آگے سبق دیکھیے، بھئی!
وَقَالَ بَعْضُ الشَّارِحِيْنَ: قَدْ جَوَّزَ بَعْضُهُمْ تَعْرِيْفَ الشَّيْءِ بِمَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُ إِذَا كَانَ الْمَقْصُوْدُ تَمْيِيْزَهُ عَنْ بَعْضِ مَا عَدَاهُ، فَيُمْكِنُ أَنْ يُّقَالَ: الْمَقْصُوْدُ هٰهُنَا تَمْيِيْزُ الْعَدْلِ عَنْ سَائِرِ الْعِلَلِ لَا عَنْ كُلِّ مَا عَدَاهُ. فَحَيْثُ حَصَلَ بِتَعْرِيْفِهِ هٰذَا التَّمْيِيْزُ لَا بَأْسَ بِكَوْنِهِ أَعَمَّ مِنْهُ، فَحِيْنِئِذٍ لَّا حَاجَةَ فِيْ تَصْحِيْحِ هٰذَا التَّعْرِيْفِ إِلَى ارْتِكَابِ تِلْكَ التَّكَلُّفَاتِ.
بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے عدل کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔
صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا کہ: "الْعَدْلُ خُرُوْجُهُ عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ" کہ عدل جو ہے، وہ اسم کا نکلنا ہے صیغۂ اصلیہ سے۔
اور صیغۂ اصلیہ سے مراد وہ صیغہ ہے جس کا قانون اور ضابطہ تقاضا کر رہا ہو۔ قانون اور ضابطہ تقاضا کر رہا ہے کہ ایک اسم کو اس صورت پر ہونا چاہیے، لیکن اس اسم کو اس صورت سے نکال کر ایک نئی صورت دے دی جائے، اس کو کہتے ہیں عدل، بھئی!
اور پھر صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ عدل جو ہے یہاں، یہ مصدر مبنی للمفعول ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جیسے فعلِ معروف کے لیے فاعل چاہیے، اسی طرح فعلِ مجہول کے لیے نائب فاعل چاہیے۔ تو معلوم ہوا فعلِ معروف کو بنایا گیا ہے فاعل کے لیے، کہ فاعل کی طرف اس کا اسناد کیا جائے، اور فعلِ مجہول کو بنایا گیا ہے کہ مفعول کی طرف اس کا اسناد کیا جائے۔ تو فعلِ معروف کو کہتے ہیں مبنی للفاعل، اور فعلِ مجہول کو کہتے ہیں مبنی للمفعول، بھئی!
اسی طرح، یہ جو مصدر ہے، اس یہ بھی دو قسم پر ہے، بھئی! ایک مصدر معروف ہے، ایک مصدر مجہول ہے۔ البتہ عربی زبان میں دونوں کے لیے ایک ہی صیغہ استعمال ہوتا ہے۔ یہی ’ضَرْبٌ‘، اس کا معنی پٹائی کرنا بھی اور اسی کا معنی پٹائی کیے جانا بھی۔ اسی طرح ’شُرْبٌ‘، اسی شرب کا معنی پینا بھی اور یہی شرب جو ہے مصدرِ مجہول بھی ہے، اس کا معنی پیا جانا بھی۔ اسی طرح ’أَكْلٌ‘، ہمزہ، کاف اور لام، اکل کا معنی کھانا کھانا بھی اور اکل کا معنی کھایا جانا بھی۔
تو یہ مصدرِ معروف ہے ایک اور ایک مصدرِ مجہول ہے بھئی، مصدرِ مجہول ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہاں جو صاحبِ جامی نے بتلایا: "الْعَدْلُ مَصْدَرٌ مَّبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ"، تو طلبہ عموماً اس کا معنی یہ کرتے ہیں کہ یہ مصدر مبنی للمفعول ہے، یعنی یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے۔ یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے، یہ بات درست نہیں ہے، بھئی! یہ مبنی للمفعول کے ذریعے صرف اتنا بتایا گیا کہ یہ مصدرِ مجہول ہے۔
یاد رکھو! مصدر کبھی معروف ہوتا ہے اور کبھی مجہول۔ اسی طرح، مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی اسمِ مفعول کے معنی میں۔ یہی ’ضَرْبٌ‘ کبھی ضارب کے معنی میں ہوگا اور یہی ’ضَرْبٌ‘ کبھی مضروب کے معنی میں ہوگا۔
لیکن ایک بات یاد رکھنا! ضرب جب ضارب کے معنی میں ہو، معلوم ہوا یہ مصدرِ معروف ہے۔ مصدرِ معروف ضارب کے معنی میں ہو سکتا ہے، مصدرِ مجہول ضارب کے معنی میں نہیں ہو سکتا۔ اور جب آپ کو بتا دیا جائے کہ یہ ضرب بمعنی مضروب کے ہے، تو آپ خود بخود سمجھ جانا کہ یہ ضرب مصدرِ مجہول ہے، کیونکہ مصدرِ مجہول اسمِ مفعول کے معنی میں ہوتا ہے، مصدرِ معروف اسمِ مفعول کے معنی میں نہیں ہوتا۔
معلوم ہوا، مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں تب ہوگا جب وہ مصدرِ معروف ہو۔ اور مصدر اسمِ مفعول کے معنی میں تب ہوگا جب وہ مصدرِ مجہول ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مصدر کا معروف اور مجہول ہونا اور چیز، اور اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے معنی میں ہونا اور چیز۔
تو جب ادھر دیکھیے! جب کتاب میں یہ لکھا ہوا آ جائے کہ یہ مصدر مبنی للفاعل ہے، تو اس نے صرف ایک بات آپ کو بتلائی کہ یہ کون سا مصدر ہے؟ کہ یہ مصدرِ معروف ہے۔ یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے یا نہیں، یہ بات اس سے پتہ نہیں چلی۔
اور اسی طرح جب مصدر کے آگے آ جائے: "مَصْدَرٌ مَّبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ"، تو اس سے صرف یہ پتہ چلا کہ یہ مصدر کون سا ہے؟ مصدرِ مجہول ہے۔ یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے یا نہیں، یہ پتہ نہیں چلا۔
تو معلوم ہوا، مصدر کے آگے مبنی للفاعل آ جائے تو صرف ایک بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہ مصدرِ معروف ہے۔ اور جب مصدر کے آگے مبنی للمفعول آ جائے تو صرف ایک بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہ مصدرِ مجہول ہے۔ لیکن اگر مصدر کے آگے یہ لکھا ہوا آ جائے کہ یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، توجہ ہے؟ اب آپ کو دو باتوں کا پتہ چل گیا، کون سی دو باتیں؟ ایک تو یہ کہ یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، یعنی ضرب بمعنی ضارب کے ہے۔ دوسری ایک بات خود بخود آپ کو پتہ چل گئی، وہ کیا؟ کہ یہ مصدرِ معروف ہے، کیونکہ مصدرِ معروف ضرب ضارب کے معنی میں ہو سکتا ہے۔
اور اسی طرح جب کسی مصدر کے آگے لکھا ہوا آ جائے، مثلاً ’ضَرْبٌ‘ ہے، کہ یہ مصدر، یہ مضروبٌ کے معنی میں ہے، تو اب آپ کو دو باتیں پتہ چل گئیں، کیا؟ کہ یہ ایک تو یہ کہ یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے، دوسرا یہ بھی پتہ چلا کہ یہ مصدرِ مجہول ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو یہاں پر بھی صاحبِ جامی نے جب کہا: "مَصْدَرٌ مَّبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ"، اس سے صرف یہ پتہ چلا کہ یہ مصدرِ مجہول ہے، یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے، یہ پتہ نہیں چلا۔ اگر یہ مفعول کے معنی میں ہو پھر ترجمہ کیا ہوگا؟ عدل بمعنی معدول کے ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ حالانکہ یہاں عدل بمعنی معدول کے نہیں ہے، بلکہ كَوْنُ الاِسْمِ مَعْدُوْلًا، اسم کا معدول ہونا، مصدر مصدری معنی میں ہی ہے۔ توجہ ہے؟ مصدر مصدری معنی میں ہی ہے، معدول، معدول تو وہ اسم ہوگا۔
اور پھر آگے بتلایا: "أَيْ كَوْنُ الاِسْمِ مَعْدُوْلًا"، اسم کا معدول ہونا۔ یہ دراصل دو اشکال یہاں ہوتے ہیں، ان کا جواب دے رہے ہیں۔
ایک اشکال تو یہ کہ عدل کا معنی ہے پھیرنا، اور یہ پھیرنا یہ متکلم کی صفت ہوتی ہے، وہ لفظ کو ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف پھیرتا ہے۔ اور خروجُہ کا معنی ہے نکلنا، اور نکلنا یہ تو اسم کی صفت ہوتی ہے، اسم ایک صورت سے نکلتا ہے دوسری صورت کی طرف۔ تو یہاں پر عدل کی تفسیر خروجُہ کے ساتھ کرنا صحیح نہیں۔ کیونکہ ایک صفت ہے متکلم کی، تو دوسری صفت ہے کلمہ کی، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، کہاں متکلم اور کہاں اسم، بھئی!
دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ عدل جو ہے مصدر یہ متعدی ہے، بھئی! اور خروج کیا ہے؟ فعلِ لازم ہے، بھئی! تو فعلِ متعدی کا کی تفسیر فعلِ لازم کے ساتھ کرنا صحیح نہیں۔
تو اس کا جواب دے دیا کہ بھئی، عدل مصدر مبنی للمفعول ہے اور اس کا معنی کیا ہے؟ "كَوْنُ الاِسْمِ مَعْدُوْلًا"، اسم کا معدول ہونا۔ دیکھا! اب ہم نے اس کا ترجمہ بھی لازمی والا کر لیا، اسم کا معدول ہونا۔ اور یہ صفت کس کی ہے؟ اسم کی ہے نا! یا اسم معدول ہوگا یا معدول نہیں، تو اسم کا معدول ہونا یہ اسم کی صفت ہے، بھئی! متکلم جو ہے، وہ عدل کرنے والا ہے، وہ معدول ہونے والا نہیں ہے، معدول ہونا کس کی صفت ہوگی؟ اسم کی ہوگی۔
اب كَوْنُ الاِسْمِ مَعْدُوْلًا، اسم کا معدول ہونا، یہ بھی اسم کی صفت، اور خروجُہ، یہ بھی اسم کی صفت، تو دونوں میں مطابقت آ گئی۔ اور نیز پھر دوسرا اشکال کیا تھا؟ کہ عدل تو ہے فعلِ متعدی اور خروج کیا ہے؟ فعلِ لازم، وہ اشکال بھی ختم ہوا، کیونکہ كَوْنُ الاِسْمِ مَعْدُوْلًا، دیکھو ہم نے لازم والا ترجمہ کر لیا، اسم کا معدول ہونا۔
پھر خروجُہ کی ہا ضمیر اسم کو راجع ہے، اور خروج کے حاصلِ معنی بھی بتلا دیے: اسم کا نکلنا، یعنی اسم کا مخرج ہونا، یعنی نکالا ہوا ہونا، بھئی! اسم کا نکالا ہوا ہونا، کیونکہ میں نے بتایا کہ عدل کی بنیاد اخراج پر ہے کہ اس کو نکالا گیا ہو ایک وزن سے دوسرے وزن کی طرف، اسی پر اس کی بنیاد ہے، بھئی! تو یہاں اخراج کا اعتبار کرنا پڑے گا، اسی لیے كَوْنُهُ مُخْرَجًا کے ساتھ اس کا حاصلِ معنی بیان کر دیا کہ اسم کا مخرج ہونا، یعنی جس میں اخراج کیا گیا ہو۔
"عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ"، اس کے صیغۂ اصلیہ سے۔ بتلایا آپ کو انہوں نے کہ صیغے سے یہاں صرف صورت مراد ہے، مادہ مراد نہیں، کہ صرف صورت سے نکالنا، ایک نئی صورت دینا۔
اور پھر دو تین اشکالات ہوتے تھے کہ پہلا اشکال یہ کہ آپ کی تعریف جو ہے، وہ مشتقات پر بھی صادق آتی ہے، جیسے ضاربٌ کو ضربٌ سے بنایا گیا ہے، تو دیکھو ایک نئی صورت دے دی گئی۔ تو جواب دیا کہ بھئی صیغَتِہٖ کے اندر ہا ضمیر اسم کو راجع ہے، اسم کو اپنے صیغے سے نکالنا، اور ضاربٌ کو جو ضرب سے نکالا گیا ہے، تو ضرب اس کا اپنا صیغہ نہیں ہے، یہ تو مصدر کا صیغہ ہے، اور یہ خود اسمِ فاعل کا صیغہ ہے، بھئی! تو یہ اپنے صیغے سے نہیں نکالا گیا، بلکہ دوسرے کے صیغے سے نکالا گیا ہے۔ تو مشتقات نکل گئے، ان میں عدل نہیں۔
دوسرا اعتراض یہ ہوا کہ کچھ اسماء جو ہیں محذوفۃ الاعجاز ہیں، تو ان کو دیکھو ان سے ایک حرف حذف کر لیا گیا، معلوم ہوا ان کو نکال کر ایک نئی صورت دے دی گئی، تو جواب اس کا بھی دے دیا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مادہ باقی رہنا چاہیے، صرف صورت میں تبدیلی آنی چاہیے، اور جہاں پر حروفِ اصلیہ حذف ہو گئے، وہاں تو مادہ ہی باقی نہ رہا، لہٰذا وہ اسماء کہ جن کے اندر تبدیلی آ جاتی ہے، وہ بھی اس عدل سے نکل گئے، ان میں بھی عدل نہیں ہے۔
پھر اسی طرح مغیراتِ قیاسیہ کا اعتراض ہوا تھا کہ مغیراتِ قیاسیہ، جیسے قال اصل میں کیا تھا؟ قَوَلَ، پھر قَوَلَ سے قال بنایا گیا، تو دیکھو ایک صورت سے نکل کر دوسری صورت میں آ گیا، قال کو، تو اس کو بھی عدل کہنا چاہیے۔
تو اس کا بھی جواب دیا کہ بھئی، صورت بھی بدلے اور صورت کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی دونوں میں مغایرت ہو کہ پہلا قانون کے مطابق ہے، تو دوسرے کو قانون کے مطابق نہیں ہونا چاہیے، حالانکہ قَوَلَ بھی قانون کے مطابق اور قال بھی قانون کے مطابق ہے، بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟ حالانکہ عدل میں ایسا نہیں ہوتا، پہلا قانون کے مطابق ہوتا ہے، دوسرا والا قانون کے مطابق نہیں ہوتا۔
اور پھر کہتے ہیں جموعِ شاذہ وغیرہ جو ہیں، وہ کلمے جو شاذ ہوتے ہیں، وہ بھی اس سے نکل گئے، بھئی! جیسے قوس کی جمع اقوس ہے، تو کہتے ہیں بھئی یہ قوس پہلے اس کی جمع اقواس بنائی گئی، پھر اقواس سے اس کو کیا کیا گیا؟ نکال کر ایک نئی صورت اقوس دی گئی۔ تو یہ بھی عدل میں داخل، تو اس کا بھی جواب دے دیا کہ نہیں بھئی، ہمیں یہ تسلیم نہیں ہے کہ قوس کی جمع پہلے اقواس بنائی گئی اور پھر اقوس، بلکہ ابتداءً ہی قوس سے کیا بنا لیا گیا؟ اقوس خلافِ قیاس بنا لیا گیا، تو یہاں ایسا نہیں ہے کہ پہلے کوئی ایک صیغہ تھا جو قانون کے مطابق تھا، پھر اس سے بدل کر اقوس بنایا گیا، نہیں! اور عدل میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ پہلا صیغہ قانون کے مطابق ہو، اور پھر اس سے نکال کر دوسری صورت بنائی جائے، اور یہاں درمیان میں کوئی ایسا صیغہ نہیں جو قانون کے مطابق ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آگے دیکھیے۔
آگے دیکھیے، بھئی!
