سبق نمبر۔49
الباب الخامس في الإطلاق والتقييد. إذا اقتصر في الجملة على ذكر المسند والمسند إليه فالحكم مطلق، وإذا زيد عليهما شيء مما يتعلق بهما أو بأحدهما فالحكم مقيد، والإطلاق يكون حيث لا يتعلق الغرض بتقييد الحكم بوجه من الوجوه ليذهب السامع فيه كل مذهب ممكن.
الباب الخامس في الإطلاق والتقييد.
پانچواں باب اطلاق اور تقييد کے بيان ميں۔
اطلاق اور تقييد کے بيان ميں۔
بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ جملے کے دو جز ہوا کرتے ہیں، ایک مسند اور ایک مسند إليه। اور مسند کا دوسرا نام محکوم به ہے اور مسند إليه کا دوسرا نام محکوم عليه ہے۔ محکوم عليه। "زيد قائم"، زيد کیا ہے؟ مبتدا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ مسند إليه ہے، اور اس کا کیا نام ہے؟ محکوم عليه، مسند إليه بھی اسی کو کہتے ہیں اور محکوم عليه بھی۔ اور "قائم" یہ مسند ہے، اسی طرح اس کو کیا کہتے ہیں؟ محکوم به کہتے ہیں۔
تو دیکھو زید پر قیام کا حکم لگایا گیا ہے، "زيد قائم"، یہ قیام کس کے لیے ثابت ہے؟ زید کے لیے۔ کھڑا کون ہے؟ زید ہے، تو زید ہوا جس پر حکم لگایا گیا وہ ہوا محکوم عليه، کیا ہوا؟ محکوم عليه। اور کس بات کا حکم لگایا گیا؟ قیام کا، کھڑے ہونے کا، تو وہ ہے محکوم به। تو جس چیز کا حکم لگایا جائے وہ ہے محکوم به، اور جس پر حکم لگایا جائے وہ ہے محکوم عليه। محکوم عليه। اور دوسرا نام محکوم به کا کیا نام ہے؟ مسند، اور محکوم عليه کا دوسرا نام مسند إليه।
تو دیکھو "زيد قائم"، اس کے اندر قائم کا اسناد زید کی طرف کیا گیا، تو قائم ہے مسند، جس کا اسناد کیا گیا ہے، اور زید ہوا مسند إليه، جس کی طرف اسناد کیا گیا ہے، جس کی طرف اسناد کیا گیا ہے۔ اور پہلے جز کو یہاں پر یہ جملہ اسمیہ ہے، تو پہلے جز کو کیا کہا؟ مبتدا ہے، اور دوسرے جز کو کیا کہتے ہیں؟ خبر کہتے ہیں۔ یہ تو جملہ اسمیہ کے اندر ہے، اسی طرح جملے کی دوسری قسم جملہ فعلیہ ہے، جملہ فعلیہ کے اندر بھی اسی طرح ہوتا ہے، "ضرب زيد"، "ضرب" فعل، "زيد" اس کا فاعل، تو یہاں پر بھی "ضرب" فعل کا اسناد کیا گیا ہے، اور کس کی اور کس کی طرف کیا گیا؟ زید کی طرف، تو "ضرب" ہوا مسند، اور "زيد" ہوا مسند إليه।
یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیے، "ضرب" ہے محکوم به، اور "زيد" کیا ہے؟ محکوم عليه। صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو چاہے جملہ اسمیہ ہو، چاہے جملہ فعلیہ ہو، اس میں ایک جز مسند ہوگا اور دوسرا جز مسند إليه। جملہ اسمیہ کے اندر مبتدا مسند إليه، یا یوں کہیں محکوم عليه ہوتا ہے، اور جو خبر ہوتی ہے وہ مسند ہوتی ہے اور اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ محکوم به ہے، جبکہ جملہ فعلیہ کے اندر یاد رکھو جو فعل ہوتا ہے وہ ہے مسند، یا یوں کہیں محکوم به ہے، اور جو فاعل یا نائب فاعل آگے آئے گا، وہ کیا ہے؟ مسند إليه ہے، یا محکوم عليه ہے بھئی، محکوم عليه بھئی۔
تو بعض اوقات جملے کے اندر صرف مسند اور مسند إليه ذکر ہوتے ہیں، جیسے میں نے ابھی دو جملے ذکر کیے، جملہ اسمیہ کی کیا مثال ذکر کی؟ "زيد قائم"، تو دیکھو یہاں صرف مسند إليه اور مسند دو چیزیں ذکر ہیں، "زيد" ہے مسند إليه، اور "قائم" ہے مسند، تو صرف یہ دو چیزیں ہیں۔ کوئی اور قید وغیرہ ان کے ساتھ نہیں، اور کوئی لفظ آگے نہیں آرہا। جبکہ اسی طرح جملہ فعلیہ کی مثال میں نے ذکر کی، "ضرب زيد"، یہاں بھی صرف "ضرب" مسند ہے، اور "زيد" جو اس کا فاعل ہے، مسند إليه ہے۔
تو بعض اوقات جملے کے اندر صرف مسند اور مسند إليه ذکر ہوتے ہیں، تو اس صورت میں اس کا اس صورت میں کہیں گے کہ حکم مطلق ہے۔ یعنی اس میں کوئی قید نہیں۔ حکم کیا ہے؟ مطلق ہے، اس میں کوئی قید نہیں، اور بعض اوقات اس کے ساتھ اور لفظ آئیں گے، تو پھر اس وقت کہیں گے کہ حکم مقید ہے۔ حکم کیا ہے؟ مقید ہے۔
بھئی دیکھیے، میں نے کہا "ضرب زيد"، "ضرب زيد"، زید نے پٹائی کی، اب کس کی کی وہ آگے ذکر ہی نہیں ہے، تو آپ کا ذہن جا سکتا ہے کہ شاید کس کی پٹائی کی ہوگی؟ عمر کی کی ہوگی۔ یہ بھی خیال آسکتا ہے آپ کے دل میں کہ شاید بکر کی کی ہو۔ یہ بھی خیال آسکتا ہے آپ کے ذہن میں کہ شاید خالد کی کی ہوگی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو بعض اوقات حکم کو مطلق رکھا جاتا ہے تا کہ سننے والا جس راستے پر چلنا چاہے چل سکے، یعنی جو ذہن میں سوچ سکتا ہے سوچ سکے، جس طرف جانا چاہے جا سکے۔
تو دیکھا آپ کے دل میں بھی خیال آیا، ہو سکتا ہے پٹائی کس کی، اتنا تو آپ کو پتہ چل گیا کہ زید نے پٹائی کی ہے، لیکن یہ نہیں ذکر کس کی کی ہے، تو آپ کا ذہن جا سکتا ہے کس طرف؟ کہ شاید کس نے کی کس کی کی ہوگی؟ عمر کی کی ہوگی، نی یا کس کی کی ہوگی؟ یا بکر کی کی ہوگی، اس طرف بھی آپ کا ذہن جا سکتا ہے، یا کس کی کی ہوگی پٹائی؟ خالد کی، اس طرف بھی آپ کا ذہن جا سکتا ہے۔
تو بعض اوقات قید وغیرہ جملے کے اندر ذکر نہیں کی جاتی تا کہ سامع، سننے والا جس راستے پر چلنا چاہے چل سکے بھئی، جو سوچنا چاہے اس کے بارے میں وہ سوچ سکے اور اس کا گمان کر سکے، اور جبکہ بعض اوقات حکم کو مقید کیا جاتا ہے، یعنی اس کے ساتھ کوئی قید وغیرہ ذکر ہوتی ہے۔ کیا ذکر ہوتی ہے؟ قید۔ یاد رکھیے آپ کو بتائیں گے آگے کہ یہ جو جملے میں مفعول ذکر ہوتا ہے، "ضرب زيد عمرا"، یہ قید ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر جملے کے اندر مفعول مطلق آجائے، مفعول مطلق آجائے "ضرب زيد ضربا"، یا جملے کے اندر اسی طرح حال آجائے، "ضرب زيد قائما"، "ضرب زيد قائما"، یا اسی طرح اگر جملے کے اندر استثناء وغیرہ کئی چیزیں یہ آگے آپ کو بتائیں گے، یہ ساری قیدیں ہوتی ہیں۔ کیا ہوتی ہیں؟ ساری قیدیں ہوتی ہیں، تو یہ کلام کو مقید کرتی چلی جاتی ہیں۔
تو اب جیسے دیکھیے، میں نے جب آپ سے کہا "ضرب زيد"، زید نے پٹائی کی، آپ کا اس تو اس صورت میں دیکھو حکم مطلق تھا، آپ کا ذہن جس طرف جانا چاہے جا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ لیکن اگر میں مفعول کو باقاعدہ ذکر کر دیتا ہوں، "ضرب زيد عمرا"، اب دیکھو یہ ضرب مقید ہوگئی، حکم مقید ہوگیا، اس سے پتہ چل گیا کہ یہ ضرب عمر پر ہی واقع ہوئی ہے، بکر یا خالد پر واقع نہیں ہوئی بھئی۔ یہ والی ضرب جو ذکر کی جا رہی ہے جملے میں، یہ کس پر واقع ہے؟ عمر پر واقع ہے، معلوم ہوا بکر یا خالد پر واقع نہیں، دیکھو اس نے مقید کر دیا حکم کو، پہلے مطلق تھا، آپ جس طرف جانا چاہے جا سکتے تھے، اب آپ ہر طرف نہیں جا سکتے، کیونکہ پتہ چل گیا یہ ضرب کس پر واقع ہوئی ہے؟ عمر پر، یہ پٹائی عمر کی ہوئی ہے۔
اسی طرح مفعول فیہ وغیرہ آپ لے آتے ہیں، وہ بھی قید ہوتا ہے، "ضرب زيد عمرا"، ابھی پہلے صرف اتنا رکھیں، دیکھیں اس میں کوئی وقت ذکر ہے؟ وقت نہیں ذکر، تو آپ کا ذہن جس طرف جانا چاہے جا سکتا ہے، کہ ہو سکتا ہے یہ پٹائی ہفتے والے دن ہوئی ہو، ہو سکتا ہے اتوار کے دن کی ہو پٹائی، ہو سکتا ہے پیر والے دن پٹائی کی ہو، ہو سکتا ہے، لیکن اتنا تو پتہ ہے پٹائی ہوئی ہے، ہاں وقت ذکر نہیں، لیکن اگر وقت کا ذکر کر دیں گے، یعنی مفعول فیہ کو، "ضرب زيد عمرا يوم الجمعة"، تو "يوم الجمعة" نے کیا بتلا دیا کہ یہ پٹائی کس دن واقع ہوئی ہے؟ جمعے کے دن واقع ہوئی ہے، معلوم ہوا ہفتے یا اس دوسرے دنوں میں واقع نہیں، تو دیکھو حکم مقید ہوگیا، پہلے آپ ہر طرف جا سکتے تھے، اب ہر طرف نہیں جا سکتے، اب پتہ چل گیا یہ پٹائی جمعے ہی والے دن ہوئی ہے، ہفتے کو یا اس کے بعد والے دنوں میں نہیں ہوئی۔ تو دیکھو یہ بھی قید ہوتا ہے مفعول فیہ بھئی۔
اسی طرح مفعول لہ بھی قید ہوتا ہے، "ضرب زيد عمرا تأديبا"، زید نے عمر کی پٹائی کی ہے "تأديبا"، ادب سکھانے کے لیے، جب تک تادیب کا لفظ نہیں تھا، "ضرب زيد عمرا" تھا، آپ کا ذہن جا سکتا تھا کہ پتہ نہیں کیوں پٹائی کی ہے؟ شاید اس نے اس کو گالیاں دی ہوں، اس لیے شاید کیا کیا ہے؟ زید نے عمر کی پٹائی کی ہے، یا شاید ہو سکتا ہے کوئی اور وجہ ہے پٹائی کی ہو، ہو سکتا ہے اس کو ادب سکھانے کے لیے پٹائی کی ہو، تو ہر احتمال کی طرف آپ جا سکتے تھے، لیکن جب آگیا "تأديبا"، "ضرب زيد عمرا تأديبا"، زید نے عمر کی پٹائی کی ہے ادب سکھانے کے لیے، تو یہ "تأديبا" مفعول لہ ہے، اور یہ بھی کیا ہوتا ہے؟ قید ہوتا ہے، اب حکم مقید ہوگیا، اب پتہ چل گیا یہ جو ضرب ذکر کی جا رہی ہے، یہ عام ضرب نہیں ہے بلکہ کس قسم کی ضرب ہے؟ ادب سکھانے کے لیے ہے، تو دیکھو یہ قید ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟
