درس نمبر۔70
وَتَنْقَسِمُ الِاسْتِعَارَةُ إِلَى مُصَرَّحَةٍ، وَهِيَ: مَا صُرِّحَ فِيهَا بِلَفْظِ الْمُشَبَّهِ بِهِ، كَمَا فِي قَوْلِهِ:
فَأَمْطَرَتْ لُؤْلُؤًا مِنْ نَرْجِسٍ وَسَقَتْ
وَرْدًا وَعَضَّتْ عَلَى الْعُنَّابِ بِالْبَرَدِ
گزشتہ سبق میں مجاز کی بحث شروع ہوئی تھی اور آپ نے پڑھا تھا کہ مجاز اس لفظ کو کہتے ہیں جس کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے، ساتھ کوئی ایسا قرینہ ہو کہ جو معنی موضوع لہ کے ارادے سے روکنے والا ہو کہ یعنی وہاں یعنی وہاں پر معنی موضوع لہ کا ارادہ صحیح نہ بنتا ہو۔ اور پھر اس مجاز کے اندر آپ نے پڑھا تھا کہ معنی موضوع لہ اور معنی غیر موضوع لہ جس میں استعمال کر رہے ہیں، معنی غیر موضوع لہ جس میں آپ استعمال کر رہے ہیں، اس معنی غیر موضوع لہ کا کوئی تعلق اور کوئی اور کوئی ربط ہوگا معنی موضوع لہ کے ساتھ۔ تو یہ ربط اور تعلق اگر تشبیہ والا ہو تو اس کو استعارہ کہتے ہیں، اور یہ ربط اور تعلق اگر تشبیہ کے علاوہ کوئی اور ہو تو پھر اس کو مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل کہتے ہیں۔
تو استعارہ کی پھر بحث انہوں نے شروع کی اور بتلایا کہ بھئی استعارہ وہ مجاز ہے جس کے اندر علاقہ مشابہت کا ہوتا ہے یعنی تشبیہ والا ہوتا ہے، جیسے آیت کے اندر "ظلمات" اور "نور" کا لفظ استعمال ہوا تھا اور "ظلمات" کا لفظ گمراہی کے لیے اور "نور" یعنی روشنی کا لفظ ہدایت کے لیے استعمال ہوا تھا، تو ان کے اندر استعارہ تھا۔ کیا تھا؟ استعارہ تھا۔ اور یہ بھی انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مشبہ بہ کا لفظ مشبہ کے لیے استعمال کیا گیا، تو مشبہ بہ کو کہیں گے مستعار منہ، کیونکہ اس کے لفظ کو لیا گیا اس سے، اور کس کے لیے لیا گیا؟ مشبہ کے لیے، تو مشبہ کو کہیں گے مستعار لہ کہ اس کے لیے عاریۃً لیا گیا ہے، اور وہ لفظ جس کو استعمال کیا گیا ہے جس کو عاریۃً لیا گیا ہے اس کو کیا کہیں گے؟ مستعار کہیں گے بھئی۔
اب اس استعارہ کی تقسیم کر رہے ہیں بھئی، استعارہ کی تقسیم۔ تو آسان لفظوں میں یاد رکھیے، استعارہ کے اندر اگر مشبہ بہ ذکر ہو، بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ استعارہ کے اندر ارکانِ تشبیہ میں سے صرف طرفین میں سے ایک ذکر ہوگا، یعنی ارکانِ تشبیہ جو چار ہیں: مشبہ، مشبہ بہ، اداتِ تشبیہ، اور وجہِ تشبیہ، ان میں سے صرف مشبہ اور مشبہ بہ میں سے کوئی ایک ذکر ہوگا، یا اگر مشبہ ذکر ہے تو مشبہ بہ بھی وہاں نہیں ہوگا، اداتِ تشبیہ بھی نہیں ہوگا اور وجہِ تشبیہ بھی ذکر نہیں ہوگی۔ اور اگر اسی طرح مشبہ بہ ذکر ہے تو پھر مشبہ بھی ذکر نہیں ہوگا، اداتِ تشبیہ بھی ذکر نہیں ہوگا اور وجہِ تشبیہ بھی ذکر نہیں ہوگی بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا استعارے کے اندر صرف مشبہ ذکر ہو سکتا ہے یا مشبہ بہ۔
تو اگر استعارے میں مشبہ بہ کا لفظ ذکر ہو، مشبہ بہ ذکر ہو تو اس کو کہتے ہیں استعارہ مصرحہ، ص کے ساتھ، استعارہ مصرحہ۔ اسی طرح استعارہ تصریحیّہ بھی اس کو کہتے ہیں۔ اور اگر اس کا عکس ہو یعنی استعارے کے اندر مشبہ کا لفظ ذکر ہے تو اس کو استعارہ مکنیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ استعارہ مکنیہ کہتے ہیں، اور اسی طرح اس کو استعارہ بالکنایہ بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ استعارہ بالکنایہ۔ تو اگر استعارے کے اندر مشبہ بہ کا لفظ ذکر ہو تو اس کو کہتے ہیں استعارہ مصرحہ اور استعارہ تصریحیّہ، اور اگر استعارے کے اندر مشبہ کا لفظ ذکر ہو تو اس کو کہتے ہیں استعارہ بالکنایہ اور استعارہ مکنیہ کہتے ہیں بھئی۔
