Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-044

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔44 وَأَمَّا الْمَوْصُولُ فَيُؤْتَى بِهِ إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا لِلإِحْضَارِ مَعْنَاهُ كَقَوْلِكَ الَّذِي كَانَ مَعَنَا أَمْسِ مُسَافِرٌ إِذَا لَمْ تَكُنْ تَعْرِفُ اسْمَهُ، أَمَّا إِذَا لَمْ يَتَعَيَّنْ طَرِيقًا لِذَلِكَ فَيَكُونُ لِأَغْرَاضٍ أُخْرَى. تعریف اور تنکیر کا باب شروع کیا تھا ہم نے۔ کس مقام پر معرفہ کو استعمال کرنا ہے اور کس مقام پر نکرہ کو استعمال کرنا ہے؟ سب سے پہلے انہوں نے معرفہ کے مقامات بتانا شروع کیے کہ کس کس موقع پر معرفہ کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں۔ اور پھر معرفہ لانے کی کئی صورتیں ہیں، ضمیر کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے، علم کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے، اسم اشارہ، اسم موصول وغیرہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو ہر ایک کے الگ الگ نکات بیان کرتے جا رہے ہیں۔ آج ہم اسم موصول کے بارے میں پڑھیں گے کہ کبھی کبھار مسند یا مسند الیہ یا ان کے متعلقات کو اسم موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے، تو اسم موصول کی صورت میں لانے کے کیا کیا نکات ہوتے ہیں، کس وجہ سے لایا جاتا ہے اس طرح؟ تو آج وہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَأَمَّا الْمَوْصُولُ فَيُؤْتَى بِهِ إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا لِلإِحْضَارِ مَعْنَاهُ اور باقی اسم موصول جو ہے فَيُؤْتَى بِهِ تو اس کو لایا جاتا ہے إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا جب وہ متعین ہو جائے بطور ایک طریقے کے لِلإِحْضَارِ مَعْنَاهُ اس مسند الیہ کے معنی کو حاضر کرنے کے لیے یعنی مخاطب کے ذہن میں۔ بھئی! سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیے کہ یہ اسم موصول جو ہے الَّذِي، الَّتِي، الَّذِينَ وغیرہ، یہ اسم موصول اس کے لیے ہمیشہ صلہ چاہیے۔ کیا چاہیے؟ صلہ۔ اور صلہ جملہ ہوتا ہے۔ تو اسم موصول کو ترکیب میں آپ اس کو جملے کے اندر مبتدا کے طور پر بھی لا سکتے ہیں، خبر کے طور پر بھی لا سکتے ہیں، خبر کے طور پر بھی لا سکتے ہیں، فاعل کے طور پر بھی لا سکتے ہیں، مفعول وغیرہ جس طرح بھی لے کر آئیں، لیکن جب بھی لانا ہے موصول کو اکیلے نہیں لانا، اس کے ساتھ صلہ ضرور چاہیے۔ کیا ضرور چاہیے؟ صلہ ضرور چاہیے۔ اسم موصول اپنے صلے سے ملے گا تو اس کا معنی پورا ہوگا اور پھر چاہے اس کو مبتدا بنائیں، چاہے خبر بنائیں، چاہے فاعل بنائیں، چاہے مفعول بنائیں، چاہے موصوف بنائیں، چاہے صفت بنائیں، جو بھی بنانا ہے لیکن پہلے کیا کرنا پڑے گا اس کے لیے؟ اس کے ساتھ صلہ ہونا چاہیے، بغیر صلے کے اس کا معنی پورا نہیں۔ مثلاً دیکھیے الَّذِي، الَّذِي کا معنی ہے وہ جو، وہ جو يا یوں کہے وہ جو کہ، اب دیکھیے کچھ پتہ چلا کس کی بات ہو رہی ہے؟ وہ جو کہ، ہاں آگے ایک جملہ چاہیے جس سے اس کا معنی پورا ہوگا۔ وہ جو کہ کل آپ کو ملا تھا، اب آپ کو بات سمجھ میں آگئی کس کی بات ہو رہی ہے۔ آگے پھر خبر آجائے گی، وہ عالم آدمی ہے۔ وہ جو کل آپ کو ملا تھا وہ عالم آدمی ہے، اب دیکھیے بات پوری ہو گئی۔ اور اگر صرف وہ جو کہ، یہ اسم موصول ہے، صرف اس کو ذکر کریں تو بات پوری نہیں ہوتی۔ تو اسم موصول میں دراصل ابہام ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ ابہام، اور اتنا زیادہ ابہام ہوتا ہے کہ بغیر جملے کے اس کا ابہام دور ہی نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے اس کا صلہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے، پھر وہ جملہ فعلیہ بھی ہو سکتا ہے اور جملہ اسمیہ بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو موصول کے لیے ہمیشہ صلہ چاہیے۔ تو اب ذکر یہ کر رہے ہیں کہ اسم موصول کو لایا جائے گا جب وہ بطور ایک طریقے کے متعین ہو اس مسند الیہ وغیرہ کے معنی کو سامع کے ذہن میں حاضر کرنے کے لیے۔ ایک مسند الیہ ہے، آپ اس کو ذکر کرنا چاہتے ہیں، اس کے معنی کو سننے والے کے ذہن میں حاضر کرنا چاہتے ہیں اور آپ کو اس صلے کے علاوہ اور کسی چیز کا پتہ ہی نہیں۔ آپ کو صلے کے علاوہ، بھئی یعنی صلہ جو جملہ ہے اس میں جو بات ذکر ہے اس کے علاوہ آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں، تو اب جب اور نہ اس کے نام کا پتہ، نہ اور اوصاف وغیرہ کا پتہ، تو اب اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے اس کو ذکر کرنے کا اور سامع کے ذہن میں حاضر کرنے کا، تو جب اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے تو اسم موصول ہی متعین ہوا، اسی کی صورت میں اس کو لانا پڑے گا۔ مثلاً دیکھیے، آپ کل میرے ساتھ تھے اور ایک اجنبی شخص بھی ہمارے ساتھ تھا بھئی، ایک اجنبی شخص۔ اب میں اس کی بات آج آپ سے کرنا چاہتا ہوں، آج آپ کو اس کے بارے میں کوئی بات بتلانا چاہتا ہوں، تو آپ کیسے بتلائیں گے؟ مثلاً آپ بتانا چاہتے ہیں مجھے، تو آپ مجھے کیسے بتائیں گے؟ وہ شخص جو کل ہمارے ساتھ تھا، ہاں دیکھا! وہ شخص جو کل ہمارے ساتھ تھا، کیونکہ نام کا پتہ نہیں۔ وہ کہیں گے وہ، وہ آدمی، مجھے تو نہیں پتہ چلا کون سا آدمی، وہ آدمی تو ہر ایک ہو سکتا ہے، لیکن جب آپ نے کہا کل ہمارے ساتھ تھا، اب بات سمجھ میں مجھے آگئی کہ معلوم ہوا کس آدمی کی بات ہو رہی ہے جو کل ہمارے ساتھ تھا، تو دیکھو یہاں اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے اس کو ذہن میں حاضر کرنے کا کہ سننے والے کے ذہن میں حاضر ہو جائے اور اس کو پتہ لگ جائے کہ کس کی بات ہو رہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا میں اور آپ تھے کل کہیں جا رہے تھے، ہمارے ساتھ ایک اجنبی شخص بھی تھا اور اب میں اس کے آپ سے اس کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، تو آپ اب صلے کے علاوہ اور کچھ اس کے بارے میں جانتے ہی نہیں بھئی، نہ اس کے نام کا پتہ، نہ اوصاف کا پتہ، نہ کوئی اور تفصیلات کا علم ہے، اب اس کو آپ کے ذہن میں حاضر کرنا ہے تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اسم موصول لاؤں اور "وہ جو کل ہمارے ساتھ تھا" یہ اس کو صلے کی صورت میں لے کر آؤں۔ تو یہاں اب طریقہ اور کوئی ہے ہی نہیں۔ جب اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے تو پھر لازمی بات ہے کس صورت میں اس کو ذکر کیا جائے گا؟ اسم موصول کے ساتھ اور اس کے ساتھ اس کا صلہ آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہتے ہیں: وَأَمَّا الْمَوْصُولُ فَيُؤْتَى بِهِ تو اس کو لایا جاتا ہے إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا جب وہ اسم موصول متعین ہو جائے بطور ایک طریقے کے لِلإِحْضَارِ مَعْنَاهُ اس مسند الیہ کے معنی کو حاضر کرنے کے لیے یعنی مخاطب کے ذہن میں حاضر کرنے کے لیے۔ مثلاً جو بات کر رہا ہے اس کے تو ذہن میں ہے، اس نے تو اسی کے بارے میں بات کرنی ہے، لیکن سننے والے کو بھی تو پتہ چلنا چاہیے کہ کس کے بارے میں بات ہو رہی ہے بھئی؟ تو كَقَوْلِكَ جیسے آپ کا قول: الَّذِي كَانَ مَعَنَا أَمْسِ مُسَافِرٌ الَّذِي وہ آدمی، وہ جو کہ كَانَ مَعَنَا جو ہمارے ساتھ تھا أَمْسِ گزشتہ کل مُسَافِرٌ وہ ایک مسافر ہے۔ وہ آدمی جو کل ہمارے ساتھ تھا وہ ایک مسافر ہے۔ تو دیکھیے یہاں اب آپ صرف صلہ جانتے ہیں: كَانَ مَعَنَا أَمْسِ، كَانَ مَعَنَا أَمْسِ یہ سارا ہے صلہ۔ اور ترکیب کیا ہوگی؟ الَّذِي اسم موصول، كَانَ مَعَنَا أَمْسِ یہ پورا جملہ کیا ہوا اس کے، یہ جملہ پورا اس کا صلہ ہوا۔ موصول اپنے صلے سے مل کر مبتدا اور مُسَافِرٌ اس کی خبر۔ تو اب دیکھیے یہ مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں لایا گیا، اس لیے کیونکہ یہاں پر صلے کے علاوہ اور کسی چیز کا علم ہی نہیں تھا اور سامع کے ذہن میں اس کو حاضر کرنے کا اور کوئی طریقہ ہی نہیں تھا۔ اور کوئی طریقہ ہوتا تو ہم وہ استعمال کر لیتے، لیکن اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے تو اب اسم موصول ہی متعین ہوا، اسی صورت میں اس کو ذکر کرنا پڑے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں یہ کب کہیں گے؟ إِذَا لَمْ تَكُنْ تَعْرِفُ اسْمَهُ جب آپ اس کا نام نہ جانتے ہوں۔ اسی طرح اس کے اور اوصاف وغیرہ کا بھی علم نہیں ہے، تب تو اب اسی طرح اس کو ذکر کیا جائے گا۔ أَمَّا إِذَا لَمْ يَتَعَيَّنْ طَرِيقًا لِذَلِكَ اور باقی جب اسم موصول متعین نہ ہو بطور ایک طریقے کے لِذَلِكَ اي لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ اس کے معنی کو مخاطب کے ذہن میں حاضر کرنے کے لیے۔ بھئی! پچھلا مقام جو انہوں نے ذکر کیا پہلے، پہلی سطر میں، وہ کون سا مقام تھا جہاں اسم موصول کو لے کر آئیں گے؟ وہاں اور کوئی طریقہ ہی نہیں تھا، ذکر کا طریقہ ہی کیا تھا؟ سامع کے ذہن میں حاضر کرنے کا طریقہ ہی کیا تھا؟ طریقہ ہی ایک تھا اسم موصول کی صورت میں لانے کا، اور کوئی صورت ہی نہیں تھی ممکن، تو لہٰذا اسم موصول کی صورت میں لے آئے۔ لیکن اگر کوئی اور مقام ہے، وہاں ایک چیز اور طریقے سے بھی ذکر ہو سکتی ہے، یعنی ضمیر بھی استعمال ہو سکتی ہے، اسم اشارہ بھی استعمال ہو سکتا ہے وغیرہ، لیکن پھر بھی کس کو استعمال کیا جائے؟ اسم موصول کو باقیوں کو چھوڑ کر، تو اس میں اور غرض ہوگی پھر، اور مقاصد ہوں گے، اور وہ مقاصد اب آگے بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: أَمَّا إِذَا لَمْ يَتَعَيَّنْ طَرِيقًا لِذَلِكَ اور جب اسم موصول متعین نہ ہو بطور ایک طریقے کے لِذَلِكَ اس کے لیے، کس کی طرف اشارہ ہے ذَلِكَ کے ذریعے؟ لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ کی طرف، اس کے معنی کو ذہن میں حاضر کرنے کے لیے فَيَكُونُ لِأَغْرَاضٍ أُخْرَى تو پھر اسم موصول کا لانا دوسری غرضوں کے لیے ہوگا كَالتَّعْلِيلِ جیسے کہ تعلیل ہے۔ تعلیل کا معنی ہے علت بیان کرنا، کسی بات کی وجہ بیان کرنا، اس کا سبب بیان کرنا۔ یہ بات میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ جب صرف ذات پر حکم لگایا جائے تو اس حکم کی علت کا پتہ نہیں چلتا، لیکن ذات مع الوصف پر جب حکم لگایا جائے تو وہاں اس حکم کی علت وہ وصف ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ وہ وصف۔ جیسے بھئی أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ، یہاں میں نے نقطہ بیان کیا تھا کہ أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى، أُولَٰئِكَ کے لیے پیچھے جو لوگ ذکر ہوئے متقی یعنی صحابہ جن کا ذکر آیا، متقی لوگ جو ذکر ہوئے، ان متقیوں کے لیے أُولَٰئِكَ اسم اشارہ استعمال کیا گیا۔ یہ نہیں کہا گیا هُمْ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ، هُمْ نہیں کہا گیا۔ اس لیے کیونکہ اگر هُمْ کہا جاتا تو هُمْ صرف ضمیر ہے، وہ صرف ذات پر دلالت کرتی ہے، اتنا تو پتہ چل جاتا هُمْ یہ لوگ جو ہیں عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ، یہ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ حکم کی علت کا پتہ نہیں چلتا، کیوں ہدایت پر ہیں؟ کیا وجہ ہے؟ وجہ کا پتہ نہیں چلنا تھا۔ لیکن جب اسم اشارہ ذکر کیا گیا تو اسم اشارہ میں ذات کے ساتھ ساتھ وہ اوصاف جو سارے ذکر ہوتے ہیں وہ بھی ملحوظ ہوتے ہیں۔ تو اسی لیے أُولَٰئِكَ اسم اشارہ ذکر کیا گیا کہ جو متقی ہیں اور ساتھ ساتھ جو ان کے پیچھے اوصاف ذکر ہوئے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، قیامت وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں، جو صفات ذکر ہوئی تھیں وہ ساری بھی ملحوظ ہوئیں۔ اور آگے حکم آ گیا کہ یہ لوگ جو ہیں جن کی یہ یہ صفات ہیں، یہ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں، تو حکم ذات مع الوصف پر لگا، کس پر؟ یہ جو ایمان لانے والے ہیں، متقی ہیں، نماز قائم کرنے والے ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے ہیں اور قیامت پر ایمان رکھنے والے ہیں وغیرہ، جو چیزیں ذکر ہو گئیں، ان کے بعد اب أُولَٰئِكَ کہا گیا تو ذات کے ساتھ ساتھ اوصاف بھی ملحوظ ہو گئے کہ یہ لوگ جن کی یہ یہ صفات ہیں، یہ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں، تو دیکھو حکم ان پر کیا لگایا گیا کہ یہ ہدایت پر ہیں، تو یہ اس ہدایت پر ہونے کی وجہ بھی پتہ چل گئی ساتھ ہی کہ یہ ان صفات کی وجہ سے کس پر ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے؟ ہدایت پر ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا جیسے اور آسان مثال دیکھ لیجیے بھئی، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: أَكْرَمْتُ رَجُلًا، میں نے اکرام کیا ایک آدمی کا، تو میں نے کس کا اکرام کیا؟ رَجُلًا ایک آدمی کا، اس کے بارے میں میں نے بتایا آپ کو۔ اب کیوں اکرام کیا؟ اس کا پتہ نہیں چل رہا، کیونکہ أَكْرَمْتُ رَجُلًا، یہ جو رَجُلًا مفعول ہے صرف میں نے ذات جو ہے اس کو ذکر کیا، رجل کو ذکر کیا۔ لیکن اگر اس کے ساتھ میں اس کی صفت بھی ذکر کر دوں: أَكْرَمْتُ رَجُلًا عَالِمًا، میں نے ایک عالم آدمی کا اکرام کیا، اب اکرام کی علت کا بھی پتہ چل گیا کہ اکرام کی علت دراصل اس کا عالم ہونا ہے، تو جب کسی چیز پر حکم لگایا جائے، کسی چیز کے بارے میں بات کی جائے اور صرف ذات ذکر ہو تو اس بات کی سبب اور اس کی وجہ کا پتہ نہیں چلے گا، لیکن ذات کے ساتھ ساتھ اگر وصف بھی ذکر ہو جائے تو اس حکم کی علت کیا ہوگا؟ وہی وصف ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح، اسم موصول کے ذریعے جب کسی چیز کو ذکر کیا جاتا ہے حالانکہ اور طریقہ بھی ہو سکتا تھا وہاں پر، تو کبھی کبھار یہ کس لیے ہوگا؟ تعلیل کے لیے، علت بتلانے کے لیے، وجہ بیان کرنے کے لیے۔ جیسے: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اور نیک عمل کرتے رہے كَانَتْ لَهُمْ تو ان کے لیے ہے جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ فردوس کے باغات نُزُلًا بطور مہمان نوازی کے۔ یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کے لیے فردوس کے باغات ہیں بطور مہمان نوازی کے۔ اللہ تعالی فرما رہے ہیں بھئی، اہل ایمان جو نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے فردوس کے باغات ہیں یعنی جنت الفردوس ہے بطور مہمان نوازی کے کہ اس میں ان کی مہمان نوازی کی جائے گی بھئی۔ اب دیکھیے، یہاں پر یہ بھی کہا جا سکتا تھا: إِنَّهُمْ، کیا استعمال ہو سکتی تھی؟ ضمیر بھی، إِنَّهُمْ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا، ان لوگوں کے لیے فردوس کے باغات ہیں بطور مہمان نوازی کے، لیکن ضمیر آتی تو پھر اس صورت میں صرف ذات پر یہ دلالت کرتی، ان لوگوں کے لیے فردوس کے باغات ہیں بطور مہمان نوازی کے، اب بات کا تو پتہ چل گیا کہ ان کے لیے کیا ہے؟ فردوس کے باغات ہیں، لیکن کیوں ہیں؟ ان کو کیوں دی، جنت الفردوس کیوں دی جائے گی؟ اس کی وجہ کا پتہ نہ چلتا۔ لیکن اب کس کی صورت میں ذکر کیا گیا؟ موصول، اور موصول کے لیے تو ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ، تو صلہ بھی ساتھ آیا: آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، ان کی گویا صفت ذکر ہو گئی کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں؟ ایمان بھی لائے ہیں اور نیک عمل بھی کیے ہیں، تو نیک عمل کرتے رہے ہیں، آگے پھر ان پر حکم لگایا گیا: ان لوگوں کے لیے کیا ہے؟ جنت الفردوس، تو حکم کی علت بھی پتہ چل گئی کہ ان کے لیے جنت الفردوس کیوں ہے؟ وجہ کیا ہے؟ کیوں ہے ان کے لیے جنت الفردوس؟ کیونکہ یہ ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں، تو دیکھیے ذات مع الوصف پر جب حکم لگایا گیا تو اس حکم کی علت اور وجہ اور سبب کا بھی پتہ چل گیا۔ بات بھی سب کو سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ ہاں، تو یہ معنی ہے: كَالتَّعْلِيلِ جیسے کہ تعلیل ہے یعنی علت بیان کرنا، سبب بیان کرنا، وجہ بتلانا۔ نَحْوُ مثال کے طور پر: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا، بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے فردوس کے باغات ہیں نُزُلًا بطور مہمان نوازی کے۔ وَإِخْفَاءِ الأَمْرِ عَنْ غَيْرِ الْمُخَاطَبِ اور بات کو چھپانا، معاملے کو چھپانا مخاطب کے علاوہ سے۔ مخاطب کے علاوہ سے بات کو چھپانا۔ بھئی! بعض اوقات مسند الیہ وغیرہ یا مسند کو اسم موصول کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے، مقصد کیا ہوتا ہے؟ کہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جس سے میں بات کر رہا ہوں اس کے علاوہ باقی کسی کو بات کا پتہ نہ چلے، ان سے بات چھپی رہے۔ اور آپ بھی عموماً، یہ تو آپ ہر ایک اس طرح کرتا رہتا ہے۔ مثلاً آپ نے اپنے ایک ساتھی کو کوئی کام کہا تھا، اب باقی ساتھی بھی سارے بیٹھے ہوئے ہیں، وہ آیا، جب آیا اب آپ اس سے اس بات کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں اور اس طریقے سے کہ کسی کو پتہ نہ چلے میں نے اس کو کیا کام کہا تھا، آپ اس کو یوں کہتے ہیں: "بھئی وہ جو میں نے آپ کو کام کہا تھا اس کا کیا ہوا؟" وہ کہے گا، وہ کہے گا ہو گیا یا نہیں ہوا، تو دیکھیے آپ نے کیا پوچھا؟ وہ جو میں نے آپ سے کام کہا تھا، اس کا کیا ہوا؟ بھئی سننے والوں کو پتہ چلا کس کام کے بارے میں آپ بات کر رہے ہیں؟ کسی کو بھی نہیں پتہ چلا، تو دیکھو اس میں موصول استعمال کیا۔ وہ جو کام میں نے آپ سے کہا تھا۔ وہ جو کام میں نے آپ سے کہا تھا، دیکھو اس میں موصول کی صورت میں آپ لے کر آئے، موصول اور صلہ ملایا اور کس لیے، یہ ایسا کیا آپ نے؟ کیونکہ آپ اس مخاطب، جس سے بات کر رہے ہیں، اس کو تو پتہ چل جائے گا، باقی کسی کو پتہ نہیں چلے گا، تو آپ باقی سب سے یعنی مخاطب کے علاوہ باقی سب سے بات کو چھپانا چاہتے ہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہیں: وَإِخْفَاءِ الْأَمْرِ عَنْ غَيْرِ الْمُخَاطَبِ اور معاملے کو چھپانے کے لیے مخاطب کے علاوہ سے، نَحْوُ مثال کے طور پر: وَأَخَذْتُ مَا جَادَ الْأَمِيرُ بِهِ وَقَضَيْتَ حَاجَاتِي كَمَا أَهْوَى شاعر کہتا ہے: وَأَخَذْتُ اور میں نے لے لیا مَا وہ چیز، میں نے لے لی وہ چیز جَادَ الْأَمِيرُ بِهِ جَادَ کے معنی ہیں سخاوت کرنا۔ جَادَ الْأَمِيرُ بِهِ جس کی سخاوت کی امیر نے، حاکم نے کیا کی؟ جس کی، جس چیز کی سخاوت کی، جو مجھے عطا کیا، وہ میں نے لے لی۔ وَقَضَيْتَ حَاجَاتِي اسی امیر کے سامنے کھڑا ہو کر یہ شعر کہہ رہا ہے: أَخَذْتُ وَأَخَذْتُ مَا جَادَ الْأَمِيرُ بِهِ میں نے لے لی وہ چیز جس کی امیر نے سخاوت کی وَقَضَيْتَ حَاجَاتِي اور اے امیر! آپ نے پوری کر دیں میری حاجتیں۔ كَمَا أَهْوَى هَوِيَ يَهْوَى کے معنی ہیں چاہنا، پسند کرنا۔ كَمَا أَهْوَى جیسا میں چاہتا چاہتا تھا، جیسا میں نے چاہا بھئی۔ وَقَضَيْتَ حَاجَاتِي اور آپ نے میری حاجتیں پوری کر دیں كَمَا أَهْوَى جیسا میں چاہتا ہوں یا جیسا میں نے چاہا بھئی، تو دیکھیے۔ اب امیر ہے، دربار ہے، مطلب بادشاہ کو کہتا ہے یا اس کے سامنے اشعار پڑھ رہا ہے، ان اشعار میں یہ ایک شعر بھی وہ ذکر کرتا ہے: وَأَخَذْتُ مَا جَادَ الْأَمِيرُ بِهِ اور میں نے لے لی وہ چیز جس کی امیر نے سخاوت کی، اب شاعر نے یہ طریقہ کیوں اختیار کیا؟ أَخَذْتُ میں نے لے لیا، کس کو لیا؟ وہ نہیں آگے ذکر کیا، مَا جَادَ الْأَمِيرُ بِهِ وہ جو امیر نے سخاوت کی تھی جس کی۔ وہ جس کی امیر نے سخاوت کی تھی، کیوں؟ اس میں موصول اور صلے کی صورت میں کیوں لایا یہاں پر مفعول کو؟ تاکہ اوروں سے بات کو چھپا لے، کسی کو پتہ نہ چلے کہ امیر نے یا بادشاہ نے مجھے انعام میں کیا دیا تھا بھئی۔ اگر اس کو صراحتاً ذکر کر دے گا، پھر تو سب کو پتہ چل جائے گا، تو وہ کس صورت میں لے کر آیا؟ میں نے لے لیا اس چیز کو جس کی امیر نے سخاوت کی تھی بھئی، وہ کیا چیز ہے؟ ذہنوں میں سوال پیدا ہوتا ہے، کسی کو بھی پتہ نہیں چلا بھئی، کیونکہ اس نے کس صورت میں ذکر کر دیا؟ موصول، تو صرف امیر جس سے، جس کو اشعار سنا رہا ہے، اس کو تو پتہ چل گیا کہ ہاں اس کو میں نے فلاں چیز دی تھی، تو وہ تو سمجھ گیا، لیکن باقی کسی اور کو پتہ نہیں چلا، تو دیکھو اس نے مخاطب کے علاوہ باقیوں سے بات کو چھپایا اور اس کے لیے کیا طریقہ ہے؟ اس میں موصول کی صورت میں چیز کو ذکر کیا جائے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہیں: وَأَخَذْتُ مَا جَادَ الْأَمِيرُ بِهِ وَقَضَيْتَ حَاجَاتِي كَمَا أَهْوَى اور میں نے لے لیا اس چیز کو جس کی سخاوت کی تھی امیر نے وَقَضَيْتَ حَاجَاتِي اور اے امیر! آپ نے میری حاجتوں کو پورا کر دیا كَمَا أَهْوَى جیسا میں چاہتا ہوں۔ وَالتَّنْبِيهِ عَلَى الْخَطَإِ اور اس میں موصول کو کبھی لایا جاتا ہے، اس میں غرض کیا ہوتی ہے؟ تنبیہ کرنا ہوتا ہے، متنبہ کرنا ہوتا ہے عَلَى الْخَطَإِ کس پر؟ خطا پر۔ آپ مخاطب کو اس کی غلطی پر متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ تم غلطی پر ہو اور پھر اس کا طریقہ یہی ہے کہ اس میں موصول کی صورت میں اس چیز کو ذکر کیا جائے، کیونکہ اگر اس میں موصول کے علاوہ اور صورت میں ذکر کریں گے، ٹھیک ہے بات تو ذکر ہو جائے گی، اس کو سمجھ بھی آ جائے گی، لیکن اس کی غلطی پر تنبیہ نہ ہو گی، اس کی غلطی کا ذکر وہاں نہ ہو گا، حالانکہ آپ کا مقصد صرف بات بتلانا، بات بتلانا نہیں بلکہ ساتھ ساتھ اس کی غلطی پر اسے متنبہ کرنا بھی ہے کہ تم غلطی کر رہے ہو، غلطی پر ہو۔ بھئی دیکھیے، مثال سے اس کی وضاحت ہو گی، کسی کو غلطی پر کیسے تنبیہ ہو گی اس میں موصول کے ذریعے؟ آپ بعض لوگوں کو اپنا گہرا ساتھی سمجھتے ہیں اور وہ لوگ آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، اب اس بات کو میں یوں بھی کہہ سکتا ہوں: وہ لوگ تمہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، وہ لوگ تمہیں، ان کی طرف اشارہ کر کے آپ کو کہہ دوں، وہ لوگ تمہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، بات اب بھی آپ سمجھ گئے، لیکن آپ کی غلطی پر تنبیہ اس کے اندر نہیں ہے۔ غلطی پر تنبیہ نہیں ہے، کیونکہ میں نے اس میں اشارہ یا ضمیر استعمال کر لی، وہ لوگ، یہ دیکھو، وہ لوگ تمہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، اس کے بجائے اگر میں اس میں موصول ذکر کروں، تو پھر اب آپ کی غلطی پر بھی تنبیہ ہو جائے گی بھئی، آپ غلطی کر رہے ہیں، غلطی کیا کر رہے ہیں؟ آپ ان کو اپنا گہرا دوست سمجھتے ہیں، اپنا مخلص ساتھی سمجھتے ہیں، یہ آپ غلطی کر رہے ہیں، میں اس پر بھی متنبہ کرنا چاہتا ہوں آپ کو، ایک تو یہ بات ہے کہ وہ آپ کو کیا کریں گے؟ نقصان، یہ تو بات میں نے کرنی ہے، لیکن ساتھ ساتھ آپ کی غلطی پر بھی تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ جو ان کو اپنا گہرا دوست سمجھتے ہیں، آپ کا یہ سمجھنا غلط ہے، آپ غلطی پر ہیں۔ تو اگر میں صرف یہ کہوں کہ وہ لوگ، وہ لوگ آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، بات تو آپ کو پتہ چل گئی کہ وہ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن غلطی پر تنبیہ نہ ہوئی، میں غلطی پر بھی تنبیہ کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ میں یوں کہتا ہوں: وہ جن کو آپ اپنا مخلص ساتھی سمجھتے ہیں، وہ آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اب آپ کی غلطی پر بھی تنبیہ ہو گئی، وہ جن کو آپ اپنا مخلص ساتھی سمجھتے ہیں، دیکھا! معلوم ہوا آپ کا ان کو اپنا مخلص ساتھی سمجھنا غلط ہے، آپ غلطی پر ہیں۔ بھئی فرق بھی پتہ چلا یا نہیں؟ ایک صورت کیا تھی، میں کس طرح کہتا؟ وہ لوگ آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ تو بات آپ کو پھر بھی پتہ چل جاتی، تو دیکھیے ایک صورت یہ ہے، میں آپ سے یوں کہتا: وہ لوگ آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، اس میں آپ کی غلطی پر تنبیہ نہیں تھی، بس ایک بات آپ کو بتلا دی گئی کہ وہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ لیکن سنانے والا کیا چاہتا ہے؟ اس کی غلطی پر بھی تنبیہ کرے کہ تم غلطی پر ہو، غلط کر رہے ہو، وہ یوں کہتا ہے: وہ جن کو تم اپنا گہرا دوست سمجھتے ہو، وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، اب غلطی پر بھی تنبیہ ہو گئی کہ یعنی تمہارا ان کو گہرا دوست اور گہرا ساتھی سمجھنا یہ غلط ہے بھئی۔ یہ معنی ہیں: وَالتَّنْبِيهِ عَلَى الْخَطَإِ اور جیسے کہ غلطی پر تنبیہ کرنا، نَحْوُ مثال کے طور پر: إِنَّ الَّذِينَ تُرَوْنَهُمْ إِخْوَانَكُمْ يَشْفِي غَلِيلَ صُدُورِهِمْ أَنْ تُصْرَعُوا إِنَّ الَّذِينَ بےشک وہ لوگ تُرَوْنَهُمْ یہ مجہول کا صیغہ پڑھنا یاد رکھیے بھئی، تُرَوْنَهُمْ۔ یاد رکھیے! رَأَى، رَأَى يَرَى رُؤْيَةً۔ صرف پڑھی ہے یا نہیں آپ نے؟ ابواب یاد ہیں؟ رَأَى يَرَى رُؤْيَةً، رَأَى يَرَى رُؤْيَةً کا معنی ہے دیکھنا، دیکھنا اور دیکھنا پھر دو قسم پر ہے، ایک یہ ظاہری آنکھ سے دیکھنا ہے، ایک دل کی آنکھ سے دیکھنا ہے۔ ظاہری آنکھ سے، آپ کہتے ہیں: رَأَيْتُ زَيْدًا، میں نے کس کو دیکھا؟ زید کو دیکھا، یہ ظاہری آنکھ سے دیکھ رہے ہیں آپ اس کو اور ایک ہے رؤیت، وہ ہے دل سے دیکھنا، رؤیت قلبی یعنی سمجھنا، کیا معنی اس کا؟ سمجھنا۔ رَأَيْتُ زَيْدًا عَالِمًا، میں نے زید کو عالم جانا۔ میں نے زید کو عالم جانا، یہ جاننے کے معنی میں ہے، یقین کرنے کے معنی میں ہے، اب دیکھیے یہاں آنکھوں سے دیکھنا نہیں مراد، بلکہ کیا مراد ہے؟ سمجھنا اور جاننا دل کے ساتھ، یعنی رؤیت قلبی مراد ہے، اسی لیے یہ افعال قلوب میں سے ہے اور نحو کے اندر آپ نے پڑھا اس صورت میں اس کے لیے دو مفعول چاہیے: رَأَيْتُ زَيْدًا عَالِمًا، میں نے زید کو کیا جانا؟ عالم، تو زَيْدًا مفعول اول اور عَالِمًا مفعول ثانی۔ ہاں آنکھوں سے جو دیکھنا ہو اس کے لیے ایک مفعول چاہیے: رَأَيْتُ زَيْدًا، میں نے کس کو دیکھا؟ زید کو دیکھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہی ہے جو رَأَى يَرَى رُؤْيَةً ہے، اسی، یہ کبھی ظن کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یعنی گمان کرنا، جس کا کیا معنی ہے؟ گمان اور جب یہ گمان کرنے کے معنی میں استعمال ہو تو اس کا مضارع عرب ہمیشہ مجہول استعمال کرتے ہیں۔ کس معنی میں ہو؟ گمان کرنے کے معنی میں ہو، تو اس کا مضارع کس طرح استعمال کرتے ہیں؟ مجہول، لہذا اسی لیے میں نے پڑھا: تُرَوْنَهُمْ، تُرَوْنَهُمْ، کیا معنی؟ تم ان کے بارے میں گمان کرتے ہو، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ إِنَّ الَّذِينَ تُرَوْنَهُمْ بےشک وہ لوگ جن کے بارے میں تم گمان کرتے ہو إِخْوَانَكُمْ کہ وہ تمہارے بھئی ہیں، بےشک وہ لوگ جن کے بارے میں تم یہ گمان کرتے ہو کہ وہ تمہارے بھئی ہیں، تو یہ تُرَوْنَهُمْ معروف پڑھیں گے یا مجہول پڑھیں گے؟ کیونکہ جب بھی ظن کے معنی میں آئے گا، گمان کرنے کے معنی میں آئے گا، تو یہ ہمیشہ مجہول پڑھا جائے گا اور صیغہ مجہول کا پڑھیں گے، معنی مجہول والا نہیں کریں گے، معنی وہی معروف والا ہو گا، تم سمجھتے ہو۔ ورنہ تو ہونا کیا چاہیے؟ تُرَوْنَهُمْ تم سمجھے جاتے ہو، تم، لیکن یہ ترجمہ نہیں کرنا تم سمجھے جاتے ہو، بلکہ کیا ترجمہ کریں گے؟ تم سمجھتے ہو، تم گمان کرتے ہو۔ إِنَّ الَّذِينَ تُرَوْنَهُمْ إِخْوَانَكُمْ یقیناً وہ جن کو تم اپنے بھئی گمان کرتے ہو، بھئی خیال کرتے ہو يَشْفِي غَلِيلَ صُدُورِهِمْ أَنْ تُصْرَعُوا، شَفَى يَشْفِي کے معنی شفا پانا، شفا دینا۔ غلیل، غلیل یاد رکھیے غصے کو کہتے ہیں، غَلِيلَ صُدُورِهِمْ ان کے سینوں کا جو غصہ ہے، ان کے دلوں کا جو غصہ ہے یعنی ان کے دلوں میں جو غصے کی آگ ہے۔ عربی میں کہتے ہیں: شَفَى غَلِيلَ صَدْرِهِ، شَفَى غَلِيلَ صَدْرِهِ یعنی اس نے اپنے غصے کی آگ بجھا لی، شَفَى غَلِيلَ صَدْرِهِ، ترجمہ، ترجمے پر نظر ہے؟ شَفَى اس نے اپنے سینے کے غصے کو، دل کے غصے کو شفا دے دی یعنی اس کو بجھا لیا، اس کو پورا کر لیا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہاں پر بھی کیا آیا؟ يَشْفِي غَلِيلَ صُدُورِهِمْ ان کے دلوں کی جو آگ ہے یعنی غصے کی جو آگ ہے وہ بجھتی ہے أَنْ تُصْرَعُوا کہ تم پچھاڑے جاؤ۔ صَرَعَ يَصْرَعُ کے معنی پچھاڑنا یعنی گرانا کسی کو، جیسے کشتیوں میں بھئی، پہلوان کیا کرتے ہیں؟ ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں، ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں، تو جو پہلوان دوسرے کو گرا دیتا ہے، اس کو فاتح سمجھا جاتا ہے، تو اس میں بھی کیا کیا جاتا ہے؟ دیکھو دونوں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں، گرانے کی کوشش کرتے ہیں، تو اسی لیے وہ جو کشتی جو ہے، اس کو عربی زبان میں مصارعہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مصارعہ، جس میں دیکھو دونوں ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں، تو صَرَعَ کے کیا معنی؟ گرانے کے بھئی۔ تو ترجمہ سمجھ میں آیا: يَشْفِي غَلِيلَ صُدُورِهِمْ أَنْ تُصْرَعُوا بجھتی ہے ان کے سینے کی آگ أَنْ تُصْرَعُوا اس بات پر کہ تم پچھاڑے جاؤ یعنی گرائے جاؤ، تمہارے گرائے جانے سے ان کے سینوں کی آگ بجھتی ہے اور گرائے جانے سے مراد ہے ہلاک ہو جانا، ان کے سینوں کی آگ کس چیز سے بجھتی ہے؟ تمہاری ہلاکت سے کہ تم برباد ہو جاؤ، ہلاک ہو جاؤ، اس سے ان کے سینوں کی آگ بجھتی ہے، وہ ایسے لوگ ہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ اب ترجمہ دوبارہ دیکھیے روانی سے: إِنَّ الَّذِينَ تُرَوْنَهُمْ إِخْوَانَكُمْ يَشْفِي غَلِيلَ صُدُورِهِمْ أَنْ تُصْرَعُوا یقیناً وہ لوگ جن کو تم اپنا بھئی گمان کرتے ہو، ان کے سینوں کی آگ بجھتی ہے اس بات سے کہ تم گرائے جاؤ، تم ہلاک کیے جاؤ، تم برباد کیے جاؤ۔ اب دیکھیے! إِنَّ حرف از حروف مشبہ بالفعل، الَّذِينَ یہ اسم موصول، یہ إِنَّ کا اسم بنے گا اور موصول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ، تو تُرَوْنَهُمْ إِخْوَانَكُمْ یہ صلہ آیا، موصول صلہ مل کر یہ إِنَّ کا اسم، بےشک وہ لوگ جن کو تم اپنا بھئی گمان کرتے ہو، بھئی سمجھتے ہو، آگے خبر آگئی: يَشْفِي غَلِيلَ صُدُورِهِمْ أَنْ تُصْرَعُوا، ان کے سینوں کی آگ اس بات سے بجھتی ہے کہ تم برباد ہو جاؤ۔ اب دیکھیے یہاں وہ یوں بھی کہہ سکتا تھا شاعر: بےشک وہ لوگ جو ہیں، ان کے سینوں کی آگ تمہاری بربادی سے بجھتی ہے، ان لوگوں کے سینوں کی آگ تمہاری بربادی سے بجھتی ہے، لیکن اس صورت میں غلطی پر تنبیہ نہ ہوتی، تو یہاں اب اس میں موصول آیا: الَّذِينَ تُرَوْنَهُمْ إِخْوَانَكُمْ، وہ جن کو تم اپنا بھئی سمجھتے ہو، معلوم ہوا تمہارا ان کو بھئی سمجھنا غلط ہے بھئی، تو غلطی پر تنبیہ بھی ہو گئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَتَفْخِيمِ شَأْنِ الْمَحْكُومِ بِهِ اور محکوم بہ کی شان کی قدر بڑھانے کے لیے، تفخیم کا معنی ہے، تفخیم کا معنی ہے قدر و منزلت بڑھانا، تفخیم کا معنی قدر و منزلت بڑھانا۔ شان کہتے ہیں حال کو بھئی، حال یعنی حالت۔ محکوم بہ، محکوم بہ کسے کہتے ہیں؟ محکوم بہ خبر، خبر، ایک ہوتا ہے محکوم علیہ، ایک کیا ہے؟ آپ نے پڑھا ہے یا نہیں بھئی؟ یہ تو شروع میں ذکر ہوا تھا، ایک ہے مسند، ایک ہے مسند الیہ، مسند کا دوسرا نام ہے محکوم بہ اور مسند الیہ کا دوسرا نام کیا ہے؟ محکوم علیہ بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ وَتَفْخِيمِ شَأْنِ الْمَحْكُومِ بِهِ اور محکوم بہ یعنی خبر، خبر کی حالت کی عظمت بیان کرنے کے لیے، تفخیم کا کیا معنی؟ عظمت بیان کرنا۔ وَتَفْخِيمِ شَأْنِ الْمَحْكُومِ بِهِ خبر کی حالت کی عظمت بیان کرنا، آسان لفظوں میں یوں کہیے: خبر جو ہے اس کی عظمت بیان کرنا، خبر کی عظمت بیان کرنا۔ بھئی دیکھیے! یاد رکھیے، بعض اوقات مسند الیہ یعنی جو مبتدا ہے اس کو اس میں موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے، مقصد کیا ہوتا ہے؟ تاکہ آگے آنے والی خبر کی طرف اشارہ ہو جائے کہ آگے کس قسم کی خبر آنے والی ہے۔ توَجہ ہے؟ ذرا مشکل بات ہے بھئی، بعض اوقات کیا کیا جاتا ہے؟ مسند الیہ کو کس صورت میں لایا جاتا ہے؟ مسند الیہ یعنی مبتدا، مبتدا کو کس صورت میں لایا جاتا ہے؟ اسم موصول کی صورت میں تاکہ اس کی وجہ سے آگے آنے والی خبر کی قسم کی طرف اشارہ ہو جائے کہ آگے کس قسم کی، کس نوع کی خبر آنے والی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کیا کیا جاتا ہے بعض اوقات؟ مبتدا کو کس صورت میں لاتے ہیں؟ اسم موصول کی صورت میں تاکہ تاکہ آگے آنے والی خبر کی طرف اشارہ ہو جائے، پہلے سے ہی اندازہ ہو جائے آگے کس قسم کی خبر آنے والی ہے، کس قسم کی خبر آنے والی ہے۔ مثلاً دیکھیے! قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ، إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي، یقیناً وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ بےشک وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، یہاں إِنَّ کا اسم کیا لایا گیا؟ الَّذِينَ، اسم موصول، آگے صلہ: يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي، تو إِنَّ کا اسم، وہ یعنی مسند الیہ جو ہے، اس کو کس صورت میں لایا گیا؟ اسم موصول کی صورت میں، کس لیے؟ تاکہ آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہو جائے، بھئی جب میں نے یہ کہا، میں یہ جو آیت آپ کے سامنے پڑھتا ہوں: إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي، اللہ فرما رہے ہیں: یقیناً وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں یعنی میری عبادت نہیں کرتے، میرے سامنے سر نہیں جھکاتے، آپ سمجھ گئے یا نہیں؟ آگے کس قسم کی خبر، آگے انعام کا ذکر ہو گا یا سزا کا؟ سزا کا، دیکھو آپ پہلے سے ہی سمجھ گئے، تو بعض اوقات کیا کیا جاتا ہے؟ مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہو جائے، تو یہاں بھی کہا گیا: إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي، یقیناً وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ انہ داخلین، عن قریب وہ جہنم کے اندر داخل ہوں گے داخلین ذلیل ہو کر۔ تو اس کے لیے اس میں موصول کے صورت میں جب مسند الیہ کو ذکر کیا گیا تو آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہو گیا۔ کہ معلوم ہوا آگے انعام کا ذکر نہیں بلکہ کس کا ذکر ہونے والا ہے؟ سزا کا۔ مثلاً اور صورت بنا لیں۔ میں آپ سے کہتا ہوں، وہ طلبہ جنہوں نے محنت کی ہے، آگے ابھی خبر نہیں آئی، لیکن آپ سمجھ گئے، آگے انعام کا ذکر ہوگا یا سزا کا؟ انعام کا ذکر ہوگا۔ دیکھا! آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہو گیا۔ تو اب پورا جملہ مثلاً کیا ہے؟ وہ طلبہ جنہوں نے محنت کی ہے، وہ امتحان میں کامیاب ہوں گے۔ تو شروع، پہلے ہی، آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے تاکہ ابتدائے کلام سے ہی دلالت ہو جائے انتہائے کلام پر۔ کلام کی ابتداء ہی کس پر دلالت کر دے؟ کلام کی انتہا پر کہ آگے کس قسم کی بات آنی، یعنی شروع کا جملے کا شروع کی بات آخر کے بات کے آخری حصے پر کیا کر دے؟ دلالت کر دے بھئی، دلالت کر دے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ مسند الیہ کو کس صورت میں لایا جاتا ہے؟ اسم موصول کی صورت میں۔ مقصد کیا ہوتا ہے؟ تاکہ آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہو جائے۔ نوع یعنی قسم، کہ کس قسم کی آگے خبر آنے والی ہے، اس میں انعام کا ذکر ہوگا یا سزا کا وغیرہ، اس طرح کی بھئی، جو بھی موقع محل کے مطابق ہو۔ پھر یاد رکھیے۔ دوسری چیز اب، یہیں پر اسی قسم کے مقام پر بعض اوقات جب مسند الیہ کو اسم موصول کی، توجہ ہے سبق کی طرف؟ جب مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے تو اس کے ذریعے بعض اوقات آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے، اور پھر اسی اشارے کو، اسی اشارے، یہ جو آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، اسی اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ کس چیز کا؟ خبر کی عظمت شان کا۔ اسی اشارے کو کیا کیا جاتا ہے؟ ذریعہ بنایا جاتا ہے خبر کی عظمت شان کا، کہ یہ جو خبر ہے، یہ عام، معمولی درجے کی نہیں، بڑی عظیم الشان چیز ہے یہ۔ یہ کیا ہے؟ بڑی عظیم الشان چیز ہے، عظمت والی چیز ہے۔ تو دو باتیں ہو گئیں۔ اول کیا؟ مسند الیہ کو کس صورت میں لاتے ہیں؟ اسم موصول کی صورت میں، تاکہ اس کے ذریعے کیا ہو جائے؟ آگے آنے والی خبر کی طرف اشارہ ہو جائے۔ پھر اسی، جو اشارہ کیا گیا آگے آنے والی خبر کی طرف، اسی اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے، واسطہ بنایا جاتا ہے، اور کس چیز کے، کیا بتلانے کا واسطہ بتا، بنایا جاتا ہے؟ کہ یہ خبر کیا ہے؟ عام نہیں بلکہ عظیم الشان ہے، اونچے، اونچے درجے والی ہے۔ بھئی دیکھیے، مثال سے وضاحت ہوگی جو انہوں نے کتاب میں ذکر کی۔ إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ بَنَى لَنَا بَيْتًا دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ۔ سمک، سمک کا معنی ہوتا ہے بلند کرنا، اونچا کرنا۔ إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ، بے شک وہ ذات جس نے آسمانوں کو، جس نے آسمان کو اونچا کیا۔ إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ، بے شک وہ ذات جس نے آسمان کو اونچا کیا۔ ابھی سے ہی اندازہ ہو گیا کہ آگے بھی، آگے بھی بلندی اور تعمیر کا ذکر ہوگا۔ إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ، بے شک وہ ذات جس نے آسمانوں کو اونچا کیا۔ اسی سے کیا اندازہ ہو گیا؟ جس نے آسمانوں کو اونچا کیا، جس نے آسمانوں کو اونچا بنایا، کیا اندازہ ہوا؟ آگے بھی بلندی ہی کا ذکر ہوگا، آگے بھی تعمیر ہی کا ذکر ہوگا، تخریب کا ذکر نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتا ہے شاعر: إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ، بے شک وہ ذات جس نے آسمان کو اونچا کیا۔ بَنَى لَنَا بَيْتًا، اس نے بنایا ہمارے لیے ایک ایسا گھر، اس نے تعمیر کیا ہمارے لیے ایک ایسا گھر۔ دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ۔ دعائم جمع ہے دعامة کی، اور دعامة کہتے ہیں ستون کو۔ ستون بھئی، چھت کا جو ستون ہوتا ہے، اس کو دعائم، اس کے جو ستون ہیں أَعَزُّ، زیادہ عزت والے ہیں، سب سے زیادہ عزت والے ہیں، یا یوں ترجمہ کر لیں، سب سے زیادہ مضبوط ہیں وَأَطْوَلُ، اور سب سے زیادہ لمبے ہیں۔ سب سے زیادہ لمبے ہیں۔ بھئی دیکھیے یہاں پر، بَيْتًا معرفہ ہے یا نکرہ ہے؟ یہ نکرہ آیا، اور نکرہ کے بعد میں نے آپ کو بتلایا تھا فعل آ جائے، تو وہ فعل اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ کیوں صفت بنتا ہے؟ کیونکہ وہ جو فعل ہے، وہ اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر جملہ بنے گا، اور جب جملہ بن گیا تو جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں۔ تو نکرہ کے بعد گویا نکرہ آ گیا، اور نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت۔ معلوم ہوا جملہ نکرہ کے حکم میں، جملہ کس کے حکم میں؟ تو جیسے جملہ فعلیہ نکرہ کے حکم میں ہے، اسی طرح جملہ اسمیہ بھی کس کے حکم میں؟ وہ بھی جملہ ہے، وہ بھی نکرہ ہے، تو لہٰذا نکرہ کے بعد اگر جملہ اسمیہ بھی آ جائے، وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے عموماً؟ صفت بنتا ہے، کیا بنتا ہے؟ صفت۔ یہاں پر بھی دیکھیے بھئی، بَيْتًا نکرہ آیا، آگے جملہ ہے: دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ۔ دعائم یہ مبتدا ہے، أَعَزُّ وَأَطْوَلُ معطوف، معطوف علیہ مل کر یہ کیا ہے اس کی؟ خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا، تو جملہ آ گیا بَيْتًا نکرہ کے بعد، تو نکرہ کے بعد نکرہ آیا تو یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت، اور موصوف صفت کے ترجمے کا کیا طریقہ ہے؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لائیں۔ بَنَى لَنَا بَيْتًا دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ، ایسا گھر کہ جس کے ستون سب سے زیادہ عزت والے اور سب سے، جو سب سے زیادہ لمبے ہیں بھئی۔ إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ بَنَى لَنَا بَيْتًا دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ، بے شک وہ ذات جس نے آسمان کو اونچا کیا، اس نے تعمیر کیا ہمارے لیے ایک ایسا گھر جس کے ستون سب سے زیادہ عزت والے اور سب سے زیادہ لمبے ہیں۔ یہاں سب سے پہلے کیا کیا گیا؟ إِنَّ الَّذِي، بھئی ترکیب پہ ذرا دیکھیے، إِنَّ حرف از حروف مشبہ بالفع ل، الَّذِي اس میں موصول، سَمَكَ السَّمَاءَ یہ اس کا صلہ، موصول صلہ مل کر یہ إِنَّ کا اسم، اور بَنَى لَنَا بَيْتًا دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ یہ ساری اس کی خبر۔ بے شک وہ ذات جس نے آسمان کو اونچا کیا، بَنَى لَنَا بَيْتًا دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ، اس نے بنایا ہمارے لیے ایک ایسا گھر جس کے ستون سب سے زیادہ عزت والے اور سب سے زیادہ لمبے ہیں۔ جب یہاں سب سے پہلے کیا کیا گیا؟ مسند الیہ، یعنی إِنَّ کے اسم کو کس صورت میں ذکر کیا گیا؟ اسم موصول کی صورت میں، اس کے لیے آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ کر دیا گیا۔ جب یہ کہا گیا: الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ، وہ ذات جس نے آسمان کو اونچا کیا، پتہ چل گیا آگے بھی کس چیز کا ذکر ہوگا؟ بلندی کا اور تعمیر کا ذکر ہوگا۔ تو یہ اشارہ کیا گیا آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف، پھر اسی اشارے کو ذریعہ بنا دیا گیا کس چیز کا؟ خبر کی عظمت شان بیان کرنے کا، کس چیز کا؟ خبر کی عظمت شان، خبر کیا ہے؟ بَنَى لَنَا بَيْتًا، ہمارے لیے گھر بنایا ہے اس ذات نے، معلوم ہوا یہ گھر بھی بڑا عظیم الشان ہے۔ یہ گھر بھی کیا ہے؟ بڑا عظیم الشان ہے، کیوں؟ کیونکہ اس کو بنانے والی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو بنایا بھئی۔ تو دیکھیے، گھر کی عظمت شان کی طرف اشارہ ہو گیا یا نہیں ہوگا بھئی؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ کس طرح عظمت شان؟ کہ یہ گھر کوئی معمولی گھر نہیں، اس کو بنانے والی کون سی ذات ہے؟ جس نے آسمانوں کو بلند کیا، اونچا کیا۔ معلوم ہوا یہ بڑا ہی معزز، عزت والا، سب سے زیادہ عزت والا گھر ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یاد رکھیے، یہ شعر ہے فرزدق کا، فرزدق، عرب کا بڑا مشہور اور بڑا فصیح و بلیغ شاعر گزرا ہے بھئی، فرزدق، فا، را، زا، دال اور قاف دو نقطوں والا، فرزدق بھئی، فرزدق۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ فرزدق جو ہے، یہ اس کا شعر ہے۔ بھئی یاد رکھیے، شعراء میں آپس میں مقابلے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی خرابی بیان کرتا ہے اور اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو اور اپنے خاندان کو اونچا بتاتا ہے، دوسرا مقابلے میں اس دوسرے کے مذمت بیان کرتا ہے، اپنے خاندان کی، اپنی قوم کی صفات ذکر کرتا ہے، اپنے آپ کو اعلیٰ اور بلند و برتر بیان کرتا ہے۔ تو یہ فرزدق کا شعر ہے اور یہ اس نے جریر کے مقابلے میں، جریر بھی اسی زمانے کا ایک بہت بڑا شاعر تھا بھئی، تو یہ فرزدق جو ہے، یہ جریر کے مقابلے میں یہ شعر کہہ رہا ہے، اور بھی اشعار ہیں آگے ساتھ، لیکن یہ شعر کس کا ہے؟ فرزدق کا، کس کے مقابلے میں ہے؟ جریر کے مقابلے میں، اور شاعر کیا کہتا ہے؟ بے شک وہ ذات جس نے آسمان کو اونچا کیا، اس نے ہمارے لیے ایک ایسا گھر بنایا ہے۔ مراد ہے بیت اللہ، خانہ کعبہ۔ وہ ذات جس نے آسمان کو بلند کیا اس نے ہمارے لیے بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ بنایا ہے، تو بیت سے کیا مراد ہے؟ خانہ کعبہ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرزدق اس کا بیت اللہ کیسے ہوا؟ فرزدق مسلمان، تو جریر بھی کیا ہے؟ مسلمان ہے، تو خانہ کعبہ، بیت اللہ تو سب مسلمانوں کا ہے، فرزدق کا کیسے ہوا صرف؟ وہ تو کہہ رہا ہے ہمارے لیے گھر بنایا، اس کا کیسے گھر؟ یہ تو جریر کا بھی گھر ہے، وہ بھی مسلمان ہے، اس کا بھی تعلق اس سے، جواب یہ کہ ہاں ٹھیک ہے، جریر بھی مسلمان، اس کا بھی بیت اللہ سے تعلق، لیکن فرزدق کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا زیادہ تعلق ہے بیت اللہ سے، اس لیے کہ فرزدق کا تعلق قریش خاندان سے تھا، اور آپ جانتے ہیں کہ بیت اللہ کی خدمات وغیرہ اکثر کس کے سپرد تھیں؟ قریش والوں کے، کوئی حاجیوں کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری تھی کسی کی، کوئی خانہ کعبہ کا غلاف بدلنے کی ذمہ داری تھی، وہ بنانے کی ذمہ داری تھی کسی کی، اور اسی طرح کسی کے پاس ان کی، بیت اللہ کے دروازے کی چابی وغیرہ ہے، اور یہ تمام ذمہ داریاں کس کے پاس تھیں؟ قریش، تو ان کا تعلق ذرا زیادہ تھا، اس وجہ سے فرزدق نے کیا کہا؟ ہمارا، اللہ نے ہمارے لیے ایک ایسا گھر بنایا ہے جو بڑا ہی معزز اور بڑا ہی لمبا ہے۔ تو یہ تو ایک ترجمہ ہے شعر کا، بیت سے کیا مراد ہوا؟ بیت اللہ مراد ہوا، یا ہو سکتا ہے بیت سے مراد بیت معنوی ہو، یعنی عزت کا گھر، مراد، یعنی عزت مراد ہو، کیا مراد ہو؟ یعنی اللہ نے ہمیں بڑی عزت دی ہے، کہنے کا یہ مطلب ہو، بیت اللہ نہیں مراد بلکہ بیت سے کیا مراد ہے؟ عزت کا گھر، یعنی عزت، یعنی عزت کو کس کے ساتھ تشبیہ دے دی؟ گھر کے ساتھ تشبیہ دے دی کہ یہ گھر کی طرح ایک اونچی، مضبوط اور اعلیٰ قسم کے، اعلیٰ درجے کی عزت اللہ نے ہمیں دنیا میں نصیب فرمائی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو گویا یہاں پر پھر وہی، پھر میں دہرا رہا ہوں بھئی، ذرا مشکل مقام ہے، اس لیے میں نے کئی مرتبہ تکرار کروایا، پھر سن لیں کہ بعض اوقات مسند الیہ کو کس صورت میں لایا جاتا ہے؟ اسم موصول کی صورت میں، کیا مقصد ہوتا ہے؟ تاکہ آگے آنے والی خبر کی، کی نوع کی طرف اشارہ ہو جائے، کس قسم کی آگے خبر آ رہی ہے، اور پھر اسی اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے، کس چیز کا؟ خبر کی عظمت شان بیان کرنے کا، کہ یہ عام خا، چیز نہیں بلکہ اعلیٰ اور بڑی با عظمت چیز ہے، جیسے یہاں پر یہ بل، آسمان کی بلندی کو ساتھ ذکر کیا مسند الیہ کو، اور آگے بتلا دیا کہ معلوم ہوا کہ یہ گھر جو ہمارے لیے اس ذات نے بنایا، یہ بھی کوئی معمولی گھر نہیں ہے، یہ اس ذات ہی کا بنایا ہوا ہے جس نے آسمانوں کو اونچا کیا، یا یہ ہمیں جو عزت دی ہے، یہ بھی بڑی با عظمت چیز ہے کیونکہ یہ ہمیں کس نے عطا کی ہے؟ اس ذات نے جس نے آسمانوں کو بلند کیا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے و تفخيم شأن المحكوم به، خبر کی عظمت شان بیان کرنے کے لیے۔ و التهويل تعظيما و تحقيرا۔ تہویل کا معنی خوفزدہ کرنا، کسی کو ڈرانا بھئی۔ و التهويل، اور ڈرانے کے لیے تعظيما، تعظیم کے طور پر، و تحقيرا، اور تحقیر کے طور پر۔ بھئی دیکھیے، بعض اوقات ایک چیز کو اسم موصول کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے اور اسم موصول کی صورت میں اس چیز کے اندر ابہام رہ، ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ ابھی میں نے مثال ذکر کی، اپ کا ایک ساتھی آیا اور آپ نے اس کو ایک کام کے بارے میں کہا تھا، اب آپ اس سے اس کام کے بارے میں پوچھتے ہیں اور باقی لوگ بیٹھے ہیں ان سے بات کو چھپانا چاہتے ہیں، تو آپ کیا کہیں گے؟ وہ جو کام میں نے آپ سے کہا تھا اس کا کیا ہوا؟ تو دیکھیے وہ باقیوں کو نہیں پتہ چلا، کس کام کے بارے میں آپ نے کہا تھا؟ ہاں سننے والے کو پتہ چل گیا، تو اس، تو اسم موصول میں کیا ہوتا ہے؟ ابہام ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ ابہام، اس کے لیے بات مبہم ہو جاتی ہے بھئی، مبہم ہو جاتی ہے۔ مبہم، اور آپ جانتے ہیں کہ کسی چیز کے اندر جتنا ابہام ہو، اتنی ہی اس دلوں میں اس کی عظمت ہوتی ہے۔ کسی چیز کے بارے میں دل میں جتنا ابہام ہو، اتنی ہی دل میں اس کی عظمت ہوتی ہے، عظمت ہوتی ہے۔ آپ بھی غور کر لیں اس چیز پر، آپ کو بھی پتہ چلے گا واضح طور پر بھئی کہ جتنی چیز مبہم ہوتی ہے، اس کے، اسی قدر دل میں اس کی عظمت ہوتی ہے، اور جس چیز کے بارے میں پورے طور پر پتہ ہو، اس کی دل میں وہ عظمت نہیں رہتی بھئی، اس کی دل میں عظمت نہیں رہتی۔ بھئی کسی چیز میں جتنا ابہام ہو، اس کی اتنی ہی اس کے دل میں عظمت ہوتی ہے، عظمت ہوتی ہے، اور آپ بھی اس طرح کرتے ہیں، بعض اوقات اب، عظمت بڑھانے کے لیے ایک چیز کو مبہم رکھتے ہیں۔ آپ بھی کیا کرتے ہیں؟ عظمت بڑھانے کے لیے ایک چیز کو مبہم رکھتے ہیں۔ مثلاً آپ آئے، کمرے میں کافی ساتھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ آ کر ساتھیوں سے کہتے ہیں بھئی آج تو عجیب ہی واقعہ پیش آیا، عجیب ہی واقعہ پیش آیا۔ اب ساتھیوں نے پوچھا ہاں بھئی، کیا ہوا؟ آپ نے کہا بس یہ نہ پوچھو کیا ہوا، نہیں بیان کیا آپ نے، مبہم رکھا بات کو، کیوں مبہم رکھا؟ تاکہ ان کے دلوں میں وہ بھی سوچ رہے ہوں کہ پتہ نہیں کتنی بڑی بات ہو گئی ہے، یہ بیان ہی نہیں کر رہا، تو دیکھو، ہاں جب آپ ان کو وہ بات بتا دیں گے، وہ کہیں گے اوہ! اتنی سی بات تھی؟ تو جب تک چیز میں ابہام تھا، کیا تھی؟ دل میں عظمت تھی کہ کوئی بڑی بات ہوئی ہے کہ یہ بیان ہی نہیں کر رہا بھئی، اور جب بیان کر دی، اب جتنی بھی بڑی ہو، وہ کہے گا یہ تو کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں تھی بہرحال۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جتنا چیز میں ابہام ہوتا ہے، اتنی ہی دل میں اس کی عظمت ہوتی ہے۔ تو بعض اوقات بھئی، بعض اوقات ایک چیز کو مبہم رکھا جاتا ہے اس کے عظمت دل میں بٹھانے کے لیے، اس کے عظمت دل میں بٹھانے کے لیے، اس سے ڈرانے کے لیے، اور بعض اوقات ایک چیز کو مبہم رکھا جاتا ہے بطور تحقیر کے، تو بعض اوقات ابہام کس لیے رکھا جاتا ہے؟ بطور تعظیم کے ڈرانا چاہتے ہیں، تعظیم کے طور پر یا ڈرانا ہے بطور تحقیر کے کہ بڑی ہی ادنیٰ اور گھٹیا چیز ہے، اس ذکر اس کا مناسب ہی نہیں ہے، اس لیے میں نے بھی ذکر نہیں کیا، وہ ایک چیز کو آپ مبہم رکھتے ہیں۔ یہ معنی ہے و التهويل تعظيما و تحقيرا، اور ڈرانے کے لیے بطور تعظیم کے اور و تحقيرا اور بطور تحقیر۔ تو بعض اوقات ڈرانا ہوگا بطور تعظیم کے، اس لیے چیز کو مبہم رکھا گیا، اور بعض مرتبہ ڈرانا ہوگا بطور تحقیر کے، اس لیے چیز کو مبہم رکھا گیا کہ وہ ذکر کے قابل ہی نہیں ہے، اتنی پست ہے، اتنی گھٹیا چیز ہے کہ میں ذکر اس کو نہیں کرنا چاہتا، تو آپ اس کو اسمِ موصول کی صورت میں لاتے ہیں۔ جیسے مثلاً دیکھیے، بھئی پہلی مثال کیا ہے؟ بطورِ تعظیم کے ڈرانے کی مثال ہے: فَغَشِيَهُم مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ، پس ڈھانپ لیا ان کو مِّنَ الْيَمِّ، یم کہتے ہیں سمندر کو، سمندر کو۔ پس ڈھانپ لیا ان کو سمندر میں سے مَا غَشِيَهُمْ اس نے جس نے ان کو ڈھانپ لیا۔ جس نے ان کو ڈھانپ۔ بھئی ذرا ترکیب پر نظر رکھنا بھئی! فَغَشِيَهُمْ، غَشِيَ فعل، هُمْ ضمیر مفعول کی اور مَا اسمِ موصول، غَشِيَهُمْ اس کا صلہ۔ موصول صلہ مل کر یہ جو مَا غَشِيَهُمْ ہے، یہ فاعل ہے پہلے غَشِيَ کا۔ ڈھانپ لیا ان کو، کس چیز نے ڈھانپ لیا؟ مَا غَشِيَهُمْ وہ جس نے ان کو ڈھانپ لیا بھئی! وہ جس نے ان کو ڈھانپ۔ اللہ تعالیٰ ذکر فرما رہے ہیں وہ جو فرعون جو پیچھا کر رہا تھا کس کا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا، ان کو سمندر وہ سمندر میں راستے بنے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم اس میں سے نکل گئے اور یہ فرعون جب اندر داخل ہوا لشکر سمیت جب بیچ میں پہنچا تو پھر سمندر آپس میں مل گیا، ان کو ڈھانپ لیا سمندر میں، وہ غرق ہو گئے۔ اس کو ذکر فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ فَغَشِيَهُمْ ڈھانپ لیا ان کو مَا غَشِيَهُمْ اس نے جس نے ان کو ڈھانپ لیا۔ مِّنَ الْيَمِّ یہ بیان ہے مَا کا، بھئی کس چیز نے ان کو ڈھانپا؟ مِّنَ الْيَمِّ یعنی کہ سمندر نے، کس نے؟ سمندر نے۔ اب یہاں دیکھیے بھئی، غَشِيَ کا فاعل مَا غَشِيَهُمْ، کیا ہے؟ اسمِ موصول صلہ، موصول صلہ کی صورت میں اس کو ذکر کیا گیا، کس لیے موصول صلہ کی صورت میں؟ مبہم رکھنے کے لیے، مبہم رکھنے کے لیے بطورِ تعظیم کے۔ یعنی یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے اوپر مثلاً 50 فٹ پانی آیا سمندر کا یا 100 فٹ آیا یا 200 فٹ آیا یا 500 فٹ ان کے اوپر پانی آ گیا، نہیں نہیں۔ اگر مقدار وغیرہ جو چیز بیان کر دی جاتی پھر دلوں میں وہ ہیبت نہ رہتی۔ اس میں موصول کے ساتھ قرآن میں اس کو ذکر کیا گیا تاکہ مبہم رہے، یعنی اتنے عظیم سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور ان کے اوپر آ گیا کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی ڈرانا ہے اور بطورِ تعظیم کے ہے کہ بہت عظیم سمندر ان کے اوپر آ گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے فَغَشِيَهُم مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ پس ڈھانپ لیا ان کو سمندر میں سے اس اس نے جس نے ان کو ڈھانپ لیا۔ یہ تو تھی تحویل بطورِ تعظیم کے۔ اب ہے تحویل بطورِ تحقیر کے، کسی کو ڈراتے ہیں بطورِ تحقیر کے۔ نحوُ مثال کے طور پر: مَنْ لَمْ يَدْرِ حَقِيقَةَ الْحَالِ، جس شخص نے حقیقتِ حال کو نہ جانا، قَالَ مَا قَالَ، تو اس نے کہا مَا قَالَ جو اس نے کہا۔ مَا قَالَ یہ ہے مقامِ استشہاد۔ مقولے کو نہیں ذکر کیا گیا کیا کہتا ہے، وہ جو شخص حقیقت کو نہیں جانتا وہ کیا کہتا ہے؟ بس کہا وہ جو کہتا ہے سو کہتا ہے بھئی! مبہم رکھا گیا، اسمِ موصول کی صورت میں لایا گیا، کس لیے؟ بطورِ تحقیر کے ڈرانا مقصد ہے کہ وہ اتنی گھٹیا اور اتنی ادنیٰ درجے کی بات کرتا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے۔ یعنی جس شخص کو حقیقتِ حال کا پتہ نہ ہو اور پھر ایک بات کے بارے میں بات کرتا ہے، ایک مسئلے کے سلسلے میں گفتگو کرتا ہے تو وہ اتنی گری ہوئی بات کرتا ہے کہ اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہاں تحویل ہے بطورِ تحقیر کے کہ بڑی ہی گری ہوئی اور ادنیٰ اور گھٹیا بات کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وَالتَّهَكُّمُ، وَالتَّهَكُّمُ نحوُ، اور تہکم کا معنیٰ ہے مذاق کرنا، مذاق اڑانا۔ اور کبھی کبھار ایک چیز کو اسمِ موصول کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے مذاق اڑانے کے لیے، مذاق اڑانے کے لیے۔ جیسے دیکھیے: يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شب و روز دعوت و تبلیغ میں مصروف ہیں، کفر و مشرکینِ مکہ کو توحید کی طرف کہ توحید کی طرف بلا رہے ہیں کہ کسی طرح یہ لوگ جہنم سے بچ جائیں اور جنت کے حقدار بن جائیں۔ لیکن وہ لوگ حضور علیہ السلام کی دعوت کو قبول نہیں کرتے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہیں بھئی، قدم قدم پر آپ کو تکالیف پہنچاتے ہیں۔ تو دیکھیے یہاں پر بھئی! وہ انہوں نے یہ جملہ کہا حضور علیہ السلام سے: يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ، اے وہ شخص کہ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ جس پر ذکر کو نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن کو اتارا گیا ہے، إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ بے شک آپ تو مجنون ہیں، آپ تو دیوانے ہیں۔ اب دیکھیے یہاں انہوں نے کیا کہا؟ يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ، اے وہ آدمی جس پر قرآن کو اتارا گیا ہے، یہ نہیں کہا یا محمد! إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ، اے محمد! آپ تو کیا ہیں؟ مجنون۔ مشرکینِ مکہ بڑے فصیح و بلیغ لوگ تھے، ذرا اندازہ لگائیے ان کی فصاحت و بلاغت کا بھئی! کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ نہیں کہا یا محمد! إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ، اے محمد! آپ تو مجنون ہیں، بلکہ کیا کہہ رہے ہیں؟ يَا أَيُّهَا الَّذِي دیکھو نداء دے رہے ہیں اسمِ موصول کے اور صلے کے ساتھ، اے وہ شخص، اے وہ آدمی جس پہ ذکر کو نازل کیا گیا ہے تم تو مجنون ہو۔ تو موصول، کیا مقصد ہے موصول صلے کی صورت میں کیوں نداء دی گئی؟ مذاق اڑانے کے لیے بطورِ استہزاء کے بھئی! کیونکہ اگر یا محمد کہیں اس میں تو مذاق نہیں ہے، استہزاء نہیں ہے۔ اور وہ کیا کرنا چاہ رہے ہیں؟ مذاق بھی اڑانا چاہ رہے ہیں، اس لیے اسمِ موصول صلے کے ساتھ اس کو ذکر کیا گیا۔ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ یہاں کس طرح مذاق اڑایا گیا؟ ابھی تک میرا خیال بات سمجھ میں نہیں آئی، دیکھیے ایک مثال سے وضاحت ہو گی۔ فرض کیجیے ایک شخص آیا اور آ کر اس نے کہا کہ میں عربی عبارت سب سے زیادہ زبردست پڑھتا ہوں، سب سے زبردست پڑھتا ہوں۔ ایک شخص نے آ کر آپ سے کہا، یہ بات اس نے کہہ دی۔ تو آپ نے اس کے سامنے کتاب رکھ دی کہ چلو یہ عبارت پڑھ کر سناؤ، یہ عبارت پڑھ کر سناؤ۔ اب اس کو عبارت پڑھنا آتی تو تھی نہیں، جہاں زبر پڑھنا تھا وہاں زیر پڑھ رہا ہے، جہاں زیر پڑھنی تھی وہاں پیش پڑھ رہا ہے، خوب عبارت اس نے خراب طریقے سے تھوڑی سی پڑھی اور بڑی خراب پڑھی۔ اب آپ اس کا نام لے کر اسے کہتے ہیں: اے فلاں! تم تو ایک لفظ صحیح نہیں پڑھ سکتے، تم تو! اب یہی بات آپ نے اس کو کیا کہا: اے فلاں! تم تو ایک لفظ صحیح نہیں پڑھ سکتے، لیکن اس میں مذاق اڑانا نہیں ہے، ایک سیدھی سی بات آپ نے کہہ دی کہ تم تو ایک لفظ صحیح طرح۔ لیکن آپ کا مقصد ہے مذاق بھی اڑانا، اب آپ اے فلاں نہیں کہتے، آپ اس کو یوں کہتے ہیں: اے سب سے زبردست عبارت پڑھنے والے! تجھے تو ایک لفظ بھی صحیح طرح پڑھنا نہیں آتا۔ اب دیکھو، مذاق اڑایا یا نہیں آپ نے اس کا؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں پر بھی اسی طرح سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دعوت دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں میرے اوپر قرآن اترا ہے، قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہو رہا ہے اور یہ اللہ کا کلام میں تمہیں سنا رہا ہوں۔ اب وہ کیا کہنا چاہتے تھے کہ آپ مجنون ہیں، دیوانے ہیں، یوں کہہ سکتے تھے اے محمد! آپ تو دیوانے ہیں، لیکن وہ ساتھ مذاق، اس صورت میں مذاق نہ ہوتا اور وہ مذاق بھی اڑانا چاہتے ہیں تو کیا کہا؟ اے وہ شخص جس پہ قرآن کو اتارا گیا ہے! آپ تو دیوانے ہیں۔ یعنی آپ کیا سمجھتے ہیں؟ آپ کا دعویٰ کیا ہے؟ آپ پہ قرآن اترا ہے؟ آپ تو دیوانے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بس اس مثال جو میں نے ذکر کی اس کو ذرا ذہن میں رکھیں گے بالکل واضح ہو جائے گی آپ کے سامنے یہ بات بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے مشرکینِ عرب بھئی! کتنے فصیح و بلیغ لوگ تھے بھئی! کتنے فصیح و بلیغ! لیکن اتنی فصاحت و بلاغت کے باوجود جب قرآن نازل ہوا تو قرآن کی فصاحت و بلاغت دیکھ کر وہ حیران رہ گئے اور قرآن کی فصاحت و بلاغت کا انہوں نے کبھی مقابلہ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، کسی نے کبھی آ کر ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یا اپنی قوم والوں کو یہ نہیں کہا کہ میں قرآن جیسی چند ایک دو جملے، چار جملے بنا کر لایا ہوں، یہ دیکھو میں بھی قرآن جیسا کلام محمد لے کر آتے ہیں، میں بھی ویسا ہی کلام لے کر آیا ہوں، کیونکہ وہ جانتے تھے، ان کی فصاحت کا اندازہ لگائیے ایک ایک جملے سے پتہ چل رہا ہے بھئی کس طرح وہ اسمِ موصول لا کر مذاق اڑائے ہیں تو ان کو پتہ تھا کہ قرآن اتنی فصیح و بلیغ کتاب ہے، اس کا تو ایک ایک جملہ اتنا اتنا اعلیٰ درجے کا ہے کہ ہم کوشش کریں بھی تو اس جیسا کلام نہیں بنا سکتے، وہ جانتے تھے، اسی لیے کبھی انہوں نے قرآن جیسا کلام بنانے کی کوشش ہی نہیں کی! حالانکہ یہ آسان طریقہ تھا، حضور علیہ السلام کا مقابلہ کرتے، کس طریقے سے؟ ان جیسا کلام بنا کر لے آتے، تو آسان راستہ یہ تھا اور ایک مشکل راستہ تھا، تلوار اٹھائیں، قتل و غارت ہو، خون کی ندیاں بہہ جائیں، وہ انہوں نے تلوار والا راستہ تو اختیار کیا لیکن یہ دوسرا راستہ اختیار نہیں کیا کہ اس قرآن کا مقابلہ کریں، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قرآن جیسا ہم ایک جملہ بھی نہیں بنا سکتے بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تھے وہ لوگ بھئی! چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