اسی طرح بھئی حال وغیرہ، یہ بھی قید ہوتے ہیں، "جاءني زيد"، میرے پاس زید آیا، اب آپ کے ذہن میں سوال آسکتا ہے کہ پتہ نہیں پیدل آیا ہے یا سوار ہو کر آیا ہے؟ جس طرف آپ کا ذہن جانا چاہے جا سکتا ہے، لیکن جب میں اس کے ساتھ حال لے آؤں گا، "جاءني زيد راكبا"، کہ زید میرے پاس آیا اس حال میں کہ وہ سوار تھا، تو با محاورہ ترجمہ کیسے کریں گے؟ زید میرے پاس سوار ہو کر آیا، تو اب پتہ چل گیا کہ یہ جو آنا ہے، یہ مقید ہے، عام آنا نہیں بلکہ کس قسم کا آنا ہے؟ سواری پر سوار ہو کر آنا ہے یہاں پر، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ساری چیزیں قید ہوتی ہیں، قید، اور قید سے کلام پر بڑا اثر پڑتا ہے، جب قید ذکر ہو جائے تو اصل مقصود کلام کے اندر وہ قید ہوا کرتی ہے۔
ایک محض اثبات ہے، ایک محض نفی ہے، "زيد قائم"، اس میں صرف زید کے لیے قیام کا اثبات ہے، اور "ما جاء زيد"، دیکھو اس سے زید سے مجیء کی نفی ہے، تو ایک ہوتا ہے ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات، اور بعض اوقات کلام منفی ہوگا تو ایک چیز دوسری سے کیا ہوگی؟ نفی ہوگی بھئی، تو یاد رکھیے، یہ صرف ایک نفی ہے اور ایک اثبات ہے، ان کے ساتھ جب ساتھ قیدیں ذکر ہوں، تو اصل مقصد کلام کا وہ قید ہوا کرتی ہے۔ کیا ہوتی ہے؟ قید ہوا کرتی ہے بھئی۔
مثلاً دیکھیے، میں آپ کے سامنے کہتا ہوں: "لا آكل خبزا باردا"، "لا آكل خبزا باردا"، خبز روٹی بھئی، اور بارد کا معنی ٹھنڈی، "لا آكل خبزا باردا"، کیا معنی؟ میں ٹھنڈی روٹی نہیں نہیں کھاؤں گا، اور ایک ذرا یہ "باردا"، "خبزا" موصوف ہے اور "باردا" اس کی صفت ہے، تو یہ معلوم ہوا "خبزا" یہاں یہ قید آگئی، صفت والی کیا آگئی؟ قید آگئی، تو اب ایک جملہ ہے "لا آكل خبزا"، "لا آكل خبزا"، اس میں "خبزا" مطلق ذکر ہے، اور ایک میں "خبزا باردا" کی قید ساتھ صفت اس کی ذکر ہے، تو دونوں کا معنی ہی بالکل الگ الگ ہے، جب میں نے کہا "لا آكل خبزا"، تو اس میں سرے سے روٹی کھانے کا انکار کر دیا۔ "لا آكل خبزا"، کیا معنی؟ میں روٹی ہی نہیں کھاؤں گا، سرے سے روٹی کھانے کا انکار ہو رہا ہے یہاں پر، جبکہ کہا "لا آكل خبزا باردا"، اس میں سرے سے روٹی کھانے کا انکار نہیں بلکہ کس قسم کی روٹی کھانے کا انکار ہے؟ ٹھنڈی روٹی کھانے کا تو انکار ہے، معلوم ہوا اگر گرم روٹی ہوئی تو وہ متکلم اس کو کھا لے، تو کتنا فرق آگیا دیکھو جملے کے اندر، پہلے کے اندر مطلق روٹی کھانے ہی کا انکار تھا اور دوسرے میں مطلق انکار نہیں ہے بلکہ خاص قسم کی روٹی، اس کے کھانے کا انکار ہے، ہر روٹی کے کھانے کا انکار نہیں، تو دیکھا قید سے کتنا فرق پڑتا ہے!
بلکہ اس سے مزید آئیے، یہ کتاب میں ذرا دیکھیے اگلے صفحے پر بھئی: "وما خلقنا السماء والأرض وما بينهما لاعبين"، آیت مل گئی بھئی؟ "وما خلقنا السماء والأرض وما بينهما لاعبين"، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "وما خلقنا السماء والأرض"، اور ہم نے نہیں پیدا کیا آسمان کو اور زمین کو، "وما بينهما"، اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، "لاعبين"، اس حال میں کہ ہم کھیلنے والے ہوں، اس حال میں کہ ہم کھیلنے والے ہوں، مراد ہے بیکار، کیا مراد ہے؟ جیسے کھیل بیکار ہوتا ہے، یہاں تو با محاورہ ترجمہ آپ کیا کریں گے؟ ہم نے زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو ان کو بیکار پیدا نہیں کیا بھئی۔
معنی سمجھ میں آرہا ہے؟ ہم نے زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو بیکار پیدا نہیں کیا، اب دیکھیے "لاعبين" یہ حال ہے، اور ابھی میں نے آپ کو بتلایا حال کیا ہوتا ہے؟ قید ہوتا ہے، اور جب جملے کے اندر قید آجائے تو اصل مقصود وہ قید ہوا کرتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ قید ہوتی ہے، یہاں پر دیکھیے بھئی، یہاں "لاعبين" یہ قید ہے، یہ اصل مقصود ہے، ذرا "لاعبين" کو اٹھا دیں یہاں سے، اب ذرا آیت پڑھیں: "وما خلقنا السماء والأرض وما بينهما"، اور ہم نے نہیں پیدا کیا آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اب تو کلام ہی سرے سے غلط ہوگیا! "لاعبين" کو ہٹایا تو کلام ہی غلط ہوگیا، کیا معنی ہوا کلام کا؟ ہم نے زمین اور آسمان اور جو ان کے درمیان ہے ہم نے اس کو پیدا نہیں کیا۔ حالانکہ پیدا کرنے والے تو کون؟ اللہ تعالی ہیں، تو دیکھو قید کو اٹھایا تو سارا معنی ہی کیا ہوا؟ بدل گیا بھئی، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟
تو کلام کے اندر اصل مقصود کیا ہوا کرتی ہے؟ قید ہوتی ہے، اسی پر سارا فائدے کا دارومدار ہوتا ہے، اسی پر سارے کلام کا دارومدار ہوتا ہے، اور قید کو اگر اٹھا دیا جائے تو بعض اوقات وہ کلام ہی سرے سے جھوٹا بن جائے گا، کاذب بن جائے گا، اور بعض اوقات غلط تو نہیں بنے گا لیکن بہرحال وہ مقصود نہیں رہے گا، جیسے ابھی مثال میں نے ذکر کی بھئی، "لا آكل خبزا باردا"، اس سے ذرا اگر "باردا" کی قید نکال دو تو پھر معنی کیا بنے گا؟ میں روٹی ہی نہیں کھاؤں گا سرے سے، اور کہنے والا یہ کہنا چاہتا تھا یا ٹھنڈی روٹی کھانے کا انکار کرنا چاہتا تھا؟ ٹھنڈی روٹی کھانے کا انکار، تو دیکھو وہ تو اس کا مقصد ہی نہ رہے گا، مقصد ہی سارا اس کا فوت ہوگیا، وہ ٹھنڈی روٹی کے کھانے کا انکار کرنا چاہتا تھا اور قید کو ہٹایا تو مطلق روٹی کھانے کا انکار آگیا کہ میں کھاؤں گا ہی نہیں سرے سے، فرق سمجھ میں آیا؟ تو جو قید ہوتی ہے اس پر کیا ہوتا ہے کلام کا اور اس کے فائدے کا مدار دارومدار ہوتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟
جی، اب دیکھیے کتاب پر: "إذا اقتصر في الجملة على ذكر المسند والمسند إليه فالحكم مطلق"، جب اقتصار کر لیا جائے جملے کے اندر مسند اور مسند إليه کے ذکر پر، جملے میں جب کس پر اقتصار کیا جائے؟ مسند اور مسند إليه کے ذکر پر، یعنی صرف انہی کو ذکر کیا جائے، کوئی قید ذکر نہ ہو، "فالحكم مطلق"، تو وہ حکم کیا ہوگا؟ مطلق ہوگا، مطلق ہوگا۔
"وإذا زيد عليهما شيء مما يتعلق بهما أو بأحدهما فالحكم مقيد"، "وإذا زيد عليهما شيء"، اور جب بڑھا دیا جائے ان دونوں پر کسی چیز کو، کن دونوں پر؟ مسند اور مسند إليه، یعنی ان کے علاوہ اور لفظ بھی کلام میں ذکر ہے، تو کہتے ہیں جب بڑھا دیا جائے ان دونوں پر کسی چیز کو، "مما يتعلق بهما"، جس کا تعلق ان دونوں سے ہو، "أو بأحدهما"، یا دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہو، "فالحكم مقيد"، تو وہ حکم کیا ہوگا؟ مقید ہوگا، اس میں قید ہوگی۔
اب آگے مقام بتلا رہے ہیں کہ کہاں پر مطلق کلام کریں گے۔
جہاں پر متکلم کی غرض یہ ہے
کہ وہ، یا یوں کہیں۔ جہاں متکلم کی غرض یہ ہے کہ وہ کلام کو مقید نہیں کرنا چاہتا کسی بھی چیز کے ساتھ، تاکہ سننے والا جس طرف جانا چاہے جا سکے، تو اطلاق کا مقام ہے۔
کون سا مقام ہے؟ اطلاق۔ بس متکلم اپنے کلام کو مقید نہیں کرنا چاہتا۔ کیوں نہیں کرنا چاہتا؟ تاکہ سننے والا جس راستے پر چلنا چاہے چل سکے، تو یہ مقام کس چیز کا ہے؟ اطلاق کا ہے۔ کس کا ہے؟ اطلاق کا ہے۔ وہ مقید نہیں کرنا چاہتا تاکہ سننے والا جس طرف جانا چاہے جا سکے، جو سوچنا چاہے سوچ سکے، وہ ہے مقام ہے اطلاق کا۔ وہاں کلام کیسا لانا چاہیے؟ کلام وہاں کیسا لانا چاہیے؟ مطلق لائیں گے وہاں پر۔
اور جہاں اس کا مقصد کلام کو مقید کرنا ہو کسی خاص چیز کے ساتھ، خاص طریقے کے ساتھ کہ اگر اس طریقے کی رعایت نہ رکھی جائے تو وہ کلام کا فائدہ اور غرض ہی فوت ہو جائے گی، بلکہ بعض اوقات وہ کلام ہی سرے سے غلط ہو جائے گا۔ جیسے ابھی مثال ذکر کی۔ اگر "وما خلقنا السماوات والأرض وما بينهما لاعبين" کا لفظ اٹھا دیا جائے تو پھر تو معنی ہی صحیح نہیں بنتا۔ پھر تو معنی کیا بنتا ہے؟ اللہ ان چیزوں کو پیدا کرنے والے نہیں ہیں، حالانکہ اللہ تو ان سب چیزوں کو پیدا کرنے والے ہیں۔ تو معنی کیا ہے آیت کا؟ کہ اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے زمین اور آسمان میں سے کسی چیز کو بے کار پیدا نہیں کیا۔ پیدا تو ہم نے ہی کیا، لیکن بے کار پیدا نہیں کیا۔ دیکھو، معنی ہی الگ ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اب مقام ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "والإطلاق يكون حيث لا يتعلق الغرض بتقييد الحكم بوجه من الوجوه"۔ اور اطلاق جو ہے، "يكون" وہ ہوگا "حيث" اس حیثیت سے "لا يتعلق الغرض" کہ تعلق نہ ہو غرض کا۔ "الغرض" آیا، کس کی غرض مراد ہے؟ متکلم کی۔ اور اطلاق ہوگا اس حیثیت سے کہ متعلق نہ ہو متکلم کی غرض۔ کس چیز سے متعلق نہ ہو؟ "بتقييد الحكم بوجه من الوجوه" حکم کو مقید کرنے کے ساتھ "بوجه من الوجوه" طریقوں میں سے کسی طریقے کے ساتھ۔ یعنی اطلاق کا مقام وہ ہوگا جہاں متکلم کی یہ متکلم کی غرض کلام کو مختلف طریقوں میں سے کسی طریقے کے ساتھ مقید کرنا نہ ہو۔