تو یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَتَنْقَسِمُ الِاسْتِعَارَةُ إِلَى مُصَرَّحَةٍ، اور تقسیم ہوتا ہے استعارہ مصرحہ کی طرف، اور دو چار سطروں کے بعد آ رہا ہے: وَإِلَى مَكْنِيَّةٍ، اور مکنیہ کی طرف۔ تو یہ دو قسمیں: ایک مصرحہ اور ایک مکنیہ۔ تو کہتے ہیں تقسیم ہوتا ہے استعارہ مصرحہ کی طرف: وَهِيَ: مَا صُرِّحَ فِيهَا بِلَفْظِ الْمُشَبَّهِ بِهِ، اور یہ وہ استعارہ ہے کہ جس کے اندر تصریح کی جائے مشبہ بہ کے لفظ کی، کس کی تصریح ہو؟ مشبہ بہ کے لفظ کی، یعنی اس کے لفظ کو ذکر کیا گیا ہو۔ كَمَا فِي قَوْلِهِ، جیسے کہ شاعر کے اس قول میں ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ میری ملاقات محبوبہ سے بڑے دنوں بعد میری ملاقات ہوئی۔ جب ملاقات ہوئی تو میں نے گلہ شکوہ کیا کہ اب تم ملنے ہی نہیں آتی ہو، تو وہ رونے لگ پڑی اور اس کی خوبصورت آنکھوں سے موتی جیسے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے اور وہ آنسو اس کے رخسار پر بہہ رہے تھے، اور وہ پریشانی اور غم کی وجہ سے اپنی انگلیوں کے پوروں کو دانتوں سے کاٹ رہی تھی بھئی۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ تو یہ اب اس حالت کو شاعر بیان کر رہا ہے، تو وہ اب غم کا اظہار کر رہی تھی یعنی اب سختیاں اتنی بڑھ گئیں اب تو ملاقات کا موقع ہی نہیں ملتا بھئی۔
تو دیکھیے اب کہتے ہیں:
فَأَمْطَرَتْ لُؤْلُؤًا مِنْ نَرْجِسٍ وَسَقَتْ
وَرْدًا وَعَضَّتْ عَلَى الْعُنَّابِ بِالْبَرَدِ
فَأَمْطَرَتْ لُؤْلُؤًا، تو وہ برسانے لگی لُؤْلُؤًا موتی، مِنْ نَرْجِسٍ نرگس، نرگس یہ اردو میں اس کو نرگس کہتے ہیں، یہ ایک پھول ہے سفید رنگ کا بھی ہوتا ہے اور زرد رنگ کا بھی، اور اس کے ساتھ آنکھوں کو تشبیہ دی جاتی ہے بھئی۔ تو فَأَمْطَرَتْ لُؤْلُؤًا مِنْ نَرْجِسٍ، تو وہ موتی برسانے لگی مِنْ نَرْجِسٍ، نرگس سے، یعنی نرگس اپنی نرگس جیسی آنکھوں سے آنسو اس کے جو موتیوں کی طرح تھے وہ بہنے لگے، وَسَقَتْ وَرْدًا، وَسَقَتْ، سَقَى کے معنی ہوتے ہیں سیراب کرنا، وَسَقَتْ وَرْدًا اور وہ آنسو جو تھے وہ اس کے رخساروں پر بہنے لگے، اس کے وہ رخسار جو گلاب کی پنکھڑیوں کی طرح تھے بھئی، تو وَرْدٌ کسے کہتے ہیں؟ گلاب کو۔ تو وَسَقَتْ وَرْدًا، وہ آنسو کس پر بہہ رہے ہیں؟ رخساروں پر، تو گویا وہ آنسو رخساروں کو جو پھول گلاب کی طرح ہیں اس کو سیراب کر رہے تھے، کیا کر رہے تھے؟ سیراب۔ یہ معنی ہے: وَسَقَتْ وَرْدًا، اور وہ گلاب کو سیراب کرنے لگی۔
وَعَضَّتْ عَلَى الْعُنَّابِ، عَضَّ يَعَضُّ کے معنی ہوتے ہیں ضاد کے ساتھ، عَضَّ يَعَضُّ اس کے معنی ہوتے ہیں دانتوں سے کاٹنا، دانتوں سے کاٹنا۔ اور عناب، اس کا ذکر ابھی ایک دو سبق قبل بھی وہ ذکر گزرا تھا کہ یہ ایک پھل ہوتا ہے چھوٹا سا بیر اور یا یہ زیتون کے برابر سرخ رنگ کا، اور عورتوں کے ہاتھوں کے جو انگلیوں کے جو پورے ہیں جن پر مہندی لگی ہوئی ہو اس کو ان انگلیوں کے پوروں کو اس کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے بھئی، تو اسے کیا کہتے ہیں؟ عناب بھئی عناب۔ وَعَضَّتْ عَلَى الْعُنَّابِ، اور وہ عناب کو دانتوں سے کاٹنے لگی، یعنی اپنی انگلیوں کے پورے جو عناب کی طرح تھے ان کو دانتوں سے کاٹنے لگی، بِالْبَرَدِ، بَرَدٌ کہتے ہیں اولے کو، تو اس کے وہ دانت جو اولوں کی طرح سفید اور چمکدار تھے ان کے ساتھ وہ اپنے پوروں کو کاٹنے لگی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
تو دیکھو اس شعر کے اندر شاعر نے اس کے آنسوؤں کو تشبیہ دی موتیوں کے ساتھ، اس کی آنکھوں کو تشبیہ دی نرگس پھول کے ساتھ، اس کے رخساروں کو تشبیہ دی گلاب کے ساتھ، اس کی انگلیوں کے پوروں کو تشبیہ دی عناب کے ساتھ، اور اس کے دانتوں کو تشبیہ دی اولوں کے ساتھ، اولوں کے ساتھ۔ اور صرف مشبہ بہ ہی ذکر ہیں، مشبہ ذکر نہیں۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ استعارہ مصرحہ، استعارہ تصریحیّہ جس کے اندر مشبہ بہ ذکر ہوتا ہے اور مشبہ ذکر نہیں ہوتا۔
فَأَمْطَرَتْ لُؤْلُؤًا مِنْ نَرْجِسٍ وَسَقَتْ وَرْدًا وَعَضَّتْ عَلَى الْعُنَّابِ بِالْبَرَدِ، تو وہ برسانے لگی موتیوں کو نرگس سے، اور سیراب کرنے اس نے سیراب کیا گلاب کو، اور وہ کاٹنے لگی عناب کو بالبرد، اولوں کے ساتھ۔
