سبق نمبر۔45
واما المحلی بال فيؤتى به إذا كان الغرض الحكاية عن الجنس نفسه، نحو: الإنسان حيوان ناطق وتسمى ال جنسية، أو الحكاية عن معهود من أفراد الجنس.
بھئی تعریف و تنکیر کے نکات بیان ہو رہے ہیں۔ یہ باب تھا کس بارے میں؟ تعریف و تنکیر کے بارے میں ہے یہ باب۔ اور کہ کس مقام پر معرفہ لایا جائے گا اور کس مقام پر نکرہ لایا جائے گا اور ان کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں۔ تو سب سے پہلے مصنف نے معرفہ لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں وہ ذکر کرنا شروع کیے۔ اور معرفہ چونکہ کئی قسم پر ہے تو لہذا باری باری سب کو الگ الگ بیان کرتے جا رہے ہیں اور بتلاتے جا رہے ہیں کہ اس معرفہ کے لانے میں کیا کیا نکات ہو سکتے ہیں اور اس معرفہ کے لانے میں کیا کیا نکات ہو سکتے ہیں۔
جی، تو آج ہم معرف باللام کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ رجلٌ یہ ہے نکرہ اور اس پر الف لام آ گیا الرَّجُلُ۔ تو یہ کیا ہوا؟ معرف باللام بھئی، یعنی الف لام کے ساتھ اس کو معرفہ بنایا گیا ہے۔ تو یہ جو معرف باللام ہوتا ہے اس کو کیوں لایا جاتا ہے، اس کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں، اس کو کس مقام پر لایا جاتا ہے وہ اب ذکر کریں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو معرف باللام کو لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں، اب وہ بیان کریں گے بھئی یہاں پر۔ بھئی یاد رکھیے، الف لام جو ہے یہ دو قسم پر ہے بھئی۔ ایک الف لام ایک الف لام اسمی کہلاتا ہے اور ایک الف لام حرفی ہے بھئی۔ ایک الف لام کیا ہے؟ اسمی ہے۔ ایک الف لام اسمی ہے، اسم کی طرف منسوب۔ یعنی اسم والا۔ الف لام اسمی یعنی الف لام اسم والا یعنی اسم ہے یہ۔ اور ایک الف لام حرفی ہے بھئی، یعنی حرف کی طرف منسوب بھئی، حرف والا یعنی جو حرف ہے بھئی خود۔ تو یہ الف لام دو قسم پر ہے۔
الف لام اسمی وہ ہے جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہوتا ہے۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہوتا ہے۔ بھئی، ایک ہوتا ہے اسمِ فاعل، ایک ہے فاعل۔ دونوں میں فرق جانتے ہیں یا نہیں؟ اسی طرح ایک ہوتا ہے اسمِ مفعول اور ایک ہوتا ہے مفعول۔ دونوں میں فرق جانتے ہیں؟ بھئی دیکھیے، اسمِ فاعل۔ اسمِ فاعل اس مخصوص صیغے کا نام ہے جو آپ نے علمِ صرف میں پڑھا ہے۔ ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْبًا فَهُوَ ضَارِبٌ۔ یہ ضَارِبٌ کیا ہے؟ اسمِ فاعل ہے۔ کیا ہے؟ اسمِ فاعل ہے۔ اور اسی طرح گردان میں آپ نے پڑھا ہے آگے پھر، وَضُرِبَ يُضْرَبُ ضَرْبًا فَذَاكَ مَضْرُوبٌ۔ یہ مَضْرُوبٌ، یہ اسمِ مفعول ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ معلوم ہوا اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول، یہ وہ جو گردان میں مخصوص صیغے آپ نے پڑھے ہیں ان کو کہتے ہیں۔ تو اسمِ فاعل کے کئی اوزان آپ نے پڑھے ہیں، فَاعِلٌ جیسے ضَارِبٌ ابھی آیا۔ اسی طرح مُكْرِمٌ، مُكْرِمٌ، مُسْتَخْرِجٌ، مُكَرَّمٌ، یہ سارے کیا ہیں؟ اسمِ فاعل ہیں بھئی۔ اور اسمِ مفعول جو گردان میں جو آپ نے مخصوص وزن پڑھے ہیں اسمِ مفعول کے، جیسے مَضْرُوبٌ، مَمْنُوعٌ، مَفْتُوحٌ، اسی طرح مُكْرَمٌ، مُسْتَخْرَجٌ، مُكَرَّمٌ، یہ سارے کیا ہیں؟ اسمِ مفعول۔
یہ تو تھے اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول۔ جبکہ ایک ہوتا ہے فاعل اور اسی طرح ایک ہوتا ہے مفعول۔ فاعل اس کو کہتے ہیں جس کو فعل یا شبہِ فعل رفع دے۔ ضَرَبَ زَيْدٌ۔ ضَرَبَ فعل، زَيْدٌ مرفوع لفظاً اس کا فاعل۔ یہ زید کو رفع کس نے دیا؟ ضَرَبَ نے، کس نے؟ ضَرَبَ نے۔ اسی طرح زَيْدٌ ضَارِبٌ، اس کی کیا ترکیب کرتے تھے؟ زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضَارِبٌ صیغہ اسمِ فاعل، اور اسمِ فاعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے پہلے بیان ہو چکا؟ فاعل چاہیے بھئی۔ آگے کوئی فاعل والا لفظ تو ہے نہیں تو اسی کے اندر کیا کریں گے؟ ضمیر نکال لیں گے کیونکہ فاعل تو ضرور اس کے لیے چاہیے۔ تو اس کے اندر هُوَ ضمیر جو ہے وہ اس کا فاعل ہے۔ وہ کیا ہے اس کا؟ فاعل ہے۔ تو یہ هُوَ ضمیر کو رفع کس نے دیا؟ ضَارِبٌ نے۔ اسی طرح ضَرَبَ زَيْدٌ، یہاں زَيْدٌ کو رفع کس نے دیا؟ ضَرَبَ نے۔ تو یہ ہیں فاعل بھئی۔ یہ زَيْدٌ یہ فاعل ہے ضَرَبَ کے لیے۔ یہ هُوَ جو ضمیر تھی یہ فاعل ہے ضَارِبٌ کے لیے۔ معلوم ہوا، فعل بھی رفع دیتا ہے، اسمِ فاعل بھی کیا کرتا ہے؟ رفع دیتا ہے بھئی۔ یہ کیا کرتا ہے؟ رفع دیتا ہے۔
تو فاعل کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے، وہ ہے فاعل۔ ضَرَبَ زَيْدٌ میں زَيْدٌ کیا ہے؟ فاعل۔ زَيْدٌ ضَارِبٌ، یہاں ضَارِبٌ کے اندر هُوَ ضمیر کیا ہے؟ فاعل۔ تو دیکھا؟ اسمِ فاعل اور فاعل میں فرق سمجھ میں آ گیا۔ اسمِ فاعل کسے کہتے ہیں؟ وہ مخصوص صیغہ ہے، وہ مخصوص وزن کا نام ہے جو کس میں پڑھا آپ نے؟ گردانوں میں، ضَارِبٌ، فَاتِحٌ، مَانِعٌ، مُكْرِمٌ وغیرہ بھئی۔ اور فاعل کس کا نام ہے؟ جسے فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اسمِ فاعل کس کا نام ہے؟ وہ جو مخصوص صیغے ہیں گردان میں آپ نے پڑھے۔ اور فاعل کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے، وہ ہے فاعل۔
اسی طرح ہے ایک مفعول اور ایک ہے اسمِ مفعول۔ مفعول تو وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا، یہ عَمْرًوا کو نصب کس نے دیا؟ ضَرَبَ نے، ضَرَبَ نے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا یہ عَمْرًوا مفعول ہے۔ اور ایک ہوتا ہے اسمِ مفعول، اسمِ مفعول وہ گردان کے اندر جو مخصوص صیغہ آپ نے پڑھا، مَضْرُوبٌ، مَفْتُوحٌ، مَمْنُوعٌ، مُكْرَمٌ، مُسْتَخْرَجٌ، مُكَرَّمٌ وغیرہ بھئی۔ تو معلوم ہوا اسمِ مفعول، وہ کس کا نام ہے؟ اس مخصوص صیغے کا نام ہے۔ اور مفعول کس کا نام ہے؟ جسے فعل یا صفت کا صیغہ نصب دیتا ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟
تو میں ذکر کر رہا تھا الف لام کی قسمیں بھئی۔ میں نے بتلایا الف لام دو قسم پر ہے، ایک الف لام اسمی ہے، ایک الف لام حرفی ہے۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہو۔ معلوم ہوا الضَّارِبُ، ضَارِبٌ کون سا صیغہ ہے؟ اسمِ فاعل۔ اس پر الف لام آیا، الضَّارِبُ۔ تو دیکھیے، یہ الف لام کون سا ہے، اسمی ہے یا حرفی ہے؟ اسمی ہے، کیونکہ اسمِ فاعل کے صیغے پر جو الف لام آئے وہ کیا ہوتا ہے الف لام؟ اسمی۔ اسی طرح میں کہتا ہوں الْمَضْرُوبُ، یہ الف لام کس پر داخل ہوا؟ مَضْرُوبٌ پر اور مَضْرُوبٌ کیا ہے؟ اسمِ مفعول۔ اور اسمِ مفعول کے صیغے پر جو الف لام آئے وہ کیا ہوتا ہے؟ وہ اسمی ہوتا ہے۔ معلوم ہوا الضَّارِبُ پر جو الف لام آیا وہ بھی الف لام اسمی، الْمَضْرُوبُ پر جو الف لام آیا یہ بھی کیا ہے؟ الف لام اسمی ہے اور یاد رکھیے اس کو اسمی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اگرچہ حرف جیسی صورت ہے لیکن دراصل یہ اسم ہے، یہ اسمِ موصول ہے۔ یہ کیا ہے؟ اسمِ موصول۔ یہ الضَّارِبُ میں جو الف لام آیا یہ بمعنی الَّذِي کے ہے۔ اسی طرح الْمَضْرُوبُ میں جو الف لام آیا وہ بھی الَّذِي کے معنی میں ہے بھئی۔ تو یہ دراصل کیا ہے؟ اسم ہے، حرف ہے ہی نہیں، یہ اسمِ موصول ہے۔ اسم کی اقسام میں اسمِ موصول پڑھا ہے یا نہیں نحو کے اندر آپ نے؟ تو یہ بھی اسم ہے باقاعدہ بھئی، کیا ہے؟ اسم ہے۔
تو یہ اسمِ موصول ہے البتہ آیا الف لام کی شکل میں۔ تو دراصل ہے یہ اسم بھئی۔ اور آپ نے پڑھا ہے اسمِ موصول جب بھی استعمال ہوتا ہے صلے کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ موصول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ اور صلہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ، مفرد نہیں، پورا جملہ چاہیے۔ کیونکہ میں نے آپ کو بتایا تھا اسمِ موصول میں اتنا زیادہ ابہام ہوتا ہے، اس کے صرف الَّذِي کہیں کسی کو سمجھ میں نہیں آتا کہ کون مراد ہے اس سے۔ آگے پورا ایک جملہ چاہیے جو اس کے ابہام کو دور کر دے، کیونکہ الَّذِي کا کیا معنی؟ "وہ جو کہ"، "وہ جو کہ"۔ اب آپ سارا دن بھی "وہ جو کہ" کہتے رہیں کسی کو بات سمجھ میں نہیں آئے گی یہ کس کی بات کر رہا ہے بھئی، کون مراد ہے؟ ہاں جب آگے آپ پورا جملہ کہہ دیں گے "وہ جو کہ کل آپ کے پاس آیا تھا"، اب اس کو سمجھ میں آ گئی بات کہ معلوم ہوا کہ اس فلاں آدمی کی بات ہو رہی ہے بھئی۔ تو اسمِ موصول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ اور صلہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی الضَّارِبُ میں الف لام اسمی ہے اور یہ ضَارِبٌ اس کا صلہ ہے۔ ضَارِبٌ کیا ہے اس کا؟ صلہ ہے۔ الْمَضْرُوبُ میں الف لام اسمی ہے اور مَضْرُوبٌ یہ مفعول کا صیغہ جو ہے، اسمِ مفعول کا صیغہ، یہ اس کا صلہ ہے۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ موصول کا صلہ تو ہمیشہ جملہ ہوتا ہے، یہ تو ضَارِبٌ اور مَضْرُوبٌ، یہ تو صرف کیا ہیں؟ مفرد ہیں، جملہ نہیں حالانکہ صلہ ہمیشہ کیا چاہیے؟ جملہ۔ جواب یہ کہ یہ اسمِ موصول چونکہ الف لام کی صورت اختیار کر لی اس نے، کس کی صورت؟ الف لام کی، یہ الف لام کی صورت میں آیا ہے یہ اسمِ موصول۔ اور الف لام تو ہمیشہ مفرد پر داخل ہوتا ہے، کسی لفظ پر داخل ہوتا ہے، پورے جملے پر داخل نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کے صلے کو اس کا صلہ دراصل جملہ تھا۔ کیا تھا؟ جملہ تھا، لیکن ہم نے بھی اس کو پھر مفرد والی صورت دے دی۔ کون سی صورت دے دی؟ مفرد والی۔ یعنی یہ ضَارِبٌ اصل میں يَضْرِبُ تھا۔ کیا تھا؟ يَضْرِبُ تھا۔ تو الضَّارِبُ یہ بمعنی ہے الَّذِي يَضْرِبُ کے، الَّذِي يَضْرِبُ۔ وہ شخص جو پٹائی کرتا ہے، وہ وہ وہ جو پٹائی کرتا ہے۔ تو دیکھو الَّذِي اسمِ موصول، يَضْرِبُ فعل، هُوَ ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ، جملہ ہو کر یہ صلہ۔ موصول اپنے صلے سے پھر مل کر جو بھی بنے گا جملے کے اندر چاہے مبتدا بنے، چاہے خبر بنے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو الضَّارِبُ اصل میں کیا تھا؟ الَّذِي يَضْرِبُ۔ پھر کیا کیا گیا؟ الَّذِي کو کون سی صورت دی گئی؟ الف لام والی۔ اور جب الف لام والی صورت دے دی گئی، یہ اب الف لام تو يَضْرِبُ پر داخل نہیں ہو سکتا، جملے پر داخل نہیں ہو سکتا، تو يَضْرِبُ کو بھی کون سی صورت دے دی؟ ضَارِبٌ والی صورت دے دی، تو کیا بن گیا؟ الضَّارِبُ۔ معلوم ہوا الضَّارِبُ کس معنی میں ہے؟ الَّذِي يَضْرِبُ کے معنی میں۔ اسی طرح الْمَضْرُوبُ بھئی، یہ اصل میں تھا الَّذِي يُضْرَبُ، وہ جس کی پٹائی کی جاتی ہے۔ پھر کیا کیا گیا؟ الَّذِي کو کون سی صورت دے دی گئی؟ الف لام والی۔ اور الف لام تو داخل ہوتا ہے مفرد لفظ پر، جملے پر نہیں، تو يُضْرَبُ کو بھی کون سی صورت دے دی گئی؟ مَضْرُوبٌ والی صورت دے دی، تو کیا بن گیا؟ الْمَضْرُوبُ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا الضَّارِبُ کس معنی میں؟ الَّذِي يَضْرِبُ، اور الْمَضْرُوبُ کس معنی میں؟ الَّذِي يُضْرَبُ کے معنی میں۔ تو یہ ہے الف لام اسمی۔
بھئی اتنا آپ کو پتہ چل گیا اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں پر جو الف لام ہوتا ہے یہ دراصل اسمِ موصول ہے، یہ حرف ہے ہی نہیں۔ اور یہ الف لام اسمی کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ اسمی۔ اور یہ کسی لفظ کو معرفہ نہیں بناتا، یہ خود ہی معرفہ ہے، کیونکہ اسمِ موصول ہے نا اور اسمِ موصول کس کی قسم ہے؟ معرفہ کی چھ سات قسمیں اسی باب کے شروع میں بیان کی تھیں کہ معرفہ کیا ہے؟ ضمیر بھی معرفہ اور اسمِ اشارہ بھی معرفہ اور علم بھی معرفہ اور اسی طرح اسمِ موصول، تو یہ خود ہی معرفہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ خود ہی معرفہ ہوتا ہے۔ جبکہ دوسرا الف لام حرفی ہے بھئی، حرفی۔ الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی لفظ کو معرفہ بنایا جاتا ہے۔ رجلٌ نکرہ تھا، اس پر الف لام آیا الرَّجُلُ، تو اس نے الرَّجُلُ کو کیا بنا دیا؟ معرفہ بنا دیا، یہ الف لام حرفی ہے۔ کیا ہے؟ الف لام حرفی۔
