درس نمبر۔53
واما التوابع فالتقييد بها يكون للاغراض التي تقصد منها. فالنعت يكون للتمييز نحو: حضر علي الكاتب. والكشف نحو: الجسم الطويل العريض العميق يشغل حيزا من الفراغ.
اطلاق اور تقیید کا باب چل رہا ہے۔ اور صاحبِ کتاب نے آپ کو بتلایا کہ کبھی کبھار کلام کے اندر مسند اور مسند الیہ کو مطلق ذکر کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ کوئی قید ذکر نہیں ہوتی۔ اور کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ مسند اور مسند الیہ کو مقید کیا جاتا ہے مختلف قسم کی قیدوں کے ساتھ اور اس صورت میں کلام مقید کہلاتا ہے۔ اور کن کن چیزوں کے ساتھ کلام کو مقید کیا جاتا ہے؟ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مفعولوں کے ساتھ مقید کیا جاتا ہے یعنی یہ جو مفعول ہوتے ہیں یہ قید ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح استثناء ہے، تمیز ہے، حال ہے، ان کے ساتھ کلام کو مقید کیا جاتا ہے۔ اس سے پتہ چل گیا کہ یہ استثناء، تمیز اور حال جو ہیں یہ قیدیں ہوا کرتی ہیں۔ اسی طرح کلام کو کبھی مقید کرتے ہیں شرط کے ساتھ، معلوم ہوا شرط جو ہے کلام میں قید ہوتی ہے جبکہ اصل جو ہے وہ جزا ہے اور اسی پر کلام کا مدار ہے۔ اسی طرح انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ کبھی نفی کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ کلام کو مقید کیا جاتا ہے، معلوم ہوا یہ نفی بھی قید ہوا کرتی ہے۔ تو اور آج آپ کو یہ بتلائیں گے کہ کلام کو کبھی کبھار توابع کے ساتھ قید کیا جاتا ہے، کس کے ساتھ؟ توابع کے ساتھ، معلوم ہوا توابع بھی قید ہوا کرتے ہیں بھئی۔
تو یاد رکھیے! توابع، بھئی عربی کلام کے اندر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی لفظ پر جو اعراب آتا ہے وہ ماقبل کی مناسبت سے آتا ہے، ان کو توابع کہا جاتا ہے، کیا کہا جاتا ہے؟ توابع، یعنی عامل جو ہے براہِ راست ان پر عمل نہیں کرتا بلکہ یہ اپنے ماقبل کے تابع ہوتے ہیں۔ ان کے ماقبل پر اگر رفع آئے تو اس لفظ پر بھی رفع آئے گا۔ اگر ماقبل ماقبل والے لفظ پر نصب آئے تو اس بعد میں آنے والے لفظ پر بھی نصب آتا ہے۔ اور ان سے ماقبل والے لفظ پر اگر جر آئے تو اس لفظ پر بھی کیا آتا ہے؟ جر آتا ہے۔ ان کو توابع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ توابع۔ توابع جمع ہے تابع کی، تو یہ بھی اس میں بھی چونکہ یہ بعد والا لفظ پہلے لفظ کے تابع ہوتا ہے اس کو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ تابع کہتے ہیں۔
اور آپ پڑھ چکے ہیں توابع جو ہیں وہ پانچ ہیں بھئی نحو کے اندر، آپ نے پڑھے ہوں گے کافیہ وغیرہ میں کہ پانچ توابع ہیں۔ ایک صفت ہے، صفت پر وہی اعراب آتا ہے جو موصوف پر ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرا تابع جو ہے وہ تاکید ہے، تاکید بھئی۔ تاکید پر وہی اعراب آتا ہے جو مؤکد پر ہوتا ہے۔ اسی طرح عطفِ بیان بھی توابع میں سے ہے، عطفِ بیان پر وہی اعراب آتا ہے جو اس کے معطوف علیہ پر ہوتا ہے۔ اسی طرح عطف بالحرف جو ہے یعنی معطوف جو ہوتا ہے وہ بھی تابع ہوتا ہے، معطوف پر وہی اعراب آتا ہے جو معطوف علیہ پر ہوتا ہے۔ اور اسی طرح توابع میں سے بدل بھی ہے، بدل پر بھی وہی اعراب آتا ہے جو مبدل منہ پر ہوتا ہے۔ تو یہ سارے کیا ہیں؟ توابع ہیں، تو توابع پانچ ہیں، نمبر ایک: صفت ہے، اسی طرح تاکید ہے، عطفِ بیان ہے، بدل ہے اور معطوف ہے، معطوف بھئی۔
تو یہ توابع جو ہیں کلام کے اندر قید ہوتے ہیں، ان کے لانے میں کیا کیا مقاصد ہوتے ہیں وہ اب بیان کر رہے ہیں کہ ان کے لانے میں کیا مقاصد ہوتے ہیں، کیا نکات ہوتے ہیں ان کے لانے میں، کلام کو ان کے ساتھ کیوں مقید کیا جاتا ہے، وہ نکات اب بیان کرنے لگے ہیں:
کہتے ہیں: "واما التوابع" اور باقی توابع جو ہیں، "فالتقييد بها" تو ان کے ساتھ مقید کرنا، "يكون للاغراض" تو یہ ان غرضوں کے لیے ہو گا، "التي تقصد منها" جو ان توابع سے مقصود ہوتے ہیں، جو کس سے مقصود ہوتے ہیں؟ بھئی دیکھیے! توابع کے ساتھ کلام کو مقید کیا جاتا ہے، یہ ان غرضوں کے لیے ہو گا جو توابع سے مقصود ہوتے ہیں یعنی توابع جن جن چیزوں کا فائدہ دیتے ہیں جب وہ آپ کی غرض ہے تو آپ توابع کو اپنے کلام میں لائیں گے۔ کیا کریں گے؟ بھئی یہ توابع جو ہیں یہ معطوف ہے، یہ تاکید ہے، یہ بدل ہے، یہ عطفِ بیان ہے، یہ صفت ہے، ان کے مختلف فائدے آپ نے نحو کے اندر پڑھے ہوں گے۔ تو جب ان میں سے کوئی فائدہ آپ کا مقصد ہو تو پھر آپ اپنے کلام میں تابع کو لے کر آئیں گے۔ یعنی جو تابع کا جو فائدہ ہے وہی آپ کا مقصد بھی ہے، آپ وہی معنی دوسرے کو پہنچانا چاہتے ہیں، تو یہ معنی تو تابع کا ہے، جب تابع کا معنی ہے اور آپ اس کو ادا کرنا چاہتے ہیں تو کیا طریقہ ہو گا؟ کہ تابع کو اپنے کلام میں لے کر آئیں بھئی۔
مثلاً دیکھیے بھئی، صفت ہے۔ صفت، یاد رکھیے صفت آگے تفصیل بھی یہ بیان کریں گے، صفت جو ہے نحو میں آپ نے پڑھا ہو گا کہ صفت معرفہ کی بھی آتی ہے اور نکرہ کی بھی آتی ہے۔ "جاءني رجل عالم" یا "جاءني رجل مؤمن"، رجل موصوف، مؤمن اس کی صفت۔ اور اسی یہ تو تھا نکرہ کے اندر، اور معرفہ کی بھی صفت آتی ہے: "جاءني الرجل العالم"، الرجل موصوف اور العالم اس کی صفت۔ تو معرفہ کی بھی صفت آتی ہے، نکرہ کی بھی صفت آتی ہے۔ معرفہ میں صفت لانے کے اور فائدے ہیں اور نکرہ میں صفت لانے کے اور فائدے ہیں۔ آپ نے پڑھا ہو گا کافیہ کے اندر کہ نکرہ کی صفت لائی جائے تو وہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ نکرہ کی صفت لائی جائے تو وہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔
بھئی تخصیص کا وہ معنی نہیں جو اس سے پہلے ابھی آپ نے پڑھا تھا کہ تخصیص کسے کہتے ہیں کہ مذکور کے لیے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقیوں سے اس کی نفی ہے یا مذکور سے ایک چیز کی نفی ہے تو باقیوں کے لیے اس کا اثبات، یہ آپ نے تخصیص کا معنی پڑھا تھا لیکن وہ معنی یہاں نہیں مراد بھئی۔ کس میں؟ کہ نکرہ میں صفت آتی ہے تخصیص کے لیے۔ یہاں تخصیص کا معنی ہے دیگر احتمالات کو ختم کرنا یا ان کو کم کرنا۔ تخصیص کا کیا معنی؟ دیگر احتمالات کو ختم کرنا یا ان کو کم کرنا۔
مثلاً دیکھیے، میں لفظِ "رجل" بولتا ہوں، رجل نکرہ ہے۔ اب مثلاً فرض کریں اس مثلاً دنیا کے اندر ایک ارب ہیں یا دو ارب جتنے بھی فرض کر لیں، مثلاً ایک ارب مرد ہیں تو یہ "رجل" یہ نکرہ ہے، ہر مرد پر اس کا اطلاق صحیح ہے۔ تو اس میں کتنے احتمالات ہوئے؟ ایک ارب اگر فرض کریں اگر مرد ہیں تو اس میں ایک ارب احتمالات ہو گئے کہ ہو سکتا ہے رجل بول کر یہ والا مرد مراد ہو، ہو سکتا ہے یہ والا مرد مراد ہو، ہو سکتا ہے یہ، ہر ایک پر یہ صادق آتا ہے، ہر ایک پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن جب اس کی صفت مثلاً میں لے آتا ہوں "مؤمن"، "رجل مؤمن"، اب دیکھیے صرف یہ ان مردوں پر صادق آئے گا جو مومن ہیں، "رجل مؤمن" کا کیا معنی؟ مومن مرد، مومن آدمی، تو اس سے وہ مرد نکل گئے جو مومن نہیں۔ تو دیکھیے، احتمالات میں کمی آ گئی یا نہیں آ گئی؟ اب احتمالات میں کمی آ گئی تو یہ ہے تخصیص۔ تو نکرہ میں صفت نکرہ کی صفت آ جائے تو یہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے اور تخصیص کا کیا معنی ہے؟ دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ان کو بالکل ختم کر دینا، باقی احتمالات کو ختم کر دینا یا کم کر دینا، یہ ہے تخصیص۔
جبکہ معرفہ کے اندر صفت جو آتی ہے وہ توضیح کے لیے ہوتی ہے، کس کے لیے؟ توضیح، یعنی وضاحت کے لیے یوں کہیے، کس کے لیے؟ وضاحت کے لیے، وضاحت کرنے کے لیے۔ اب وضاحت کا کیا معنی ہے؟ علماء نے دو معنی بیان کیے ہیں۔ بعضوں نے کہا توضیح کا معنی یہ ہے: اشتراک کو ختم کرنا۔ توضیح کا کیا معنی؟ توضیح بھئی، تا دو نقطوں والی ہے، واؤ ہے، ضاد، یا اور حا بھئی، حا، توضیح۔ توضیح کا کیا معنی ہے؟ بعض علماء نے کہا توضیح کا معنی ہے اشتراک کو ختم کرنا، شرکت کو ختم کرنا۔
مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "جاءني زيد العالم"، تو زيد موصوف، العالم اس کی صفت، اور زيد ہے معرفہ، تو دیکھو معرفہ کی صفت آئی اور معرفہ کی صفت کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ توضیح کا فائدہ دیتی ہے۔ توضیح کا کیا معنی ہوتا ہے؟ بعض علماء نے کیا بیان کیا؟ اشتراک کو ختم کرنا۔ یعنی مثلاً آپ کے دو ساتھی آپ کے دو ساتھی ہیں دونوں کا نام زید ہے، دونوں کا نام زید ہے، البتہ ان میں سے ایک زید عالم ہے اور ایک زید تاجر ہے بھئی، ایک زید کیا ہے؟ عالم۔ اب اگر میں آپ سے صرف یہ کہوں: "جاءني زيد"، تو کیا آپ کو پتہ چلا کہ کون سا والا زید آیا ہے؟ نہیں، یہ آپ کو پتہ ہی نہیں چلا کیونکہ یہ زید اس میں تو شرکت ہے، دو ساتھیوں کا نام ہے۔ تو اب آپ اس کی صفت لاتے ہیں: "جاءني زيد العالم"، اب یہ عالم صفت نے آ کر زید کے اندر اشتراک کو ختم کر دیا۔ اور آپ کو پتہ چل گیا کہ معلوم ہوا میرا وہ ساتھی مراد ہے جو عالم ہے، وہ مراد ہے کہ وہ اس کے پاس آیا ہے اور وہ جو تاجر ہے معلوم ہوا وہ مراد نہیں۔ تو دیکھیے، صفت نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ اشتراک کو ختم کر دیا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ شرکت کو ختم کر دیا، پہلے اس زید میں احتمال تھا کہ پتہ نہیں کون سا زید ہے، وہ جو عالم ہے پتہ نہیں وہ مراد ہے یا وہ جو تاجر ہے وہ مراد ہے، لیکن جب آگے صفت آ جائے گی کہ "العالم" تو پتہ لگ گیا، معلوم ہوا یہ والا زید جو عالم ہے یہ مراد ہے، جو تاجر ہے وہ مراد نہیں۔ تو دیکھیے، یہ ہے اشتراک کو ختم کرنا تو وضاحت ہو گئی، پتہ لگ گیا کہ زید سے وہ عالم زید مراد ہے، تاجر زید مراد نہیں۔
تو بعضوں نے یہ معنی کیا کہ توضیح کا معنی ہے اشتراک کو ختم کرنا، اور بعضوں نے کہا توضیح کا معنی ہے: غیر کے احتمال کو ختم کرنا۔ توضیح کا کیا معنی ہے؟ غیر کے احتمال کو ختم کرنا۔
مثلاً بھئی، فرض کریں آپ ایک شخص کو جانتے ہیں اس کا نام زید ہے، کیا نام ہے؟ زید۔ تو اب میں آپ سے کہتا ہوں: "جاءني زيد العالم"، اب آپ یہ تو جانتے تھے کہ وہ اس آدمی کا نام زید ہے لیکن آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ عالم ہے یا عالم نہیں ہے۔ جب میں نے صفت بیان کر دی "جاءني زيد العالم"، میرے پاس عالم زید آیا، تو اس صفت نے غیر عالم ہونے کے احتمال کو ختم کر دیا، کس چیز کو؟ بھئی آپ کو پہلے پتہ نہیں تھا، اتنا تو جانتے تھے اس آدمی فلاں آدمی ہے اس کا نام زید ہے لیکن آپ کو علم نہیں تھا کہ وہ عالم ہے یا عالم نہیں، تو اس میں دونوں احتمال تھے، ہو سکتا ہے عالم ہو، ہو سکتا ہے عالم نہ ہو، تو جب آپ نے "العالم" کہہ دیا تو اس نے کیا کیا؟ غیر عالم ہونے کے احتمال کو ختم کر دیا۔ یا مثلاً دوسری صفت آپ لاتے ہیں: "جاءني زيد التاجر"، آپ کو اتنا تو پتہ تھا کہ اس آدمی کا نام زید ہے لیکن یہ علم نہیں تھا کہ وہ تاجر ہے یا تاجر نہیں، اس میں دونوں احتمال تھے لیکن جب میں نے صفت ذکر کر دی "جاءني زيد التاجر" تو تاجر کی جب صفت آ گئی تو اس نے دوسرے احتمال یعنی غیر تاجر ہونے کے احتمال کو ختم کر دیا، یہ ہے توضیح، یہ کیا ہے؟ توضیح۔
