Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-063

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔63 الخاتمة في إخراج الكلام على خلاف مقتضى الظاهر. إيراد الكلام على حسب ما تقدم من القواعد يسمى إخراج الكلام على مقتضى الظاهر، وقد تقتضي الأحوال العدول عن مقتضى الظاهر ويورد الكلام على خلافه في أنواع مخصوصة. الخاتمة في إخراج الكلام على خلاف مقتضى الظاهر: خاتمہ، فی اخراج الکلام، اخراج الکلام کا معنی ہے کلام کا لانا، کلام کا ادا کرنا، تو یہ خاتمہ ہے: فی إخراج الكلام على خلاف مقتضى الظاهر، مقتضائے ظاہر کے خلاف کلام کے ادا کرنے میں، مقتضائے ظاہر کے خلاف کلام کے لانے میں بھئی، مقتضائے ظاہر کے خلاف کلام کے لانے میں۔ بھئی، علم المعانی ہم پڑھ رہے ہیں، آپ نے پڑھا تھا کہ یہ آٹھ ابواب اور ایک خاتمے پر مشتمل ہے۔ آٹھ ابواب مکمل ہوئے، آج خاتمے کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ علم المعانی کے اندر یہ بتلایا جاتا ہے کہ کلام کو مقتضائے حال کے مطابق کیسے کیا جائے گا، کیسے لایا جائے گا؟ اور پھر تفصیل بیان ہو گئی کہ اس قسم کا کلام کہاں لاتے ہیں، اس میں کیا نکتہ ہوتا ہے، اس قسم کا کلام کہاں لاتے ہیں، اس میں کیا نکتہ ہوتا ہے، بڑی لمبی تفصیل ہر چیز کی انہوں نے بیان کر دی کہ اس اس چیز میں یہ نکتہ ہوتا ہے، اس چیز میں یہ نکتہ ہوتا ہے۔ تو جہاں کہیں آپ کے سامنے بھی ایسا موقع آئے تو کس نکتے کا کہاں پر کس طرح لحاظ رکھنا ہے، تو اس سے آپ کا کلام مقتضائے حال کے مطابق ہو جائے گا، یعنی جس طرح کا حال جس طرح کے کلام کا حال تقاضا کر رہا ہو، آپ نے سارے نکات پڑھ لیے تو آپ ان کے مطابق جو ہے کلام کو لانا تو یہ ہوگا کلام آپ کا کہ یہ مقتضائے حال کے کے مطابق ہے بھئی۔ لیکن کبھی کبھار ایسا کیا جاتا ہے کہ کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لایا جاتا ہے، کس کے؟ مقتضائے ظاہر کے۔ بھئی دیکھیے، جیسے بیان ہوا تھا شروع کے اندر کہ کلام کی تین قسمیں ہیں: ایک ابتدائی ہے، ایک طلبی ہے اور ایک انکاری ہے۔ کلامِ ابتدائی وہ کلام جو کسی ایسے شخص کے سامنے کیا جائے جس کو اس بات میں تردد بھی نہیں ہے اور وہ اس بات کا منکر بھی نہیں ہے، تو اس کے سامنے ابتدائی کلام کیا جائے گا یعنی کوئی تاکید وغیرہ ذکر نہیں کی جائے گی۔ اور اگر سننے والا جو ہے جو آپ کے سامنے آپ کا مخاطب ہے اگر وہ متردد ہے اس کو جو بات آپ کہنا چاہتے ہیں اس کے بارے میں اس کو شک ہے، تو بہتر یہ ہے کہ اس کے سامنے ایک تاکید لائی جائے بھئی، بہتر ہے اس کے سامنے ایک تاکید کا لانا بہتر ہے، اور یہ آپ پڑھ چکے کہ علم المعانی کے اندر بہتر بھی جو ہے واجب کے معنی میں ہے یعنی اس کے سامنے ایک تاکید کا لانا واجب ہے بھئی۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ جو مخاطب ہے اس سے جو بات آپ کہنا چاہتے ہیں وہ اس کا پہلے سے ہی انکار کر رہا ہے، انکار کر رہا ہے۔ تو یہ منکر ہوا اور منکر کے سامنے اس کے انکار کے بقدر تاکیدات لائی جائیں گی۔ اگر اس کا انکار ضعیف ہے تو ایک تاکید سے بھی کام چل جائے گا، اگر اس کا انکار قوی ہے تو پھر تو کم از کم دو تاکیدات لے آئیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ انکار ہے تو پھر مزید تاکیدات کلام میں لائیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو گویا خالی الذہن شخص جو ہے اس کے سامنے کلامِ ابتدائی کیا جاتا ہے اور متردد کے سامنے کلامِ طلبی کیا جاتا ہے اور منکر کے سامنے کلامِ انکاری کیا جاتا ہے۔ تو یہ جس طرح کا حال ہو اور آپ اسی طرح کلام کو لے کر آئیں، تو کہتے ہیں کہ آپ کا کلام مقتضائے ظاہر کے مطابق ہے، کیا کہیں گے؟ آپ کا کلام مقتضائے ظاہر کے مطابق ہے، یعنی ظاہرِ حال جس چیز کا تقاضا کر رہا تھا آپ بھی ویسا ہی کلام لے کر آئے ہیں، یعنی خالی الذہن کے سامنے مثلاً کون سا کلام لائے ہیں؟ ابتدائی، تو کہیں گے کہ آپ کا کلام مقتضائے ظاہر کے مطابق ہے۔ یا متردد تھا مخاطب اور آپ اس کے سامنے کلامِ طلبی لے کر آئے ہیں، تو کہیں گے آپ کا کلام مقتضائے ظاہر کے مطابق ہے۔ اسی طرح اگر منکر تھا مخاطب آپ اس کے سامنے کلامِ انکاری لائے ہیں تاکیدات کے ساتھ، تو کہیں گے کہ آپ کا کلام مقتضائے ظاہر کے مطابق ہے بھئی۔ یعنی ظاہرِ حال جس چیز کا تقاضا کر رہا تھا آپ بھی ویسا ہی کلام لے کر آئے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی۔ ظاہرِ حال؟ ظاہرِ حال یعنی جو حال واقع میں ہے، جیسا واقع کے اندر حال تھا، خارج کے اندر جو حال تھا، آپ بھی ویسا ہی کلام لے کر آئے بھئی۔ اور اصل بھی یہی ہے، اصل بھی یہی ہے کہ جیسا واقعہ کے اندر حال ہو اسی کے مطابق کلام ہونا چاہیے۔ اگر آپ کے سامنے منکر ہے تو کلامِ انکاری ہونا چاہیے، اگر آپ کے سامنے متردد ہے تو کلامِ طلبی ہونا چاہیے، اور اگر آپ کے سامنے خالی الذہن شخص ہے تو پھر کلامِ ابتدائی ہونا چاہیے۔ یہ تین قسمیں تو میں بطورِ مثال کے ذکر کر رہا ہوں، یہ جتنے نکات ہوئے یہ جہاں جہاں مواقع بیان ہوئے اس موقع پر اسی قسم کا کلام لانا اس کو کیا کہیں گے؟ کہ کلام کیا ہے؟ مقتضائے ظاہر کے مطابق ہے، مقتضائے ہاں وہی مقتضائے حال اور مقتضائے ظاہر ایک ہی چیز ہے بھئی، ہاں بلکہ مقتضائے حال عام ہے۔ ایک ہے ظاہرِ حال، کیا ہے؟ ظاہرِ حال، اور ایک وہ حال ہے جو خفی ہے، خفی ہے۔ تو کبھی کیا ہوگا کلام؟ مقتضائے ظاہرِ حال کے مطابق ہوتا ہے اور کبھی کبھار کلام کیا ہوگا؟ اس حالِ خفی کے مطابق ہوگا، لیکن ہوگا مقتضائے حال کے مطابق ہی، کیونکہ وہ ظاہر ہو یا خفی یہ دونوں حال ہی کی قسمیں ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یعنی واقعہ اور ظاہر جس قسم کے کلام کا تقاضا کر رہا ہو، اس اسی قسم کا کلام لایا جائے تو اس کو کہتے ہیں کہ آپ کا کلام مقتضائے ظاہر کے مطابق ہے، یا یوں کہیں آپ کا کلام مقتضائے ظاہرِ حال کے مطابق ہے بھئی۔ لیکن کبھی کبھار اس سے عدول کیا جاتا ہے۔ اصل تو یہی ہے کہ کلام کو ظاہرِ حال کے مطابق ہونا چاہیے یعنی واقعہ اور خارج کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن کبھی کبھار متکلم کسی چیز کا اعتبار کر لیتا ہے، کسی چیز کا لحاظ رکھ لیتا ہے، اور اس نکتے کی بنا پر وہ اس ظاہرِ حال سے عدول کرتا ہے، اس کو چھوڑ دیتا ہے، اور اس نکتے کے اعتبار سے اپنے کلام کو لے کر آتا ہے۔ کس اعتبار سے؟ اس نکتے کے اعتبار کرتے ہوئے کلام کو لے کر آتا ہے۔ کلام اب بھی اگرچہ اس کا مقتضائے حال کے مطابق ہوگا، کیا ہوگا؟ ہاں، لیکن حال میں نے بتایا دو قسم کا ہو گیا: ایک وہ جو ظاہرِ حال ہے اور ایک وہ جس کا اعتبار کس نے کیا؟ متکلم نے کیا موقعِ محل کو دیکھتے ہوئے بھئی، موقعِ محل کو دیکھتے ہوئے، تو وہ بھی موقعِ محل کو دیکھتے ہوئے اس کے مطابق کسی نکتے کا اعتبار کرے گا اور ظاہرِ حال سے عدول کر کے دوسرے انداز کا کلام لائے گا، اور اس کو کہتے ہیں: إخراج الكلام على خلاف مقتضى الظاهر، کیا کہتے ہیں؟ إخراج الكلام على خلاف مقتضى الظاهر، یعنی مقتضائے ظاہر کے خلاف کلام کو ادا کرنا اور کلام کو لانا، لیکن یہ اس میں نہیں ہے کہ جیسے مرضی وہ لے آئے، بلکہ کیا کرتا ہے؟ وہ کسی بات کا کسی چیز کا اعتبار کرتا ہے، اعتبار کرتا ہے۔ مثلاً بھئی، آگے بتائیں گے بھئی، مثال کے طور پر کہ ایک آپ کے سامنے خالی الذہن شخص بیٹھا ہوا ہے اور جب خالی الذہن ہے یعنی جو بات آپ کرنا چاہتے ہیں وہ اس کے ذہن میں نہ اس کے بارے میں تردد ہے نہ اس کے بارے میں انکار ہے، تو اس کے سامنے کس قسم کا کلام کرنا چاہیے؟ ابتدائی کلام کرنا چاہیے یعنی جس میں کسی قسم کی تاکید نہ ہو بھئی۔ تو اس کلام کو کیا کہیں گے؟ کلامِ ابتدائی، اور بغیر تاکید کے کلام آپ کریں گے تو کہا جائے گا کہ آپ کا کلام مقتضائے ظاہر کے مطابق ہے۔ تو اب وہ مخاطب ہے تو خالی الذہن لیکن کوئی ایسی چیز کوئی ایسی علامت اس میں پائی جا رہی ہے جو علامت انکار پر دلالت کرنے والی ہے، وہ علامت کس پر دلالت کرنے والی ہے؟ اب وہ انکار کر تو نہیں رہا لیکن ایک ایسی علامت اس میں پائی جا رہی ہے جو کس پر دلالت کر رہی ہے؟ انکار پر، تو اس غیرِ منکر کو آپ منکر ہی کے درجے میں اتار لیتے ہیں اور اس کے سامنے تاکید والا یعنی کلامِ انکاری ذکر کر دیتے ہیں۔ اب یہ تھا تو خالی الذہن اور مقتضائے ظاہرِ حال بھی کیا تھا؟ خالی الذہن کے سامنے کیسا کلام کیا جائے؟ ابتدائی کلام کیا جائے، لیکن ایک ایسی علامت موجود تھی، ایک ایسی دلیل موجود تھی جو کس پر دلالت کر رہی تھی؟ انکار پر، تو آپ نے اس دلیل کی بنا پر اس کے عدمِ انکار کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ انکار کے درجے میں، تو دیکھو آپ نے انکار کا اعتبار کیا اور اب آپ کون سا کلام اس کے سامنے لے کر آئے؟ تاکید والا کلام لے کر آئے، کلامِ انکاری لے کر آئے، تو آپ کا یہ کلام مقتضائے ظاہر کے خلاف ہے یعنی مقتضائے ظاہرِ حال کے خلاف ہے، لیکن مقتضائے حال کے خلاف نہیں، کیونکہ یہ انکار والی دلیل، انکار والی دلیل اس کے اعتبار سے آپ نے کلام کیا کہ یہ دلیل یہ جو انکار والی علامت ہے اس کو آپ نے مدِ نظر رکھا، تو کلام اب بھی آپ کا اس حال کے مطابق ہوا۔ تو ایک ظاہرِ حال تھا، ایک وہ حال تھا جس کا کس نے اعتبار کر لیا؟ متکلم نے اعتبار کر لیا، اور کسی وجہ سے اعتبار کیا یا بغیر کسی وجہ کے؟ کسی وجہ سے اس کا اعتبار کیا ہے، تو اس صورت میں کہیں گے کہ یہ کلام مقتضائے ظاہرِ حال کے خلاف ہے۔ تو ظاہرِ حال کے خلاف تو ہے لیکن مقتضائے حال کے خلاف نہیں، کیونکہ مقتضائے حال کتنی قسم کا ہو گیا؟ ایک ظاہرِ حال اور ایک کون سا؟ وہ جس کا متکلم نے اعتبار کیا یا جو حالِ خفی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: الخاتمة في إخراج الكلام على خلاف مقتضى الظاهر، خاتمہ یہ خاتمہ کلام کے مقتضائے ظاہر کے خلاف لانے کے بارے میں ہے۔ إيراد الكلام على حسب ما تقدم من القواعد يسمى إخراج الكلام على مقتضى الظاهر، أورد يورد إيراد کے معنی لانا۔ إيراد الكلام، کلام کو لانا على حسب ما تقدم من القواعد، وہ جو ماقبل میں گزر چکے قوانین اور قواعد انہی کے مطابق، جو ماقبل میں قوانین اور قواعد گزر چکے انہی کے مطابق کلام کو لانا يسمى إخراج الكلام على مقتضى الظاهر، اس کو کہتے ہیں مقتضائے ظاہر کے مطابق کلام کو لانا، إخراج الكلام على مقتضى الظاهر کہتے ہیں اس کو یعنی مقتضائے ظاہر کے مطابق کلام کو ادا کرنا۔ وقد تقتضي الأحوال العدول عن مقتضى الظاهر، اور کبھی کبھار احوال جو ہیں وہ تقاضا کرتے ہیں، احوال خود کیا کرتے ہیں؟ تقاضا کرتے ہیں، کس چیز کا؟ العدول عن مقتضى الظاهر، کہ مقتضائے ظاہر سے عدول کیا جائے یعنی اس کو چھوڑ دیا جائے، اس سے اعراض کیا جائے، ويورد الكلام على خلافه في أنواع مخصوصة، اور لایا جاتا ہے کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف مخصوص انواع میں، مخصوص اقسام میں۔ مخصوص اقسام میں کیا کیا جاتا ہے؟ کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لایا جاتا ہے بھئی۔ اب وہ بیان ہوں گے کہ وہ کیا کیا نکات ہیں جن کی کہ بنا پر کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لایا جاتا ہے اور وہ کون کون سے مواقع ہیں بھئی۔ دیکھیے، آپ خود دیکھیں گے بھئی کہ کتنی باریکیاں بیان کرتے ہیں علمِ بلاغت والے بھئی۔ کہتے ہیں: منها، ان احوال میں سے یا ان اقسام میں سے ایک جو ہے: تنزيل العالم بفائدة الخبر أو لازمها منزلة الجاهل بها۔ بھئی، آپ نے پڑھا تھا کہ جب کسی شخص کے سامنے کوئی کلام کیا جائے تو وہ کلام کس لیے کیا جائے گا؟ یا تو اس کو اس بات کا فائدہ دینا مقصود ہوگا یا اپنے عالم ہونے کا فائدہ دینا مقصود ہوگا۔ اگر وہ بات بتلانا مقصد ہے اس کو تو اس کو کہتے ہیں فائدة الخبر، اور اگر اپنے عالم ہونے کے بارے میں بتلانا ہے کہ میں اس بات کو جانتا ہوں تو اس کو کہتے ہیں لازم فائدة الخبر۔ تفصیل گزر چکی ہے، پھر سن لیں بھئی: فائدة الخبر اور لازم فائدة الخبر۔ بھئی، آپ چار پانچ ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں کمرے میں، آپ کا ایک ساتھی باہر سے آتا ہے اور آ کر آپ سے کہتا ہے کہ مثلاً اگلے ہفتے سے ایک ہفتے کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ تو دیکھیے، آپ کو یہ خبر پہلے نہیں تھی، جب اس نے یہ کلام کیا آپ کو اس بات کا پتہ چل گیا، اس کو کہتے ہیں فائدة الخبر، کیا کہتے ہیں؟ فائدة الخبر۔ نیز ایک اور بات کا بھی آپ کو پتہ چلا کہ یہ جو بات کو لانے والا ہے معلوم ہوا اس کو بھی اس بات کا پتہ ہے۔ جب ہی تو آپ کو بتا رہا ہے، خود اسے علم ہوگا تو آپ کو بتائے گا، اگر اسے علم ہی نہیں تو پھر کیسے آپ کو بتا سکتا ہے؟ تو اس کے عالم ہونے کا بھی آپ کو پتہ چلا۔ عالم ہونا کس چیز پر؟ اسی بات پر، اسی بات پر وہ عالم ہے یعنی اس کو وہ جاننے والا ہے۔ تو یہ دوسرا فائدہ ہوا اور اس کو کہتے ہیں لازم فائدة الخبر، اور لازم فائدة الخبر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ فائدة الخبر کے ساتھ لازم ہے، جہاں بھی فائدة الخبر آئے گا وہاں لازم فائدة الخبر ضرور ہوگا، یعنی جب بھی کوئی شخص آ کر آپ کو کوئی بات بتلائے اور آپ کو اس بات کا پہلے سے علم نہ ہو، تو جہاں آپ کو اس بات کا پتہ چلے گا وہاں یہ بھی پتہ لگے چل جائے گا کہ یہ خبر لانے والے کو بھی اس بات کا پتہ ہے جب ہی آ کر آپ کو بتلا رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جہاں بھی فائدة الخبر ہوگا وہاں لازم فائدة الخبر ضرور ہوگا، لیکن جہاں بھی لازم فائدة الخبر ہو وہاں فائدة الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ جیسے اس کی میں نے مثال ذکر کی تھی: مثلاً بھئی، زید آپ کا ایک ساتھی ہے، اس نے ایک بات کو چھپا کر رکھا ہے، اس نے ایک بات کو چھپا کر رکھا آپ سے اور وہ بات ہوتے ہوتے آپ تک پہنچ گئی۔ اب آپ جا کر زید کے سامنے وہی بات کرتے ہیں، تو کیا مقصد ہے بات کرنے کا؟ اس کو وہ بات بتلانا چاہتے ہیں؟ نہیں، وہ تو اس کی اپنی ہی تو بات ہے جس کو اس نے چھپا کر رکھا تھا، تو وہ تو آپ پہلے جانتا ہے اس بات کو، بلکہ آپ اس کے سامنے جا کر وہ بات کیوں کرتے ہیں؟ آپ اس کو بتانا چاہتے ہیں کہ مجھے بھی اس بات کا پتہ ہے۔ تو دیکھو یہاں لازم فائدة الخبر تو آیا متکلم کے عالم ہونے کا تو پتہ چلا، لیکن فائدة الخبر یہاں پر نہیں ہے کیونکہ اس کو پہلے سے ہی بات کا پتہ ہے بھئی۔ تو بتلانا مقصد تھا کہ ایک ہے فائدة الخبر اور ایک ہے لازم فائدة الخبر۔ فائدة الخبر کسے کہتے ہیں؟ کہ سننے والے کو اس بات کا پتہ چلے اس کا پہلے اسے پتہ نہ ہو، اور لازم فائدة الخبر کسے کہتے ہیں؟ کہ سننے والے کو یہ پتہ بھی چل جاتا ہے ساتھ کہ یہ جو خبر لانے والا ہے، یہ جو جملہ کہنے والا ہے، اس کو بھی اس بات کا پتہ ہے۔ تو وہ جو نکات بیان ہو رہے ہیں جن کی بنا پر کبھی کلام کیا کیا جاتا ہے؟ مقتضائے ظاہر کے خلاف کیا جاتا ہے، ان میں سے: منها، ان میں سے ایک جو ہے: تنزيل العالم بفائدة الخبر أو لازمها، وہ اتارنا ہے عالم بفائدۃ الخبر یا عالم بلازمِ فائدۃ الخبر کو۔ ایک شخص جو ہے اس کو پہلے سے فائدة الخبر حاصل ہے، اس بات کا پہلے سے پتہ ہے یا ایک شخص ہے اس کو لازمِ فائدة الخبر بھی پہلے سے حاصل ہے، اس کے اس کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ جاہل کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے، یعنی اس شخص کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے جس کو ان میں سے کسی کا پتہ نہیں یا کسی ایک کا پتہ نہیں، کسی ایک کا پتہ نہیں۔ دیکھو، مثال سے وضاحت ہوگی۔ مثلاً کوئی شخص ہے وہ اپنے والد کو تکلیف دیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ ان کو تنگ کرتا ہے، ان کو تکلیف دیتا ہے۔ اب آ کر اس کے سامنے آپ کہتے ہیں: هذا أبوك، یہ آپ کے والد صاحب ہیں، یہ آپ کے ابو ہیں۔ کس کے سامنے کہا آپ نے؟ بیٹے کو کہا، جو کیا کرتا ہے؟ اپنے والد کو تکلیف دیتا ہے، تنگ کرتا ہے۔ آپ نے کہا: هذا أبوك، یہ آپ کے ابو ہیں، یہ آپ کے والد ہیں۔ بھئی، یہ کیا یہ بات اس کو علم ہے یا علم نہیں؟ علم ہے، تو یہاں فائدة الخبر غرض نہیں، یہ تو اسے پہلے سے ہی پتہ ہے کہ یہ اس کے والد ہیں۔ اور باقی اس کے سارے ساتھیوں کو بھی پتہ ہے یا نہیں پتہ کہ یہ اس کے والد ہیں؟ ساتھیوں کو بھی پتہ ہے، تو یہاں لازم فائدة الخبر بھی نہیں کہ آپ اس کو یہ بتلانا چاہتے ہوں کہ مجھے پتہ ہے یہ تمہارے والد ہیں۔ تو نہ یہاں فائدة الخبر کا ہو سکتا ہے، نہ لازم فائدة الخبر ہو سکتا ہے، پھر یہ «هذا أبوك» کہنے کا کیا معنی؟ حالانکہ خبر لانے کے میں تو اصل یہی ہے: یا تو وہ خبر کس لیے لائی جاتی ہے؟ فائدة الخبر کے لیے یا لازم فائدة الخبر۔ لیکن اور وہ ان دونوں پر پہلے سے عالم ہے، دونوں کو پہلے سے جانتا ہے۔ بھئی دراصل یہاں پر یہاں پر آپ نے وہ اگرچہ ان دونوں کو جاننے والا ہے یعنی فائدة الخبر کو بھی اور لازم فائدة الخبر کو بھی، لیکن آپ نے اس کو جاہل کے درجے میں اتار لیا۔ جاہل؟ جاہل وہ نہیں بھئی جس کو کچھ آتا نہ ہو، جاہل سے مراد ہے یہ جو بات آپ کر رہے ہیں اس سے جاہل یعنی اس کو نہیں جانتا، اس کو نہیں جانتا۔ تو وہ ہے تو اس بات کو جاننے والا، لیکن آپ نے اس کو اس شخص کے درجے میں اتار لیا جو اس بات کو نہیں جانتا، اور کیوں اتارا؟ اس لیے کیونکہ وہ اپنے مقتضائے علم پر عمل نہیں کر رہا۔ یہ بات جب اسے پتہ ہے کہ یہ اس کے والد ہیں، تو اس بات کا کیا تقاضا تھا؟ کہ وہ ان کا ادب اور احترام کرے اور ان کی خدمت کرے یا ان کو تکلیف دے؟ اس کو خدمت کرنی چاہیے، اس کو احترام کرنا چاہیے، لیکن یہ کیا کر رہا ہے؟ ان کو تکلیف دے رہا ہے، تو یہ اپنے علم کے مقتضیٰ پر، علم کے تقاضے پر عمل نہیں کر رہا، تو جو شخص اپنے علم کے تقاضے پر عمل نہیں کرتا وہ اور جاہل برابر ہیں، تو آپ نے بھی اس کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ جاہل، یعنی تمہیں تو گویا پتہ ہی نہیں ہے یہ تمہارے والد ہیں، تو اس لیے آپ نے اس کے سامنے یہ کہا: هذا أبوك۔ نکتہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کبھی کبھار خبر میں تو اصل کیا ہے؟ کس لیے لائی جاتی ہے؟ فائدة الخبر کے لیے یا لازم فائدة الخبر۔ اور بعض اوقات ایک شخص کو ان میں سے کسی ایک کا یا دونوں کا پتہ ہوتا ہے لیکن آپ اس کو کس کے درجے میں اتار لیتے ہیں؟ جاہل کے درجے میں، یعنی اس کو اس بات کا گویا پتہ ہی نہیں ہے، اور اس کے سامنے پھر آ کر وہ کلام کرتے ہیں۔ اور کیوں اتارتے ہیں جاہل کے درجے میں؟ کیونکہ وہ اپنے علم کے مقتضیٰ پر عمل نہیں کر رہا، اور جو اپنے علم کے مقتضیٰ پر عمل نہ کر رہا ہو وہ اس تو اس بات کو جاننے والا اور نہ جاننے والا دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں، تو اس لیے آپ اس کے سامنے یہ کلام کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: منها، ان میں سے ایک جو ہے: تنزيل العالم بفائدة الخبر أو لازمها، وہ اتارنا ہے فائدة الخبر یا لازمِ فائدة الخبر کو جاننے والے کو، وہ لازمِ فائدة الخبر یا فائدة الخبر کو جاننے والے کو اتارنا ہے: منزلة الجاهل بها، ان سے جاہل کے درجے میں یعنی جو اس کو نہ جاننے والا ہے، لعدم جريه على موجب علمه، بوجہ نہ چلنے کے اپنے علم کے مقتضیٰ پر، جرى يجري کے معنی چلنا، بوجہ نہ چلنے کے اپنے علم کے مقتضیٰ پر، فيلقى إليه الخبر كما يلقى إلى الجاهل، تو اس کے سامنے خبر پیش کی جاتی ہے جیسے پیش کی جاتی ہے اس خبر کے جاہل کے سامنے جس کو اس بات کا پتہ نہ ہو، تو اس کے سامنے جیسے بات پیش کی جاتی ہے، كقولك لمن يؤذي أباه، جیسے کہ آپ کا کہنا اس شخص سے يؤذي أباه جو اپنے والد کو اذیت دیتا ہے، تکلیف دیتا ہے، اس سے آپ کہتے ہیں: «هذا أبوك»، یہ آپ کے والد ہیں۔ ومنها تنزيل غير المنكر منزلة المنكر إذا لاح عليه شيء من علامات الإنكار، اور ان میں سے ایک جو ہے وہ اتارنا ہے غیرِ منکر کو منزلة المنكر، کس کے درجے میں؟ منکر کے درجے میں، إذا لاح عليه شيء، لاح يلوح کے معنی ہوتے ہیں ظاہر ہونے کے، إذا لاح عليه شيء، جب ظاہر ہو اس پر کوئی چیز من علامات الإنكار، انکار کی علامتوں میں سے۔ بھئی، ایک شخص ہے اس وہ ایک بات کا انکار تو نہیں کر رہا تو اس کے سامنے کون سا کلام ہونا چاہیے؟ ابتدائی ہونا چاہیے، جب اس کو اس بات میں شک بھی نہیں ہے اور اس کا انکار بھی نہیں ہے، تو کلام ضمیر کے کلام تاکید کے بغیر ہونا چاہیے، ابتدائی کلام۔ لیکن اس شخص پر ایک ایسی علامت ظاہر ہے جو انکار کی علامتوں میں سے ہے۔ تو انکار کی علامتوں میں سے ایک علامت اس میں پائی جا رہی ہے، تو آپ اس علامت کی وجہ سے اس غیرِ منکر کو کس کے درجے میں اتار لیتے ہیں؟ منکر کے درجے میں اتار لیتے ہیں اور اس کے سامنے تاکید والا کلام لے آتے ہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ جیسے دیکھیے بھئی: جاء شقيق عارضا رمحه ... إن بني عمك فيهم رماح «جاء شقيق»، شقیق یہ کسی شخص کا نام ہے۔ «جاء شقيق»، شاعر کہتا ہے: شقیق آیا، «عارضا رمحه»، عارض: چوڑائی میں رکھنے والا، «رمحه»: نیزا، نیزا۔ آیا شقیق اس حال میں کہ اس نے چوڑائی میں اپنا نیزہ رکھا ہوا تھا۔ «إن بني عمك»، اس سے شاعر کہتا ہے: بیشک تیرے جو چچا زاد بھئی ہیں، «فيهم رماح»، ان میں نیزے ہیں، رماح جمع ہے رمحٌ کی، نیزے کو کہتے ہیں۔ بھئی دیکھیے، صورت یہ کہ ایک شخص جو ہے وہ میدانِ جنگ کا رخ کرتا ہے اور اس کے اپنے چچا زاد بھئی، رشتہ دار وغیرہ یا ان سے جنگ ہے، تو اب وہ جب میدانِ جنگ کا رخ کر رہا ہے، گھوڑے پر بیٹھا ہے اور نیزہ اس نے لیا ہوا ہے، اور جب دشمن کا اور میدانِ جنگ کا رخ کیا جائے تو نیزہ کس طرح رکھا جاتا ہے؟ نیزے کا رخ سامنے دشمن کی طرف ہونا چاہیے، لیکن شقیق آیا اس نے نیزے کو اپنی رانوں پر رکھا ہوا ہے، خود گھوڑے پر سوار ہے اور نیزے کو رانوں پر رکھا ہوا ہے یعنی نیزے کا رخ دشمن کی طرف نہیں ہے بلکہ دائیں بائیں طرف ہے بھئی، کس طرف ہے؟ دائیں بائیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو اس نے چوڑائی میں نیزے کو رکھا ہوا ہے، چوڑائی میں۔ تو اب دیکھیے، اب اسے شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ تیرے جو چچا زاد بھئی ہیں، تیرے چچا کے جو بیٹے ہیں یعنی جو تیرے دشمن ہیں، جو تیرے مخالفین ہیں، ان کے پاس نیزے موجود ہیں، ان کے پاس؟ نیزے موجود ہیں۔ اور اس بات کا کوئی شقیق نے انکار تو نہیں کیا، نہ اس کے ذہن میں تردد ہے نہ اس نے اس کا انکار کیا ہے، تو اس نے انکار نہیں کیا تو اس کے سامنے کلام بغیر تاکید کے ہونا چاہیے، کلامِ ابتدائی ہونا چاہیے۔ لیکن اس پر ایک علامت اس میں پائی جا رہی ہے انکار والی کہ اس نے نیزے کو چوڑائی میں رکھا ہوا ہے، اور نیزے کو چوڑائی میں رکھنے کا معنی یہ ہے معلوم ہوا سامنے کوئی خطرہ نہیں، کوئی دشمن نہیں ہے بھئی۔ تو اب انکار تو اس نے نہیں کیا تھا لیکن انکار کی علامت پائی جا رہی تھی کہ اس نے نیزے کو کس طرح رکھا ہوا ہے؟ چوڑائی میں رکھا ہوا ہے، تو اس علامت کی وجہ سے وہ تھا تو غیرِ منکر لیکن شاعر نے اس کو کس کے درجے میں اتار دیا؟ منکر کے درجے میں اتار لیا اور اس سے کہا: «إن بني عمك»، اِنَّ لے کر آیا تاکید کے لیے، تو کلامِ انکاری کر دیا اس کے سامنے، کون سا؟ تاکید والا کلام بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ تھا کیا اصل میں؟ غیرِ منکر، لیکن کس کے درجے میں اتار دیا؟ منکر، کیوں اتارا منکر کے درجے میں؟ کیونکہ اس میں ایک ایسی علامت پائی جا رہی تھی جو انکار کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے اب ترجمہ بھئی کتاب پر: ومنها تنزيل غير المنكر منزلة المنكر، اور ان میں سے ایک جو ہے وہ غیرِ منکر کو منکر کے درجے میں اتارنا ہے، إذا لاح عليه شيء من علامات الإنكار، جب ظاہر ہو اس پر کوئی چیز انکار کی علامتوں میں سے، فيؤكد له، تو کلام کو اس کے لیے مؤکد کیا جاتا ہے یعنی اس میں تاکید لائی جاتی ہے، نحو، مثال کے طور پر: جاء شقيق عارضا رمحه ... إن بني عمك فيهم رماح آیا شقیق اس حال میں کہ اس نے چوڑائی میں رکھا ہوا تھا «رمحه»، اپنے نیزے کو، «إن بني عمك فيهم رماح»، بیشک تیرے چچا کے بیٹے جو ہیں ان میں بھی نیزے ہیں یعنی ان کے پاس بھی نیزے ہیں۔ وكقولك للسائل المستبعد حصول الفرج: إن الفرج لقريب. وكقولك للسائل المستبعد حصول الفرج، فرج کہتے ہیں مصیبت کے بعد راحت کا آنا، مصیبت کے بعد راحت کا آنا اس کو کہتے ہیں فرج بھئی۔ اب دیکھیے، ایک شخص مصیبت میں ہے اور وہ آپ سے پوچھتا ہے کہ یہ مصیبت کبھی ختم ہوگی؟ کیا یہ مصیبت کبھی ختم ہوگی؟ اور وہ سوال کرنے والا ہے، سوال کرنے والا ہے، اور سوال کون کرتا ہے جس کو کسی چیز میں تردد ہوتا ہے؟ کیا ہوتا ہے؟ تردد اور شک ہوتا ہے وہ سوال کرتا ہے، تو اس کے سامنے اب جب وہ متردد ہوا اس کے سامنے کلامِ طلبی ہونا چاہیے، اور کلامِ طلبی کیا ہے کہ ایک تاکید لائی جائے کلام کے اندر، صرف ایک تاکید، ایک تاکید۔ لیکن آپ اس کے سامنے کلامِ انکاری لے آتے ہیں یعنی کم از کم دو تاکیدات والا کلام یا زیادہ والا لے آتے ہیں۔ کیوں لاتے ہیں؟ کیونکہ وہ مصیبت کے ختم ہونے اور راحت کے آنے کو بڑا ہی مشکل سمجھ رہا ہے، اس کا خیال ہے کہ یہ بات بڑی ہی مشکل ہے کہ مصیبت ختم ہو جائے اور راحت دوبارہ نصیب ہو جائے، اطمینان اور سکون دوبارہ مل جائے۔ اب دیکھیے، وہ منکر تو نہیں، کیا وہ سوال کر رہا ہے، منکر تو نہیں ہے، لیکن آپ نے اس کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ منکر کے درجے میں، کیوں اتارا؟ کیونکہ وہ راحت کے حاصل ہونے کو بڑا مشکل سمجھتا ہے، تو بڑا مشکل سمجھتا ہے گویا اس کے آنے کا ایک اعتبار سے وہ انکار ہی کر رہا ہے۔ وہ کر تو نہیں رہا لیکن مشکل سمجھنا یہ علامت بتلا رہی اس علامت کی وجہ سے آپ نے اس غیرِ منکر کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ منکر کے درجے میں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ وكقولك للسائل المستبعد حصول الفرج، اور جیسے کہ آپ کا کہنا اس شخص سے جو سوال کرنے والا ہے ایسا ایک ایسے شخص سے جو یوں کہیں اس شخص سے جو سوال کرنے والا ہے، ایک ایسا سوال کرنے والا المستبعد حصول الفرج جو دور سمجھتا ہے راحت کے حاصل ہونے کو، اس سے آپ یہ کہتے ہیں: إن الفرج لقريب، دیکھو اِنَّ بھی لے کر آئے، «لقريب»، لام بھی، جملہ اسمیہ بھی ہے، اِنَّ بھی لے کر آئے اور لامِ تاکید بھی لے کر آئے جو تاکید پیدا کرتا ہے کلام میں، تو یہ آپ نے غیرِ منکر کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ منکر کے درجے میں اتار لیا اور اس کے سامنے ایک سے زائد تاکیدات ذکر کر دیں، تو آپ اس سے کہتے ہیں: «إن الفرج لقريب»، بیشک راحت جو ہے وہ البتہ قریب ہے یعنی آنے ہی والی ہے۔ وتنزيل المنكر أو الشاك منزلة الخالي إذا كان معه... بھئی، کبھی اس کا عکس کیا جاتا ہے، ابھی تو آپ کو یہ بتلایا کہ کبھی کبھار غیرِ منکر کو کس کے درجے میں اتارا جاتا ہے؟ منکر کے درجے میں اتارا جاتا ہے، اور کبھی اس کا عکس ہوتا ہے کہ منکر یا متردد کو خالی الذہن کے درجے میں اتار کر اس کے سامنے کلامِ ابتدائی کر دیا جاتا ہے۔ مخاطب ہے تو منکر تو اس کے سامنے تاکید والا کلام ہونا چاہیے، یا وہ متردد ہے اس کو شک ہے اور شک والے کے سامنے کلامِ طلبی ہونا چاہیے اس میں بھی تاکید ہوتی ہے، تو ہونا تو تاکید والا کلام چاہیے تھا لیکن آپ اس کے سامنے کلامِ ابتدائی کر دیتے ہیں یعنی بغیر تاکید کے۔ تو آپ نے گویا اس اس منکر کو یا متردد کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ خالی الذہن کے درجے میں اتار لیا، اور کیوں اتارا آپ نے اس کو خالی الذہن کے درجے میں؟ اس لیے کیونکہ اس کے پاس ایسے دلائل موجود ہیں جن میں وہ ذرا سا غور کر لے تو اس کا انکار یا اس کا تردد خود ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ کر تو انکار رہا ہے لیکن ایسے دلائل ہیں اس کے سامنے جن میں وہ ذرا سا بھی غور کرے تو اس کا انکار کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا، تو آپ نے اس کے انکار کو بھی لا انکار کے درجے میں اتار لیا کہ بھئی ایسے دلائل موجود ہیں جن میں وہ ذرا غور کر کے اپنے انکار کو ختم کر سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وتنزيل المنكر أو الشاك، یا اتارنا منکر کو أو الشاك یا شک کرنے والے کو، منزلة الخالي، کس کے درجے میں اتارنا؟ خالی الذہن کے درجے میں، إذا كان معه من الشواهد، جبکہ اس کے پاس ہو من الشواهد، کس میں سے؟ شواہد میں سے یعنی دلائل میں سے، ما، وہ دلائل، إذا تأمله، کہ جب وہ ان میں غور کر لے، زال إنكاره أو شكه، تو اس کا انکار یا اس کا شک کیا ہو جائے گا؟ زائل ہو جائے گا، ختم ہو جائے گا، كقولك لمن ينكر منفعة الطب، جیسے کہ آپ کا کہنا اس شخص سے جو علمِ طب جو ہے اس کے نفع کا انکار کرنے والا ہے، أو يشك فيها، یا اس میں شک کرنے والا ہے۔ علمِ طب بھئی، یہ علاج معالجے کا جو علم ہے، ڈاکٹری علم آج کل کے اعتبار سے کہہ لیں، تو ڈاکٹری کے علم کا وہ نفع کا انکار کرتا ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، تو اب آپ اس سے کہتے ہیں: «الطب نافع»، کہ علمِ طب جو ہے یہ نفع دینے والا ہے۔ اب وہ تو منکر ہے یا شک کرنے والا ہے، کہنا تو یہ چاہیے تھا: «إن الطب نافع»، اِنَّ کے ساتھ کم از کم تاکید کے ساتھ کلام ہوتا، لیکن آپ نے تاکید کو چھوڑ دیا اور اس منکر کو کس کے درجے میں اتارا؟ غیرِ منکر کے درجے میں، کیونکہ ایسے واضح دلائل موجود ہیں اس کو معلوم ہیں جن میں وہ خود ذرا بھی غور و فکر کر لے تو اس کا انکار یا شک ختم ہو جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ومنها وضع الماضي موضع المضارع لغرض، اور ان کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانے کے مواقع میں سے یعنی یا اس کی اقسام میں سے ایک جو ہے: وضع الماضي موضع المضارع، وہ ماضی کو رکھنا ہے مضارع کے مقام میں، یعنی مقام تو مضارع کا تھا، کون سا فعل استعمال ہونا چاہیے؟ فعلِ مضارع استعمال ہونا چاہیے، لیکن اس کی جگہ فعلِ ماضی کو استعمال کر لیا جاتا ہے کسی غرض کی وجہ سے۔ جیسے بھئی، مثال بھئی، جیسے آگے مثال آ رہی ہے: ﴿أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ﴾، اللہ کا امر، اللہ کا حکم آ گیا، اللہ کا حکم آ گیا، فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ، تو تم اس میں جلدی نہ کرو، تم اس میں جلدی نہ مچاؤ۔ بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو دعوت دیتے اور ان کو اللہ کے عذاب سے اور قیامت کے دن سے اور اس کی ہولناکیوں سے ڈراتے، تو وہ الٹا مذاق اڑاتے اور کہتے: اگر آپ سچے ہیں تو وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے؟ وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے، اور آپ جو ہمیں ڈراتے ہیں کہ دنیا میں عذاب آ جائے گا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوگا تو وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے؟ تو اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے کہہ دیجیے: ﴿أَتَى أَمْرُ اللَّهِ﴾، اللہ کا حکم آ گیا، ﴿فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ﴾، تو تم اس میں جلدی نہ مچاؤ۔ اب ہونا تو چاہیے تھا: «يأتي أمر الله»، اللہ کا حکم آئے گا، کیونکہ ابھی آیا تو نہیں، «أتى» تو کون سا صیغہ ہے؟ ماضی کا، تو ہونا تو مضارع کا صیغہ چاہیے کیونکہ وہ عذاب یا وہ قیامت کا دن تو مستقبل میں آنے والا ہے، تو یہ مقام تو تھا فعلِ مضارع کا، لیکن کیا استعمال کیا گیا؟ فعلِ ماضی استعمال کیا گیا۔ کیوں؟ نکتہ کیا ہے؟ مقصد کیا ہے؟ یہ بتلانے کے لیے کہ اس چیز کا ہونا بڑا ہی یقینی ہے جیسے ماضی میں ایک چیز ہوئی ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں ہوتا، تو یہ جو چیز ہے اس کا ہونا بھی بڑا ہی یقینی ہے، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں، بس یوں سمجھو آ ہی گیا ہے، یوں سمجھو یہ آ ہی گیا ہے، یہ ہو کر ہی رہے گا بھئی۔ تو اس وجہ سے ماضی کو استعمال کیا گیا۔ تو کہتے ہیں: ومنها وضع الماضي موضع المضارع، اور اس میں سے ایک جو ہے ماضی کو لانا ہے، ماضی کو رکھنا ہے مضارع کے مقام میں، لغرض، کسی غرض کی وجہ سے، كالتنبيه على تحقيق الحصول، جیسے متنبہ کرنا اس چیز کے حصول کے وقوع کے تحقیقی ہے، یعنی یقینی ہے، کیا ہے؟ یقینی ہے، جیسے کہ: كالتنبيه على تحقيق الحصول، جیسے کہ چیز کے حصول کے تحقیقی ہونے پر متنبہ کرنا، نحو، مثال کے طور پر: ﴿أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ﴾، اللہ کا حکم آ ہی گیا تو تم اس میں جلدی نہ مچاؤ۔ أو التفاؤل، یا وہ غرض کیا ہوگی؟ تفاؤل ہوگا، نیک فالی مراد لینا، نیک شگون مراد لینا، نیک فالی مراد لینا، نحو، مثال کے طور پر: «إن شفاك الله اليوم تذهب معي غدا»، بھئی، آپ کا ایک ساتھی بیمار ہے اور اب آپ اس سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں اللہ نے آج شفا دے دی تو پھر کل تم میرے ساتھ فلاں جگہ چلو گے، اگر اللہ نے آج آپ کو شفا دے دی۔ تو اب یہ شفا دینے کا ذکر کس زمانے سے کی بات کر رہے ہیں آپ؟ مستقبل کی بات، کہ اگر آج کے آگے آنے والے زمانے میں اللہ کیا کریں؟ اللہ آپ کو اس میں شفا دے دیں تو پھر کیا کریں گے آپ میرے ساتھ؟ کل فلاں جگہ جائیں گے۔ تو اب یہ مقام تو تھا فعلِ مضارع کا کیونکہ مستقبل کی بات ہو رہی ہے کہ اللہ آپ کو شفا اگر دے دیں، لیکن آپ کون سا صیغہ استعمال کر لیتے ہیں؟ ماضی کا صیغہ استعمال کر لیتے ہیں، کیونکہ ماضی میں جو بات گزر چکی ہوتی ہے وہ بڑی ہی یقینی ہے، تو یہاں پر بھی آپ نیک فالی کے طور پر ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں کہ اللہ اس کو یقینی طور پر شفا دے دیں، کیا کریں اللہ؟ یقینی طور پر شفا دے دیں۔ أو التفاؤل، یعنی ایک فالی کے طور پر، نحو، مثال کے طور پر: «إن شفاك الله اليوم تذهب معي غدا»، اگر اللہ شفا دے دیں آپ کو آج تو آپ چلیں گے میرے ساتھ کل۔ وعكسه، اس کا عطف ہے: «وضع الماضي موضع المضارع»۔ اور کبھی اس کا عکس ہوگا بھئی، کیا؟ پہلے تھا مضارع کے مقام پر کس کو استعمال کس کو استعمال کر لیا جاتا ہے؟ ماضی کو، اور کبھی اس کا عکس ہوگا، أي وضع المضارع موضع الماضي، مضارع کو رکھ دیا جاتا ہے کس کے مقام پر؟ ماضی کے مقام پر، یعنی اس مضارع کو استعمال کر دیا جاتا ہے، لغرض، کسی غرض کی بنا پر، كاستحضار الصورة الغريبة في الخيال، جیسے کہ حاضر کرنا، استحضار کا معنیٰ؟ حاضر کرنا، الصورة الغريبة، غریبہ: انوکھی، عجیب، عجیب صورت کو حاضر کرنا، في الخيال، خیال میں یعنی ذہن میں، كقوله تعالى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: ﴿وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا﴾، اور اللہ وہ ذات ہے ﴿الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ﴾ جس نے ہواؤں کو بھیجا، جس نے ہواؤں کو چلایا، ﴿فَتُثِيرُ سَحَابًا﴾، تو پھر وہ ہوائیں اٹھاتی ہیں سحاب، سحاب بادل کو کہتے ہیں، اور اثار یثیر کے معنی ہوتے ہیں اٹھانے کے، تو وہ ہوائیں پھر بادل کو اٹھاتی ہیں، کس کو اٹھاتی ہیں؟ بادل۔ اب دیکھیے، ماقبل میں آیا تھا: ﴿أَرْسَلَ﴾، ماضی کا صیغہ، وہ اللہ جس نے ہواؤں کو بھیجا، تو آگے بھی ماضی کا صیغہ ہونا چاہیے تھا: «فأثارت سحابا»، تو ان ہواؤں نے بادلوں کو اٹھایا، ان ہواؤں نے بادلوں کو اٹھایا۔ بھئی دیکھیے، بارش کا عجیب اللہ نے عجیب نظام بنایا ہے کہ اس کی وجہ سے یہ سارا سلسلہ یہ حیات اس دنیا کے اندر چل رہی ہے کہ سمندروں سے پانی بخارات کی شکل میں اٹھتا ہے اور اس سے بادل بنتے ہیں اور پھر وہ بادل فضا میں تہہ بہ تہہ جمع ہو جاتے ہیں اور پھر جس طرف کو اللہ کا حکم ہوتا ہے اس طرف کو چل پڑتے ہیں اور پھر اس مقام پر پہنچ کر وہ بخارات دوبارہ کس میں بدل جاتے ہیں؟ پانی کے قطرات میں بدلتے ہیں اور بارش کی صورت میں برستے ہیں، اور کتنا پانی ہوتا ہے آپ اندازہ تو لگائیے، کتنا پانی! یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اوپر پورا ایک دریا چل رہا ہو، بارش ہوتی ہے آپ دیکھتے ہیں پورے پورے شہر کے اندر کتنا ہی پانی کھڑا ہو جاتا ہے، یہ کتنا پانی چل رہا تھا، یہ ابھی تو سارا تو نازل بھی نہیں ہوا، تھوڑا سا کچھ نازل ہوا، کچھ اگلے علاقے میں بارش، کچھ اس سے اگلے علاقے میں بارش، سلسلہ اس طرح چلتا ہے۔ اور یہ عجیب نظام ہے، عجیب نظام اللہ کا بنایا ہوا، اور اللہ قرآن میں جا بجا اس کو بطورِ مثال کے ذکر فرماتے ہیں۔ بھئی، بارش کچھ عرصہ نہیں ہوتی، ہر طرف گرد اور مٹی اڑنے لگتی ہے اور درخت اور پودے مرجھائے ہوئے لگتے ہیں، زندگی میں بے چینی اور بے سکونی سی معلوم ہوتی ہے، اور جب بارش ہوتی ہے ہر طرف تر و تازگی پھیل جاتی ہے، اور سمجھ میں آیا؟ تو یہ اللہ کا عجیب نظام ہے جو زندگی کی بقا کا ایک بڑا سبب ہے اس دنیا میں بھئی۔ اور اللہ اس کو جا بجا ذکر فرماتے ہیں، اور عجیب بات یہ ہے بھئی، سائنس اتنی ترقی کر گئی، اتنی ترقی کر گئی لیکن ابھی تک سائنسدان اس بارش کی حقیقت پر پورے طور پر اس کو اس کو نہیں جان سکے۔ نظریات تو ہیں، بڑے بڑے پیچیدہ نظریات ہیں، یہ تو آسان سی بات بتا دی جاتی ہے آپ کو کہ بخارات بنتے ہیں پانی سے اٹھتے ہیں، بادل بنتے ہیں، پھر آگے جاتے ہیں اور پھر بادلوں سے پانی بنتا ہے اور بارش برستی ہے، بھئی یہ تو ٹھیک ہے ہوتا تو ایسا ہی ہے، لیکن یہ کس طرح ہوتا ہے؟ کس طریقے سے ہوتا ہے؟ کس طرح وہ پانی بخارات میں بنتا ہے اور پھر کس طرح وہ بخارات اوپر جمع ہوتے ہیں اور پھر دوبارہ کس میں تبدیل ہوتے ہیں؟ بارش کے قطرات میں تبدیل ہوتے ہیں، یہ ہوتا کس طرح ہے؟ کوئی سائنسی وضاحت کیا ہے اس کی؟ کس طرح اللہ نے یہ نظام جاری فرمایا ہے؟ بڑے ہی بڑے نہایت پیچیدہ نظریات ہیں سائنسدانوں کے اس میں، لیکن حقیقت وہ صرف نظریات ہی ہیں، ابھی تک وہ حقیقت پر اس پر مطلع نہیں ہو سکے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: ﴿وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ﴾، اللہ وہ ذات ہے جس نے چلایا ہواؤں کو، جس نے بھیجا ہواؤں کو، تو ارسل ماضی کا صیغہ آیا، تو آگے بھی: ﴿فَتُثِيرُ سَحَابًا﴾، یہاں کیا ہونا چاہیے تھا؟ «فأثارت سحابا»، تو پھر ان ہواؤں نے کیا کیا؟ بادلوں کو اٹھایا، اثار یثیر کے معنی اٹھانے کے، تو پھر ان ہواؤں نے بادلوں کو اٹھایا، لیکن ماضی کے بجائے ﴿فَتُثِيرُ﴾ مضارع کا صیغہ استعمال کیا گیا۔ مضارع کا صیغہ، کیوں؟ مقصد کیا ہے؟ اس عجیب اور انوکھی صورت کو ذہن میں حاضر کرنے کے لیے، اس انوکھی صورت کو ذہن میں حاضر کرنے کے لیے۔ بھئی دیکھیے، ماضی جو ہے نا ماضی، اس میں جو بات بیان ہوگی وہ گزر چکی ہے، زمانہ ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ ماضی کے اندر جو بات کی جاتی ہے وہ کیا ہوتی ہے؟ گزر چکی ہے، ختم ہو چکی ہے، اور مضارع کے اندر تو حال والا معنی بھی ہے تو جو اور حال کے اندر جو چیز ہے وہ آپ کی وہ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے اور آپ اس کا باقاعدہ مشاہدہ کر رہے ہیں، وہ آپ کی توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ تو مضارع کے اندر حال والا معنی ہوتا ہے اور حال کے اندر جو چیز آپ کے سامنے ہے آپ اس کا باقاعدہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ تو کلامِ عرب میں بعض اوقات ایسا کیا جاتا ہے کہ ایک بات جو ہے وہاں پر ماضی کا صیغہ استعمال ہونا چاہیے لیکن وہاں پر حال والا صیغہ یعنی فعلِ مضارع استعمال کر لیا جاتا ہے، اور حال کے اندر تو جو چیز ہوتی ہے وہ نگاہوں کے سامنے ہوتی ہے اس کا انسان کیا کرتا ہے؟ مشاہدہ کرتا ہے۔ تو یہاں پر بھی نکتہ یہی مقصود ہوتا ہے کہ یہ چیز جو ہے تاکہ یہ اس انوکھی چیز کو جو سننے والا ہے وہ اس کو اپنے ذہن میں حاضر کر لے اور اس کی نگاہوں کے سامنے یہ منظر آ جائے جیسے حال اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے، تو یہ حال بھی کیا ہے؟ اس کے اس کی نگاہوں کے سامنے آ جائے اور وہ اس کا مشاہدہ کر لے، کیا کر لے؟ مشاہدہ کر لے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو چیز کون سی ہوگی؟ صیغہ وہاں کون سا استعمال ہونا چاہیے؟ ماضی، لیکن متکلم کا ارادہ کیا ہے؟ کہ سننے والا اس عجیب بات کو کیا کر لے؟ ذہن میں حاضر کر کے باقاعدہ اس کا کیا کر لے؟ مشاہدہ کر لے۔ یہ معنی ہے: كاستحضار الصورة الغريبة في الخيال، جیسے کہ حاضر کرنا انوکھی صورت کو ذہن کے اندر، كقوله تعالى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: ﴿وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا﴾، اور اللہ وہ ذات ہے جس نے ہواؤں کو چلا ہواؤں کو چلایا، ہواؤں کو بھیجا، ﴿فَتُثِيرُ سَحَابًا﴾، تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں۔ تو یہاں «تثير» کیوں استعمال کیا گیا؟ اس انوکھی بات کو، یہ ایک بڑی انوکھی اور عجیب بات تھی کہ وہ ہوائیں کیا کرتی ہیں؟ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، ان کو جمع کرتی ہیں اور پھر پھر ان سے بارش برستی ہے، تو اس عجیب اور انوکھی صورت کو ذہن میں حاضر کرنے کے لیے بھئی۔ «أي فأثارت»، دیکھا؟ بتلا دیا خود، «فتثير» کی جگہ کیا ہونا چاہیے؟ «فأثارت» بھئی ہونا چاہیے۔ تو یہاں پر بھی مقام تو ماضی کا تھا لیکن فعلِ مضارع کو استعمال کیا گیا تاکہ سننے والے جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر دلالت کرنے والی اس چیز کو اپنے ذہن میں حاضر کر کے اپنی آنکھوں سے کیا کر لیں؟ اس کا مشاہدہ کر لیں کہ اللہ کتنی عظیم قدرتوں کا مالک ہے اور اس نے کیسا عجیب و غریب نظام چلا رکھا ہے اس دنیا کے اندر، کس طرح ہوائیں چلتی ہیں اور وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں اور پھر بارش برسا کر اس دنیا میں زندگی کے بقا کا سبب بنتی ہیں بھئی۔ تو اس لیے یہاں پر فعلِ مضارع کے کو استعمال کیا گیا کہ سننے والے اس انوکھی چیز کو، اس انوکھی صورت کو خود اپنے ذہنوں میں حاضر کر کے اس کا مشاہدہ کر لیں، کیونکہ فعلِ مضارع کے اندر حال والا معنی ہوتا ہے اور وہ حال میں جو چیز ہوتی ہے وہ انسان اس کا مشاہدہ کرتا ہے اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتی ہے، تو یہاں پر بھی فعلِ مضارع لا کر اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ سننے والے اس کو اپنے سامنے محسوس اور اپنے سامنے مشاہد محسوس کریں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