اچھا اب آپ مجھے بتائیے، الْقَلَمُ، الْقَلَمُ، یہ الف لام اسمی ہے یا حرفی ہے؟ حرفی ہے، کیسے آپ کو پتہ چلا؟ ہاں کیونکہ قلم یہ تو اسمِ فاعل کا صیغہ تو نہیں ہے، یہ اسمِ مفعول کا صیغہ تو نہیں ہے جس پر الف لام آیا۔ ہاں اگر یہ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کا صیغہ ہوتا تو اس پر جو الف لام داخل ہوتا وہ کون سا ہوتا؟ الف لام اسمی۔ لیکن یہ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول نہیں، تو معلوم ہوا اس پر الف لام جو آیا وہ اسمی بھی نہیں بلکہ کیا ہے؟ حرفی ہے بھئی، تو یہ الف لام حرفی ہے۔ اس طرح پہچانیں گے اس کو بھئی۔ اور یہ الف لام حرفی اس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی اسم کو معرفہ بنایا جاتا ہے۔ اور اس کی بہترین تعبیر بھی یاد رکھیے کہ یہ جو الف لام حرفی ہوتا ہے، اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ یہ ہمیشہ یاد رکھنا بھئی الف الف لام حرفی کی جو تعریف میں نے کی، کہ اس کے ذریعے کسی کسی اسم کو کیا کیا جاتا ہے؟ معرفہ بنایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ تو الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی اسم کو معرفہ بنایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے، کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔
پھر یاد رکھیے، الف لام حرفی جو ہے یہ چار قسم پر ہے، یہ آگے کتاب میں بھی بیان کریں گے۔ آپ نے بھی پڑھی ہوں گی نحو کے اندر الف لام کی قسمیں، الف لام جنسی ہے، الف لام استغراقی ہے، الف لام عہدِ خارجی ہے اور الف لام عہدِ ذہنی ہے۔ کتنی قسمیں ہیں الف لام حرفی کی؟ چار۔ الف لام جنسی، الف لام استغراقی، الف لام عہدِ خارجی اور الف لام عہدِ ذہنی۔ بھئی دیکھیے، آپ ابھی تک آپ نے شاید رٹا لگایا ہو، اب میں آپ کو بتلاتا ہوں آپ خود پہچان لیا کریں گے کہ یہ الف لام کون سا ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، ایک ہے پہلا ہے الف لام جنسی۔ اچھا الف لام جنسی کسے کہتے ہیں؟ بھئی ابھی میں نے تعریف کی تھی، الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے، کیا کیا جائے؟ اب دیکھیے ایک لفظ ہے اس پر الف لام حرفی آیا اور آپ نے غور کیا تو اندازہ ہوا کہ اس الف لام کے ذریعے اس چیز کی جنس اور حقیقت اور ماہیت کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، افراد مراد نہیں۔ ایک ہوتی ہے چیز کی حقیقت اور ایک ہے چیز کے خارج میں جو افراد پائے جاتے ہیں، جیسے انسان، انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، یہ انسان کی حقیقت ہے بھئی۔ اور ایک ہیں انسان کے افراد، زید، عمر، بکر، خالد جن کو آپ دیکھتے ہیں اپنی نگاہوں سے، یہ کیا ہیں؟ انسان کے افراد ہیں۔ تو ایک ہوتی ہے حقیقت اور ایک ہوتے ہیں افراد۔ تو اگر ایک لفظ پر الف لام آئے اور اس الف لام کے ذریعے تو الف لام ہے حرفی، اور آپ نے پڑھا الف لام حرفی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ تو آپ اس میں غور کریں کس چیز کی طرف اشارہ ہو رہا ہے؟ اگر اشارہ ہے جنس کی طرف، اس چیز کی حقیقت اور ماہیت کی طرف، تو سمجھ جائیے یہ الف لام جنسی ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ الف لام جنسی ہے۔
اور اگر اشارہ جنس کے اور حقیقت کی طرف نہیں ہے بلکہ افراد کی طرف ہے، تو پھر دیکھیں سارے افراد کی طرف اشارہ ہے یا بعض کی طرف؟ اگر سارے افراد کی طرف اشارہ ہے تو اس کو الف لام استغراقی کہیں گے بھئی۔ کیا کہیں گے؟ جب سارے افراد کی طرف اشارہ ہو جو خارج میں پائے جاتے ہیں۔ اور اگر سارے افراد کی طرف نہیں اشارہ بعض افراد کی طرف اشارہ ہے، کس کی طرف؟ بعض، تو وہ بعض خارج میں متعین ہوں گے یا متعین نہیں؟ اگر وہ خارج میں متعین ہیں تو اس کو الف لام عہدِ خارجی کہیں گے، اور اگر وہ خارج میں متعین نہیں تو اس کو الف لام عہدِ ذہنی کہیں گے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا، الف لام حرفی کتنی قسم پر؟ چار قسم پر۔ کیونکہ الف لام حرفی کے ذریعہ کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ اگر اشارہ جنس کی طرف ہو یا یوں کہیں اشارہ حقیقت کی طرف ہو یا یوں کہیں اشارہ ماہیت کی طرف ہو جنس، حقیقت، ماہیت سب کا ایک ہی معنی ہے، اس لیے میں تینوں لفظ بول رہا ہوں۔ اگر اشارہ کس کی طرف ہو؟ جنس اور حقیقت کی طرف ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ الف لام جنسی کہیں گے۔ اگر اشارہ افراد کی طرف ہو، پھر اس میں غور کرو کہ سارے افراد مراد ہیں یا بعض افراد؟ اگر سارے افراد مراد ہوں تو یہ الف لام کون سا ہے؟ استغراقی ہے اور اگر بعض افراد مراد ہیں تو پھر دیکھو، یہ بعض افراد متعین افراد ہیں یا غیر متعین بھئی؟ اگر وہ متعین ہیں تو یہ الف لام عہدِ خارجی ہے اور اگر خارج میں وہ افراد متعین نہیں تو یہ پھر الف لام عہدِ ذہنی ہے بھئی، الف لام عہدِ ذہنی۔