تو نکرہ میں صفت آتی ہے تخصیص کے لیے یعنی دیگر احتمالات کو کم کر دیتی ہے یہ یا ختم کر دیتی ہے، جبکہ معرفہ میں صفت کس لیے آتی ہے؟ توضیح کے لیے، وضاحت کے لیے۔ اور توضیح کا کیا معنی؟ تو بعض علماء کہتے ہیں توضیح کا معنی ہے شرکت کو ختم کرنا کہ صفت کیا کرتی ہے؟ شرکت کو ختم کر دیتی ہے، مثلاً "جاءني زيد العالم"، پتہ لگ گیا تاجر زید نہیں آیا بلکہ کون سا زید آیا؟ عالم۔ بعضوں نے کہا نہیں، توضیح کا معنی ہے: غیر کے احتمال کو ختم کر دینا، جب میں نے آپ سے کہا: "جاءني زيد العالم"۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اس مثال میں مثلاً آپ کا ایک ہی ساتھی ہے اس کا نام صرف زید ہے، اب میں جب آپ سے صرف یہ کہوں گا "جاءني زيد"، میرے پاس زید آیا تھا، تو شرکت تو ہے ہی نہیں، آپ کو پتہ چل گیا کہ کون آیا ہے؟ زید آیا ہے۔ لیکن اس زید کے بارے میں آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ عالم ہے یا عالم نہیں، اسی ایک ہی زید ہے لیکن اس میں دونوں احتمال تھے، ہو سکتا ہے وہ عالم ہو، ہو سکتا ہے وہ عالم نہ ہو، آپ کو علم نہیں تھا تو لیکن جب صفت آ گئی اس نے "جاءني زيد العالم" تو اس نے غیر عالم کو ہونے کے احتمال کو کیا کر دیا؟ ختم کر دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟ معلوم ہوا معرفہ میں صفت کس لیے آئے گی؟ توضیح کے لیے۔ اور توضیح کا بعض علماء نے کیا معنی بیان کیا؟ اشتراک کو ختم کرنا اور یہ اس وہاں پر ہو گا جہاں اشتراک ہو۔ اور بعضوں نے کیا توضیح کا معنی بیان کیا؟ غیر کے احتمال کو ختم کرنا، یہ وہاں جہاں پر غیر کا احتمال ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
یہ بنیادی طور پر اس لیے آتی ہیں، نکرہ کی صفت تخصیص کے لیے اور معرفہ کی صفت توضیح کے لیے، لیکن بعض اوقات اور معانی کے لیے بھی یہ صفت لائی جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ صفت تاکید کے لیے بھی آتی ہے، تاکید کے لیے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "جاءني رجل واحد"، آیا میرے پاس ایک آدمی، رجل موصوف، واحد اس کی صفت۔ اب دیکھیے رجل کا معنی بھی تھا ایک آدمی، اور واحد ایک صفت جو آئی یہ تاکید کے لیے ہے، اس نے اسی معنی کو پختہ کر دیا، پکا کر دیا بھئی، کہ ایک رجل سے کیا مراد ہے؟ ایک ہی مراد ہے، تو اس نے اسی معنی کو پکا کیا ہے تو یہ صفت تاکید کے لیے ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کبھی کبھار صفت تاکید کے لیے ہوتی ہے۔
اسی طرح کبھی کبھار صفت جو ہوتی ہے کشفِ معنی کے لیے آتی ہے، کشف کے لیے، معنی کو کھولنے کے لیے۔ چلیے یہ آگے تفصیل آ رہی ہے، پہلے ذرا جہاں تک ہم کر چکے ہیں وہ کتاب پر دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: "واما التوابع فالتقييد بها يكون للاغراض التي تقصد منها" باقی توابع جو ہیں تو ان کے ساتھ مقید کرنا جو ہے وہ ان غرضوں کے لیے ہو گا جو ان توابع سے مقصود ہوتے ہیں، مثلاً بھئی جو توابع سے مقصود ہوتے ہیں اس وہی آپ کی غرض بھی ہے، آپ دوسرے کو یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ میرے پاس وہ زید آیا ہے جو تاجر ہے، جو عالم جو عالم ہے وہ نہیں آیا بلکہ کون سا آیا ہے؟ تاجر، تو اب آپ "جاءني زيد العالم" کہیں گے، کیونکہ یہ صفت کے ذریعے آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اشتراک کو ختم کرنا چاہتے ہیں، زید کے اندر تو کیا تھا؟ اشتراک، آپ اشتراک کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اشتراک کو ختم کرنے کا فائدہ کیا چیز دیتی ہے؟ وہ تو صفت دیتی ہے تو وہی آپ کا مقصد بھی ہوا جو اس صفت کا معنی ہے تو لہٰذا اب آپ کی غرض وہی ہوئی تو اسی لفظ کو لے کر آئیں گے بھئی۔ یعنی آپ کا مقصد بھی وہی معنی ادا کرنا ہے جو کس کا معنی تھا؟ صفت کا یعنی تابع کا، جب تابع کا وہ معنی ہے اور آپ کی غرض اس کو ادا کرنا ہے تو تابع ہی کو لے کر آئیں گے۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟ یہ معنی ہے: "يكون للاغراض التي تقصد منها" یہ ان غرضوں کے لیے ہو گا جو ان توابع سے مقصود ہوتے ہیں۔
"فالنعت يكون للتمييز" تو صفت، نعت سے کیا مراد ہے؟ صفت، وصف اور صفت، وصف بھی کہتے ہیں، صفت بھی کہتے ہیں، نعت بھی کہتے ہیں، سب کا ایک معنی ہے۔ "فالنعت يكون للتمييز" تو صفت جو ہو گی للتمییز، امتیاز دینے کے لیے ہو گی، جدا کرنے کے لیے ہو گی۔ بھئی میں نے کہا تھا آپ کے دو ساتھی ہیں، زید دونوں کا نام ہے، صرف زید کہوں آپ کو پتہ لگے گا کون سا زید آیا؟ نہیں، لیکن جب میں کہوں گا "جاءني زيد العالم"، اب دیکھو العالم نے کیا فائدہ دیا؟ یہ جو زید جو آپ کے پاس آیا ہے اس کو اس زید سے جدا کر دیا جو مثلاً آپ کے پاس تاجر آیا ہے تو اس زید سے جدا کر دیا جو کیا ہے؟ عالم ہے، تو یہ صفت نے امتیاز کا فائدہ دیا، اس صفت نے اس زید کو اس زید سے کیا کر دیا؟ جدا کر دیا ورنہ تو زید دونوں کو شامل تھا، یہی بیان کر رہے ہیں: "فالنعت يكون للتمييز" تو صفت کس لیے ہو گی؟ تمیز، جدا کرنے کے لیے، ممتاز کرنے کے لیے، "نحو" مثال کے طور پر: "حضر علي الكاتب"، حاضر ہوا وہ علی جو کاتب ہے، لکھنے والا ہے۔ حاضر ہے وہ حاضر ہوا وہ علی جو یعنی آ گیا وہ علی آ گیا جو کاتب ہے۔ اب دیکھیے، آپ کے مثلاً دو ساتھی ہیں دونوں کا نام علی ہے، البتہ ان میں سے ایک کاتب ہے اور ایک کاتب نہیں، تو جب آپ نے "الكاتب" کہا تو اس صفت نے کیا فائدہ دیا؟ اس نے اس علی کو اس دوسرے علی سے جدا کر دیا، آپ کو پتہ چل گیا کہ وہ والا علی مراد ہے جو کاتب ہے، جو دوسرا ہے وہ مراد نہیں۔ تو دیکھیے، صفت نے تمیز کا فائدہ دیا، ممتاز کرنے کا، جدا کرنے کا۔
