Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-048

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔48‏ و اما المنادى فيؤتى به اذا لم يعرف للمخاطب عنوان خاص، نحو: «يا رجل» و«يا فتى». وقد يؤتى به للإشارة إلى علة ما ‏يطلب منه، نحو: «يا غلام احضر الطعام»، و«يا خادم أسرج الفرس»؛ أو لغرض يمكن اعتباره هاهنا مما ذكر في النداء‎.‎ تعریف اور تنکیر کا باب چل رہا ہے، اور آپ نے پڑھا کہ جہاں پر متکلم کا مقصد یہ ہو کہ وہ سننے والے کو یہ بتلانا ‏چاہتا ہے کہ بات کا تعلق جو ہے کسی متعین شخص یا متعین چیز کے ساتھ ہے، تو وہ مقام ہے تعریف کا، وہاں پر معرفہ ‏لایا جائے گا۔ اور جب متکلم کی یہ غرض نہ ہو، تو وہ مقام ہے تنکیر کا، وہاں نکرہ لاتے ہیں۔ اور پھر معرفہ کی کئی قسمیں تھیں کہ ضمیر بھی معرفہ ہے، اسم اشارہ بھی معرفہ ہے، اسم موصول بھی معرفہ ہے، علم ‏وغیرہ یہ سب چیزیں معرفہ ہیں۔ تو ہر ایک کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں، سب کو علیحدہ علیحدہ تفصیل سے ذکر ‏کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھیے، یہ جتنے نکات بیان ہو رہے ہیں، انہی میں حصر نہیں ہے، صرف یہی ‏نقطے نہیں ہوتے ان کے لانے میں۔ ہاں، یہ بطور مثال کے ہر ایک کی چند چند مثالیں ذکر کر دیں کہ اس طرح کے نکات ‏ہو سکتے ہیں، تو موقع محل کے مطابق وہ اور بھی نکات ہو سکتے ہیں، یہ چند ایک انہوں نے بطور مثال کے ذکر کر ‏دیے ہیں۔ گزشتہ سبق میں ہم نے پڑھا تھا مضاف الی المعرفہ جو ہے اس کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں۔ آج آخری جو ہے ‏منادیٰ، اس کے بارے میں بتلائیں گے بھئی۔ کیونکہ منادیٰ وہ بھی معرفہ ہے، اس کے لانے میں کیا نکات ہوتے ہیں، وہ ‏آج بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: «واما المنادى فيؤتى به اذا لم يعرف للمخاطب عنوان خاص»، اور منادیٰ جو ہے «فيؤتى به» تو اس کو لایا جاتا ‏ہے «إذا لم يعرف» جب نہ جانا جائے۔ «إذا لم يعرف» جب جانا نہ جائے یعنی معلوم نہ ہو «للمخاطب عنوان خاص» ‏مخاطب کے لیے کوئی خاص عنوان، یعنی مخاطب کا کوئی خاص عنوان یعنی خاص نام معلوم نہ ہو، تو پھر کس کے... ‏پھر ندا کی جاتی ہے مثلاً۔ مثلاً ایک آدمی ہے آپ کے سامنے سے گزر رہا ہے، آپ اس کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ‏ہیں، اب آپ کو اس کا نام تو آتا نہیں، تو آپ اس کو کہتے ہیں «يا رجل»، کیا کہتے ہیں؟ «يا رجل»۔ تو دیکھیے، یہاں آپ ‏کو اس کا خاص عنوان، نام وغیرہ علم نہیں، تو آپ نے رجل کے ساتھ اس کو متوجہ کیا اپنی طرف «يا رجل»۔ اور یہ جو «يا رجل» آپ نے کہا، تو یہ کسی عام... عام ہے، کسی غیر متعین کو کہا یا کسی متعین شخص کو یہ ندا دی ‏ہے؟ متعین شخص جو آپ کے سامنے سے گزر رہا تھا، اس کو ندا دی ہے۔ تو لہذا اسی لیے علماء لکھتے ہیں کہ «يا ‏رجل»، اس کے اندر جو رجل ہے وہ معرفہ ہے۔ اس پر اگرچہ الف لام داخل نہیں ہے، اس کی اضافت وغیرہ نہیں ہے، ‏لیکن پھر بھی یہ رجل کا لفظ کس میں؟ «يا رجل» میں، یہ کیا ہے؟ معرفہ ہے۔ تو معلوم ہوا کہ جو حروفِ ندا ہیں، یہ آلاتِ تعریف ہیں۔ یعنی یہ کسی لفظ کو معرفہ بنا دیتے ہیں جب اس پر کیا داخل ہو ‏جائے؟ حرفِ ندا۔ تو «رجل» ویسے تو نکرہ تھا، لیکن اس پر جب یا داخل ہوئی «يا رجل»، اب یہ کیا بن گیا؟ معرفہ بن ‏گیا۔ اور آپ کو میں نے بتلا دیا کس طرح معرفہ ہے، رجل تو کہتے ہیں کسی غیر متعین پر جو دلالت کرے، اور یہاں جو ‏آپ نے کہا «يا رجل»، غیر متعین کو کہا یا ایک متعین آدمی آپ کے سامنے تھا؟ ایک متعین شخص تھا اس کو آپ نے کہا ‏ہے، تو یہ اس لیے یہ معرفہ ہے «يا رجل»۔ تو کہ یہ معنی ہے: «واما المنادى» اور باقی منادیٰ جو ہے «فيؤتى به» تو اس کو لایا جاتا ہے «إذا لم يعرف للمخاطب ‏عنوان خاص» جبکہ معلوم نہ ہو مخاطب کا کوئی خاص عنوان، کوئی خاص نام۔ «نحو» مثال کے طور پر: «يا رجل» ‏و«يا فتى»۔ فتى کہتے ہیں جوان کو بھئی، «يا فتى» اے جوان! ایک شخص تھا آپ کے سامنے اور آپ کو نام نہیں آتا تھا، ‏آپ نے اس طرح اس کو پکارا «يا فتى»۔ ‎«‎وقد يؤتى به للإشارة إلى علة ما يطلب منه»، «وقد يؤتى به» اور کبھی منادیٰ کو لایا جاتا ہے «للإشارة» اشارہ کرنے کے ‏لیے «إلى علة» اس چیز کی علت کی طرف «ما يطلب منه» جو اس سے طلب کی جا رہی ہے۔ وہ چیز جو اس سے طلب ‏کی جا رہی ہے اس کی علت، علت کا معنی ہے سبب اور وجہ۔ جو چیز اس سے طلب کی جا رہی ہے اس کی علت اور اس ‏کے سبب اور اس کی وجہ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے۔ جیسے مثال انہوں نے دی ہوئی ہے: «يا غلام احضر الطعام»، ‏اے غلام! کھانا حاضر کرو یعنی کھانا لاؤ۔ «يا غلام احضر الطعام»، اے غلام! کھانا لاؤ۔ اب کیا طلب کیا جا رہا ہے؟ کھانا ‏طلب کیا جا رہا ہے، کھانا منگوایا جا رہا ہے۔ تو ندا آپ نے کیا دی؟ «يا غلام»، کیوں دی؟ جو کھانا... جو چیز طلب کی جا رہی ہے آگے، اس کی وجہ ذکر کرنے کے ‏لیے، اس کی وجہ... اس کی وجہ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے۔ کہ کھانا کیوں منگوا رہا ہوں تم سے، اس کی وجہ کیا ‏ہے؟ کیونکہ تم غلام ہو، اور کھانا لانا، کام وغیرہ کرنا یہ کس کی ذمہ داری ہوتی ہے؟ غلام کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تو یہ ‏جو «يا غلام» کہا، مثلاً آپ کا غلام ہے آپ کو اس کا نام بھی آتا ہے، لیکن پھر بھی آپ نے اس کو کیا کہا؟ «يا غلام»، «يا ‏زيد» نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ «يا غلام»۔ کیوں «يا غلام» کہا؟ وہ کیونکہ جو چیز طلب کی جا رہی ہے، اس کے وجہ کی ‏طرف اشارہ کر دیا کہ کھانا تم سے کیوں منگوایا جا رہا ہے؟ کیونکہ تم کیا ہو؟ غلام ہو میرے، اور غلام کا کام ہے خدمت ‏کرنا، کھانا وغیرہ لانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو «احضر الطعام» یہ ہے «ما يطلب منه»، وہ چیز جو اس سے طلب کی جا رہی ہے۔ اس کی علت کی طرف اشارہ کرنے ‏کے لیے، اس کی وجہ بتلانے کے لیے آپ نے «يا غلام» کہا اور «يا زيد» وغیرہ اس کا نام نہیں لیا۔ یا جیسے دوسری مثال انہوں نے ذکر کی: «يا خادم أسرج الفرس»۔ آپ جانتے ہیں گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے اس پر ‏وہ زین وغیرہ لگائی جاتی ہے بیٹھنے کے لیے، تو... تو آپ اپنے خادم سے کہتے ہیں: «يا خادم أسرج الفرس»، اے خادم! ‏گھوڑے پر زین لگا دو، گھوڑے پر زین کس دو۔ تو دیکھیے، آپ کا خادم ہے، آپ کو اس کا نام بھی آتا ہے، لیکن پھر بھی ‏آپ نے کیا کہا؟ «يا خادم»، اے خادم! «أسرج الفرس» گھوڑے پر زین لگا دو۔ یہ کیوں... یہ «يا خادم» کیوں کہا آپ نے؟ یہ جو چیز آپ اس سے طلب کر رہے ہیں، کیا طلب کر رہے ہیں؟ گھوڑے پر ‏زین لگانے کو طلب کر رہے ہیں، اس کی وجہ اور اس کی علت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ میں کیوں طلب کر رہا ‏ہوں تم سے گھوڑے پر زین لگوانے کو؟ کیونکہ تم میرے خادم ہو، اور یہ خادم کا کام ہوتا ہے کہ اس طرح کے کام ‏سرانجام دے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: «وقد يؤتى به للإشارة إلى علة ما يطلب منه»، اور کبھی کبھار لایا جاتا ہے منادیٰ کو اشارہ کرنے کے لیے ‏اس چیز کی علت کی طرف جو اس سے طلب کی جا رہی ہے، جو اس سے مانگی جا رہی ہے۔ «نحو» مثال کے طور پر: ‏‏«يا غلام احضر الطعام»، اے غلام! کھانا حاضر کرو، کھانا لے کر آؤ۔ «ويا خادم أسرج الفرس»، اے خادم! گھوڑے پر ‏زین لگاؤ۔ ‎«‎او لغرض يمكن اعتباره هاهنا»، یا کسی ایسی غرض کے لیے کہ جس کا اعتبار کرنا یہاں ممکن ہو «مما ذكر في النداء»، ‏یعنی وہ جو ذکر ہوئیں ندا کے اندر۔ جو کس کے اندر ذکر ہوئیں؟ ندا کے اندر بھئی۔ آپ نے پہلا باب پڑھا تھا خبر اور ‏انشاء کے بارے میں بھئی، اس کے آخر میں آیا تھا ندا بھئی، کس کا ذکر آیا تھا؟ ندا کا، کیونکہ ندا بھی انشاء کی اقسام میں ‏سے ہے۔ تو ندا کسی کو کی جاتی ہے، اس کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں، وہاں بیان ہوئے تھے۔ مثلاً ایک نقطہ یہ ‏بیان ہوا تھا کہ کبھی کبھار ایک شخص ہوتا بعید ہے، آپ سے دور ہوتا ہے، لیکن آپ اس کے لیے قریب والا حرفِ ندا ‏استعمال کر لیتے ہیں، یہ بتلانے کے لیے کہ اگرچہ آپ جگہ کے اعتبار سے مجھ سے دور ہو، لیکن میرے دل سے غائب ‏نہیں ہو، میرے دل کے اندر موجود ہو، گویا میرے پاس ہی موجود ہو، تو بعدِ مکانی کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ ‏قربِ مکانی کے درجے میں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بعد کو قرب کے درجے میں اتار لیا گیا، یہ...۔ اسی طرح بعض ‏اوقات ایک آدمی آپ کے قریب ہوتا ہے، لیکن آپ اس کے لیے بعید والا حرفِ ندا استعمال کر لیتے ہیں، یہ بتلانے کے لیے ‏کہ اس آدمی کا مقام بڑا اونچا ہے۔ اگرچہ دیکھنے میں یہ میرے پاس ہے، لیکن یہ بڑا... بڑے اونچے درجوں والا ہے، ‏تو... تو یوں کہیے کہ بعدِ مرتبی کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ بعدِ مکانی کے درجے میں، حالانکہ مکان کے اعتبار ‏سے بعد نہیں، لیکن مرتبے کے اعتبار سے اونچا ہے، دور ہے، تو لہذا یہ نقطہ بیان کرنے کے لیے۔ کبھی اس کا عکس کیا ‏جاتا ہے، ایک آدمی آپ کے قریب ہوتا ہے، لیکن آپ بعید والا حرفِ ندا استعمال کرتے ہیں، یہ بتلانے کے لیے کہ یہ ‏اگرچہ میرے قریب ہے، لیکن یہ بڑا گرا ہوا شخص ہے، رتبے کے اعتبار سے بڑا ہی ادنیٰ ہے، مجھ سے بہت دور ہے ‏بھئی، اس قابل نہیں کہ میرے قریب آئے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح کبھی ندا وہاں آپ نے پڑھا، کسی کو ‏ڈانٹنے کے لیے ندا کی جاتی ہے، بعض اوقات ندا کے لیے مقصد حیرت کا اظہار کرنا ہوتا ہے، کبھی کسی چیز کو یاد ‏کرنے کے لیے کیا کی جاتی ہے؟ ندا وغیرہ کی جاتی ہے۔ یہ نکات پیچھے بیان ہو چکے، تو ان غرضوں میں سے بھی ‏کوئی غرض ہو سکتی ہے ندا کی بھئی، تو منادیٰ کو لانے کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: «او لغرض»، يا ایسی غرض کے لیے کہ ممکن ہو جس کا اعتبار کرنا یہاں پر «مما ذكر في النداء»، یعنی وہ ‏جو کس میں ذکر ہوئیں؟ ندا کے اندر ذکر ہوئیں، ان میں سے کسی غرض کے لیے لایا جاتا ہے منادیٰ کو بھئی۔ و اما النكرة فيؤتى بها اذا لم يعلم للمحكي عنه جهة تعريف‎.‎ معرفہ کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں، وہ سارے گزر گئے بھئی، ہر ہر قسم کو علیحدہ ذکر کر دیا۔ اب نکرہ کے ‏لانے میں کیا نکات ہوتے ہیں، ایک مقام پر آپ معرفہ کے بجائے نکرہ لاتے ہیں، اس میں کیا کیا نکات ہو سکتے ہیں، کیا ‏مقصد ہو سکتا ہے، وہ اب بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: «واما النكرة» اور باقی نکرہ جو ہے «فيؤتى بها» تو اس کو لایا جاتا ہے «إذا لم يعلم» جب جانا نہ جائے یعنی ‏معلوم نہ ہو، کیا معلوم نہ ہو؟ «للمحكي عنه» محکی عنہ، جس کے بارے میں حکایت کی جائے، جس کے بارے میں بات ‏کی جائے۔ محکی عنہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے۔ تو «للمحكي» یہ یاء مشدد ہے بھئی، یاد رکھنا۔ «إذا لم يعلم للمحكي عنه جهة تعريف» جب معلوم نہ ہو محکی عنہ کے بارے ‏میں «جهة تعريف» کوئی تعریف والی جانب۔ بھئی دیکھیے، ایک مقام ہے وہاں پر ایک آپ لفظ کو لے کر آتے ہیں اور اس ‏لفظ کو نکرہ ذکر کرتے ہیں، اس کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں، محکی عنہ جس کے بارے میں بات کرنا چاہتے ‏ہیں، آپ اس کو لے کر آتے ہیں اور نکرہ لے کر آتے ہیں، کیوں نکرہ کیوں لاتے ہیں؟ کیونکہ اس کی تعریف کی کوئی ‏جانب آپ کا آپ کو علم ہی نہیں ہوتا۔ نہ آپ کو اس کے نام کا پتہ ہے، نہ آپ کو اس کے اور اوصاف وغیرہ کسی چیز کا ‏پتہ ہی نہیں ہے، جب پتہ ہی نہیں ہے تو پھر کس صورت میں لانا پڑے گا؟ ظاہر سی بات ہے، تعریف والی تو کوئی جہت ‏نہیں، تعریف والی کسی بات کا تو آپ کو پتہ نہیں، تو لازمی بات ہے پھر کس صورت میں لائیں گے؟ نکرہ ہی کی ‏صورت میں، دو ہی صورتیں تھیں یا معرفہ لاؤ یا نکرہ، معرفہ لانے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو پھر کون سی کیا ‏کرنا پڑے گا؟ نکرہ لانا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مثلاً دیکھیے بھئی، آپ کل مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آ کے آپ سے ملا تھا۔ ‏اب یہی بات آپ زید کو آج بتلانا چاہتے ہیں، زید اس وقت وہاں نہیں تھا، آج آپ اس کو یہ بات سنانا چاہتے ہیں، تو اب اگر ‏آپ اس کو کہیں: «جاءني الرجل»، میرے پاس وہ آدمی آیا تھا، زید سمجھ جائے گا؟ زید کو تو کچھ پتہ ہی نہیں چلے گا، ‏اگرچہ آپ «الرجل» الف لام لے کر آئے، لیکن یہاں پر فائدہ ہی کوئی نہیں، کیونکہ زید کو کوئی علم ہی نہیں ہے کسی ‏چیز... نہ زید کو اس آدمی کے نام کا علم، نہ زید کو کہ وہ آپ کے پاس مسجد میں آیا تھا، یہ بھی نہیں پتہ، کچھ بھی نہیں ‏پتہ، اب آپ اس کو اب بتانا چاہتے ہیں، تو اب تعریف والی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ آپ تو بےشک جانتے ہیں، لیکن زید ‏کو بتلا رہے ہیں، زید کے لیے بھی بھئی معرفہ لا رہے ہیں تو جاننا اس کے لیے ضروری ہے یا ضروری نہیں؟ ‏ضروری ہے، اس کو بھی تو پتہ ہو تبھی معرفہ لائیں گے، تو یہاں تعریف کی کوئی کسی جہت کا اس کو پتہ ہی نہیں ہے، ‏تو لہذا اب یعنی نہ اس کو نام کا پتہ ورنہ آپ نام کے ساتھ ذکر کر دیتے، نہ اس کو کسی اور وصف کا پتہ ورنہ آپ وہ ‏وصف اس میں موصول صلے کی صورت میں لے آتے، تو اب مجبوری ہو گئی، تعریف کی کسی جہت کا علم ہی نہیں ہے ‏سننے والے کو، تو پھر کس صورت میں لانا پڑے گا؟ نکرہ ہی کی صورت میں لانا پڑے گا، اب آپ اس سے کہیں گے: ‏‏«جاءني رجل»، «جاءني رجل»، میرے پاس ایک آدمی آیا۔ اب ایک دفعہ ذکر ہو گیا، اب متعین ہو گیا، اب آپ اس کو کہتے ہیں: «فاكرمت الرجلا»، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ ‏اب آپ کہہ رہے ہیں «فاكرمت الرجلا» الف لام لے آئے، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، اب زید سمجھ گیا یا نہیں؟ جی ‏سمجھ گیا، کیونکہ ابھی پچھلے جملے میں آپ نے کیا کہا تھا؟ کل میرے پاس ایک آدمی آیا، پھر میں نے اس آدمی کا اکرام ‏کیا، زید سمجھ گیا، اس آدمی سے کون سا آدمی مراد ہے؟ جو ابھی پچھلے جملے میں جس کا ذکر ہوا جو کل آپ کے پاس ‏آیا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس سے پہلے اگر آپ کہتے «جاءني الرجل»، میرے پاس وہ آدمی آیا تھا، پھر اس کو ‏سمجھ نہیں آ رہی تھی بات، لیکن اب اس کو سمجھ میں بات آ گئی کہ جب ایک دفعہ چیز نکرہ ذکر ہو جائے تو کیا ہوتی ‏ہے؟ متعین ہو جاتی ہے۔ ہاں البتہ پہلی مرتبہ جب نام وغیرہ کوئی اس چیز کا جہتِ تعریف کا علم نہ ہو تو پھر اس کو نکرہ ‏ہی لانا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: «واما النكرة فيؤتى بها» تو اس کو لایا جاتا ہے «إذا لم يعلم للمحكي عنه جهة تعريف» جب معلوم نہ ہو محکی ‏عنہ، کس کے بارے میں؟ محکی عنہ، محکی عنہ کون؟ جس کے بارے میں بات کی جائے۔ جب وہ شخص جس کے بارے ‏میں بات کی جائے اس کے بارے میں معلوم نہ ہو «جهة تعريف» کوئی تعریف والی جہت، جہت کا معنی ہے جانب، یعنی ‏تعریف والی کوئی چیز اس کے بارے میں علم نہ ہو۔ تو یہ اس کے بارے میں جب تعریف کی جہت معلوم نہ ہو «كقولك» ‏جیسے کہ آپ کا یہ قول: «جاء هاهنا رجل» کسی سے آپ کیا کہتے ہیں: «جاء هاهنا رجل»، یہاں ایک آدمی آیا۔ «إذا لم ‏يعرف ما يعينه من علم او صلة او نحوهما» جب معلوم نہ ہو «ما» کوئی ایسی چیز «يعينه» جو اس کو متعین کر دے «من ‏علم» یعنی کہ علم، یعنی اس کے نام کا بھی علم نہیں «او صلة» یا صلے کا بھی پتہ نہیں «او نحوهما» یا اس جیسی کسی ‏چیز کا پتہ نہیں۔ بھئی دیکھیے‎...‎ کقولك: جاء هاهنا رجل، جیسے آپ کا کہنا: یہاں ایک آدمی آیا۔ إذا لم يعرف ما يعينه، جب معلوم نہ ہو کوئی ایسی چیز جو ‏اس کو کیا کر دے؟ متعین۔ آپ نے رجل نکرہ ذکر کیا۔ کیوں نکرہ ذکر کیا؟ کیونکہ کوئی ایسی چیز معلوم نہیں جو اس کو ‏کیا کر دے؟ متعین کر دے۔ بھئی، وہ کیا چیز ہو سکتی ہے جو اس کو متعین کر دے؟ من کے ذریعہ بیان ہے، یعنی کہ علم۔ ‏یعنی علم کا بھی آپ کو پتہ نہیں جو اس کو کیا کر دے؟ متعین۔ نام کا پتہ تھا تو نام کے ساتھ ذکر کر دیتے، اس کو سننے ‏والے کو پتہ لگ جاتا، لیکن نام کا بھی پتہ نہیں۔ أو صلة، یا صلے کا بھی پتہ نہیں۔ آپ نے پڑھا ہے اسم موصول کے لیے ‏ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ چاہیے۔ موصول کے ساتھ جب تک صلہ نہیں ملے گا، اس کا معنی کسی کو سمجھ میں ہی نہیں آئے ‏گا بھئی۔ تو یہ صلہ بعض اوقات آپ کو ایک چیز کے صلے کا پتہ ہوتا ہے، یعنی وہ صلہ وہ جملہ ہوتا ہے۔ وہ ایک جملے ‏کا پتہ ہوتا ہے تو پھر اس کی وجہ سے بھی وہ چیز متعین کی جا سکتی ہے۔ کس طرح؟ مثلاً کل آپ مسجد میں بیٹھے ہوئے ‏تھے، ایک شخص آ کر آپ سے ملا اور زید بھی وہیں پر تھا، اس نے بھی دیکھا کہ وہ آدمی آ کر آپ سے ملا ہے۔ صورت ‏سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے، وہ آدمی گزشتہ کل آ کر آپ کو ملا، یہ تو زید کو پتہ ہے یا نہیں پتہ بھئی؟ یہ تو پتہ ہے، یہ اس نے دیکھا ‏اگرچہ اس آدمی کے بارے میں اور کچھ بھی نہیں جانتا کہ یہ کون تھا، کیا کہنے آیا تھا، اس کا نام کیا ہے، یہ کام کیا کرتا ‏ہے، کچھ بھی نہیں پتہ، لیکن اتنا تو پتہ ہے کہ وہ کل آ کر آپ سے مسجد میں ملا تھا۔ یہ پتہ ہے، تو اسی کو اٹھا کر صلہ ‏بنا دیں اور اس سے پہلے موصول ذکر کر دیں تو وہ بھی پھر بھی سمجھ جائے گا۔ یہ جو جملہ جس کا اس کو، جس بات کا ‏اس کو پتہ ہے، اسی بات کو کس صورت میں آپ ذکر کر دیں؟ صلے کی صورت میں اور موصول کے ساتھ معرفہ، اب ‏آپ معرفہ ذکر کر سکتے ہیں۔ مثلاً اب آپ کیا کہتے ہیں زید کو اسی آدمی کے بارے میں؟ اسی آدمی کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں زید سے، اب آپ ‏کہہ سکتے ہیں: جاء الذي رأيته في المسجد۔ میرے پاس وہ آدمی آیا جسے آپ نے مسجد میں دیکھا تھا۔ جاء الذي رأيته في ‏المسجد۔ یا یوں کہیں: لقيت الذي رأيته في المسجد، میری ملاقات ہوئی، میری پھر ملاقات ہوئی، الذي رأيته في المسجد جس کو ‏آپ نے کہاں دیکھا تھا؟ مسجد میں۔ وہ سمجھ جائے گا یا نہیں؟ سمجھ جائے گا، وہ آدمی جس کے اس نے دیکھا تھا بھئی۔ تو ‏دیکھیے، جب صلے کا پتہ تھا، اس کو ملنے کا پتہ تھا تو آپ نے معرفہ ذکر کر دیا۔ لقيت یا جاء، آگے کیا کہا؟ الذي اسم ‏موصول، وہ جو کہ رأيته في المسجد جس کو آپ نے کہاں دیکھا تھا؟ مسجد میں۔ تو یہ دیکھو رأيته في المسجد یہ صلہ، یہ ‏جملے کا اس صلے کا اس کو پتہ تھا، تو جب صلے کا پتہ ہو تو بھی موصول کے ساتھ کیا کیا جا سکتا ہے؟ معرفہ کی ‏صورت میں ایک چیز کو ذکر کیا جا سکتا ہے، لیکن یہاں ایک ایسا مقام ہے وہاں صلے کا بھی نہیں پتہ، یعنی کسی اعتبار ‏سے بھی کسی بات کا اس کے بارے میں پتہ نہیں ہے، تو پھر لازمی بات ہے تعریف کی کوئی اور صورت رہی نہیں، نام ‏کا بھی نہیں پتہ، صلے کا بھی نہیں پتہ، کسی اور چیز کا بھی نہیں پتہ، تو اب تعریف والی کوئی جہت ہے ہی نہیں، تعریف ‏والی کوئی جانب ہے ہی نہیں، لانا نکرہ کی صورت میں پڑے گا، نکرہ کی صورت میں۔ یہ معنی ہے: إذا لم يعرف ما يعينه، جب معلوم نہ ہو کوئی ایسی چیز جو اس کو متعین کر دے۔ بھئی، وہ کیا کیا چیز ہو ‏سکتی ہے؟ کہتے ہیں من بیان ہے، من علم، من کا ترجمہ یعنی کے ساتھ کریں۔ من علم، یعنی کہ علم، نام وغیرہ، یعنی یہ ‏بھی اس کو متعین کر سکتا ہے لیکن اس کو اس کا علم ہی نہیں ہے، أو صلة، یا یعنی کہ یا صلہ ہے اس کا بھی علم نہیں، یہ ‏معین کر سکتا ہے لیکن اس کا بھی علم نہیں، أو نحوهما، یا ان جیسی کوئی چیز۔ وقد يؤتى بها لأغراض أخرى، اور کبھی ‏کبھار نکرہ کو لایا جاتا ہے لأغراض أخرى، دوسری غرضوں کے لیے۔ دوسری غرضوں کے لیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ‏تو بعض اوقات نکرہ تو اس لیے لایا جاتا ہے کہ اس کے بارے میں ایک چیز کا اور چیزوں کا علم ہی نہیں ہے، تعریف ‏والی جہت کا پتہ ہی نہیں ہے اور بعض مقامات پر جہت وغیرہ کا علم ہونے کے باوجود ایک چیز کو کیا کیا جاتا ہے؟ ‏نکرہ لایا جاتا ہے، وہاں اور غرضیں ہوتی ہیں، اور مقاصد ہوتے ہیں، وہ کیا کیا مقاصد ہو سکتے ہیں، وہ آگے بیان کر ‏رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: وقد يؤتى بها لأغراض أخرى، اور کبھی کبھار نکرہ کو لایا جاتا ہے لأغراض أخرى، دوسری ‏غرضوں کے لیے۔ كالتكثير والتقليل، جیسے تکثیر اور تقلیل ہے۔ ایک چیز کی کثرت بتلانے کے لیے، اس کے لیے بھی ‏نکرہ لایا جاتا ہے اور ایک چیز کی قلت بتلانے کے لیے اس کے لیے بھی بعض اوقات کیا کیا جاتا ہے؟ نکرہ لایا جاتا ‏ہے۔ نحو، مثال کے طور پر: لفلان مال۔ لفلان مال، لفلان یہ جار مجرور مل کر خبر مقدم اور مال یہ ہے مبتدائے مؤخر۔ أي ‏لفلان مال كثير، فلماں کا بہت مال ہے، فلماں کے پاس بہت مال ہے۔ اب یہ آپ مال نکرہ لے کر آئے اور مقصد کیا ہے؟ ‏کثرت بیان کرنے کے لیے، تکثیر کے لیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ فلماں کے پاس بہت مال ہے، تو یہ جو نکرہ لایا گیا، یہ ‏تکثیر کے لیے ہے۔ تو اس میں پھر یوں کہا جاتا ہے کہ یہ اس کے اندر جو تنوین آ رہی ہے وہ تکثیر کے لیے ہے، کس لیے ہے؟ اگر اسی پر ‏الفلام لے آتے تو پھر تنوین آتی؟ پھر تو تنوین نہ آتی، لفلان المال، تو پھر تو تنوین نہیں آ سکتی تھی، لیکن لہٰذا اس کو نکرہ ‏لائے تاکہ اس پر کیا آ جائے؟ تنوین، اور یہ تنوین کس لیے ہوتی ہے؟ بعض اوقات تکثیر بیان کرنے کے لیے اور بعض ‏اوقات تقلیل، کسی چیز کی کثرت بیان کرنے کے لیے، تو مال آخر میں تنوین آئی اور یہ تنوین کس لیے ہے؟ کثرت بیان ‏کرنے کے لیے، اور کہاں پر تنوین کثرت کے لیے آئے گی، کہاں پر تقلیل کے لیے آئے گی؟ یاد رکھیے موقع محل سے ‏ہی پتہ چل جاتا ہے، اسی سے اندازہ ہو جاتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، تو لفلان مال، یہ مال نکرہ کیوں لے کر آیا ‏بھئی کہنے والا؟ کثرت بیان کرنے کے لیے، یعنی فلماں کا بہت زیادہ فلماں کے پاس بہت کثیر مال ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، اگر وہ معرفہ لاتا تو معرفہ جو معرفہ تو معلوم ہوتا ہے، معرفہ تو کیا ہوتا ہے؟ معلوم اور متعین ہوتا ہے۔ ‏لیکن یہ نکرہ لے کر آیا اور نکرہ متعین نہیں ہوتا، تو گویا کہنے والا بھی یہ بتلانا چاہتا ہے: کتنا زیادہ ہے کہ مجھے علم ‏ہی نہیں ہے بھئی، مجھے علم ہی نہیں ہے۔ نقطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ معرفہ لاتا، معرفہ تو کس پر دلالت کرتا ہے؟ متعین ‏ہے، یعنی اس کا کروڑ ہے یا دو کروڑ ہے یا چار کروڑ ہے، متعین ہے، لیکن جب کہہ دیا: مال، مال ہے، کتنا ہے؟ یہ ‏بیان نہیں کیا، تو گویا اشارہ اس بات کی طرف کر دیا کہ کتنا مال ہے کہ مجھے بھی اس کا پتہ نہیں ہے بھئی۔ نقطہ سمجھ ‏میں آیا؟ تو لفلان مال، فلماں کے پاس بہت فلماں کے پاس بہت کثیر مال ہے، ورضوان من الله أكبر، اور رضامندی من الله اللہ کی ‏جانب سے أكبر، بہت سب سے بڑی چیز ہے۔ أي رضوان قليل، رضوان قليل من، تھوڑی سی رضامندی بھی اللہ کی طرف ‏سے أكبر، یہ بہت بڑی چیز ہے، سب سے بڑی چیز ہے۔ تو یہاں رضوان نکرہ لایا گیا بھئی، نکرہ لایا گیا۔ اور کیا مقصد ‏کیا ہے؟ تقلیل بیان کرنا، کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی سی بھی رضامندی کسی کو مل جائے، یہ بہت بڑی نعمت ہے، بہت ‏بڑی اور سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اللہ کی رضا ہے بھئی، اللہ کی رضا۔ اللہ کی رضامندی کتنی بڑی چیز ہے، اس سے ‏اندازہ لگائیے کہ جنت بھی اللہ کی رضا کا نتیجہ ہے، اللہ جس سے راضی ہوں گے اس کو کیا دیں گے؟ جنت دیں گے، تو ‏جنت خود رضا کا نتیجہ ہے۔ جنت خود کیا ہے؟ اللہ کی رضا کا، اللہ کی رضامندی کا نتیجہ ہے، تو جس چیز کا نتیجہ جنت ‏ہو، وہ چیز خود کتنی عظیم ہو گی بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی لیے کیا کیا کہا؟ کیا آیا بھئی؟ ورضوان من الله ‏أكبر، اللہ کی طرف سے تھوڑی سی رضامندی بھی أكبر، بہت بڑی چیز ہے۔ خود بتلا رہے ہیں: أي مال كثير، پچھلے ‏جملے میں کیا آیا تھا؟ لفلان مال، أي مال كثير، اور اگلے آیت میں کیا آیا؟ ورضوان، آیا ورضوان قليل، ورضوان قليل، تو ‏مال کے اندر جو تنوین آئی، وہ کثرت کے لیے ہے اور رضوان کے اندر جو تنوین آئی، وہ تقلیل کے لیے ہے بھئی۔ والتعظيم والتحقير، اور کبھی کسی چیز کو کسی لفظ کو نکرہ لایا جائے گا تعظیم کے لیے والتحقير، اور کبھی کس لیے؟ ‏تحقیر کے لیے بھئی، تحقیر کے لیے۔ بھئی ایک ہے تکثیر اور تقلیل اور ایک ہے تعظیم اور تحقیر بھئی، دونوں ایک چیز ‏نہیں ہیں بھئی، فرق ہے۔ تکثیر اور تقلیل یہ مقدار کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ تکثیر اور تقلیل کس اعتبار سے ہوتی ہے؟ ‏مقدار کے اعتبار سے، کہ ایک چیز کثیر ہو گی، مقدار زیادہ ہو گی یا قلیل ہو گی، یعنی اس کی مقدار تھوڑی ہو گی۔ اور ‏تعظیم اور تحقیر کا تعلق رتبے کے اعتبار سے ہے، کوئی چیز عظیم ہے، عظمت اس کی بتلانا چاہتے ہیں، یعنی اس کے ‏رتبے کے اعتبار سے بڑی اونچی ہے، یہ بتلانا چاہتے ہیں یا تحقیر بتلانا چاہتے ہیں معلوم ہوا رتبے کے اعتبار سے بڑی ‏نیچی ہے، ادنیٰ ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: والتعظيم والتحقير، اور تعظیم اور تحقیر کے لیے کبھی نکرہ لائیں گے، نحو، مثال کے طور پر: له حاجب ‏عن كل امر يشينه، وليس له عن طالب العرف حاجب۔ له حاجب، حاجب، اس کے لیے مانع ہے، روکنے والا ہے، رکاوٹ ‏ہے، حاجب کہتے ہیں رکاوٹ، رکاوٹ، روکنے والا۔ اسی لیے دربان کو بھی حاجب کہتے ہیں جو دروازے پر کھڑا ہوتا ‏ہے، حاجب، وہ رکاوٹ ہے، وہ کسی کو اندر جانے نہیں دے گا بھئی، مالک تک پہنچنے نہیں دے گا۔ اسی طرح یاد ‏رکھیے بھئی حاجب سکرٹری کو بھی کہتے ہیں، حاجب۔ سکرٹری بھی اس کے بغیر مثلاً گورنر یا حاکم تک کوئی نہیں ‏پہنچ سکتا، سکرٹری جس کو وقت دے گا، وہی جا کر اس سے مل سکتا ہے، سکرٹری جسے وقت نہیں دے گا، وہ جا کر ‏نہیں مل سکتا۔ تو سکرٹری گورنر کا سکرٹری بھی گورنر کی طرح ہوتا ہے بھئی، بادشاہ کا سکرٹری بھی کس کی طرح ‏ہوتا ہے؟ بادشاہ کی طرح، سارے اس سے ڈرتے ہیں، سارے اس کا احترام کرتے ہیں۔ تو اسی سے وہ ہے علامہ ابن ‏حاجب بھئی، صاحب کافیہ، صاحب کافیہ۔ تو بعض لوگ اس کا ترجمہ کرتے ہیں دربان کے بیٹے، نہیں بھئی دربان کے ‏بیٹے نہیں تھے، دربان کا بیٹا ہو تو وہ پھر اس نام سے مشہور نہیں ہوتا، کوئی آدمی غریب آدمی کا بیٹا ہو تو اس طرح ‏کبھی آپ نے سنا ہے؟ شہرت ہی ہو جائے چوکیدار کا بیٹا، چوکیدار کا بیٹا يا دربان کا بیٹا؟ ہاں بڑے آدمی کا بیٹا وہ مشہور ‏ہو جاتا ہے، آپس میں باتیں کرتے ہیں: بھئی وہ گورنر کا بیٹا جو ہے، وہ گورنر کا بیٹا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو بڑے کی ‏طرح عموماً نسبت سے مشہور ہوتا ہے، تو علامہ ابن حاجب یہ کس کے بیٹے تھے؟ سکرٹری کے بیٹے تھے، سکرٹری ‏تھا جو گورنر کا بھئی، تو وہ بڑا آدمی تھا چونکہ، تو اسی نام سے مشہور ہو گئے کہ سکرٹری کے بیٹے ہیں بھئی۔ بات ‏سمجھ میں آئی بھئی؟ تو حاجب، حاجب کا معنی ہے رکاوٹ بھئی، رکاوٹ۔ له حاجب، شاعر کسی کی مدح بیان کر رہا ہے کہ اس کے لیے حاجب ‏ہے، رکاوٹ ہے عن كل امر، ہر ایسی چیز سے، كل امر نکرہ آیا اور اس کے بعد يشينه فعل آیا، شان يشين کے معنی ہیں ‏بدنما بنانا، عیب دار کرنا۔ یہ شان يشين کا کیا معنی ہے؟ بدنما بنانا، عیب دار بنانا۔ تو كل امر نکرہ آیا اور اس کے بعد يشينه ‏فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور موصوف صفت میں موصوف سے ‏پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا۔ له حاجب، وہ جو میرا ممدوح ہے، اس کے لیے رکاوٹ ہے، حاجب ہے عن كل امر يشينه، ہر ‏ایسی چیز سے جو اس کو بدنما کرے، جو اس کو عیب دار کرے۔ میرا ممدوح جو ہے اس کے لیے ایک رکاوٹ ہوتی ہے ‏ہر ایسی چیز سے جو اس کو بدنما کرے، یعنی جو چیز اس میں عیب پیدا کرے، اس کو بدنما کرے، وہ چیز میرے ممدوح ‏تک پہنچتی نہیں ہے، وہاں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی ہوتی ہے جو اس کو اس تک پہنچنے نہیں دیتی بھئی۔ تو عیب دار ‏چیزیں، عیب دار صفات، عیب دار باتیں یہ میرے ممدوح تک نہیں پہنچ سکتیں جس سے اس کی ذات میں عیب پیدا ہو اور ‏وہ برا دکھائی دے کسی کو۔ وليس له عن طالب العرف حاجب، اور نہیں ہے اس کے لیے، عرف کہتے ہیں نیکی کو، نیکی۔ ‏طالب العرف، نیکی طلب کرنے والا، یعنی کوئی شخص آ کر جو اس سے کچھ مانگتا ہے، کوئی مدد طلب کرتا ہے، پیسے ‏مانگتا ہے یا کوئی اور مدد طلب کرتا ہے، وہ ہے طالب العرف۔ تو کوئی طالب العرف اس کے پاس جب آتا ہے، کوئی اس ‏کے پاس کوئی چیز مانگنے آتا ہے یا کسی کام کے لیے آتا ہے تو وہاں اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، جو شخص ‏جس وقت میرے ممدوح تک پہنچنا چاہے فوراً پہنچ سکتا ہے، کوئی وہاں دربان روکنے والا نہیں، کوئی رکاوٹ نہیں ‏ہوتی، جا کر ملے اور جا کر بیان کرے اپنی تکلیف اور پریشانی، وہ کیا کرے گا اس کی تکلیف اور پریشانی دور کر دیتا ‏ہے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ یہ معنی ہے: وليس له عن طالب العرف حاجب، اور نہیں ہے اس کے لیے کوئی نیکی طلب ‏کرنے والے سے حاجب، کوئی رکاوٹ۔ تو کوئی نیکی طلب کرنے والے کے لیے اس کے کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ہاں جو ‏عیب دار چیزیں ہیں، عیب دار اوصاف ہیں، وہ اس تک نہیں پہنچ سکتے، وہاں ایک بڑی رکاوٹ ہوتی ہے، وہ چیزوں کو ‏روک دیتی ہے۔ یعنی وہ چیز اس تک کہنا یہ چاہتا ہے عیب والی چیز اس تک پہنچ ہی نہیں سکتی، وہ اتنا اونچا آدمی ہے ‏اور کوئی نیکی کے لیے، کوئی سوال کرنے کے لیے اس کے پاس جانا چاہتا ہے، پھر کوئی رکاوٹ ادنیٰ درجے کی ‏رکاوٹ بھی نہیں ہوتی، ہر ایک اس تک پہنچ جاتا ہے۔ شعر کا معنی سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھیے، مقام استشہاد ہے یہ جو شروع میں آیا: له حاجب، یہ جو حاجب پہلا حاجب آیا اور ایک شعر کے آخر میں جو ‏حاجب آیا۔ پہلا جو حاجب ہے، اب آپ اس میں مجھے بتائیے۔ بھئی یہ شاعر کسی کی تعریف کر رہا ہے اور کیا کہہ رہا ‏ہے؟ کہ کوئی ایسی چیز جو عیب پیدا کرنے والی ہے، وہ میرے ممدوح تک نہیں پہنچ سکتی، کیونکہ وہاں ایک حاجب ہوتا ‏ہے، کوئی چیز روکنے والی ہوتی ہے۔ کیا ہوتی ہے؟ اب آپ مجھے بتائیے، وہ چیز جو روکنے والی ہو گی، ممدوح تک ‏کسی چیز کو پہنچنے نہ دے، وہ حاجب حقیر سا ہو گا، کوئی چھوٹا سا ہو گا یا عظیم حاجب ہو گا؟ عظیم حاجب ہو گا۔ معلوم ‏ہوا پہلے حاجب کے اندر اس کو نکرہ لایا گیا تعظیم کے لیے کہ میرا ممدوح تو ہے اس کے اس کے پاس کوئی عیب والی ‏چیز نہیں پہنچ سکتی کیونکہ وہاں ایک عظیم مانع ہوتا ہے، ایک وہ عظیم مانع اور حاجب ہوتا ہے جو میرے ممدوح تک ‏عیب والی باتوں کو پہنچنے ہی نہیں دیتا، وہ بڑا صاف ستھرا انسان ہے، برے اخلاق اس تک پہنچ بھی نہیں سکتے۔ ‏صورت سمجھ، تو وہاں کیا ہوتا ہے؟ له حاجب، أي حاجب عظیم، یہ حاجب جو نکرہ لایا گیا یہ تعظیم کے لیے ہے اور آخر ‏میں جو حاجب آیا اور اس کے پاس کوئی نیکی کی طلب کے لیے جانا چاہے تو اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، تو ‏یہاں کون سی رکاوٹ مراد ہے؟ بڑی رکاوٹ نہیں ہوتی یا چھوٹی رکاوٹ نہیں ہوتی؟ جی، کیا آپ کیا کہیں گے؟ چھوٹی ہاں، چھوٹی رکاوٹ بھی نہیں ہوتی، ادنیٰ درجے کی رکاوٹ بھی نہیں ہوتی۔ تو یہ "حاجبٌ" تحقیر کے لیے آیا۔معنی سمجھ ‏میں آ گیا؟اب شعر کا ترجمہ یوں ہوگا: "له حاجبٌ عن كل امرٍ يشينه"، میرا ممدوح جو ہے اس کے لیے ایک عظیم مانع ہوتا ‏ہے ہر ایسی چیز سے جو اس کو بدنما بنائے۔ "وليس له عن طالب العرف حاجبٌ"، اور اس کے لیے نیکی طلب کرنے والے ‏کے بارے میں کوئی چھوٹا سا حاجب بھی، کوئی چھوٹا سا مانع بھی نہیں ہوتا۔معنی سمجھ میں آیا؟تو پہلا "حاجبٌ"، اس میں ‏یہ نکرہ لایا گیا کس لیے؟تعظیم کے لیے، اور دوسرے "حاجبٌ" کو نکرہ لایا گیا تحقیر کے لیے۔تو دونوں کی مثالیں آ گئیں ‏بھئی۔ سمجھ میں آیا؟تو تکثیر اور تقلیل آئے، اور تعظیم اور تحقیر۔تکثیر اور تقلیل کا تعلق کس سے ہے؟مقدار سے ہے۔یہ ایک ‏چیز کثیر ہوگی یعنی مقدار زیادہ ہوگی، یا ایک چیز قلیل ہوگی یعنی مقدار تھوڑی ہوگی۔اور تعظیم اور تحقیر کا تعلق بلندیِ ‏مرتبہ اور عزت وغیرہ سے ہے۔کوئی چیز عظیم ہے، معلوم ہوا بلند مرتبے والی ہے، بڑی عزت والی ہے۔اور تحقیر، وہ ‏اس کا تعلق کس سے ہے؟کوئی چیز حقیر ہے، معلوم ہوا کم درجے کی ہے، ادنیٰ ہے۔سمجھ میں آیا بھئی؟ والعموم بعد النفي نحو: ما جاءنا من بشيرٍ ‎"‎والعموم بعد النفي"، اور نکرہ کو کبھی لایا جاتا ہے اور غرضوں کے لیے، جیسے کہ عموم، وہ عموم بعد النفي کس کے ‏بعد ہو؟نفی کے بعد۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے، نکرہ اگر سیاقِ اثبات میں آئے وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے، اور نکرہ اگر سیاقِ نفی میں آئے ‏تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ضابطہ یاد رہے گا؟کیا؟نکرہ اگر سیاقِ اثبات میں آئے تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟خصوص کا ‏فائدہ دے گا۔