بھئی دیکھیے، مثالوں سے اور زیادہ وضاحت ہو جائے گی۔ آپ کہتے ہیں، "الرجل خیر من المرأة۔" "الرجل خیر من المرأة۔" "الرجل" پر الف لام آیا بھئی۔ یہ اب الف لام کون سا ہے؟ اسمیہ ہے یا حرفی ہے؟ الف لام حرفی ہے، کیونکہ "رجل"، یہ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول تو نہیں، "ضارب" یا "مضروب" جیسا صیغہ تو نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ الف لام کون سا؟ حرفی ہے۔ اچھا حرفی... اسی طرح "المرأة"... "الرجل خیر من المرأة۔" "المرأة" پر بھی الف لام آیا، یہ کون سا الف لام ہے؟ اسمیہ ہے یا حرفی ہے؟ یہ بھی حرفی ہے بھئی۔ کیونکہ "مرأة"، یہ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کا صیغہ نہیں۔ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کا صیغہ ہو، پھر تو الف لام اسمیہ ہے، ورنہ کون سا الف لام؟ حرفی۔
معلوم... اب اتنا تو طے ہو گیا، یہ الف لام حرفی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ الف لام حرفی تو چار قسم پر ہے، یہ کون سی قسم میں سے ہے؟ میں نے کیا بتلایا؟ الف لام... الف لام جنسی ہوگا، پھر یا استغراقی ہوگا یا عہدِ خارجی ہوگا یا عہدِ ذہنی ہوگا۔ اب ہم دیکھتے ہیں، غور کرتے ہیں کہ یہاں "الرجل" سے کیا مراد... الف لام کے ذریعہ اشارہ ہو رہا ہے، تو اشارہ جنس کی طرف ہے یا افراد کی طرف ہے؟ بھئی، افراد کی طرف اشارہ درست نہیں بنتا۔ "الرجل" کا کیا معنی بنے گا؟ جی؟ تمام افرادِ... اگر الف لام استغراقی مراد لے لیں، تمام افرادِ رجل جو خارج میں پائے جاتے ہیں "خیر من المرأة"، وہ بہتر ہیں تمام افرادِ امرأة سے۔ یعنی یوں کہیں، افرادِ رجل یعنی رجل کے جو افراد ہیں، وہ عورت کے افراد سے، اس جنس کے افراد سے... یہ معنی درست نہیں بنتا۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ مرد عورت سے افضل ہو۔
آپ بھی دیکھتے ہیں، ایک عورت ہے ایمان والی اور مرد ہے کافر، کون افضل اور بہتر بھئی؟ عورت افضل ہے، دیکھو۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ تو ضروری نہیں کہ مرد عورت سے کیا ہو؟ افضل۔ عورت بھی مرد سے افضل ہو سکتی ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی۔ یاد رکھیے، یہ "الرجل" میں الف لام جنسی ہے۔ کیا ہے؟ جنسی۔ جنس کی طرف اشارہ کیا گیا، یعنی جنسِ رجل یہ افضل ہے، بہتر ہے جنسِ امرأة سے۔ جنسِ رجل کیا ہے؟ بہتر ہے جنسِ امرأة سے۔ یعنی یہ جو جنس ہے، یہ افضل ہے اس جنس سے۔ یہ جنس یعنی رجل کی جنس، یہ اعلیٰ ہے اس جنس سے، کس سے؟ عورت کی جنس سے بھئی۔ اللہ نے مرد کو فضیلت دی ہے عورت پر۔
تو یہاں جنس مراد ہے، افراد نہیں، کیونکہ ابھی میں نے مثال ذکر کر دی، کیونکہ افراد تو عورت کے بھی بہتر ہو سکتے ہیں مرد کے مقابلے میں۔ ہاں، البتہ جنس اعلیٰ ہے، مردوں کو اللہ نے فضیلت دی ہے۔ تو ترجمہ کیا کریں؟ مرد کو فضیلت ہے عورت پر، مرد کو... اور کیا مراد ہیں؟ افراد یا جنس مراد ہے؟ جنس مراد ہے، افراد نہیں۔ اور اسی طرح ایک فاسق آدمی ہے اور ایک نیک عورت ہے، کون افضل ہے؟ نیک عورت، ظاہر سی بات ہے، افراد تو عورت کے بھی افضل ہو سکتے ہیں، لیکن یہاں افراد مراد نہیں، اگر افراد مراد لیں، پھر معنی صحیح نہیں بنتا۔ معنی کیا بنے گا؟ افرادِ رجل بہتر ہیں کس سے؟ افرادِ امرأة سے، حالانکہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے؟ نہیں۔ ابھی میں نے مثالیں ذکر کر دیں، عورت بھی افضل ہو سکتی ہے۔ لہٰذا وہ معنی صحیح نہیں بنتا۔ معلوم ہوا یہاں کیا مراد ہے؟ جنس۔ جنسِ رجل اعلیٰ ہے کس سے؟ جنسِ امرأة سے بھئی، کہ مرد کو اللہ نے فضیلت دی ہے بھئی۔
تو یہاں الف لام کون سا الف لام؟ جنسی ہے، افراد وغیرہ کی طرف اشارہ نہیں، بلکہ جنس کی طرف اشارہ ہے کہ جنس... یہ جو رجل جو ہے، اس کی جو جنس ہے، وہ اعلیٰ ہے کس سے؟ جنسِ امرأة سے بھئی۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟ آ رہی ہے۔
دوسرا... یہ تھا الف لام جنسی۔ دوسرا ہے الف لام استغراقی۔ الف لام استغراقی وہ ہے جس کے ذریعہ تمام افراد کی طرف اشارہ ہو۔ تمام افراد کی طرف، وہاں جنس کی طرف اشارہ نہیں ہو گا۔ جیسے قرآن میں ہے بھئی: "إن الإنسان لفي خسر۔" "إن الإنسان لفي خسر۔" تو دیکھیے "الإنسان" پر الف لام آیا، یاد رکھیے یہ الف لام... یہ الف لام استغراقی ہے۔ اور الف لام استغراقی کس کو کہتے تھے؟ جس میں تمام افراد کی طرف اشارہ ہو، تمام افراد اس سے مراد ہوں، تو کیا ترجمہ کریں گے؟ "إن الإنسان"، یقیناً تمام انسان یعنی تمام افرادِ انسان جو ہیں "لفي خسر"، وہ البتہ خسارے میں ہیں، تمام افرادِ انسان البتہ خسارے میں ہیں۔ "إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات"، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں الف لام جو "الإنسان" پر آیا، وہ الف لام استغراقی ہے اور اس کے ذریعہ اشارہ ہے تمام افرادِ انسان کی طرف۔ یہاں جنس کی حقیقت مراد نہیں ہے، بلکہ افراد مراد ہیں اور افراد بھی تمام مراد ہیں، اس لیے کیونکہ اگر تمام افراد مراد نہ لیں تو پھر آگے استثناء صحیح نہیں بنتا۔ "إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات"، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، تو "إلا" آیا، "إلا" کس لیے آتا ہے؟ استثناء کے لیے۔ استثناء کے لیے، تو اسی افرادِ انسان میں سے بعض افراد کو نکالا جا رہا ہے اس حکم سے، تو یہ ہے استثناء۔
استثناء بھی جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ ایک مستثنیٰ متصل ہوتا ہے، ایک مستثنیٰ منقطع ہوتا ہے۔ مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں؟ ہاں، مستثنیٰ متصل وہ ہے جو مستثنیٰ منہ کے حکم میں پہلے داخل تھا، پھر "إلا" کے ذریعہ اس کو نکال دیا گیا۔ اور مستثنیٰ منقطع وہ ہے جو مستثنیٰ متصل کے حکم میں داخل نہ ہو، البتہ اس کو ذکر "إلا" کے بعد کر دیا گیا مثلاً۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔
آج... اچھا، اب آپ ذرا مجھے بتائیے بھئی کہ یہ مستثنیٰ متصل ہے یا مستثنیٰ منقطع ہے؟ "جاءني طلبة الدرجة الثالثة إلا زيداً۔" "جاءني طلبة الدرجة الثالثة إلا زيداً"، میرے پاس درجہ ثالثہ والے طلبہ آئے سوائے زید کے۔ بتائیے، یہ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع ہے؟ جی؟ ہاں، آپ کہہ رہے ہیں متصل کہہ رہے ہیں، معلوم ہوا مستثنیٰ کا علم نہیں ابھی آپ کو۔ یاد رکھیے، یہ آپ حکم کبھی بھی نہیں لگا سکتے یہاں پر کہ متصل ہے یا منقطع ہے جب تک آپ کو پوری بات کا پتہ نہیں ہوگا۔ صرف جملے کو دیکھ کر آنکھیں بند کر کے آپ نے حکم نہیں لگانا، بلکہ یہ دیکھیں۔ ذرا "إلا" اور "إلا" کے ما بعد کو ختم کر دیں۔ کیا جملہ رہ گیا؟ "جاءني طلبة الدرجة الثالثة"، میرے پاس درجہ ثالثہ والے آئے، کیا اس میں زید شامل ہے یا شامل نہیں؟ اگر زید ان میں شامل ہے، صرف اس جملے کو دیکھیں "جاءني طلبة الدرجة الثالثة"، اگر زید بھی درجہ ثالثہ والوں میں سے ہے، پھر تو "إلا زيداً" مستثنیٰ متصل بنے گا۔ اور اگر وہ درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہی نہیں، وہ تو کسی اور درجے میں پڑھتا ہے، تو پھر یہ "إلا زيداً" مستثنیٰ منقطع بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مستثنیٰ متصل اور منقطع کو اچھی طرح سمجھ لیں بھئی، ہمیشہ آپ کے کام آئے گا۔ کہ مستثنیٰ متصل اس کو کہتے ہیں جو پہلے حکم میں داخل ہو، پھر اس کو "إلا" کے ذریعہ اس حکم سے نکال دیا جائے۔
لہٰذا اگر زید بھی درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے، تو اب میں جب کہوں گا آپ سے "جاءني طلبة الدرجة الثالثة"، میں نے آپ سے کیا کہا؟ میرے پاس کون آئے؟ درجہ ثالثہ والے آئے اور آپ ان سب کو جانتے ہیں اور یہ بھی آپ کو پتہ ہے زید بھی ان میں سے ہے، تو آپ کیا سمجھے؟ کہ زید میرے پاس آیا ہے یا نہیں آیا؟ صرف اس جملے کو دیکھو، استثناء کو چھوڑ دو۔ "جاءني طلبة الدرجة الثالثة"، اتنا جملہ ہے، "إلا زيداً" ابھی میں نے نہیں کہا۔ جب میں نے کیا کہا "جاءني طلبة الدرجة الثالثة"، میرے پاس درجہ ثالثہ والے آئے اور آپ ان ساروں کو جانتے ہیں یا نہیں جانتے؟ آپ ان ساروں کو جانتے ہیں اور زید بھی اسی میں پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا؟ زید بھی اسی میں پڑھتا ہے، تو جب میں نے صرف اتنا جملہ آپ سے کہا "جاءني طلبة الدرجة الثالثة"، میرے پاس تیسرے درجے والے طلبہ آئے تھے، آپ کیا سمجھے؟ زید آیا ہے یا نہیں؟ زید آیا ہے، دیکھا یہ "طلبة الدرجة الثالثة" میں زید شامل ہے۔ اب آگے جب میں کہوں گا "إلا زيداً"، اب میں نے زید کو ان مجیئت کے حکم سے نکال دیا۔ معلوم ہوا باقی درجہ ثالثہ والوں کے لیے مجیئت ہے، وہ آئے ہیں، لیکن زید کے لیے مجیئت والا حکم نہیں، وہ آیا نہیں ہے۔ تو دیکھو، یہ "إلا" اگر نہ ہوتا تو زید بھی ان میں شامل تھا، لیکن "إلا" نے کیا کیا؟ زید کو اس مجیئت کے حکم سے نکال دیا کہ معلوم ہوا وہ نہیں آیا، باقی آئے ہیں، تو یہ ہے مستثنیٰ متصل۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں؟ جو پہلے حکم میں داخل تھا، پھر اس کو "إلا" کے ذریعہ نکال دیا، یہ ہے مستثنیٰ متصل۔ جبکہ بعینہ یہی جملہ مستثنیٰ منقطع کے لیے بھی ہو سکتا ہے، کس طرح؟ اب دوسری صورت بناؤ، میں نے آپ سے یہی جملہ کہا "جاءني طلبة الدرجة الثالثة"، میرے پاس کون سے درجے والے آئے؟ درجہ ثالثہ والے طلبہ آئے اور آپ ان سب کو جانتے ہیں اور زید تو ان میں نہیں پڑھتا، یہ بھی آپ جانتے ہیں۔ اب دوسری صورت ہے، فرض کریں اب زید ان میں نہیں پڑھتا، بلکہ زید تو رابعہ میں پڑھتا ہے یا خامسہ میں پڑھتا ہے، تو جب میں نے آپ سے کہا "جاءني طلبة الدرجة الثالثة"، میرے پاس درجہ ثالثہ والے طلبہ آئے، تو آپ جانتے ہیں کہ زید... تو آپ، اب آپ مجھے بتائیے، زید بھی آیا ہے یا نہیں؟ نہیں، کیونکہ زید تو ان میں داخل ہی نہیں، میں تو صرف کس کی بات کر رہا ہوں؟ درجہ ثالثہ والوں کی اور زید تو ثالثہ میں پڑھتا ہی نہیں ہے، وہ ان میں شامل ہی نہیں ہے، تو زید ان میں پہلے سے ہی داخل نہیں ہے۔ اب آگے پھر میں کہتا ہوں "إلا زيداً"، اب یہ کون سا مستثنیٰ؟ یہ منقطع ہے، کیونکہ یہ پہلے سے ہی ان میں داخل نہیں۔
تو معلوم ہوا مستثنیٰ "إلا" کے لانے سے پہلے اگر وہ ماقبل میں داخل تھا اور پھر "إلا" کے ذریعہ اس کو نکالا گیا اس حکم سے، تو یہ کیا ہوگا؟ مستثنیٰ متصل۔ اور اگر وہ داخل تھا ہی نہیں، پھر بھی اس کو "إلا" کے ساتھ ذکر کر دیا گیا، تو یہ کیا ہے؟ مستثنیٰ منقطع ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا یہی "جاءني طلبة الدرجة الثالثة إلا زيداً"، یہ مستثنیٰ متصل کی مثال بھی ہو سکتی ہے اور یہ مستثنیٰ منقطع کی مثال بھی ہو سکتی ہے۔
تو مستثنیٰ متصل تبھی کہیں گے جب آپ کو یقینی طور پر پتہ ہو کہ زید ان میں داخل تھا، پھر "إلا" کے ذریعہ نکال دیا گیا۔ اور مستثنیٰ منقطع تب اس کو کہیں گے جب آپ کو یقینی طور پر پتہ ہو کہ زید تو ان کے ساتھ پڑھتا ہی نہیں ہے، تو لہٰذا یہ کیا ہوگا؟ مستثنیٰ منقطع ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ... ہاں، نحو کی کتابوں میں مستثنیٰ منقطع کی مثال ذکر کرتے ہیں "جاءني القوم إلا حماراً"، کیونکہ وہ بہت واضح مثال ہے، اس لیے ذکر کرتے ہیں۔ "جاءني القوم"، میرے پاس وہ لوگ آئے "إلا حماراً"، سوائے گدھے کے۔ اب دیکھو، گدھے کا "إلا" کے ساتھ استثناء کیا گیا۔ اور یہ ظاہر سی بات ہے کہ "حمار" "القوم" میں داخل نہیں، کیونکہ "القوم" مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ مردوں کی جماعت، اور گدھا، وہ تو انسان ہے ہی نہیں، تو جب مردوں کی جماعت کا ذکر ہوا، وہ تو ان کے اندر داخل ہی نہیں ہے یقینی اور قطعی طور پر۔ جب "جاءني القوم" میں نے کہا، وہ لوگ میرے پاس آئے، کوئی متعین جماعت مراد ہے۔ تو اب کیا گدھا بھی ان میں شامل ہے؟ "إلا حماراً" کو ذرا ختم کرو، "جاءني القوم"، وہ لوگ میرے پاس آئے، تو کیا "حمار" ان میں داخل ہے؟ آپ کے ذہن میں آیا؟ نہیں، کیونکہ وہ تو ان میں داخل ہی نہیں، میں نے تو "القوم" کا لفظ ذکر کیا اور "القوم" تو مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں، تو معلوم ہوا صرف وہ جو متعین مرد ہیں، وہ میرے پاس آئے ہیں۔ پھر یہ پہلے بھی داخل نہیں تھا، پھر "إلا حماراً"، "إلا" کے ساتھ "حمار" کو ذکر کر دیا گیا، یہ تو پہلے ہی داخل نہیں تھا، تو معلوم ہوا یہ کون سا مستثنیٰ ہے؟ مستثنیٰ منقطع ہے۔
بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو مستثنیٰ کتنے قسم پر؟ دو قسم، ایک متصل، ایک منقطع۔ متصل وہ ہے جو اگر "إلا" اور مستثنیٰ کو ختم کر دیں تو وہ ان میں داخل ہو۔ پھر "إلا" کے ذریعہ اس کو کیا کر دیا گیا؟ نکال دیا، یہ معلوم ہوا متصل ہے، پہلے داخل تھا، پھر نکال دیا گیا۔ اور منقطع جو پہلے داخل ہی نہ ہو بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟
تو یہ ہے مستثنیٰ متصل اور منقطع، تو بات یہاں چل رہی تھی "إن الإنسان لفي خسر"، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں، یہاں پر الف لام کون سا مراد لیا گیا؟ الف لام استغراقی، یہ "تمام" والا لفظ ترجمے میں، میں جو لا رہا ہوں "تمام انسان"، یہ کس کا ترجمہ کر رہا ہوں؟ الف لام کا، یہ الف لام کے ذریعہ جو اشارہ ہوا تمام افراد کی طرف۔ تو یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں، تو الف لام کون سا بنایا گیا یہاں پر؟ آپ تفاسیر اٹھائیں گے، مفسرین حضرات ہیں، وہاں لکھا ہوگا کہ یہ الف لام استغراقی ہے۔ اب وجہ کیا؟ یہ الف لام استغراقی کیوں ہے؟ وجہ یہ کہ آگے "إلا" آ رہا ہے اور "إلا" کس لیے آ رہا... آتا ہے؟ استثناء کے لیے، استثناء کے لیے۔ اور آگے استثناء تبھی صحیح بنے گا جب اس الف لام کو الف لام استغراقی بنایا جائے۔
جب تمام انسان مراد لے لیے، تمام انسان خسارے میں ہیں، کوئی فرد بھی نہیں بچا، تمام انسان کس میں ہیں؟ "إلا الذين آمنوا"، کچھ لوگوں کو نکال لیا گیا اس میں سے، تو جو پہلے داخل تھے، اب کیا کر دیا گیا؟ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہیں، تو یہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہیں، یہ بھی تمام انسانوں میں شامل تھے یا نہیں؟ ہاں، شامل تھے، پھر "إلا" کے ساتھ ان کو نکال لیا گیا، تو یہ کون سی قسم بن گئی؟ مستثنیٰ متصل ہوا، کیا ہوا؟ ہاں، تو اس... یہ "الإنسان" میں الف لام استغراقی اس لیے لیا گیا، کیونکہ اگر الف لام استغراقی نہ لیں، تو آگے جو "إلا" کے بعد ہے، اس کو نہ مستثنیٰ متصل بنایا جا سکتا ہے، نہ مستثنیٰ منقطع بنایا جا سکتا ہے اور مستثنیٰ کی تو دو ہی قسمیں ہیں، یا متصل ہوگا یا منقطع، آگے پتہ ہی نہیں چلے گا کہ اس کو متصل... یہ متصل ہے یا منقطع ہے، تو لہٰذا اس لیے اس الف لام کو کس معنی پر محمول کیا گیا؟ استغراق کے معنی پر اور اب مستثنیٰ صحیح ہو گیا۔ کہ پہلے یہ ان میں داخل تھے، پھر ان کو کیا کر دیا گیا اس سے؟ نکال دیا، معلوم ہوا یہ مستثنیٰ متصل ہے۔
بھئی کیوں؟ اگر اس کو الف لام استغراقی نہ بنائیں، میں نے ابھی آپ کو بتایا، اگر "الإنسان" میں الف لام کو استغراقی نہ بنائیں، تو مستثنیٰ متصل بھی نہیں بنتا یہاں، مستثنیٰ منقطع بھی نہیں، کیونکہ متصل کہتے کس کو ہیں؟ مستثنیٰ متصل، جو پہلے داخل تھا، پھر کیا کر دیا گیا؟ اور منقطع کسے کہتے ہیں؟ جو پہلے داخل ہی نہیں تھا، لیکن "إلا" کے بعد اس کو ذکر کر دیا گیا، تو بھئی یہاں جب الف لام استغراقی نہیں، تو پھر تعین ہی نہیں ہو سکتی کہ اسے متصل مراد لیں یا منقطع، کوئی ایک بھی کسی کی بھی تعین نہیں ہو رہی، پتہ ہی نہیں چلے گا پھر تو۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ حالانکہ پتہ تو چلنا چاہیے، یہ متصل ہے یا منقطع، جب پتہ ہی نہیں چل رہا تو کس کیا بنائیں گے اس کو؟ متصل بھئی کیوں بنا رہے ہیں؟ اس کی بھی وجہ نہیں سمجھ میں آ رہی، منقطع بنا رہے ہیں، پھر بھی... لہٰذا ایک صورت ہے، الف لام کون سا مراد لے لو؟ استغراقی، اب مستثنیٰ متصل آرام سے
ہاں، حقیقتِ انسان خسارے میں ہے، معلوم ہوا افراد نہیں خسارے میں۔ کہ 'کوئی فرد خسارے میں نہیں ہے' پھر تو یہ معنی بن جائے گا الف لام جنسی مراد، حقیقت نہیں خسارے میں، نقصان میں بھئی، سمجھ میں آیا؟ کون نقصان میں ہے؟ افراد نقصان میں ہیں بھئی، نقصان میں ہیں، خسارے میں ہیں۔
اس کے بعد ہے الف لام عہدِ خارجی۔ الف لام عہدِ خارجی وہ ہے جس کے ذریعے اشارہ افراد کی طرف ہے، لیکن تمام افراد کی طرف نہیں، بلکہ بعض کی طرف اور وہ بعض بھی متعین ہوگا۔ وہ کیا ہوں گے؟ وہ بعض بھی متعین ہوں گے۔ مثلاً میں آپ سے ذکر کرتا ہوں: "جاءني رجلٌ أمسِ" "جاءني رجلٌ أمسِ" کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا، ایک مرد آیا تھا۔ میں نے 'رجلٌ' نکرہ ذکر کیا۔
اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے پھر اس کا اکرام کیا۔ تو جب ایک دفعہ چیز ذکر ہو جائے تو متعین ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ چیز کا ذکر آیا، اب آپ کو پتہ چل گیا یا نہیں؟ دیکھیے: "جاءني رجلٌ أمسِ" گزشتہ کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا "فأكرمتُ الرجلَ" تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ الرجل پر میں الف لام لایا اور الف لام کے ذریعے اس متعین رجل کی طرف اشارہ کر دیا جس کا ابھی ذکر ہوا تھا۔
ترجمہ کیا ہوگا؟ "فأكرمتُ الرجلَ" تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ الرجل کا کیا ترجمہ کر رہا ہوں؟ 'وہ آدمی' یا 'اس آدمی'۔ اور آپ بھی سمجھ گئے، کون سا آدمی مراد ہے؟ جس کا ابھی میں نے ذکر کیا۔ آپ نے اس کو دیکھا نہیں، آپ کی ملاقات نہیں ہوئی، لیکن ابھی میں نے ذکر کر دیا یا نہیں؟ جب میں نے کہہ دیا: میرے پاس کل ایک آدمی آیا تھا، پھر میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ آپ نے آدمی کو تو نہیں دیکھا، لیکن یہ جو میں نے کہا نا 'اس آدمی'، آپ میرا اشارہ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے؟ کون سا آدمی مراد ہے؟ جس کا ابھی، جس کی میں نے ابھی بات کی، جس کا ابھی ذکر کیا تھا میں نے۔ تو دیکھو بغیر دیکھے بھی چیز متعین ہو جاتی ہے جب ایک دفعہ اس کا ذکر ہو جائے بھئی۔