کہتے ہیں: وَقَالَ بَعْضُ الشَّارِحِيْنَ: قَدْ جَوَّزَ بَعْضُهُمْ تَعْرِيْفَ الشَّيْءِ بِمَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُ إِذَا كَانَ الْمَقْصُوْدُ تَمْيِيْزَهُ عَنْ بَعْضِ مَا عَدَاهُ.
بھئی، یہاں سے شارحِ جامی آپ کو بتلائیں گے کہ ہم نے تو بتلایا کہ عدل کی تعریف جامع مانع ہے، بھئی! اور مشتقات اور اسی طرح اسماءِ محذوفۃ الاعجاز وغیرہ، اور مغیراتِ قیاسیہ، اور جموعِ شاذہ وغیرہ اس کے اندر داخل نہیں ہیں، لیکن ان چیزوں کو نکالنے کے لیے ہمیں تکلفات سے کام لینا پڑا، بھئی!
مشتقات کو نکالنے کے لیے ہم نے کہا کہ صیغَتِہٖ میں ہا ضمیر اسم کو راجع ہے، تو صیغہ کی اضافت اسم کی طرف ہو رہی ہے، کہ عدل اس کو کہتے ہیں کہ اسم نکلے اپنے صیغۂ اصلیہ سے۔ جب اپنے صیغۂ اصلیہ سے نکلے، تو معلوم ہوا یہ مشتقات نکل گئے، کیونکہ مشتقات وہ اپنے صیغے سے نہیں نکلتے، بلکہ وہ تو مصدر کے صیغے سے نکلتے ہیں۔ تو ضاربٌ کا صیغہ اور، مصدر کا صیغہ اور، تو ضاربٌ اپنے صیغے سے نہیں نکلا، بلکہ ضربٌ یعنی مصدر کے صیغے سے نکالا گیا ہے۔ اسی طرح مضروبٌ کا صیغہ اور، ضربٌ کا صیغہ اور، تو مضروبٌ اپنے صیغے سے نہیں نکلا، بلکہ ضربٌ یعنی مصدر کے صیغے سے نکلا ہے۔ تو اس قید کے ذریعے تو چلو ٹھیک ہے، مشتقات خارج ہو گئے، لیکن آگے جو دو تین چیزیں اور نکالیں، ایک تو اسماءِ محذوفۃ الاعجاز کو نکالا، ایک مغیراتِ قیاسیہ کو نکالا، اور اسی طرح جموعِ شاذہ وغیرہ کو نکالا، ان سب کو نکالنے کے لیے تکلفات سے کام لینا پڑا۔
مشتقات کے نکالنے کے لیے تو ٹھیک ہے لفظوں سے کام لیا کہ صیغَتِہٖ میں صیغہ کا لفظ ہا ضمیر کی طرف مضاف ہے، اس لیے مشتقات نکل گئے۔ لیکن اسماءِ محذوفۃ الاعجاز میں کیا جواب دیا؟ کہ متبادر ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ صورت بدلنی چاہیے، معلوم ہوا مادہ برقرار رہنا چاہیے۔ دیکھا! ویسے ہی ایک تکلف سے کام لے لیا، لفظوں کے اندر تو کوئی یہ بات ذکر نہیں ہے کہ مادہ باقی رہنا چاہیے، صرف صورت بدلنی چاہیے، بھئی! یہ تو لفظوں سے کہیں معلوم نہیں ہو رہا، تو دیکھو تکلف سے کام لیا کہ متبادر یہی ہوتا ہے کہ مادہ باقی رہنا چاہیے، لہٰذا اسماءِ محذوفۃ الاعجاز وغیرہ نکل گئے۔
پھر اس کے بعد کہا، مغیراتِ قیاسیہ جو ہیں، وہ اس کے اندر داخل ہو رہے تھے، جیسے قال اصل میں کیا تھا؟ قَوَلَ، تو قَوَلَ سے کیا بن گیا؟ قال، تو دیکھو ایک صورت سے نکل کر دوسری صورت میں آ گیا، تو اس کو بھی عدل کہنا چاہیے۔ اسی طرح یبیعُ اصل میں کیا تھا؟ یَبْیِعُ، یَبْیِعُ، یَضْرِبُ وزن پر، تو پھر اس سے کیا بنا لیا؟ یبیعُ بنا لیا، تو دیکھو اپنی اصل صورت سے نکل آیا صیغہ، تو یہ جو مغیراتِ قیاسیہ ہیں، یہ بھی عدل کے اندر داخل ہو رہے تھے۔
تو پھر تکلف سے کام لیا کہ بھئی جب صیغہ اپنی صورت سے نکلے گا، تو ایک نئی صورت آئے گی۔ تو جیسے وہ صورت پہلی صورت کے مغائر ہے، اسی طرح اس چیز میں بھی دونوں میں مغایرت ہونی چاہیے کہ پہلی صورت جو تھی وہ ضابطے کے موافق تھی، تو دوسری کو کیا ہونا چاہیے؟ ضابطے کے موافق نہیں ہونا چاہیے، دیکھو یہ بھی تکلف سے کام لیا، صورت میں مغایرت ہے، تو اس چیز میں بھی مغایرت ہونی چاہیے کہ ایک ضابطے کے مطابق ہے، تو دوسرا ضابطے کے مطابق نہیں ہونا چاہیے، یہ بھی تکلف سے کام لیا۔
تو دیکھو تکلفات سے کام لینا پڑا۔ تو بعض شارحین فرماتے ہیں کہ ان تکلفات سے کام لینے کی کوئی ضرورت نہیں، وجہ یہ کہ یہاں پر جو عدل کو ذکر کیا گیا، اس عدل کو جدا کرنا ہے باقی اسبابِ منعِ صرف سے۔ تمام دنیا کی چیزوں سے جدا کرنا مقصد نہیں ہے، بلکہ کس سے جدا کرنا مقصد ہے؟ صرف اسبابِ منعِ صرف سے، جب صرف اسبابِ منعِ صرف سے جدا کرنا مقصود ہے، تو خروجُہ عن صیغتہ الاصلیۃ کے ذریعے وہ ان سب سے جدا ہو گیا۔
کہ عدل میں کیا ہوتا ہے؟ اسم اپنے اصلی صیغے سے نکلتا ہے، ایک نئی صورت اختیار کرتا ہے۔ اور باقی جو اسبابِ منعِ صرف ہیں: وزنِ فعل اس میں بھی ایسا نہیں، تانیث اس میں بھی ایسا نہیں، معرفہ اس میں بھی ایسا نہیں، الف نون زائدتان اس میں بھی ایسا نہیں، تو کسی پر یہ تعریف صادق نہیں آ رہی، تو عدل باقی اسبابِ منعِ صرف سے جدا ہو گیا۔ جب جدا ہو گیا، تو یہ تکلفات کرنے کی ضرورت نہیں کہ مشتقات کو بھی نکالنا چاہیے، مغیراتِ قیاسیہ کو بھی نکالنا چاہیے، اور اسماءِ محذوفۃ الاعجاز وغیرہ، جموعِ شاذہ وغیرہ، ان سب کو نکالنا چاہیے۔ اس کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان سے ہم جدا کر ہی نہیں رہے، ہمارا مقصد ہی نہیں ہے، ان کی طرف ہماری نظر ہی نہیں ہے، ہماری نظر صرف اس وقت کس کی طرف ہے؟ اسبابِ منعِ صرف کی طرف ہے، ان سے ہم نے جدا کرنا ہے۔ اس کو کہتے ہیں تعریف بالاعم، بھئی!
متاخرین کے نزدیک تعریف جامع مانع ہونی چاہیے۔ لہٰذا صاحبِ جامی کو یہ تکلفات سے کام لینا پڑا یہ بتلانے کے لیے کہ عدل کی تعریف جامع مانع ہے، اس میں نہ مشتقات داخل ہو رہے ہیں، نہ اس کے اندر اسماءِ محذوفۃ الاعجاز داخل ہو رہے ہیں، نہ اس میں مغیراتِ قیاسیہ داخل ہو رہے ہیں، نہ اس میں جموعِ شاذہ داخل ہو رہی ہیں، یہ عدل کی تعریف کیا ہے؟ جامع مانع ہے۔ لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ تعریف بالاعم بھی جائز ہے، تعریف بالاعم بھی جائز ہے جب مقصد صرف بعض ما عداہ سے جدا کرنا ہو، بعض چیزوں سے صرف جدا کرنا مقصد ہو، تعریف بالاعم بھی جائز۔
جامع مانع تعریف کسے کہتے ہیں؟ کہ جس چیز پر معرف صادق آئے، اس پر تعریف بھی صادق آئے، اور جس پر معرف صادق نہ آئے، اس پر تعریف بھی صادق نہ آئے۔ جیسے انسان کی تعریف ہم کیا کرتے ہیں؟ حیوانِ ناطق، تو جس جس چیز پر انسان صادق آئے، اس پر حیوانِ ناطق بھی صادق آنا چاہیے، اور جس پر انسان صادق نہیں آ رہا، مثلاً حجر ہے، تو اس پر حیوانِ ناطق بھی صادق نہیں آنا چاہیے، یعنی تعریف جامع بھی ہو، اپنے تمام افراد کو جمع بھی کر لے، اور مانع بھی ہو، کوئی غیر معرف اس کے اندر داخل بھی نہ ہو۔ تو تعریف کو کیا ہونا چاہیے؟ جامع مانع۔
اور جبکہ اس کے مقابلے میں، تعریف بالاعم یہ ہے کہ ایک لفظِ اعم کے ذریعے معرف کی تعریف کر دی جائے۔ جیسے کسی نے مجھ سے پوچھا: فرس کسے کہتے ہیں؟ فرس کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: حیوانٌ، فرس کیا ہے؟ حیوان ہے۔ اب دیکھو، حیوان تو فرس سے زیادہ عام ہے، حیوان کے اندر تو انسان بھی داخل ہو رہا ہے، فرس بھی، گائے، بیل، بکری وغیرہ سب داخل ہو رہے ہیں۔ تو یہ میں نے فرس کی تعریف کس کے ذریعے کر دی؟ اعم کے ذریعے، ایک ایسی لفظ کے ذریعے جو اس سے زیادہ عام ہے۔
تو تعریف بالاعم بھی وہ علماء فرماتے ہیں جائز ہے، جب بعض ما عداہ سے جدا کرنا مقصود ہو۔ مثلاً اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ فرس کیا ہے؟ اب میں اس کو صرف شجر اور حجر، درخت اور پتھر وغیرہ جمادات جو ہیں، میں صرف ان سے جدا کرنا چاہتا ہوں، تو میں نے اس کو کہا: اَلْفَرَسُ حَيَوَانٌ، فرس حیوان ہے۔ تو دیکھو، حیوان جب میں نے کہا، تو فرس شجر سے بھی جدا ہو گیا، کیونکہ شجر بھی حیوان نہیں، اور حجر سے بھی جدا ہو گیا، کیونکہ حجر بھی حیوان نہیں۔
تو بعض اوقات جب کسی چیز کی پہچان کروانی ہوتی ہے، تعریف کے ذریعے پہچان کروائی جاتی ہے نا! تو بعض اوقات پہچان کے ذریعے مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ بعض چیزوں سے اس کو جدا کر دیا جائے۔ اور یہاں پر بھی اس نے مجھ سے فرس پوچھا تھا، تو وہ ساری دنیا کی چیزوں سے جدائی اس کا مقصد نہیں ہے کہ ساری دنیا کی چیزوں سے مجھے جدا کر کے فرس بتلاؤ، بلکہ وہ بعض ما عداہ سے جدائی مقصود ہے، یعنی شجر و حجر سے وہ جدا کرنا چاہتا ہے کہ ان سے کیا فرق ہے اس کا؟ تو میں نے کہا: حیوانٌ، کہ فرس کیا ہوتا ہے؟ حیوان۔ اب شجر و حجر سے جدا ہو گیا، بھئی!
