Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-075

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔75 عِلْمُ الْبَدِيعِ: اَلْبَدِيعُ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ وُجُوهُ تَحْسِينِ الْكَلَامِ الْمُطَابِقِ لِمُقْتَضَى الْحَالِ، وَهَذِهِ الْوُجُوهُ مَا يَرْجِعُ مِنْهَا إِلَى تَحْسِينِ الْمَعْنَى يُسَمَّى بِالْمُحَسِّنَاتِ الْمَعْنَوِيَّةِ، وَمَا يَرْجِعُ مِنْهَا إِلَى تَحْسِينِ اللَّفْظِ يُسَمَّى بِالْمُحَسِّنَاتِ اللَّفْظِيَّةِ۔ علمِ بلاغت کا آخری فن علمِ بدیع آج ہم شروع کر رہے ہیں۔ بھئی علمِ بدیع میں آپ کو مختلف قسم کی صنعتیں بتلائی جائیں گی جس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ مختلف قسم کی صنعتیں جن سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے، اس کا درجہ علمِ معانی اور علمِ بیان کے بعد ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ علمِ معانی کے ذریعے یہ بتلایا جاتا ہے کہ کلام کو مقتضائے حال کے مطابق کیسے کیا جائے گا، اور علمِ بیان کے ذریعے یہ بتلایا جاتا ہے کہ تعقیدِ معنوی سے خود کو کیسے بچایا جائے گا بھئی۔ اور بلاغت کے اندر آپ نے پڑھا تھا کہ کلام کا تعقیدِ معنوی سے خالی ہونا بھی ضروری اور فصیح کلام کا مقتضائے حال کے مطابق ہونا بھی ضروری۔ تو کوئی کلام بلیغ تبھی کہلائے گا جب اس میں تعقیدِ معنوی بھی نہ ہو اور وہ مقتضائے حال کے مطابق بھی ہو بھئی۔ تو ان پر بلاغت کا دارومدار ہے۔ اب کوئی کلام ایسا ہو جو مقتضائے حال کے بھی مطابق ہو اور تعقیدِ معنوی سے بھی خالی ہو، اس کو پھر مزید خوبصورت بنانے کے لیے مختلف قسم کی صنعتیں ہیں جس سے کلام کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے، ان کو علمِ بدیع میں بیان کریں گے۔ تو اس کا درجہ جو ہے علمِ معانی اور علمِ بیان کے بعد ہے بھئی۔ تو پہلے کلام کے اندر اصلی اور ذاتی حسن ہونا چاہیے یعنی کلام بلیغ ہونا چاہیے، پھر اس کے بعد یہ صنعتیں جو ہیں ان کا ذکر اس میں پھر اس کے بعد ان صنعتوں کے ذریعے اس کو مزید خوبصورت بنایا جاتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ پہلے کلام کیا ہو؟ وہ بلیغ ہونا چاہیے اور کلامِ بلیغ کے لیے کیا شرط تھی؟ کہ اس میں تعقیدِ معنوی بھی نہ ہو یعنی کلام فصیح ہونا چاہیے، اور نیز کلامِ فصیح کے ساتھ ساتھ اس کو مقتضائے حال کے بھی مطابق ہونا چاہیے۔ تعقیدِ معنوی نہیں ہوگی تو پھر کلام فصیح ہوگا، اور کلام فصیح بھی ہو اور پھر مقتضائے حال کے مطابق بھی ہو۔ پھر اس کے بعد اس میں مزید حسن کس کے ذریعے پیدا کیا جائے گا؟ علمِ بدیع کی صنعتوں کے ذریعے، تو وہ کلام کا اصلی اور ذاتی حسن ہے۔ وہ اصلی اور ذاتی حسن ہو کلام کے اندر، پھر مزید خوبصورتی کس کے ذریعے پیدا کی جائے گی؟ علمِ بدیع کی صنعتوں کے ذریعے بھئی۔ تو ایسا نہیں کہ کلام تو کلام جو ہے اس میں اصلی اور ذاتی حسن ہو ہی نہ یعنی وہ مقتضائے حال کے مطابق ہی نہیں ہے یا اس میں تعقیدِ معنوی ہے اور آپ اس میں علمِ بدیع کی صنعتیں استعمال کرنا شروع کر دیں۔ پھر تو کلام کے اندر اصلی حسن ہے ہی نہیں اور آپ اس کو کیا کر رہے ہیں؟ مزین کر رہے ہیں، اس کے گلے میں ہار وغیرہ پہنا رہے ہیں۔ علماء لکھتے ہیں: یہ اسی طرح ہو جائے گا جس طرح خنزیر کے گلے میں موتی پہنائے جائیں بھئی۔ آپ کے کلام میں حسن ہے نہیں، اولاً حسن کس میں ہونا چاہیے؟ کلام میں، اور کلام میں حسن کیسے آئے گا؟ کہ وہ فصیح بھی ہو اور بلیغ بھی۔ فصیح کس طرح ہوگا؟ کہ تعقیدِ معنوی اس کے اندر نہ ہو، اور بلیغ کس طرح ہوگا؟ کہ وہ فصیح کلام پھر مقتضائے حال کے مطابق بھی ہو، تو پہلے اس میں اولاً اس کے میں ذاتی حسن ہو کلام کے اندر، یعنی وہ کلام فصیح و بلیغ ہو، اور پھر اس کے بعد اس میں مزید حسن کس کے ذریعے پیدا کیا جائے گا؟ علمِ بدیع کی صنعتوں کے ذریعے بھئی۔ تو بدیع کا معنی ہے انوکھا، انوکھا اور عجیب بھئی، تو ان صنعتوں سے بھی چونکہ کلام بڑا خوشگوار، انوکھا اور عجیب اور پرلطف بن جاتا ہے، اس لیے ان کا نام کیا رکھا؟ علمِ بدیع رکھا بھئی۔ علم البدیع: اَلْبَدِيعُ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ وُجُوهُ تَحْسِينِ الْكَلَامِ، بدیع جو ہے وہ ایسا علم ہے يُعْرَفُ بِهِ کہ اس کے ذریعے جانا جاتا ہے وُجُوهُ تَحْسِينِ الْكَلَامِ، اس کلام کو حسین بنانے کی وجوہ، اس کلام کو حسین بنانے کے طریقے، اَلْمُطَابِقِ لِمُقْتَضَى الْحَالِ، جو مطابق ہو مقتضائے حال کے۔ جی، تو تعریف سمجھ میں آئی بھئی؟ اَلْبَدِيعُ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ وُجُوهُ تَحْسِينِ الْكَلَامِ الْمُطَابِقِ لِمُقْتَضَى الْحَالِ، علمِ بدیع وہ ایسا علم ہے جس کے ذریعے جانا جاتا ہے اس کلام کو حسین بنانے کے طریقوں کو جو مقتضائے حال کے مطابق ہو۔ وَهَذِهِ الْوُجُوهُ مَا يَرْجِعُ مِنْهَا إِلَى تَحْسِينِ الْمَعْنَى، یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ یہ جو وجوہ ہیں، یہ جو طریقے ہیں جو کلام کو حسین بناتے ہیں، کلام میں حسن پیدا کرتے ہیں، یہ دو قسم کے ہیں بھئی۔ یہ صنعتیں کتنی قسم کی ہیں؟ دو قسم کی: کچھ صنعتیں وہ ہیں جو معنی کے اندر حسن پیدا کرتی ہیں اور کچھ صنعتیں وہ ہیں جو الفاظ کے اندر حسن پیدا کرتی ہیں بھئی۔ کچھ صنعتیں کس میں پیدا کرتی ہیں؟ کس میں حسن پیدا کرتی ہیں؟ معنی کے اندر، تو ان کو محسناتِ معنویہ کہیں گے۔ محسنۃ، حسین بنانے والی یعنی وہ صنعت جو کلام کو یا معنی کو حسین بنانے والی ہے۔ تو وہ صنعتیں جو معنی کے اندر حسن پیدا کرتی ہیں ان کو محسناتِ معنویہ کہیں گے، اور وہ صنعتیں جو جو لفظوں کے اندر حسن پیدا کرتی ہیں ان کو محسناتِ لفظیہ کہیں گے بھئی۔ تو دونوں کا الگ الگ یہ بیان کریں گے، محسناتِ معنویہ کو الگ بیان کریں گے اور محسناتِ لفظیہ کو الگ۔ تو محسناتِ معنویہ کن کو کہتے ہیں؟ جو معنی میں حسن پیدا کرتی ہیں۔ یاد رکھیے، یہ محسناتِ معنویہ یہ صرف معنی میں حسن پیدا نہیں کرتیں بلکہ بعض اوقات لفظوں میں بھی حسن پیدا ہوتا ہے ان کی وجہ سے۔ اسی طرح محسناتِ لفظیہ جو ہیں وہ صرف لفظوں میں حسن پیدا نہیں کرتیں بلکہ بعض اوقات ان کی وجہ سے معنی میں بھی حسن پیدا ہو جاتا ہے، لیکن محسناتِ معنویہ جو ہیں وہ اصلاً جو ہیں وہ معنی میں حسن پیدا کرتی ہیں اور تبعاً لفظوں میں بھی حسن آ سکتا ہے۔ اور جبکہ محسناتِ لفظیہ وہ اصلاً لفظوں میں حسن پیدا کرتی ہیں لیکن اس کی وجہ سے معنی میں بھی حسن پیدا ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو محسناتِ معنویہ اصلاً اصل میں کس کے اندر حسن پیدا کریں گی؟ معنی میں، اور اگر لفظوں میں حسن آئے گا تو وہ تبعاً آئے گا اس کے تابع ہوتے ہوئے، اور محسناتِ لفظیہ اصل میں کس کے اندر حسن پیدا کرتی ہیں؟ لفظوں میں، اور اگر معنی میں حسن آئے گا تو وہ تبعاً ہوگا، تابع ہوگا اس کے۔ تو کہتے ہیں: وَهَذِهِ الْوُجُوهُ، یہ وجوہ جو ہیں، مَا وہ ہیں يَرْجِعُ مِنْهَا کہ لوٹتی ہیں ان میں سے بعض جو ہیں إِلَى تَحْسِينِ الْمَعْنَى، معنی کو حسین بنانے کی جانب، يُسَمَّى بِالْمُحَسِّنَاتِ الْمَعْنَوِيَّةِ، اور ان کو محسناتِ معنویہ کہتے ہیں، وَمَا يَرْجِعُ مِنْهَا، اور یہ وہ وجوہ ہیں جو لوٹتی ہیں ان میں سے بعض إِلَى تَحْسِينِ اللَّفْظِ، لفظ کو حسین بنانے کی طرف، يُسَمَّى بِالْمُحَسِّنَاتِ اللَّفْظِيَّةِ، اور ان کو محسناتِ لفظیہ۔ تو یہ وجوہ ان میں سے بعض معنی میں حسن پیدا کرتی ہیں ان کو محسناتِ معنویہ کہتے ہیں، اور بعض ان میں سے لفظوں میں حسن پیدا کرتی ہیں ان کو محسناتِ لفظیہ کہتے ہیں۔ مُحَسِّنَاتٌ مَعْنَوِيَّةٌ، اب پہلے محسناتِ معنویہ ذکر کر رہے ہیں، اس کے بعد محسناتِ لفظیہ ذکر کریں گے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ محسناتِ معنویہ کو کیوں مقدم کیا اور محسناتِ لفظیہ کو کیوں مؤخر کیا؟ تو وجہ ظاہر ہے بھئی کہ اصل جو ہے وہ معنی ہوتا ہے، اصل کیا ہوتا ہے؟ معنی، اور یہ جو الفاظ ہیں یہ اس کے سانچے ہیں جس میں رکھ کر آپ اس معنی کو پیش کرتے ہیں دوسرے کے سامنے۔ الفاظ کیا ہوتے ہیں؟ اس کے سانچے ہیں یا یوں کہیں اس کے برتن ہیں جس کے اندر اس معنی کو رکھ کر پیش کیا جاتا ہے، جیسے آپ کو پیاس لگی تو اصل مقصود کیا ہے؟ پانی ہے، پھر وہ پانی چاہے آپ کے سامنے شیشے کے گلاس میں پیش کیا جائے، چاہے سٹیل کے گلاس میں، چاہے پیتل وغیرہ کے گلاس میں، تو اصل کیا ہے؟ پانی ہے، اور یہ گلاس کیا ہے؟ اس کا برتن ہے، اس کا سانچہ وغیرہ ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی اصل معنی ہوتا ہے جو دوسرے کو پہنچانا ہوتا ہے اور الفاظ اس کے سانچے ہوتے ہیں، تو لہٰذا اصل چونکہ معنی ہے اس لیے محسناتِ معنویہ کو مقدم کیا بھئی، کیونکہ یہ معنی میں حسن پیدا کرتی ہیں اور معنی اصل ہے۔ مُحَسِّنَاتٌ مَعْنَوِيَّةٌ، محسناتِ معنویہ۔ پہلی قسم ان میں سے، ان صنعتوں میں سے پہلی قسم وہ جو معنی میں حسن پیدا کرتی ہیں: اَلتَّوْرِيَةُ، وہ توریہ ہے، توریہ۔ توریہ بھئی اس کو کہتے ہیں کہ ایک لفظ کو ذکر کیا جائے اور اس کے دو معنی آتے ہوں: ایک معنی قریب ہو اور ایک معنی بعید ہو۔ قریب والا معنی جس کی طرف فوراً ذہن چلا جاتا ہے، اور ایک معنی بعید ہوتا ہے جس کی طرف ذہن فوراً نہیں جاتا، کچھ غور کرنا پڑتا ہے۔ بھئی ایک معنی قریب ہوتا ہے اور ایک معنی بعید۔ قریب معنی ایک معنی قریب اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اس میں وہ لفظ بکثرت استعمال ہوتا ہے، بڑی کثرت سے، عام استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اس لفظ کو سنتے ہی ذہن فوراً اس قریب والے معنی کی طرف جاتا ہے، اور دوسرا معنی بعید ہوتا ہے کیونکہ اس میں وہ لفظ قلیل استعمال ہوتا ہے، تو ذہن فوراً اس کی طرف نہیں جاتا، نہیں جاتا۔ تو ایک ایسے کلام میں ایسے لفظ کو لانا جس کا ایک معنی قریب ہو اور ایک معنی بعید ہو، اور ارادہ بعید معنی کا کیا جائے، کس کا کیا جائے؟ بعید معنی کا کیا جائے کسی خفی قرینے کی وجہ سے۔ کسی خفی قرینے کی وجہ سے، قرینہ وہاں ہوگا لیکن خفی ہوگا بھئی، تو فوراً ذہن اس کی طرف نہیں جاتا۔ تو کہتے ہیں: اَلتَّوْرِيَةُ: أَنْ يُذْكَرَ لَفْظٌ لَهُ مَعْنَيَانِ، توریہ توریہ یہ ہے کہ ذکر کیا جائے ایسا لفظ لَهُ مَعْنَيَانِ جس کے دو معنی ہوں۔ "لَفْظٌ" آیا نکرہ، اور آگے "لَهُ مَعْنَيَانِ" یہ پورا جملہ ہے: "لَهُ" ہے خبرِ مقدم اور "مَعْنَيَانِ" کیا ہے؟ مبتدائے مؤخر، تو یہ مبتدائے مؤخر اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوا، اور نکرہ کے بعد جملہ آ گیا، اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، تو یہ لفظ ہوا موصوف اور "لَهُ مَعْنَيَانِ" اس کی صفت، اور موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا یا ایسی کا۔ تو توریہ یہ ہے: أَنْ يُذْكَرَ لَفْظٌ لَهُ مَعْنَيَانِ، کہ ذکر کیا جائے ایسے لفظ کو جس کے دو معنی ہوں: قَرِيبٌ، ایک معنی قریب ہو، يَتَبَادَرُ فَهْمُهُ مِنَ الْكَلَامِ، جو جلدی مفہوم ہوتا ہے مِنَ الْكَلَامِ، کس سے؟ کلام سے، کہ اس کا مفہوم جلدی سمجھ میں آتا ہے، يَتَبَادَرُ فَهْمُهُ، اس کا سمجھنا کلام سے جلدی ہوتا ہے یعنی ذہن اس کی طرف سبقت کرتا ہے، ذہن میں فوراً وہی معنی آتا ہے۔ اور میں نے وجہ ذکر کر دی، وہ معنی قریب کیوں ہوتا ہے؟ کثرتِ استعمال کی وجہ سے کہ اس معنی میں وہ لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ وَبَعِيدٌ، اور دوسرا معنی بعید ہوتا ہے، هُوَ الْمُرَادُ بِالْإِفَادَةِ، اور وہی مراد بالافادہ ہوتا ہے، اسی کا فائدہ پہنچانے کا ارادہ کیا جاتا ہے، وہی مراد ہوتا ہے۔ افادہ، فائدہ پہنچانا بھئی، فائدہ پہنچانے سے وہی مراد ہوتا ہے یعنی اسی کا ارادہ ہوتا ہے لِقَرِينَةٍ خَفِيَّةٍ، کسی خفی قرینے کی وجہ سے۔ قرینے کا ہونا ضروری بھئی، کیونکہ قرینہ اگر نہیں ہوگا تو سننے والا تو وہ قریب والا معنی ہی سمجھے گا، بعید کی طرف اس کا ذہن جائے گا ہی نہیں، تو بعید کے لیے قرینے کا ہونا ضروری ہے، اور نیز وہ قرینہ خفی ہو بھئی، پوشیدہ ہونا چاہیے، اگر قرینہ ظاہر ہوا پھر تو وہ بعید بھی قریب بن جائے گا بھئی۔ جب قرینہ موجود ہو تو بعید معنی بھی کیا بن جاتا ہے؟ جب قرینہ واضح اور ظاہر ہو، پھر تو کسی قسم کا خفاء نہیں رہے گا، ذہن فوراً اس کی طرف منتقل ہو جائے گا بھئی، تو قرینہ بھی ہونا چاہیے اور قرینہ بھی کس قسم کا ہو؟ خفی ہونا چاہیے بھئی، خفی ہونا چاہیے۔ تو اس کو کہتے ہیں توریہ۔ توریہ اب کسے کہتے ہیں؟ ایک لفظ کو ذکر کیا جائے، اس کے دو معنی ہوں: ایک قریب اور ایک بعید، اور ذہن کس کی طرف جاتا ہے؟ قریب معنی کی طرف، اور ارادہ کس کا کیا جاتا ہے؟ بعید معنی کا، کسی خفی قرینے کی وجہ سے۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ، اور وہی ذات ہے یعنی اللہ ہی کی ذات ہے يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ جو تمہاری روحوں کو قبض کر لیتی ہے بِاللَّيْلِ رات کے وقت، وہ اللہ ہی کی ذات ہے جو تمہاری روحوں کو قبض کر لیتی ہے رات کے وقت، وَيَعْلَمُ، اور وہ جانتا ہے مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ جو تم گناہ کرتے ہو دن میں۔ وہ جانتا ہے جو تم گناہ کرتے ہو دن میں۔ تو "جَرَحَ" کا ایک معنی قریب ہے، زخمی کرنا، اور "جَرَحَ" کا ایک معنی بعید ہے، کمانا، وہ کیا ہے؟ کمانا، اور گناہ بھی چونکہ انسان کی کمائی میں سے ہے اس لیے اس کو تو "جَرَحَ" کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ اس کو انسان کماتا ہے یعنی گناہ کرتا ہے۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ، اور وہی ہے جو تمہیں موت دیتا ہے رات کے وقت، جو تمہاری روحوں کو قبض کر لیتا ہے رات کے وقت، وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ، اور وہ جانتا ہے جو تم گناہ کرتے ہو دن میں، أَرَادَ بِقَوْلِهِ: "جَرَحْتُمْ" مَعْنَاهُ الْبَعِيدَ، ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے قول "جَرَحْتُمْ" کے ذریعے اس کے بعید معنی کا، وَهُوَ ارْتِكَابُ الذُّنُوبِ، اور وہ گناہ کرنا ہے، وہ گناہ کرنا ہے۔ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ، تو یہاں "جَرَحَ" کا معنی قریب میں نے بتلایا، "جَرَحَ" کا معنی قریب کیا؟ زخمی کرنا، اور معنی بعید کیا ہے؟ گناہ کمانا، اور یہاں یہ کس معنی میں ہے؟ معنی بعید میں یعنی گناہ کمانے کے معنی میں ہے، اور وہ جانتا ہے مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ، جو گناہ کرتے ہو تم دن میں۔ اور اس پر اس پر قرینہ جو ہے وہ آگے اس کے آیت جو آ رہی ہے: ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ، پھر وہ تم کو بتلائے گا جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ تمہیں بتلائیں گے قیامت کے دن جو تم عمل کیا کرتے تھے، معلوم ہوا پیچھے دن میں یہ "جَرَحَ" سے کیا مراد ہے؟ دن میں جو انسان گناہ کرتا ہے، گناہ کرتا ہے وہ مراد ہیں، اور پھر قیامت میں انسان کو ان پر مطلع کیا جائے گا اور بتلایا جائے گا کہ یہ تمہارے سب گناہ تمہارے نامۂ اعمال میں موجود ہیں، لکھ لیے گئے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ قرینہ سمجھ میں آیا؟ وَكَقَوْلِهِ، اور جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: يَا سَيِّدًا حَازَ لُطْفًا لَهُ الْبَرَايَا عَبِيدُ أَنْتَ الْحُسَيْنُ وَلَكِنْ جَفَاكَ فِينَا يَزِيدُ جیسے کہ شاعر کہتا ہے: يَا سَيِّدًا، اے ایسے سردار، "سَيِّدًا" نکرہ آیا، حَازَ لُطْفًا، "حَازَ" فعل آیا، تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا، صفت بنے گا۔ لَهُ الْبَرَايَا عَبِيدُ، لَهُ الْبَرَايَا عَبِيدُ، یہ یہ بھی پورا جملہ ہے: "الْبَرَايَا" مبتدا اور "عَبِيدُ" اس کی خبر ہے بھئی، تو یہ بھی جملہ ہوا تو یہ اس کی صفتِ ثانی بنے گا، اسی سید کے لیے یہ صفتِ ثانی۔ جی، تو يَا سَيِّدًا، اے ایسے سردار، حَازَ لُطْفًا جس نے سمیٹ لیا ہے اللہ جس نے جمع کر لیا ہے اللہ کی توفیق کو۔ "حَازَ" کے معنی ہیں جمع کرنا، حاصل کرنا، جس نے حاصل کر لیا ہے لُطْفًا۔ لطف کا ایک معنی ہے اللہ کی توفیق بھئی، اور اسی طرح لطف کا ایک معنی ہے شفقت اور مہربانی بھئی، تو جو معنی بھی آپ کر لیں جو مناسب آپ کو لگے۔ يَا سَيِّدًا، اے ایسے سردار، حَازَ لُطْفًا جس نے اللہ کی توفیق کو پا لیا ہے، اس کو حاصل کر لیا ہے، یا دوسرا معنی کر لیں: يَا سَيِّدًا حَازَ لُطْفًا، اے ایسے سردار حَازَ لُطْفًا جس نے شفقت اور مہربانی کو حاصل کر لیا ہے یعنی اس کے ساتھ متصف ہو گیا ہے۔ لَهُ الْبَرَايَا عَبِيدُ، اور اے ایسے سردار کہ ساری مخلوق جو ہے اس کے غلام ہے، ساری مخلوق کیا ہے؟ اس کی غلام۔ "الْبَرَايَا" جمع ہے "بَرِيَّةٌ" کی، میں نے پہلے بتلایا تھا کہ ایک ہے "بَرِيَّةٌ" ایک ہے "بَرِّيَّةٌ"، را مشدد ہے ایک میں: "بَرِّيَّةٌ"، اور ایک ہے "بَرِيَّةٌ"۔ "بَرِّيَّةٌ" اگر را مشدد ہو تو یہ جنگل کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ جنگل کو کہتے ہیں، اور اگر را کی تخفیف ہو، "بَرِيَّةٌ"، تو یہ مخلوق کو کہتے ہیں اور اس کی جمع "بَرَايَا" آتی ہے بھئی، تو یہاں "بَرَايَا" کس کس کی جمع ہے؟ "بَرِيَّةٌ" جو بمعنی مخلوق کے۔ لَهُ الْبَرَايَا، اس کے لیے تمام مخلوق جو ہے، عَبِيدُ، عَبِيدٌ جمع ہے عبد کی، غلام بھئی، غلام، اس کے لیے ساری مخلوق کیا ہے؟ غلام، یعنی ساری مخلوق اس کی غلام ہے۔ تو یہ اکثر بھول جاتا ہے کہ کون سا "بَرِيَّةٌ" اور "بَرِّيَّةٌ"، کس کا معنی مخلوق ہے اور کس کا معنی جنگل ہے؟ تو یاد رکھنا: "بَرِّيَّةٌ" جس میں را مشدد ہے، اس کا معنی ہے جنگل، اور یہ "بَرٌّ" سے ہے، "بَرٌّ" کس کو کہتے ہیں؟ خشکی کو کہتے ہیں بھئی، ایک ہے "بَحْرٌ" اور ایک ہے "بَرٌّ"، "بَرٌّ" اور یہ "بَرٌّ" خشکی سے ہے، "بَرِّيَّةٌ" خشکی کی طرف منسوب بھئی، جنگل بھی کہاں پر ہوتا ہے؟ خشکی پر ہوتا ہے۔ يَا سَيِّدًا حَازَ لُطْفًا لَهُ الْبَرَايَا عَبِيدُ، اے ایسے سردار کہ جس نے حاصل کر لیا ہے اللہ کی توفیق کو، لَهُ الْبَرَايَا عَبِيدُ اور ایسے سردار کہ ساری مخلوق جو ہے اس کی غلام ہے، أَنْتَ الْحُسَيْنُ، آپ حسین ہیں یعنی ان کی طرح معزز ہیں، وَلَكِنْ جَفَاكَ فِينَا يَزِيدُ، لیکن آپ کی بے رخی جو ہے، آپ کی بے تعلقی جو ہے فِينَا ہمارے درمیان، يَزِيدُ بڑھ رہی ہے، لیکن آپ کی بے رخی ہمارے درمیان بڑھ رہی ہے یعنی ہم سے آپ کی بے رخی اور بے تعلقی بڑھ رہی ہے بھئی۔ تو جفا کا معنی بے رخی، بے تعلقی، بے وفائی، اسی طرح اس کا معنی سنگدلی، ظلم کے بھی آتے ہیں، تو جَفَاكَ فِينَا يَزِيدُ، آپ کا ظلم ہمارے درمیان بڑھ رہا ہے یعنی آپ کی بے وفائی بڑھ رہی ہے ہمارے درمیان۔ تو "يَزِيدُ"، یہ ہے اس لفظ میں ہے توریہ بھئی، کیونکہ پیچھے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ان کا ذکر ہوا اور اس کے ساتھ آگے یزید کا ذکر آیا، تو ان کی طرف وہ جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے تھے، ذہن ان کی طرف اولاً فوراً منتقل ہوتا ہے لیکن یہ دراصل "يَزِيدُ" یہ فعلِ مضارع ہے بھئی، زَادَ يَزِيدُ سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جس کے کیا معنی ہیں؟ بڑھنے کے ہیں بھئی، بڑھنے کے، تو اس میں توریہ ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ أَنْتَ الْحُسَيْنُ وَلَكِنْ جَفَاكَ فِينَا يَزِيدُ، آپ حسین ہیں لیکن آپ کی بے رخی ہمارے درمیان بڑھتی جا رہی ہے۔ مَعْنَى يَزِيدَ الْقَرِيبُ أَنَّهُ عَلَمٌ، یزید کا معنی قریب کیا ہے کہ یہ علم ہے، نام ہے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے کا، وَمَعْنَاهُ الْبَعِيدُ الْمَقْصُودُ أَنَّهُ فِعْلٌ مُضَارِعٌ مِنْ زَادَ، اور اس کا بعید معنی جو کہ مقصود ہے وہ یہ کہ یہ فعلِ مضارع ہے کس سے؟ زاد سے بھئی۔ تو توریہ کسے کہتے ہیں؟ ایک لفظ کو ذکر کیا جائے، اس کے دو معنی ہوں: ایک معنی قریب ہو اور ایک معنی بعید ہو، اور سننے والے کا ذہن فوراً کس کی طرف جاتا ہے؟ معنی قریب کی طرف، اور ارادہ کس معنی کا کیا جاتا ہے؟ معنی بعید کا، چاہے وہ حقیقی معنی ہو چاہے مجازی ہو، حقیقی ہو چاہے مجازی وغیرہ جو جس قسم کا بھی معنی ہو۔ اور یاد رکھیے، اگر دونوں معنی برابر ہوں، ایک قریب اور بعید نہیں بلکہ دونوں کیا ہیں؟ برابر، دونوں کے اندر لفظ برابر استعمال ہوتا ہے، تو پھر اس کو توریہ نہیں کہتے، اس کو اجمال کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اجمال کہتے ہیں، اور پھر اس کے لیے بیان چاہیے ہوتا ہے، آپ نے پڑھا ہے مجمل کے لیے کیا چاہیے؟ بیان چاہیے بھئی، بیان۔ سمجھ میں آیا؟ توریہ، جیسے بھئی حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ انگریز کے خلاف پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی کمان کر رہے تھے تحریکِ آزادی کے اندر بھئی، تحریکِ آزادی میں، اور انگریز ان کے پیچھے لگے ہوئے تھے، یہ ان سے چھپتے پھر رہے تھے۔ ایک مرتبہ انگریز کو پتہ لگا کہ مولانا فلاں مسجد میں ہیں، جاسوسوں نے خبر دی، وہ سارے ان کے فوجی وغیرہ آئے، اس سارے علاقے کو گھیر لیا اور وہ سپاہی، فوجی وغیرہ مسجد کے اندر بھی آئے بھئی۔ مولانا سادہ آدمی تھے، دبلے پتلے، کمزور جسم اور سادہ لباس ہے، دیہاتیوں کی طرح کا سادہ لباس پہنا ہوا ہے، دھوتی باندھی ہوئی ہے، مسجد میں ایک جگہ پر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ اپنی جگہ سے ہٹ کر تھوڑا سا وہاں نماز پھر پڑھنا شروع کر دی۔ فوجی آئے، آ کر انہوں نے دیکھا کہ ایک دیہاتی سادہ سا آدمی ہے تو ان سے کہنے لگے: بھئی آپ نے یہاں مولوی قاسم کو تو نہیں دیکھا؟ مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ سے پوچھا انہوں نے، کیونکہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ سادہ سا آدمی، یہ درویش صفت آدمی پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی قیادت کر رہا ہو بھئی۔ تو ان سے پوچھا: کیا آپ نے مولوی قاسم کو تو یہاں نہیں دیکھا؟ مولانا جہاں کچھ دیر پہلے نماز پڑھ رہے تھے اس جگہ کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے: ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں پر نماز پڑھ رہے تھے بھئی۔ تو وہ سمجھے شاید کوئی اور تھے جو یہاں نماز پڑھ کر اب نکل گئے ہیں، تو وہ جلدی سے نکلے کہ بھئی ابھی نکلے ہیں یہاں سے، ان کو تلاش کرو بھئی، اور مولانا جب وہ چلے گئے مولانا ارام سے وہاں سے نکل کر چلے گئے۔ تو دیکھو یہ ہے توریہ بھئی، یہ کیا ہے؟ توریہ۔ انہوں نے اشارہ کیا: یہاں پر ابھی نماز پڑھ رہے تھے، وہ سمجھے کسی اور کی طرف اشارہ ہے، حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کی طرف، اپنا ہی بتلا رہے تھے کہ یہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نوافل میں، نماز میں مشغول تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ قرینہ قرینہ محلے کلام ہے۔ وہاں حسین کے ساتھ، ٹھیک ہے آپ ان کی طرح معزز ہیں، لیکن کوئی ایسا نہیں جیسے یزید نے ان کے ساتھ کیا تھا اس طرح آپ کے ساتھ تو کسی نے نہیں کیا، یہ قرینہ ہی بتلا رہا ہے کہ یزید سے یہاں کوئی یزید نہیں مراد بلکہ فعلِ مضارع ہے۔ آگے بھئی: اَلْإِبْهَامُ، دوسری صنعت آ گئی بھئی: ابہام۔ ابہام کہتے ہیں: إِيرَادُ الْكَلَامِ مُحْتَمِلًا لِوَجْهَيْنِ مُتَضَادَّيْنِ، کہ لانا ایسے کلام کو جو احتمال رکھتا ہو دو متضاد وجہوں کا۔ بھئی ایسا کلام لے کر آنا جس کے دو معنی نکلتے ہوں، دونوں متضاد معنی ہوں، یعنی اس میں مدح کا پہلو نکلتا ہو تو مذمت کا بھی پہلو نکلتا ہو بھئی۔ تو ایسا ایسا ذو معنی کلام لانا جس کے دونوں طرح کے مفہوم نکلتے ہوں، اس کو کہتے ہیں ابہام بھئی۔ مبہم رکھنا کلام کو کہ پتہ ہی نہیں چل رہا کہنے والے نے کس معنی کا ارادہ کیا ہے، کہنے والے نے کس معنی کا ارادہ کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: اَلْإِبْهَامُ: إِيرَادُ الْكَلَامِ مُحْتَمِلًا لِوَجْهَيْنِ مُتَضَادَّيْنِ، لانا ایسے کلام کو جو احتمال رکھتا ہو دو متضاد وجہوں کا، نَحْوُ، مثال کے طور پر: بَارَكَ اللَّهُ لِلْحَسَنِ وَلِبَوْرَانَ فِي الْخَتَنِ يَا إِمَامَ الْهُدَى ظَفِرْ تَ وَلَكِنْ بِبِنْتِ مَنْ بھئی یہ خلیفہ مامون تھا، اس نے شادی کی اور یہ حسن ابن سہل کی بیٹی کے ساتھ، حسن کی بیٹی کے ساتھ، اور بیٹی کا نام تھا بوران بھئی، بوران یا بوران بھئی، یہ اس کی بیٹی کا نام تھا۔ تو اب اس موقع پر یہ جو خلیفہ کا سسر تھا حسن، اس نے باقی سب شعراء وغیرہ کو تو انعامات دیے، ایک شاعر رہ گیا بھئی، اس کو انعام نہیں ملا، اس کو انعام نہیں ملا، تو وہ بڑا ناراض ہوا کہ باقی سب کو انعام دیا ہے اور مجھے یہ ہدایا وغیرہ نہیں دیے تو وہ اس نے کہا، پیغام بھجوایا کہ خلیفہ کے سسر سے یعنی حسن سے کہو کہ مجھے بھی انعام دے ورنہ میں اس کے بارے میں ایسا شعر کہوں گا کہ سننے والے کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ اس کی تعریف کی ہے یا اس کی ہجو بیان کی ہے، مذمت بیان کی ہے۔ حسن کو یہ بات پہنچ گئی تو اس نے شاعر کو بلوایا اور کہنے لگا: اب تو تمہیں بالکل انعام نہیں دوں گا جب تک تم ایسا شعر کہو گے نہیں۔ ایسا شعر کہو گے نہیں جب تک کہ پتہ ہی نہ چلے کہ کیا کہہ رہے ہو، تو پھر ان کے اصرار پر پھر شاعر نے یہ شعر کہا بھئی، یہ اشعار کہے، کہتا ہے: بَارَكَ اللَّهُ لِلْحَسَنِ وَلِبَوْرَانَ فِي الْخَتَنِ يَا إِمَامَ الْهُدَى ظَفِرْ تَ وَلَكِنْ بِبِنْتِ مَنْ برکت دے اللہ حسن کو اور بوران اس کی بیٹی بوران کو فِي الْخَتَنِ، ختن کہتے ہیں سسرالی رشتہ دار بھئی، سسرالی رشتہ دار، تو یہاں دامادی کا وہی رشتہ مراد ہے۔ برکت دے اللہ حسن کو اور اس کی بیٹی بوران کو فِي الْخَتَنِ، دامادی کے رشتے میں، يَا إِمَامَ الْهُدَى، اے ہدایت کے امام، ظَفِرْتَ، تو کامیاب ہو گیا، وَلَكِنْ بِبِنْتِ مَنْ، مگر کس کی بیٹی کے ساتھ؟ اب خلیفہ کو دوسرے شعر میں خلیفہ کو خطاب کر رہا ہے: يَا إِمَامَ الْهُدَى ظَفِرْتَ، اے ہدایت کے امام تو کامیاب ہو گیا، وَلَكِنْ بِبِنْتِ مَنْ، لیکن کس کی بیٹی کے ساتھ؟ اب کیا معنی؟ کس کی بیٹی سے، کیا کہنا چاہتا ہے؟ کیا عظمت بیان کرنا چاہتا ہے کہ ایک عظیم شخص کی بیٹی کو لے کر تم کامیاب ہو گئے ہو، یا یہ کہنا چاہتا ہے کس کی بیٹی کے ساتھ، پتہ ہے اپ کو کتنا گھٹیا اور ادنیٰ آدمی ہے، کس کی بیٹی کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا، آپ کی شادی ہوئی ہے؟ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ شاید یہ کیا کہنا چاہتا ہے، تعریف کر رہا ہے یا مذمت بیان کر رہا ہے۔ بَارَكَ اللَّهُ لِلْحَسَنِ وَلِبَوْرَانَ فِي الْخَتَنِ، يَا إِمَامَ الْهُدَى ظَفِرْتَ وَلَكِنْ بِبِنْتِ مَنْ، برکت دے اللہ حسن کو اور اس کی بیٹی بوران کو فی الختن، رشتۂ دامادی میں، یا امام الہدیٰ، اے ہدایت کے امام، ظفرت، آپ کامیاب ہو گئے، ولکن ببنت من، مگر کس کی بیٹی کے ساتھ۔ فَإِنَّ قَوْلَهُ: "بِبِنْتِ مَنْ" يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مَدْحًا لِعِظَمَةٍ، وَأَنْ يَكُونَ ذَمًّا لِدَنَاءَةٍ، پس شاعر کا قول "بِبِنْتِ مَنْ"، کس کی بیٹی کے ساتھ، يَحْتَمِلُ، یہ احتمال رکھتا ہے أَنْ يَكُونَ مَدْحًا کہ یہ مدح ہو لِعِظَمَةٍ، کس وجہ سے؟ عظمت کے لیے، عظمت کی وجہ سے یعنی اس میں عظمت بیان ہو رہی ہے، وَأَنْ يَكُونَ ذَمًّا، اور یہ بھی احتمال رکھتا ہے کہ یہ مذمت ہو لِدَنَاءَةٍ، گھٹیا ہونے کی وجہ سے، کس وجہ سے؟ گھٹیا کہ گھٹیا ہونے کو بیان کر رہا ہے بھئی۔ یا جیسے ایک اور شاعر تھا بھئی، اس نے کپڑا وغیرہ لیا اور ایک درزی کو سینے کے لیے دیا کہ اس کپڑے سے میرے لیے قبا سی دو بھئی۔ یہ قدیم قبا قدیم لباس تھا کوٹ وغیرہ کی طرح، کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا تھا جیسے کوٹ کو کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے۔ تو درزی کے پاس وہ کپڑا لے گیا اور بس یوں سمجھیے درزی کے پاس کپڑا لے گیا اور اسے جا کر کہنے لگا کہ اس کا کوٹ سی دو میرے لیے۔ تو درزی کہنے لگا: میں ایسا کوٹ سیوں گا کہ دیکھنے والوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا یہ کوٹ سیا ہے یا شیروانی سی ہے بھئی۔ تو شاعر نے کہا: اگر تو نے ایسا کیا تو پھر میں تیرے بارے میں ایسا شعر کہوں گا کہ سننے والوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا میں نے تیرے لیے دعا کی ہے یا بددعا دی ہے بھئی۔ تو درزی نے کوٹ سیا، وہ قبا سی، اور واقعی ایسی تھی کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ یہ کوٹ ہے یا شیروانی ہے۔ اب شاعر نے اس کے بارے میں شعر کہا، اور وہ درزی کانا تھا، ایک آنکھ تھی اس کی بھئی، ایک آنکھ تھی، تو شاعر کہنے لگا: خَاطَ لِي عَمْرٌو قَبَا لَيْتَ عَيْنَيْهِ سَوَا میرے لیے عمرو نے قبا سی ہے، عمرو جو درزی ہے اس نے میرے لیے ایک قبا، وہ لباس جو تھا، میرے لیے عمرو درزی نے قبا سی ہے، خَاطَ لِي عَمْرٌو قَبَا، عمرو نے میرے لیے قبا سی ہے، لَيْتَ عَيْنَيْهِ سَوَا، کاش کہ اس کی دونوں آنکھیں برابر ہو جائیں یعنی ایک جیسی ہو جائیں۔ اب پتہ نہیں اس کا کیا ارادہ ہے شاعر کا اس کہنے کے لیے، کیا یہ کہنا چاہتا ہے کہ جو خراب آنکھ ہے وہ ٹھیک آنکھ کی جیسی ہو جائے تو پھر تو یہ دعا بن جائے گی، یا یہ کہنا چاہتا ہے کہ دوسری آنکھ بھی اسی کی طرح ہو جائے بھئی، یعنی ایک سے تو نظر نہیں اتا، دوسری بھی اسی کی طرح ہو جائے کہ اسے بھی دکھائی نہ دے، تو پتہ نہیں اس نے دعا کا ارادہ کیا یا بددعا کا بھئی۔ خَاطَ لِي عَمْرٌو قَبَا، لَيْتَ عَيْنَيْهِ سَوَا۔ اَلتَّوْجِيهُ، تیسری صنعت آ گئی: توجیہ بھئی۔ توجیہ اس کو کہتے ہیں کہ اپنے کلام میں کوئی چند الفاظ لے کر آنا جو معنی کا فائدہ دے رہے ہوں لیکن وہ وہی الفاظ لوگوں کے نام بھی ہیں، لوگوں کے نام بھی ہیں۔ تو ایسے بامعنی الفاظ کو کلام میں لانا جو لوگوں یا اور چیزوں وغیرہ کے نام بھی ہوں بھئی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ توجیہ کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: اَلتَّوْجِيهُ: إِفَادَةُ مَعْنًى بِأَلْفَاظٍ مَوْضُوعَةٍ لَهُ، وہ فائدہ دینا ہے کسی معنی کا ایسے الفاظ کے ساتھ جو اسی کے لیے وضع ہوں، وہ افادہ دینا ہے وہ فائدہ پہنچانا ہے، فائدہ پہنچانا ہے کسی معنی کا ایسے الفاظ کے ساتھ جو اسی کے لیے وضع کیے گئے ہیں، وَلَكِنَّهَا أَسْمَاءٌ لِنَاسٍ أَوْ غَيْرِهِمْ، لیکن وہی الفاظ کیا ہیں؟ لوگوں کے نام بھی ہیں أَوْ غَيْرِهِمْ یا لوگوں کے علاوہ یعنی اور چیزوں کے نام ہیں، كَقَوْلِ بَعْضِهِمْ يَصِفُ نَهْرًا، جیسے کہ بعض کا قول جو ایک نہر کی تعریف کر رہے ہیں۔ نہر جس میں پانی بہتا ہے بھئی، اس کی تعریف کرتے ہوئے کسی نے کہا: إِذَا فَاخَرَتْهُ الرِّيحُ وَلَّتْ عَلِيلَةً بِأَذْيَالِ كُثْبَانِ الثَّرَى تَتَعَثَّرُ بِهِ الْفَضْلُ يَبْدُو وَالرَّبِيعُ وَكَمْ غَدَا بِهِ الرَّوْضُ يَحْيَى وَهُوَ لَا شَكَّ جَعْفَرُ إِذَا فَاخَرَتْهُ الرِّيحُ، فَاخَرَ يُفَاخِرُ کے معنی ہیں فخر میں مقابلہ کرنا، کسی کا دوسرے کے ساتھ کس میں؟ فخر کے اندر مقابلہ کرنا۔ إِذَا فَاخَرَتْهُ الرِّيحُ، ریح کہتے ہیں تیز ہوا کو بھئی عربی زبان میں، خوشگوار ہوا کے لیے عربی زبان میں ریاح کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ریاح بھئی۔ ریح کا لفظ تیز ہوا، آندھی وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو شاعر کسی نہر کی تعریف کر رہا ہے، زمین کے کوئی خوبصورت حصہ تھا، سرسبز و شاداب حصہ تھا یا کوئی بڑا باغ وغیرہ تھا، اس میں سے کوئی صاف و شفاف پانی کی بڑی نہر گزرتی تھی تو اس نہر کی تعریف کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے: إِذَا فَاخَرَتْهُ الرِّيحُ، جب فخر میں مقابلہ کرتی ہے اس سے تیز ہوا، وَلَّتْ، ولی کے معنی ہوتے ہیں پشت پھیرنا، پشت پھیر لینا، مڑ جانا، وَلَّتْ عَلِيلَةً، علیلہ بیمار بھئی، وَلَّتْ عَلِيلَةً، تو وہ پشت پھیر لیتی ہے یعنی پشت پھیر کر بھاگتی ہے علیلۃً اس حال میں کہ وہ بیمار ہوتی ہے۔ اس حال میں کہ وہ بیمار ہوتی ہے، بِأَذْيَالِ كُثْبَانِ الثَّرَى تَتَعَثَّرُ، بھئی یہ "تَتَعَثَّرُ" جو آیا نا، یہ ثا کے ساتھ ہے، ثا، سین نہیں ہے بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے، یہاں ثا ہونی چاہیے بھئی۔ دیگر کتابوں میں اور نسخوں میں یہاں ثا موجود ہے بھئی۔ باذیال، اذیال جمع ہے ذیل کی، ذیل کہتے ہیں ہر چیز کا نچلا کنارہ، اسی اسی طرح دامن کو، کپڑے کا جو دامن ہے، قمیص کا جو نچلا کنارہ ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ذیل۔ کثبان، ثا کے ساتھ، یہ جمع ہے کثیب کی، کثیب کی، اور کثیب کہتے ہیں ٹیلے کو، مٹی اور ریت وغیرہ کا جو ٹیلا ہوتا ہے اس کو کثیب کہتے ہیں، اس کی جمع ہے یہ کثبان بھئی۔ الثریٰ، ثریٰ ثا کے ساتھ، یہ بھئی گیلی زمین کو کہتے ہیں، گیلی مٹی کو کہتے ہیں۔ تَتَعَثَّرُ، ثا کے ساتھ، تَتَعَثَّرُ ثا کے ساتھ اس کا معنی ہے ٹھوکر کھانا بھئی، ٹھوکر لگنا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا ایک ایک لفظ کا بھئی؟ تو دیکھیے بھئی: إِذَا فَاخَرَتْهُ الرِّيحُ وَلَّتْ عَلِيلَةً، جب ہوا، تیز یعنی تیز آندھی اس کے ساتھ فخر میں اس نہر کے ساتھ تیز آندھی فخر میں مقابلہ کرتی ہے، وَلَّتْ عَلِيلَةً تو وہ تیز ہوا جو ہے واپس پلٹ جاتی ہے، واپس بھاگتی ہے علیلۃً اس حال میں کہ وہ بیمار ہوتی ہے، بِأَذْيَالِ كُثْبَانِ الثَّرَى تَتَعَثَّرُ، یہ تَتَعَثَّرُ سے متعلق ہے بِأَذْيَالِ بھئی، بِأَذْيَالِ اس کا تعلق کس سے ہے؟ تَتَعَثَّرُ، اور یہ بھی حال ہے، اور اس حال میں کہ وہ ہوا ٹھوکر کھاتی ہے بِأَذْيَالِ كُثْبَانِ الثَّرَى، گیلی زمین کے ٹیلوں کے نچلوں نچلے کناروں سے، گیلی زمین کے ٹیلوں کے نچلے کناروں سے ٹھوکر کھاتی ہوئی ہوا ٹھوکر کھاتے ہوئے پلٹ جاتی ہے، معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ بِهِ الْفَضْلُ يَبْدُو، اسی کے ذریعے، اسی نہر کے ذریعے یعنی اس کے پانی کے ذریعے الْفَضْلُ يَبْدُو، فضل کہتے ہیں زیادتی کو، زیادتی کو، اسی کے ذریعے زیادتی ظاہر ہوتی ہے، بدا یبدو کے معنی ظاہر، اسی کے ذریعے زیادتی ظاہر ہوتی ہے یعنی بھئی اسی کے ذریعے پودے وغیرہ بڑھتے ہیں بھئی، اس کا پانی ملتا ہے تو پودے بڑھتے ہیں ان میں جو زیادتی ہوتی ہے وہ بڑھتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: بِهِ الْفَضْلُ يَبْدُو، اسی کے ذریعے زیادتی جو ہے یعنی بڑھنا ظاہر ہوتا ہے، وَالرَّبِيعُ، ربیع موسمِ بہار کو کہتے ہیں، اسی طرح موسمِ بہار کی جو ہریالی ہے، جو سبزہ ہے اس کو بھی ربیع کہتے ہیں اور وہ یہاں مراد ہے: بِهِ الْفَضْلُ يَبْدُو وَالرَّبِيعُ، اسی کے ذریعے زیادتی ظاہر ہوتی ہے اور موسمِ بہار کی ہریالی، اسی نہر کے ذریعے موسمِ بہار کی ہریالی ظاہر ہوتی ہے یعنی یہ نہ ہو، پانی نہ ہو تو وہ ہریالی بھی ظاہر نہ ہو۔ وَكَمْ غَدَا، غد، غد کہتے ہیں آنے والے دن کو، آنے والا جو کل ہے اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ غداً غد کہتے ہیں غد، اور اسی طرح یہ مستقبل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مستقبل کے معنی میں بھی، وَكَمْ غَدًا، اور کتنے ہی آنے والے دن جو ہیں، بِهِ الرَّوْضُ يَحْيَى، اس سے روض کہتے ہیں سرسبز و شاداب زمین بھئی، جس میں باغات، سبزہ وغیرہ ہو اس کو روض کہتے ہیں، اسی کی جمع ریاض آتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ سرسبز و شاداب زمین یا باغ وغیرہ جو ہو اس کو روض کہتے ہیں۔ يَحْيَى، بھئی یحییٰ یہ یہاں ایک اور یا ہونی چاہیے تھی بھئی، یحییٰ، سمجھ میں آیا بھئی؟ کتابت کی غلطی ہے، یحییٰ کے آخر میں دو یا ہیں بھئی: ایک یا جس پر یہ ہم زبر پڑھ رہے ہیں اور ایک یا جو الف سے بدل گئی ہے۔ بِهِ الرَّوْضُ يَحْيَى، اسی کے ذریعے باغ جو ہے یحییٰ زندہ رہے گا، وَكَمْ غَدًا بِهِ الرَّوْضُ يَحْيَى، اور کتنے ہی آنے والے دنوں تک یعنی آنے والے زمانے تک بِهِ الرَّوْضُ يَحْيَى، اس سے یہ سرسبز و شاداب زمین جو ہے زندہ رہے گی، یعنی اس نہر کی وجہ سے کتنے ہی زمانے تک یہ سرسبز ٹکڑا سرسبز ہی رہے، زندہ رہے گا یعنی سرسبز رہے گا بھئی، یعنی جب تک یہ نہر ہے یہ حصہ سرسبز رہے گا۔ وَهُوَ لَا شَكَّ جَعْفَرُ، اور یہ کوئی شک نہیں اس میں کہ جعفر، کہ یہ ایک نہر ہے، جعفر ندی نالے اور نہر کو کہتے ہیں بھئی۔ یعنی یہ نہر ہے جس کی میں تعریف کر رہا ہوں، جس کی میں بات کر رہا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک نہر ہے۔ یا جعفرٌ کے اندر اگر تنوین جو ہے تعظیم کے لیے بنا لیں، اور کوئی شک نہیں کہ یہ ایک عظیم نہر ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ اب دیکھیے اس شعر کے اندر شاعر نے فضل کا لفظ ذکر کیا، ربیع کا لفظ ذکر کیا، اور یحییٰ کا لفظ ذکر کیا اور جعفر کا لفظ ذکر کیا، اور یہ سارے لوگوں کے نام ہیں، کس کے؟ نام، اگرچہ یہ نام کے معنی میں تو نام کے طور پر تو یہاں نہیں استعمال کیے، اس نے تو اور معنی کے اندر استعمال کیے لیکن ہیں کیا یہ؟ لوگوں کے نام ہیں، تو اس کو کہتے ہیں توجیہ، کہ معنی کا فائدہ دینا ایسے الفاظ کے ساتھ جو اسی معنی کے لیے وضع ہیں لیکن ساتھ ساتھ وہ لوگوں کے نام ہیں یا لوگوں کے علاوہ اور چیزوں کے نام ہیں۔ دوبارہ ترجمہ ایک دفعہ دیکھ لیجیے: إِذَا فَاخَرَتْهُ الرِّيحُ وَلَّتْ عَلِيلَةً بِأَذْيَالِ كُثْبَانِ الثَّرَى تَتَعَثَّرُ، جب ہوا، تیز ہوا یعنی آندھی اس نہر کے ساتھ فخر میں مقابلہ کرتی ہے تو وہ پلٹ جاتی ہے، اس حال میں کہ وہ یہ علیلۃً بھی حال، اور تَتَعَثَّرُ بھی کیا ہے؟ حال، تو یوں ترجمہ کر لیں۔ إِذَا فَاخَرَتْهُ الرِّيحُ، جب تیز آندھی اس نہر کے ساتھ فخر میں مقابلہ کرتی ہے، وَلَّتْ عَلِيلَةً، تو وہ بیمار ہو کر پلٹ جاتی ہے اس حال میں کہ وہ ٹھوکر کھاتی ہے گیلی زمین کے ٹیلوں کے نچلے کناروں کے ساتھ، یعنی شکست کھا کر بھاگ جاتی ہے۔ بِهِ الْفَضْلُ يَبْدُو وَالرَّبِيعُ وَكَمْ غَدَا، اور اسی اسی کے ذریعے جو ہے زیادتی ظاہر ہوتی ہے اور بہار کی ہریالی، وَكَمْ غَدًا بِهِ الرَّوْضُ يَحْيَى، اور کتنے ہی آنے والے دنوں میں اس کے ذریعے باغ زندہ رہے گا، وَهُوَ لَا شَكَّ جَعْفَرٌ، اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک عظیم نہر ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا۔ فَالْفَضْلُ وَالرَّبِيعُ وَيَحْيَى وَجَعْفَرٌ أَسْمَاءُ نَاسٍ، پس فضل، ربیع، یحییٰ اور جعفر یہ لوگوں کے نام ہیں۔ اچھا بھئی، یہاں "بِهِ الْفَضْلُ يَبْدُو وَالرَّبِيعُ"، میں نے فضل کا یہاں کیا معنی کیا؟ زیادتی کے، اور ربیع کا کیا معنی کیا؟ بہار کی ہریالی بھئی۔ چاہے آپ فضل کو فضیلت کے معنی میں لے لیں، اور ربیع سے بہار ہی مراد لے لیں، تو پھر معنی کیا ہو جائے گا؟ بِهِ الْفَضْلُ يَبْدُو، اسی کے ذریعے فضیلت ظاہر ہوتی ہے، وَالرَّبِيعُ، اور بہار بھی، اسی نہر کے ذریعے فضیلت ظاہر ہو رہی ہے اور بہار بھی، یعنی اس مقام کی، جس مقام پر یہ نہر ہے، اس نہر کی وجہ سے یہ اس سارے علاقے کی شادابی اور ہریالی ہے تو اس علاقے کی بہار اور اس علاقے کی فضیلت دوسرے علاقوں پر، یہ کس کی وجہ سے ہے؟ اسی نہر کی وجہ سے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو بِهِ الْفَضْلُ يَبْدُو وَالرَّبِيعُ، اور اسی نہر کی وجہ سے اسی نہر کی وجہ سے فضیلت ظاہر ہو رہی ہے اور بہار بھی، تو جو معنی آپ کو مناسب لگے آپ وہ معنی کر سکتے ہیں۔ وَكَمْ غَدًا بِهِ الرَّوْضُ يَحْيَى، اور کتنے ہی آنے والے دنوں میں باغ، کتنے ہی آنے والے دنوں میں بِهِ الرَّوْضُ يَحْيَى، اس کی وجہ سے یہ شاداب خطۂ زمین یحییٰ زندہ رہے گا، یعنی کتنے ہی زمانے تک اس کی وجہ سے یہ خطہ کیا رہے گا؟ سرسبز و شاداب رہے گا یعنی جب تک یہ نہر ہے یہ حصہ شاداب رہے گا۔ وَكَقَوْلِهِ، اور جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: وَمَا حُسْنُ بَيْتٍ لَهُ زُخْرُفٌ تَرَاهُ إِذَا زُلْزِلَتْ لَمْ يَكُنْ وَمَا حُسْنُ بَيْتٍ لَهُ زُخْرُفٌ، زخرف کہتے ہیں زینت اور زیبائش، کس کو کہتے ہیں؟ زینت اور زیبائش بھئی۔ اور دیکھیے "بَيْتٍ" نکرہ آیا: "وَمَا حُسْنُ بَيْتٍ"، اور نکرہ کے بعد "لَهُ زُخْرُفٌ" پورا جملہ آیا: "لَهُ" ہے خبرِ مقدم اور "زُخْرُفٌ" ہے مبتدائے مؤخر، تو پورا جملہ اسمیہ کس کے بعد آیا؟ نکرہ کے بعد، اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور یہ کس کی صفت ہے؟ بیت کی، بیت کی، اور بیت تو موصوف سے پہلے ترجمے میں کیا لفظ لے کر ائیں گے؟ ایسا یا ایسی کا، دیکھیے بھئی: وَمَا حُسْنُ بَيْتٍ لَهُ زُخْرُفٌ، اور ایسا گھر کہ جس کے لیے زینت ہو اس کا کیا حسن ہے؟ ایسا گھر، وَمَا حُسْنُ بَيْتٍ، اور اس گھر کا ایسے گھر کا کیا حسن ہے لَهُ زُخْرُفٌ جس میں جس کی زینت۔ شاعر کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ وہ گھر جس کو خوب سجایا گیا ہو، خوب زینت کی چیزیں ہوں، بڑا خوبصورت ہو، اس گھر کی کیا خوبصورتی ہے؟ تَرَاهُ إِذَا زُلْزِلَتْ لَمْ يَكُنْ، اے مخاطب تو اس کو دیکھے گا إِذَا زُلْزِلَتْ جب اس کو ہلایا جائے، لَمْ يَكُنْ، تو تو دیکھے گا کہ وہ نہیں رہا، وہ باقی نہیں بچا بھئی۔ جب اس کو ہلایا جائے تو وہ ختم ہو جائے گا، فنا ہو جائے گا، جب اس کو ہلایا جائے یعنی جب اس میں زلزلہ آ جائے بھئی، جب کیا آ جائے؟ تو ایسے گھر کا کیا حسن ہوگا جس میں زیب و زینت کی چیزیں تو ہیں لیکن ہے فانی، فنا ہو جانے والا ہے، ختم ہو جانے والا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ وَمَا حُسْنُ بَيْتٍ لَهُ زُخْرُفٌ، اور اس اس گھر کا کیا حسن ہے جس میں زیب و زینت جس میں زینت ہے، تَرَاهُ إِذَا زُلْزِلَتْ لَمْ يَكُنْ، تو اس کو دیکھے گا جب اس کو ہلایا جائے یعنی جب اس میں زلزلہ برپا ہو جائے، لَمْ يَكُنْ کہ وہ نہیں رہا، ختم ہو گیا۔ اب دیکھیے بھئی، شاعر نے یہاں زخرف کا لفظ ذکر کیا اور اسی طرح اذا زلزلت اور اسی طرح لم یکن، اور یہ سارے قرآن کی سورتوں کے نام ہیں۔ اگرچہ اس کے اس معنی میں تو نہیں استعمال کیے نام کے طور پر، اس نے تو اور معنی کے اندر استعمال کیے لیکن ہیں کیا یہ؟ قرآن کی سورتوں کے نام ہیں، تو یہ توجیہ ہے بھئی۔ توجیہ بھی کس کو کہتے تھے؟ کسی معنی کا فائدہ دینا ایسے الفاظ کے ساتھ جو اسی معنی کے لیے وضع ہیں لیکن ساتھ ساتھ وہ لوگوں کے نام ہیں یا لوگوں کے علاوہ اور چیزوں کے نام ہیں جیسے یہاں یہ قرآن کی سورتوں کے نام ہیں۔ اَلطِّبَاقُ: هُوَ الْجَمْعُ بَيْنَ مَعْنَيَيْنِ مُتَقَابِلَيْنِ، نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى: وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ۔ طباق بھئی، اور اسی کو صنعتِ مطابقت بھی کہتے ہیں اور صنعتِ تضاد بھی، یہ آسان ہے بھئی۔ طباق اسے کہتے ہیں کہ دو ایسے معنی کو کلام میں جمع کر دینا جو ایک دوسرے کے مقابل ہوں، جو ایک دوسرے کے مقابل ہوں، جی، ان کو کلام میں جمع کرنا، اس سے بھی کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: اَلطِّبَاقُ: هُوَ الْجَمْعُ بَيْنَ مَعْنَيَيْنِ مُتَقَابِلَيْنِ، وہ جمع کرنا ہے دو مقابل معانی کا، نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ۔ یہ اصحابِ کہف کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں: وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا، کہ اگر آپ ان کو دیکھیں تو تَحْسَبُهُمْ گمان کریں گے ان کے بارے میں أَيْقَاظًا کہ وہ بیدار ہیں، وہ جاگ رہے ہیں، وَهُمْ رُقُودٌ، اور حال یہ ہے کہ وہ سو رہے ہیں۔ حال یہ ہے کہ وہ سو رہے ہیں۔ وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ، اور تو گمان کرے گا ان کے بارے میں کہ وہ جاگ رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ وہ سو رہے ہیں۔ اب ایقاظ اور رقود کا ذکر آیا، جاگنے اور سونے کا ذکر آیا، اور جاگنا اور سونا یہ کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے مقابل ہیں بھئی، مقابل ہیں۔ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ، یہ دوسری مثال ذکر کر رہے ہیں بھئی طباق کی: وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے یعنی آخرت کے بارے میں نہیں جانتے، يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وہ جانتے ہیں دنیاوی زندگی میں سے ظاہر کو۔ اللہ فرما رہے ہیں: اکثر لوگ جو ہیں آخرت کے بارے میں نہیں جانتے، وہ دنیاوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں۔ ظاہر کو یعنی صرف یہ دیکھتے ہیں کہ یہ دنیا تو لذت کی جگہ ہے، کھانے پینے، عیش و عشرت کی جگہ ہے، وہ وہ اس کے باطن کو نہیں جانتے کہ یہ دراصل امتحان کی جگہ ہے اور آخرت میں اس کا نتیجہ سامنے آئے گا، تو یہ صرف عیش و مستی کی جگہ نہیں بلکہ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو آخرت کی تیاری کی طرف ہر وقت متوجہ رہنا چاہیے بھئی۔ تو یہ لوگ صرف ظاہر کو ہی جانتے ہیں دنیاوی زندگی کے، اس کے باطن کو نہیں جانتے کہ یہ کہ یہ دار العمل ہے بھئی۔ اب بھئی یہاں پر دیکھیے، دو متقابل معانی جمع کر دیے گئے۔ پہلے آیا: "لَا يَعْلَمُونَ"، نہیں جانتے، پھر ایا: "يَعْلَمُونَ"، وہ جانتے ہیں۔ تو "لَا يَعْلَمُونَ" اور "يَعْلَمُونَ" یہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ تو اس کی طباق بھئی میں نے بتایا اس کا نام صنعتِ مطابقت بھی ہے، اسی کا نام صنعتِ تضاد بھی ہے، اور اس کی دو مثالیں ذکر کر دیں، اشارہ کر دیا اس کی دو قسموں کی طرف۔ یہ طباق دراصل دو قسم پر ہے: ایک طباقِ ایجاب اور ایک طباقِ سلب۔ طباقِ ایجاب وہ ہے جس میں دو صفتیں ذکر ہوں اور دونوں مثبت ہوں یعنی منفی نہ ہوں۔ ایقاظ، رقود صفت ہے، یعنی دو مختلف قسم کی صفتیں ذکر ہوں۔ اور ایک ایجابِ سلب ہے، ایجابِ سلب اس کو کہتے ہیں کہ ایک ہی مصدر کے ایک فعل کو مثبت ذکر کیا جائے ایک مرتبہ اور دوسری مرتبہ اس کو نفی کے ساتھ، منفی ذکر کیا جائے بھئی، جیسے یہاں: "لَا يَعْلَمُونَ" اور "يَعْلَمُونَ"، سمجھ میں ایا بھئی؟ ایک ہی فعل کو منفی ذکر کیا گیا حرفِ نفی کے ساتھ اور دوسری مرتبہ مثبت ذکر کیا گیا بھئی، مثبت ذکر کیا گیا۔ تو یہ طباقِ سلب ہے۔ وَمِنَ الطِّبَاقِ الْمُقَابَلَةُ، اور طباق کی قسموں میں سے ایک مقابلہ بھی ہے، وَهُوَ أَنْ يُؤْتَى بِمَعْنَيَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ، بھئی دیکھیے طباق کس کو کہتے تھے؟ دو ایسے معنی کو کلام میں جمع کرنا جو ایک دوسرے کے مقابل ہوں۔ آگے صنعتِ مقابلہ ہے۔ صنعتِ مقابلہ بھی اسی کی طرح ہے، ہاں اس میں یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ معانی آپ پہلے لاتے ہیں اور پھر ترتیب سے ہر ایک کے مقابل کو ذکر کر دیتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ دو یا تین معانی کو پہلے آپ کلام میں لاتے ہیں اور پھر ترتیب کے ساتھ ہر ایک کے مقابل کو ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں: وَمِنَ الطِّبَاقِ الْمُقَابَلَةُ، اور طباق میں سے ہی ایک قسم مقابلہ ہے، وَهُوَ أَنْ يُؤْتَى بِمَعْنَيَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ، اور وہ یہ کہ لایا جائے دو معانی کو یا زیادہ کو، ثُمَّ يُؤْتَى بِمَا يُقَابِلُ ذَلِكَ عَلَى التَّرْتِيبِ، پھر لایا جائے اس معنی کو جو ان کے مقابل ہو علی الترتیب، ترتیب سے، نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے: فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا، پس چاہیے کہ وہ تھوڑا ہنسیں، وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا اور چاہیے کہ وہ زیادہ روئیں، پس انہیں تھوڑا ہنسنا چاہیے اور زیادہ رونا چاہیے۔ تو دیکھیے بھئی، پہلے ضحک، ہنسنے کا ذکر آیا اور قلیل، قلت کا ذکر آیا، ہنسنے اور قلت کا ذکر، اور پھر علی الترتیب ان کے مقابل ذکر ہیں: ہنسنے کے مقابلے میں آگے پھر رونے کا ذکر ہے اور قلت کے مقابلے میں کثرت کا ذکر ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور جیسے اردو میں اس کی مثال بھئی، اردو میں اس کی مثال، جیسے ایک شاعر کہتا ہے: محبت آہ کیا کیا رنگ عاشق کو دکھاتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا کوئی محبت کا زخم کھایا ہوا شاعر ہے، وہ کہہ رہا ہے: محبت آہ کیا کیا رنگ عاشق کو دکھاتی ہے اگر اک دم ہنساتی ہے تو پھر پہروں رلاتی ہے اگر اک دم ہنساتی ہے، اک دم یعنی اک گھڑی، تھوڑی دیر کے لیے۔ اگر اک دم ہنساتی ہے تو پھر پہروں رلاتی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے ہنسا دیتی ہے محبت تو پھر بڑے لمبے عرصے تک رلاتی ہی رہتی ہے۔ محبت آہ کیا کیا رنگ عاشق کو دکھاتی ہے اگر اک دم ہنساتی ہے تو پھر پہروں رلاتی ہے چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