"والكشف" اور کبھی صفت کس لیے ہو گی؟ کشف کے لیے ہو گی۔ بھئی میں نے آپ کو یہ بتلایا کہ نکرہ میں صفت آئے تو تخصیص کے لیے ہو گی، معرفہ میں صفت آئے تو توضیح کے لیے ہو گی۔ یہ ان کے بنیادی مقاصد عموماً اسی لیے ہوتی ہیں، لیکن بعض اوقات اور بھی فائدے ہوتے ہیں صفت لانے کے، جیسے ایک کشف ہے بھئی، کیا ہے؟ کشف۔ کشف کا معنی ہے کھولنا، وضاحت کرنا، بیان کرنا۔ تو بعض اوقات آپ صفت لاتے ہیں ایک لفظ کی اور صفت لانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسی لفظ کے معنی کو آپ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے سننے والے کو اس لفظ کے معنی کا پتہ نہ چلے، لہٰذا آپ کیا کر دیتے ہیں؟ اسی لفظ کا معنی بیان کر دیتے ہیں صفت کی صورت میں، کس صورت میں؟ صفت کی صورت میں۔ ایک لفظ آپ ادا کر رہے ہیں اور آپ کو کیا خیال ہے کہ شاید سننے والے کو اس کے معنی کا پتہ نہ چلے یا اس کو معنی کا اس کو پتہ نہ ہو، تو آپ کیا کرتے ہیں؟ اسی کے معنی کو کس صورت میں ساتھ لے آتے ہیں؟ صفت کی صورت میں، صفت کی صورت میں۔ تو یاد رکھیے، اس کو کہتے ہیں صفتِ کاشفہ، کیا کہتے ہیں؟ صفتِ کاشفہ، یعنی یہ اسی موصوف کو کھولنے والی ہے، اسی کے معنی کو بیان کرنے والی ہے، اسی کی وضاحت کرنے والی ہے۔ تو لہٰذا یہ کتابوں میں جگہ جگہ آپ کو لفظ ملے گا، کسی صفت کے بعد عموماً شارح، شرح کرنے والا جو ہو گا وہ لکھ دے گا: یہ صفتِ کاشفہ ہے۔ آپ سمجھ جائیں اس سے، کیا معنی ہے صفتِ کاشفہ کا؟ کہ یہ اسی موصوف کے معنی کو کی وضاحت کر رہی ہے، اسی کو بیان کر رہی ہے یہ صفت بھئی۔ جیسے دیکھیے مثال سے وضاحت ہو گی:
جیسے بھئی، آگے مثال آ رہی ہے: "الجسم الطويل العريض العميق يشغل حيزا من الفراغ"، بھئی دیکھیے، یہاں دو تین چیزیں آپ نے منطق وغیرہ میں پڑھی ہوں گی، پہلے وہ سمجھ لیجیے: ایک ہوتا ہے نقطہ، ایک ہے خط، ایک ہے سطح، اور ایک ہے جسم۔ نقطہ، خط، سطح اور جسم۔ نقطہ آپ نے پڑھا ہے: نقطہ جو نہ لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے، نہ چوڑائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے، اور نہ اونچائی یا یوں کہیں گہرائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے، تو اسے نقطہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ یعنی دوسرے لفظوں میں یوں کہیے: نقطہ وہ ہے نقطہ وہ ہے جس کی نہ چوڑائی ہے، نہ گہرائی ہے اور نہ نہ لمبائی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ نقطہ نہیں یہ جو آپ قلم سے نقطہ لگائیں کاپی پر، یہ نقطہ مراد نہیں، اس کی تو لمبائی بھی ہے، چوڑائی بھی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تو اگر آلات خوردبین وغیرہ سے آپ اس کو دیکھیں گے یہ تو بہت بڑا آپ کو دکھائی دے گا، تو یہ اس کی تو آرام سے تقسیم ہو سکتی ہے۔ تو وہ چھوٹے سے چھوٹا یوں کہیں فرضی، فرضی چیز، انتہا درجے کا چھوٹا یعنی جو جس میں نہ چوڑائی ہو، چوڑائی میں تقسیم ہو سکے مزید، نہ اس کی لمبائی میں مزید تقسیم ہو سکے اور نہ گہرائی کے اعتبار سے اس کی تقسیم ہو سکے، اسے کہتے ہیں نقطہ بھئی، نقطہ۔
اور دوسرا ہے خط بھئی، خط۔ خط جسے اردو میں آپ لکیر کہہ لیں، خط۔ تو خط جو ہے وہ چوڑائی میں تو چوڑائی اور گہرائی میں تو اس کی تقسیم نہیں ہوتی لیکن لمبائی کے اعتبار سے اس کی تقسیم ہو جاتی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس میں بھی خط سے مراد آپ قلم سے جو خط کھینچیں وہ مراد نہیں ہے، اس کی تو تقسیم ہو سکتی ہے بلکہ یہ بھی چھوٹے سے چھوٹا جس کی آگے تقسیم باریک سے باریک جس کے آگے چوڑائی میں تقسیم نہ ہو سکے۔
اور سطح، سطح وہ ہے جس کی لمبائی بھی ہو اور چوڑائی بھی ہو لیکن گہرائی نہ ہو یعنی لمبائی میں بھی وہ تقسیم ہو سکتا ہے، چوڑائی میں بھی تقسیم ہو سکتا ہے لیکن گہرائی میں تقسیم نہیں کیونکہ گہرائی اس کی ہے ہی نہیں، جیسے مثلاً میز کی سطح مراد لے لیں، میز کی ہموار سطح، تو یہ صرف اوپر والا حصہ جس کی گہرائی ذرا بھی نہیں، صرف لمبائی ہے اور صرف چوڑائی، اسے کہیں گے سطح بھئی۔
اور ایک ہے جسم، جسم اسے کہتے ہیں جس کی لمبائی بھی ہوتی ہے، چوڑائی بھی ہوتی ہے اور گہرائی بھی۔ مثلاً یہ کتاب میرے سامنے پڑی ہے، اس کی لمبائی بھی ہے، چوڑائی بھی ہے اور دیکھیے گہرائی یعنی اونچائی بھی ہے۔ گہرائی سے کیا مراد ہے؟ اونچائی، یا یوں کہیں موٹائی ہے بھئی، لمبائی، گہرائی اور یوں کہیں: لمبائی، چوڑائی اور موٹائی کہہ لیں، لمبائی، چوڑائی اور موٹائی۔ تو یہ جسم کے اندر یہ تینوں چیزیں ہوں گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ نقطہ کسے کہیں گے؟ ہاں، جس میں جو نہ لمبائی میں تقسیم کو قبول کرے، نہ چوڑائی میں اور نہ گہرائی میں۔ خط کسے کہتے ہیں؟ ہاں، جو لمبائی میں تو صرف تقسیم ہو سکتی ہے اس کی کیونکہ خط لمبا ہو گا لیکن گہرائی اور چوڑائی کے اعتبار سے اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ سطح، سطح میں کیا ہو گا؟ لمبائی میں بھی تقسیم ہو سکتی ہے، چوڑائی میں بھی تقسیم ہو سکتی ہے لیکن گہرائی اس کی ہوتی نہیں ہے تو گہرائی میں اس کی تقسیم بھی نہیں ہو گی۔ اور تیسری چوتھی چیز کیا ہے؟ جسم، جسم تو ہر چیز یہ جو آپ کو دکھائی دے رہی ہے یہ جسم ہے، قلم ہے، یہ آپ کی کتاب ہے، یہ کاپی ہے، یہ تپائی ہے، یہ ہر چیز کیا ہے؟ جسم ہے، جسم ہے کیونکہ ان سب کی کوئی لمبائی بھی ہے، گہرائی بھی ہے اور چوڑائی بھی ہے۔
تو اب دیکھیے، یہاں جسم کا لفظ آیا تھا اس لیے اتنی تفصیل بیان کرنا پڑی۔ تو جسم معلوم ہوا اس میں چوڑائی بھی ہو گی، لمبائی بھی ہو گی اور گہرائی بھی ہو گی۔ اب دیکھیے مثلاً بھئی کتاب پر: "الجسم الطويل العريض العميق يشغل حيزا من الفراغ"، حيز کہتے ہیں جگہ کو، حیز کسے کہتے ہیں؟ جگہ کو۔ آپ دوسرے کو یہ بات بتانا چاہتے ہیں، ذرا درمیان سے "الطويل"، "العريض"، "العميق" اس کو نکال دیں: "الجسم يشغل حيزا من الفراغ"، جسم کیا ہے؟ يشغل، وہ گھیرتا ہے، مشغول کرتا ہے یعنی گھیرتا ہے، حيزا من الفراغ، جگہ کو من الفراغ، خالی جگہ میں سے۔ فراغ کہتے ہیں خالی جگہ، یا یوں کہہ لیں فضا، کیا معنی کر لیں؟ فضا۔
