درس نمبر۔58
الثالث كون الجملة الثانية جوابا عن سؤال نشأ من الجملة الأولى كقوله:
زعم العواذل أنني في غمرة ... صدقوا ولكن غمرتي لا تنجلي
كأنه قيل: أصدقوا في زعمهم أم كذبوا؟ فقال: صدقوا. ويقال بين الجملتين: شبه كمال الاتصال.
فصل اور وصل کا باب چل رہا ہے۔ اور آپ نے پڑھا کہ دو جملوں کے درمیان پانچ قسم کا تعلق ہو سکتا ہے: یا تو دو جملوں میں کمالِ اتصال ہوگا، یا کمالِ انقطاع ہوگا، یا شبہِ کمالِ اتصال ہوگا، یا شبہِ کمالِ انقطاع ہوگا، اور یا دو جملوں میں توسط بین الکمالین ہوگا۔ اور ان میں سے چار، پہلے چار جو ہیں یہ فصل کے مقامات ہیں، جبکہ توسط بین الکمالین یہ وصل کا مقام ہے۔
اور ان میں سے پھر کمالِ انقطاع جو ہے وہ مع ایہام کے ہوگا یا بغیر ایہام کے۔ اگر بغیر ایہام ہو تو یہ فصل ہی کیا جائے گا اس میں، لیکن اگر مع ایہام ہو تو پھر فصل کو چھوڑ کر کسے اختیار کیا جائے گا؟ وصل کو اختیار کیا جائے گا۔ اسی طرح توسط بین الکمالین بھی، وہ بھی یا تو بغیر ایہام ہوگا یا مع ایہام۔ اگر بغیر ایہام ہے تو وصل ہی پر عمل کیا جائے گا اور اگر مع ایہام ہے تو وصل کو چھوڑ کر فصل کو اختیار کیا جائے گا۔ تو کل سات جگہیں ہوئیں جن میں سے دو وصل والی ہو گئیں اور پانچ کون سی؟ فصل والی۔
اور فصل کی جو پانچ جگہیں ہیں وہ کل کے سبق میں ہم نے پڑھنا شروع کی تھیں اور کل دو جگہیں ان میں سے گزری تھیں: ایک کمالِ اتصال اور ایک کمالِ انقطاع بھئی۔ اور پھر دونوں میں سے ہر ایک کی کئی کئی صورتیں ذکر ہوئی تھیں: کمالِ اتصال کی تین صورتیں انہوں نے ذکر کی تھیں کہ مثلاً دوسرا جملہ پہلے سے بدل واقع ہو، یا دوسرا جملہ پہلے کے لیے بیان واقع ہو، یا دوسرا جملہ پہلے کے لیے تاکید واقع ہو۔ تو اس صورت میں بدل اور مبدل منہ، اسی طرح بیان اور مبین کے درمیان اور اسی طرح تاکید اور مؤکد کے درمیان کمالِ اتصال ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ کمالِ اتصال۔
جبکہ کمالِ انقطاع کی دو صورتیں انہوں نے ذکر کیں کہ دو جملوں میں کمالِ انقطاع ہوگا بایں صورت کہ دونوں جملے خبر اور انشا ہونے کے اعتبار سے مختلف ہیں: ایک جملہ خبریہ ہے تو دوسرا جملہ انشائیہ ہے، یا پہلا انشائیہ ہے تو دوسرا خبریہ ہے۔ اور خبر اور انشا کے درمیان کوئی تعلق نہیں، تو اسے کیا کہیں گے؟ کمالِ انقطاع۔ یا اسی کی دوسری صورت یہ کہ دو جملے ہیں، ہیں تو ایک ہی نوع کے، مثلاً دونوں ہی خبریہ ہوں، لیکن ان کے معنی میں کوئی مناسبت نہیں ہے، یعنی دونوں کے مسند الیہ بھی ان میں بھی کوئی مناسبت نہیں اور مسند میں بھی کوئی مناسبت نہیں، تو یہ بھی اس کو بھی کیا کہیں گے؟ کمالِ انقطاع۔
آج ہم تیسرا مقام پڑھیں گے بھئی، تیسرا مقام۔ تو کل پانچ جگہیں ہیں۔ کمالِ اتصال بھی بیان ہوا، کمالِ انقطاع بھی بیان ہوا۔ اب بیان ہوں گی تین جگہیں: ایک شبہِ کمالِ اتصال، ایک شبہِ کمالِ انقطاع، اور ایک توسط بین الکمالین مع ایہام بھئی، یہ تین جگہیں آج ہم پڑھیں گے بھئی۔
تو کہتے ہیں: الثالث، تیسرا مقام جو ہے فصل کا:
كون الجملة الثانية جوابا عن سؤال نشأ من الجملة الأولى، كون الجملة الثانية جوابا، دوسرے جملے کا جواب ہونا ہے عن سؤالٍ، ایک ایسے سوال کا، نشأ من الجملة الأولى، جو پیدا ہوا ہے پہلے جملے سے۔ سؤالٍ نکرہ آیا، نکرہ کے بعد نشأ فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آتے ہیں؟ ایسا یا ایسی کا، کہ كون الجملة الثانية جوابا، وہ دوسرے جملے کا جواب ہونا ہے عن سؤال، ایسے سوال کا نشأ من الجملة الأولى جو کس سے پیدا ہوا؟ جملۂ اولیٰ سے۔
بھئی دیکھیے! آپ ایک کلام مثلاً کرتے ہیں اور اس میں دو جملے آئے، دو جملے آئے۔ اور جو پہلا جملہ ہے اس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے، تو دوسرے جملے کو آپ بطورِ جواب کے لاتے ہیں، وہ جو سوالِ مقدر پیدا ہوا۔ لفظوں میں تو وہ سوال نہیں ذکر، لیکن پہلا جملہ سنتے ہی سامع کے، سننے والے کے ذہن میں سوال ابھرتا ہے، سوال پیدا ہوتا ہے، تو آپ اس کے پوچھنے سے پہلے خود ہی کیا کر دیتے ہیں؟ آگے اس کا جواب ذکر کر دیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ نے ایک جملہ ذکر کیا اور اس جملے کے سننے سے سننے والے کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے، تو آپ خود ہی کیا کرتے ہیں، اس کے پوچھنے سے پہلے ہی جیسے ہی پہلا جملہ ذکر کیا، اسی سے وہ سوال پیدا ہو سکتا تھا، تو آپ سوال کا انتظار نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی کیا کر دیتے ہیں؟ اس کے جواب کو بھی خود ہی ذکر کر دیتے ہیں بھئی۔
