درس نمبر۔84
السجع هو توافق الفاصلتين نثرا في الحرف الاخير، وهو ثلاثة انواع: مطرف ان اختلف الفاصلتان في الوزن نحو: الانسان بادابه لا بزيه وثيابه، ومتواز ان اتفقتا فيه نحو: المرء بعلمه وادبه لا بحسبه ونسبه، ومرصع ان اتفقت الفاظ الفقرتين او اكثرها في الوزن والتقفية نحو: يطبع الاسجاع بجواهر لفظه، ويقرع الاسماع بزواجر وعظه۔
محسناتِ لفظیہ میں سے آج ہم سجع کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: السجع هو توافق الفاصلتين، سجع جو ہے وہ دو فاصلوں کا ایک دوسرے کے موافق ہونا ہے۔ بھئی یاد رکھیے، ایک ہے نظم اشعار یعنی اشعار وغیرہ، اور ایک ہے عام کلام نثر بھئی، نثر۔ تو یہ جو عام کلام ہے نثر، اس کے اندر آپ دیکھتے ہیں بعض اوقات لکھنے والا چھوٹے چھوٹے جملے لاتا ہے، کلام کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ ان کو کہتے ہیں فقرہ۔ تو یہ کلام کے جو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ فقرہ کہتے ہیں فقرہ۔
اور اس میں فقروں کا آخری کلمہ ہوتا ہے، آخری لفظ جو ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں فاصلہ۔ اس فقرے کے آخری لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ فاصلہ۔ اور یہ جو فاصلہ ہے مثلاً دو دو فقرے لائے آپ اپنے کلام کے اندر، اور ان کا آخری آخری لفظ کیا کہلائے گا؟ فاصلہ کہلائے گا۔ اور یہ عموماً ایک جیسے حروف پر ختم ہوتے ہیں۔ یہ جو دونوں کلمے ہوں گے ایک جیسے یعنی آخری حرف ان کلموں کا بھی پھر آخری حرف جو ہے وہ بالکل ایک دوسرے جیسا ہوگا، یعنی ایک کے آخر میں دال ہے تو دوسرے کے آخر میں بھی مثلاً دال ہوگا۔ ایک کے آخر میں میم ہے تو دوسرے کے آخر میں بھی میم ہوگا۔ تو یہ آخری حرف کے اندر فاصلوں کا ایک دوسرے کے موافق ہونا یہ سجع کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ سجع کہلاتا ہے۔ سین، جیم اور عین ہے سجعٌ بھئی، سجعٌ۔ تو یہ سجع کہلاتا ہے، اور یہی چیز اگر شعر میں ہو تو اس کو قافیہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ قافیہ۔ نثر میں ہے تو سجع اور شعر میں ہے تو قافیہ۔ کس چیز کو کہتے ہیں؟ آخری کلمہ جو ہے اس کا ایک جیسے حرف پر ختم ہونا بھئی۔
آپ اشعار میں بھی دیکھتے ہیں کہ قدیم قصائد آپ جتنے اٹھا کر دیکھیں ایک ایک شعر مثلاً دال پر ختم ہو رہا ہے تو باقی پورا قصیدہ آپ دیکھیں گے ہر ہر شعر کے آخر میں کیا آئے گا؟ دال آئے گا۔ ایک پہلے شروع میں آخر میں میم شاعر لایا تو آخرِ قصیدہ تک وہ کیا کہلا اس کے آخر میں کیا آئے گا ہر شعر کے آخر میں؟ میم آئے گا بھئی۔ اور اسی کے اعتبار سے وہ قصیدہ بھی مثلاً میم آخر میں آ رہا ہے تو اسے قصیدہ میمیہ کہتے ہیں بھئی، دال آخر میں آ رہا ہے تو قصیدہ دالیہ کہیں گے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو سجع جو ہے یہ نثر میں ہے یعنی جو نظم نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: السجع هو توافق الفاصلتين نثرا في الحرف الاخير، سجع جو ہے وہ دو فاصلوں کا باہم ایک دوسرے کے موافق ہونا ہے، ایک دوسرے جیسا ہونا ہے، نثراً، اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ نثر ہو یعنی نظم نہ ہو، میں نے بتایا نظم میں اس کو قافیہ کہتے ہیں، اس حال میں کہ وہ نثر ہو تو ان دو فاصلوں کا ایک دوسرے کے موافق ہونا في الحرف الاخير، کس کے اندر؟ آخری حرف کے اندر، وهو ثلاثة انواع، اور یہ تین قسم پر ہے۔ بھئی تین قسمیں اس طرح ادھر توجہ کیجیے بھئی۔
کلام کے اندر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کلام کے آ رہے ہیں نثر کے اندر، ان کو کیا کہتے ہیں؟ ان میں سے ہر ایک کو فقرہ کہتے ہیں، اور یہ جو فقرے ہیں یہ ایک جیسے حروف پر ختم ہوں گے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ سجع، سجع کہتے ہیں۔ اور پھر یہ آخری کلمہ جو ہے یعنی فاصلہ جو ہے، وہ ایک فقرے کا فاصلہ اور دوسرے فقرے کا جو فاصلہ ہے یعنی آخری کلمہ، ان کا وزن بھی ایک جیسا ہوگا یا وزن ایک جیسا نہیں ہوگا۔ اگر وزن ایک جیسا نہیں ہے تو اس کو کہتے ہیں مطرف، کیا کہتے ہیں؟ اگر وزن ایک جیسا نہیں ہے تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ مطرف۔ اور اگر وزن ایک جیسا ہے، پھر فقرے کے باقی کلمات بھی جو ہیں ان کے اندر بھی آخری حرف اور وزن ایک جیسا ہوگا یا ایک جیسا نہیں؟ اگر باقی باقی کلمات جو ہوں فقرے کے ان میں آخری حرف ایک جیسے نہ ہوں اور وزن ایک جیسا نہ ہو تو اس کو متوازی کہیں گے، کیا کہیں گے؟ متوازی بھئی۔ اور اگر باقی کلمات کے اندر بھی اس کی رعایت رکھی جائے تو اس کو کہتے ہیں مرصع بھئی، کیا کہتے ہیں؟ مرصع بھئی۔