بھئی دیکھیے، ہر جسم کے لیے کھلی جگہ چاہیے، خالی جگہ چاہیے جس میں وہ سما جائے۔ ہر جسم کے لیے کیا چاہیے؟ خالی جگہ چاہیے جس میں وہ سما جائے۔ مثلاً دیکھیے، یہ کتاب میرے سامنے تپائی پر پڑی ہے تو اس کتاب نے ایک جگہ گھیری ہوئی ہے، کیا گھیری ہوئی ہے؟ جگہ۔ جگہ سے یہ مراد نہیں ہے یہ جو تپائی کے اوپر پڑی ہے، تپائی پر اس نے جگہ گھیری ہوئی ہے، بلکہ اس کتاب کو اگر آپ دھاگے سے لٹکا دیں چھت سے، اب اس نے کوئی جگہ گھیری ہوئی ہے؟ جی؟ ہاں، اب بھی اس نے جگہ گھیری ہوئی ہے تو وہ زمین پر جو جگہ گھیری ہوتی ہے وہ مراد نہیں ہے۔ بھئی یہ کتاب آپ نے دھاگے سے فضا سے لٹکا دی، تو جس جگہ پر یہ کتاب ہے اب اس سے پہلے اس جگہ پر کیا تھی؟ مثلاً ہوا تھی، یا یوں کہہ لیں چلو خالی تھی، یہ جگہ کیا تھی؟ خالی۔ تو پہلے یہ جگہ خالی تھی اب کتاب نے اسی جگہ کو بھر دیا بھئی جتنے حصے میں کتاب ہے بھئی۔ تو اگر یہ خالی جگہ نہ ہو تو اس کتاب کا وجود ہی نہیں ہو گا۔ کتاب کے لیے جسم کے لیے کیا چاہیے؟ خالی جگہ، خالی فضا چاہیے جس میں وہ سما جائے یعنی وہ خالی حصہ جس کو یہ بھر دیتا ہے جسم بھئی۔ اگر جسم کے لیے خالی جگہ نہ ہو تو جسم کا وجود کہاں ہو گا بھئی؟ جو بھی چیز ہو، جو بھی اس کا کوئی وجود ہو گا یا نہیں؟ اور وہ وجود کسی فضا کو بھرے گا یا نہیں بھرے گا بھئی؟ اس کا وجود جب ایک جسم ہے اس کی لمبائی بھی ہے، چوڑائی بھی ہے، اونچائی بھی ہے تو اتنی ہی جگہ بھی اس کے لیے چاہیے، فضا کے اندر خالی جگہ۔ اگر اتنی جگہ اس کے لیے جگہ ہی نہیں ہے تو پھر تو لمبائی، چوڑائی، گہرائی کہاں پائی جائے گی بھئی؟ بات بھی سمجھ میں آئی کہ مشکل ہو گئی؟ سمجھ میں آ گئی؟ تو کتاب مثلاً فضا سے ہوا آپ نے دھاگے سے کوئی لٹکائی ہے، کوئی اور چیز مثلاً گیند ہے، گیند دیکھیے بھئی، گیند کو آپ نے چھت سے لٹکا دیا تو اسی جگہ پر جہاں گیند لٹکی ہوئی ہے، پہلے یہاں یہ جگہ کیا تھی؟ خالی تھی۔ اب اس کو کس نے بھر دیا؟ گیند نے۔ تو یہ گیند کا وجود ہی تب ہو گا جب اس کے لیے خالی جگہ بھی ہو جس کو یہ بھر دے۔ اگر اس گیند کے لیے جگہ ہی نہیں ہے بھر جس میں یہ پائی جائے تو پھر اس کا جسم کہاں پایا جائے گا؟ جسم تو جب بھی پایا جائے گا وہ کیا کرے گا؟ کسی نہ کسی جگہ کو بھر دے گا، کوئی جگہ اس کے لیے چاہیے ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو اب اپ دوسرے کو یہ بتلانا چاہتے ہیں، بھئی وہ صفت دیکھیے پھر کتاب پر: "الجسم يشغل حيزا من الفراغ"، جسم جو ہے یہ گھیر لیتا ہے "حيزا من الفراغ" جگہ کو خالی جگہ میں سے یعنی فضا میں سے۔ جسم کیا ہوتا ہے؟ فضا میں سے خالی خالی جگہ کو گھیر لیتا ہے، اس کے لیے جگہ چاہیے، جسم کے لیے جگہ چاہیے۔ اب یہ بات اپ دوسرے کو کہنا چاہتے ہیں لیکن اپ کے ذہن میں خیال ہے کہ شاید یہ سننے والے کو جسم کا ہی پتہ نہ ہو کہ جسم کہتے کس کو ہیں، تو اب اپ اس کو بتلاتے ہیں کہ جسم وہ ہوتا ہے جس کی گہرائی بھی ہوتی ہے، جس کی چوڑائی بھی ہوتی ہے، جس کی کیا ہوتی ہے؟ موٹائی۔ تو جسم کہتے ہی اس کو ہیں تو لہٰذا اب اپ اس کو صفت کے طور پر اپ لے آتے ہیں: "الطويل"، "العريض"، "العميق"۔ طویل کا معنی لمبا، عریض کا معنی چوڑا، عمیق کا معنی گہرا، گہرا۔ تو اب اپ نے کیا کہا: "الجسم الطويل العريض العميق يشغل حيزا من الفراغ"، جسم وہ جسم جو لمبا بھی ہو، چوڑا بھی ہو، گہرا بھی ہو وہ گھیر لیتا ہے "حيزا من الفراغ" فضا میں سے ایک جگہ کو گھیر لیتا ہے، فضا میں سے ایک جگہ کو گھیر لیتا ہے۔ تو یہاں پر یہ صفتِ کاشفہ، صفتِ کاشفہ صرف طویل نہیں ہے، صرف عریض نہیں ہے، صرف عمیق نہیں ہے، بلکہ یہ تینوں مل کر کشف کر رہے ہیں معنی کو بیان کر رہے ہیں، کس کا معنی بیان کر رہے ہیں؟ جسم کا۔ تو الطويل، العريض، العميق ان کا مجموعہ مراد ہے، یہ ہے صفتِ کاشفہ۔ یہ ہے کیا؟ صفتِ کاشفہ، یہ اسی الجسم کے معنی کو بیان کر رہی ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا صفت کبھی کشفِ معنی کے لیے بھی آئے گی، موصوف کے معنی کو کھول دے گی اور ایسی صفت کو کیا کہتے ہیں؟ صفتِ کاشفہ کہتے ہیں۔
"والتاكيد" اور کبھی صفت کس لیے آئے گی؟ تاکید کے لیے ہو گی، "نحو" مثال کے طور پر: "تلك عشرة كاملة"، وہ پورے دس ہیں۔ "تلك عشرة"، عشرة موصوف، كاملة اس کی صفت۔ تو یہاں كاملة صفت جو ہے یہ تاکید کے لیے آئی۔ عشرہ کا معنی؟ دس۔ کاملہ نے اسی معنی کو پکا کر دیا کہ پورے دس ہیں، کم یا زیادہ نہیں۔ جیسے "رجل واحد"، رجل موصوف، واحد اس کی صفت، تو رجل کا معنی بھی تھا ایک آدمی، واحد نے اسی معنی کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا۔ تو عشرہ کا معنی بھی ہوتا ہے پورے دس، کاملہ نے آ کر اسی معنی کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا، پختہ کر دیا، تو اس کو کہتے ہیں یہ صفت کس لیے ہوئی؟ تاکید کے لیے، یا یوں کہیں یہ صفتِ مؤکدہ ہے، کیا ہے؟ صفتِ مؤکدہ، تاکید پیدا کر رہی ہے موصوف میں، "تلك عشرة كاملة"۔
"والمدح" اور صفت کبھی مدح کے لیے ہو گی بھئی، مدح کے لیے یعنی تعریف کرنے کے لیے، "نحو: حضر خالد الهمام"، حاضر ہو گیا، آ گیا وہ خالد جو سردار ہے، ہمام سردار اور سخی وغیرہ بھئی۔ آ گیا وہ خالد جو سردار ہے۔ بھئی یاد رکھیے، معرفہ میں صفت کبھی کبھار مدح یا ذم کے لیے بھی آتی ہے۔ معرفہ میں صفت کبھی کبھار مدح یا ذم، مدح یا ذم کے لیے، مدح یعنی تعریف کرنے کے لیے، ذم یعنی مذمت بیان کرنے کے لیے، برائی اور خرابی بیان کرنے کے لیے۔ تو معرفہ کی صفت ویسے تو توضیح، وضاحت کے لیے ہو گی لیکن کبھی کبھار معرفہ کی صفت کس لیے ہوتی ہے؟ مدح کے لیے، تعریف کے لیے، یا کبھی کس لیے ہوتی ہے؟ مذمت کے لیے ہوتی ہے بھئی، اور یہ موقع محل سے پتہ لگ جاتا ہے بھئی۔
