درس نمبر۔74
اَلْكِنَايَةُ: هِيَ لَفْظٌ أُرِيدَ بِهِ لَازِمُ مَعْنَاهُ مَعَ جَوَازِ إِرَادَةِ ذَلِكَ الْمَعْنَى، نَحْوُ: طَوِيلُ النِّجَادِ، أَيْ: طَوِيلُ الْقَامَةِ، وَتَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ الْمَكْنِيِّ عَنْهُ إِلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: اَلْأَوَّلُ كِنَايَةٌ يَكُونُ الْمَكْنِيُّ عَنْهُ فِيهَا صِفَةً، كَقَوْلِ الْخَنْسَاءِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا:
طَوِيلُ النِّجَادِ رَفِيعُ الْعِمَادِ
كَثِيرُ الرَّمَادِ إِذَا مَا شَتَا
کنایہ بھئی۔ بھئی علمِ بیان میں آپ نے پڑھا تھا تشبیہ، مجاز اور کنایہ کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ تشبیہ کا بیان بھی مکمل ہوا اور اس کے بعد مجاز کا بیان بھی مکمل ہوا۔ اب آخری چیز یعنی کنایہ کے بارے میں آج ہم پڑھیں گے بھئی۔
کنایہ کی تعریف میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ کنایہ کسے کہتے ہیں؟ کہ کوئی لفظ ذکر کیا جائے اور اس کے معنی کے لازم کا ارادہ کیا جائے، اس کے معنی کے لازم کا ارادہ کیا جائے۔ مثلاً میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ زید لمبے قد والا ہے، اسی بات کو میں کنائے کے رنگ میں یوں کہوں گا کہ زید لمبی قمیص والا ہے، زید لمبی قمیص والا ہے۔ اور تو دیکھیے، لمبی قمیص اس کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے، کیونکہ قمیص اسی شخص کی لمبی ہوگی جس کا قد لمبا ہوگا۔ لمبی قمیص کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے، تو یہ ہے کنایہ بھئی، کنایہ۔
تو کنائے کے اندر بھی معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ ہوتا ہے۔ دیکھو قمیص بول کر قد کا ارادہ کیا، حالانکہ قمیص کا لفظ قد کے لیے تو وضع نہیں ہے۔ تو یہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا؟ معنی غیر موضوع لہ میں۔ مجاز میں بھی لفظ معنی غیر موضوع لہ میں، یعنی غیر حقیقی معنی کے اندر لفظ استعمال ہوتا ہے، جبکہ کنائے میں بھی لفظ معنی غیر حقیقی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور ان دونوں میں کیا فرق ہے، یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مجاز کے اندر جو معنی حقیقی کا ارادہ درست نہیں ہوتا، جبکہ کنایہ کے اندر معنی حقیقی کا ارادہ بھی درست ہوتا ہے۔
مجاز کی تعریف میں آپ نے پڑھا تھا کہ لفظ کو استعمال کرنا معنی غیر موضوع لہ میں اور وہاں کوئی مانع ہو جو کس چیز سے روکے؟ معنی حقیقی کے ارادے سے، معنی حقیقی کے ارادے سے وہاں کوئی مانع ہونا چاہیے، یعنی وہاں پر معنی حقیقی کا ارادہ صحیح ہی نہ بنتا ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ اب یہاں اسد بول کر بہادر آدمی ہی مراد ہے، یہاں وہ جنگلی درندہ یعنی شیر کو مراد نہیں لے سکتے اس لیے کیونکہ شیر تیر نہیں چلا سکتا بھئی، تو "يَرْمِي" کا یہ قرینہ بتلا رہا ہے کہ یہاں حقیقی معنی مراد لینا صحیح نہیں۔
تو مجاز کے اندر حقیقی معنی کا ارادہ صحیح نہیں ہوتا، جبکہ کنایہ کے اندر حقیقی معنی کا ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے۔ مثلاً میں آپ کو کیا بتلانا چاہتا تھا کہ زید لمبے قد والا ہے، اور میں نے کیا کہا؟ زید لمبی قمیص والا ہے۔ تو جملہ تو میں نے یہ کہا کہ زید لمبی قمیص والا ہے، لیکن ارادہ کس معنی کا؟ کہ زید لمبے قد والا ہے۔ لیکن اگر میں معنی حقیقی کا ارادہ کروں تو بھی وہ درست ہے، میں قمیص سے قمیص ہی مراد لے لیتا ہوں، زید لمبی قمیص والا ہے، دیکھو یہ معنی بھی صحیح ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کنایہ اور مجاز میں کیا فرق ہوا کہ مجاز کے اندر معنی حقیقی کا ارادہ وہاں پر صحیح نہیں بنتا جبکہ کنائے کے اندر معنی حقیقی کا ارادہ بھی صحیح بنتا ہے۔
تو کنائے کے اندر بھی لفظ معنی غیر حقیقی میں استعمال ہوتا ہے، اور یہ جو معنی غیر حقیقی ہوتا ہے یہ معنی حقیقی کے ساتھ لازم ہوتا ہے، کس کے ساتھ؟ کے ساتھ لازم ہوتا ہے، جیسے لمبی قمیص کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے۔
یہی بات بیان کر رہے ہیں: هِيَ لَفْظٌ أُرِيدَ بِهِ لَازِمُ مَعْنَاهُ، یہ کنایہ جو ہے ایسا لفظ ہے کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے اس کے معنی کے لازم کا، مَعَ جَوَازِ إِرَادَةِ ذَلِكَ الْمَعْنَى، ساتھ اس معنی کے یعنی معنی حقیقی کے ارادے کے جائز ہونے کے، کہ معنی حقیقی کا ارادہ بھی جائز ہوتا ہے۔
نَحْوُ، مثال کے طور پر: طَوِيلُ النِّجَادِ۔ نجاد بھئی نون کے نیچے کسرہ پڑھیے گا بھئی، یہ فتحہ جو اوپر لگا ہے یہ کتابت کی غلطی ہے۔ طَوِيلُ النِّجَادِ، أَيْ: طَوِيلُ الْقَامَةِ۔ نجاد کہتے ہیں بھئی وہ چمڑے کی پیٹی جس کے ساتھ تلوار کو لٹکایا جاتا تھا، اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ نجاد کہتے ہیں نجاد بھئی۔ اور تو اس کو حمائل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ حمائل کہتے ہیں۔ آپ نے اردو کی کتابوں میں پڑھتے بھی ہوں گے کہ فلاں نے تلوار حمائل کی اور پھر گھر سے نکلا۔ تو حمائل کرنے کا کیا معنی تھا؟ وہ چمڑے کی پیٹی کے ساتھ تلوار لٹکا لی اپنے اور تلوار اٹھائی اپنے ساتھ لٹکا لی اور باہر نکلا بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کو حمائل کہتے ہیں حمائل بھئی۔
اور آپ مثلاً کسی کے لمبے قد کے بارے میں بتلانا چاہتے ہیں تو یوں کہتے ہیں: فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ، فلاں لمبی حمائل والا ہے، اور حمائل بول کر مراد کیا ہے؟ قد مراد ہے۔ تو دیکھو لمبی حمائل کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے بھئی، کہ حمائل اسی کی لمبی ہوگی جس کا قد لمبا ہوگا۔ تو حمائل سمجھ میں آیا بھئی کسے کہتے ہیں؟ وہ چمڑے کی پیٹی جسے کیا کیا جاتا تھا؟ ہاں، تلوار کو کندھے کے ساتھ لٹکاتے تھے، جیسے آج کل بڑی بندوق وغیرہ ہو اس کو پیٹی کے ساتھ کندھے سے لٹکایا جاتا ہے، اسی طرح تلوار کو لٹکایا جاتا تھا۔
تو فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ، فلاں لمبی حمائل والا ہے، اور ارادہ کون سے معنی کا؟ اس کے ساتھ لازم، کیا لازم ہے اس کے ساتھ؟ قد کا لمبا ہونا۔ تو میں نے بھی یہی ارادہ کیا کہ فلاں لمبے قد والا ہے۔ اور اگر میں معنی حقیقی کا ارادہ کروں تو وہ بھی صحیح ہے، جب قد لمبا ہے تو لازمی بات ہے اس کی حمائل بھی کیا ہوگی؟ لمبی ہی ہوگی۔
