Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-083

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 06 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔83 وغير تام ما اختلف في واحد من الاربعة المتقدمة، وهو محرف ان اختلف لفظاه في هيئة الحروف فقط، نحو قوله: جبة البرد جنة البرد، ومطرف ان اختلفا في عدد الحروف فقط وكانت الزيادة اولا، ومذيل ان كانت الزيادة اخرا۔ جناس پڑھ رہے تھے ہم بھئی صنعتِ جناس جس میں دو لفظ جو ہیں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں، اور یہ دو قسم پر تھا ایک جناسِ تام ایک جناسِ غیر تام۔ جناسِ تام آپ نے پڑھا جس کے اندر دو لفظ جو ہیں وہ ہیئت، نوع، عدد اور ترتیب کے اندر بالکل ایک جیسے ہوں۔ ہیئت کے اندر ایک جیسے ہونے کا معنیٰ یہ کہ حرکت اور سکون دونوں کا بالکل ایک جیسا ہو، ایک جیسی حرکتیں ہوں ان کے حروف پر بھئی۔ اور جہاں ساکن آ رہا ہے وہاں ساکن ہو، جہاں متحرک ہے متحرک ہو، اور حرکتیں بھی ایک جیسی، زبر کے مقابلے میں زبر ہے، زیر کے مقابلے میں زیر ہے، پیش کے مقابلے میں پیش ہے۔ تو اس ایک جیسے ہوں تو اس کو کہیں گے کہ یہ دو لفظ ہیئت میں متفق ہیں۔ اور اسی طرح نوع، نوع سے مراد ہے کہ حروف بھی ایک جیسے ہوں۔ ہر حروفِ تہجی میں سے ہر حرف ایک نوع ہے، ہر حرف کیا ہے؟ ایک نوع ہے، تو نوع کے اندر بھی ایک جیسے ہوں۔ اور اسی طرح عددِ حروف میں بھی دونوں لفظ ایک جیسے ہوں، ایک میں تین حروف ہیں تو دوسرے میں بھی تین حروف ہوں، ایک میں چار حروف ہیں تو دوسرے میں بھی چار حروف ہوں۔ اور ترتیب کے اندر بھی ایک جیسے ہوں یعنی ایک لفظ کے اندر الف پہلے ہے، سین بعد میں ہے، با اس کے بعد ہے، تو دوسرے لفظ میں بھی اسی طرح ہو۔ تو اس کو کہتے ہیں جناسِ تام، جب یہ چاروں چیزوں کے اندر دو لفظ متفق ہوں تو اس کو جناسِ تام کہتے ہیں بھئی، اور اس کے آپ نے پڑھا کہ چار قسمیں ہیں بھئی، چار قسمیں۔ اگر دونوں لفظ ہر لحاظ سے ایک جیسے ہیں اور ہیں بھی ایک ہی نوع کے، یعنی ایک اسم ہے تو دوسرا بھی اسم ہے، یا ایک فعل ہے تو دوسرا بھی فعل ہے، تو ان کو اس جناس کو جناسِ متماثل کہیں گے۔ اور اگر دونوں کی نوع الگ الگ ہے ایک اسم ہے تو دوسرا فعل ہے تو پھر اس کو جناسِ مستوفیٰ کہیں گے۔ اور پھر اس کے بعد جناس میں اگر دونوں لفظ دونوں لفظوں میں سے ایک مفرد اور دوسرا کیا ہو؟ مرکب ہو، تو پھر دیکھیں گے کہ ان کا رسم الخط ایک جیسا ہے یا رسم الخط ایک جیسا نہیں ہے؟ اگر رسم الخط بھی پھر بھی ایک جیسا ہے تو اس کو کہیں گے متشابہ، اور اگر رسم الخط الگ الگ ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ مفروق کہیں گے مفروق۔ آج ہم دوسری قسم جناسِ غیر تام پڑھیں گے، جناسِ غیر تام۔ بھئی پہلے اس کو سمجھ لیں، جناسِ غیر تام وہ ہے، جناسِ تام کسے کہتے تھے؟ کہ دو لفظ کتنی چیزوں میں متفق ہوں؟ چار چیزوں میں، ہیئت، نوع، عدد اور ترتیب۔ اور جناسِ غیر تام وہ ہے کہ ان چار میں سے کسی ایک میں ان کا اختلاف آ جائے، یا ہیئت میں اختلاف ہو، یا نوع میں، یا عدد میں، یا ترتیب میں۔ تو چار میں سے ایک کے اندر اختلاف آنا چاہیے پھر جناس ہے، اگر دو چیزوں میں اختلاف آ گیا تو وہ جناس ہی خارج ہو جائیں گے بھئی، وہ پھر صنعتِ جناس وہاں ہے ہی نہیں۔ تو پھر تو چار چیزیں ہیں تو چار قسمیں بن جائیں گی۔ اگر ہیئت میں اختلاف ہے صرف تو یہ ایک قسم ہوگی، اگر صرف نوع کے اندر اختلاف آیا تو یہ دوسری قسم ہو جائے گی، اگر صرف عدد میں اختلاف آیا تو یہ ایک قسم ہو جائے گی، اور اگر صرف کس کے اندر اختلاف آیا؟ ترتیب کے اندر، صورت سمجھ میں آ گئی۔ جی تو یہی اب بیان کرنے لگے ہیں، دیکھیے بھئی، تو کہتے ہیں: وغير تام، اور ایک دوسری قسم جناسِ غیر تام ہے، ما اختلف في واحد من الاربعة المتقدمة، وہ لفظ وہ جناس ہے جو مختلف ہو، یا یوں کہیں وہ لفظ ہیں جو مختلف ہوں في واحد من الاربعة المتقدمة کسی ایک میں وہ چار ان چار میں سے جو مقدم ہوئیں، ان چار وہ چار چیزیں جو مقدم ہوئیں ان میں سے کسی ایک کے اندر وہ مختلف ہوں تو وہ غیر تام ہے۔ وهو محرف، پھر وہ غیر تام جناس جو ہے اس کو محرف کہیں گے، ان اختلف لفظاه في هيئة الحروف فقط، اگر وہ دو لفظ مختلف ہوں صرف حروف کی ہیئت کے اندر، صرف کس میں اختلاف آیا؟ ہیئت کے اندر، تو وہ اس کو محرف کہیں گے، نحو قوله، جیسے کہ کسی کا قول ہے: جبة البرد جنة البرد۔ تو دیکھیے یہاں بُرد اور بَرد بھئی، صرف کس چیز میں فرق ہے؟ صرف ہیئت میں، پہلے لفظ کے با پر پیش ہے اور دوسرے برد کے با پر زبر ہے، تو بُرد اور بَرد یہ ہے مقامِ استشہاد بھئی، ان کی صرف ہیئت میں فرق ہے باقی چیزیں آپ دیکھ لیں، تین چیزوں میں پھر اتفاق ہوگا۔ نوع کے اندر بھی اتفاق ہے، پہلے کے شروع میں با ہے پھر را ہے پھر دال، دوسرے میں بھی با ہے، را ہے اور دال۔ نیز عدد میں بھی برابر ہیں، پہلے میں تین حروف دوسرے میں بھی تین حروف۔ اور نیز ترتیب میں بھی ایک جیسے ہیں، پہلے میں با ہے، را ہے اور پھر دال، تو دوسرے میں بھی اسی طرح ہے بھئی۔ یہ صرف ہیئت میں اختلاف ہے تو اس کو محرف کہیں گے۔ اور معنیٰ کیا ہے اس کا؟ دیکھیے، جبة البرد، جبہ کہتے ہیں چغے کو، چغا۔ بُرد، برد کہتے ہیں دھاری دار اونی چادر اور کپڑا بھئی، دھاری دار اونی چادر یا کپڑا جو بھی ہے۔ تو جبة البرد، دھاری دار اونی چغا جو ہے، جنة البرد، جنۃٌ کہتے ہیں ڈھال کو بھئی، ڈھال۔ بھئی جنگیں پرانی لڑی جاتی تھیں تو وہ تلوار ایک تلوار اور ڈھال کے ساتھ جس پر تلوار وغیرہ کے وار کو روکا جاتا تھا، تو اس کو جنۃٌ کہتے ہیں ڈھال کو۔ اور بَرد کہتے ہیں سردی کو، تو کیا معنیٰ ہوا؟ جبة البرد جنة البرد، دھاری دار اونی چغا جو ہے وہ سردی کی ڈھال ہے یعنی سردی سے ڈھال ہے سردی سے بچانے والا ہے۔ تو اس کو یہ پہلی قسم ہے جس میں صرف کس میں اختلاف آیا؟ ہیئت میں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ محرف۔ ومطرف، اور یہ غیر تام جناس کو مطرف کہیں گے، ان اختلفا في عدد الحروف فقط، اچھا بھئی اب آگے دو قسمیں بیان کرنے لگے ہیں۔ بھئی اگر تعداد میں اختلاف ہو، حروف کی تعداد، تعداد میں اختلاف ہو یعنی ایک میں حروف ایک یا زیادہ کچھ زائد ہیں اور دوسرے میں کم، تو پھر یہ زائد حروف کلمے کے شروع میں زائد ہوں گے یا درمیان میں یا آخر میں۔ اگر شروع میں زائد ہیں تو اس کو کہیں گے مطرف، طا کے ساتھ، مطرف۔ اور اگر آخر میں زیادتی ہے تو اس کو کہیں گے مذیل، کیا کہیں گے؟ مذیل کہیں گے۔ اور اگر درمیان میں زیادتی ہو تو پھر اس کا کوئی الگ نام نہیں۔ ہاں شروع میں زیادتی ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مطرف، اور اگر آخر میں ہو تو؟ مذیل کہتے ہیں مذیل بھئی۔ تو کہتے ہیں: ومطرف ان اختلفا في عدد الحروف فقط وكانت الزيادة اولا، اور وہ جناسِ غیر تام مطرف ہوگا اگر مختلف ہوں وہ دونوں لفظ عددِ حروف کے اندر صرف، وكانت الزيادة اولا، اور زیادتی جو ہے وہ شروع میں ہو، ومذيل، اور اس کو مذیل کہیں گے، ان كانت الزيادة اخرا، اگر زیادتی کہاں پر ہو؟ آخر میں ہو۔ شروع میں زیادتی ہو، اس کی مثال جیسے ساق اور مساق، س، ا، ق دو نقطوں والا، ساق، اور دوسرا لفظ کیا ہے؟ مساق، تو دیکھیے باقی سب چیزوں میں اتفاق ہے، صرف عددِ حروف ایک میں چار ہیں تو ایک میں تین ہیں، اور جو زائد حرف ہے میم وہ کہاں پر ہے؟ شروع میں ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مطرف کہیں گے۔ اور اگر آخر میں زیادتی ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ مذیل کہیں گے اور اس کی مثال آگے شعر میں آ رہی ہے، نحو، مثال کے طور پر: يمدون من ايد عواص عواصم، تصول باسياف قواض قواضب۔ يمدون، مد يمد کے معنیٰ ہوتے ہیں لمبا کرنا، لمبا کرنا، اسی طرح مد يده ہاتھ لمبا کرنا یعنی ہاتھ بڑھانا بھئی۔ بھئی یہ مد يمد، مضاعف ہے نا مضاعف، دو دال آ رہے ہیں، مدد اس کا مادہ میم دال دال ہے۔ تو مد، مضاعف کا ایک قیمتی ضابطہ یاد رکھنا، آپ کو بہت سی جگہ کام آئے گا۔ مضاعف اگر بابِ نصر سے ہو تو وہ ہمیشہ متعدی ہوگا، وہ مفعول اس کے لیے آئے گا، کیا آئے گا؟ مفعول۔ مد يمد، دیکھو نصر باب سے ہے، مد يمد، اور مد يده، دیکھو اس کے لیے اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا، ید یہ مفعول آ رہا ہے۔ تو مضاعف جب کس باب سے ہو؟ نصر سے ہو تو ہمیشہ کیا ہوگا؟ متعدی ہوگا، وہ مفعول کا تقاضا کرے گا۔ اور اگر مضاعف اگر بابِ ضرب سے ہو تو پھر وہ ہمیشہ لازمی ہوگا، اس کے لیے مفعول نہیں آئے گا۔ جیسے فر يفر، فر يفر، یفر کا معنیٰ ہے بھاگنا، دوڑنا بھئی۔ تو زید دوڑا، فر زيدٌ، کوئی مفعول کی ضرورت نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ لازمی ہے لازمی۔ تو ضابطہ کیا ہوا؟ مضاعف اگر کس سے ہو؟ بابِ نصر سے ہو تو کس کا تقاضا کرے گا؟ مفعول کا، اور بابِ ضرب سے ہو تو؟ لازمی ہوگا مفعول اس کے لیے نہیں آئے گا۔ اور یہ مثالیں یاد رکھیں پھر آپ کو بات یاد رہے گی، مد يمد کو یاد رکھنا اور فر يفر کو یاد رکھنا، فوراً آپ کے ذہن میں ضابطہ تازہ ہو جائے گا۔ تو شاعر کہہ رہا ہے: يمدون من ايد، مد يمد، وہ بڑھاتے ہیں من ايد من ايد، یہ من تبعیضیہ ہے، ايد، ہاتھ بھئی، ايد ید کی جمع ہے ہاتھ کو کہتے ہیں۔ من تبعیضیہ ہے اور مراد ہاتھ کا بعض، یعنی یہ جو کہنی سے لے کر آگے انگلیوں تک کا حصہ ہے، کہنی سے لے کر انگلیاں، تو یہ حصہ مراد ہے اور یہ ہاتھ کا کل ہے یا بعض ہے؟ بعض ہے، تو یہ مراد ہے اس لیے من تبعیضیہ ذکر کیا شاعر نے۔ وہ اپنے ہاتھ بڑھاتے ہیں ایسے ہاتھ عواص، یہ صفت ہے ایدی کی، عواصم، یہ صفت ہے کس کی؟ یہ بھی ایدی کی صفت ہے۔ اور ید کا لفظ عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے، آپ کو میں نے پہلے بھی ضابطہ بتلایا تھا کہ وہ اعضاء جسم کے اندر جو دو دو ہیں وہ مؤنث استعمال ہوتے ہیں اور ہاتھ بھی کتنے ہیں؟ دو ہیں، تو یہ مؤنث استعمال ہوتے ہیں۔ اور تو عواص جمع ہے عاصیۃ کی، عاصیۃ، اسم فاعل ہے مؤنث کا صیغہ، یہ عصا یعصو سے ہے، صاد ہے، عصا یعصو، باب اس کا نصر ہے عصا یعصو، اور عصا یعصو کا معنیٰ ہوتا ہے کسی کو لاٹھی سے مارنا، عصا یعصو کا کیا معنیٰ؟ لاٹھی سے مارنا، لیکن یہاں لاٹھی سے مارنا مراد نہیں ہے بلکہ تلوار سے مارنا مراد ہے اور دلیل اس کی اگلے شعر میں اسیاف کا ذکر آ رہا ہے تلواروں کا ذکر آ رہا ہے۔ تو عواص کس کی جمع ہے؟ عاصیۃ کی، مؤنث کے صیغے کی، کیونکہ عاصیۃ یہ صفت ہے کس کی؟ ایدی کی، اور ایدی جمع ہے تو آگے اسی عاصیۃ کی جمع لائی گئی مؤنث کے صیغے کی بھئی۔ تو وہ ہاتھ ایسے ہیں عواص جو تلواریں مارنے والے ہیں، کیا کرنے والے ہیں؟ تلواریں مارنے والے ہیں۔ تو عصا یعصو کا معنیٰ ہوتا ہے میں نے بتلا دیا لاٹھی سے مارنا، لیکن یہاں تلوار سے مارنا مراد ہے۔ تو فاعلۃ کی جمع فواعل آتی ہے، فاعلۃ کی جمع کیا آتی ہے؟ فواعل، اگلی ساری جمعیں اسی طرح ہیں، عواص بھی اسی طرح ہے، قواض بھی اسی طرح ہے، قواضب بھی اسی طرح ہے۔ عواصم کس کی جمع ہے؟ اب ضابطہ میں نے آپ کو بتا دیا، عاصمۃ کی، شاباش۔ قواض جمع ہے کس کی؟ قاضیۃ کی، اچھا۔ قواضب جمع ہے کس کی؟ قاضبۃ کی بھئی، مؤنث کے صیغوں کی جمع ہے۔ تو يمدون من ايد، وہ بڑھاتے ہیں ایسے بازو، عواص، جو تلواریں مارنے والے ہیں، عواصم، یہ بھی صفت ہے ایدی کی، اور عصم یعصم کے معنیٰ ہوتے ہیں حفاظت کرنے والے، وہ ہاتھ ایسے ہیں جو حفاظت کرنے والے ہیں۔ پہلے کیا ترجمہ کیا؟ وہ ہاتھ ایسے ہیں جو تلواریں مارنے والے ہیں، وہ ہاتھ ایسے ہیں عواصم جو حفاظت کرنے والے ہیں۔ تلواریں مارنے والے ہیں دشمنوں پر، اور حفاظت کرنے والے ہیں اپنے دوستوں کی، تصول، صال یصول کا معنیٰ ہوتا ہے حملہ کرنا، حملہ کرنا، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے وہ گلستان میں شعر آتا ہے بھئی: اذا یئس الانسان طال لسانہ کسنور مغلوب یصول علی الکلب کہ جب انسان مایوس ہو جاتا ہے تو اس کی زبان لمبی ہو جاتی ہے، پھر وہ نہیں دیکھتا اس کے سامنے کون ہے، جو منہ میں آتا ہے کہتا چلا جاتا ہے۔ اذا یئس الانسان طال لسانہ، جب انسان مایوس ہو جاتا ہے کہ اب میرے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے، تو طال لسانہ اس کی زبان لمبی ہو جاتی ہے۔ کسنور مغلوب، جیسے کہ وہ بلی جو مغلوب ہو، یصول علی الکلب، وہ کتے پر حملہ کر دیتی ہے۔ بلی ویسے تو کتے سے ڈر کر بھاگے گی، لیکن جب دیکھے گی کہ اب میں پھنس گئی ہوں اور اب میرے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے اور اب یہ کتا مجھ پر حملہ کرنے لگا ہے بھاگنے کی کوئی جگہ ہی نہیں ہے، تو وہ بلی کتے پر ہی حملہ کر دیتی ہے کیونکہ اور کوئی صورت اس کو دکھائی ہی نہیں دیتی۔ کسنور مغلوب یصول یصول حملہ کر دیتی ہے علی الکلب، تو یہ بھی اسی طرح ہے، تصول صاد کے ساتھ۔ تصول، وہ ہاتھ حملہ کرتے ہیں، ضمیر کس کو راجع؟ ایدی کو، تصول وہ ہاتھ حملہ کرتے ہیں باسیاف، ایسی تلواروں کے ساتھ، قواض، یہ کس کی جمع؟ قاضیۃ کی، قاضی کسے کہتے ہیں؟ فیصلہ کرنے والا، تو وہ تلوار وہ وہ ہاتھ حملہ کرتے ہیں ایسی تلواروں کے ساتھ قواض جو فیصلہ کرنے والی ہوتی ہیں، یعنی دشمنوں پر موت کا، وہ تلواریں کس چیز کا فیصلہ کرتی ہیں دشمنوں پر؟ موت کا اور ہلاکت کا فیصلہ کرنے والی ہوتی ہیں۔ قواضب، قواضب جمع ہے قاضبۃ کی، اور قضب کے معنیٰ آتے ہیں کاٹنے کے، کاٹنا۔ اور وہ تلواریں ایسی ہیں قواضب جو کاٹنے والی ہیں، یعنی دشمنوں کے سروں کو، کاٹنے والی ہیں دشمنوں کے دشمنوں کی گردنوں کو کاٹنے والی ہیں۔ يمدون من ايد عواص عواصم، تصول باسياف قواض قواضب، وہ بڑھاتے ہیں ایسے بازوؤں کو جو تلواریں مارنے والے ہیں یعنی دشمنوں کو، جو اور وہ ہاتھ ایسے ہیں جو حفاظت کرنے والے ہیں یعنی دوستوں کی، تصول باسیاف، وہ ہاتھ جو ہیں وہ حملہ کرتے ہیں ایسی تلواروں کے ساتھ کہ وہ تلواریں جو ہیں فیصلہ کرنے والی ہیں یعنی دشمن پر موت کا، اور وہ تلواریں جو ہیں کاٹنے والی ہیں یعنی دشمنوں کی گردنوں کو۔ اچھا مقامِ استشہاد ہے یہاں پر عواص اور عواصم، عواص اور عواصم، عواص اور عواصم میں دیکھیں آپ، دونوں لفظ بالکل ایک جیسے ہیں، صرف ایک کے آخر میں میم زائد ہے، تو زیادتی آئی اور زیادتی کہاں پر آئی؟ آخر میں آئی، تو اس کو کیا کہیں گے؟ جناسِ مذیل کہیں گے۔ اسی طرح دوسرے مصرعے کے آخر میں ہے بھئی، قواض اور قواضب، دونوں لفظ بالکل ایک جیسے ہیں، صرف دوسرے لفظ کے آخر میں کیا زائد ہے؟ با زائد ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ جناسِ مذیل کہیں گے۔ ومضارع، اور جناسِ غیر تام کو مضارع کہیں گے، ان اختلفا في حرفين غير متباعدي المخرج۔ بھئی پہلے کیا بیان کر دیا؟ اگر ہیئت میں فرق ہو تو کیا کہیں گے؟ محرف۔ اور اگر عدد میں فرق ہو تو وہ زیادتی اگر شروع میں ہے تو کہیں گے مطرف، اور اگر زیادتی آخر میں ہے تو کیا کہیں گے؟ مذیل۔ اب اختلاف آئے گا، اختلاف آئے گا نوع کے اندر، کس کے اندر؟ نوع میں، جیسے یفرحون اور یمرحون، ایک میں میم ہے تو دوسرے میں فا ہے، باقی سب چیزوں میں اتفاق ہے۔ یہ حرف جس کے اندر اختلاف آئے گا، یہ دو حرف آپس میں قریب المخرج ہوں گے یا بعید المخرج ہوں گے؟ قریب المخرج ہوں گے یا بعید المخرج ہوں گے؟ اگر قریب المخرج ہیں تو اس کو کہیں گے مضارع، اور اگر بعید المخرج ہیں تو اس کو کہیں گے لاحق، کیا کہیں گے؟ لاحق۔ مخرج، مخرج جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ جہاں سے لفظ ادا کرتے ہیں آپ اس کو اس لفظ کا مخرج کہتے ہیں۔ مثلاً دیکھیے آپ حا ادا کرتے ہیں، حا حا، حا یہ حلق کا آخری نیچے والا حصہ جو ہے سینے کی طرف، وہاں سے ادا ہوتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کو یہ اس کا مخرج ہے۔ اسی طرح آپ مثلاً دال ادا کرتے ہیں، دال دال، تو دال کیسے ادا کرتے ہیں؟ زبان دیکھو سامنے والے اوپر والے دانتوں کے ساتھ ٹکرا کر ٹکراتی ہے تو دال ادا ہوتا ہے، یہ ہے اس کا مخرج۔ آپ فا ادا کرتے ہیں فا، فا کہاں سے ادا ہوگی؟ ہونٹوں سے صرف ادا ہوگی، تو یہ ہے اس کا مخرج بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگر یہ جو دو حروف آئے ان کا مخرج قریب قریب ہے تو پھر اس کو جناس اس جناسِ غیر تام کو کیا کہیں گے؟ مضارع، اور اگر ان کا مخرج بعید ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ لاحق۔ جیسے اس کی مثال آگے وہ ذکر کریں گے، ينہون اور ينئون، ينہون اور ينئون، صرف کس چیز کا فرق ہے دونوں میں؟ ایک میں ہا ہے تو ایک میں ہمزہ ہے، درمیان میں کیا ہے؟ ایک میں ہا ہے تو دوسرے لفظ میں ہمزہ ہے، تو صرف کس میں فرق آیا؟ نوع کے اندر، نوع کے اندر، اور یہ ہا اور ہمزہ آپ دیکھیں ان کا مخرج قریب قریب ہے۔ ہا، ہا کو آپ ادا کریں گے دیکھیں گے یہ حلق کا جو نچلا حصہ ہے سینے کی جانب اس سے ہا ادا ہوتی ہے، اور اسی طرح ہمزہ بھی وہیں سے ادا ہوتا ہے، قریب قریب ہے ان کا مخرج، تو اس کو کیا کہیں گے؟ جناسِ غیر تام مضارع یا جناسِ مضارع کہیں گے۔ اور اگر مخرج دور ہوا تو پھر اس کو لاحق کہیں گے، جیسے اس کی مثال آگے آ رہی ہے، شہید اور شدید، شہید اور شدید، تو پہلے لفظ میں ہا ہے اور دوسرے لفظ میں اس کے مقابلے میں دال ہے، اور مخرج ہا اور دال کا دور دور ہے۔ ہا ادا ہوتی ہے حلق کا جو آخری حصہ ہے سینے کی طرف اس حصے سے، اور دال کہاں سے ادا ہوتی ہے؟ کہ زبان دانتوں سے ٹکراتی ہے، تو دیکھو ایک کا مخرج ہے حلق کا آخری حصہ، دوسرے کا مخرج ہے یہ یہ منہ کا منہ کا آگے والا حصہ جہاں زبان دانتوں سے ٹکراتی ہے، تو دیکھو دونوں کا مخرج دور دور ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ لاحق کہیں گے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ومضارع، اور جناس جو ہے جناسِ غیر تام مضارع ہے، ان اختلفا، اگر وہ دونوں لفظ مختلف ہوں، في حرفين، دو ایسے حرفوں میں، غير متباعدي المخرج، کہ جن کے مخرج دور نہ ہوں، نحو، مثال کے طور پر: ينهون وينأون، تو یہ ہا اور ہمزہ ان کے مخرج قریب قریب ہیں۔ ولاحق، اور اس جناسِ غیر تام کو لاحق کہیں گے، ان تباعدا، اگر وہ دونوں لفظ ان کے مخرج کیا ہوں؟ دور دور ہوں، نحو، مثال کے طور پر: وانه على ذلك لشهيد، وانه لحب الخير لشديد۔ تو یہاں شہید اور شدید، ہا اور دال آئے اور ہا اور دال کا مخرج ایک دوسرے سے دور ہے تو ان کو لا جس کو جناسِ لاحق کہیں گے۔ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: وانه على ذلك لشهيد، اور انسان جو ہے خود بھی اس پر گواہ ہے، وانه لحب الخير لشديد، اور بے شک وہ مال سے شدید محبت کرنے والا ہے، خیر سے کیا مراد ہے یہاں؟ مال مراد ہے، تو وہ مال کی محبت میں بڑا شدید ہے یعنی مال سے بڑی محبت کرنے والا ہے۔ وجناس قلب، بھئی اگر ہیئت میں فرق آئے تو اس کو کہتے ہیں محرف، اگر عدد میں فرق آئے تو اگر شروع میں زیادتی ہے تو مطرف، آخر میں زیادتی ہے تو مذیل۔ اور اگر نوع کے اندر اختلاف آئے تو پھر اگر قریب المخرج ہوں دونوں حروف تو اس کو مضارع، اور اگر بعید المخرج ہو تو لاحق۔ اب صرف ایک قسم رہ گئی، کون سی؟ جس میں فرق صرف کس میں آئے گا؟ ترتیب کے اندر، تو کہتے ہیں اس کو: وجناس قلب، اس کو جناسِ قلب کہیں گے، ان اختلفا في ترتيب الحروف، اگر وہ دونوں لفظ مختلف ہوں حروف کی ترتیب میں، فقط، صرف اس میں یعنی، كنيل ولين، نیل اور لین، نیل دریا کا نام ہے دریائے نیل مصر میں، اور لین، لین کا معنیٰ ہے نرمی، تو دیکھو صرف کس میں فرق ہے؟ صرف ترتیب میں فرق ہے، باقی تینوں چیزیں حرکتیں بھی ایک جیسی ہیں اور ہیئت بھی حرکتیں یعنی وہی ہیئت، ہیئت ایک جیسی، تعداد بھی ایک جیسی اور نوع بھی ایک جیسی، صرف ترتیب الگ ہے کہ پہلے میں نون شروع میں ہے لام آخر میں، اور دوسرے میں لام شروع میں ہے اور نون آخر میں۔ اور جیسے کہ وساق وقاس، ساق پنڈلی کو کہتے ہیں، قاس بے رحم آدمی جو ہو ظالم آدمی جو ہو اس کو کہتے ہیں، یہ قساوت سے ہے قساوت، سمجھ میں آیا؟ تو تو ساق اور قاس دیکھیں یہاں بھی صرف ترتیب میں فرق ہے باقی تین چیزیں ایک جیسی ہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ جناسِ قلب کہیں گے جناسِ قلب، بات سمجھ میں آ گئی؟ اگر ترتیب میں فرق ہو تو کیا کہا جاتا ہے اس جناس کو؟ جناسِ قلب کہتے ہیں۔ جناسِ قلب کی ایک اور مثال، جیسے آپ دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اللهم اجعلنا من المرحومين، اللهم اجعلنا من المرحومين ولا تجعلنا من المحرومين، ولا تجعلنا من المحرومين۔ تو ایک میں لفظ آیا مرحومین جس میں را پہلے، مرحومین پھر حا ہے، اور دوسرے میں ہے: لا تجعلنا من المحرومين، وہاں حا پہلے ہے اور را بعد میں ہے، صرف اتنا فرق ہے بھئی، تو یہ جناسِ قلب ہے۔ اللهم اجعلنا من المرحومين، اے اللہ ہمیں بنا دے ان لوگوں میں سے جن پر رحم کیا جائے، ولا تجعلنا من المحرومين، اور اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنا جو محروم کیے جائیں بھئی، جو محروم ہوں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جناسِ محرف بھئی کس کو کہتے تھے؟ جس میں فرق صرف کس میں آئے؟ حرکت و سکون میں، حرکت و سکون میں، اس کو کہتے تھے جناسِ محرف۔ جناسِ محرف کی مثال اردو کے اندر بھئی، جناسِ محرف کی مثال۔ شاعر کہتا ہے: گلے سے لگتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے گلے سے لگتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے وگرنہ یاد تھیں ہم کو شکایتیں کیا کیا وگرنہ یاد تھیں ہم کو شکایتیں کیا کیا تو دیکھیے مقامِ استشہاد ہے گلے، اور آگے آ رہا ہے گِلے، گلے سے لگتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے، تو گَلے اور گِلے صرف کس کا فرق ہے؟ حرکت کا فرق ہے بھئی، تو یہ جناسِ محرف ہے بھئی۔ گلے سے لگتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے وگرنہ یاد تھیں ہم کو شکایتیں کیا کیا التصدير، ويسمى رد العجز على الصدر، هو في النثر ان يجعل احد اللفظين المكررين او المتجانسين او الملحقين بهما بان جمعهما اشتقاق او شبهه في اول الفقرة والثاني في اخرها۔ تصدیر بھئی، صاد کے ساتھ تصدیر، اور اسی کو رد العجز علی الصدر بھی کہتے ہیں، رد العجز علی الصدر۔ یاد رکھیے بھئی، صدر، صدرِ کلام کہتے ہیں کلام کا اول حصہ، صاد کے ساتھ، صدرِ کلام کسے کہتے ہیں؟ کلام کا اول حصہ شروع کا حصہ جو ہے، اور عجز، عجز کہتے ہیں کسی چیز کا جو پچھلا حصہ ہوتا ہے پچھلا دھڑ ہوتا ہے اس کو عجز کہا جاتا ہے، تو یہاں جو کلام کا آخری حصہ ہے اس کو کیا وہ کیا ہے؟ عجز ہے، جیم پر پیش پڑھنا بھئی، عجز عجز۔ تو رد تصدیر بھی کہتے ہیں اس کو اور رد العجز علی الصدر، یعنی پچھلے حصے کو لوٹانا علی الصدر کس پر؟ شروع والے حصے پر، آخر کلام کے آخری حصے کو لوٹانا کس پر؟ شروع والے حصے پر۔ بھئی یہ تصدیر یا رد العجز علی الصدر یہ ہے کہ آپ اپنے کلام میں دو لفظ لاتے ہیں اور وہ دو لفظ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، اور ایک کو لے آتے ہیں آپ کلام کے جملے کے فقرے کے شروع میں اور دوسرے لفظ کو لے آتے ہیں اس کے آخر میں، اس کو کہتے ہیں رد العجز علی الصدر، بات سمجھ میں آئی؟ رد العجز علی الصدر کیا ہے؟ دو لفظ آپ اپنے کلام میں لاتے ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، اور کہاں پر لاتے ہیں؟ ایک کو ایک لفظ کو لاتے ہیں فقرے کے جملے کے شروع میں اور دوسرے کو لاتے ہیں اس کے آخر میں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ جی، یہ ہے رد العجز کہ آپ نے آخری حصے کو لوٹایا ہے کس پر؟ پہلے پر، یعنی شروع میں جو چیز تھی جو لفظ تھا آخری حصے کو بھی اسی پر لوٹا دیا اس میں بھی وہی لفظ لے آئے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر یاد رکھیے یہ جو دو لفظ ہیں، جو دو لفظ ہیں، ان میں پھر چار صورتیں ہیں، چار صورتیں، تو چار قسمیں بن جائیں گی۔ ہونا تو چاروں میں یہی ہے کہ ایک لفظ کہاں آئے گا؟ شروع میں، اور دوسرا کہاں آئے گا؟ آخر میں، لیکن یہ جو دو لفظ ہیں ملتے جلتے یہ کبھی لفظینِ مکررین ہوں گے، یعنی اسی لفظ کا دوبارہ تکرار کر دیں گے آپ، وہی بعینہٖ وہی لفظ جو آپ نے شروع میں ذکر کیا تھا وہی لفظ کہاں پر لے آئے؟ آخر میں لے آئے، تو ان کو کہیں گے لفظینِ مکررین، اسی کا تکرار ہے مکرر ہیں۔ یا وہ یہ دو لفظ متجانسین ہوں گے، یعنی ان میں صنعتِ جناس ہوگی، کیا ہوگی؟ صنعتِ جناس، یعنی لفظ تو ایک جیسے ہوں گے لیکن معنیٰ کیا ہوگا؟ الگ الگ، لیکن تلفظ میں دونوں ایک جیسے ہوں گے جو آپ شروع میں لائے اور جو دوسرا لفظ آخر میں لائے۔ تیسری صورت کہ وہ لفظ مکررین بھی نہیں، متجانسین بھی نہیں ہیں وہ دو لفظ، البتہ وہ دونوں ملحق ہیں ملحق ہیں متجانسین کے ساتھ، کس کے ساتھ ملحق ہیں؟ یعنی ملائے گئے ہیں متجانسین کے ساتھ یعنی ان جیسے ہیں، ان جیسے ہیں۔ اس میں پھر دو صورتیں ہیں کہ دونوں لفظوں کا اشتقاق ایک ہی مادے سے ہوا ہوگا، لفظوں کی صورت تو الگ الگ ہے لیکن اشتقاق دونوں کا کس سے ہوا ہے؟ ایک ہی مادے سے اشتقاق ہوا ہے، تو یہاں پر کہیں گے کہ ان کو جمع کرنے والی چیز اشتقاق ہے، کیا چیز ہے؟ اشتقاق کہ ایک ہی مادے سے ان کا اشتقاق ہوا ہے۔ اور چوتھی صورت یہ کہ دو لفظ ہیں وہ مکررین بھی نہیں ہیں، متجانسین یعنی ان میں صنعتِ جناس بھی نہیں ہے، اور نیز اشتقاق بھی ان کا ایک مادے سے نہیں ہوا، ایک کا اشتقاق کسی اور مادے سے ہے دوسرے کا اشتقاق کسی اور، ہاں البتہ اول نظر میں یوں لگتا ہے انسان یوں سمجھتا ہے شاید ان کا اشتقاق ایک ہی مادے سے ہے، لیکن جب ذرا غور کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے نہیں ان کا اشتقاق ایک مادے سے نہیں، پہلے لفظ کا اشتقاق کسی اور مادے سے ہے دوسرے کا اشتقاق کسی اور مادے سے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ چار قسمیں ہوں گی۔ تو پہلے بتائیے رد العجز علی الصدر کسے کہتے ہیں؟ کہ شروع میں جو لفظ لائے ہیں آخر میں بھی وہی لفظ لے آئیں، اس کو کہتے ہیں رد العجز علی الصدر کہ آپ نے رد العجز پچھلے حصہ جو کلام کا آخری حصہ ہے اس کو لوٹا دیا کس پر؟ پہلے حصے پر یعنی اس جیسا اس کو بنا دیا بھئی۔ اور پھر اس میں یہ جو دو لفظ آئے یا تو یہ دونوں کیا ہوں گے؟ مکررین، یعنی وہی لفظ ہے اسی کو آپ دو دفعہ لے آئے، یا یہ دو لفظ کیا ہوں گے؟ متجانسین، یعنی ان میں صنعتِ جناس ہوگی، صورت ایک جیسی ہوگی لیکن معنیٰ الگ الگ ہو۔ تیسری صورت کیا ہے کہ یہ دو لفظ کیا ہوں؟ ان کو جمع کرنے والی کیا چیز ہو؟ اشتقاق ہو، دونوں کی صورت بھی بالکل الگ الگ ہے لیکن دونوں کا اشتقاق ایک ہی مادے سے ہوا ہوگا بھئی۔ اور یا چوتھی صورت کیا ہے؟ کہ شبہ اشتقاق ان کو جمع کرنے والا ہے، یعنی بظاہر یوں لگتا ہے کہ شاید ان کا اشتقاق ایک ہی مادے سے ہوا ہے، یعنی ابتداءً یوں لگتا ہے یہ ایک ہی مادے سے اشتقاق ہوا ہے، لیکن جب انسان ذرا سا غور کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ نہیں ایک مادے سے ان کا اشتقاق نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے اب صرف ترجمہ ہے، التصدير، تصدیر جو ہے، ويسمى رد العجز على الصدر، اور اس کو رد العجز علی الصدر بھی کہتے ہیں، هو في النثر، وہ نثر کے اندر، نثر کسے کہتے ہیں؟ جو نظم نہ ہو، ایک ہیں اشعار اور ایک ہے عام کلام، یہ جو عام کلام ہوتا ہے اس کو نثر کہتے ہیں، هو في النثر وہ نثر کے اندر یہ یہ ہے، ان يجعل احد اللفظين المكررين کہ رکھ دیا جائے دو مکرر لفظوں میں سے ایک کو، او المتجانسين یا دو متجانس لفظوں میں سے ایک کو، او الملحقين بهما یا وہ دو لفظ جو ملحقین بالمتجانسین ہیں، ہما ضمیر کس کو راجع؟ متجانسین، متجانسین کے ساتھ جو دو ملحق ہیں ان میں سے ایک کو رکھ دیا جائے، آگے آ رہا ہے دو لفظ چھوڑ کر تین لفظ، في اول فقرة، کہاں پر رکھ دیا جائے؟ ایک لفظ کو اولِ فقرہ میں، والثاني في اخرها اور دوسرے کو فقرے کے آخر میں یعنی جملے کے آخر میں۔ فقرہ کہتے ہیں کلام کے جو اندر چھوٹے چھوٹے جملے چھوٹے حصے آتے ہیں اس کو فقرہ کہتے ہیں، اور عموماً اس میں رعایتِ سجع بھی ہوتی ہے ایک جیسے وزن پر عموماً یہ ختم ہوتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کو فقرہ کہتے ہیں۔ فقرہ اصل میں کہتے ہیں فقرہ یہ ریڑھ کی ہڈی میں جو مہرہ ہے ایک ایک ہڈی ہے اس کو کہتے ہیں فقرۃٌ، اور اس اس شکل پر جو زیور بنایا جاتا اس کو فقرۃٌ کہتے، اصل میں اس کو کہتے تھے۔ جو ریڑھ کی ہڈی کی مہرے جو ہیں اس صورت پر جو زیور بنایا جاتا اس کو کیا کہتے تھے؟ فقرہ۔ پھر یہ جو کلام کے چھوٹے چھوٹے حصے جو ہیں، بھئی جیسے ہڈی کے ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں ایک دوسرے کے مثل ہوتے ہیں، اسی طرح کلام کے اندر بھی بعض اوقات کیا کیا جاتا ہے؟ نثر کے اندر چھوٹے چھوٹے فقرے چھوٹے چھوٹے جملے لائے جاتے ہیں اور وہ ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ہر ایک کو فقرہ کہتے ہیں۔ تو ان میں سے ایک کو لایا جائے فی اول فقرۃ فقرے کے شروع میں، والثانی فی اخرہا اور دوسرے کو آخر میں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ ترجمہ دیکھیں: وہ نثر میں یہ ہے کہ رکھا جائے دو مکرر لفظوں میں سے ایک کو، یا دو متجانس لفظوں میں سے ایک کو، یا وہ جو دو ملحق ہیں کس کے ساتھ؟ متجانسین کے ساتھ ان میں سے ایک کو کہاں رکھا جائے؟ فی اول فقرۃ اولِ فقرہ میں، اور دوسرے کو آخرِ فقرہ میں۔ اور اچھا درمیان میں او الملحقین بہما، وہ دو جو ملحق ہیں کس کے ساتھ؟ متجانسین، وہ کیا کیا ہیں؟ وہ بھی بیان کر رہے ہیں: بان جمعهما اشتقاق، بایں صورت کہ ان دونوں کو ان دو لفظوں کو جمع کرتا ہے کیا چیز جمع کرتی ہے؟ اشتقاق، یعنی دونوں کا اشتقاق ایک مادے سے ہوتا ہے، او شبهه، یا ان دو لفظوں کو کیا جمع کرتا ہے؟ شبہِ اشتقاق، یعنی وہاں اشتقاق کا شبہ پڑتا ہے، تو یہ اشتقاق تو نہیں البتہ یہ اشتقاق کے مثل ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ شبہِ اشتقاق، نحو قوله تعالى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: وتخشى الناس والله احق ان تخشاه، اور تو لوگوں سے ڈرتا ہے اور اللہ زیادہ حقدار ہیں کہ تو ان سے ڈرے۔ اب دیکھیے شروع میں آیا تخشیٰ، اور آخر میں بھی کیا آیا؟ تخشاہ، اور دیکھیے یہ لفظینِ مکررین کی مثال ہے، وہی تخشیٰ لفظ شروع میں بھی ہے اور وہی تخشیٰ آخر میں بھی ہے۔ وقولك، اور جیسے کہ آپ کا قول: سائل اللئيم يرجع ودمعه سائل، بھئی یہاں آیا سائل ایک شروع میں، ایک سائل آخر میں آیا اور دونوں کا معنیٰ الگ الگ ہے، تو یہ متجانسین کی مثال ہوئی، ایک شروع میں آ رہا ہے اور ایک آخر میں آ رہا ہے، ان میں صنعتِ جناس ہے اور معنیٰ دونوں کا الگ الگ آپ جی۔ سائل، پہلا سائل سوال سے ہے مانگنے سے، مانگنا پوچھنا۔ سائل اللئیم، لئیم کہتے ہیں کمینہ اور گھٹیا آدمی، کمینے اور گھٹیا آدمی سے مانگنے والا يرجع واپس لوٹتا ہے، ودمعه سائل اور اس کے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں، اس کا آنسو بہہ رہا ہوتا ہے تو یعنی کمینے سے جو مانگتا ہے اس کو ناکامی کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں سامنے نہیں آتی اس کے۔ تو دیکھیے سائل پہلا آیا کس سے ہے؟ سوال سے، اور دوسرا سائل سیلان بہنے سے ہے بھئی، تو معنیٰ الگ الگ۔ الاول من السؤال والثاني من السيلان، پہلا لفظ پہلا سائل سوال سے ہے اور دوسرا سائل سیلان، یا پر بھی فتحہ پڑھنا بھئی، من السيلان سیلان بہنے سے ہے۔ پہلی مثال سب سے پہلی مثال: وتخشى الناس والله احق ان تخشاه، یہ کس کی مثال ہے؟ مکررین، اور سائل اللئيم يرجع ودمعه سائل، یہ کس کی مثال؟ متجانسین کی، ونحو، اور جیسے کہ: استغفروا ربكم انه كان غفارا، اور مغفرت مانگو تم اپنے پروردگار سے یقیناً وہ بہت بخشنے والا ہے، استغفروا اور غفاراً، استغفروا اور غفار، یہاں یہ کس کی مثال ہے؟ ملحق بالمتجانسین کی، اور اس کی دو صورتیں تھیں کہ جمع کرنے والی چیز اشتقاق ہوگا یا شبہِ اشتقاق، یہاں کیا چیز جمع کرنے والی ہے دونوں کو؟ اشتقاق، کیونکہ دونوں کا اشتقاق ہوا ہے مغفرت سے، استغفروا یہ صیغہ بھی مغفرت سے مشتق اور غفار یہ صیغہ بھی مغفرت سے مشتق۔ ونحو، اور جیسے کہ مثال: قال اني لعملكم من القالين، قال، ضمیر راجع ہے حضرت لوط علیہ السلام کو، حضرت لوط علیہ السلام فرمانے لگے: اني بے شک میں، لعملكم تمہارے عمل سے، من القالين بیزار ہونے والوں میں سے ہوں۔ کس میں سے ہوں؟ میں تمہارے اپنے قوم سے کہہ رہے ہیں کہ تم جو عمل ہے تمہارا میں اس سے بیزار ہونے والوں میں سے ہوں بھئی، بیزار ہونے۔ اب دیکھیے شروع میں آیا قال، اور آخر میں آیا القالین، تو شبہ پڑتا ہے کہ شاید ان دونوں کا اشتقاق ایک ہی مادے سے ہے، تو یہ شبہِ اشتقاق ہے، دونوں میں کیا ہے؟ اشتقاق کے مثل ہے بھئی اشتقاق نہیں ہے، کیونکہ دونوں کا مادہ الگ الگ ہے، پہلا جو قال آیا یہ اس کا مادہ ہے قول، ق، و، ل، اور دوسرا قالین جو آیا اس کا مادہ ہے ق، ل، ی، قلیٌ قلیٌ، اور اس کا معنیٰ قلیٌ کے معنیٰ ہوتے ہیں نفرت کرنا، بیزار ہونا۔ قال اني لعملكم من القالين، حضرت لوط علیہ السلام فرمانے لگے کہ بے شک میں تمہارے عمل سے من القالین بیزار ہونے والوں میں سے ہوں۔ تو دیکھو چاروں کی مثالیں آ گئیں، یہ تھا نثر میں۔ وفي النظم، نظم کے اندر رد العجز علی الصدر کسے کہتے ہیں؟ بھئی دیکھیے، نظم کے اندر ادھر توجہ کیجیے، یہ تھا رد العجز علی الصدر کس کے اندر؟ نثر میں، اب رد العجز علی الصدر ذکر کریں گے نظم یعنی اشعار میں۔ اشعار میں رد العجز علی الصدر یہ ہے کہ دوسرا لفظ، کون سا؟ دوسرا لفظ، وہ شعر کے بالکل آخر میں آئے گا، کہاں پر؟ شعر کے بالکل آخر میں، اور پہلا لفظ وہ پہلے مصرعے کے شروع میں آئے گا، یا پہلے مصرعے کے درمیان میں آئے گا، یا پہلے مصرعے کے آخر میں آئے گا، یا دوسرے مصرعے کے شروع میں آئے گا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ دو لفظ آنے ہیں نا، دوسرے نے تو کہاں پر آنا ہے ہمیشہ؟ دوسرے مصرعے کے بالکل آخر میں، اور پہلا کہاں آ سکتا ہے؟ چار جگہ آ سکتا ہے، پہلے مصرعے کے شروع میں، یا پہلے مصرعے کے درمیان میں، یا پہلے مصرعے کے آخر میں، یا دوسرے مصرعے کے شروع میں، تو چار صورتیں ہیں۔ اور پھر ہر ایک کے اندر وہ دو لفظ یا متجانسین ہوں گے، یا مکررین ہوں گے، یا جامع اشتقاق ہوگا، یا جامع شبہِ اشتقاق، تو ہر ایک میں چار چار صورتیں بن گئیں تو کل سولہ قسمیں ہو گئیں، کتنی قسمیں؟ سولہ قسمیں، بس یہ ایک دو مثالیں ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: وفي النظم، اور نظم کے اندر رد العجز علی الصدر جو ہے وہ یہ ہے، ان يكون احدهما في اخر البيت، کہ ان دو لفظوں میں سے ایک تو شعر کے آخر میں ہو بالکل آخر میں، والاخر في صدر المصراع الاول، اور دوسرا لفظ کہاں ہو؟ پہلے مصرعے کے شروع میں، او بعده، یا اس کے بعد ہو، باقی تفصیل انہوں نے بیان نہیں کی، میں نے تفصیل بیان کر دی۔ انہوں نے کیا کہا؟ پہلا ایک لفظ کہاں ہو؟ شعر کے بالکل آخر میں، اور دوسرا کہاں ہو؟ پہلے مصرعے کے شروع میں ہو یا یا شروع کے بعد ہو، یعنی شروع کے بعد درمیان میں بھی ہو سکتا ہے، پہلے مصرعے کے آخر میں بھی ہو سکتا ہے اور دوسرے مصرعے کے شروع میں بھی ہو سکتا ہے۔ نحو قوله، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: سريع الى ابن العم يلطم وجهه وليس الى داعي الندى بسريع سريع، وہ بڑا تیز ہے، الى ابن العم، اپنے چچا زاد کی طرف، يلطم وجهه، تھپڑ مارتا ہے اس کے چہرے پر۔ کسی کی مذمت بیان کر رہا ہے شاعر کہ وہ بڑا شریر آدمی ہے، اپنوں کو تکلیف دینے اور نقصان دینے کے اندر بڑا تیز ہے، بڑی جرات دکھاتا ہے۔ سريع الى ابن العم يلطم وجهه وہ بہت تیز ہے اپنے چچا زاد کی طرف تھپڑ مارتا ہے اس کے چہرے پر، وليس الى داعي الندى بسريع داعی کہتے ہیں دعوت دینے والا، ندیٰ کہتے ہیں سخاوت کو، اور وہ سخاوت کی طرف دعوت دینے والے کی طرف تیز نہیں ہے، یعنی اس کی دعوت کی طرف تیزی سے جانے والا نہیں اور اس کو قبول کرنے والا نہیں ہے، تو یعنی شریر آدمی ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ سريع الى ابن العم يلطم وجهه وليس الى داعي الندى بسريع وہ تیز ہے اپنے چچا زاد کی طرف کہ تھپڑ مارتا ہے اس کے چہرے پر، اور وہ سخاوت کی طرف دعوت دینے والے کی طرف اس کی جانب جانے میں تیز نہیں ہے۔ تو مقامِ استشہاد کیا ہے؟ سریع، ایک سریع تو بالکل شعر کے آخر میں آیا اور دوسرا کہاں آیا؟ بالکل شروع میں آ گیا۔ اگلا شعر کسی اور شاعر کا ہے، کہتا ہے: تمتع من شميم عرار نجد فما بعد العشية من عرار تمتع، نفع اٹھا لے، امر کا صیغہ ہے، شاعر اپنے کسی ساتھی سے کہہ رہا ہے: تمتع، تو نفع اٹھا لے، من شميم عرار نجد، شمیم کہتے ہیں خوشبو کو، شمیم خوشبو، عرار، عرار یہ ایک پھول ہے زرد رنگ کا زمین پر پھیلا ہوتا ہے اور زرد رنگ کا، اسے جنگلی نرگس کہتے ہیں، کہتے ہیں خوشبودار پھول ہے بھئی زمین پر پھیلا ہوتا ہے پودا وغیرہ اس کا نہیں ہوتا بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے اپنے ساتھی سے: تو نفع اٹھا لے من شميم عرار نجد، نجد جگہ کا نام ہے، نجد کے جنگلی نرگس کی خوشبو سے تو نفع اٹھا لے، شاعر اپنے ساتھی کو کیا کہتا ہے؟ نجد کے جنگلی نرگس کی خوشبو سے تو نفع اٹھا لے، فما بعد العشية من عرار پس شام کے بعد جو ہے عرار نہیں ہوگا، یہ جنگلی نرگس نہیں، بھئی یہ شاعر تھا سفر پر کہیں نکلنے والا تھا اس علاقے سے اپنے کسی ساتھی کے ہمراہ تو اس کو کہتا ہے کہ بھئی اس یہ علاقہ ہے اور یہاں کے پھولوں کی خوشبو ہے یہ اپنا وطن ہے، اس کی خوشبو سے جتنی لذت اٹھانا چاہتے ہو جتنا نفع اٹھانا چاہتے ہو اٹھا لو، کیونکہ شام کے بعد پھر یہ خوشبو نہیں ہوگی یہ پھول نہیں ہوں گے کیونکہ ہم اس علاقے سے نکل جائیں گے جہاں پر یہ پھول پائے جاتے ہیں، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تمتع من شميم عرار نجد، تو نفع اٹھا لے نجد کے جنگلی نرگس کی خوشبو سے، نجد وہ جگہ جہاں پر یہ پھول تھے بھئی، فما بعد العشية من عرار، عشیۃ کہتے ہیں شام کا وقت بھئی، زوال کے بعد کا وقت شام تک یہ سارا کیا ہے؟ عشیۃ ہے۔ پس شام کے بعد جو ہیں عرار یعنی وہ جنگلی نرگس نہیں ہوگا۔ مقامِ استشہاد یہاں کیا ہے؟ عرار، دوسرا عرار تو کہاں آ رہا ہے؟ شعر کے بالکل آخر میں، اور پہلا عرار پہلے مصرعے کے بیچ میں درمیان میں آ رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