مثلاً دیکھیے بھئی، "بسم الله الرحمن الرحيم"، لفظِ اللہ موصوف، الرحمن صفتِ اول، الرحيم صفتِ ثانی۔ تو یہاں الرحمن اور الرحيم جو صفات آئیں، یہ صفت مدح کے لیے ہے، تعریف کے لیے ہے، توضیح کے لیے نہیں۔ یہ صفت کس لیے ہے؟ تعریف کے لیے، مدح کے لیے ہے، وضاحت کے لیے نہیں ہے، کیوں؟ کیونکہ توضیح کا کیا معنی تھا؟ اشتراک کو ختم کرنا، اشتراک کو ختم کرنا۔ اب مجھے بتائیے، لفظِ اللہ یہ ذاتِ باری تعالیٰ کا نام ہے، اس میں کوئی اور شریک ہے ساتھ؟ اس میں تو کوئی شریک ہی نہیں، تو یہاں تو شرکت کا احتمال ہی نہیں تھا، لہٰذا الرحمن معلوم ہوا یہ اشتراک کو ختم کرنے کے لیے نہیں۔ نیز توضیح کا دوسرا معنی کیا بیان ہوا تھا؟ غیر کے احتمال کو ختم کر دینا، اور لفظِ اللہ یہ علم ہے ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے، اور یہ لفظِ اللہ کی پھر آگے صفت آئی الرحمن، کیا صفت آئی؟ الرحمن، تو یہاں یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ الرحمن نے غیر رحمن ہونے کے احتمال کو ختم کر دیا، کیونکہ اللہ کی ذات تو رحمن اور رحیم ہے، وہاں غیر رحمن ہونے کا احتمال بھی نہیں۔ تو یہ لہٰذا معلوم ہوا یہاں صفت توضیح کے لیے نہیں کیونکہ یہ نہ اشتراک کے ختم کرنے کا فائدہ دے رہی ہے یہ صفت اور نہ یہ غیر کے احتمال کو ختم کرنے کا فائدہ دے رہی ہے، پھر اس کا کیا مقصد ہے؟ بھئی یہ صفت مدح کے لیے ہے، تعریف کے لیے ہے، کس لیے ہے؟ تعریف کے لیے۔ اسی طرح الرحيم صفتِ ثانی، یہ بھی کس لیے ہے؟ مدح کے لیے ہے، تعریف کے لیے۔
جبکہ بعض اوقات معرفہ کی صفت مذمت کے لیے بھی لاتے ہیں جیسے اس کی مثال: "اعوذ بالله من الشيطان الرجيم"، الشيطان موصوف، الرجيم اس کی صفت۔ وہ شیطان جو مردود ہے، وہ شیطان جو مردود ہے۔ تو الرجيم صفت ہوئی شیطان کی، اور لفظِ شیطان ہے معرفہ، تو یہ معرفہ کی صفت آئی اور یہ بھی توضیح کے لیے نہیں، کیونکہ توضیح کسے کہتے تھے؟ اشتراک کو ختم کرنا، تو یہاں الشيطان کے لفظ میں بھی اشتراک نہیں کہ الرجیم آ کر اس اشتراک کو ختم کر دے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ نیز یہاں غیر کا احتمال بھی نہیں، شیطان جب ہے تو وہ رجیم ہی ہے، غیر رجیم ہونے کا وہاں احتمال نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہاں پر جو الشيطان الرجيم کے اندر جو یہ رجیم صفت آئی، یہ توضیح کے لیے نہیں ہے یعنی یہ نہ اشتراک کو ختم کرنے کا فائدہ دے رہی ہے، نہ غیر کے احتمال کو ختم کرنے کا فائدہ دے رہی ہے، بلکہ یہ مذمت کے لیے ہے، کس لیے ہے؟ مذمت کے لیے۔
معلوم ہوا معرفہ کے اندر صفت توضیح کے لیے آتی ہے لیکن کبھی کبھار معرفہ کے اندر صفت مدح یا ذم کے لیے بھی آ جاتی ہے، کس لیے؟ مدح یا ذم کے لیے بھی۔ میں آپ سے کہتا ہوں: "جاءني زيد العالم"، میرے پاس وہ زید آیا جو عالم ہے، میرے پاس وہ زید آیا جو عالم ہے۔ اب آپ بتائیے، یہ العالم صفت یہ توضیح کے لیے ہے یا مدح کے لیے ہے؟ تو یاد رکھیے، پتہ کیسے چلے گا کہ کوئی صفت مدح کے لیے ہے یا ذم کے لیے، یا وہ توضیح کے لیے ہے معرفہ کے اندر؟ تو یاد رکھیے، اگر سننے والے کو صفت کا پہلے سے علم ہے پھر متکلم اس صفت کو لے کر آتا ہے تو معلوم ہوا پھر وہ توضیح کے لیے نہیں ہے بلکہ مدح یا ذم کے لیے ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا: "جاءني زيد العالم"، میرے پاس وہ زید آیا جو عالم ہے، اب اگر آپ کو پہلے علم نہیں تھا کہ وہ زید کیا ہے؟ عالم ہے، تو یہ صفت ہوئی توضیح کے لیے، اس نے وضاحت کر دی اور غیر عالم ہونے کے احتمال کو ختم کر دیا، معلوم ہوا زید کیا ہے؟ عالم ہے۔ لیکن اگر آپ کو پہلے سے ہی پتہ تھا کہ زید عالم ہے اور میں پھر آپ کو کہہ رہا ہوں: "جاءني زيد العالم"، تو اب معلوم ہوا یہ صفت بطورِ مدح کے لیے میں لایا ہوں بھئی، کس لیے لایا ہوں؟ مدح کے لیے، تعریف کے طور پر لایا ہوں، اس لیے کیونکہ یہ توضیح کا تو فائدہ دے نہیں رہی، توضیح کا فائدہ تب ہوتا اگر آپ کو علم نہ ہوتا۔
تو یاد رکھیے، معرفہ میں صفت قبل العلم ہو تو وہ توضیح کے لیے ہو گی، اور بعد العلم ہو تو وہ مدح یا ذم کے لیے ہو گی۔ معرفہ میں صفت قبل العلم سے پہلے اگر سننے والے کو اس کا علم نہیں تھا تو وہ کس لیے ہو گی؟ توضیح کے لیے۔ "جاءني زيد العالم"، اگر آپ کو زید کے عالم ہونے کا علم نہیں تھا تو پھر یہ کس لیے ہوئی؟ اب آپ کو پتہ پہلے تو آپ کو پتہ نہیں تھا زید عالم ہے، اب کیا پتہ لگا؟ کہ زید عالم ہے، تو یہ کس لیے ہوئی؟ توضیح کے لیے۔ تو قبل العلم صفت کس لیے ہوتی ہے؟ توضیح کے لیے یعنی جب تک آپ کو علم نہیں تھا یہ توضیح کے لیے۔ اب جب آپ کو پتہ ہے پھر میں کہوں "جاءني زيد العالم"، تو اب یہ صفت کس لیے ہوئی؟ مدح کے لیے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو صفت قبل العلم ہو یعنی سننے والے کو اس کا پتہ نہیں تھا تو یہ کس لیے ہو گی؟ توضیح کے لیے، اگر آپ کو صفت کا پہلے پتہ نہیں تھا تو معلوم ہوا اب آپ کو پتہ لگ گیا تو یہ توضیح کے لیے ہوئی، اور اگر آپ کو پہلے سے ہی پتہ تھا پھر بھی میں صفت لے کر آیا معلوم ہوا یہ توضیح کے لیے نہیں ہے بلکہ کس لیے ہے؟ مدح کے لیے یعنی تعریف کرنے کے لیے ہے، اگر مدح والی ہو، یا مذمت کے لیے ہو گی اگر مذمت والی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔
"والمدح" اور مدح کے لیے "نحو: حضر خالد الهمام"، حاضر ہوا وہ خالد جو سردار ہے، وہ خالد جو سردار ہے۔ تو اگر یہ سردار ہونا آپ کو پہلے پتہ نہیں تھا اب آپ کو پتہ چل گیا کہ خالد تو کیا ہے؟ سردار ہے، تو معلوم ہوا یہ صفت توضیح کے لیے ہے، اس نے وضاحت کر دی ہے۔ لیکن اگر آپ کو پہلے سے ہی پتہ ہے کہ خالد تو ہے سردار اور میں پھر کہہ رہا ہوں "حضر خالد الهمام"، تو یہ معلوم ہوا یہ صفت کس لیے میں لے کر آیا ہوں؟ مدح کرنے کے لیے، اس کی تعریف کرنے کے لیے میں لے کر آیا ہوں کہ وہ سردار ہے یا وہ سخی ہے بھئی، دونوں معنی اس کے آتے ہیں۔ تو یہ تو مدح کی مثال تھی۔
"والذم" اور ذم، مذمت، اچھا بھئی، یاد رکھیے، یہ جو مدح اور ذم ہے صفت کبھی کبھار مدح یا ذم کے لیے بھی لاتے ہیں، مدح یا ذم۔
