Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-069

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔69 وَإِمَّا تَزْيِينُهُ نَحْوُ: سَوْدَاءُ وَاضِحَةُ الْجَبِينِ كَمُقْلَةِ الظَّبْيِ الْغَرِيرِ شَبَّهَ سَوَادَهَا بِسَوَادِ مُقْلَةِ الظَّبْيِ تَحْسِينًا لَهَا. وَإِمَّا تَقْبِيحُهُ نَحْوُ: وَإِذَا أَشَارَ مُحَدِّثًا فَكَأَنَّهُ قِرْدٌ يُقَهْقِهُ أَوْ عَجُوزٌ تَلْطِمُ بھئی گزشتہ سبق میں تشبیہ کے اغراض و مقاصد ہم پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تشبیہ کی غرضوں کا تعلق عام طور پر مشبہ سے ہوتا ہے۔ اور چند غرضیں ہم نے پڑھی تھیں: ایک غرض انہوں نے یہ بیان کی تھی کہ تشبیہ کے ذریعے متکلم جو ہے وہ مشبہ کا امکان بیان کرنا چاہتا ہے کہ مشبہ ممکن ہے۔ اور کبھی تشبیہ کے ذریعے مشبہ کی حالت کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے، اور کبھی اس کی حالت کی مقدار کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے، اور کبھی مشبہ کی حالت کو ثابت کرنا مقصد ہوتا ہے۔ آج اگلا مقصد بیان کر رہے ہیں: وَإِمَّا تَزْيِينُهُ۔ زَيَّنَ يُزَيِّنُ تَزْيِين کا معنی ہے مزین کرنا، خوبصورت بنانا۔ وَإِمَّا تَزْيِينُهُ، یا تشبیہ کا مقصد جو ہے مشبہ کو مزین بنانا ہوتا ہے۔ کیا بنانا؟ مزین بنانا، خوبصورت بنانا۔ یعنی متکلم جو ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ، خوبصورت چیز کے ساتھ تشبیہ دے کر سننے والے کی نگاہوں میں بھی اس چیز کو خوبصورت بنانا چاہتا ہے۔ کیا بنانا چاہتا ہے؟ خوبصورت بنانا چاہتا ہے۔ اس کی خوبصورتی بیان نہیں کرنا چاہتا، یہاں بھی دیکھو "بیان" کا لفظ نہیں آیا۔ خوبصورتی کو بیان نہیں کرنا چاہتا بلکہ باقاعدہ اس کی نگاہوں میں اس کو خوبصورت بنانا چاہتا ہے، تو اس کی تشبیہ دیتا ہے ایک ایسی چیز کے ساتھ جس کی خوبصورتی سب کے نزدیک مسلم ہوتی ہے، سب اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: سَوْدَاءُ وَاضِحَةُ الْجَبِينِ كَمُقْلَةِ الظَّبْيِ الْغَرِيرِ شاعر اپنی محبوبہ کے حسن و جمال کی تعریف کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ وہ سیاہ آنکھوں والی ہے، اس کی آنکھیں کیا ہیں؟ سیاہ ہیں، کالی ہیں۔ سَوْدَاءُ، اس کی آنکھیں کیا ہیں؟ کالی ہیں۔ وَاضِحَةُ الْجَبِينِ، جبین کہتے ہیں پیشانی کو۔ وَاضِحَةُ الْجَبِينِ، واضح پیشانی والی، یعنی روشن پیشانی والی ہے۔ كَمُقْلَةِ الظَّبْيِ الْغَرِيرِ، كَمُقْلَةِ، کاف تشبیہ کے لیے، اور مقلہ، مقلہ یہ بھی آنکھ کو کہتے ہیں۔ اَلظَّبْيِ، ظَبْيٌ کہتے ہیں ہرن کو۔ اَلْغَرِيرِ بھئی غریر، غَرَّ يَغُرُّ غَرَارًا کے معنی ہوتے ہیں خوبصورت ہونا۔ اسی سے غریر صفتِ مشبہ ہے، غریر۔ یعنی جو خوبصورت ہو، اچھی ساخت والا ہو، اس کو کہتے ہیں غریر۔ تو شاعر کہتا ہے: سَوْدَاءُ وَاضِحَةُ الْجَبِينِ كَمُقْلَةِ الظَّبْيِ الْغَرِيرِ کہ اس کی آنکھیں سیاہ ہیں، آنکھیں سیاہ ہیں، وَاضِحَةُ الْجَبِينِ، روشن پیشانی والی ہے، كَمُقْلَةِ الظَّبْيِ الْغَرِيرِ، جیسے کہ خوبصورت ہرن کی آنکھ ہوتی ہے، جیسے خوبصورت ہرن کی آنکھیں ہوتی ہیں، اسی طرح اس کی آنکھیں بھی سیاہ ہیں، تو یہ تشبیہ آنکھ کی دراصل بیان کر رہا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ اس کی آنکھیں سیاہ ہیں، كَمُقْلَةِ الظَّبْيِ الْغَرِيرِ، کس کی طرح؟ خوبصورت ہرن کی آنکھوں کی طرح بھئی، خوبصورت ہرن کی آنکھوں کی طرح۔ اور یہ بھی یاد رکھیے یہ جو شعر کے اندر شعر انہوں نے درج کیا ہے یہ کتابت اس کی صحیح نہیں ہوئی بھئی۔ یہ جبین کا نون جو ہے نا نون، یہ اگلے مصرعے کے اندر ہے، اگلے مصرعے میں: "وَاضِحَةُ الْجَبِيـ" یہ حصہ پہلے مصرعے میں ہے اور نون، نون کو انہوں نے پہلے مصرعے میں لکھ دیا ہے حالانکہ یہ نون اگلے مصرعے کے ساتھ ہونا چاہیے تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں میری محبوبہ جو ہے روشن پیشانی والی اور کالی آنکھوں والی ہے، جیسے کہ خوبصورت ہرن کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ بھئی ہرن کی آنکھیں وہ تو خوبصورتی کے اندر ضرب المثل کے طور پر بیان کی جاتی ہیں، بے انتہا خوبصورت آنکھیں اس کی ہوتی ہیں اور شاعر اب اس کے ساتھ اپنی محبوبہ کی آنکھوں کی تشبیہ دے رہا ہے۔ کس لیے؟ مقصد کیا ہے؟ کہ سننے والے کے ذہن میں اپنی محبوبہ کو خوبصورت بنا رہا ہے بھئی، اس کی آنکھوں کو خوبصورت بنا رہا ہے، تو یہ ہے تزیین بھئی۔ تو کہتے ہیں: شَبَّهَ سَوَادَهَا بِسَوَادِ مُقْلَةِ الظَّبْيِ تَحْسِينًا لَهَا، شاعر نے تشبیہ دی ہے سَوَادَهَا، اس محبوبہ کی آنکھوں کی سیاہی کو، بِسَوَادِ مُقْلَةِ الظَّبْيِ، ہرن کی آنکھوں کی سیاہی کے ساتھ، تَحْسِينًا لَهَا، اس کو خوبصورت بنانے کے لیے۔ وَإِمَّا تَقْبِيحُهُ، جی اگلا مقصد آیا۔ اور کبھی اس کا عکس ہوتا ہے، بعض اوقات تشبیہ بیان کی جاتی ہے ایک چیز کو بدصورت بنانے کے لیے، بدشکل بنانے کے لیے۔ تو متکلم جو ہے وہ ایک چیز کی بدصورتی بیان نہیں کر رہا بلکہ کیا کر رہا ہے؟ دوسرے کی نگاہ میں اس کو باقاعدہ بدصورت بنانا چاہتا ہے، تو اس لیے وہ تشبیہ کا سہارا لیتا ہے۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: وَإِذَا أَشَارَ مُحَدِّثًا فَكَأَنَّهُ قِرْدٌ يُقَهْقِهُ أَوْ عَجُوزٌ تَلْطِمُ وَإِذَا أَشَارَ، اور جب وہ اشارہ کرتا ہے وہ شخص، مُحَدِّثًا، اس حال میں کہ وہ باتیں کر رہا ہو، یعنی جب وہ باتیں کرتے ہوئے اشارہ کرتا ہے، فَكَأَنَّهُ، تو گویا کہ وہ شخص جو ہے، قِرْدٌ، بندر ہے، يُقَهْقِهُ، قَهْقَهَ يُقَهْقِهُ کے معنی ہیں قہقہہ لگانا۔ اور قِرْدٌ نکرہ ہے اور اس کے بعد يُقَهْقِهُ فعل آیا، تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ تو گویا کہ وہ قِرْدٌ يُقَهْقِهُ، ایسا بندر ہے جو قہقہہ لگا رہا ہو، جو ہنس رہا ہو۔ أَوْ عَجُوزٌ تَلْطِمُ، عجوز کہتے ہیں بڑھیا کو بھئی، بوڑھی عورت۔ تَلْطِمُ، لَطَمَ يَلْطِمُ کے معنی ہیں تھپڑ مارنا۔ تو عَجُوزٌ نکرہ ہے اور تَلْطِمُ اس کے بعد فعل آیا تو یہ نکرہ کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ أَوْ عَجُوزٌ تَلْطِمُ، یا وہ ایسی بڑھیا ہے جو اپنے چہرے کو پیٹ رہی ہو، تھپڑ مار رہی ہو، مراد ہے اپنے چہرے پہ تھپڑ مار رہی ہو۔ تو کیا کر؟ ایسی بڑھیا جو اپنے آپ کو، اپنے چہرے کو پیٹ رہی ہو۔ وَإِمَّا تَقْبِيحُهُ، یا مشبہ کو جو ہے بدشکل بنانا مقصد ہوتا ہے، نَحْوُ، مثال کے طور پر: وَإِذَا أَشَارَ مُحَدِّثًا فَكَأَنَّهُ قِرْدٌ يُقَهْقِهُ أَوْ عَجُوزٌ تَلْطِمُ اور جب وہ شخص باتیں کرتے ہوئے اشارہ کرتا ہے تو گویا کہ وہ ایسا بندر ہے جو قہقہہ لگا رہا ہو یا ایسی بڑھیا ہے جو پیٹ رہی ہو یعنی اپنے چہرے کو۔ وَقَدْ يَعُودُ الْغَرَضُ إِلَى الْمُشَبَّهِ بِهِ، اور کبھی کبھار تشبیہ کی غرض وہ لوٹتی ہے مشبہ بہ کی طرف۔ بھئی تشبیہ میں عام طور پر غرض کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ مشبہ سے، لیکن کبھی کبھار یہ غرض مشبہ بہ کی طرف لوٹتی ہے، اس سے اس کا تعلق ہوتا ہے، مشبہ سے نہیں بلکہ مشبہ بہ سے۔ کب؟ إِذَا عُكِسَ طَرَفَا التَّشْبِيهِ، أَيْ طَرَفَانِ التَّشْبِيهِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، جب عکس کر دی جائیں، الٹ دی جائیں تشبیہ کی دو طرفیں۔ تشبیہ کی دونوں طرفوں کو جب الٹ دیا جائے، بھئی دیکھیے، ایک ہے مشبہ ایک ہے مشبہ بہ، اور یاد رکھیے وجہِ تشبیہ کے اندر جو مشبہ بہ ہوتا ہے وہ اعلیٰ اور قوی ہوتا ہے، اعلیٰ اور قوی ہوتا ہے۔ میں نے کہا: "زَيْدٌ كَالْأَسَدِ"، زید کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے۔ کس چیز میں؟ بہادری میں۔ اب شیر کی بہادری اعلیٰ درجے کی ہے، سب اس کو تسلیم کرتے ہیں، اور میں ثابت کرنا چاہتا تھا زید کے لیے بھی بہادری، اسی لیے میں نے اس کو شیر کے ساتھ تشبیہ دی اس کی بہادری کو ثابت کرنے کے لیے، کیونکہ جب یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ شیر جیسا ہے تو اس کی بہادری بھی ثابت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو مشبہ بہ اعلیٰ ہوتا ہے، تو میں نے زید کی بہادری بیان کی اور کہا کہ وہ شیر جیسا ہے۔ اب مجھے یہ بتائیے بہادری زید میں زیادہ ہے یا شیر میں زیادہ ہے؟ شیر میں زیادہ ہے، تو اسی لیے اس تشبیہ کا فائدہ ہوگا کہ اعلیٰ چیز کے ساتھ جب تشبیہ دی، قوی چیز کے ساتھ تشبیہ دی، معلوم ہوا اس میں بھی بڑی اعلیٰ درجے کی بہادری ہے، اس زید میں بھی بڑی۔ ادنیٰ درجے کے ساتھ اگر میں تشبیہ دوں گا پھر اس کا اس کا مرتبہ بڑھے گا زید کا یا کم ہو جائے گا؟ پھر تو کم ہوگا، سمجھ میں آئی بات؟ تو تشبیہ کس کے ساتھ دی جاتی ہے؟ اعلیٰ چیز اور قوی چیز کے ساتھ، یہ ایک مسلم بات ہے بھئی، سب کو معلوم ہے یہ بات۔ لیکن کبھی کبھار کہنے والا اس کا عکس کر دیتا ہے: مشبہ کو اٹھا کر مشبہ بہ بنا دیتا ہے، اور مشبہ بہ کو اٹھا کر مشبہ بنا دیتا ہے۔ تو دیکھو عکس کر دیا، الٹا دیا تشبیہ کی دونوں جانبوں کو۔ مشبہ کو اٹھا کر کیا بنا دیا؟ مشبہ بہ، اور مشبہ بہ کو کیا بنا دیا؟ مشبہ بنا دیا۔ یہ بتلانے کے لیے کہ مشبہ بہ کہ مشبہ، یعنی وہ جو پہلے مشبہ تھا جس کو اب ہم نے کیا بنا دیا؟ مشبہ بہ، وہ اس وصف میں نہایت کامل اور اعلیٰ درجے کا ہے، حتیٰ کہ اس مشبہ بہ جو پہلے تھا اس سے بھی یہ بڑھ کر ہے بھئی۔ دیکھو مثال سے وضاحت ہوگی، نَحْوُ، مثال کے طور پر: وَبَدَا الصَّبَاحُ كَأَنَّ غُرَّتَهُ بَدَا يَبْدُو کے معنی ظاہر ہونے کے۔ وَبَدَا الصَّبَاحُ اور صبح ظاہر ہوئی، كَأَنَّ غُرَّتَهُ غُرَّةٌ، یہ گھوڑے کی پیشانی پر ایک درہم کے بقدر سفید نشان ہوتا ہے، سفید بال ہوتے ہیں اگر آپ نے غور کیا ہو بھئی، تو اس کو غُرَّةٌ کہتے ہیں، پھر اس کو ہر روشن چیز کے لیے استعمال کرنے لگے۔ تو یہاں صبح کی وہ سفیدی مراد ہے، صبح کی وہ روشنی مراد ہے۔ وَبَدَا الصَّبَاحُ كَأَنَّ غُرَّتَهُ وَجْهُ الْخَلِيفَةِ اور صبح ظاہر ہوئی گویا کہ صبح کی سفیدی جو ہے وہ خلیفہ کا چہرہ ہے، وَجْهُ الْخَلِيفَةِ، خلیفہ کا۔ شاعر خلیفہ کی تعریف کر رہا ہے، تو کہتا ہے صبح کی وہ جو سفیدی ہے گویا کہ وہ خلیفہ کا چہرہ ہے، حِينَ يُمْتَدَحُ، جبکہ اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ یَمتَدِحُ نہیں بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے، یہ جو اعراب ہیں غلط لگے ہوئے ہیں، یُمْتَدَحُ: حِينَ يُمْتَدَحُ، جب خلیفہ کی تعریف کی جاتی ہے۔ بھئی دیکھیے، صبح کے وقت کی سفیدی وہ سب کے نزدیک مسلم ہے، سب کے نزدیک مسلم ہے۔ صبح جب ہونے لگتی ہے تو افق کا کنارہ روشن ہو جاتا ہے، سفید ہو جاتا ہے آسمان کا کنارہ بھئی، اور اب شاعر خلیفہ کے چہرے کی چمک دمک کو بیان کرنا چاہتا ہے، اور یہ ظاہر سی بات ہے کہ خلیفہ کے چہرے میں تو وہ چمک دمک نہیں ہے جو صبح کے وقت افق پر ہوتی ہے صبح کی روشنی کی بھئی۔ یہ بات ظاہر ہے یا ظاہر نہیں ہے؟ کس کی روشنی زیادہ؟ صبح کی زیادہ، تو ہونا تو یہ چاہیے تھا شاعر یوں کہتا کہ خلیفہ کی جب تعریف کی جاتی ہے تو اس کا چہرہ ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے صبح کی سفیدی ہوتی ہے۔ تو خلیفہ کے چہرے کو کہنا چاہیے تھا، بنانا چاہیے تھا مشبہ اور صبح کی سفیدی کو بنانا چاہیے تھا مشبہ بہ، لیکن شاعر نے اس کا عکس کر دیا، خلیفہ کے چہرے کو مشبہ بہ بنا دیا اور صبح کی روشنی کو کیا بنا دیا؟ مشبہ بنا دیا، کہ وہ صبح کی کہ وہ صبح کی سفیدی گویا کس کی طرح ہوتی ہے؟ خلیفہ کے چہرے کی طرح۔ مقصد کیا ہے؟ مقصد وہ جو میں نے ابھی بیان کیا کہ بھئی وجہِ تشبیہ میں مشبہ بہ اعلیٰ اور قوی ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ تو یہ خلیفہ کے چہرے کو مشبہ بہ بنا رہا ہے کہ وہ اس چیز کے اندر، اس وصف کے اندر اس دوسری چیز سے بھی بڑھ کر کامل ہے بھئی، اس دوسری چیز سے بھی بڑھ کر کامل ہے۔ بھئی خلیفہ کے چہرے کو اگر مشبہ بنائے گا اور صبح کی سفیدی کو کیا بنائے گا؟ مشبہ بہ، تو مشبہ بہ تو ہوتا ہی اعلیٰ ہے، تو خلیفہ کے چہرے کی سفیدی بیان تو ہو گئی لیکن اتنے کمال درجے کی بیان نہیں ہوئی کیونکہ مشبہ بہ پھر بھی اس سے اعلیٰ ہے، تو یہ کیا کرتا ہے؟ خلیفہ کے چہرے ہی کو اٹھا کر کیا بنا دیا؟ مشبہ بہ، اور مشبہ بہ تو اعلیٰ ہوتا ہے، تو گویا خلیفہ کا چہرہ بھی سفیدی میں صبح کی سفیدی سے اعلیٰ اور زیادہ قوی ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے اب شاعر نے کیا کیا؟ کس کو مشبہ کو اٹھا کر کیا بنا دیا؟ مشبہ بہ بنا دیا، تو دراصل یہ مشبہ بہ اصل میں یہ مشبہ ہی تھا لیکن اس نے بنا کیا دیا؟ مشبہ بہ، اور اس کی سفیدی بیان کرنا مقصد ہے، تو اس لیے یہاں پر غرض کس کی طرف لوٹ رہی ہے؟ مشبہ بہ کی طرف، کیونکہ مشبہ کو اٹھا کر ہم کس کی جگہ لے گئے ہیں؟ مشبہ بہ کی جگہ لے گئے ہیں، تو تشبیہ کی غرض کا تعلق تو مشبہ سے ہی ہوتا ہے، لیکن یہاں اسی مشبہ کو اٹھا کر اس نے کیا بنا دیا ہے؟ مشبہ بہ۔ اسی لیے کہا: وَقَدْ يَعُودُ الْغَرَضُ إِلَى الْمُشَبَّهِ بِهِ، اور کبھی کبھار تشبیہ کی غرض مشبہ بہ کی طرف لوٹتی ہے، یعنی اس کو بیان کرنا مقصد ہوتا ہے، یہ کب ہوتا ہے؟ إِذَا عُكِسَ طَرَفَا التَّشْبِيهِ، جب الٹ دیا جائے تشبیہ کی دو طرفوں کو۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: وَبَدَا الصَّبَاحُ كَأَنَّ غُرَّتَهُ وَجْهُ الْخَلِيفَةِ حِينَ يُمْتَدَحُ اور صبح ظاہر ہوئی گویا کہ اس صبح کی سفیدی خلیفہ کا چہرہ ہے جس وقت اس خلیفہ کی تعریف کی جاتی ہے۔ بھئی یہ کیوں کہا: "حِينَ يُمْتَدَحُ"، جب خلیفہ کی تعریف کی جاتی ہے؟ اس وقت جب خلیفہ کا چہرہ ہوتا ہے، صبح کی سفیدی بھی اس کی طرح ہے۔ وجہ یہ کہ جو سخی آدمی ہوگا، سخی آدمی، اس کے سامنے جب آپ اس کی تعریف کریں گے، اس کی مدح و ثنا بیان کریں گے تو وہ خوش ہوگا بھئی، وہ کیا ہوگا؟ خوش ہوگا اور وہ آپ کو چائے پلائے گا، آپ کی دعوت کرے گا، آپ کی سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اپنی سخاوت کا مظاہرہ کرے گا۔ لیکن اگر بخیل آدمی ہے اس کے سامنے آپ اس کی تعریف کریں گے تو اس کا چہرہ بگڑ جائے گا اور منہ شکل خراب ہو جائے گی اور پریشان ہو جائے گا کہ اب یہ کہیں مجھ سے کوئی چیز نہ مانگ لے، اب مجھے کہیں چائے وغیرہ اس کو نہ پلانی پڑے بھئی۔ تو یہاں بھی خلیفہ کی جب تعریف کی جاتی ہے تو بتلانا یہ چاہتا ہے کہ خلیفہ بڑا سخی آدمی ہے، جب اس کی تعریف کی جاتی ہے تو اس کا چہرہ خوشی کی وجہ سے چمک اٹھتا ہے، چمک اٹھتا ہے اور خوش ہو جاتا ہے کہ اب مجھے اپنی سخاوت کا کا اظہار کرنے کا موقع ملے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس وجہ سے اس کو جب اس کی تعریف کی جاتی ہے اس کا چہرہ کھل اٹھتا ہے، چمک اٹھتا ہے۔ بھئی شعر کا معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَمِثْلُ هَذَا يُسَمَّى بِالتَّشْبِيهِ الْمَقْلُوبِ، اور اس قسم کی تشبیہ جو ہے اس کو تشبیہِ مقلوب کہتے ہیں۔ قلب کا معنی ہے الٹنا بھئی، الٹنا پلٹنا۔ قلب، یعنی دل کو بھی قلب اسی لیے کہتے ہیں، یہ الٹتا پلٹتا ہے، ایک حالت پر نہیں رہتا۔ ایک وقت ہوتا ہے دیکھو ایک چیز آپ کو پسند ہوتی ہے، کچھ عرصہ گزرتا ہے وہی چیز آپ کو ناپسند ہو جاتی ہے، اور کبھی ایک چیز ناپسند ہوتی ہے بعد میں وہ چیز پسند ہو جاتی ہے، تو مثلاً یہ تو ایک ویسے مثال بیان کر دی، اس کی حالت الٹتی پلٹتی ہے، کبھی ایک طرف کو مائل ہوتا ہے تو کبھی دوسری طرف کو مائل ہوتا ہے یہ بھئی، تو اسی لیے اس کو قلب کہتے ہیں۔ تو یہ تشبیہِ مقلوب ہے، اس میں الٹائی ہوئی ہے، مشبہ کو مشبہ بہ بنا دیا گیا ہے اور مشبہ بہ کو مشبہ بنا دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے اس تشبیہ کو تشبیہِ معکوس بھی کہتے ہیں یا تشبیہِ منعکس بھی کہتے ہیں، عکس سے: ع، ق چھوٹا اور س، تو تشبیہِ معکوس بھی کہتے ہیں اس کو اور تشبیہِ منعکس بھی کہتے ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی، اب مجاز کی بحث شروع ہونے لگی ہے۔ کہتے ہیں: اَلْمَجَازُ: هُوَ اللَّفْظُ الْمُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَ لَهُ لِعَلَاقَةٍ مَعَ قَرِينَةٍ مَانِعَةٍ مِنْ إِرَادَةِ الْمَعْنَى السَّابِقِ۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ علمِ بیان کے اندر تشبیہ، مجاز اور کنایہ کا بیان ہوگا، ان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ تشبیہ کا بیان گزر گیا، تشبیہ کے ارکان بھی بیان ہوئے، تشبیہ کی اقسام بھی بیان ہوئیں، تشبیہ کی غرضیں اور مقاصد بھی بیان ہو گئے۔ اب مجاز کا بیان شروع کرنے لگے ہیں اور پھر آخر میں کنایہ کا بیان کریں گے۔ بھئی مجاز اور کنایہ یہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، مجاز اس کو کہتے ہیں کہ لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے، کیا کیا جائے؟ استعمال کیا جائے۔ مثلاً بھئی آپ سارے ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں کہ اچانک زید آیا، جیسے ہی زید آیا آپ نے فوراً کہا: "جَاءَ أَسَدٌ"، شیر آ گیا۔ اب دیکھیے اسد شیر کا لفظ تو جنگلی درندے کے لیے مقرر کیا گیا ہے، اس کے لیے وضع ہے، لیکن آپ نے یہاں شیر کا لفظ بول کر اس سے کیا مراد لیا؟ بہادر آدمی مراد لیا، تو یہ شیر کا لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا یا معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا؟ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا، تو اس کو کہتے ہیں مجاز۔ کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا، یعنی ایسے معنی کے لیے لفظ کو استعمال کرنا جس کے لیے اس کو وضع نہیں کیا گیا، جس کے لیے اس کو مقرر نہیں کیا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے مجاز۔ اور ایک ہے کنایہ، کنایہ۔ کنایہ کے اندر بھی لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے لیکن وہاں ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ زید لمبے قد والا ہے، کیا کہنا چاہتا ہوں؟ زید لمبے قد والا ہے، لیکن میں لفظ دوسرے استعمال کرتا ہوں اور آپ سے یوں کہتا ہوں: زید لمبی قمیص والا ہے، زید لمبی قمیص والا ہے۔ اور بتلانا کیا چاہتا ہوں، مقصد کیا ہے؟ کہ زید لمبے قد والا ہے۔ تو قمیص بول کر میں نے اس کا قد مراد لیا، تو قمیص کا لفظ تو قمیص کے لیے وضع ہے، قد کے لیے وضع نہیں، تو قمیص کا لفظ میں نے بولا اور اس کو اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں استعمال کیا، تو اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ کہتے ہیں۔ کیونکہ جب قمیص اس کی لمبی ہے تو ظاہر سی بات ہے اس کہ اس کا قد بھی لمبا ہے، کیونکہ جس کا قد لمبا ہوگا اس کی قمیص لمبی ہوگی، جس کا قد چھوٹا ہو اس کی قمیص لمبی نہیں ہوگی بھئی، تو قمیص کے ساتھ لازم ہے کیا؟ قد کا لمبا ہونا، لمبی قمیص کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے۔ تو ملزوم بول کر میں نے کس کا ارادہ کیا؟ لازم کا۔ تو لہٰذا ان دونوں جملوں میں لفظ اپنے معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوئے، کون سے دو جملے؟ "جَاءَ أَسَدٌ"، شیر آ گیا، یہاں اسد بول کر کیا مراد؟ بہادر آدمی، اور دوسرا جملہ: "زید لمبی قمیص والا ہے"، یہاں قمیص کس معنی میں استعمال ہے؟ قد کے معنی میں استعمال ہے۔ تو یہ ہے کنایہ۔ تو فرق دونوں میں کیسے ہوگا، پتہ کیسے چلے گا کہ کیا کنایہ ہے اور کیا مجاز ہے؟ کیونکہ دونوں میں لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے۔ فرق یہ کہ مجاز کے اندر معنی موضوع لہ کا ارادہ صحیح نہیں ہوتا۔ مجاز میں؟ معنی موضوع لہ کا ارادہ صحیح نہیں، جبکہ کنایہ میں معنی موضوع لہ کا ارادہ بھی صحیح ہے۔ زید آیا تھا آپ نے کیا کہا: "جَاءَ أَسَدٌ"، کون آیا؟ شیر۔ شیر سے کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی آیا۔ اب یہاں شیر سے بہادر آدمی والا ہی معنی لے سکتے ہیں، وہ جنگلی درندے والا معنی لے ہی نہیں سکتے کیونکہ آیا کون ہے؟ جنگلی درندہ آیا ہے یا بہادر آدمی آیا ہے؟ بہادر آدمی اس وقت آیا تھا، تو یہ قرینہ بتلا رہا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی، اور شیر والا معنی یہاں اب درست بنتا ہی نہیں، کیونکہ کمرے میں زید داخل ہوا تھا جب آپ نے یہ کہا تھا اور تو جنگلی درندہ تو داخل نہیں ہوا، تو معلوم ہوا یہاں شیر کا معنی بہادر آدمی ہی کے کرنا پڑیں گے، جنگلی درندے والا معنی یہاں کرنا ٹھیک ہی نہیں کیونکہ پھر تو آپ کا کلام ہی غلط ہو جائے گا، پھر تو معنی ہو گیا جنگلی درندہ آ گیا اور جنگلی درندہ تو اس وقت آیا ہی نہیں ہے، معلوم ہوا آپ کا کلام جھوٹ ہو گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تو تھا قرینہ حالیہ۔ قرینہ بھئی وہ میں نے بتلایا تھا: وہ چیز جو مطلوب کی طرف اشارہ کرے اسے کیا کہتے ہیں؟ قرینہ، اور یہ قرینہ حال بھی ہو سکتا ہے اور لفظوں کے اندر بھی ہو سکتا ہے، یعنی قرینہ حالیہ بھی ہو سکتا ہے اور قرینہ لفظیہ بھی ہو سکتا ہے۔ اب یہ جو میں نے ابھی کہا: "جَاءَ أَسَدٌ"، شیر آ گیا، اس میں قرینہ حالیہ ہے۔ لفظوں کے اندر صرف یہ جملہ کسی کو میں بتلاؤں: "جَاءَ أَسَدٌ"، اس کو پتہ نہیں چلے گا کہ یہ اسد سے کیا مراد ہے، شیر مراد ہے یا جنگلی درندہ مراد، لیکن یہاں یہ حالت تھی، حالت نے آپ کو بتلایا۔ کیا حالت تھی؟ کہ کمرے میں کون آیا تھا؟ زید آیا تھا، یہ حال آپ کو بتلا رہا تھا کہ یہاں شیر کے لفظ سے کیا مراد ہے؟ بہادر۔ بعض اوقات قرینہ لفظوں میں ہوتا ہے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، رَمَى يَرْمِي کے معنی ہیں تیر چلانا۔ "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، اب تو پتہ لگا کہ شیر بول کر بہادر آدمی مراد ہے، اس لیے کیونکہ جو وہ جو جنگلی درندہ ہوتا ہے وہ تو تیر نہیں چلا سکتا، ہاں بہادر آدمی کیا ہے؟ تیر چلا، تو یہاں شیر بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی۔ کس کس چیز نے بتایا آپ کو؟ "يَرْمِي"، یہ "يَرْمِي" کا جو قرینہ لفظ جو تھا ساتھ اس نے بتایا۔ یا دوسری مثال کر لو: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَضْحَكُ"، میں نے ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا۔ اب یہ "يَضْحَكُ" کا لفظ بتلا رہا ہے کہ شیر سے وہ جنگلی درندہ نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے، اس لیے کیونکہ ہنسنا یہ خاصہ ہے انسان کا، انسان ہنستا ہے، جنگلی درندہ نہیں ہنستا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور تو یہ تھا مجاز، اور یہاں پر حقیقی معنی کا ارادہ صحیح نہیں، حقیقی معنی کا ارادہ؟ "جَاءَ أَسَدٌ" کہیں اور مراد اس سے کیا لیں؟ جنگلی درندہ مراد لیں، آپ نے جس موقع پر کہا کون آیا تھا کمرے میں؟ زید، تو اس موقع پر اب اسد سے بہادر آدمی ہی مراد لے سکتے ہیں، جنگلی درندے کا ارادہ کر ہی نہیں سکتے۔ اور نیز میں نے کہا: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، یہ "يَرْمِي" کا قرینہ بتلا رہا ہے کہ اسد سے یہاں بہادر آدمی ہی مراد ہے، جنگلی درندہ مراد ہو ہی نہیں سکتا، وہ معنی مراد لے ہی نہیں سکتے کیونکہ تیر چلانے کا کام وہ کر ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح "رَأَيْتُ أَسَدًا يَضْحَكُ"، میں نے شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، یہاں بھی یہ "يَضْحَكُ" بتلا رہا ہے کہ اسد سے بہادر آدمی ہی مراد لینا پڑے گا، یہاں حقیقی معنی یعنی جنگلی درندے والا معنی کرنا ٹھیک ہی نہیں کیونکہ وہ ہنسنے کی صفت اس میں ہے ہی نہیں۔ تو مجاز کے اندر بھی لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، کنائے میں بھی لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، لیکن مجاز کے اندر وہ معنی موضوع لہ وہاں پر آپ مراد لے ہی نہیں سکتے جیسے ان مثالوں میں، آپ معنی حقیقی یعنی معنی موضوع لہ مراد لے ہی نہیں سکتے، شیر کا معنی بہادر آدمی ہی کے کرنا پڑیں گے ان سب مثالوں میں، جبکہ کنائے کے اندر حقیقی معنی کا ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے۔ میں نے آپ سے کیا کہنا تھا کہ زید لمبے قد والا ہے، لیکن لفظ میں نے کیا استعمال کیے: "زید لمبی قمیص والا ہے"، اور قمیص بول کر اس کا لازم یعنی لمبا قد مراد دیا، کیونکہ قمیص لمبی ہے تو معلوم ہوا قد بھی لمبا ہے، تو میں نے قمیص کا لفظ معنی موضوع لہ میں استعمال کیا یا معنی غیر موضوع لہ میں؟ معنی غیر موضوع لہ میں، کیونکہ قمیص بول کر قمیص نہیں مراد لی بلکہ کیا مراد لیا ہے؟ قد، لیکن اسی موقع پر حقیقی معنی کا ارادہ بھی صحیح ہے۔ زید لمبی قمیص والا ہے، میں قمیص ہی مراد لے لوں تو صحیح بنتا ہے یا نہیں بنتا؟ صحیح بنتا ہے، کوئی خرابی نہیں اتی، لمبی قمیص والا ہے زید۔ تو یہ فرق ہے مجاز اور کنایہ میں: مجاز کے اندر لفظ استعمال ہوا معنی غیر موضوع لہ میں اور موضوع لہ کا ارادہ صحیح ہی نہیں، کنائے کے اندر بھی لفظ استعمال ہوا معنی غیر موضوع لہ میں اور موضوع لہ کا ارادہ بھی صحیح ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہی بیان کر رہے ہیں: اَلْمَجَازُ: هُوَ اللَّفْظُ الْمُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَ لَهُ لِعَلَاقَةٍ، مجاز وہ لفظ ہے اَلْمُسْتَعْمَلُ جس کو استعمال کیا جائے فِي غَيْرِ مَا وُضِعَ لَهُ، علاوہ اس معنی کے جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا، لِعَلَاقَةٍ، کسی علاقے، کسی تعلق کی بناء پر۔ اور مجاز میں معنی موضوع لہ کا بھی ارادہ ہم کر سکتے ہیں وہاں پر کہ نہیں کر سکتے؟ نہیں کر سکتے، تو یہ قید بھی ضروری ہے تاکہ کنایہ نکل جائے، کون نکل جائے؟ کیونکہ کنایہ میں بھی لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اس کو بھی نکال رہے ہیں: مَعَ قَرِينَةٍ مَانِعَةٍ مِنْ إِرَادَةِ الْمَعْنَى السَّابِقِ، ساتھ ایک ایسے قرینے کے جو روکنے والا ہے سابقہ معنی کے ارادے سے، یعنی معنی اصلی کے ارادہ، یعنی ایسا قرینہ ہو جو روکنے والا ہو معنی اصلی کے ارادے سے، کہ معنی اصلی کا یہاں ارادہ کرنا صحیح نہیں۔ سمجھ میں آ گئی بھئی بات؟ تو اس قید کے ذریعے کس کو نکالا؟ کنائے کو نکالا بھئی، کنائے کو۔ كَالدُّرَرِ الْمُسْتَعْمَلَةِ فِي الْكَلِمَاتِ الْفَصِيحَةِ فِي قَوْلِكَ، بھئی آپ مثلاً عربی میں کوئی کہتا ہے: فُلَانٌ يَتَكَلَّمُ بِالدُّرَرِ، درر موتی، موتی۔ فُلَانٌ يَتَكَلَّمُ بِالدُّرَرِ، فلاں بات کر رہا ہے موتیوں کے ساتھ، یا فلاں بات کرتا ہے موتیوں کے ساتھ، یعنی جب وہ بات کرتا ہے تو یوں لگتا ہے اس کے منہ سے لفظ نہیں ادا ہو رہے ہیں بلکہ موتی جھڑ رہے ہیں، بلکہ موتی جھڑ رہے ہیں۔ تو با محاورہ یوں ترجمہ کر لیں، عربی میں کیا ہے: فُلَانٌ يَتَكَلَّمُ بِالدُّرَرِ، فلاں کے منہ سے موتی جھڑ رہے ہیں، فلاں کے منہ سے موتی جھڑ رہے ہیں۔ اب دیکھیے یہاں پر "درر"، موتی کا لفظ استعمال کیا گیا اور مراد کیا ہیں؟ اس کا اس کے وہ الفاظ ہیں، اس کا وہ کلام ہے۔ اور تو گویا اس کے کلام کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ موتیوں کے ساتھ، اور کس چیز میں تشبیہ دی؟ خوبصورتی کے اندر، جیسے اس کا کلام جیسے موتی خوبصورت ہوتے ہیں، اس کا کلام بھی بڑا خوبصورت اور فصیح و بلیغ ہوتا ہے بھئی۔ دیکھیے کتاب پر: كَالدُّرَرِ الْمُسْتَعْمَلَةِ فِي الْكَلِمَاتِ الْفَصِيحَةِ فِي قَوْلِكَ، جیسے کہ درر یعنی موتی کا لفظ استعمال ہوا ہے فصیح کلمات کے لیے فِي قَوْلِكَ، آپ کے اس قول میں: فُلَانٌ يَتَكَلَّمُ بِالدُّرَرِ، فلاں بات کرتا ہے موتیوں کے ساتھ، فَإِنَّهَا مُسْتَعْمَلَةٌ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ، پس یہ کلمہ جو ہے یہ درر کا، درر کا کلمہ یہ استعمال ہوا ہے فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ، اس معنی مَا وُضِعَتْ لَهُ وہ معنی جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا، اس کے علاوہ میں استعمال ہوا ہے یعنی معنی غیر موضوع، فَإِنَّهَا مُسْتَعْمَلَةٌ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ، پس یہ کلمہ استعمال ہوا ہے علاوہ اس معنی میں جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا، إِذْ قَدْ وُضِعَتْ فِي الْأَصْلِ لِلَّآلِئِ، اس لیے کیونکہ اس کو تو وضع کیا گیا تھا اصل میں لِلَّآلِئِ، لآلی وہی گزشتہ سبق میں لؤلؤ کا لفظ ایا تھا، موتی کو کہتے ہیں، اس کی جمع کیا آتی ہے؟ لآلی۔ اس لیے کیونکہ درر کا لفظ تو اصل میں وضع تھا موتیوں کے لیے، لِلَّآلِئِ الْحَقِيقِيَّةِ، حقیقی موتیوں کے لیے یہ لفظ وضع تھا، ثُمَّ نُقِلَتْ إِلَى الْكَلِمَاتِ الْفَصِيحَةِ، پھر اس کو نقل کر دیا گیا کس کی طرف؟ فصیح کلمات کی طرف، آپ نے کس معنی میں استعمال کیا؟ فصیح کلمات کے لیے اس کو استعمال کیا، ثُمَّ نُقِلَتْ إِلَى الْكَلِمَاتِ الْفَصِيحَةِ، پھر اس کو نقل کیا گیا کلماتِ فصیحہ کی طرف، لِعَلَاقَةِ الْمُشَابَهَةِ بَيْنَهُمَا فِي الْحُسْنِ، اس وجہ سے کہ علاقہ مشابہت کا ہے ان دونوں کے درمیان فِي الْحُسْنِ، کس چیز میں؟ حسن میں، یعنی یہاں پر یہ کلمات مشابہ ہیں کس کے؟ موتیوں کے، کس چیز میں مشابہ ہیں؟ حسن و حسن میں۔ اس لیے کیونکہ وہ علاقہ جو ہے وہ مشابہت کا ہے ان دونوں کے درمیان فِي الْحُسْنِ، حسن میں۔ وَالَّذِي يَمْنَعُ مِنْ، اور بھئی مجاز کے لیے قرینے کا ہونا ضروری، کیونکہ اگر قرینہ نہیں ہوگا تو پھر تو پتہ ہی نہیں چلے گا، سننے والا تو یہی سمجھے گا شاید اس سے معنی موضوع لہ کا ارادہ کیا، تو لہٰذا مجاز کے لیے کیا ہونا ضروری؟ قرینے، اور یہاں کیا قرینہ ہے؟ بتلائیں گے آپ کو آگے کہ یہ جو "يتكلم" لفظ آیا نا "يتكلم"، فلاں بات کرتا ہے موتیوں کے ساتھ، تو یہ "يتكلم" کا لفظ بتلا رہا ہے کہ درر سے موتی نہیں مراد بلکہ فصیح کلمات مراد ہیں، فصیح کلمات، کیونکہ بولتے ہوئے منہ سے کلمات ادا ہوتے ہیں، موتی نہیں نکلتے۔ وَالَّذِي يَمْنَعُ مِنْ إِرَادَةِ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ قَرِينَةُ "يَتَكَلَّمُ"، اور وہ چیز جو روک رہی ہے معنی حقیقی کا ارادہ کرنے سے، قَرِينَةُ "يَتَكَلَّمُ"، وہ "يتكلم" کا قرینہ ہے، وَكَالْأَصَابِعِ الْمُسْتَعْمَلَةِ فِي الْأَنَامِلِ، اور جیسے بھئی قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ، يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ، وہ ڈالتے ہیں اپنی انگلیاں فِي آذَانِهِمْ، اپنے کانوں میں۔ وہ داخل کرتے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں، اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ کان میں پوری انگلی تو داخل ہو نہیں سکتی، ہاں انگلیوں کے اگلے سرے، انگلیوں کے پورے داخل ہوتے ہیں، کان میں کیا داخل ہوتے ہیں؟ انگلیوں کے پورے داخل ہو سکتے ہیں، پوری انگلی تو داخل ہو ہی نہیں، تو معلوم ہوا یہاں أصابع یعنی پوری انگلی بول کر انگلی کا جز یعنی پورے مراد ہیں، کیا مراد ہیں؟ پورے مراد ہیں، تو انگلی کو انگلی تو کل ہے اور پورے اس کے جز ہیں، تو کل بول کر کیا مراد ہوا؟ جز مراد ہوا جز، تو أصابع کا لفظ معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں، انگلی تو کل کا نام تھا جز کا نام نہیں تھا، لیکن استعمال کس کے لیے کر لیا گیا؟ جز کے لیے، بات سب کو سمجھ میں آ گئی۔ وَكَالْأَصَابِعِ الْمُسْتَعْمَلَةِ فِي الْأَنَامِلِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى، اور جیسے أصابع کا لفظ کہ جس کو استعمال کیا گیا ہے انامل کے معنی میں فِي قَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالی کے اس قول میں: يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ، وہ داخل کرتے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں، فَإِنَّهَا مُسْتَعْمَلَةٌ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ، پس یہ انامل کا کلمہ جو ہے اس کو استعمال کیا گیا ہے غیر موضوع لہ کے اندر، لِعَلَاقَةِ أَنَّ الْأَنْمِلَةَ جُزْءٌ مِنَ الْإِصْبَعِ، بوجہ اس علاقے کے کہ کہ پورے جو ہیں، انملہ پورے جو ہیں، جُزْءٌ مِنَ الْإِصْبَعِ، وہ انگلیوں کا جز ہیں، فَاسْتُعْمِلَ الْكُلُّ فِي الْجُزْءِ، تو کل کا لفظ استعمال کر لیا گیا فِي الْجُزْءِ، جز میں، وَقَرِينَةُ ذَلِكَ، اس کا قرینہ کیا ہے؟ کس سے پتہ چلا کہ کل بول کر جز مراد ہے؟ کہتے ہیں: وَقَرِينَةُ ذَلِكَ، اور قرینہ اس کا یہ ہے: أَنَّهُ لَا يُمْكِنُ جَعْلُ الْأَصَابِعِ بِتَمَامِهَا فِي الْآذَانِ، کہ ممکن نہیں ہے داخل کرنا پوری انگلی کا، پوری انگلیوں کا فِي الْآذَانِ، کس میں؟ کانوں میں۔ لَا يُمْكِنُ جَعْلُ الْأَصَابِعِ، ممکن نہیں ہے داخل کرنا انگلیوں کا بِتَمَامِهَا، پوری کی پوری، فِي الْآذَانِ، کان میں۔ وَالْمَجَازُ إِنْ كَانَتْ عَلَاقَتُهُ الْمُشَابَهَةَ، اچھا بھئی اب آگے مجاز کی دو قسمیں بیان کرنے لگے ہیں۔ مجاز میں لفظ استعمال ہوگا معنی غیر موضوع لہ میں، اور معنی موضوع لہ کا ارادہ وہاں پر صحیح نہیں ہوگا۔ اب ایک تھا معنی موضوع لہ اور آپ استعمال کر رہے ہیں کس میں؟ معنی غیر موضوع لہ میں، تو ان دونوں میں کوئی تعلق اور ربط ہوگا، کن دونوں میں؟ معنی موضوع لہ میں اور معنی غیر موضوع لہ میں، تو کبھی ان میں علاقہ جو ہے وہ مشابہت والا ہوگا، کون سا ہوگا؟ مشابہت کا، یعنی آپ نے گویا ایک چیز کو دوسری کے ساتھ تشبیہ دے دی ہے، تشبیہ دے دی ہے، تو اگر مشابہت والا تعلق ہو تو اس کو کہتے ہیں استعارہ، کیا کہتے ہیں؟ استعارہ، اور اگر مشابہت والا تعلق نہ ہو تو اس کو کہتے ہیں مجازِ مرسل، کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل۔ جیسے دو مثالیں ذکر ہوئیں: پہلی مثال میں "درر" بول کر کیا مراد تھے؟ فصیح کلمات مراد تھے، موتی کا لفظ ذکر کیا گیا اور مراد کیا تھے؟ فصیح کلمات، وہاں علاقہ تشبیہ والا تھا، گویا آپ نے اس کے فصیح کلمات کو موتیوں کے ساتھ تشبیہ دے دی ہے، تو اس کو کہیں گے استعارہ۔ اور دوسری مثال جو قرآن کی ذکر کی گئی: وہ اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں داخل کرتے ہیں، وہاں کل بول کر جز مراد ہے تو وہاں علاقہ مشابہت کا نہیں، انگلی کو کوئی پورے کے ساتھ یا پورے کو کوئی انگلی کے ساتھ تشبیہ نہیں دی گئی بلکہ کل بول کر جز مراد لیا گیا تو وہاں علاقہ کلیت اور جزئیت والا ہے، کل اور جز ہونے والا علاقہ ہے، تشبیہ والا علاقہ نہیں، اس کو کہیں گے مجازِ مرسل۔ تو معنی موضوع لہ اور معنی غیر موضوع لہ میں اگر علاقہ اور تعلق کون سا ہو؟ تشبیہ والا ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ، اور اگر علاقہ اور تعلق تشبیہ والا نہ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل کہتے ہیں، مجازِ مرسل بھئی۔ جیسے میں نے آپ سے کہا: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، یہ اسد کو میں نے معنی موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع، اسد بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی، تو ان دونوں معنی کے درمیان تعلق دیکھیں: اسد کا اصل معنی کیا ہے؟ شیر ہے، جنگلی درندہ ہے، اور معنی غیر موضوع لہ استعمال کس میں کیا؟ بہادر آدمی میں، ان میں کون سا علاقہ ہے؟ بہادری میں، لیکن علاقہ کون سا ہے؟ تعلق کون سا ہے؟ تشبیہ ہے، گویا میں اس بہادر آدمی کو تشبیہ دے رہا ہوں کس کے ساتھ؟ شیر، یہ بہادر آدمی کوئی شیر کا جز وغیرہ ہے؟ نہیں بھئی، اور نہیں، یہاں تشبیہ والا علاقہ ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں گویا بہادر آدمی کو اس شیر کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ کہتے ہیں۔ اور اگر تشبیہ والا علاقہ نہیں اور کوئی علاقہ ہو، کوئی تعلق ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ مثلاً بھئی کئی قسم کے علاقے، مجازِ مرسل کے بیس پچیس علاقے علماء بیان کرتے ہیں بھئی۔ مثلاً بھئی آپ بھی کلام میں مجازِ مرسل عام استعمال کرتے رہتے ہیں لیکن کبھی آپ نے غور نہیں کیا۔ آپ مثلاً آپ کہتے ہیں: "نہر بہہ رہی ہے"، آپ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ نہر بہہ رہی ہے، بھئی نہر بہتی ہے یا اس کے اندر پانی بہتا ہے؟ پانی بہتا ہے، تو نہ تو یہاں نہر سے کیا مراد ہے؟ پانی مراد ہے، پانی۔ ہاں لیکن پانی کو کس کے ساتھ ذکر کر دیا آپ نے؟ نہر کے ساتھ، کیونکہ وہ اس کی جگہ ہے جس میں بہہ رہا ہے، وہ اس کے لیے ظرف ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح آپ اور بھی جگہ استعمال کرتے ہیں، تو دیکھو وہاں نہر بول کر پانی مراد ہے اور پانی کو کوئی آپ نے نہر کے ساتھ تشبیہ دی ہے؟ نہیں، بلکہ یہ نہر کیا ہے اس پانی کے لیے؟ ظرف ہے، تو یہاں ظرف مظروف والا تعلق ہے بھئی۔ اسی طرح آپ اور بھی کلام میں استعمال کرتے ہیں، آپ کا ساتھی آپ سے کہتا ہے کہ لیجیے یہ شربت پی لیجیے، آپ کہتے ہیں میں نے ایک گلاس پی لیا ہے بس، کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ بھئی آپ نے گلاس پیا ہے یا شربت پیا ہے؟ شربت پیا ہے، گلاس تو وہ شیشے کا ہے یا سٹیل کا ہے، وہ تو آپ نے نہیں پیا، لیکن آپ گلاس بول کر کیا مراد لیتے ہیں؟ شربت مراد لیتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ علاقہ کیا ہے دونوں میں؟ کیونکہ گلاس اس کے لیے ظرف ہے، برتن ہے جس کے اندر وہ تھا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ مجازِ مرسل ہے جہاں علاقہ تشبیہ والا نہیں ہوتا، کوئی اور علاقہ ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَالْمَجَازُ إِنْ كَانَتْ عَلَاقَتُهُ الْمُشَابَهَةَ بَيْنَ الْمَعْنَى الْمَجَازِيِّ وَالْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ كَمَا فِي الْمِثَالِ الْأَوَّلِ يُسَمَّى اسْتِعَارَةً، اور مجاز اگر اس میں علاقہ جو ہے وہ مشابہت کا ہو معنی مجازی اور معنی حقیقی کے درمیان، كَمَا فِي الْمِثَالِ الْأَوَّلِ، جیسا کہ پہلی مثال میں تھا یعنی وہ درر والی مثال میں، موتیوں والی مثال میں، يُسَمَّى اسْتِعَارَةً، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ کہتے ہیں، جب معنی حقیقی اور معنی مجازی میں مشابہت والا تعلق ہو، تو اس مجاز کو استعارہ کہتے ہیں۔ وَإِلَّا فَمَجَازٌ مُرْسَلٌ، ورنہ وہ مجازِ مرسل ہے، كَمَا فِي الْمِثَالِ الثَّانِي، جیسے کس میں تھا؟ دوسری مثال میں: "يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ"، اس میں یہ علاقہ مشابہت والا نہیں ہے تو یہ مجازِ مرسل ہے۔ اَلِاسْتِعَارَةُ، اب استعارہ کو بیان کرنے لگے ہیں، وہ مجاز جہاں معنی حقیقی اور معنی مجازی میں تعلق کون سا ہو؟ مشابہت والا ہو، تشبیہ والا ہو۔ کہتے ہیں: اَلِاسْتِعَارَةُ: هِيَ مَجَازٌ عَلَاقَتُهُ الْمُشَابَهَةُ، استعارہ یہ وہ مجاز ہے کہ جس کا جس میں علاقہ کیا ہو، تعلق کیا ہو؟ مشابہت والا ہو، كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ۔ كِتَابٌ، یہ ایک ایسی کتاب ہے، أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ، کہ ہم نے نازل کیا ہے اس کو آپ کی طرف، لِتُخْرِجَ النَّاسَ، کہ آپ نکالیں لوگوں کو، مِنَ الظُّلُمَاتِ، تاریکیوں سے، إِلَى النُّورِ، روشنی کی طرف۔ یہ ایسی کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اس لیے تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالیں، تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالیں۔ بھئی اب کتاب سے تو کوئی تاریکی سے روشنی کی طرف نہیں اتا، معلوم ہوا تاریکی بول کر گمراہی مراد ہے، اور روشنی بول کر ہدایت مراد ہے، تو کتاب کیا کرتی ہے؟ گمراہی سے لوگوں کو کس کی طرف لے آتی ہے؟ ہدایت کی طرف لے آتی ہے، تو معلوم ہوا ظلمات سے مراد کیا ہے؟ گمراہیاں، اور نور یعنی روشنی سے کیا مراد ہے؟ ہدایت مراد ہے۔ تو دیکھو ظلمات بول کر تاریکی نہیں مراد، معنی موضوع لہ نہیں مراد، بلکہ گمراہی مراد ہے، تو یہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا، غیر موضوع لہ میں۔ اور دونوں میں تعلق کون سا؟ گمراہی اور تاریکی، گمراہی جس معنی میں استعمال ہوا اور تاریکی جس کا لفظ استعمال کیا، تو دونوں میں تعلق کون سا؟ مشابہت والا ہے، کہ گمراہی کو گویا تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ تاریکی کے ساتھ، اندھیرے کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں میں تعلق کون سا؟ مشابہت والا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ استعارہ۔ اسی طرح نور، روشنی بول کر ہدایت معنی مراد لیا گیا، تو نور کا لفظ استعمال کر لیا گیا ہدایت کے لیے، تو یہ بھی مجاز ہے مجاز، اور دونوں میں دونوں معانی جو ہیں، معنی حقیقی اور معنی مجازی، معنی حقیقی کیا؟ روشنی، اور معنی مجازی کیا؟ ہدایت، تو ہدایت اور روشنی میں تعلق کون سا ہے، علاقہ کون سا ہے؟ تشبیہ کا ہے، مشابہت کا ہے، یعنی گویا ہدایت کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ روشنی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، تو اس کو کہیں گے استعارہ۔ تو معلوم ہوا ظلمات میں بھی استعارہ ہے اور نور میں بھی کیا ہے؟ استعارہ ہے، استعارہ۔ خود بتلا رہے ہیں دیکھیے بھئی: أَيْ مِنَ الضَّلَالِ إِلَى الْهُدَى، یعنی گمراہی سے روشنی کی طرف، ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ نکالیں لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف، أَيْ مِنَ الضَّلَالِ إِلَى الْهُدَى، یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف، فَقَدِ اسْتُعْمِلَتِ الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ فِي غَيْرِ مَعْنَاهُمَا الْحَقِيقِيِّ، پس تحقیق استعمال کیا گیا ظلمات اور نور کے لفظ کو ان دونوں کے معنی حقیقی کے علاوہ کے اندر، وَالْعَلَاقَةُ الْمُشَابَهَةُ بَيْنَ الضَّلَالِ وَالظَّلَامِ، وَالْهُدَى وَالنُّورِ، اور علاقہ جو ہے وہ مشابہت کا ہے گمراہی اور تاریکی کے درمیان، اور ہدایت اور نور، اور ہدایت اور روشنی کے درمیان، وَالْقَرِينَةُ مَا قَبْلَ ذَلِكَ، اور میں نے بتلایا تھا: جب بھی لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کریں ہمیشہ اس کے لیے کیا چاہیے؟ کوئی قرینہ چاہیے۔ کہتے ہیں: وَالْقَرِينَةُ مَا قَبْلَ ذَلِكَ، اور قرینہ جو ہے وہ اس سے پہلے ہے۔ مَا قَبْلَ ذَلِكَ، اس سے پہلے ہے، کہاں پر بھئی؟ "مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ" سے پہلے قرینہ ہے، وہ کیا؟ "كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ"، کتاب جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا، کتاب جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا، تو کتاب نازل کرنے کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ گمراہی سے نکال کر لوگوں کو ہدایت کی طرف لانا مقصد ہوتا ہے، تو گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف لانا مقصد ہوتا ہے معلوم ہوا یہاں بھی ظلمات سے گمراہی مراد ہے اور نور سے کیا مراد ہے؟ ہدایت مراد ہے۔ وَأَصْلُ الِاسْتِعَارَةِ تَشْبِيهٌ، اور استعارہ کی اصل تشبیہ ہے۔ کہتے ہیں استعارہ میں دراصل تشبیہ ہوتی ہے، استعارہ میں کیا ہوتی ہے؟ بھئی یہاں ظلمات کا لفظ استعمال کیا گیا اور مراد کیا؟ گمراہی، گویا گویا گمراہی کو تشبیہ دی گئی تاریکی اور اندھیرے کے ساتھ۔ اَلضَّلَالُ كَالظَّلَامِ، اَلضَّلَالُ كَالظَّلَامِ، گمراہی کس کی طرح ہے؟ تاریکی کی طرح ہے، یا دوسری مثال جو میں نے ذکر کی تھی: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، تو یہ کیا ہے؟ معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر، معلوم ہوا مجاز ہے۔ پھر دیکھیں علاقہ مشابہت والا ہے یا کوئی اور علاقہ ہے؟ مشابہت والا ہے، معلوم ہوا استعارہ ہے، اور استعارے کے اندر تشبیہ ہوتی ہے۔ معلوم ہوا اس بہادر آدمی کو آپ نے کس سے تشبیہ دی ہے؟ شیر سے، أَيْ هُوَ كَالْأَسَدِ، وہ کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے، کس چیز میں؟ فِي الشَّجَاعَةِ، بہادری میں، گویا آپ یوں یہ کہہ رہے ہیں۔ هُوَ كَالْأَسَدِ فِي الشَّجَاعَةِ، یہ بہادر آدمی کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے، کس چیز میں؟ بہادری میں۔ اب ارکانِ تشبیہ تو چار تھے: ایک مشبہ، ایک مشبہ بہ، ایک اداتِ تشبیہ، ایک وجہِ تشبیہ۔ دیکھیے یہ چاروں ذکر ہیں: "هو"، یہ ہے مشبہ، "كالأسد"، یہ کاف کیا ہے؟ اداتِ تشبیہ، "أسد" کیا ہے؟ مشبہ بہ، اور وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ "فِي الشَّجَاعَةِ"۔ اور جو میں نے جملہ ذکر کیا تھا: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، اس میں صرف کون ذکر ہے؟ صرف اسد، مشبہ بہ ذکر ہے، مشبہ بھی حذف، اداتِ تشبیہ بھی حذف، اور وجہِ تشبیہ بھی حذف، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو استعارے کی بنیاد تشبیہ پر ہوتی ہے اور اس کے اندر مشبہ اور مشبہ بہ میں سے ایک کو بھی حذف کر لیا جاتا ہے، اداتِ تشبیہ کو بھی حذف کر لیا جاتا ہے، اور وجہِ تشبیہ کو بھی حذف، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَأَصْلُ الِاسْتِعَارَةِ تَشْبِيهٌ، اور استعارہ کی اصل وہ تشبیہ ہے، حُذِفَ أَحَدُ طَرَفَيْهِ، حُذِفَ فعل آیا اور تشبیہ اس سے پہلے نکرہ ہے، تو نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا آتا ہے، کیا بنتا ہے اس کے لیے؟ صفت۔ تو کہتے ہیں: وَأَصْلُ الِاسْتِعَارَةِ تَشْبِيهٌ، اور استعارہ کی اصل وہ ایسی تشبیہ ہے حُذِفَ أَحَدُ طَرَفَيْهِ کہ جس کے دو طرفین میں سے ایک کو حذف کر لیا جائے، کر لیا گیا ہو، وَوَجْهُ شَبَهِهِ، اور اس کی وجہِ تشبیہ کو بھی حذف کر لیا گیا ہو، وَأَدَاتُهُ، اور اس کے اداتِ تشبیہ کو بھی حذف کر لیا گیا ہو، بات سمجھ میں آ گئی۔ کہ استعارے کی اصل ایسی تشبیہ ہے جس میں مشبہ اور مشبہ بہ میں سے بھی ایک کو حذف کر لیا گیا ہو، وجہِ تشبیہ کو بھی حذف کر لیا گیا ہو، اور اداتِ تشبیہ کو بھی حذف کر لیا گیا ہو۔ وَالْمُشَبَّهُ يُسَمَّى مُسْتَعَارًا لَهُ، اب دیکھیے بھئی، ادھر توجہ کیجیے۔ استعارے کی اصل کیا ہے؟ تشبیہ ہے تشبیہ ہے۔ گویا آپ نے میں نے کہا: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، میں نے ایک بہادر آدمی کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، اور اسد کا لفظ بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے۔ اب ذرا ادھر توجہ کرنا بھئی۔ بھئی یہ دیکھو، یہ ہے جنگلی درندہ، یہ کیا ہے؟ جنگلی درندہ ہے، اور یہ دوسری طرف یہ بہادر آدمی ہے، کیا ہے؟ بہادر آدمی ہے۔ یہ جو اس طرف جنگلی درندہ ہے، اس کو ہم نے اس کے لیے کون سا لفظ مقرر کیا ہے؟ اسد والا، اور بہادر آدمی کے لیے بہادر آدمی کا لفظ وضع ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ بہادر آدمی کا، یا یوں کہیں رجل شجاع عربی میں کہہ لیں، بہادر آدمی کے لیے کیا لفظ وضع ہے؟ رجل شجاع، اور جنگلی درندے کے لیے کیا لفظ وضع ہے؟ اسد کا لفظ عربی زبان میں اسد۔ تو ہم نے: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، یہاں اسد بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی۔ تو دیکھو یہ جو یہ جو جنگلی درندہ ہے، اس کے لیے اسد کا لفظ وضع ہے، اسد کا لفظ اس پہ بولا جاتا ہے، لیکن ہم نے اس کو کچھ دیر کے لیے اس سے مانگ کر لے لیا اس اسد کے لفظ کو، اور اس لفظ کو کس کے لیے استعمال کر لیا؟ بہادر آدمی کے لیے، کس کے لیے؟ بہادر آدمی کے لیے۔ اسی لیے اس کو کہتے ہیں استعارہ۔ عاریةً کہتے ہیں مانگی ہوئی چیز، کسی سے چیز مانگ کر لینا۔ بھئی جیسے ہمسایوں میں ہوتا ہے، بعض اوقات کسی کے گھر مہمان آئے، زیادہ مہمان آئے تو ساتھ والوں سے بھی کوئی برتن وغیرہ یا کچھ منگوا لیے، تو برتن وغیرہ لے لیے یا آپ اپنے ساتھی سے مثلاً سائیکل لے لیتے ہیں عاریةً کچھ دیر استعمال کے لیے، پھر واپس کر دیتے ہیں، تو اس کو کہتے ہیں عاریت، کیا کہتے ہیں؟ عاریت۔ تو استعارہ میں بھی ایسے ہے، یہ بھی اسی مادے سے ہے، اِسْتَعَارَ کے معنی ہیں استعمال کے لیے کوئی چیز مانگنا، لینا، طلب کرنا۔ تو اس اس میں بھی کیا کیا گیا دیکھو، اسد کا لفظ جو وضع تھا کس کے لیے؟ جنگلی درندے کے لیے، اس اسد کے لفظ کو کچھ دیر کے لیے مانگ کر لے لیا گیا اور کس کے لیے استعمال کر لیا گیا؟ بہادر آدمی کے لیے، بہادر آدمی کے لیے۔ تو یہ اسد کا لفظ ہم نے کس سے مانگ کر لیا ہے؟ جنگلی درندے کے معنی سے، یہ بھئی یہ لفظ تو تمہارا ہے، جنگلی درندہ جو ہے وہ اس کا معنی ہے نا، تو یہ لفظ بھی اسی کا ہے، تو جنگلی درندہ جو معنی ہے جنگلی درندہ، اس سے اس سے ہم نے مانگا ہے، تو اس کو کہیں گے مستعار منہ، کیا کہیں گے؟ جس سے مانگ کر لیا گیا، تو جنگلی درندے کا کیا ہوا جنگلی درندہ؟ وہ ہوا مستعار منہ، اس سے مانگ کر ہم نے لیا ہے، وہ ہوا مستعار منہ، جس سے مانگ کر لیا گیا۔ اور کس کے لیے مانگ کر لیا گیا؟ کس معنی کے لیے ہم استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ بہادر آدمی، تو بہادر آدمی کا جو معنی ہے، بہادر آدمی جو ہے، وہ ہوا مستعار لہ، جس کے لیے مانگا گیا، جس کے لیے مانگا گیا۔ اور کس لفظ کو مانگا؟ لفظِ اسد کو، تو اسد کو کہیں گے مستعار، صورت سمجھ میں آ گئی۔ جس معنی سے مانگ کر لیا اس کو کیا کہیں گے؟ مستعار منہ، اور جس معنی کے لیے مانگ کر لیا اس کو کیا کہیں گے؟ مستعار لہ، اور جس لفظ کو مانگ کر لیا اس کو کیا کہیں گے؟ مستعار کہیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ جی یہی بات اب بیان کر رہے ہیں: وَالْمُشَبَّهُ يُسَمَّى مُسْتَعَارًا لَهُ، اور مشبہ جو ہے اس کو مستعار لہ کہتے ہیں، جس کے لیے وہ لفظ مانگ کر ہم نے لیا ہے۔ وَالْمُشَبَّهُ بِهِ مُسْتَعَارًا مِنْهُ، اور مشبہ بہ کو کیا کہتے ہیں؟ مستعار منہ کہتے ہیں۔ فَفِي هَذَا الْمِثَالِ، تو اس مثال کے اندر، الْمُسْتَعَارُ لَهُ هُوَ الضَّلَالُ وَالْهُدَى، مستعار لہ جس کے لیے لفظ مانگ کر لیا گیا وہ کیا ہے؟ الضَّلَالُ وَالْهُدَى، گمراہی اور ہدایت، ان کے لیے لفظ مانگا گیا، اور کس سے مانگا گیا؟ وَالْمُسْتَعَارُ مِنْهُ هُوَ مَعْنَى الظَّلَامِ وَالنُّورِ، ظلام اور نور کا جو معنی ہے، ظلام اور نور کا جو معنی ہے بھئی، ظلام اور نور ایک تو یہ لفظ ہیں، ایک ان لفظوں کا معنی ہے، ظلام کا کیا معنی؟ تاریکی، اور تاریکی کے لیے کیا لفظ تھا؟ ظلام، تو ظلام سے نہیں مانگا ہم نے، ظلام کا جو معنی تھا یعنی تاریکی اس سے ہم نے مانگا کہ یہ ظلام لفظ تو تمہارے لیے ہے لیکن ہمیں یہ ظلام والا لفظ دیں، ہم نے کس کے لیے استعمال کرنا ہے؟ گمراہی کے لیے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ظلام مستعار منہ کون ہوگا؟ ظلام ہے یا ظلام کا معنی ہے؟ ظلام کا معنی ہے، یہ بیان کر رہے ہیں: وَالْمُسْتَعَارُ مِنْهُ هُوَ مَعْنَى الظَّلَامِ وَالنُّورِ، اور مستعار منہ جو ہے وہ ظلام اور نور کا معنی ہے، اور کون سے لفظ کو لیا ہم نے ان سے؟ ظلام کے لفظ کو ان کے معنی سے لیا، اسی طرح نور کے لفظ کو اس کے معنی سے لیا، وَلَفْظُ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورِ يُسَمَّى مُسْتَعَارًا، اور ظلمات اور نور کے لفظ کو کیا کہیں گے؟ مستعار کہیں گے، یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ مجاز میں بھی مجاز میں جو ہے وہ لفظ جس کو استعمال کیا جائے معنی غیر موضوع لہ میں کسی تعلق اور ربط کی وجہ سے، اور وہاں معنی حقیقی کا ارادہ درست نہ بنتا ہو بھئی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز کہتے ہیں، مجاز۔ اور یاد رکھیے انہوں نے کہا یہ یہ لفظ وہ لفظ جس کو استعمال کیا جائے، کسی لفظ کے استعمال کے بعد آپ کہہ سکتے ہیں یہ حقیقت ہے یا مجاز ہے، استعمال سے پہلے نہیں، استعمال سے پہلے نہیں۔ مثلاً میں آپ سے ویسے کہتا ہوں: بھئی اسد کا لفظ مجاز ہے یا حقیقت ہے؟ یاد رکھو جب تک میں اس کو جملے میں لاؤں گا نہیں، استعمال نہیں کروں گا، آپ طے نہیں کر سکتے کہ یہ مجاز ہے یا حقیقت۔ استعمال کے بعد اس کو پھر کہہ سکتے ہیں، اگر معنی حقیقی میں ہی استعمال ہوا ہو اس جملے میں تو آپ کہیں گے یہ حقیقت ہے، اگر معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا ہو تو آپ کہیں گے یہ مجاز ہے۔ تو استعمال سے پہلے نہ اس کو ہم حقیقت کہہ سکتے ہیں اور نہ مجاز، اسی لیے کہا تھا: هُوَ اللَّفْظُ الْمُسْتَعْمَلُ، وہ لفظ جس کو استعمال کیا گیا ہو۔ اور پھر کنایہ بھی میں نے بتایا تھا آپ کو، کہ کنایہ بھی لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جاتا ہے، وہاں ملزوم بول کر لازم مراد ہوتا ہے، لیکن اس کا مجاز سے فرق کیا ہے؟ کہ مجاز میں معنی حقیقی مراد لینا صحیح نہیں ہوتا لیکن کنائے میں معنی حقیقی کا ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ مجاز کے اندر اگر معنی موضوع لہ اور معنی حقیقی میں تعلق اور ربط جو ہے وہ مشابہت والا ہو تو اس کو استعارہ کہتے ہیں، اگر ربط اور تعلق وہ مشابہت والا نہ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل کہتے ہیں، مجازِ مرسل بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مرسل کا معنی ہے: أَرْسَلَ يُرْسِلُ کے معنی ہوتے ہیں آزاد چھوڑنا، آزاد چھوڑنا، تو استعارہ وہ اس میں قید ہے تشبیہ کی، استعارے میں کیا ہے؟ قید ہے تشبیہ کی، اور مجازِ مرسل وہ آزاد مجاز ہے، یعنی اس میں تشبیہ کی قید نہیں۔ استعارے میں تو صرف تشبیہ ہوتی ہے ہمیشہ، اور مجازِ مرسل میں پچیس قسم کے تقریباً تعلقات تعلق ہیں بھئی، تو اس میں اس کو آزاد چھوڑ دیا گیا، اس میں تشبیہ کی قید نہیں باقی کوئی بھی آ جائے اس میں وہ سب اس کو مجازِ مرسل کہیں گے۔ اور پھر استعارے کے اندر آپ نے پڑھ لیا کہ یہاں پر دونوں معانی کے اندر وہ تعلق کون سا ہوگا؟ تشبیہ والا ہوگا، اور اس میں پھر جس اس میں مشبہ جو ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مستعار لہ، اور مشبہ بہ کو؟ مستعار منہ، کہ مشبہ بہ کے لفظ کو آپ نے مانگ کر لے لیا اور کس کے لیے استعمال کر لیا؟ مشبہ کے معنی کے لیے، تو یہ اور جس لفظ کو لیا گیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مستعار کہتے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