یہ آپ بھی استعمال کرتے ہیں، مثلاً گلاب کا پھول ہے۔ اب کسی شخص نے گلاب کو نہیں، گلاب کے بارے میں اس کو پتہ نہیں ہے۔ تو وہ آپ سے پوچھتا ہے کہ بھئی یہ گلاب کیا چیز ہے؟ آپ اس کو کہتے ہیں: ایک پھول ہے۔ دیکھا! اب پھول تو عام ہے، وہ ہر طرح کے پھولوں پر صادق آتا ہے، لیکن آپ نے یہاں کیا مقصد تھا؟ تمام دنیا کی چیزوں سے جدا کرنا مقصد نہیں تھا، بلکہ کچھ چیزوں سے جدا کرنا مقصود تھا، کچھ نہ کچھ اس کو پہچان حاصل ہو گئی۔ تو یہ ہے تعریف بالاعم، یعنی ایک ایسی تعریف کرنا جو معرف سے زیادہ عام ہو، اس کے مقابلے میں زیادہ عام ہو، اور چیزیں بھی اس کے اندر داخل ہو رہی ہوں، لیکن میں نے بتایا، جب بعض ما عداہ سے جدائی کرنا مقصود ہو، تو تعریف بالاعم بھی جائز ہے۔
یہاں پر بھی اسی طرح وہ شارحین فرماتے ہیں کہ عدل کی ایسی تعریف کی کہ جس کے اندر مشتقات بھی داخل ہو رہے ہیں، مغیراتِ قیاسیہ بھی داخل ہو رہے ہیں، اسماءِ محذوفۃ الاعجاز وغیرہ بھی داخل ہو رہے ہیں، جموعِ شاذہ بھی داخل ہو رہی ہیں، تو تعریف بالاعم کی، لیکن یہ تعریف بالاعم بھی صحیح ہے، کیونکہ ان تمام چیزوں سے عدل کو جدا کرنا مقصد ہی نہیں ہے، مقصد صرف کس سے جدا کرنا ہے؟ باقی اسبابِ منعِ صرف سے، وہ کتنے باقی ہیں؟ آٹھ، ان آٹھ سے عدل جدا ہو گیا، کیونکہ عدل میں کیا آیا؟ "خُرُوْجُهُ عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ"، اور باقی کسی کے اندر خروجُہ عن صیغتہ الاصلیۃ نہیں ہوتا۔ تو ان شارحین کے اگر قول کو لیا جائے، تو پھر ان تکلفات میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی، اب کتاب پر!
کہتے ہیں: وَقَالَ بَعْضُ الشَّارِحِيْنَ: وَقَالَ بَعْضُ الشَّارِحِيْنَ قَدْ جَوَّزَ بَعْضُهُمْ، اور بعض شارحین نے فرمایا ہے کہ قد جوز بعضہم، کہ بعض علماء نے جائز قرار دیا ہے: تَعْرِيْفَ الشَّيْءِ بِمَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُ، ایک شے کی تعریف کرنا ایسی چیز کے ساتھ جو اس سے زیادہ عام ہو، إِذَا كَانَ الْمَقْصُوْدُ تَمْيِيْزَهُ عَنْ بَعْضِ مَا عَدَاهُ، جبکہ مقصود جو ہے اس چیز کو جدا کرنا ہو بعض ما عداہ سے، بعض چیزوں سے، اس کے علاوہ بعض چیزوں سے جدا کرنا مقصود ہو، تمام چیزوں سے جدا کرنا مقصود نہ ہو۔
فَيُمْكِنُ أَنْ يُّقَالَ: تو ممکن ہے کہ یہاں پر یوں کہا جائے: الْمَقْصُوْدُ هٰهُنَا تَمْيِيْزُ الْعَدْلِ عَنْ سَائِرِ الْعِلَلِ، کہ یہاں پر مقصود جو ہے وہ عدل کو جدا کرنا ہے عن سائر العلل، باقی علتوں سے، سائر بمعنی باقی کے بھی آتا ہے اور بمعنی تمام کے بھی، تو یہاں مقصود جو ہے: تمییز العدل عن سائر العلل، اور عدل کو جدا کرنا ہے باقی علتوں سے، لَا عَنْ كُلِّ مَا عَدَاهُ، نہ کہ تمامِ ما عداہ سے، اس کے علاوہ باقی تمام چیزوں سے جدا کرنا یہاں مقصود نہیں۔
فَحَيْثُ حَصَلَ بِتَعْرِيْفِهِ هٰذَا التَّمْيِيْزُ، تو جب یہ والی تمییز حاصل ہو گئی اس عدل کی تعریف سے، اس یہ والی تمییز، یہ والی جدائی کیا ہو گئی؟ حاصل، یہ والا امتیاز حاصل ہو گیا عدل کی تعریف کے ذریعے، یعنی باقی اسبابِ منعِ صرف سے یہ جدا ہو گیا، لَا بَأْسَ بِكَوْنِهِ أَعَمَّ مِنْهُ، تو کوئی حرج نہیں ہے اس تعریف کے اس سے اعم ہونے میں، عدل سے زیادہ اعم ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ یہاں تمام چیزوں سے جدا کرنا مقصد ہی نہیں ہے، صرف باقی علتوں سے جدا کرنا مقصد ہے، اور وہ اس تعریف کے ذریعے حاصل ہو جاتا ہے۔
تو کہتے ہیں: فَحِيْنِئِذٍ لَّا حَاجَةَ فِيْ تَصْحِيْحِ هٰذَا التَّعْرِيْفِ إِلَى ارْتِكَابِ تِلْكَ التَّكَلُّفَاتِ. تو اس وقت، یعنی جب بعض چیزوں سے جدا کرنا مقصد تھا اور وہ حاصل ہو گیا ہے، تو لا حاجۃ، کوئی ضرورت نہیں ہے: فی تصحیح ہذا التعريف، اس تعریف کو صحیح کرنے کے لیے: الى ارتكاب تلك التكلفات، ان تکلفات کا ارتکاب کرنے کی۔
تو لہٰذا اس تعریف کو صحیح کرنے کے لیے، یعنی جامع مانع بنانے کے لیے ان تکلفات کا ارتکاب کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ تمام چیزوں سے جدا کرنا یہاں مقصد ہی نہیں ہے، بلکہ صرف ان باقی علتوں سے جدا کرنا یہاں مقصد ہے۔
لیکن محشی حضرات لکھتے ہیں، بھئی! کہ ضرورت ہے عدل کو باقی چیزوں سے جدا کرنے کی۔ اس لیے کیونکہ یہاں پر یہ غیر منصرف کی پہچان ہمیں کروائی جا رہی ہے۔ غیر منصرف کی پہچان ہمیں تبھی ہوگی جب ہمیں ان علتوں کا صحیح طور پر پتہ چلے گا۔ اور غیر منصرف کو ہم نے جدا کرنا ہے کس سے؟ منصرف سے، بھئی! تو ان علتوں کی ہمیں صحیح پہچان ہوگی تو پھر ہم غیر منصرف کو منصرف سے جدا کر کے پہچان سکیں گے۔ تو یہاں پر جو عدل کی تعریف کی گئی، یہاں صرف علتوں سے جدا کرنا نہیں مقصود، بلکہ اور جتنے تغیر و تبدل ہوتے ہیں منصرف کے اندر، ان سے بھی جدا کرنا مقصود ہے تاکہ کہیں ان کو ہم عدل نہ سمجھیں، تاکہ ہم ان کو عدل نہ سمجھیں جب ہمیں پوری پہچان ہو گئی۔ جب تعریف کو صاحبِ جامی نے اپنی تقریر کے ذریعے بتلا دیا ہے کہ یہ تعریف جامع مانع ہے۔ اب کہیں پر اور تغیر و تبدل ہوتا ہے، یہ مشتقات میں بھی کیا ہوتا ہے؟ تغیر، اشتقاق کے وقت تغیر و تبدل ہوتا ہے، اسی طرح مغیراتِ قیاسیہ میں بھی تغیر و تبدل ہوتا ہے، اسی طرح جو اسماءِ محذوفۃ الاعجاز وغیرہ ہیں، ان میں بھی ہوتا ہے، جموعِ شاذہ میں بھی ہوتا ہے، تو تاکہ ہمیں پتہ ہو کہ یہ عدل نہیں ہیں۔
تو یہاں اصل مقصد کیا ہے؟ غیر منصرف کی پہچان منصرف کے مقابلے میں، لہٰذا ضروری ہے کہ تعریف جامع مانع ہونی چاہیے تاکہ منصرف کے اندر جو تغیر و تبدل ہو، اس کو کہیں ہم عدل نہ سمجھیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے دیکھیے!
وَاعْلَمْ أَنَّا نَعْلَمُ قَطْعًا أَنَّهُمْ لَمَّا وَجَدُوْا ثُلَاثَ وَمَثْلَثَ وَأُخَرَ وَجُمَعَ وَعُمَرَ غَيْرَ مُنْصَرِفِيْنَ، وَلَمْ يَجِدُوْا فِيْهَا سَبَبًا ظَاهِرًا غَيْرَ الْوَصْفِيَّةِ أَوِ الْعَلَمِيَّةِ احْتَاجُوْا إِلَى اعْتِبَارِ سَبَبٍ آخَرَ، وَلَمْ يَصْلُحْ لِلِاعْتِبَارِ إِلَّا الْعَدْلُ فَاعْتَبَرُوْهُ فِيْهَا.
یہاں سے صاحبِ جامی بعض دیگر علماء کے قول کو رد فرما رہے ہیں۔
یاد رکھو، ذرا گہری بات ہے، توجہ سے سنو! بعض علماء فرماتے ہیں کہ ہمیں عدل کا پتہ پہلے چلتا ہے اور پھر اس کے بعد ہم کلمے پر غیر منصرف ہونے کا حکم لگاتے ہیں۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا علم بالعدل، یعنی عدل کو جاننا، یہ مقدم ہے علم بغیر الانصراف پر۔ علم بالعدل، یہ مقدم ہے کس پر؟ علم بغیر الانصراف پر۔ ہمیں عدل کا پتہ پہلے چلتا ہے اور پھر اس کے بعد ہم کلموں پر غیر منصرف ہونے کا حکم لگاتے ہیں۔ اور یہ ہے عدلِ تحقیقی میں، بلکہ پہلے ایک آدھ اور بات سمجھ لیں۔
یاد رکھو، یہ جو عدل ہے، یہ دو قسم پر ہے، بھئی! ایک عدلِ تحقیقی ہے، ایک عدلِ تقدیری ہے۔ عدلِ تحقیقی وہ ہے جس میں ہمارے پاس کوئی دلیل موجود ہو عدل پر، اور عدلِ تقدیری، قَدَّرَ يُقَدِّرُ تَقْدِیْرًا کا معنی ہے فرض کرنا، جس میں ہمارے پاس عدل پر کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ تو جہاں عدل پر دلیل موجود ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عدلِ تحقیقی، اور جہاں عدل پر کوئی دلیل موجود نہیں، اس کو کہتے ہیں عدلِ تقدیری، یعنی یہاں عدل کو فرض کر لیا گیا ہے۔
جیسے دیکھو، جیسے آگے آئے گا، بھئی! ثلاثُ اور مثلثُ، ثلاثُ اور مثلثُ کا معنی ہے تین تین، تین تین۔ اور یہ ہم نے عربوں سے سنا ہے کہ یہ غیر منصرف ہیں، بھئی! تو اب یہ تین تین ان کا معنی ہے، ثلاثُ کا معنی بھی تین تین، مثلثُ کا معنی بھی تین تین۔ تو دیکھو ثلاثُ لفظ ایک ہے اور معنی کے اندر تکرار ہے: تین تین، دو مرتبہ تین کہنا پڑے گا۔ تو دیکھو لفظ ایک اور معنی میں تکرار، اسی طرح مثلثُ بھی ہے، مثلثُ لفظ ایک اور معنی تین تین، دیکھو معنی دو دفعہ آ رہا ہے۔ حالانکہ لفظ ایک ہو تو معنی ایک ہوتا ہے، معنی میں تکرار نہیں ہوتا، بھئی! معلوم ہوا کہ یہ ثلاثُ اصل میں ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ تھا، یعنی لفظ میں بھی تکرار تھا۔ لفظ میں بھی تکرار تھا، پھر اس ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ، اس کا معنی کیا تھا؟ تین تین، اس سے پھیر کر ایک نیا لفظ ثلاثُ بنا لیا گیا۔ تو اب دیکھو یہ عدل ہے، ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ سے پھیر کر، عدل کر کے ایک لفظ کیا بنا لیا گیا؟ ثلاثُ، اور اسی طرح ایک لفظ کیا بنا لیا گیا؟ مثلثُ بنا لیا گیا۔ تو اب دیکھو لفظ ایک ہے، معنی دو، کیونکہ یہ حقیقت میں کیا تھا ثلاثُ؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ تھا، اسی طرح مثلثُ بھی اصل میں کیا تھا؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ تھا، تو دیکھو یہاں ہمارے پاس عدل کی عدل پر دلیل موجود ہے، اور وہ دلیل کیا ہے؟ کہ ان کے معنی میں تکرار ہے۔ ثلاثُ کا معنی کیا؟ تین تین، دو مرتبہ تین کہنا پڑے گا، تو اس کے معنی میں تکرار ہے، اور تکرارِ معنی تب ہوتا ہے جب لفظ میں تکرار ہو، معلوم ہوا یہ پہلے اصل میں کیا تھا؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ تھا، تو یہاں ہمارے پاس دلیل موجود ہے۔
اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عدل کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہوتی، جیسے عمرُ اور زفرُ، عمرُ جو ہے اس کو ہم نے عربوں سے غیر منصرف سنا، اور پھر ہم نے غور کیا کہ یہ عمرُ اور زفرُ کو عرب غیر منصرف کیوں پڑھتے ہیں؟ تو ہمیں اس میں ایک سبب ملا علمیت، عمرُ بھی علم ہے، نام ہے، زفرُ بھی علم ہے، نام ہے۔ لیکن ان کے اندر دوسرا اور کوئی سبب نہیں تھا، حالانکہ نحویوں کا ضابطہ ہے کہ کوئی لفظ غیر منصرف تب بنتا ہے جب اس میں دو سبب پائے جائیں، اور عرب اس کو غیر منصرف استعمال کرتے ہیں، وہ ان پر نہ کسرہ پڑھتے ہیں نہ تنوین پڑھتے ہیں، تو یہ ہیں تو غیر منصرف، تو سبب بھی دو ہونے چاہئیں بھئی! ایک سبب سے نہیں ہونا چاہیے۔ تو پھر مجبوراً نحویوں کو اس میں عدل کو فرض کرنا پڑا۔
اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے، ضابطہ کیا تھا؟ کہ غیر منصرف کون سا کلمہ بنے گا جس میں دو سبب پائے جائیں۔ تو لہٰذا اب جب عمر میں عدل کو بھی فرض کر لیا، تو ایک علمیت آ گئی، ایک عدل آ گیا، تو اب یہ لفظ ضابطے کے مطابق ہو گیا کہ ان دو سببوں کی وجہ سے یہ غیر منصرف ہے۔ تو یہ عمرُ کہتے ہیں اصل میں تھا عامرٌ، دلیل کیا ہے؟ دلیل کوئی بھی نہیں، بھئی! بس صرف اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے فرض کر لیا گیا۔ اسی طرح زفرُ اصل میں کیا تھا؟ زافرٌ، بس اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے فرض کر لیا گیا۔ تو اس کو کہتے ہیں عدلِ تقدیری।
تو عدلِ تحقیقی وہ ہے جہاں پر کوئی دلیل موجود ہوتی ہے عدل پر، اور عدلِ تقدیری وہ ہے جس کے اندر عدل پر کوئی دلیل موجود نہیں ہوتی۔
تو اب دیکھیے، دو علماء کے دو گروہ ہیں، بھئی! میں ذکر کر رہا تھا کہ یہاں صاحبِ جامی رد کر رہے ہیں بعض علماء کو، وہ علماء فرماتے ہیں کہ جو جہاں عدلِ تحقیقی ہوتا ہے، عدلِ تقدیری نہیں، وہ تو ہم نے فرض کیا، اس کو जरा ایک طرف رکھتے ہیں، جہاں عدلِ تحقیقی ہوتا ہے، وہاں ہمیں عدل کا پتہ پہلے چلتا ہے اور پھر اس کے بعد ہم کلمے پر غیر منصرف ہونے کا حکم لگاتے ہیں۔ جیسے ثلاثُ، ثلاثُ کے اندر ایک تو اس میں وصفیت ہے، یہ وصف ہے، بھئی! اور دوسرا اس کے اندر ہمیں عدل کا پتہ چلا، تو اب ہم نے اس پر حکم لگا دیا کہ یہ غیر منصرف ہے۔ ایک کیا؟ وصف، دوسرا عدل، تو عدل کا علم پہلے ہوا اور غیر منصرف ہونے کا علم اس کے بعد ہوا، تو علم بالعدل مقدم ہے ان علماء کے نزدیک کس سے؟ علم بغیر الانصراف پر۔ پہلے عدل کا علم ہوتا ہے، پھر غیر منصرف ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے کس کے اندر؟ عدلِ تحقیقی میں، تقدیری میں نہیں! تو ان کے نزدیک علم بالعدل مقدم ہے علم بغیر الانصراف پر۔
جبکہ علامہ جامی فرماتے ہیں کہ نہیں، علم بغیر المنصرف مقدم ہے کس پر؟ علم بالعدل پر، پہلے ہم نے اس کے غیر منصرف ہونے کا پتہ چلا، ہم نے عربوں سے سنا وہ ان کو غیر منصرف پڑھتے ہیں: ثلاثُ اور مثلثُ کو، پھر اس کے بعد ہم نے غور کیا کہ اس میں کون سے دو سبب ہیں؟ تو دیکھا، ایک سبب وصف ہے، دوسرا تو کوئی سبب ہی نہیں مل رہا، تو پھر ہم نے اس میں عدل کا اعتبار کر لیا، عدل کا اعتبار کر لیا، اور پھر اس کے بعد اس ثلاثُ اور مثلثُ کی اصل کیا تھی، اس پر ہمیں ایک دلیل بھی مل گئی۔
اس پر ہمیں دلیل بھی مل گئی کہ ان کی اصل ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ تھی، اور دلیل کیا؟ کہ ان کے معنی میں تکرار ہے، معلوم ہوا ان کے اصل میں بھی کیا تھا؟ لفظوں میں بھی تکرار تھا۔
تو وہ دیگر علماء کیا فرماتے ہیں؟ کہ عدل کا پتہ پہلے چلتا ہے اور غیر انصراف کا پتہ بعد میں، جبکہ علامہ جامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، غیر انصراف کا پتہ پہلے چلتا ہے کس میں؟ عدلِ تحقیقی والی صورت میں، غیر انصراف کا پتہ پہلے چلتا ہے اور اس کے بعد پھر ہم اس میں عدل کا اعتبار کرتے ہیں۔
دیکھو، ایک ہے عدلِ تحقیقی، ایک ہے عدلِ تقدیری، توجہ سے سنو! عدلِ تحقیقی میں، بلکہ یہ اپنے سامنے जरा کاپی پہ دو چار لفظ لکھ لیں، پھر آپ کو بات سمجھ میں آئے گی، जरा الفاظ مشکل ہیں بھئی! جلدی جلدی لکھیے، بھئی!