ایک تو ہے نہ مقید کرنا، ایک ہے مقید نہ کرنا۔ تو اطلاق کا مقام کہاں کون سا ہوگا؟ جہاں متکلم کیا چاہتا ہے؟ کلام کو مقید نہیں کرنا چاہتا۔ جب نہیں کرنا چاہتا تو کون سا مقام ہے؟ اطلاق والا۔ سبق سمجھ میں آ رہا ہے کہ مشکل ہو گیا؟
تو دیکھیے، اطلاق کا مقام کون سا ہوگا؟ جہاں متکلم کی غرض کلام کو مقید کرنا نہ ہو۔ جب مقید کرنا اس کا مقصد نہیں ہے تو کون سا مقام ہے؟ اطلاق والا۔ یہی بات تو بیان کر رہے ہیں کہ "والإطلاق يكون حيث لا يتعلق الغرض بتقييد الحكم بوجه من الوجوه" اور اطلاق جو ہوگا وہ اس حیثیت سے ہوگا کہ تعلق نہیں ہوگا متکلم کی غرض کا حکم کو مقید کرنے کے ساتھ طریقوں میں سے کسی طریقے کے ساتھ۔
"ليذهب السامع فيه كل مذهب ممكن" تاکہ چل سکے سننے والا اس میں ہر ممکن راستے پر۔ تاکہ سننے والا اس میں ہر ممکن راستے پر چل سکے۔ میں نے آپ سے کہا: "ضرب زيد"۔ میں نے مفعول "عمراً" کو ذکر نہیں کیا تاکہ سننے والا جو سوچنا چاہے، جس راستے پر چلنا چاہے چل سکے۔ یہ بھی سوچ سکے، شاید عمرو کی پٹائی ہوئی ہے۔ یہ بھی سوچ سکے، کہ شاید بکر کی ہوئی ہے۔ یہ بھی سوچ سکے، کہ شاید کس کی ہوئی ہے؟ خالد کی۔ تو دیکھو، جس راستے پر وہ چلنا چاہے چل سکے۔
"ليذهب السامع فيه كل مذهب ممكن" تاکہ چل سکے سننے والا اس میں ہر ممکن راستے پر۔ "والتقييد حيث يتعلق الغرض بتقييده" اور تقیید جو ہوگی، مقید کرنا اس حیثیت سے ہوگا کہ متکلم کی غرض متعلق ہوگی "بتقييده بوجه مخصوص" کہ وہ کلام کو مقید کرتا ہے "بوجه مخصوص" کسی مخصوص طریقے پر۔ جیسے آیت کے اندر کس طریقے پر مقید کیا گیا تھا؟ حال کے ساتھ "لاعبين" حال ذکر کیا گیا تھا۔ تو کہ وہ ایک مخصوص طریقے پر مقید کرنا چاہتا ہے۔ "لو لم يراع تفوت الفائدة المطلوبة" کہ اگر اس کی رعایت نہ رکھی جائے تو اس سے جو فائدہ مطلوب ہے وہی فوت ہو جائے۔
تو وہ فائدہ جو مطلوب ہے وہی کیا ہو جائے؟ فوت ہو جائے گا۔ جیسے دیکھیے، "لاعبين" ہٹا دیا گیا تو معنی ہی فائدہ کیا فوت ہونا تھا، کلام ہی سرے سے کیا ہو گیا؟ غلط ہو گیا، کاذب بن گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو دیکھیے، یہ مقید یہاں پر اس کا اعتبار کرنا ضروری ہے، اور قید کے ساتھ متکلم ایک بات بتلانا چاہتا ہے۔ مثلاً میں نے کہا تھا: "لا آكل خبزاً بارداً"۔ تو یہاں "بارداً" کی قید ملحوظ ہے اور مطلوب ہے۔ اگر اس قید کو ہٹا دیں گے تو متکلم کی غرض اور جو مقصد ہے وہی فوت ہو جائے گا۔ پھر تو بات معنی بن جائے گا میں روٹی ہی نہیں کھانا چاہتا، حالانکہ وہ یہ تو نہیں کہنا چاہتا کہ میں روٹی نہیں کھانا چاہتا، وہ تو کیا کہنا چاہتا ہے؟ میں ٹھنڈی روٹی نہیں کھاؤں گا۔ تو دیکھو، وہ مطلوبہ فائدہ ہی فوت ہو جاتا ہے اگر قید کو ہٹا دیا جائے، اس کی رعایت نہ رکھی جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے "لو لم يراع تفوت الفائدة المطلوبة" کہ اگر اس کی رعایت اس قید کی رعایت نہ رکھی جائے تو وہ مطلوبہ فائدہ ہی فوت ہو جاتا ہے۔ "ولتفصيل هذا الإجمال" اور اس اجمال کی تفصیل کے لیے "نقول" ہم کہتے ہیں۔
اب بھئی، وہ ذکر قیودات ذکر کریں گے، کیا کیا چیزیں ہیں جن کے ساتھ حکم کو مقید کیا جاتا ہے؟ کیا کیا چیزیں ہیں جن کے ساتھ حکم کو کیا کیا جاتا ہے؟ مقید کیا جاتا ہے۔ پہلے وہ بیان کریں گے، اور پھر ہر ایک کے بارے میں تفصیلاً کلام کریں گے۔
اب یہ اس ایک ڈیڑھ سطر میں صرف یہ بیان کر رہے ہیں، یہ یہ چیزیں قید ہوا کرتی ہیں، یہ یہ چیزیں۔ اور پھر ہر ایک قید کا الگ الگ فائدہ ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: "ولتفصيل هذا الإجمال" اور اس اجمال کی تفصیل کے لیے "نقول" ہم کہتے ہیں: "إن التقييد يكون بالمفاعيل" کہ قید کرنا جو ہے وہ مفعولوں کے ساتھ ہوگا۔ معلوم ہوا مفاعیل جو ہیں یعنی مفعول، وہ سارے قید ہوا کرتے ہیں۔ اور مفعول آپ نے نحو کے اندر پڑھے، کتنے مفعول ہیں بھئی؟ پانچ مفعول ہیں، پانچ مفعول۔ ایک کیا ہے؟ مفعول مطلق۔ ایک ہے مفعول بہ۔ ایک ہے مفعول مفعول فیہ۔ اور ایک ہے مفعول معہ۔ اور ایک مفعول لہ ہے بھئی، مفعول لہ۔ یہ پانچ ہیں۔
مفعول مطلق کس کو کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہوتا ہے، "ضرب زيد ضرباً"۔ یہ "ضرباً" مصدر ہے جو ماقبل "ضربت" فعل کے ہی معنی میں ہے۔ یہ ہے مفعول مطلق۔
اور ایک ہے مفعول بہ، "ضرب زيد عمراً"۔ یہ "عمراً" کیا ہے؟ مفعول بہ جس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے۔
اور ایک ہوتا ہے مفعول فیہ، وہ زمانے یا مکان کا نام ہے جس کے اندر وہ فعل واقع ہوا ہو۔ "ضرب زيد عمراً يوم الجمعة"، یہ "یوم الجمعۃ" کیا ہے؟ زمانے کا نام ہے جس میں وہ فعل واقع ہوا، تو یہ مفعول فیہ ہے۔ اور اسی طرح جگہ، جگہ کے لیے مثلاً "ضرب زيد عمراً أمامك"، زید نے عمرو کی پٹائی کی "أمامك" آپ کے سامنے۔ تو یہ آپ کے سامنے، یہ جگہ ہے۔ کیا ہے؟ جگہ ہے۔ تو یہ مفعول فیہ، یہ بھی قید ہوا کرتا ہے کلام کے لیے۔
اسی طرح اور کیا مفعول ہے؟ مفعول لہ ہے۔ مفعول لہ جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے۔ وہ مصدر، مصدر ہوتا ہے یہ۔ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے۔ "ضرب زيد عمراً تأديباً"، زید نے عمرو کی پٹائی کی "تأديباً" ادب سکھانے کے لیے۔ تو یہ تأدیب مصدر ہے، ماقبل فعل کی علت بیان کر رہا ہے کہ یہ پٹائی کیوں کی گئی ہے؟ تأدیباً، ادب سکھانے کے لیے۔ تو یہ مفعول لہ ہے، یہ کیا ہے؟ مفعول لہ۔
اسی طرح ایک مفعول معہ ہوتا ہے۔ "جاء البرد والجببات"، "جاء البرد والجببات"، یہ سردیاں آئیں "والجببات" "مع الجببات" کے معنی میں ہے۔ یعنی جبوں کے ساتھ۔ سردیاں آئیں جبوں کے ساتھ، یعنی سردیاں آئیں ساتھ ہی موٹے کپڑے بھی آ گئے۔ جبے، کوٹ وغیرہ اور گرم چیزیں بھئی۔ تو سردیاں آئیں کس کے ساتھ؟ جبوں کے ساتھ آئیں۔ تو یہ مفعول معہ ہے، مفعول معہ۔
تو یہ ہے مفعول معہ۔ تو یہ قید ہوا کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "إن التقييد يكون بالمفاعيل" کہ مقید کرنا وہ مفعولوں کے ساتھ ہوگا "ونحوها" اور جو ان جیسی چیزیں ہیں۔ وہ کیا چیزیں ہیں؟ آپ کے حاشیے میں دی ہوئی ہیں: "کالحال والتمييز والاستثناء"، جیسے حال ہے، تمیز ہے اور استثنا۔ حال تو ابھی میں نے مثال ذکر کر دی، "جاءني زيد راكباً"۔ یہ "راكباً" کیا ہے؟ حال۔ آیا میرے پاس زید سوار ہو کر، تو یہ "راكباً" حال ہے۔
کبھی تمیز آتی ہے کلام کے اندر۔ مثلاً "على التمرة مثلها زبداً"، کھجور پر اسی کے مثل ہے۔ بھئی، وہ کیا چیز ہے؟ ابہام تھا۔ "زبداً" نے تمیز نے آ کر ابہام کو دور کر دیا۔ کھجور پر اسی کے مثل یعنی اسی کے برابر ہے۔ بھئی، کیا چیز ہے کھجور پر؟ "زبداً" نے آ کر بیان کر دیا کہ وہ کیا ہے؟ مکھن ہے۔ کھجور پر اسی کے مثل مکھن پڑا ہے۔ تو یہ عربوں کا طریقہ تھا۔ جب خاص مہمان آتے تھے تو مہمان نوازی کے طور پر کیا کرتے تھے؟ کھجور کو کاٹ کر اور گٹھلے نکال کر اسی کے اوپر ہر کھجور پر اسی کے مثل مکھن ڈال کر یہ پیش کیا کرتے تھے مہمانوں کے سامنے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ ہے "وعلى التمرة مثلها زبداً"، کھجور پر اسی کے برابر مکھن ہے۔ اب ذرا "زبداً" کو اٹھائیں، کھجور پر اسی کے برابر ہے۔ کچھ بات سمجھ میں آئی؟ کیا چیز ہے؟ ابہام ہے۔ "زبداً" نے آ کر کیا کیا؟ ابہام کو دور۔ تو یہ ہے تمیز بھئی۔ تمیز کیا کرتی ہے؟ ایک مبہم، تمیز جو ہے مبہم چیز سے ابہام کو دور کرتی ہے۔ تو یہ بھی قید ہوا کرتی ہے۔ پتہ چلا کھجور پر مکھن ہے، کوئی اور چیز نہیں ہے۔ تو یہ قید ہے۔
اسی طرح استثنا ہے بھئی، استثنا۔ بعض اوقات کلام میں مستثنیٰ ذکر ہوتا ہے "إلا" وغیرہ کے ساتھ۔ "جاءني القوم" میرے پاس وہ لوگ آئے "إلا زيدا" سوائے زید کے۔ تو دیکھو، یہ استثنا ہے۔ یہ بھی کیا ہوتا ہے کلام کے اندر؟ قید ہوا کرتا ہے۔ یہ سب قیدیں ذکر ہو رہی ہیں بھئی۔ تو مفاعیل خمسہ بھی قید ہوتے ہیں، "ونحوها" اور اس جیسی اور چـ...، اس کے مثل جو ہیں، اور وہ کیا کیا ہیں؟ جیسے بتلا دیا انہوں نے، حال ہے، تمیز ہے اور استثنا۔ "والنواسخ" اسی طرح جو نواسخ ہیں، یہ بھی قیدیں ہوا کرتے ہیں۔