نَحْوُ، مثال کے طور پر: طَوِيلُ النِّجَادِ، أَيْ: طَوِيلُ الْقَامَةِ۔ جی اس کو طَوِيلُ النِّجَادِ پڑھنا بھی صحیح، یا طَوِيلِ النِّجَادِ پڑھ لیں، "نحو" کے لیے مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ پر کیا آتا ہے؟ جر آتا ہے، کسرہ آتا ہے، نَحْوِ طَوِيلِ النِّجَادِ، أَيْ: طَوِيلِ الْقَامَةِ۔ اور یہ رفع وغیرہ دوسرا اعراب، بھئی یہ اس کو اعرابِ حکائی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اعرابِ حکائی کہتے ہیں۔ مثلاً میں نے ایک جملہ ذکر کیا تھا آپ کے سامنے: فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ، فلاں لمبی حمائل والا ہے، اور یہاں پر اس جملے کے اندر "طَوِيلُ النِّجَادِ" یہ کیا ہے؟ مرفوع ہے کیونکہ خبر واقع ہو رہا ہے، خبر واقع ہو رہا ہے۔ اسی "طَوِيلُ النِّجَادِ" کو میں اپنے کسی اور کلام میں جیسے اس کتاب کے اندر بطورِ مثال کے ذکر کر رہے ہیں، بطورِ مثال کے ذکر کرتے ہیں اور وہی اعراب پڑھ دیتے ہیں جو اس جملے کے اندر تھا جہاں سے حکایت کی جا رہی ہے، جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ مثلاً میں اب اس جملے کی بات کر رہا ہوں: "فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ"، اور اس جملے میں تو "طَوِيلُ النِّجَادِ" کا لفظ کیا تھا؟ مرفوع تھا، تو میں اپنے کلام کے اندر بھی کیا کر لیتا ہوں؟ اس کو مرفوع ہی رکھتا ہوں، تو اس کو کہتے ہیں اعرابِ حکائی۔ یعنی حکایت یعنی محکی عنہ جس کے بارے میں بتلایا جا رہا ہے، جس کی حکایت کی جا رہی ہے، اس میں یہ لفظ مرفوع تھا تو ہم نے بھی یہاں پر کس طرح اس کو ذکر کر دیا؟ مرفوع ہی ذکر کر دیا، تو اس کو کہتے ہیں اعرابِ حکائی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حکائی حکایت سے ہے، بات بیان کرنا بھئی۔
نَحْوُ طَوِيلُ النِّجَادِ، أَيْ: طَوِيلُ الْقَامَةِ۔ وَتَنْقَسِمُ بِاعْتِبَارِ الْمَكْنِيِّ عَنْهُ إِلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ، اور کنایہ جو ہے یہ تقسیم ہوتا ہے مکنی عنہ کے اعتبار سے تین قسموں کی طرف۔ مَكْنِيٌّ عَنْهُ، مَكْنِيٌّ، مَرْمِيٌّ، مَهْدِيٌّ، تو یہ مَرْمِيٌّ کے وزن پر ہے اور اسمِ مفعول ہے۔ تو کنایہ جو ہے مکنی عنہ کے اعتبار سے تین قسم پر ہے۔ مکنی عنہ وہ معنی جس سے کنایہ کیا گیا۔ وہ معنی جس سے کنایہ کیا گیا۔ میں نے ابھی آپ کے سامنے کہا تھا: فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ، "طَوِيلُ النِّجَادِ" یہ لفظ بولا اور کس معنی سے کنایہ کیا، کس معنی کا ارادہ کیا؟ طَوِيلُ الْقَامَةِ، لمبے قد والا ہے۔ تو وہ معنی جس سے کنایہ کیا جائے وہ ہے مکنی عنہ، وہ کیا ہے؟ مکنی عنہ۔ تو وہ معنی جس سے کنایہ کیا جاتا ہے اس کے اعتبار سے کنایہ تین قسموں کی طرف تقسیم ہوتا ہے۔
تو یہ یاد رکھیے وہ تین قسمیں یاد رکھیں بھئی: یا تو کنایہ کیا جائے گا صفت سے، یا کنایہ کیا جائے گا نسبت سے، یا کنایہ کیا جائے گا موصوف سے، کس سے؟ موصوف سے۔ تو مکنی عنہ یعنی وہ معنی جس سے کنایہ کیا جا رہا ہے، اس کے اعتبار سے کنایہ تین قسم پر ہے: یا تو وہ مکنی عنہ کیا ہوگا؟ صفت ہوگی، یا وہ مکنی عنہ کیا ہوگا؟ نسبت ہوگی، یا وہ مکنی عنہ کیا ہوگا؟ موصوف ہوگا، آگے سب کی مثالیں بھی آ رہی ہیں بھئی۔
اَلْأَوَّلُ: پہلی قسم، كِنَايَةٌ يَكُونُ الْمَكْنِيُّ عَنْهُ فِيهَا صِفَةً، صِفَةً بھئی اس پر نصب لگائیں بھئی نصب بھئی، یہ رفع لگا ہوا ہے، یہ درست نہیں، یہ "يَكُونُ" کی خبر ہے اور "كَانَ" اپنی خبر کو کیا دیتا ہے؟ نصب دیتا ہے۔ تو پہلی قسم ایسا کنایہ: يَكُونُ الْمَكْنِيُّ عَنْهُ فِيهَا صِفَةً، جس میں مکنی عنہ جو ہے وہ صفت ہو، كَقَوْلِ الْخَنْسَاءِ، جیسے خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول بھئی۔ میں نے بتلایا تھا خنساء بھئی یہ مشہور شاعرہ ہیں، اور ان کے بھئی جو صخر تھے ان کو کسی نے قتل کر دیا تھا اور یہ اس کے غم میں اشعار کہا کرتی تھیں، اور بہت بڑی شاعرہ تھیں بھئی، بہت بڑی شاعرہ، حتیٰ کہ علماء لکھتے ہیں کہ یہ جن و انس کی شاعرہ تھیں بھئی، یعنی جن و انس میں، جنات اور انسانوں میں سب سے بڑی شاعرہ تھیں، اور ان کو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا علم ہوا تو یہ حاضر ہوئی تھیں اور ایمان لے آئیں بھئی۔ حضور علیہ السلام بھی ان کے اشعار کی فصاحت و بلاغت پر تعجب کا اظہار فرمایا کرتے تھے بھئی، اتنی فصاحت و بلاغت تھی ان کے اشعار میں بھئی۔
اور میں نے بتلایا تھا کہ قادسیہ کی جنگ کے اندر ان کے چار بیٹے شہید ہو گئے تھے، کہتے ہیں جب لڑائی کا آغاز ہونے لگا تو انہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو بلوایا اور ان کے سامنے ان کو بڑی ترغیب دی کہ تم مسلمان ہو اور یہ یہ صفات ہیں تمہاری اور تم خوب دشمن کا اچھی طرح مقابلہ وغیرہ کرنا، خوب ترغیب دے کر ان کو بھیجا، اور پھر ان کے چاروں بیٹے اس جنگ کے اندر شہید ہو گئے اور ان کو آ کر پھر بتلایا گیا کہ آپ کے چاروں بیٹے شہید ہو گئے ہیں تو اس پر انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ الحمدللہ کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹوں کی شہادت کو قبول فرما لیا، اور فرمانے لگیں: مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں ہم کو پھر اکٹھا کر دیں گے۔
تو یہ حضرت خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
طَوِيلُ النِّجَادِ رَفِيعُ الْعِمَادِ
كَثِيرُ الرَّمَادِ إِذَا مَا شَتَا
یہ اپنے بھئی صخر کے بارے میں کہہ رہی ہیں: طَوِيلُ النِّجَادِ، أَيْ: هُوَ طَوِيلُ النِّجَادِ، وہ جو ہے لمبی حمائل والا ہے، رَفِيعُ الْعِمَادِ، عماد کہتے ہیں ستون کو، اونچے ستون والا ہے، كَثِيرُ الرَّمَادِ، رماد کہتے ہیں راکھ کو بھئی، راکھ۔ كَثِيرُ الرَّمَادِ، کثیر راکھ والا ہے، إِذَا مَا شَتَا، شتاء کہتے ہیں سردیوں کو، شتاء کس کو کہتے ہیں؟ سردی کے موسم کو، اور اسی سے "شَتَا" فعل ہے سردی ہو جانا، سردی کا موسم ہو جانا۔ كَثِيرُ الرَّمَادِ إِذَا مَا شَتَا، کثیر راکھ والا ہے إِذَا مَا شَتَا، جب سردی ہوتی ہے، جب سردی کا موسم آتا ہے۔
اب دیکھیے بھئی، یہ کنایہ کر رہی ہیں اپنے بھئی کی صفات بیان کر رہی ہیں، "طَوِيلُ النِّجَادِ" سے مراد یہ ہے کہ وہ لمبے قد والا ہے۔ "طَوِيلُ النِّجَادِ" کا کیا معنی ہے؟ لمبے قد والا ہے، لمبے قد والا ہے۔ "رَفِيعُ الْعِمَادِ" بھئی، اونچے ستون والا ہے۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ سردار کا جو گھر ہے اور محل ہے وہ باقی گھروں کی بنسبت اونچا بنایا جاتا ہے، اونچا بنایا جاتا ہے، اور اسی طرح کہیں پر لشکر وغیرہ جائے تو جو سردار ہوتا ہے اس کا خیمہ باقی خیموں کی بنسبت اونچا بنایا جاتا ہے، تو یہ گھر کا اونچا ہونا یا اسی طرح یہ جو خیمہ اونچا ہوگا یہ کس چیز کی وجہ سے اونچا ہوگا؟ ستون کی وجہ سے، لازمی بات ہے ستون کیا ہوں گے؟ لمبے اور اونچے ہوں گے، تو خیمہ تو اونچا ہوگا ہی کس سے؟ ستون اس کا لمبا ہو اور اونچا ہو۔ تو یہی بات بیان کرنا چاہتی ہیں: رَفِيعُ الْعِمَادِ، اونچے ستون والا ہے، یعنی سردار ہے، کیا ہے؟ سردار ہے۔