بھئی، دو قسمیں ہیں: عدلِ تحقیقی کسے کہتے ہیں اور عدلِ تقدیری؟ دونوں مذہب لکھنے ہیں، مختصر لفظوں میں آپ کو، اور پھر اس کے بعد میں مزید تفصیل بیان کرتا ہوں۔
پہلے لکھیے، بھئی! عدلِ تحقیقی، عدلِ تحقیقی، عدلِ تحقیقی، اب اس میں وہ جو اختلاف ہے وہ لکھیے!
بعض علماء کے نزدیک، بعض علماء کے نزدیک عدلِ تحقیقی میں اخراجِ محقق ہوتا ہے، اخراجِ محقق، میم، حاء، قاف دو نقطوں والا اور پھر قاف دو نقطوں والا: محقق، کہ عدلِ تحقیقی میں اخراجِ محقق ہوتا ہے اصلِ محقق سے، اصلِ محقق سے۔ جبکہ صاحبِ جامی کے نزدیک، جبکہ صاحبِ جامی کے نزدیک اخراجِ مقدر ہوتا ہے، اخراجِ مقدر ہوتا ہے اصلِ محقق سے۔
لکھ لیا؟ جی، اب دوسرا لکھیے!
عدلِ تقدیری، عدلِ تقدیری میں کوئی اختلاف نہیں۔ عدلِ تقدیری میں کوئی اختلاف نہیں۔ دونوں کے نزدیک اس میں، دونوں کے نزدیک اس میں اخراجِ مقدر ہوتا ہے، اخراجِ مقدر ہوتا ہے اصلِ مقدر سے، اخراجِ مقدر ہوتا ہے اصلِ مقدر سے۔
لکھ لیا؟ جی، بس اب اس کو سمجھ لیں۔
بھئی دیکھیے، یہ عدلِ تقدیری کے اندر دونوں میں کوئی اختلاف نہیں، عدلِ تقدیری کس میں تھا؟ جیسے عمرُ اور زفرُ میں تھا۔ عمرُ اور زفرُ کو کس سے نکالا گیا ہے؟ عامرٌ اور زافرٌ سے، اور اس پر کوئی دلیل موجود نہیں۔ معلوم ہوا، ادھر دیکھیے بھئی! یہ جو عمرُ اور زفرُ کے لیے عامرٌ اور زافرٌ کو اصل قرار دیا گیا، اس کا اصل ہونا بھی محقق نہیں ہے۔ یہ اصل بھی محقق نہیں ہے، ویسے فرض کر لی کہ عمر کی اصل کیا تھی؟ عامر تھی، زفر کی اصل کیا تھی؟ زافر تھی، ویسے ہی فرض کر لی، کوئی دلیل موجود نہیں۔ تو یہ جو اصل ہے، یہ بھی مقدر ہے، یعنی فرض کر لیا گیا ہے کہ یہ ان کی اصل ہے۔ اور پھر عامرٌ سے جو عمر بنایا گیا، عامرٌ سے جو اخراج کیا گیا عمر کا، یہ بھی فرض کر لیا گیا، اس پر بھی کوئی دلیل موجود نہیں۔ معلوم ہوا عمر کے لیے جو عامرٌ کو اصل قرار دیا گیا، تو یہ اصل بھی مقدر، اور اس اصل سے اخراج بھی مقدر ہے، یعنی فرض کر لیا گیا ہے حقیقت میں نہیں۔
تو عدلِ تقدیری کے اندر اصل بھی کیا ہوتا ہے؟ مقدر، اور اخراج بھی کیا ہوتا ہے؟ مقدر، اصل کو بھی فرض کیا اور اخراج کو بھی فرض کیا، دونوں کے نزدیک۔
جبکہ عدلِ تحقیقی کے اندر دونوں میں اختلاف ہے۔ عدلِ تحقیقی کے اندر بعض علماء فرماتے ہیں کہ اصل جو ہے وہ بھی محقق ہے اور اخراج بھی محقق ہے۔ اصل بھی محقق اور اخراج بھی محقق، اصل بھی محقق ہے دیکھو، ثلاثُ کو کس سے بنایا گیا؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ سے، یہ اصل بھی محقق ہے کہ یہی ہے اس کی اصل، بھئی! ثلاثُ کی اصل یہی، تو یہ اصل بھی محقق، اور انہوں نے کیا کہا تھا؟ عدل کا پہلے پتہ چلتا ہے یا غیر انصراف کا؟ عدل کا پہلے پتہ چلتا ہے، تو یہ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ اس کی اصل، یہ بھی محقق، اور پھر اس سے نکالنا اور ثلاثُ بنانا، یہ بھی کیا ہے؟ محقق ہے، اس کے بعد اعتبار کیا گیا غیر انصراف کا۔ اس کے بعد کس کا اعتبار کیا گیا؟ پہلے پتہ چلا عدل کا، اصل بھی محقق، پھر اصل سے نکالنا بھی محقق کہ واقعی اسی سے نکالا گیا ہے، اور پھر اس کے بعد پتہ چلا کہ ہاں بھئی، جب نکالا گیا ہے یہ تو عدل آ گیا، جب عدل آ گیا تو اب کلمے میں ایک سبب پہلے بھی ہے، ایک یہ بھی آ گیا، اب اس کو کیا پڑھنا چاہیے؟ غیر منصرف۔ تو یہ علماء فرماتے ہیں کہ علم بالعدل مقدم ہے کس پر؟ علم بغیر الانصراف پر۔
تقریر سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ان علماء کے نزدیک، یہ جو عدلِ تحقیقی ہے، اس کے اندر اصل بھی محقق اور اس سے جو نکالا گیا لفظ کو، وہ بھی محقق ہے، بھئی! وہ فرض نہیں کیا گیا، حقیقتاً اس سے نکالا گیا ہے۔
جبکہ صاحبِ جامی اور تقریر فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ثلاثُ کی اصل ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ ہے، یہ تو محقق ہے، اس پر تو دلیل موجود ہے۔ دلیل کیا ہے؟ کہ ثلاثُ کے معنی ہیں تین تین، اور معنی میں تکرار تبھی ہوتا ہے جب لفظوں میں بھی کیا ہو؟ تکرار ہو۔ تو اصل پر دلیل موجود ہے کہ ثلاثُ کی اصل کیا؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ، تو یہ اصل تو محقق ہے۔ اصل تو محقق ہے، لیکن پھر اس ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ کو پھیر کر ثلاثُ بنایا گیا، کہتے ہیں یہ مقدر ہے بھئی، یہ فرض کر لیا، کیونکہ پہلے کس کا پتہ چلتا ہے؟ غیر انصراف کا، اس کے بعد کس کا اعتبار کرنا پڑتا ہے؟ عدل کا۔
صاحبِ جامی، یاد رکھیے، وہ تقریر فرمائیں گے۔ پہلے دوبارہ دہرا لیں، باقی علماء کیا فرماتے ہیں؟ کہ عدل کا علم پہلے ہوتا ہے اور پھر اس کلمے پر غیر انصراف کا حکم بعد میں لگایا جاتا ہے، جبکہ علامہ جامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، پہلے غیر انصراف کا پتہ چلتا ہے، ہم سنتے ہیں کہ عربوں سے کہ وہ ثلاثُ اور مثلثُ کو غیر منصرف پڑھتے ہیں، ثلاثُ، مثلثُ، عمرُ وغیرہ سب کو غیر منصرف پڑھتے ہیں، ہم نے عربوں سے اسی طرح سنا ہے، تو ہم نے غور کیا، ان کے اندر ہمیں ایک ایک سبب مل رہا ہے۔ عمر کے اندر علمیت ہے بس، دوسرا سبب ہی کوئی نہیں، اسی طرح ثلاثُ، مثلثُ ان میں وصفیت ہے، دوسرا سبب ہی کوئی نہیں، حالانکہ ایک سبب سے تو کوئی کلمہ غیر منصرف نہیں بنتا، تو مجبور ہو کر اس میں کیا فرض کرنا پڑا؟ عدل کو فرض کرنا پڑا، دیکھا! عدل کو فرض کرنا پڑا، اس اخراج کو فرض کرنا پڑا، تو اخراج مقدر ہوگا ہمیشہ، بھئی!
عدل کو فرض کرنا پڑے گا کس لیے؟ اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے، تو معلوم ہوا، پہلے ہمیں یہ پتہ چلا کہ عربوں نے ان دو کلموں کو غیر منصرف پڑھا ہے، اس کے بعد پھر ہم نے غور کیا تو اس میں ہمیں ایک سبب مل رہا تھا دوسرا تھا ہی نہیں، تو ہم نے کس کا اعتبار کر لیا؟ عدل کا اعتبار کر لیا، یعنی اخراج کا اعتبار کر لیا کہ اس کو نکالا گیا ہے ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف، اور یہ جو اخراج ہے، اس کا ہم نے اعتبار کیا ہے۔
اس کا ہم نے اعتبار ہمیں کرنا پڑا، تو معلوم ہوا جب ہمیں اعتبار کرنا پڑا، تو اخراج حقیقتاً ہوا ہے یا وہ بھی مقدر ہے ماننا پڑا ہمیں؟ ماننا پڑا ہمیں، کیا کرنا پڑا؟ ماننا پڑا ہمیں، اعتبار کرنا پڑا، حقیقتاً ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ سے ثلاثُ کا اخراج ہوا ہو، اس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں، اس کی اصل پر تو دلیل موجود ہے، لیکن اخراج، اخراج کا تو ہم نے صرف اعتبار کیا ہے، بھئی! اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے، تو صاحبِ جامی کے نزدیک عدلِ تحقیقی کے اندر اصل تو محقق ہوتی ہے، اصل پر تو دلیل موجود ہوتی ہے کہ ثلاثُ کی اصل کیا ہے؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ، لیکن اس اخراج پر کوئی دلیل موجود نہیں ہوتی، اس اخراج کا اعتبار کرنا پڑتا ہے مجبوری کی وجہ سے کہ وہ اس میں دوسرا سبب کوئی نہیں مل رہا، ہمیں ماننا پڑے گا، بھئی!
تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ عدلِ تقدیری کے اندر اصل بھی مقدر اور اخراج بھی مقدر، جبکہ عدلِ تحقیقی کے اندر دیگر علماء کے نزدیک اصل بھی محقق اور اخراج بھی محقق، اخراج محقق ہوگا، اس کے بعد اس پر غیر انصراف کا حکم لگایا جائے گا، تو عدل مقدم ہوا کس پر؟ غیر انصراف پر، جبکہ جامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر غیر انصراف مقدم ہے عدل پر۔
ہم نے پہلے عربوں سے سنا انہوں نے اس کو غیر منصرف پڑھا ہے، اس میں ایک سبب وصف تھا، دوسرا سبب ہمیں نہیں مل رہا تھا، تو ہم نے کس کا اعتبار کیا؟ عدل کا اعتبار ہمیں کرنا پڑا، تو دیکھا! عدل کا جو اعتبار کیا، معلوم ہوا یہ عدل محقق نہیں ہے بلکہ مقدر ہے، ہمیں اعتبار کرنا پڑا اس کا، بھئی!