تو کتنی قسمیں ہوئیں؟ تین قسمیں کہ نثر کے اندر فاصلے جو ہیں یعنی آخری کلمے جو ہیں ان کے حرفِ اخیر کا ایک دوسرے جیسا ہونا تو جب یہ پایا جائے تو پھر مزید دیکھیں گے کہ آخری کلموں کا وزن بھی ایک جیسا ہے یا وزن ایک جیسا نہیں؟ اگر وزن ایک جیسا نہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ مطرف کہیں گے، اور اگر ان کا وزن ایک جیسا ہے پھر باقی کلمات کے اندر دیکھیں گے کہ ان میں بھی اس چیز کی رعایت ان میں سے ساروں میں یا اکثر میں اس کی رعایت رکھی گئی ہے یا رعایت نہیں رکھی گئی؟ اگر ان کے اندر بھی وزن اور آخری حروف ایک جیسے ہیں تو پھر اس کو کہیں گے مرصع، اور اگر باقی کلمات میں سے اکثر میں ایسا نہیں ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو متوازی کہیں گے۔ تو پہلی قسم کیا ہوئی؟ مطرف، دوسری ہے مرصع، اور ایک قسم ہے متوازی بھئی، متوازی، بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی، تو کہتے ہیں: وهو ثلاثة انواع، اور یہ سجع جو ہے یہ تین قسم پر ہے، مطرف ان اختلف الفاصلتان في الوزن، ایک مطرف ہے اگر دونوں وہ دونوں فاصلے مختلف ہوں کس کے اندر؟ وزن میں۔ کون سے دونوں فاصلے؟ وہ آخری کلمے جو ہیں فقروں کے، نحو، مثال کے طور پر: الانسان بادابه لا بزيه وثيابه۔ الانسان بادابه لا بزيه، زیٌ کہتے ہیں ہیئت کو، وضع قطع بھئی، وضع قطع، حلیہ حلیہ۔ الانسان بادابه لا بزيه وثيابه، انسان اپنے آداب اور اخلاق کے ساتھ ہے یعنی اس کے ساتھ پہچانا جاتا ہے، لا بزیہ نہ کہ اپنی وضع قطع، وثیابہ اور اپنے کپڑوں کے ساتھ۔ انسان اپنے اخلاق کے ذریعے ساتھ پہچانا جاتا ہے، اخلاق اس کی پہچان ہوتے ہیں، اس کی وضع قطع، حلیہ اور اس کا لباس اس کی پہچان نہیں ہوتے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ الانسان بادابه لا بزيه وثيابه، انسان اپنے آداب کے ساتھ ہے نہ کہ اپنے اپنی وضع قطع اور اپنے کپڑوں کے ساتھ، یعنی اس کے ذریعے اس کی آداب کے ذریعے، اخلاق کے ذریعے اس کی پہچان ہوتی ہے۔
ومتواز ان اتفقتا فيه، اور سجع متوازی ہے اگر اس وزن کے اندر دونوں فاصلے متفق ہوں، متوازی بھئی متوازٍ، زا کے بعد نون ہے میری کتاب میں بھئی، آپ کی کتابوں میں بھی ہے؟ جی، ہاں جن کی کتابوں میں نہیں ہے وہ درست ہے، یہاں نون نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ متوازی، یہاں یا ہے بھئی اصل میں لیکن یہاں پر بھی یا آپ نے نہیں لکھنی، صرف زا کے نیچے دو زیر لگا دیں اور نون کو ختم کریں بھئی، متوازٍ۔ یا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گئی یہاں سے بھئی، صحیح کر لیا بھئی؟ متوازٍ، زا کے نیچے کیا کریں؟ دو زیر لگائیں اور نون کو ختم کریں بھئی۔ تو یہ متوازی ہے اور یا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گئی بھئی، کس طرح؟ وهو ثلاثة انواع: مطرف ومتواز ومرصع، تو اصل میں تھا متوازیٌ، متوازی متوازیٌ، پھر یا پر ضمہ ثقیل تھا اس کو گرا دیا، تو یا بھی ساکن آگے تنوین بھی آپ نے پڑھا ہے کہ تنوین بھی نونِ ساکن کا نام ہے، تو یا بھی ساکن نون بھی ساکن، کیا بن گیا؟ یا پر سے ضمہ گرا دیا متوازین، پھر یا بھی اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گئی کیونکہ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدہٖ آیا تو متوازٍ رہ گیا بھئی۔ تو اصل میں یہاں پر یا موجود ہے لیکن یہاں گر گئی ہے بھئی۔ لہٰذا جب تنوین کا نون نہیں آئے گا تو یا بھی نہیں گرے گی، اگر اس پر الف لام آ جائے تو المتوازی پھر اس طرح آئے گا بھئی۔
تو یہ متوازی ہے بھئی، ان اتفقتا فيه، اگر اس وزن میں دونوں کیا ہوں؟ برابر ہوں بھئی۔ تو یہ قسمیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ سجع کسے کہتے تھے؟ وہ دو فاصلوں کا حرفِ اخیر میں ایک دوسرے کے موافق ہونا نثراً، اس حال میں کہ وہ کس میں ہوں؟ نثر میں ہوں، اور اس کی تین قسمیں ہیں۔ پہلی قسم یہ ہے کہ دونوں فاصلوں دونوں فاصلے حرفِ اخیر کے اندر تو متفق ہیں، دونوں کے آخر میں ایک جیسا حرف آ رہا ہے لیکن وزن دونوں کا ایک جیسا نہیں ہے، جیسے ادابہٖ اور ثیابہٖ، اب ان دونوں کے آخر میں ہا تو ہے لیکن دونوں کا وزن ایک جیسا نہیں، تو اس کو مطرف کہیں گے، یہ سجعِ مطرف ہے، سجعِ مطرف۔ اور اگر دونوں فاصلے حرفِ اخیر میں متفق ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا وزن بھی ایک جیسا ہے تو پھر باقی کلمات کو بھی دیکھیں گے۔ اگر باقی کلمات کے اندر بھی وزن اور حرفِ اخیر ایک جیسا ہے اکثر کے اندر یا تمام کے اندر، تو اس کو مرصعٌ کہیں گے، مرصعٌ صاد اور عین۔ اور اگر باقی کلمات کے اندر وزن اور حرفِ اخیر ان کے آپس میں ایک دوسرے جیسے نہیں ہیں تو اس کو متوازی کہیں گے، کیا کہیں گے؟ متوازی۔