فَقَدِ اسْتَعَارَ اللُّؤْلُؤَ وَالنَّرْجِسَ وَالْوَرْدَ وَالْعُنَّابَ وَالْبَرَدَ، پس شاعر نے مستعار لیا لؤلؤ کے لفظ کو اور نرگس کے لفظ کو اور ورد کو اور عناب کو اور برد کو، ان لفظوں کو مستعار لیا، کس کے لیے؟ لِلدُّمُوعِ وَالْعُيُونِ وَالْخُدُودِ وَالْأَنَامِلِ وَالْأَسْنَانِ، آنسوؤں کے لیے، اور آنکھوں کے لیے، اور رخساروں کے لیے، اور پوروں کے لیے، وَالْأَسْنَانِ اور کس کے لیے؟ دانتوں کے لیے۔ تو ترتیب سے صاحبِ کتاب ذکر کر رہے ہیں: مستعار لیا کس کو؟ لؤلؤ کو، اور کس کے لیے لیا؟ وہاں دوسری طرف پہلے نمبر پر کیا ہے؟ دموع یعنی آنسوؤں کے لیے۔ وَالنَّرْجِسَ، اور نرگس کو مستعار لیا کس کے لیے؟ عیون یعنی آنکھوں کے لیے۔ وَالْوَرْدَ، اور گلاب کو مستعار لیا کس کے لیے؟ خدود، رخساروں کے لیے۔ وَالْعُنَّابَ، عناب کو مستعار لیا کس کے لیے؟ انامل یعنی پوروں کے لیے۔ اور برد کو مستعار لیا کس کے لیے؟ اسنان یعنی دانتوں کے لیے۔ تو اس اس استعارے میں مشبہ بہ ہی صرف ذکر ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ استعارہ مصرحہ اور استعارہ تصریحیّہ بھئی۔ یہ پہلی قسم تھی۔
دوسری قسم ہے مکنیہ، تو استعارہ تقسیم ہوتا ہے مصرحہ کی طرف: وَإِلَى مَكْنِيَّةٍ، اور کس کی طرف؟ استعارہ مکنیہ کی طرف، اور اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ۔ تو یہ کس کو کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهِيَ: مَا حُذِفَ فِيهَا الْمُشَبَّهُ بِهِ، یہ وہ استعارہ ہے جس کے اندر مشبہ بہ کو حذف کر لیا جائے، اور کون ذکر ہو؟ مشبہ۔ تو جس میں مشبہ بہ کو حذف کر لیا جائے، وَرُمِزَ إِلَيْهِ، اور اس مشبہ بہ کی طرف اشارہ کیا جائے، رمز کہتے ہیں اشارے کو، وَرُمِزَ إِلَيْهِ اور اس مشبہ بہ کی طرف اشارہ کیا جائے، بِشَيْءٍ مِنْ لَوَازِمِهِ، اس کے لوازم میں سے کسی چیز کے ذریعے، مشبہ بہ کو تو حذف کر لیا گیا لیکن مشبہ بہ کے ساتھ جو چیزیں لازم ہیں ان میں سے کسی ایک کو ذکر کر کے اس مشبہ بہ کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے جو محذوف ہے۔ کس کو ذکر کرتے ہیں؟ عبارت میں تو مشبہ ذکر ہوگا استعارے کے اندر، اور مشبہ بہ محذوف، لیکن مشبہ بہ کے ساتھ جو چیزیں لازم ہیں ان میں سے کسی ایک چیز کو ذکر کر کے کس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے؟ مشبہ بہ کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے۔
كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ۔ خَفَضَ يَخْفِضُ کے معنی ہوتے ہیں پست کرنا، جھکا دینا۔ تو والدین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اے مخاطب: وَاخْفِضْ لَهُمَا، تو جھکا دے ان دونوں کے لیے، جَنَاحَ الذُّلِّ، ذُلٌّ، ذال کے ساتھ، ذُلٌّ کا معنی ہے نرمی، عاجزی اور انکساری بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ذُلٌّ کا کیا معنی؟ نرمی اور عاجزی بھئی۔ اور جناح کہتے ہیں پر کو، پرندے کا جو پر ہوتا ہے۔ تو والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تو اللہ فرماتے ہیں: وَاخْفِضْ لَهُمَا، کہ آپ کیا کیجیے؟ جھکا دیجیے ان دونوں کے لیے جَنَاحَ الذُّلِّ، عاجزی کے پر کو، عاجزی کے بازو کو ان کے لیے کیا کیجیے؟ جھکا دیجیے، مِنَ الرَّحْمَةِ، یہ مِن بمعنی لام کے ہے، أَيْ لِلرَّحْمَةِ، رحمت کی وجہ سے یعنی بطورِ شفقت کے، بطورِ شفقت کے اور مہربانی کے والدین کے لیے اپنے عاجزی کے بازو جھکا دیجیے، عاجزی کے بازو جھکا دیجیے، عاجزی کے پر جھکا دیجیے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ، اور تم جھکا دو والدین کے لیے، ہما ضمیر کس کو راجع؟ والدین، اور تم جھکا دو اپنے والد والدین کے لیے جَنَاحَ الذُّلِّ، عاجزی کے بازو کو مِنَ الرَّحْمَةِ، کس کے ساتھ؟ کس وجہ سے؟ رحمت کی وجہ سے، بطورِ شفقت کے۔
تو اب دیکھیے بھئی، یہاں استعارہ بالکنایہ کس طرح ہے؟ بھئی ذُلٌّ کا معنی ہے عاجزی، عاجزی، اور اس ذل کو تشبیہ دی گئی پرندے کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ پرندے کے ساتھ۔ اور تو ذل ہوا مشبہ، اور پرندہ کیا ہوا؟ مشبہ بہ بھئی، مشبہ بہ۔ پھر اس پرندے کا جو لفظ تھا "طائر"، توجہ سے سننا مشکل بات ہے، بھئی نرمی کے لیے تو کیا لفظ استعمال ہوتا ہے؟ ذل، اور پرندے کے لیے کیا لفظ استعمال ہوتا ہے؟ طائر، تو اس طائر کے لفظ کو مستعار لے لیا گیا ذل کے لیے یعنی عاجزی کے لیے، اس طائر کے لفظ کو مستعار لے لیا گیا کس معنی کے لیے؟ عاجزی کے لیے، عاجزی کے لیے، تو استعارہ آ گیا۔ استعارہ بھی کس کو کہتے تھے کہ لفظ کو اپنے معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا، تو طائر کا لفظ لے لیا اور کیا معنی مراد لیا اس سے؟ ذل یعنی عاجزی مراد لی، کس کیا معنی مراد لیا؟ عاجزی مراد لی، تو استعارہ آ گیا۔