مثلاً دیکھیے بھئی، "بسم الله الرحمن الرحيم"، لفظِ اللہ مجرور ہے تو الرحمن صفت بھی کیا ہے؟ مجرور، الرحيم صفت بھی کیا ہے؟ مجرور، مجرور۔ یاد رکھیے، کبھی مدح کے طور پر صفت کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر رفع یا نصب پڑھ دیتے ہیں۔ کلامِ عرب میں کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ توجہ ہے بھئی؟ صفت ہوتی ہے اس پر وہی اعراب آنا چاہیے جو موصوف پر آیا تھا، لیکن کہنے والا کیا کرتا ہے؟ اس صفت پر موصوف کے مطابق اعراب نہیں پڑھتا بلکہ اس پر نصب پڑھ دیتا ہے یا اس پر رفع پڑھ دیتا ہے۔ مثلاً: "بسم الله الرحمن الرحيم"، الرحمنِ، نون کے نیچے کیا پڑھنا ہے؟ کسرہ، لیکن مدح کے طور پر کوئی اس کو کس طرح پڑھتا ہے؟ "الرحمنَ الرحيمَ"، "بسم الله الرحمنَ الرحيمَ"۔ بسم الله، لفظِ اللہ تو موصوف ہے وہ تو اسی طرح ہے، آگے صفت کیا تھی؟ الرحمنِ، الرحيمِ، وہ بھی کیا ہونی چاہیے؟ مجرور ہونی چاہیے لیکن متکلم کیا کرتا ہے؟ اس پر نصب دونوں پر نصب پڑھ دیتا ہے، وصفیت سے کاٹ کر ان پر نصب پڑھ دیتا ہے: "الرحمنَ الرحيمَ"۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو عربی زبان میں کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ بطورِ مدح کے صفت کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر نصب پڑھ دیتے ہیں اور کبھی اسی طرح اس پر رفع پڑھ دیتے ہیں۔ نصب کی حالت میں کیسے پڑھیں گے بسم اللہ؟ "بسم الله الرحمنَ الرحيمَ"۔ اسی پر رفع بھی پڑھ دیتے ہیں بعض اوقات بطورِ مدح کے: "بسم الله الرحمنُ الرحيمُ"، "الرحمنُ الرحيمُ"، تو دونوں پر میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ رفع پڑھ رہا ہوں، یہ کس لیے؟ بطورِ مدح کے۔ تھی تو یہ صفت لیکن میں نے صفت سے کاٹ کر اس پر کیا پڑھا؟ رفع پڑھ دیا یا اس پر کیا پڑھ دیا؟ نصب پڑھ دیا۔ تو جیسے یہ مدح کے لیے ہوتا ہے اسی طرح مذمت کے موقع پر بھی ایسا کرتے ہیں: "اعوذ بالله من الشيطان الرجيمِ"، الشيطانِ موصوف ہے، الرجيمِ اس کی صفت ہے۔ تو موصوف ہے مجرور تو صفت کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ مجرور، لیکن میں اس پر مثلاً کیا پڑھ دیتا ہوں؟ نصب: "الشيطانَ الرجيمَ"، یا اس پر میں پیش پڑھ دیتا ہوں: "الشيطانُ الرجيمُ"، تو یہ کس لیے ہے؟ مذمت کے لیے۔
تو کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ بطورِ مدح کے صفت کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر کیا پڑھ دیا جاتا ہے؟ نصب پڑھ دیا نصب پڑھ دیا جاتا ہے یا اس پر کیا پڑھ دیا جاتا ہے؟ رفع پڑھ دیا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور اچھا، پھر ترکیب کیا ہو گی؟ جب نصب پڑھا کیوں نصب پڑھا؟ رفع پڑھا تو کیوں رفع پڑھا؟ تو اس کی وجہ بھی یاد رکھنا۔ جب اس پر ہم نصب پڑھتے ہیں تو یہ مفعول واقع ہوتی ہے "اعني" فعل کے لیے، کس کے لیے؟ اعني، اعنی کا کیا معنی؟ میری مراد یہ ہے، اعنی متکلم کا صیغہ ہے۔ "بسم الله الرحمنَ الرحيمَ"، شروع اللہ کے نام کے ساتھ، "الرحمنَ الرحيمَ"، اعني الرحمنَ الرحيمَ، میری مراد کون ہے؟ میری مراد وہ ذات جو رحمن ہے، وہ ذات جو رحیم ہے۔ تو یہ "اعني" کے لیے مفعول ہوتے ہیں۔ اسی طرح مذمت کے موقع پر: "اعوذ بالله من الشيطان الرجيمَ"، ای کیا معنی؟ الشیطانی اعنی الرجیمَ کہ ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کس سے؟ شیطان مردود سے۔ "اعوذ بالله من الشيطان الرجيمِ"، ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں شیطان مردود سے، تو الشيطانِ موصوف، الرجيمِ اس کی صفت، لیکن یہاں الرجيمَ اگر آپ پڑھیں: "اعوذ بالله من الشيطان الرجيمَ"، ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں شیطان سے، اعني الرجيمَ، میری مراد وہ جو مردود ہے، وہ شیطان جو مردود ہے۔ اور تو یہ تھی نصب کی وجہ۔
اور رفع پڑھتے ہیں اسی پر بھئی مدح اور ذم کی بنا پر، پھر ترکیب میں کیا ہوں گے؟ پھر یاد رکھیے یہ خبر بنیں گے مبتدا ان کا محذوف ہو گا، کیا بنیں گے؟ خبر، اور خبر پر رفع پڑھتے ہیں یا نصب پڑھتے ہیں؟ زید قائم، خبر پر کیا پڑھتے ہیں؟ خبر پر رفع پڑھتے ہیں، تو اس صورت میں یہ خبر۔ تو "بسم الله الرحمنُ الرحيمُ"، تو ترکیب کوئی آپ سے پوچھے تو کیا جواب دیں گے؟ الرحمنُ الرحیمُ پر پیش کیوں پڑھا؟ آپ کیا جواب میں کہیں گے؟ یہ خبر ہے مبتدا محذوف کے لیے، ای هو الرحمنُ، هو الرحيمُ۔
تو کہتے ہیں: "والمدح نحو حضر خالد الهمام"، "والذم" اور ذم، "نحو" مثال کے طور پر: "وامراته حمالة الحطب"۔ "والذم" اور ذم کے لیے، نحو مثال کے طور پر: "وامراته حمالة الحطب"، اور اس کی وہ بیوی حمالة الحطب، حطب کہتے ہیں لکڑیوں کو بھئی، اور اس کی وہ بیوی حمالة الحطب جو لکڑیاں اٹھائے پھرتی ہے، جو لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہے یعنی لکڑیاں اٹھائے پھرتی ہے۔
بھئی یہ یہ سورۂ لہب کے اندر: "سيصلى نارا ذات لهب وامراته حمالة الحطب"۔ ابو لہب یہ حضور علیہ السلام کے چچا تھے لیکن حضور علیہ السلام کو تکالیف دینے میں پیش پیش رہتے بھئی، تو ان کے بارے میں اللہ کیا فرماتے ہیں: "تبت يدا ابي لهب وتب"، برباد ہو جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ، "وتب" اور وہ برباد ہو ہی چکا یعنی اس کا برباد ہونا یقینی ہے، یقینی ہے۔ اسی میں آگے اللہ فرماتے ہیں: "سيصلى نارا ذات لهب"، عنقریب وہ داخل ہو گا بھڑکتی ہوئی آگ میں، بھڑکتی ہوئی شعلوں بھڑکتے ہوئے شعلوں والی آگ میں وہ عنقریب داخل ہو گا، "وامراته" اور اس کی بیوی بھی، "حمالة الحطب" جو لکڑیاں اٹھائے پھرتی ہے۔
اب یہاں دیکھیے: "وامراته" یہ ہے موصوف اور "حمالة الحطب" یہ ہے اس کی صفت، اور موصوف مرفوع ہو تو صفت پر بھی کیا پڑھتے ہیں؟ رفع پڑھتے ہیں۔ تو وامراته مرفوع ہے تو ہونا کیا چاہیے؟ حمالةُ الحطب، لیکن یہاں کیا پڑھا گیا؟ "حمالةَ الحطب" نصب پڑھا گیا، وہ اسی ذم کی بنا پر ہے جو میں نے ابھی بیان کیا کہ کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ مدح یا ذم کی بنا پر نصب یا رفع پڑھ دیا جاتا ہے۔ تو یہ ترکیب میں کس طرح ہو گا؟ وامراته اعني حمالة الحطب، اور ان کی وہ بیوی بھی، میری مراد وہ ہے جو لکڑیاں اٹھائے پھرتی ہے۔