تو یہاں اس پہلے جملے ہی کو جس سے سوال پیدا ہوا تھا، اس کو سوال کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے۔ وہ جملہ سوال تو نہیں پہلا، لیکن اس سے کیا پیدا ہو سکتا ہے؟ سوال پیدا ہو سکتا ہے، سننے والے کے ذہن میں سوال ابھر سکتا ہے، تو اس پہلے جملے کو سوال ہی کے درجے میں اتار لیا گیا، وہ سوال تو نہیں لیکن اس سے سوال پیدا ہو سکتا ہے تو اس کو کس کے درجے میں اتار دیا گیا؟ سوال کے۔ اور دوسرا جملہ آگے وہ جواب ذکر ہو گیا، دوسرا جملہ کیا ہوا؟ جواب ذکر ہوا، اور سوال اور جواب میں اتصال ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ سوال اور جواب میں اتصال ہوتا ہے۔
لیکن یہ جو پہلے وہ جو اتصال گزرا تھا وہ بدل کے اندر، وہ بیان اور تاکید کے اندر، اس جیسا اتصال نہیں، کیونکہ وہاں پر دونوں جملوں میں اتحاد ہوتا تھا، کیا ہوتا تھا؟ اتحاد ہوتا تھا۔ کیونکہ بدل میں وہی پہلے جملے کے اندر اجمال ہوتا تھا، دوسرا اسی کی کیا کرتا تھا؟ تفصیل۔ یا پہلے جملے کے اندر خفاء ہوتا تھا، دوسرا جملہ اس کی وضاحت کرتا تھا، یا پہلے جملے کا جو معنی ہوتا تھا دوسرا جملہ اسی کو پکا کرتا تھا، اسی کو پختہ کرتا تھا، تو ان میں تو اتحادِ کامل تھا، لیکن سوال اور جواب میں جو اتصال ہے وہ اس طرح نہیں۔ یعنی اس طرح کا اتحاد نہیں ہے ان میں، اس طرح کا اتحاد، ہاں یہ اس کے مشابہ ہے، یہ اس کے مشابہ ہے۔ جیسے وہاں پر بدل بدل ہمیشہ مبدل منہ کے بعد آتا ہے اور بغیر مبدل منہ کے نہیں پایا جاتا، اسی طرح بیان ہمیشہ مبین کے بعد آتا ہے اور بغیر مبین کے بیان نہیں پایا جاتا، اور اسی طرح تاکید مؤکد کے بعد آتی ہے اور بغیر مؤکد کے نہیں پائی جاتی۔ اسی طرح جواب بھی ہمیشہ سوال کے بعد آتا ہے اور بغیر سوال کے جواب نہیں پایا جاتا، تو یہ اس کے ساتھ مشابہ ہے۔ ان کی طرح ان میں تو کامل اتحاد تھا، یہاں پر سوال تو اور ہوتا ہے، جواب اس کا اور ہوتا ہے، ان میں کامل اتحاد تو نہیں، لیکن یہ اس کے مشابہ ضرور ہے، کیا ہے اس کے؟ اور کس اعتبار سے مشابہ ہے؟ کہ جیسے وہاں پر دوسرا جملہ پہلے کے بعد آتا تھا اور دوسرا جملہ پہلے کے بغیر نہیں پایا جاتا۔ دوسرا جملہ پہلے کے بعد آتا تھا کیسے؟ بدل کس کے بعد آتا ہے؟ مبدل منہ کے بعد، اور بیان کس کے بعد آتا ہے؟ مبین کے بعد، اور تاکید کس کے بعد آتی ہے؟ مؤکد کے بعد آتی ہے، اور بدل بغیر مبدل منہ کے پایا بھی نہیں جاتا، بیان بغیر مبین کے پایا بھی نہیں جاتا، اور تاکید بغیر مبین کے پائی بھی نہیں جاتی۔ اسی طرح یہاں بھی ایسا ہے، جواب ہمیشہ سوال کے بعد آتا ہے اور جواب کبھی بھی سوال کے بغیر نہیں پایا جاتا، تو یہ اس کے مشابہ ہوا، تو اس کو کہتے ہیں شبہِ کمالِ اتصال، کیا کہتے ہیں؟ شبہِ کمالِ اتصال۔ اور کمالِ اتصال میں تو فصل کرتے تھے، تو جو اس جیسا ہو، اس کے مثل ہو، اس میں بھی کیا کریں گے؟ فصل ہی کریں گے۔ تو یہ تیسرا مقام ہوا فصل کا، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: الثالث، تیسرا مقام فصل کا: كون الجملة الثانية جوابا عن سؤال نشأ من الجملة الأولى، وہ دوسرے جملے کا جواب ہونا ہے ایسے سوال سے جو پیدا ہوا پہلے جملے سے۔
كقوله، جیسے ایک شاعر کا قول ہے:
زعم العواذل أنني في غمرة ... صدقوا ولكن غمرتي لا تنجلي
زعم العواذل، زعم: گمان کرنا۔ العواذل، عواذل یاد رکھیے عواذل جمع ہے عاذلۃ کی، عاذل کی نہیں، کیونکہ عاذل کی جمع فواعل وزن پر نہیں آتی بھئی، تو یہ عاذلۃ کی جمع ہے، کس کی؟ عاذلہ کی، اور عاذلۃ، اس کے آخر میں تو تانیث والی تا ہے، عذل کے معنی ہوتے ہیں ملامت کرنا، برا بھلا کہنا، کیا کہنا؟ برا بھلا کہنا، ملامت کرنا۔ تو اب عاذلۃ کا یہ معنی نہیں کہ یہ کوئی ملامت کرنے والی عورتیں ہیں، بلکہ یہ عاذلۃ میں تا تانیث والی جو آئی، وہ جماعت کے اعتبار سے ہے، کس اعتبار سے؟ جماعت کے، تو ملامت کرنے والی جماعتیں مراد ہیں، اور ہیں مذکر ہی، ملامت کرنے والے مذکر ہیں لیکن ان کی جماعتیں مراد ہیں۔ اور جماعت کا لفظ آپ عربی میں لکھیں تو عین کے ساتھ گول تا آئے گی: جماعۃٌ، تو اس کی صفت بھی کیا آئے گی؟ عاذلۃ، واحد مؤنث آئے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اچھا اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اتنی لمبی بات کی، آپ نے کہا یہ عاذلۃ کی جمع ہے، ٹھیک ہے یہ بات تو واضح ہو گئی۔ لیکن آپ نے کہا ملامت کرنے والی عورتیں نہیں ہیں بلکہ کون ہیں؟ مرد ہیں، مرد ہیں، مردوں کی جماعتیں ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اگر مرد ہیں وہ تو پھر عاذل ہوا، ملامت کرنے والا: عاذل، اور اس کی جمع تو عواذل نہیں آتی، تو یہ تو عاذلۃ۔ تو جواب یہ کہ ہیں مرد ہی لیکن یہاں جماعت کی معنی میں ہیں، یعنی یہ عاذلۃ ای جماعۃ عاذلۃ، اور اس اعتبار سے یہ جمع لائی گئی کہ جماعتیں ملامت کرنے والوں کی جماعتیں۔ تو دلیل کیا ہے اس کی کہ اس سے مرد مراد ہیں؟ جواب یہ کہ اگلے مصرعے کے شروع میں آ رہا ہے: صدقوا، دیکھو مذکر کا صیغہ ہے بھئی، کون سا صیغہ ہے؟ مذکر کا، معلوم ہوا کون ہیں ملامت کرنے والے؟ مذکر ہیں، مرد ہیں، عورتیں نہیں۔ تو یہ صدقوا کا صیغہ بتلا رہا ہے، ورنہ تو ہونا چاہیے تھا: صدقن، کیا ہونا چاہیے تھا؟ اگر مؤنث ہوتی تو صدقن ہوتا۔