كَثِيرُ الرَّمَادِ، کثیر راکھ والا ہے، یعنی بڑا سخی ہے، بڑا سخی ہے، کیونکہ راکھ زیادہ ہے، معلوم ہوا لکڑیاں زیادہ جلتی ہیں، اور لکڑیاں وہاں زیادہ جلتی ہیں جہاں آگ زیادہ جلتی ہے، اور آگ وہاں زیادہ جلتی ہے جہاں کھانا زیادہ پکتا ہو، اور کھانا وہاں زیادہ بنتا ہے جہاں کھانے والے زیادہ ہوں، اور جہاں کھانے والے زیادہ ہوں معلوم ہوا وہ مہمان ہیں جو کھانے والے ہیں، کیونکہ گھر کے افراد تو اتنا زیادہ نہیں کھائیں گے، تو معلوم ہوا اس کے پاس مہمان زیادہ آتے ہیں، اور جس کے پاس مہمان زیادہ آتے ہیں معلوم ہوا وہ سخی آدمی ہے، کیونکہ بخیل آدمی کے پاس تو ایک دفعہ جانے کے بعد دوبارہ انسان جانے کا نام نہیں لے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو "كَثِيرُ الرَّمَادِ" کے ذریعے کس سے کنایہ کیا؟ سخاوت سے۔ تو "طَوِيلُ النِّجَادِ" سے کنایہ کیا لمبے قد سے، "رَفِيعُ الْعِمَادِ" سے کنایہ کیا سردار ہونے سے، "كَثِيرُ الرَّمَادِ" سے کنایہ کیا سخاوت کے سے، کہ وہ بڑا سخی ہے سخی ہے۔
اب بتائیے بھئی، کنایہ کس سے کیا جا رہا ہے؟ "طَوِيلُ النِّجَادِ"، لمبے قد سے، اور لمبا قد کیا ہے؟ صفت ہے۔ "رَفِيعُ الْعِمَادِ"، سردار ہونا، سرداری بھی کیا ہے؟ ایک صفت ہے۔ "كَثِيرُ الرَّمَادِ"، سخاوت سے کنایہ ہے، اور سخاوت بھی کیا ہے؟ ایک صفت ہے۔ تو دیکھو ان مثالوں میں مکنی عنہ وہ معنی جس سے کنایہ کیا گیا وہ کیا ہیں؟ صفات ہیں۔
اور یہ کہا نا: كَثِيرُ الرَّمَادِ إِذَا مَا شَتَا، اور کثیر راکھ والا ہے جب سردی کا موسم ہوتا ہے۔ بتلانا یہ چاہتی ہیں کہ بڑا ہی سخی ہے، حتیٰ کہ سردی کا موسم جو بڑا سخت اور شدت والا موسم ہوتا ہے، اس سختی کے موسم میں اور تکلیف کے موسم میں وہ بڑی سخاوت کرنے والا ہے، تو عام احوال میں کتنی سخاوت کرتا ہوگا تم خود اس سے اندازہ لگا لو بھئی، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
تُرِيدُ أَنَّهُ طَوِيلُ الْقَامَةِ، سَيِّدٌ، كَرِيمٌ، وہ ارادہ کرتی ہے کہ وہ طَوِيلُ الْقَامَةِ، لمبے قد والا ہے، اس کا ارادہ کس سے کیا تھا؟ "طَوِيلُ النِّجَادِ" سے۔ سَيِّدٌ، سردار ہے، اس کا ارادہ کس سے کیا تھا؟ "رَفِيعُ الْعِمَادِ"، اونچے ستون والے سے۔ اور كَرِيمٌ، سخی ہے، اس کا ارادہ کس سے کیا؟ "كَثِيرُ الرَّمَادِ" سے۔ تو دیکھو صفت سے کنایہ کیا بھئی، صفات سے۔
وَالثَّانِي: اور دوسری قسم، كِنَايَةٌ يَكُونُ الْمَكْنِيُّ عَنْهُ فِيهَا نِسْبَةً، یہ بھی "نِسْبَةً" بھئی تا پر نصب ہے بھئی، کیونکہ یہ "يَكُونُ" کی خبر ہے، اور دوسری قسم وہ ہے کنایہ ہے کہ جس کے اندر مکنی عنہ جو ہے نسبت ہوتی ہے۔ کیا ہوتی ہے؟ نسبت۔
بھئی اس میں صفت سے کنایہ نہیں کیا جائے گا، صفت خود ذکر ہوگی، بلکہ اس صفت کو موصوف کے لیے جو ثابت کیا جا رہا ہے یا موصوف سے جو اس کی نفی کی جا رہی ہے، اس سے کنایہ کیا جائے گا۔ کس سے؟ اس سے کنایہ کیا جائے گا۔ دیکھو مثالوں سے وضاحت ہوگی، نَحْوُ، مثال کے طور پر: اَلْمَجْدُ بَيْنَ ثَوْبَيْهِ وَالْكَرَمُ تَحْتَ رِدَائِهِ، آپ ایک شخص کی ایک شخص کے بارے میں بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ بڑا عظیم شخص ہے بھئی، عظمت کی اس کی طرف نسبت کرنا چاہتے ہیں، کس کے؟ عظمت اور بزرگی کی اس کی طرف نسبت کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کہتے ہیں: اَلْمَجْدُ بَيْنَ ثَوْبَيْهِ، مجد کہتے ہیں بزرگی کو اور عظمت کو، اَلْمَجْدُ بَيْنَ ثَوْبَيْهِ، بزرگی اور عظمت جو ہے بَيْنَ ثَوْبَيْهِ اس کے دو کپڑوں کے درمیان ہے۔ بزرگی اور عظمت اس کے دو کپڑوں کے درمیان ہے، معلوم ہوا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ بڑا عظیم ہے، بڑا بزرگ آدمی ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
کس طرح؟ بھئی دیکھیے، جب آپ نے کہا کہ عظمت اس کے دو کپڑوں کے درمیان ہے، اس کے دو کپڑوں کے، اور عظمت تو ایک صفت ہے، یہ ہمیشہ کس کے لیے کوئی موصوف چاہیے، اس کا الگ اپنا کوئی وجود نہیں، اور یہ عظمت آپ نے بتا دیا کہاں پر ہے؟ اس کے دو کپڑوں میں ہے، اور اس کے دو کپڑوں میں تو اس کی ذات ہے، اور تو کوئی اور کوئی آدمی تو نہیں، اور جب اس کی ذات اس کپڑوں میں ہے اور آپ نے یہ کہہ دیا کہ یہ عظمت بھی اس کے کپڑوں کے درمیان ہے، معلوم ہوا اس کی ذات ہی کیا ہے؟ اس وصف کے ساتھ موصوف ہو رہی ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ جب عظمت آپ نے بتلا دیا اس کے دو کپڑوں کے درمیان ہے، اور عظمت تو ایک صفت ہے، یہ تو بغیر موصوف کے نہیں پائی جاتی، اس کے لیے تو موصوف چاہیے، معلوم ہوا اس کا موصوف بھی ان دو کپڑوں کے درمیان ہوگا، اور ان دو کپڑوں کے درمیان تو اس کی اپنی ذات ہے، کسی اور کی ذات نہیں، معلوم ہوا وہ کس کے ساتھ موصوف ہے؟ عظمت کے ساتھ موصوف ہے بھئی۔
تو یہاں صفت سے کنایہ نہیں کیا عظمت سے، عظمت کا لفظ تو خود ذکر ہے: "اَلْمَجْدُ"، مجد خود ذکر ہے۔ اور یہ نہیں کہا کہ وہ کہ "هُوَ مَجِيدٌ"، وہ عظیم ہے، براہِ راست اس کی طرف نسبت نہیں کی بلکہ کنائے کے انداز میں نسبت کی، کس طرح؟ کیا کہا؟ کہ عظمت اس کے دو کپڑوں کے درمیان ہے، اور کہنے کا ارادہ کیا ہے؟ اس کے لیے اس عظمت کو ثابت کرنا ہے، اس کی طرف نسبت کرنا ہے۔ تو کسی صفت کی کسی شخص کی طرف نسبت کی جائے، یعنی اس صفت کا اس شخص کے لیے اثبات کیا جائے، اس کو اس کے لیے ثابت کیا جائے یا اس سے نفی کی جائے، اور کس رنگ میں کی جائے؟ کنائے کے رنگ میں، یہ دوسری قسم ہے بھئی، جس میں مکنی عنہ نسبت۔ تو یہاں بھی دیکھو بزرگی اس کے دو کپڑوں کے درمیان ہے، یہ کہا، یہ نہیں کہا وہ بزرگ ہے، وہ عظیم ہے، پھر تو براہِ راست نسبت ہو جاتی، لیکن اس یہاں پر کس انداز میں نسبت کی گئی؟ کنائے کے انداز میں، صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو صفت اس سے کنایہ نہیں، کیونکہ صفت تو خود ذکر ہے، مجد خود ذکر ہے۔ پچھلے میں "طَوِيلُ النِّجَادِ" سے کیا مراد تھا؟ لمبے قد والا، اور لمبے قد کا کوئی ذکر تھا وہاں؟ وہ وہاں پر ذکر نہیں تھا، اور یہاں بزرگی کی بات ہو رہی ہے اور بزرگی کا خود کیا ہے جملے کے اندر؟ ذکر ہے، البتہ اس کی طرف نسبت کس انداز میں کی؟ براہِ راست نہیں کہا کہ وہ بزرگ ہے، وہ عظیم ہے، بلکہ کس انداز میں کہا؟ کنائے کے انداز میں اس کی طرف بزرگی کی نسبت کی: اَلْمَجْدُ بَيْنَ ثَوْبَيْهِ، بزرگی اس کے دو کپڑوں کے درمیان ہے۔
اسی طرح: وَالْكَرَمُ تَحْتَ رِدَائِهِ، سخاوت اس کی چادر کے نیچے ہے، سخاوت اس کی چادر کے نیچے ہے۔ اب دیکھیے سخاوت کی نسبت اس کی طرف کی جا رہی ہے، تو سخاوت کا لفظ تو خود آ گیا: "اَلْكَرَمُ"، تو سخاوت سے کنایہ نہیں۔ اور ہاں اس کی طرف نسبت سے کنایہ ہے، یہ نہیں کہا کہ وہ سخی ہے، بلکہ کیا کہا؟ سخاوت اس کی چادر کے نیچے ہے۔ یہاں بھی وہی تقریر ہوگی: سخاوت بھی ایک صفت ہے، صفت کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ موصوف چاہیے، اور سخاوت اس کی چادر کے نیچے ہے، معلوم ہوا اس کا موصوف بھی کہاں پر ہے؟ اس چادر کے نیچے ہے، اور اس چادر کے وہ چادر تو اس کی ہے، اس چادر کے نیچے تو وہ خود ہے، معلوم ہوا وہ کس کے ساتھ موصوف ہے؟ سخاوت کے ساتھ موصوف ہے، تقریر سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں بھی سخاوت کی نسبت اس کی طرف کی، اور صراحۃً کی یا کنائے کے رنگ میں کی؟ کنائے کے رنگ میں۔ صراحۃً تو یہ تھا کہ یوں کہتا: وہ سخی ہے، براہِ راست نسبت کر دیتا۔