ومتواز، اور دوسری قسم کیا ہے؟ متوازی، ان اتفقتا فيه، اگر وہ دونوں فاصلے وزن کے اندر بھی کیا ہوں؟ متفق ہوں، وزن بھی ایک جیسا ہو، نحو، مثال کے طور پر: المرء بعلمه وادبه لا بحسبه ونسبه۔ المرء بعلمه وادابه، آداب ہے آپ کی کتابوں میں؟ آداب نہیں بھئی، ادب ادب، وزن ایک جیسا بنانا ہے، ادبه، آگے آخر میں آ رہا ہے نسبه، ادبه اور نسبه دیکھو ان کا وزن ایک جیسا ہے۔ تو یہاں وزن ایک جیسا ضروری بھئی کیونکہ متوازن کی بات ہو رہی ہے۔ تو کہتے ہیں اور متوازن کہیں گے ان اتفقتا فيه اگر وہ دونوں فاصلے وزن میں متفق ہوں، نحو، مثال کے طور پر: المرء بعلمه وادبه لا بحسبه ونسبه، کہ آدمی جو ہے وہ اپنے علم اور اپنے ادب کے ساتھ ہے یعنی اس کی پہچان کس کے ذریعے ہوتی ہے؟ اپنے علم اور ادب کے ذریعے، ادب یعنی وہ انسان کا جو اچھا طریقہ ہے، اس کا اس کی شائستگی ہے، اس کا سلیقہ جو ہے اس کے ذریعے انسان کی پہچان ہوتی ہے، لا بحسبه ونسبه، حسب کہتے ہیں خاندانی شرافت کو یعنی خاندان کا معزز ہونا، خاندان کا معزز ہونا، اور نسب وہ خاندانی سلسلہ بھئی، خاندانی سلسلہ، تو انسان کی پہچان اپنے علم اور ادب کے ذریعے اپنے علم اور شائستگی کے ذریعے ہے، لا بحسبه ونسبه، اپنے خاندان کے معزز ہونے اور خاندانی سلسلے کے ذریعے اس کی پہچان نہیں ہے بھئی۔
تو دیکھیے ادبه، پہلے پہلے فقرے کا اختتام کس پر ہو رہا ہے؟ وادبه، تو ادبه آخر میں آیا، اور دوسرے فقرے کا اختتام کس پر ہو رہا ہے؟ نسبه، تو دیکھو ایک تو دونوں کے آخر میں ہا آ رہی ہے تو یہ سجع ہے، کیا ہے؟ سجع۔ اور پھر اس سجع کے اندر اگر وزن بھی ایک جیسا ہو تو اس کو متوازن کہتے ہیں اور یہاں وزن بھی ایک جیسا ہے، ادبه، نسبه، دونوں کا وزن ایک جیسا، جبکہ اس سے پچھلی مثال کے اندر دوسرے فقرے کے آخر میں آیا تھا ثيابه، اور پہلے فقرے کے آخر میں آیا تھا ادابه، اب ہا تو دونوں کے آخر میں موجود ہے لیکن وزن الگ ہے، ثيابه، ادابه، دیکھو وزن الگ الگ ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
ومرصع، اور تیسری قسم مرصع ہے، ان اتفقت الفاظ الفقرتين، اگر متفق ہوں ان دو فقروں کے الفاظ یعنی سارے ہی الفاظ کیا ہوں؟ ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہوں، کس چیز میں؟ وزن بھی اور آخری حرف میں بھی۔ تو ومرصع، اور اس سجع کو مرصع وہ سجع مرصع ہے، ان اتفقت الفاظ الفقرتين او اكثرها، جبکہ متفق ہوں ان دونوں فقروں کے سارے الفاظ یا اکثر الفاظ، في الوزن والتقفية، کس چیز میں متفق ہوں؟ وزن میں، والتقفیۃ اور تقفیہ میں۔ تقفیہ وہی آخری حرف میں ایک دوسرے جیسا ہونا اس کو کہتے ہیں تقفیہ۔ ادابه، ثيابه، اس میں کیا ہے؟ تقفیہ ہے، تقفیہ ہے۔ تقفیہ کا کیا معنیٰ؟ ایک جیسا ہونا، تو دونوں آخری حرف میں ایک جیسے ہیں۔ تو یہاں بھی باقی باقی کلمات میں دیکھ لو، اگر وہاں بھی سارے وزن میں اور آخری حرف میں ایک جیسے ہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ مرصع کہیں گے، نحو، مثال کے طور پر: يطبع الاسجاع بجواهر لفظه ويقرع الاسماع بزواجر وعظه۔
بھئی یہ مقامات کی عبارت ہے، حارث تو وہ ابو زید سروجی کے بارے میں بتلا رہا ہے کہ يطبع الاسجاع بجواهر لفظه، طبع یطبع کے معنیٰ ہوتے ہیں ڈھالنا، ڈھالنا، صورت دینا۔ اسجاع، اسجاع یہی ابھی جو ہم نے پڑھا سجع بھئی، سجع، یعنی مراد یہاں مسجع کلام ہے یعنی اس طرح کا وہ کلام کر رہا تھا جس کے میں فقرے کیا تھے؟ فقرے ایک جیسے حروف پر ختم ہو رہے تھے۔ تو کہتے ہیں: يطبع الاسجاع بجواهر لفظه، وہ ڈھال رہا ہے سجعوں کو بجواهر لفظه اپنے لفظوں کے جواہرات کے ساتھ، وہ ڈھال رہا تھا سجعوں کو اپنے الفاظ کے جواہرات کے ساتھ ڈھال رہا تھا، یعنی وہ الفاظ ایسے الفاظ تھے جو کس کی طرح تھے؟ جواہرات کی طرح تھے بھئی۔ تو وہ سجعوں کو ڈھال رہا تھا بجواهر لفظه اپنے اپنے جواہرات جیسے لفظوں کے ساتھ، ويقرع الاسماع بزواجر وعظه، قرع یقرع کے معنیٰ ہوتے ہیں کھٹکھٹانا۔ اسما ع جمع ہے سمعٌ کی، اور سمع شنوائی سننے کی طاقت، لیکن مراد یہاں کان ہیں، کیا مراد ہیں؟ کان۔ ويقرع الاسماع، اور وہ کانوں کو کھٹکھٹا رہا تھا یعنی ان پر اثر انداز ہو رہا تھا، ان پر اثر ڈال رہا تھا، بزواجر وعظه، اپنے وعظ کی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ بھئی، اپنے وعظ کی ڈانٹ جی۔ تو اپنی واعظانہ ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ وہ کانوں پر اثر انداز ہو رہا تھا۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ يطبع الاسجاع بجواهر لفظه ويقرع الاسماع بزواجر وعظه، کہ وہ جو ابو زید سروجی جو تھا وہ ڈھال رہا تھا سجعوں کو اپنے جواہرات جیسے لفظوں سے، ويقرع الاسماع بزواجر وعظه اور وہ کانوں پر اثر انداز ہو رہا تھا اپنے واعظانہ ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ۔
