Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-085

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 06 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔85 ائتلاف اللفظ مع اللفظ هو كون الفاظ العبارة من واد واحد في الغرابة والتاهل، كقوله تعالىٰ: تالله تفتؤ تذكر يوسف، لما اتي بالتاء التي هي اغرب حروف القسم، اتي بتفتؤ التي هي اغرب افعال الاستمرار۔ آخری صنعت محسناتِ لفظیہ میں سے جس کو یہ بیان کر رہے ہیں، اس کا نام ہے: ائتلاف اللفظ مع اللفظ۔ ائتلاف اللفظ مع اللفظ، لفظ کا لفظ کے ساتھ متحد ہونا یعنی لفظ کا لفظ کے ساتھ موافق ہونا۔ ایک لفظ کا دوسرے لفظ کے ساتھ موافق ہونا یعنی ایک جیسے لفظوں کو لے کر آنا۔ تو یہ کسے کہتے ہیں ائتلاف اللفظ مع اللفظ؟ کہتے ہیں: هو كون الفاظ العبارة من واد واحد، وہ عبارت کے الفاظ کا ایک ہی وادی سے ہونا ہے۔ من واد واحد، ایک ہی وادی سے۔ تو کہتے ہیں: ائتلاف اللفظ مع اللفظ یہ ہے کہ آپ کے عبارت کے الفاظ جو ہیں وہ ایک ہی وادی سے ہوں یعنی ایک ہی قسم کے ہوں۔ ایک ہی وادی سے کیا معنیٰ؟ ایک ہی قسم کے ہوں فی الغرابة والتاهل۔ غرابت آپ پڑھ چکے بھئی، لفظ کا غیر مانوس ہونا بھئی، جس کے معنیٰ کا پتہ نہ چلتا ہو، یا یا کم استعمال ہوتا ہو، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ایک ہی وادی سے ہونا، فی الغرابة والتاهل، غیر مانوس ہونے میں والتاهل اور مانوس ہونے میں، تاہل کا کیا معنیٰ ہے؟ مانوس بھئی۔ تو یعنی اگر آپ الفاظ لائے ہیں مانوس قسم کے، تو باقی لفظ بھی اسی طرح کے مانوس مانوس الاستعمال الفاظ لاتے ہیں اور اگر کچھ لفظ کس قسم کے لائے ہیں آپ؟ غیر مانوس الاستعمال، تو پھر دوسرے بھی اسی طرح کے غیر مانوس غیر مانوس الاستعمال الفاظ آپ لے آتے ہیں۔ كقوله تعالىٰ، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: تالله تفتؤ تذكر يوسف۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام جب ان سے جدا ہو گئے، تو حضرت یعقوب علیہ السلام ان کو بڑی کثرت سے یاد کرتے اور ان کی یاد میں روتے رہتے تھے بھئی، روتے رہتے تھے۔ تو ان کو حضرت یوسف علیہ السلام سے انتہا درجے کی محبت تھی، تو لہٰذا ان کو یاد کرتے اور روتے رہتے۔ اور رونے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ دراصل حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام کے ایمان کی فکر تھی کہ یہ تو چھوٹا ہے مجھ سے جدا ہو گیا، پتہ نہیں کن لوگوں کے ہاتھ چڑھتا ہے اور معلوم نہیں ان کا ایمان بھی سلامت رہتا ہے یا سلامت نہیں رہتا، تو زیادہ غم ان کو اس بات کا تھا، اس وجہ سے ہر وقت روتے رہتے تھے بھئی۔ تو دیکھیے وہ جب روتے رہتے تھے تو بیٹے ان سے کہہ رہے ہیں بھئی، باقی بھئی جنہوں نے ان کو کنویں میں ڈالا تھا وہی کہہ رہے ہیں اپنے والد سے: تالله تفتؤ تذكر يوسف، کہ تالله خدا کی قسم، تفتؤ یہ تفتؤ وہی بھئی افعال ناقصہ میں آپ نے پڑھا ہے ما فتئ، ما فتئ، اسی سے مضارع ہے، سمجھ میں آیا؟ اور ما فتئ کے شروع میں حرفِ نفی تھا، ما، تو یہاں پر بھی حرفِ نفی ہے لیکن محذوف ہے، ای لا تفتؤ، لا تفتؤ۔ اور ما فتئ کا کیا معنیٰ تھا؟ ہمیشہ ہمیشہ، مسلسل۔ تو وہ بیٹے کہنے لگے: تالله تفتؤ تذكر يوسف، کہ خدا کی قسم آپ ہمیشہ یوسف کو یاد کرتے رہیں گے یعنی ان کو یاد کرتے کرتے اپنے آپ ہی کو ختم کر لیں گے آپ۔ تو لما اتي بالتاء التي هي اغرب حروف القسم، جب لایا گیا تا کو جو کہ سب سے زیادہ غریب ہے حروفِ قسم میں سے، جب اس کلام کے اندر کس کو لایا گیا؟ تا کو، تالله دیکھو قسم کے لیے تو واؤ بھی استعمال ہوتا ہے، والله، با بھی استعمال ہوتی ہے، باللہ وغیرہ، لیکن سب سے کم کیا استعمال ہوتی ہے؟ تا، سب سے کم۔ تو جب اس جب تا کو لایا گیا، التي هي اغرب حروف القسم، جو قسم کے حروف میں سب سے غریب ہے یعنی سب سے کم استعمال ہوتی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو التي هي اغرب حروف القسم، جو حروفِ قسم میں سب سے کم استعمال ہوتی ہے، اتي بتفتؤ، تو اس کے ساتھ اس کی مناسبت سے پھر تفتؤ فعل لایا گیا، التي هي اغرب افعال الاستمرار، جو افعالِ استمرار میں سب سے زیادہ غریب ہے یعنی استمرار کو بیان کرنے کے لیے جسے سب سے کم استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ دیکھو مناسبت ہے ان دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ۔ جب قسم کے لیے تا استعمال کی گئی جو سب سے کم استعمال ہونے والی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ پھر استمرار کے لیے جو فعل لایا گیا وہ بھی اس کی مناسبت سے وہ والا لایا گیا جو سب سے کم استعمال ہوتا ہے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ یہ ہے ائتلاف اللفظ مع اللفظ، لفظ کا لفظ کے ساتھ اتحاد بھئی اور اس کے ساتھ موافقت۔ خاتمة، سرقة الكلام انواع، منها ان ياخذ الناثر او الشاعر معنى لغيره بدون تغيير لنظمه، كما اخذ عبد الله بن الزبير بيتي معن وادعاهما لنفسه۔ خاتمہ آیا بھئی، خاتمہ۔ یاد رکھیے یہ خاتمہ فنِ ثالث یعنی علمِ بدیع ہی کا حصہ ہے بھئی، علمِ بدیع کا۔ اور باقی کتابوں کے مصنفین بھی اسی طرح خاتمہ ذکر کرتے ہیں، علمِ بلاغت کی جو کتابیں ہیں عموماً ان میں اسی طرح وہ خاتمہ ذکر کرتے ہیں اور اس کے اندر کچھ مفید باتیں جو ہوتی ہیں ان کو ذکر کرتے ہیں اس فنِ ثالث کے اعتبار سے۔ کچھ مفید باتیں جن کا ذکر رہ گیا تھا، صنعتیں تو انہوں نے ذکر کر دیں لیکن کچھ مفید باتیں ابھی بھی باقی تھیں، ان کو پھر یہ خاتمہ میں ذکر کرتے ہیں بھئی۔ اور یہ کتاب بھی چونکہ انہی کتابوں سے اخذ کی گئی ہے تو اسی کے طریقے کے مطابق آخر میں کیا ذکر کیا گیا؟ خاتمہ ذکر کیا گیا بھئی۔ تو اس میں سب سے پہلے آپ کو سرقۂ کلام کے بارے میں بتائیں گے بھئی، کلام کی چوری۔ ایک شخص کیا کر لیتا ہے؟ دوسرے کا کلام چوری کر لیتا ہے، تو اس کے بارے میں اب آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ کہ کس چیز کو سرقہ کہیں گے؟ ایک شخص نے ایک بات اپنے کلام میں ذکر کی تھی، بعد میں آنے والا کوئی شخص اسی جیسی بات اپنے کلام میں ذکر کرتا ہے تو کیا اس کو کہیں یہ کہیں گے کہ اس نے فلاں سے لیا اور اس سے کلام چوری کیا یا نہیں کہیں گے؟ وہ تفصیل بیان کریں گے بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: سرقة الكلام انواع، کلام کا سرقہ، انواع، کئی قسم پر ہے۔ پھر یاد رکھیے یہ جو مثلاً ایک شخص پہلے گزرا تھا اس نے ایک بات ذکر کی تھی، بعد میں آنے والا بھی اسی جیسی بات اپنے کلام میں ذکر کرتا ہے تو فوراً دیکھتے ہی یہ حکم نہیں لگانا کہ یہ اس نے اس سے لیا ہے، اس نے اس کا کلام لیا ہے، اس سے چوری کی ہے بلکہ اس میں تفصیل ہے بھئی، تفصیل ہے۔ یہ سرقہ کی بعض صورتیں وہ ہیں جو قبیح ہیں اور مذموم ہیں، ان کی مذمت کی جاتی ہے، وہ ناپسندیدہ ہیں۔ اور لیکن اسی کی بعض صورتیں وہ ہیں جو مستحسن ہیں بھئی اور ان کو وہ قابلِ تعریف ہیں، ان کی تعریف کی جاتی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ ساری تفصیل اب بیان کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: سرقة الكلام انواع، کلام کا سرقہ جو ہے کلام کی چوری جو ہے، انواع، کئی قسم کی ہے۔ منها، ان میں سے ایک قسم یہ ہے: ان ياخذ الناثر او الشاعر، کہ لے لے نثر کہنے والا یا شاعر جو ہے، شعر کہنے والا۔ ناثر بھئی، نثر میں نے کل کے سبق میں بھی بتایا تھا، نثر کسے کہتے ہیں؟ یہ عام کلام، ایک تو ہیں ایک تو نظم ہے، اشعار ہیں اور باقی دوسرا کلام جو ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نثر۔ تو وہ یہ کہ نثر کہنے والا یعنی عام کلام کہنے والا او الشاعر یا شاعر جو ہے یعنی شعر کہنے والا وہ لے لے، کس چیز کو لے لے؟ معنى لغيره، دوسرے کے معنیٰ کو، بدون تغيير لنظمه، بغیر بدلے اس کی نظم کو۔ اس کے نظم یعنی اس کے الفاظ، بھئی دیکھیے، پہلی قسم یہ ہے کہ ناثر یعنی نثر کہنے والا یا شاعر کسی دوسرے کے کلام کو اس کے معنیٰ کو لیتا ہے اور معنیٰ کے ساتھ ساتھ اس کے الفاظ بھی لے لیتا ہے، ان میں کسی قسم کی تبدیلی کرتا ہی نہیں ہے، بعینہٖ ہو بہو اسی کے الفاظ لے لیتا ہے سارے بھئی، سارے الفاظ لے لیتا ہے۔ اور یاد رکھیے یہ مذموم ہے اور قبیح ہے، ناپسندیدہ ہے، قابلِ مذمت ہے کہ کیا کیا جائے؟ دوسرے کے پورے کلام کو اٹھا کر انسان لے لے اور کوئی حوالہ وغیرہ بھی نہیں دیتا، یوں ذکر کرتا ہے جیسے یہ اس کا اپنا کلام ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے کہ اس کو ناثر یا شاعر لے لے: معنى لغيره، دوسرے کے معنیٰ کو، بدون تغيير لنظمه، بغیر بدلے اس کی نظم کو یعنی اس کے لفظوں کو، كما اخذ عبد الله بن الزبير، یہ زبیر نہیں بھئی زَبِیر پڑھنا، زَبِیر۔ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ تو صحابی گزرے ہیں، یہ کوئی اور شخص ہے بھئی۔ جیسے کہ عبد اللہ بن زبیر جو ہے اس نے لے لیے: بيتي معن، اصل میں تھا بیتین معن، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ مُعَن کے دو اشعار لے لیے، وادعاهما لنفسه، اور دعویٰ کر دیا ان دونوں کا لنفسہٖ اپنے لیے کہ یہ میرے اشعار ہیں، وهما، اور وہ یہ اشعار ہیں بھئی: اذا انت لم تنصف اخاك وجدته على طرف الهجران ان كان يعقل ويركب حد السيف من ان تضيمه اذا لم يكن عن شفرة السيف مزحل شاعر کہتا ہے: اذا انت لم تنصف اخاك، جب تو انصاف نہیں کرے گا، انصف ینصف انصاف، جب تو انصاف نہیں کرے گا اپنے بھئی سے، وجدته، تو تو اس کو پائے گا، على طرف الهجران، ہجران کہتے ہیں جدائی کو بھئی، دور ہونا، ترکِ تعلق کرنا، تعلق ختم کرنا۔ اذا انت لم تنصف اخاك، جب تو انصاف نہیں کرے گا اپنے بھئی کے ساتھ، وجدته على طرف الهجران، یرحمک اللہ، وجدته على طرف الهجران، تو تو اس کو پائے گا ترکِ تعلق کے کنارے پر، جدائی کے کنارے پر، یعنی تو اس کو پائے گا کہ وہ تجھ سے تعلق ترک کر دے گا، تجھے چھوڑ دے گا، ان كان يعقل، اگر وہ عقل رکھتا ہوا، اگر وہ سمجھدار اور ہوشیار ہوا۔ ويركب حد السيف، حد السیف کہتے ہیں تلوار کی دھار کو بھئی، تلوار کی دھار۔ ويركب حد السيف، اور وہ تلوار کی دھار پر بھی سوار ہو جائے گا، من ان تضيمه، تضیم تا پر زبر لگائیں بھئی، من ان تضيمه۔ بھئی من جو ہے، من بدلے بدل کے بدلے کے لیے بھی آتا ہے، تو یہاں یہ من بدل کے لیے ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو وہ تلوار کی دھار پر بھی سوار ہو جائے گا من ان تضيمه، اس کے بدلے کہ تو اس پر ظلم کرے، تو کہ تو کیا کرے؟ تضیم کے معنیٰ ظلم کرنا۔ بھئی ایک یہ ہے کہ تیرا بھئی ہے تو اس کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے اور اس پر ظلم کرتا ہے، وہ تجھے چھوڑ جائے گا، وہ تیرے ظلم کو کبھی نہیں برداشت کرے گا اور اس کے مقابلے میں دوسری طرف جتنی بڑی سے بڑی مشکل آ جائے اس کو بھی وہ برداشت کر لے گا، حتیٰ کہ تلوار کی دھار پر بیٹھنا برداشت کر لے گا، لیکن تیرے ظلم اور ناانصافی کو وہ برداشت نہیں کرے گا بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ من بدلے کے لیے ہے کہ تمہارے ظلم کرنے کے بدلے وہ اس کو تو دوسری بڑی سے بڑی مشکل کو برداشت کر لے گا لیکن تمہارے ظلم کو برداشت نہیں کرے گا۔ ويركب حد السيف من ان تضيمه، اور وہ سوار ہو جائے گا تلوار کی دھار پر بھی، من ان تضيمه، اس کے مقابلے میں کہ تو اس پر ظلم کرے، اذا لم يكن عن شفرة السيف مزحل۔ شفرۃ السیف بھی کہتے ہیں تلوار کی دھار بھئی، شفرۃ السیف تلوار کی دھار۔ مزحل، مزحل یہ ظرف کا صیغہ ہے، دور ہونے کی جگہ۔ نیز اسی طرح یہ مصدر بھی ہے، دوری کو بھی کہتے ہیں، دوری کو بھی۔ اذا لم يكن عن شفرة السيف مزحل، جب تلوار کی دھار سے دور ہونے کی جگہ نہ ہو یا دوری کی صورت نہ ہو بھئی، جو بھی آپ معنیٰ کر لیں چاہے ظرف والا کر لیں چاہے مصدر والا۔ تو شاعر یہ کہہ رہا ہے کہ جب تو اپنے بھئی سے انصاف نہیں کرے گا تو تو پائے گا کہ تو اسے ترکِ تعلق والے کنارے پر پائے گا یعنی وہ تجھ سے تعلق ترک کر دے گا اگر وہ سمجھدار ہوا، اور وہ تلوار کی دھار پر بھی سوار ہو جائے گا بجائے اس کے کہ وہ تیرا ظلم برداشت کرے، جبکہ تلوار کی دھار سے کوئی دور ہونے کی جگہ نہ ہو یعنی وہ تیرے ظلم کو برداشت نہیں کرے گا اور وہ ہر چیز کو برداشت کر لے گا، حتیٰ کہ اگر تلوار کی دھار پر بیٹھنے سے بچنے کی اور دور ہونے کی کوئی صورت نہ ہوئی تو وہ تلوار کی دھار پر بھی بیٹھنے کو گوارا کر لے گا لیکن تیرے ظلم کو برداشت نہیں کرے گا۔ تو تلوار کی دھار سے مراد حقیقت نہیں مراد کہ تلوار کی دھار پر بیٹھ جائے گا، مراد یہ ہے کہ بڑے سے بڑی تکلیف کو بھی کیا کر لے گا؟ برداشت کر لے گا، لیکن تیرے ظلم کو برداشت نہیں کرے گا اور تیری حق تلفی، تم جو ناانصافی کر رہے ہو اس کو برداشت نہیں کرے گا۔ دوبارہ ایک دفعہ دیکھ لیجیے: اذا انت لم تنصف اخاك وجدته على طرف الهجران ان كان يعقل جب تو انصاف نہیں کرے گا اپنے بھئی سے تو تو اس کو پائے گا جدائی کے کنارے پر اگر وہ ہوشیار ہوا، ويركب حد السيف من ان تضيمه اذا لم يكن عن شفرة السيف مزحل اور وہ تلوار کی دھار پر بھی سوار ہو جائے گا بجائے اس کے کہ تو اس پر ظلم کرے، جب نہ ہو تلوار کی دھار سے دوری کی جگہ۔ تو یہ اشعار لیے بھئی۔ ومثل هذا يسمى نسخا وانتحالا، اور اس قسم کو نسخ کہتے ہیں اور انتحال کہتے ہیں، اس کا کیا نام ہے؟ نسخ اور انتحال، کہ ہو بہو پورے کسی کے کلام کو لے لینا لفظ اور معنیٰ سمیت اور دعویٰ کر دینا کہ یہ میرا کلام ہے۔ کہتے ہیں یہ عبد اللہ بن زبیر یہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تھے بھئی، جب وہ خلیفہ تھے تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس یہ آئے بھئی، اور آپ جانتے ہیں کہ شعراء جو ہیں وہ اپنا کلام بادشاہوں اور اور خلفاء وغیرہ اور سرداروں کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور انعام وغیرہ چاہتے تھے۔ تو یہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور آ کر یہ دو اشعار ان کے سامنے ذکر کیے کہ یہ میرے اشعار ہیں۔ اب اشعار سنائے تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی متوجہ ہوئے کہ یہ تو بڑے بہترین اشعار اس نے کہے ہیں بھئی، تو فرمانے لگے: بھئی جب میں پہلے تم سے ملا تھا اس وقت تو تم شعر نہیں کہتے تھے، اب تو تم بڑے شاعر بن گئے ہو بھئی! اتنے بہترین اشعار کہے ہیں۔ تو یہ ابھی وہیں پر موجود تھا کہ ایک دوسرا شاعر مُعَن ابن اوس بھئی، مُعَن، عین پر زبر ہے مُعَن، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہی نام اس طرح کا پہلے بھی گزرا ہے مَعن ابن زائدہ، مَعن ابن زائدہ، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جیسے عرب کے اندر سخاوت کے اندر حاتم طائی مشہور ہے اسی طرح معن ابن زائدہ بھی سخاوت کے اندر اس کا نام بطورِ ضرب المثل کے ذکر کیا جاتا ہے، لیکن وہ معن یہاں ذکر نہیں ہے بلکہ یہ مُعَن ہے مُعَن، میم پر پیش ہے اور عین پر زبر ہے، تو یہ ایک اور شاعر تھا۔ تو یہ ابھی وہیں پر موجود تھے یہ عبد اللہ بن زبیر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس، کہ دوسرا شاعر معن ابن اوس آیا، اس نے آ کر کہا کہ میں اپنا قصیدہ لایا ہوں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ وہ قصیدہ اس نے سنانا شروع کیا اور پورا قصیدہ سنایا اور اس قصیدے میں یہ دو شعر بھی آ گئے۔ اتفاق ایسا ہوا جس وقت اس نے سنائے تھے اسی مجلس میں وہ اصل شاعر بھی آ گیا، اس نے یہ اشعار سنائے۔ تو جب وہ سنا چکا تو پھر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شاعر کی طرف متوجہ ہوئے جس نے پہلے اشعار سنائے تھے دو اور کہا تھا میرے ہیں، کہ بھئی تم نے تو کہا نہیں تھا یہ میرے شعر ہیں؟ تو وہ کہنے لگا: یا امیر المؤمنین یہ اشعار تو واقعی اسی کے ہیں، لیکن بہرحال یہ میرا رضاعی بھئی ہے، اس کے اشعار کا سب سے زیادہ حق اس کے اشعار پر میرا حق ہے، لہٰذا میں نے اپنی طرف نسبت کر دی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ دیکھو یہ ہے جی نسخ اور انتحال کہ دوسرے کا سارا کلام ہو بہو اٹھا کر اپنی طرف منسوب کر دینا۔ آگے دیکھیے: ومن قبيله ان تبدل الالفاظ بما يرادفها، اور اسی کے قبیل سے ہے، اسی قسم سے ہے کہ الفاظ کو بدل دیا جائے بما يرادفها ایسے لفظوں کے ساتھ جو اس کے مترادف ہوں، یعنی اسی کے ہم معنیٰ لفظوں سے لفظوں کو بدل دیا جائے۔ كان يقال في قول الحطيئة، جیسے کہ حطیئہ شاعر کے قول میں کہا جائے، اور اسی قبیل سے ہے کہ لفظوں کو بدل دیا جائے ان کے ہم معنیٰ لفظوں کے ساتھ یعنی انہی کے مترادف لفظ لے آئیں اور کوئی تبدیلی نہ کریں، صرف لفظوں کو بدل دیا باقی سارا معنیٰ وہی ہے۔ تو یہ بھی اسی قبیل سے ہے، کیا معنیٰ؟ جیسے پہلی قسم قبیح اور مذموم ہے، اسی طرح یہ دوسری قسم بھی کیا ہے؟ قبیح اور مذموم ہے۔ گویا جیسے کہ یوں کہا جائے حطیئہ شاعر کے قول میں، یہ حطیئہ کا یہ شعر ہے بھئی: دع المكارم لا ترحل لبغيتها واقعد فانك انت الطاعم الكاسي شاعر کسی سے کہہ رہا ہے بھئی کہ دع، چھوڑ دے، ودع یدع سے امر ہے، دع، چھوڑ دے، المكارم، مکارم جمع ہے مکرمۃ کی، مکرمہ کہتے ہیں کارنامے کو، اسی طرح اعلیٰ اخلاقی اقدار جو ہیں اعلیٰ اخلاقی قدریں جو ہیں ان کو بھی مکارم کہتے ہیں۔ تو شاعر کیا کہہ رہا ہے کسی سے؟ دع المكارم، کہ تو کارناموں کو اور اعلیٰ اخلاق کو چھوڑ دے، لا ترحل، تو سفر نہ کر، لبغيتها، بغیہ کہتے ہیں طلب کو، طلب، لا ترحل لبغيتها، تو ان کی طلب کے لیے سفر نہ کر، تو ان کی طلب کے لیے سفر نہ کر، واقعد، اور تو بیٹھ جا، فانك انت الطاعم الكاسي، اس لیے کیونکہ بے شک تو الطاعم، کھانے والا ہے، کیا ہے؟ کھانے والا ہے، الكاسي، کسا یکسو کے معنیٰ لباس پہننا، الکاسی تو لباس پہننے والا ہے۔ تو شاعر کسی کو کہہ رہا ہے کہ بھئی تو بلند کارناموں اور بلند اخلاق بلند اخلاق کے حصول کی کوشش چھوڑ دے اور ان کی طلب میں نہ ان کی طلب میں سفر نہ کر یعنی اس کے لیے کوشش نہ کر اور بیٹھ جا، اس لیے کیونکہ تو کھانے اور پہننے والا ہے، تو صرف یہی کام کر سکتا ہے کھانے اور لباس پہننے کا کام کر سکتا ہے، یہ کارنامے اور اعلیٰ اخلاق تیرے بس کی بات نہیں ہے، تجھے تو اس قابل نہیں ہے کہ یہ یہ چیزیں یہ اوصاف تجھے حاصل ہو جائیں، لہٰذا ان کی طلب چھوڑ دے۔ سمجھ میں آیا؟ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ دع المكارم لا ترحل لبغيتها واقعد فانك انت الطاعم الكاسي تو بلند اخلاق کو اور کارناموں کو چھوڑ دے نہ تو سفر کر ان کی طلب میں، اور بیٹھ جا کیونکہ بے شک تو کھانے والا ہے، پہننے والا ہے۔ فقال الاخر، تو دوسرے نے کہا، دوسرا شاعر کہتا ہے: ذر المآثر لا تذهب لمطلبها واجلس فانك انت الاكل اللابس بعینہٖ وہی معنیٰ ہے، صرف لفظوں کو شاعر بدلتا جا رہا ہے۔ دع کی جگہ دوسرے شاعر نے کیا ذکر کر دیا؟ ذر، معنیٰ دونوں کا ایک ہی ہے، چھوڑنا۔ المكارم کو بدل دیا المآثر سے، دیکھو وزن بھی بالکل ایک جیسا اور معنیٰ بھی ایک ہی ہے دونوں کا، وہی کارنامے، بلند اخلاق بھئی۔ لا ترحل کو بدل دیا لا تذهب سے، ایک ہی معنیٰ۔ لبغيتها کو بدل دیا لمطلبها سے، دونوں کا ایک ہی معنیٰ۔ اوپر والے شعر میں آیا تھا: واقعد، اس نے بدل کر کہہ دیا: واجلس، معنیٰ دونوں کا ایک ہی ہے۔ اوپر تھا: فانك انت الطاعم، دوسرا کہتا ہے: فانك انت الاكل، تو طاعم کو کس سے بدل دیا؟ اکل سے، معنیٰ ایک ہی ہے۔ الکاسی کو بدل دیا اللابس سے، لباس پہننے والا، دیکھو وہی معنیٰ ہے بھئی۔ تو صرف کیا کیا دوسرے شاعر نے؟ صرف الفاظ تبدیل کیے بھئی، اور دیکھیے الفاظ بھی ایسے لے کر آیا کہ بعینہٖ وہی وزن ہے شعر کا، بعینہٖ وہی وزن، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ یہ بھی پہلی قسم ہی میں سے ہے یعنی یہ بھی مذموم ہے اور قبیح ہے کہ انسان کسی دوسرے کا کلام لے اور صرف کیا کر دے؟ الفاظ کو بدل دے، معنیٰ سارا وہی ہے بھئی۔ وقريب منه، اور اسی کے قریب ہے: ان تبدل الالفاظ بما يضادها في المعنى مع رعاية النظم والترتيب، کہ یہ کہ بدل دیا جائے الفاظ کو بما يضادها ایسے لفظوں کے ساتھ جو ان کے متضاد ہوں فی المعنیٰ کس میں؟ معنیٰ میں، مع رعاية النظم والترتيب ساتھ رعایت رکھتے ہوئے نظم اور ترتیب کی۔ بھئی کہتے ہیں اسی کے قریب یہ صورت بھی ہے کہ کسی دوسرے کا کوئی شخص کلام لیتا ہے اور پہلی صورت تو کیا تھی؟ مترادف الفاظ لے کر آتا ہے اس کے الفاظ بدل دیتا ہے معنیٰ وہی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایسے الفاظ لاتا ہے جو پہلے کی ضد ہوتے ہیں۔ وہاں تعریف تھی تو یہاں کیا آ جائے گی؟ مذمت آ جائے گی، وہاں بہادری تھی تو یہاں بزدلی آ جائے گی بھئی، باقی سارا کچھ اسی طرح رکھتا ہے، لفظوں کے لفظ اور ان کی ترتیب وغیرہ اسی ترتیب سے الفاظ وہ لے کر آتا ہے البتہ صرف ضدیں لے کر آتا ہے۔ كما لو قيل في قول حسان رضي الله تعالى عنه، جیسے کہ کہا جائے حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول میں۔ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ شعر ہے: بيض الوجوه كريمة احسابهم شم الانوف من الطراز الاول بيض الوجوه، بیض جمع ہے ابیض کی اور یہ صفت کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف بھئی، صفت، آپ نے پڑھا ہے کہ بعض اوقات کیا کیا جاتا ہے عربی میں؟ صفت کی اضافت موصوف کی طرف کر دی جاتی ہے۔ تو بيض الوجوه، سفید چہروں والے ہیں، كريمة احسابهم، كريمة احسابهم، کریمۃٌ معزز ہیں، احسابهم، حسب میں نے بتایا تھا خاندانی شرافت بھئی، تو یہاں یہ اسی معنیٰ میں تھا۔ كريمة احسابهم، معزز ہیں ان کے خاندان، معزز ہیں ان کے خاندان۔ شم الانوف، شمٌ جمع ہے اشم کی، اشم، اور اشم کہتے ہیں وہ شخص جس کی ناک متوازن اونچی ہو، برابر، یعنی خوبصورت ہو بھئی، ناک کیا ہو؟ ایسی ہو متوازن ہو برابر اونچی، جو کہ حسن کی علامت ہے بھئی۔ اور انوف جمع ہے انف کی ناک کو کہتے ہیں، شم الانوف، اونچی ناک والے ہیں، من الطراز الاول، طراز کہتے ہیں قسم اور طریقے کو، من الطراز الاول، پہلی قسم میں سے ہیں یعنی پہلے درجے والوں میں سے ہیں، کس میں سے ہیں؟ پہلے درجے والوں میں سے ہیں یعنی عظمت اور بزرگی کے اندر یہ پہلے درجے والے لوگوں میں سے ہیں۔ بيض الوجوه كريمة احسابهم شم الانوف من الطراز الاول سفید روشن چہروں والے ہیں، كريمة احسابهم معزز خاندان ہیں ان کے، شم الانوف اونچی خوبصورت ناک والے ہیں، من الطراز الاول پہلے درجے والوں میں سے ہیں یعنی بزرگی اور عظمت میں۔ اب اسی میں اگر اوپر عبارت ذرا دوبارہ دیکھیں: كما لو قيل في قول حسان رضي الله تعالى عنه، جیسے کہ کہا جائے حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کے اندر، تو اس شعر کو اگر یوں بدل دیا جائے جیسے آگے ذکر کریں گے بھئی، فقال الاخر، جیسے بدلا کسی نے، فقال الاخر تو دوسرا کہتا ہے، بدل کر یوں کہتا ہے: سود الوجوه لئيمة احسابهم فطس الانوف من الطراز الاخر سود الوجوه، پہلے کیا آیا تھا پچھلے شعر میں؟ بیض، سفید چہروں والے، اس کو بدل دیا بیض کو سود سے، اسود کی جمع ہے، سیاہ چہروں والے۔ پچھلے شعر میں آیا تھا: كريمة احسابهم، یہاں آیا: لئيمة احسابهم، گھٹیا ہیں ان کے خاندان بھئی، گھٹیا ہیں ادنیٰ ہیں ان کے خاندان، سیاہ چہروں والے ہیں، گھٹیا ہیں ان کے خاندان۔ اور پیچھے کیا آیا تھا شعر میں؟ شم الانوف، خوبصورت اونچی ناک والے ہیں، وہ شم کو یہاں شاعر نے دوسرے نے بدل دیا فطس، فا پر پیش ہے، طا ساکن ہے اور سین ہے، ف، ط، س، فطس الانوف۔ فطس جمع ہے افطس کی اور یہ کہتے ہیں چپٹی ناک والا، وہ جس کی ناک پھیلی ہوئی ہو بھئی، تو چپٹی ناک والے ہیں، من الطراز الاخر، آخری درجے والوں میں سے ہیں، کس میں سے ہیں؟ آخری درجے والوں میں سے ہیں۔ تو دیکھیے اس شاعر نے کیا کیا؟ لفظوں کو کس سے بدل دیا؟ متضاد الفاظ کے ساتھ بدل دیا، تو یہ بھی اس پہلی قسم کے قریب ہے، باقی ترتیب وغیرہ ساری وہی ہے صرف لفظوں کو متضاد کے ساتھ بدل دیا۔ سود الوجوه لئيمة احسابهم فطس الانوف من الطراز الاخر سیاہ چہروں والے ہیں، گھٹیا خاندان والے ہیں، چپٹی ناک والے ہیں، آخری درجے والوں میں سے ہیں۔ تو یہ قسم بھی مذموم اور قبیح ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