تو کہتے ہیں: نَحْوُ، مثال کے طور پر: اَلْمَجْدُ بَيْنَ ثَوْبَيْهِ وَالْكَرَمُ تَحْتَ رِدَائِهِ، بزرگی جو ہے اس کے دو کپڑوں کے درمیان ہے، اور سخاوت اس کی چادر کے نیچے ہے، تُرِيدُ نِسْبَةَ الْمَجْدِ وَالْكَرَمِ إِلَيْهِ، آپ کا ارادہ عظمت اور سخاوت کی اس کی طرف نسبت کرنا ہے۔
وَالثَّالِثُ: تیسری قسم۔ پہلی قسم کیا تھی جس میں کنایہ کس سے کیا گیا تھا؟ صفت سے۔ دوسری قسم میں کنایہ کس سے کیا گیا؟ نسبت سے۔ اب تیسری قسم جس میں کنایہ موصوف سے ہوگا: وَالثَّالِثُ: كِنَايَةٌ يَكُونُ الْمَكْنِيُّ عَنْهُ فِيهَا غَيْرَ صِفَةٍ وَلَا نِسْبَةٍ، اور تیسری قسم وہ ایسا کنایہ ہے کہ جس میں مکنی عنہ جو ہے وہ نہ تو صفت ہو اور نہ نسبت ہو، غَيْرَ صِفَةٍ وَلَا نِسْبَةٍ، صفت بھی نہ ہو اور نسبت بھی نہ ہو بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی عبارت پر نظر رکھنا: غَيْرَ صِفَةٍ وَلَا نِسْبَةٍ، جس میں مکنی عنہ غَيْرَ صِفَةٍ، صفت کے علاوہ ہو، غَيْرَ صِفَةٍ یعنی صفت نہ ہو، وَلَا نِسْبَةٍ اور نہ نسبت ہو۔ بھئی یاد رکھیے، غَيْرَ صِفَةٍ وَلَا نِسْبَةٍ، اس میں یہ جو "لَا" آیا نا "لَا"، یہ زائد ہے، زائد تحسینِ عبارت کے لیے اس کو بڑھایا جاتا ہے بھئی، کیا کیا جاتا ہے؟ تحسینِ عبارت کے لیے۔ اس لیے کیونکہ "غَيْرَ" مضاف ہے اور "صِفَةٍ" کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور اسی "صِفَةٍ" پر عطف ہے "نِسْبَةٍ" کا بھی، غَيْرَ صِفَةٍ وَنِسْبَةٍ۔ عبارت پر نظر ہے؟ تیسری قسم وہ ہے جس کی وہ کنایہ ہے جس میں مکنی عنہ جو ہے، ذرا "لَا" کو ختم کر کے دیکھیے گا ترجمہ: تیسری قسم وہ ایسا کنایہ ہے جس میں مکنی عنہ غَيْرَ صِفَةٍ وَنِسْبَةٍ، جس میں مکنی عنہ صفت اور نسبت کے علاوہ ہو۔ معنی صحیح بن رہا ہے یا نہیں بن رہا؟ جی، تو یہ "لَا" زائد ہے، یہ "لَا" کیا ہے؟ زائد ہے، تحسینِ عبارت کے لیے اس کو بڑھایا جاتا ہے، جیسے قرآن میں آتا ہے: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، وہاں پر بھی "وَلَا الضَّالِّينَ" یہ جو "لَا" آیا یہ کیا ہے؟ زائد ہے کس لیے؟ تحسین کے لیے، کلام کو خوبصورت بنانے کے لیے۔
تو یہاں پر بھئی یہ زائد کس طرح ہے؟ بھئی دیکھیے، "غَيْرَ" کے ذریعے کیا کی جا رہی ہے؟ نفی کی جا رہی ہے۔ "غَيْرَ صِفَةٍ" کا کیا معنی؟ صفت ہو یا صفت کے علاوہ ہو یعنی صفت نہ ہو؟ صفت کے علاوہ ہو یعنی صفت نہ ہو۔ تو "غَيْرَ" آئے گا نفی کے لیے، کس کے لیے؟ نفی۔ اور "لَا" کو اگر زائد نہ مانا جائے تو نفی پر نفی داخل ہو جائے گی اور نفی پر نفی داخل ہو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا فائدہ دیتی ہے، معلوم ہوا صفت نہ ہو لیکن نسبت ہو، نسبت ہو۔ حالانکہ یہ معنی تو یہاں پر مراد نہیں، بلکہ صفت کی بھی نفی کی جا رہی ہے اور نسبت کی بھی نفی کی جا رہی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی نفی پر نفی داخل ہو تو اثبات کا فائدہ دیتی ہے، میں پہلے بھی میں نے پہلے بھی کئی مرتبہ میں نے شاید مثال ذکر کی ہو۔ نفی پر نفی داخل ہو تو وہ اثبات کا فائدہ دیتی ہے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زید نہیں آئے گا۔ اثبات ہے یا نفی ہے؟ نفی ہے۔ اس پر ذرا ایک اور نفی داخل کریں: ایسا نہیں ہے کہ زید نہیں آئے۔ کیا معنی؟ معلوم ہوا زید آئے گا، دیکھو نفی پر نفی داخل ہوئی کس چیز کا فائدہ دیا؟ اثبات کا۔ تو یہاں پر بھی یہ "لَا" زائد ہے تحسینِ عبارت کے لیے۔
تو تیسری قسم ایسا کنایہ ہے: يَكُونُ الْمَكْنِيُّ عَنْهُ فِيهَا غَيْرَ صِفَةٍ وَلَا نِسْبَةٍ، جس میں مکنی عنہ جو ہے نہ صفت ہو اور نہ نسبت ہو، كَقَوْلِهِ، جیسے ایک شاعر کا قول ہے:
الضَّارِبِينَ بِكُلِّ أَبْيَضَ مِخْذَمِ
وَالطَّاعِنِينَ مَجَامِعَ الْأَضْغَانِ
الضَّارِبِينَ، ضارب ضرب سے، مارنے والے، بِكُلِّ أَبْيَضَ، "أَبْيَضٍ" نہیں بھئی یہ یہ غیر منصرف ہے بھئی، أَبْيَضَ، ضاد پر زبر لگائیں بھئی، بِكُلِّ أَبْيَضَ۔ ابیض سفید، یہاں مراد ہے چمکدار بھئی، سفید سے کیا مراد ہے؟ چمکدار۔ اور مخذم، مخذم کا معنی ہے کاٹنے والی، مراد تلوار ہے۔ بِكُلِّ أَبْيَضَ مِخْذَمِ، ہر چمکدار کاٹنے والی تلوار کے ساتھ، ہر چمکدار کاٹنے والی تلوار کے ساتھ۔ تو مخذم پڑھ لیں تو بھی صحیح، مخذم پڑھ لیں تو بھی صحیح۔ عربی میں کہتے ہیں: سَيْفٌ مِخْذَمٌ، کاٹنے والی تلوار، سَيْفٌ قَاطِعٌ بھئی، سَيْفٌ قَاطِعٌ۔ یا اسی طرح سَيْفٌ مِخْذَمٌ کہتے ہیں کاٹنے والی تلوار بھئی، تو اسمِ فاعل پڑھ لیں یا اسمِ آلہ کا صیغہ پڑھ لیں بھئی۔
تو شاعر کہتا ہے: الضَّارِبِينَ بِكُلِّ أَبْيَضَ مِخْذَمِ، یہ "الضَّارِبِينَ" یہ منصوب ہے بناء بر مدح کے، تعریف کے، أَيْ: أَمْدَحُ الضَّارِبِينَ، میں مدح کرتا ہوں، میں تعریف کرتا ہوں الضَّارِبِينَ، وہ جو ضرب لگانے والے ہیں بِكُلِّ أَبْيَضَ مِخْذَمِ، ہر سفید ہر سفید قاطع تلوار کے ساتھ، کاٹنے والی تلوار کے ساتھ، میں تعریف کرتا ہوں ان کی جو ضرب لگانے والے ہیں سفید چمکدار تلواروں کے ساتھ۔
وَالطَّاعِنِينَ، اس کا عطف بھی اسی پر ہے "الضَّارِبِينَ" پر، اور میں تعریف کرتا ہوں۔ طعن کا معنی ہوتا ہے ط، ع، ن، طعن، طعن کا معنی ہوتا ہے نیزہ مارنا، وَالطَّاعِنِينَ، اور میں تعریف کرتا ہوں نیزہ مارنے والوں کی، مَجَامِعَ الْأَضْغَانِ، مجامع جمع ہے مجمع کی، مجمع کہتے ہیں جمع ہونے کی جگہ، اس میں ظرف کا صیغہ ہے۔ اور اضغان جمع ہے زغن کی، ض، غ، ن، زغن، اور زغن کہتے ہیں کینہ بھئی، کینہ۔ دل میں چھپی ہوئی سخت دشمنی جو ہے، جو کینہ ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ زغن۔
ہاں کتاب، بھئی دیکھیے، مجامع، مجامع یہاں پر اس پر عین پر فتحہ لگائیں بھئی۔ بھئی یہ ابیض پر بھی فتحہ لگائیں، ابیضِ نہیں یہ غیر منصرف ہے، ضاد پر بھی زبر لگائیں اور مجامعَ، یہ عین پر بھی زبر لگائیں۔ اور نیزہ مارنے والے ہیں کینوں کے جمع ہونے کی جگہ پر۔ اچھا بھئی۔ اور میں تعریف کرتا ہوں: وَالطَّاعِنِينَ مَجَامِعَ الْأَضْغَانِ، کینوں کے جمع ہونے کی جگہ پر نیزہ مارنے والوں کی، وہ جو نیزہ مارنے والے ہیں کس جگہ پر؟ کینے کے کینوں کے جمع ہونے کی جگہ پر، اور کینہ تو کس میں ہوتا ہے؟ دل میں ہوتا ہے، تو یہ "مَجَامِعَ الْأَضْغَانِ" بول کر کیا مراد ہے؟ دل مراد ہیں، تو "مَجَامِعَ الْأَضْغَانِ" کے اندر کنایہ ہے بھئی، کنایہ ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو "مَجَامِعَ الْأَضْغَانِ" بول کر کیا مراد؟ دل مراد ہے، کیونکہ کینے کہاں پر جمع ہوتے ہیں، کہاں ہوتے ہیں؟ دل میں ہوتے ہیں، اور دل یہ صفت ہے، یا نسبت ہے، یا یہ موصوف ہے؟ یہ کیا ہے؟ موصوف ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ نہ صفت ہے اور نہ نسبت ہے بھئی۔
