Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-055

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔55 الباب السادس في القصر. القصر تخصيص شيء بشيء بطريق مخصوص، وينقسم إلى حقيقي وإضافي. فالحقيقي ما كان الاختصاص فيه بحسب الواقع والحقيقة لا بحسب الإضافة إلى شيء آخر، نحو: لا كاتب في المدينة إلا علي، إذا لم يكن غيره فيها من الكتاب. الباب السادس في القصر: علم المعانی ہم پڑھ رہے ہیں، اور شروع میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس علم کے اندر یہ بتلایا جائے گا کہ کلام کو مقتضائے حال کے مطابق کیسے کیا جائے گا، کیونکہ بلاغت کس چیز کا نام ہے کہ آپ کا کلام فصیح مقتضائے حال کے مطابق ہو، تو یہ آپ کا کلام کیا کہلائے گا؟ کلام بلیغ بھئی۔ تو کلام مقتضائے حال کے مطابق کیسے ہوگا یعنی جس چیز کا حال تقاضا کر رہا ہو اسی طرح کا کلام لانا، اسی طرح کا فصیح کلام لانا، یہ ہے بلاغت بھئی۔ تو اس علم میں یہ بیان ہوتا ہے کہ کس کہ آپ کا کلام مقتضائے حال کے مطابق کیسے ہوگا۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس علم میں آٹھ ابواب آئیں گے اور خاتمہ بھئی۔ تو اس میں آٹھ ابواب آئیں گے، تو یہ آج ہم چھٹا باب شروع کر رہے ہیں قصر کے بارے میں، "الباب السادس فی القصر"، چھٹا باب ہے قصر کے بارے میں۔ یہ بات پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں، یہ قصر اسی تخصیص کا نام ہے جو آپ پڑھ چکے ہیں، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا تین لفظ استعمال ہوتے ہیں، ایک تخصیص ہے، ایک قصر ہے، اور ایک حصر ہے، حا صاد را، حصر۔ تو تخصیص، قصر اور حصر کا ایک ہی معنی ہے، تینوں کا ایک معنی ہے، تخصیص، حصر اور قصر۔ تو تخصیص کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز میں بند کرنا، یہی معنی ہے قصر اور حصر کا بھی، ایک چیز کو دوسری چیز میں بند کرنا، یعنی ایک مذکور کے لیے ایک چیز ثابت ہے تو باقیوں سے اس کی نفی کر دینا اور اگر مذکور سے ایک چیز کی نفی ہے تو باقیوں کے لیے اس کا اثبات کرنا، یہ ہے قصر بھئی، یہ کیا ہے؟ قصر، اور اسی کا دوسرا نام حصر اور اسی کا تیسرا نام تخصیص بھئی۔ تو کہتے ہیں: "الباب السادس في القصر"، چھٹا باب ہے قصر کے بیان میں۔ "القصر تخصيص شيء بشيء بطريق مخصوص"، قصر جو ہے وہ تخصیص کرنا ہے ایک چیز کی دوسری چیز کے ساتھ بطریق مخصوص مخصوص طریقے کے ساتھ۔ قصر کہتے ہیں ایک چیز کی تخصیص کرنا دوسری چیز کے ساتھ، یعنی مذکور کے لیے ایک چیز ثابت کر دی ہے تو باقی سب سے اس کی کیا کر دی ہے؟ نفی کر دی۔ یا مذکور سے ایک چیز کی نفی کی ہے تو باقی سب کے لیے کیا کر دیا اس کا؟ اثبات، یہ ہے تخصیص بھئی۔ اور ہر تخصیص یہاں نہیں مراد، یہاں مخصوص طریقے سے جو تخصیص اور قصر ہوگا وہ مراد ہے۔ ایک ویسے آپ لفظوں کے اندر صراحۃً تخصیص کو لاتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں، مثلاً آپ کہتے ہیں کہ مثلاً کتابت، کتابت کا جو فن ہے وہ زید کے ساتھ خاص ہے۔ کتابت کا فن جو ہے یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ زید کے ساتھ خاص ہے۔ یہ تخصیص یہاں نہیں مراد، اس سے بحث نہیں کریں گے یہاں پر۔ یہ تو آپ لفظوں میں ہی صراحۃً بتلا رہے ہیں کہ یہ کتابت کے فن کی تخصیص ہے کس کے ساتھ؟ زید کے ساتھ۔ بلکہ یہاں مخصوص طریقے سے جو تخصیص آتی ہے وہ مراد ہے، مثلاً جیسے وہ خود آگے بیان کریں گے، ما اور الا کے ساتھ، ما اور الا، جیسے ما کاتب الا ما کاتب الا زید، کوئی کاتب نہیں ہے سوائے کس کے؟ زید کے، اب دیکھو تخصیص آ گئی، معلوم ہوا کتابت کس میں بند ہے؟ زید میں، صرف زید کاتب ہے اور کوئی کاتب نہیں۔ یہ مخصوص طریقے سے تخصیص آئی۔ اسی طرح تخصیص کبھی آتی ہے انما کے ذریعے، انما زید کاتب، زید کاتب ہی ہے، زید کاتب ہی ہے، تو دیکھیے آپ نے زید کو کتابت میں بند کر دیا، آگے تفصیل آ رہی ہے میں بیان کرتا ہوں بھئی، تو آپ نے زید کو کس میں بند کر دیا؟ کتابت میں بند کر دیا، معلوم ہوا وہ کتابت جانتا ہے، معلوم ہوا شاعری نہیں جانتا۔ سن، مخاطب کا کیا گمان تھا؟ اس کا کیا خیال تھا؟ کہ شاید زید شاعر بھی ہے اور کاتب بھی ہے، اور میں اس کو کہتا ہوں: انما زید کاتب، زید تو کاتب ہی ہے، تو اس کا خیال تھا زید شریک ہے دونوں صفتوں میں، کتابت میں بھی اور شاعری میں بھی، لیکن میں نے زید کو کس میں بند کر دیا؟ کتابت میں بند کر دیا، تو یہ دیکھو یہ تخصیص آئی اور کس کے ذریعے آئی؟ انما کے ذریعے آئی۔ تو یہ مخصوص طریقے سے جو تخصیص آئے وہ یہاں پر مراد ہے، ہر تخصیص مراد نہیں۔ اگر آپ صراحۃً لفظوں میں کہہ دیتے ہیں کہ کتابت کی تخصیص ہے زید کے ساتھ، اس سے یہ بحث نہیں کریں گے بھئی، اگرچہ اس سے بھی تخصیص کا پتہ چل رہا ہے کہ زید کی تخصیص ہے کس کے ساتھ؟ کتابت کے ساتھ، اس سے بھی تخصیص کا علم ہو رہا ہے لیکن اس سے یہ یہاں پر بحث نہیں کریں گے بلکہ کون سی تخصیص سے یہاں بحث کریں گے؟ جو مخصوص طریقے سے آئے جیسے ما اور الا کے ذریعے آئے یا انما کے ذریعے آئے یا اسی طرح تقدیم کی وجہ سے آئے وغیرہ جو آگے اسی باب میں وہ ذکر کریں گے، وہ مخصوص طریقوں سے جو تخصیص آئے وہ مراد ہے، اس سے یہاں بحث کریں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی لیے کہا: "القصر تخصيص شيء بشيء بطريق مخصوص"، قصر جو ہے وہ تخصیص کرنا ہے ایک چیز کی دوسری چیز کے ساتھ بطریق مخصوص مخصوص طریقے کے ساتھ۔ "وينقسم إلى حقيقي وإضافي"، اور یہ قصر جو ہے یہ تقسیم ہوتا ہے دو قسموں کی طرف، ایک ہے قصر حقیقی اور ایک ہے قصر اضافی، یہ معنی ہے: "وينقسم إلى حقيقي وإضافي"، اور یہ قصر تقسیم ہوتا ہے حقیقی اور اضافی کی طرف۔ "فالحقيقي ما كان الاختصاص فيه بحسب الواقع والحقيقة لا بحسب الإضافة إلى شيء آخر" بھئی دیکھیے! بعض اوقات ایک چیز کو دوسری چیز میں بند کیا جاتا ہے حقیقۃً اور واقعے کے اعتبار حقیقت اور واقعے کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ حقیقت اور واقعے کے اعتبار سے، اس کو کہیں گے قصر حقیقی۔ اور بعض اوقات حقیقت اور واقعے کے اعتبار سے ایک چیز کو دوسری چیز میں بند نہیں کیا جاتا بلکہ کسی معین چیز کے مقابلے میں ایک چیز کو دوسری میں بند کیا جاتا ہے، اس کو کہیں گے قصر اضافی۔ مثال سے وضاحت ہوگی۔ مثلاً بھئی، مثلاً فرض کریں صورت یہ ہے کہ شہر میں صرف علی کاتب ہے، فرض کر لیں ایک صورت یہ ہے کہ پورے شہر میں کاتب صرف کون ہے؟ علی ہے، اور کوئی ہے ہی نہیں شہر میں کاتب، تو اب میں کہتا ہوں: "لا كاتب في المدينة إلا علي"، "لا كاتب في المدينة"، کوئی کاتب نہیں ہے اس شہر کے اندر، "إلا علي"، سوائے علی کے، معلوم ہوا صرف علی کاتب ہے اور کوئی کاتب نہیں، تو دیکھو تخصیص آ گئی، قصر آ گیا، کیا آ گیا؟ قصر آ گیا۔ اور یہ قصر حقیقی ہے کیونکہ حقیقت اور واقعے کے مطابق ہے یہ بات، واقعے اور حقیقت کے اندر بھی شہر میں اور کوئی کاتب نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس کو کیا کہیں گے؟ قصر حقیقی، جو جس میں ایک چیز کو دوسری چیز میں بند کر دیا گیا اور واقعے اور حقیقت کے اعتبار سے۔ اچھا چلیے، پہلے ایک اور بات بھی یہاں سمجھ لیں۔ بھئی یہ قصر جو ہے یہ دو قسم کا ہے۔ کبھی قصر صفت علی الموصوف ہوگا، صفت کو موصوف میں بند کر دیتے ہیں، کبھی قصر موصوف علی الصفت ہوگا، موصوف کو بند کریں گے کس کے اندر؟ صفت کے اندر۔ اور صفت سے مراد وہ صفت نہیں ہے جو آپ نے نحو میں پڑھی ہے کہ صفت وہ ہوتی ہے جو موصوف کے بعد آتی ہے اور اس پر وہی اعراب ہوتا ہے جو موصوف کا ہوتا ہے اور موصوف اگر معرفہ ہو تو صفت بھی کیا ہوتی ہے؟ معرفہ وغیرہ بھئی، وہ صفت نحوی صفت مراد نہیں ہے بلکہ صفت سے مراد ہے وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو۔ وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو یعنی جس کا الگ اپنا وجود نہیں، جس کا الگ اپنا وجود نہیں۔ تو صفت سے وہ مراد ہے، اب چاہے یہ صفت جو ہے چاہے یہ حال کی صورت میں ذکر ہو، چاہے یہ خبر کی صورت میں ذکر ہو، چاہے وہ نحوی صفت کے صورت میں ذکر ہو، جس طریقے سے بھی ہو، ہر حال میں یہ صفت کہلائے گی۔ مثلاً دیکھیے بھئی، "زيد القائم"، زید موصوف، القائم صفت، بھئی یہ قیام کس کے ساتھ ہے؟ زید کے ساتھ، تو یہ بھی صفت ہے اور یہ نحوی صفت بھی ہے اور یہاں جو ہم صفت ذکر کر رہے ہیں وہ صفت بھی ہے یعنی وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہے۔ یہ قیام اس کا الگ کوئی اپنا وجود ہے؟ نہیں، بلکہ یہ کس کے ساتھ ہے؟ زید کے ساتھ، زید ہے تو یہ والا قیام ہے، زید نہیں تو یہ والے قیام کا الگ اپنا کوئی وجود بھی نہیں۔ بھئی یہ کتاب ہے، یہ دیوار ہے، یہ کھڑکی ہے، اس کا اپنا الگ وجود ہے، لیکن بعض چیزیں ہوتی ہیں ان کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا، وہ غیر کے ساتھ قائم ہوتی ہیں، وہ غیر ہے تو اس چیز کا وجود ہے، وہ غیر نہیں تو اس کا اپنا الگ کوئی وجود بھی نہیں۔ جیسے دیکھیے قیام، قیام الگ اس کے یہ صفت ہے، یہ غیر کے ساتھ قائم ہوتی ہے، اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ سخاوت ہے، سخاوت، سخاوت کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں، آپ نے کہیں سخاوت کا وجود نہیں دیکھا ہوگا، یہ جب بھی پائی جائے گی کس کے ساتھ ہوگی؟ کسی کے ساتھ قائم ہوگی، کسی کا وصف ہوگا یہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے صفت سے مراد یہ ہے بھئی، وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، غیر کے ساتھ۔ تو جیسے یہ صفت کی صورت میں بھی آ سکتی ہے، "زيد القائم"، زید موصوف، القائم اس کی صفت اور یہ قیام کس کے ساتھ قائم ہے؟ زید کے ساتھ، تو یہ صفت ہوئی۔ اسی طرح "زيد قائم"، زید مبتدا، قائم اس کی خبر، اور یہ بتائیے "زيد قائم"، اس میں کیا بتلایا گیا؟ یہ قیام کس کے ساتھ ثابت ہے؟ زید، تو یہ بھی اگرچہ خبر ہے لیکن ہم یوں کہیں گے یہ زید قیام زید کی صفت ہے۔ یہ قیام کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ، تو یہ زید کی صفت ہے، اگرچہ جملے میں یہ صفت نہیں بن رہی بلکہ جملے میں تو یہ کیا بن رہا ہے؟ خبر ہے، زید مبتدا، قائم اس کی خبر۔ اور اسی طرح کبھی حال کی صورت میں آئے گا مثلاً، "ضربت زيدا قائما"، میں نے زید کی پٹائی کی اس حال میں کہ وہ کھڑا تھا، تو اب دیکھیے یہ قائماً یہ زید سے حال واقع ہو رہا ہے لیکن یہ قیام کس کے ساتھ قائم ہے؟ زید کے ساتھ، تو یوں کہیں گے یہ زید کی صفت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صفت سے یہاں نحوی صفت نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، چاہے وہ صفت کی صورت میں آئے، چاہے وہ خبر کی صورت میں آئے، چاہے وہ حال وغیرہ کی صورت، جس صورت میں بھی آ جائے لیکن جس کے ساتھ قائم ہے کہیں گے یہ اس کے اس کی صفت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھیے، کبھی کبھار صفت کو موصوف میں بند کرتے ہیں، کبھی موصوف کو صفت میں بند کرتے ہیں۔ میں نے کہا: "لا كاتب في المدينة إلا علي"، کوئی کاتب نہیں ہے اس شہر میں سوائے علی کے، سوائے علی کے۔ میں نے کس کو کس میں بند کیا؟ میں نے بتلایا ابھی، کبھی صفت کو موصوف میں بند کر دیتے ہیں، کبھی موصوف کو کس میں بند کرتے ہیں؟ صفت میں، ابھی مثالیں آ رہی ہیں، خوب وضاحت ہو جائے گی۔ یہاں مجھے بتائیے: "لا كاتب في المدينة"، کوئی کاتب نہیں ہے اس شہر میں، "إلا علي"، سوائے علی کے، کس کو کس میں بند کیا یہاں پر؟ جی؟ "لا كاتب"، کوئی کاتب نہیں ہے، معلوم ہوا میں نے کتابت کو بند کر دیا، کس میں؟ علی میں، کہ کتابت صرف علی کے ساتھ ہی خاص ہے اور کسی میں یہ صفت پائی ہی نہیں جاتی۔ تو دیکھو یہ ہے قصر صفت علی الموصوف، اس صفت کو میں نے بند کر دیا کس کے اندر؟ موصوف میں، یعنی یہ کتابت کی صفت صرف اس موصوف میں پائی جا رہی ہے اور کسی موصوف میں اور کوئی اس کے ساتھ موصوف نہیں ہو رہا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ کیا ہے؟ قصر صفت علی الموصوف۔ اور کبھی قصر موصوف علی الصفت ہوتا ہے، موصوف کو صفت میں بند کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً آپ کا خیال یہ تھا کہ علی شاعر بھی ہے اور کاتب بھی ہے، آپ کا کیا خیال تھا؟ علی شاعر بھی ہے، کاتب بھی ہے، اب میں آپ سے کہتا ہوں: "ما علي إلا كاتب"، نہیں ہے علی مگر کاتب ہی، یعنی علی تو صرف کاتب ہی ہے، یعنی شاعر نہیں۔ تو میں نے علی کو بند کر دیا صفت کتابت کے اندر، آپ کا خیال تھا وہ کتابت میں بھی اور شریک ہے اور ساتھ ساتھ شاعری میں بھی شریک ہے، شاعر بھی ہے، لیکن میں نے علی کو کس میں بند کر دیا؟ کتابت کے وصف میں بند کر دیا، تو یہ ہے قصر موصوف علی الصفت، یہ کیا ہے؟ قصر موصوف علی الصفت۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ تو کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ موصوف کو کس میں بند کرتے ہیں؟ صفت میں، یہ کیا کہلاتا ہے؟ قصر موصوف علی الصفت۔ اور کبھی کبھار صفت کو بند کر دیتے ہیں کس میں؟ موصوف میں، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ قصر صفت علی الموصوف۔ پھر یہ دونوں دو قسم پر ہیں، چاہے قصر صفت علی الموصوف ہو یا قصر موصوف علی الصفت ہو، دونوں دو قسم پر ہیں، یا یہ قصر حقیقی ہوگا یا اضافی ہوگا۔ حقیقی کا معنی کیا؟ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے جو حقیقتاً ایسا ہو، حقیقتاً اور واقعے میں ایسا ہو، جیسے ابھی آیا: "لا كاتب في المدينة إلا علي"، کوئی کاتب نہیں اس شہر میں سوائے علی کے، اور فرض کریں واقعے میں بھی ایسا ہے، واقعے اور حقیقت کے اندر بھی، واقعے میں بھی ایسا ہے، کوئی کاتب نہیں ہے اس شہر میں، اس بستی کے اندر، تو اس کو کہیں گے قصر حقیقی۔ اور یہ کون سا قصر ہے؟ قصر صفت علی الموصوف ہے یا قصر موصوف علی الصفت ہے؟ کس کو کس میں بند کر رہے ہیں؟ صفت کتابت کو ہم بند کر رہے ہیں کس کے اندر؟ علی میں، تو یہ قصر صفت علی الموصوف ہے، اور کون سا قصر ہے؟ حقیقی یا اضافی؟ حقیقی ہے جس میں واقعے اور حقیقت میں ہی ایسا ہوتا ہے۔ اور ایک ہے قصر اضافی، قصر اضافی وہ ہے جس میں کسی معین چیز کے نسبت سے اختصاص کو بیان کیا جاتا ہے، کس اعتبار سے؟ بھئی قصر حقیقی میں اختصاص بیان ہوتا ہے لیکن واقعے اور حقیقت کے اعتبار سے، واقعے اور حقیقت میں اختصاص ہوتا ہے جیسے: "لا كاتب في المدينة إلا علي"، کوئی کاتب نہیں اس شہر میں سوائے علی کے، یہ اختصاص کس اعتبار سے ہے؟ حقیقت اور واقعے کے اعتبار سے کہ واقعے میں یہ صفت خاص ہے کس کے ساتھ؟ علی کے ساتھ۔ اور بعض اوقات جو ہے واقعے اور حقیقت کے اعتبار سے اختصاص نہیں بیان کیا جاتا، کسی معین چیز کی نسبت سے اختصاص بیان کیا جاتا ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کسی معین چیز کی نسبت سے اختصاص بیان کیا جاتا ہے، جیسے دیکھیے، ابھی آپ کا خیال تھا کہ علی شاعر بھی ہے اور کاتب بھی ہے، تو میں نے کیا کہا: "ما علي إلا كاتب"، علی تو صرف کیا ہے؟ کاتب ہی ہے، تو علی کو میں نے بند کر دیا کتابت کے وصف میں کہ اس کے لیے صرف یہ والا وصف ثابت ہے اور باقی دوسرے وصف کی نفی کی، تو دوسرے کس وصف کی نفی کی؟ شاعری کی، تو شاعری کے مقابلے میں میں نے علی کو کتابت میں بند کیا ہے، دنیا بھر کے اوصاف کے مقابلے میں بند نہیں کیا۔ قصر اضافی سمجھ میں آ رہا ہے؟ جس میں قصر یعنی اختصاص بیان ہوتا ہے، تخصیص بیان ہوتی ہے لیکن تخصیص واقعے اور حقیقت کے اعتبار سے نہیں بلکہ ایک معین چیز کی نسبت سے وہ قصر ہوتا ہے۔ تو یہاں بھی میں نے علی کو بند کیا: "ما علي إلا كاتب"، علی نہیں ہے مگر صرف کاتب یعنی علی تو کاتب ہی ہے، تو میں نے علی کو کس میں بند کیا؟ کتابت کے وصف میں، اور باقی وصف دنیا بھر کے اوصاف کی نفی کی یا صرف شاعری کی نفی کی؟ صرف شاعری کی، تو صرف شاعری کے مقابلے میں میں نے علی کو کتابت میں بند کیا ہے، دنیا بھر کے اوصاف کے مقابلے میں بند نہیں کیا، کیونکہ دنیا بھر کے اوصاف کے مقابلے میں تو بند کرنا درست ہی نہیں ہے۔ بھئی علی، میں نے کیا کہا، علی صرف کاتب ہی ہے، بھئی کیا وہ انسان نہیں؟ انسان بھی ہے۔ کیا وہ حرکت نہیں کرتا؟ حرکت بھی کرتا ہے۔ کیا وہ کھاتا یا پیتا نہیں ہے؟ وہ کھاتا اور پیتا بھی ہے۔ تو یہ سارے بھی تو اس کے اوصاف ہیں، تو حقیقت کے اعتبار سے تو علی کو صرف کتابت میں ہم بند کر ہی نہیں سکتے، اس کی صرف کتابت اس کا وصف نہیں ہے، اس کے اور بھی بہت سارے اوصاف ہیں۔ ہاں، صرف ایک خاص صفت کے مقابلے میں ہم اس کو بند کر سکتے ہیں، مثلاً یہاں علی کو میں نے کتابت میں بند کیا، اور کس صفت کے مقابلے میں؟ شاعری کے مقابلے میں بند کیا، پھر تو بات ٹھیک ہے کہ علی صرف کاتب ہی ہے یعنی شاعر نہیں، لیکن اگر آپ یہ کہیں علی تو صرف کاتب ہی ہے اور یعنی دنیا بھر کا اور کوئی وصف اس کے لیے ثابت نہیں ہے، پھر تو آپ کا کلام ہی صحیح نہیں رہتا بھئی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے اس کے لیے اور کوئی وصف نہ ہو؟ کم از کم اس کا وجود تو ہے، وجود کی صفت ہوگئی یا نہیں؟ وجود بھی اس کا صفت، انسان ہونا بھی اس کی صفت، کھانا، پینا، چلنا، اٹھنا، سونا، جاگنا سارے ہزارہا اوصاف ہیں اس کے لیے، تو پھر تو آپ کا قصر درست ہی نہ رہے گا۔ تو لہٰذا یہ ہے قصر اضافی۔ اضافت سے ہے یہ لفظ، اضافت کا معنی ہوتا ہے نسبت کرنا، اضافت کا کیا معنی؟ نسبت، تو یہاں بھی جو آپ نے تخصیص کی، جو آپ نے قصر کیا، وہ قصر دنیا بھر کے اوصاف کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ کسی مخصوص صفت کی نسبت سے ہے۔ کسی مخصوص صفت کی نسبت سے آپ نے قصر کیا ہے کہ یعنی وہ صرف کاتب ہے یعنی کیا نہیں ہے؟ شاعر نہیں ہے، تو شاعری کی نسبت سے آپ نے اس کا قصر کیا ہے اس کے اندر۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو قصر حقیقی میں کیا ہوتا ہے؟ حقیقتاً ایک چیز کو دوسری چیز میں کیا کر دیا جاتا ہے؟ بند کر دیا جاتا ہے، اور تو جب ایک چیز کو دوسری میں بند کیا تو باقی سب سے اس کی نفی کر دی جاتی ہے، جیسے: "ما كاتب في المدينة إلا علي"، کوئی کاتب نہیں ہے اس شہر میں سوائے علی کے، تو میں نے کتابت کو کس میں بند کیا؟ علی میں، معلوم ہوا اس پورے شہر میں اور کوئی کاتب نہیں، سب سے میں نے کتابت کی کیا کر دی؟ نفی کر دی۔ جبکہ دوسری طرف میں کہتا ہوں: "ما علي إلا كاتب"، تو میں نے علی کو کس میں بند کیا؟ کتابت میں، اور یہ دنیا بھر کے اوصاف کے مقابلے میں میں نے بند کیا یا صرف شاعری کے مقابلے میں بند کیا؟ تو یہ قصر اضافی کہلائے گا جس میں واقعے اور حقیقت کے اعتبار سے نہیں کیونکہ واقعے میں تو اور بھی بہت سے اس کے اوصاف ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فالحقيقي ما كان الاختصاص فيه بحسب الواقع والحقيقة لا بحسب الإضافة إلى شيء آخر"، تو حقیقی وہ ہے، حقیقی قصر وہ ہے کہ جس کے اندر اختصاص "بحسب الواقع والحقيقة"، جس میں اختصاص کس اعتبار سے ہوتا ہے؟ واقعے اور حقیقت کے اعتبار سے ہوتا ہے، "لا بحسب الإضافة إلى شيء آخر"، کسی دوسری چیز کی نسبت کے اعتبار سے نہیں ہوتا قصر وہاں، "نحو" مثال کے طور پر: "لا كاتب في المدينة إلا علي"، کوئی کاتب نہیں ہے اس شہر میں سوائے علی کے، "إذا لم يكن غيره فيها من الكتاب"، کتاب یہ جمع ہے کاتب کی، کتاب کس کی جمع؟ کاتب کی، جبکہ نہ ہو کوئی اور اس شہر میں کاتبوں میں سے، جب اس شہر میں اور کاتبوں میں سے کوئی بھی کاتب نہ ہو۔ "والإضافي ما كان الاختصاص فيه بحسب الإضافة إلى شيء معين"، اور قصر اضافی جو ہے، "ما كان الاختصاص فيه بحسب الإضافة إلى شيء معين"، جس کے اندر اختصاص جو ہے "بحسب الإضافة إلى شيء معين"، کسی معین چیز کی نسبت کے اعتبار سے ہوتا ہے، کسی معین چیز کی نسبت سے قصر ہوتا ہے، واقعے اور حقیقت کے اعتبار سے قصر نہیں ہوتا، "نحو" مثال کے طور پر: "ما علي إلا قائم"، کہ نہیں ہے علی مگر قائم ہی، علی نہیں ہے مگر قائم ہی ہے یعنی اس کے لیے قیام ہی ثابت ہے۔ مثلاً سننے والے کا یہ خیال تھا کہ علی کے لیے قیام اور قعود یعنی بیٹھنا، ان دونوں میں سے کوئی ایک وصف ثابت ہے لیکن اس کو پتہ نہیں تھا کہ کون سا وصف ثابت ہے، کون سا؟ تعین نہیں تھی، تو میں تعین کر دیتا ہوں تخصیص کرتے ہوئے: "ما علي إلا قائم"، علی تو کھڑا ہی ہے یعنی اس کے لیے بیٹھنے کی صفت نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ تو یہ جو میں نے کہا علی نہیں ہے مگر قائم ہی، یعنی علی کو میں نے کس میں بند کر دیا؟ قیام میں، یہ دنیا بھر کے اوصاف کے مقابلے میں یا صرف قعود یعنی بیٹھنے کے مقابلے میں بند کیا ہے؟ صرف بیٹھنے کے مقابلے میں بند کیا ہے، دنیا بھر کے اوصاف کے مقابلے میں نہیں۔ کیونکہ اگر دنیا بھر کے اوصاف کے مقابلے میں بند کیا ہوتا تو معنی یہ ہوتا: علی کے لیے صرف قیام ثابت ہے اور باقی دنیا بھر کے اوصاف کی اس سے کیا ہو جاتی؟ نفی ہو جاتی، کیونکہ تخصیص کس چیز کا نام ہے؟ ایک چیز ثابت ہے تو باقی سب چیزوں کی نفی ہے، تو یہ تو پھر درست ہی نہ رہتا بھئی۔ تو جیسے: "ما علي إلا قائم"، نہیں ہے علی مگر قائم ہی، "أي إن له صفة القيام لا صفة القعود"، یعنی اس کے لیے قیام کی صفت ہے، "لا صفة القعود"، بیٹھنے کی صفت نہیں ہے۔ "وليس الغرض نفي جميع الصفات عنه ما عدا صفة القيام"، اور یہ غرض نہیں ہے کہ اس سے تمام صفات کی نفی ہے "ما عدا صفة القيام"، صفت قیام کے علاوہ۔ تو یہ غرض یہاں نہیں ہے کہ اس کے لیے صرف صفت قیام ثابت ہے اور باقی تمام صفات کی اس سے نفی ہے ورنہ تو پھر معنی ہی درست نہیں رہتا۔ کہتے ہیں: "وليس الغرض نفي جميع الصفات عنه ما عدا صفة القيام"، اور یہ غرض نہیں ہے کہ اس سے تمام صفات کی نفی ہے سوائے صفت قیام کے، یہ غرض یہاں نہیں ہے۔ "وكل منهما ينقسم إلى قصر صفة على موصوف"، اور ان دونوں میں سے ہر ایک، کن دونوں میں سے؟ قصر حقیقی اور قصر اضافی، ان دونوں میں سے ہر ایک تقسیم ہوتا ہے "إلى قصر صفة على موصوف"، کس چیز کی طرف؟ قصر صفت علی الموصوف، جس میں صفت کو بند کیا جاتا ہے کس پر؟ موصوف پر، آگے دو لفظوں کے بعد آ رہا ہے: "وقصر موصوف على صفة"، اور قصر موصوف علی یعنی دونوں کی دو دو قسمیں ہیں، ایک ہے قصر صفت علی الموصوف اور ایک ہے قصر موصوف علی الصفت۔ درمیان میں مثال بھی ذکر کر دی، قصر صفت علی الموصوف کی مثال، "نحو" مثال کے طور پر: "لا فارس إلا علي"، فارس کہتے ہیں گھڑ سوار کو، شہ سوار کو بھئی، کوئی گھڑ سوار نہیں ہے سوائے علی کے، کوئی شہ سوار نہیں ہے مگر علی۔ اب مجھے بتائیے، میں نے علی کو گھڑ سواری میں بند کیا یا گھڑ سواری کو علی میں بند کر دیا؟ گھڑ سواری کو علی میں، کہ کوئی گھڑ سوار نہیں، کوئی شہ سوار نہیں سوائے کس کے؟ علی، یعنی صرف وہی شہ سوار ہے۔ تو میں نے شہ سواری کو کس میں بند کر دیا؟ علی میں، تو یہ صفت کو کس میں بند کر رہا ہوں؟ کیونکہ گھڑ سواری تو صفت ہے، تو یہ صفت کو میں بند کر رہا ہوں موصوف یعنی علی کے اندر۔ "وقصر موصوف على صفة"، اور کس کی طرف تقسیم ہوتے ہیں؟ ایک تو قصر صفت علی الموصوف تھا اور دوسرا ہے قصر موصوف علی الصفت، "نحو" مثال کے طور پر: "وما محمد إلا رسول"، صلی اللہ علیہ وسلم، "فيجوز عليه الموت"، تو ان پر موت جائز ہے۔ تو یہ قصر موصوف علی الصفت ہے، "وما محمد إلا رسول"، اور نہیں ہے محمد مگر رسول، یعنی محمد تو رسول ہی ہیں۔ بھئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اتنی محبت تھی، اتنی محبت تھی کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ حضور علیہ السلام کی خاطر انہوں نے اپنی جائیدادوں کو چھوڑ دیا، وطن کو چھوڑ دیا، رشتہ داروں کو چھوڑ دیا، بہن بھئیوں کو چھوڑ دیا، والدین کو چھوڑ دیا، تو انہوں نے حضور علیہ السلام کی خاطر ان کی محبت میں ہر چیز کو ٹھکرا دیا، وطن کو چھوڑ دیا، مال و دولت کو دھتکار دیا، رشتہ داروں، بہن بھئیوں، والدین وغیرہ سب کو ٹھکرا دیا، اور تو ایسی محبت تھی حضور علیہ السلام کے ساتھ۔ اور اتنی محبت تھی کہ ان کا خیال تھا کہ حضور علیہ السلام جیسے اللہ کے پیغمبر ہیں، اسی طرح ان پر موت بھی نہیں آ سکتی، یہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے، کیونکہ ان کے بغیر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر تو وہ زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے بھئی، اتنی محبت تھی بھئی۔ تو ان کا کیا خیال تھا کہ یہ اللہ کے پیغمبر بھی ہیں اور ساتھ ساتھ ان پر موت بھی کبھی نہیں آ سکتی، یہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے اسی طرح بھئی، اسی طرح۔ تو اس کی قرآن میں نفی کر دی گئی اور بتلا دیا گیا: "وما محمد إلا رسول"، کہ محمد تو رسول ہی ہیں، تمہارا یہ خیال ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے صفت رسالت کے ساتھ ساتھ موت سے چھٹکارے کی بھی صفت ثابت ہے، موت موت سے یعنی ان کے لیے موت نہیں، تو یہ رسول بھی ہیں اور ان کے لیے موت سے چھٹکارا اور موت سے خلاصی بھی ہے کہ ان پر کبھی موت نہیں آئے گی، تو اس دیکھو اس کی نفی کر دی گئی اور بتلا دیا گیا کہ محمد تو رسول ہی ہیں، تو دیکھو کس کو کس میں بند کیا جا رہا ہے؟ موصوف کو صفت میں بند کیا جا رہا ہے، یہ قصر موصوف علی الصفت کی مثال ذکر ہو رہی ہے۔ موصوف یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بند کر دیا گیا کس صفت میں؟ صفت رسالت میں، کہ ان کے لیے صرف رسالت کی صفت ہے اور باقی دنیا بھر کی صفات کی نفی نہیں کی گئی بلکہ صرف کس صفت کی نفی کی گئی؟ موت سے خلاصی کی، کہ موت سے چھٹکارا نہیں، موت ان پر بھی آئے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے کہ موصوف کو بند کیا گیا صفت میں۔ اور مجھے یہ بتائیے، یہ قصر حقیقی ہے یا قصر اضافی ہے؟ حقیقی نہیں، کیونکہ اگر حقیقی ہو تو معنی یہ ہے: ان کے لیے رسالت کی صفت ہے اور دنیا بھر کی کوئی صفت ان کے لیے ثابت نہیں، حالانکہ یہ تو یہاں مراد نہیں۔ پھر تو بات ہی ٹھیک نہیں بنتی، بلکہ یہاں جو رسالت میں بند کیا گیا یہ کس کی نسبت سے ہے؟ موت کے نہ آنے کی نسبت سے بند کیا گیا کہ موت کے نہ آنے کی صفت نہیں ہے ان کے لیے بلکہ صرف کون سی ہے؟ رسالت والی صفت ہے، تو یہ قصر اضافی ہے بھئی اور قصر موصوف علی الصفت ہے۔ یہ معنی ہے: "وما محمد إلا رسول"، اور نہیں ہے محمد مگر پیغمبر، "فيجوز عليه الموت"، تو ان پر موت جائز ہے یعنی موت ان پر آ سکتی ہے۔ "والقصر الإضافي ينقسم باعتبار حال المخاطب إلى ثلاثة أقسام"، اور قصر اضافی یہ تقسیم ہوتا ہے مخاطب کے حال کے اعتبار سے تین قسموں کی طرف۔ کون سا قصر؟ قصر اضافی، قصر اضافی۔ قصر اضافی یہ اس کی تین قسمیں ہیں اور یہ تین قسمیں ہیں مخاطب کے حال کے اعتبار سے، جس سے یعنی بات کی جا رہی ہے اس کی حالت کے اعتبار سے۔ قصر اضافی کی کتنی قسمیں؟ تین قسمیں: ایک کو کہتے ہیں قصر افراد، ایک ہے قصر قلب، اور ایک ہے قصر تعین بھئی۔ قصر افراد، قصر قلب اور قصر تعین۔ دیکھو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، افراد کا معنی الگ کرنا، جدا کرنا، اور قلب کا معنی، قاف دو نقطوں والا، قاف لام با، قلب، قلب کا معنی الٹا دینا، پلٹ دینا، اور تعین کا کیا معنی ہے؟ تعین کرنا، متعین کر دینا۔ تو قصر اضافی مخاطب کے احوال کے اعتبار سے تین قسم پر ہے: قصر افراد، قصر قلب اور قصر تعین۔ مثلاً بھئی، میرے سامنے ایک شخص ہے اس کا خیال ہے کہ علی جو ہے علی وہ کاتب بھی ہے اور شاعر بھی ہے، اس کا یہ اعتقاد ہے، جو میرا مخاطب ہے، جو میرا مخاطب ہے جس سے میں بات کرنا چاہتا ہوں اس کا خیال ہے کہ علی کاتب بھی ہے اور شاعر بھی ہے، تو میں اب اس کے سامنے کہتا ہوں: "ما علي إلا كاتب"، علی تو کاتب ہی ہے، دیکھو علی تو کاتب ہی ہے، دیکھو لفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ میں علی کو بند کر رہا ہوں کس کے اندر؟ کتابت کے اندر، یعنی علی کاتب ہے تو میں نے کس چیز کی نفی کی؟ شاعر ہونے کی، تو اس کا خیال کیا تھا؟ کہ وہ شاعر بھی ہے اور کاتب بھی ہے یعنی علی شریک ہے دونوں صفتوں میں، میں نے علی کو جدا کر دیا کہ اس کے لیے صرف کون سی صفت ہے؟ کتابت کی صفت ہے، اس کی شاعری کی صفت میں شرکت نہیں ہے بلکہ کون سی صرف کہ علی کے لیے صرف کون سی صفت ہے؟ کتابت والی صفت ہے، اس کے لیے شاعری کی صفت میں شرکت نہیں۔ تو یعنی جہاں مخاطب کا اعتقاد شرکت کا ہو وہاں جو قصر کیا جائے گا اسے قصر افراد کہتے ہیں۔ دیکھو میں نے جب کہا: "ما علي إلا كاتب"، میں نے کس چیز کی نفی کی؟ یعنی شرکت کی نفی کی، کس چیز کی نفی کی؟ تو جہاں شرکت کی جہاں مخاطب کا حال یہ تھا کہ اس کا اعتقاد شرکت کا تھا تو وہاں پر جو قصر اضافی آئے گا اس قصر اضافی کو کیا کہیں گے؟ قصر افراد۔ تو میں نے ایک وصف کو جدا کر دیا کہ صرف یہ والا وصف ہے علی کے لیے، دوسرا والا وصف نہیں، تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ قصر افراد بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: "والقصر الإضافي ينقسم باعتبار حال المخاطب إلى ثلاثة أقسام"، اور قصر اضافی تقسیم ہوتا ہے مخاطب کے حال کے اعتبار سے تین اقسام کی طرف، "قصر إفراد"۔ یاد رکھیے یہاں تین طرح اعراب پڑھ سکتے ہیں: "قصرُ إفراد"، را پر پیش بھی پڑھ سکتے ہیں، "قصرَ إفراد"، را پر زبر بھی پڑھ سکتے ہیں اور "قصرِ إفراد"، را پر کسرہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ تو یہاں پر رفع، نصب، رفع، نصب، جر تینوں پڑھ سکتے ہیں، تین اعراب۔ کس اعتبار سے بھئی؟ ترکیب کیا ہوگی؟ تو یاد رکھیے، اگر آپ اس پر پڑھتے ہیں جر، "قصرِ إفراد"، تو اس صورت میں آپ اس کو بدل بنا رہے ہیں کس سے؟ "إلى ثلاثة أقسام" سے، تین قسمیں ہیں، وہ تین قسمیں کون سی ہیں؟ قصر افراد، و قصر قلب، و قصر تعین، تو یہ تینوں مل کر بدل بن رہے ہیں ثلاثۃ اقسام سے۔ یہ تینوں مل کر، بھئی ثلاثۃ اقسام یہی تین چیزیں ہیں نا، تو یہ کیا ہے؟ بدل الکل ہوا، کیا ہوا؟ بدل الکل، تین اقسام وہی یہ وہ یہی تین ہیں۔ تو یہ بدل ہوا اور آپ نے پڑھا ہے مبدل منہ اور بدل کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو ثلاثۃ اقسام وہ مجرور تھا تو قصر افراد و قصر قلب و قصر تعین یہ بھی کیا ہوں گے؟ مجرور ہوں گے بھئی، مجرور۔ دوسری صورت کہ آپ اس پر نصب پڑھتے ہیں، "قصرَ إفراد وقصرَ قلب وقصرَ تعيين"، اس صورت میں نصب جو پڑھنے کی وجہ یہ کہ آپ نے اس کو مفعول بنایا اعنی فعل کے لیے۔ اعنی متکلم کا صیغہ ہے، یعنی میری مراد یہ ہے کہ یہ تقسیم یہ تقسیم ہوتا ہے تین قسموں کی طرف، اعنی قصر افراد، میری مراد کیا ہے؟ قصر افراد و قصر قلب و قصر تعین، تو یہ اعنی فعل کے لیے مفعول بنیں گے جب منصوب ہونے کی صورت میں۔ اور اس پر آپ رفع بھی پڑھ سکتے ہیں: "قصرُ إفراد"، اور جب رفع پڑھیں گے پھر یاد رکھیے اس صورت میں یہ خبر واقع ہوں گے اور مبتدا ان کا محذوف ہوگا تو یہ خبر بنیں گے، اور خبر پر کون سا اعراب پڑھتے ہیں؟ رفع پڑھتے ہیں، تو مبتدا کیا ہوگا پہلے کے لیے؟ احدہا قصر افراد، ان کی تین قسمیں ہیں، ان تین میں سے ایک قسم کیا ہے؟ قصر افراد، و ثانيها قصر قلب، وثالثها قصر تعيين، تو تینوں کے لیے الگ الگ الگ الگ مبتدا نکال لیں گے۔ تو کہتے ہیں یہ تقسیم ہوتا ہے مخاطب کے حال کے اعتبار سے تین اقسام کی طرف: "قصر إفراد إذا اعتقد المخاطب الشركة"، ایک قصر افراد ہے جب مخاطب کا اعتقاد کس چیز کا ہو؟ شرکت کا ہو۔ "وقصر قلب إذا اعتقد العكس"، اور قصر قلب ہے جب کہ مخاطب کا اعتقاد اس کا عکس ہو، برعکس ہو یعنی اس کا الٹ ہو۔ مثلاً دیکھیے، میرے سامنے ایک مخاطب ہے، میں اس سے بات کر رہا ہوں، اس کا خیال ہے کہ علی صرف شاعر ہے، تو میں اسے کہتا ہوں: "ما علي إلا كاتب"، علی تو کاتب ہی ہے، تو اس کا خیال اس کا الٹ تھا، اس کا کیا خیال تھا؟ علی صرف شاعر ہے، میں نے بتلایا نہیں، علی صرف کاتب ہے، تو مخاطب کا حال کیا تھا؟ اعتقاد اس کے برعکس تھا، تو میں نے اس کے اس کا خیال تھا کہ علی بند ہے صفت شاعری میں، میں نے اس جو حکم اس کے ذہن میں تھا میں نے اس کو الٹ دیا کہ نہیں، علی شاعری میں نہیں بند بلکہ علی کتابت میں بند ہے۔ تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ قصر قلب، قلب کا معنی بھی الٹنا، تو میں نے اس کے حکم کو الٹ دیا۔ یہ معنی ہے: "وقصر قلب إذا اعتقد العكس"، اور قصر قلب ہے جب مخاطب کا اعتقاد کیا ہو؟ اس بر اس کے برعکس ہو۔ "وقصر تعيين"، اور تیسری قسم کیا ہے؟ قصر تعین، "إذا اعتقد واحدا غير معين"، جب کہ مخاطب کا اعتقاد کسی ایک غیر معین کا ہو۔ بھئی میرے سامنے ایک مخاطب ہے، اس کا خیال ہے کہ علی کے لیے شاعری یا کتابت دونوں میں سے ایک وصف ثابت ہے، لیکن کون سا وصف ہے یہ اس کے اسے پتہ نہیں تھا، یہ متعین نہیں تھا۔ یہ تو اعتقاد اس کا ٹھیک تھا کہ دونوں میں سے کیا ہے؟ ایک ہے، لیکن کون سا ہے، وہ صرف شاعر ہے یا صرف کاتب ہے؟ یہ اس کو پتہ نہیں تھا کہ ان میں سے کون سا والا ہے بھئی۔ تو اب میں اس کی تعین کرتا ہوں اور یوں کہتا ہوں: "ما علي إلا كاتب"، کہ ان دونوں میں سے کون سے وصف میں علی بند ہے؟ کتابت کے اندر بند ہے، تو یہ اب قصر تعین ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قصر افراد جس میں مخاطب کا اعتقاد کیا ہوتا ہے؟ شرکت کا ہے تو آپ اس اس کو الگ کر دیتے ہیں، شرکت کو ختم کر دیتے ہیں تو وہ قصر افراد کہلاتا ہے۔ قصر قلب جس میں مخاطب کا اعتقاد اس کے برعکس ہوتا ہے تو آپ اس کے اعتقاد کو الٹ دیتے ہیں کہ اس طرح یعنی اس کے اعتقاد میں جو حکم ہے اس کو آپ کیا کر دیتے ہیں؟ الٹ دیتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ایسا ہے۔ اور ایک قصر تعین ہے جس میں اس کا اعتقاد تو ہے لیکن تعین نہیں ہے تو آپ کیا کر دیتے ہیں؟ قصر میں تعین کر دیتے ہیں۔ "وللقصر طرق منها"، اب آپ قصر کے طریقے بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: "وللقصر طرق"، اور قصر کے کئی طریقے ہیں، طرق جمع ہے طریق کی بھئی، طریقے ہیں، کئی راستے ہیں۔ "منها"، ان میں سے ایک طریقہ جو ہے، "النفي والاستثناء"، نفی اور استثناء والا ہے کہ حرف نفی لائیں اور ساتھ کیا لائیں؟ حرف استثناء۔ "نحو" مثال کے طور پر: "إن هذا إلا ملك كريم"، ان نفی کے لیے ہے، "إن هذا"، نہیں ہے یہ، "إلا ملك كريم"، مگر معزز فرشتہ۔ وہ عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا اور ان کا حسن و جمال دیکھا بھئی تو کیا کہنے لگیں؟ "إن هذا إلا ملك كريم"، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہی ہے، معزز فرشتہ ہی ہے یعنی انسان نہیں ہے، اتنا حسن و جمال کسی کا انسان کا ہو ہی نہیں سکتا، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ صورت معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو دیکھو یہ قصر آیا اور کس کے ساتھ آیا؟ نفی اور استثناء کے ساتھ، یہ ایک طریقہ ہے۔ "ومنها إنما"، اور قصر کے طریقوں میں سے ایک انما ہے، "نحو" مثال کے طور پر: "إنما ألفاهم علي"، الفٰی یُلفِی کے معنی ہوتے ہیں پا لینا، ڈھونڈ لینا۔ "إنما ألفاهم علي"، ان کو ڈھونڈ لیا علی نے، ان کو ان کو علی نے ڈھونڈ ڈھونڈا ہے، یعنی اور کسی نے نہیں۔ اب دیکھیے یہاں انما آیا، انما، اور انما حصر کا فائدہ دیتا ہے، تو انما حصر کا فائدہ دیتا ہے اور یہ یاد رکھنا بھئی، حصر جو ہے جز اخیر میں آتا ہے، کس میں آتا ہے؟ جز اخیر۔ دیکھو: "إنما ألفاهم علي"، آخری جز کیا آیا جملے میں؟ علی، تو حصر علی کے اندر ہوگا، کس کے اندر؟ علی کے اندر، تو اس جو لفظ آخر میں آئے، اردو ترجمے میں اس کے آخر میں "ہی" کا لفظ بڑھا دیں۔ انما الفاہم، ان کو ڈھونڈا ہے علیٌ، علی ہی نے، ان کو علی، ان کو علی ہی نے ڈھونڈا ہے، معلوم ہوا کسی دوسرے نے نہیں ڈھونڈا، تو یہ دیکھو انما قصر کا فائدہ دیتا ہے۔ "ومنها العطف بلا أو بل أو لكن"، اور اسی قصر کے طریقوں میں سے ایک عطف کرنا ہے لا یا بل یا لیکن کے ساتھ۔ "نحو" مثال کے طور پر آپ کہتے ہیں: "أنا ناثر لا ناظم"، میں نثر کہنے والا ہوں، نظم کہنے والا نہیں ہوں۔ تو مخاطب کا خیال تھا آپ نثر بھی کہتے ہیں، نثر یہ عام کلام جو نظم نہ ہو، اور ایک شعر ہے تو اس کو نظم کہتے ہیں، تو مخاطب کا خیال تھا آپ نثر بھی کہتے ہیں، نظم بھی کہتے ہیں، آپ نے کہا: "أنا ناثر لا ناظم"، میں ناثر ہوں، ناظم نہیں، تو دیکھو یہاں حصر آ گیا، یہ تو یہ لا کے ساتھ عطف کرنے کی وجہ سے آیا۔ دوسرا کس کے ساتھ ہے؟ بل کے، "وما أنا حاسب بل كاتب"، سننے والے کا خیال تھا آپ حساب کتاب بھی کرنے والے ہیں اور کتابت بھی جاننے والے ہیں، آپ نے کیا کہہ دیا؟ "وما أنا حاسب"، میں حساب کرنے والا نہیں، "بل كاتب"، بلکہ کاتب ہوں، تو اس کا خیال تھا دونوں وصف ہیں، آپ نے اپنے آپ کو کس میں بند کر دیا؟ کتابت کے وصف میں، تو یہ حصر آ گیا۔ "ومنها تقديم ما حقه التأخير"، اور حصر کے طریقوں میں سے ایک جو ہے، تقدیم ما حقہ التاخیر، مقدم کرنا ما اس چیز کو حقہ التاخیر جس کا حق کیا ہے؟ کہ اس کو کیا کیا جائے؟ مؤخر کیا جائے، نحو: "إياك نعبد وإياك نستعين"۔ بھئی دیکھیے، اصل میں تو ہونا تو یہ چاہیے، ایاک مفعول ہے، مفعول مؤخر ہوتا ہے، نعبدک، اور اسی طرح ہونا چاہیے نستعینک، لیکن نعبدک کا اگر مؤخر ہو مفعول تو ترجمہ ہوگا: ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، تو اللہ کی عبادت کرنے تو تو اقرار ہوگا لیکن غیر کی عبادت کی نفی نہیں، نستعینک ہم آپ کی سے مدد مانگتے ہیں، تو اللہ سے مدد مانگنے کا تو اقرار ہے لیکن غیر سے مدد مانگنے کی نفی نہیں، لیکن جب اس مفعول جس کا حق مؤخر تھا اس کو مقدم کر دیا گیا، "إياك نعبد"، اب تخصیص آ گئی کہ اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، تو دیکھو باقی سب کی عبادت کی کیا ہو گئی؟ نفی۔ "وإياك نستعين"، اے اللہ ہم آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں، تو باقی سب سے مدد مانگنے کی نفی ہو گئی بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