Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-064

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 7
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔64 وَإِفَادَةِ الِاسْتِمْرَارِ فِي الْأَوْقَاتِ الْمَاضِيَةِ، نَحْوُ: لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ، أَيْ: لَوِ اسْتَمَرَّ عَلَى إِطَاعَتِكُمْ. وَمِنْهَا وَضْعُ الْخَبَرِ مَوْضِعَ الْإِنْشَاءِ لِغَرَضٍ كَالتَّفَاؤُلِ، نَحْوُ: هَدَاكَ اللَّهُ لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ. گزشتہ سبق میں ہم نے خاتمہ شروع کیا تھا۔ جس میں یہ ذکر ہو رہا ہے کہ کبھی کبھار کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لایا جاتا ہے۔ تو اصل تو یہی ہے کہ کلام کو مقتضائے ظاہر کے مطابق ہونا چاہیے۔ مقتضائے ظاہر کے مطابق ہونا چاہیے، یعنی جو ظاہر اور واقع کے اعتبار سے جو حال ہے، کلام کو اس کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی اصل ہے، لیکن کبھی کبھار اس سے عدول کیا جاتا ہے اور متکلم کسی نقطے کی رعایت رکھتا، رکھتے ہوئے ظاہرِ حال سے عدول کر لیتا ہے۔ یا یوں کہیں کہ کبھی کبھار حال خود تقاضا کرتا ہے کہ ظاہر سے عدول کیا جائے۔ کبھی کبھار حال خود تقاضا کرتا ہے کہ ظاہر سے عدول کیا جائے اور کلام کو ظاہرِ حال کے خلاف لایا جائے اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقتضائے ظاہر کے خلاف لانا کلام کو، بھئی۔ اور اس کی بہت سے مواقع ذکر ہوئے۔ آخر میں کل ذکر ہوا تھا کہ بعض اوقات جو ہے ماضی کو ذکر کیا جاتا ہے مضارع کے مقام میں اور کبھی اس کا عکس کیا جاتا ہے، یعنی مقام تو ماضی کا ہوتا ہے لیکن وہاں پر کس کو ذکر کیا جاتا ہے؟ مضارع کو ذکر کیا جاتا ہے۔ اور ایک نقطہ ذکر ہوا تھا کہ ماضی کی جگہ مضارع کیوں ذکر ہوتا ہے؟ تاکہ اس انوکھی صورت کو سننے والے کے ذہن میں حاضر کیا جائے، بھئی۔ عجیب اور انوکھی کوئی بات ہے، اس کو سننے والے کے ذہن میں حاضر کیا جائے کیونکہ مضارع میں حال والا معنی ہوتا ہے اور جو چیز جو حال میں ہوگی وہ انسان کے سامنے ہوگی، مشاہد ہوگی۔ وہ اس کا مشاہدہ کرے گا تو لہٰذا ماضی کے بجائے حال والا صیغہ یعنی مضارع استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سننے والا اس انوکھی صورت کو اپنے ذہن میں اس کو حاضر کر کے اس کا مشاہدہ کر لے، بھئی۔ اور دوسرا نقطہ کہ کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ ماضی کی جگہ مضارع کو ذکر کیا جاتا ہے وہ ہے: وَإِفَادَةِ الِاسْتِمْرَارِ فِي الْأَوْقَاتِ الْمَاضِيَةِ، نَحْوُ: لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ۔ بھئی دیکھیے، یہاں "لَوْ يُطِيعُكُمْ" آیا، "لَوْ" آیا اور "لَوْ" آپ نے پڑھا ہے حروفِ شرط میں سے ہے اور یہ ماضی کے لیے استعمال ہوتا ہے تو یہ دو فائدے دیتا ہے "لَوْ" بھئی۔ ایک تو یہ ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے اور دوسرا نفی پیدا کر دیتا ہے کلام کے اندر۔ جیسے دیکھیے: لَوْ ضَرَبْتَنِي ضَرَبْتُكَ، اگر آپ نے میری پٹائی کی ہوتی تو میں بھی آپ کی پٹائی کرتا۔ لَوْ ضَرَبْتَنِي، اگر آپ نے میری پٹائی کی ہوتی، لَضَرَبْتُكَ، تو البتہ میں نے بھی میں بھی آپ کی پٹائی کرتا۔ یعنی ماضی کی بات بیان ہو رہی ہے کہ اگر آپ نے زمانۂ ماضی میں میری پٹائی کی ہوتی تو میں بھی جواب میں کیا کرتا آپ کی؟ میں نے بھی آپ کی پٹائی کی ہوتی اور نفی کا بھی پتہ چل رہا ہے۔ اگر آپ نے کی ہوتی پٹائی تو میں نے بھی پٹائی کی ہوتی۔ معلوم ہوا آپ نے پٹائی نہیں کی اس لیے میں نے بھی پٹائی نہیں کی بھئی، تو نفی پر بھی دلالت کرتا ہے یہ۔ تو لہٰذا اس کے ساتھ فعلِ ماضی استعمال ہونا چاہیے "لَوْ" کے ساتھ کیونکہ یہ زمانۂ ماضی کے لیے آتا ہے، لیکن کبھی کبھار ماضی کی جگہ مضارع استعمال کر لیا جاتا ہے استمرار بتلانے کے لیے۔ ماضی کے اندر ہی استمرار بتانے کے لیے۔ بھئی، جہاں خبر اور انشاء کی بحث آئی تھی وہاں اپ کو میں نے بتلایا تھا کہ جملہ فعلیہ جو ہے وہ حدوث کا فائدہ دیتا ہے، حدوث اور تجدد کا، اور جملہ اسمیہ ثبوت کا فائدہ دیتا ہے کہ ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے۔ "زَيْدٌ قَائِمٌ" یعنی زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ جبکہ جملہ فعلیہ جو ہے وہ حدوث اور تجدد کا فائدہ دیتا ہے، یعنی ایک چیز کے ہونے کا کہ پہلے نہیں تھی اور پھر وہ چیز پائی گئی۔ "قَامَ زَيْدٌ"، زید کھڑا ہوا، معلوم ہوا پہلے کھڑا نہیں تھا پھر کھڑا ہوا۔ تو دیکھو ایک چیز کا ہونا پایا گیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جبکہ "زَيْدٌ قَائِمٌ" میں ایسا نہیں۔ اس میں یہ نہیں آتا "زَيْدٌ قَائِمٌ"، یہ نہیں ہے کہ پہلے نہیں تھا کھڑا اب کھڑا ہوا ہے، نہیں۔ مطلقاً بس اتنا بتلایا گیا کہ زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام ثابت ہے۔ پہلے تھا یا نہیں تھا اس کی بات ہی نہیں۔ جبکہ فعل کے اندر ایسا ہو گا۔ "ضَرَبَ زَيْدٌ"، زید نے پٹائی کی، معلوم ہوا پہلے نہیں کی تھی اس کے بعد پھر پھر پٹائی کی ہے اس نے، پھر یہ فعل پایا گیا ہے۔ تو تجدد اور حدوث کا ایک معنی ہے، ایک چیز کا ہونا ہونا۔ تو جملہ فعلیہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ حدوث اور تجدد کا۔ اور جملہ اسمیہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ثبوت کا۔ لیکن پھر ان کے ساتھ کبھی قرینہ مل جائے اور جملہ فعلیہ جو ہے وہ فعلِ مضارع ہو تو پھر وہ استمرار کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ استمرار کا کیا معنی؟ مسلسل ایک چیز کا ہونا۔ مسلسل ایک چیز کا ہونا، یہ ہے استمرار۔ تو جملہ فعلیہ حدوث اور تجدد کا فائدہ دیتا ہے، لیکن اگر جملہ فعلیہ فعلِ مضارع ہو اور اس کے ساتھ کبھی کوئی قرینہ مل جاتا ہے تو یہ حدوث اور تجدد کے ساتھ ساتھ استمرار کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ حدوث اور تجدد، ایک چیز کا ہونا، اور استمرار، یعنی بار بار ہونا، مسلسل ہونا، تو یہ مسلسل ہونے کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ اور کون سا فعل ہوگا؟ فعلِ مضارع، فعلِ مضارع۔ جبکہ جملہ اسمیہ وہ ثبوت کا فائدہ دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کبھی کوئی قرینہ مل جاتا ہے تو وہ دوام کا بھی فائدہ دیتا ہے بھئی، دوام کا۔ جی تو بات یہاں چل رہی ہے جملہ فعلیہ کی، اور جملہ فعلیہ حدوث اور تجدد کا فائدہ دیتا ہے، لیکن اگر وہ فعلِ مضارع ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے کبھی؟ استمرار کا بھی۔ تو اسی لیے دیکھیے: "لَوْ يُطِيعُكُمْ"، "لَوْ" کے ساتھ استعمال تو ماضی کا صیغہ ہونا چاہیے تھا، لیکن یہاں کیا استعمال کیا گیا؟ فعلِ مضارع استعمال کیا گیا اور یہ ماضی سے عدول کیا گیا کس کی طرف؟ فعلِ مضارع کی طرف۔ کس لیے؟ استمرار کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے، کیونکہ استمرار کا فائدہ کون سا فعل دیتا ہے؟ فعلِ مضارع دیتا ہے، تو یہاں بھی فعلِ مضارع استعمال کیا گیا تاکہ یہ استمرار کا فائدہ دے۔ اور باقی زمانہ وہی رہے گا، یعنی ماضی والا۔ کون سا؟ ماضی۔ تو لہٰذا "لَوْ" اپنا فائدہ اسی طرح دے رہا ہے، وہ اس وہ ماضی کے زمانے میں کر دیتا ہے، اور فعلِ مضارع اگرچہ آ گیا لیکن یہ اس کو بھی کس معنی میں کر دے گا؟ ماضی ہی کے زمانہ میں کر دے گا اور اس میں استمرار بھی اب آ جائے گا۔ صرف فعلِ ماضی ہوتا تو پھر استمرار کا فائدہ نہیں تھا، لیکن فعلِ مضارع آیا تو اب کس چیز کا فائدہ مزید آ گیا؟ استمرار بھی آ گیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وَإِفَادَةِ الِاسْتِمْرَارِ فِي الْأَوْقَاتِ الْمَاضِيَةِ، اور استمرار کا فائدہ دینے کے لیے ماضی کے اوقات میں، زمانۂ ماضی کے اوقات میں۔ نحو، مثال کے طور پر: لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ۔ اللہ تعالی فرما رہے ہیں: "لَوْ يُطِيعُكُمْ"، اگر یہ رسول جو ہیں، یہ پیغمبر جو ہیں، اگر یہ تمہاری اطاعت کرتے رہتے، دیکھو استمرار والا ترجمہ۔ اگر یہ پیغمبر تمہاری اطاعت کرتے رہتے "فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ" بہت سے باتوں میں، بہت سے معاملات کے اندر، "لَعَنِتُّمْ" تو البتہ تم مشکل میں پڑ جاتے۔ عنت یعنت کے معنی ہوتے ہیں مشکل میں پڑنا، مصیبت میں پڑنا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں، صحابہ سے خطاب ہے: "لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ"، اگر یہ پیغمبر جو تمہارے درمیان رہتا ہے، اگر یہ بہت سے معاملات میں، بہت سی باتوں میں تمہاری باتیں مانتا رہتا، تمہاری اطاعت کرتا، یعنی تمہاری باتیں تمہاری باتیں مانتا رہتا، "لَعَنِتُّمْ" تو البتہ تم مشکل میں پڑ جاتے، دشواری میں پڑ جاتے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے مختلف معاملات میں مشورہ بھی لیتے رہتے تھے اور موقع بہ موقع ان کے مشوروں پر عمل بھی کرتے تھے، لیکن ہر معاملے میں نہیں۔ ہر معاملے میں نہیں۔ اور اسی کی وجہ اللہ ذکر فرما رہے ہیں، اگر ہر معاملے میں وہ تمہاری رائے پر چلتے اور تمہاری بات مانتے تو تم کس بات میں پڑ جاتے؟ تم کس میں پڑ جاتے؟ مشکل اور مصیبت میں پڑ جاتے، کیونکہ انسان جو ہے وہ تو صرف ظاہر کو دیکھتا ہے، آگے کیا ہوگا اس کا اسے علم نہیں۔ جبکہ ادھر پیغمبر کی رہنمائی وحی کے ذریعے کی جاتی ہے، اللہ تعالی رہنمائی فرماتے ہیں اور اللہ کے سامنے تو زمانہ کوئی چیز نہیں، ہر چیز اللہ کے سامنے ہے چاہے ماضی ہو، چاہے حال ہو، چاہے استقبال ہو۔ یہ زمانہ ہمارے لیے تو ہے، کوئی چیز ماضی میں ہے، کوئی حال میں ہے، کوئی استقبال میں ہے، لیکن اللہ کے سامنے یہ سب برابر ہیں بھئی، سب برابر ہیں۔ تو حضور علیہ السلام اکثر معاملات میں کس پر چلتے تھے؟ وحی پر چلتے تھے اور جہاں اجازت ہوتی تھی اللہ کی طرف سے وہاں صحابہ سے مشورہ کر کے ان کے مشورے پر بھی عمل کرتے تھے۔ تو اسی کو ذکر کیا گیا۔ تو اگر یہاں اگر یہاں فعلِ ماضی ہوتا تو پھر استمرار کا فائدہ نہیں تھا۔ پھر تو ایک دفعہ کا مطلب ایک واقعہ ذکر ہوتا کہ اگر یہ تمہارے بات پر عمل کر لیتے، معلوم ہوا کوئی ایک بات ذکر ہو رہی ہے، لیکن یہاں کیا مقصود ہے؟ استمرار بھی مقصود ہے زمانۂ ماضی کے اندر، اسی لیے کہا گیا: "لَوْ يُطِيعُكُمْ"، اگر یہ تمہاری اطاعت کرتے رہتے "فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ" بہت سے معاملات میں، "لَعَنِتُّمْ" تو البتہ تم مشکل میں پڑ جاتے۔ دیکھیے، خود استمرار کا بتلا رہے ہیں یہ فائدہ دے رہا ہے، اسی لیے کہا اگے کتاب صاحبِ کتاب نے: أَيْ: لَوِ اسْتَمَرَّ عَلَى إِطَاعَتِكُمْ، اگر یہ استمرار کرتے تمہاری اطاعت پر، یعنی مسلسل رہتے تمہاری اطاعت پر۔ تو یہاں فعلِ مضارع کو استعمال کیا گیا اور ماضی کو چھوڑ دیا گیا کس لیے؟ استمرار کے فائدے کے لیے۔ وَمِنْهَا وَضْعُ الْخَبَرِ مَوْضِعَ الْإِنْشَاءِ لِغَرَضٍ۔ اور کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانا اس کی قسموں میں سے ایک قسم جو ہے: وَضْعُ الْخَبَرِ مَوْضِعَ الْإِنْشَاءِ، خبر کو رکھنا انشاء کے مقام میں۔ بھئی، ایک مقام تو انشاء کا ہے، مقام کون سا ہے؟ انشاء کا ہے، لیکن اس کے مقام پر خبر کو رکھ دیا گیا، خبر استعمال کر لی گئی، "لِغَرَضٍ" کسی غرض کی بناء پر، کسی مقصد کے لیے، "كَالتَّفَاؤُلِ" جیسے کہ نیک فالی ہے، نیک شگون مراد لینا، اچھا شگون مراد لینا۔ نحو، مثال کے طور پر: هَدَاكَ اللَّهُ لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ، اللہ اپ کی رہنمائی کرے نیک اعمال کی طرف، یعنی اللہ آپ کو ہدایت دے "لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ" نیک اعمال کی۔ اللہ آپ کو نیک، یا یوں کہیں آسان لفظوں میں: اللہ آپ کو نیک اعمال کی توفیق دے بھئی، اللہ اپ کو نیک۔ اب دیکھیے، یہ دعا دی جا رہی ہے اور اپ کو میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ عربی زبان میں دعائیں عموماً ماضی کے صیغے کے ساتھ دی جاتی ہیں۔ تو یہ مقام تو تھا انشاء کا، ہونا تو یوں چاہیے تھا: اَللّٰهُمَّ اهْدِهِ لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ، اے اللہ! اس کو ہدایت دے دے نیک اعمال کی، اے اللہ! اَللّٰهُمَّ اهْدِهِ، اے اللہ! اس کو ہدایت دے دے۔ یہ دعا کا مقام تھا تو امر کا صیغہ استعمال ہونا چاہیے تھا، لیکن نیک فالی کے طور پر عربی میں کیا کیا جاتا ہے؟ ماضی کا صیغہ استعمال کر دیا جاتا ہے دعا میں، جیسے اپ بھی کہتے ہیں: رَحِمَهُ اللّٰهُ۔ اب بھئی "رَحِمَ" یہ تو ماضی کا صیغہ ہے اور آپ دے دعا رہے ہیں، مراد کیا ہے آپ کی؟ اے اللہ! ان پر رحم فرما، مقصد تو یہ ہے، لیکن کہہ کیا رہے ہیں آپ؟ "رَحِمَهُ اللّٰهُ"، ماضی کا صیغہ استعمال کر رہے ہیں اور ماضی تو یہ تو خبر ہے، ماضی کس قبیل سے ہے؟ خبر کے قبیل سے، اور یہ مقام امر کا تھا تو اس امر کے مقام میں ماضی کو استعمال کر لیا جاتا ہے اور کس لیے؟ نیک فالی کے طور پر، کیونکہ ماضی میں جو بات گزری ہوتی ہے وہ یقینی ہوتی ہے، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں ہوتا۔ جو بات مستقبل میں ہونی ہے اس کا علم نہیں کہ ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، اللہ ایسا فرماتے ہیں یا ایسا نہیں فرماتے، کوئی علم نہیں۔ لیکن بطورِ نیک فالی کے عربی زبان میں ماضی کے صیغے کے ساتھ دعا دی جاتی ہے کیونکہ ماضی میں جو بات ہو چکی ہوتی ہے وہ یقینی ہوتی ہے۔ تو یہاں بھی دعا دینے والا نیک فالی کے طور پر ماضی کا صیغہ استعمال کرتا ہے تاکہ اللہ اس دعا کو ضرور قبول فرما لیں۔ یعنی جیسے ماضی یقینی ہوتی ہے اسی طرح ماضی کا صیغہ دعا میں لا کر گویا یہ نیک شگون کے طور پر کہ اللہ یقیناً ایسا تاکہ فرما دیں، تاکہ ایسا ہو جائے، یعنی یوں کہو گویا اللہ نے دعا قبول فرما لی، گویا اللہ نے دعا قبول فرما لی نیک فالی کے طور پر۔ بات سمجھ میں آگئی سب کو؟ نحو: هَدَاكَ اللَّهُ لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ، اللہ آپ کو ہدایت دے نیک اعمال کی۔ وَإِظْهَارِ الرَّغْبَةِ، اس کا عطف تفاؤل پر ہے۔ کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ انشاء کے مقام میں خبر کو لایا جاتا ہے، كَالتَّفَاؤُلِ، کس لیے؟ کسی غرض کے لیے، جیسے کہ تفاؤل ہے، وہ بیان ہو گیا۔ وَإِظْهَارِ الرَّغْبَةِ، اور جیسے دوسرا نقطہ کیا ہو سکتا ہے؟ رغبت کا اور شوق کا اظہار کرنے کے لیے۔ نحو، مثال کے طور پر: رَزَقَنِيَ اللّٰهُ لِقَاءَكَ، اللہ مجھے نصیب کرے آپ کی ملاقات۔ رَزَقَنِيَ اللّٰهُ، اللہ مجھے نصیب کرے، عطا کرے، لِقَاءَكَ، آپ کی ملاقات۔ تو اب ہونا تو یہ چاہیے تھا: اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي لِقَاءَهُ، اے اللہ! مجھے اس کی ملاقات عطا فرما، نصیب فرما۔ لیکن "ارْزُقْنِي" امر کا صیغہ، اس کے بجائے کون سا صیغہ استعمال کیا گیا؟ ماضی کا، "رَزَقَ" ماضی کا۔ اور کس لیے؟ رغبت کا اظہار کرنے کے لیے، اپنے شوق کو بتلانے کے لیے کہ مجھے یہ بات بڑی پسند ہے، اس میں بڑی رغبت ہے کہ میری آپ سے ملاقات ہو جائے، مجھے بہت شوق ہے اس بات کا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ بہت شوق ہے۔ تو جیسے ماضی کے اندر ایک بات یقینی ہوتی ہے تو اس کو بھی اللہ یقیناً ایسا ہی فرما دیں۔ سمجھ میں آیا؟ اسی لیے کون سا صیغہ استعمال کر لیا جاتا ہے؟ ماضی والا۔ یہ معنی ہے: وَإِظْهَارِ الرَّغْبَةِ، اور رغبت کا اظہار کرنے کے لیے، نحو: رَزَقَنِيَ اللّٰهُ لِقَاءَكَ، اللہ مجھے عطا کرے آپ کی ملاقات۔ وَالِاحْتِرَازِ عَنْ صُورَةِ الْأَمْرِ تَأَدُّبًا۔ جی، تیسرا نقطہ، کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ انشاء کے مقام میں خبر کو رکھا جاتا ہے، خبر کو لایا جاتا ہے، یعنی امر کے صیغے کے بجائے ماضی وغیرہ کا صیغہ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ کس لیے؟ الِاحْتِرَازِ عَنْ صُورَةِ الْأَمْرِ، امر کی صورت سے بچنے کے لیے، تَأَدُّبًا، بطورِ ادب کے۔ کہ کہنے والا ادب کی وجہ سے امر کا صیغہ بھی نہیں استعمال کرتا تاکہ امر کی صورت سے بھی بچ جائے۔ مثلاً دیکھیے، آگے آ رہا ہے، مثال آ رہی ہے: كَقَوْلِكَ، جیسے کہ اپ کا قول: يَنْظُرُ مَوْلَايَ فِي أَمْرِي۔ بھئی، میری کتاب میں ہے "مَوْلَائِي"، "مَوْلَائِي" نہیں ہونا چاہیے، "مَوْلَايَ"۔ ہاں، "مَوْلَايَ"، بعض کتابوں میں "مَوْلَايَ" ہوگا، درست لکھا ہوگا، تو جی۔ تو یہاں مولیٰ کے بعد ہمزہ اور یا نہیں ہونی چاہیے، صرف یا ہونی چاہیے اور اس پر بھی زبر آ جائے گی۔ يَنْظُرُ مَوْلَايَ فِي أَمْرِي۔ بھئی، مثلاً ایک شخص کا غلام ہے اور آقا جو ہے، یعنی مالک جو ہے، اس کا کوئی مسئلہ ہے، اس کے اندر مالک کی توجہ نہیں ہے، مالک کی اس کی طرف توجہ نہیں۔ تو وہ اب غلام جو ہے آقا کی توجہ اس کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہے تو اس کو یوں کہنا چاہیے: اُنْظُرْ، اُنْظُرْ فِي أَمْرِي، يَا مَوْلَايَ اُنْظُرْ فِي أَمْرِي، اے میرے آقا! اُنْظُرْ فِي أَمْرِي، آپ میرے معاملے میں پر نظر ڈالیے، اس میں ذرا غور کیجیے، یعنی اس کے حل کی بھی کوشش کیجیے۔ تو "اُنْظُرْ" کہنا چاہیے، آپ دیکھیے اس میں نظر ڈالیے۔ لیکن "اُنْظُرْ" صیغہ ہے امر کا، اور غلام بطورِ ادب کے "اُنْظُرْ" کا صیغہ وہ بھی آقا کے سامنے نہیں کہنا چاہتا۔ اگرچہ "اُنْظُرْ" کہے گا تو اپنے آپ کو بڑا سمجھ کے تو نہیں کہے گا، عاجزی کے طور پر کہے گا۔ کس طریقے پر؟ عاجزی، لیکن بہرحال صورت تو کون سی بن جائے گی؟ امر والی، تو وہ اس صورت سے بھی بچنا چاہتا ہے امر کی، امر کی صورت سے بھی بچنا چاہتا ہے، اور کیوں بچنا چاہتا ہے؟ ادب کرتے ہوئے، بطورِ ادب کے، کہ یہ میری لیے مناسب نہیں ہے میں اپنے آقا کے سامنے امر کا صیغہ استعمال کروں۔ تو لہٰذا وہ امر کا صیغہ نہیں استعمال کرتا بلکہ ماضی یا مضارع کا جو موقع کے مطابق ہو وہ استعمال کر لیتا ہے، جیسے یہاں اس نے مضارع کا صیغہ استعمال کیا۔ اور کیا کہا؟ يَنْظُرُ مَوْلَايَ فِي أَمْرِي، يَنْظُرُ مَوْلَايَ فِي أَمْرِي، کہ میرے آقا نظر کریں گے فِي أَمْرِي، میرے معاملے میں۔ اور مراد کیا ہے؟ کہ اپ میرے معاملے میں نظر ڈالیے، معنی وہی مراد ہے، البتہ صیغہ کون سا استعمال کر لیا؟ مضارع والا بھئی۔ یہ معنی ہے: وَالِاحْتِرَازِ عَنْ صُورَةِ الْأَمْرِ، اور بچنے کے لیے امر کی صورت سے، تَأَدُّبًا، بطورِ ادب کے، كَقَوْلِكَ، جیسے کہ آپ کا کہنا: يَنْظُرُ مَوْلَايَ فِي أَمْرِي، نظر کریں گے میرے آقا میرے معاملے میں۔ وَعَكْسُهُ، اور کبھی کبھار اس کا عکس کیا جاتا ہے۔ أَيْ: وَضْعُ الْإِنْشَاءِ مَوْضِعَ الْخَبَرِ، خبر کے مقام میں کس کو لایا جاتا ہے؟ انشاء کو رکھا جاتا ہے، انشاء کو لایا جاتا ہے، لِغَرَضٍ، کسی غرض کی بنا پر، كَإِظْهَارِ الْعِنَايَةِ بِالشَّيْءِ۔ عنایت کہتے ہیں توجہ اور اہتمام، توجہ اور اہتمام۔ تو ایک مقام تو ہے کہ وہاں پر خبر لانی چاہیے، یعنی ماضی یا مضارع کا صیغہ استعمال ہونا چاہیے یا اس جیسا کوئی اور صیغہ ہونا چاہیے، لیکن بہرحال امر نہیں ہونا چاہیے، امر نہیں ہونا، لیکن کہنے والا کیا کرتا ہے؟ اس مقام پر امر کا صیغہ استعمال کر لیتا ہے اس چیز کی اہمیت بتلانے کے لیے، اس چیز کی اہمیت بتلانے کے لیے اور اس کی طرف اپنی توجہ بتلانے کے لیے کہ یہ بڑی اہم چیز ہے بھئی۔ كَإِظْهَارِ الْعِنَايَةِ بِالشَّيْءِ، جیسے کسی چیز کے اوپر توجہ کو ظاہر کرنا۔ نحو، مثال کے طور پر: قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ۔ قل، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے، أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ، کہ حکم دیا ہے میرے پروردگار نے مجھے بالقسط، کس چیز کا؟ انصاف کا، انصاف کرنے کا۔ وَأَقِيمُوا، اور تم سیدھا رکھو، وُجُوهَكُمْ، اپنے چہروں کو، عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ۔ مسجد مصدرِ میمی ہے، یعنی سجدہ کرنا۔ مسجد کس معنی میں ہے؟ سجدہ کرنا، اور تو یہ مصدرِ میمی ہے اور سجدے کے معنی میں ہوا اور مراد اس سے صلاۃ ہے، کیا مراد ہے؟ نماز مراد ہے، تو سجدہ بول کر نماز مراد ہے۔ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ، اور تم سیدھا رکھو اپنے چہروں کو عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ، ہر نماز کے وقت، یعنی ہر نماز کے وقت اپنے چہروں کو سیدھا رکھو۔ اب دیکھیے بھئی، "وَأَقِيمُوا"، یہ امر کا صیغہ آیا، حالانکہ اس کا عطف ہو رہا ہے "الْقِسْطِ" پر، "الْقِسْطِ" پر، اور ہونا کیا چاہیے تھا؟ وَإِقَامَةِ، قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے: میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے، وَإِقَامَةِ وُجُوهِكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ، اور اس بات کا حکم دیا ہے کہ اپنے چہروں کو قائم کرو ہر نماز کے وقت بھئی، ہر نماز کے وقت۔ تو اقامت کی مصدر کی جگہ کیا استعمال کر لیا گیا؟ امر، انشاء استعمال کر لیا گیا، کس لیے؟ اہمیت بتلانے کے لیے نماز کی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لَمْ يَقُلْ، یہ نہیں کہا اللہ تعالیٰ نے: وَإِقَامَةِ وُجُوهِكُمْ، عِنَايَةً بِأَمْرِ الصَّلَاةِ، توجہ دیتے ہوئے کس کو؟ نماز کے معاملے کو، تاکہ اس کے معاملے کی اہمیت ظاہر ہو جائے، نماز کی اہمیت ظاہر ہو جائے۔ اگر یوں ہوتا: میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے انصاف کرنے کا اور نماز کے وقت چہروں کو سیدھا رکھنے کا، تو اس میں اتنا زور زور تو اس میں بھی تھا کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے، لیکن مزید اہمیت بتلانے کے لیے وہاں باقاعدہ امر ہی کا صیغہ استعمال کر لیا گیا: میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ "أَقِيمُوا" کہ تم لوگ کیا کرو؟ اپنے چہروں کو قائم کرو، سیدھا رکھو عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ، ہر نماز کے وقت بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ اس سے زور آ گیا، اہمیت اس کی بیان ہو گئی، اس کی طرف اشارہ ہو گیا۔ تو کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ مقام تو خبر کا ہوتا ہے لیکن اس کی جگہ کیا استعمال کر لیا جاتا ہے؟ انشاء۔ کس لیے؟ اس چیز پر پر توجہ کو ظاہر کرنے کے لیے۔ نیز، وَالتَّحَاشِي عَنْ مُوَاذَاةِ اللَّاحِقِ بِالسَّابِقِ۔ تحاشی، تحاشی يتحاشی کا معنی ہے بچنا، بچنا۔ وَالتَّحَاشِي، اور بچنے کے لیے عَنْ مُوَاذَاةِ اللَّاحِقِ بِالسَّابِقِ، مواذاۃ کہتے ہیں برابری، مقابل ہونا، ایک چیز کا دوسری چیز کے برابر ہونا یا اس کے مقابل ہونا۔ لاحق، پیچھے آنے والا، جو بعد میں آنے والا ہے، جڑا ہوا ہے ساتھ، اور سابق، جو پہلے آنے والا ہے۔ وَالتَّحَاشِي عَنْ مُوَاذَاةِ اللَّاحِقِ بِالسَّابِقِ، اور بعد والی چیز کو سابقہ چیز کے کی برابری سے بچنے کے لیے۔ کس لیے؟ بھئی دیکھیے، کلام کے اندر دو چیزیں ذکر ہو رہی ہیں، پہلی چیز کے مقام میں خبر استعمال ہوئی تو دوسرے مقام پر بھی کیا استعمال ہونی چاہیے؟ خبر استعمال ہونی چاہیے۔ لیکن متکلم کیا کرتا ہے؟ اس دوسرے جہاں خبر کا مقام ہے وہاں پر امر یعنی انشاء استعمال کر لیتا ہے۔ کس لیے انشاء استعمال کرتا ہے؟ اس لیے کیونکہ اگر وہاں بھی خبر استعمال کر لیتا تو یہ بعد والی چیز بھی پہلی چیز کے برابر ہو جاتی اور حالانکہ وہ تو یہ نہیں چاہتا کہ دوسری چیز کیا ہے؟ پہلی کے برابر ہو یا برابر نظر آئے، تو لہٰذا وہ کیا کرتا ہے؟ اس کو دوسری چیز کی جگہ انشاء استعمال کر لیتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے، مثال سے اور واضح ہوگی بات۔ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ۔ حضرت ہود علیہ السلام اپنے قوم سے فرما رہے ہیں: قَالَ، حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا: إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ، أشهد يشهد کے معنی ہوتے ہیں گواہ بنانا، اور شَهِدَ يَشْهَدُ کے معنی ہوتے ہیں گواہ بننا، گواہ رہنا۔ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ، حضرت ہود علیہ السلام فرمانے لگے: إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ، بے شک میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں، امر کا صیغہ نہیں ہے، مضارع کا ہے، "أُشْهِدُ" میں کیا کرتا ہوں؟ گواہ بناتا ہوں، خبر دے رہے ہیں۔ آگے قوم والوں کو بھی یوں کہنا چاہیے تھا: وَأُشْهِدُكُمْ، اور تم کو بھی میں کیا کرتا ہوں؟ گواہ بناتا ہوں۔ لیکن اس صورت میں اللہ کو گواہ بنانا اور قوم کا گواہ بنانا دونوں برابر نظر آتے بظاہر، اور وہ اس سے بھی اپنے اپ کو بچانا چاہتے ہیں کہ کسی انداز میں بھی یہاں برابری نظر نہیں آنی چاہیے کیونکہ ایک اللہ کو گواہ بنانا ہے، ایک اس کی مخلوق کو گواہ بنانا ہے، دونوں میں فرق ہونا چاہیے۔ تو لہٰذا وہاں پر "أُشْهِدُكُمْ" نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ "وَاشْهَدُوا"، اور تم بھی گواہ رہو، امر کا صیغہ لے آئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ، میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں، وَاشْهَدُوا، اور تم لوگ بھی گواہ رہو، أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ، کہ میں بیزار ہوں اس سے جس کو تم شریک بناتے ہو، یعنی جس کو تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو، میں ان چیزوں سے کیا ہوں؟ بیزار ہوں۔ تو نقطہ سمجھ میں ایا بھئی؟ تو یہاں پر پہلے کیا آیا؟ "أُشْهِدُ"، مضارع کا صیغہ ہے، اور اگے "أُشْهِدُكُمْ" کے بجائے کیا کہا گیا؟ "وَاشْهَدُوا"، "اِشْهَدُوا" صیغۂ امر استعمال کیا گیا، کس لیے؟ تاکہ جو لاحق ہے، یعنی جو بعد میں آنے والا ہے، وہ سابق کے کہیں برابر دکھائی نہ دے تو اس سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔ یہ معنی ہے: وَالتَّحَاشِي عَنْ مُوَاذَاةِ اللَّاحِقِ بِالسَّابِقِ، اور بچنے کے لیے لاحق کی سابق کے ساتھ برابری سے، نَحْوُ: قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ۔ لَمْ يَقُلْ، حضرت ہود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا: "وَأُشْهِدُكُمْ" کہ میں تمہیں کیا کرتا ہوں؟ گواہ بناتا ہوں، تَحَاشِيًا عَنْ مُوَاذَاةِ شَهَادَتِهِمْ بِشَهَادَةِ اللَّهِ۔ "مُوَاذَاةِ"، یہاں ذال کے بعد بھی ایک الف ہونا چاہیے بھئی، میری کتاب میں نہیں ہے، بعض کتابوں میں ہوگا، جن میں نہیں ہے وہ بھی لگا لیں۔ تو انہوں نے "وَأُشْهِدُكُمْ" نہیں فرمایا، تَحَاشِيًا، بچنے کے لیے عَنْ مُوَاذَاةِ شَهَادَتِهِمْ بِشَهَادَةِ اللَّهِ، اس بات سے کہ برابر ہو جائے ان کی گواہی اللہ کی گواہی کے، اس بات سے بچنے کے لیے۔ وَالتَّسْوِيَةِ، اور کبھی کبھار مقام تو خبر کا ہوگا لیکن اس کی جگہ انشاء استعمال کر لیا جائے گا دو چیزوں میں برابری بتلانے کے لیے۔ تسویہ کا کیا معنی؟ برابری۔ جیسے: أَنْفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ۔ اللہ تعالی فرما رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اے پیغمبر! اپ ان منافقین کو کہہ دیجیے: أَنْفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا، کہ تم خرچ کرو طوعاً او کرهاً، خوشی سے یا ناخوشی سے، یا یعنی یا ناگواری سے۔ کہ تم لوگ خرچ کرو چاہے طوعاً، اطاعت سے یعنی خوشی کے ساتھ، أَوْ كَرْهًا، یا ناگواری کے ساتھ، لَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ، ہرگز تم سے وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ تم جو کچھ بھی خرچ کرو، چاہے تم خوشی سے خرچ کرو، چاہے ناگواری سے خرچ کرو، وہ تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ تم ظاہر میں تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہو لیکن دل میں تم کافر ہو، لہٰذا تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اللہ اس کو قبول فرمانے والے نہیں ہیں بھئی، نہیں ہیں۔ تو یہاں پر بھئی، مقام تو خبر کا تھا کہ جو کچھ تم نے خرچ کیا ہے، جو کچھ تم نے خرچ کیا ہے، اللہ اس کو قبول نہیں فرمائیں گے چاہے تم نے خوشی سے خرچ کیا ہے چاہے ناگواری سے خرچ، جو خرچ کیا ہے اللہ اس کو قبول فرمانے والے نہیں۔ تو اب مقام تھا خبر کا، لیکن چونکہ دو چیزوں میں برابری بتلانا مقصد ہے اور دو چیزوں میں برابری بتلانے کے لیے پھر عموماً امر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے، کون سا؟ امر کا۔ اسی لیے "أَنْفَقْتُمْ" نہیں کہا گیا بلکہ کیا کہا گیا؟ "أَنْفِقُوا"، تم خرچ کرو، چاہے خوشی سے ہو چاہے ناگواری سے، اللہ اس کو قبول کرنے والے نہیں۔ آپ کہیں گے بھئی کس طرح برابری آ رہی ہے امر کے استعمال سے؟ برابری کے لیے لایا گیا نا امر، کس چیز میں برابری؟ کہ دونوں طرح خرچ کرنا برابر ہے، چاہے خوشی سے خرچ کریں چاہے ناگواری سے خرچ کریں، دونوں صورتیں برابر ہیں۔ اللہ اس کو قبول کرنے والے نہیں۔ تو برابری بیان کرنے کے لیے یاد رکھیے عموماً امر استعمال کیا جاتا ہے، کیا استعمال کیا جاتا ہے؟ آپ بھی استعمال کرتے ہیں لیکن آپ نے کبھی توجہ نہیں کی ہوگی۔ مثلاً، اپ کا ایک ساتھی ہے، اس نے کوئی ایسا عمل کیا جس سے آپ ناراض ہو گئے۔ آپ اس سے ناراض ہو گئے۔ آپ بہت سخت ناراض ہوئے، اب وہ اس کی تلافی کر کے آتا ہے، اسی عمل کو ٹھیک کر کے آتا ہے اور آ کر اپ سے کہتا ہے کہ بھئی وہ کام میں نے ٹھیک کر دیا ہے۔ اپ کی ناراضگی نہیں ختم ہو رہی، اب اپ اس سے کہتے ہیں: تم وہ کام کرو یا نہ کرو، میں تم سے راضی ہونے والا نہیں۔ دیکھو کیا استعمال کر رہے ہیں؟ امر استعمال کر رہے ہیں: تم وہ کام کرو یا نہ کرو، پھر بھی میں تم سے راضی نہیں۔ معلوم ہوا آپ بھی کیا استعمال کرتے ہیں اس قسم کے مواقع پر؟ امر ہی استعمال کرتے ہیں دو چیزوں میں برابری بیان کرنے کے لیے۔ مثال بھی سمجھ میں ائی کہ نہیں ائی بھئی؟ سمجھ تم کرو یا نہ کرو، تو دیکھو "کرو" یہ صیغۂ امر آیا، "نہ کرو" یہ کیا آ گئی؟ نفی آ گئی۔ تو دیکھو انشاء استعمال کر رہے ہیں اپ، اور کس لیے کر رہے ہیں؟ برابری بیان کرنے کے لیے دو چیزوں میں۔ وَمِنْهَا الْإِضْمَارُ فِي مَقَامِ الْإِظْهَارِ لِغَرَضٍ۔ اور کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانے کی قسموں میں سے ایک جو ہے: الْإِضْمَارُ فِي مَقَامِ الْإِظْهَارِ، ضمیر کا لانا ہے اظہار کے مقام میں، یعنی ایسا مقام جہاں اسمِ ظاہر لانا چاہیے تھا۔ بھئی، ایک ہے ضمیر، ایک ہے اسمِ ظاہر۔ ایک ہے ضمیر اور ایک اسمِ ظاہر۔ جو بھی ضمیر نہیں ہے وہ اسمِ ظاہر ہے۔ ہے اسم اور ضمیر نہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ اسمِ ظاہر۔ تو لہٰذا "كِتَابٌ" یہ کیا ہے؟ اسمِ ظاہر۔ "زَيْدٌ" یہ کیا ہے؟ اسمِ ظاہر۔ بس جو چیز ہے وہ جو اسم وہ یا تو ضمیر ہوگی یا اسمِ ظاہر۔ اگر ضمیر ہے تو پھر اسمِ ظاہر نہیں، اور اگر اسمِ ظاہر ہے تو ضمیر نہیں بھئی۔ اب دیکھیے، آپ نے پڑھا ہے کہ غائب کی ضمیر جو ہے اس کے لیے پہلے مرجع ہونا چاہیے اور پھر اس کے بعد غائب کی ضمیر ذکر کی جاتی ہے کیونکہ غائب کی ضمیر کے لیے ہمیشہ مرجع چاہیے، کیونکہ "هِيَ" یا "هُوَ" وغیرہ ضمیر ہے اس کے لیے تو کسی بھی چیز کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے تو پہلے مرجع ذکر ہونا چاہیے تاکہ سننے والے کو پتہ لگ جائے اس "هِيَ" یا "هُوَ" کے ذریعے کون مراد ہے، کس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔ تو ضمیر غائب کی ضمیر کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مرجع پہلے اس کا ذکر ہونا چاہیے، لیکن بعض اوقات متکلم کیا کرتا ہے؟ مقام تو اسمِ ظاہر کا ہے، پہلے مرجع آنا چاہیے، اگے چل کر پھر کیا ائے گی؟ ضمیر ائے گی، تو اولاً شروع میں کیا اتا ہے؟ اسمِ ظاہر یا ضمیر اتی ہے؟ اسمِ ظاہر۔ تو مقام تو تھا اسمِ ظاہر کا، پہلے ایک دفعہ مرجع ذکر ہو جائے پھر اس کے بعد ضمیر ذکر ہو، لیکن متکلم شروع ہی سے ضمیر استعمال کر لیتا ہے۔ کیا کر لیتا ہے؟ ضمیر استعمال کر لیتا ہے۔ اب یہ کس لیے کیا جاتا ہے؟ وہ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَمِنْهَا الْإِضْمَارُ فِي مَقَامِ الْإِظْهَارِ لِغَرَضٍ، اور ان مقامات میں سے ایک جو ہے وہ ضمیر کو لانا ہے اظہار کے مقام میں، یعنی اسمِ ظاہر لانے کے مقام میں، لِغَرَضٍ، کسی غرض کی وجہ سے۔ اب وہ کیا کیا غرض ہو سکتی ہے؟ چند غرضیں ذکر کر رہے ہیں: كَادِّعَاءِ أَنَّ مَرْجِعَ الضَّمِيرِ دَائِمُ الْحُضُورِ فِي الذِّهْنِ۔ بھئی، متکلم کیا کرتا ہے؟ مقام تو تھا اسمِ ظاہر کا لیکن وہ ضمیر لے کر آتا ہے، وہ بتلانا یہ چاہتا ہے کہ اس ضمیر کا جو مرجع ہے وہ ہر وقت ذہن میں حاضر ہے، ذہن میں موجود ہے۔ جب ہر وقت ذہن میں موجود ہے تو اس کو لفظوں میں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، ضمیر لائیں گے خود بخود بات سمجھ میں آ جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بھئی مرجع پہلے مرجع آتا ہے کہ ضمیر اتی ہے؟ مرجع۔ مرجع تبھی لائیں گے نا جب ذہن میں ایک چیز حاضر نہیں ہے تاکہ پتہ لگ جائے سننے والے کو کہ یہ مرجع ہے۔ اب اگے ضمیر ائے گی تو اس کو پتہ چل جائے گا یہ مرجع ہے۔ اور ایک چیز جو ہر وقت ذہن میں موجود ہے اس کو تو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، ضمیر لائیں گے وہ چیز تو ویسے ہی ذہن میں موجود ہے، خود ہی انسان سمجھ جائے گا کہ اس سے یہ مراد ہے۔ تو شاعر دیکھیے اگلے شعر میں کیا کرتا ہے؟ مقام تھا اسمِ ظاہر کا، وہ ضمیر لاتا ہے یہ بتلانے کے لیے کہ اس ضمیر کا مرجع وہ ہر وقت ذہن میں حاضر ہے، ذہن سے وہ نکلا ہی نہیں کہ اس کو پھر ذکر کرنے کی ضرورت پڑے اور مرجع کو تلاش کرنا پڑے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ كَادِّعَاءِ أَنَّ مَرْجِعَ الضَّمِيرِ دَائِمُ الْحُضُورِ فِي الذِّهْنِ، جیسے یہ دعویٰ کرنے کے لیے کہ ضمیر کا مرجع جو ہے دَائِمُ الْحُضُورِ فِي الذِّهْنِ، ہمیشہ حاضر ہے ذہن میں۔ كَقَوْلِ الشَّاعِرِ، جیسے کہ شاعر کا قول ہے: أَبَتِ الْوِصَالَ مَخَافَةَ الرُّقَبَاءِ وَأَتَتْكَ تَحْتَ مَدَارِعِ الظَّلْمَاءِ ظَلْمَاء میں یہ لام پر جزم ہونا چاہیے، لام ساکن ہے، اور الف کے بعد ہمزہ ہونی چاہیے، ظَلْمَاء، الف کے بعد ہمزہ ہونی چاہیے بھئی، جیسے پہلے مصرعے میں الف کے بعد ہمزہ ہے۔ اس شعر میں شاعر اپنی محبوبہ اور معشوقہ کا ذکر کر رہا ہے اور کہتا ہے: أَبَتِ الْوِصَالَ، وصال کہتے ہیں ملاقات کو، ابی یابیٰ کے معنی ہوتے ہیں انکار کرنے کے، أَبَتْ، اس نے انکار کر دیا ہے، الْوِصَالَ، ملاقات کا۔ اس نے شاعر غم کی حالت میں ہے بھئی اور غمگین ہو کر یہ شعر کہہ رہا ہے کہ میری محبوبہ نے میرے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا ہے۔ کیوں انکار کیا ہے؟ مَخَافَةَ الرُّقَبَاءِ، مخافت خوف بھئی، اور الرُّقَبَاءِ جمع ہے رقیب کی اور رقیب کہتے ہیں حاسد اور حاسد اور مخالف جو ہے، حاسدین اور مخالفین جو ہیں۔ اصل میں رقیب کا معنی ہوتا ہے نگاہ رکھنے والا، تاک میں رہنے والا۔ تو مخالفین اور حاسدین بھی کیا ہوتے ہیں؟ اپنے دشمن کی تاک میں رہتے ہیں تو اس لیے ان کو رقیب کہتے ہیں۔ تو کہتا ہے: أَبَتِ الْوِصَالَ، میری محبوبہ نے ملاقات سے انکار کر دیا ہے، مَخَافَةَ الرُّقَبَاءِ، رقیبوں کے خوف کی وجہ سے۔ وَأَتَتْكَ، اور حال یہ ہے کہ وہ تیرے پاس آئی ہے۔ یہ اب اپنے آپ کو خطاب کر رہا ہے، شاعر کس کو خطاب کر رہا ہے؟ اپنے آپ کو۔ اور حال یہ ہے کہ وَأَتَتْكَ، کہ وہ تیرے پاس آئی ہے تَحْتَ مَدَارِعِ الظَّلْمَاءِ، مدارع جمع ہے مدرع کی، اور مدرع کہتے ہیں جبے اور جبے کو بھئی۔ اور اسی طرح چوغہ جو ہے، چوغہ، یعنی قمیص کے اوپر جو چیز پہنی جاتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مدرع۔ تو یہ: وَأَتَتْكَ تَحْتَ مَدَارِعِ الظَّلْمَاءِ، اور حال یہ ہے کہ وہ تیرے پاس آئی ہے تَحْتَ مَدَارِعِ الظَّلْمَاءِ، ظلماء تاریکی، تاریکیوں کے جبوں کے نیچے، اور تحقیق وہ تیرے پاس آئی ہے تاریکیوں کے جبوں کے نیچے، گویا تاریکی کو کس کے ساتھ تشبیہ دے دی؟ جبے کے ساتھ، جیسے جبہ پہن لیتا ہے انسان اس کے اندر اس کا پورا بدن چھپ جاتا ہے، اسی طرح تاریکی بھی ایک جبے اور ایک چادر کی طرح ہے جو ہر چیز کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے۔ اور حال یہ ہے کہ وہ تیرے پاس، یہ شاعر اپنے آپ کو خطاب کر رہا ہے، کہ اس وقت تو اس نے میرے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا ہے، لیکن حال یہ ہے کہ وہ کئی مرتبہ تاریکیوں کے چوغوں کے نیچے مجھ سے ملاقات کے لیے آ چکی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں ایا بھئی؟ تو اردو میں با محاورہ یوں ترجمہ کر لیں: وَأَتَتْكَ تَحْتَ مَدَارِعِ الظَّلْمَاءِ، اور حال یہ ہے کہ وہ تیرے پاس آ چکی ہے تاریکیوں کے پردوں کے نیچے، با محاورہ ترجمہ یوں۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ تو دیکھیے، یہاں شاعر نے کہا: "أَبَتْ"، "هِيَ" ضمیر اس کے اندر فاعل ہے اور وہ راجع ہے محبوبہ کو۔ تو پہلے مرجع ہونا چاہیے تھا پھر یہ ضمیر آنی چاہیے تھی۔ اسی طرح "وَأَتَتْكَ"، یہ "أَتَتْ" میں بھی "هِيَ" ضمیر ہے تو یہ ضمیریں آ گئیں حالانکہ پہلے کس کو ذکر کرنا چاہیے تھا؟ مرجع کو یعنی اسمِ ظاہر کو، تو اسمِ ظاہر کی جگہ ضمیر کو استعمال کر لیا گیا یہ بتلانے کے لیے کہ یہ وہ ذات ہے جو میرے دل سے کبھی نکلتی نہیں ہے، ہر وقت میرے دل میں موجود ہے۔ جب موجود ہے تو اس کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، بغیر ذکر کیے ہی ضمیر لوٹائی جائے تو بات سمجھ میں ا جاتی ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: أَبَتِ الْوِصَالَ مَخَافَةَ الرُّقَبَاءِ وَأَتَتْكَ تَحْتَ مَدَارِعِ الظَّلْمَاءِ میری محبوبہ نے ملاقات سے انکار کر دیا ہے رقیبوں کے خوف کی وجہ سے، اور حال یہ ہے کہ وہ کئی مرتبہ تاریکیوں کے پردوں کے تحت کے نیچے میرے پاس آ چکی ہے۔ الفاعل ضمیر لم يتقدم له مرجع، فاعل جو ہے وہ ایسی ضمیر ہے کہ لَمْ يَتَقَدَّمْ لَهُ مَرْجِعٌ کہ مقدم نہیں ہوا اس کا کوئی مرجع۔ فاعل جو ہے ایسی ضمیر ہے جس کا کوئی مرجع مقدم نہیں ہوا، فَمُقْتَضَى الظَّاهِرِ الْإِظْهَارُ، تو مقتضائے ظاہر کیا تھا؟ اظہار ہونا چاہیے تھا یعنی اسمِ ظاہر ہونا چاہیے تھا، لیکن شاعر نے اسمِ ظاہر یعنی مقتضائے ظاہر سے عدول کیا اور کس کو استعمال کیا؟ ضمیر کو استعمال کیا کیا بتلانے کے لیے؟ کہ اس ضمیر کا مرجع ہر وقت دل میں حاضر ہے اور موجود ہے۔ تو یہ ایک نقطہ ہوا کس چیز میں؟ کہ اسمِ ظاہر کے مقام میں ضمیر لائی جاتی ہے۔ دوسرا نقطہ، کبھی اس لیے ایسا کیا جاتا ہے: وَتَمْكِينِ مَا بَعْدَ الضَّمِيرِ فِي نَفْسِ السَّامِعِ۔ تمکین کا معنی ہے بٹھا دینا، جما دینا۔ اور وَتَمْكِينِ مَا بَعْدَ الضَّمِيرِ، اور ضمیر کے ما بعد جو ہے اس کو بٹھا دینا فِي نَفْسِ السَّامِعِ، سننے والے کے نفس میں، لِتَشَوُّقِهِ إِلَيْهِ أَوَّلًا۔ تشوق کا معنی ہے شوق دلانا، رغبت دلانا۔ لِتَشَوُّقِهِ إِلَيْهِ، اس کی طرف رغبت دلاتے ہوئے، أَوَّلًا، شروع میں۔ أَوَّلًا، شروع۔ بھئی دیکھیے، یہ بات اب کر رہے ہیں ضمیرِ شان اور ضمیرِ قصہ اور اس جیسی ضمیروں کے بارے میں۔ آپ نے پڑھا ہے کہ ہر ضمیر کا پہلے مرجع ذکر ہوتا ہے اور بعد میں ضمیر ذکر ہوتی ہے۔ اسم غائب میں ہمیشہ کیا ضابطہ غائب کی ضمیر میں کیا ضابطہ ہے؟ کہ پہلے کیا ذکر ہونا چاہیے؟ پہلے مرجع ذکر ہونا چاہیے، پھر کیا ہونی چاہیے؟ ضمیر ذکر ہونی چاہیے تاکہ سننے والے کو بات اچھی طرح سمجھ میں آئے کہ یہ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے، اس سے کون مراد ہے، لیکن یہ ضمیرِ شان اور ضمیرِ قصہ، اس میں ضمیر پہلے اتی ہے اور مرجع بعد میں آتا ہے، اور اس میں نقطہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے ضمیر ذکر کر دی جاتی ہے اور جب ضمیر آ گئی اور مرجع نہیں آیا تو سننے والے کے دل میں طلب اور تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ ضمیر آ گئی، مرجع نہیں ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ تو اس کے ذہن میں طلب پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کی ضمیر کا مرجع کیا ہے، اس سے مراد کیا ہے، اور پھر اگے اگلا جملہ اس کی تفسیر کر دیتا ہے اسی ضمیر کی، اسی ضمیر کی تفسیر۔ تو دل میں طلب پیدا ہو چکی تھی، اس کے بعد جب اگلی بات آئی وہ ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گی کیونکہ یہ بات ظاہر ہے۔ ایک بات جو ہے بغیر طلب کے اپ کو ملے اور ایک بات طلب کے بعد ملے، کون سی بات ذہن میں اچھی طرح بیٹھے گی؟ جو طلب کے بعد ملے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو ضمیرِ شان اور ضمیرِ قصہ، یہ ایک مبہم ضمیر ہوتی ہے، آگے آنے والا جملہ ان کی تفسیر کرتا ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: هُوَ، شان یہ ہے، زَيْدٌ قَائِمٌ، کیا شان ہے؟ کہ زید کھڑا ہے۔ یہ "هُوَ" ضمیر ضمیرِ شان ہے اور "زَيْدٌ قَائِمٌ" اسی کی تفسیر کر رہا ہے۔ کیا شان ہے؟ کیا حال ہے؟ شان کا کیا معنی؟ حال۔ کیا حال ہے؟ آگے بتلا دیا، کیا حال حال کیا ہے؟ کہ زید کھڑا ہے، یہ حال ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ضمیرِ شان ایک مبہم ضمیر ہوتی ہے، اگے آنے والا جملہ کیا کرتا ہے اس کی؟ تفسیر۔ تو کیا کہا میں نے؟ هُوَ زَيْدٌ قَائِمٌ، شان یہ ہے کہ زید کھڑا ہے۔ تو جیسے ہی آپ نے شروع میں کہا "هُوَ"، سننے والا فوراً متوجہ ہوا کہ غائب کی ضمیر شروع میں ہی آ گئی، پیچھے تو مرجع ہی کوئی نہیں، اس سے کیا مراد ہے، اس کا کیا معنی ہے؟ دل میں طلب پیدا ہوئی، ساتھ ہی آگے ا گیا: زَيْدٌ قَائِمٌ، تفسیر آ گئی۔ دل میں طلب پیدا ہو چکی تھی، اب جو "زَيْدٌ قَائِمٌ" کا جملہ ہے اور یہ جو بات ہے وہ اس کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ گئی، جم گئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہی ضمیر مذکر کی ہو تو یہ ضمیرِ شان کہلاتی ہے، اور یہی ضمیر مونث کی ہو تو یہ ضمیرِ قصہ کہلاتی ہے، بات ایک ہی ہے۔ مذکر میں کہیں گے: شان یہ ہے، زَيْدٌ قَائِمٌ، کہ زید کھڑا ہے۔ اور مونث میں کہیں گے: هِيَ زَيْنَبُ قَائِمَةٌ، قصہ یہ ہے کہ زینب کھڑی ہے۔ اور کہاں ضمیرِ شان لاتے ہیں، کہاں ضمیرِ قصہ؟ مذکر والی ضمیر کہاں لائیں گے، مونث والی کہاں؟ دونوں ہیں ایک ہی چیز، دونوں کی اگے آنے والا جملہ تفسیر کرتا ہے، لیکن مذکر میں کہتے ہیں ضمیرِ شان اور مونث میں کہتے ہیں ضمیرِ قصہ۔ تو یاد رکھیے، جو آگے جملہ ہے جو اس کی تفسیر بیان کر رہا ہے اس کے مسند الیہ کو دیکھیں گے، اگر اس کا مسند الیہ مذکر ہے تو ضمیرِ شان لے کر ائیں گے مذکر والی، اور اگر اس کا مسند الیہ مونث ہے تو ضمیرِ قصہ یعنی مونث والی ضمیر لے کر ائیں گے۔ اسی لیے کہا میں نے، جملہ کیا تھا؟ زَيْدٌ قَائِمٌ، تو زید ہے مسند الیہ مذکر، تو یہاں ضمیرِ شان کس طرح لائیں گے؟ کیا کہیں گے؟ هُوَ زَيْدٌ قَائِمٌ۔ اور اگر ہوتا زَيْنَبُ قَائِمَةٌ، پھر کیا کہتے؟ هِيَ زَيْنَبُ قَائِمَةٌ، قصہ یہ ہے کہ زینب کھڑی ہے۔ تو اس یہ جو ضمیرِ شان یا ضمیرِ قصہ لائی جاتی ہے اس میں مقصد ہی کیا ہوتا ہے؟ اس میں جان بوجھ کر ضمیر ہی کو پہلے لایا جاتا ہے، مرجع آتا ہی بعد میں ہے، اور کیا مقصد ہوتا ہے، نقطہ کیا ہوتا ہے؟ تاکہ ضمیر لا کر سننے والے کے دل میں شوق پیدا کر دیا جائے کہ اس کا مرجع کیا ہے، مرجع کا تو پتہ ہی نہیں اور ضمیر آ گئی، اور شوق کے بعد جو پھر اگے اگلی بات جب ائے گی وہ اس کے ذہن میں اچھی طرح جم جائے گی اور بیٹھ جائے گی۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ تو کہتے ہیں: وَتَمْكِينِ مَا بَعْدَ الضَّمِيرِ فِي نَفْسِ السَّامِعِ، اور بٹھانے کے لیے وہ جو ضمیر کے بعد ہے اس کو۔ ضمیر کے جو بعد ہے اس کو بٹھانے کے لیے فِي نَفْسِ السَّامِعِ، کس کے نفس میں؟ سامع، سننے والے کے نفس میں۔ کس چیز کو بٹھانا ہے؟ کتاب پر نظر رکھیں، سامع کے نفس میں بٹھانا کس چیز کو؟ مَا بَعْدَ الضَّمِيرِ، وہ جو ضمیر کے بعد ہے۔ اور ضمیر کے بعد کیا ا رہا ہے؟ اسی ضمیر کی تفسیر ا رہی ہے، کیا ا رہی ہے؟ اسی کی تفسیر ا رہی ہے۔ تو یہ تو وہ بٹھانے کے لیے: وَتَمْكِينُ مَا بَعْدَ الضَّمِيرِ، نہیں، "وَتَمْكِينِ" مجرور پڑھیں بھئی، اس کا عطف ادعاء پر ہے: وَتَمْكِينِ مَا بَعْدَ الضَّمِيرِ فِي نَفْسِ السَّامِعِ، اور ضمیر کے ما بعد کو سننے والے کے نفس میں بٹھانے کے لیے، لِتَشَوُّقِهِ إِلَيْهِ أَوَّلًا، کیوں؟ کس طرح بٹھانے کے لیے؟ بوجہ رغبت دلانے کے اس کی طرف اولاً پہلے، پہلے اس کی طرف رغبت دلاتے ہوئے۔ کس طرح پہلے اس کی طرف رغبت دلائی گئی اور شوق دلایا گیا؟ ضمیر لائی گئی، پہلے ضمیر لائی گئی، اس طرح اپ شروع میں اس کو شوق دلا دیا گیا، تو پھر ما بعد الضمیر جو ہے اس کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گا۔ نحو، مثال کے طور پر: هِيَ النَّفْسُ مَا حَمَّلْتَهَا تَتَحَمَّلُ۔ شان یہ ہے کہ نفس جو ہے انسان کا، مَا حَمَّلْتَهَا، جس قدر تم اس پر بوجھ ڈالو گے، تَتَحَمَّلُ، تو یہ اس کو اٹھا لے گا۔ اصل یہ ہے کلام، صرف "هِيَ" کو ذرا ہٹا دو: اَلنَّفْسُ مَا حَمَّلْتَهَا تَتَحَمَّلُ، نفس جو ہے اس پر جس قدر اپ ذمہ داری ڈالیں گے، جتنا بوجھ ڈالیں گے، تَتَحَمَّلُ، وہ کیا کرے گا اس کو؟ اٹھا لے گا، اس کو برداشت کر لے گا۔ تو اب اسی سے پہلے ضمیرِ شان لے ضمیرِ قصہ لے ائے کیونکہ نفس کا لفظ کیا ہے؟ مونثِ سماعی ہے۔ قصہ "هِيَ"، قصہ یہ ہے، کیا پورا کلام کیا ہوا؟ هِيَ النَّفْسُ مَا حَمَّلْتَهَا تَتَحَمَّلُ، تو "هِيَ" کون سی ضمیر ہے؟ ضمیرِ قصہ۔ "هِيَ" قصہ یہ ہے، اب فوراً شوق پیدا ہوا کہ ضمیر آ گئی، کیا مراد ہے، اس کا معنی کیا ہے؟ آگے تفسیر آ گئی: اَلنَّفْسُ مَا حَمَّلْتَهَا تَتَحَمَّلُ، کہ نفس جو ہے اس کو جس قدر اپ اس پر بوجھ ڈالیں وہ اس کو کیا کر لیتا ہے؟ برداشت کر لیتا ہے، یعنی اللہ نے اس کو اتنی قوت دی ہے، اس کو جتنی مشقت کا عادی بنائیں گے یہ عادی ہوتا چلا جائے گا۔ اس پر جتنی جتنا بوجھ اور جتنی ذمہ داریاں ڈالیں گے اس کا حوصلہ بلند ہوتا چلا جائے گا بھئی۔ معنی سمجھ میں ایا؟ تو اس سے پہلے یہ ضمیرِ قصہ ذکر کی۔ اور جیسے: هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے: هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، یہ "هُوَ" ضمیرِ شان ہے۔ شان یہ ہے، ذہن متوجہ ہو گیا کہ ضمیر آ گئی، مرجع تو پہلے ہے ہی نہیں، تو پہلے ہی رغبت دلا گئی شروع میں ہی کیا دلا دی گئی؟ رغبت دلا دی گئی، شوق پیدا ہو گیا دل میں کہ اس سے کیا مراد ہے، طلب پیدا ہو گئی۔ آگے آ گیا: اَللَّهُ أَحَدٌ، اللہ یکتا ہے، اللہ یکتا ہے، اللہ ایک ہیں۔ تو ذہن میں بات اچھی طرح اتر گئی۔ اور جیسے: نِعْمَ تِلْمِيذُ الْمُؤَدَّبِ، نِعْمَ، اگے ا رہا ہے: تِلْمِيذُ الْمُؤَدَّبِ، بھئی یہ "اَلتِّلْمِيذُ" ہونا چاہیے، الف لام اس پر ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ الف لام۔ اَلتِّلْمِيذُ موصوف، اَلْمُؤَدَّبُ اس کی صفت۔ اور "نِعْمَ" ایا، "نِعْمَ" جو ہے فعلِ مدح ہے، یعنی یہ انشاءِ مدح کے لیے ہے، کسی کی تعریف کرنے کے لیے، کسی کی تعریف کرنے کے لیے۔ بھئی، دیکھیے یہ انشاءِ مدح کے لیے ہے، "نِعْمَ" کیا ہے؟ کسی کی مدح کو وجود دینے کے لیے ہے، لہٰذا اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ انشاءِ مدح کے لیے ہے، خبر کے لیے نہیں۔ مثلاً، اپ کہنا چاہتے ہیں کہ زید بڑا اچھا ادمی ہے تو اپ کہیں گے: نِعْمَ الرَّجُلُ زَيْدٌ، کتنا ہی اچھا ہے وہ ادمی، کون؟ زَيْدٌ، یعنی کہ زید۔ کتنا ہی اچھا زید کتنا ہی اچھا ادمی ہے۔ اب اپ نے زید کی تعریف کر دی اور اپ کو کوئی سچا یا جھوٹا بھی نہیں کہہ سکتا۔ اس کے بجائے اگر اپ دوسرا فعل استعمال کرتے، زَيْدٌ رَجُلٌ كَرِيمٌ مثلاً کہتے، اب زید سخی ادمی ہے، اس میں بھی تعریف ا رہی ہے، لیکن یاد رکھیے یہ خبر ہے اور خبر کے کہنے والے کو کوئی سچا یا جھوٹا کہہ سکتا ہے۔ اپ نے کہا: زَيْدٌ رَجُلٌ كَرِيمٌ، دوسرا ادمی اپ کو کہہ سکتا ہے: اپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ لیکن اگر اپ کہیں: نِعْمَ الرَّجُلُ زَيْدٌ، زید کتنا ہی اچھا ادمی ہے، اب کوئی اپ کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا کیونکہ اپ نے کوئی خبر دی ہی نہیں ہے، اپ نے تو کیا کیا ہے؟ انشاءِ مدح کی ہے، کسی کی تعریف کی ہے۔ بات سمجھ میں ائی؟ جیسے کسی کو ندا دیں، يَا زَيْدُ، کوئی اس میں اپ کو جھوٹا یا سچا کہہ سکتا ہے؟ نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ انشاء ہے۔ اِضْرِبْ عَمْرًا، اپ کسی کو کہتے ہیں: اِضْرِبْ عَمْرًا، عمرو کی پٹائی کرو، کوئی اپ کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتا ہے؟ نہیں، کیونکہ امر ہے، انشاء ہے، تو انشاء کے اندر سچا یا جھوٹا کسی کو نہیں کہا جا سکتا۔ تو یہاں پر بھی یہ جو افعالِ مدح و ذم ہیں، یہ انشاءِ مدح کے لیے ہیں، مدح کو کسی کی تعریف بیان کرنے کے لیے ہے، جبکہ دوسرے افعال کے ساتھ اگرچہ اس میں بھی تعریف ا جائے گی لیکن وہ انشاء نہیں، وہ کس قبیل سے ہیں؟ خبر کی قبیل سے ہیں اور اس میں خبر دینے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ تو یہاں یہ لفظ ہونا چاہیے تھا "اَلتِّلْمِيذُ"، الف لام ہونا چاہیے تھا اور یہ موصوف اور "اَلْمُؤَدَّبُ" اس کی صفت۔ اور اپ نے پڑھا ہے، افعالِ مدح و ذم جو ہیں وہ ان کے لیے ایک فاعل چاہیے اور ایک مخصوص بالمدح یعنی جس کی تعریف کی جا رہی ہے، فاعل چاہیے اور فاعل ایک صورت یہ ہے کہ اس کے اندر ہی ضمیر ہو جیسا یہاں ہے۔ نِعْمَ، اس کے اندر "هُوَ" ضمیر ہے، نِعْمَ هُوَ، وہ کتنا اچھا ہے، اگے ایا: اَلتِّلْمِيذُ الْمُؤَدَّبُ، وہ شاگرد جو با ادب ہے، وہ شاگرد جو با ادب۔ اب دیکھیے، "نِعْمَ" کے اندر "هُوَ" ضمیر ا گئی، اب پہلے مرجع ہونا چاہیے تھا یا ضمیر ہونی چاہیے تھی؟ پہلے مرجع، لیکن ضمیر استعمال کر لی گئی اور اگے تلمیذ اَلتِّلْمِيذُ الْمُؤَدَّبُ اس کا مرجع بعد میں ذکر ہوا، تو جب کہا گیا: "نِعْمَ"، وہ کتنا اچھا ہے، فوراً شوق پیدا ہو گیا کہ ضمیر ا گئی، مرجع تو ابھی تک ایا ہی نہیں، اس سے کون مراد ہے؟ ساتھ ہی اگے ا گیا: اَلتِّلْمِيذُ الْمُؤَدَّبُ، وہ شاگرد جو با ادب ہو، تو اب بات ذہن میں اچھی طرح بیٹھ گئی بھئی۔ بات سمجھ میں ا گئی بھئی؟ تو لہٰذا یہ "اَلتِّلْمِيذُ" ہونا چاہیے کہ "اَلْمُؤَدَّبُ" اس کی صفت بنے اور پھر اس کو مخصوص بالمدح بنائیں گے، اس موصوف صفت کو کیا بنائیں گے؟ مخصوص بالمدح بنا لیں گے اور جبکہ "نِعْمَ" کے لیے جو فاعل چاہیے وہ اسی کے اندر ضمیر ہے۔ سمجھ میں ایا؟ اور اس کی تائید حاشیے سے بھی ہوتی ہے کہ "اَلتِّلْمِيذُ" الف لام ہونا چاہیے، حاشیے میں بھی انہوں نے أَيْ: نِعْمَ التِّلْمِيذُ دیا ہوا ہے۔ وَعَكْسُهُ، اور کبھی اس کا عکس کیا جاتا ہے۔ پہلے تو کیا تھا؟ مقام اسمِ ظاہر کا تھا اور کس کو ذکر کر دیا گیا؟ ضمیر کو، اور وہ کئی نکات کی بناء پر ہوتا ہے جو جو انہوں نے ذکر کر دیے، جیسے کبھی کہنے والے کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ضمیر کا مرجع ہر وقت ذہن میں حاضر ہے، اور کبھی اس میں مقصد یہ ہوتا ہے یہ کہ سامع کے دل میں شوق پیدا کر دیا جائے تاکہ پھر ضمیر کے ما بعد جو اس کی تفسیر ائے وہ اچھی طرح اس کے ذہن میں بیٹھ جائے، اور کبھی وَعَكْسُهُ اور کبھی اس کا عکس کیا جاتا ہے، أَيْ: الْإِظْهَارُ فِي مَقَامِ الْإِضْمَارِ لِغَرَضٍ، یعنی اسمِ ظاہر کو لایا جاتا ہے اس ضمیر لانے کے مقام میں لِغَرَضٍ کسی غرض کی وجہ سے، كَتَقْوِيَةِ دَاعِي الِامْتِثَالِ، كَقَوْلِكَ لِعَبْدِكَ: سَيِّدُكَ يَأْمُرُكَ بِكَذَا۔ بھئی دیکھیے، اپ کا ایک غلام ہے، اپ نے اپنے غلام سے کہا کہ جاؤ میرے لیے پانی لے کر اؤ۔ غلام جائے گا یا نہیں جائے گا اپ کے لیے پانی لانے؟ اپ کا غلام ہے وہ یقیناً پانی لانے جائے گا۔ بھئی کیوں گیا، وہ پانی لانے کیوں گیا، وجہ کیا ہے؟ کیونکہ اس کے آقا نے اس کو حکم دیا تھا، وہ اپ کا غلام ہے اور غلام تو کیا کرتا ہے؟ اپنے مالک کی ہر بات پر عمل۔ تو یہاں پر جو اس نے فرمانبرداری کی اور اطاعت کی اس کا داعی موجود تھا، کیا تھا؟ داعی، یعنی اس کی طرف دعوت دینے والی ایک چیز موجود تھی، ورنہ ہر ادمی تو اپ کی بات نہیں مانے گا۔ ہر ایک کو اپ جو کام کہیں وہ کرے گا؟ نہیں، لیکن غلام کو حکم دیں گے وہ اپ کی بات پر عمل کرے گا اس لیے کیونکہ یہاں فرمانبرداری کا ایک داعی پایا جا رہا ہے، ایک چیز جو دعوت دے رہی ہے اس بات کی طرف کہ اس کو اپ کی فرمانبرداری کرنی چاہیے، اور وہ داعی کیا ہے؟ کہ وہ اپ کا غلام ہے۔ اسی داعی میں بعض اوقات قوت پیدا کرنے کے لیے اپ ضمیر کے بجائے اسمِ ظاہر لے آتے ہیں، کیا لے آتے ہیں؟ بھئی دیکھیے، اپنے بارے میں انسان جب بھی بات کرتا ہے تو ضمیر استعمال کرتا ہے کہ میں نے یوں کیا، میں فلاں جگہ گیا، میری فلاں سے ملاقات ہوئی، یوں ذکر کرتا ہے یا اپنا نام لیتا ہے جگہ جگہ؟ ضمیر بھئی، اَنَا، أَنَا فَعَلْتُ هٰكَذَا، أَنَا ضَرَبْتُ زَيْدًا وغیرہ، اَنَا ضمیر استعمال کرتا ہے، نام نہیں لیتا متکلم اپنا۔ لیکن بعض اوقات کیا کرتا ہے؟ اب یہ اپنے بارے میں بات کر رہا ہے اور مقام ہے ضمیر کا کیونکہ انسان اپنے بارے میں ضمیر استعمال کرتا ہے، لیکن وہ اس فرمانبرداری کے داعی میں قوت پیدا کرنے کے لیے اس میں ضمیر کے بجائے اسمِ ظاہر لے آتا ہے اور اپنے غلام کو یوں کہتا ہے: سَيِّدُكَ يَأْمُرُكَ بِكَذَا، تمہارا آقا تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہے۔ تمہارا اقا تمہیں اب کہنا تو یہ چاہیے تھا: أَنَا آمُرُكَ بِكَذَا یا آمُرُكَ بِكَذَا، لیکن "أَنَا" کے بجائے کیا کہا؟ "سَيِّدُكَ"، تمہارا اقا تمہیں اس بات کا حکم دے رہا ہے۔ یہ کیوں کہتا ہے وہ اقا؟ تاکہ فرمانبرداری کے اس داعی کو اس کو اور اس میں قوت پیدا کر دے کہ یہ عام بات نہیں ہے بلکہ کس نے حکم دیا ہے؟ تمہارے اقا نے حکم دیا ہے تمہیں اس کو ضرور پورا کرنا چاہیے، یا اس سے بہتر مثال بھئی۔ مثلاً، بادشاہ کسی کو حکم دیتا ہے تو ایک صورت یہ ہے کہ یوں کہے کہ میں تمہیں یہ حکم دے رہا ہوں، أَنَا آمُرُكَ، میں تمہیں حکم دے رہا ہوں، اور اسی بات کو بعض اوقات بادشاہ یا امیر المومنین یوں کہتے ہیں: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَأْمُرُكَ بِكَذَا، امیر المومنین تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ یہ کام تم نے کرنا ہے۔ کہتے ہیں یا نہیں کہتے بادشاہ؟ کیوں کہتے ہیں اس طرح، کیا مقصد ہوتا ہے؟ کہ فرمانبرداری کا جو داعی ہے، اطاعت کا جو داعی ہے، اس میں کیا پیدا کر دی جائے؟ قوت پیدا کر دی جائے کہ مطلب کہ اس بات کو اس بات کی ہر حال میں اس شخص کو فرمانبرداری کرنی چاہیے کیونکہ یہ کسی عام ادمی کی نے اس کو حکم نہیں دیا بلکہ کس نے حکم دیا ہے؟ امیر المومنین نے حکم دیا ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ یہ معنی ہے: كَتَقْوِيَةِ دَاعِي الِامْتِثَالِ، امتثال کہتے ہیں فرمانبرداری کو، داعی، دعوت دینے والا، تقویت، تقویت کا معنی ہے قوت دینا۔ كَتَقْوِيَةِ دَاعِي الِامْتِثَالِ، جیسے فرمانبرداری کے داعی کو قوت دینا ہے، كَقَوْلِكَ لِعَبْدِكَ، جیسے کہ اپ کا اپنے غلام سے کہنا: سَيِّدُكَ يَأْمُرُكَ بِكَذَا، تمہارا اقا تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہے۔ بات بھی سمجھ میں ائی کہ نہیں سمجھ میں ائی؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