اب دیکھیے شعر کا ترجمہ: الضَّارِبِينَ بِكُلِّ أَبْيَضَ مِخْذَمِ وَالطَّاعِنِينَ مَجَامِعَ الْأَضْغَانِ، میں تعریف کرتا ہوں ہر اس ہر اس شخص کی جو ضرب لگانے والا ہے ہر سفید چمکدار کاٹنے والی تلوار کے ساتھ، وَالطَّاعِنِينَ مَجَامِعَ الْأَضْغَانِ، اور میں تعریف کرتا ہوں ان کی جو نیزہ مارنے والے ہیں کینوں کی جمع ہونے کی جگہ یعنی دلوں پر۔
فَإِنَّهُ كَنَى بِمَجَامِعِ الْأَضْغَانِ عَنِ الْقُلُوبِ، پس شاعر جو ہے اس نے کنایہ کنایہ کیا "مَجَامِعِ الْأَضْغَانِ" کے ذریعے عَنِ الْقُلُوبِ، کس سے؟ دلوں سے۔
بھئی یہ تو تھی مکنی عنہ کے اعتبار سے کنایہ تین قسم پر تھا کہ کبھی کنایہ کس سے کیا جائے گا؟ صفت سے، کبھی کس سے؟ نسبت سے، اور کبھی موصوف سے بھئی۔
اب بتلا رہے ہیں کہ کنایہ جو ہے کنایہ، اس میں اور وہ معنی بھئی دیکھیے، کنایہ کیا جاتا ہے، ایک ہوتا ہے معنی حقیقی، اور کنایہ میں معنی حقیقی کا ارادہ ہوتا ہے یا اس کے لازم کا؟ اس کے لازم کا، تو معنی حقیقی اور معنی مراد جو ہے جس کا ارادہ کیا، ان میں اگر واسطے زیادہ ہوں تو اس کو کہتے ہیں تلویح بھئی، کیا کہتے ہیں؟ تَلْوِيحٌ بھئی، تَلْوِيحٌ۔ تو اس کو تلویح کہتے ہیں، اور جب واسطے زیادہ ہوں۔ اور اگر واسطے کم ہوں یا سرے سے ہوں ہی نہ، معنی توجہ ہے سبق کی طرف؟ معنی حقیقی اور معنی مراد یعنی جس کا آپ ارادہ کر رہے ہیں، اگر معنی حقیقی اور معنی مراد میں واسطے زیادہ ہوں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تلویح کہتے ہیں، تلویح بھئی۔ اور اگر واسطے کم ہوں یا سرے سے ہوں ہی نہ، پھر یہ اس کی دلالت اس معنی پر واضح ہوگی یا خفی ہوگی؟ کیا ہوگی؟ واضح ہوگی یا خفی ہوگی، اس میں کچھ خفاء ہوگا، کچھ پوشیدگی ہوگی۔ تو اگر واضح ہو تو اس کو کہتے ہیں اشارہ، کیا کہتے ہیں؟ اشارہ، اور اگر خفی ہو تو اس کو کہتے ہیں رمز، ر، م اور ز، رَمْزٌ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کتنی قسمیں ہو گئیں؟ تین قسمیں: ایک تلویح ہے جہاں پر معنی حقیقی اور معنی مراد میں واسطے زیادہ ہوں، اور اگر واسطے کم ہوں یا سرے سے ہوں ہی نہ، پھر دیکھیں گے کہ معنی مراد پر اس کی دلالت واضح ہے یا اس میں کچھ خفاء ہے؟ اگر معنی مراد پر دلالت واضح ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ اشارہ کہیں گے، اور اگر اس میں کچھ خفاء ہے تو اس کو رمز کہیں گے، رمز بھئی۔
یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَالْكِنَايَةُ إِنْ كَثُرَتْ فِيهَا الْوَسَائِطُ سُمِّيَتْ تَلْوِيحًا، اور کنایہ اگر اس میں کثیر ہوں واسطے تو اس کو تلویح کہتے ہیں، نَحْوُ، مثال کے طور پر: هُوَ كَثِيرُ الرَّمَادِ، وہ کثیر راکھ والا ہے، زیادہ راکھ والا ہے۔ راکھ کا کیا معنی؟ زیادہ راکھ کا، أَيْ: كَرِيمٌ، وہ سخی ہے۔ اب بھئی زیادہ راکھ، بھئی وہ جو لکڑیاں جلنے کے بعد جو بچ جاتا ہے راکھ، وہ اس کے ساتھ سخاوت لازم ہے۔ تو "كَثِيرُ الرَّمَادِ" آپ نے ذکر کیا، زیادہ راکھ، اور یہ ہے معنی حقیقی، اور ارادہ کس معنی کا کیا؟ سخاوت کا، اور یہ کیا ہے؟ معنی مراد۔ اب معنی حقیقی اور معنی مراد میں کئی واسطے ہیں، کئی واسطے ہیں۔ آپ نے لفظ کیا ذکر کیا؟ زیادہ راکھ والا ہے، اور ارادہ کس کا کیا؟ سخی ہے، تو معنی حقیقی ہوا زیادہ راکھ اور معنی مراد ہوا سخاوت کہ وہ سخی ہے، اور معنی مراد معنی حقیقی اور معنی مراد کے درمیان کئی واسطے ہیں۔ کس طرح؟ بھئی اس لیے، کیونکہ ابھی میں نے جیسے بیان کیا: زیادہ راکھ ہوگی معلوم ہوا زیادہ آگ جلتی ہے، یا یوں کہیں زیادہ راکھ ہے، زیادہ راکھ کے ساتھ لازم ہے زیادہ آگ کا جلنا۔ زیادہ راکھ تبھی ہوگی جب کیا ہوگی؟ زیادہ آگ، تو زیادہ راکھ کے ساتھ لازم ہے زیادہ آگ کا جلنا، اور زیادہ آگ کے جلنے کے ساتھ لازم ہے زیادہ کھانے کا پکنا، اور زیادہ کھانے کے ساتھ لازم ہے کیا؟ کھانے والے زیادہ ہیں، اور زیادہ کھانے والے اس کے ساتھ لازم ہے کہ معلوم ہوا مہمان زیادہ ہیں، اور زیادہ مہمان ہونے کے ساتھ لازم ہے کہ وہ شخص کیا ہے؟ سخی ہے، تو دیکھو کتنے ہی واسطے بیچ میں آ گئے بھئی، تو اس کو کیا کہیں گے؟ تلویح کہیں گے بھئی۔
فَإِنَّ كَثْرَةَ الرَّمَادِ تَسْتَلْزِمُ كَثْرَةَ الْإِحْرَاقِ، اس لیے کیونکہ راکھ کا زیادہ ہونا یہ مستلزم ہے کثرتِ احراق کو، احراق آگ جلانا، یہ زیادہ یہ مستلزم ہے کثرتِ احراق کو یعنی زیادہ آگ جلانے کو، یعنی اس کے ساتھ لازم ہے زیادہ آگ کا جلنا، وَكَثْرَةُ الْإِحْرَاقِ تَسْتَلْزِمُ كَثْرَةَ الطَّبْخِ وَالْخَبْزِ، اور زیادہ آگ جلانا اس لیے مستلزم ہے زیادہ پکانے، زیادہ وہ چیز جو پکائی جائے، وَالْخَبْزِ، اور زیادہ روٹیوں کو۔ معلوم ہوا جو چیز پکائی گئی وہ بھی زیادہ ہے اور روٹیاں بھی زیادہ، یا یوں کر لیں اس کو مصدر پڑھ لیں: تَسْتَلْزِمُ كَثْرَةَ الطَّبْخِ وَالْخَبْزِ، کہ زیادہ آگ جلانا، یرحمک اللہ، کہ زیادہ آگ جلانا یہ مستلزم ہے زیادہ پکانے اور زیادہ روٹیاں بنانے کو، وَكَثْرَتُهُمَا تَسْتَلْزِمُ كَثْرَةَ الْآكِلِينَ، اور ان دونوں کی کثرت یعنی روٹی اور پکائی ہوئی چیز کی کثرت یہ مستلزم ہے کثرتِ آکلین کو کہ کھانے والے زیادہ ہیں، وَهِيَ تَسْتَلْزِمُ كَثْرَةَ الضِّيفَانِ، ضیفان پڑھنا، ضیفان نہیں بھئی، یہ جمع ہے۔ الف نون کی وجہ سے یہ نہ سمجھیں یہ تثنیہ ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور ضاد کے نیچے کسرہ بھئی: وَهِيَ تَسْتَلْزِمُ كَثْرَةَ الضِّيفَانِ، اور یہ زیادہ کھانا یہ مستلزم ہے کس چیز کو؟ زیادہ مہمان ہونے کو، وَكَثْرَةُ الضِّيفَانِ تَسْتَلْزِمُ الْكَرَمَ، اور زیادہ مہمانوں کا ہونا یہ مستلزم ہے کس کو؟ سخاوت کو، یعنی اس کے ساتھ سخاوت لازم ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
وَإِنْ قَلَّتْ وَخَفِيَتْ، اور اگر واسطے تھوڑے ہوں، قَلَّتْ، تھوڑے ہوں، وَخَفِيَتْ، اور خفی ہوں، پوشیدہ ہوں وہ واسطے، سُمِّيَتْ رَمْزًا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ رمز کہتے ہیں، رمز۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: هُوَ سَمِينٌ رِخْوٌ، وہ موٹا ہے، رِخْوٌ، رِخْوٌ کا معنی ہے نرم ہونا، ڈھیلا ہونا، هُوَ سَمِينٌ رِخْوٌ، وہ موٹا ہے، ڈھیلا ہے، أَيْ: غَبِيٌّ بَلِيدٌ، یعنی غبی کہتے ہیں کند ذہن، کمزور ذہن والا، بلید، بلید کا معنی ہے سست بھئی، سست۔ تو آپ نے کہا وہ موٹا وہ موٹا ڈھیلا ہے، وہ موٹا ہے، ڈھیلا ہے، یعنی وہ کند ذہن ہے، کمزور ذہن والا ہے، اور بلید اور سست ہے۔ تو ذکر کیا موٹا ہونے کو اور ڈھیلا ہونے کو، اور ارادہ کس کا کیا؟ کند ذہن ہونے، کمزور ذہن ہونے کو اور سست ہونے کو، تو دیکھیے یہ ہے کنایہ۔ اور درمیان میں صرف ایک ہی واسطہ ہے یہاں، کس طرح؟ کیونکہ جو موٹا ہوگا وہ عموماً وہ اس کے ذہنی قوتیں جو ہیں وہ کمزور ہوں گی، ذہنی قوتیں کمزور، اور جب ذہنی قوتیں کمزور ہوں گی تو معلوم ہوا اس کے ساتھ لازم ہے کہ وہ کند ذہن ہوگا۔ تو موٹے ہونے کے ساتھ لازم ہے، کیا چیز لازم ہے؟ ایک واسطہ بیچ میں بناؤ، واسطہ۔ موٹا ہونا یہ ہے معنی حقیقی، اور پہنچنا کس معنی تک ہے؟ کند ذہن ہونا، درمیان میں ایک واسطہ لے کر آؤ۔ یہاں ایک واسطہ ہے بیچ میں کہتے ہیں، ایک واسطہ، کیونکہ موٹا ہونے کے ساتھ لازم ہے ذہنی قوتوں کا کمزور ہونا، جب موٹا ہے تو معلوم ہوا ذہنی قوتیں کیا ہوں گی؟ کمزور ہوں گی۔ اور ذہنی قوتیں کمزور ہونے کے ساتھ لازم ہے کیا چیز؟ کند ذہن ہونا، ذہن کا کمزور۔