نواسخ کیا؟ یاد رکھیے، یہ جو "كان" وغیرہ جو مبتدا خبر پر جو افعال وغیرہ داخل ہوتے ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ نواسخ۔ مثلاً جملہ تھا "زيد قائم"۔ "زيد قائم"، اسی پر "كان" آیا۔ اب کیا کہیں گے؟ "كان زيد قائماً"، "كان زيد قائماً"۔ تو پہلے تھا "زيد قائم"، اب "كان زيد قائماً"۔ تو یہ نواسخ ہیں، نواسخ۔ نواسخ جمع ہے ناسخ کی۔ ناسخ کا معنی ہے منسوخ کرنے والا۔ ناسخ کا کیا معنی؟ منسوخ کرنے والا۔ بھئی، ان کو کیوں ناسخ کہتے ہیں؟ وجہ یہ ہے، اس لیے کیونکہ یہ مبتدا کے مبتدا اور خبر کے خبر ہونے کو منسوخ کرتے ہیں۔
یہ مبتدا کے مبتدا اور خبر کے خبر ہونے کو کیا کر دیتے ہیں؟ منسوخ کر دیتے ہیں۔ بھئی دیکھیے، "زيد قائم" آپ سے کوئی ترکیب پوچھتا، آپ کیا ترکیب کرتے تھے؟ "زيد" مبتدا اور "قائم" اس کے خبر، یعنی مبتدا کی خبر۔ لیکن اسی پر ذرا "كان" لے آؤ، اب آپ کچھ اور لفظ بولیں گے۔ "كان زيد قائماً"، اب اگر آپ سے کوئی پوچھے یہ "زيد" کیا ہے؟ آپ کہیں گے "كان" کا اسم ہے۔ پہلے مبتدا تھا، اب مبتدا نہ رہا، اب اس کا کیا نام کے... بولتے ہیں اس پر؟ یہ "كان" کا اسم ہے۔ اور "قائماً" پہلے وہ مبتدا کی خبر تھی، اب آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ "كان" کی خبر ہے۔ تو دیکھو، یہ "كان" ناسخ ہے، منسوخ کرنے والا ہے۔ کس چیز کو منسوخ کیا؟ اس نے مبتدا کے مبتدا ہونے کو منسوخ کر دیا اور خبر کے خبر ہونے کو منسوخ کر دیا۔ مبتدا کے مبتدا ہونے کو منسوخ کر کے اس کو اپنا اسم بنا لیا، اور خبر کے خبر ہونے کو منسوخ کر کے اس کو اپنی خبر بنا لیا۔ پہلے وہ تھی مبتدا کی خبر، اب کس کی خبر ہے؟ "كان" کی خبر۔ تو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ نواسخ کہتے ہیں۔ افعال ناقصہ ان کو کیا کہتے ہیں؟ نواسخ کہتے ہیں، کیونکہ یہ مبتدا کے مبتدا ہونے کو اور خبر کے خبر ہونے کو منسوخ کر کے ان کو اپنا اسم اور اپنی خبر بنا لیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟
اسی طرح افعال قلوب آپ نے پڑھے ہیں، افعال قلوب۔ مثلاً دیکھیے بھئی، "زيد عالم"۔ "زيد" مبتدا، "عالم" اس کی خبر۔ اسی پر ذرا افعال قلوب میں سے کوئی ایک فعل لے آئیں۔ "وجدت زيدا عالماً"، "وجدت زيدا عالماً"۔ میں نے زید کو عالم پایا۔ پہلے دیکھیے "زيد" مبتدا تھا، "عالم" اس کی خبر تھی۔ اب اسی پر "وجدت" افعال قلوب لے آئے بھئی۔ تو کیا بن گیا؟ "وجدت زيدا عالماً"۔ اب "زيداً" کو "وجدت" کا مفعول اول کہیں گے، اور "عالماً" کو "وجدت" کے لیے مفعول ثانی کہیں گے۔ تو دیکھو، اس "وجدت" نے "زيد" کے مبتدا ہونے کو منسوخ کر کے اس کو اپنا مفعول اول بنا لیا، اور "عالماً" کی خبر ہونے کو منسوخ کر کے اس کو اپنا مفعول ثانی بنا لیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ نواسخ۔
اسی طرح ہے "زيد قائم"۔ اسی پر ذرا "إن" لے آؤ، "إن زيدا قائم"۔ اب پہلے کیا تھا؟ "زيد" مبتدا، "قائم" اس کی خبر۔ اب کیا کہیں گے؟ "إن زيدا قائم"، اب "زيداً" ہے "إن" کا اسم، اور "قائماً" ہے "إن" کی خبر بھئی۔ صورت سمجھ...، تو ان سب کو کیا کہتے ہیں؟ نواسخ۔ یہ منسوخ کرنے والے ہیں۔ کس چیز کو منسوخ کرتے ہیں؟ مبتدا کے مبتدا ہونے کو منسوخ کر کے اپنا اسم وغیرہ بنا لیتے ہیں یا اپنا مفعول بنا لیتے ہیں، اور خبر کو مبتدا کے لیے خبر ہونے کو منسوخ کر کے اپنے لیے خبر وغیرہ یا مفعول بنا لیتے ہیں۔ تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ نواسخ۔ تو یہ بھی قید ہوتے ہیں۔ یہ افعال ناقصہ، افعال قلوب وغیرہ یہ سارے بھی کیا ہوتے ہیں؟ قید ہوتے ہیں بھئی۔ قیدیں ذکر ہو رہی ہیں۔
"والشرط" اور اسی طرح شرط ہے، یہ بھی قید ہوا کرتی ہے جملے کے لیے بھئی۔ کس طرح؟ مثلاً دیکھیے، ایک آدمی آپ سے کہتا ہے: "میں آپ کو ایک ہزار روپیہ دوں گا"۔ شرط کوئی ذکر ہے؟ نہیں۔ اس کلام کا اور معنی، اس کا مطلب ہے وہ ویسے ہی آپ کو ایک ہزار روپیہ دے گا۔ اور اس کے ساتھ اگر وہ شرط ذکر کر دے: "میں آپ کو ایک ہزار روپیہ دوں گا اگر آپ آج سارا دن میری فلاں دکان پر کام کریں"۔ دیکھا، معنی ہی بدل گیا۔ اب معلوم ہوا وہ ہزار ویسے نہیں دے رہا بلکہ کس لیے دے رہا ہے؟ بطور مزدوری اور محنت کے طور پر اب آپ کو اجرت کے طور پر دے رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو، قید آئی، شرط آئی، تو شرط بھی کیا کرتی ہے؟ شرط بھی قید ہوا کرتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
"والنفي" اور نفی بھی کیا ہوتی ہے؟ قید۔ "جاءني زيد"، کیا معنی؟ زید میرے پاس آیا ہے۔ "ما جاءني زيد"، اب کیا معنی؟ زید نہیں آیا، دیکھو معنی ہی بدل گیا، تو نفی بھی کیا ہوتی ہے؟ قید ہوا کرتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
"والتوابع" اور اسی طرح توابع جو ہیں، وہ بھی قید ہوا کرتے ہیں۔ بھئی، آپ نے نحو میں پڑھا ہے کہ کچھ اسم ایسے ہیں جن پر فعل براہ راست عمل کرتا ہے، اور کچھ ایسے ہیں جن پر وہ اعراب جو آتا ہے وہ اپنے سے ماقبل کو دیکھتے ہوئے آتا ہے۔ ماقبل پر اگر رفع ہے تو اس پر بھی رفع آئے گا، اگر اس پر نصب ہے تو اس پر بھی نصب آئے گا، اگر ماقبل پر جر ہے تو اس پر بھی جر۔ ان کو توابع کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ توابع۔ مثلاً صفت ہے۔ صفت، صفت پر وہی اعراب آئے گا جو کس پر آتا ہے؟ موصوف پر آتا ہے۔ اگر موصوف مرفوع ہو تو صفت بھی کیا ہوتی ہے؟ مرفوع۔
اگر موصوف منصوب ہو تو صفت بھی کیا ہوتی ہے؟ منصوب۔ اگر موصوف مجرور ہو تو صفت بھی کیا ہوگی؟ مجرور۔ تو دیکھو صفت تابع ہے، اس کے تابع ہے۔ جیسا اس پر اعراب، وہی اعراب کس پر؟ صفت پر بھی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو صفت ہے توابع میں سے، صفت تابع ہے موصوف کے۔ اسی طرح ایک ہوتا ہے بدل، بدل بھی کس کے تابع؟ مبدل منہ کے۔ جو اعراب مبدل منہ پر ہوتا ہے وہی اعراب کس پر آتا ہے؟ بدل پر آتا ہے، تو یہ بھی توابع میں سے ہے۔ اسی طرح عطفِ بیان ہے، عطفِ بیان پر بھی وہی اعراب جو معطوف علیہ پر ہوتا ہے۔ جائنی ابو حفصٍ عمرُ، تو یہ دیکھو عمر پر رفع آیا، کیوں آیا رفع؟ کیونکہ اس سے ماقبل ابو حفص جو معطوف علیہ تھا اس پر رفع تھا۔ اسی طرح تاکید ہوتی ہے، جائنی القومُ کلُّہم، میرے پاس وہ ساری قوم آئی، یہ کلُّہم مرفوع ہے، کیوں؟ کیونکہ اس کا متبوع جو القوم ہے وہ مرفوع ہے۔ تو تاکید بھی کس میں سے ہے؟ توابع میں سے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ نحوی باتیں بس میں صرف اشارات کرتا جا رہا ہوں۔
تو یہ توابع ہیں۔ تو یہ جو توابع ہوتے ہیں یہ بھی قید ہوتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ قید ہوتے ہیں۔ بلانوش صفت بھی قید، بدل بھی قید، عطفِ بیان بھی قید، تاکید وغیرہ یہ بھی سب بھی کیا ہیں؟ قید ہوتے ہیں۔ مثال میں نے ابھی ذکر کر دی، لا اکل خبزاً، دیکھو تابع ساتھ نہیں ہے، صفت نہیں ہے، اور لا اکل خبزاً بارداً، صفت یعنی تابع آیا، قید آ گئی، اور معنی ہی بدل گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو توابع اور جو توابع ہیں یہ بھی قید ہوتے ہیں، و غیر ذلک اور ان کے علاوہ بھی۔ تو یہ ساری قیدیں ہیں۔ دوبارہ دیکھیے یہ سب چیزیں ذکر ہو گئیں، ہم کہتے ہیں ان التقیید یکون بالمفاعل کہ مقید کرنا یا تو کس کے ساتھ ہو گا؟ مقید کرنا مفعولوں کے ساتھ ہوتا ہے، و نحوہا اور اس جیسی چیزیں یعنی حال، تمیز اور استثناء وغیرہ، و النواسخ اور مقید کرنا نواسخ کے ساتھ ہوتا ہے، و الشرط اور مقید کرنا شرط کے ساتھ ہوتا ہے، و النفی اور نفی کے ساتھ ہوتا ہے، و التوابع اور توابع کے ساتھ ہوتا ہے، و غیر ذلک اور ان کے علاوہ چیزوں کے ساتھ قید کیا جاتا ہے کلام کو۔
اب ہر ایک کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں اما المفاعل و نحوہا، باقی مفاعل اور اس جیسی چیزیں جو ہیں، اس جیسی کون سی چیزیں؟ حال، تمیز اور استثناء۔ ان کے ساتھ مقید کرنے کے میں کیا مقصد ہوتا ہے؟ ایک ایک قید کا فائدہ ذکر کریں گے۔ ایک ایک قید کا فائدہ ذکر کریں گے۔ اور مفعول تو کتنے ہیں؟ پانچ ہیں، تو ہر ایک کا الگ الگ فائدہ ذکر کرتے جا رہے ہیں۔ کہتے ہیں اما المفاعل و نحوہا باقی مفعول اور اس جیسی جو چیزیں ہیں یعنی حال، تمیز اور استثناء وغیرہ، فالتقیید بہا تو ان کے ساتھ جو ہے کلام کو مقید کیا جاتا ہے، ان کے ساتھ کلام کو مقید کرنا یکون لبیان نوع الفعل، وہ فعل کی قسم بیان کرنے کے لیے ہو گا۔ کس لیے ہو گا؟ فعل کی قسم بیان کرے گا کہ کس قسم کا فعل ہوا ہے، کس قسم کا۔