اب دیکھیے بھئی، پہلے فقرے کے آخر میں کیا آیا؟ لفظه، دوسرے فقرے کے آخر میں کیا آیا؟ وعظه، تو دیکھیے ایک جیسے حروف پر دونوں کا اختتام ہو رہا ہے تو یہ کیا ہے؟ سجع۔ اور پھر اس سجع کے اندر اگر فاصلوں کا وزن بھی ایک جیسا ہو، فاصلوں کا وزن، تو دیکھیے لفظه، وعظه، وزن بھی بالکل ایک جیسا ہے، تو پھر باقی کلمات میں دیکھا تو باقی کلمات کے اندر بھی اسی طرح ہیں، سارے ہی ایک جیسے حروف پر ختم ہو رہے ہیں اور ان سب کا وزن بھی ایک جیسا ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ مرصع کہیں گے۔ دیکھیے يطبع، دوسرے فقرے میں اس کے مقابلے میں کیا آ رہا ہے؟ يقرع، تو دیکھو دونوں عین پر ختم ہو رہے ہیں اور وزن بھی ایک جیسا ہے، يطبع اور يقرع۔ اگلا لفظ کیا ہے؟ الاسجاع، دوسرے فقرے میں کیا ہے؟ الاسماع، دیکھیے دونوں عین پر ختم ہو رہے ہیں اور دونوں کا وزن بھی بالکل ایک جیسا ہے۔ اگلا لفظ کیا ہے؟ بجواهر، اور دوسرے فقرے میں؟ بزواجر، تو دیکھو دونوں را پر ختم ہو رہے ہیں، تقفیہ بھی ہے، ایک جیسے حرف پر ختم ہو رہے ہیں اور نیز وزن بھی ایک جیسا ہے، تو اس ان دونوں فقروں کے سارے ہی الفاظ جو ہیں وہ وزن اور تقفیہ کے اندر ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ تو سارے الفاظ ہوں یا اکثر الفاظ ان میں وزن اور تقفیہ ہو تو اس کو مرصع کہتے ہیں بھئی۔ تینوں قسمیں سمجھ میں آ گئیں؟
اگلی صنعت دیکھیے بھئی: ما لا يستحيل بالانعكاس ويسمى القَلب، وهو كون اللفظ يقرأ طردا وعكسا، نحو: كن كما امكنك، وربك فكبر۔ ما لا يستحيل بالانعكاس، انعکاس کا معنیٰ الٹنا، الٹنا، ما لا يستحيل بالانعكاس جو بدلتا نہ ہو الٹنے سے، ما لا يستحيل بالانعكاس کا کیا معنیٰ؟ جو بدلتا نہ ہو الٹنے سے، ويسمى القَلب، اور اس کو قلب بھی کہتے ہیں، اس صنعت کو قلب بھی کہتے ہیں۔ بھئی قلب اس اور ما لا يستحيل بالانعكاس اس چیز کا نام ہے کہ کلام کو آپ شروع کی طرف سے پڑھیں یا آخر کی طرف سے پڑھیں، دونوں صورتوں میں وہی کلام رہتا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی بھئی۔ جیسے وربك فكبر، ذرا اس پہ نظر رکھیں، وربك فكبر، دیکھیے واؤ کے علاوہ باقی کو دیکھیے، ربک فکبر، اب ذرا اس کو آخر سے دیکھیے، آخر میں کیا ہے؟ سب سے آخر میں را، اس سے ماقبل کیا ہے؟ با، رب، پھر وہی رب بن گیا، اور اس کے بعد کیا ہے؟ کاف، ربک، پھر کیا ہے؟ فا، ربک ف، پھر کیا ہے؟ کاف، پھر اس سے پیچھے با، پھر را، کبر، ربک فکبر۔ دیکھیے کلام کے ایک طرف سے پڑھیں یا دوسری طرف سے پڑھیں وہی لفظ رہتے ہیں بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قلب اور ما لا يستحيل بالانعكاس۔
تو کہتے ہیں: ما لا يستحيل بالانعكاس ويسمى القَلب، اور اس کو قلب بھی کہتے ہیں، وهو كون اللفظ يقرأ طردا وعكسا، کہ وہ لفظ کا ہونا ہے کہ اس کو پڑھا جائے طرداً، طرداً کا معنیٰ ہے اول سے آخر تک، اور عکسًا کا معنیٰ ہے اس کا الٹ بھئی، اول سے آخر تک تھا پہلے، اب آخر سے اول تک۔ وہ لفظ کا ہونا ہے کہ پڑھا جائے اس کو اول سے آخر تک اور پھر الٹا، یعنی دونوں طرح ایک ہی جیسا رہے۔ نحو، مثال کے طور پر: كن كما امكنك، کن، ہو جا، كما امكنك جیسا تیرے لیے ممکن ہو، جیسا تیرے لیے ممکن ہو ویسا ہو جا۔ اب دیکھیے کن كما امكنك، سب سے آخر میں کیا آیا؟ کاف، اس سے پہلے نون، تو کن، پھر آگے کاف، میم، پھر وہ ہمزہ اور الف ایک ہی شمار ہوتے ہیں بھئی کیونکہ ہمزہ الف سے بدلتا رہتا ہے اور لکھنے میں بھی عموماً شروع وغیرہ میں آئے تو ایک جیسے، تو پھر کیا آیا؟ کن كما امكنك، دوبارہ کیجیے، آخر میں کیا ہے؟ کاف، پھر اس سے پہلے نون، تو یہ پھر کن بن گیا، اس سے پیچھے کاف، پھر میم، پھر الف، کن كما، پھر اس کے بعد الف، پھر میم، پھر کاف، پھر نون، امکن، پھر اس کے بعد کاف، کن كما امكنك۔ دیکھیے شروع سے پڑھیں یا آخر سے پڑھیں وہی لفظ بنتے ہیں۔
یا جیسے آپ کہتے ہیں، آپ کہتے ہیں: کلامک کمالک، کلامک کمالک، آپ کلامک آپ کا کلام جو ہے کمالک وہ آپ کا کمال ہے۔ کلامک کمالک، اب اس کو آپ آخر سے ذرا پڑھیے، کلامک کمالک، آخر میں کیا ہے؟ کاف، پھر کیا ہے؟ لام، پھر اس سے پیچھے کیا ہے؟ الف، پھر کیا ہے؟ میم، کلام، پھر اس سے پیچھے کاف ہے، کلامک، پھر اس کے پیچھے کاف ہے، پھر میم ہے، پھر الف، پھر لام، کاف، کمالک، تو دیکھیے دوسری طرف سے پڑھیں پھر بھی یہی لفظ بن یہی لفظ بنتے ہیں بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟
نیز اسی طرح قرآن میں آتا ہے بھئی، ایک اور مثال بھی بھئی: وكل في فلك يسبحون، اور ہر ایک ایک دائرے میں تیر رہا ہے ہر ایک۔ کل فی فلک، کل فی فلک، آخر میں کیا آیا؟ کاف، اس سے ماقبل لام، کل، جی، پھر اس سے ماقبل میں فا، پھر اس سے ماقبل میں کل فی فلک، یا، پھر دیکھیے یہ بن گیا کل فی، پھر اس سے ماقبل میں فا، پھر اس سے ماقبل میں لام اور پھر کاف، فلک، تو دیکھیے کل فی فلک دونوں طرف جس طرف سے بھی پڑھیں وہ اسی طرح رہتا ہے بھئی۔