تو جامی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو عدلِ تحقیقی ہے، اس کے اندر اصل تو محقق ہوتی ہے، اصل پر تو دلیل موجود ہوتی ہے، لیکن یہ جو اخراج ہے، یہ اعتباری ہی ہوتا ہے، ہمیں اس کا اعتبار کرنا پڑتا ہے، تو یہ محقق نہیں ہے بلکہ یہ مقدر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ اب دیکھیے کتاب پر!
وَاعْلَمْ، اور تو جان لے: أَنَّا نَعْلَمُ قَطْعًا، کہ ہم جانتے ہیں قطعی طور پر، یقینی طور پر، أَنَّهُمْ لَمَّا وَجَدُوْا ثُلَاثَ وَمَثْلَثَ وَأُخَرَ وَجُمَعَ وَعُمَرَ غَيْرَ مُنْصَرِفِيْنَ، کہ نحوی حضرات جو ہیں، جب انہوں نے پایا ثلاثُ، مثلثُ، أخرُ، جمعُ اور عمرُ کو، کیا پایا؟ غير منصرفين، ان کو انہوں نے غیر منصرف پایا، وَلَمْ يَجِدُوْا فِيْهَا سَبَبًا ظَاهِرًا غَيْرَ الْوَصْفِيَّةِ أَوِ الْعَلَمِيَّةِ، اور اس کے اندر انہیں کوئی سببِ ظاہری نہیں ملا غير الوصفية او العلمية، علاوہ وصفیت یا علمیت کے، یہ دیکھو، ثلاثُ، مثلثُ، أخرُ، جمعُ، ان کے اندر وصفیت کے علاوہ اور کچھ نہیں ملا، اور عمرُ کے اندر علمیت کے علاوہ کچھ نہیں، یعنی سب میں ایک ایک سبب ہی ملا نحویوں کو، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ معنی ہے: ولم يجدوا فيها سبباً ظاهراً غير الوصفية او العلمية، اور انہوں نے ان لفظوں کے اندر کوئی ظاہری سبب نہیں پایا سوائے وصفیت اور علمیت کے، احْتَاجُوْا إِلَى اعْتِبَارِ سَبَبٍ آخَرَ، تو وہ محتاج ہوئے ایک اور سبب کے اعتبار کرنے کی جانب، ان کو ایک اور سبب کا اعتبار کرنا پڑا، ماننا پڑا، فرض کرنا پڑا، اور وہ عدل تھا، معلوم ہوا یہ جو عدل ہے، یہ جو اخراج ہے، یہ مقدر ہے، اعتباری ہے، حقیقی نہیں۔
تو کہتے ہیں: احتاجوا الى اعتبار سبب اخر، تو وہ محتاج ہوئے ایک اور سبب کا اعتبار کرنے کی طرف: وَلَمْ يَصْلُحْ لِلِاعْتِبَارِ إِلَّا الْعَدْلُ، اور صلاحیت نہیں رکھتا تھا اعتبار کی الا العدل، سوائے عدل کے، عدل کے علاوہ کسی اور کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا تھا، بھئی! کیونکہ ثلاثُ، مثلثُ، أخرُ، جمعُ، ان میں آپ دیکھ لیں، بھئی! ان میں، ان میں اور کوئی سبب نہیں، اس میں الف نون زائدتان بھی نہیں، یہ ثلاثُ، مثلثُ وغیرہ، یہ معرفہ بھی نہیں ہے، اسی طرح یہ، یہ وزنِ فعل بھی نہیں ہے، تو باقی جتنے سبب آپ دیکھ لیں کوئی بھی ان پر صادق نہیں آتا، تو پھر کس کا اعتبار کرنا پڑا ان سب میں؟ عدل کا اعتبار کرنا پڑا۔
تو کہتے ہیں: ولم يصلح للاعتبار الا العدل، اور صلاحیت نہیں رکھتا تھا اعتبار کرنے کی سوائے عدل کے، یعنی صرف عدل ہی کا اعتبار کیا جا سکتا تھا: فَاعْتَبَرُوْهُ فِيْهَا، تو نحویوں نے ان کے اندر عدل کا اعتبار کر لیا۔
حاصلِ کلام کیا؟ کہ پہلے لفظوں کو سنا عربوں سے کہ یہ غیر منصرف ہیں، پھر اس کے اندر انہوں نے تلاش کیا، تو کوئی دوسرا سبب نہیں ملا، ایک ہی سبب تھا وصفیت والا، تو پھر کس کا اعتبار کر لیا؟ عدل کا، ایسا نہیں ہے کہ پہلے اس میں ان کو عدل کا پتہ چلا اور پھر عدل اور ایک اور سبب کی وجہ سے ان کو کیا قرار دے دیا نحویوں نے؟ غیر منصرف، ایسا نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے۔
یہ معنی ہے: لَا أَنَّهُمْ تَنَبَّهُوْا لِلْعَدْلِ فِيْ مَا عَدَا عُمَرَ مِنْ هٰذِهِ الْأَمْثِلَةِ، یہ نہیں کہ وہ پہلے متنبہ ہوئے تھے عدل کے بارے میں فی ما عدا عمر، عمر کے علاوہ: من ہذہ الامثلۃ، ان مثالوں میں، فجعلوا غير منصرفين، تو انہوں نے اس کو غیر منصرف قرار دے دیا عدل اور سببِ آخر کی وجہ سے، بھئی ادھر دیکھیے۔
کہتے ہیں پہلے اس کا پتہ چلا غیر انصراف کا، پھر اس کے بعد اس میں کس کا اعتبار کیا؟ عدل کا، ایسا نہیں ہے کہ نحویوں کو پہلے ان لفظوں میں، عمر کے علاوہ، کیونکہ عمر کے اندر تو عدلِ تقدیری ہے، عدلِ تحقیقی کے اندر اختلاف ہے نا! تو کہہ رہے ہیں، عمر کے علاوہ یہ جو باقی لفظ ہم نے ذکر کیے، جن میں عدلِ تحقیقی ہے، جس میں اختلاف ہے، کہتے ہیں ان کے اندر ایسا نہیں تھا کہ نحویوں کو پہلے سے عدل کا پتہ چل گیا، پھر عدل کا پتہ چلنے کے بعد انہوں نے دیکھا ایک سبب اور بھی ہے، عدل بھی ہے، تو انہوں نے کیا حکم لگا دیا اس پر؟ غیر منصرف ہونے کا، ایسا نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
یہ معنی ہے: لا انہم تنبہوا للعدل، یہ نہیں کہ وہ پہلے متنبہ ہوئے تھے عدل کے بارے میں: فی ما عدا عمر، عمر کے علاوہ میں وہ عدل پر متنبہ ہوئے، یعنی ان کو پتہ چلا کہ ان کے عمر کے علاوہ باقیوں میں تو عدل ہے، عمر کا استثناء کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ اس میں عدلِ تقدیری ہے، عدلِ تقدیری میں تو اختلاف ہی نہیں ہے، اس میں تو وہ بھی مانتے ہیں کہ عدل کو فرض کیا گیا ہے، کس کو؟ عدل کو فرض، تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ متنبہ ہوئے عدل پر: فی ما عدا عمر، عمر کے علاوہ میں: من ہذہ الامثلۃ، ان مثالوں میں، ان مثالوں میں عمر کے علاوہ باقیوں میں ایسا نہیں ہے کہ وہ عدل پر متنبہ ہوئے ہوں: فجعلوا غير منصرفين للعدل وسبب اخر، پھر انہوں نے اس کو غیر منصرف قرار دے دیا عدل اور سببِ آخر کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
اچھا دیکھو، "فِيْ مَا عَدَا عُمَرَ"، یہ عبارت جگہ جگہ اس طرح کی: فی ما عداہ، یہ عبارت بار بار آ رہی ہے۔ میں نے پہلے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو خلا اور عدا ہے، یہ استثناء کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور یہ جر بھی دیتا ہے اور نصب بھی دیتا ہے۔ جر دیتا ہے یہ حرفِ جر ہو کر، جب اس کے بعد کوئی کلمہ مجرور آ جائے تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ اس وقت حرفِ جر ہے۔
اور کبھی یہ نصب دیتا ہے اور اس وقت آپ سمجھ جائیں یہ فعل ہے اور یہ جس کو نصب دے رہا ہے یہ اس کا مفعول بہ ہے، بھئی! تو یہ فعل کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور حرفِ جر کے طور پر بھی، لیکن اس سے پہلے اگر ما آ جائے، جیسے یہاں ہے: ما عدا، تو اس وقت پھر یہ فعل ہی ہوتا ہے اور ما بعد اس کا جو ہے وہ منصوب ہوتا ہے مفعول بہ ہونے کی بناء پر، تو یہاں پر ما قبل میں ایک دو جگہ آیا: فی ما عداہ، دیکھو وہاں پر بھی اس سے پہلے ما ہے، یہاں پر بھی: فی ما عدا عمر، یہاں پر بھی عدا سے پہلے ما آیا، تو عمر، اس کو منصوب پڑھیں، یہ اس کے لیے مفعول بہ ہے۔
وَلٰكِنْ لَّابُدَّ فِي اعْتِبَارِ الْعَدْلِ مِنْ أَمْرَيْنِ:
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ پہلے نحوی حضرات کو پتہ چلا کہ یہ جو کلمات ہیں ثلاثُ، مثلثُ وغیرہ، یہ غیر منصرف ہیں، پھر اس کے اندر انہوں نے تلاش کیا، تو کوئی دوسرا سبب نہیں ملا، ایک ہی سبب تھا وصفیت والا، تو پھر کس کا اعتبار کر لیا؟ عدل کا اعتبار، ایسا نہیں ہے کہ پہلے اس میں ان کو عدل کا پتہ چلا اور پھر عدل اور ایک اور سبب کی وجہ سے ان کو کیا قرار دے دیا نحویوں نے؟ غیر منصرف، ایسا نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے۔
ولكن لا بد فی اعتبار العدل من امرين، لیکن کہتے ہیں ضروری ہے عدل کا اعتبار کرنے میں دو چیزوں کا ہونا: أَحَدُهُمَا: وُجُوْدُ أَصْلٍ لِلِاسْمِ الْمَعْدُوْلِ، ایک تو یہ کہ اصل کا وجود ہونا چاہیے للاسم المعدول، وہ اسم جس کو پھیرا گیا ہے۔
کیا ہونا چاہیے؟ بھئی، عدل کس کو کہتے ہیں؟ ایک صورت سے پھیرنا دوسری صورت کی طرف، تو اس کے لیے اصل بھی چاہیے، کیا چاہیے؟ اصل بھی چاہیے، اور پھر اس اصل سے اخراج بھی چاہیے، دو چیزیں ہیں عدل میں، کتنی چیزیں؟ ایک کیا چاہیے؟ اصل، اور دوسرا اس اصل سے اخراج بھی ہو، بھئی!
تو کہتے ہیں: ولكن لا بد فی اعتبار العدل من امرين، اور ضروری ہے عدل میں دو چیزوں کا اعتبار کرنا: احدہما وجود اصل للاسم المعدول، ایک تو اصل کا وجود، اسمِ معدول کے لیے، یعنی عمر کے لیے ایک اصل ضرور چاہیے، پھر ہی عدل مانیں گے، بھئی!
وَثَانِيْهِمَا: اعْتِبَارُ إِخْرَاجِهِ عَنْ ذٰلِكَ الْأَصْلِ، اور دوسرا یہ کہ اس اصل سے اخراج کا اعتبار بھی!
اصل بھی چاہیے اور اس اصل سے اخراج کا اعتبار بھی، دیکھو اخراج کے ساتھ اعتبار کا لفظ ذکر کیا، کہ یہ جو اخراج ہے اس کا تو ہر حال میں اعتبار ہی کرنا پڑتا ہے، حقیقت میں یہاں اخراج نہیں ہے، بھئی!
إِذْ لَا يَتَحَقَّقُ الْفَرْعِيَّةُ بِدُوْنِ اعْتِبَارِ ذٰلِكَ الْإِخْرَاجِ، اس لیے کیونکہ فرع ہونا وہ ثابت ہی نہیں ہو سکتا جب تک اس اخراج کا اعتبار نہ کیا جائے۔
جب ایک اصل سے کلمے کو نکالا گیا ہے، تو پھر ہی کہا جائے گا کہ اخراج پایا گیا اور وہ ہے اصل اور یہ کیا ہے؟ فرع، تو فرع کے لیے اخراج ضروری ہے، بھئی! اس کے بغیر فرع نہیں ہو سکتا۔
کہتے ہیں: اذ لا يتحقق الفرعية بدون اعتبار ذلك الاخراج، اس لیے کیونکہ فرعیت جو ہے اس کا تحقق نہیں ہو سکتا، یعنی اس کا ثبوت نہیں ہو سکتا: بدون اعتبار ذلك الاخراج، بغیر اس اخراج کا اعتبار کیے!
فَفِيْ بَعْضِ تِلْكَ الْأَمْثِلَةِ يُوْجَدُ دَلِيْلٌ غَيْرُ مَنْعِ الصَّرْفِ عَلَى وُجُوْدِ الْأَصْلِ الْمَعْدُوْلِ عَنْهُ،
ففي بعض تلك الامثلة، تو ان میں سے بعض مثالوں میں، یہ جو پیچھے مثالیں گزر گئیں، پیچھے کون کون سی مثالیں تھیں؟ ثلاثُ، مثلثُ، أخرُ، جمعُ اور عمرُ، عمرُ میں تو عدلِ تقدیری ہے، باقی چاروں میں کیا ہے؟ عدلِ تحقیقی، اب وہ بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: ففي بعض تلك الامثلة، تو ان میں سے بعض مثالوں کے اندر: يوجد دليل، پائی گئی ایسی دلیل: غير منع الصرف، جو منعِ صرف کے علاوہ تھی: علی وجود الأصل المعدول عنہ، یہ دلیل تھی منعِ صرف کے علاوہ کس چیز پر؟ علی وجود الأصل، اس اصل کے وجود پر: المعدول عنہ، جس سے اسم کو پھیرا گیا ہے۔
ایک دلیل بھی پائی گئی اصل کے وجود پر، ثلاثُ کے لیے دلیل پائی گئی کہ یہ اصل میں کیا تھا؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ تھا، جس سے اس کو پھیرا گیا ہے، تو دلیل بھی پائی گئی اور دلیل کیا تھی؟ کیونکہ اس کے معنی میں تکرار ہے، معلوم ہوا یہ لفظوں میں بھی اصل میں تکرار تھا۔
تو کہتے ہیں: ففي بعض تلك الامثلة يوجد دليل غير منع الصرف على وجود الأصل المعدول عنہ، تو ان میں سے بعض مثالوں کے اندر دلیل پائی گئی منعِ صرف کے علاوہ علی وجود الأصل المعدول عنہ، اس اصل کے وجود پر جس سے اسم کو پھیرا گیا ہے، فَوُجُوْدُهُ مُحَقَّقٌ بِلَا شَكٍّ، تو اس کا وجود محقق ہو گیا بغیر شک کے!