مثلاً دیکھیے بھئی، آپ نے پڑھا ہے نحو کے اندر کہ یہ جو مفعولِ مطلق ہے، یہ کبھی کبھار عدد بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے، یا کبھی کبھار نوع بیان کرنے کے لیے لاتے ہیں۔ جلسۃُ جلسۃُ جلسۃ القارئ، جلسۃُ کا معنی تھا میں بیٹھا، لیکن جلسۃ القارئ یہ مفعولِ مطلق آ گیا۔ مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، تو جلسۃً بھی کس معنی میں ہے؟ جلسۃُ کے معنی میں ہی ہے، جلوس کے معنی میں ہے۔ تو جلسۃُ جلسۃ القارئ، میں بیٹھا کس کی طرح؟ قاری کی طرح، جس طرح قاری حضرات بیٹھتے ہیں میں بھی اسی طرح بیٹھا۔ تو پہلے جلسۃُ مطلق تھا، اب جلسۃ القارئ اس کے لیے قید آ گئی، معلوم ہوا آپ کا جو بیٹھنا ہے وہ عام ہر طرح کا بیٹھنا یہاں مراد نہیں، بلکہ خاص قسم کا، ایک خاص نوع کا، ایک خاص قسم کا فعل مراد ہے، خاص قسم کا بیٹھنا مراد ہے اور وہ کس کی طرح بیٹھنا ہے؟ قاری کی طرح۔ یہ خاص قسم کا بیٹھنا، یہ فائدہ کس نے دیا؟ مفعولِ مطلق نے، کس نے؟ مفعولِ مطلق فعل کی نوع بیان کرنے کے لیے بعض اوقات لاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ اسی کا فائدہ ذکر کر دیا، پانچ مفعول ہیں نا، ہر ایک کا الگ الگ فائدہ کہ مفعولِ مطلق کے ساتھ کیوں قید کیا جاتا ہے؟ ایک فائدہ ذکر کر دیا کہ کیوں کیا جاتا ہے مفعولِ مطلق کے ساتھ کلام کو مقید؟ فعل کی قسم بیان کرنے کے لیے کہ کس قسم کا فعل واقع ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اسی کا صرف یہی ایک فائدہ ہوتا ہے، نہیں، بس یہ مثال ذکر کر دی، ورنہ آپ نے پڑھا ہے مفعولِ مطلق عدد بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ جلسۃُ، جلسۃُ میں صرف کہتا ہوں، میں بیٹھا، اب کوئی یہ نہیں پتا کہ ایک دفعہ بیٹھا، دو دفعہ یا تین دفعہ، ہاں جو آپ سوچنا چاہیں سوچ سکیں، جس طرف پر चलना چاہیں چل سکیں، لیکن اگر میں قید ذکر کر دیتا ہوں، جلسۃُ جلسۃً، اب یہ عدد بیان کر رہا ہے، معلوم ہوا میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوں۔ اور اگر میں کہتا ہوں جلسۃُ جلسَتینِ، اب کیا یہ فائدہ دے رہا ہے؟ دو مرتبہ بیٹھا، دیکھو عدد بیان کر رہا ہے، اور کبھی کہوں گا جلسۃُ جلساتٍ، میں کئی مرتبہ بیٹھا بھئی، کئی مرتبہ۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو مفعولِ مطلق نوع بھی بیان کرتا ہے اور عدد، اسی طرح یہ مجاز کے احتمال کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ مجاز کے احتمال کو بھی ختم کر دیتا ہے۔
مثلاً ضربت زیداً، میں نے زید کی پٹائی کی۔ ضربت زیداً، اب سننے والے کے ذہن میں آ سکتا ہے کہ بھئی یہ کہنے والا کہہ تو ضرب رہا ہے، ذکر تو پٹائی کا کر رہا ہے، لیکن زید کی اس نے پٹائی نہیں کی ہو گی، زید بھی بڑا قوی اور مضبوط آدمی ہے، ہاں اس کو خوب ڈانٹ دیا ہو گا، تو وہ ڈانٹنے کو ہی کس سے تعبیر کر دیا؟ پٹائی سے تعبیر کر دیا، بس اتنا ڈانٹا بس یوں سمجھو میں نے پٹائی ہی کر دی اس کی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو اس میں دونوں، دونوں مجاز کا بھی احتمال ہے کہ ضرب بول کر ضرب نہ مراد ہو، صرف ڈانٹنا مراد ہو، تو یہ تو مجاز ہو گیا، حقیقت نہ رہا، لیکن آگے میں مفعولِ مطلق بھی لے آتا ہوں، ضربت زیداً ضرباً، ضربت زیداً ضرباً، اب اس ضرباً نے آ کر مجاز کے احتمال کو ختم کر دیا، معلوم ہوا ضربتُ سے ضرب ہی مراد ہے، اسے ڈانٹنا وغیرہ مراد نہیں۔ تو مفعولِ مطلق کبھی آتا ہے نوع بیان کرنے کے لیے، کبھی عدد بیان کرنے کے لیے، کبھی مجاز کے احتمال کو ختم کرنے کے لیے، تو کئی فائدے ہیں، بہرحال ایک فائدہ انہوں نے ذکر کر دیا کہ لبیان نوع الفعل، کہ مفعولوں کے ساتھ اور ان جیسی چیزوں کے ساتھ مقید کرنا جو ہو گا، یکون لبیان نوع الفعل، وہ کس لیے ہو گا؟ فعل کی قسم بیان کرنے کے لیے۔
او ما وقع علیہ، یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس پر فعل واقع ہوا ہے۔ یہ کس مفعول میں ہو گا؟ مفعول بہ میں، تو مفعول بہ کو لایا جاتا ہے یہ بتلانے کے لیے کہ کس پر فعل واقع ہوا ہے، اگر میں صرف ضربتُ کہوں، میں نے پٹائی کی، آپ کو نہیں پتا چلے گا کہ کس پر پٹائی واقع ہوئی ہے، آپ کا ذہن کبھی خالد کی طرف جائے گا، کبھی عمر کی طرف جائے گا، کبھی بکر کی طرف جائے گا، لیکن جب میں نے کہہ دیا ضربت عمراً، اب پتا چل گیا پٹائی کس کی ہوئی ہے؟ عمر کی ہوئی ہے، یہ معنی ہے، او ما وقع علیہ یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس پر فعل واقع ہوا ہے، یہ کس میں ہو گا مفعول؟ مفعول بہ میں۔
او فیہ، اس کا تعلق، اس کا عطف علیہ پر ہے، او ما وقع فیہ، یا اس چیز کو، اس وقت یا زمانے کو بیان کرنے کے لیے جس میں وہ فعل واقع ہوا ہے۔ یہ کس مفعول میں ہو گا؟ ہر ایک کا فائدہ ذکر کر رہے ہیں نا، مفعولِ مطلق لانے کا کیا فائدہ ہے؟ فعل کی قسم بیان کرنے کے لیے لاتے ہیں، یا اور مفعول بہ کو کیوں لاتے ہیں؟ اس کا کیا فائدہ ہو گا مثلاً؟ جس پر فعل واقع ہوا ہے اس کو بیان کرنے کے لیے لاتے ہیں، اور مفعول فیہ جو اس کو کس لیے لاتے ہیں؟ زمانے یا جگہ بتلانے کے لیے جہاں پر وہ فعل واقع ہوا ہے، ضربت یوم الجمعۃ، کس دن میں نے پٹائی کی ہے؟ جمعے کے دن، تو دیکھو اس نے زمانہ بتلا دیا، یا اسی طرح جگہ بتلائے گا، ضربت امامک، میں نے آپ کے سامنے پٹائی کی، تو آپ کے سامنے یہ کیا ہے؟ جگہ ہے، تو یہ مفعول فیہ فائدہ دے گا۔
یہ معنی ہے او ما وقعت علیہ او فیہ، یا اس کو بتلانے کے لیے جس میں پٹائی واقع ہوئی ہے، جس میں پٹائی واقع ہوئی ہے یعنی وہ زمانہ ہو گا یا وہ جگہ ہو گی۔
او لاجلہ، یا جس کی وجہ سے وہ فعل واقع ہوا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ مفعول لہ میں ہو گا، وہ بیان کرنے کے لیے جس کی وجہ سے فعل ہوا، ضربتہ تادیباً، معلوم ہوا یہ ضرب کیوں ہوئی ہے؟ ادب سکھانے کے لیے۔
او بمقارنتہ، یا کہ جس کی مقارنت کے ساتھ فعل واقع ہوا ہے۔ مقارنت کا معنی ہے ملے ہوئے ہونا، اکٹھے اکٹھے، مقارنت کا کیا معنی؟ ملے ہونا، اکٹھے ہونا، یعنی یہ کس میں ہو گا؟ یہ مفعول معہ میں ہو گا، کس میں ہو گا؟ مفعول معہ، وہ مقارنت کا فائدہ دیتا ہے۔
بھئی دیکھیے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ مفعول معہ اس کو کہتے ہیں جو واؤ بمعنی مع کے بعد آئے، جائنی زید و عمراً، یہ عمراً کیا ہے؟ مفعول معہ ہے، کیونکہ یہ کس کے بعد آیا؟ واؤ کے بعد، اور یہ کون سا واؤ ہے؟ واؤ بمعنی مع کے ہے۔ واؤ بمعنی مع، اور نحو کی کتابوں میں آپ مثال پڑھتے ہیں جاء البرد و الجباتِ، جاء البرد و الجباتِ، اور میں نے کیا مثال ذکر کی؟ جائنی زید و عمراً، تو عمراً پر نصب پڑھا، کیونکہ یہ مفعول معہ ہے، اس پر نصب آتا ہے، جاء البرد و الجباتِ، یہ الجباتِ پر کسرہ دے کر یہ نہ سمجھ لینا یہ مجرور ہے، یہ بھی منصوب ہے، لیکن یہ جمع مؤنث سالم ہے اور جمع مؤنث سالم کا نصب آتا ہی کسرہ کی صورت میں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جائنی زید و عمراً، یہ مفعول معہ ہے، کون ہے مفعول معہ؟ عمراً، عمراً۔
اچھا اس کا فائدہ کیا ہوتا ہے؟ فائدہ بھی یاد رکھنا، ایک ہے عطف، ایک ہے مفعول معہ۔ جائنی زید و عمروٌ، آیا میرے پاس زید اور کون آیا؟ عمر، میں عمر کو معطوف بنا رہا ہوں کیونکہ اس پر رفع پڑھ رہا ہوں، جائنی زید و عمروٌ، زیدٌ مرفوع، تو معطوف جو ہے اس کا وہ بھی کیا ہو گا؟ مرفوع، معطوف بھی توابع میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ توابع میں سے، تو معطوف بھی مرفوع آ گیا بھئی معطوف بھی، اور ایک ہے میں نصب پڑھتا ہوں، جائنی زید و عمراً، اب میں عطف نہیں کر رہا، کیونکہ اگر عطف کرتا تو زیدٌ تو ہے مرفوع، تو عمراً عمراً نہیں ہونا چاہیے بلکہ کیا ہونا چاہیے؟ عمروٌ ہونا چاہیے، معلوم ہوا میں اس کو مفعول معہ بنا رہا ہوں، اب دونوں میں فرق کیا ہے؟ جائنی زید و عمروٌ اور جائنی زید و عمراً، فرق کیا ہے؟ یاد رکھیے آپ پڑھ دونوں طرح سکتے ہیں، دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں، موقع محل دیکھیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور فائدہ کیا ہوتا ہے مفعول معہ کا؟ وہ بیان کر رہا ہوں، بھئی جب آپ نے کہا جائنی زید و عمروٌ، کیا معنی؟ میرے پاس آیا زید اور عمر، اب سوال پیدا ہوتا ہے دونوں اکٹھے آئے یا الگ الگ آئے؟ پہلے زید آیا اور بعد میں عمر، یا عمر پہلے آیا اور زید بعد میں؟ اور زید کے آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی عمر آ گیا تھا یا زید کے آنے کے کئی دن بعد عمر آیا تھا؟ یا عمر پہلے آیا تھا اور زید بعد میں، اور عمر کے تھوڑی دیر بعد ہی زید آیا تھا یا عمر کے آنے کے کئی دن بعد زید آیا؟ یاد رکھو یہ ساری صورتوں کو شامل ہے۔ آپ جس طرف جانا چاہیں جا سکتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ سب صورتیں شامل ہیں، کیونکہ یہاں واؤ آیا عطف کے لیے، اور یہ واؤ صرف جمع کا فائدہ دیتا ہے، آپ نے اصولِ فقہ وغیرہ میں پڑھا ہو گا، کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ جمع کا فائدہ دیتا ہے۔