بھئی وہاں پر کئی واسطے تھے: دیکھو زیادہ راکھ کے ساتھ زیادہ آگ کا جلنا لازم تھا، زیادہ آگ جلنے کے ساتھ کیا لازم تھا؟ کھانا زیادہ پکتا ہے، کھانا زیادہ پکنے کے ساتھ کیا لازم تھا؟ کھانے والے زیادہ ہیں، کھانے والے زیادہ ہیں اس کے ساتھ کیا لازم تھا؟ مہمان زیادہ، اور مہمان زیادہ ہونے کے ساتھ کیا لازم تھا؟ کہ وہ سخی ہے، تو دیکھو کئی واسطے بیچ میں آئے تھے۔ یہاں صرف ایک واسطہ ہے، لفظ کون سا ذکر کیا؟ سمین، اور ارادہ کس کا کیا؟ کند ذہن ہونے کا۔ درمیان میں ایک ہی واسطہ ہے اور وہ کیا؟ کہ ذہنی قوتیں کمزور ہیں، کیونکہ موٹا ہونے کے ساتھ لازم ہے ذہنی قوتوں کا کمزور ہونا، اور ذہنی قوتوں کا ڈھیلا اور کمزور ہونا اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ کند ذہن ہونا، تو ایک ہی واسطہ ہے۔
اسی طرح "رِخْوٌ" کہا، "رِخْوٌ" کا معنی ہے نرم ہونا، ڈھیلا ہونا، اور ڈھیلا ہونے کے ساتھ لازم ہے جسمانی قوتوں کا کمزور ہونا، اور جسمانی قوتوں کے کمزور ہونے کے ساتھ لازم ہے سست ہونا، اس کے ساتھ لازم ہے سست، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: هُوَ سَمِينٌ رِخْوٌ، أَيْ: غَبِيٌّ بَلِيدٌ، وہ موٹا ہے، ڈھیلا ہے، یعنی کند ذہن ہے، سست ہے۔
وَإِنْ قَلَّتْ فِيهَا الْوَسَائِطُ أَوْ لَمْ تَكُنْ، یا واسطے اس کے اندر قلیل ہوں یا ہوں ہی نہ، کنائے میں، کنائے میں اگر واسطے تھوڑے ہوں، أَوْ لَمْ تَكُنْ، یا سرے سے واسطے ہوں ہی نہ، وَوَضَحَتْ، اور وہ واضح ہو، سُمِّيَتْ إِيمَاءً وَإِشَارَةً، تو اس کو ایماء ایماء بھی کہتے ہیں اور اشارہ بھی کہتے ہیں، ایماء اور اشارہ کا ایک معنی۔ تو جو کنایہ واضح ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اشارہ کہتے ہیں، ایماء کہتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ کہ یہ اشارہ ہے۔ جیسے اشارہ واضح ہوتا ہے، بھئی میں نے آپ سے کہا: "هَذَا الْكِتَابُ"، دیکھیے میں کتاب کی طرف اشارہ کر رہا ہوں، "هَذَا الْكِتَابُ"، آپ سمجھ گئے یا نہیں کون سی کتاب مراد ہے؟ آپ فوراً سمجھ گئے۔ تو اشارہ جیسے ظاہر ہوتا ہے، اس سے بات فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے، کیونکہ اشارہ عموماً حسی ہوگا اور چیز سامنے موجود ہوگی، فوراً انسان سمجھ جاتا ہے کہ اس چیز کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، تو اسی طرح جو کنایہ بھی واضح ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اشارہ کہتے ہیں۔
تو وہ کنایہ جو خوب واضح ہے اس کی مثال: أَوَمَا رَأَيْتَ الْمَجْدَ أَلْقَى رَحْلَهُ فِي آلِ طَلْحَةَ ثُمَّ لَمْ يَتَحَوَّلِ، أَوَمَا رَأَيْتَ، کیا تو نے نہیں دیکھا، الْمَجْدَ، کہ بزرگی ہے جو ہے عظمت جو ہے، أَلْقَى رَحْلَهُ، رحل کے کئی معانی آتے ہیں، کجاوہ بھی ہے، اسی طرح رہائش گاہ بھی ہے، یہاں یہ خیمے کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ خیمے، کیونکہ وہ خیمہ بھی انسان کی رہائش گاہ ہوتی ہے۔ أَوَمَا رَأَيْتَ، کیا تو نے نہیں دیکھا، الْمَجْدَ، کہ عظمت جو ہے، أَلْقَى رَحْلَهُ، اس نے ڈال دیا اپنا خیمہ یعنی لگا دیا اپنا خیمہ، فِي آلِ طَلْحَةَ، طلحہ کی آل میں۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بزرگی اور عظمت نے اپنا خیمہ کہاں پر لگا دیا ہے؟ آلِ طلحہ میں، طلحہ کی آل میں۔
آل، آل کہتے ہیں اتباع کرنے والے، آل کا کیا معنی؟ اتباع کرنے والے، پیروی کرنے والے، اسی طرح جو متعلقین ہوتے ہیں، جیسے آلِ فرعون، فرعون کے جو اتباع کرنے والے ہیں، اس کے اس کے جو متعلقین ہیں۔ اسی طرح آل، آل کے کئی معانی آتے ہیں، آل کا معنی خاندان والے بھی ہے، تو یہاں خاندان کے معنی میں۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عظمت نے اپنا خیمہ لگا دیا ہے طلحہ کے خاندان میں، ثُمَّ لَمْ يَتَحَوَّلِ، تحول کا معنی ہے منتقل ہونا، ثُمَّ لَمْ يَتَحَوَّلِ، پھر وہ عظمت وہاں سے منتقل نہیں ہوئی، پھر عظمت وہاں سے منتقل نہیں ہوئی۔
اب دیکھیے بھئی، شاعر کہہ رہا ہے:
أَوَمَا رَأَيْتَ الْمَجْدَ أَلْقَى رَحْلَهُ
فِي آلِ طَلْحَةَ ثُمَّ لَمْ يَتَحَوَّلِ
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عظمت نے اپنا خیمہ لگا دیا ہے طلحہ کے خاندان میں، پھر وہاں سے وہ منتقل نہیں ہوئی؟ کیا معنی سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا وہ کیا ان کے خاندان والے کے لوگ کیسے ہیں؟ وہ عظیم لوگ ہیں یعنی عظمت ان کی صفت ہے، عظمت ان کی اور بزرگی ان کی صفت ہے، کیونکہ جب عظمت نے وہاں خیمہ لگا دیا اور پھر وہاں سے منتقل ہو کر کسی دوسری طرف نہیں گئی، معلوم ہوا انہی میں ہے، معلوم ہوا یہ کس قسم کے لوگ ہیں؟ عظمت کے ساتھ متصف ہیں۔ تو دیکھیے یہ کنایہ ہے اور واضح ہے، شاعر نے یہ نہیں کہا: عظمت کے ساتھ وہ متصف ہیں، بلکہ کنائے کے انداز میں کہا کہ عظمت نے ان کے خاندان میں کیا کیا ہے؟ خیمہ لگا دیا ہے اور پھر وہاں سے کسی دوسری طرف منتقل نہیں ہوئی۔
كِنَايَةً عَنْ كَوْنِهِمْ أَمْجَادًا، كِنَايَةً عَنْ كَوْنِهِمْ أَمْجَادًا، "كِنَايَةً" اس کو منصوب پڑھیے گا بھئی، یہ حال واقع ہو رہا ہے، کہ اس اس حال میں کہ یہ جو شعر جو ہے اس میں جو شاعر نے ذکر کیا: كِنَايَةً عَنْ كَوْنِهِمْ أَمْجَادًا، یہ کنایہ ہے ان کے باعظمت ہونے سے، یہ کنایہ ہے ان کے باعظمت ہونے سے، امجاد جمع ہے مجید کی، باعظمت بھئی۔ تو یہ ان کے باعظمت ہونے سے کنایہ ہے۔