اصل کا وجود کیا ہو گیا؟ محقق ہو گیا، ثابت شدہ ہو گیا، اب اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، کہ ثلاثُ کی اصل ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، کیوں نہیں گنجائش؟ کیونکہ ہمیں دلیل مل گئی باقاعدہ جس سے پتہ چلا کہ ثلاثُ کی اصل ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ ہے۔
تو کہتے ہیں: فوجودہ محقق بلا شک، تو وہ جو اصل ہے اس کا وجود محقق ہے بغیر کسی شک کے، وَفِيْ بَعْضِهَا لَا دَلِيْلَ غَيْرُ مَنْعِ الصَّرْفِ، اور بعضوں کے اندر کوئی دلیل نہیں ہے علاوہ منعِ صرف کے، فَيُفْرَضُ لَهُ أَصْلٌ، تو اس کے لیے اصل کو فرض کر لیا گیا۔
تو ان کے لیے اصل محقق ہوئی یا مفروض ہوئی؟
بعض کے لیے تو دلیل مل گئی تھی کہ یہ ہے ان کی اصل، تو وہ اصل کیا ہوئی ان کے لیے؟ محقق ہوئی، ثابت شدہ ہوئی، اور بعضوں کے لیے ہمیں دلیل نہیں ملی، لیکن ان کے لیے اصل کو فرض کر لیا گیا، تو یہ اصل ان کے لیے محقق ہوئی یا مقدر اور مفروض ہوئی؟ مقدر اور مفروض ہوئی، کیونکہ یہاں اصل کے اصل ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں۔
یہ معنی ہے: وفي بعضہا لا دليل غير منع الصرف، اور بعضوں میں کوئی دلیل نہیں تھی علاوہ منعِ صرف کے: فيفرض له اصل، تو اس کے لیے ایک اصل کو فرض کر لیا گیا، جیسے عمر کے لیے عامر کو فرض کر لیا گیا کہ یہ اس کی اصل ہے: لِيَتَحَقَّقَ الْعَدْلُ بِإِخْرَاجِهِ عَنْ ذٰلِكَ الْأَصْلِ. تاکہ تحقق ہو جائے عدل کا، عدل پایا جائے: باخراجہ عن ذلك الأصل، اس اصل سے اخراج کی وجہ سے۔
اصل تو ضرور چاہیے تاکہ اخراج پایا جائے، اس کے اخراج کے بغیر تو عدل ہو نہیں سکتا، تو عمر کے لیے کیا کر لیا گیا؟ دلیل تو کوئی نہیں، لیکن ایک اصل کو فرض کر لیا گیا، تو وہ اصل مقدر ہوئی تاکہ، یہ اصلِ مقدر کو کیوں فرض کیا گیا؟ تاکہ اخراج پایا جائے کہ اس سے اس کو نکالا گیا ہے۔ جب نکالا گیا ہے پھر ہی عدل ہوگا، ورنہ تو عدل نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے: فيفرض له اصل، تو اس کے لیے ایک اصل کو فرض کر لیا گیا: ليتحقق العدل، تاکہ عدل پایا جائے، کس طرح پایا جائے؟ باخراجہ عن ذلك الأصل، اس اصل سے اخراج کر کے۔
فَانْقِسَامُ الْعَدْلِ إِلَى التَّحْقِيْقِيِّ وَالتَّقْدِيْرِيِّ،
جی، اب حاصلِ کلام بتلانے لگے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ کہ یہ جو عدل کی دو قسمیں ہیں، تحقیقی اور تقدیری، ان کے اندر وہ بعض علماء کے نزدیک عدلِ تحقیقی وہ ہے جس میں اخراج محقق ہو۔ جس میں، ابھی جو میں نے آپ کو لکھوایا، جس میں اخراج محقق ہو، اور عدلِ تقدیری وہ ہے جس میں اخراج مقدر ہو، فرض کیا گیا ہو۔
جبکہ جامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اخراج تو ہمیشہ مقدر ہی ہوگا، اس کا تو آپ نے اعتبار کیا ہے، فرض کیا ہے، تو عدلِ تحقیقی اور عدلِ تقدیری، عدلِ تحقیقی اس کو کہیں گے جس میں اصل جو ہے وہ محقق ہو، تحقیقی ہو، اور عدلِ تقدیری اس کو کہیں گے جس میں وہ جو اصل ہے، وہ تقدیری ہو۔
تو یہ جو عدل کی دو قسمیں بنیں، بھئی! تحقیقی اور تقدیری، بعض علماء کے نزدیک یہ کس اعتبار سے ہے؟ اخراج کے اعتبار سے کہ عدلِ تحقیقی میں اخراج کیا ہوتا ہے؟ تحقیقی، اور عدلِ تقدیری میں اخراج کیا ہوتا ہے؟ تقدیری ہوتا ہے۔ جبکہ جامی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو تحقیقی اور تقدیری ہے، یہ اخراج کی صفت نہیں، اخراج تو ہر جگہ تقدیری ہی ہے، اخراج کا تو اعتبار کیا ہے صرف ہم نے، عدل تو ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ اعتباری ہی ہوتا ہے، البتہ اس کی جو اصل ہے، اس اصل پر کبھی دلیل ہوتی ہے کبھی نہیں، تو وہ اصل کبھی تحقیقی ہوگا، کبھی تقدیری ہوگا۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض علماء کے نزدیک یہ جو تحقیقی اور تقدیری ہونا ہے، یہ کس کی صفت ہے؟ اخراج کی صفت ہے، یہ اخراج کبھی حقیقتاً ہوتا ہے اور کبھی تقدیراً، جبکہ جامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اخراج تو ہمیشہ تقدیری ہی ہوگا، ہاں، یہ اس کی اصل جو ہے وہ کبھی تحقیقی ہوگی اور کبھی تقدیری، اصل پر کبھی ہمیں دلیل مل جائے گی پتہ چل جائے گا یہی اس کی اصل ہے، اور کبھی ہمیں دلیل نہیں ملے گی تو ہمیں فرض کرنا پڑے گا، تو اصل جو ہے وہ تحقیقی یا تقدیری ہوگا، اخراج تو ہمیشہ تقدیری ہی ہوگا۔
تو کہتے ہیں: فانقسام العدل الى التحقيقي والتقديري، تو یہ عدل جو تقسیم ہوتا ہے تحقیقی اور تقدیری کی طرف: إِنَّمَا هُوَ بِاعْتِبَارِ كَوْنِ ذٰلِكَ الْأَصْلِ مُحَقَّقًا أَوْ مُقَدَّرًا، وہ بایں اعتبار ہے کہ وہ اصل جو ہے وہ محقق ہے یا مقدر ہے۔
وَأَمَّا اعْتِبَارُ إِخْرَاجِ الْمَعْدُوْلِ، اور باقی معدول کے اخراج کا اعتبار کرنا: عَنْ ذٰلِكَ الْأَصْلِ، اس اصل سے، کہ اس اصل سے اس معدول کو کا اخراج کیا گیا ہے: لِيَتَحَقَّقَ الْعَدْلُ، تاکہ عدل پایا جائے، فَلَا دَلِيْلَ عَلَيْهِ إِلَّا مَنْعُ الصَّرْفِ، تو اس پر تو کوئی دلیل موجود نہیں ہے الا منع الصرف، صرف منعِ صرف ہے، معلوم ہوا عدل کا تو اعتبار ہی کرنا پڑے گا، عدل تو تقدیری ہی ہے ہمیشہ، وہاں غیر انصراف کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں کہ ثلاثُ کو ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ سے اخراج کیا گیا۔ اخراج پر دلیل نہیں ہے، ہاں، اس کے اصل ہونے پر دلیل موجود ہے۔
تو کہتے ہیں: واما اعتبار اخراج المعدول عن ذلك الأصل ليتحقق العدل فلا دليل عليه الا منع الصرف، اور باقی اس معدول کے اخراج کا اعتبار کرنا اس اصل سے ليتحقق العدل تاکہ عدل کا تحقق ہو جائے، عدل پایا جائے، فلا دليل عليه الا منع الصرف، تو اس پر منعِ صرف کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں!
فَعَلَى هٰذَا قَوْلُهُ "تَحْقِيْقًا"، تو بناء بر اس کے، مصنف کا جو قول ہے: "تَحْقِيْقًا"، اب ذرا متن، متن دیکھ لیں۔ تقریر سمجھ میں آ گئی؟ یہ مشکل مقام تھا، بھئی! چلیے، الحمد للہ حل ہوا، بھئی!
دیکھیے بھئی، متن!
"تَحْقِيْقًا كَـثُلَاثَ وَمَثْلَثَ وَأُخَرَ وَجُمَعَ، أَوْ تَقْدِيْرًا كَـعُمَرَ وَزُفَرَ وَبَابِ قَطَامِ فِيْ تَمِيْمٍ"
تو عدل جو ہے وہ یا تو تحقیقی ہوگا: كَـثُلَاثَ وَمَثْلَثَ وَأُخَرَ وَجُمَعَ، جیسے ثلاثُ اور مثلثُ، أخرُ اور جمعُ، بھئی! أَوْ تَقْدِيْرًا، یا عدل تقدیری ہوگا: كَـعُمَرَ وَزُفَرَ وَبَابِ قَطَامِ فِيْ تَمِيْمٍ، جیسے عمرُ میں ہے، اور زفرُ ہے، اور بابِ قطامِ میں ہے: فی تمیم، اي فی لغۃ بنی تمیم، بنو تمیم کی لغت میں، بنو تمیم کی لغت میں۔
تو یہ عدل کی دو قسمیں ہیں: تحقیقاً او تقدیراً، بھئی! تقریر گزر گئی، بھئی، مفصل تقریر، بھئی! مفصل بیان گزر گیا کہ یہ جو تقدیراً اور تحقیقاً ہے، یہ عدل نہیں ہوتا، وہ اصل جو ہے وہ محقق ہوگی یا مقدر ہوگی۔
تو کہتے ہیں: فعلی ہذا قولہ تحقیقاً، تو بناء بر اس کے، یہ جو عدل کا مفہوم ہم نے ذکر کر دیا، بھئی! قولہ تحقیقاً، ماتن کا قول جو تحقیقاً آیا: مَعْنَاهُ: خُرُوْجًا كَائِنًا عَنْ أَصْلٍ مُّحَقَّقٍ. اس کا معنی ہے: خروجاً كائناً عن اصل محقق۔
بھئی، پہلے اس کو سمجھ لو، یہ بھی ذرا مشکل مقام ہے۔
تحقیقاً، یہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو تحقیقاً ہے، یہ مفعولِ مطلق ہے، بھئی! یہ مفعولِ مطلق، اور مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو۔ ’ضَرَبْتُ ضَرْبًا‘، یہ ضرباً کیا ہے؟ مفعولِ مطلق ہے، کیونکہ یہ مصدر ماقبل فعل کے معنی میں ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ تحقیقاً جو ہے، یہ مفعولِ مطلق ہے۔
ای خروجاً تحقیقاً، یہاں موصوف محذوف ہے، کیونکہ پیچھے تحقیق کا کوئی فعل نہیں گزرا، ہاں خروج گزرا تھا، کیا گزرا تھا؟ خروج، تو یہاں خروجاً محذوف نکال لیں: ای خروجاً تحقیقاً، او خروجاً تقدیراً، خروجاً تحقیقاً، او خروجاً تقدیراً، توجہ سے، بھئی!
تو یہ تحقیقاً، یہ مفعولِ مطلق ہے خود یہ اپنے موصوف کے اعتبار سے، اپنے موصوف خروجاً کے اعتبار سے یہ مفعولِ مطلق ہے۔ تو یہ مفعولِ مطلق ہوا باعتبارِ موصوفِ محذوف کے، وہ موصوف جو محذوف ہے، تو خروجاً تحقیقاً۔
بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اب یہ خروجاً ہوا موصوف اور تحقیقاً اس کے صفت، اور خروج یہاں ذات ہے، بھئی! ذات سے مراد یعنی جس کا الگ خارج میں وجود ہو، بلکہ ذات سے مراد ہے جس پر حکم لگایا جائے، کیا کیا جائے؟ جس پر حکم لگایا جائے، تو وہ خروج بھی یہاں دیکھو موصوف ہے، موصوف پر صفت کا حکم لگایا جاتا ہے یا نہیں؟ توجہ ہے؟ تو یہ جو صفت ہوتی ہے، یہ بھی دراصل اس موصوف پر حکم لگایا، جیسے مثلاً میں کہتا ہوں: زیدٌ قائمٌ، تو زید پر میں قائمٌ کا حکم لگا رہا ہوں۔ تو جیسے خبر کے اندر مبتدا پر حکم لگایا جاتا ہے، اسی طرح صفت بھی جب لائی جائے، تو دراصل موصوف پر کیا کیا جاتا ہے؟ حکم لگایا جاتا ہے۔ تو یہاں خروجاً ہوا موصوف، اور اس پر حکم لگایا جا رہا ہے، اور جس چیز پر حکم لگایا جائے اس کو ذات کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ذات کہتے ہیں، آپ یہ نہ کہیں خروج تو مصدر ہے، اور آگے تحقیقاً بھی کیا ہے؟ مصدر، نہیں! ذات سے مراد یہ ہے جس پر حکم لگایا جائے، یہ معنی نہیں کہ اس کا الگ خارج میں وجود ہونا چاہیے۔ بلکہ ذات سے مراد کیا ہے؟ جس پر حکم لگایا جائے، تو یہاں پر بھی خروجاً کیا ہوا؟ ذات ہوئی۔ اور تحقیقاً یہ صفت ہوئی، اس کا اس پر حکم لگایا جا رہا ہے، اور تحقیقاً یہ تو مصدر ہے، تو مصدر کا حکم ذات پر نہیں لگایا جا سکتا، جیسے ’زَيْدٌ عَدْلٌ‘، یہ عدلٌ مصدر ہے، تو اس کو کس معنی میں لینا پڑتا ہے؟ عادل کے معنی میں، تو یہاں پر بھی تحقیقاً کو یا اسمِ فاعل کے معنی میں لینا پڑے گا یا اسمِ مفعول کے معنی میں، پھر ہی حمل صحیح ہوگا، پھر ہی یہ اس کی صفت بنے گا۔ تو چنانچہ اس کو پھر اسمِ مفعول کے معنی میں لے لیں گے: محققاً، ای خروجاً محققاً، ایسا خروج جو محقق ہو، ثابت شدہ ہو۔
ایسا خروج جو، دیکھا! خروجاً محققاً، موصوف صفت بن رہے ہیں یا نہیں؟ ایسا خروج، محققاً جو کیا ہو؟ محقق ہو، بھئی!
