Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-076

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔76 وَمِنْهُ التَّدْبِيجُ، وَهُوَ: التَّقَابُلُ بَيْنَ أَلْفَاظِ الْأَلْوَانِ، كَقَوْلِهِ: تَرَدَّى ثِيَابَ الْمَوْتِ حُمْرًا فَمَا أَتَى لَهَا اللَّيْلُ إِلَّا وَهِيَ مِنْ سُنْدُسٍ خُضْرِ گزشتہ سبق میں علمِ بدیع ہم نے شروع کیا تھا، اور علمِ بدیع کی چار صنعتیں ہم پڑھ چکے بھئی۔ ایک توریہ، کہ ایک لفظ ہو، اس کے دو معنی ہوں، ایک معنی قریب اور ایک معنی بعید، اور کہنے والا معنی بعید کا ارادہ کرتا ہے کسی خفی قرینے کی وجہ سے، جبکہ ذہن اولاً کس کی طرف منتقل ہوتا ہے؟ معنی قریب کی طرف بھئی۔ اور دوسرا ابہام تھا، یعنی ایسا کلام کرنا جس کے دو متضاد معانی نکلتے ہوں، دو متضاد معانی نکلتے ہوں۔ اور تیسری صنعت توجیہ تھی، کہ ایسے الفاظ استعمال کرنا کسی معنی کے لیے جو لوگوں کے یا کسی چیز کے نام بھی ہوں بھئی۔ اور اس کے بعد ایک صنعت طباق پڑھی، یا صنعتِ مطابقت بھی اسے کہتے ہیں، صنعتِ تضاد بھی کہتے ہیں، کہ دو متقابل یعنی دو متضاد معانی کو اپنے کلام کے اندر جمع کرنا، یعنی ہنسنے کا ذکر ہے تو ساتھ رونے کا بھی ذکر ہو، صبح کا ذکر ہے تو شام کا بھی ذکر ہو، سردی کا ذکر ہے تو ساتھ گرمی کا ذکر ہو، تو دو متضاد معانی کو جمع کرنا یہ صنعتِ طباق ہے۔ اور میں نے بتایا تھا یہ دو قسم پر ہے: ایک طباقِ ایجاب ہے اور ایک طباقِ سلب۔ طباقِ سلب یہ ہے ایک ہی مصدر کے دو فعل استعمال کیے جائیں، ایک مثبت ہو اور ایک منفی ہو، جیسے آیت میں آیا تھا: "يَعْلَمُونَ" اور "لَا يَعْلَمُونَ" بھئی۔ وہی فعل مثبت بھی استعمال ہے اور منفی بھی، جبکہ اس کے علاوہ ہو تو وہ طباقِ ایجاب ہے، اس میں دو صفتیں الگ الگ ذکر ہوں گی، ایک ہی صفت مثبت اور منفی ذکر نہیں ہوگی۔ اور اسی کی طباق کی ایک قسم مقابلہ بھی ہم نے پڑھی بھئی۔ مقابلہ کس کو کہتے تھے؟ کہ دو یا تین یا زیادہ معانی کو آپ ترتیب سے ذکر کرتے ہیں، اور پھر اسی ترتیب کے مطابق ان کے مقابل اور متضاد بھی آپ ذکر کرتے چلے جاتے ہیں، جیسے: "فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا"، تو یہاں دیکھیے ہنسنے اور قلت کا ذکر ہوا پہلے، اور پھر دونوں کی ضد ترتیب سے ذکر ہوئی، ہنسنے کے مقابلے میں رونا ذکر ہوا اور قلت کے مقابلے میں کثرت کا ذکر آیا بھئی۔ وَمِنْهُ التَّدْبِيجُ، اور اسی طباق میں سے ایک قسم تدبیج بھی ہے۔ یہ بھی طباق ہی کی ایک قسم ہے جیسے مقابلہ طباق کی قسم تھی بھئی۔ تدبیج کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ التَّقَابُلُ بَيْنَ أَلْفَاظِ الْأَلْوَانِ، اور وہ تقابل ہے رنگوں کے الفاظ کے درمیان۔ وہ تقابل کرنا ہے کس میں؟ رنگوں کے الفاظ میں۔ بھئی آپ یوں کرتے ہیں، آپ ایک کلام ذکر کرتے ہیں اور اس میں دو یا تین رنگوں کا ذکر کرتے ہیں، سبز کے ساتھ سرخ ذکر کر دیا، یا نیلا ذکر کر دیا، یا سفید کے ساتھ سیاہ ذکر کر دیا وغیرہ بھئی۔ کیا کرتے ہیں آپ؟ دو تین مختلف رنگوں کو ذکر کر دیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بھی ایک دوسرے کے مقابل۔ جو سرخ ہے وہ سبز نہیں، جو سبز ہے وہ سرخ نہیں بھئی۔ جو نیلا ہے وہ سبز نہیں اور جو سبز ہے وہ نیلا نہیں۔ تو ان میں بھی گویا کسی نہ کسی درجے میں تقابل آ گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور رنگوں سے رنگ نہیں مراد ہونے چاہئیں، سبز رنگ سے سبز نہیں مراد، رنگ مراد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان رنگوں کے ذریعے کسی معنی سے کنایہ یا توریہ کیا جائے۔ کیا کیا جائے؟ ہاں، یہ قید ضرور یاد رکھنا۔ رنگوں سے رنگ ہی ذکر ہوں تو اس کو آپ کہیں بھئی یہ تدبیج ہے، نہیں بھئی، یہ تدبیج نہیں۔ بلکہ تدبیج کیا ہے؟ ذکر رنگوں کا ہو اور مراد رنگ نہیں بلکہ کوئی اور معنی مراد ہو اس سے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو تدبیج کا معنی ہے مزین کرنا۔ تدبیج کا کیا معنی؟ مزین کرنا۔ تو دیکھو رنگوں کے ذکر کے ساتھ آپ نے کلام کو مزین کر دیا۔ تو کہتے ہیں: وَمِنْهُ التَّدْبِيجُ، اور طباق میں سے ایک قسم تدبیج ہے، وَهُوَ التَّقَابُلُ بَيْنَ أَلْفَاظِ الْأَلْوَانِ، اور وہ تقابل کرنا ہے رنگوں کے الفاظ میں، كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: تَرَدَّى ثِيَابَ الْمَوْتِ حُمْرًا فَمَا أَتَى لَهَا اللَّيْلُ إِلَّا وَهِيَ مِنْ سُنْدُسٍ خُضْرِ تردیٰ کے معنی ہیں چادر اوڑھنا۔ تردیٰ کے کیا معنی؟ چادر اوڑھنا۔ آگے آ رہا ہے: "ثِيَابَ الْمَوْتِ"، موت کے کپڑے۔ تو یہاں اوڑھنے یا پہننے کے معنی میں کر لیں۔ پہننے، تَرَدَّى ثِيَابَ الْمَوْتِ، اس نے موت کے کپڑے اوڑھ لیے، یعنی موت کے کپڑے پہن لیے۔ تَرَدَّى ثِيَابَ الْمَوْتِ، وہ جس میرا ممدوح جو ہے اس نے موت کے کپڑے پہن لیے، حُمْرًا، حمر جمع ہے احمر کی، احمر کس کو کہتے ہیں؟ سرخ کو، سرخ کو۔ تو یہ حال ہے "ثِيَابَ الْمَوْتِ" سے۔ وہ اس حال میں کہ وہ کپڑے کیسے تھے؟ سرخ تھے۔ تَرَدَّى ثِيَابَ الْمَوْتِ حُمْرًا، اس نے پہن لیے موت کے کپڑے اس حال میں کہ وہ سرخ رنگ کے تھے، فَمَا أَتَى لَهَا اللَّيْلُ، لہا کی ہا ضمیر یہ ثیاب الموت کو راجع، کس کو راجع؟ ثیاب کو۔ پس نہیں آئی ان کپڑوں پر رات، إِلَّا وَهِيَ مِنْ سُنْدُسٍ خُضْرِ، مگر یہ کہ وہ کپڑے جو ہیں سندسِ خضر تھے، سندس، سندس کہتے ہیں باریک ریشمی کپڑا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سندس کہتے ہیں، باریک ریشمی کپڑا۔ اور خضر، یہ اخضر کی جمع ہے، جو چیز سبز رنگ کی ہو یا سبز رنگ ہو اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ اخضر، تو اسی اخضر کی جمع خضر۔ إِلَّا وَهِيَ مِنْ سُنْدُسٍ خُضْرِ، مگر یہ کہ وہ سبز باریک ریشم کے تھے۔ ان کپڑوں پر رات نہیں آئی مگر یہ کہ وہ کس میں سے تھے؟ باریک سبز ریشم کے تھے، یعنی اس میں بدل گئے تھے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ دوبارہ معنی دیکھ لیجیے: تَرَدَّى ثِيَابَ الْمَوْتِ حُمْرًا فَمَا أَتَى لَهَا اللَّيْلُ إِلَّا وَهِيَ مِنْ سُنْدُسٍ خُضْرِ اس نے اوڑھ لیے موت کے کپڑے اس حال میں کہ وہ سرخ رنگ کے تھے، پس ان کپڑوں پر رات نہیں آئی تھی مگر یہ کہ وہ بدل دیے گئے سبز ریشم کے ساتھ، وہ سبز ریشم کے ہو، باریک سبز ریشم کے ہو گئے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح۔ آگے دیکھیے بھئی: اَلْإِدْمَاجُ، اَلْإِدْمَاجُ یہ ہے: أَنْ يُضَمَّنَ كَلَامٌ سِيقَ لِمَعْنًى، اچھا بھئی، یہاں دو معنی کے لفظ آ رہے ہیں، معنی۔ اور میری کتاب میں دوسرے معنی پر انہوں نے لام کو داخل کیا ہے: "كَلَامٌ سِيقَ مَعْنًى لِمَعْنًى آخَرَ"، اسی طرح ہے؟ ہاں، یہ دوسرے لا، دوسرے معنی پر لام نہیں داخل کرنا بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے۔ پہلے والے معنی پر لام کو داخل کریں بھئی، پہلے والا۔ تو عبارت یوں بن جائے گی: "اَلْإِدْمَاجُ: أَنْ يُضَمَّنَ كَلَامٌ سِيقَ لِمَعْنًى"، لِمَعْنًى، پہلا کیا لفظ آ گیا؟ لِمَعْنًى۔ آگے آئے گا پھر: "مَعْنًى آخَرَ" بھئی، وہ بغیر لام کے ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، ادماج کو پہلے سمجھ لیں کہتے کسے ہیں۔ ادماج اس کو کہتے ہیں کہ آپ ایک مقصد کے لیے کلام کو چلائیں، آپ ایک بات کہنا چاہتے ہیں اس کے لیے کلام لائیں، لیکن اس کے ضمن میں آپ ایک اور بات بھی ذکر کر دیں۔ کہنا ایک بات چاہتے ہیں اور ساتھ ساتھ کیا کر دیا؟ ضمن میں ایک اور بات بھی لے آئے آپ، اس کو کہتے ہیں ادماج۔ ادماج، تو ادماج کا معنی ہے لپیٹنا، لپیٹنا۔ دیکھو آپ ایک بات کہہ رہے تھے اسی کے اندر آپ نے دوسری بات بھی لپیٹ کر پیش کر دی، آپ نے اسی کے ساتھ دوسری بات بھی لپیٹ کر پیش کر دی۔ یہ معنی ہے: "اَلْإِدْمَاجُ: أَنْ يُضَمَّنَ كَلَامٌ سِيقَ لِمَعْنًى مَعْنًى آخَرَ، نَحْوُ قَوْلِ أَبِي الطَّيِّبِ"، ادماج یہ ہے کہ متضمن کیا جائے، متضمن کرنا یعنی اس کے بیچ میں لانا، اس کے ضمن میں لانا: أَنْ يُضَمَّنَ كَلَامٌ سِيقَ لِمَعْنًى مَعْنًى آخَرَ، نَحْوُ قَوْلِ أَبِي الطَّيِّبِ، وہ یہ کہ متضمن کیا جائے ایسے کلام کو سِيقَ لِمَعْنًى جس کو جس کو چلایا گیا ہو کسی معنی کے لیے، اس کلام کو متضمن کیا جائے کس چیز کے ساتھ؟ مَعْنًى آخَرَ، دوسرے معنی کے ساتھ۔ وہ کلام جس کو چلایا گیا ہے کسی ایک معنی کے لیے اس کو متضمن کیا جائے دوسرے معنی کا، نَحْوُ قَوْلِ أَبِي الطَّيِّبِ، جیسے ابو الطیب متنبّی کا شعر ہے: أُقَلِّبُ فِيهِ أَجْفَانِي كَأَنِّي أَعُدُّ بِهَا عَلَى الدَّهْرِ الذُّنُوبَا قَلَّبَ يُقَلِّبُ کے معنی ہیں پلٹنا، الٹنا پلٹنا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی سے قلب بھی ہے کہ اس کی حالت بھی الٹتی پلٹتی ہے، کبھی ایک طرف مائل ہوتا ہے کبھی دوسری طرف۔ اجفانی، اجفان جمع ہے جفن کی، اور جفن کہتے ہیں یہ پلکیں بھئی، آنکھوں کی پلکیں، یہ جو اوپر نیچے جو آنکھوں کے یہ بال اور جلد کا حصہ ہے یہ اس کو کہتے ہیں بھئی، اجفان۔ أَعُدُّ، شمار کرنا، شمار کرنا۔ دہر، دہر کہتے ہیں زمانے کو، اور ذنوب، ذنب کی جمع ہے، گناہ کو کہتے ہیں۔ شاعر بیان کر رہا ہے اس شعر کے اندر، کیا کہتا ہے؟ "أُقَلِّبُ فِيهِ أَجْفَانِي"، میں پلٹتا تھا اس رات میں اجفانی، اپنی پلکیں، "كَأَنِّي أَعُدُّ بِهَا"، گویا کہ میں شمار کر رہا ہوں ان کے ذریعے، ان اپنی پلکوں کے ذریعے میں شمار کر رہا ہوں، "عَلَى الدَّهْرِ الذُّنُوبَا"، زمانے پر گناہوں کو، کیا کر رہا ہوں زمانے پر؟ گناہوں کو شمار کر رہا ہوں۔ بھئی دیکھیے، شاعر کہنا کسی رات کی لمبائی بیان کر رہا ہے کہ بڑی طویل رات تھی، گزرنے میں ہی نہیں آ رہی تھی، اور نیند بھی نہیں آ رہی اور رات بھی نہیں گزر رہی، میں بار بار پلکیں جھپکاتا ہوں۔ کیا کرتا ہوں؟ بار بار پلکیں جھپکاتا ہوں اور وہ رات ہے کہ گزر ہی نہیں رہی، اور اتنی مرتبہ میں نے پلکوں کو جھپکایا کہ گویا میرا پلکیں جھپکانا اسی طرح تھا جیسے تسبیح کے دانے ہیں، جیسے تسبیح کے دانوں پر کسی چیز کو شمار کیا جاتا ہے تو میں بھی اتنی کثرت سے پلکوں کو میں نے جھپکایا لیکن وہ رات تھی کہ گزرنے میں آ ہی نہیں رہی تھی، تو گویا میں ان پلکوں کے جھپکانے کے ذریعے زمانے نے جو جو میرے ساتھ ظلم اور زیادتیاں کی تھیں اور نقصانات پہنچائے تھے ان چیزوں کو میں گویا شمار کر رہا تھا۔ یہ میں گویا رات بھئی دیکھیے، نیند نہیں آ رہی وہ پلکیں جھپکا رہا ہے بار بار، تو کیا کہتا ہے؟ یہ پلکیں جھپکانا گویا کس طرح تھا؟ تسبیح کے دانوں کی طرح تھا جس پر کیا کیا جائے؟ کسی چیز کو شمار کیا جائے، تو زمانے نے بھی مجھے بڑی تکالیف پہنچائی ہیں، کبھی ایک تکلیف کبھی دوسری تکلیف کبھی تیسری تکلیف، تو میں اتنی مرتبہ میں نے پلکوں کو جھپکایا گویا کہ میں یہ پلکیں نہیں بلکہ تسبیح کے دانے ہیں جن پر میں کیا کر رہا ہوں؟ زمانے کے گناہوں کو ایک ایک کر کے شمار کرتا جا رہا ہوں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو دیکھیے، یہاں مقصد کیا تھا؟ وہ کلام کس لیے لایا؟ رات کی لمبائی بیان کر رہا ہے، لیکن اسی کے ضمن میں اس نے زمانے کی بھی شکایت کر دی کہ اس نے بھی مجھے بڑی تکالیف دی ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ أُقَلِّبُ فِيهِ أَجْفَانِي، میں پلٹاتا تھا اس کے اندر اپنی پلکوں کو، كَأَنِّي أَعُدُّ بِهَا، گویا کہ میں ان پلکوں کے ذریعے شمار کر رہا ہوں، عَلَى الدَّهْرِ الذُّنُوبَا، زمانے پر گناہوں کو، کہ اس نے مجھے کیا کیا نقصان دیے، کیا کیا تکالیف پہنچائیں۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا کہ نہیں آیا بھئی سمجھ میں؟ سمجھ میں آ گیا؟ وہ ذکر کس کو کر رہا ہے؟ رات کے لمبا ہونے کو ذکر کر رہا ہے، لیکن ضمناً اس نے کیا کر دیا ساتھ؟ زمانے کی شکایت بھی کر دی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: فَإِنَّهُ ضَمَّنَ وَصْفَ اللَّيْلِ بِالطُّولِ الشِّكَايَةَ مِنَ الدَّهْرِ، پس شاعر نے جو ہے متضمن کیا، وَصْفَ اللَّيْلِ بِالطُّولِ، رات کو لمبائی کے ساتھ موصوف کرنے کو، رات کو لمبائی کے ساتھ موصوف کرنے کے معنی کو متضمن کیا، کس چیز کے ساتھ؟ الشِّكَايَةَ مِنَ الدَّهْرِ، زمانے کی شکایت، زمانے سے شکایت کے ساتھ اس کو متضمن یعنی اس کو اس کے ضمن میں لے آیا۔ یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں۔ وَمِنَ الْإِدْمَاجِ مَا يُسَمَّى بِالِاسْتِتْبَاعِ، اور ادماج کی ایک قسم وہ ہے جس کو استتباع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ استتباع، وَهُوَ الْمَدْحُ بِشَيْءٍ عَلَى وَجْهٍ يَسْتَتْبِعُ الْمَدْحَ بِشَيْءٍ آخَرَ۔ بھئی یہ بھی وہی قسم، ادماج میں کیا تھا؟ ایک معنی کو بیان کرتے ہوئے اسی کے ضمن میں کیا کر دیا جائے؟ دوسرے معنی کو بھی بیان کر دیا جائے۔ استتباع بھی وہی چیز ہے، بس استتباع میں مدح کی قید لے آؤ، کس کی قید؟ مدح، تعریف کی قید لے آؤ۔ استتباع یہ ہے کہ ایک صفت کے ساتھ، یا یوں کہیں ایک مدح کر رہے ہیں آپ ایک چیز کی، اسی کے ضمن میں دوسری مدح بھی لے آئیں، اسی کے ضمن میں یا یوں کہیں کسی کی ایک صفت بیان کرتے کرتے اسی صفت کے ضمن میں دوسری صفت کو بھی آپ بیان کر دیں تو یہ کیا ہے؟ استتباع ہے۔ تو مقصد کیا تھا آپ کا؟ ایک صفت کو بیان کرنا، اسی کے ضمن میں آپ نے کیا کر دیا؟ دوسری صفت بھی بیان کر دی، تو دیکھو یہ وہی ادماج ہے البتہ خاص ہے، وہاں مدح کی قید نہیں تھی اور یہاں پر مدح کی قید۔ تو کہتے ہیں: وَمِنَ الْإِدْمَاجِ مَا يُسَمَّى بِالِاسْتِتْبَاعِ، اور ادماج میں سے وہ ہے جس کو استتباع کہتے ہیں، وَهُوَ الْمَدْحُ بِشَيْءٍ عَلَى وَجْهٍ، اور وہ مدح کرنا ہے کسی چیز کی ایسے طریقے پر، يَسْتَتْبِعُ الْمَدْحَ بِشَيْءٍ آخَرَ، کہ اس کے پیچھے آئے کہ اس کے پیچھے لائے دوسری چیز کے ساتھ مدح کی کو، کہ اس کے وَهُوَ الْمَدْحُ بِشَيْءٍ عَلَى وَجْهٍ، وہ کسی چیز کے ساتھ تعریف کرنا ہے ایسے طریقے پر، يَسْتَتْبِعُ الْمَدْحَ بِشَيْءٍ آخَرَ، کہ وہ پیچھے لائے ایک دوسری چیز کے ساتھ تعریف کو، کہ وہ اپنے پیچھے ایک اور تعریف کو لے آئے یوں کہیں، ایسے طریقے پر تعریف کرنا کہ وہ تعریف اپنے پیچھے ایک اور تعریف کو لے آئے، كَقَوْلِ الْخُوَارِزْمِيِّ، یہ خُوَارِزْمِيّ لفظ پڑھنا بھئی، خا پر پیش ہے، واو پر زبر ہے، واو پر زبر ہے، اور را کے نیچے زیر پڑھنی ہے، را کے نیچے زیر، اور زا ساکن ہے، زا ساکن، خوارزم، خوارزم، آخر میں میم ہے، خوارزم۔ خوارزم یہ ترکستان کا کوئی شہر یا کوئی علاقہ تھا، خوارزم کہلاتا تھا، کیا کہلاتا تھا؟ خوارزم کہلاتا تھا، تو اسی کی نسبت سے یہ شاعر وہاں کا رہنے والا تھا تو اس کا یہ اس کو کیا کہا؟ خوارزمی۔ كَقَوْلِ الْخُوَارِزْمِيِّ، جیسے کہ خوارزمی شاعر کہتا ہے: سَمْحُ الْبَدِيهَةِ لَيْسَ يُمْسِكُ لَفْظَهُ فَكَأَنَّمَا أَلْفَاظُهُ مِنْ مَالِهِ بھئی میری کتاب میں ہے: "سَمَحَ الْبَدَاهَةُ"، "سَمَحَ الْبَدَاهَةُ" نہیں بھئی، سَمْحُ الْبَدِيهَةِ، بداہت لفظ نہیں ہے شعر کے اندر، بدیہت ہے، الف کی جگہ یا ہے۔ سَمْحُ الْبَدِيهَةِ، تو یہاں شعر میں اصل لفظ کیا ہے؟ بدیہت، اور یہاں انہوں نے اس کو بداہت، یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ ہاں البتہ معنی دونوں کا ایک ہی ہے، بداہت اور بدیہت کا ایک ہی معنی ہے۔ بداہت کس کو کہتے ہیں؟ فی البدیہہ کلام کرنا، برجستہ کلام کرنا، موقع پر ہی، فوری کلام کرنا، جواب دینا وغیرہ بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ سَمْحُ الْبَدِيهَةِ، سمح کہتے ہیں سخاوت کو، سخاوت کو۔ بدیہہ، برجستہ کلام کرنا، موقع پر کیا کرنا؟ برجستہ کلام کرنا، فی البدیہہ کلام کرنا۔ سَمْحُ الْبَدِيهَةِ، فی البدیہہ کلام کی سخاوت، لَيْسَ يُمْسِكُ لَفْظَهُ، وہ نہیں روکتی اس کے لفظوں کو۔ وہ نہیں روکتی اس کے لفظوں کو، یعنی شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ میرا جو ممدوح ہے جس کی میں بات کر رہا ہوں وہ بڑا فصیح اللسان آدمی ہے، باتوں کی بڑی سخاوت کرتا ہے یعنی اس کے کلام میں بڑی روانی ہے اور بڑی فصاحت، بڑی روانی اور فصاحت۔ تو دیکھو وہ بداہت کی سخاوت کرتا ہے، فی البدیہہ کلام کرتا ہی چلا جاتا ہے، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ سَمْحُ الْبَدِيهَةِ، فی البدیہہ کلام کی سخاوت، لیکن سخاوت کرنے کے اتنے کثرت سے وہ رواں کلام لے ائے، اس کا یہ معنی نہیں کہ پھر اس کا کلام رک جاتا ہے اور بند ہو جاتا ہے، بلکہ باتوں کی اتنی سخاوت کے باوجود اس کے الفاظ یہ سخاوت اس کے لفظوں کو نہیں روکتی، اس کا کلام مسلسل جاری رہتا ہے اور کہیں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں اتی، یہ نہیں کہ اس کے پاس بات ہی ختم ہو جائے، کرنے کے لیے کوئی بات نہ رہے یا الفاظ ختم ہو جائیں بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ سَمْحُ الْبَدِيهَةِ لَيْسَ يُمْسِكُ لَفْظَهُ، برجستہ کلام کی سخاوت یہ اس کے لفظوں کو نہیں روکتی، فَكَأَنَّمَا أَلْفَاظُهُ مِنْ مَالِهِ، تو گویا کہ اس کے الفاظ اس کے مال میں سے ہیں، تو گویا کہ اس کے الفاظ کس میں سے ہیں؟ اس کے مال میں سے ہیں، یعنی جیسے مال کے اندر وہ سخاوت سے خرچ کرتا ہے اور یہ سخاوت سے خرچ کرنا اس کے خرچ کرنے کو روکتا نہیں، وہ خرچ کرتا ہی چلا جاتا ہے سخاوت کرتا ہی چلا جاتا ہے، تو اسی طرح اس کے الفاظ بھی ہیں، اسی طرح اس کے۔ تو اب دیکھیے، یہاں شاعر اپنے کلام کو لایا ہے اس کی وہ کلام کی روانی اور فصاحت کی تعریف کرنا چاہتا ہے، لیکن ایسے طریقے پر اس نے تعریف کی کہ ساتھ ساتھ اس کی سخاوت کو بھی بیان کر دیا، کیا کر دیا؟ الفاظ کی تعریف کر رہا تھا، شاعر کہتا ہے فی البدیہہ کلام کی سخاوت کرتا ہے اور یہ سخاوت اس کے لفظوں کو نہیں روکتی، لفظوں میں کہیں رکاوٹ نہیں اتی، لفظ کہیں رکتے نہیں، یوں معلوم ہوتا ہے یہ جو لفظ بھی ہیں یہ اس کے مال میں سے ہیں، گویا یہ کہہ گیا شاعر کہ جیسے اس کا مال خرچ کرنے میں رکتا ہی نہیں ہے، خرچ کرتا ہی چلا جاتا ہے، سخاوت کرتا ہی چلا جاتا ہے، اسی طرح اس کے الفاظ بھی ہیں۔ تو اصل تو تعریف کس کی کر رہا تھا؟ فصاحت کی، لیکن اس کو تشبیہ دے دی کس کے ساتھ؟ مال کے ساتھ، اشارہ کر دیا کہ وہ مال بھی بڑی سخاوت کے ساتھ خرچ کرتا ہے۔ تو تعریف ایک چیز کی کر رہا تھا کلام کے فصاحت کی، اور اس کے ضمن میں سخاوت کی بھی تعریف کر دی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتا ہے: سَمْحُ الْبَدِيهَةِ لَيْسَ يُمْسِكُ لَفْظَهُ فَكَأَنَّمَا أَلْفَاظُهُ مِنْ مَالِهِ، برجستہ کلام کی سخاوت یہ اس کے لفظوں کو نہیں روکتی، تو گویا کہ اس کے الفاظ جو ہیں اس کے مال میں سے ہیں۔ اگلی صنعت ہے: مُرَاعَاةُ النَّظِيرِ بھئی، مُرَاعَاةُ النَّظِيرِ، هِيَ جَمْعُ أَمْرٍ وَمَا يُنَاسِبُهُ لَا بِالتَّضَادِّ۔ بھئی مراعاۃ النظیر اس کو کہتے ہیں، پہلے اس کو سمجھ لیں۔ مراعاۃ النظیر اسے کہتے ہیں کہ اپنے کلام میں ایسے معانی جمع کرنا جن کی آپس میں مناسبت ہو، جن میں کیا ہو؟ مناسبت ہو، ہاں، آپ دو چار چیزوں کو، پانچ چیزوں کو ایسے ذکر کر دیتے ہیں، وہ ایسی چیزیں ہیں کہ ان کی سب کی آپس میں کیا ہے؟ مناسبت ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مراعاۃ النظیر کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: مُرَاعَاةُ النَّظِيرِ: هِيَ جَمْعُ أَمْرٍ وَمَا يُنَاسِبُهُ، یہ جمع کرنا ہے کسی امر کو، کسی چیز کو، وَمَا يُنَاسِبُهُ اور وہ جو اس کے مناسب ہے، کسی چیز کو ذکر کیا جائے ساتھ اس کے مناسب کو ذکر کر دیا جائے یعنی جو اس کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے، لَا بِالتَّضَادِّ، لیکن وہ مناسبت تضاد والی نہیں ہونی چاہیے۔ بھئی ضدین، جو دو چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہوں ان میں بھی مناسبت ہوتی ہے، کیونکہ ایک ضد کا ذکر کرتے ہی دوسری کا ذہن میں خود بخود تصور آ جاتا ہے، سردی کا ذکر کریں تو ساتھ ہی ذہن میں گرمی کا بھی تصور آ جاتا ہے، سمجھ میں ایا؟ صبح کا ذکر کریں تو شام کا تصور آ جاتا ہے، ہنسنے کا ذکر کریں تو ساتھ ہی کس کا تصور آ جاتا ہے؟ رونے، تو ضدین میں بھی مناسبت ہوتی ہے، لیکن یہاں وہ ضدین والی مناسبت مراد نہیں، کیونکہ اگر ضدین ضد کو ذکر کریں گے وہ تو صنعتِ طباق بن جائے گی بھئی، تو یہاں ضد والی مناسبت کے علاوہ اور کوئی بھی مناسبت ہو، اس جیسی چیز اس کے ساتھ ذکر کر دینا، ایک معنی ذکر کیا اور اس کے ساتھ اس کے مناسبت رکھنے والی اور چیزوں کو ذکر کر دیا، لیکن وہ مناسبت تضاد والی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ معنی ہے: هِيَ جَمْعُ أَمْرٍ وَمَا يُنَاسِبُهُ لَا بِالتَّضَادِّ، یہ جمع کرنا ہے کسی امر کو اور وہ جو اس کے مناسب ہو یعنی ان کو جمع کر دینا، کسی امر اور اس کے جو مناسب ہیں ان کو جمع کر دینا، لَا بِالتَّضَادِّ، جو تضاد والی نہ ہو، كَقَوْلِهِ، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: إِذَا صَدَقَ الْجَدُّ افْتَرَى الْعَمُّ لِلْفَتَى مَكَارِمَ لَا تَخْفَى وَإِنْ كَذَبَ الْخَالُ إِذَا صَدَقَ الْجَدُّ، جد کہتے ہیں قسمت کو، قسمت۔ إِذَا صَدَقَ الْجَدُّ، جب قسمت سچ بولتی ہے یعنی جب قسمت کامیاب ہوتی ہے، جب قسمت کیا ہوتی ہے؟ کامیاب۔ ہاں، تو إِذَا صَدَقَ الْجَدُّ، جب قسمت کامیاب ہوتی ہے، افْتَرَى الْعَمُّ، افتریٰ کا معنی ہوتا ہے گھڑنا، اور اسی طرح تہمت لگانا، اور عمٌّ، عمٌّ یہ عام سے ہے عام سے، مراد عام لوگ ہیں، کیا مراد ہیں؟ عام لوگ۔ تو افْتَرَى الْعَمُّ، تو تہمت لگاتے ہیں عام لوگ، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ جب قسمت کامیاب ہوتی ہے یعنی جب قسمت ٹھیک ہوتی ہے تو افْتَرَى الْعَمُّ، عام لوگ کیا کرنے لگتے ہیں؟ تہمت لگانے لگتے ہیں، لِلْفَتَى مَكَارِمَ لَا تَخْفَى، اس نوجوان جو ہے، فتیٰ کہتے ہیں نوجوان کو، لِلْفَتَى، اس نوجوان کے مَكَارِمَ، مکارم جمع ہے مکرمۃ کی، مکرمۃ کہتے ہیں اعلیٰ وصف کو، کارنامے کو۔ لِلْفَتَى مَكَارِمَ، اس نوجوان کے ایسے اعلیٰ اوصاف ہیں، لَا تَخْفَى، جو پوشیدہ نہیں، جو مخفی نہیں، وَإِنْ كَذَبَ الْخَالُ، خال سے مراد ہے گمان، گمان۔ وَإِنْ كَذَبَ الْخَالُ، اگرچہ گمان جھوٹ بولے، اگرچہ گمان جھوٹ بولے یعنی اگرچہ گمان غلط ہو۔ شاعر کہتا ہے کہ کسی نوجوان کا ذکر کر رہا ہے اس کی تعریف کر رہا ہے کہ وہ بڑی صلاحیتوں والا نوجوان ہے، اور جب قسمت اس کی کامیاب ہوتی ہے یعنی جب وہ کسی چیز میں کامیاب ہوتا ہے تو افْتَرَى الْعَمُّ، لوگ پھر تہمتیں لگانا شروع کر دیتے ہیں، کیا کرنے لگتے ہیں اس پر؟ تہمتیں لگانا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ وہ ایسا نوجوان ہے جس کے اعلیٰ اوصاف کسی پر پوشیدہ نہیں، لَا تَخْفَى، وہ کسی پر پوشیدہ نہیں۔ وَإِنْ كَذَبَ الْخَالُ، اگرچہ گمان جھوٹ بولے، اگرچہ غلط گمان ہو یعنی اگرچہ لوگوں کا اس کے بارے میں غلط گمان ہو، پھر بھی اس کے اوصاف ایسے ہیں کہ اس کے یہ اس کی صفات ایسی ہیں جو کسی پر چھپی ہوئی نہیں ہیں، چاہے وہ غلط گمان ہی لوگ کیوں نہ اس کے بارے میں کرتے رہیں بھئی، پھر بھی اس کے اوصاف کسی پر چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ إِذَا صَدَقَ الْجَدُّ افْتَرَى الْعَمُّ لِلْفَتَى مَكَارِمَ لَا تَخْفَى وَإِنْ كَذَبَ الْخَالُ، جب قسمت کامیاب ہوتی ہے، افْتَرَى الْعَمُّ، تو عام لوگ جو ہیں وہ تہمتیں لگانے لگتے ہیں، لِلْفَتَى مَكَارِمَ لَا تَخْفَى، اس نوجوان کے ایسے اعلیٰ اوصاف ہیں لَا تَخْفَى جو کسی پر مخفی نہیں ہیں، وَإِنْ كَذَبَ الْخَالُ، اگرچہ غلط گمان ہو اس کے بارے میں، اگرچہ گمان غلط ہو یعنی لوگ اس کے بارے میں غلط گمان ہی کیوں نہ کریں، پھر بھی بہرحال اس کے کارنامے کسی پر چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ اب دیکھیے، شاعر نے یہاں لفظ جمع کیے: اَلْجَدُّ، جَدٌّ، اور جد استعمال کس معنی میں کیا؟ قسمت کے معنی میں، لیکن عربی میں جد دادا اور نانا کو بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح اَلْعَمُّ، عم کا معنی لے کر ایا، عم کا لفظ، کس کے لیے؟ عام لوگوں کے لیے، عوام کے معنی میں اس کو لیا اس نے، لیکن عم عربی زبان میں چچا کو بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح خال کا لفظ ذکر کیا، خال، خال اگرچہ یہاں گمان اور خیال کے معنی میں ہے لیکن خال عربی زبان میں ماموں کو بھی کہتے ہیں، کس کو؟ ماموں کو بھی کہتے ہیں۔ تو یہ دیکھیے اب اس شاعر نے جد، عم اور خال، یہ رشتوں کو جمع کر دیا ایک شعر کے اندر اور ان کی مناسبت ہے ایک دوسرے کے ساتھ، تو یہ ہے مراعاۃ النظیر، کیا ہے؟ مراعاۃ النظیر۔ اب اگرچہ یہ لفظ اس معنی میں استعمال نہیں ہوئے لیکن بہرحال ان کی آپس میں مناسبت ہے یا مناسبت نہیں ہے؟ مناسبت ہے۔ تو معلوم ہوا لفظ کا اسی معنی میں استعمال ہونا ضروری نہیں، چاہے اس معنی میں استعمال ہو یا استعمال نہ ہو، لیکن ان کے کسی دوسرے معنی کے اعتبار سے ان میں آپس میں مناسبتیں کیوں نہ ہوں، تو بھی یہ کس کے اندر داخل ہے؟ مراعاۃ النظیر میں۔ فَقَدْ جَمَعَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْعَمِّ وَالْخَالِ، پس تحقیق جمع کیا شاعر نے جد، عم اور خال ان کو، وَالْمُرَادُ بِالْأَوَّلِ الْحَظُّ، اور پہلے یعنی جد سے مراد جو ہے اَلْحَظُّ، حصہ ہے یعنی قسمت ہے، اَلْحَظُّ؟ حصہ، قسمت بھئی، وَبِالثَّانِي عَامَّةُ النَّاسِ، اور دوسرے یعنی عم سے مراد عامۃ الناس، عام لوگ مراد ہیں، وَبِالثَّالِثِ الظَّنُّ، اور تیسرا لفظ یعنی خال جو ہے اس سے مراد الظن، گمان ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مراعاۃ النظیر کسے کہتے ہیں؟ کلام میں ایک چیز اور اس کے مناسبات کو جمع کرنا کہ ان میں تضاد والی مناسبت نہ ہو، کوئی اور مناسبت ہو بھئی، اس کو مراعاۃ النظیر کہتے ہیں۔ اور اردو میں اس کی مثال بھئی، اردو میں اس کی مثال، جیسے شاعر کہتا ہے بھئی: چراغ و مسجد و محراب و منبر چراغ و مسجد و محراب و منبر ابوبکر و عمر، عثمان و حیدر رضی اللہ تعالیٰ عنہم چراغ، مسجد، محراب، منبر، چراغ، چراغ و مسجد و محراب و منبر، ابوبکر و عمر، عثمان و حیدر۔ تو دیکھیے بھئی چراغ، مسجد، محراب، منبر ان کی آپس میں مناسبت ہے، اسی طرح ابوبکر و عمر، عثمان و حیدر ان کے آپس میں کیا ہے؟ مناسبت ہے، تو یہ ہے مراعاۃ النظیر بھئی۔ یا جیسے اردو کا ایک اور شاعر کہتا ہے: شمع نے سر پہ رکھی آگ قسم کھانے کو شمع نے سر پہ رکھی آگ قسم کھانے کو بخدا میں نے جلایا نہیں پروانے کو تو شمع، آگ اور پروانے وغیرہ کا ذکر اور ان میں آپس میں مناسبت ظاہر ہے بھئی۔ شمع نے سر پہ رکھی آگ قسم کھانے کو بخدا میں نے جلایا نہیں پروانے کو چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