پھر یہ لفظ جس کو مستعار لیا گیا تھا یعنی طائر کا لفظ، اس کو حذف کر دیا گیا، دیکھو یہ یہاں پر ذکر نہیں ہے، ذکر نہیں ہے۔ اور اس کا ایک لازم جو تھا اس کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا، مشبہ بہ کا لازم، اور وہ ہے جناح، پر، پر۔ پر پرندے کے ساتھ لازم ہے، ہر پرندے کے کیا ہوتے ہیں؟ پر ہوتے ہیں، تو پر پرندے کے ساتھ لازم ہیں۔ تو مشبہ بہ کے لازم کو ذکر کر کے مشبہ بہ کی طرف اشارہ کر دیا گیا جو کہ محذوف ہے۔ مشبہ بہ ذکر ہے یہاں پر؟ نہیں، یعنی طائر تو یہاں ذکر نہیں، اور اس کی طرف کس کے ذریعے اشارہ کر دیا گیا؟ جناح، کیونکہ عاجزی کے پر نہیں ہوتے، پر کس کے ہوتے ہیں؟ پرندے کے ہوتے ہیں، تو یہ پر کا لفظ بتلا رہا ہے، جناح کا لفظ بتلا رہا ہے کہ یہاں پر استعارہ بالکنایہ ہے بھئی۔
کیا ہے؟ استعارہ، توجہ ہے سبق کی طرف؟ کیا کیا گیا یہاں پر؟ عاجزی کو اور نرمی کو تشبیہ دی گئی کس کے ساتھ؟ پرندے کے ساتھ۔ تو عاجزی ہوئی مشبہ اور پرندہ ہوا مشبہ بہ، اور مشبہ بہ کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے "طائر"، اس کو مستعار لے لیا گیا کس کے لیے؟ عاجزی کے لیے۔ تو طائر کا لفظ لے لیا اور کس کے لیے استعمال کر لیا؟ عاجزی کے لیے، تو لفظ معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا، تو یہ ہے یہ ہو گیا استعارہ، استعارہ۔ اور پھر اس لفظ کو حذف کر دیا گیا، کیا کر دیا گیا؟ حذف کر، جس کو ہم نے مستعار لیا تھا اسی کو کیا کر دیا گیا؟ حذف کر دیا گیا، اور اس کی طرف اشارہ کس کے ذریعے کر دیا گیا؟ اس کے ایک لازم کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا کہ یہ لفظ مستعار لیا گیا تھا اس معنی کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کس کے ذریعے اشارہ کیا گیا؟ جناح کے لفظ کے ذریعے، کیونکہ آیت میں کیا آیا کہ والدین کے لیے عاجزی کے پر جھکا دو۔ بھئی عاجزی کے تو پر نہیں ہوتے، پر تو کس کے ہوتے ہیں؟ پرندے کے، تو یہ قرینہ ہے، یہ کیا ہے؟ یہ پر کا لفظ جو ذکر کیا گیا یہ قرینہ ہوتا ہے استعارہ بالکنایہ کے لیے۔ اور یاد رکھیے یہ جو پر کو ذکر کیا گیا اس کو کہتے ہیں استعارہ تخییلیہ، استعارہ تخییلیہ، اس کا بھی یہ آگے ذکر کریں گے بھئی، کہ اس کو استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں۔ اور یاد رکھو استعارہ بالکنایہ کے لیے استعارہ تخییلیہ ہمیشہ اس کے لیے قرینہ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ قرینہ ہوگا بھئی، استعارہ بالکنایہ کے ساتھ قرینہ کیا ہوگا؟ استعارہ تخییلیہ۔ یہ جو مشبہ بہ کا لازم جو ذکر کیا جاتا ہے نا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ پر کا ذکر یہاں بتلا رہا ہے کہ معلوم کہ عاجزی کے پر، نرمی کے پر، نرمی کے تو پر نہیں ہوتے، معلوم ہوا نرمی کو کس سے تشبیہ دی گئی ہے؟ پرندے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ قرینہ ہے اس پر اور اس کو استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں۔ تو ذل کے اندر ہوا استعارہ بالکنایہ، الذل اس کے اندر کیا ہوا؟ استعارہ بالکنایہ، اور جناح یہ کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ ہے بھئی، استعارہ تخییلیہ۔ تو عبارت میں مشبہ بہ کو حذف کرنا اور مشبہ کو ذکر کر دینا اور پھر مشبہ بہ کے کسی لازم کو اس کے ساتھ ذکر کرنا بطورِ قرینے کے، تو یہ جو مشبہ بہ کو حذف کیا گیا اور مشبہ کو ذکر کیا گیا اس کو کہتے ہیں استعارہ بالکنایہ، اور اس کے لیے قرینہ کیا ہوتا ہے؟ وہ جو مشبہ بہ کے لازم کو ذکر کیا گیا، بھئی وہ تو مشبہ بہ کا لازم ہے، اس مشبہ یعنی ذل کا لازم تو نہیں، تو اس کو تو مشبہ بہ کا جو لازم ذکر کیا جاتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو دوبارہ اب دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَإِلَى مَكْنِيَّةٍ، اور استعارہ تقسیم ہوتا ہے مکنیہ کی طرف، وَهِيَ: مَا حُذِفَ فِيهَا الْمُشَبَّهُ بِهِ، یہ وہ استعارہ ہے جس کے اندر مشبہ بہ کو حذف کر لیا گیا ہو، وَرُمِزَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ مِنْ لَوَازِمِهِ، اور اشارہ کیا جائے اس مشبہ بہ کی طرف اس کے لوازم میں سے کسی چیز کے ذریعے، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ، جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ اور تو اپنے والدین کے لیے جھکا دے عاجزی کے پر شفقت کی وجہ سے، ان کے لیے عاجزی کے پر جھکا دے شفقت کی وجہ سے یعنی بطورِ شفقت کے۔
فَقَدِ اسْتَعَارَ الطَّائِرَ لِلذُّلِّ، پس تحقیق مستعار لیا طائر کے لفظ کو للذل، کس کے لیے؟ ذل کے لیے، عاجزی کے لیے، ثُمَّ حَذَفَهُ، پھر اس کو کیا کر دیا؟ اس مستعار کو حذف کر دیا، وَدَلَّ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ مِنْ لَوَازِمِهِ، اور دلالت کی اس محذوف مستعار پر بشيء من لوازمه، اس کے لوازم میں سے ایک چیز کے ذریعے، وَهُوَ الْجَنَاحُ، اور وہ کیا ہے؟ جناح یعنی پر ہیں، وَإِثْبَاتُ الْجَنَاحِ لِلذُّلِّ، اور یہ جو پروں کو ثابت کیا پروں کو ثابت کرنا ہے للذل، کس کے لیے؟ ذل کے لیے، يُسَمُّونَهُ اسْتِعَارَةً تَخْيِيلِيَّةً، اس کو جو ہیں علمائے بلاغت استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں۔
تو معلوم ہوا کہ استعارہ دو قسم پر ہے: ایک استعارہ مصرحہ اور ایک استعارہ بالکنایہ۔ استعارہ مصرحہ جس کے اندر کس کو ذکر کیا جائے؟ مشبہ بہ کو ذکر کیا جائے، اور استعارہ بالکنایہ اس کے اندر مشبہ کو ذکر کیا جائے گا اور مشبہ بہ کو حذف کیا جائے گا، اور مشبہ کے لیے مشبہ بہ کے لازم کو ثابت کر دیا جائے گا، اور یہ جو مشبہ کے لیے مشبہ بہ کا لازم ثابت کیا جائے اس کو کہتے ہیں استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
بھئی یہ تھا جمہور کا مذہب، جمہور استعارہ بالکنایہ کی یہ تعریف کرتے ہیں۔ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ جمہور یہ تعریف کرتے ہیں، جمہور یہ کہتے ہیں کہ استعارہ بالکنایہ میں کیا ہوتا ہے؟ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے، اور عبارت میں، کلام میں مشبہ ذکر کرتے ہیں، کس کو؟ مشبہ، یعنی جس کو تشبیہ دی جا رہی ہے، تو اس چیز کو تشبیہ دی گئی ہے دوسری چیز کے ساتھ اور اس مشبہ بہ کے لفظ کو پھر مستعار لے لیا گیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، اور پھر اس مستعار کو حذف کر لیا گیا، ذکر نہیں کیا گیا، ذکر نہیں کیا گیا، ہاں اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا، کس کے ذریعے؟ اسی کے ایک لازم کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ مشبہ کے لیے، جیسے یہاں پر عاجزی کے لیے پر ثابت کر دیے گئے، حالانکہ یہ ظاہر سی بات ہے کہ پر عاجزی کے نہیں ہوا کرتے، پر تو کس کے ہوتے ہیں؟ پرندے کے ہوتے ہیں، تو یہ قرینہ ہوتا ہے، یہ ہمیں بتلاتا ہے کہ یہاں استعارہ بالکنایہ ہے، استعارہ بالکنایہ ہے۔ تو اس کو استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں۔
جبکہ بعض علماء کا بھئی، بلاغت کے بڑے علماء میں سے بعض علماء کا مذہب وہ بڑا آسان ہے استعارہ بالکنایہ میں اور اس سے بات انسان کو جلدی سمجھ بھی آ جاتی ہے بھئی۔ وہ کہتے ہیں استعارہ بالکنایہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک چیز کی دوسری چیز کے ساتھ دل میں تشبیہ دی جائے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ ایک چیز کی دوسری چیز کے ساتھ دل میں تشبیہ دی جائے، اور مشبہ مثلاً عبارت میں ذکر ہے لیکن دل میں اس کی تشبیہ کس کے ساتھ دے دی ہے؟ مشبہ بہ کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ مشبہ بہ کے ساتھ دل میں ہی تشبیہ دی ہے، اور پھر اس پر قرینہ کیا قائم کر دیا جاتا ہے کہ مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کر دیا جاتا ہے۔