تو اب، خروجاً محققاً، وہ خروج کیا ہوگا؟ یا محقق ہوگا: او تقدیراً، یا مقدر ہوگا۔
یہ مذہب ہے وہ باقی علماء کا، جو کیا فرماتے تھے؟ کہ عدلِ تحقیقی میں خروج محقق ہوتا ہے، اور عدلِ تقدیری میں خروج مقدر ہوتا ہے، جبکہ علامہ جامی رحمہ اللہ تو کیا فرماتے ہیں؟ دونوں جگہ خروج مقدر ہوتا ہے۔ تو اگر خروجاً محققاً، محققاً کو براہِ راست صفت بنائیں خروج کی، پھر تو یہ علامہ جامی کے خلاف ہو جائے گی یہ بات، ایسا خروج جو محقق ہو، او خروجاً مقدراً، یا ایسا خروج جو مقدر ہو۔
اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو جواب اس کا دیں بتلائیں گے آپ کو، کہ بھئی یہاں یہ جو محققاً آیا، یہ صفت بحالہٖ نہیں ہے، بلکہ یہ صفت بحال متعلقہٖ ہے۔
صفت بحالہٖ نہیں، بلکہ یہ صفت بحال متعلقہٖ ہے، یہ اچھی طرح سمجھ لو، میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، لیکن یہ جگہ جگہ آتی ہے اور طلبہ پریشان ہوتے ہیں۔ یہ کہاں آیا تھا یہ ذکر؟ تثنیہ اور جمع کا جہاں اعراب ذکر ہوا تھا، وہاں آیا تھا: ایسی یا: مَكْسُوْرٌ مَّا قَبْلَهَا، جس کا ماقبل کیا ہو؟ مکسور ہو، تو یا کی صفت آئی تھی مکسور، تو وہ یا خود نہیں مکسور ہوتی، ماقبلہا اس یا کا ماقبل مکسور ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر چلو دوبارہ سمجھ لیں! ایک ہوتی ہے صفت بحالہٖ، ایک ہوتی ہے صفت بحال متعلقہٖ۔
صفت بحالہٖ جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو موصوف کے اندر پایا جائے، اور صفت بحال متعلقہٖ جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو موصوف میں نہ پایا جائے، بلکہ موصوف کے کسی متعلق میں پایا جائے۔
مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ قَائِمٌ، زیدٌ مبتدا اور قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید کو، تو یہ قائمٌ لفظوں میں خبر کس کی؟ زید کی، اور معنی میں بھی یہ خبر زید ہی کی ہے، بھئی! قائم کون ہے؟ زید ہی قائم ہے، یہ قیام کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ زید کے اندر، تو زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ جو قائم ہے، لفظوں میں صفت زید کی ہے، اور معنی میں بھی یہ صفت زید کی ہے، یعنی یہ معنی زید ہی میں قیام والا پایا جا رہا ہے۔
اور اگر میں یوں کہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ أَبُوْهُ، زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، ابوُہُ، ابو مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ قائمٌ کے لیے فاعل ہے، توجہ ہے؟ فاعل ہے، اور ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، یہ کس کو راجع؟ زید کو راجع، کیونکہ یہ شبہ جملہ بنے گا اور شبہ جملہ کو جوڑنے کے لیے ربط چاہیے، تو ابو مرفوع لفظاً مضاف، ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ فاعل کس کے لیے؟ قائمٌ کے لیے، اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ زید کے لیے خبر۔ تو دیکھو شبہ جملہ کو زید کے لیے خبر بنایا، تو ربط ضروری تھا، قائمٌ کے اندر تو کوئی ضمیر نہیں ہے، کیونکہ آگے اس کا فاعل اسمِ ظاہر آ رہا ہے، تو اس کے ساتھ ایک ضمیر جڑی ہوئی تھی، وہ کس کو لوٹا دی؟ زید کو لوٹا دی، تو یہ قائمٌ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر زید کے لیے خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
زَيْدٌ قَائِمٌ أَبُوْهُ، ترجمہ کیجیے! زید کہ قائم ہے اس کا باپ، معلوم ہوا قیام زید کی صفت ہے یا اس کے باپ کی صفت ہے؟ اس کے باپ کی صفت ہے، اب دیکھو قائمٌ لفظوں میں صفت ہے زید کی، خبر بن رہی ہے کس کے لیے؟ زید کے لیے، تو لفظوں میں یہ صفت ہے زید کی، لیکن معنی میں یہ صفت زید کی نہیں ہے، بلکہ زید کے متعلق یعنی اس کے باپ کی صفت ہے۔ اس کو کہتے ہیں صفت بحال متعلقہٖ۔ صفت بحال متعلقہٖ۔
تو صفت جو ہوتی ہے، وہ ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو موصوف میں پایا جائے یا موصوف کے متعلق میں پایا جائے۔ اگر وہ معنی موصوف کے اندر پایا جا رہا ہے، تو اس کو صفت بحالہٖ کہتے ہیں، ای بحال الموصوف، ایسی صفت جو موصوف کی حالت بیان کر رہی ہے، اور کبھی صفت جو ہے، صفت ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو موصوف میں نہیں ہوتا، بلکہ موصوف کے متعلق میں ہوتا ہے، اور اس کو صفت بحال متعلقہٖ کہتے ہیں، یعنی ایسی صفت جو موصوف کی حالت نہیں بیان کر رہی، بلکہ موصوف کے متعلق کی حالت بیان کر رہی ہے، قیام زید کے اندر نہیں ہے، بلکہ کس میں ہے؟ ابوُہُ، اس کے باپ میں ہے، بھئی!
تو یہاں پر بھی، اگر یہ دیکھو کتاب پر: "تَحْقِيْقًا"، اس کا موصوف کیا؟ خروجاً، خروجاً تحقيقاً، اور یہ تحقیقاً کس معنی میں؟ محقق کے معنی میں، تو خروجاً محققاً، وہ خروج یا محقق ہوگا یا وہ خروج مقدر ہوگا، تو یہ محقق اور مقدر صفت کس کی بنائیں؟ خروجاً کی بنائیں، تو پھر یہ صفت بحالہٖ ہوئی، یعنی وہ خروج محقق ہوگا یا مقدر، یہ تو وہ دوسرے علماء کا مذہب تھا، صاحبِ جامی کے نزدیک تو وہ خروج ہمیشہ مقدر ہوتا ہے، وہ کبھی محقق نہیں ہوتا۔
تو پھر کیا کریں، بھئی؟ تو اس کا جواب یہ کہ یہ جو محققاً آیا، اس کو صفت بحالہٖ نہ بناؤ، بلکہ اس کو صفت بحال متعلقہٖ بنا دو۔ توجہ ہے؟ اس کو صفت بحال متعلقہٖ بنا دو، کیسے؟ کہ خروجاً، ایسا خروج: محققاً اصلُہُ، فاعل الگ نکال دو، فاعل نہیں بلکہ نائب فاعل، نائب فاعل الگ نکال دو، محققاً اسمِ مفعول ہے، اس کے لیے نائب فاعل چاہیے، خروجاً، ایسا خروج: محققاً اصلُہُ، جس کی اصل محقق ہو۔
صاحبِ جامی کے نزدیک بھی، خروج محقق ہوتا ہے یا اس کی اصل محقق ہوتی ہے؟ ثلاثُ کی اصل ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ ہے، یہ محقق ہے، خروج محقق نہیں! بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا تحقیقاً کو صفت بحالہٖ نہ بناؤ، بلکہ کیا بناؤ؟ صفت بحال متعلقہٖ بنا دو، اشکال ختم ہو جائے گا، ای خروجاً محققاً اصلُہُ، ایسا خروج: محققاً اصلُہُ، جس کی اصل محقق ہے! خروج خود نہیں محقق، بلکہ اس کے اصل محقق ہے۔ عدلِ تحقیقی میں کیا ہوتی ہے؟ اصل محقق ہوتی ہے نا! کہ ثلاثُ کی اصل کیا ہے؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ ہے، یہ محقق ہے، اس پر دلیل موجود ہے، بھئی! بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو پھر یہ محققاً کو کیا بنائیں گے؟ صفت بحالہٖ نہیں بنائیں گے، وہ خروج نہیں محقق ہوتا، بلکہ اس خروج کی اصل جو ہے وہ محقق ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: فعلی ہذا قولہ تحقیقاً، تو بناء بر اس کے، جو ہم نے ذکر کر دیا، بھئی! قولہ تحقیقاً، ماتن کا قول جو تحقیقاً آیا: معناه خروجاً كائناً عن اصل محقق، اس کا معنی ہے: خروجاً كائناً عن اصل محقق، ایسا خروج كائناً، اي ثابتاً، کہ ثابت ہو: عن اصل محقق، کس سے ثابت ہو وہ خروج؟ اصلِ محقق سے ثابت ہو۔
توجہ ہے؟ میں نے کیا تقریر کی؟ کہ وہ خروج ایسا ہو: محققاً اصلُہُ، جس کی اصل کیا ہو؟ محقق ہو، خود خروج نہیں محقق، بلکہ اس کی اصل، وہی بات یہاں بھی کر رہے ہیں: خروجاً كائناً عن اصل محقق، ایسا خروج كائناً، اي ثابتاً عن اصل محقق، جو کس سے ہو؟ اصلِ محقق سے ہو، یعنی اس کی اصل محقق ہے، خود خروج محقق نہیں ہے۔
تو اسی معنی کو صاحبِ جامی نے ان لفظوں میں بیان کر دیا کہ یہ محققاً جو ہے، اس سے خروج کی صفت نہ بناؤ، وہ خروج نہیں محقق ہوتا، بلکہ عن اصل محقق، یہ محقق اصل کی صفت بناؤ کہ وہ اصل محقق ہوتی ہے، بھئی!
تو کہتے ہیں: معناه خروجاً كائناً عن اصل محقق، دیکھو خروجاً نکالا، بتلایا یہ مفعولِ مطلق ہے۔ یہ کیا ہے؟ مفعولِ مطلق ہے، اور تحقیقاً بتلا دیا کہ وہ محقق وہ خروج نہیں ہوتا، بلکہ محقق کیا ہوتی ہے؟ وہ اصل محقق ہوتی ہے، اور یہ كائناً، دیکھو كائناً نکال کر کیا بتلایا؟ کہ یہ جو عن اصل محقق ہے، یہ صفت بن رہی ہے خروج کی، خروجاً ثابتاً۔
تو خروجاً كائناً عن اصل محقق، کہ ایسا خروج کہ جو ثابت ہو ایسے اصلِ محقق سے: يَدُلُّ عَلَيْهِ دَلِيْلٌ غَيْرُ مَنْعِ الصَّرْفِ، جس پر ایسی دلیل دلالت کر رہی ہو جو منعِ صرف کے علاوہ ہو۔
ثلاثُ کی اصل کیا؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ، اس یہ آپ نے ویسے قرار دے دیا، کوئی دلیل بھی موجود ہے؟ دلیل بھی موجود ہے، تو یہ اصل مقدر ہوئی یا محقق ہوئی؟ محقق ہوئی، کیونکہ اس پر دلیل موجود ہے، دلیل موجود ہے اس لیے اس کو محقق کہا جائے گا، یہی بیان کر رہے ہیں: خروجاً كائناً عن اصل محقق، ایسا خروج جو ثابت ہے ایسی اصلِ محقق سے: يدُلُّ عليه دليلٌ، جس پر کوئی دلیل بھی دلالت کر رہی ہے: غير منع الصرف، علاوہ منعِ صرف، منعِ صرف کے علاوہ بھی کوئی دلیل اس پر دلالت کر رہی ہے، بھئی!
