Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-043

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔43 وَأَمَّا اسْمُ الْإِشَارَةِ فَيُؤْتَى بِهِ إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ كَقَوْلِكَ: بِعْنِي هَذَا، مُشِيرًا إِلَى شَيْءٍ لَا تَعْرِفُ لَهُ اسْمًا وَلَا وَصْفًا. وَأَمَّا إِذَا لَمْ يَتَعَيَّنْ طَرِيقًا لِذَلِكَ فَيَكُونُ لِأَغْرَاضٍ أُخْرَى كَإِظْهَارِ الْإِسْتِغْرَابِ. تعریف و تنکیر کا باب چل رہا ہے۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ جب متکلم کا یہ ارادہ ہو کہ مخاطب کو یہ بتلائے کہ اس اس کے کلام کا تعلق کسی معین ذات کے ساتھ ہے، کسی معین چیز کے ساتھ ہے، تو مقام ہے تعریف کا یعنی معرفہ لانے کا۔ اور جب متکلم کی یہ غرض نہ ہو تو وہ مقام ہے تنکیر کا یعنی نکرہ لانے کا۔ پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ معرفہ کئی قسم پر ہیں، تو ہر معرفہ کے لانے میں کیا کیا نکات ہو سکتے ہیں، وہ الگ الگ بیان کرنا شروع کیے تھے۔ سب سے پہلے ضمیر کا کو ذکر کیا کیونکہ ضمیر میں باقیوں سے تعریف زیادہ ہے۔ اور بتلایا تھا کہ ضمیر اس لیے لائی لائی جاتی ہے کیونکہ مقام تکلم، خطاب یا غیبت کا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ اختصار مطلوب ہوتا ہے، تو وہاں ضمیر لائی لائی جاتی ہے۔ اور پھر آپ کو یہ بتلایا تھا کہ اصل تو خطاب کے اندر یہ ہے کہ کسی مشاہدِ معین کو ہونا چاہیے، وہ چیز مشاہد بھی ہو وہ شخص مشاہد بھی ہو سامنے بھی ہو اور معین بھی ہونا چاہیے لیکن بعض اوقات غیرِ مشاہد کو بھی خطاب کر دیا جاتا ہے حضورِ قلبی کی وجہ سے یعنی دل میں حاضر ہونے کی وجہ سے۔ اور اسی طرح کبھی کبھار خطاب غیرِ معین کو بھی کر دیا جاتا ہے جبکہ آپ کا ارادہ اپنے کلام کو عام کرنا ہو کہ یہ خطاب عام ہو جائے ہر اس شخص کے لیے جس کے لیے جس میں مخاطب بننے کی صلاحیت ہے، جس سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد معرفہ علم کی صورت میں لایا جائے، اس میں کیا کیا نکات ہو سکتے ہیں، تو سب سے پہلے انہوں نے بتلایا تھا کہ کہ کبھی کبھار مسند الیہ وغیرہ جو ہیں، اس کو علم کی صورت میں لایا جاتا ہے تاکہ اس کے معنیٰ کو حاضر کیا جائے سننے والے کے ذہن میں اس کے خاص نام کے ساتھ بھئی، کس کے ساتھ؟ خاص نام، کیونکہ ضمیر، اسمِ اشارہ، اسمِ موصول وغیرہ یہ خاص نہیں ہیں، یہ عام ہیں بھئی۔ 'ھو' ضمیر کے ذریعے آپ خالد کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں، زید کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں، اس کے ذریعے آپ عمر بھی مراد لے سکتے ہیں، بکر بھی مراد لے سکتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح 'ھذا' ہے، 'ھذا' کے ذریعے بھی آپ خالد کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں، بکر کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں، عمر کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں، یہ عام ہے، یہ سب کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب استعمال ہوں گے، اس وقت یہ خاص ہی ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ خاص۔ 'ھو' کے ذریعے ہر مذکر غائب کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے لیکن جب آپ اپنے کلام میں 'ھو' لائیں گے تو وہ استعمال کے وقت کوئی ایک خاص معین مراد ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جبکہ علم میں ایسا نہیں، وہ وضع کے اعتبار سے ہی خاص ہے، ایک ذات کے لیے وضع کیا گیا ہے، وہ لفظ جب بولا جائے گا، وہ نام جب بولا جائے گا تو وہی ذات ذہن میں آئے گی اور کوئی ذات ذہن میں نہیں آئے گی بھئی۔ تو آپ کا ارادہ یہ ہے کہ مسند الیہ کو اس کے خاص نام کے ساتھ سننے والے کے ذہن میں حاضر کریں تو آپ علم استعمال کریں، یہ موقع ہے علم استعمال کرنے کا۔ اور میں نے بتلایا تھا علم جو ہوتا ہے وہ کسی چیز کے تمام مشخصات جو ہیں، اس کے جو امتیازی اوصاف ہیں، ان پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی زید ہے، جیسے ہی میں نے زید کہا، زید آپ کے ذہن میں آ گیا اور اس کے سارے نمایاں اوصاف بھی ساتھ ہی ذہن میں آ جائیں گے۔ مثلاً اس کی خاص شکل و صورت ہے، وہ بھی آ گئی ذہن کے اندر، اس کے مثلاً بال خاص قسم کے ہیں، وہ بھی ذہن میں آ گئے، وہ کپڑے خاص قسم کے پہنتا ہے، وہ بھی ذہن میں آ جائیں گے اور اسی طرح وہ بڑا سخی ہے، وہ سخاوت بھی آپ کے ذہن میں آ جائے گی، اسی طرح اور جو اوصاف، نمایاں اوصاف ہوئے وہ سارے بھی ذہن میں آ جائیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی طرح کبھی کبھار جو ہے علم کی صورت میں مسند الیہ کو لایا جاتا ہے، اس میں اور نکات ہوتے ہیں، مثلاً بعض اوقات تعظیم کا ارادہ مقصود ہوتا ہے اور یہ تعظیم کس معنیٰ کے اعتبار سے ہوتی ہے؟ معنیٰ اول کے یا معنیٰ ثانی کے اعتبار سے؟ معنیٰ اول، یعنی کیونکہ اعلام جو ہوتے ہیں ان میں عموماً وضعِ ثانی ہوتی ہے، عموماً کیا ہوتی ہے؟ اولاً وہ لفظ کسی اور معنیٰ کے لیے اس زبان میں وضع ہوتا ہے پھر اس کو دوسری کسی شخص کا نام رکھ دیا جاتا ہے بھئی۔ تو وہ جو تعظیم والا معنیٰ ہوگا وہ وضعِ اول کے اعتبار سے ہوگا۔ اسی طرح بعض اوقات اسی علم کو تحقیر اور اہانت کے لیے لایا جاتا ہے، تو وہاں اہانت بھی کس معنیٰ کے اعتبار سے ہوگی؟ معنیٰ اول یعنی وضعِ اول کے اعتبار سے ہوگی۔ اور بعض اوقات مسند الیہ کو علم کی صورت میں لایا جاتا ہے اور کنایہ کیا جاتا ہے اس سے ایسے معنیٰ کا جس کی وہ لفظ صلاحیت رکھتا ہے، جیسے اس کی مثال آئی تھی "تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ"، ٹوٹ جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ۔ اب ابو لہب یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا نام ہے اور یہ حضور علیہ السلام کے جو یہ چچا تھے، یہ حضور علیہ السلام کو بہت زیادہ تکالیف دیا کرتے تھے بھئی، بہت زیادہ تکالیف۔ تو ان کے بارے میں آیا "تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ"، ٹوٹ جائیں ان کے دونوں ہاتھ، ابو لہب کے دونوں ہاتھ۔ اور ابو لہب کے ذریعے کنایہ کیا گیا جہنمی ہونے سے، گویا یوں کہا گیا جہنمی کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں۔ تو ابو لہب اس کے ذریعے کنایہ کیا گیا کس چیز سے؟ جہنمی ہونے سے، اور یہ لفظ اس کی صلاحیت بھی رکھتا ہے کیونکہ ابو لہب کا معنیٰ ہے شعلوں والا یعنی شعلوں کے ساتھ رہنے والا، اور جو شخص شعلوں کے ساتھ رہنے والا ہے اس کے ساتھ لازم ہے جہنمی ہونا کیونکہ شعلوں کے ساتھ جو لازم رہے گا وہ کیا ہوگا؟ جہنمی ہی ہوگا بھئی شعلوں کے ساتھ رہتا ہے۔ تو یہ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا، شعلوں والا شعلوں کے ساتھ رہنے والا یہ ملزوم ہے اور اس کے ساتھ لازم ہے یہ کیا ہوگا؟ جہنمی ہوگا، تو ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا گیا، تو یہ ہے کنایہ بھئی۔ اور یہاں پر کنایہ بھی معنیٰ اول کے اعتبار سے ہے، ابو لہب اب تو نام ہے، کنیت ہے لیکن معنیٰ اول کے اعتبار سے ابو لہب کا کیا معنیٰ؟ شعلوں کے ساتھ رہنے والا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی اب اس میں اشارہ کے لانے میں کیا نکات ہوتے ہیں، کبھی مسند الیہ کو معرفہ لایا جاتا ہے اسمِ اشارہ کی صورت میں، تو اس کے اس میں اشارہ کی صورت میں لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں، اب وہ بیان کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں: "وَأَمَّا اسْمُ الْإِشَارَةِ" اور باقی اسمِ اشارہ جو ہے "فَيُؤْتَى بِهِ" تو اس کو لایا جاتا ہے "إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا" جب وہ متعین ہو بطور ایک طریقے کے "لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ" اس مسند الیہ یا مسند کے معنیٰ کو حاضر کرنے کے لیے۔ اس مسند یا مسند الیہ کے معنیٰ کو مخاطب کے ذہن میں حاضر کرنے کے لیے وہ ایک طریقے کے طور پر متعین ہوتا ہے اس لیے اسمِ اشارہ کو لایا جاتا ہے۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں آئی؟ بھئی ایک مقام ایسا ہے کہ وہاں پر مسند الیہ یا مسند کو سننے والے کے ذہن میں حاضر کرنا ہے اور اسمِ اشارہ کے علاوہ اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے وہاں کہ اس کو اس کے ذہن میں حاضر کیا جائے، اس لیے کیونکہ وہ چیز مثلاً سامنے پڑی ہوئی ہے، سامنے پڑی ہے لیکن نہ آپ کو اس کے نام کا پتہ، نہ آپ کو کسی وصف وغیرہ کا پتہ، جب نام کا بھی نہیں پتہ، وصف وغیرہ کا بھی نہیں پتہ تو اب لازمی بات ہے اشارہ کر کے ہی اس کو بتانا پڑے گا کہ یہ والی چیز جو ہے میں اس کی بات کر رہا ہوں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دکان پر مثلاً آپ گئے اور آپ وہاں ایک چیز پڑی ہوئی ہے، آپ دکاندار کو کہنا چاہتے ہیں: اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ تو آپ اس چیز کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں: "بِعْنِي هَذَا"، یہ چیز میرے ہاتھ فروخت کر دو، یہ چیز مجھ پر فروخت کر دو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب آپ نے "بِعْنِي هَذَا"، یہ چیز میرے ہاتھ فروخت کر دو، "هَذَا" اسمِ اشارہ استعمال کیا بھئی، کیوں اسمِ اشارہ استعمال کیا؟ کیونکہ نہ آپ کو اس چیز کے نام کا پتہ، نہ آپ کو اس کے اوصاف وغیرہ کا پتہ، تو اب اشارے کے علاوہ اور کوئی صورت ہی نہیں ہے اس کے متعین کرنے کی، تو صرف کس کے ساتھ متعین ہوگا؟ اسمِ اشارہ۔ نہ آپ وہاں ضمیر لا سکتے ہیں، نام کا آپ کو پتہ نہیں، اوصاف وغیرہ بھی پتہ نہیں کہ اس میں موصول کی صورت میں پھر لے آئیں وغیرہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جب ایک ہی طریقہ متعین ہے کہ کس صورت میں ذکر کیا جائے اس کو؟ اسمِ اشارہ۔ جب طریقہ ہی ایک متعین ہے وہاں اور کوئی طریقہ استعمال ہو ہی نہیں سکتا تو ظاہر سی بات ہے پھر لائیں گے کس صورت میں؟ اسمِ اشارہ کی صورت میں۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آسان سی بات ہے کہ وہاں اور کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا، کسی اور صورت میں اس کو ذکر کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ معنیٰ ہے "فَيُؤْتَى بِهِ" اسمِ اشارہ کو لایا جاتا ہے "إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا" جب اسمِ اشارہ متعین ہو جائے بطور ایک طریقے کے "لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ" اس کے معنیٰ کو حاضر کرنے کے لیے۔ کس کے ذہن میں کہاں حاضر کرنا ہے اس کے معنیٰ کو؟ سامع کے ذہن میں، آپ کے تو ذہن میں ہے، آپ کے تو سامنے چیز موجود ہے کہ یہ چیز ہے، لیکن اس کو بھی بتلانا ہے تو اس کے لیے اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس چیز کی طرف باقاعدہ اشارہ کر کے کہا جائے یہ والی چیز جو ہے مجھے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ "كَقَوْلِكَ" جیسے کہ آپ کا یہ کہنا: "بِعْنِي هَذَا" یہ چیز میرے ہاتھ فروخت کر دو، "مُشِيرًا إِلَى شَيْءٍ" اشارہ کرتے ہوئے ایک ایسی چیز کی طرف، 'شَيْءٍ' نکرہ آیا، "لَا تَعْرِفُ" اس کے بعد فعل آیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنتا ہے؟ اس کی صفت بنتا ہے، اور موصوف صفت کا ترجمہ کہ موصوف سے پہلے کیا لے آتے ہیں؟ 'ایسا'۔ تو "مُشِيرًا إِلَى شَيْءٍ" اس حال میں کہ آپ اشارہ کر رہے ہیں "إِلَى شَيْءٍ" ایک ایسی چیز کی طرف "لَا تَعْرِفُ لَهُ اسْمًا" کہ آپ نہیں جانتے اس کا نام "وَلَا وَصْفًا" اور نہ اس کا وصف۔ تو آپ یہ کہتے ہیں اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس کے اسم اور وصف کو آپ نہیں جانتے کہ "بِعْنِي هَذَا"، یہ چیز میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ "وَأَمَّا إِذَا لَمْ يَتَعَيَّنْ طَرِيقًا لِذَلِكَ فَيَكُونُ لِأَغْرَاضٍ أُخْرَى" اور جب یہ اسمِ اشارہ متعین نہ ہو بطور ایک طریقے کے لیے اس چیز کے لیے، "فَيَكُونُ لِأَغْرَاضٍ أُخْرَى" تو وہ دوسرے غرضوں کے لیے ہوگا۔ بھئی "لِذَلِكَ"، یہ 'ذلک' کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہے؟ اوپر کیا آیا تھا؟ "لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ"۔ بھئی اب دوسری صورت، ایک مقام ایسا ہے کہ وہاں پر اسمِ اشارہ کے علاوہ دوسرے معرفہ کے ذریعے بھی ایک چیز کو سننے والے کے ذہن میں حاضر کیا جا سکتا ہے، مثلاً آپ کو اس کا نام پتہ ہے یا آپ کو اس کے اوصاف وغیرہ پتہ ہیں، تو آپ یہاں اسمِ اشارہ کے علاوہ اور صورتیں بھی ممکن ہیں۔ پچھلی صورت میں تو اسمِ اشارہ کے علاوہ اور کوئی صورت ممکن ہی نہیں تھی تو وہاں لانا ہی کیا پڑے گا؟ اسمِ اشارہ کو۔ اب دوسرا مقام ہے وہاں اسمِ اشارہ متعین نہیں ہے، اور طریقے بھی ہیں اس کو سننے والے کے ذہن میں حاضر کرنے کے، لیکن پھر بھی آپ اسمِ اشارہ لے کر آتے ہیں، تو کہتے ہیں پھر وہ اور غرضوں کے لیے ہوگا، اور مقاصد کے لیے۔ پہلی صورت میں تو کیا مقصد تھا کہ اس کے لیے اور کوئی طریقہ ہی نہیں تھا، اور اب دوسری دوسرا مقام ہے وہاں اور طریقے بھی ممکن ہیں لیکن پھر بھی کہنے والا اسمِ اشارہ ذکر کرتا ہے، اور طریقے کو اختیار نہیں کرتا، تو کہتے ہیں وہ پھر اور غرضوں کی وجہ سے ہوگا جو یہ آگے بیان کر رہے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے "وَأَمَّا إِذَا لَمْ يَتَعَيَّنْ طَرِيقًا" اور جب متعین نہ ہو اسمِ اشارہ بطور ایک طریقے کے "لِذَلِكَ" اس کے معنیٰ کو حاضر کرنے کے لیے "فَيَكُونُ لِأَغْرَاضٍ أُخْرَى" تو پھر وہ اسمِ اشارہ اس کا لانا دوسری غرضوں کے لیے ہوگا، "كَإِظْهَارِ الْإِسْتِغْرَابِ"، استغراب کہتے ہیں حیرت کو، تعجب کو۔ "كَإِظْهَارِ الْإِسْتِغْرَابِ" جیسے تعجب کا اظہار کرنے کے لیے، جیسے کہ تعجب کا اظہار کرنا۔ بھئی کبھی کبھار ایک چیز ہے مسند الیہ ہے اس کو اسمِ اشارہ کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے وہاں اور بھی طریقے ذکر ہو استعمال ہو سکتے ہیں لیکن کہنے والا کس کو استعمال کرتا ہے؟ اسمِ اشارہ کو، مقصد کیا ہوتا ہے اسمِ اشارہ لانے کا؟ وہ اپنی حیرت کا اظہار کرنا چاہتا ہے، اپنے تعجب کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے کیا لے کر آتا ہے؟ اسمِ اشارہ لے کر آتا ہے۔ جیسے دیکھیے مثال میں، نحو مثال کے طور پر: كَمْ عَاقِلٍ عَاقِلٍ أَعْيَتْ مَذَاهِبُهُ ... وَجَاهِلٍ جَاهِلٍ تَلْقَاهُ مَرْزُوقَا هَذَا الَّذِي تَرَكَ الْأَوْهَامَ حَائِرَةً ... وَصَيَّرَ الْعَالِمَ النَّحْرِيرَ زِنْدِيقَا كَمْ عَاقِلٍ عَاقِلٍ، "كَمْ عَاقِلٍ" کتنے ہی عقل والے ہیں۔ پھر اس کے بعد دوبارہ آیا "عَاقِلٍ"، یاد رکھیے یہ جو دوبارہ "عَاقِلٍ" آیا، یہ پہلے "عَاقِلٍ" کی تاکید نہیں ہے، آپ نے پڑھا ہے بعض اوقات اسی لفظ کو دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے تو وہ پہلے کے لیے تاکید ہوتا ہے، "جَاءَنِي زَيْدٌ زَيْدٌ"، یہ زیدِ ثانی کیا ہے؟ اول کے لیے تاکید ہے۔ لیکن یہ ہر جگہ نہیں، جیسے یہ مقام ہے یہاں پر دیکھیے 'عاقل' نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد پھر اسی نکرہ کو ذکر کیا گیا اور بطورِ وصف کے ہے، یہ یہاں کس طریقے پر ذکر ہے؟ وصف کے طریقے پر ذکر ہے، اور یاد رکھیے عربی زبان میں ایسا کیا جاتا ہے کہ نکرہ کی صفت اسی نکرہ کو دوبارہ لے آتے ہیں کمال پر دلالت کرنے کے لیے، کس چیز پر؟ کمال پر یعنی کامل ہونے پر دلالت کرنے کے لیے۔ تو "كَمْ عَاقِلٍ عَاقِلٍ" کا معنیٰ ہوا: کتنے ہی کامل عقل والے ہیں۔ کیا ترجمہ ہوا؟ کتنے ہی کامل عقل والے ہیں، پوری عقل والے ہیں۔ اگر صرف یہ ہوتا "كَمْ عَاقِلٍ" تو کیا ترجمہ ہوتا؟ کتنے ہی عقل والے ہیں۔ لیکن جب 'عاقل' دوبارہ آیا اب اس نے کس پر دلالت کر دی؟ کمال پر، اب کیا معنیٰ ہوگا "كَمْ عَاقِلٍ عَاقِلٍ" کا؟ کتنے ہی کامل عقل والے لوگ ایسے ہیں، انسان ایسے ہیں "أَعْيَتْ مَذَاهِبُهُ"، 'أَعْيَا' کا معنیٰ تھکا دینا، تھکا دینا۔ 'مذاہب' جمع ہے 'مذہب' کی، مذہب کہتے ہیں راستے کو، طریقے کو۔ کتنے ہی کامل عقل والے ایسے ہیں "أَعْيَتْ مَذَاهِبُهُ" تھکا دیا ہے ان کو ان کے راستوں نے، تھکا دیا ہے ان کو ان کے راستوں نے، اور راستوں سے مراد طرقِ معاش ہیں، روزی کمانے کے جو راستے ہیں اور طریقے ہیں وہ مراد ہیں۔ کتنے ہی کامل عقل والے ایسے ہیں کہ ان کو روزی کے طرقِ معاش نے، ان کو روزی کے راستوں نے تھکا دیا ہے، وہ ہر وقت ہر وقت روزی کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کھانے کا بندوبست کیسے کریں، پینے کا بندوبست کیسے کریں، کپڑے پہننے کا بندوبست کیسے کریں، گھر والوں کا خرچہ کیسے پورا کریں، بیوی بچوں کو کیسے کھلائیں پلائیں، تو ہیں کتنے، عقل کتنی بڑی کامل، لیکن ہر وقت کس فکر میں لگے رہتے ہیں؟ روزی کمانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں یعنی بیچارے غریب ہوتے ہیں، مال وغیرہ ان کے پاس نہیں ہوتا، شب و روز اسی کوشش میں ہوتے ہیں کسی طرح گزر بسر کا سامان ہو جائے بھئی، گزر بسر کا۔ عقل بڑی کامل ہوتی ہے لیکن دیکھا جائے تو ان بیچاروں کے پاس مال کچھ بھی نہیں ہوتا، ہر وقت اپنی اولاد اور بیوی بچوں وغیرہ کو ان کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ "وَجَاهِلٍ جَاهِلٍ تَلْقَاهُ مَرْزُوقَا"، یہاں بھی اسی طرح ہے، 'جاہل' کی صفت دوبارہ 'جاہل' لائی گئی، یہ اسی پر عطف ہے یعنی "كَمْ جَاهِلٍ جَاهِلٍ"، تو ترجمہ کیا ہوگا؟ اور کتنے ہی کامل جاہل ایسے ہیں، کتنے ہی کامل جاہل ایسے ہیں "تَلْقَاهُ" کہ آپ اس سے ملاقات کرتے ہیں، 'لَقِيَ يَلْقَى' کے معنیٰ ملاقات کرنا، ملنا۔ مخاطب کا صیغہ ہے یہ تو "تَلْقَاهُ" کہ آپ اس سے ملاقات کرتے ہیں "مَرْزُوقَا" اس حال میں کہ وہ رزق دیے ہوئے ہوتے ہیں یعنی ان کو رزق دیا گیا ہوتا ہے۔ اللہ نے ان کو بڑا رزق دیا ہوتا ہے، بڑا مال دیا ہوتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ کہ کتنے ہی کامل عقل والے ایسے ہیں کہ ان کو ان کے طرقِ معاش نے تھکا دیا ہے، کبھی ایک طرح کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اسبابِ گزر بسر ہو جائیں اور کبھی دوسری طرح کوشش کرتے ہیں کہ اسبابِ گزر بسر کہیں سے میسر آ جائیں۔ اور کتنے ہی کامل جاہل ایسے ہیں کہ آپ ان سے ملتے ہیں اس حال میں کہ وہ رزق دیے ہوئے ہوتے ہیں یعنی اللہ نے ان کو خوب مال خوب رزق دیا ہوتا ہے۔ اگر عقل کو دیکھا جائے تو عقل ان میں نام کی نہیں ہوتی، علم ان میں نام کا نہیں ہوتا لیکن آپ ان کو دیکھتے ہیں بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں، پھر رہے ہیں۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے بھئی کہ کیا ہے؟ عقل والا وہ بیچارہ غریب ہے اور جو جاہل ہے وہ مالدار ہے بھئی، حالانکہ ہونا تو برعکس چاہیے تھا۔ جو عقل والا ہے، عقل کامل ہے تو وہ اپنی عقل کو کام میں لا کر خوب اچھی طرح رزق حاصل کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور جاہل کے پاس تو اتنی عقل بھی نہیں، علم بھی نہیں ہے بھئی۔ علم نہیں ہے، عقل نہیں ہے تو ہونا تو یہ چاہیے جب اس کا علم بھی اس کے پاس نہیں، عقل بھی پوری نہیں ہے تو پھر تو روزی کمانے کے اندر اس کو ناکامی ہونی چاہیے۔ کیونکہ علم ہوگا، عقل ہوگی تو اچھی طرح روزی کما سکے گا، اچھا طریقہ اختیار کر سکے گا۔ تو ہونا تو یہ چاہیے کہ عقلمند کو مالدار ہونا چاہیے اور جاہل کو کیا ہونا چاہیے؟ غریب ہونا چاہیے لیکن ہم دنیا میں عموماً اس کے برعکس دیکھتے ہیں کہ جو بڑا عقل والا ہوتا ہے وہ بیچارہ غربت کی حالت میں آپ کو دکھائی دیتا ہے اور جو جاہل ہوتا ہے، علم اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا لیکن آپ اس کو دیکھتے ہیں بڑا مال ہے اس کے پاس بھئی، اللہ نے اس کو خوب دولت دی ہوئی ہے۔ تو کہتے ہیں: ہٰذَا الَّذِیْ تَرَکَ الْأَوْھَامَ حَائِرَۃً یہ وہ یہ جو ہے، ہٰذَا، اشارہ کیا بھئی! یہ جو اوپر بات ذکر کی تھی یعنی عاقل کا محروم ہونا اور جاہل کا مرزوق ہونا، یہ وہ چیز ہے الَّذِیْ تَرَکَ الْأَوْھَامَ حَائِرَۃً، جس نے عقلوں کو حیران کر دیا ہے۔ جس نے کیا کیا ہے؟ عقلوں کو حیران کر چھوڑا ہے۔ اوہام جمع ہے وهم کی، وهم کہتے ہیں دل میں جو بات آئے، جو خیال آئے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وهم کہتے ہیں۔ لیکن یہاں مراد اوہام سے عقلیں ہیں، یہاں کیا مراد ہیں؟ عقلیں۔ حَائِرَۃً، حیران بھئی۔ ہٰذَا الَّذِیْ تَرَکَ الْأَوْھَامَ حَائِرَۃً، یہ جو چیز ہے یعنی عاقل کا محروم ہونا اور جاہل کا مرزوق ہونا، یہ وہ چیز ہے جس نے عقلوں کو حیران کر چھوڑا ہے، عقلوں کو حیران کر دیا ہے۔ وَصَیَّرَ الْعَالِمَ النِّحْرِیْرَ زِنْدِیْقَا صَیَّرَ کا معنی بنا دینا۔ النِّحْرِیْرَ کا معنی ہے زبردست اور ماہر۔ صَیَّرَ الْعَالِمَ النِّحْرِیْرَ، اس نے بنا دیا ہے زبردست عالم کو زِنْدِیْقَا، بے دین بھئی۔ زندیق، کیا معنی؟ بے دین، یعنی کافر بنا دیا ہے کہ وہ خدا کی خدائی کا انکار کر بیٹھتے ہیں بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دوبارہ دیکھیے بھئی: کَمْ عَاقِلٍ عَاقِلٍ اَعْیَتْ مَذَاھِبُہٗ وَجَاھِلٍ جَاھِلٍ تَلْقَاہُ مَرْزُوْقَا ہٰذَا الَّذِیْ تَرَکَ الْأَوْھَامَ حَائِرَۃً وَصَیَّرَ الْعَالِمَ النِّحْرِیْرَ زِنْدِیْقَا کتنے ہی کامل عقل والے ایسے ہیں کہ ان کو ان کے طرقِ معاش نے، روزی کمانے کے طریقوں نے تھکا دیا ہے، وہ ہر وقت روزی کی فکر میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں آپ کو۔ اور کتنے ہی کامل جاہل ایسے ہیں کہ آپ ان سے ملاقات کرتے ہیں اس حال میں کہ ان کو خوب رزق دیا گیا ہوتا ہے۔ یہ بات جو ہے یعنی یہ عاقل کا محروم ہونا اور جاہل کا مرزوق ہونا، یہ وہ بات ہے جس نے عقلوں کو حیران کر دیا ہے۔ وَصَیَّرَ الْعَالِمَ النِّحْرِیْرَ زِنْدِیْقَا، اور اس بات نے زبردست قسم کے ماہر علماء کو زندیق اور بے دین بنا دیا ہے، کافر بنا دیا ہے کہ وہ خدا کی خدائی کا انکار کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جو عقل والے کو تو مال اس نے دیا نہیں، جو حقدار تھا اس کو مال دیا نہیں اور جو جاہل ہے، جو غیر حقدار ہے اس کو جس نے مال دیا ہوا ہے، ہم مال دیا ہے، ہم اس خدا کو نہیں مانتے۔ تو گویا وہ اللہ کی اس تقسیم پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں، اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ حالانکہ اللہ کے اپنے کاموں کے اندر کیا کیا حکمتیں ہیں، وہ اللہ ہی جاننے والے ہیں، لہٰذا ان پر ہر حال میں راضی رہنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو مقامِ استشہاد ہے یہاں پر ہٰذَا الَّذِیْ، یہ جو ہٰذَا آیا۔ اب اس ہٰذَا کے ذریعے اشارہ کیا گیا، کس چیز کی طرف؟ یہ جو اوپر بات ذکر ہوئی تھی، عاقل کا محروم ہونا اور جاہل کا مرزوق، یہ بات جو ہے، یہ اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہٰذَا کے ذریعے، حالانکہ اس کا اور بھی طریقہ تھا، ضمیر بھی ذکر یہاں کی جا سکتی تھی یا اور بھی کوئی صورت ذکر کوئی اور طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا تھا لیکن شاعر نے کس کو استعمال کیا؟ اسمِ اشارہ کو استعمال کیا، اسمِ اشارہ، کس لیے؟ حیرت کا اظہار کرنے کے لیے کہ یہ بات بڑی عجیب ہے، بڑی حیرت والی ہے۔ یہ بات بڑی حیرت والی ہے، اس مقصد کے لیے اس نے ہٰذَا استعمال کیا کہ یہ جو بات ہے، یہ اس نے عقلوں کو حیران کر دیا ہے، وجہ بظاہر انسان کو سمجھ میں نہیں آتی۔ ہونا تو برعکس چاہیے، عقل والے کے پاس عقل ہے تو اس کو طریقے بھی زیادہ آئیں گے، وہ اچھی طرح مال کما سکے گا لیکن ہم دیکھتے ہیں وہ بیچارہ غربت میں ایام بسر کر رہا ہے اور جاہل جو ہے، اس کے پاس تو علم نہیں ہے، طریقے اس کو زیادہ نہیں آتے، لہٰذا اس کو تو اس کے پاس مال نہیں ہونا چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے پاس کثیر مال ہوتا ہے۔ تو یہاں پر ہٰذَا اسمِ اشارہ استعمال کیا، کس لیے بھئی؟ حیرت کا اظہار کرنے کے لیے کہ یہ چیز جو ہے دیکھو اس نے عقلوں کو حیران کر دیا ہے۔ معنی اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گیا؟ وَکَمَالِ الْعِنَایَۃِ بِہٖ عنایت کہتے ہیں توجہ کو بھئی، توجہ کو۔ وَکَمَالِ الْعِنَایَۃِ بِہٖ، اور کامل طور پر اس چیز کو توجہ دینے کے لیے۔ کامل طور پر... بھئی ایک چیز ہے، اس کو اسمِ اشارہ کے علاوہ ضمیر وغیرہ کے ساتھ بھی ذکر کیا جا سکتا ہے لیکن کہنے والا وہاں پر اسمِ اشارہ لے کر آتا ہے، کس لیے؟ کامل اہتمام کے لیے، کامل توجہ اس پر کرتے ہوئے بھئی، کامل توجہ اس کی طرف دیتے ہوئے بھئی۔ یاد رکھیے! اسمِ اشارہ کے ذریعے کوئی چیز باقی تمام چیزوں سے ممتاز اور جدا ہو جاتی ہے۔ جب میں نے کہہ دیا آپ کو: ہٰذَا کِتَابِیْ، یہ میری کتاب ہے، تو اب ہٰذَا کے ذریعے میں نے ایک متعین کتاب کی طرف اشارہ کیا اور آپ سمجھ گئے، یہ والی کتاب ہے جس کے بارے میں متکلم کہہ رہا ہے کہ یہ میری کتاب ہے۔ ہٰذَا، یہ جو ہے، کِتَابِیْ، میری کتاب ہے۔ میں نے معین کتاب کی طرف اشارہ کیا، معین کتاب کی طرف، تو آپ بھی سمجھ گئے کہ یہ جو 15، 20 کتابیں پڑی ہیں، ان میں سے اس کتاب کی بات ہو رہی ہے، دوسری یا تیسری کتاب کی بات نہیں ہو رہی۔ اشارہ کیا جائے تو آپ سمجھ جاتے ہیں یا نہیں سمجھ جاتے؟ جس چیز کی طرف اشارہ کیا جائے، آپ سمجھ جاتے ہیں یہ والی چیز مراد ہے، باقی چیزیں مراد نہیں۔ تو یہ جو اسمِ اشارہ ہوتا ہے، یہ چیز کو کامل طور پر ممتاز کر دیتا ہے، باقی چیزوں سے جدا کر دیتا ہے، سننے والا سمجھ جاتا ہے، اس چیز کی بات ہو رہی ہے، دوسری یا تیسری یا چوتھی چیز کی بات نہیں ہو رہی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ جب بھی کسی چیز کی طرف کیا کرتے ہیں؟ اشارہ کرتے ہیں تو وہ چیز کامل طور پر ممتاز ہو جاتی ہے، باقی چیزوں سے ممتاز ہو جاتی ہے، جدا ہو جاتی ہے، سننے والا سمجھ جاتا ہے، یہ فلاں والی چیز جس کی طرف اشارہ ہوا، یہ والی چیز مراد ہے، کوئی دوسری چیز مراد نہیں۔ چاہے اسی جیسی 10 چیزیں ارد گرد پڑی ہوں لیکن پھر بھی وہ سمجھ جاتا ہے یہ فلاں والی جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہوتا ہے اس کو سمجھ، اس سے اس کو پتہ لگ جاتا ہے۔ بات سمجھ... ہاں اشارہ مبہم ہو، پتہ نہ چلے، ہم اس کی بات نہیں کر رہے، جب اشارہ کیا واضح طور پر، پتہ چل جائے گا یا نہیں؟ فلاں چیز مراد ہے، فلاں چیز مراد۔ تو یہ اسمِ اشارہ کے ذریعے چیز کامل طور پر ممتاز ہو جاتی ہے، باقی چیزوں سے ممتاز ہو جاتی ہے، جدا ہو جاتی ہے، سننے والا سمجھ جاتا ہے یہ والی چیز کی بات ہو رہی ہے، دوسری چیزوں کی بات نہیں ہو رہی۔ تو لہٰذا بعض اوقات ایسا کیا جاتا ہے، ایک مقام ہے وہاں پر ضمیر وغیرہ بھی استعمال ہو سکتی ہے لیکن کہنے والا اسمِ اشارہ استعمال کرتا ہے، اس کو کامل طور پر ممتاز کرنے کے لیے کہ وہ باقی سب چیزوں سے ممتاز ہو جائے، نمایاں ہو جائے یعنی اس کو کامل توجہ دیتے ہوئے۔ کیا کرتے ہوئے؟ کامل توجہ دیتے ہوئے اس کو باقی چیزوں سے ممتاز کر کے اس کی بات بیان کرتا ہے کہ میں اس کی بات کر رہا ہوں، دوسری چیزوں کی بات نہیں کر رہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَکَمَالِ الْعِنَایَۃِ بِہٖ، اور اس چیز کو کامل توجہ دینے کے لیے، اس چیز کو کامل توجہ دینے کے لیے اور اس کو پورے طور پر ممتاز کرنے کے لیے، نمایاں کرنے کے لیے۔ نحو مثال کے طور پر: ہٰذَا الَّذِیْ تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَہٗ وَالْبَیْتُ یَعْرِفُہٗ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ ہٰذَا الَّذِیْ، یہ ہے وہ۔ تَعْرِفُ، کہ جانتی ہے۔ بَطْحَاءُ، بطحاء کہتے ہیں کشادہ وادی، وسیع وادی، دو پہاڑوں کے درمیان کا وسیع کھلا علاقہ، اسے کیا کہیں گے؟ بطحاء۔ اور مراد اس سے سرزمینِ عرب ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ سرزمینِ عرب کی زمین مراد ہے۔ وَطْأَتَہٗ، وطأ کے معنی ہوتے ہیں روندنے کے، روندنے کے۔ بھئی آپ زمین پر چلتے ہیں تو جب آپ چلتے ہوئے چلے جا رہے ہیں تو یہ آپ زمین کو روندتے ہوئے جا رہے ہیں، اپنے قدموں کے ذریعے کیا کر رہے ہیں؟ زمین کو روندتے ہوئے جا رہے ہیں۔ تو وطأ کے معنی ہوتے ہیں روندنے کے، یہاں مراد چلنا ہے، کیا مراد ہے؟ چلنا۔ وَالْبَیْتُ، اور بیت سے مراد بیت اللہ ہے، بیت اللہ یَعْرِفُہٗ، اس کو جانتا ہے۔ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ، حل اور حرم۔ بھئی یاد رکھیے بھئی! کتاب الحج کے اندر آپ نے پڑھا ہوگا فقہ کے اندر کہ جو بیت اللہ ہے یعنی خانہ کعبہ، اس کے ارد گرد کچھ تھوڑا سا علاقہ ہے، اسے حرم کہا جاتا ہے۔ بیت اللہ کے ارد گرد کا تھوڑا سا علاقہ ہے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ حرم کہلاتا ہے اور باقاعدہ اس کی حدود متعین ہیں بھئی۔ بعض طرف وہ بیت اللہ سے 4، 5 میل کے فاصلے تک یہ علاقہ پھیلا ہوا ہے، بعض طرف 10، 15 میل کے علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔ تو یہ جو بیت اللہ کے ارد گرد چاروں طرف یہ مخصوص حد والا علاقہ ہے، اس کو کہتے ہیں حرم، کیا کہتے ہیں؟ حرم کہتے ہیں اور یاد رکھیے، حرم کے اندر انسان پر کئی پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ مثلاً اس حرم کے اندر یہ جو قریب قریب کا علاقہ ہے بیت اللہ کے، اس میں شکار کھیلنا منع ہے، اسی طرح اس میں درختوں وغیرہ کا کاٹنا منع ہے بھئی۔ وجہ اس کی کیا؟ بھئی وجہ دراصل بیت اللہ کی تعظیم ہے کہ یہ زمین پر اللہ کے لیے بنایا جانے والا پہلا گھر ہے، لہٰذا اس گھر کی تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ اس گھر کے آس پاس کے علاقے کے اندر کسی کو کوئی تکلیف نہ دی جائے، حتیٰ کہ جانوروں کو بھی تکلیف نہ دی جائے، ان کا بھی شکار کرنا منع ہے، درختوں وغیرہ کو بھی نہ کاٹا جائے بھئی، اس کو اس سے بھی منع کیا گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تفصیل آپ فقہ میں پڑھ چکے ہوں گے۔ تو یہ جو قریب قریب، بالکل بیت اللہ کے قریب کا علاقہ ہے، میں نے بتلایا بعض طرف 4، 5 میل ہے، بعض طرف 10، 12، 15 میل تک ہے، یہ چاروں طرف اس کے جو علاقہ ہے، اس کو حرم کہتے ہیں۔ یہ چھوٹا سا علاقہ۔ اور پھر اس کے بعد اس سے باہر دور ایک اور حد ہے اور اس کو کہتے ہیں حل بھئی، حِلٌّ، حِلٌّ۔ حل جو ہے، یہ یہ کافی بڑا علاقہ ہے بھئی۔ بھئی حرم تو بیت اللہ کے ارد گرد چھوٹی سی جگہ ہوئی، 15، 20 میل کے لگ بھگ چوڑائی وغیرہ میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے، سمجھیں؟ یہ بھی اچھا خاصا علاقہ ہے لیکن بہرحال حل کے مقابلے میں بڑا چھوٹا سا ہے۔ اور حل جو ہے وہ زیادہ بہت بڑا علاقہ ہے بھئی، بعض طرف دو تین سو دو تین سو کلومیٹر یا میل تک پھیلا ہوا ہے، بعض طرف کوئی سو ڈیڑھ سو 100 تک یا 80، 100 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے تو یہ بڑا علاقہ ہے بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حِلٌّ۔ اور حل سے جو باہر کی ساری باقی دنیا کا علاقہ ہے، اس کو آفاق کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ آفاق۔ تو تین حدود ہو گئیں بھئی، حل سے باہر کا علاقہ سارا کیا کہلائے گا؟ آفاق، اور یہ جو حل کی حدود ہیں، یہ حرم تک جو ہیں، آگے جا کر تو حرم شروع ہو جائے گا، تو یہ جو حل یہ جو سارا علاقہ ہے، یہ حل کہلاتا ہے، اور پھر تیسرا درمیان والا بالکل قریب والا بیت اللہ کے علاقہ جو ہے وہ کیا کہلاتا ہے؟ حرم بھئی۔ اور آپ نے کتاب الحج میں پڑھا ہوگا، آفاقی کوئی آدمی یعنی جو حل سے باہر رہنے والا ہے، دنیا کے کسی بھی ملک میں چاہے پاکستان میں ہے، چاہے ایران میں ہے، چاہے افغانستان میں ہے، چاہے ہندوستان میں ہے، یہاں سے کوئی آدمی اگر مکہ مکرمہ جانا چاہے تو کون جانا چاہتا ہے؟ آفاقی، اور کہاں جانا چاہتا ہے؟ مکہ، تو بغیر احرام کے جانے کی اجازت نہیں۔ احرام باندھ کر جانا پڑے گا اور پھر وہاں جا کر جو موقع ہو اس کے مطابق، حج کے ایام ہیں تو حج کرنا پڑے گا، عمرے کے ایام ہیں تو عمرہ کرنا... یعنی احرام ضرور باندھنا ہے، بغیر احرام کے مکہ نہیں جانا، مکہ نہیں جا سکتے بھئی۔ بھئی اور یہ کس وجہ سے؟ یہ بھی بیت اللہ کی تعظیم کے طور پر کہ آپ اس شہر میں آ رہے ہیں جہاں پر اللہ کا زمین پر بنایا جانے والا پہلا گھر ہے جہاں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے، زمین پر اللہ کے لیے بنایا جانے والا پہلا گھر ہے، لہٰذا اس گھر کی تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ تمہیں آ کر یہاں عبادت کرنی چاہیے بھئی، یہاں عمرہ یا حج کرنا چاہیے، بغیر عبادت کے یعنی بغیر احرام کے یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا اگر کوئی بغیر احرام کے جائے گا تو اس پر دم واجب ہوگا یعنی بطور جرمانہ کے ایک جانور، ایک بھیڑ یا بکری کی اس کو قربانی کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو تھے آفاق والوں کے لیے اور حل والا جو قریب والا ہے، حل والا تو ہاں وہ تو قریب رہتے ہیں مکہ کے، ان کو ان کے لیے یہ حکم نہیں کیونکہ وہ مکہ کے قریب رہتے ہیں، ان کو ضرورت پیش آئے گی کوئی چیز لینے کے لیے، کسی کام کے لیے مکہ آنا جانا پڑے گا تو ان کے لیے یہ حکم نہیں، وہ بغیر احرام کے بھی مکہ آ جا سکتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ لیکن آفاقی بغیر احرام کے نہیں جا سکتا۔ تو یہ تین حدود ہوئیں بیت اللہ کے ارد گرد بھئی، پہلی حد کیا ہے؟ اس کے اندر رہنے والے حرامی کہلائیں گے، حرم یا اہل حرم کہلائیں گے، حل کے اندر رہنے والے اہل حل کہلائیں گے اور باقی لوگ کیا کہلائیں گے؟ آفاقی کہلائیں گے بھئی آفاقی۔ تو یہ حل آیا شعر کے اندر: وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ ہٰذَا الَّذِیْ تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَہٗ وَالْبَیْتُ یَعْرِفُہٗ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ یہ وہی ہے کہ جانتی ہے اس کو سرزمینِ عرب، کہ جانتی ہے سرزمینِ عرب وَطْأَتَہٗ، ان کے چلنے کو۔ یہ وہی شخص ہے، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ہٰذَا الَّذِیْ، یہ وہی آدمی ہے تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَہٗ، کہ سرزمینِ عرب جانتی ہے وَطْأَتَہٗ، ان کے چلنے کو یعنی سرزمینِ عرب ان کے قدموں کے نشانات بھی پہچانتی ہے، یہ جب اس پر چلتے ہیں اس کو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ شخص مجھ پر چل رہا ہے۔ وَالْبَیْتُ یَعْرِفُہٗ، اور اللہ کا جو گھر ہے بیت اللہ جو ہے، وہ بھی اس شخص کو جانتا ہے۔ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ، اور سرزمینِ حل جو ہے، وہ بھی اس آدمی کو جانتی ہے وَالْحَرَمُ، اور حرم جو ہے اللہ کا، وہ بھی اس آدمی کو جانتا ہے بھئی۔ ہوا یہ تھا، یہ شعر جو ہے اس کی تفصیل سن لیجیے۔ کہ خلیفہ ہشام ابن عبدالملک جو ہے وہ حج کے لیے مکہ مکرمہ گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حج کے لیے یا ویسے عمرے کے لیے وہ مکہ مکرمہ گیا بھئی۔ اب مکہ مکرمہ گیا وہاں اس نے طواف وغیرہ تو کر لیا اور بیت اللہ کے ایک کونے پر جو دروازے کے ساتھ والا کونہ ہے، وہاں پر حجر اسود نصب ہے وہ جنتی پتھر نصب ہے، جس سے طواف کی ابتدا ہوتی ہے اور اسی پر طواف کا اختتام ہوتا ہے۔ تو اب طواف کی ابتدا میں حجر اسود کو بوسہ دیا جاتا ہے، پھر ہر چکر کے اندر حجر اسود کو بوسہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ہجوم بہت زیادہ، تو حجر اسود تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے تو پھر دور سے حجر اسود کی طرف ہاتھ اٹھا کر ان ہاتھوں کو بوسہ دے لیا جاتا ہے۔ تو اب حجر اسود پر ہر وقت بڑا ہی ہجوم رہتا ہے، ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس پتھر کو وہ اس جنتی پتھر کو وہ بوسہ دے جس کو سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا تھا بھئی۔ تو اب خلیفہ ہشام ابن عبدالملک جو ہے، اس نے طواف وغیرہ کر لیا اور پھر اس کا ارادہ ہوا کہ میں جا کر ذرا حجر اسود کو بوسہ دے دوں، لیکن حجر اسود پر بڑا ہجوم تھا۔ خیر وہ ہمت کر کے پہنچا، بڑی کوشش کی لیکن حجر اسود تک نہ پہنچ سکا، آخر دھکے کھا کر واپس لوٹ آیا بھئی۔ اب واپس آ کر بیٹھ گیا اور افسوس بھی ہو رہا ہے کہ حجر اسود تک نہیں پہنچ سکا، ابھی بیٹھا ہوا ہے دربار جو اس کے جو وزیر وغیرہ ہیں وہ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اچانک کیا دیکھتا ہے؟ ایک نورانی صورت والے بزرگ داخل ہوئے اور حرم کی اس مسجد میں داخل ہوئے اور ان کو دیکھتے ہی لوگوں نے دیکھا کہ وہ آ رہے ہیں تو انہوں نے فوراً راستہ چھوڑ دیا اور حجر اسود تک پورا راستہ کھول دیا ان کے لیے، سب ایک طرف ہو گئے۔ وہ اطمینان سے گئے اور جا کر حجر اسود کو بوسہ دیا۔ تو خلیفہ یہ دیکھ رہا تھا اور اس کے وزیر وغیرہ بھی دیکھ رہے تھے، وہ حیران ہو گئے کہ یہ کون شخص ہے؟ یہ کیسا آدمی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کی اتنی عظمت اور ہیبت ہے کہ اس کو دیکھ کر انہوں نے راستہ چھوڑ دیا۔ خلیفہ کے لیے تو وہ جگہ نہیں چھوڑ رہے تھے! خلیفہ کے بارے میں بھی تو وزیروں نے لوگوں کو کہا ہوگا کہ یہ خلیفہ ہے بھئی جگہ دے دو، لیکن کوئی توجہ ہی نہیں دے رہا اس کی طرف، پروا ہی نہیں کر رہے، سب اسی طرح حجر اسود پر لگے ہوئے تھے، خلیفہ کو جگہ ہی نہیں ملی اس کو واپس آنا پڑا۔ تو اب جب یہ شخص آئے تو ان کے لیے راستہ بن گیا، تو اب درباریوں نے خلیفہ سے کہا کہ یہ کون آدمی تھا جو جس کی لوگوں کے دلوں میں اتنی عظمت ہے بھئی؟ جن کی کیا ہے لوگوں کے دلوں میں؟ اتنی عظمت ہے۔ اب یہ جو بزرگ تھے، یہ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ تھے، جو بیٹے ہیں حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے اور پوتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے۔ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ بڑے جلیل القدر، جلیل القدر تابعی اور اور بہت بڑے ولی اللہ اور ان کو اللہ نے بڑی مقبولیت نصیب فرمائی تھی لوگوں کے اندر بھئی۔ تو یہ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ تھے بھئی، یہ آئے بھئی اور تو اب جب خلیفہ سے پوچھا گیا، درباریوں نے کہا کہ یہ کون آدمی ہے کہ لوگوں نے اس کے لیے راستہ چھوڑ دیا؟ اب خلیفہ جانتا تو تھا لیکن ان کے سامنے جان بوجھ کر अनजान بن گیا، کہنے لگا: "پتا نہیں یہ کون ہے، میں تو نہیں جانتا یہ کون ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اتنی ان کی عظمت اور ہیبت ہے۔" تو اس وقت وہاں فرزدق عرب کا مشہور شاعر کھڑا تھا، اس نے یہ بات سن لی بھئی۔ اس کو بڑی غیرت آئی کہ یہ کیسے خلیفہ نے کہہ دیا کہ میں اس آدمی کو نہیں جانتا بھئی! چنانچہ اس موقع پر اس نے یہ اشعار کہے بھئی: "هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ" بڑا کافی اشعار اس نے کہے، یہ ان میں سے پہلا شعر ہے۔ کیا کہتا ہے؟ "هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ" یہ وہی شخص ہے کہ سرزمین عرب ان کے چلنے کو، ان کی چال کو پہچانتی ہے "وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ" اور یہ وہ آدمی ہے کہ بیت اللہ بھی ان کو جانتا ہے "وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ" اور سرزمینِ حل اور سرزمینِ حرم بھی ان کو جانتی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ اب مقامِ استشهاد ہے "هَذَا" شروع میں جو آیا۔ اب یہاں پر شاعر یہ بھی کہہ سکتا تھا "هُوَ الَّذِي"، 'هو' بھی لایا جا سکتا تھا، اور بھی کوئی صورت ہو سکتی تھی ذکر کرنے کی، لیکن شاعر نے کیا ذکر کیا؟ "هَذَا" ذکر کیا، کس لیے؟ "كَمَالِ الْعِنَايَةِ بِهِ" ان کو کامل توجہ دینے کے لیے زین العابدین رحمہ اللہ کو، ان کو کامل طور پر سب سے ممتاز اور نمایاں کرنے کے لیے کہ یہ ہے وہ جس کو کیا ہے سرزمینِ عرب ان کو جانتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وَبَيَانِ حَالِهِ فِي الْقُرْبِ وَالْبُعْدِ نَحْوُ: هَذَا يُوسُفُ، وَذَاكَ أَخُوهُ، وَذَلِكَ غُلَامُهُ" بھئی یاد رکھیے، آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام مثلاً یوسف ہے، وہ آپ کے پاس کھڑا ہے۔ آپ دوسرے کو بتلانا چاہتے ہیں یہ یوسف ہے، تو آپ اس کو کہہ سکتے ہیں "هُوَ يُوسُفُ"، یہ کون ہے؟ یوسف ہے۔ لیکن اگر 'هو' آپ لے کر آئیں گے، مسند الیہ کو ضمیر کی صورت میں لائیں گے، تو یہ پتا نہیں چلے گا کہ یہ آپ کے قریب کھڑا ہے یا دور کھڑا ہے؛ کیونکہ اگر وہ قریب ہوا تب بھی یہی کہنا پڑے گا "هُوَ يُوسُفُ"، اگر دور ہوا پھر بھی یہی کہنا پڑے گا "هُوَ يُوسُفُ"۔ تو 'هو' کہنے کی صورت میں قریب یا دور ہونے کا پتا نہیں چلے گا۔ لیکن آپ یہ بھی بتلانا چاہتے ہیں دوسرے کو کہ یہ میرے قریب ہے، تو پھر اس صورت میں اسمِ اشارہ ساتھ لے کر آئیں گے اور اسمِ اشارہ قریب والا، اور یوں کہیں گے "هَذَا يُوسُفُ"، یہ کیا ہے؟ یوسف ہے۔ اب اس سے دو فائدے ہوئے سننے والے کو: ایک تو یہ پتا چل گیا کہ یوسف یہ والا آدمی ہے، اور دوسرا یہ بھی پتا چل گیا کہ یہ کہنے والے کے قریب ہے اس وقت۔ کہنے والے کے، جو بات کر رہا ہے جس نے "هَذَا يُوسُفُ" کہا اس نے کیا لفظ استعمال کیا؟ "هَذَا"، اور 'هذا' تو کس لیے آتا ہے؟ قریب کے لیے، معلوم ہوا یوسف اس کے قریب ہے اس وقت بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح مثلاً یوسف اب کچھ متوسط فاصلے پر ہے، اب آپ وہاں پر بھی کہہ سکتے ہیں "هُوَ يُوسُفُ"، وہ یوسف ہے۔ لیکن 'هو' کہنے کی صورت میں یہ پتا نہیں چلے گا کہ یہ قریب ہے یا متوسط فاصلے پر کھڑا ہے، اور آپ یہ بھی بتلانا چاہتے ہیں سننے والے کو، تو لہٰذا ایسے موقع پر متوسط کے لیے جو استعمال ہوتا ہے اسمِ اشارہ وہ لے آئیں تو دونوں فائدے ہو جائیں گے۔ اب آپ کہتے ہیں "ذَاكَ يُوسُفُ"، وہ یوسف ہے، 'ذاك' متوسط درجے کے لیے اسمِ اشارہ ہے، تو اب سننے والے کو دو باتوں کا فائدہ ہوا اس سے: ایک تو یہ بھی پتا چل گیا کہ یہ یوسف ہے اور 'ذاك' کے ذریعے یہ بھی پتا چل گیا کہ یہ بات کرنے والے سے اس وقت متوسط درجے کے فاصلے پر ہے، نہ زیادہ قریب ہے نہ زیادہ دور ہے۔ اور اگر یوسف دور کھڑا ہے، اب آپ یہ بھی یوں بھی کہہ سکتے ہیں "هُوَ يُوسُفُ"، اب بھی 'هو' کہہ سکتے ہیں، لیکن اس سے سننے والے کو یہ نہیں پتا چلے گا کہ وہ دور ہے یا قریب ہے، اور آپ تو یہ بھی بتلانا چاہتے ہیں تو پھر اس موقع پر بعد بتلانے کے لیے کیا لے آؤ؟ بعید والا اسمِ اشارہ لے آؤ اور کہو "ذَلِكَ يُوسُفُ"۔ اب جب "ذَلِكَ يُوسُفُ" کہا اس سے سننے والے کو پتا چل گیا کہ وہ یوسف ہے، نیز ایک اور فائدہ بھی اس کو ہو گیا وہ کیا؟ کہ وہ اس سے دور کھڑا ہے، یہ دور ہونے کا معنی کس سے پتا چلا؟ 'ذلك' کے ذریعے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا جب مسند الیہ کا کی حالت آپ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ وہ میرے قریب ہے یا بعید ہے یا متوسط فاصلے پر ہے تو پھر اس کے لیے اسمِ اشارہ ہی لانا پڑے گا، باقی ضمیر کی صورت میں یہ پتا نہیں چلے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: "وَبَيَانِ حَالِهِ فِي الْقُرْبِ وَالْبُعْدِ" اور اس مسند الیہ کے حال کو بیان کرنے کے لیے قریب ہونے میں اور بعید ہونے میں، "نَحْوُ" مثال کے طور پر "هَذَا يُوسُفُ" یہ یوسف ہے، "وَذَاكَ أَخُوهُ" اور وہ اس کا بھئی ہے، یہ 'ذاك' کس لیے استعمال ہوتا ہے؟ متوسط، تو یہاں "وَهُوَ أَخُوهُ" بھی کہہ سکتے تھے لیکن اس سے پھر فاصلے کا پتا نہ چلتا، "وَذَلِكَ غُلَامُهُ" اور وہ اس کا غلام ہے، یہاں یہ بھی کہا جا سکتا تھا "وَهُوَ غُلَامُهُ" لیکن اس سے دور ہونے کا پتا نہ چلتا بھئی۔ "وَالتَّعْظِيمِ نَحْوُ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ، وَذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ" بھئی یاد رکھیے، اسمِ اشارہ قریب کو کبھی لایا جاتا ہے تعظیم کے لیے، کس لیے؟ تعظیم کے لیے، تعظیم کے لیے۔ اور کبھی اسمِ اشارہ بعید کو لایا جاتا ہے تعظیم کے لیے، تو کبھی 'هذا' استعمال ہوگا تعظیم کے لیے اور کبھی 'ذلك' استعمال ہوگا تعظیم کے لیے۔ اور کبھی اس کا عکس ہوتا ہے، یہ 'هذا' اسمِ اشارہ قریب والا جو ہے اس کو تحقیر کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے یا اسی طرح اسمِ اشارہ جو بعید والا ہے اس کو تحقیر کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے اور یہ موقع محل جہاں استعمال ہوتا ہے پتا لگ جاتا ہے کہ یہ کس لیے استعمال ہو رہا ہے، تحقیر کے لیے ہے یا تعظیم کے لیے ہے بھئی۔ جیسے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: "نَحْوُ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ" بے شک یہ قرآن جو ہے ہدایت دیتا ہے، رہنمائی کرتا ہے اس راستے کی طرف جو سیدھا ہے، جو سب سے سیدھا ہے۔ بے شک یقیناً یہ قرآن جو ہے رہنمائی کرتا ہے اس راستے کی طرف جو سب سے سیدھا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھیے یہاں پر کہا گیا "هَذَا الْقُرْآنَ"، اسمِ اشارہ 'هذا' استعمال کیا گیا حالانکہ اس کے بغیر بھی بات بن جاتی "إِنَّ الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ"، بے شک قرآن رہنمائی کرتا ہے اس راستے کی طرف جو سب سے زیادہ سیدھا ہے، تو 'هذا' کو ذکر نہ کیا جاتا کلام پھر بھی ہو جاتا، لیکن 'هذا' ذکر کیا گیا تعظیم کے لیے کہ یہ قرآن ہے جو رہنمائی کرتا ہے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کی! یہ اشارہ کس لیے کیا گیا؟ تعظیم کے لیے اشارہ کیا گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تعظیم کے لیے اشارہ کیا گیا۔ یعنی قرآن اتنی با عظمت کتاب ہے، اتنی با عظمت کتاب ہے، اتنی عظیم کتاب ہے جو سیدھے راستے کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے اور جو اس کو صحیح طریقے سے اس کو دیکھتا ہے، پڑھتا ہے اور تو یقیناً یقیناً یقیناً جو ہے وہ حق راستے تک پہنچ جائے گا اس کے ذریعے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھو کتنی عظیم کتاب ہے تو لہٰذا اس کے لیے 'هذا' لایا گیا، یہ قرآن ہے! یعنی اتنی با عظمت کتاب ہے یہ، اتنی با عظمت کتاب ہے جب تک اس کی طرف اشارہ نہ کر دیا جائے تم لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی کہ یہ کتنی با عظمت کتاب ہے، یہ ہے وہ کتاب جو کیا کر رہی ہے؟ ہدایت کی طرف سب کی رہنمائی کرتی ہے بھئی، یہ ہے وہ کتاب! معنی سمجھ میں آ رہا ہے، توجہ ہے بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ قرآن آپ کے سامنے رکھا ہے اور آپ کسی کو بتلا رہے ہیں مثلاً ذرا اسی آیت کو اسی اس انداز میں کلام کرتے ہیں: "یہ ہے وہ قرآن جو رہنمائی کرتا ہے سیدھے راستے کی طرف بھئی۔" یعنی گویا یوں کہا گیا یہ اتنی با عظمت کتاب ہے اور یہ لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے سیدھے راستے کی طرف، لیکن جب تک اس کی طرف اشارہ نہیں کر دیں گے تمہیں اس کا اس کی عظمت کا احساس نہیں ہو سکتا پوری طرح، یہ ہے وہ کتاب جو کیا کرتی ہے؟ سیدھے راستے کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا اور اردو میں اس کی مثال دیکھ لیں، آپ بھی کبھی اس کو استعمال کرتے ہیں، مثلاً فرض کریں ایک موقع ایسا ہوا کہ ایک مرتبہ آپ سب کے ساتھ میں بیٹھا ہوا ہوں باتوں میں مصروف ہوں کہ اچانک میرے استاد تشریف لے آتے ہیں، کون لے آتے ہیں تشریف؟ میرے استاد تشریف لے آتے ہیں۔ تو جب میرے استاد آتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ کے سامنے کچھ دین کی باتیں، کچھ نصیحتیں وغیرہ ذکر فرما دیں۔ چنانچہ وہ باتیں کرتے ہیں اور بڑی دل کو لگنے والی باتیں، یعنی جو دل پر اثر انداز ہوتی ہیں، وہ نصیحتیں وغیرہ کر کے تشریف لے جاتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تشریف لے جاتے ہیں۔ تو اب میں آپ لوگوں کی طرف خطاب کرتے ہوئے آپ سے کہتا ہوں: "یہ ہیں میرے استاد بھئی!" غور کر رہے ہیں آپ معنی پر بھئی؟ میں آپ سے کیا کہتا ہوں؟ "یہ ہیں میرے استاد جو ابھی بیان کر رہے تھے۔" تو دیکھو یہ میں 'یہ' کیوں لے کر آیا؟ تعظیم کے طور پر بھئی! یہ نہ بھی کہتا تو مطلب اردو میں تو طریقہ ہی مثلاً یہ بنے گا لیکن بہرحال تو صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ ہیں میرے استاد بھئی، یہ ہیں میرے استاد! تو یہ 'یہ' اسمِ اشارہ کس لیے ذکر کیا گیا؟ تعظیم کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا جیسے آپ نے اور دنیاوی چیزوں میں مثال لے لیں اور بھئی، آپ نے ایک عمدہ گاڑی خریدی، اب آپ دوسرے ساتھی کو کہتے ہیں: "میں نے گاڑی خریدی ہے آپ کو دکھاؤں بھئی، آؤ۔" گاڑی اور بھی گاڑیاں کھڑی ہیں، آپ وہاں لے گئے اپنی گاڑی کے پاس اور اس کو کہتے ہیں: "یہ ہے میری گاڑی بھئی!" اعلیٰ قسم کی گاڑی آپ نے خریدی ہے اب کیا کہتے ہیں؟ "یہ ہے میری گاڑی بھئی!" یہ کس لیے کہا آپ نے؟ کہ یہ بڑی کمال گاڑی ہے، عام گاڑی نہیں ہے بھئی، کمال کی گاڑی ہے۔ اب معنی سمجھ میں آیا یا نہیں بھئی؟ تو یہ اسمِ اشارہ استعمال کیا جاتا ہے کبھی تعظیم کے لیے۔ کہتے ہیں: "إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ" بے شک یہ قرآن جو ہے رہنمائی کرتا ہے اس راستے کی طرف جو سیدھا ہے، جو سب سے زیادہ سیدھا ہے، "وَذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ" اور یہ کتاب جو ہے "لَا رَيْبَ فِيهِ" اس کے اندر کوئی شک نہیں، ادنیٰ درجے کا شک بھی نہیں کس بات میں؟ کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے، آسمان سے نازل کی ہوئی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے، یہ کتاب ہے جس کے اندر ادنیٰ درجے کا شک و شبہ بھی نہیں کہ یہ منزل من اللہ ہے، اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔ اب دیکھیے یہاں 'ذلك' اسمِ اشارہ بعید والا استعمال کیا گیا۔ کتاب تو سامنے موجود ہے، ہونا کیا چاہیے تھا؟ "هَذَا الْكِتَابُ"، لیکن کیا کہا گیا؟ "ذَلِكَ الْكِتَابُ"، وہ کتاب بھئی! اردو میں تو وہی ترجمہ تو اردو میں اسی طرح ہوگا "یہ کتاب جو ہے"، لیکن اس یا عربی کے اندر کیا استعمال کیا گیا؟ 'ذلك' استعمال کیا گیا اسمِ اشارہ بعید والا تعظیم کے طور پر، کس لیے؟ تعظیم کے طور پر۔ بھئی تعظیم کس طرح ہے 'ذلك' کے اندر؟ کہتے ہیں دیکھیے، اس میں یہ بتلا دیا گیا کہ یہ کتاب رتبے کے اعتبار سے، مقام کے اعتبار سے بڑی اونچی ہے، جب بڑی اونچی ہے تو آپ سے بہت دور ہے بھئی۔ جب بہت دور ہے تو اس کے لیے 'ذلك' اسمِ اشارہ استعمال کر لیا گیا۔ تو دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ دور ہے رتبے کے اعتبار سے، تو بعدِ رتبی ہے یہاں پر، کس اعتبار سے دور ہے؟ بعدِ رتبی ہے، رتبے کے اعتبار سے دور ہے۔ مقام کے اعتبار سے تو دور نہیں، آپ کے سامنے موجود ہے، لیکن پھر بھی کیا ہے؟ "ذَلِكَ الْكِتَابُ"، تو اس بعدِ رتبی کو بعدِ مکانی کے درجے میں اتار لیا گیا، یعنی جگہ کے اعتبار سے آپ سے بہت دور ہے یا صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بعدِ رتبی کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ بعدِ مکانی کے درجے میں۔ اصل میں تو ہے رتبے کے اعتبار سے بہت اونچی اور بہت دور، لیکن گویا یہ رتبے کے اعتبار سے اونچا ہونا یہ کس طرح ہے؟ مسافت کے اعتبار سے ہی دور ہونا ہوا، اس لیے کیا استعمال کیا گیا؟ 'ذلك'، یعنی یہ رتبے کے اعتبار سے بڑی اونچی کتاب ہے، یہ بتلا دیا گیا اس کے ذریعے سے۔ "ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ"، اس کتاب کے اندر کوئی شک نہیں ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو 'هذا' کبھی قریب والا اسمِ اشارہ تعظیم کے لیے ذکر ہوتا ہے اور کبھی 'ذلك' بعید والا۔ "وَالتَّحْقِيرِ" اور کبھی تحقیر کے لیے ہوگا اسمِ اشارہ، یہ یہ اس اس کا عکس ہے۔ پہلے 'هذا' اسمِ اشارہ قریب والا تعظیم کے لیے تھا، اب کس لیے ہوگا؟ تحقیر کے لیے، جیسے: "أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شب و روز حج کے لیے یا ویسے عمرے کے لیے وہ مکہ مکرمہ گیا بھئی۔ اب مکہ مکرمہ گیا وہاں اس نے طواف وغیرہ تو کر لیا اور بیت اللہ کے ایک کونے پر جو دروازے کے ساتھ والا کونہ ہے، وہاں پر حجر اسود نصب ہے وہ جنتی پتھر نصب ہے، جس سے طواف کی ابتدا ہوتی ہے اور اسی پر طواف کا اختتام ہوتا ہے۔ تو اب طواف کی ابتدا میں حجر اسود کو بوسہ دیا جاتا ہے، پھر ہر چکر کے اندر حجر اسود کو بوسہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ہجوم بہت زیادہ، تو حجر اسود تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے تو پھر دور سے حجر اسود کی طرف ہاتھ اٹھا کر ان ہاتھوں کو بوسہ دے لیا جاتا ہے۔ تو اب حجر اسود پر ہر وقت بڑا ہی ہجوم رہتا ہے، ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس پتھر کو وہ اس جنتی پتھر کو وہ بوسہ دے جس کو سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا تھا بھئی۔ تو اب خلیفہ ہشام ابن عبدالملک جو ہے، اس نے طواف وغیرہ کر لیا اور پھر اس کا ارادہ ہوا کہ میں جا کر ذرا حجر اسود کو بوسہ دے دوں، لیکن حجر اسود پر بڑا ہجوم تھا۔ خیر وہ ہمت کر کے پہنچا، بڑی کوشش کی لیکن حجر اسود تک نہ پہنچ سکا، آخر دھکے کھا کر واپس لوٹ آیا بھئی۔ اب واپس آ کر بیٹھ گیا اور افسوس بھی ہو رہا ہے کہ حجر اسود تک نہیں پہنچ سکا، ابھی بیٹھا ہوا ہے دربار جو اس کے جو وزیر وغیرہ ہیں وہ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اچانک کیا دیکھتا ہے؟ ایک نورانی صورت والے بزرگ داخل ہوئے اور حرم کی اس مسجد میں داخل ہوئے اور ان کو دیکھتے ہی لوگوں نے دیکھا کہ وہ آ رہے ہیں تو انہوں نے فوراً راستہ چھوڑ دیا اور حجر اسود تک پورا راستہ کھول دیا ان کے لیے، سب ایک طرف ہو گئے۔ وہ اطمینان سے گئے اور جا کر حجر اسود کو بوسہ دیا۔ تو خلیفہ یہ دیکھ رہا تھا اور اس کے وزیر وغیرہ بھی دیکھ رہے تھے، وہ حیران ہو گئے کہ یہ کون شخص ہے؟ یہ کیسا آدمی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کی اتنی عظمت اور ہیبت ہے کہ اس کو دیکھ کر انہوں نے راستہ چھوڑ دیا۔ خلیفہ کے لیے تو وہ جگہ نہیں چھوڑ رہے تھے! خلیفہ کے بارے میں بھی تو وزیروں نے لوگوں کو کہا ہوگا کہ یہ خلیفہ ہے بھئی جگہ دے دو، لیکن کوئی توجہ ہی نہیں دے رہا اس کی طرف، پروا ہی نہیں کر رہے، سب اسی طرح حجر اسود پر لگے ہوئے تھے، خلیفہ کو جگہ ہی نہیں ملی اس کو واپس آنا پڑا۔ تو اب جب یہ شخص آئے تو ان کے لیے راستہ بن گیا، تو اب درباریوں نے خلیفہ سے کہا کہ یہ کون آدمی تھا جو جس کی لوگوں کے دلوں میں اتنی عظمت ہے بھئی؟ جن کی کیا ہے لوگوں کے دلوں میں؟ اتنی عظمت ہے۔ اب یہ جو بزرگ تھے، یہ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ تھے، جو بیٹے ہیں حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے اور پوتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے۔ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ بڑے جلیل القدر، جلیل القدر تابعی اور اور بہت بڑے ولی اللہ اور ان کو اللہ نے بڑی مقبولیت نصیب فرمائی تھی لوگوں کے اندر بھئی۔ تو یہ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ تھے بھئی، یہ آئے بھئی اور تو اب جب خلیفہ سے پوچھا گیا، درباریوں نے کہا کہ یہ کون آدمی ہے کہ لوگوں نے اس کے لیے راستہ چھوڑ دیا؟ اب خلیفہ جانتا تو تھا لیکن ان کے سامنے جان بوجھ کر अनजान بن گیا، کہنے لگا: "پتا نہیں یہ کون ہے، میں تو نہیں جانتا یہ کون ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اتنی ان کی عظمت اور ہیبت ہے۔" تو اس وقت وہاں فرزدق عرب کا مشہور شاعر کھڑا تھا، اس نے یہ بات سن لی بھئی۔ اس کو بڑی غیرت آئی کہ یہ کیسے خلیفہ نے کہہ دیا کہ میں اس آدمی کو نہیں جانتا بھئی! چنانچہ اس موقع پر اس نے یہ اشعار کہے بھئی: "هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ" بڑا کافی اشعار اس نے کہے، یہ ان میں سے پہلا شعر ہے۔ کیا کہتا ہے؟ "هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ" یہ وہی شخص ہے کہ سرزمین عرب ان کے چلنے کو، ان کی چال کو پہچانتی ہے "وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ" اور یہ وہ آدمی ہے کہ بیت اللہ بھی ان کو جانتا ہے "وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ" اور سرزمینِ حل اور سرزمینِ حرم بھی ان کو جانتی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ اب مقامِ استشهاد ہے "هَذَا" شروع میں جو آیا۔ اب یہاں پر شاعر یہ بھی کہہ سکتا تھا "هُوَ الَّذِي"، 'هو' بھی لایا جا سکتا تھا، اور بھی کوئی صورت ہو سکتی تھی ذکر کرنے کی، لیکن شاعر نے کیا ذکر کیا؟ "هَذَا" ذکر کیا، کس لیے؟ "كَمَالِ الْعِنَايَةِ بِهِ" ان کو کامل توجہ دینے کے لیے زین العابدین رحمہ اللہ کو، ان کو کامل طور پر سب سے ممتاز اور نمایاں کرنے کے لیے کہ یہ ہے وہ جس کو کیا ہے سرزمینِ عرب ان کو جانتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وَبَيَانِ حَالِهِ فِي الْقُرْبِ وَالْبُعْدِ نَحْوُ: هَذَا يُوسُفُ، وَذَاكَ أَخُوهُ، وَذَلِكَ غُلَامُهُ" بھئی یاد رکھیے، آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام مثلاً یوسف ہے، وہ آپ کے پاس کھڑا ہے۔ آپ دوسرے کو بتلانا چاہتے ہیں یہ یوسف ہے، تو آپ اس کو کہہ سکتے ہیں "هُوَ يُوسُفُ"، یہ کون ہے؟ یوسف ہے۔ لیکن اگر 'هو' آپ لے کر آئیں گے، مسند الیہ کو ضمیر کی صورت میں لائیں گے، تو یہ پتا نہیں چلے گا کہ یہ آپ کے قریب کھڑا ہے یا دور کھڑا ہے؛ کیونکہ اگر وہ قریب ہوا تب بھی یہی کہنا پڑے گا "هُوَ يُوسُفُ"، اگر دور ہوا پھر بھی یہی کہنا پڑے گا "هُوَ يُوسُفُ"۔ تو 'هو' کہنے کی صورت میں قریب یا دور ہونے کا پتا نہیں چلے گا۔ لیکن آپ یہ بھی بتلانا چاہتے ہیں دوسرے کو کہ یہ میرے قریب ہے، تو پھر اس صورت میں اسمِ اشارہ ساتھ لے کر آئیں گے اور اسمِ اشارہ قریب والا، اور یوں کہیں گے "هَذَا يُوسُفُ"، یہ کیا ہے؟ یوسف ہے۔ اب اس سے دو فائدے ہوئے سننے والے کو: ایک تو یہ پتا چل گیا کہ یوسف یہ والا آدمی ہے، اور دوسرا یہ بھی پتا چل گیا کہ یہ کہنے والے کے قریب ہے اس وقت۔ کہنے والے کے، جو بات کر رہا ہے جس نے "هَذَا يُوسُفُ" کہا اس نے کیا لفظ استعمال کیا؟ "هَذَا"، اور 'هذا' تو کس لیے آتا ہے؟ قریب کے لیے، معلوم ہوا یوسف اس کے قریب ہے اس وقت بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح مثلاً یوسف اب کچھ متوسط فاصلے پر ہے، اب آپ وہاں پر بھی کہہ سکتے ہیں "هُوَ يُوسُفُ"، وہ یوسف ہے۔ لیکن 'هو' کہنے کی صورت میں یہ پتا نہیں چلے گا کہ یہ قریب ہے یا متوسط فاصلے پر کھڑا ہے، اور آپ یہ بھی بتلانا چاہتے ہیں سننے والے کو، تو لہٰذا ایسے موقع پر متوسط کے لیے جو استعمال ہوتا ہے اسمِ اشارہ وہ لے آئیں تو دونوں فائدے ہو جائیں گے۔ اب آپ کہتے ہیں "ذَاكَ يُوسُفُ"، وہ یوسف ہے، 'ذاك' متوسط درجے کے لیے اسمِ اشارہ ہے، تو اب سننے والے کو دو باتوں کا فائدہ ہوا اس سے: ایک تو یہ بھی پتا چل گیا کہ یہ یوسف ہے اور 'ذاك' کے ذریعے یہ بھی پتا چل گیا کہ یہ بات کرنے والے سے اس وقت متوسط درجے کے فاصلے پر ہے، نہ زیادہ قریب ہے نہ زیادہ دور ہے۔ اور اگر یوسف دور کھڑا ہے، اب آپ یہ بھی یوں بھی کہہ سکتے ہیں "هُوَ يُوسُفُ"، اب بھی 'هو' کہہ سکتے ہیں، لیکن اس سے سننے والے کو یہ نہیں پتا چلے گا کہ وہ دور ہے یا قریب ہے، اور آپ تو یہ بھی بتلانا چاہتے ہیں تو پھر اس موقع پر بعد بتلانے کے لیے کیا لے آؤ؟ بعید والا اسمِ اشارہ لے آؤ اور کہو "ذَلِكَ يُوسُفُ"۔ اب جب "ذَلِكَ يُوسُفُ" کہا اس سے سننے والے کو پتا چل گیا کہ وہ یوسف ہے، نیز ایک اور فائدہ بھی اس کو ہو گیا وہ کیا؟ کہ وہ اس سے دور کھڑا ہے، یہ دور ہونے کا معنی کس سے پتا چلا؟ 'ذلك' کے ذریعے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا جب مسند الیہ کا کی حالت آپ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ وہ میرے قریب ہے یا بعید ہے یا متوسط فاصلے پر ہے تو پھر اس کے لیے اسمِ اشارہ ہی لانا پڑے گا، باقی ضمیر کی صورت میں یہ پتا نہیں چلے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: "وَبَيَانِ حَالِهِ فِي الْقُرْبِ وَالْبُعْدِ" اور اس مسند الیہ کے حال کو بیان کرنے کے لیے قریب ہونے میں اور بعید ہونے میں، "نَحْوُ" مثال کے طور پر "هَذَا يُوسُفُ" یہ یوسف ہے، "وَذَاكَ أَخُوهُ" اور وہ اس کا بھئی ہے، یہ 'ذاك' کس لیے استعمال ہوتا ہے؟ متوسط، تو یہاں "وَهُوَ أَخُوهُ" بھی کہہ سکتے تھے لیکن اس سے پھر فاصلے کا پتا نہ چلتا، "وَذَلِكَ غُلَامُهُ" اور وہ اس کا غلام ہے، یہاں یہ بھی کہا جا سکتا تھا "وَهُوَ غُلَامُهُ" لیکن اس سے دور ہونے کا پتا نہ چلتا بھئی۔ "وَالتَّعْظِيمِ نَحْوُ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ، وَذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ" بھئی یاد رکھیے، اسمِ اشارہ قریب کو کبھی لایا جاتا ہے تعظیم کے لیے، کس لیے؟ تعظیم کے لیے، تعظیم کے لیے۔ اور کبھی اسمِ اشارہ بعید کو لایا جاتا ہے تعظیم کے لیے، تو کبھی 'هذا' استعمال ہوگا تعظیم کے لیے اور کبھی 'ذلك' استعمال ہوگا تعظیم کے لیے۔ اور کبھی اس کا عکس ہوتا ہے، یہ 'هذا' اسمِ اشارہ قریب والا جو ہے اس کو تحقیر کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے یا اسی طرح اسمِ اشارہ جو بعید والا ہے اس کو تحقیر کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے اور یہ موقع محل جہاں استعمال ہوتا ہے پتا لگ جاتا ہے کہ یہ کس لیے استعمال ہو رہا ہے، تحقیر کے لیے ہے یا تعظیم کے لیے ہے بھئی۔ جیسے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: "نَحْوُ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ" بے شک یہ قرآن جو ہے ہدایت دیتا ہے، رہنمائی کرتا ہے اس راستے کی طرف جو سیدھا ہے، جو سب سے سیدھا ہے۔ بے شک یقیناً یہ قرآن جو ہے رہنمائی کرتا ہے اس راستے کی طرف جو سب سے سیدھا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھیے یہاں پر کہا گیا "هَذَا الْقُرْآنَ"، اسمِ اشارہ 'هذا' استعمال کیا گیا حالانکہ اس کے بغیر بھی بات بن جاتی "إِنَّ الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ"، بے شک قرآن رہنمائی کرتا ہے اس راستے کی طرف جو سب سے زیادہ سیدھا ہے، تو 'هذا' کو ذکر نہ کیا جاتا کلام پھر بھی ہو جاتا، لیکن 'هذا' ذکر کیا گیا تعظیم کے لیے کہ یہ قرآن ہے جو رہنمائی کرتا ہے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کی! یہ اشارہ کس لیے کیا گیا؟ تعظیم کے لیے اشارہ کیا گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تعظیم کے لیے اشارہ کیا گیا۔ یعنی قرآن اتنی با عظمت کتاب ہے، اتنی با عظمت کتاب ہے، اتنی عظیم کتاب ہے جو سیدھے راستے کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے اور جو اس کو صحیح طریقے سے اس کو دیکھتا ہے، پڑھتا ہے اور تو یقیناً یقیناً یقیناً جو ہے وہ حق راستے تک پہنچ جائے گا اس کے ذریعے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھو کتنی عظیم کتاب ہے تو لہٰذا اس کے لیے 'هذا' لایا گیا، یہ قرآن ہے! یعنی اتنی با عظمت کتاب ہے یہ، اتنی با عظمت کتاب ہے جب تک اس کی طرف اشارہ نہ کر دیا جائے تم لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی کہ یہ کتنی با عظمت کتاب ہے، یہ ہے وہ کتاب جو کیا کر رہی ہے؟ ہدایت کی طرف سب کی رہنمائی کرتی ہے بھئی، یہ ہے وہ کتاب! معنی سمجھ میں آ رہا ہے، توجہ ہے بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ قرآن آپ کے سامنے رکھا ہے اور آپ کسی کو بتلا رہے ہیں مثلاً ذرا اسی آیت کو اسی اس انداز میں کلام کرتے ہیں: "یہ ہے وہ قرآن جو رہنمائی کرتا ہے سیدھے راستے کی طرف بھئی۔" یعنی گویا یوں کہا گیا یہ اتنی با عظمت کتاب ہے اور یہ لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے سیدھے راستے کی طرف، لیکن جب تک اس کی طرف اشارہ نہیں کر دیں گے تمہیں اس کا اس کی عظمت کا احساس نہیں ہو سکتا پوری طرح، یہ ہے وہ کتاب جو کیا کرتی ہے؟ سیدھے راستے کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا اور اردو میں اس کی مثال دیکھ لیں، آپ بھی کبھی اس کو استعمال کرتے ہیں، مثلاً فرض کریں ایک موقع ایسا ہوا کہ ایک مرتبہ آپ سب کے ساتھ میں بیٹھا ہوا ہوں باتوں میں مصروف ہوں کہ اچانک میرے استاد تشریف لے آتے ہیں، کون لے آتے ہیں تشریف؟ میرے استاد تشریف لے آتے ہیں۔ تو جب میرے استاد آتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ کے سامنے کچھ دین کی باتیں، کچھ نصیحتیں وغیرہ ذکر فرما دیں۔ چنانچہ وہ باتیں کرتے ہیں اور بڑی دل کو لگنے والی باتیں، یعنی جو دل پر اثر انداز ہوتی ہیں، وہ نصیحتیں وغیرہ کر کے تشریف لے جاتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تشریف لے جاتے ہیں۔ تو اب میں آپ لوگوں کی طرف خطاب کرتے ہوئے آپ سے کہتا ہوں: "یہ ہیں میرے استاد بھئی!" غور کر رہے ہیں آپ معنی پر بھئی؟ میں آپ سے کیا کہتا ہوں؟ "یہ ہیں میرے استاد جو ابھی بیان کر رہے تھے۔" تو دیکھو یہ میں 'یہ' کیوں لے کر آیا؟ تعظیم کے طور پر بھئی! یہ نہ بھی کہتا تو مطلب اردو میں تو طریقہ ہی مثلاً یہ بنے گا لیکن بہرحال تو صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ ہیں میرے استاد بھئی، یہ ہیں میرے استاد! تو یہ 'یہ' اسمِ اشارہ کس لیے ذکر کیا گیا؟ تعظیم کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا جیسے آپ نے اور دنیاوی چیزوں میں مثال لے لیں اور بھئی، آپ نے ایک عمدہ گاڑی خریدی، اب آپ دوسرے ساتھی کو کہتے ہیں: "میں نے گاڑی خریدی ہے آپ کو دکھاؤں بھئی، آؤ۔" گاڑی اور بھی گاڑیاں کھڑی ہیں، آپ وہاں لے گئے اپنی گاڑی کے پاس اور اس کو کہتے ہیں: "یہ ہے میری گاڑی بھئی!" اعلیٰ قسم کی گاڑی آپ نے خریدی ہے اب کیا کہتے ہیں؟ "یہ ہے میری گاڑی بھئی!" یہ کس لیے کہا آپ نے؟ کہ یہ بڑی کمال گاڑی ہے، عام گاڑی نہیں ہے بھئی، کمال کی گاڑی ہے۔ اب معنی سمجھ میں آیا یا نہیں بھئی؟ تو یہ اسمِ اشارہ استعمال کیا جاتا ہے کبھی تعظیم کے لیے۔ کہتے ہیں: "إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ" بے شک یہ قرآن جو ہے رہنمائی کرتا ہے اس راستے کی طرف جو سیدھا ہے، جو سب سے زیادہ سیدھا ہے، "وَذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ" اور یہ کتاب جو ہے "لَا رَيْبَ فِيهِ" اس کے اندر کوئی شک نہیں، ادنیٰ درجے کا شک بھی نہیں کس بات میں؟ کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے، آسمان سے نازل کی ہوئی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے، یہ کتاب ہے جس کے اندر ادنیٰ درجے کا شک و شبہ بھی نہیں کہ یہ منزل من اللہ ہے، اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔ اب دیکھیے یہاں 'ذلك' اسمِ اشارہ بعید والا استعمال کیا گیا۔ کتاب تو سامنے موجود ہے، ہونا کیا چاہیے تھا؟ "هَذَا الْكِتَابُ"، لیکن کیا کہا گیا؟ "ذَلِكَ الْكِتَابُ"، وہ کتاب بھئی! اردو میں تو وہی ترجمہ تو اردو میں اسی طرح ہوگا "یہ کتاب جو ہے"، لیکن اس یا عربی کے اندر کیا استعمال کیا گیا؟ 'ذلك' استعمال کیا گیا اسمِ اشارہ بعید والا تعظیم کے طور پر، کس لیے؟ تعظیم کے طور پر۔ بھئی تعظیم کس طرح ہے 'ذلك' کے اندر؟ کہتے ہیں دیکھیے، اس میں یہ بتلا دیا گیا کہ یہ کتاب رتبے کے اعتبار سے، مقام کے اعتبار سے بڑی اونچی ہے، جب بڑی اونچی ہے تو آپ سے بہت دور ہے بھئی۔ جب بہت دور ہے تو اس کے لیے 'ذلك' اسمِ اشارہ استعمال کر لیا گیا۔ تو دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ دور ہے رتبے کے اعتبار سے، تو بعدِ رتبی ہے یہاں پر، کس اعتبار سے دور ہے؟ بعدِ رتبی ہے، رتبے کے اعتبار سے دور ہے۔ مقام کے اعتبار سے تو دور نہیں، آپ کے سامنے موجود ہے، لیکن پھر بھی کیا ہے؟ "ذَلِكَ الْكِتَابُ"، تو اس بعدِ رتبی کو بعدِ مکانی کے درجے میں اتار لیا گیا، یعنی جگہ کے اعتبار سے آپ سے بہت دور ہے یا صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بعدِ رتبی کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ بعدِ مکانی کے درجے میں۔ اصل میں تو ہے رتبے کے اعتبار سے بہت اونچی اور بہت دور، لیکن گویا یہ رتبے کے اعتبار سے اونچا ہونا یہ کس طرح ہے؟ مسافت کے اعتبار سے ہی دور ہونا ہوا، اس لیے کیا استعمال کیا گیا؟ 'ذلك'، یعنی یہ رتبے کے اعتبار سے بڑی اونچی کتاب ہے، یہ بتلا دیا گیا اس کے ذریعے سے۔ "ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ"، اس کتاب کے اندر کوئی شک نہیں ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو 'هذا' کبھی قریب والا اسمِ اشارہ تعظیم کے لیے ذکر ہوتا ہے اور کبھی 'ذلك' بعید والا۔ "وَالتَّحْقِيرِ" اور کبھی تحقیر کے لیے ہوگا اسمِ اشارہ، یہ یہ اس اس کا عکس ہے۔ پہلے 'هذا' اسمِ اشارہ قریب والا تعظیم کے لیے تھا، اب کس لیے ہوگا؟ تحقیر کے لیے، جیسے: "مکہ والوں کو دعوت و تبلیغ میں مصروف رہتے کہ یہ لوگ شرک کے راستے کو چھوڑ کر توحید پر آ جائیں۔ تو وہ لوگ حضور علیہ السلام کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور یوں کہتے: "أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ" کیا یہ وہی ہے جو تمہارے معبودوں کو یاد کرتا ہے ان کو ذکر کرتا ہے؟ تو یہ تحقیر کے طور پر کہتے تھے، هذا। یہ هذا کس طرح کس لیے کہتے تھے؟ تحقیر کے طور پر۔ کیونکہ هذا قریب وال کے لیے اسمِ اشارہ ہے اور جو چیز آپ کے قریب ہوتی ہے، آپ کی دسترس میں ہوتی ہے، آپ کے دل میں اس کی وہ اہمیت نہیں ہوتی، اور جو چیز آپ سے دور ہوتی ہے اور آپ کی دسترس میں نہیں ہوتی، آپ کے دل میں اس کی توجہ اس کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح ہے یا اسی طرح نہیں ہے بھئی؟ اسی طرح ہے۔ تو یہاں هذا قریب والا اسمِ اشارہ استعمال کیا گیا تحقیر کے لیے کہ ان کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کس طرح کہتے؟ "أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ" کیا یہی ہے وہ آدمی جو تمہارے معبودوں کو ذکر کرتا ہے؟ یعنی ان کہتا ہے کہ وہ معبود نہیں ہیں۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ "أَهَذَا الَّذِي" کیا یہ وہی ہے؟ تو یہ تحقیر کے طور پر کہتے تھے بھئی، معنی بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں؟ تحقیر والا پہلو اس میں سمجھ میں آ رہا ہے واضح طور پر کہ نہیں؟ "أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ" کیا یہ یہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کو ذکر کرتا ہے؟ تو یہ کس لیے کہا کرتے تھے؟ بطورِ تحقیر کے کہتے تھے؟ اور اسی طرح "فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ" دعا يدع کے معنی ہوتے ہیں ظالمانہ طریقے سے کسی کو دھکے دینا بھئی، "فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ" تو یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، جو کیا کرتا ہے؟ یتیم کو دھکے دیتا ہے، تو یہاں ذلك اسمِ اشارہ بعید والا استعمال کیا گیا تحقیر کے طور پر۔ کسی کافر کا ذکر کرتے ہوئے اللہ فرماتے ہیں: "فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ" یہی وہ شخص ہے جو کیا کرتا ہے یتیم کو دھکے دیتا ہے، تو یہ ذلك ذکر کیا گیا تحقیر کے طور پر۔ بھئی ذلك کے اندر تحقیر کس طرح ہے؟ بھئی دیکھیے، جب آپ مثلاً ذلك استعمال کرتے ہیں، ایک شخص ہے آپ کے قریب لیکن آپ کیا استعمال کر لیتے ہیں؟ ذلك بعید والا اسمِ اشارہ تحقیر کے طور پر، تو اس کے اندر تحقیر اس طرح ہے گویا آپ سننے والوں کو یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ ہے تو اگرچہ اس قریب میرے لیکن لیکن رتبے کے اعتبار سے بڑا ہی گھٹیا اور ادنیٰ آدمی ہے، میری نظروں سے بہت دور ہے یہ اور گرا ہوا ہے میری نظروں سے، یہ اس قابل نہیں کہ یہ میرے قریب آئے اور اس کے ساتھ اس سے بات کی جائے بھئی، یہ بہت دور ہے میری نظروں سے گرا ہوا ہے بھئی۔ تو سمجھے نا؟ "فَذَلِكَ" تو یہ اسمِ اشارہ بعید والا استعمال کیا گیا یہ بتلانے کے لیے کہ یہ میرے قریب ہونے کے لائق نہیں ہے، یہ اس قابل نہیں ہے کہ اس سے میں خطاب کروں اور اس سے بات کروں، یہ میری نظروں سے گرا ہوا اور بہت دور اور ادنیٰ درجے کا آدمی ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے "فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ" تو یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