ورنہ اگر یہ پیچھے "جاءني رجلٌ أمسِ" اس جملے کو ہٹا دیں، اب میں آپ سے سو دفعہ بھی آپ کو کہوں: "فأكرمتُ الرجلَ" میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، آپ کو نہیں پتہ چلے گا یہ کس آدمی کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن جب ایک دفعہ پیچھے ذکر آ جائے: "جاءني رجلٌ أمسِ" کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا، "فأكرمتُ الرجلَ" میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، تو دیکھا آپ بھی سمجھ گئے۔ معلوم ہوا یہ اس آدمی کی طرف اشارہ ہو رہا ہے جس کا بیچ میں ذکر کیا تھا متکلم نے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا ایک دفعہ چیز جب ذکر ہو جائے چاہے بے شک نہ دیکھی ہو لیکن کیا ہو جاتی ہے؟ متعین ہو جاتی ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو پہلے "جاءني رجلٌ" میں نکرہ لایا کیونکہ آپ اس کو جانتے نہیں، تو نکرہ، ایک آدمی آیا تھا میرے پاس۔ پھر آگے میں نے، اب ایک دفعہ ہو گیا ذکر تو متعین ہوا، اب میں اسی کے بارے میں بات کروں گا تو الف لام کے ساتھ اشارہ کر سکتا ہوں اس کی طرف "فأكرمتُ الرجلَ" تو میں نے اس آدمی کا اکرام... تو الرجل پر جو الف لام آیا، اس کے ذریعے جنسِ رجل کی طرف اشارہ ہے؟ نہیں، جنس کا اکرام نہیں ہو سکتا، کس کا اکرام ہو سکتا ہے؟ افراد کا، معلوم ہوا افراد مراد ہیں۔ اچھا، افراد رجل سے تمام دنیا کے رجل مراد ہوں؟ نہیں، کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی آدمی کیا کر لے، تمام دنیا کے مردوں کا کیا کر لے؟ اکرام کر لے۔
اچھا، پھر بعض متعین مراد ہوں گے، ہاں اب ترجمہ ٹھیک بنتا ہے کہ وہ متعین فرد جس کا ابھی ذکر ہوا تھا، وہ مراد ہے۔ میں 'بعض' کا لفظ ساتھ ملاتا ہوں، بعض متعین مراد ہوں گے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ ایک بھی ہو سکتا ہے، دو بھی ہو سکتے ہیں، تین یا اس سے زیادہ بھی۔ الرجل کا کیا معنی؟ وہ ایک آدمی۔ الرجلانِ کا کیا معنی؟ وہ دو آدمی۔ الرجال کا کیا معنی؟ وہ کئی آدمی جتنے بھی ہیں۔ تو اس الف لام کے لیے مفرد پہ داخل ہوگا تو ایک کی طرف اشارہ ہوگا، تثنیہ پہ داخل ہوگا تو دو کی طرف اشارہ ہوگا، جمع پر داخل ہوگا تو کئی کی طرف اشارہ ہوگا، کئی افراد کی طرف۔ تو اسی لیے میں بعض کا لفظ لا رہا ہوں۔ الف لام... تو یہ الف لام عہدِ خارجی ہے، کیا ہے؟ الف لام عہدِ خارجی وہ ہے جس کے ذریعے بعض متعین افراد کی طرف اشارہ کیا جائے۔ دیکھو یہ رجل متعین تھا یا نہیں جس کی طرف میں نے اشارہ کیا؟ ایک دفعہ جب ذکر کر دیا تھا تو وہ متعین ہو گیا تھا، اسی لیے آپ بھی میرا اشارہ سمجھ گئے کہ اس آدمی کی طرف اشارہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ الف لام عہدِ خارجی ہے۔
اور چوتھی قسم ہے: الف لام عہدِ ذہنی۔ الف لام عہدِ ذہنی، الف لام عہدِ ذہنی یہ ہے کہ آپ ذہن میں ایک جنس کے افراد، کسی فرد کا تصور کر لیتے ہیں۔ یہ یوں کہیں، آپ ذہن میں کسی جنس کا تصور کرتے ہیں اور جنس کا تصور بغیر افراد کے تو نہیں ہوتا۔ بھئی آپ ذرا ذہن میں حیوانِ ناطق کا تصور کریں، یہ انسان کی جنس ہے نا، حقیقت ہے؟ جی۔ حیوانِ ناطق کا تصور کریں، کر لیا؟ جیسے ہی حیوانِ ناطق کا تصور کیا، اکیلا حیوانِ ناطق کا تصور ہوا یا ایک فرد آ گیا آپ کے ذہن میں اس کا؟ ایک فرد آ گیا، تو جنس کا جنس کا تصور ہمیشہ کس کے ضمن میں ہوتا ہے؟ فرد کے ذہن...، تو اس کا ایک فرد ذہن میں آ جاتا ہے بھئی۔
میں نے آپ سے کہا: گدھے کی حقیقت ہے حیوانِ ناہق، حیوانِ ناہق۔ میں نے کہا ذرا اس حیوانِ ناہق اس جنس کا ذرا ذہن میں تصور کرو، تصور کر لیا؟ دیکھو اکیلا حیوانِ ناہق جنس کا تصور اکیلا نہیں بلکہ گدھے کا ایک فرد آپ کے ذہن میں آ گیا، اس ایک فرد کا آپ کے ذہن میں تصور آ گیا۔ اسی طرح اور دیکھ لیجیے، گھوڑے کی حقیقت ہے حیوانِ صاہل بھئی، صاہل، ہنہنانے والا حیوان۔ اب ذرا حیوانِ صاہل اس حقیقت کا ذہن میں ذرا تصور کرو۔ آپ جیسے ہی اس حقیقت کا تصور کریں گے، ذہن میں لائیں گے حیوانِ صاہل، اکیلی نہیں آئے گی یہ حقیقت، ایک فرد کے ضمن میں آئے گی یعنی ایک فرد آپ کے ذہن میں گھوڑے کا آ جائے گا کہ یہ ہے جس کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ صاہل ہے۔ حیوانِ ناطق کا تصور کریں گے، ایک انسان کا تصور، کوئی ایک انسان ذہن میں آ جائے گا کہ یہ ہے حیوانِ ناطق بھئی۔ تو جنس کا اکیلا تصور نہیں ہوتا بلکہ کس کے ضمن میں تصور ہوتا ہے؟ فرد کے ضمن میں بھئی، جب جنس کا تصور کریں گے فرد ذہن میں آ جائے گا۔
تو الف لام عہدِ ذہنی کی بات کر رہا ہوں، جس کے ذریعے اشارہ افراد کی طرف، بعض افراد کی طرف ہوتا ہے لیکن وہ افراد غیر متعین ہوتے ہیں، کیا ہوتے ہیں؟ افراد غیر متعین ہوتے ہیں۔ جیسے اس کی بڑی پیاری مثال بھئی، دیکھیے قرآن میں، قرآن میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے جو بھئی تھے، وہ اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ابا جان! آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتماد اور بھروسہ نہیں کرتے، آج ہم جنگل میں شکار کھیلنے جا رہے ہیں، آپ اس کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، یہ بھی وہاں کھیل کود لے گا، کھا پی لے گا۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام جو ہیں، وہ اوّلاً تو تیار نہ ہوئے لیکن جب انہوں نے بڑا اعتماد دلایا تو ان کے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیج دیا۔