دیکھو آسان بات ہو گئی۔ تشبیہ کس میں ہے؟ یہاں پر دیکھو جیسے جناح، مثلاً میں کلام کرتا ہوں اور مثال سے وضاحت ہوگی، میں کہتا ہوں: أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا، أَنْشَبَتْ، أنشب کے معنی ہیں گاڑ دینا۔ اَلْمَنِيَّةُ، یہ موت کو کہتے ہیں۔ موت نے گاڑ دیئے، أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ، موت نے گاڑ دیئے، أَظْفَارَهَا، اظفار ظفر کی جمع ہے، ناخن کو کہتے ہیں، مراد پنجہ ہے۔ أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا، موت نے اپنے ناخن گاڑ دیئے، اردو میں با محاورہ یوں کہیں: موت نے اپنے پنجے گاڑ دیئے، موت نے؟ تو أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا، موت نے اپنے پنجے گاڑ دیئے۔
اب دیکھیے بھئی، یہاں پر موت کو تشبیہ دی گئی ہے درندے کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ۔ تو کس کو تشبیہ دی گئی؟ موت کو، اور کس سے تشبیہ دی گئی؟ درندے سے، اور عبارت میں کون ذکر ہے؟ موت کا ذکر ہے یعنی مشبہ کا ذکر ہے، مشبہ بہ کا ذکر نہیں ہے، مشبہ بہ کا ذکر نہیں ہے۔ اور ہمیں کیسے پتہ چلا کہ یہاں موت کو درندے سے تشبیہ دی گئی ہے؟ ہم کوئی عالم الغیب تو نہیں، کیونکہ تشبیہ تو کس میں دی گئی ہے؟ دل میں دی گئی ہے، کس میں؟ دل میں تشبیہ دی گئی ہے، یہاں تو کوئی اور چیز ذکر نہیں، تو پھر اس پر قرینہ جو ہے کہ وہ جو مشبہ بہ ہوتا ہے اس کے لازم کو کس کے لیے ثابت کر دیا جاتا ہے؟ مشبہ کے لیے ثابت کر دیا جاتا ہے، جیسے موت نے پنجے گاڑ دیئے، بھئی پنجے تو موت کے نہیں ہوتے، پنجے تو کس کے ہوتے ہیں؟ درندے کے ہوتے ہیں، تو یہ پنجوں کا لفظ بتلا رہا ہے کہ معلوم ہوا یہاں پر کہنے والے نے موت کو کس سے تشبیہ دی ہے؟ درندے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔
تو موت کے اندر ہوا استعارہ بالکنایہ، موت کے اندر کیا ہوا؟ اور جو پنجے اس کے لیے موت کے لیے ثابت کیے گئے، وہ پنجے جو درندے کے ساتھ لازم ہیں، مشبہ بہ کے لازم کو ذکر کیا جاتا ہے ثابت کیا جاتا ہے، تو جو مشبہ بہ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کیا گیا؟ مشبہ کے لیے، اس کو استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ فرق سمجھ میں آیا دونوں تعریفوں میں کہ نہیں؟ یہ بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ یہ ان کی تعریف بڑی آسان ہے کہ استعارہ بالکنایہ اس کو کہتے ہیں کہ دل میں ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دی جائے اور اور اس پر قرینہ کیا ہو؟ مشبہ کے لا مشبہ بہ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کر دیا جائے؟ مشبہ کے لیے، جیسے یہاں پر موت کے لیے پنجے ثابت کر دیے گئے، یہ پنجے بتلا رہے ہیں کہ موت کو درندے سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ پنجے درندے کے ہوتے ہیں، موت کے نہیں۔ دیکھو آسان سی تعریف، سمجھ میں آ گئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ استعارہ بالکنایہ، اور یہ پنجے جو ثابت کیے موت کے لیے حالانکہ یہ تو ہوتے درندے کے ہیں، تو درندے کے ساتھ جو ایک چیز لازم تھی اس کو مشبہ کے لیے یعنی موت کے لیے ثابت کر دیا گیا، اس کو کہتے ہیں استعارہ تخییلیہ۔ جبکہ جمہور کا مذہب کیا تھا؟ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دی گئی، پھر مشبہ بہ کے لفظ کو مستعار لیا گیا اور کس کے لیے استعمال کیا گیا؟ مشبہ کے لیے استعمال کیا گیا، اور پھر اس مستعار کو حذف کر دیا گیا، ذکر ہے کہیں پر بھئی یہاں؟ جی، پھر اس کو حذف کر دیا گیا اور پھر اس کی طرف اشارہ کس کے ذریعے کیا گیا؟ مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ذکر کرتے ہوئے اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا بھئی۔ تو بہرحال دونوں تعریفیں ہیں جو آپ کو پسند آئے بھئی۔
یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو بس استعارے کی یہ دو قسمیں ہیں۔ یا استعارے میں ذکر تو ایک ہی چیز ہونی ہے: یا مشبہ ذکر ہونا ہے یا مشبہ بہ۔ تو اگر مشبہ ذکر ہو تو یہ استعارہ بالکنایہ ہے، اور اگر مشبہ بہ ذکر ہے تو یہ استعارہ مصرحہ ہے یا تصریحیّہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے اب الگ تقسیم کرنے لگے ہیں: وَتَنْقَسِمُ الِاسْتِعَارَةُ إِلَى أَصْلِيَّةٍ، ایک سطر بعد ہے: وَإِلَى تَبَعِيَّةٍ، اور تقسیم ہوتا ہے استعارہ اصلیہ کی طرف اور تبعیہ کی طرف۔ یہ الگ تقسیم ہے، استعارہ کی ایک الگ تقسیم کر رہے ہیں کہ استعارہ یا اصلیہ ہوگا یا تبعیہ ہوگا۔ وَتَنْقَسِمُ الِاسْتِعَارَةُ إِلَى أَصْلِيَّةٍ وَإِلَى، تو استعارہ کی یہ الگ تقسیم کر رہے ہیں کہ استعارہ تقسیم ہوتا ہے اصلیہ کی طرف اور تبعیہ کی طرف۔ استعارہ اصلیہ کسے کہیں گے؟ استعارہ تبعیہ کسے کہیں گے؟ آسان ہے، یہ آپ کو بتائیں گے کہ اگر استعارہ فعل کے اندر ہو، یا مشتق کے اندر ہو، یا حرف کے اندر ہو تو اس کو استعارہ تبعیہ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ استعارہ تبعیہ کہیں گے، اور اگر استعارہ وہ ان کے علاوہ میں ہو تو اس کو استعارہ اصلیہ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ استعارہ اصلیہ کہیں گے۔
تو استعارہ اصلیہ وہ ہے جہاں پر وہ لفظ جس کو آپ نے مستعار لیا، وہ لفظ جس کو؟ بھئی استعارے میں لفظ مستعار لیا جائے گا یا نہیں؟ مستعار، تو وہ لفظ جو مستعار لیا ہے اگر وہ فعل کا صیغہ ہے، فعلِ ماضی ہے یا مضارع ہے یا امر ہے یا نہی ہے، جو بھی ہے، فعل ہے، یا مشتق ہے، وہ کیا ہے؟ مشتق، آپ جانتے ہیں مصدر سے بارہ چیزوں کا اشتقاق ہوتا ہے: فعلِ ماضی کا بھی، فعلِ مضارع کا بھی، امر بھی، نہی بھی، ظرفِ زمان بھی، ظرفِ مکان بھی، اسمِ آلہ وغیرہ، اسمِ فاعل، اسمِ مفعول وغیرہ، ان سب کا اشتقاق کس سے ہوتا ہے؟ مصدر سے، مصدر سے۔ تو یہ مشتقات ہیں۔ تو اگر مستعار وہ کوئی مشتق ہو یعنی فعل ہو کیونکہ فعل کا بھی کیا ہوتا ہے؟ مصدر سے اشتقاق، یا اسمِ فاعل، اسمِ مفعول یا اسمِ ظرف وغیرہ میں سے کوئی صیغہ ہو یعنی مشتق کا صیغہ ہو، یا مستعار حرف ہو تو اس کو کہیں گے استعارہ تبعیہ، کیا کہیں گے؟ استعارہ تبعیہ۔ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی مشتق یا حرف نہ ہو مستعار تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ استعارہ اصلیہ کہیں گے۔
توجہ ہے سبق کی طرف؟ استعارہ اصلیہ کس کو کہتے ہیں جس میں مستعار مشتق بھی نہ ہو اور حرف بھی نہ ہو، اور استعارہ تبعیہ اس کو کہتے ہیں جس میں مستعار مشتق ہو یا یا حرف ہو۔ مشتق میں دونوں آ گئے، فعل بھی آ گیا اور اسم بھی آ گئے، اسمِ فاعل، اسمِ مفعول وغیرہ جتنے مشتقات ہیں وہ بھی آ گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دوبارہ دہرائیں: استعارہ اصلیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں مستعار مشتق بھی نہ ہو اور حرف بھی نہ ہو، وہ لفظ جس میں استعارہ ہے وہ فعل بھی نہ ہو، مشتق بھی نہ ہو، کوئی اسمِ مشتق بھی نہ ہو اور حرف بھی نہ ہو۔ اور استعارہ تبعیہ کس کو کہتے ہیں؟ جس میں مستعار مشتق ہو، چاہے فعل ہو چاہے کوئی اسم ہو، اور یا حرف ہو بھئی۔
یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَتَنْقَسِمُ الِاسْتِعَارَةُ إِلَى أَصْلِيَّةٍ، اور استعارہ تقسیم ہوتا ہے اصلیہ کی طرف، وَهِيَ: مَا كَانَ فِيهَا الْمُسْتَعَارُ اسْمًا غَيْرَ مُشْتَقٍّ، اور یہ وہ استعارہ ہے جس کے اندر مستعار جو ہو وہ ایسا اسم ہو غَيْرَ مُشْتَقٍّ جو مشتق نہ ہو بھئی، كَاسْتِعَارَةِ الظَّلَامِ لِلضَّلَالِ وَالنُّورِ لِلْهُدَى، جیسے کہ ظلام کا استعارہ ہے ضلال یعنی گمراہی کے لیے، وہ آیت میں کیا ایا تھا؟ "مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ"، تاریکیوں سے روشنی کی طرف، اور مراد کیا تھا؟ گمراہیوں سے ہدایت کی طرف، تو وہاں ظلام بول کر کیا مراد تھا؟ ضلال یعنی گمراہی مراد تھی، تو یہ جو ظلام کا استعارہ ہوا ضلال کے لیے، اسی طرح وَالنُّورِ لِلْهُدَى، اور نور کا جو استعارہ ہے کس کے لیے؟ ہدایت کے لیے، یہ استعارہ اصلیہ ہے۔ کیونکہ ظلام ظلام تاریکی کو کہتے ہیں اور ظلام یہ مشتق نہیں ہے، حرف بھی نہیں ہے اور مشتق بھی نہیں۔ اسی طرح نور، نور کا لفظ ایا اور نور کا لفظ یہ مشتق بھی نہیں ہے اور حرف بھی نہیں، تو یہ استعارہ اصلیہ ہوا۔