اگلی صنعت دیکھیے بھئی: العكس، هو ان يقدم جزء في الكلام على اخر ثم يعكس۔ بھئی عکس اس کو کہتے ہیں کہ کلام کا ایک پہلا جز ہے ایک دوسرا جز ہے، پہلا حصہ ہے اور ایک دوسرا حصہ۔ پہلے حصے میں آپ ایک لفظ کو لاتے ہیں اس کو مضاف بناتے ہیں اور دوسرا لفظ لاتے ہیں اس کو مضاف الیہ۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کلام کے جز اول میں پہلے حصے میں آپ کیا کرتے ہیں؟ ایک مضاف اور ایک مضاف الیہ لاتے ہیں، اور کلام کے آخری جز میں آپ اس کو الٹا دیتے ہیں، مضاف کو مضاف الیہ بنا دیتے ہیں اور مضاف الیہ کو مضاف بنا دیتے ہیں۔ جیسے آپ کہتے ہیں: کلام الملوک ملوک الکلام۔ کلام الملوک، بادشاہوں کا جو کلام ہے، ملوک الکلام، وہ کلاموں کا کلاموں کا بادشاہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھو کلام الملوک، کلام تھا مضاف، ملوک تھا مضاف الیہ، پھر اگلے آخری حصے میں کیا کر دیا؟ ملوک جو مضاف الیہ تھا اس کو کیا بنا دیا؟ مضاف، اور جو مضاف تھا کلام اس کو کیا بنا دیا؟ مضاف الیہ۔ کلام الملوک ملوک الکلام بھئی، بادشاہوں کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: العکس، عکس جو ہے، هو ان يقدم جزء في الكلام على اخر ثم يعكس، کہ وہ مقدم کر دیا جائے ایک جز کو کلام میں دوسرے پر، ثم يعكس پھر اس کو پھر اس کا عکس کر دیا جائے، اس کو الٹا دیا جائے، نحو قولك، مثال کے طور پر آپ کا قول: قول الامام امام القول، قول الامام، امام کا جو قول ہوتا ہے، امام کی جو بات ہوتی ہے، امام القول وہ باتوں کی امام ہوتی ہے۔ تو دیکھیے قول الامام، قول مضاف، الامام مضاف الیہ، اور اگلے حصے کے اندر مضاف الیہ جو امام تھا اس کو مضاف بنا دیا اور قول جو مضاف تھا اس کو مضاف الیہ بنا دیا گیا۔ اگلی اگلی مثال: وحر الكلام كلام الحر، وحر الكلام، اور آزاد کلام جو ہوتا ہے، كلام الحر وہ آزاد کا کلام ہوتا ہے۔ آزاد آدمی کا کلام آزاد کلام ہوتا ہے۔ وحر الكلام، حر مضاف، الکلام مضاف الیہ، اور آگے پھر الٹ دیا، کلام کو مضاف بنا دیا گیا اور حر کو مضاف الیہ۔ تو آزاد آدمی کا کلام وہ آزاد کلام ہوتا ہے، یا یوں کہیں جو آزاد کلام ہوتا ہے وہ دراصل آزاد آدمی کا کلام ہوتا ہے۔
اگلی صنعت دیکھیے: التشريع، تشریع کہتے ہیں: وبناء البيت على قافيتين بحيث اذا سقط بعضه كان الباقي شعرا مفيدا۔ بھئی ابھی آپ کو میں نے بتلایا، نثر کے اندر دو فقروں کا ایک جیسے حرف پر ختم ہونا یہ کیا کہلاتا ہے؟ سجع، اور یہی شعر کے اندر ہو تو کیا کہلاتا ہے؟ قافیہ۔ جی، تو یہاں اب شعر کی بات آئے گی تو قافیے کا ذکر آئے گا بھئی۔ اور تشریع بھئی، تشریع، تشریع اس کو کہتے ہیں کہ آپ شعر کہتے ہیں، بھئی میں نے آپ کو بتایا تھا اشعار کے اپنے مخصوص اوزان ہوتے ہیں، کیا ہوتے ہیں؟ مخصوص اوزان۔ اگلے یا اس سے اگلے سال ان شاء اللہ آپ بھی یہ پڑھیں گے، اشعار کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں بھئی، اور ایک حرف کی کمی بیشی سے بھی سارے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے۔ بھئی اشعار کے اندر اگر آپ دیکھیں تو خاص قسم کا ایک ترنم اور ایک روانگی ہوتی ہے، خاص قسم کا ترنم اور روانگی، اور ایک حرف بھی بدل دیں گے اپنی جگہ سے تو وہ ترنم اور روانگی اس کے اندر برقرار نہیں رہے گی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس علم کے کے موجد جو ہیں امام خلیل ابن احمد رحمہ اللہ ہیں بھئی۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی بھئی، دعا کی کہ اے اللہ مجھ کو کوئی ایسا علم عطا فرمائیے جو اس سے پہلے آپ نے کسی کو عطا نہ فرمایا ہو، تو چنانچہ ان کو اللہ نے یہ علم ان کو نصیب فرمایا۔
اور ان کے ذہن میں کیسے آیا، پہلے کیسے ڈالا ڈالا گیا؟ کہ کہتے ہیں یہ ایک بازار سے گزر رہے تھے اور وہاں وہ لوہار لگے ہوئے تھے اور وہ ہتھوڑے چلا رہے تھے۔ اوزار وغیرہ بنا رہے ہیں، لوہار تو کیا کر رہے ہیں؟ ہتھوڑے وغیرہ چلا رہے ہیں تو اس وقت اللہ نے ان کے دل میں ڈالا بھئی۔ تو انہوں نے غور کیا، چلتے چلتے اچانک ان کی توجہ ہوئی اس بات کی طرف کہ یہ جو لوہار ہتھوڑے چلا رہے ہیں، ان میں خاص ترنم اور تناسب ہے، ایک خاص رفتار کے ساتھ ان کے ہتھوڑے چل رہے ہیں اور ان سے ایک خاص وہ بن رہی ہے، آواز پیدا ہو رہی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو ہتھوڑا چلتا ہے وہ برابر ایک رفتار کے ساتھ چلتا ہے نا، اور کافی سارے چل رہے تھے تو وہ ایک خاص ایک خاص قسم کی ترتیب ان میں بنی ہوئی تھی، اسی ترتیب سے چل رہے تھے، اسی ترتیب سے بار بار چل رہے ہیں۔ تو یہ اور پھر انہوں نے اس کے بعد غور کرنا شروع کیا، اللہ نے ان کے دل میں ڈالا اور یہ اشعار کے اوزان انہوں نے پھر نکالے۔