زعم العواذل، گمان کیا ہے ملامت کرنے والوں نے یعنی ملامت کرنے والی جماعتوں نے، ان کا گمان یہ ہے: أنني في غمرة، غمرہ کہتے ہیں مصیبت کو اور سختی کو، گمان کیا ہے ملامت کرنے والوں نے کہ میں جو ہوں مصیبت کے اندر ہوں، میں سختی کے اندر ہوں، میں شدت کے اندر ہوں۔
سوال پیدا ہوا: کیا وہ اپنے گمان میں سچے ہیں یا جھوٹے ہیں؟ أصدقوا في زعمهم أم كذبوا؟ کیا وہ اپنے گمان میں سچے ہیں یا جھوٹے ہیں؟ تو پہلا جملہ یہ ہے: زعم العواذل أنني في غمرة، گمان کیا ہے ملامت کرنے والوں نے کہ میں مصیبت کے اندر ہوں، تو سوال پیدا ہوا کہ کیا وہ اپنے گمان میں سچے ہیں یا جھوٹے ہیں؟ تو اس کا جواب آگے شاعر نے دے دیا: صدقوا، وہ سچے ہیں، ولكن غمرتي لا تنجلي، لیکن میری مصیبت جو ہے لا تنجلی، وہ دور ہونے والی نہیں ہے۔ اور مصیبتیں تو دور ہو جاتی ہیں، ختم ہو جاتی ہیں، لیکن میری مصیبت ایسی ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہے بھئی۔
تو مقامِ استشہاد ہے بھئی، کہ پہلا جملہ ہے: زعم العواذل أنني في غمرة، اور دوسرا جملہ ہے: صدقوا، کیا جملہ ہے؟ صدقوا، اور دیکھو صدقوا سے پہلے واو نہیں ذکر کیا گیا، "وصدقوا" نہیں کہا گیا بلکہ فصل کیا گیا، کیا کیا گیا؟ فصل کیا گیا۔ کیوں فصل کیا گیا؟ کیونکہ پہلے جملے سے ایک سوال پیدا ہوا تھا کہ کیا وہ اپنے گمان میں سچے ہیں یا سچے نہیں؟ اور صدقوا اس سوال کے جواب میں لے کر آیا شاعر بھئی، تو گویا پہلے جملے کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ سوال کے، تو پہلا جملہ ہوا سوال کے درجے میں، اور صدقوا ہوا جواب، اور سوال اور جواب کے درمیان شبہِ کمالِ اتصال ہے۔ تو جب کمالِ اتصال ہو تو فصل کرتے ہیں، تو شبہِ کمالِ اتصال میں بھی کیا کریں گے؟ فصل کریں گے، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
زعم العواذل أنني في غمرة، گمان کیا ہے ملامت کرنے والوں نے کہ میں مصیبت میں ہوں، صدقوا، وہ اپنے گمان میں سچے ہیں، ولكن غمرتي لا تنجلي، لیکن میری مصیبت جو ہے وہ دور ہونے والی نہیں ہے۔
كأنه قيل، دیکھیے خود یہی اب تشریح کریں گے جو میں نے بیان کی: كأنه قيل، گویا کہ یوں کہا گیا: أصدقوا في زعمهم أم كذبوا؟ کیا وہ سچے ہیں اپنے گمان میں یا وہ جھوٹے ہیں؟ فقال، تو شاعر کہتا ہے: صدقوا، وہ سچے ہیں۔ ويقال، اور کہا جاتا ہے: بين الجملتين شبه كمال الاتصال، کہ ان دو جملوں کے درمیان شبہِ کمالِ اتصال ہے۔
الرابع، چوتھا مقام بھئی، اب بیان کریں گے شبہِ کمالِ انقطاع کو۔ چوتھا مقام یہ بیان کریں گے کہ دیکھیے بھئی، ادھر توجہ کریں، آپ اپنے کلام میں دو جملے لے کر آئے ہیں اور ان دو جملوں کے بعد اب آپ ایک تیسرا جملہ لے کر آئے، اور اس تیسرے جملے کا عطف ماقبل کے دو جملوں میں سے ایک پر تو صحیح ہے۔ اس تیسرے جملے کا عطف ماقبل میں دو جملے آئے نا، تو ماقبل کے دو جملوں میں سے ایک جملے پر تو اس کا عطف صحیح بنتا ہے، لیکن دوسرے پر اس کا عطف کریں تو معنی میں خرابی آتی ہے، کیا آتی ہے؟ معنی میں خرابی آتی ہے، تو اس خرابی اور اس فساد سے بچنے کے لیے آپ فصل کرتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ فصل کرتے ہیں، کیونکہ اگر آپ وصل کریں گے، ٹھیک ہے عطف تو بنتا ہے، ایک پر عطف ہو سکتا ہے ماقبل کے دو جملوں میں سے، لیکن دوسرے پر تو عطف صحیح نہیں بنتا اور اس پر اگر عطف کیا جائے تو معنی میں کیا لازم آتی ہے؟ خرابی لازم آتی ہے، تو کہیں ایسا نہ ہو سننے والا دوسرا معنی سمجھ لے جو آپ کا مقصود نہیں، جو آپ کا مقصود نہیں ہے، جو آپ کا مقصد نہیں ہے وہ معنی نہ سمجھ لے، لہٰذا آپ کیا کرتے ہیں؟ فصل کرتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ فصل کرتے ہیں، تو اس کو کہیں گے شبہِ کمالِ انقطاع، کیا ہے؟ شبہِ کمالِ انقطاع بھئی۔
دیکھیے بھئی: الرابع، چوتھا مقام فصل کا وہ یہ ہے: أن تسبق جملة بجملتين، کہ مقدم کیا جائے ایک جملے پر بجملتین، کس کو؟ دو جملوں کو، يصح عطفها على إحداهما، صحیح ہے اس جملے کا عطف علیٰ احداہما، اس ماقبل کے دو جملوں میں سے ایک پر صحیح ہے، لوجود المناسبة، مناسبت کے پائے جانے کی وجہ سے، وفي عطفها على الأخرى فساد، اور اس جملے کا عطف دوسرے جملے پر کرنے میں فساد ہے، فيترك العطف، تو عطف کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ چھوڑ دیا جاتا ہے، دفعا للوهم، اس وہم کو دور کرنے کے لیے کہ کہیں سننے والا وہ غلط معنی نہ سمجھ جائے بھئی، وہ خرابی۔ صورت اچھی طرح واضح ہو گئی؟