اچھا، تو جب وہ آئے اور آ کر انہوں نے کہا کہ اس کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، تو حضرت یعقوب علیہ السلام تیار نہ ہوئے۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام فرمانے لگے: "وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ" مجھے خوف ہے کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔ تو دیکھیے یہاں پر "الذِّئْبُ" آیا، "الذِّئْبُ"، 'ذئبٌ' کہتے ہیں بھیڑیے کو اور اس پر الف لام آ رہا ہے بھئی اس کے، یہاں آیت کے اندر، "الذِّئْبُ"۔ اب آپ مجھے بتائیے، کیا "الذِّئْبُ" پر جو الف لام آیا، یہ کون سا ہے؟ اسمی ہے یا حرفی ہے؟ حرفی ہے، اسمی نہیں کیونکہ 'ذئبٌ' یہ اسمِ فاعل، اسمِ مفعول کا صیغہ تو نہیں، تو یہ الف لام حرفی ہے۔ اچھا، اب الف لام حرفی کے ذریعے تو کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، تو کیا یہاں جنس کی طرف اشارہ ہے؟ جنس کی طرف اشارہ نہیں، حضرت یعقوب علیہ السلام یہ نہیں فرما رہے کہ مجھے خوف ہے کہ اس کو کھا جائے گا، کیا؟ "الذِّئْبُ" جنسِ بھیڑیا، بھیڑیے کی جو جنس ہے اور حقیقت ہے وہ اس کو کھا جائے گی! کیونکہ حقیقت کسی چیز کی، وہ کسی کو نہیں کھاتی بلکہ اس کے افراد کھاتے ہیں۔ بھیڑیے کی حقیقت نہیں کسی کو کھاتی بلکہ بھیڑیے کے جو افراد خارج میں پائے جاتے ہیں دنیا کے اندر، وہ کھاتے ہیں۔ تو لہٰذا معلوم ہوا الف لام جنسی یہاں مراد نہیں۔ اچھا، پھر معلوم ہوا افراد مراد ہیں، جنس مراد نہیں، تو پھر تمام افراد بھی مراد لے سکتے ہیں یا نہیں؟ الف لام استغراقی ہو جائے، تمام افراد بھی مراد نہیں لے سکتے کیونکہ پھر معنی ہوگا کہ مجھے خوف ہے کہ اس کو تمام دنیا کے بھیڑیے کھا جائیں گے! حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ تمام دنیا کے بھیڑیے اکٹھے ہو جائیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو لہٰذا معلوم ہوا الف لام استغراقی بھی نہیں۔ اچھا، پھر الف لام عہدِ خارجی بنا لیتے ہیں، الف لام عہدِ خارجی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ خارج میں کسی متعین فرد یا افراد کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ تو اس صورت میں 'الذئب' کا معنی ہوگا: 'وہ بھیڑیا'، ایک متعین بھیڑیے کی طرف اشارہ ہو جائے گا۔ خارج میں متعین ہے نا، تو حضرت یعقوب... تو پھر ترجمہ یہ ہوگا، حضرت یعقوب علیہ السلام گویا یوں فرما رہے ہیں: مجھے خوف ہے کہ اس کو وہ والا بھیڑیا کھا جائے گا! کسی متعین بھیڑیے کی طرف اشارہ، حالانکہ کوئی بھیڑیا وہاں متعین تھا؟ نہیں، کوئی بھیڑیا متعین... معلوم ہوا یہ الف لام عہدِ...، آخری قسم الف لام عہدِ ذہنی رہ گئی، معلوم ہوا یہاں الف لام عہدِ ذہنی مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام نے ذہن میں جنسِ بھیڑیے کا تصور کیا، کس کا؟ اور جنسِ بھیڑیا کس کے ساتھ آیا؟ اس کا ساتھ فرد بھی ذہن میں آ گیا اور اس فرد کی طرف اشارہ کر دیا۔ اس فرد کی طرف، تو خارج...، الذئب سے مراد خارج میں کوئی متعین بھیڑیا نہیں بلکہ ذہن میں وہ جو ایک بھیڑیے کا کوئی ایک فرد آ گیا، اس کی طرف اشارہ کر دیا کہ مجھے خوف ہے اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔
اور یاد رکھیے، یہ جو الف لام عہدِ ذہنی جس لفظ پر داخل ہوتا ہے، لفظوں کے اعتبار سے وہ معرفہ بن جاتا ہے لیکن معنی کے اعتبار سے وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ 'الذئب' لفظوں میں یہ معرفہ بن گیا کیونکہ کون سا الف لام آیا؟ الف لام حرفی، اور الف لام جس حرف پر داخل ہو اس کو کیا بنا دیتا ہے؟ معرفہ، تو 'الذئب' کا لفظ کیا ہے؟ لفظوں کے اعتبار سے معرفہ لیکن معنی کے اعتبار سے ابھی بھی نکرہ ہے، یعنی 'ذئبٌ' کا کیا ترجمہ آپ کرتے ہیں؟ کوئی بھیڑیا، کوئی ایک بھیڑیا۔ اور 'الذئب' کا بھی وہی ترجمہ ہے: کوئی بھیڑیا۔ چنانچہ اسی لیے ترجمہ کیا کریں گے؟ "وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ" مجھے خوف ہے کہ ان کو، اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا، دیکھا؟ سمجھ میں آ گئی بات؟
خلاصۂ کلام یہ کہ الف لام دو قسم پر ہے: ایک الف لام اسمی، ایک الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہو اور یہ دراصل اسمِ موصول ہوتا ہے بمعنی 'الذی' کے بھئی۔ اور دوسرا الف لام حرفی ہے، الف لام حرفی کے ذریعے کسی اسم کو معرفہ بنایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوگا، یہ سب سے ضروری جملہ یاد رکھنا کہ الف لام حرفی کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ پھر اشارہ یا تو جنس کی طرف ہوگا یا کس کی طرف؟ افراد کی طرف۔ اگر جنس کی طرف اشارہ ہوا تو یہ الف لام جنسی ہے، اگر افراد کی طرف اشارہ ہے پھر دیکھیں غور کریں کہ تمام افراد کی طرف اشارہ ہے یا بعض افراد کی طرف اشارہ ہے۔ اگر تمام افراد کی طرف اشارہ ہو تو یہ الف لام استغراقی ہے اور اگر بعض افراد کی طرف اشارہ ہو پھر غور کریں کہ وہ بعض افراد خارج میں متعین ہیں یا متعین نہیں؟ اگر وہ بعض افراد خارج میں متعین ہیں تو وہ کیا ہے الف لام؟ الف لام عہدِ خارجی، اور اگر وہ بعض افراد خارج میں متعین نہیں تو وہ الف لام عہدِ ذہنی ہے بھئی۔ تفصیل یاد رہے گی؟ ان شاء اللہ۔ کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہ آئی ہو؟ حل ہو گیا؟ مستثنیٰ متصل، منقطع کا پتہ چل گیا؟ ہاں، اب صرف حمار پہ نظر نہ کرنا کہ حمار لفظ آئے گا تو منقطع بنائیں گے ورنہ نہیں بنانا، نہیں۔ خود دیکھو، پہلے داخل تھا یا داخل نہیں؟ جہاں طے نہیں ہو سکتا کہ داخل تھا یا داخل نہیں تھا، وہاں یہ بھی نہیں طے ہو سکتا کہ متصل ہے یا منقطع ہے۔ پہلے طے ہوگا کہ یہ داخل تھا یا داخل نہیں، پھر آگے طے ہوگا کہ یہ متصل ہے یا مستثنیٰ منقطع ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