اور عجیب بات بھئی کہ اشعار یہ علم تو انہوں نے ایجاد کیا، ان کو اللہ نے پہلے نصیب فرمایا، اس سے پہلے کسی کو یہ اوزان وغیرہ کا پتہ ہی نہیں تھا۔ لیکن عجیب بات، اوزان بنانے کے بعد وہ عرب کے قدیم جتنے بھی شعراء کا کلام اٹھاتے ہیں تو وہ سارے اس وزن پر پورے اترتے ہیں، ایک حرف بھی آگے پیچھے نہیں ہے بھئی۔ ایسا بلند ذوق اللہ نے ان لوگوں کو نصیب فرمایا تھا کہ سارے اشعار بھئی کیا ہیں؟ ایک خاص وزن پر چلتے جا رہے ہیں، چل لفظ حالانکہ آپ بھی دیکھتے ہیں، ہر جگہ لفظ بدل رہا ہے یا نہیں بھئی؟ یا وہی لفظ بار بار آتے ہیں اشعار میں؟ ہر شعر میں ہر لفظ ایک دوسرے سے علیحدہ ہے لیکن ان میں ایک خاص ترنم اور روانگی ہوتی تھی، وہ ساری شروع قصیدے سے لے کر آخر تک اسی ترتیب سے ترنم وہ چلتا رہتا تھا ان کا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ساکن کے مقابلے میں ساکن آتا ہے اور متحرک کے مقابلے میں یہاں متحرک آتا ہے بھئی، متحرک آتا ہے، یہ آپ پڑھیں گے بڑا دلچسپ فن، لیکن بڑا مشکل بھی ہے، جس کو اللہ نے ذوق دیا ہو۔ جس کو اللہ نے ذوق دیا ہوتا ہے وہ شعر کو سنتے ہی شعر کو سنتے ہی اس کے ذہن میں کچھ آتا ہے کہ بھئی کچھ وزن برابر نہیں، کچھ کچھ کمی ہے اس کے اندر، اور پھر اسی میں ذرا سی وہ محنت کرتا ہے تو خوب اچھی طرح مہارت اس کو ہو جاتی ہے، شعر سنتے ہی پتہ چل جاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ حضرت شیخ رحمہ اللہ بڑے ان کو تو اللہ نے تمام علوم میں مہارت نصیب فرمائی تھی، والد صاحب رحمہ اللہ کو، اور وہ شعر کو سنتے ہی پتہ لگ جاتا تھا بھئی۔ تو اردو وغیرہ ہر زبان کے اندر اشعار کا ایک خاص ترنم ہوتا ہے، ان کا خاص وزن ہوتا ہے۔ تو اردو کا بھی کوئی شعر سامنے آتا تو وہ دیکھتے ہی کہہ دیتے، سنتے ہی کہہ دیتے، بھئی یہ کیسا شعر ہے؟ اب سمجھ میں، جیسے آج کل کے آپ کو ہر نوجوان شاعر ملے گا، ہر ایک اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے؟ شاعر سمجھتا ہے، بس شعر کہنا، اب دوسروں بیچاروں میں سے ہر ایک کو تو وزن کا پتہ نہیں چلتا، حالانکہ شاعری کے ابجد سے بھی وہ واقف نہیں ہوتا، کیونکہ اشعار کا ترنم ہوتا ہے بھئی، یہ نہیں کہ آپ الفاظ کو آگے پیچھے کر دیں تو بس وہ شعر بن گیا بھئی۔ حالانکہ آج کل عموماً ایسا ہی ہوتا ہے، بہت کم کسی کے کو ذوق ہوتا ہے اور وہ صحیح وزن کے ساتھ شعر کہتا ہے۔ تو وہ اشعار ایسے اشعار سامنے آتے تو سنتے ہی کہہ دیتے: بھئی اس کا تو وزن ہی نہیں بنتا، یہ کیسے شعر ہے بھئی؟ اور ہم دیکھ رہے ہوتے، ہم سوچتے کہ نہیں اچھا بھلا تو اس نے شعر کہا ہوا ہے، تو وہ دراصل اس وزن کو دیکھ لیتے تھے، وزن سے اندازہ لگا لیتے تھے۔
جی، تو تشریع کی بات چل رہی ہے۔ تشریع وہ صنعت ہے کہ جس میں شاعر اپنا کمال دکھاتا ہے اور وہ ایک ہی شعر کے اندر گویا یوں کہیں دو قسم کے شعر لے آتا ہے، کیا لے آتا ہے؟ دو قسم کے شعر لے آتا ہے، کس طرح؟ کہ بھئی دیکھیے، شعر کا اختتام کس پر ہوتا ہے؟ ایک جیسے حروف پر نا، ایک جیسے حروف پر۔ وہ شعر کو اس طرح بناتا ہے اشعار کو اس طرح بناتا ہے کہ ان کے آخری آخری ایک یا دو لفظوں کو اٹھا دیں تو پھر بھی شعر باقی رہتا ہے، پھر بھی وہ رعایتِ سجا باقی رہ وہ قافیہ ہے، کیا ہے؟ قافیہ باقی رہتا ہے، پورا شعر ہوتا ہے۔ پہلے ایک قسم کا شعر تھا، اب جب آخر سے ایک ایک دو دو لفظ اٹھا دیے اب بھی شعر ہے، اب دوسری قسم کا شعر بن گیا، وزن بدل گیا لیکن ہے پھر بھی وہ کیا؟ شعر ہی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو تشریع، تشریع کہتے ہیں: وبناء البيت على قافيتين، وہ بنا کرنا ہے، بنیاد رکھنا ہے شعر کی على قافيتين کس پر؟ دو قافیوں پر۔ قافیہ تو کس کو کہتے تھے؟ آخری حرف جو آتا تھا، تو دو قافیے وہ لاتا ہے یعنی آخر سے اڑا دیں گے ایک آدھ لفظ تو پھر بھی دوسرا قافیہ ہوگا اور وہ شعر پھر بھی پورا رہے گا، ادھورا نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وبناء البيت على قافيتين، وہ بنا کرنا ہے یعنی بنانا ہے شعر کو، بنیاد رکھنا ہے شعر کی على قافيتين کس پر؟ دو قافیوں پر، بحيث اذا سقط بعضه كان الباقي شعرا مفيدا، اس طور پر کہ اگر اس شعر میں سے کچھ ساقط بھی ہو جائے، کچھ لفظ گر بھی جائیں، كان الباقي شعرا مفيدا، تو باقی کیا ہوتا ہے؟ وہ مفید شعر ہوتا ہے، فائدہ دینے والا شعر ہوتا ہے یعنی پورا کلام ہوتا ہے، كقوله، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے:
يا ايها الملك الذي عم الورى
ما في الكرام له نظير ينظر
لو كان مثلك اخر في عصرنا