دوبارہ ترجمہ دیکھیے بھئی۔ بھئی دیکھیے یہاں پر آیا: أن تسبق جملة بجملتين، جملتین نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد يصح فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آتے ہیں؟ ایسا یا ایسی کا، دیکھیے اسی طرح ترجمہ ہوگا۔ چوتھا مقام یہ ہے: أن تسبق جملة بجملتين، کہ مقدم کیا جائے کسی جملے پر ایسے دو جملوں کو کہ: يصح عطفها على إحداهما، کہ اس ایک جملے کا عطف جو ہے ان میں سے ان دو میں سے کسی ایک پر تو صحیح ہے، لوجود المناسبة، مناسبت کے پائے جانے کی وجہ سے، وفي عطفها على الأخرى فساد، اور اس جملے کا عطف دوسرے جملے پر کرنے میں فساد ہے، فيترك العطف، تو عطف کو ترک کر دیا جاتا ہے، دفعا للوهم، اس وہم کو دور کرنے کے لیے، كقوله، جیسے ایک شاعر کا قول ہے:
وتظن سلمى أنني أبغي بها ... بدلا أراها في الضلال تهيم
"أراها" اگر آپ کی کتابوں میں ہے اس میں ہمزہ پر پیش کریں بھئی یہ، کتابت کی غلطی ہے بھئی: أُراها، أُراها۔
وتظن سلمى، شاعر کہتا ہے کہ کہ میری معشوقہ، میری محبوبہ سلمیٰ جو ہے، تظن، وہ گمان کرتی ہے۔ تظن سلمى، سلمیٰ کیا ہے؟ گمان کرتی ہے، اس کا یہ خیال ہے: أنني أبغي بها، بغى يبغي کے معنی ہوتے ہیں طلب کرنے کے، چاہنے کے، کہ میں جو ہوں، أبغي بها، میں طلب کرتا ہوں، چاہتا ہوں بہا، اس کے بدلے میں، بدلاً، کسی بدل کو یعنی کسی اور کو۔ سلمیٰ، میری محبوبہ کا کیا گمان ہے؟ کہ میں اس کے بجائے، یوں کہیں آسان لفظوں میں، کہ میں اس کے بجائے کسی اور کو چاہتا ہوں، اس کے بدلے میں کسی اور کو چاہتا ہوں۔
آگے شاعر اب اپنی اپنا خیال ذکر کر رہا ہے: أراها، میں گمان کرتا ہوں، ہا ضمیر سلمیٰ کو راجع ہے، سلمیٰ کے بارے میں، کیا گمان کرتا ہوں؟ في الضلال تهيم، ہام یہیم کے معنی ہوتے ہیں حیران و سرگرداں گھومنا، حیران و سرگرداں چکر لگانا، کہ میں اس کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ، اور یاد رکھیے: في الضلال کا تعلق تہیم سے ہے، میں اس کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ تہیم فی الضلال کہ وہ گمراہی میں حیران و سرگرداں پھر رہی ہے، یعنی گمراہی کی وادیوں میں حیران و سرگرداں پھر رہی ہے، میں یہ گمان کرتا ہوں۔ میں یہ خیال کرتا ہوں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
تو کہتے ہیں دوبارہ ترجمہ سنیے:
وتظن سلمى أنني أبغي بها ... بدلا أراها في الضلال تهيم
سلمیٰ خیال کرتی ہے کہ میں اس کے بجائے کسی اور کو چاہتا ہوں، کسی اور کو طلب کرتا ہوں، أراها في الضلال تهيم، اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ گمراہی کی وادیوں میں حیران و سرگرداں پھر رہی ہے یعنی اس کا یہ گمان صحیح نہیں ہے۔
اب دیکھیے بھئی، یہ تو تھا معنی۔ اب یہاں دیکھیے: أراها، یہ تیسرا جملہ ہے، یہ کیا ہے؟ اور اس سے ماقبل میں دو جملے آئے: پہلا جملہ ہے: تظن سلمى، سلمیٰ گمان کرتی ہے۔ دوسرا جملہ ہے: أبغي بها، کہ میں کیا کر رہا ہوں؟ اس کے بدلے میں کسی اور کو چاہتا ہوں۔
تو پہلا جملہ کیا ہوا؟ تظن سلمى۔ دوسرا جملہ کیا ہوا؟ أبغي بها بدلا۔ اور تیسرا جملہ کیا ہوا؟ أراها في الضلال تهيم، یہ تیسرا جملہ ہوا، تیسرا جملہ ہوا۔
تو شاعر نے اس شعر میں سلمیٰ کا بھی خیال ذکر کیا اور اپنا بھی خیال ذکر کیا، کہ سلمیٰ کا تو یہ خیال ہے کہ میں اس کے بجائے کسی اور کو چاہتا ہوں، اور اپنا خیال ذکر کیا کہ میرا یہ خیال ہے کہ سلمیٰ جو ہے وہ گمراہی کی وادیوں میں حیران و سرگرداں چکر لگا رہی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا شعر کا؟
تو اب یہاں دیکھیے: پہلا جملہ آیا تظن سلمى، دوسرا جملہ آیا أبغي بها بدلاً، اور تیسرا جملہ آیا أراها في الضلال تهيم۔ اب أراها في الضلال تهيم، اس کا عطف پہلے جملے پر تو کرنا صحیح بنتا ہے، پہلے جملے کے ساتھ اس کی مناسبت ہے، کس کے ساتھ؟ کون سا پہلا جملہ؟ تظن سلمى، سلمیٰ یہ گمان کرتی ہے، کیونکہ وہ بھی جملہ خبریہ ہے اور أراها، میں خیال کرتا ہوں، یہ بھی کیا ہے؟ جملہ خبریہ۔ تو دونوں جملہ خبریہ بھی ہیں اور دونوں کے مسند اور مسند الیہ میں بھی مناسبت ہے: وہاں پر تظن کا معنی بھی ہے گمان کرنا اور اریٰ کا معنی بھی ہے گمان کرنا۔ بھئی یہ بات میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، جہاں اسمِ موصول کا ذکر آیا تھا، اسمِ موصول کے ذکر کے میں کیا کیا فائدے ہوتے ہیں، وہاں آیا تھا: "إن الذين ترونهم إخوانكم"، بیشک وہ لوگ بیشک وہ جن کو تم اپنا بھئی گمان کرتے ہو، ان کے سینوں کی آگ تمہاری بربادی کے ساتھ ہی بجھتی ہے۔ یاد آیا مقام کہ نہیں بھئی؟ تو وہاں ترونہم، فعلِ مجہول ہم نے پڑھا تھا اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ رؤیت، رؤیت کا معنی ہے دیکھنا، دیکھنا، اور یہ دیکھنا کبھی آنکھوں سے ہوتا ہے اور یہ کبھی دیکھنا دل سے ہوتا ہے۔ آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں ہو تو یہ ایک مفعول چاہتا ہے: "رأيت زيدا"، میں نے زید کو دیکھا، تو یہ ایک مفعول چاہتا ہے۔ اور جب یہ دل سے دیکھنے کے معنی میں ہو یعنی یقین کرنے کے معنی میں ہو تو پھر یہ دو مفعول چاہتا ہے: "رأيت زيدا عالما"، میں نے زید کو عالم جانا، میں نے زید کے عالم ہونے کا یقین کیا، تو یہ جاننا کون سا مراد ہے؟ دل سے جاننا مراد ہے، آنکھوں سے جاننا مراد نہیں، تو لہٰذا یہ دو مفعول چاہے گا۔ اور یہی رؤیت کا فعل کبھی گمان کرنے اور خیال کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور جب یہ گمان کرنے کے معنی میں ہو تو اس کا فعلِ مضارع ہمیشہ ہمیشہ کلامِ عرب کے اندر مجہول استعمال ہوتا ہے، کیا استعمال ہوتا ہے؟ معنی تو وہی معروف والا کرتے ہیں لیکن فعل کس طرح استعمال ہوتا ہے؟ مجہول، تو یہاں پر بھی اسی لیے أُراها کہیں گے، کیا کہیں گے؟ أُراها بھئی۔