یعنی یہ جو آنے کا فعل ہے، مجیئت جو ماقبل میں ذکر ہو رہی ہے، اس میں دونوں جمع ہیں، یعنی یہ مجیئت زید کے لیے بھی ثابت ہے اور یہ مجیئت عمر کے لیے بھی ثابت ہے، آئے دونوں ہیں، اب آگے اور کوئی تفصیل نہیں اس کلام کے اندر، زید پہلے آیا ہو اور عمر بعد میں، تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، عمر پہلے آیا ہو زید بعد میں آیا ہو، تو بھی آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، تو زید کا لفظ مقدم ہونے کا یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے آیا ہے، ہاں آئے دونوں ہیں اتنا پتا چل رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور دونوں الگ الگ آئے ہوں تب بھی یہ آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، دونوں اکٹھے آئے ہوں تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، زید آج آیا آپ کے پاس، عمر آپ کے پاس 10 سال پہلے آیا تھا، تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، کیونکہ آئے دونوں ہیں یا نہیں؟ مجیئت تو دونوں کے لیے ثابت ہے، واؤ صرف اتنا بتلا رہا ہے کہ یہ مجیئت، یہ جو آنا ہے یہ جیسے زید کے لیے ثابت ہے اسی طرح عمر کے لیے بھی ثابت ہے، جیسے زید آیا ہے اسی طرح عمر بھی آیا ہے بس، باقی کوئی تفصیل نہیں اس میں، لیکن اگر اسی کو آپ مفعول معہ بناتے ہیں جائنی زید و عمراً، اب یہ واؤ بمعنی مع کے ہے، اب ترجمہ ہو گا زید آیا عمر کے ساتھ۔
زید آیا عمر کے ساتھ، اب معلوم ہوا دونوں اکٹھے آئے ہیں، زید یا عمر میں سے کوئی آگے پیچھے نہیں ہے بلکہ دونوں اکٹھے آئے ہیں، صورت، فرق سمجھ میں آیا دونوں کے اندر؟ تو جائنی زید و عمروٌ میں کوئی تفصیل نہیں کہ اکٹھے آئے ہیں یا اکٹھے نہیں آئے، کون پہلے آیا، کون بعد میں آیا، لیکن جب آپ نے اسی کو مفعول معہ پڑھ دیا جائنی زید و عمراً، تو اس نے کیا فائدہ دیا؟ کہ دونوں اکٹھے آئے ہیں، مقارنت ہے دونوں کے آنے میں، دونوں کے لیے جو مجیئت ہے اس مجیئت میں کیا ہے؟ مقارنت ہے، یہ معنی ہے او بمقارنتہ، ای ما وقع بمقارنتہ، یا کیا بیان کرنے کے لیے مفعول لاتے ہیں؟ کہ فعل جس کی مقارنت کے ساتھ واقع ہوا ہے، جس کے ساتھ واقع ہوا ہے، اور یہ کس میں ہو گا؟ بھئی ہر ایک مفعول کا فائدہ ذکر کر رہے ہیں نا، مفعول معہ کے اندر ہو گا، وہ کس لیے آئے گا؟ کہ فعل کہ مقارنت کو بیان کرے گا کہ جس مفعول معہ کے ساتھ کہ یہ دونوں اکٹھے ہیں بھئی۔
او بیان المبہم من الہیئۃ، اب کس کا بیان شروع ہوا؟ بھئی مفعول، مفاعیلِ خمسہ کا تو بیان گزر گیا، لبیان نوع الفعل، یہ فائ، یہ کس، عبارت پر بھی نظر ہے یا نہیں؟ میں تو تشریح میں زیادہ چلا جاتا ہوں تو جہاں مشکل پیش آئے پوچھ لیا کریں، تو دوبارہ دیکھیے فالتقیید بہا یکون لبیان نوع الفعل، یہ مفاعیل وغیرہ جو ہیں ان کے ساتھ مقید کرنا ہو گا فعل کی نوع بیان کرنے کے لیے، یہ کس میں ہو گا؟ مفعولِ مطلق میں، او ما وقع علیہ یا یہ اس چیز کو بیان کرنے کے لیے ہو گا جس پر فعل واقع ہوا ہے، یہ کس میں ہو گا؟ مفعول بہ میں، او فیہ یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس میں فعل واقع ہوا ہے، یہ کس کے اندر ہو گا؟ یہ مفعول فیہ میں، او لاجلہ یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس کی وجہ سے فعل واقع ہوا ہے، وہ کیا ہے؟ مفعول لہ ہے، او بمقارنتہ یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس کے مقارنت کے ساتھ فعل ہوا ہے، جس کے ملے ہونے کے تھے ہوئے، ملے ہوتے ہوئے فعل ہوا ہے، وہ کیا ہے؟ مفعول معہ میں ہو گا، یہ پانچوں مفعولوں کا فائدہ بیان ہو گیا کہ ان کے لانے کا یہ فائدہ ہے اس لیے ان کے ساتھ کلام کو مقید کیا جاتا ہے، او بیان المبہم من الہیئۃ یا ان کے ساتھ مقید کرنا کس لیے ہو گا؟ مبہم ہیئت کو بیان کرنے کے لیے، جیسے حال میں ہوتا ہے، جائنی زیدٌ، زید میرے پاس آیا۔
اگر موصوف منصوب ہو تو صفت بھی کیا ہوتی ہے؟ منصوب۔ اگر موصوف مجرور ہو تو صفت بھی کیا ہوگی؟ مجرور۔ تو دیکھو صفت تابع ہے، اس کے تابع ہے۔ جیسا اس پر اعراب، وہی اعراب کس پر؟ صفت پر بھی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو صفت ہے توابع میں سے، صفت تابع ہے موصوف کے۔ اسی طرح ایک ہوتا ہے بدل، بدل بھی کس کے تابع؟ مبدل منہ کے۔ جو اعراب مبدل منہ پر ہوتا ہے وہی اعراب کس پر آتا ہے؟ بدل پر آتا ہے، تو یہ بھی توابع میں سے ہے۔ اسی طرح عطفِ بیان ہے، عطفِ بیان پر بھی وہی اعراب جو معطوف علیہ پر ہوتا ہے۔ جائنی ابو حفصٍ عمرُ، تو یہ دیکھو عمر پر رفع آیا، کیوں آیا رفع؟ کیونکہ اس سے ماقبل ابو حفص جو معطوف علیہ تھا اس پر رفع تھا۔ اسی طرح تاکید ہوتی ہے، جائنی القومُ کلُّہم، میرے پاس وہ ساری قوم آئی، یہ کلُّہم مرفوع ہے، کیوں؟ کیونکہ اس کا متبوع جو القوم ہے وہ مرفوع ہے۔ تو تاکید بھی کس میں سے ہے؟ توابع میں سے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ نحوی باتیں بس میں صرف اشارات کرتا جا رہا ہوں۔
تو یہ توابع ہیں۔ تو یہ جو توابع ہوتے ہیں یہ بھی قید ہوتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ قید ہوتے ہیں۔ بلانوش صفت بھی قید، بدل بھی قید، عطفِ بیان بھی قید، تاکید وغیرہ یہ بھی سب بھی کیا ہیں؟ قید ہوتے ہیں۔ مثال میں نے ابھی ذکر کر دی، لا اکل خبزاً، دیکھو تابع ساتھ نہیں ہے، صفت نہیں ہے، اور لا اکل خبزاً بارداً، صفت یعنی تابع آیا، قید آ گئی، اور معنی ہی بدل گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو توابع اور جو توابع ہیں یہ بھی قید ہوتے ہیں، و غیر ذلک اور ان کے علاوہ بھی۔ تو یہ ساری قیدیں ہیں۔ دوبارہ دیکھیے یہ سب چیزیں ذکر ہو گئیں، ہم کہتے ہیں ان التقیید یکون بالمفاعل کہ مقید کرنا یا تو کس کے ساتھ ہو گا؟ مقید کرنا مفعولوں کے ساتھ ہوتا ہے، و نحوہا اور اس جیسی چیزیں یعنی حال، تمیز اور استثناء وغیرہ، و النواسخ اور مقید کرنا نواسخ کے ساتھ ہوتا ہے، و الشرط اور مقید کرنا شرط کے ساتھ ہوتا ہے، و النفی اور نفی کے ساتھ ہوتا ہے، و التوابع اور توابع کے ساتھ ہوتا ہے، و غیر ذلک اور ان کے علاوہ چیزوں کے ساتھ قید کیا جاتا ہے کلام کو۔
اب ہر ایک کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں اما المفاعل و نحوہا، باقی مفاعل اور اس جیسی چیزیں جو ہیں، اس جیسی کون سی چیزیں؟ حال، تمیز اور استثناء۔ ان کے ساتھ مقید کرنے کے میں کیا مقصد ہوتا ہے؟ ایک ایک قید کا فائدہ ذکر کریں گے۔ ایک ایک قید کا فائدہ ذکر کریں گے۔ اور مفعول تو کتنے ہیں؟ پانچ ہیں، تو ہر ایک کا الگ الگ فائدہ ذکر کرتے جا رہے ہیں۔ کہتے ہیں اما المفاعل و نحوہا باقی مفعول اور اس جیسی جو چیزیں ہیں یعنی حال، تمیز اور استثناء وغیرہ، فالتقیید بہا تو ان کے ساتھ جو ہے کلام کو مقید کیا جاتا ہے، ان کے ساتھ کلام کو مقید کرنا یکون لبیان نوع الفعل، وہ فعل کی قسم بیان کرنے کے لیے ہو گا۔ کس لیے ہو گا؟ فعل کی قسم بیان کرے گا کہ کس قسم کا فعل ہوا ہے، کس قسم کا۔
مثلاً دیکھیے بھئی، آپ نے پڑھا ہے نحو کے اندر کہ یہ جو مفعولِ مطلق ہے، یہ کبھی کبھار عدد بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے، یا کبھی کبھار نوع بیان کرنے کے لیے لاتے ہیں۔ جلسۃُ جلسۃ القارئ، جلسۃُ کا معنی تھا میں بیٹھا، لیکن جلسۃ القارئ یہ مفعولِ مطلق آ گیا۔ مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، تو جلسۃً بھی کس معنی میں ہے؟ جلسۃُ کے معنی میں ہی ہے، جلوس کے معنی میں ہے۔ تو جلسۃُ جلسۃ القارئ، میں بیٹھا کس کی طرح؟ قاری کی طرح، جس طرح قاری حضرات بیٹھتے ہیں میں بھی اسی طرح بیٹھا۔ تو پہلے جلسۃُ مطلق تھا، اب جلسۃ القارئ اس کے لیے قید آ گئی، معلوم ہوا آپ کا جو بیٹھنا ہے وہ عام ہر طرح کا بیٹھنا یہاں مراد نہیں، بلکہ خاص قسم کا، ایک خاص نوع کا، ایک خاص قسم کا فعل مراد ہے، خاص قسم کا بیٹھنا مراد ہے اور وہ کس کی طرح بیٹھنا ہے؟ قاری کی طرح۔ یہ خاص قسم کا بیٹھنا، یہ فائدہ کس نے دیا؟ مفعولِ مطلق نے، کس نے؟ مفعولِ مطلق فعل کی نوع بیان کرنے کے لیے بعض اوقات لاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ اسی کا فائدہ ذکر کر دیا، پانچ مفعول ہیں نا، ہر ایک کا الگ الگ فائدہ کہ مفعولِ مطلق کے ساتھ کیوں قید کیا جاتا ہے؟ ایک فائدہ ذکر کر دیا کہ کیوں کیا جاتا ہے مفعولِ مطلق کے ساتھ کلام کو مقید؟ فعل کی قسم بیان کرنے کے لیے کہ کس قسم کا فعل واقع ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اسی کا صرف یہی ایک فائدہ ہوتا ہے، نہیں، بس یہ مثال ذکر کر دی، ورنہ آپ نے پڑھا ہے مفعولِ مطلق عدد بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ جلسۃُ، جلسۃُ میں صرف کہتا ہوں، میں بیٹھا، اب کوئی یہ نہیں پتا کہ ایک دفعہ بیٹھا، دو دفعہ یا تین دفعہ، ہاں جو آپ سوچنا چاہیں سوچ سکیں، جس طرف پر चलना چاہیں چل سکیں، لیکن اگر میں قید ذکر کر دیتا ہوں، جلسۃُ جلسۃً، اب یہ عدد بیان کر رہا ہے، معلوم ہوا میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوں۔ اور اگر میں کہتا ہوں جلسۃُ جلسَتینِ، اب کیا یہ فائدہ دے رہا ہے؟ دو مرتبہ بیٹھا، دیکھو عدد بیان کر رہا ہے، اور کبھی کہوں گا جلسۃُ جلساتٍ، میں کئی مرتبہ بیٹھا بھئی، کئی مرتبہ۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو مفعولِ مطلق نوع بھی بیان کرتا ہے اور عدد، اسی طرح یہ مجاز کے احتمال کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ مجاز کے احتمال کو بھی ختم کر دیتا ہے۔
