الزمان بمثله، زمانہ اس کا مثل نہیں لائے گا، ان الزمان بمثله لبخيل، بے شک زمانہ اس کے مثل کے سلسلے میں بڑا بخیل ہے، زمانہ اس کے مثل کے سلسلے میں بڑا بخیل ہے۔ یہ ابو تمام کسی کی تعریف کر رہا ہے، اور تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کو تو زمانے نے وجود دے دیا اس کو، لیکن اس جیسے لوگوں کے سلسلے میں زمانہ بڑا بخیل ہے، وہ ان کو عدم سے وجود میں لاتا ہی نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس جیسے بڑے لوگوں اور سخیوں کے سلسلے میں زمانہ بھی بخل سے کام لیتا ہے اور ان کو وجود نہیں دیتا بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب دیکھیے یہ یہ آپ پڑھ چکے، یہ مجازِ عقلی ہے، کیا ہے؟ مجازِ عقلی کس کو کہتے تھے؟ اسناد فعل یا معنیٰ فعل کا غیر ما هو له کی طرف کرنا، فاعل کے بجائے کسی اور کی طرف کرنا بھئی۔ تو آپ کے ذہن میں یہ اعتراض نہ آئے کہ پیدا کرنے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں، یہ زمانے کی طرف کیوں نسبت کر رہا ہے؟ زمانہ تو کسی کو وجود نہیں دیتا۔ جواب یہ کہ بھئی یہ مجازِ عقلی ہے اور یہ ہوتا رہتا ہے جیسے مثال میں نے ذکر کی تھی آپ بھی عام استعمال کرتے ہیں اس طرح کے کلام کہ مثلاً آپ کہتے ہیں نہر بہہ رہی ہے، حالانکہ نہر تو نہیں بہتی بلکہ نہر میں پانی بہتا ہے، تو یہ بھی اسی قبیل سے ہے، اور جس چیز کی طرف مثلاً فاعل کے علاوہ کی طرف نسبت کی گئی تو اس کا اس فعل سے تعلق ہوتا ہے، کہنے والے بھی جانتے ہیں کہ دراصل پیدا کرنے والے تو کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہیں، لیکن بہرحال زمانے کا تعلق ہوتا ہے تو ویسے زمانے کی طرف بھی نسبت کر دی جاتی ہے۔ تو یہ معنیٰ نہیں کہ ان کا عقیدہ ہی یہ ہے، ہاں غیر مسلم ہوگا تو ہو سکتا ہے اس کا تو عقیدہ یہ ہو لیکن مسلمان ہو تو اس کا یہ عقیدہ نہیں ہوگا کہ زمانہ اس کو وجود دیتا ہے بلکہ یہ مجازِ عقلی ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: هيهات، یہ بات بڑی بعید ہے، کیا بات بعید ہے؟ کہ زمانہ اس کے اس کا مثل لائے، لا ياتي الزمان بمثله، زمانہ اس کا مثل نہیں لاتا یا نہیں لائے گا، ان الزمان بمثله لبخيل، بے شک زمانہ اس جیسے لوگوں کے سلسلے میں البتہ بخیل ہے۔ یہ ابو تمام نے کہا۔ بعد میں ابو الطیب شاعر آیا اور اس نے یہ اگلا شعر اس کا ہے بھئی، وہ کہتا ہے: اعدى الزمان سخاؤه فسخا به ولقد يكون به الزمان بخيلا اعدى کے معنیٰ ہیں اعدى کے معنیٰ تجاوز کر جانا، یعنی متعدی ہونا، متعدی ہونا، یعنی یوں کہیں دوسرے کو لگ جانا، جیسے بھئی ایک بیماری ہوتی ہے بعض بیماریاں ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگ جاتی ہیں، تو یہ ہے متعدی ہونا، ایک سے دوسرے تک پہنچ جانا۔ تو یہ کہتا ہے کہ میرا ممدوح بڑا سخی ہے، بڑا ہی سخی ہے، اور اتنا سخی ہے کہ اس کی سخاوت اس سے تجاوز کر کے زمانے کو بھی لگ گئی۔ زمانہ زمانے نے بھی سخاوت کہاں سے لی؟ اسی میرے ممدوح سے لی اور اس سے سخاوت سیکھ لی، اور پھر سخاوت سیکھ کر زمانے نے میرے ممدوح کو وجود دیا۔ کیا کیا؟ میرے ممدوح کو وجود دیا۔ ان جیسے لوگوں کے لانے میں زمانہ بڑا بخیل ہے، لیکن زمانے نے بھی دراصل یہ جو اس کو وجود دیا، اس یہ سخاوت کہاں سے سیکھی زمانے نے؟ میرے اسی ممدوح سے سخاوت سیکھی اور اس کو پھر وجود دیا۔ یعنی اتنا سخی ہے کہ اس کے وجود سے پہلے ہی اس کی سخاوت تھی بھئی، اس کے وجود سے پہلے اس کی سخاوت تھی، اور وہ سخاوت اس سے پھر زمانے نے سیکھی تو زمانہ بھی سخی بن گیا، اور اس نے اس کو وجود دے دیا، ورنہ زمانے کا ارادہ نہیں تھا اس کو وجود دینے کا، زمانے نے تو اس کو اپنے لیے بخل کرتے ہوئے اپنے لیے ہی مختص کر لیا تھا، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ اعدى الزمان سخاؤه، تجاوز کر گئی زمانے کو سخاؤه اس کی سخاوت، متعدی ہو گئی زمانے کو اس کی سخاوت، فسخا به، پھر زمانے نے اس کے ساتھ سخاوت کی، ولقد يكون به الزمان بخيلا، اور تحقیق زمانہ اس کے بارے میں بخیل تھا۔ ولقد يكون به، يكون یہاں کانَ کے معنیٰ میں ہے، زمانہ اس کے بارے میں بخیل تھا۔ معنیٰ دونوں اشعار کا سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب دیکھیے بھئی، یہ ابو الطیب کا جو مصرع ہے دوسرا: ولقد يكون به الزمان بخيلا، زمانہ اس کے بارے میں بخیل تھا، یہ بعینہٖ تقریباً وہی معنیٰ ہے جو پہلے ابو تمام کے شعر میں دوسرے مصرعے میں آیا تھا: ان الزمان بمثله لبخيل، لیکن ابو تمام کا مصرع اعلیٰ ہے کس کے مقابلے میں؟ ابو الطیب جس نے بعد میں کہا، اس لیے کیونکہ ابو الطیب کے شعر میں يكون اس نے استعمال کیا، يكون، اور يكون تو فعلِ مضارع ہے، یہ تو حال یا مستقبل کے لیے آتا ہے، اور معنیٰ یہاں درست بنتا ہی نہیں جب تک اس کا ترجمہ ماضی والا نہ کریں بھئی، اس کا ترجمہ ماضی والا۔ بھئی زمانہ اس کے بارے میں بخیل ہو گا، بھئی میرے ممدوح کو تو اس نے اب وجود دے دیا، زمانے نے کیا کیا؟ وجود دے دیا، تو اس کے بارے میں جب وجود دے دیا تو مستقبل میں تو اس کے بارے میں بخل نہیں بن سکتا، معلوم ہوا کس زمانے میں اس کے بارے میں بخیل تھا؟ ماضی کے زمانے میں بخیل تھا، اس کو وجود ہی نہیں دے رہا تھا، پھر اس کی سخاوت اسی سے سخاوت سیکھتے ہوئے زمانے نے کیا کیا؟ اس کو وجود دے دیا۔ تو لہٰذا معنیٰ کون سا ہوگا؟ معنیٰ بھی سمجھ میں آ رہا ہے یا نہیں؟ زمانہ اس میرے اس وقت دیکھو بھئی شاعر جس وقت کسی کی تعریف کر رہا ہے، وہ موجود ہے یا موجود نہیں دنیا کے اندر؟ وہ موجود ہے، جب موجود ہے تو زمانہ مستقبل میں زمانے کا اس کے بارے میں بخیل ہونے کا کوئی معنیٰ نہیں بنتا، بلکہ کیا مراد ہے؟ ماضی کے اندر اس کے بارے میں بخیل تھا، یعنی اس کو وجود ہی نہیں دے رہا تھا، اس کو عدم سے وجود عدم سے وجود میں نہیں لا رہا تھا، مستقبل میں اس کے بارے میں بخیل ہونے کا معنیٰ تو بنتا ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو يكون کو کان کے معنیٰ میں کہنا پڑے گا، اور تو يكون کے اعتبار سے یہاں معنیٰ صحیح نہیں بنتا، تاویل کرنا پڑے گی، کہنا پڑے گا کہ یہ يكون کس معنیٰ میں ہے؟ کان کے معنیٰ میں ہے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا۔ اعدى الزمان، پھر یا یوں ترجمہ کر لیں: اعدى الزمان سخاؤه، سرایت کر گئی زمانے کو سخاؤه اس میرے ممدوح کی سخاوت، فسخا به، تو پھر زمانے نے اس کی سخاوت کر دی، ولقد يكون به الزمان بخيلا، اور تحقیق زمانہ اس کے بارے میں بخیل، زمانہ اس کے بارے میں بخیل تھا اسے وجود نہیں دے رہا تھا، پھر اسی سے سخاوت سرایت کر کے زمانے کو پہنچی اور زمانے نے اس سے سخاوت سیکھ لی وہ بھی کیا بن گیا؟ سخی بن گیا، اور پھر اس نے اس کے بارے میں سخاوت کی اور اس کو وجود دے دیا بھئی، اب معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ فالمصراع الثاني ماخوذ من المصراع الثاني لابي تمام، پس دوسرا مصرع جو ہے وہ لیا گیا ہے ابو تمام کے دوسرے مصرعے سے، والاول اجود سبكا، اور پہلا جو ہے عمدہ ہے سبکاً، بناوٹ کے اعتبار سے، پہلا مصرع یعنی ابو تمام کا مصرع عمدہ ہے بناوٹ کے اعتبار سے۔ یاد رکھیے یہ سَبْک کا لفظ بار بار آگے آئے گا، سین، با اور چھوٹا کاف، سَبْکٌ۔ سَبْکٌ کا معنیٰ ہوتا ہے دھات وغیرہ کو بھٹی میں پگھلا کر میل کچیل اس سے دور کرتے ہوئے اسے کسی صورت پر ڈھالنا، یہ کیا ہے؟ سَبْک ہے سَبْک، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ لفظ بار بار آئے گا۔ سَبْک کسے کہتے ہیں؟ کہ دھات وغیرہ کو میل کچیل سے صاف کرتے ہوئے اس کی ڈھلائی کرنا یعنی اس کو کوئی صورت دینا، بھئی لوہے سے چیزیں بنائی جاتی ہیں، کس طرح بنائی جاتی ہیں؟ بھٹی میں ان کو پگھلایا جاتا ہے اور پھر جو صورت دینی ہوتی ہے اس کے مطابق اس کی ڈھلائی کر لی جاتی ہے، وہ صورت اس کو دی جاتی ہے، اس کو بنایا جاتا ہے۔ تو یہ ہے سَبْک بھئی، یعنی میل کچیل دور کرنا اور اس کو صورت دینا۔ اور یہاں مراد ہے بناوٹ بھئی بناوٹ، یعنی یہ کلام کیا ہے؟ پہلا کلام بناوٹ کے اعتبار سے عمدہ ہے، اچھی طرح بنا ہوا ہے، خوبصورت بنا ہوا ہے۔ اور نیز میل کچیل دور کرنا، تو یہاں بھی اسی طرح، یعنی یہ کلام تعقیدِ لفظی اور معنوی سے خالی ہے، تو سَبْک سَبْک سے کا معنیٰ ہوا بناوٹ، اور مراد کیا ہے؟ یعنی اچھی طرح بنا ہو، تعقیدِ لفظی اور تعقیدِ معنوی سے وہ خالی ہو، اس طرح کا میل کچیل اس میں نہ ہو بھئی۔ ومثل هذا يسمى اغارة ومسخا، اور اس قسم کے کو جو ہے اغارہ اور مسخ کہتے ہیں، اس جیسے اس صورت کو اس جیسے کلام کو کیا کہتے ہیں؟ اغارہ اور مسخ کہتے ہیں، مسخ بھئی۔ تو مسخ بھی کہتے ہیں اصل میں کسی چیز کی صورت کو اعلیٰ سے ادنیٰ کر دینا، بگاڑ دینا، تو یہاں پر بھی کیا کیا دوسرے شاعر نے؟ پہلے کا کلام تھا اعلیٰ، اس نے کیا کیا اس کو؟ ادنیٰ صورت دے دی، تو گویا مسخ کر دی۔ تو کہتے ہیں: ومثل هذا يسمى اغارة ومسخا، اور اس جیسے کو اغارہ اور مسخ کہتے ہیں، ومنها ان ياخذ المعنى وحده ويكون الثاني دون الاول او مساويا له، اچھا بھئی یہ پچھلی قسم میں تھا، یہ جو ابھی ہم نے پڑھی۔ تو یہ قسم جو ابھی ہم نے پڑھی کہ دیکھیے اس میں انہوں نے شروع میں بتلایا کہ معنیٰ کو لے لیتا ہے اور لفظ کو بدل دیتا ہے، اور دوسرا کلام پہلے سے کم درجے کا ہوتا ہے یا اس کے برابر ہوتا ہے، تو یہ مذموم ہے اور یہ ناپسندیدہ ہے اور اس کو اغارہ اور مسخ کہتے ہیں۔ اور وہ قسم نہیں ذکر کی انہوں نے کہ جس میں دوسرا کلام پہلے سے اعلیٰ ہوتا ہے، اعلیٰ ہوتا ہے، وہ مذموم نہیں ہے بھئی، وہ قبیح نہیں ہے کیونکہ اس میں اس نے تبدیلی کر کے پہلے سے بھی اعلیٰ بنا دیا، اس میں اس نے اپنا کمال بھی دکھایا بعد میں آنے والے نے، تو وہ مذموم نہیں ہے بھئی، مذموم نہیں ہے۔ اور اس کو یہاں پر ذکر نہیں کیا بھئی، اس لیے کیونکہ یہاں پر صرف وہ صورتیں ذکر کر رہے ہیں جو مذموم اور قبیح ہیں اور جن کو سرقہ کہا جائے گا باقاعدہ، کہ یہ کیا کیا ہے؟ کسی نے دوسرے کا کلام چرایا ہے بھئی۔ ومنها ان ياخذ المعنى وحده ويكون الثاني دون الاول او مساويا له، اور اسی سرقہ کی اقسام میں سے ایک قسم یہ ہے کہ ان ياخذ المعنى وحده کہ بعد والا جو ہے صرف معنیٰ کو لے لیتا ہے، ويكون الثاني دون الاول او مساويا له، اور دوسرا جو ہوتا ہے اس کا کلام پہلے سے کم درجے کا ہوتا ہے، او مساويا له یا اس سے برابر درجے کا ہوتا ہے۔ تو دیکھیے یہاں پر بھی کم درجے کا ہوگا یا برابر ہوگا، اعلیٰ کو ذکر نہیں کیا کیونکہ اعلیٰ وہ مذموم اور قبیح نہیں ہے۔ كما قال ابو تمام في قول من رثى ابنه، جیسے کہ ابو تمام نے اس شخص کے قول میں کہا جس نے مرثیہ کہا تھا اپنے بیٹے کا۔ رثى يرثي کا معنیٰ ہے کسی کے مرنے پر افسوس کا اظہار کرنا، اس کے غم میں اشعار کہنا بھئی۔ تو جس نے کوئی شخص تھا اس نے اپنے بیٹے کے انتقال پر غم میں اشعار کہے تھے، تو اسی کو ابو تمام لیتا ہے اور وہ اپنے لفظوں میں ذکر کرتا ہے، اور صرف معنیٰ کو لے گا اس کے لفظوں کو نہیں۔ شخص نے یہ کہا تھا دیکھیے، پہلا شعر اس شخص کا ہے: والصبر يحمد في المواطن كلها الا عليك فانه لا يحمد شاعر کہتا ہے: والصبر يحمد في المواطن كلها، اور صبر جو ہے اس کی تعریف کی جاتی ہے تمام مقامات پر، ہر ہر مقام پر صبر کی تعریف کی جاتی ہے، صبر پسندیدہ ہوتا ہے، الا عليك، اپنے بیٹے کو خطاب کر رہا ہے، سوائے تجھ اس کے کہ تجھ پر، فانه لا يحمد، پس بے شک یہ جو ہے یہ اس کی تعریف نہیں کی جاتی یعنی یہ قابلِ تعریف نہیں ہے۔ بھئی وہ شاعر یہ کہہ رہا ہے کہ ہر ہر مقام پر صبر پسندیدہ ہوتا ہے، سارے سب لوگ کیا ہیں؟ صبر کرنے والے کی تعریف کرتے ہیں، لیکن تو جو ہے ایسا ہے کہ تجھ پر صبر پسندیدہ نہیں، تیری ذات کو دیکھا جائے، تیری صفات اور کمالات کو دیکھا جائے اور تو ان کو ان پر نظر کرتے ہوئے کہ اتنا عظیم شخص ہم سے جدا ہو گیا اور دنیا سے چلا گیا، تو اس مقام پر صبر کرنے پر کوئی بھی تعریف نہیں کرے گا، بلکہ کیا کہے گا اس موقع پر؟ کہ اتنا بڑا آدمی، اتنی عظیم صفات والا، اتنا اعلیٰ آدمی چلا گیا تو اس پر یقیناً اظہارِ غم ہونا چاہیے، دکھ، افسوس اور غم کا اظہار جس قدر زیادہ سے زیادہ کیا جائے بہتر ہے، کیونکہ کوئی عام شخص دنیا سے نہیں گیا بلکہ ایک بڑا ہی عظیم شخص دنیا سے چلا گیا۔ یہ معنیٰ ہے: والصبر يحمد في المواطن كلها الا عليك فانه لا يحمد اور صبر جو ہے وہ قابلِ تعریف ہے تمام جگہوں کے اندر، مگر تجھ پر، کیونکہ بے شک وہ قابلِ تعریف نہیں ہے۔ اب اگلا ابو تمام نے یہی بات کہی اپنے شعر میں: وقد كان يدعى لابس الصبر حازما فاصبح يدعى حازما حين يجزع وقد كان يدعى، ابو تمام کہتا ہے: اور تحقیق پکارا جاتا تھا، کس کو؟ لابس الصبر، یہ مضاف مضاف الیہ ہیں بھئی، تو الصبر پر یہ جو پیش لگی ہے یہ کتابت کی غلطی ہے۔ اور تحقیق پکارا جاتا تھا لابس الصبر، صبر کو پہننے والے کو، صبر کو یعنی صبر کا جامہ پہننے والا، یعنی صبر کرنے والا، مراد کیا ہے؟ صبر کرنے والا، اور تحقیق پکارا جاتا تھا صبر کا جامہ پہننے والے کو حازما، حازم کا معنیٰ ہے مستقل مزاج، اور اسی طرح اس کا معنیٰ ہے دور اندیش، مستقل مزاج بھئی۔ تو حازم کے معنیٰ ہیں دور اندیش کے بھی اور اسی طرح مستقل مزاج کے بھی، جو بھی آپ یہاں آپ کو مناسب لگے آپ کر سکتے ہیں۔ وقد كان يدعى لابس الصبر حازما، اور تحقیق کہا جاتا تھا صبر کرنے والے کو حازماً، مستقل مزاج۔ پہلے کیا کیا جاتا تھا؟ شاعر کہہ رہا ہے، جو صبر کرنے والا ہوتا تھا اس کو مستقل مزاج کہا جاتا تھا، فاصبح يدعى حازما حين يجزع، پس ہو گیا، اصبح بمعنیٰ صارَ کے، اب ایسا ہو گیا کہ يدعى پکارا جاتا ہے حازماً، دور اندیش مستقل مزاج، پکارا جاتا ہے مستقل یعنی مستقل مزاج کہا جاتا ہے کسی شخص کو حين يجزع جس وقت وہ اظہارِ غم کرتا ہے، دکھ اور پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔ تو شاعر کہتا ہے کہ پہلے جو شخص صبر کیا کرتا تھا اس کو مستقل مزاج کہا جاتا تھا، اور اب ایسا ہو گیا ہے کہ جو اظہارِ غم کرتا ہے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ مستقل مزاج کہا جاتا ہے بھئی۔ معنیٰ شعر کا سمجھ میں آ گیا؟ وقد كان يدعى لابس الصبر حازما فاصبح يدعى حازما حين يجزع اور تحقیق پکارا جاتا تھا صبر کرنے والے کو مستقل مزاج یعنی اس کو مستقل مزاج کہا جاتا تھا، فاصبح يدعى حازما حين يجزع اب ایسا ہو گیا ہے کہ پکارا جاتا ہے مستقل مزاج یعنی مستقل مزاج کہا جاتا ہے کسی شخص کو حين يجزع جس وقت وہ کیا کرتا ہے؟ اظہارِ غم کرتا ہے، دکھ اور تکلیف کا اظہار کرتا ہے۔ تو دیکھیے یہاں پر شاعر نے کیا کیا؟ دوسرے کے معنیٰ کو لے لیا بھئی۔ دونوں شاعر یہی کہنا چاہتے ہیں کہ صبر جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے قابلِ تعریف ہے، اس ہر ایک ہر موا ہر ہر موقع پر لوگ کیا کرتے ہیں؟ صبر کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جس شخص کا انتقال ہوا اس کی نسبت سے صبر قابلِ تعریف نہیں، اس کی شخصیت اور اوصاف کو دیکھتے ہوئے صبر قابلِ تعریف نہیں، اس کی ذات کی طرف نظر کی جائے کہ اتنا نقصان ہوا، اتنا بڑا آدمی چلا گیا، اتنے کمالات اور اوصاف والا آدمی دنیا سے چلا گیا، تو اس کی ذات کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی نہیں کہے گا کہ اس مقام پر صبر کرنا چاہیے، اتنا بڑا نقصان ہوا ہے تو ہر ایک کیا کہے گا؟ اس موقع پر اظہارِ غم کیا ہے؟ قابلِ تعریف ہے۔ دونوں کہنا یہی چاہتے ہیں، لیکن پہلے شاعر کا شعر جو ہے وہ اس بات پر خوب واضح طریقے سے دلالت کر رہا ہے، اور ابو تمام کا شعر اس پر اتنے واضح طریقے سے دلالت نہیں کر رہا بھئی۔ وهذا يسمى الماما وسلخا، اور اس قسم کو المام اور سلخ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ المام بھی کہتے ہیں اور سلخ بھی کہتے ہیں۔ تو پہلا شعر اعلیٰ ہے دوسرا اس سے کم درجے کا ہے۔ آگے دیکھیے بھئی: الاقتباس، الاقتباس هو ان يضمن الكلام شيئا من القران او الحديث لا على انه منه۔ بھئی اقتباس آسان ہے، اقتباس اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے کلام کے اندر قرآن یا حدیث کا کوئی حصہ لے کر آتا ہے اور یہ نہیں بتلاتا کہ یہ قرآن میں سے ہے کا یہ حصہ قرآن سے میں نے لیا ہے، یا یہ حصہ میں نے حدیث سے لیا ہے، اپنے کلام کے اندر ہی قرآن کے اس حصے کو یا حدیث کے اس حصے کو ملا دیتا ہے، لیکن یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے قرآن میں، حوالہ نہیں دیتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے، حوالہ نہیں دیتا، اپنے کلام کے اندر ہی قرآن کا کوئی حصہ کوئی آیت یا آیت کا حصہ ملا دیا، اس یا حدیث کا کوئی حصہ ملا دیا، اسی طرح ملایا جیسے یہ اس کا اپنا کلام ہو، سمجھ میں آیا؟ لیکن ہوتا یہ کس کے ہے؟ قرآن یا حدیث سے ہے یعنی حوالہ نہیں دیتا، تو بس یہ اقتباس ہے اقتباس۔ تو الاقتباس هو ان يضمن الكلام شيئا من القران او الحديث، اقتباس وہ یہ ہے کہ متضمن کیا جائے کلام کو قرآن یا حدیث میں سے کسی چیز کے ساتھ، یعنی کلام کے ضمن میں اس کے اندر جو ہے قرآن یا حدیث میں سے کچھ لایا جائے، لا على انه منه، نہ کہ اس طور پر کہ انه منه کہ یہ اس میں سے ہے، یعنی یہ نہیں بتلاتا۔ كقوله، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: لا تكن ظالما ولا ترض بالظلم وانكر بكل ما يستطاع يوم ياتي الحساب ما لظلوم من حميم ولا شفيع يطاع یہ کوئی شاعر ہے اور اپنے بیٹے کو نصیحت کہتے کرتے ہوئے کہہ رہا ہے: لا تكن ظالما، کہ تم ظالم نہ بننا، ولا ترض بالظلم، اور تم ظلم پر راضی نہ ہونا، وانكر، اور تم انکار کر دینا یعنی رد کر دینا، روک دینا، بكل ما يستطاع، ہر اس چیز کے ساتھ جس کی طاقت رکھی جائے، یعنی جس قدر ممکن ہو جس قدر طاقت ہو تمہارے اندر تم ظلم کو کیا کر دینا؟ ظلم سے روکنا دوسروں کو۔ يوم ياتي الحساب، جس دن کہ حساب آئے گا یعنی قیامت والا دن جب آئے گا، ما لظلوم، نہیں ہوگا، ظلوم اسی ظالم کے مبالغہ ہے بھئی، مبالغے کا صیغہ ہے، تو نہیں ہوگا ظالم کے لیے، من حميم، نہ کوئی گہرا دوست، ولا شفيع، اور نہ کوئی ایسا سفارشی، يطاع، جس کی اطاعت کی جائے یعنی جس کی بات مانی جائے، یعنی جس کی سفارش کو قبول کیا جائے، کوئی ایسا سفارش کرنے والا بھی اس کے لیے نہیں ہوگا۔ تو شاعر اپنے بیٹے سے کہتا ہے: لا تكن ظالما ولا ترض بالظلم کہ تو ظالم نہ بن اور نہ تو راضی ہو ظلم پر، وانكر بكل ما يستطاع اور تو منع کر ہر اس چیز کے ساتھ جس کی تو طاقت رکھ جس کی طاقت رکھی جائے، یعنی ہر ممکن طریقے سے ظلم سے لوگوں کو منع کر، يوم ياتي الحساب ما لظلوم من حميم ولا شفيع يطاع جس دن کہ حساب آئے گا تو نہیں ہوگا ظالم کے لیے کوئی گہرا دوست اور نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی سفارش قبول کی جائے۔ تو یہ دیکھیے، اب یہ جو شاعر نے کہا: ما لظلوم من حميم ولا شفيع يطاع یہ اس نے لیا قرآن کی اس آیت سے، یہ آپ کے حاشیے میں انہوں نے دی ہوئی ہے: مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ تو دیکھو مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ، یہ تو بعینہٖ سارے یہی الفاظ اس نے لے لیے بھئی، اور حوالہ شروع میں ذکر نہیں کیا کہ یہ کس کا قول میں ذکر کر رہا ہوں؟ اللہ کا، قرآن کا ک قرآن سے اخذ کر رہا ہوں، یہ نہیں ذکر کیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اقتباس کہتے ہیں۔ وقوله، اور جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: لا تعاد الناس في اوطانهم قلما يرعى غريب الوطن واذا ما شئت عيشا بينهم خالق الناس بخلق حسن شاعر کہتا ہے کسی سے کسی کو نصیحت کہہ کرتے ہوئے: لا تعاد الناس في اوطانهم، عادی یعادی معادات کے معنیٰ دشمنی کرنا، لا تعاد الناس، تو لوگوں سے دشمنی نہ کر، في اوطانهم، ان کے وطنوں میں، ان کے علاقوں کے اپنے علاقے کے اندر کسی کے ساتھ اس سے دشمنی دشمنی نہ کر، قلما، بہت کم جو ہے، يرعى غريب الوطن، بہت کم رعایت رکھی جاتی ہے غریب الوطن کی یعنی مسافر کی، کسی مسافر کی بہت کم رعایت رکھی جاتی ہے، تو غریب الوطن مسافر یعنی پردیسی۔ قلما، بہت کم جو ہے کسی مسافر کی رعایت رکھی جاتی ہے یعنی اس کا کم لحاظ رکھا جاتا ہے۔ واذا ما شئت عيشا بينهم، اور جب تو چاہتا ہے عيشا بينهم، عاش یعیش کے معنیٰ ہوتے ہیں زندگی گزارنا، واذا ما شئت عيشا بينهم اور جب تو ان کے درمیان زندگی گزارنا چاہتا ہے، فخالق الناس بخلق حسن، تو خالق یخالق کے معنیٰ ہوتے ہیں کسی سے اچھا برتاؤ کرنا، اچھا برتاؤ کرنا۔ تو خالق الناس بخلق حسن، تو لوگوں سے برتاؤ کر بخلق حسن اچھے اخلاق کے ساتھ۔ خلق اسی کی جمع اخلاق آتی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو خلق کا معنیٰ وہ طبیعت، عادت وغیرہ بھئی۔ دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے بھئی: لا تعاد الناس في اوطانهم تو دشمنی نہ کر لوگوں سے ان کے اپنے علاقوں میں، ان کے اپنے وطنوں میں، قلما يرعى غريب الوطن بہت کم لحاظ رکھا جاتا ہے کسی مسافر کا، واذا ما شئت عيشا بينهم اور جب تو ان کے درمیان زندگی گزارنا چاہتا ہے، فخالق الناس بخلق حسن تو لوگوں کے ساتھ جو ہے اچھا برتاؤ کر، اچھا سلوک کر۔ اب دیکھیے اس شاعر کے آخری مصرع جو ہے: خالق الناس بخلق حسن، یہ حدیث سے لیا گیا ہے۔ حدیث میں بھی بعینہٖ یہی الفاظ آتے ہیں: خالق الناس بخلق حسن بھئی، یہ حدیث ہے، اور حوالہ کوئی نہیں دیا اس نے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اقتباس کہتے ہیں۔ ولا باس بتغيير يسير في اللفظ المقتبس للوزن او غيره، اور کوئی حرج نہیں بتغيير يسير تھوڑی سی تبدیلی میں تھوڑی سی تبدیلی کرنے میں کوئی حرج نہیں فی اللفظ المقتبس اس لفظ کے اندر جس کو لیا گیا ہے، للوزن او غيره، وزن یا کسی اور چیز کی وجہ سے۔ وزن وغیرہ کی وجہ سے، بھئی قرآن یا حدیث کا حصہ لیا اور کس میں ذکر کیا؟ اپنے کلام میں، شعر وغیرہ میں ذکر کیا یا کل اور کلام میں، اور شعر کے وزن وغیرہ کی رعایت سے اس نے اس کے لفظ میں تھوڑی سی تبدیلی بھی کر دی تو بھی اس میں کوئی حرج نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور یہ یاد رکھیے یہ وہ یہ وہ سرقہ میں داخل نہیں ہے بھئی، یہ اقتباس ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اسی لیے انہوں نے اس کے شروع میں الگ عنوان دیا الاقتباس، ماقبل میں پہلا عنوان ابھی تک کیا چل رہا تھا؟ سرقہ چل رہا تھا، اب دوسرا عنوان الاقتباس آیا، لے اور لیکن اس کو یہاں اس لیے ذکر کیا کہ جیسے سرقہ میں دوسرے کا کلام لیا جاتا ہے یہاں پر بھی کیا کیا گیا؟ یعنی قرآن اور حدیث سے کلام ہے اس کا حصہ لیا گیا بھئی، لیکن بہرحال یہ مذموم نہیں ہے بھئی، کیونکہ حدیث یا قرآن سے لیا ہے وہ تو سب جانتے ہیں بھئی اور سمجھ میں آیا؟ سب کو علم ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ولا باس بتغيير يسير في اللفظ المقتبس للوزن او غيره، اور کوئی حرج نہیں ہے وہ لفظ جو لیے گئے ہیں ان میں تھوڑی تبدیلی کرنے میں للوزن او غيره وزن وغیرہ کی وجہ سے، نحو، مثال کے طور پر: قد كان ما خفت ان يكونا انا الى الله راجعونا قد كان، ای قد ثبت، تحقیق ہو گیا۔ ما خفت، وہ چیز جس سے میں ڈرتا تھا، ان يكونا، کہ وہ ہو جائے گی۔ جس چیز کے ہونے سے میں ڈرتا تھا وہ ہو گئی، یہ شاعر کسی اس کا کوئی ساتھی اس کا انتقال ہو گیا، اس پر غم میں اشعار کہہ رہا ہے۔ قد كان ما خفت ان يكونا، کہ تحقیق وہ چیز ہو گئی جس کے ہونے سے میں ڈرتا تھا، انا الى الله راجعونا، یقیناً ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اب شاعر نے اس دوسرے مصرعے میں کہا: انا الى الله راجعونا، آگے کہہ رہے ہیں: وفي القران، اور قرآن میں آیا ہے: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ تو دیکھیے قرآن میں کیا آیا؟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ تو یہ اسی سے اخذ کیا ہے یہ سارا مصرع شاعر نے، لیکن قرآن میں تھا تھوڑی سی قرآن میں لفظ کچھ اور تھے، شاعر نے لفظوں کو بدل دیا۔ قرآن میں تھا: إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ صرف یہ حصہ لیا ہے شاعر نے: إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ تو شاعر نے کیا کیا؟ الیہ کے اندر ہا ضمیر تھی، ضمیر راجع تھی ذاتِ باری تعالیٰ کو، تو شاعر نے ضمیر کی جگہ لفظِ اللہ کو باقاعدہ ذکر کر دیا، اور نیز آیت کے اندر راجعون تھا بھئی، آخر میں نون تھا لیکن یہاں شعر کے اندر شاعر نے الفِ اشباع کو بڑھا دیا، الفِ اشباع کس کو کہتے ہیں؟ ہاں جو حرکت کو لمبا آواز کو اور حرکت کو لمبا کرنے کے لیے جو الف آخر میں بڑھایا جاتا ہے اس کو الفِ اشباع کہتے ہیں بھئی، اور یہ وہی اور شعر کے اوزان وغیرہ کی رعایت رکھتے ہوئے۔ تو شاعر کہتا ہے: قد كان ما خفت ان يكونا، خفتَ یہ غلط ہے بھئی، خفتُ خفتُ، قد كان ما خفت ان يكونا، تحقیق ہو گئی وہ چیز جس کے ہونے سے میں ڈرتا تھا، بے شک ہم اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اگلی صنعت ہے: التضمين، تضمین، ويسمى الايداع، وهو ان يضمن الشعر شيئا من شعر اخر مع التنبيه عليه ان لم يشتهر۔ بھئی اقتباس کس کو کہتے تھے؟ کہ کوئی شخص اپنے کلام میں قرآن یا حدیث کا کوئی حصہ لے آئے اور حوالہ نہیں دیتا، کیو اور حوالہ دے نہ بھی دے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ قرآن اور حدیث ہے تو سب کو علم ہوتا ہے اس کا بھئی۔ اور تضمین بھی اسی طرح ہے، لیکن اس میں اپنے کلام کے اندر شاعر قرآن یا حدیث کو نہیں لاتا بلکہ اپنے شعر میں کسی دوسرے کا شعر لے آتا ہے، کیا کرتا ہے؟ کسی دوسرے کا شعر لے آتا ہے، اور اگر وہ مشہور ہے شعر تو پھر متنبہ کرنے کی بھی نہیں ضرورت کہ یہ میں کسی اور کا شعر لا رہا ہوں، جب مشہور ہے سب کو پتہ ہوتا ہے، اور اگر مشہور نہیں ہے تو پھر اس پر وہ متنبہ بھی کر دیتا ہے کہ یہ کسی کا اور کا شعر میں ذکر کر رہا ہوں، تو اس کو کہتے ہیں تضمین، کہ اپنے شعر میں اپنی نظم میں کسی دوسرے کا شعر یا اس کے شعر کا کچھ حصہ لانا۔ التضمين ويسمى الايداع، تضمین اور اس کو ایداع بھی کہتے ہیں، هو ان يضمن الشعر شيئا من شعر اخر، وہ یہ کہ متضمن کیا جائے شعر کو کسی چیز کے ساتھ جو کسی دوسرے کے شعر میں سے ہو، یعنی اپنے شعر کو متضمن کیا جائے یعنی اس کے ضمن میں لایا جائے کسی اور کے شعر میں سے کچھ، مع التنبيه عليه ان لم يشتهر، ساتھ اس پر متنبہ کرتے ہوئے بھی اگر وہ مشہور نہ ہو، متنبہ بھی کر دیتا ہے کہ یہ کسی اور کا شعر ہے، كقوله، جیسے کہ ایک شاعر کہتا ہے: اذا ضاق صدري وخفت العدى تمثلت بيتا بحالي يليق فبالله ابلغ ما ارتجي وبالله ادفع ما لا اطيق شاعر کہتا ہے: اذا ضاق صدري، جب میرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے، وخفت العدى، عِدیٰ جمع ہے عدوٌ کی، دشمن کو کہتے ہیں یہ اس کی جمع ہے بھئی۔ اذا ضاق صدري، جب میرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے، وخفت العدى، اور میں دشمنوں سے ڈرتا ہوں، تمثلت بيتا، تمثل کے معنیٰ ہیں بطورِ مثال کے بیان کرنا، تمثلت بيتا، تو میں بطورِ مثال کے بیان کرتا ہوں ایک ایسے شعر کو، بحالي يليق، جو میرے حال کے ساتھ لائق مناسب ہے۔ جب میرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور میں دشمنوں سے ڈرتا ہوں تو اس وقت میں ایک ایسے شعر کو بطورِ مثال کے ذکر کرتا ہوں جو میرے حال کے جو میری حالت کے مناسب ہے۔ فبالله ابلغ ما ارتجي وبالله ادفع ما لا اطيق وہ یہ شعر ہے، اس کے ساتھ میں مثال ذکر کرتا ہوں۔ فبالله ابلغ، تو اللہ ہی کے ساتھ میں پہنچتا ہوں یعنی اللہ کی مدد سے میں پہنچتا ہوں، ما اس چیز کو، ارتجي جس کی میں امید کرتا ہوں۔ فبالله، تو اللہ کی مدد سے ہی میں پہنچتا ہوں ما اس چیز کو ارتجي، ارتجی؟ امید کرنا، یہ رجا سے ہے، رجا کس کو کہتے ہیں؟ امید کو۔ میں پہنچتا ہوں ما اس چیز کو ارتجی جس کی میں امید کرتا ہوں، وبالله ادفع ما لا اطيق، اور اللہ کی مدد سے ہی میں دور کرتا ہوں اس چیز کو جس کی میں طاقت نہیں رکھتا، اطاق یطیق کا معنیٰ ہے طاقت رکھنا۔ تو شاعر کہتا ہے جب میرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور مجھے دشمنوں کا خوف ہونے لگتا ہے تو پھر میں ایک ایسے شعر کے ساتھ مثال بیان کرتا ہوں جو میری حالت کے بڑا مناسب ہے، اور وہ یہ کہ اللہ کی مدد سے ہی میں اس چیز کو پہنچتا ہوں جس کی میں امید کرتا ہوں اور اللہ کی مدد سے ہی میں ان چیزوں کو دور کرتا ہوں جن کو دور کرنے کی میں طاقت نہیں رکھتا۔ اب دیکھیے شاعر نے: فبالله ابلغ ما ارتجي وبالله ادفع ما لا اطيق یہ والا جو پورا شعر ہے یہ کسی اور کا ہے، شاعر نے اس کو اپنے اشعار میں ذکر کر دیا اور شروع میں حوالہ بھی دے دیا: تمثلت بيتا، کہ میں اپنی حالت کس کے ساتھ بیان کرتا ہوں؟ میں مثال بیان کرتا ہوں ایک ایسے شعر کے ساتھ اپنی حالت بیان کرتا ہوں، اور آپ جانتے ہی ہیں تو بطورِ مثال کے ایسا ہی شعر ذکر کیا جاتا ہے جو پہلے کسی نے کہا ہو بھئی، پہلے کہا ہو۔ تو بہرحال تمثلت بيتا کے ذریعے اس نے کیا کر دیا؟ اشارہ کر دیا کہ یہ کسی اور کا شعر ہے، اس کے ذریعے میں اپنی مثال بیان کرتا ہوں۔ ولا باس بالتغيير اليسير، اور کوئی حرج نہیں تھوڑی سی تبدیلی کرنے میں۔ یہاں تو شاعر نے پورا شعر لے لیا، لیکن اگر کوئی تھوڑی سی تبدیلی کر دے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، كقوله، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: اقول لمعشر غلطوا وغضوا من الشيخ الرشيد وانكروه هو ابن جلا وطلاع الثنايا متى يضع العمامة تعرفوه اب دیکھیے یہ جو شاعر نے کہا: هو ابن جلا وطلاع الثنايا متى يضع العمامة تعرفوه یہ ماخوذ ہے ایک اور شاعر کے شعر، اس نے لے لیا، وہ شعر یہ آپ کے حاشیے میں دیا ہوا ہے۔ اس شاعر نے کہا تھا یہ حاشیے میں یہ شعر آپ کے دیا ہوا ہے بھئی انہوں نے، اصل شعر جو تھا، میری کتاب میں تو حاشیے میں بھی جو انہوں نے شعر دیا ہے نا وہ بھی غلط دیا ہے۔ وہی حاشیے میں تو وہی شعر اٹھا کر دے دیا جو اوپر کتاب میں تھا۔ حاشیے میں جو شعر ہے نا اس کی ذرا اصلاح کر لینا، خصوص الگ دیا ہوا ہے بھئی، پہلے حاشیے میں بھی یہی دونوں شعر دیے ہوئے ہیں، اور پھر اس کے بعد: وهو في الاصل هكذا، اصل میں یہ شعر یوں تھا، آگے کیا ہے؟ دیکھیے انہوں نے کہا: هو ابن جلا وطلاع الثنايا متى يضع العمامة تعرفوني صرف یہ نی انہوں نے کر دیا ہے باقی اوپر والا ہی شعر دے دیا ہے، اصل میں شعر یوں ہے آپ درست کر لیں بھئی: انا ابن جلا وطلاع الثنايا متى اضع العمامة تعرفوني ہوا نہیں ہے شروع میں، انا ہے انا، شاعر اپنے بارے میں کہہ رہا ہے، انا، انا ابن جلا وطلاع الثنايا، بس صرف ہوا کی جگہ انا کر دیں پہلا مصرع باقی ٹھیک ہے۔ آگے ہے متى يضع، متى يضع نہیں صحیح، متى اضع، اضع متکلم کا صیغہ ہے، الف، ضاد، عین۔ کر لیا صحیح بھئی؟ ہاں، یہ ہے اصل شعر۔ تو یہ دیکھیے یہ کسی شاعر نے کہا تھا اپنی تعریف کرتے ہوئے: انا ابن جلا وطلاع الثنايا متى اضع العمامة تعرفوني انا ابن جلا، جلا، جلا یجلو کے معنیٰ ہوتے ہیں واضح ہونا۔ جلی کسے کہتے ہیں؟ جو واضح اور ظاہر ہو۔ خفی جو پوشیدہ ہو، تو یہ انا ابن جلا، تو شاعر کیا کہتا ہے؟ انا ابن جلا، یاد رکھیے ابن جلا عربی میں کہتے ہیں اس شخص کو اس شخص کو جس کا معاملہ خوب واضح ہو بھئی، جس کا معاملہ کیا ہو؟ خوب واضح ہو، اور اس کو کہتے ہیں ابن جلا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ابن جلا۔ اور طلاع الثنايا، طلاع یہ مبالغہ ہے طالع کے اندر، طالع اوپر چڑھنے والا، اور ثنایا جمع ہے ثنیۃٌ کی، ثنیہ کہتے ہیں پہاڑی راستے کو، گھاٹی وغیرہ کو، اور تو طلاع الثنایا کا معنیٰ کیا ہوا؟ گھاٹیوں پر یا پہاڑی راستوں پر چڑھنے والا، یعنی مشکلات کا مقابلہ کرنے والا، یعنی تجربہ کار، مشکلات کا مقابلہ کرنے والا۔ جی تو وہ حاشیے میں جو شعر ہے پہلے میں اس کا ترجمہ بیان کر رہا ہوں: انا ابن جلا وطلاع الثنايا شاعر کہتا ہے: انا ابن جلا، میں میں ایسا شخص ہوں کہ میرے معاملات بڑے ہی واضح ہیں، کسی پر چھپے ہوئے نہیں ہیں، وطلاع الثنايا، اور میں دشوار گزار راستوں پر چڑھنے والا ہوں، یعنی مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرنے والا ہوں، میں کسی چیز سے گھبراتا نہیں ہوں، یعنی بڑا باہمت آدمی ہوں۔ متى اضع العمامة متى اضع متى اضع العمامة، جب میں جب میں پگڑی رکھوں گا، تعرفوني، تو تم مجھے پہچان لو گے۔ پگڑی سے یہاں مراد ہے وہ جنگی لباس بھئی، وہ لوہے کا خود وغیرہ جو جنگوں میں سر پر پہنا جاتا ہے اور زرہ وغیرہ، تو وہ مراد ہے۔ متى اضع العمامة، جب میں جنگی لباس سر پر رکھوں گا، یعنی وہ لوہے کا خود سر پر رکھوں گا، تعرفوني، تو تم مجھے پہچان لو گے، یعنی جب میں وہ لباس پہنوں گا یعنی جنگ کے لیے میدان میں اتروں گا پھر تم لوگوں کو پتہ چلے گا کہ یہ کتنا بہادر آدمی ہے بھئی، تم مجھے پہچان لو گے بھئی، تمہیں پھر میری بہادری کا پتہ چلے گا۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ انا ابن جلا وطلاع الثنايا میں ایسا شخص ہوں جس کا معاملہ بڑا ہی واضح ہے اور میں بڑا ہی باہمت آدمی ہوں، مشکلات کا مقابلہ کرنے والا ہوں، متى اضع العمامة تعرفوني جب میں وہ پگڑی رکھوں گا سر پر تو تم لوگ مجھے پہچان لو گے۔ اچھا اب آئیے ذرا پھر کتاب پر اوپر بھئی۔ شاعر نے اسی شعر کو تھوڑی تبدیلی کر کے کہا: هو ابن جلا، اصل میں کیا تھا؟ انا ابن جلا، شاعر نے اوپر کہا: هو ابن جلا وطلاع الثنايا، متى يضع العمامة، شاعر نے یضع کہہ دیا اصل شعر میں کیا تھا؟ اضع، اور نیز آگے شاعر نے کہہ دیا: تعرفوه، ہا ضمیر آخر میں ملائی، حالانکہ دوسرے اصل میں کیا تھی؟ تعرفونی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا اب یاد رکھیے، یہ شاعر جو ہے نا شاعر، یہ کوئی بوڑھا یہودی تھا اور کوئی سر وغیرہ اور اس کے بدن پر ایسی بیماری بھی تھی جس سے اس کے سر کے سارے بال گر گئے، گنجا ہو گیا، تو اب اس کے بارے میں کوئی شاعر کہتا ہے، اس کے بارے میں شاعر کہتا ہے۔ دیکھیے شاعر کیا کہتا ہے؟ کہتا ہے: اقول لمعشر غلطوا وغضوا من الشيخ الرشيد وانكروه معشر کہتے ہیں جماعت کو، ایسے جماع ایسے لوگوں کی جماعت جن کے احوال ایک جیسے ہوں، تو بہرحال جماعت کے معنیٰ میں ہے۔ اقول لمعشر، شاعر کہتا ہے میں کہتا ہوں جماعت سے، یعنی یہودیوں کی جماعت سے کہتا ہوں، ایسی جماعت بھئی نکرہ آیا معشر، اس کے بعد غلطوا فعل آیا، میں کہتا ہوں ایسی جماعت سے غلطوا جنہوں نے کیا کیا؟ جنہوں نے غلطی کی، وغضوا من الشيخ الرشيد، غض من فلان عربی میں کہتے ہیں جب کوئی کسی کی طرف توجہ نہ کرے، تو کیا کہتے ہیں؟ غض من فلان۔ تو میں شاعر کہتا ہے توجہ رکھنا شعر پر بھئی: اقول لمعشر غلطوا وغضوا من الشيخ الرشيد میں کہتا ہوں اس جماعت سے ایسی جماعت سے جنہوں نے غلطی کی اور انہوں نے بے توجہی کی اس شیخِ رشید سے، اس ہدایت یافتہ بوڑھے سے۔ میں ایسی جماعت سے کہتا ہوں جنہوں نے غلطی کی ہے اور بے توجہی کی ہے، بے التفاقی کی ہے کس سے؟ من الشيخ الرشيد، رشید کہتے ہیں ہدایت یافتہ، ہدایت یافتہ بوڑھے سے جنہوں نے بے توجہی کی ہے، اس کی طرف توجہ نہیں کی، وانكروه، اور اس کو انہوں نے پہچانا نہیں، انکر کے کیا معنیٰ؟ اجنبی سمجھنا، اس کو یعنی انہوں نے پہچانا نہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں، شاعر کہتا ہے: هو ابن جلا وہ ایسا آدمی ہے کہ اس کا معاملہ بڑا ہی واضح ہے، وطلاع الثنايا اور وہ مشکلات کا کو برداشت کرنے والا ہے، متى يضع العمامة تعرفوه جب وہ سر پر پگڑی رکھے گا تعرفوه تو تم اس کو پہچان لو گے، تو تم کیا کرو گے؟ اس کو پہچان لو گے۔ میں نے پڑھا: متى يضعِ العمامة، کیوں؟ کیونکہ متى جو ہے یہ شرط کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، اور پھر یہ جزم دیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ جزم دیتا ہے۔ متى تجلس اجلس، جب آپ بیٹھیں گے میں بھی بیٹھوں گا، تو دیکھو متى اجلس، سین کیا ہوا؟ ساکن، جزم آیا، یہ کس کی وجہ سے؟ متى کی وجہ سے، اور متى تجلس اجلس، شرط بھی مجزوم اور جزا بھی مجزوم۔ یہاں بھی اسی طرح ہے: يضع، يضع، اس پر بھی جزم آئے گا، عین ساکن ہے، جزم ہے اس پر، اور پھر آگے لام بھی العمامة کا لام بھی ساکن کیونکہ ہمزہ گر گیا، تو الساكن اذا حرك حرك بالكسر، لہٰذا عین کو کسرہ دے دیا گیا ملا کر پڑھنے کے لیے، اور تعرفوه، دیکھو یہاں سے بھی نون گر گیا، تعرفونه، نون ہونا چاہیے تھا لیکن کس کی وجہ سے گرا؟ متى سے، کیونکہ یہ یہ نونِ اعرابی حالتِ جزمی میں گر جاتا ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: متى يضع العمامة تعرفوه، جب وہ سر سے سر پر پگڑی رکھے گا تو تم اس کو پہچان لو گے۔ اب یاد رکھیے، یہ مثال تو تھی تھوڑی سی تبدیلی بھی کر دی جائے دوسرے کے شعر میں تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ بڑا مشہور شعر ہے سب کو معلوم ہے بھئی۔ اب یاد رکھیے بظاہر آپ کو یوں لگا ہوگا کہ شاعر نے اپنے لوگوں کو غلطی پر تنبیہ کی ہے کہ دیکھو یہ بوڑھا شخص جو ہے، یہ جو بوڑھا یہودی ہے یہ بڑا سمجھدار ہے، ہدایت یافتہ ہے، اس کا معاملہ بڑا واضح ہے، یہ بڑا مشکلات کو برداشت کرنے والا ہے، اور تم نے اس کو اچھی طرح پہچانا نہیں، جب یہ اپنے سر پر پگڑی رکھے گا تو تم کیا کرو گے؟ اس کو پہچان لو گے، یعنی قوم والوں کی غلطی پر تنبیہ کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ غلطی پر تنبیہ کر رہا ہے۔ لیکن دراصل ایسا نہیں، یہ بھی اس بوڑھے کا مذاق اڑا رہا ہے، یہ شاعر بھی کیا کر رہا ہے؟ اس بوڑھے یہودی کا مذاق اڑا رہا ہے۔ بہرحال ان اشعار سے تو واضح نہیں ہوتا لیکن معلوم ہوا ماقبل یا مابعد کے اشعار ہوں گے ان سے بات کا پورا پتہ چلتا ہوگا۔ تو شاعر دراصل یہ کہہ رہا ہے، اب سنیں ترجمہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے؟ شاعر کہتا ہے: اقول لمعشر غلطوا، میں کہتا ہوں ایک اس جماعت سے جنہوں نے غلطی کی ہے اور نظروں اور اور بے توجہی کی ہے، من الشيخ الرشيد، کس سے؟ ایک ہدایت یافتہ بوڑھے سے، تو یہاں رشید سے اس وہ استہزاء کر رہا ہے، مذاق اڑا رہا ہے، تو رشید سے سمجھدار یا ہدایت یافتہ مراد نہیں ہے اس کی بلکہ رشید سے مراد گمراہ مراد ہے، کیا مراد ہے؟ بھئی مذاق کے طور پر مذاق کے طور پر آپ بھی اس طرح کرتے ہیں، آپ کے کسی ساتھی سے کوئی بڑی حماقت ہو گئی، اب جب وہ آتا ہے آپ سارے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ جیسے ہی آتا ہے آپ کہتے ہیں: لو بھئی بڑا سمجھدار آدمی آ گیا! کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ سمجھ میں آیا؟ تو یہ استہزاء کرتے ہوئے اس طرح کیا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی شیخِ بھئی یہ ماقبل اور مابعد کے اشعار سے اندازہ ہوتا ہے، تو یہ جو شیخِ رشید اس نے کہا اس سے مراد لفظ تو اس نے ہدایت یافتہ کا ذکر کیا لیکن مراد کیا ہے؟ گمراہ، کہ میں کہتا ہوں ایسی جماعت سے جنہوں نے غلطی کی ہے اور بے توجہی کی ہے ایک بوڑھے شیخ سے، وانكروه، اور اس کو پہچانا نہیں کہ هو ابن جلا، کہ وہ کیا ہے؟ ابن جلا کا کیا معنیٰ؟ اس کا معاملہ واضح ہے، معاملہ واضح ہے۔ بھئی ابن جلا سے مراد یہ نہیں ہے کہ اس کا معاملہ واضح ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اس کا سر بڑا واضح ہے کیونکہ بال وغیرہ گر گئے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ اور وطلاع الثنايا، اور طلاع الثنایا کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ وہ مشکلات کو برداشت کرنے والا ہے اور باہمت ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ذلت کو برداشت کرنے والا ہے، ذلت کی مشکلات کو برداشت کرنے والا ہے۔ اور آگے جو کہا: متى يضع العمامة تعرفوه، جب وہ پگڑی اپنے سر پر رکھے گا تو تم اس کو پہچان لو گے۔ تو وضع کے معنیٰ ہوتے ہیں رکھنا، اور وہ اصل شعر میں کیا آیا تھا؟ متى اضع العمامة، جب میں کیا کروں گا؟ اپنے سر پر پگڑی رکھوں گا یعنی جنگی لباس پہنوں گا تو تم مجھے پہچان لو گے، تو یہاں پر بھی اس نے اس طرح ذکر کیا: متى يضع العمامة، جب یہ پگڑی رکھے گا، جب کیا کرے گا؟ پگڑی رکھے گا، لیکن اس میں تھا سر پر رکھے گا، اس کا اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے یہ جب سر سے نیچے رکھے گا۔ یہاں کیا مراد ہے؟ سر سے، یہ معنیٰ بنتا ہے یا نہیں بھئی؟ يضع العمامة على الراس، کیا معنیٰ؟ سر پر پگڑی رکھی، اور يضع العمامة عن الراس، اب کیا معنیٰ؟ سر سے نیچے رکھنا، اتارنا۔ تو یہاں یہ مراد ہے سر سے، متى يضع العمامة، جب یہ سر سے پگڑی نیچے رکھے گا یعنی پگڑی اتارے گا، تعرفوه، تو تم پہچان لو گے کہ یہ تو وہی گنجا بوڑھا ہے، معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ عام نثر کے اندر آپ دوسرے کا شعر لے کر آتے ہیں اس کو نہیں تضمین کہتے، بلکہ تضمین میں نظم کے اندر آپ کیا کرتے ہیں؟ دوسرے کے شعر کو لے آتے ہیں، پوری تو اسی طرح بعینہٖ یا کچھ تبدیلی کر کے، تو یہ ہے تضمین، کیونکہ یہاں شبہ پڑے گا کہ شاید یہ اس کے اشعار چل رہے ہیں تو یہ بھی اسی کا شعر ہے، تو بعض اوقات جب یہ دوسرے کا شعر مشہور نہیں ہوتا تو اس پر متنبہ کر دیا جاتا ہے، اور اگر مشہور ہوتا ہے تو پھر متنبہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں، جیسے دوسری مثال میں آپ نے دیکھا اس نے متنبہ بھی نہیں کیا کہ کسی دوسرے کا شعر ہے، لیکن وہ بڑا مشہور و معروف شعر ہے، ہر ایک کو علم ہے اس کا بھئی۔ تو اور تھوڑی سی تبدیلی کر دی، تو چاہے تبدیلی نہ کی جائے چاہے تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، دونوں صورتیں ٹھیک ہیں بھئی، اس کو تضمین کہتے ہیں تضمین بھئی۔ جی؟ يسمى کے بعد... جی۔ ويسمى هو، ای التضمين، تضمین کہلاتی ہے، کیا کہلاتی ہے؟ الايداع۔ سمى دو مفعول چاہتا ہے، سميت زيدا یا سميت فلانا زيدا، میں نے فلاں کا نام کیا رکھا؟ زید۔ اسی کو جب آپ مجہول بناتے ہیں: سمي، تو ایک تو نائب فاعل بن جائے گا، سمي فلانٌ، اور زيدا مفعول اسی طرح رہے گا، سمي فلانٌ زيدا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