تو دیکھیے، اب دونوں جملوں کے اندر مناسبت ہے: پہلے جملے کے اندر تظن سلمى، سلمیٰ گمان کرتی ہے، تو مسند کیا ہوا؟ گمان کرنا، خیال کرنا۔ اور أراها، اس کے اندر بھی مسند کیا ہوا؟ خیال کرنا اور گمان کرنا، تو دونوں کے مسند میں بھی مناسبت ہے۔ اور نیز پہلے جملے میں گمان کرنے والی ہے سلمیٰ یعنی محبوبہ، اور دوسرے جملے میں گمان کرنے والا ہے محب، اور محبوبہ اور محب کے اندر بھی مناسبت موجود ہے، اس لیے کیونکہ جہاں محبوبہ کا ذکر آئے گا خود بخود محب کا ذکر ذہن میں، ذہن میں تصور آ جائے گا اور جہاں محب کی بات آئے گی خود بخود محبوبہ کا تصور ذہن میں آ جائے گا، جیسے استاد کا ذکر کریں تو فوراً خود بخود شاگرد ذہن میں آ جاتا ہے، شاگرد کی بات کریں تو خود بخود استاد ذہن میں آ جاتا ہے، کیونکہ شاگرد کہتے ہی اس کو ہیں جس کا کوئی استاد ہو، استاد کہتے ہی اس کو ہیں جس کا کوئی شاگرد ہو بھئی۔ یا اسی طرح خاوند کہتے ہی اس کو ہیں جس کی کوئی بیوی ہو، بیوی کہتے ہی اس کو ہیں جس کا کوئی خاوند ہو، اسی طرح محبوبہ کہتے ہی اس کو ہیں جس کا کوئی محب ہو اور محب کہتے ہی اس کو ہیں جس کی کوئی محبوبہ ہو۔ تو ان سب میں مناسبت موجود ہے، تو ایک کے تصور سے دوسرے کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے، تو اس اعتبار سے ان میں بھی مناسبت موجود ہے۔
تو پہلے اور دوسرے جملے میں مناسبت ہے کہ پہلا جملہ بھی خبریہ اور دوسرا جملہ بھی خبریہ، یعنی یوں کہیں تیسرا جملہ، پہلے اور تیسرے میں۔ تو تیسرے جملے کی پہلے جملے کے ساتھ مناسبت ہے کہ دونوں جملہ خبریہ بھی ہیں اور پہلے جملے کے اندر مسند کیا ہے؟ ظن ہے، گمان کرنا، اور تیسرے جملے میں مسند کیا ہے؟ اریٰ، میں گمان کرتا ہوں، وہ بھی گمان کے معنی میں ہے، اور مسند الیہ میں بھی دونوں کے اندر مناسبت کہ پہلے جملے میں مسند الیہ کون ہے؟ محبوبہ ہے اور تیسرے جملے میں مسند الیہ محب ہے، تو اس پر عطف ہو سکتا تھا اور "وأراها" کہہ سکتے تھے، لیکن اس صورت میں سننے والا سمجھتا، اس کے ذہن میں یہ خیال آ سکتا تھا کہ شاید أراها کا عطف أبغي بها پر ہے، کس پر ہے؟ أبغي بها پر، دوسرے جملے پر وہم پڑ سکتا تھا، اور دوسرے جملے پر تو اس کا عطف صحیح نہیں بنتا، اس لیے کیونکہ یہ أراها سے شاعر اپنا خیال ذکر کر رہا ہے یا سلمیٰ کا خیال ذکر کر رہا ہے؟ اپنا خیال، سلمیٰ کا خیال تو تظن میں ذکر ہوا، آگے أراها سے شاعر اپنا خیال ذکر کر رہا ہے، لیکن اگر اس کا عطف کس پر ہو جائے؟ أبغي بها، یہ تو کس کا خیال ہے؟ سلمیٰ کا خیال ہے، تو أراها بھی کس کا خیال بن جائے گا؟ سلمیٰ کا، اگر اس کا عطف ابغی پر ہو جائے، تو اس صورت میں تو پھر یہ معنی بن جائے گا کہ سلمیٰ یہ گمان کرتی ہے کہ میں اس کے بجائے کسی اور کو چاہتا ہوں اور سلمیٰ یہ گمان کرتی ہے کہ میں اس کے بارے میں یہ خیال بھی کرتا ہوں۔ میرا خیال کرنا یہ بھی دراصل اس کا خیال ہے، وہ میرے بارے میں کیا خیال کرتی ہے؟ کہ میں اس کے بارے میں یہ سوچتا ہوں کہ وہ حیران و سرگرداں گمراہی کی وادیوں میں گھوم رہی ہے، حالانکہ یہ تو وہ نہیں کہنا چاہتا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
تو لہٰذا أراها کا عطف تظن پر تو صحیح بنتا ہے، لیکن أبغي بها پر صحیح نہیں بنتا۔ تو چونکہ اب اس کا أبغي بها پر عطف صحیح نہیں بنتا اور عطف کیا جائے تو اس صورت میں سننے والا شاید یہ نہ سمجھے کہ اس کا عطف تظن پر نہیں ہے بلکہ کس پر ہے؟ أبغي بها پر ہے، تو اس وجہ سے شاعر نے کیا کیا؟ واو کو درمیان میں ذکر نہیں کیا، اور أراها کہا، "وأراها" اسی لیے نہیں کہا بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے اب یہی تقریر جو میں نے کی، یہ کتاب والے بھی ذکر کریں گے:
فجملة أراها يصح عطفها على تظن، تو أراها کا جو جملہ ہے اس کا عطف کرنا صحیح ہے علیٰ تظن، کس جملے پر؟ تظن جملے پر۔
لكن يمنع من هذا، لیکن روکتا ہے اس بات سے، روکتی ہے، کیا چیز روکتی ہے؟ توهم العطف على جملة أبغي بها، اس بات کا وہم کہ عطف کس پر ہو رہا ہے؟ أبغي بها کے جملے پر، اس بات کا وہم اس بات سے روکتا ہے۔