اور نکرہ اگر سیاقِ نفی میں آئے تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟عموم۔سیاق، کلام کا چلاؤ، کلام کا چلاؤ بھئی۔تو ‏اگر یعنی مثبت کلام میں آئے جس میں نفی نہیں، مثبت کلام کے اندر اگر نکرہ آئے تو وہ خصوص کا فائدہ دے گا، اور ‏منفی کلام کے اندر اگر نکرہ آئے تو وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟عموم۔بات سمجھ بھی آئی کہ مشکل ہو گئی؟ نکرہ اگر کہاں پر آئے؟کلامِ مثبت میں آئے جس میں حرفِ نفی نہیں ہے، تو وہاں کس چیز کا فائدہ دے گا؟خصوص کا ‏فائدہ دے گا۔اور اگر نکرہ کلامِ منفی کے اندر آئے، یعنی نفی کے بعد آئے، وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟عموم کا فائدہ دے ‏گا۔دیکھیے بھئی، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جاءني بشيرٌ جاءني بشيرٌ، بشیر خوشخبری دینے والا۔جاءني بشيرٌ، بشیر کا کیا معنی؟خوشخبری دینے والا۔میں نے جب آپ سے کہا: ‏جاءني بشيرٌ، اس کا کیا معنی ہے؟میرے پاس ایک خوشخبری دینے والا آیا، یہ ترجمہ ہوگا؟یا میرے پاس سارے ‏خوشخبری دینے والے آئے؟یاد رکھیے، یہاں نفی ہے یا اثبات ہے؟اثبات ہے نا، جاءني بشيرٌ۔تو نکرہ خصوص کا فائدہ دے ‏گا، یعنی میرے پاس ایک خوشخبری دینے والا آیا۔مفرد کا لفظ ہے نا، مفرد سے ساری جنس تو مراد نہیں لیں گے بلکہ کیا ‏مراد لیں گے؟ایک ایک فرد آیا میرے پاس، جاءني بشيرٌ۔مثلاً میں کہتا ہوں: جاءني رجلٌ، کیا معنی؟میرے پاس ایک آدمی ‏آیا، واضح سا ترجمہ ہے بھئی۔تو یہ خصوص ہے، کیا ہے؟خصوص۔ساری دنیا کے رجل مراد ہیں یہاں پر؟ساری دنیا کے ‏انسان مراد نہیں، سارے دنیا کے انسان مراد نہیں۔ یا یوں کہیں، اور واضح مثال، انسان بھئی، انسان یہ ایک آدمی پر بھی بولا جاتا ہے اور تمام دنیا کے انسان مراد لیں تو بھی ‏وہ سارے کیا ہیں؟انسان ہیں، ان پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔میں آپ سے کہتا ہوں: جاءني انسانٌ، کیا ترجمہ کریں ‏گے؟میرے پاس ایک انسان آیا۔حالانکہ ساری دنیا کے انسانوں پر بھی یہی لفظ بولا جاتا ہے لیکن آپ سمجھ گئے سارے ‏مراد نہیں، کیوں؟کیونکہ یہ سیاقِ اثبات میں آیا نکرہ۔سیاقِ اثبات، "جاءني انسانٌ" کا کیا ترجمہ کریں گے؟میرے پاس ایک ‏انسان آیا، اور اسی پر ذرا نفی داخل کر دیں: ما جاءني انسانٌ‏ اب یہ ترجمہ نہیں کرنا کہ میرے پاس ایک انسان نہیں آیا، بلکہ پہلے خصوص کا فائدہ دے رہا تھا اثبات میں تھا تو ‏خصوص، یعنی ایک فرد مراد تھا۔اور اب نفی کے تحت آ گیا: ما جاءني انسانٌ، انسان سے پہلے کیا آ رہا ہے؟ما جاء، نفی آ ‏رہی ہے۔اور نکرہ سیاقِ نفی کے اندر کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟عموم، تو یہاں عموم آ گیا، اب ترجمہ ہوگا: میرے پاس ‏کوئی انسان نہیں آیا۔سب انسانوں کی نفی کر دی، اگر ایک بھی انسان آپ کے پاس آیا ہو تو آپ کا یہ کلام کہنا صحیح نہ ‏بنے گا: ما جاءني انسانٌ۔ہاں، جب کوئی ایک بھی نہیں آیا اب آپ کہہ سکتے ہیں: ما جاءني انسانٌ۔فرق سمجھ میں آیا دونوں ‏میں؟ نکرہ سیاقِ اثبات میں کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟خصوص کا، "جاءني انسانٌ" کا کیا ترجمہ کرتے ہیں آپ؟میرے پاس ایک ‏انسان آیا، یہ "ایک انسان" والا ترجمہ کیوں کر رہے ہیں آپ؟کیونکہ مقامِ اثبات میں ہے خصوص ہوگا۔اور نکرہ اگر سیاقِ ‏نفی میں آئے تو پھر کس چیز کا فائدہ دے گا؟عموم کا، "ما جاءني انسانٌ" کیا ترجمہ کریں گے؟میرے پاس کوئی انسان نہیں ‏آیا، اب دیکھیے تمام دنیا کے انسانوں کی نفی ہو گئی کہ ان میں سے کوئی ایک بھی میرے پاس نہیں آیا۔صورت سمجھ میں ‏آئی بھئی؟تو نکرہ تحت النفی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟عموم کا، تو یہی کبھی نکرہ کے لانے میں نقطہ ہوتا ہے کہ اس کو ‏نفی کے بعد لایا جاتا ہے، مقصد کیا پیدا کرنا ہوتا ہے وہاں پر؟عموم پیدا کرنا ہوتا ہے، یہ معنی ہے: "والعموم بعد النفي"، ‏اور کبھی جو ہے نفی کے بعد عموم کے لیے نکرہ لاتے ہیں، نحو مثال کے طور پر: ما جاءنا من بشيرٍ، نہیں آیا ہمارے ‏پاس کوئی خوشخبری دینے والا۔"فإن النكرة في سياق النفي تعم"، بس بے شک نکرہ جو ہے سیاقِ نفی کے اندر یعنی نفی ‏والے کلام میں یعنی نفی کے تحت جو ہے "تعم" عام ہو جاتا ہے۔نکرہ سیاقِ نفی میں عام ہو جاتا ہے۔ وقصد فردٍ معينٍ أو نوعٍ كذلك بھئی یاد رکھیے، کبھی کبھار نکرہ ذکر کیا جاتا ہے ایک فرد کا ارادہ کرنے کے لیے، فردِ معین، یا اسی طرح ایک معین ‏نوع کا ارادہ کرنے کے لیے۔کبھی کبھار نکرہ لایا جاتا ہے کس لیے؟ایک فردِ معین پر دلالت کے لیے، یا نکرہ لایا جاتا ‏ہے ایک نوع پر، ایک قسم پر دلالت کرنے کے لیے، جیسے دیکھیے مثال سے بات واضح ہوگی: "والله خلق كل دابةٍ من ‏ماءٍ"، اور اللہ نے پیدا کیا ہر دابہ کو "من ماءٍ" پانی سے۔دابہ کو، ہر دابہ کو پانی سے۔اب یہاں دیکھیے بھئی، "کل دابةٍ"، ‏دیکھیے نکرہ آیا، نکرہ آیا۔سمجھ میں آیا بھئی؟نکرہ، تو دابہ بھی نکرہ اور "ماءٍ" کا لفظ بھی کیا آیا ہے یہاں پر؟نکرہ آیا، ‏اور نکرہ آئے تو کبھی اس کے ذریعے ایک فردِ معین کا ارادہ ہوتا ہے۔یعنی معنی پھر کیا کریں گے؟اللہ نے پیدا کیا ہر ‏ایک فردِ دابہ کو، کس معنی میں لیا؟فرد کے معنی میں۔اللہ نے پیدا کیا ہر ایک دابہ، وہ چیز، وہ جانور جو زمین پر چلنے ‏والے ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟دابہ۔اللہ نے پیدا کیا ہر ایک جانور کو "من ماءٍ"، ایک فردِ ماء سے۔اللہ نے پیدا کیا ایک فردِ ‏دابہ کو، ایک فردِ ماء سے، یعنی فردِ ماء سے مراد وہ نطفہ ہے نطفہ، یا یوں ترجمہ کر لیں: اللہ نے پیدا کیا ایک فردِ دابہ ‏کو ایک نطفے سے، کس سے؟