وَإِلَى تَبَعِيَّةٍ، اور استعارہ تقسیم ہوتا ہے تبعیہ کی طرف، جو تابع ہوتا ہے، تابع، اس کو تبعیہ کہتے ہیں، وَهِيَ: اور یہ وہ استعارہ ہے، مَا كَانَ فِيهَا الْمُسْتَعَارُ فِعْلًا، جس کے اندر مستعار فعل ہو، أَوْ حَرْفًا، یا حرف ہو، أَوِ اسْمًا مُشْتَقًّا، یا اسمِ مشتق ہو، نَحْوُ، مثال کے طور پر: فُلَانٌ رَكِبَ كَتِفَيْ غَرِيمِهِ، فلان، فلاں جو ہے، رَكِبَ وہ سوار ہوا، كَتِفَيْ غَرِيمِهِ، اصل میں تھا كَتِفَيْنِ، کَفْتٌ کندھے کو کہتے ہیں، كَتِفَيْنِ دو کندھے۔ غریم، غریم یاد رکھیے غریم کا معنی قرض خواہ کے بھی آتے ہیں اور مقروض کے بھی آتے ہیں۔ مثلاً بھئی آپ نے زید کے دس روپے دینے ہیں تو زید ہوا قرض خواہ اور آپ ہوئے مقروض، لیکن دونوں کے لیے عربی میں غریم کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مقروض کو بھی کیا کہتے ہیں؟ غریم، اور قرض خواہ کو بھی کیا کہتے ہیں؟ غریم کہتے ہیں۔
تو ایسا لفظ ایسا لفظ جس کے دو متضاد معانی آتے ہوں، اس کو کہتے ہیں یہ اضداد میں سے ہے، یہ لفظ کس میں سے ہے؟ الفاظِ الفاظِ اضداد میں سے ہے، ضد اضداد ضد ضد، تو اس کے دونوں معنی ایک دوسرے کی ضد ہیں، قرض خواہ اور مقروض دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، مقروض وہ ہے جس پر قرض ہے اور قرض خواہ وہ ہے جس نے قرض لینا ہے، وصول کرنا ہے، تو دیکھو ایک ہی لفظ کے دو متضاد معانی ہیں، ان اس قسم کے لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ کہ یہ کس میں سے ہے؟ یہ اضداد میں سے ہے، یعنی وہ لفظ ہے جس کے معنی متضاد آتے ہیں۔ تو عربی زبان میں بعض الفاظ ایسے ہیں جس کے دونوں قسم کے معنی اتے ہیں: ایک معنی آتا ہے تو اس کی ضد جو ہوتی ہے اس معنی کی، وہ بھی اسی لفظ کا معنی ہوتا ہے۔ جیسے بھئی اصول الشاشی میں بھی آپ پڑھ چکے: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ، اور مطلقہ عورتیں کیا کریں اپنے آپ کو کتنا عرصہ روکیں؟ تین قروء تک روکیں، تو یہ قروء کا لفظ یہ اضداد میں سے ہے، یہ طہر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور حیض کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور طہر اور حیض ایک دوسرے کی ضد ہیں، جب طہر ہوتا ہے تو حیض نہیں اور جب حیض ہے تو طہر نہیں، تو دیکھو ایک ہی لفظ کے دو متضاد معانی ہیں، تو ان اس کو کیا کہیں گے؟ یہ اضداد میں سے ہے، تو یہاں بھی یہ جو غریم کا لفظ آیا یہ اضداد میں سے ہے یعنی اس کے دونوں دو معنی اتے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
تو آپ کہتے ہیں: فُلَانٌ رَكِبَ كَتِفَيْ غَرِيمِهِ، فلاں اپنے مقروض کے کندھوں پر سوار ہو گیا، فُلَانٌ رَكِبَ كَتِفَيْ غَرِيمِهِ، فلاں اپنے مقروض کے کندھوں پر سوار ہو گیا۔ اب آپ مجھے بتائیے، یہ آپ اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں کہ تم تو میرے سر پر ہی سوار ہو گئے ہو، استعمال کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ اور وہ کیا حقیقت میں آپ کے سر پہ چڑھ کے بیٹھا ہوتا ہے؟ نہیں حقیقت میں تو نہیں، ہاں مراد کیا ہے کہ تم تو میرے پیچھے ہی پڑ گئے ہو، کیا مراد ہوتا ہے؟ میرے پیچھے ہی پڑ گئے ہو، تو یہ پیچھے پڑنا یعنی ایک ایک کا شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ لازم ہو جانا، اس کے لیے سوار ہونے کے لفظ کو استعمال کر لیا گیا، کون سا لفظ؟ سوار ہونے کے لفظ کو استعمال کر لیا گیا، تو اس کے اندر اور رَكِبَ کے اندر ہے، رَكِبَ سوار ہونا بول کر رَكِبَ بول کر کیا مراد ہے؟ پیچھے پڑنا، لازم ہونا، تو یہ اس میں استعارہ آیا، اور رَكِبَ کون سا صیغہ ہے؟ فعل ہے، فعلِ ماضی ہے، اور تو اور فعل کے اندر جو استعارہ ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ استعارہ تبعیہ کہتے ہیں، تو اس میں استعارہ تبعیہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیے بس بھئی، باقی انشاءاللہ کل کریں گے بھئی، چلیے بس بھئی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