Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-050

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔50 وَأَمَّا النَّوَاسِخُ فَالـتَّقْيِيدُ بِهَا يَكُونُ لِلْأَغْرَاضِ الَّتِي تُؤَدِّيهَا مَعَانِي أَلْفَاظِ النَّوَاسِخِ كَالِاسْتِمْرَارِ أَوِ الْحِكَايَةِ عَنِ الزَّمَنِ فِي كَانَ وَالتَّوْقِيتِ بِزَمَنٍ مُعَيَّنٍ فِي ظَلَّ وَبَاتَ وَأَصْبَحَ وَأَمْسَى وَأَضْحَى۔ گزشتہ سبق میں ہم نے اطلاق اور تقیید کا باب شروع کیا تھا، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جملے کے دو جز ہوا کرتے ہیں، ایک کو مسند کہتے ہیں دوسرے کو مسند الیہ۔ بعض اوقات مسند اور مسند الیہ صرف ذکر ہوتے ہیں اور کوئی لفظ جملے میں ذکر نہیں ہوتا تو پھر اس صورت میں یہ کیا ہوں گے؟ یہ مطلق ہوں گے۔ اور بعض اوقات مسند اور مسند الیہ کے ساتھ ساتھ ان کا کوئی متعلق بھی ساتھ جملے میں ذکر ہوتا ہے، تو اس صورت میں یہ کیا ہوں گے؟ مقید ہوں گے بھئی، یعنی ان کے ساتھ وہ قید موجود ہو گی۔ اور پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کلام کو مطلق کہاں لائیں گے؟ کلام کو مقید کہاں لائیں گے؟ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جہاں کہنے والے کی غرض یہ ہو کہ وہ اپنے کلام کو مقید نہ کرے تاکہ سننے والا جس راستے پر چلنا چاہے وہ چل سکے، تو وہ مقام ہے اطلاق کا۔ وہاں پر وہ کلام کیسا لایا جائے؟ مطلق لایا جائے، قید نہ لائی جائے۔ اور بعض اوقات متکلم کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کلام کو مقید کرنا چاہتا ہے کسی خاص چیز کے ساتھ، خاص طریقے پر کہ اگر اس چیز کی رعایت نہ رکھی جائے تو مطلوبہ فائدہ ہی فوت ہو جائے گا، کلام وہ فائدہ ہی نہیں دے گا جو اس سے مطلوب ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے تقیید کا مقام، ایسے مقام پر مقید کلام لایا جاتا ہے۔ پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کلام کو مقید کیا جاتا ہے مفعولوں کے ساتھ، جو پانچ مفاعیل آپ پڑھ چکے۔ اسی طرح جو ان جیسی چیزیں ہیں یعنی حال، تمیز اور استثناء وغیرہ ہے۔ اسی طرح نواسخ ہیں، اسی طرح شرط ہے، نفی ہے اور توابع ہیں، یعنی صفت ہے، تاکید ہے، عطف بیان ہے، بدل وغیرہ۔ ان کے ساتھ کلام کو کیا کیا جاتا ہے؟ مقید کیا جاتا ہے، یہ سب قیدیں ہیں، یہ سب۔ پھر ان کے فائدے ذکر کیے تھے کہ مفعولوں کے ساتھ کلام کو مقید کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے کیا کیا فائدے ہوتے ہیں؟ تو بتلایا تھا کہ مفعول بہ کے ساتھ اس لیے کلام کو مقید کیا جاتا ہے تاکہ سننے والے کو یہ بتلایا جائے کہ یہ فعل کس پر واقع ہوا ہے۔ بعض اوقات مفعول مطلق کے ساتھ قید کیا جاتا ہے کلام کو تاکہ سننے والے کو پتہ چلے کہ یہ کس نوع کا فعل ہے؟ کس نوع کا فعل ہے یا اس کا عدد بیان کرنے کے لیے وغیرہ بھئی۔ جی، تفصیل گزشتہ سبق میں بیان ہو چکی۔ اور پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو قیدیں ہوتی ہیں کلام کے اندر، یہ جو اوپر جتنی چیزیں ذکر ہوئیں یہ ہیں قیدیں، اور یہ قیدیں جو ہیں وہ ان پر کلام کے فائدے کا مدار ہوتا ہے، یعنی کلام کے فائدے کا دارومدار کس پر ہوتا ہے؟ قیدوں پر۔ اگر قید ہے تو وہ کلام فائدہ دے گا، اور اگر اس قید کو اٹھا دیا جائے تو پھر یا تو وہ کلام ہی سرے سے کاذب ہو جائے گا یا پھر وہ مطلوبہ فائدہ اس سے حاصل نہیں، یعنی بعض اوقات کلام ہی کاذب ہو جائے گا یا بعض اوقات کلام کاذب تو نہ رہے گا لیکن وہ بالذات مقصود نہ ہو گا بھئی، بالذات مقصود۔ مثلاً مثال میں نے ذکر کی تھی ایک شخص کہتا ہے: لَا آكُلُ خُبْزًا بَارِدًا، اب یہ بَارِدًا قید ہے، اس بَارِدًا کو اٹھا دیں تو پھر تو کیا کلام رہ گیا؟ لَا آكُلُ خُبْزًا، تو یہ تو اس کا مقصود ہی نہیں تھا، تو دیکھو قید کو اٹھایا تو کلام مقصود ہی نہ رہا۔ کہنے والا یہ تو نہیں کہنا چاہتا کہ میں روٹی نہیں کھاؤں گا، وہ تو کیا کہنا چاہتا ہے؟ مثلاً کہ میں ٹھنڈی روٹی نہیں کھاؤں گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مفاعیل اور اس جیسی جو چیزیں ہیں ان کے فائدے ذکر ہو گئے، ان کے ساتھ کلام کو کیوں مقید کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دوسری چیز آئی تھی: نواسخ، پھر اس کے بعد شرط ہے، اس کے بعد نفی ہے، اس کے بعد توابع ہیں، یہ ساری قیدیں ہیں۔ ان سب کے الگ الگ فائدے ذکر کرتے جائیں گے۔ تو سب سے پہلے مفاعیل ونحوها اور اس جیسی جو چیزیں ہیں حال، استثناء، تمیز وغیرہ، ان کے فائدے ذکر کر دیے۔ اب نواسخ کا بیان کرنے لگے ہیں کہ نواسخ کیا ہیں اور ان کے ساتھ کلام کو کیوں مقید کیا جاتا ہے، اس کے کیا کیا فائدے ہوتے ہیں؟ میں پہلے بھی بتلا چکا گزشتہ سبق میں: نواسخ سے مراد وہ افعال یا وہ حروف جو مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں اور ان کے مبتدا ہونے کو منسوخ کر دیتے ہیں، اور خبر اس کو مبتدا کی خبر نہیں رہنے دیتے بلکہ اپنی خبر وغیرہ بنا لیتے ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ نواسخ۔ تو دیکھو یہ منسوخ کر دیتے ہیں چونکہ مبتدا کا مبتدا ہونا اور خبر کا خبر ہونا، اس لیے ان کو نواسخ کہتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ، تو میں نے اس جملے میں قیام کس کے لیے ثابت کیا؟ زید کے لیے۔ تو زَيْدٌ ہوا مبتدا، قَائِمٌ ہوئی اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا اور اس جملے کے اندر قیام زید کے لیے ثابت ہے۔ اسی پر بعض اوقات میں کان داخل کروں گا اور یوں کہوں گا: كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا، كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا۔ اب اس کان نے کیا کام کیا؟ اس نے زَيْدٌ کو، زَيْدٌ پہلے مبتدا تھا، اب اس کو مبتدا نہیں کہیں گے، اس کو کان کا اسم کہیں گے۔ اور خبر جو تھی قَائِمٌ، یہ پہلے مبتدا کی خبر تھی لیکن اب اس کو مبتدا کی خبر نہیں کہیں گے بلکہ اب کیا کہیں گے؟ کان کی خبر کہیں گے۔ تو دیکھو اس نے مبتدا کے مبتدا ہونے کو اور خبر کے خبر ہونے کو منسوخ کر دیا، اس لیے ان کو نواسخ کہتے ہیں۔ نواسخ جمع ہے کس کی؟ ناسخ کی۔ تو یہ منسوخ کرنے والے ہیں، ناسخ ہیں۔ اچھا، تو دیکھیے: كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا، زید کھڑا تھا۔ اب بھی قیام کس کے لیے ثابت؟ زید ہی کے لیے ثابت ہے لیکن کس زمانے میں؟ زمانہ ماضی میں۔ یہ زمانہ ماضی والا ترجمہ کہاں سے آیا؟ کان سے۔ تو دیکھو کان وغیرہ یہ جو نواسخ ہیں یہ جب جملے پر داخل ہوتے ہیں اس کے معنی کو اپنا اثر دے دیتے ہیں۔ کلام معنی اسی طرح رہتا ہے، یعنی وہ خبر مبتدا ہی کے لیے ثابت ہے، جیسے: زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ قَائِمٌ کس کے لیے ثابت تھا؟ زید کے لیے۔ تو كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا، اب بھی یہ قَائِمًا کس کے لیے ثابت ہے؟ زید کے لیے۔ تو وہ خبر ابھی بھی ثابت تو مبتدا ہی کے لیے ہے لیکن انہوں نے اپنے معنی کا اثر دے دیا۔ زَيْدٌ قَائِمٌ کا معنی صرف کیا تھا؟ زید کے لیے قیام ثابت ہے، لیکن کان جب داخل ہوا اس نے کیا فائدہ دیا؟ اس نے اپنے معنی کا اثر بھی جملے میں ڈال دیا۔ اب زید کے لیے قیام ثابت ہے یہ ترجمہ نہیں کریں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ زید کے لیے قیام ثابت تھا، یعنی زمانہ ماضی میں۔ تو کان نے اپنے معنی کا اثر جملے پہ ڈال دیا، اپنے معنی کا اثر دے دیا جملے کو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا اسی طرح دیکھ لیجیے افعال قلوب ہیں، افعال قلوب۔ زَيْدٌ قَائِمٌ یہ ایک جملہ ہے، اس پر ذرا افعال قلوب میں سے مثلاً علمت، علمت لے آئیں: عَلِمْتُ زَيْدًا قَائِمًا، یا اس کی اور دوسری مثال: عالما لگا لیں ساتھ، عَلِمْتُ زَيْدًا عَالِمًا۔ تو پہلے تھا: زَيْدٌ عَالِمٌ، اب کیا آیا؟ علمت۔ اور علمت نے کیا کیا؟ مبتدا کو اپنا مفعول اول بنا دیا، دیکھو زَيْدٌ اب نہیں پڑھ رہے، اب زَيْدًا پڑھ رہے ہیں: عَلِمْتُ زَيْدًا، یہ مفعول بنا لیا، اور جو عَالِمًا ہے، عَالِمًا کو اپنا مفعول ثانی بنا لیا، دوسرا مفعول بنا دیا۔ پہلے کیا تھا؟ زَيْدٌ بھی مرفوع، عَالِمٌ اس کی خبر بھی مرفوع، اب کیا پڑھ رہے ہیں؟ عَلِمْتُ زَيْدًا عَالِمًا، زَيْدًا مفعول اول، عَالِمًا مفعول ثانی۔ تو اس نے دونوں کو اپنا مفعول بنا لیا۔ اب ان کو مبتدا خبر نہیں کہیں گے بلکہ زَيْدًا کو کہیں گے یہ علمت کا مفعول اول ہے اور عَالِمًا کو کیا کہیں گے؟ یہ علمت کا مفعول ثانی ہے۔ تو اب معنی کیا ہوا؟ علمت، میں نے جانا، کیا جانا؟ کہ زید عالم ہے۔ میں نے جان لیا کہ زید عالم ہے، میں نے یقین کر لیا کہ زید عالم ہے۔ اب مجھے بتائیے، یہ عالم ہونا کس کے لیے ثابت ہے؟ زید کے لیے۔ تو دیکھو جیسے زَيْدٌ عَالِمٌ کے اندر یہ عالم ہونا زید کے لیے ثابت تھا، تو عَلِمْتُ زَيْدًا عَالِمًا اس میں بھی عالم ہونا کس کے لیے ثابت ہے؟ زید ہی کے لیے ثابت ہے۔ ہاں علمت نے اپنے معنی کا فائدہ دیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو یہ بھی جو ہیں، یہ جو نواسخ ہوتے ہیں یہ قید ہوا کرتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ قید۔ یعنی جیسے پہلے ان کے بغیر تھا: زَيْدٌ قَائِمٌ یا زَيْدٌ عَالِمٌ، ان میں جیسے قیام پہلے زید کے لیے تھا یا عالم ہونا پہلے زید کے لیے تھا، ان افعال کے داخل ہونے کے بعد پھر بھی وہ عالم ہونا یا قائم ہونا زید ہی کے لیے ثابت ہے۔ ہاں البتہ انہوں نے اپنے معنی کا اثر دے دیا۔ بتلا دیا: عَلِمْتُ زَيْدًا عَالِمًا، کیا معنی؟ کہ یہ زید کے لیے جو عالم ہونا ہے یہ کس طریقے پر ہے؟ یقین کے طریقے پر ہے۔ کس طریقے پر؟ بھئی دیکھیے یہ افعال قلوب ہیں نا، افعال قلوب میں سے آپ نے پڑھا ہے، بعض یقین کے لیے آتے ہیں اور بعض شک اور گمان کے لیے آتے ہیں۔ اگر اسی کی جگہ ہوتا: ظَنَنْتُ زَيْدًا عَالِمًا، کیا معنی ہوتا؟ میں نے گمان کیا، میں نے خیال کیا کہ زید عالم ہے۔ اور علمت کا کیا معنی؟ میں نے جان لیا، یعنی میں نے یقین کر لیا، اعتقاد کر لیا، یعنی مان لیا۔ کیا کہیں؟ مان لیا گویا یوں کہیں، تو یہ یقین کے لیے آتا ہے۔ تو دیکھو عَلِمْتُ زَيْدًا عَالِمًا، عالم ہونا اب بھی ثابت ہے زید کے لیے لیکن کس طریقے پر؟ یقین کے طریقے پر۔ اسی کی جگہ اگر ہوتا: ظَنَنْتُ زَيْدًا عَالِمًا، عالم ہونا اب زید کے لیے ثابت ہے لیکن کس طریقے پر؟ گمان کے طریقے پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ گمان کے طریقے پر۔ تو یاد رکھیے یہ سارے نواسخ ہیں: افعال ناقصہ جو مبتدا کے مبتدا اور خبر کے خبر ہونے کو منسوخ کر دیتے ہیں۔ افعال قلوب: عَلِمْتُ زَيْدًا عَالِمًا، یہ افعال قلوب یہ بھی کیا کرتے ہیں؟ مبتدا کے مبتدا ہونے اور خبر کے خبر ہونے کو منسوخ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح افعال مقاربہ ہیں، جو کسی فعل کے قریب ہونے پر دلالت کرتے ہیں: كَادَ زَيْدٌ أَنْ يَكْتُبَ، قریب ہے کہ زید لکھنے لگے۔ كَادَ زَيْدٌ أَنْ يَكْتُبَ، تو دیکھو یہ قریب ہونے پر دلالت کر رہا ہے، قریب ہونے پر۔ سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح إن وغیرہ بھی ہیں بھئی۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، اسی پر ذرا إن لے آؤ: إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ، اب زَيْدًا إن کا اسم کہلائے گا اور قَائِمٌ إن کی خبر، تو یہ بھی نواسخ میں سے ہے۔ لیکن یہاں پر وہ صرف وہ نواسخ بیان کر رہے ہیں جو افعال ہیں، جو کیا ہیں؟ افعال۔ اور وہ کون سے ہیں؟ افعال ناقصہ ہیں، کان وغیرہ۔ افعال قلوب ہیں: علمت، وجدت، ظننت وغیرہ۔ اور افعال مقاربہ ہیں: كاد، كرب، أوشك وغیرہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ بیان کر رہے ہیں۔ تو ان کا میں نے کیا بتلایا یہ کیا کرتے ہیں؟ مبتدا کے مبتدا ہونے کو منسوخ کر دیتے ہیں اور خبر کے، بعض ان میں سے پھر کیا کرتے ہیں؟ مبتدا کو اپنا اسم بنا لیتے ہیں اور خبر کو اپنی، پہلے وہ مبتدا کی خبر تھی اب اپنی خبر بنا لیتے ہیں، اور بعض ان میں سے کیا کرتے ہیں؟ مبتدا کو اپنا مفعول اول بنا لیتے ہیں اور خبر کو اپنا مفعول ثانی بنا لیتے ہیں۔ تو بہرحال جو بھی عمل کریں، وہ جو خبر تھی وہ خبر اب بھی اسی مبتدا ہی کے لیے ثابت ہے، لیکن انہوں نے اپنے معنی کا اثر دے دیا اس میں، کیا کیا؟ اپنے معنی کا یہ اثر دے دیتے ہیں۔ تو یہ ہیں نواسخ بھئی، یہ مبتدا کے مبتدا ہونے اور خبر کے خبر ہونے کو کیا کر دیتے ہیں؟ منسوخ کر دیتے ہیں، یعنی وہ خبر اب مبتدا کی خبر نہیں رہتی بلکہ ان کی خبر بن جاتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ان کے ساتھ مقید کیا جاتا ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، اسی پر کبھی کان لے آئیں گے۔ زَيْدٌ عَالِمٌ، اسی پر کبھی علمت یا ظننت لے آئیں گے۔ یا مثلاً کیا تھا؟ كَادَ زَيْدٌ أَنْ يَكْتُبَ، یہاں کاد کو لے آئے۔ بھئی کیوں لے کر آئے؟ مقصد کیا ہے ان افعال کے لانے کا؟ ان کے ساتھ کلام کو کیوں مقید کیا جاتا ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ اپنے معنی کا اثر دیتے ہیں کلام کو، اور متکلم بھی چاہتا ہے کہ ان کے معنی کو بھی اپنے کلام میں لے آئے، کیا کرے؟ ہاں، وہ صرف زَيْدٌ قَائِمٌ نہیں بتلانا چاہتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتلانا چاہتا ہے کہ یہ زید کے لیے قیام زمانہ ماضی میں تھا، اور یہ زمانہ ماضی والا ترجمہ تو کون ادا کرتا ہے؟ کان ادا کرتا ہے، تو وہ کان اس لیے لے آیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نواسخ کے ساتھ کلام کو مقید کیا جاتا ہے۔ کیوں مقید کیا جاتا ہے؟ کیونکہ متکلم کی غرض کیا ہوتی ہے؟ متکلم کی غرض وہ معنی ہوتا ہے جو ان افعال کا تھا، وہ اس معنی کو بھی دوسرے کو پہنچانا چاہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہ کان کے معنی کو بھی جملے میں لانا چاہتا ہے، تو اس کا یہی طریقہ ہے کان کو لے کر آئے ساتھ۔ وہ علمت کا معنی بھی ساتھ لانا چاہتا ہے، تو اس کا یہی طریقہ ہے کہ علمت کو ساتھ لے کر آئے گا۔ وہ صرف زَيْدٌ عَالِمٌ نہیں کہنا چاہتا، وہ زید کے لیے علم ثابت کرنا چاہتا ہے لیکن یقین کے طریقے پر لانا چاہتا ہے، اس کو بتلانا چاہتا ہے، تو پھر کیا کرے گا؟ وہ تو علمت کا لفظ فائدہ دیتا ہے تو اس کو ساتھ استعمال کرے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی، آسان سی بات ہے کہ متکلم کی غرض ان نواسخ کے الفاظ کا معنی جو ہے وہ ان کو ادا کر رہا ہوتا ہے، اور کوئی لفظ ادا، جب وہی لفظ ہی اس معنی کو ادا کر رہا ہے تو اسی لفظ کو لے آئیں گے یعنی نواسخ والے لفظ کو لے آئیں گے۔ صورت بھی سمجھ آئی کہ مشکل ہو گئی؟ جی؟ جی دیکھیے کتاب پر: وَأَمَّا النَّوَاسِخُ، اور باقی نواسخ جو ہیں: فَالـتَّقْيِيدُ بِهَا، تو ان کے ساتھ مقید کرنا، بِهَا، ہا ضمیر نواسخ ہی کو راجع ہے، تو ان کے ساتھ مقید کرنا یعنی حکم کو کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ ان کے ساتھ مقید کیا جاتا ہے۔ یہ کس لیے؟ يَكُونُ لِلْأَغْرَاضِ الَّتِي، یہ ان غرضوں کے لیے ہو گا: الَّتِي تُؤَدِّيهَا، کہ جن غرضوں کو ادا کرتے ہیں، کون ادا کرتے ہیں؟ مَعَانِي أَلْفَاظِ النَّوَاسِخِ، نواسخ کے الفاظ کے معانی بھئی۔ کون ادا کرتے ہیں؟ نواسخ کے الفاظ کے معانی۔ بھئی دیکھیے، بس صرف لفظ ذرا مشکل ہے بات وہی ہے۔ میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ قیام زید کے لیے ثابت ہے، لیکن اس وقت نہیں، زمانہ ماضی میں قیام زید کے لیے ثابت ہے، اور کس میں؟ زمانہ ماضی میں۔ تو اب یہ زمانہ ماضی والا معنی یہ کون ادا کرتا ہے؟ کان، یعنی یہ کان کا معنی میری غرض ہوئی۔ کان کا معنی؟ جب کان کا معنی میری غرض ہوئی تو وہ تو کان کے لانے سے ہی ادا ہو گا، لہٰذا میں کان کو استعمال کر لوں گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو میری غرض ہی وہ معنی ہو گئی یعنی زمانہ ماضی جو اس فعل کا تھا۔ تو کہتے ہیں: فَالـتَّقْيِيدُ بِهَا يَكُونُ لِلْأَغْرَاضِ الَّتِي تُؤَدِّيهَا مَعَانِي أَلْفَاظِ النَّوَاسِخِ، تو نواسخ جو ہیں ان کے ساتھ مقید کرنا ان غرضوں کے لیے ہو گا کہ ان غرضوں کو ادا کرتے ہیں مَعَانِي أَلْفَاظِ النَّوَاسِخِ۔ نواسخ کے جو الفاظ ہیں ان کے جو معانی ہیں وہ متکلم کی غرض کو ادا کر رہے ہیں۔ نواسخ کے الفاظ کے جو معانی ہیں وہ متکلم کی غرض کو ادا کر رہے ہیں، تو ان معانی کو کیسے لائیں گے؟ وہ کس کا معنی ہے؟ نواسخ کے الفاظ کا معنی ہے، تو ان کو کلام میں لانے کا بھی کیا طریقہ ہے؟ نواسخ کے لفظ کو لے آؤ، جب لفظ آئے گا تو ساتھ کیا آ جائے گا؟ معنی بھی آ جائے گا۔ كَالِاسْتِمْرَارِ، جیسے کہ استمرار ہے۔ جیسے کیا ہے؟ استمرار۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے کان دو قسم پر ہے: ایک کان دائمہ ہے، ایک کان منقطعہ ہے بھئی۔ کان دائمہ ہے اور کان منقطعہ۔ یاد رکھیے: كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا، زید کھڑا تھا، یہ کان منقطعہ ہے۔ معلوم ہوا قیام زید کے لیے ثابت تھا لیکن اس وقت نہیں ثابت، کس زمانے میں ثابت تھا؟ زمانہ ماضی میں قیام زید کے لیے ثابت تھا، ماضی کے زمانے میں زید کھڑا تھا اور پھر منقطع بھی ہو گیا، ختم بھی ہو گیا، اب قیام زید کے لیے ثابت نہیں، معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ اور ایک کان دائمہ ہوتا ہے، وہ دوام کے لیے استعمال ہوتا ہے، دوام بتلاتا ہے، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا، وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا۔ اب دیکھو کان کی خبر آئی سَمِيعًا اور اسی طرح کان کی خبر آئی عَلِيمًا، عَلِيمًا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا، تو اب اس کا یہ ترجمہ نہیں کرنا بھئی کہ اللہ سننے والے تھے زمانہ ماضی میں، وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا اللہ جاننے والے تھے زمانہ ماضی میں، یہ ترجمہ نہیں کرنا، یہ تو کفریہ معنی بن جائے گا بھئی۔ کیونکہ اللہ کی ذات بھی قدیم اور اللہ کی صفات بھی قدیم ہیں۔ یہ بات پہلے بھی میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ ایک ہے قدیم ایک ہے حادث۔ ایک قدیم، ایک اردو والا قدیم ہے جس کا معنی پرانا ہونے کے، وہ معنی نہیں ہے یہاں پر قدیم کا، یہ اصطلاحی لفظ ہے۔ قدیم کا معنی ہے وہ چیز جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، یعنی کوئی زمانہ ایسا نہیں تھا جس میں اس کا وجود نہ ہو بلکہ ہر زمانے میں اس کا وجود تھا، تو اس کو کہتے ہیں قدیم۔ کیا کہتے ہیں؟ قدیم۔ اور حادث اس کی ضد ہے۔ ایسی چیز جس کا پہلے وجود نہ ہو اور پھر وجود ہو جائے، پھر وہ چیز پائی جائے، یہ کیا ہے؟ حادث۔ تو جو چیز قدیم ہو گی وہ حادث نہیں، اور جو حادث ہے وہ قدیم نہیں۔ اور یاد رکھیے، صرف اور صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی جو صفات ہیں وہ قدیم ہیں، باقی جتنی چیزیں آپ کو دکھائی دیتی ہیں یا کائنات کی جتنی چیزیں ہیں چاہے دکھائی نہیں بھی دیتیں وہ سب حادث ہیں بھئی، سب کیا ہیں؟ حادث۔ صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات قدیم ہیں، اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور جب سے اللہ کی ذات ہے تب سے اللہ کی صفات بھی ہیں، تو اللہ کی ذات تو ہمیشہ سے ہے تو اللہ کی صفات بھی ہمیشہ سے ہیں۔ جبکہ باقی جتنی چیزیں ہیں، چاہے یہ انسان ہیں، چاہے یہ دنیا ہے، چاہے چاند ستارے ہیں، چاہے یہ آسمان ہے، چاہے جنت ہے، چاہے جہنم ہے، چاہے فرشتے ہیں، یہ سب چیزیں بھئی، چاہے یہ عرش ہے، جتنی چیزیں ہیں سب حادث ہیں بھئی۔ ان سب کو اللہ نے پیدا فرمایا، ایک زمانہ ایسا تھا کہ جب ان چیزوں کا وجود نہیں تھا۔ تو دیکھو پہلے ان کا وجود نہیں تھا پھر ان چیزوں کا وجود آیا، تو یہ سب چیزیں حادث ہیں۔ کیا ہیں؟ حادث۔ چاہے جتنا بھی زمانہ گزر جائے، کروڑوں سال گزر جائیں، اربوں سال گزر جائیں، کھربوں سال گزر جائیں، لیکن ایک وقت تو ایسا تھا نا جب ان چیزوں کا وجود نہیں تھا، بس اس کو حادث کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو اب یہ جو اللہ کی ذات بھی قدیم اور اللہ کی صفات بھی قدیم، تو وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا، اب اس کا یہ ترجمہ نہیں کرنا کہ اللہ سننے والے، جاننے والے تھے، بلکہ کیا ترجمہ ہے؟ اللہ سننے والے، جاننے والے ہیں۔ اللہ سننے والے اور جاننے والے ہیں۔ تو اس کو کہتے ہیں کان دائمہ۔ یہ دوام بتلاتا ہے، یہ بتلاتا ہے، دیکھیے بھئی، کان کا اسم ہے لفظ اللہ، سَمِيعًا یہ ہے کان کی خبر، یہ کان دائمہ ہے۔ یہ کان یہ بتلا رہا ہے کہ اس کا جو اسم ہے یعنی ذات باری تعالی، اس کے لیے یہ سمیع کی صفت دوام کے طریقے پر ہے، یعنی ہمیشہ کے طریقے پر ہے، اللہ کے لیے ہمیشہ سمیع کی صفت ثابت ہے۔ اسی طرح اگلی خبر آ رہی ہے عَلِيمًا، یہ کان کیا بتلا رہا ہے؟ کہ یہ علیم صفت جو ہے یعنی جاننے والا ہونا، یہ اللہ کے لیے دوام کے طریقے پر ہے یعنی دائماً ہے، ہمیشہ ہے، ہمیشہ۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کان دائمہ۔ تو لہٰذا کان دو قسم پر ہوا: کان منقطعہ اور کان دائمہ۔ کان منقطعہ وہ زمانہ ماضی کے بارے میں بتلائے گا، اور کان دائمہ کیا بتلائے گا؟ ہمیشہ بتلائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہی بیان کر رہے ہیں: كَالِاسْتِمْرَارِ، جیسے کہ استمرار ہے۔ استمرار ہے۔ یہاں استمرار سے مراد استمرار ثبوتی ہے۔ بھئی یہ بات مفصل بیان ہو چکی دوبارہ بیان کر دیتا ہوں، سنیے بھئی۔ میں نے جہاں پر یہ جملے کی اقسام ہم نے پڑھنا شروع کی تھیں کہ ایک جملہ اسمیہ ہوتا ہے ایک جملہ فعلیہ ہوتا ہے، غالباً پہلا باب تھا پہلا باب علم معانی کا، وہاں تفصیل ذکر کی تھی کہ جملہ اسمیہ جو ہے، جملہ اسمیہ وہ ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ مبتدا، قَائِمٌ اس کی خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر کیا بنا؟ جملہ اسمیہ بنا، اور جملہ اسمیہ ثبوت پر دلالت کرتا ہے، یعنی یہ یہ بتلاتا ہے کہ یہ جو خبر ہے یہ اس مبتدا کے لیے ثابت ہے، یعنی زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ خبر کیا ہے؟ قَائِمٌ، یعنی قیام زید کے لیے ثابت ہے۔ قیام زید کے لیے ثابت۔ تو جملہ اسمیہ ثبوت پر دلالت کرتا ہے بس۔ اور ایک ہوتا ہے جملہ فعلیہ، جملہ فعلیہ حدوث اور تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ حدوث اور تجدد کا ایک معنی ہے، عام استعمال ہوتا ہے کتابوں میں، تو تجدد اس سے آپ پریشان نہ ہو جانا، حدوث اور تجدد کا ایک ہی معنی ہے، کبھی دونوں لفظ استعمال ہو جائیں گے، کبھی حدوث ہو جائے گا لفظ استعمال اور کبھی تجدد لفظ، دونوں کا ایک معنی ہے۔ حدوث اور تجدد کا معنی ہے: ایک چیز کا پہلے وجود نہ ہو اور پھر پایا جائے۔ تو حدوث اور تجدد کا معنی ہے: ہونا، کیا معنی؟ ہونا، یعنی ایک چیز پہلے نہیں تھی اور پھر ہوئی، یہ کیا ہے؟ حدوث۔ قَامَ زَيْدٌ، کیا معنی؟ دیکھیے قَامَ فعل اور زَيْدٌ اس کا فاعل، اور یہ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ، اور جملہ فعلیہ حدوث اور تجدد پر دلالت کرتا ہے، کیا بتلاتا ہے؟ کہ قیام زید کے لیے ثابت ہوا، کس زمانے میں؟ زمانہ ماضی میں۔ ہوا، دیکھو اس میں ایک چیز کا ہونا پایا جا رہا ہے، قیام زید کے لیے ثابت ہوا، کس میں؟ زمانہ ماضی میں۔ یا دوسری مثال لے لو: ضَرَبَ زَيْدٌ، کیا بتلایا اس جملے نے؟ زید نے ضرب لگائی۔ معلوم ہوا اس سے پہلے ضرب نہیں تھی، پھر زمانہ ماضی میں زید نے ضرب لگائی اور پھر وہ گزر بھی گئی، یہ کیا ہے؟ حدوث اور تجدد۔ یہ کیا ہے؟ حدوث اور تجدد۔ زَيْدٌ ضَارِبٌ، اس میں دیکھو زید کے لیے یہ ثابت ہے کہ وہ پٹائی کرنے والا ہے۔ اس میں زمانے کا تعلق نہیں، صرف زید کے لیے ضارب کی صفت کا ثبوت ہے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں سمجھ میں آ رہا؟ جملہ اسمیہ صرف کس پر دلالت کرتا ہے؟ ثبوت پر۔ زَيْدٌ ضَارِبٌ، اس جملے نے صرف کیا بتلایا؟ زَيْدٌ ضَارِبٌ، کہ زید کے لیے ضارب ہونے کی صفت ثابت ہے۔ کب ہے، کب نہیں ہے، کوئی تفصیل نہیں اس کے اندر۔ لیکن اسی کے بجائے اگر میں جملہ فعلیہ لے آؤں اور کیا کہوں؟ ضَرَبَ زَيْدٌ، یہ اب حدوث اور تجدد پر دلالت کر رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ پہلے ضرب نہیں تھی، پھر یہ ضرب ہوئی، اور کس زمانے میں تھی؟ زمانہ ماضی میں تھی یعنی اب نہیں ہے یعنی پھر گزر بھی گئی۔ پہلے نہیں تھی پھر ہوئی اور پھر گزر بھی گئی۔ تو پہلے نہیں تھی پھر ہوئی، یہ ہے ہونا ہونا، ایک چیز پہلے نہ ہو پھر ہو، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو جملہ فعلیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث اور تجدد پر۔ اور آپ نے پڑھا تھا، جملہ فعلیہ اگر فعل مضارع ہو تو پھر کبھی یہ استمرار پر بھی دلالت کرتا ہے۔ کس پر؟ استمرار۔ استمرار کا معنی ہے ایک چیز کا بار بار ہونا۔ يَضْرِبُ زَيْدٌ، زید پٹائی کر رہا ہے یا کرے گا یا پٹائی کرتا ہے، جو بھی ترجمہ کر لیں۔ تو یہ اب کیا یہ کون سا جملہ؟ جملہ فعلیہ، يَضْرِبُ زَيْدٌ، فعل مضارع ہے نا، جملہ فعلیہ۔ اور جملہ فعلیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث اور تجدد، لیکن کبھی فعل مضارع ہو تو پھر یہ کس پر دلالت کر دیتا ہے؟ استمرار۔ استمرار کا معنی ہے ایک چیز کا بار بار ہونا۔ اب آپ مجھے بتائیے، ضرب ضرب دوام کے طریقے پر نہیں رہ سکتی، ضرب میں ہمیشہ بار بار ہونا پایا جائے گا۔ مثلاً زید کے پاس ایک چھڑی ہے، اس نے عمرو کو ایک چھڑی ماری زور سے، آپ کہیں گے ضرب پائی گئی، اور ختم بھی ہو گئی یا نہیں؟ ختم ہو گئی۔ پھر دوسری ضرب لگائی، پھر ضرب پائی گئی اور ختم بھی ہو گئی۔ پھر تیسری ضرب لگائی، پھر ضرب پائی گئی اور ختم بھی ہو گئی۔ تو یہ ہے استمرار، ایک چیز کا بار بار ہونا، یہ کیا ہے؟ استمرار۔ تو خلاصہ کلام یہ: جملہ فعلیہ حدوث اور تجدد پر دلالت کرتا ہے، اور اگر اس کے ساتھ کبھی کوئی قرینہ مل جائے تو پھر یہ استمرار پر بھی دلالت کرتا ہے۔ کس پر؟ استمرار پر۔ کہ ایک چیز مسلسل ہے، لیکن مسلسل ایک ہے دوام کے طریقے پر، ایک ہے استمرار کے طریقے پر، دونوں میں فرق سمجھ میں آیا؟ زید کے لیے قیام ثابت ہے دوام کے طریقے پر، معلوم ہوا اس سے جدا نہیں ہے کہ کبھی قیام ہے کبھی قیام نہیں، ایسا نہیں، بلکہ دائماً ہے، کیا ہے؟ دائماً۔ یا یوں دوسری مثال سمجھو: زَيْدٌ طَوِيلٌ، زید لمبا ہے یعنی لمبے قد والا ہے۔ اب دیکھیے یہ زید کے لیے لمبا قد یہ کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا، ایسا ہے یا دوام کے طریقے پر ہے؟ دوام ہے، یعنی جس کے لیے لمبا قد ہے وہ اب دائماً اس کا لمبا ہی قد رہے گا، یہ نہیں کہ کبھی قد چھوٹا ہو جائے کبھی لمبا ہو جائے، تو یہ دوام کے طریقے پر ہے مسلسل۔ اور ایک یہ ضرب بھی ہے، زید پٹائی کر رہا ہے کسی کی، مسلسل، لیکن اب یہ ضرب کس طریقے پر زید کے لیے ثابت ہے؟ یہ استمرار کے طریقے پر، ضرب لگتی ہے ختم ہو جاتی ہے، پھر ضرب لگتی ہے ختم ہو جاتی ہے، پھر ضرب لگتی ہے اور ختم ہو جاتی ہے۔ تو فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ طَوِيلٌ میں کہا تو طویل بھی زید کے لیے مسلسل ثابت ہے، طویل ہونا، لمبا ہونا، لیکن اس میں الگ ہونا بار بار ہونا نہیں پایا جا رہا، لیکن استمرار کے اندر ایک چیز کا بار بار ہونا ہو گا بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو جملہ فعلیہ یہ حدوث اور تجدد پر دلالت کرتا ہے، اور ساتھ کبھی کوئی قرینہ مل جائے تو یہ حدوث اور تجدد کے ساتھ ساتھ استمرار پر بھی دلالت کرتا ہے۔ جبکہ جملہ اسمیہ وہ ثبوت پر دلالت کرتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی قرینہ مل جائے تو پھر وہ دوام پر بھی دلالت کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب ذرا اپنے لفظوں میں بھی دہرا لیجیے۔ جملہ فعلیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث اور تجدد پر۔ اور جملہ اسمیہ؟ جملہ اسمیہ ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔ اور اگر جملہ فعلیہ کے ساتھ قرینہ مل جائے پھر وہ حدوث کے ساتھ ساتھ استمرار پر بھی دلالت کرتا ہے جبکہ فعل مضارع ہو۔ اور جملہ اسمیہ کے ساتھ جب قرینہ مل جائے وہ ثبوت کے ساتھ ساتھ دوام پر بھی دلالت کرے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں پر آیا: كَالِاسْتِمْرَارِ، جیسے کہ استمرار ہے بھئی۔ تو دیکھیے، یرحمک اللہ، تو یہ استمرار سے استمرار ثبوتی مراد ہے، کیا مراد ہے؟ استمرار ثبوتی سے مراد وہی دوام ہے۔ استمرار ثبوتی سے کیا مراد ہے؟ وہی دوام۔ تو یہاں وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا، یہاں اللہ کے لیے استمرار کے طریقے پر سمیع اور علیم ہونے کی صفت ثابت ہے۔ اور كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا، اس میں زید کے لیے قیام کس زمانے میں تھا؟ زمانہ ماضی میں۔ تو کہہ رہے ہیں یہ جو نواسخ ہیں ان کے ساتھ کلام کو مقید کیا جاتا ہے ان غرضوں کے لیے جن کو ان نواسخ کے الفاظ کے معانی ادا کرتے ہیں، جیسے کہ استمرار ہے، تو استمرار کا معنی کون ادا کرے گا؟ کان وغیرہ، کان دائمہ، جیسے: وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا، اس کے لیے لے کر آئے: أَوِ الْحِكَايَةِ عَنِ الزَّمَنِ فِي كَانَ، یا کس لیے؟ زمانے سے حکایت کرنے کے لیے فِي كَانَ، جس کس کے اندر؟ کان، کان کے اندر بھئی۔ اس میں استمرار کے لیے بھی اس کو لاتے ہیں اور زمانے سے زمانے کے بارے میں بتلانے کے لیے، جیسے: كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا، کس زمانے کی بات ہو رہی تھی؟ زمانہ ماضی کی، تو یہ حکایت عن الزمن ہے، یعنی زمانے سے کوئی زمانہ اس میں بیان ہو گا۔ زمانے کی بات ہو گی، حکایت کا کیا معنی؟ بات بھئی۔ كَالِاسْتِمْرَارِ أَوِ الْحِكَايَةِ عَنِ الزَّمَنِ، جیسے کہ استمرار ہے اور زمانے سے حکایت کرنا، زمانے کی بات کرنا فِي كَانَ، کس کے اندر؟ کان کے اندر بھئی، اس میں استمرار بھی ہو گا اور حکایت عن الزمن بھی ہو گی۔ وَالتَّوْقِيتِ بِزَمَنٍ مُعَيَّنٍ، توقیت کا معنی ہے حد بندی کرنا بھئی۔ کیا معنی ہے؟ حد بیان کرنا، حد بیان کرنا۔ یعنی قید کرنا کسی چیز زمانے، وَالتَّوْقِيتِ بِزَمَنٍ مُعَيَّنٍ، اور حد بیان کرنا بِزَمَنٍ مُعَيَّنٍ معین زمانے کے ساتھ۔ بھئی کیا بیان ہو رہا ہے؟ نواسخ کی غرضیں بیان ہو رہی ہیں، نواسخ کے ساتھ کلام کو کیوں مقید کیا جاتا ہے؟ ایک مثال ذکر کر دی جیسے استمرار کبھی مقصود ہو گا، اور استمرار کس کے ذریعے آئے گا؟ کان دائمہ کے ذریعے، یعنی استمرار ثبوتی۔ اور کبھی زمانے سے حکایت کر زمانے کسی زمانے کی بات کر رہے ہوں گے آپ، وہ معنی بھی کون ادا کرتا ہے؟ کان ادا کرتا ہے۔ وَالتَّوْقِيتِ بِزَمَنٍ مُعَيَّنٍ، اور کبھی کبھار آپ معین زمانے کے ساتھ حکایت کے ساتھ مقید کرنا چاہتے ہیں جو چیز بیان کر رہے ہیں۔ توقیت کا معنی: مقید کرنا، حد بیان کرنا، بِزَمَنٍ مُعَيَّنٍ، کس کے ساتھ؟ کسی معین زمانے کے ساتھ آپ حد بیان کرنا چاہتے ہیں ایک چیز کی، اس کو مقید کرنا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے بھی یہ افعال ناقصہ ہی ہیں، جیسے ظل کے اندر بھئی: وَالتَّوْقِيتِ بِزَمَنٍ مُعَيَّنٍ فِي ظَلَّ۔ بھئی ظل کا معنی ہے دن گزارنا، ظا اور لام مشدد بھئی: ظَلَّ۔ ظَلَّ کا معنی؟ دن گزارنا۔ بھئی اب میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ زید نے سارا دن کھڑے ہونے کی حالت میں گزارا، کھڑے ہونے کی حالت میں گزارا۔ تو کیا کہوں گا؟ ظَلَّ زَيْدٌ قَائِمًا، ظَلَّ زَيْدٌ قَائِمًا۔ زید نے کھڑے ہونے کی حالت میں دن گزارا۔ اب دیکھیے، ظَلَّ کا کیا معنی؟ دن گزارنا۔ تو میں نے دیکھو اس میں بھی قیام کس کے لیے ثابت ہے؟ زید کے لیے۔ لیکن ایک معین زمانہ بتلا رہا ہوں، کیونکہ بتلا رہا ہوں دن گزارا، اور دن کسے کہتے ہیں؟ صبح سے لے کر شام تک کا جو معین وقت ہے، اس معین زمانے کی میں بات کر رہا ہوں، رات کی بات نہیں کر رہا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ میں نے زید کے لیے قیام کو ثابت کیا اور معین زمانہ یعنی اس کی حد بیان کر دی کہ آغاز کب سے تھا؟ صبح سے، اور انتہا کب ہوئی؟ شام تک۔ تو یہ ہے توقیت بھئی، مقید کر دیا، اس کی میں نے حد بیان کر دی بھئی قیام کی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح بات کا معنی ہے رات گزارنا: بَاتَ زَيْدٌ قَائِمًا، زید نے کھڑے ہونے کی حالت میں رات گزاری، کھڑے ہوتے ہوئے رات گزاری۔ تو دیکھو بَاتَ، اس نے اپنے معنی کا اثر دے دیا، قیام اب بھی زید کے لیے ثابت ہے لیکن اس کی حد بیان کر دی۔ رات کسے کہتے ہیں؟ سورج غروب ہونے سے لے کر صبح تک کا جو وقت ہے، یہ سارا ہے رات بھئی۔ تو اب میں نے مقید کر دیا کہ زید کے لیے قیام کس معین زمانے میں ثابت تھا؟ رات کے اندر۔ اسی طرح اصبح ہے بھئی: أَصْبَحَ۔ أَصْبَحَ کا معنی: صبح کرنا، صبح کے وقت میں داخل ہونا: أَصْبَحَ زَيْدٌ قَائِمًا، زید نے کھڑے ہونے کی حالت میں صبح کی، یعنی جب صبح ہوئی تو زید کھڑا۔ جب صبح ہوئی تو زید؟ تو زید نے کھڑے ہونے کی حالت میں صبح کی، کیا معنی ہے؟ کہ جب صبح ہوئی تو زید کھڑا تھا۔ تو اب میں کہوں گا اب معین زمانے کے ساتھ میں مقید کر رہا ہوں کہ یہ قیام زید کے لیے رات کو نہیں ثابت، دن کو نہیں ثابت، زمانہ ماضی میں نہیں ثابت، بلکہ ایک معین زمانہ ہے صبح کے وقت میں، اس میں ثابت کرنا چاہتا ہوں تو میں کیا لفظ لے کر آؤں گا؟ أَصْبَحَ لے کر آؤں گا۔ اگر میں ساری رات کی بات کرنا چاہتا ہوں تو کیا لفظ لے کر آؤں گا؟ بَاتَ لے کر آؤں گا۔ اور اگر میں سارے دن کی بات کرنا چاہتا ہوں تو کیا لے کر آؤں گا؟ ظَلَّ لے کر آؤں گا۔ اسی طرح امسی ہے: أَمْسَى۔ أَمْسَى کا معنی ہے شام کرنا، شام کے وقت میں داخل ہونا: أَمْسَى زَيْدٌ قَائِمًا، زید نے شام کی کس حالت میں؟ قیام کی حالت میں، یعنی جب شام ہوئی تو زید کھڑا تھا۔ اسی طرح اضحی ہے: أَضْحَى۔ أَضْحَى ضحیٰ سے ہے، چاشت کا وقت بھئی، جب سورج تھوڑا سا صبح کے وقت اونچا ہو جائے، سمجھ میں آئی بات؟ سورج طلوع ہونے کے بعد تھوڑا سا اونچا ہو جائے، یہ ہے چاشت کا وقت بھئی۔ تو میں اب آپ کو یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ زید چاشت کے وقت کھڑا تھا، تو کیا کہوں گا؟ أَضْحَى زَيْدٌ قَائِمًا، أَضْحَى زَيْدٌ قَائِمًا۔ تو دیکھو اس معین زمانے کے ساتھ اس قیام کو زید کے لیے میں ثابت کرنا چاہتا ہوں اس معین زمانے میں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا جو میری مراد ہو گی وہی والا لفظ میں استعمال کر لوں گا۔ اگر میں مطلقاً بتانا چاہتا ہوں کہ قیام زید کے لیے ثابت ہے تو مطلقاً کہہ دوں گا: زَيْدٌ قَائِمٌ، کوئی قید نہیں لے کر آؤں گا۔ اور اگر میں بتلانا چاہتا ہوں کہ یہ قیام زید کے لیے سارا دن تھا تو اس کے لیے پھر مجھے ظَلَّ استعمال کرنا پڑے گا۔ اگر میں بتلانا چاہتا ہوں کہ یہ قیام زید کے لیے ساری رات تھا تو میں اس کے لیے پھر مجھے بَاتَ کا لفظ استعمال کرنا پڑے گا کیونکہ یہ معنی یہی لفظ ادا کرتا ہے۔ اور اگر میں صرف صبح، شام یا چاشت کے وقت کو بیان کرنا چاہتا ہوں، اس کے ساتھ مقید کرنا چاہتا ہوں اس قیام کو زید کے لیے، تو پھر اس صورت میں أَصْبَحَ، أَمْسَى اور أَضْحَى جیسے لفظ استعمال کرنے پڑیں گے۔ أَوْ بِحَالَةٍ مُعَيَّنَةٍ فِي دَامَ، یا کسی معین حالت کے ساتھ دام کے اندر بھئی۔ دام وہی ما دام بھئی، افعال ناقصہ میں سے ہے۔ اسی کے دام فعل ناقص اسی کے شروع میں ما مصدریہ آ جاتا ہے تو کیسے پڑھتے ہیں؟ ما دام، ما دام۔ تو یہ ما دام جو ہے یاد رکھیے، یہ معین حالت کے ساتھ مقید کرنے کے لیے ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زید ہمیشہ سے سخی تھا، یا ہمیشہ سے سخی ہے۔ زید کیا ہے؟ زید ہمیشہ سے سخی ہے، یعنی یہ ابھی نہیں سخی ہوا، یا صرف ماضی میں نہیں تھا سخی بلکہ ابھی بھی ہے اور ہمیشہ سے تھا۔ تو اس کے لیے ما دام استعمال کرنا پڑے گا مجھے، کیونکہ یہ معنی صرف ما دام ہی ادا کرتا ہے۔ تو اسی پر: زَيْدٌ كَرِيمٌ، اسی پر کیا لے آؤں گا؟ ما دام: مَا دَامَ زَيْدٌ كَرِيمًا، مَا دَامَ زَيْدٌ كَرِيمًا۔ تو اب کیا ترجمہ ہو گا؟ زید ہمیشہ سے سخی ہے۔ اب دیکھیے، میں نے زید کو مقید کر دیا ایک معین حالت کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ کون سی حالت؟ سخاوت، اور یہ معین حالت ہے یا غیر معین ہے؟ ایک معین حالت ہے، اس کے ساتھ زید کی ذات زید اس کے ساتھ موصوف ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یعنی وہ غیر سخی نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ سخی ہے ہمیشہ سے، تو یہ معین حالت کے ساتھ میں نے اس کو مقید کر دیا کہ وہ سخی ہے، تو کس کی نفی کر دی؟ غیر سخی ہونے کی نفی کر دی۔ یہ معنی ہے: أَوْ بِحَالَةٍ مُعَيَّنَةٍ فِي دَامَ، یا اس کا عطف بِزَمَنٍ مُعَيَّنٍ پر ہے، وَالتَّوْقِيتِ بِحَالَةٍ مُعَيَّنَةٍ فِي دَامَ، اور معین حالت کے ساتھ مقید کرنے کے لیے ما دام کے اندر۔ وَالْمُقَارَبَةِ فِي كَادَ، اور مقاربت کے ساتھ مقید کرنے کے لیے كَادَ وَكَرَبَ وَأَوْشَكَ، كَادَ، كَرَبَ اور أَوْشَكَ۔ یہ افعال مقاربہ بھئی، یہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی جو خبر ہے ان کے اسم کو حاصل ہونے ہی والی ہے۔ ان کی جو خبر ہے وہ ان کے اسم کو حاصل ہونے ہی والی ہے، حاصل ہونے کے قریب ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں، میں بتلانا یہ چاہتا ہوں کہ زید کھڑا ہونے کے قریب ہی ہے، یعنی ابھی کھڑا نہیں ہوا، کھڑا ہونے ہی والا ہے۔ اب مجھے بتائیے، اس کے لیے مجھے میں مجبور ہوں مجھے كَادَ کا لفظ استعمال کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ قریب والا معنی کون ادا کرتا ہے؟ كَادَ ادا کرتا ہے، تو میں یوں کہوں گا: كَادَ زَيْدٌ أَنْ يَقُومَ، كَادَ زَيْدٌ أَنْ، قریب ہے کہ زید کھڑا ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح كَرَبَ اور أَوْشَكَ بھی ہیں۔ وَالْيَقِينِ فِي وَجَدَ وَأَلْفَى وَدَرَى وَتَعَلَّمَ، اور یقین کے لیے کس کے اندر؟ وَجَدَ کے اندر۔ بھئی یہ وہی افعال قلوب ہیں، افعال قلوب آپ نے پڑھے بعض جو ہیں یقین کے لیے آتے ہیں اور بعض شک وغیرہ کے لیے آ رہے ہیں، جیسے: وَجَدْتُ زَيْدًا عَالِمًا، میں نے زید کو عالم پایا، یعنی اس کے عالم ہونے کا یقین کیا۔ اور اگر شک ہے تو آپ کہیں گے: ظَنَنْتُ زَيْدًا عَالِمًا، میں نے زید کے بارے میں عالم ہونے کا گمان کیا، خیال کیا، یعنی یقین نہیں ہے گمان ہے میرا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ افعال قلوب ہیں بھئی، تو یہ یقین اور شک کے لیے آتے ہیں۔ وَالْيَقِينِ فِي وَجَدَ وَأَلْفَى وَدَرَى وَتَعَلَّمَ، یہ سارے کیا ہیں؟ افعال قلوب ہیں، ایک ہی معنی ہے سب کا: وَجَدَ، أَلْفَى، دَرَى اور تَعَلَّمَ، پا لینا، پا لینا۔ تو افعال قلوب آپ نے قافیہ وغیرہ میں پڑھے ہوں گے، وہاں یہ أَلْفَى بھی نہیں آیا تھا، دَرَى بھی نہیں آیا، تَعَلَّمَ بھی نہیں آیا، بھئی اس لیے کیونکہ افعال قلوب وہی نہیں ہیں جو قافیہ کے اندر ذکر ہیں، ہاں آپ کو اس میں سے کچھ مشہور وغیرہ جو زیادہ مشہور ہیں وہ بتا دیے، لیکن یہ سارے بھی کیا ہیں؟ أَلْفَى، دَرَى اور تَعَلَّمَ، یہ بھی افعال قلوب میں سے ہیں۔ وَجَدَ تو وہاں آپ نے پڑھا ہو گا، باقی تین نہیں پڑھے لیکن یہ افعال قلوب میں سے ہیں۔ یہ مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں اور ان کو اپنا مفعول اول اور مفعول ثانی بنا لیتے ہیں۔ وَهَلُمَّ جَرًّا، اور اسی طرح سلسلہ جاری رکھیے۔ صاحب کتاب بتلا رہے ہیں ہم نے تو کچھ باتیں بیان کر دیں کہ یہ نواسخ کے ساتھ کلام کو مقید کیا جاتا ہے، کیوں مقید کیا جاتا ہے؟ کیونکہ متکلم کی غرض کیا ہے؟ وہ ان کے معنی کو ادا کرنا چاہتا ہے، اس کو کلام میں لانا چاہتا ہے، تو انہی کو لے کر آنا پڑے گا۔ اور وہ کیا کیا معانی ہو سکتے ہیں؟ جیسے بتلایا استمرار بھی ہو سکتا ہے، زمانے کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ہو سکتی ہے، وہ کس میں ہو گی؟ کان میں۔ یا آپ مقید کرنا چاہتے ہیں کلام کو کس کے ساتھ؟ معین زمانے کے ساتھ، تو اس کے لیے ظَلَّ، بَاتَ وغیرہ ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ یا آپ اپنے کلام کو مقید کرنا چاہتے ہیں کس کے ساتھ؟ ایک معین حالت کے ساتھ، تو اس کے لیے مَا دَامَ وغیرہ ہیں۔ یا آپ اپنے کلام کو مقید کرنا چاہتے ہیں کس کے ساتھ؟ مقاربت کے ساتھ، تو اس کے لیے كَادَ، كَرَبَ وغیرہ ہیں۔ یا اپنے کلام کو مقید کرنا چاہتے ہیں یقین یا شک کے ساتھ، تو اس کے لیے وَجَدْتُ وغیرہ ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ کہتے ہیں ہم نے کچھ معنی بیان کر دیے: وَهَلُمَّ جَرًّا، اور اسی طرح سلسلہ جاری رکھیے، یعنی باقی لفظوں میں آپ خود غور کرتے جائیے اور ان سے آپ کو ہر ایک کا پتہ چل جائے گا کہ کون سا لفظ کس معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ افعال قلوب میں سے، یہ سمجھ میں آیا؟ بھئی افعال ناقصہ یہی تو نہیں ہیں اور بھی تو ہیں۔ افعال قلوب یہی تو نہیں ہیں اور بھی تو ہیں۔ افعال مقاربہ صرف یہی تین تو نہیں ہیں كَادَ، كَرَبَ، أَوْشَكَ، اور بھی تو ہیں، لیکن کہتے ہیں ہم نے کچھ مثال کے طور پر ذکر کر دیے، باقی آپ اسی طرح سلسلہ جاری رکھیے یعنی باقی سب کو بھی اسی سے سمجھ لیجیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو وَهَلُمَّ جَرًّا، کیا معنی ہوا؟ اور آپ اسی طرح سلسلہ جاری رکھیے۔ یہ با محاورہ ترجمہ کر رہا ہوں، لفظی ترجمہ: هَلُمَّ، هَلُمَّ اسم فعل ہے۔ اسم فعل، هَلُمَّ کا معنی: آ جاؤ، چلے آؤ، یا لے آؤ۔ هَلُمَّ کا کیا معنی؟ لے آؤ، چلے آؤ یا لے آؤ۔ اور جَرًّا، جَرٌّ کا معنی ہوتا ہے کھینچنا کھینچنا، هَلُمَّ جَرًّا، اسی طرح چلے آؤ کھینچتے ہوئے، اسی طرح کھینچتے ہوئے چلے آؤ، یعنی سلسلہ جاری رکھو۔ یا یوں ترجمہ کر لیں: وَهَلُمَّ جَرًّا، اور اسی طرح کھینچتے ہوئے لے آؤ: هَلُمَّ جَرًّا، کھینچتے ہوئے لے آؤ، یعنی سلسلہ جاری رکھو اسی طرح۔ فَالْجُمْلَةُ فِي هَذَا تَنْعَقِدُ مِنَ الِاسْمِ وَالْخَبَرِ أَوْ مِنَ الْمَفْعُولَيْنِ فَقَطْ۔ بھئی میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ افعال ناقصہ کس پر داخل ہوتے ہیں؟ جملہ اسمیہ پر، اور اس کو اپنے معنی کا اثر دے دیتے ہیں۔ وہ جیسے پہلے خبر تھی مبتدا کی اب بھی اسی طرح خبر اسی کے لیے ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ قیام کس کے لیے ثابت؟ زید کے لیے۔ تو كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا، اب بھی قیام کس کے لیے ثابت؟ زید کے لیے۔ زَيْدٌ عَالِمٌ، یہ عالم ہونا کس کے لیے ثابت؟ زید کے لیے۔ تو عَلِمْتُ زَيْدًا عَالِمًا، اب بھی عالم ہونا کس کے لیے ثابت؟ زید ہی کے لیے ثابت ہے۔ معلوم ہوا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ کیا چیز کس کے لیے ثابت ہو رہی ہے، صرف انہوں نے اپنے معنی کا اثر، یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ جملہ ان میں: فِي هَذَا تَنْعَقِدُ مِنَ الِاسْمِ وَالْخَبَرِ، جملہ ان سب میں منعقد ہو جاتا ہے اسم اور خبر، یعنی وہی جو زَيْدٌ قَائِمٌ اور زَيْدٌ عَالِمٌ، اسی اسم اور خبر سے جملہ منعقد ہو رہا ہے: أَوْ مِنَ الْمَفْعُولَيْنِ، یا کس سے؟ دو مفعولوں سے، یعنی عَلِمْتُ زَيْدًا عَالِمًا، تو یہ زَيْدًا، عَالِمًا انہی سے جملہ مکمل ہو رہا ہے فقط۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ باقی یہ اپنے معنی کا اثر دے رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ اثر۔ فَإِذَا قُلْتَ، جب آپ کہیں: ظَنَنْتُ زَيْدًا قَائِمًا، ظَنَنْتُ زَيْدًا قَائِمًا، فَمَعْنَاهُ، تو جملے کا معنی یہ ہے: زَيْدٌ قَائِمٌ عَلَى وَجْهِ الظَّنِّ، زید کھڑا ہے ظن کے طریقے پر، گمان کے طریقے پر، یعنی مجھے یقین نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ شک ہے۔ تو دیکھیے یہ مثال کیوں انہوں نے ذکر کی؟ زَيْدٌ قَائِمٌ اصل میں کیا ہے؟ ظَنَنْتُ زَيْدًا قَائِمًا۔ اس سے پہلے کیا تھا؟ زَيْدٌ قَائِمٌ، ظننت کو ذرا ہٹا دیں نا: زَيْدٌ قَائِمٌ، قیام کس کے لیے ثابت؟ زید کے لیے۔ ظَنَنْتُ زَيْدًا قَائِمًا، اب بھی قیام کس کے لیے ثابت؟ زید کے لیے۔ تو کلام صرف یہاں ظَنَنْتُ زَيْدًا قَائِمًا، اس کے اندر بھی کلام زَيْدٌ قَائِمٌ ہی ہے، ہاں ظننت اپنے معنی کا فائدہ دے رہا ہے، اسی لیے انہوں نے کہا: فَمَعْنَاهُ، اس کا معنی کیا ہے؟ زَيْدٌ قَائِمٌ، دیکھو دو مفعولوں کو پھر اسی طرح مبتدا خبر بنا دیا، اور ظننت کو قید بنا دیا: عَلَى وَجْهِ الظَّنِّ، کیا بنا دیا؟ قید۔ معلوم ہوا اصل کلام وہی ہے، اصل یہ چیزیں جو ہیں یہ کان، افعال مقاربہ، افعال قلوب، یہ قیدیں ہیں، یہ کیا ہیں؟ قیدیں ہیں، تو اصل کلام وہی ہے جس پر یہ داخل ہوئے تھے، ابتدا میں جو تھا۔ کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہیں آئی؟ فرق میں نے بتلایا تو ہے: ایک ہے استمرار، ایک ہے ثبوت، ایک ہے استمرار ایک ہے دوام۔ استمرار میں ایک چیز بار بار ہو رہی ہے۔ زید استمرار کے ساتھ پٹائی کر رہا ہے، کیا معنی استمرار؟ بار بار مسلسل پٹائی کرتا جا رہا ہے، لیکن پٹائی دوام کے طریقے پر نہیں ہے، کیونکہ ایک ضرب لگتی ہے ختم ہو جاتی ہے، پھر ضرب لگتی ہے ختم ہو جاتی ہے، پھر ضرب لگتی ہے، تو دیکھو بار بار ہو رہی ہے ضرب، یہ ہے استمرار۔ اور ایک ہوتا ہے ثبوت: زَيْدٌ طَوِيلٌ، زید لمبا ہے، لمبا ہونا زید کے لیے دوام کے طریقے پر ثابت ہے لیکن بار بار نہیں ہے اس میں، کہ طویل ہے پھر طویل نہیں، پھر طویل ہے پھر طویل نہیں، ایسا نہیں۔ فرق دونوں میں سمجھ میں آیا؟ تو استمرار کے اندر ایک چیز کا بار بار ہونا ہو گا، اور دوام کے اندر بار بار ہونا نہیں، بس ایک چیز کا ثبوت ہے اور کس طریقے پر ہے؟ دوام کے، مسلسل ہے، دائماً ہے۔ ہاں البتہ یہ استمرار اور دوام یہ ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہو جاتے ہیں، جیسے یہاں پر استمرار آیا، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں استمرار مثلاً جملے کو بھی دیکھیں گے، جملے میں اگر وہ استمرار ثبوتی مراد ہے یا استمرار تجددی مراد ہے۔ استمرار تجددی جس میں بار بار ہونا ہو گا ایک چیز کا۔ استمرار ثبوتی وہ دوام کا دوسرا نام ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تفصیل پہلے بیان ہو چکی، یہ میں نے پھر ویسے تکرار کروایا آپ کو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