بھئی یہاں پر آیا کہ کنائے کے اندر اگر واسطے زیادہ ہوں تو اس کو تلویح کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ تلویح کہتے ہیں، اور اس کی انہوں نے مثال ذکر کر دی بھئی۔ بھئی واسطے ہونے کا یہ معنی ہے کہ درمیان میں ذہن براہِ راست جو ہے اس لفظ سے معنی مراد کی طرف فوراً نہیں منتقل ہوتا، بلکہ پہلے ایک چیز کی طرف منتقل ہوتا ہے، پھر اس کے ساتھ دوسری چیز لازم ہے اس کی طرف منتقل ہوتا ہے، پھر اس کے ساتھ تیسری چیز لازم ہے اس کی طرف منتقل ہوتا ہے، پھر اس کے ساتھ چوتھی چیز لازم ہے اس کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے، اور پھر اس کے ساتھ وہ معنی مقصود لازم ہے تو اس آخری چیز کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے، واسطے ہونے کا یہ معنی۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے یہاں پر "كَثِيرُ الرَّمَادِ" ذکر تھا اور اس سے ارادہ کس کا کس معنی کا کیا تھا؟ سخاوت کا۔ تو "كَثِيرُ الرَّمَادِ" سے ذہن فوراً سخاوت کی طرف نہیں منتقل ہوتا بلکہ "كَثِيرُ الرَّمَادِ" سے ذہن منتقل ہوا اس بات کی طرف کہ راکھ زیادہ ہے معلوم ہوا آگ زیادہ جلتی ہے، ذہن فوراً اس طرف چلا گیا معلوم ہوا آگ زیادہ جلتی ہے، پھر اس سے ذہن منتقل ہوا کہ معلوم ہوا کھانا زیادہ پکتا ہے، اور کھانا زیادہ پکتا ہے معلوم ہوا کھانے والے زیادہ ہیں، اس طرف منتقل ہو گیا، پھر کھانے والے زیادہ ہیں تو اس طرف منتقل ہوا کہ معلوم ہوا مہمان زیادہ آتے ہیں، اور مہمان زیادہ آتے ہیں تو اس سے پھر منتقل ہوا کس کی طرف؟ سخاوت کی طرف۔ تو یہ معنی ہے واسطوں کے ہونے کا کہ ذہن براہِ راست اس معنی حقیقی سے معنی مراد کی طرف فوراً منتقل نہیں ہوتا بلکہ کئی واسطے بیچ میں آتے ہیں اور ان کے ذریعے منتقل ہوتا ہوا بالاخر اس معنی مراد تک پہنچتا ہے بھئی، معنی مراد تک، معنی مراد تک۔
جیسے یہاں پر بھئی: "سَمِينٌ رِخْوٌ" آیا، اور اس سے کیا کس معنی کا ارادہ کیا؟ "غَبِيٌّ بَلِيدٌ" کے معنی کا ارادہ کیا، اور یہاں پر ایک واسطہ تھا، یہاں پر ایک، کیونکہ "سمین" سے ذہن منتقل ہوا کہ معلوم ہوا اس کی ذہنی قوتیں کمزور ہیں، اور جب ذہنی قوتیں کمزور ہیں معلوم ہوا وہ کند ذہن ہے، تو دیکھو معنی مراد تک ذہن پہنچا ایک واسطے کے ذریعے، پہلے ایک واسطے کی طرف گیا اور پھر اس سے منتقل ہوا معنی مراد کی طرف۔ اسی طرح "رخو"، وہ ڈھیلا ہے، ڈھیلا ہونے سے ذہن منتقل ہوا کہ معلوم ہوا اس کی جسمانی قوتیں کمزور ہیں اور اس سے پھر منتقل ہوا کس کی طرف کہ وہ سست ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ واسطے ہوتے ہیں درمیان میں، اور بعض اوقات یہ واسطے زیادہ ہوتے ہیں لیکن ان میں کسی قسم کا خفاء نہیں ہوتا، جیسے "كَثِيرُ الرَّمَادِ" جو تھا اس میں چار پانچ واسطے تھے اور پھر ذہن بالاخر معنی مراد تک پہنچتا تھا، لیکن وہ معنی اتنا اتنے ظاہر ہیں کہ اس میں کسی قسم کا خفاء نہیں، ذہن فوراً منتقل ہوتا چلا جاتا ہے، اور بعض اوقات واسطے قلیل ہوتے ہیں لیکن خفی ہوتے ہیں، ذہن فوراً ان کی طرف منتقل نہیں ہوتا، تو اگر فوراً منتقل نہ ہو، خفاء ہو ان واسطوں کے اندر تو اس کو آپ نے پڑھا رمز کہتے ہیں، اور اگر خفاء نہ ہو تو اس کو اشارہ کہتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی واسطے کے واسطے کا کیا معنی؟
وَهُنَاكَ نَوْعٌ مِنَ الْكِنَايَةِ يَعْتَمِدُ فِي فَهْمِهِ عَلَى السِّيَاقِ يُسَمَّى تَعْرِيضًا، اب بھئی تعریض بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: کنایہ کی ایک اور قسم ہے اور اسے تعریض کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تعریض کہتے ہیں۔
آسان لفظوں میں یوں کہیے: کہنا ایک بات، سنانا دوسری بات، اسے کہتے ہیں تعریض۔ تعریض کسے کہتے ہیں؟ کہنا ایک بات، سنانا دوسری بات، یا یوں کہیے: کہنا ایک کو، سنانا دوسرے کو بھئی، دونوں صورتیں اس میں آ گئیں۔
تو کہتے ہیں: وَهُنَاكَ نَوْعٌ مِنَ الْكِنَايَةِ يَعْتَمِدُ فِي فَهْمِهِ عَلَى السِّيَاقِ، اور یہاں ایک اور قسم بھی ہے کنایہ کی، يَعْتَمِدُ، جو وہ جو اعتماد کرتا ہے فِي فَهْمِهِ، اس معنی کے سمجھنے میں عَلَى السِّيَاقِ، کس پر؟ سیاقِ کلام یعنی محلِ استعمال پر جہاں جس موقع پر وہ کلام استعمال ہوا، تو وہ کلام کا چلاؤ بتلاتا ہے، یعنی اس میں کوئی اور قرینہ وغیرہ نہیں، وہاں کلام کا چلاؤ بتلا دیتا ہے۔ تو یہاں ایک اور قسم ہے کنایہ کی جو اعتماد کرتا ہے اس معنی مراد کے سمجھنے میں عَلَى السِّيَاقِ، کس پر اعتماد کرتا ہے وہ؟ سیاق پر یعنی کلام کے چلاؤ پر، یعنی محلِ استعمال پر جہاں پر وہ استعمال ہوا، يُسَمَّى تَعْرِيضًا، اس کو تعریض کہتے ہیں، وَهُوَ إِمَالَةُ الْكَلَامِ إِلَى عُرْضٍ، اور وہ مائل کرنا ہے، امالہ مائل کرنا، وَهُوَ إِمَالَةُ الْكَلَامِ إِلَى عُرْضٍ، اور وہ مائل کرنا ہے کلام کو إِلَى عُرْضٍ، أَيْ: نَاحِيَةٍ، ایک کنارے کی طرف۔ عرض، عین پر پیش ہے بھئی اور را ساکن اور ضاد ہے آخر میں، عرض کہتے ہیں کنارے کو، أَيْ: نَاحِيَةٍ کے ساتھ دیکھیے اس کا معنی کر دیا۔ کلام کو ایک کنارے کی طرف مائل کرنا، ایک جانب کو کلام کو مائل، دیکھیے ایک بات اپ سیدھی کر رہے ہیں لیکن ارادہ اس کا نہیں بلکہ کلام کو دوسری طرف مائل کر رہے ہیں، ذکر ایک چیز کا کر رہے ہیں اور مراد یعنی کہہ ایک بات رہے ہیں اور مراد دوسری بات ہے، تو ایک کنارے ایک طرف کو آپ نے کلام کو مائل کر دیا۔
كَقَوْلِكَ لِشَخْصٍ يَضُرُّ النَّاسَ، جیسا کہ آپ کا ایک ایسے شخص کو جو جیسا کہ آپ کا کہنا ایک ایسے شخص کو يَضُرُّ النَّاسَ جو لوگوں کو تکلیف دیتا ہے، آپ اس کو کہتے ہیں: خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُهُمْ، لوگوں میں سے بہترین جو ہے مَنْ وہ شخص ہے يَنْفَعُهُمْ جو ان کو نفع دے۔ ایک آدمی ہے وہ لوگوں کو تکلیف دیتا رہتا ہے، آپ اس کے سامنے ا کر اس سے کہتے ہیں: خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُهُمْ، لوگوں میں سے بہترین وہ شخص ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے۔
اب آپ کہہ تو اس کو یہ رہے ہیں، لیکن سنانا دوسری بات چاہتے ہیں۔ دو معنی ہو سکتے ہیں: یا تو آپ اس کو نصیحت کرنا چاہتے ہوں گے اس جملے کے ذریعے، کیا کرنا چاہتے ہوں گے؟ نصیحت کرنا چاہتے ہوں گے، کہ یعنی تمہیں لوگوں کو تکلیف نہیں دینی چاہیے، تمہیں لوگوں کو تکلیف بلکہ ان کو فائدہ پہنچانا چاہیے۔ اب یہ آپ نے کوئی صراحۃً کہا؟ نہیں، صراحۃً تو آپ نے یہ کہا: خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُهُمْ، لوگوں میں سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے، لیکن سنانا کیا ہے اس کو مقصد؟ کہ تم لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو، نیکی کرو، ان کو نقصان اور تکلیف نہ پہنچاؤ۔ تو یا تو یہ نصیحت کے لیے کہہ سکتے ہیں، یا آپ اس کو یوں کہیں بات سنانا چاہتے ہیں، کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یا یوں کہیں آپ اس کو طعنہ دینا چاہتے ہیں۔ پہلی صورت تھی نصیحت والی ہم نے بنائی، آپ اس کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ طعنہ دینا چاہتے ہیں، آپ نے کیا کہا: خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُهُمْ، لوگوں میں سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے، تو گویا آپ اس کو یہ کہہ رہے ہیں کہ تمہارے اندر خیر والی کوئی بات نہیں ہے، تم تو کیا کرتے ہو لوگوں کو، بہترین آدمی تو وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے اور تم تو کسی کو نفع پہنچاتے نہیں، تمہارے اندر بھی خیر تمہارے اندر یعنی خیر والی کوئی بات نہیں ہے، یہ سنانا چاہتے تھے آپ اس کو۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟
تو یہ دونوں کے لیے ہو سکتا ہے: نصیحت کے طور پر بھی بعض اوقات یہ ایسا کلام کیا جا سکتا ہے، اور بعض اوقات دوسرے کو طعنہ دینے کے لیے، لیکن اب صراحۃً تو طعنہ دیتے نہیں، اس کا خوف بھی ہے، کس انداز میں کہتے ہیں؟ خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُهُمْ، لوگوں میں سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے اور تم تو نقصان دیتے ہو، معلوم ہوا تمہارے اندر خیر والی کوئی بات نہیں ہے بھئی۔
بھئی یہاں ایک اور مختصر بات یاد رکھیے بھئی، ایک مختصر اور قیمتی بات۔ آپ کتابوں میں پڑھتے ہوں گے کہ اَلْمَجَازُ أَبْلَغُ مِنَ الْحَقِيقَةِ وَالتَّصْرِيحِ، مجاز حقیقت اور تصریح کے مقابلے میں ابلغ ہے، زیادہ مبالغہ ہے یعنی اس کے اندر، یا یوں کہیں وہ افضل ہے۔ ایک بات صراحۃً کی جائے، صاف لفظوں میں، اور ایک بات مجاز کے انداز میں کی جائے، تو زیادہ مبالغہ کس کے اندر یا افضل صورت کون سی ہے؟ مجاز افضل ہے صریح کے بجائے، صریح کے بجائے۔ اسی طرح آپ نے یہ بھی سنا ہوگا: اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ مِنَ التَّصْرِيحِ، کنایہ کیا ہے؟ زیادہ بلیغ ہے، اس میں زیادہ مبالغہ ہے کس کے مقابلے میں؟ صریح کے، یعنی صاف لفظوں میں کہنے کے بجائے بھئی۔
بھئی دیکھیے، مجاز اور کنایہ یہ حقیقت اور تصریح سے افضل ہیں۔ ایک لفظ ہے اس کا اپ حقیقی معنی کے ساتھ یعنی صریح صاف لفظوں میں ایک بات کہتے ہیں، اور ایک بات اپ مجاز کے انداز میں کہتے ہیں یا کنایہ کے انداز میں کہتے ہیں، تو یہ مجاز اور کنایہ کے انداز میں بات کرنا یہ ابلغ ہے، افضل ہے بھئی، یعنی اس میں زیادہ مبالغہ ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
یہ مجاز حقیقت کے مقابلے میں ابلغ کس طرح ہے، زیادہ مبالغہ کس طرح ہے اس میں؟ بھئی ابلغ کا معنی میں زیادہ مبالغے بھی کے بھی کر رہا ہوں اور افضل کے بھی کر رہا ہوں۔ بعضوں نے لکھا ہے ابلغ بمعنی ابلغ یہ مبالغے سے ہے، ابلغ جس میں جس میں زیادہ مبالغہ ہو، زیادہ مبالغہ ہو۔ بعضوں نے لکھا ابلغ بمعنی افضل کے ہے، کہ کنایہ کیا ہے؟ صریح کے مقابلے میں افضل ہے، افضل ہے، تو جو بھی معنی آپ کرنا چاہیں۔ اچھا بھئی، مجاز پہلی بات کیا؟ کہ مجاز حقیقت سے افضل ہے۔ مجاز کس طرح افضل ہے؟ بھئی دیکھیے، آپ ایک بات صریح لفظوں میں کہتے ہیں: وہ بہادر آدمی ہے۔ وہ صاف لفظوں میں آپ نے اس کی بہادری بیان کی، اور ایک ہے آپ مجاز کے انداز میں کہتے ہیں: "هُوَ أَسَدٌ"، وہ شیر ہے شیر۔ بھئی کس میں مبالغہ زیادہ؟ "هُوَ أَسَدٌ" کے اندر، اس لیے کیونکہ یہاں آپ نے اس پر اسد کا لفظ بول دیا، اور بہادری میں سب سے زیادہ مشہور کون ہے؟ شیر ہی سب سے زیادہ مشہور ہے، تو جو سب سے زیادہ مشہور تھا اس کے ساتھ آپ نے اس کو ملا دیا، اسی کی جنس میں اس کو داخل کر دیا، تو اس کے اندر زیادہ بہادری بیان ہوئی یا آپ ویسے کہہ دیتے وہ بہادر آدمی ہے اس میں زیادہ بیان تھا بہادری کا؟ ظاہری بات ہے کہ جب آپ نے اس کو کس کے ساتھ ملا دیا؟ شیر کے ساتھ ملا دیا، اس میں مبالغہ زیادہ ہے بھئی۔ یعنی جو سب سے زیادہ جس میں بہادری ہوتی ہے اس کے ساتھ آپ نے اسے ملا دیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اچھا بھئی یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ مجاز کے اندر صریح کلام کے مقابلے میں زیادہ مبالغہ ہے۔ ایک آپ نے کہا صریح کلام کہا: وہ بہادر ہے، اور ایک آپ کہتے ہیں: "هُوَ أَسَدٌ"، وہ شیر ہے، کس میں زیادہ بہادری کا بیان؟ "هُوَ أَسَدٌ"، وہ شیر ہے، کیونکہ آپ نے اس کو جو بہادری میں سب سے مشہور ہے اس چیز کے ساتھ آپ نے ملا دیا تو اس میں مبالغہ زیادہ ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اسی طرح: اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ مِنَ التَّصْرِيحِ، کنایہ صریح سے افضل ہے۔ کنایہ بھی افضل ہے، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ کنایہ میں دعویٰ کے ساتھ دلیل ہوتی ہے۔ دعویٰ کے ساتھ کیا ہوتی ہے؟ دلیل بھی ا جاتی ہے، اور ایک دعویٰ ہے بغیر دلیل کے، ایک دعویٰ ہے دلیل کے ساتھ، کس میں قوت زیادہ؟ جس میں دلیل ہے۔ مثلاً میں نے کہا تھا: زید لمبے قد والا ہے، یہ ایک صریح بات ہے، زید لمبے قد والا ہے، میں آپ سے کہتا ہوں زید لمبے قد والا ہے، یہ تو ایک دعویٰ ہو گیا، کوئی دلیل ہے؟ یا یوں کہتا ہوں، یوں کہیں "كَثِيرُ الرَّمَادِ" کی مثال بنائیں: "زَيْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ"، زید زیادہ راکھ والا ہے، اور ایک یہی لفظ میں صریح کہتا ہوں: زید بڑا سخی ہے۔ جب میں نے صراحۃً کہا: زید بڑا سخی ہے، دعویٰ آ گیا، کوئی دلیل ہے ساتھ؟ دلیل کوئی نہیں، لیکن کنائے میں دلیل بھی ساتھ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: "هُوَ كَثِيرُ الرَّمَادِ"، وہ زیادہ وہ بڑا سخی ہے۔ "كَثِيرُ الرَّمَادِ" ذکر کیا لیکن مراد کیا ہے؟ سخاوت ہے، وہ بڑا سخی ہے۔ تو دعویٰ آ گیا اور ساتھ دلیل بھی آ گئی، دلیل کیا ہے اس بات کی کہ وہ بڑا سخی ہے؟ کہ اس کے ہاں راکھ زیادہ ہوتی ہے، یہ دلیل ہے اس بات کی، دلیل آ گئی یا نہیں آ گئی؟ تو کنایہ میں کیا ہوتا ہے؟ ساتھ دلیل آ گئی بھئی، دلیل آ جاتی ہے۔
یا جیسے میں نے کہا تھا: زید لمبے قد والا ہے، ایک یہی بات میں صاف لفظوں میں ویسے ہی کہتا ہوں: زید لمبے قد والا ہے، تو دعویٰ تو آ گیا ساتھ دلیل کوئی نہیں، لیکن اسی کو میں کنائے کے رنگ میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ طَوِيلُ النِّجَادِ"، زید لمبی حمائل والا ہے، کیا مراد کیا ہے؟ لمبے قد، اب بھی میں نے یہی کہا زید لمبے قد والا ہے لیکن اب کنائے کے رنگ میں کہا، اور کنائے میں ساتھ دلیل بھی ہوتی ہے، دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل۔ کہا کیا؟ "زَيْدٌ طَوِيلُ النِّجَادِ"، مراد کیا ہے؟ لمبے قد والا، دعویٰ کیا ہوا کہ زید لمبے قد والا ہے، اور دلیل بھی ساتھ آ گئی، کیا؟ کہ اس کی حمائل لمبی ہے، اگر یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا قد لمبا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کنایہ جو ہے وہ صریح سے اور حقیقت سے ابلغ ہوتا ہے کیونکہ اس میں دعویٰ مع الدلیل کے ہوتا ہے۔ اسی طرح مجاز بھی جو ہے وہ ابلغ ہے صریح اور حقیقت سے، کیونکہ مجاز کے اندر تاکید ہے، زیادہ مبالغہ ہے کہ آپ ایک چیز کو دوسری قوی چیز کے ساتھ ملا دیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے جس جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس چیز کے اندر بھی یہ وصف جو ہے بڑا ہی قوی پایا جا رہا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