فتكون الجملة الثالثة من مظنونات سلمى، تو اس صورت میں تو تیسرا جملہ سلمیٰ کے مظنونات، اس کے گمانوں میں سے ہو جاتا ہے، مع أنه ليس مرادا، باوجود اس کے کہ یہ مراد نہیں ہے۔
معنی سمجھ میں آیا؟ کہ أراها اس کا عطف تظن پر تو صحیح، لیکن اگر اس پر عطف کریں تو کیا وہم پڑتا ہے؟ اس کا عطف کس پر ہے؟ أبغي بها پر۔ اور اس صورت میں وہ أبغي بها تو سلمیٰ کا مظنون تھا، سلمیٰ کا گمان تھا، تو یہ أراها بھی کیا بن جاتا ہے؟ اس کا گمان بن جاتا ہے، مع أنه ليس مرادا، باوجود اس کے کہ یہ مراد نہیں۔
ويقال، اور کہا جاتا ہے: بين الجملتين في هذا الموضع شبه كمال الانقطاع، کہ دو جملوں کے درمیان اس قسم کے مقام میں جو ہے وہ شبہِ کمالِ انقطاع ہے بھئی، کیا ہے؟ شبہِ کمالِ انقطاع ہے بھئی۔
تو کمالِ اتصال کا بیان بھی گزر گیا، کمالِ انقطاع کا بیان بھی گزر گیا، شبہِ کمالِ اتصال بھی گزر گیا کہ دوسرا جملہ کیا ہو؟ سوالِ مقدر کا جواب ہو، اور شبہِ کمالِ انقطاع بھی گزر گیا کہ اس میں اس میں بھی تیسرے جملے کا عطف ماقبل کے دو جملوں میں سے ایک پر تو عطف صحیح ہے لیکن دوسرے پر اس کا عطف صحیح نہیں بنتا۔ تو چونکہ دوسرے پر عطف صحیح نہیں بنتا تو کہیں سننے والا یہ نہ سمجھ لے کہ اس دوسرے پر عطف ہے، اس لیے عطف ہی کو ترک کر دیا جاتا ہے۔
الخامس، پانچواں مقام آیا فصل کا۔ پانچواں مقام کون سا ہے؟ توسط بین الکمالین مع ایہام۔ یعنی دو جملے ہیں اور ان کے درمیان کچھ مناسبت ہے اور کچھ مغایرت ہے، اور واو بھی کچھ مناسبت چاہتا ہے اور کچھ مغایرت چاہتا ہے، لیکن پہلے جملے پر اگر عطف کیا جائے تو پھر خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، تو اس وجہ سے کیا کر دیا جاتا ہے؟ اس عطف کو چھوڑ دیا جاتا ہے بھئی، چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تو یہ ہوا توسط بین الکمالین مع ایہام بھئی۔
الخامس، پانچواں مقام فصل والا یہ ہے: أن لا يقصد تشريك الجملتين في الحكم، کہ ارادہ نہ کیا جائے دو جملوں کو شریک کرنے کا فی الحکم، کس کے اندر؟ حکم کے اندر۔ کیوں حکم میں کیوں نہیں شریک کرنے کا ارادہ کیا جاتا؟ کیونکہ اس سے خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے۔ لقيام مانع، کس وجہ سے؟ ایک مانع کے پائے جانے کی وجہ سے، اور وہ مانع کیا ہے؟ خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے۔
كقوله تعالى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: "وإذا خلوا إلى شياطينهم قالوا إنا معكم إنما نحن مستهزئون، الله يستهزئ بهم"۔
مقامِ استشہاد ہے: "الله يستهزئ بهم"، یہاں فصل کیا گیا، "والله يستهزئ بهم" نہیں کہا گیا، واو کو درمیان میں ذکر نہیں کیا گیا۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ اب تفصیل بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں:
فجملة الله يستهزئ بهم لا يصح عطفها على إنا معكم، کہ "الله يستهزئ بهم" جملہ جو ہے صحیح نہیں ہے اس کا عطف کرنا "إنا معكم" کے جملے پر، لاقتضائه أنه من مقولهم، لاقتضائه، اس وجہ سے کہ یہ عطف یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ جملہ بھی ان کے مقولہ ہو، ان کے مقولے میں سے ہو جائے۔ کون سا جملہ؟ اللہ استہزاء، تو اس صورت میں تو یہ بھی ان کے مقولے میں سے ہو جائے گا۔ تو یہ عطف تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ جملہ بھی ان کے مقولے میں سے ہو جائے، حالانکہ یہ تو ان کا مقولہ نہیں ہے، یہ تو ان کی کہی ہوئی بات نہیں، یہ تو اللہ فرما رہے ہیں۔
اور اسی طرح: ولا على جملة قالوا، اور قالوا کے جملے پر بھی "الله يستهزئ بهم" کا عطف صحیح نہیں، لاقتضائه، اس وجہ سے کہ اس پر عطف کرنا یہ تقاضا کرتا ہے: أن استهزاء الله بهم مقيد بحال خلوهم، کہ اللہ کا ان کے مذاق کا جواب دینا یہ مقید ہے بحال خلوهم، ان کے خلوت کی ان کے خلوت کی حالت کے ساتھ، إلى شياطينهم، اپنے سردار۔ اپنے سرداروں کی طرف جب یہ خلوت کی حالت میں آتے ہیں اس کے ساتھ یہ بھی کیا ہو جائے گا؟ مقید ہو جائے گا۔ معنی سمجھ میں آیا؟
معنی تو سن لیں پہلے بھئی: "وإذا خلوا إلى شياطينهم"، اللہ منافقین کے بارے میں بیان فرما رہے ہیں کہ جب یہ خلوت میں آتے ہیں، "إلى شياطينهم"، اپنے شیطانوں کے پاس یعنی اپنے سرداروں کے پاس۔ مراد کیا ہیں شیاطین سے؟ ان کے سردار۔ یہ منافقین جب خلوت میں آتے ہیں اپنے سرداروں کے پاس یعنی تنہائی میں جب ان کے پاس آتے ہیں، "قالوا"، تو کہتے ہیں: "إنا معكم"، ہم بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں، بیشک ہم یقیناً ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ بھئی منافقین جو بظاہر تو مسلمان تھے لیکن دل میں کیا تھے؟ کافر تھے، اور مسلمانوں کے سامنے مسلمان بنے ہوئے ہیں اور آ رہے ہیں مسجد میں بھی آتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں، نمازوں میں بھی شرکت کرتے ہیں، لیکن جب اپنے سرداروں کے پاس خلوت میں جاتے ہیں تو کیا کہتے ہیں؟ ہم تمہارے ساتھ ہیں، یہ تو ہم ویسے مذاق اڑانے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، بظاہر جو ہم ان کا ساتھ بھی دے رہے ہیں صرف کس لیے؟ مذاق اڑانے کے لیے ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟
تو اسی بات کو اللہ ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ اتنے برے لوگ ہیں: "وإذا خلوا إلى شياطينهم"، جب یہ تنہائی میں آتے ہیں اپنے سرداروں کے پاس، "قالوا"، تو کہتے ہیں: "إنا معكم"، یقیناً ہم تمہارے ساتھ ہیں، "إنما نحن مستهزئون"، کہ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ مذاق ہی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہم صرف کیا کر رہے ہیں؟ صرف مذاق ان کا ہم صرف ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
"الله يستهزئ بهم"، تو آگے اللہ فرما رہے ہیں: "الله يستهزئ"، یہ آگے اب اللہ فرما رہے ہیں کہ "الله يستهزئ بهم"، اللہ ان کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں یعنی ان کے استہزاء کا جواب دیتے ہیں۔ اللہ ان کے ساتھ استہزاء کرنے کا کیا معنی؟ اللہ ان کے استہزاء کا جواب دیتے ہیں، جواب دیتے ہیں۔ یعنی اللہ ان پر ذلت کو مسلط فرما دیتے ہیں، ان پر ذلت چھائی رہتی ہے، اور ان کو اللہ اپنی رحمت سے دور کر دیتے ہیں، ان پر اپنی رحمت نازل نہیں فرماتے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟
تو اب مقامِ استشہاد میں نے بتلایا: "الله يستهزئ بهم"، یہ اس سے ماقبل میں واو ذکر نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اگر واو لایا جائے گا تو پھر یا تو اس کا عطف ہوگا "إنا معكم" پر، کس پر؟ "إنا معكم" پر، یا اس کا عطف ہوگا "قالوا" پر، کس پر؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ پھر سن لیں بھئی، پہلے تقریر سن لیں، پھر آگے کتاب میں دیکھیے بھئی۔
آپ کو یہ بتلائیں گے کہ "الله يستهزئ بهم"، یہ جو جملہ ہے، اس کا عطف یا تو "إنا معكم" پر ہو سکتا ہے یا کس پر؟ "قالوا" پر۔ لیکن دونوں پر ہی درست نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ اگر اس کا عطف کر دیا جائے "إنا معكم" پر، کس پر؟ اور "إنا معكم" یہ تو مقولہ ہے ان کا، ان منافقین کا۔ وہ کیا کہتے ہیں اپنے سرداروں کو؟ ہم بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں، تو پھر "الله يستهزئ بهم"، یہ جملہ بھی ان کا مقولہ بن جائے گا، حالانکہ یہ تو ان کا مقولہ نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور نیز اس کا عطف "قالوا" پر بھی صحیح نہیں ہے۔ کیوں نہیں "قالوا" پر کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ "قالوا"، اس کے ساتھ ایک قید ذکر ہے اور وہ کیا؟ اس سے ماقبل قید ہے، یہ وہ کہتے ہیں، کب کہتے ہیں؟ "وإذا خلوا إلى شياطينهم"، جب وہ خلوت میں اپنے سرداروں کے پاس آتے ہیں۔ تو یہ قال، یہ کہنا ان کا مقید ہے خلوت کی حالت کے ساتھ۔ یہ وہ قول ہر وقت کرتے ہیں یا جب خلوت میں آتے ہیں؟ جب خلوت میں، تنہائی میں آتے ہیں تو یہ "قالوا" مقید ہے "إذا خلوا إلى شياطينهم" کی قید کے ساتھ۔ تو اگر اس "قالوا" پر "الله يستهزئ بهم" کا عطف کر دیا جائے تو یہ بھی مقید ہو جائے گا اسی قید کے ساتھ، یہ بھی مقید ہو جائے گا اور معنی کیا بن جائے گا؟ کہ اللہ بھی ان کی اللہ ان کے استہزاء کا جواب بھی اس وقت دیتے ہیں جب یہ خلوت میں اپنے سرداروں کے پاس آتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ "قالوا" کس کے ساتھ مقید ہے؟ وہ یہ کب کہتے ہیں؟ جب وہ خلوت میں تنہائی میں اپنے سرداروں کے پاس آتے ہیں، تو "قالوا" مقید ہوا "إذا خلوا" کے ساتھ۔ اور اگر اس "قالوا" پر "الله يستهزئ بهم" کا عطف کر دیا جائے، تو اس میں یہ بھی مقید ہو جائے گا کس کے ساتھ؟ "إذا خلوا" کے ساتھ، معلوم ہوا اللہ ان کے استہزاء کا جواب کب دیتے ہیں؟ جب وہ خلوت میں آتے ہیں، جب وہ خلوت میں آتے ہیں۔ حالانکہ یہ تو مقصود نہیں، یہ اللہ ان کے استہزاء کا جواب خلوت میں نہیں دیتے، ہر وقت جواب دے رہے ہیں یعنی ہر وقت ان پر ذلت مسلط ہوتی ہے، صرف خلوت میں جب آتے ہیں تب نہیں ذلت مسلط ہوتی بلکہ ان پر ہر وقت ذلت مسلط ہوتی ہے اور یہ ہر وقت اللہ کی رحمت سے دور رہتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟
تو کہتے ہیں: فجملة الله يستهزئ بهم لا يصح عطفها على إنا معكم، جو "الله يستهزئ بهم" کا جملہ جو ہے صحیح نہیں ہے اس کا عطف کرنا "إنا معكم" کے جملے پر، لاقتضائه أنه من مقولهم، لاقتضائه، اس وجہ سے کہ یہ عطف یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ جملہ بھی ان کے مقولہ ہو، ان کے مقولے میں سے ہو جائے۔ کون سا جملہ؟ "الله يستهزئ بهم"، تو اس صورت میں تو یہ بھی ان کے مقولے میں سے ہو جائے گا۔ تو یہ عطف تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ جملہ بھی ان کے مقولے میں سے ہو جائے، حالانکہ یہ تو ان کا مقولہ نہیں ہے، یہ تو ان کی کہی ہوئی بات نہیں، یہ تو اللہ فرما رہے ہیں۔