مثلاً ضربت زیداً، میں نے زید کی پٹائی کی۔ ضربت زیداً، اب سننے والے کے ذہن میں آ سکتا ہے کہ بھئی یہ کہنے والا کہہ تو ضرب رہا ہے، ذکر تو پٹائی کا کر رہا ہے، لیکن زید کی اس نے پٹائی نہیں کی ہو گی، زید بھی بڑا قوی اور مضبوط آدمی ہے، ہاں اس کو خوب ڈانٹ دیا ہو گا، تو وہ ڈانٹنے کو ہی کس سے تعبیر کر دیا؟ پٹائی سے تعبیر کر دیا، بس اتنا ڈانٹا بس یوں سمجھو میں نے پٹائی ہی کر دی اس کی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو اس میں دونوں، دونوں مجاز کا بھی احتمال ہے کہ ضرب بول کر ضرب نہ مراد ہو، صرف ڈانٹنا مراد ہو، تو یہ تو مجاز ہو گیا، حقیقت نہ رہا، لیکن آگے میں مفعولِ مطلق بھی لے آتا ہوں، ضربت زیداً ضرباً، ضربت زیداً ضرباً، اب اس ضرباً نے آ کر مجاز کے احتمال کو ختم کر دیا، معلوم ہوا ضربتُ سے ضرب ہی مراد ہے، اسے ڈانٹنا وغیرہ مراد نہیں۔ تو مفعولِ مطلق کبھی آتا ہے نوع بیان کرنے کے لیے، کبھی عدد بیان کرنے کے لیے، کبھی مجاز کے احتمال کو ختم کرنے کے لیے، تو کئی فائدے ہیں، بہرحال ایک فائدہ انہوں نے ذکر کر دیا کہ لبیان نوع الفعل، کہ مفعولوں کے ساتھ اور ان جیسی چیزوں کے ساتھ مقید کرنا جو ہو گا، یکون لبیان نوع الفعل، وہ کس لیے ہو گا؟ فعل کی قسم بیان کرنے کے لیے۔
او ما وقع علیہ، یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس پر فعل واقع ہوا ہے۔ یہ کس مفعول میں ہو گا؟ مفعول بہ میں، تو مفعول بہ کو لایا جاتا ہے یہ بتلانے کے لیے کہ کس پر فعل واقع ہوا ہے، اگر میں صرف ضربتُ کہوں، میں نے پٹائی کی، آپ کو نہیں پتا چلے گا کہ کس پر پٹائی واقع ہوئی ہے، آپ کا ذہن کبھی خالد کی طرف جائے گا، کبھی عمر کی طرف جائے گا، کبھی بکر کی طرف جائے گا، لیکن جب میں نے کہہ دیا ضربت عمراً، اب پتا چل گیا پٹائی کس کی ہوئی ہے؟ عمر کی ہوئی ہے، یہ معنی ہے، او ما وقع علیہ یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس پر فعل واقع ہوا ہے، یہ کس میں ہو گا مفعول؟ مفعول بہ میں۔
او فیہ، اس کا تعلق، اس کا عطف علیہ پر ہے، او ما وقع فیہ، یا اس چیز کو، اس وقت یا زمانے کو بیان کرنے کے لیے جس میں وہ فعل واقع ہوا ہے۔ یہ کس مفعول میں ہو گا؟ ہر ایک کا فائدہ ذکر کر رہے ہیں نا، مفعولِ مطلق لانے کا کیا فائدہ ہے؟ فعل کی قسم بیان کرنے کے لیے لاتے ہیں، یا اور مفعول بہ کو کیوں لاتے ہیں؟ اس کا کیا فائدہ ہو گا مثلاً؟ جس پر فعل واقع ہوا ہے اس کو بیان کرنے کے لیے لاتے ہیں، اور مفعول فیہ جو اس کو کس لیے لاتے ہیں؟ زمانے یا جگہ بتلانے کے لیے جہاں پر وہ فعل واقع ہوا ہے، ضربت یوم الجمعۃ، کس دن میں نے پٹائی کی ہے؟ جمعے کے دن، تو دیکھو اس نے زمانہ بتلا دیا، یا اسی طرح جگہ بتلائے گا، ضربت امامک، میں نے آپ کے سامنے پٹائی کی، تو آپ کے سامنے یہ کیا ہے؟ جگہ ہے، تو یہ مفعول فیہ فائدہ دے گا۔
یہ معنی ہے او ما وقعت علیہ او فیہ، یا اس کو بتلانے کے لیے جس میں پٹائی واقع ہوئی ہے، جس میں پٹائی واقع ہوئی ہے یعنی وہ زمانہ ہو گا یا وہ جگہ ہو گی۔
او لاجلہ، یا جس کی وجہ سے وہ فعل واقع ہوا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ مفعول لہ میں ہو گا، وہ بیان کرنے کے لیے جس کی وجہ سے فعل ہوا، ضربتہ تادیباً، معلوم ہوا یہ ضرب کیوں ہوئی ہے؟ ادب سکھانے کے لیے۔
او بمقارنتہ، یا کہ جس کی مقارنت کے ساتھ فعل واقع ہوا ہے۔ مقارنت کا معنی ہے ملے ہوئے ہونا، اکٹھے اکٹھے، مقارنت کا کیا معنی؟ ملے ہونا، اکٹھے ہونا، یعنی یہ کس میں ہو گا؟ یہ مفعول معہ میں ہو گا، کس میں ہو گا؟ مفعول معہ، وہ مقارنت کا فائدہ دیتا ہے۔
بھئی دیکھیے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ مفعول معہ اس کو کہتے ہیں جو واؤ بمعنی مع کے بعد آئے، جائنی زید و عمراً، یہ عمراً کیا ہے؟ مفعول معہ ہے، کیونکہ یہ کس کے بعد آیا؟ واؤ کے بعد، اور یہ کون سا واؤ ہے؟ واؤ بمعنی مع کے ہے۔ واؤ بمعنی مع، اور نحو کی کتابوں میں آپ مثال پڑھتے ہیں جاء البرد و الجباتِ، جاء البرد و الجباتِ، اور میں نے کیا مثال ذکر کی؟ جائنی زید و عمراً، تو عمراً پر نصب پڑھا، کیونکہ یہ مفعول معہ ہے، اس پر نصب آتا ہے، جاء البرد و الجباتِ، یہ الجباتِ پر کسرہ دے کر یہ نہ سمجھ لینا یہ مجرور ہے، یہ بھی منصوب ہے، لیکن یہ جمع مؤنث سالم ہے اور جمع مؤنث سالم کا نصب آتا ہی کسرہ کی صورت میں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جائنی زید و عمراً، یہ مفعول معہ ہے، کون ہے مفعول معہ؟ عمراً، عمراً۔
اچھا اس کا فائدہ کیا ہوتا ہے؟ فائدہ بھی یاد رکھنا، ایک ہے عطف، ایک ہے مفعول معہ۔ جائنی زید و عمروٌ، آیا میرے پاس زید اور کون آیا؟ عمر، میں عمر کو معطوف بنا رہا ہوں کیونکہ اس پر رفع پڑھ رہا ہوں، جائنی زید و عمروٌ، زیدٌ مرفوع، تو معطوف جو ہے اس کا وہ بھی کیا ہو گا؟ مرفوع، معطوف بھی توابع میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ توابع میں سے، تو معطوف بھی مرفوع آ گیا بھئی معطوف بھی، اور ایک ہے میں نصب پڑھتا ہوں، جائنی زید و عمراً، اب میں عطف نہیں کر رہا، کیونکہ اگر عطف کرتا تو زیدٌ تو ہے مرفوع، تو عمراً عمراً نہیں ہونا چاہیے بلکہ کیا ہونا چاہیے؟ عمروٌ ہونا چاہیے، معلوم ہوا میں اس کو مفعول معہ بنا رہا ہوں، اب دونوں میں فرق کیا ہے؟ جائنی زید و عمروٌ اور جائنی زید و عمراً، فرق کیا ہے؟ یاد رکھیے آپ پڑھ دونوں طرح سکتے ہیں، دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں، موقع محل دیکھیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور فائدہ کیا ہوتا ہے مفعول معہ کا؟ وہ بیان کر رہا ہوں، بھئی جب آپ نے کہا جائنی زید و عمروٌ، کیا معنی؟ میرے پاس آیا زید اور عمر، اب سوال پیدا ہوتا ہے دونوں اکٹھے آئے یا الگ الگ آئے؟ پہلے زید آیا اور بعد میں عمر، یا عمر پہلے آیا اور زید بعد میں؟ اور زید کے آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی عمر آ گیا تھا یا زید کے آنے کے کئی دن بعد عمر آیا تھا؟ یا عمر پہلے آیا تھا اور زید بعد میں، اور عمر کے تھوڑی دیر بعد ہی زید آیا تھا یا عمر کے آنے کے کئی دن بعد زید آیا؟ یاد رکھو یہ ساری صورتوں کو شامل ہے۔ آپ جس طرف جانا چاہیں جا سکتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ سب صورتیں شامل ہیں، کیونکہ یہاں واؤ آیا عطف کے لیے، اور یہ واؤ صرف جمع کا فائدہ دیتا ہے، آپ نے اصولِ فقہ وغیرہ میں پڑھا ہو گا، کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ جمع کا فائدہ دیتا ہے۔
یعنی یہ جو آنے کا فعل ہے، مجیئت جو ماقبل میں ذکر ہو رہی ہے، اس میں دونوں جمع ہیں، یعنی یہ مجیئت زید کے لیے بھی ثابت ہے اور یہ مجیئت عمر کے لیے بھی ثابت ہے، آئے دونوں ہیں، اب آگے اور کوئی تفصیل نہیں اس کلام کے اندر، زید پہلے آیا ہو اور عمر بعد میں، تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، عمر پہلے آیا ہو زید بعد میں آیا ہو، تو بھی آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، تو زید کا لفظ مقدم ہونے کا یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے آیا ہے، ہاں آئے دونوں ہیں اتنا پتا چل رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور دونوں الگ الگ آئے ہوں تب بھی یہ آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، دونوں اکٹھے آئے ہوں تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، زید آج آیا آپ کے پاس، عمر آپ کے پاس 10 سال پہلے آیا تھا، تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں جائنی زید و عمروٌ، کیونکہ آئے دونوں ہیں یا نہیں؟ مجیئت تو دونوں کے لیے ثابت ہے، واؤ صرف اتنا بتلا رہا ہے کہ یہ مجیئت، یہ جو آنا ہے یہ جیسے زید کے لیے ثابت ہے اسی طرح عمر کے لیے بھی ثابت ہے، جیسے زید آیا ہے اسی طرح عمر بھی آیا ہے بس، باقی کوئی تفصیل نہیں اس میں، لیکن اگر اسی کو آپ مفعول معہ بناتے ہیں جائنی زید و عمراً، اب یہ واؤ بمعنی مع کے ہے، اب ترجمہ ہو گا زید آیا عمر کے ساتھ۔