بھئی یہ لکڑیاں اٹھائے پھرتی ہے اس کا کیا معنی ہے؟ مفسرین حضرات نے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ اس میں اس کے بخل کی طرف، بخیل ہونے کی طرف اور کنجوس ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ بڑے مالدار تھے بھئی، یہ بڑے مالدار تھے اور لیکن اس کے باوجود یہ بیوی اس کی ان کی اتنی بخیل تھی، اتنی کنجوس تھی کہ لکڑیاں بھی خود جنگل سے اکٹھی کر کے لاتی تھی بھئی تاکہ کسی اور کو کچھ نہ دینا پڑے، میں خود ہی یہ لے آؤں بھئی، تو اتنی بخیل تھی، تو بخل کی طرف اشارہ ہے۔ اور وہ بیوی جو لکڑیاں اٹھائے پھرتی ہے۔ اور بعضوں نے کہا یہ اشارہ ہے کہ یہ جو لکڑیاں لاتی تھی تو اس میں سے کانٹے دار لکڑیاں جو ہیں وہ چن چن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں ڈال دیا کرتی تھی ان کو تکلیف دینے کے لیے، تو یہ اس کی طرف اشارہ ہے جو لکڑیاں اٹھائے پھرتی ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یا تو بعضوں نے کہا کس کی طرف اشارہ؟ بخل کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی کسی اور سے کام وغیرہ نہیں کرواتی کہ کچھ دینا نہ پڑے بلکہ خود لکڑیاں مالدار ہونے کے باوجود لکڑیاں لینے خود جاتی ہے جنگل میں۔ اور بعضوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں کانٹے بچھایا کرتی تھی اس کی طرف اشارہ ہے۔ بعضوں نے کہا یہ آخرت کی حالت کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں یہ اس طرح جہنم میں داخل ہو گی بھئی، جہنم میں اس صورت میں۔ اور بعضوں نے کہا کہ یہ کنایہ ہے چغل خور ہونے سے، کس چیز سے؟ چغل خور۔ چغل، چغلی کسے کہتے ہیں بھئی؟ کیا معنی ہوتا ہے چغلی کرنے کا؟ ایک کی بات دوسرے کو جا کر بتانا یعنی ایک کو دوسرے کے خلاف بھڑکانا، یعنی لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانا، ایک کی بات ادھر بتانا، دوسرے کی ادھر بتانا، ان کو آپس میں فتنہ و فساد پیدا کرنا، یہ کیا ہے؟ چغلی ہے بھئی، چغلی ہے۔ تو یہ بھی چغلیاں لگاتی پھرتی تھی بھئی، چغلیاں لگاتی پھرتی تھی، تو پھر یہ "حمالة الحطب" کے ذریعے کنایہ ہوا کس چیز سے؟ چغل خور ہونے سے، اور اس کی وہ بیوی بھی جو چغلی کھاتی پھرتی ہے، جو چغل خوری کرتی پھرتی ہے۔
بھئی کیا معنی لکڑیاں اٹھائے پھرنے سے کنایہ چغل خور ہونا کیسے ہوا؟ ذکر کیا ہے؟ لکڑیاں اٹھائے پھرنا، اور مراد کیا ہے؟ چغل خور ہونا، کیسے کنایہ ہوا؟ بعض نے یہ کہا نا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ چغل خور ہونا۔ کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ یہ ایندھن سر پہ اٹھائے پھرتی ہے تاکہ جہاں موقع ملے آگ لگاؤں بھئی، جہاں موقع ملے کیا کروں؟ آگ لگاؤں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ یعنی ہر جگہ ایندھن سر پر ہوتا ہے یعنی موقع ڈھونڈتی ہے کہاں پر میں فتنہ و فساد برپا کروں، چغلی چغلیاں کرتی ہے اور اس کے لیے فتنہ و فساد برپا کرتی ہے، یعنی دوسرے لفظوں میں یوں کہے ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے کہ جہاں موقع ملے اور آگ لگا دے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اب معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بعضوں نے یہ معنی کیا۔
"والترحم" اور کبھی صفت کس لیے لائی جاتی ہے؟ ترحم کے لیے، رحم کے لیے، "نحو" مثال کے طور پر: "ارحم الى خالد المسكين"، "ارحم الى خالد المسكين"، کوئی شخص وہ اللہ سے دعا کر رہا ہے اور اس کا نام خالد ہے تو وہ اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے کیا کہتا ہے؟ "ارحم الى خالد المسكين"، اے اللہ رحم فرما کس پر؟ اس خالد پر جو مسکین ہے، اس خالد پر جو مسکین ہے۔ اب دیکھیے معرفہ کی صفت آئی، خالد معرفہ اور اس کی صفت المسكين آئی، اور معرفہ میں صفت کس لیے ہوتی ہے؟ توضیح کے لیے، اور توضیح کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اشتراک کو ختم کرنا تاکہ دوسرے کو پتہ چل جائے کہ کون سا والا خالد مراد ہے۔ یا توضیح کا کیا معنی ہوتا ہے؟ غیر کے احتمال کو ختم کرنا تاکہ سننے والے کو پتہ چل جائے کہ خالد مسکین ہے، غیر مسکین نہیں۔ لیکن یہاں وہ دعا کر رہا ہے اور خطاب کس سے ہے؟ اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے، اور اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کو جاننے والے ہیں، لہٰذا یہاں صفت توضیح کے لیے نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ خالد کیا ہے؟ مسکین ہے، تو لہٰذا یہ صفت توضیح کے لیے نہیں، پھر یہ کس لیے ہے؟ تو یہ ترحم کے لیے ہے، کس لیے؟ ترحم کے لیے اس نے اپنی صفت مسکین ذکر کی تاکہ اللہ اس پر رحم فرما دیں اور اس کو معاف فرما دیں، مغفرت فرما دیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کبھی صفت ترحم کے لیے ہو گی نحو: "ارحم الى خالد المسكين"۔ ہاں اسی میں یوں بھی پڑھ سکتے ہیں: "ارحم الى خالد المسكينَ"، نصب بھی پڑھ سکتے ہیں، اور رفع بھی پڑھ سکتے ہیں: "ارحم الى خالد المسكينُ"، تو ترحم کے لیے بھی کبھی نصب اور رفع پڑھا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح بھئی؟ تو معلوم ہوا کلامِ عرب میں کبھی صفت کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر موصوف والا اعراب نہیں پڑھتے بلکہ کیا پڑھ دیتے ہیں؟ نصب یا رفع پڑھتے ہیں، اور یہ رفع اور نصب کس لیے پڑھا جاتا ہے؟ یا تو مدح کے لیے بطورِ مدح کے، یا بطورِ مذمت کے ہو گا اور کبھی کس لیے ہو گا؟ ترحم کے لیے ہو گا بھئی۔ تو یہ ہیں صفات کے لانے کے کچھ فائدے جو انہوں نے ذکر کر دیے، تو جب ان میں سے کوئی فائدہ آپ کا مقصد ہو تو آپ اسی کے مطابق تابع کو اپنے کلام میں لے کر آئیں بھئی، کیونکہ یہ کس کا معنی ہو گا؟ تابع یہ معنی ادا کر رہا ہے اور یہی معنی آپ دوسرے کو پہنچانا چاہتے ہیں تو یہ معنی تو تابع ادا کر رہا ہے تو اسی کو آپ کو بھی استعمال کرنا پڑے گا اپنے کلام میں۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