اور پھر یہ بھی یاد رکھنا، کہ یہ تحقیقاً، اس کو ہم نے کیا قرار دیا؟ مفعولِ مطلق، کیا قرار دیا؟ اور کس اعتبار سے؟ کہ اس کا موصوف خروجاً محذوف ہے۔ خروجاً محذوف ہے، اور یہ بھی یاد رکھو کہ یہ مفعولِ مطلق ہے، مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں؟ کہ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، اور ماقبل میں تو کوئی فعل گزرا ہی نہیں، ماقبل میں تو خروجُہ مصدر گزرا تھا۔
خروجُہ خروجاً تحقیقاً، تو یہ خروجاً تحقیقاً، اس کو کیسے مفعولِ مطلق آپ قرار دیتے ہیں؟ مفعولِ مطلق تو اس کو کہتے ہیں کہ ماقبل میں اس کا فعل موجود ہو، بھئی! اور ماقبل میں تو کوئی خرج یا یخرجُ کا فعل موجود نہیں، تو جواب یہ: کہ یہ خروج، جو پیچھے آیا تھا خروجُہ، یہ ان یخرجَ کی تاویل میں ہے، کس تاویل میں ہے؟ بھئی، یخرجُ فعل ہے، یخرجُ فعل پر ان داخل کر دو، تو یہ کس معنی میں کر دیتا ہے اس کو؟ مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے، تو گویا خروجُہ کس معنی میں ہے؟ ان یخرجَ کے معنی میں ہے، کیونکہ وہ مصدر جو عمل کرتا ہے وہ فعل مع ان کی تاویل میں ہوتا ہے، توجہ ہے؟ مصدر عمل کرتا ہے، مصدر اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے، اپنے مفعول کو نصب، مصدر جب عمل کر رہا ہو تو وہ ان مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے، تو یہ خروجُہ، یہ عمل کر رہا ہے۔
کیسے؟ بھئی دیکھیے، خروجُہ، خروج کی اضافت ہو رہی ہے ہا ضمیر کی طرف، یہ اس کو تو عمل نہیں کہیں گے، یہ عمل نہیں ہے، کیونکہ عمل کا کیا معنی؟ اپنے فاعل کو رفع دے یا اپنے مفعول کو نصب دے، اور یہ تو مضاف ہے اور ہا ضمیر مضاف الیہ ہے۔ خروجُہ، نکلنا، کس کا نکلنا؟ اسم کا نکلنا، تو معنی کے اعتبار سے یہ ہا ضمیر اس کے لیے فاعل ضرور ہے، لیکن لفظوں کے اعتبار سے یہ فاعل نہیں ہے، بلکہ کیا بن رہی ہے؟ مضاف الیہ بن رہی ہے۔ ہاں، البتہ آگے آ رہا ہے: "عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ"، یہ جار مجرور ہے، اور آپ نے پڑھا ہے جار مجرور آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہوتا ہے، ان آٹھ چیزوں میں سے ایک مصدر بھی ہے، بھئی! تو یہ عن صیغتہ الاصلیۃ، یہ متعلق ہوا خروج سے، اور یاد رکھو جار مجرور جس سے متعلق ہوتا ہے، وہ دراصل ان کے اندر عامل ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ خروج عامل ہے کس کے اندر؟ عن صیغتہ الاصلیۃ کے اندر، تو یہ ایسا مصدر ہے جو عامل ہے، اور جو مصدر عامل ہوتا ہے، وہ کس تاویل میں ہوتا ہے؟ ان مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے۔
تو یہ خروج کس تاویل میں ہوا؟ ان یخرجَ کی تاویل میں ہوا، اور جب یہ ان یخرجَ کی تاویل میں ہوا، تو یخرجَ فعل آ گیا یا نہیں آ گیا؟ تو لہٰذا اس سے مفعولِ مطلق کا آنا صحیح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہمیشہ یاد رکھنا، وہ مصدر جو عمل کرتا ہے وہ ان مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے، ضربٌ اگر کہیں عمل کر رہا ہو، تو وہ ان یضربَ کے معنی میں ہوگا۔
كَـثُلَاثَ وَمَثْلَثَ، جیسے کہ ثلاثُ اور مثلثُ ہے، وَالدَّلِيْلُ عَلٰى أَصْلِهِمَا أَنَّ فِيْ مَعْنَاهُمَا تَكْرَارًا دُوْنَ لَفْظِهِمَا، اور دلیل ان کی اصل پر یہ ہے کہ ان دونوں کے معنی کے اندر تکرار ہے دون لفظہما، نہ کہ ان دونوں کے لفظوں میں، وَالْأَصْلُ أَنَّهُ إِذَا كَانَ الْمَعْنٰى مُكَرَّرًا يَّكُوْنُ اللَّفْظُ أَيْضًا مُكَرَّرًا، اور ضابطہ یہ ہے کہ جب معنی مکرر ہو، تو لفظ بھی مکرر ہوتا ہے، لفظ میں بھی تکرار ہوتا ہے، كَمَا فِيْ جَاءَنِي الْقَوْمُ ثَلَاثَةً ثَلَاثَةً، جیسے کہ اس جملے میں ہے: جاءنی القوم ثلاثۃً ثلاثۃً، وہ لوگ میرے پاس آئے، ثلاثۃً ثلاثۃً، تین تین ہو کر، وہ لوگ میرے پاس آئے تین تین ہو کر، دیکھا! معنی کے اندر میں تین تین لا رہا ہوں، وجہ کیا ہے؟ کیونکہ لفظوں کے اندر بھی ثلاثۃً ثلاثۃً دو مرتبہ ہے، بھئی!
تو جیسے اس کے اندر معنی میں تکرار آیا ہے اس وجہ سے کیونکہ لفظوں میں تکرار تھا، فَعُلِمَ، تو اس سے یہ بات معلوم ہو گئی: أَنَّ أَصْلَهُمَا لَفْظٌ مُّكَرَّرٌ، کہ یہ ثلاثُ اور مثلثُ جو ہیں، ان کی اصل ایسا لفظ ہے جو مکرر ہے، یعنی جس میں تکرار ہے: وَهُوَ ثَلَاثَةٌ ثَلَاثَةٌ، اور وہ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ ہے، وَكَذَا الْحَالُ فِيْ أُحَادَ وَمَوْحَدَ وَثُنَاءَ وَمَثْنٰى إِلٰى رُبَاعَ وَمَرْبَعَ بِلَا خِلَافٍ.
اچھا بھئی، ثلاثُ اور مثلثُ، ثلاثُ کا معنی تین تین، مثلثُ کا معنی بھی تین تین، یہ صرف تین کے لیے نہیں استعمال ہوتے، یہ تین سے لے کر دس تک اسی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ ایک ہو تو ایک کے لیے کیا کہیں گے؟ احادَ، ایک ایک، یا موحدَ، اس کا معنی بھی کیا؟ ایک ایک۔ تثنیہ ہو تو اس کے لیے ثناءَ، ثناءَ کا کیا معنی؟ دو دو، اور اسی طرح مثنى، موحد کے وزن پر، اس کا بھی کیا معنی؟ دو دو۔ اسی طرح ثلاثُ اور مثلثُ: تین تین۔ اسی طرح رباعَ اور مربعَ، رباعَ کا معنی بھی چار چار، مربعَ کا معنی بھی چار چار۔
تو یہ دس تک اسی طرح ہیں، لیکن ایک سے لے کر چار تک یہ تو بالاتفاق ہے، تمام نحوی فرماتے ہیں، تمام نحوی فرماتے ہیں کہ ایک سے چار تک یہ بالاتفاق اسی طرح استعمال ہوتے ہیں: احادَ اور موحدَ بھی، ثناءَ اور مثنى بھی، ثلاثُ اور مثلثُ بھی، اور رباعَ اور مربعَ بھی، یہ سارے استعمال ہوتے ہیں، اس میں اتفاق ہے۔ ہاں، اس سے اوپر خماسَ اور مخمسَ، سداسَ اور مسدسَ، اور سباعَ اور مسبعَ، اور ثمانَ اور مثمنَ، اور تساعَ اور متسعَ، اور عشَارَ اور معشرَ، اس میں اختلاف ہے۔ یہ پانچ سے لے کر دس تک میں اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں یہ استعمال ہوتے ہیں اس طرح، بعض فرماتے ہیں کہ استعمال نہیں ہوتے، صاحبِ جامی آپ کو فرمائیں گے کہ حق یہ ہے، درست یہ ہے کہ یہ دس تک استعمال ہوتے ہیں، اگرچہ بعضوں نے چار سے اوپر کا انکار کیا ہے، لیکن درست یہ ہے کہ یہ دس تک اسی طرح استعمال ہوتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: وكذا الحال فی احاد وموحد وثناء ومثنى الى رباع ومربع بلا خلاف، اور اسی طرح حال ہے احادَ اور موحدَ میں بھی، ثناءَ اور مثنى میں بھی، رباعَ اور مربعَ تک، بھئی! بلا خلاف، بغیر کسی اختلاف کے، یعنی ان میں معنی کے اندر تکرار ہے اور ان کی اصل بھی معلوم ہوا اس میں بھی تکرار تھا۔
وَفِيْ مَا وَرَاءَهَا إِلٰى عُشَارَ وَمَعْشَرَ خِلَافٌ، اور ان کے علاوہ میں عشارَ اور معشرَ تک خلافٌ، اس میں اختلاف ہے، وَالصَّوَابُ مَجِيْئُهَا، اور درست جو ہے ان کا آنا ہے، یعنی یہ آتے ہیں، دس تک اسی طرح آتے ہیں، بھئی!
وَالسَّبَبُ فِيْ مَنْعِ صَرْفِ ثُلَاثَ وَمَثْلَثَ وَأَخَوَاتِهِمَا: اور منعِ صرف کا سبب ثلاثُ اور مثلثُ اور جو ان کے اخوات ہیں، یعنی ان جیسے جو اور کلمے ہیں، ان میں منعِ صرف کا سبب جو ہے: الْعَدْلُ وَالْوَصْفُ. عدل اور وصف ہے، بھئی!
عدل اور وصف، ایک تو ان کے اندر وصفیت ہے ثلاثُ اور مثلثُ میں، اور ایک عدل ہے۔
تو اس پر اشکال ہوتا ہے، توجہ سے، بھئی! طلبہ عموماً ان کے ذہنوں میں یہ اشکال آتا ہے کہ عدل تو ٹھیک ہے ہمیں تسلیم ہے، ثلاثُ اصل میں کیا تھا؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ، لیکن وصف اس میں کہاں سے آ گیا؟ ثلاثۃٌ تو وضع ہے عدد کے لیے، بھئی!
جیسے وہ مثال گزری تھی: "مَرَرْتُ بِنِسْوَةٍ أَرْبَعٍ"، میں چار عورتوں کے پاس سے گزرا، تو اربعہ کا لفظ تو عدد کے لیے وضع ہے، بھئی! ورنہ اگر اس میں وصفیت کا اعتبار کریں، تو "بِنِسْوَةٍ أَرْبَعَ" کہنا چاہیے تھا، کیونکہ ایک وزنِ فعل ہے اور ایک وصفیت، لیکن وصفیت کا اعتبار نہیں کیا گیا، کیوں نہیں کیا گیا؟ کیونکہ اربعہ وہ عدد کے لیے وضع ہے، وصف کے لیے وضع نہیں ہے۔
تو یہاں بھی، ثلاثُ کو کس سے بنایا گیا؟ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ سے، اور ثلاثۃٌ تو عدد کے لیے وضع ہے، بھئی! تو اس میں تو جو وصفیت ہے، وہ عارضی وصفیت ہے، وصفیتِ اصلیہ نہیں، اور عارضی وصفیت کا کوئی اعتبار نہیں، تو ثلاثُ میں صرف ایک سبب ہے، کیا؟ عدل، وصف نہیں، جب وصف نہیں، تو پھر یہ غیر منصرف کیوں ہے؟ اشکال سمجھ میں آ گیا؟
تو جواب یہ، کہ بھئی ثلاثۃٌ کے اندر تو وصفیت نہیں تھی، لیکن ثلاثُ کے اندر وصفیت ہے اصلِ وضع کے اعتبار سے ہی۔
توجہ ہے؟ جی، پہلے ایک بات سمجھ لیں۔ دیکھو، میں آپ کو کچھ پیسے دیتا ہوں اور میں آپ سے کہتا ہوں کہ تین روپے زید، عمر اور بکر کو دے دینا، تین روپے، میں ایک دفعہ لفظِ تین بولتا ہوں، تین روپے زید، عمر، بکر کو دے دینا، کیا معنی؟ یعنی یہ تین روپے ان تینوں میں تقسیم کرنا، معلوم ہوا ایک ایک روپیہ سب کو دینا، یہ تین روپے ان تینوں میں تقسیم کر دینا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور ایک صورت یہ ہے کہ میں تین کا لفظ دو دفعہ لاتا ہوں کہ یہ تین تین روپے ان کو دے دینا، اب کیا مطلب ہے کلام کا؟ اب ہر ایک کو مطلب ہے تین تین دے دینا۔
تو یہ جو تین تین آیا، دیکھو: "جَاءَنِي الْقَوْمُ ثَلَاثَةً ثَلَاثَةً"، وہ لوگ میرے پاس تین تین ہو کر آئے، تو جب یہ دو دفعہ ذکر ہوتا ہے، تو یہ صرف وصف ہی کے طور پر ذکر ہوتا ہے، عدد کے لیے نہیں! عدد ذکر کرنا تھا وہ تو ایک دفعہ میں ذکر ہو سکتا تھا، تو جب یہ دو دفعہ ذکر ہوتا ہے، تو یہ استعمال ہی کس طریقے پر ہو رہا ہے؟ وصف کے طریقے پر، توجہ ہے؟ وہ لوگ میرے پاس آئے: ثلاثۃً ثلاثۃً، کیا مطلب؟ میں عدد بیان کر رہا ہوں، یا یہ ان لوگوں کی صفت بیان کر رہا ہوں کہ وہ تین تین ہو کر آئے؟ ان کی صفت بیان کر رہا ہوں، تو جب یہ عدد دو دفعہ استعمال ہو، تو یہ استعمال ہی وصف کے طور پر ہو رہا ہے، اور اسی ثلاثۃً ثلاثۃً، یہ جو وصف کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، اسی سے ثلاثُ بنایا، یہ جو ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ کس طرح تھا؟ وصف کے طور پر، اسی سے کیا بنایا؟ ثلاثُ، تو ثلاثُ کو بھی اسی وصفیت کے لیے وضع کیا گیا ہے، تو وہ اصلِ وضع کے اعتبار سے ہی وصف ہے، وہ کوئی عدد کے لیے وضع ہی نہیں ہے، وہ ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ، وہ اکٹھے جو وصف کے طور پر استعمال ہو رہے تھے، ان کے لیے ایک ہی لفظ بنا لیا، کیا؟ ثلاثُ، تو اب یہ جو ثلاثُ ہے، اس سے عدد مراد نہیں ہوتا، اس سے معدود مراد ہوتا ہے، تین تین، معلوم ہوا کوئی چیز ہے جو تین تین جس کا وصف آپ ذکر کر رہے ہیں، تو یہ جو ثلاثُ ہے، یہ عدد کے لیے وضع ہی نہیں، یہ تو وضع ہی کس کے لیے ہے؟ معدود کے لیے، یعنی موصوف کے لیے وضع ہے بطورِ صفت کے وضع ہے۔ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں؟
ثلاثۃٌ اکیلا تھا وہ تو تھا عدد کے لیے، لیکن ثلاثۃٌ ثلاثۃٌ جب دو دفعہ لایا گیا، تو وہ کس طور پر تھا؟ وصف کے طور پر، اور اسی سے پھر ثلاثُ بنایا، تو ثلاثُ بھی وضع کس کے لیے ہوا؟ وصف کے لیے وضع ہوا، تو اس میں وصفیت اصلی ہے عارضی نہیں، تو اس میں دو سبب آ گئے: ایک وصف اور ایک عدل، اس لیے یہ غیر منصرف ہے۔
چلیے بس!
أَللَّهُمَّ انْفَعْنَا بِمَا عَلَّمْتَنَا وَعَلِّمْنَا مَا يَنْفَعُنَا وَزِدْنَا عِلْمًا.