زید آیا عمر کے ساتھ، اب معلوم ہوا دونوں اکٹھے آئے ہیں، زید یا عمر میں سے کوئی آگے پیچھے نہیں ہے بلکہ دونوں اکٹھے آئے ہیں، صورت، فرق سمجھ میں آیا دونوں کے اندر؟ تو جائنی زید و عمروٌ میں کوئی تفصیل نہیں کہ اکٹھے آئے ہیں یا اکٹھے نہیں آئے، کون پہلے آیا، کون بعد میں آیا، لیکن جب آپ نے اسی کو مفعول معہ پڑھ دیا جائنی زید و عمراً، تو اس نے کیا فائدہ دیا؟ کہ دونوں اکٹھے آئے ہیں، مقارنت ہے دونوں کے آنے میں، دونوں کے لیے جو مجیئت ہے اس مجیئت میں کیا ہے؟ مقارنت ہے، یہ معنی ہے او بمقارنتہ، ای ما وقع بمقارنتہ، یا کیا بیان کرنے کے لیے مفعول لاتے ہیں؟ کہ فعل جس کی مقارنت کے ساتھ واقع ہوا ہے، جس کے ساتھ واقع ہوا ہے، اور یہ کس میں ہو گا؟ بھئی ہر ایک مفعول کا فائدہ ذکر کر رہے ہیں نا، مفعول معہ کے اندر ہو گا، وہ کس لیے آئے گا؟ کہ فعل کہ مقارنت کو بیان کرے گا کہ جس مفعول معہ کے ساتھ کہ یہ دونوں اکٹھے ہیں بھئی۔
او بیان المبہم من الہیئۃ، اب کس کا بیان شروع ہوا؟ بھئی مفعول، مفاعیلِ خمسہ کا تو بیان گزر گیا، لبیان نوع الفعل، یہ فائ، یہ کس، عبارت پر بھی نظر ہے یا نہیں؟ میں تو تشریح میں زیادہ چلا جاتا ہوں تو جہاں مشکل پیش آئے پوچھ لیا کریں، تو دوبارہ دیکھیے فالتقیید بہا یکون لبیان نوع الفعل، یہ مفاعیل وغیرہ جو ہیں ان کے ساتھ مقید کرنا ہو گا فعل کی نوع بیان کرنے کے لیے، یہ کس میں ہو گا؟ مفعولِ مطلق میں، او ما وقع علیہ یا یہ اس چیز کو بیان کرنے کے لیے ہو گا جس پر فعل واقع ہوا ہے، یہ کس میں ہو گا؟ مفعول بہ میں، او فیہ یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس میں فعل واقع ہوا ہے، یہ کس کے اندر ہو گا؟ یہ مفعول فیہ میں، او لاجلہ یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس کی وجہ سے فعل واقع ہوا ہے، وہ کیا ہے؟ مفعول لہ ہے، او بمقارنتہ یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس کے مقارنت کے ساتھ فعل ہوا ہے، جس کے ملے ہونے کے تھے ہوئے، ملے ہوتے ہوئے فعل ہوا ہے، وہ کیا ہے؟ مفعول معہ میں ہو گا، یہ پانچوں مفعولوں کا فائدہ بیان ہو گیا کہ ان کے لانے کا یہ فائدہ ہے اس لیے ان کے ساتھ کلام کو مقید کیا جاتا ہے، او بیان المبہم من الہیئۃ یا ان کے ساتھ مقید کرنا کس لیے ہو گا؟ مبہم ہیئت کو بیان کرنے کے لیے، جیسے حال میں ہوتا ہے، جائنی زیدٌ، زید میرے پاس آیا۔
اب وہ مبہم ہے، پتہ نہیں پیدل آیا ہے یا سوار ہو کر آیا ہے، راکباً حال نے آ کر کیا کیا؟ اس ابہام کو دور کیا۔ یہ تو یہ حال اس لیے لایا جاتا ہے حال کے ساتھ اس لیے مقید کیا جاتا ہے تاکہ مبہم ہیئت کو بیان کر دیا جائے۔ والذات اور مبہم ذات کو بیان کرنے کے لیے مبہم ذات کو بیان، یہ ہے تمیز کے اندر بھئی، تمیز کے ذریعے۔ جو ذات میں ابہام ہوتا ہے اس کو دور کیا جاتا ہے، على التمرة مثلہا، کھجور پر اسی کے برابر ہے، بھئی کیا چیز ہے؟ ابہام تھا، زبداً تمیز آ گئی اس نے کیا کیا؟ ابہام کو دور کیا، تو ذات کے ابہام کو بیان کرنے کے لیے۔
او بیان عدم شمول الحکم یا عدمِ شمولِ حکم کو بیان کرنے کے لیے کہ حکم سب کو شامل نہیں۔ یہ استثناء کے اندر ہو گا، کس کے اندر ہو گا؟ استثناء۔ مثلاً میں کہتا ہوں، جائنی القوم، میرے پاس وہ لوگ آئے، اٹھ دس لوگ ہیں متعین، آپ کو بھی پتہ ہے، میں نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا وہ لوگ میرے پاس آئے، ان میں سے ایک زید بھی ہے، ان میں ایک زید بھی ہے، تو اب میں صرف یہ کہوں جائنی القوم، وہ لوگ میرے پاس آئے، تو زید بھی داخل ہے یا نہیں؟ کیونکہ زید بھی ان میں ہے تو اور انہی کا تو میں کہہ رہا ہوں کہ وہ آئے ہیں تو یقیناً زید بھی آیا ہے، لیکن اگر اسی سے میں استثناء کر دوں جائنی القوم إلا زیداً، وہ لوگ میرے پاس آئے سوائے زید کے، تو دیکھو، یہ إلا زیداً یہ استثناء میں نے کیا، اس نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ اس کے ساتھ میں نے کلام کو کیوں مقید کیا؟ کیا بتلانے کے لیے؟ کہ یہ مجیئت کا حکم ان سب کو شامل نہیں ہے۔ جائنی القوم، وہ لوگ میرے پاس آئے، کیا حکم لگا رہا ہوں میں ان پر؟ مجیئت کا، آنے کا کہ وہ میرے پاس آئے ہیں، إلا کے ذریعے میں نے کس کو نکالا؟ زید، معلوم ہوا یہ جو مجیئت کا حکم ہے یہ ان ساروں کو شامل نہیں ہے، زید کے علاوہ باقیوں کو شامل ہے، باقی آئے ہیں، زید نہیں آیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ عدم شمول الحکم یہ بیان کرنے کے لیے، یہ کس کے اندر ہو گا؟ استثناء میں۔
یہ معنی ہے او بیان عدم شمول الحکم یا اس حکم کے عدمِ شمول کو بیان کرنے کے لیے کہ وہ سب افراد کو شامل نہیں ہے، وتکون القیود محط الفائدۃ اور قیدیں جو ہوتی ہیں وہ فائدے کا مدار ہوتی ہیں، محطٌ کا معنی میں نے بیان کیا تھا بھئی، محط الکلام کسے کہتے ہیں؟ کلام کا جس پر مدار ہوتا ہے، اور قیدیں جو ہوتی ہیں ان پر فائدے کا مدار ہوتا ہے، والکلام بدونہا کاذباً او غیر مقصود بالذات اور کلام ان قیدوں کے بغیر کاذب ہو گا او غیر مقصود بالذات یا بالذات مقصود ہی نہیں۔ کبھی تو کلام ہی کاذب ہو جائے گا جیسے دیکھیے آیت کے اندر لاعبین قید نکال دیں تو کلام ہی درست نہیں رہتا، یا بعض اوقات کاذب تو نہیں بنے گا لیکن وہ مقصود بالذات نہ رہے گا جیسے لا اکل خبزاً بارداً، ایک آدمی کہتا ہے، اسی طرح بارداً کی قید اٹھا دو، لا اکل خبزاً، تو یہ تو اور معنی بن گیا اور یہ وہ کہنا چاہتا ہے؟ نہیں، وہ یہ کہنا ہی نہیں چاہتا، تو دیکھو اگر قید کو اٹھا دیا جائے تو وہ کلام مقصود بالذات ہی نہیں رہتا۔
نحو مثال کے طور پر، وما خلقنا السماء والأرض وما بینہما لاعبین اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے لاعبین بیکار۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو ہم نے بیکار نہیں پیدا کیا۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو پہلے انہوں نے اجمالاً ذکر کر دیا کہ جہاں متکلم کی غرض کلام کو مقید نہ کرنا ہو تاکہ سننے والا جس راستے پر چلنا چاہے وہ چل سکے وہ اطلاق کا مقام ہے، اور جہاں اس کی غرض ہو کہ وہ کلام کو مقید کرنا چاہتا ہے ایک مخصوص طریقے پر کہ اگر اس کی رعایت نہ رکھی جائے تو کلام کی غرض اور اس کا فائدہ ہی کیا ہو جائے؟ فوت ہو جائے، تو وہ مقام تقیید کا ہے وہاں قید لے کر آئیں گے۔ اور قیدیں کیا کیا چیز ہوتی ہیں وہ بھی بیان کر دیں کہ مفاعیل سارے کیا ہیں؟ قیدیں ہیں۔ استثناء، حال وغیرہ یہ بھی کیا ہیں؟ قیدیں ہیں۔ نواسخ، شرط، نفی اور توابع وغیرہ یہ بھی کیا ہیں؟ قیدیں ہیں۔ توابع سمجھ گئے یا نہیں؟ صفت ہے، معطوف ہے، بدل ہے، تاکید ہے اور عطفِ بیان ہے۔ تو یہ بھی سارے قیدوں میں سے ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے لانے کے کیا فائدے ہوتے ہیں؟ تو سب سے پہلے مفاعیلِ خمسہ اور جو ان جیسی چیزیں ہیں ان کو بیان کیا۔ مفاعیلِ خمسہ ان میں کیا کیا فائدہ ہو گا؟ کہ اس کے ساتھ کلام کو مقید کیا جائے گا کیا بیان کرنے کے لیے؟ فعل کی نوع بیان کرنے کے لیے، یا اس کو بیان کرنے کے لیے جس پر فعل واقع ہوا ہے، یا اس زمانے یا جگہ کو بیان کرنے کے لیے جس میں فعل واقع ہوا ہے، یا اس چیز کو بیان کرنے کے لیے جس کی وجہ سے فعل واقع ہوا ہے، یا اس چیز کو بیان کرنے کے لیے جس کے ساتھ مل کر کیا ہوا ہے؟ وہ فعل ہوا ہے، یا مفاعیلِ خمسہ جیسی چیزیں جو ہیں حال، استثناء وغیرہ ان کے ساتھ مقید کیا جاتا ہے کس لیے؟ تاکہ مبہم ہیئت کو بیان کیا جائے، یہ حال میں، یا مبہم ذات کو بیان کیا جائے، یہ کس کے اندر؟ تمیز کے اندر، یا عدمِ شمولِ حکم کو بیان کیا جائے کہ حکم سب کو شامل نہیں ہے بلکہ کچھ کو اس حکم سے آپ نکال دیتے ہیں، یہ کس کے اندر ہو گا؟ استثناء کے اندر۔ اور پھر آپ کو یہ بتلایا کہ یہ قیدیں جو ہوتی ہیں ان پر فائدے کا مدار ہوتا ہے، اگر یہ قید اس کو کلام سے نکال دیا جائے تو بعض اوقات کلام ہی سے کاذب بن جائے گا اور بعض اوقات کاذب تو نہیں بنے گا لیکن غیر مقصود ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