ولا على جملة قالوا، اور "قالوا" کے جملے پر بھی "الله يستهزئ بهم" کا عطف صحیح نہیں، لاقتضائه، اس وجہ سے کہ اس پر عطف کرنا یہ تقاضا کرتا ہے: أن استهزاء الله بهم مقيد بحال خلوهم، کہ اللہ کا ان کے مذاق کا جواب دینا یہ مقید ہے بحال خلوهم، ان کے خلوت کی ان کے خلوت کی حالت کے ساتھ، إلى شياطينهم، اپنے سردار، اپنے سرداروں کی طرف جب یہ خلوت کی حالت میں آتے ہیں اس کے ساتھ یہ بھی کیا ہو جائے گا؟ مقید ہو جائے گا۔ معنی سمجھ میں آیا؟
دوبارہ ترجمہ دیکھیے: لاقتضائه أن استهزاء الله بهم مقيد بحال خلوهم إلى شياطينهم، اس وجہ سے کہ یہ عطف یہ تقاضا کرتا ہے کہ اللہ کا ان کے مذاق کا، ان کے استہزاء کا جواب دینا وہ مقید ہے ان کا اپنے سرداروں کے پاس خلوت کی حالت میں آنے کے ساتھ، حالانکہ یہ تو مقصود نہیں ہے بھئی، یہ مقصود نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
اچھا، انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ "الله يستهزئ بهم" اس کا عطف "إنما نحن مستهزئون" پر بھی ہو سکتا ہے۔ ایک تیسرا جملہ آ رہا ہے یا نہیں درمیان میں؟ "إنما نحن مستهزئون"۔ تو اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی یہ "إنما نحن مستهزئون"، یہ بھی ان کا مقولہ ہے، یہ بھی کیا ہے؟ ان کا مقولہ ہے، تو جو "إنا معكم" میں خرابی لازم آتی ہے، وہی کس میں آتی ہے؟ "إنما" میں بھی وہی خرابی لازم آتی ہے، اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا۔ جواب سمجھ میں آیا؟
تو کہتے ہیں: ويقال بين الجملتين في هذا الموضع توسط بين الكمالين، اور کہا جاتا ہے کہ دو جملوں میں اس مقام کے اندر توسط بین الکمالین ہے، کیا ہے؟ توسط بین الکمالین ہے یعنی کس کس کے درمیان؟ کمالِ اتصال اور کمالِ انقطاع، لیکن لیکن یہاں کیا ہے؟ توسط بین الکمالین ہے اور توسط بین الکمالین میں تو کیا کیا جاتا ہے؟ وصل، تو یہاں یہ مقام تو یہ وصل کا تھا، لیکن لیکن اس ماقبل کے جملے کا ایک خاص حکم تھا، کیا حکم تھا؟ "قالوا" کا خاص حکم تھا، وہ مقید تھا "إذا خلوا" کے ساتھ، اور یہ حکم دوسرے کو دینا مقصود نہیں ہے، اس اس حکم میں اس کو شریک کرنا مقصود نہیں ہے، یا یوں کہیں کہ عطف کی صورت میں چونکہ خلافِ مقصود کا وہم پڑتا تھا تو یہ ہوا توسط بین الکمالین مع ایہام۔ اور توسط بین الکمالین مع ایہام ہو تو وہاں وصل کو چھوڑ کر کس کو اختیار کیا جاتا ہے؟ فصل کو، اور اسی لیے قرآن میں بھی کس کو اختیار کیا گیا؟ فصل کو۔
آگے ہے میری کتاب میں: كما يقال بين الجملتين في الموضع الأول من الوصل، غير أن الفصل ها هنا لقصد عدم التشريك، یہ عبارت بھی ہے، حالانکہ یہ حاشیہ ہے، یہ بھی منہیات ہے، یہ بھی کیا ہے؟ منہیات ہے، اور بعض کتابوں میں آپ کے دیکھیے ہاں یہ آپ کے بعض ساتھیوں کی کتابوں میں یہ جملہ حاشیے ہی میں دیا ہوا ہے، اور اس کو حاشیے ہی میں ہونا چاہیے بھئی، اس کی کتاب کا حصہ نہیں، ہاں البتہ خود مصنفین نے ہی اس کو کہاں بڑھایا؟ حاشیے میں بڑھایا، تو اس کو حاشیے ہی میں ہونا چاہیے بھئی۔
تو بہرحال اس کا بھی ترجمہ سمجھ لیں: تو کہتے ہیں: كما يقال، جیسے کہ کہا جاتا ہے، بين الجملتين، ان دو جملوں کے درمیان، في الموضع الأول، وہ جو پہلی جگہ پر آئے تھے، من الوصل، وصل میں، کس میں؟ بھئی وصل کے اندر کتنی صورتیں ذکر ہوئی تھیں؟ دو صورتیں ذکر ہوئی تھیں، اور پہلی صورت میں وہاں پر بھی کیا تھا؟ توسط بین الکمالین، لیکن وہ تھا توسط بین الکمالین بغیر ایہام، اور یہ ہے توسط بین الکمالین مع ایہام۔
تو کہتے ہیں ان دو دوبارہ سنیں: ويقال بين الجملتين في هذا الموضع، اور کہا جاتا ہے کہ دو جملوں کے درمیان اس مقام کے اندر توسط بین الکمالین ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے ان دو جملوں کے درمیان جو پہلے مقام میں آئے تھے وصل کے اندر، وہاں بھی کیا تھا؟ توسط بین الکمالین، لیکن: غير أن الفصل ها هنا لقصد عدم التشريك، علاوہ اس کے کہ فصل یہاں پر جو ہے شریک نہ کرنے کے ارادے کی وجہ سے ہے، کہ یہاں پر کیا ہے؟ یہاں مقام تو وصل ہی کا تھا جیسے پہلے مقام آیا تھا، اس میں کیا کیا گیا تھا؟ وصل، تو یہ بھی مقام تو کس کا تھا؟ وصل کا تھا، لیکن یہاں پر دوسرے جملے کو پہلے جملے کے ساتھ شریک کرنے کا ارادہ نہیں ہے کیونکہ یہاں خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، کس کا؟ خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، اس لیے یہاں شریک کرنے کا ارادہ نہیں کیا گیا، تو یہ ہوا توسط بین الکمالین مع ایہام، کیونکہ شریک کریں گے تو خلافِ مقصود کا وہم پڑے گا بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