ما كان في الدنيا فقير معسر
اب دیکھیے بھئی، یہ شعر ہے، اگر پہلے مصرعے کے آخر سے عم الورى کو اڑا دیں، دوسرے مصرعے کے آخر سے ينظر کو اڑا دیں پہلے شعر میں، اور دوسرے شعر کے اندر پہلے مصرعے کے اندر سے في عصرنا کو ختم کر دیں اور دوسرے مصرعے کے آخر سے معسر کو ختم کر دیں، پھر بھی یہ شعر ہے، اب وزن بدل جائے گا، الگ قسم کا شعر بن جائے گا، جیسے انہوں نے دیا بھی ہے نیچے۔ پھر یہی شعر، اب یہ بن جائے گا:
يا ايها الملك الذي
ما في الكرام له نظير
لو كان مثلك اخر
ما كان في الدنيا فقير
دیکھیے اب بھی پورا معنیٰ صحیح ہے اور الگ قافیے کا شعر بن گیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھیے پہلے یہاں يا ايها الملك الذي، کس کو اڑا دیے، کن لفظوں کو ختم کیا؟ عم الورى کو، اور ما في الكرام له نظير، یہاں سے کیا ختم کیا؟ ينظر۔ دوسرے شعر کے اندر لو كان مثلك اخر، یہاں سے کیا ختم کیا؟ في عصرنا، اور آگے ما كان في الدنيا فقير، یہاں سے کیا ختم کیا؟ معسر۔ تو پھر بھی کلام بھی پورا، شعر بھی پورا اور اس کا وزن بھی پورا، لیکن پہلے وزن اور تھا اب وزن اور ہے۔
كقوله، جیسے ایک شاعر کہتا ہے: يا ايها الملك الذي عم الورى، اے وہ بادشاہ کہ جو کہ عام ہے ساری مخلوق کو، جو عام ہے ساری مخلوق کو، یعنی جس کی حکومت ہے ساری مخلوق پر، یا یوں کہیں کہ جس کی سخاوت عام ہے کس پر؟ ساری مخلوق پر۔ يا ايها الملك الذي عم الورى، اے وہ بادشاہ کہ جو کہ عام ہے یعنی سب پر ہے جس کی بادشاہت، عم الورى جو عام ہے ساری مخلوق پر یعنی ان سب پر اس کی حکومت ہے، ما في الكرام له نظير ينظر، نہیں ہے سخیوں میں، کرام جمع ہے کریم کی، نہیں ہے سخیوں میں له نظير اس کی کوئی مثال، اس کی کوئی ایسی مثال، نظیرٌ نکرہ ہے، ینظر اس کے بعد فعل آیا تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت، تو نہیں ہے اس کے لیے سخیوں میں کوئی ایسی مثال ينظر جس کی طرف دیکھا جاتا ہو، جس کی طرف دیکھا جاتا ہو، یعنی جب لوگوں کو ضرورت پیش آئے اس کی طرف دیکھیں اور اس بادشاہ کے علاوہ اور کوئی نہیں، سب اسی کی طرف دیکھتے ہیں۔ لو كان مثلك اخر في عصرنا، اگر آپ جیسا کوئی دوسرا ہوتا ہمارے زمانے میں، ما كان في الدنيا فقير معسر، تو نہ ہوتا دنیا کے اندر کوئی تنگ دست فقیر، تنگ ہاتھ والا جس کے پاس کچھ نہ ہو، ایسا کوئی فقیر نہ ہوتا۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
يا ايها الملك الذي عم الورى
ما في الكرام له نظير ينظر
اے وہ بادشاہ کہ جو کہ عام ہے ساری مخلوق کو، نہیں ہے سخیوں کے اندر اس کی کوئی ایسی مثال جس کی طرف دیکھا جاتا ہو،
لو كان مثلك اخر في عصرنا
ما كان في الدنيا فقير معسر
اگر آپ جیسا کوئی دوسرا ہوتا ہمارے زمانے میں تو نہ ہوتا دنیا کے اندر کوئی تنگ دست فقیر۔
فانه يصح ان تحذف اواخر الشطور الاربعة، پس کیونکہ صحیح ہے کہ حذف کر لیا جائے الشطور، شطر کسے کہتے ہیں؟ شطر کہتے ہیں جز کو اور حصے کو، اسی طرح نصف آدھے کو بھی کیا کہتے ہیں؟ شطرٌ کہتے ہیں، اور یہاں اسی معنیٰ میں ہے کیونکہ ایک شعر کے اندر کتنے مصرعے ہوتے ہیں؟ دو مصرعے، تو آدھا ایک مصرع کیا ہے؟ آدھا شعر ہے۔ تو یہاں پر بھی فانه يصح ان تحذف اواخر الشطور الاربعة، کہ یہاں صحیح ہے کہ حذف کر لیا جائے چار نصفوں کا اواخر یعنی چار مصرعوں کا کے آخر کو اگر حذف کر لیا جائے تو بھی یہ صحیح رہتا ہے، ويبقى، اور باقی یوں باقی رہتا ہے۔
فانه يصح، فا تعلیلیہ ہے۔ فا کیا ہے؟ تعلیلیہ۔ آپ نے اصول الشاشی اور نور الانوار میں پڑھا ہوگا کہ فا کبھی علت بیان کرنے کے لیے آتی ہے، یعنی اس کے مابعد ماقبل کی علت ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ علت، تو یہاں اور اس کا ترجمہ کیونکہ کے ساتھ کرتے ہیں یا اس وجہ سے۔ تو دیکھیے پیچھے شعر ذکر کے تشریع کی تعریف کی کہ وہ شعر کی بنیاد رکھنا ہے دو قافیوں پر اس حیثیت سے کہ اگر کچھ حصہ اس شعر کا گرا بھی دیا جائے، وہ گر بھی جائے، پھر بھی باقی کیا رہتا ہے؟ مفید شعر، جیسے کہ شاعر کا یہ قول ہے، فانه يصح کیونکہ یہ صحیح ہے ان تحذف اواخر الشطور الاربعة ان تحذف اواخر الشطور الاربعة کیونکہ صحیح ہے کہ حذف کر لیا جائے اس کے جو چار حصے ہیں ان کے آخر کو، ان کے آخر کو حذف کر لیا جائے، فانه يصح ان تحذف اواخر الشطور الاربعة ويبقى، پس یہ جو شعر ہے یہ صحیح ہے کہ حذف کر لیا جائے اس کے چار حصوں کے آخر کو، اس کے چار حصوں کے آخر کو حذف کرنا صحیح ہے، ويبقى اور باقی رہ جاتا ہے، یہ باقی رہ جاتا ہے:
يا ايها الملك الذي
ما في الكرام له نظير
اے وہ بادشاہ کہ جو نہیں ہے سخیوں میں اس کی کوئی مثال،
لو كان مثلك اخر
ما كان في الدنيا فقير
اگر آپ جیسا کوئی دوسرا ہوتا تو دنیا کے اندر کوئی محتاج نہ ہوتا۔ تو دیکھیے اب بھی معنیٰ پورا ہے، شعر پورا ہے۔