ایک، یعنی ہر فردِ دابہ ایک نطفے سے پیدا ہوا ہے۔ہر فردِ، ہر جانور کس سے پیدا ہوا ‏ہے؟ایک نطفے سے پیدا ہوا ہے۔یہ جانور ایک نطفے سے پیدا، دوسرا جانور یہ بھی کس سے پیدا؟ایک نطفے سے، یہ ‏تیسرا جانور یہ بھی کس سے پیدا؟ایک نطفے سے، یہ چوتھا یہ بھی کس سے پیدا؟ایک، تو ہر ایک فردِ دابہ کس سے پیدا ‏ہوا ہے؟ایک فردِ ماء سے، ایک فردِ ماء سے یعنی نطفے سے، معنی سمجھ میں آیا؟ یا اسی طرح نوع، نوع کا ارادہ کیا جاتا ہے، نوع یعنی ایک نوع مراد ہوتی ہے، جیسے دیکھیے نوع کے مطابق ترجمہ ‏یوں ہوگا: اور اللہ نے پیدا کیا ہے ہر ایک نوعِ دابہ کو ایک نوعِ پانی سے، ہر ایک نوعِ دابہ کو اللہ نے کس سے پیدا کیا ‏ہے؟ایک نوعِ پانی سے یعنی ایک نوعِ نطفہ سے، یعنی ایک قسم، ہر ایک قسم کے جانور کو اللہ نے ایک خاص، ہر ایک ‏خاص قسم کا جو جانور ہے اللہ نے اس کو ایک خاص قسم کے نطفے سے پیدا فرمایا ہے۔ہر ایک قسم کے جانور کو، ہاں ‏جیسے جو بکری ہے، بکری یہ بکری کی قسم کے نطفے سے پیدا ہے، گائے بیل کس قسم کے نطفے سے پیدا ہیں؟گائے ‏بیل کے نطفے سے پیدا ہیں، انسان کس کے نطفے سے پیدا ہے؟انسان کے نطفے سے پیدا ہے، تو ہر قسم کا جو حیوان ہے ‏وہ کس سے پیدا ہے؟الگ ایک قسم کے نطفے سے بھئی، ہر ایک قسم کا حیوان ایک خاص قسم کے، ہر تو ہر ایک خاص ‏قسم کا دابہ جو ہے وہ ایک خاص قسم کے نطفے سے اللہ نے پیدا فرمایا ہے۔معنی سمجھ میں آیا؟پہلی صورت میں کیا ‏ترجمہ تھا؟ایک فرد، ہر ایک فردِ دابہ کو اللہ نے ایک فردِ نطفے سے پیدا فرمایا ہے بھئی، یعنی ہر جانور ایک نطفے سے ‏پیدا ہے، اس صورت میں یہ مثلاً یہ بکری ایک نطفے سے پیدا، یہ دوسری بکری یہ دوسرے نطفے سے پیدا ہے، یہ ‏تیسری بکری یہ کس سے پیدا؟یہ تیسرے، تو اس میں ایک ایک فرد کی طرف اشارہ ہوا، اور اگر نوع کے لیے لیں تو ہر ‏ایک نوع کو ایک خاص قسم کے نطفے سے پیدا فرمایا ہے، جیسے بکریاں جو ہیں وہ اپنی خاص قسم کے نطفے سے پیدا ‏ہوتی ہیں، گائے بیل وغیرہ جو ہیں وہ اپنے خاص قسم کے نطفے سے پیدا ہوتے ہیں۔فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے: "وقصد فردٍ معينٍ أو نوعٍ كذلك"، اور ارادہ کرنے کے لیے ایک معین فرد کا، "أو نوعٍ كذلك"، "كذلك" اسی ‏طرح، اشارہ ہے معین کی طرف، کس کی طرف؟معین کی طرف، جیسے "وقصد فردٍ معينٍ أو نوعٍ معينٍ" بھئی، کس کا ‏ارادہ کرنے کے لیے؟ایک فردِ معین کا ارادہ کرنے کے لیے اور ایک معین نوع کا ارادہ کرنے کے لیے، لیکن معین ‏دوسری دفعہ ذکر نہیں کیا، اس کے ساتھ کیا ذکر کر دیا؟"كذلك"، اور نوع اسی طرح، کس طرح؟جیسے فرد تھا معین، نوع ‏بھی اسی طرح یعنی معین مراد ہے۔صورت سمجھ میں آ گئی؟نحو مثال کے طور پر: "والله خلق كل دابةٍ من ماءٍ"، اور اللہ ‏نے پیدا فرمایا ہے ہر ایک فردِ دابہ کو ایک فردِ ماء سے، یعنی اس ایک فردِ نطفہ سے۔ وإخفاء الأمر، اور معاملے کو چھپانے کے لیے، بھئی بعض اوقات ایک لفظ کو معرفہ کے بجائے آپ نکرہ ذکر کرنا، ذکر ‏کرتے ہیں اس کو چھپانے کے لیے تاکہ سامع کو اس کا پتہ نہ چلے، سامع کو اس کا پتہ نہ چلے۔مثلاً دیکھیے، زید آپ کا ‏ساتھی ہے اور اس نے آپ کو بتایا کہ عمرو جو ہے، عمرو وہ آج کل سیدھے راستے سے ہٹ گیا ہے۔آپ کو کس نے ‏بتایا؟زید نے، کس کے بارے میں بتایا؟عمرو کے بارے میں۔اب اگلے دن آپ کی ملاقات عمرو سے ہوئی، اب آپ اس کو ‏زید کی یہ جو بات زید نے بتائی کہ اس بتائی تھی اس کی بارے میں اس کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں۔لیکن زید کا نام نہیں ذکر ‏کرنا چاہتے کیونکہ اگر زید کا نام ذکر کریں گے تو پھر ہو سکتا ہے عمرو ناراض ہو بھئی، اور زید کو کوئی نقصان ‏پہنچانے کی کوشش کرے کہ اس نے میرے خلاف بات کی ہے، تو چنانچہ اب آپ عمرو کو کیسے کہیں گے؟کہ ایک آدمی ‏نے مجھے کہا تھا کہ سنا ہے آپ سیدھے راستے سے ہٹ گئے ہیں؟ایک آدمی نے مجھے کیا کہا تھا؟اب دیکھیے، یہ نہیں ‏آپ نے اس سے کہا کہ زید نے مجھے کہا ہے بلکہ کیا کہا؟ایک آدمی نے کہا، تو نکرہ آپ نے ذکر کیا، کیوں ذکر کیا ‏نکرہ؟کیونکہ آپ اس کو چھپانا چاہتے ہیں کس سے؟عمرو، سامع جو ہے جس سے بات کر رہے ہیں۔مثال سمجھ میں آ ‏گئی؟تو بعض اوقات نکرہ کس لیے لایا جاتا ہے؟بات کو دوسرے سے چھپانے کے لیے، یہ معنی ہے: "وإخفاء الأمر"، اور ‏معاملے کو چھپانے کے لیے، بات کو چھپانے کے لیے، نحو مثال کے طور پر: "قال رجلٌ إنك انحرفت عن الصواب"، ‏‏"انحرف ينحرف" کے معنی ہیں ہٹ جانا، ایک طرف کو ہو جانا یعنی ایک طرف مائل، "إنك انحرفت عن الصواب" کہ آپ ‏جو ہیں ہٹ گئے ہیں عن الصواب، سیدھے، درست راستے سے بھئی۔آپ کیا ہیں درست راستے سے ہٹ، درست راستے ‏سے ہٹ گئے ہیں۔آپ، تو یہ آپ نے کس سے کہا؟مخاطب سے، پورا یہ کلام کہا: "قال رجلٌ إنك انحرفت عن الصواب"، ‏ایک شخص نے کہا ہے، اس نے مجھے بتلایا ہے، کیا بتلایا ہے کہ آپ سیدھے راستے سے ہٹ گئے ہیں، "تخفي اسمه" ‏آپ چھپاتے ہیں اس کے نام کو، اسی لیے آپ نے "قال رجلٌ" کہا، "قال زيدٌ" نہیں کہا، آپ اس کے نام کو چھپاتے ہیں "حتى ‏لا يلحقه أذى" تاکہ اس کو نہ پہنچے تکلیف بھئی، تاکہ اس کو تکلیف، "لحق يلحق" کے معنی ملنا، تاکہ "لا يلحقه أذى" تاکہ ‏اس کو تکلیف نہ پہنچے، ورنہ اگر آپ "قال زيدٌ" کہہ دیتے ہیں پھر تو آپ کو خطرہ ہے یہ نہ ہو کہ یہ عمرو کل کیا کرے ‏زید کو کوئی تکلیف اور نقصان پہنچائے بھئی۔بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة ‏الكلام۔ ‏