المواربة، مواربت۔ اگلی صنعت ہے مواربت بھئی، مواربت۔ مواربت اس کو کہتے ہیں کہ متکلم اپنے کلام کو ابتدا سے ہی ایسے طریقے پر تیار کرتا ہے کہ اگر اس پر کوئی ناراض ہو اور گرفت کرنا چاہے تو وہ اس میں معمولی سی تبدیلی کر کے مواخذے سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے کہ میں نے تو یوں نہیں کہا تھا، میں نے تو یوں کہا تھا۔ پہلے ایک کلام کیا لیکن پہلے سے تیار کیا ہوا ہے کہ اگر وہ ناراض ہوا یا اس نے میرا مواخذہ کرنے کی کوشش کی تو میں اس کو کیا کر دوں گا؟ بدل اس طرح بدل دوں گا، معمولی سی وہ تبدیلی کر دیتا ہے اور بات پہلے کچھ اور تھی پھر کچھ اور بن جاتی ہے۔
تو کہتے ہیں: المواربة، مواربت جو ہے، هي ان يجعل المتكلم كلامه، کہ وہ بناتا ہے متکلم اپنے کلام کو، بحيث، اس طور پر کہ، يمكنه ان يغير معناه، کہ ممکن ہوتا ہے اس کے لیے کہ وہ اس کے معنیٰ کو بدل دے، بتحريف او تصحيف او غيرهما، تحریف کہتے ہیں کلام میں رد و بدل کرنا، اور تصحیف بھئی وہ حروف کی وجہ سے کلام کو دوسری طرح پڑھ دینا حروف میں اشتباہ وغیرہ کی وجہ سے۔ تو تو وہ کلام کے معنیٰ کو بدل دیتا ہے بتحریفٍ اس میں رد و بدل کرتے ہوئے، او تصحیفٍ یا اس کے حروف میں تبدیلی کرتے ہوئے، او غیرہما یا ان کے علاوہ میں، ليسلم من المؤاخذة، تاکہ وہ سلامت رہے کس چیز سے؟ مواخذے سے، گرفت سے وہ بچ جائے، اس سے سلامت رہے، كقول ابي نواس، جیسے ابو نواس شاعر کا قول ہے بھئی۔
ابو نواس ایک شاعر تھا اور اس نے ہارون الرشید کی مدح وغیرہ اور تعریف میں اشعار کہے۔ ہارون الرشید خلیفہ تھا تو اس کی مدح میں اشعار کہے، اور آپ جانتے ہیں بھئی کہ خلفاء اور بڑے سردار اور بادشاہ وغیرہ شعراء کو بڑا انعام دیتے تھے کیونکہ عربوں کے ہاں اشعار بڑی تیزی سے مقبول ہو جاتے اور ہر طرف پھیل جاتے تھے۔ تو اس نے اشعار وغیرہ کہے لیکن ہارون نے کوئی اس کے اشعار کی طرف توجہ نہ دی، اس کو کوئی انعام وغیرہ نہیں دیا۔ تو اس نے پھر یہ شعر کہا، یہ شعر کہا، دیکھیے اگلا شعر:
لقد ضاع شعري على بابكم
كما ضاع عقد على خالصة
لقد ضاع، ضاع یضیع کے معنیٰ ضائع ہونا، لقد ضاع شعري، تحقیق میرے شعر جو ہیں وہ ضائع ہو گئے، على بابكم، تمہارے دروازے پر۔ میرے شعر کیا ہو گئے؟ ضائع ہو گئے تمہارے دروازے پر، كما ضاع عقد على خالصة، عقدٌ کہتے ہیں ہار کو، ہار۔ خالصہ یہ ہارون الرشید کی کوئی محبوب باندی تھی تو اس کا نام تھا خالصہ۔ كما ضاع عقد على خالصة، جیسے کہ ہار ضائع ہو گیا خالصہ پر، اس نے ہار پہنا ہوا ہے تو یہ گویا ہار کو ضائع کرنا ہے، یہ اس قابل نہیں کہ اس کو ہار پہنایا جائے۔ تو یہ شعر اس نے کہا:
لقد ضاع شعري على بابكم
كما ضاع عقد على خالصة
کہ تحقیق میرا شعر ضائع ہو گیا تمہارے دروازے پر جیسے کہ ہار ضائع ہو گیا خالصہ پر۔
فلما انكر عليه الرشيد ذلك، انكر عليه الرشيد ذلك، یاد رکھیے عربی زبان میں کہتے ہیں: انکر علیہ فعلہ، انکر علیہ فعلہ، جب کسی کے کام کو ناپسند کرتے ہوئے اس کو اس کام سے روکا جائے، منع کیا جائے تو کہتے ہیں: انکر علیہ فعلہ۔ کسی کے کام کو ناپسند کر کے اس سے روکنا بھئی، تو اس کے لیے عربی میں کہتے ہیں: انکر علیہ فعلہ۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے: فلما انكر عليه الرشيد ذلك، تو جب ہارون الرشید نے اس کے اس کام کو، اس عمل کو، اس شعر کہنے کو ناپسند کرتے ہوئے اس سے منع کیا، یعنی وہ ناراض ہوا ہوگا اور کہا ہوگا تم نے کیوں کہا یہ شعر؟ تمہیں نہیں کہنا چاہیے تھا، فقال، تو وہ شاعر کہنے لگا: لم اقل الا، میں نے تو نہیں کہا سوائے یہ کہ میں نے صرف یہ کہا تھا، میں نے تو یہ کہا تھا آپ کو غلط شعر پہنچا ہے، میں نے یہ کہا تھا: لقد ضاء شعري على بابكم كما ضاء عقد على خالصة۔ تو دیکھو ضاع، عین کو اس نے ہمزہ سے بدل دیا، ضاء، اب دیکھو یہ قریب قریب ہیں ادا ادائیگی میں بھی اور لکھنے میں بھی قریب قریب۔ لقد ضاء، ضاء کے معنیٰ چمکنا، روشن ہونا، کہ تحقیق میرا شعر روشن ہو گیا تمہارے دروازے پر كما ضاء عقد على خالصة جیسے ہار روشن ہو گیا کس پر؟ خالصہ پر، کہ میرا شعر چمکنے لگا تمہارے دروازے پر جیسے کہ ہار چمکنے لگا کس پر؟ خالصہ پر۔ تو دیکھو اس نے تھوڑی سی تبدیلی کر کے اپنے آپ کو بچا لیا اور پہلے سے ہی اس نے تیار کیا ہوا تھا کہ اگر وہ ناراض ہوا تو میں اس طرح کہوں گا۔
تو شاعر نے دیکھیے تھوڑی سی تبدیلی کی اور عین کو ہمزہ سے بدل دیا، اب معنیٰ کچھ کا کچھ ہو گیا بھئی۔ پہلے دیکھو خرابی بیان ہو رہی تھی اور اب تعریف ہو رہی ہے بھئی، تعریف ہو رہی ہے۔ تو ہارون الرشید بڑا خوش ہوا اور اس نے شاعر کو بڑا انعام دیا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