Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-040

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔40 والنص على عموم السلب، أو سلب العموم. فالأول يكون بتقديم أداة العموم على أداة النفي نحو: كل ذلك لم يكن أي لم يقع هذا ولا ذاك. والثاني يكون بتقديم أداة النفي على أداة العموم نحو: لم يكن كل ذلك أي لم يقع المجموع، فيحتمل ثبوت البعض، ويحتمل نفي كل فرد. گذشتہ سبق میں ہم نے تیسرا باب شروع کیا تھا، تقديم اور تاخير کے بیان میں۔ اور صاحب کتاب نے آپ کو تقديم کے کچھ دواعی بتلائے تھے کہ بعض لفظوں کو کلام میں مقدم کیا جاتا ہے، تو وہ تقديم کے اندر کیا کیا نکات ہو سکتے ہیں؟ ایک نقطہ یہ بیان کیا کہ بعض اوقات کسی لفظ کو مقدم کیا جاتا ہے تاکہ سننے والے کو شوق دلایا جائے بعد میں آنے والے لفظ کا بھئی، بعد میں آنے والی خبر کا، جبکہ وہ مقدم ہونے والا خبر دے رہا ہو انوکھا ہونے کی، عجیب ہونے کی۔ اور کبھی کبھار جو ہے، وہ تقديم کا داعی جو ہے، وہ جلدی دوسرے کو خوشی دینا یا جلدی دوسرے کو غم دینا ہوتا ہے بھئی۔ اور اس میں میں نے بتلایا تھا کہ بھئی خوشی اور غم تو پوری بات سننے کے بعد ہوگی۔ جب پوری بات سنے گا کوئی، تو پھر اس کے بعد خوشی والی بات ہوئی تو خوش ہوگا اور غم والی بات ہوئی تو غمزدہ ہوگا۔ تو پھر یہ ایک لفظ کو مقدم کرنے سے جلدی خوش کیسے ہوتا ہے؟ تو میں نے بتلایا تھا کہ نیک فالی اور بد فالی لیتے ہوئے، پہلا لفظ ہی اچھا سنتا ہے تو اس سے نیک فالی اور نیک شگون مراد لیتا ہے کہ پہلا لفظ اچھا آیا تو آگے بھی یقیناً اچھی ہی بات آنے والی ہے، تو وہ پہلے لفظ سے ہی خوش ہو جاتا ہے، ابھی بات کا اسے پورا پتہ نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ صرف نیک شگونی لیتے ہوئے، نیک فالی مراد لیتے ہوئے وہ خوش ہو جاتا ہے۔ اور اسی طرح بعض اوقات کسی برے لفظ کو مقدم کر دیا جاتا ہے، تو وہ پہلا لفظ سنتے ہی دوسرا غمزدہ ہو جاتا ہے، برا شگون لیتے ہوئے، بد فالی مراد لیتے ہوئے، کہ شروع میں اتنا ہی، اتنا برا لفظ آ گیا تو یقیناً آگے بھی کوئی بری ہی بات آنے والی ہے۔ تو پہلا لفظ سنتے ہی وہ بدشگونی مراد لیتے ہوئے غمزدہ ہو جاتا ہے۔ اور اسی طرح بعض اوقات کسی لفظ کو مقدم کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ انکار اور تعجب کا مدار ہوتا ہے اس لفظ پر بھئی۔ انکار اور تعجب کا مدار اسی لفظ پر ہوتا ہے، تو اس کو بھی مقدم کر دیا جاتا ہے بھئی۔ اور میں نے اس کی مثال ذکر کی تھی: أبعد طول التجربة تنخدع بهذه الزخارف. یہاں تین صورتیں ہو سکتی ہیں، اگر آپ کو حیرت ہے لمبے تجربے کے بعد دھوکہ کھانے پر، تو بعد طول التجربة کو مقدم کریں گے۔ اگر آپ کو نفسِ دھوکہ کھانے پر تعجب ہے اور اس کا انکار کر رہے ہیں، تو تنخدع کو مقدم کریں گے۔ اور اگر چمکتی ہوئی چیزوں سے دھوکہ کھانے پر تعجب ہے، تو پھر بهذه الزخارف کو کیا کریں گے؟ مقدم کریں گے۔ اور اسی طرح تقديم کا داعی جو ہے کبھی کبھار، وہ ترقی کے راستے پر چلنا ہے، یعنی پہلے عام کو ذکر کیا جائے اور اس کے بعد کس کو ذکر کیا جائے؟ خاص کو۔ اور اسی طرح تقديم کا ایک داعی جو ہے، وہ ترتیبِ وجودی کی رعایت رکھنا، یعنی خارج میں جو چیز پہلے پائی جاتی ہے اس کو پہلے ذکر کرنا اور جو بعد میں پائی جاتی ہے اس کو بعد میں ذکر کرنا بھئی۔ یہ کچھ نکات تقديم کے ذکر ہوئے۔ آج مزید نکات بیان کریں گے۔ تو پہلا نقطہ اس میں پھر مزید بیان کر رہے ہیں: والنص على عموم السلب، أو سلب العموم. نص کا یہاں معنی ہے تصریح کرنا، صراحۃً کوئی بات ذکر کرنا۔ ایک ہے اشاروں کی صورت میں، کسی چیز کی طرف اشارہ کر دینا، ایک صراحۃً، واضح، کھلے لفظوں کے اندر ایک بات کہہ دینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصریح کہتے ہیں بھئی، صراحت، کھلے لفظوں کے ساتھ بھئی۔ تو مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زيد قائم. اب یہ میں نے کوئی اشاروں، کنایوں میں بات نہیں کی بلکہ کھلے لفظوں کے اندر آپ کو بتلایا، کس چیز کے بارے میں؟ قیامِ زید۔ اس کو کہتے ہیں تصریح بھئی، صراحت کر دینا، واضح لفظوں سے کوئی بات کر دینا، اس کو کہتے ہیں صراحت۔ یہ ہے، یہ جو نص کا لفظ ہے، اس کا یہ معنی ہے۔ تو کہتے ہیں: والنص على عموم السلب، أو سلب العموم. بھئی یہاں دو لفظ آئے، ایک ہے عموم، ایک ہے سلب۔ عموم کا کیا معنی ہے؟ عام ہونا، اور سلب، سلب کا معنی ہے نفی، نفی۔ بھئی آپ جانتے ہیں، کچھ لفظ ایسے ہیں جو عموم کا فائدہ دیتے ہیں، جیسے کل، جمیع وغیرہ بھئی۔ مثلاً اگر میں کہتا ہوں صرف دراہم، تو دراہم کا کیا معنی؟ کچھ درہم، لیکن اسی پر اگر میں کل کا لفظ داخل کر دوں اور یوں کہوں: کل دراہم، اب کیا معنی ہوا؟ سارے دراہم۔ تو دیکھو، اس کل لفظ نے دراہم میں عموم پیدا کر دیا اور بتلا دیا کہ کچھ دراہم نہیں مراد بلکہ وہ سارے، وہ سارے دراہم مراد ہیں۔ اسی طرح میں کہتا ہوں: رجال، کچھ آدمی، کچھ لوگ، لیکن اسی پر اگر میں جمیع کا لفظ یا کل کا لفظ داخل کر دوں: جمیع رجال، اب کیا معنی ہوا؟ سارے مرد، سارے لوگ بھئی۔ تو یہ عموم کس سے آیا؟ جمیع کے لفظ سے۔ اسی طرح کس سے، دراہم میں کس سے عموم آیا؟ کل کے لفظ کے ذریعے، تو دیکھیے یہ کل اور جمیع وغیرہ کے الفاظ جو ہیں، یہ عموم کا فائدہ دیتے ہیں، یا یوں دوسرے لفظوں میں کہیے، شمول کا فائدہ دیتے ہیں، سارے افراد کو شامل کر لیتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے عموم۔ اور ایک ہے سلب، سلب کا معنی ہے نفی، نفی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: قام زيد، زید کھڑا ہے۔ زید کھڑا ہوا۔ اب دیکھیے، میں زید کے لیے قیام ثابت کر رہا ہوں۔ اسی پر اگر میں حرفِ ما لے آؤں: ما قام زيد، اب کیا معنی ہوگا؟ زید کھڑا نہیں ہے۔ یہ نفی کہاں سے آئی؟ ما کی وجہ سے آئی، تو کچھ الفاظ ایسے ہیں جو نفی کا فائدہ دیتے ہیں، جیسے ما ہے، لا ہے، لم وغیرہ، یہ الفاظ کیا کرتے ہیں؟ جس کلام پر داخل ہوتے ہیں اس میں کیا پیدا کر دیتے ہیں؟ نفی کا معنی پیدا کر دیتے ہیں، تو یہ ہے سلب بھئی، یہ کیا ہے؟ سلب۔ تو دو چیزیں سمجھ میں آ گئیں، ایک کیا ہے؟ عموم، اور ایک کیا ہے؟ سلب ہے، سلب۔ اب مثلاً آپ ایک ایسا کلام کرنا چاہتے ہیں جس میں سلب والے لفظ بھی آئیں گے اور جس میں عموم والے لفظ بھی آئیں گے، کل، جمیع جیسا کوئی لفظ بھی آئے گا عموم پر جو دلالت کرے گا، اور نفی والے بھی کوئی لفظ آئیں گے۔ تو اب کس کو مقدم کریں گے؟ نفی والے لفظ کو مقدم کریں گے یا عموم والے لفظ کو مقدم کریں گے بھئی؟ تو یاد رکھیے، یہ نکات چل رہے ہیں تقديم کے، آپ جس لفظ کو مقدم کریں گے، اس معنی، اس میں معنی اس کی وجہ سے معنی کے اندر بھی تبدیلی آئے گی بھئی۔ تو جو آپ کا ارادہ ہو، جس چیز کی آپ تصریح کرنا چاہتے ہیں، اس کے مطابق اس لفظ کو مقدم کریں۔ جس چیز کی آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ تصریح، تو دونوں کی صورتوں میں معنی الگ الگ ہوگا، یاد رکھیے بھئی۔ دیکھیے، انہوں نے دو لفظ ذکر کیے: عموم السلب، اور دوسرا لفظ کیا ذکر کیا؟ سلب العموم. عموم السلب، ترجمے پہ ذرا غور کیجیے، عموم السلب، کیا معنی؟ عموم مضاف، السلب مضاف الیہ۔ مضاف، مضاف الیہ کا ترجمہ اردو میں کیسے کرتے ہیں؟ غلام زيد، اردو میں کیا ترجمہ کریں گے؟ زید کا غلام۔ دیکھو، مضاف الیہ کا ترجمہ پہلے کرتے ہیں اور مضاف کا بعد میں، اور درمیان میں کا، کے، کی وغیرہ کا لفظ لے آتے ہیں۔ تو موقع و محل کے مطابق، تو یہاں پہلا لفظ آیا: عموم السلب، کیا ترجمہ ہوگا؟ سلب کا عموم، یعنی دوسرے لفظوں میں کہو: نفی کا عموم، یعنی نفی میں عموم پیدا کرنا۔ نفی میں عموم پیدا کرنا، یعنی کہ نفی عام ہو جائے، اس میں عموم ہو، وہ سارے افراد کی نفی کر دے، یہ کیا ہے؟ عموم السلب، عموم السلب بھئی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ دو لفظ ہیں بھئی آپ کے پاس کلام کے اندر، ایک لفظ دلالت کر رہا ہے عموم پر، ایک لفظ دلالت کر رہا ہے سلب پر۔ تو اب کس کو مقدم کرنا ہے؟ یاد رکھیے، جس کو بھی مقدم کریں گے اس کے اعتبار سے معنی بدل جائے گا۔ اگر آپ کلام میں لانا چاہتے ہیں: عموم السلب، عموم السلب کا کیا معنی؟ سلب میں عموم پیدا کرنا، یعنی نفی میں عموم پیدا کرنا۔ تو جب کس میں عموم پیدا کرنا ہے آپ نے؟ نفی میں، تو نفی پر عموم والا لفظ داخل کر دو۔ میں نے کل دراہم کہا تھا، یا پہلے میں نے دراہم کہا تھا، اس دراہم میں میں نے عموم پیدا کرنا تھا، تو اس پر کیا داخل کر دیا تھا میں نے؟ کل کا لفظ۔ تو جس میں عموم پیدا کرنا ہوتا ہے، اس کے، اس پر عموم کا لفظ داخل کر دیا جاتا ہے بھئی۔ جس چیز میں عموم پیدا کرنا ہے اس پر کیا کیا جاتا ہے؟ عموم کا لفظ داخل کر دیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی ہے: عموم السلب، آپ کس چیز میں عموم پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ سلب کے اندر، نفی کے اندر، تو نفی پر کون سا لفظ داخل کر دو؟ عموم کا، یعنی عموم کو پہلے لے آؤ اور اس کے بعد کیا لے آؤ؟ نفی کو لے آؤ، تو نفی عموم کے بعد آ رہی ہے، تو گویا نفی پر کون سا لفظ داخل ہو رہا ہے؟ عموم والا، اور عموم کا لفظ تو جس پر داخل ہوتا ہے اس میں کیا پیدا کر دیتا ہے؟ عموم۔ تو اس، یہاں پر بھی نفی کے اندر کیا پیدا ہو جائے گا؟ عموم پیدا ہو جائے گا، کیا پیدا ہو جائے گا؟ عموم پیدا ہو جائے گا بھئی، عموم پیدا ہو جائے گا۔ جیسے دیکھیے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ظہر یا عصر کی نماز پڑھا رہے تھے اور نماز پڑھاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے اور چار رکعتوں کے بجائے دو رکعتوں پر ہی آپ نے سلام پھیر دیا۔ جب سلام پھیر دیا، تو سلام پھیرتے ہی ایک صحابی حضرت ذوالیدین رضی اللہ تعالی عنہ، وہ فوراً بول اٹھے کہ أقصِرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله؟ کہ "اے، اے اللہ کے پیغمبر! کیا نماز چھوٹی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟" یعنی کیا اللہ کی طرف سے حکم آ گیا ہے، چار کے بجائے اب کتنی ہوا کریں گی رکعتیں؟ دو رکعتیں ہوا کریں گی، کیا نماز ہی چھوٹی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں اور بھولے سے کتنے پر سلام پھیر دیا ہے؟ دو رکعتوں پر۔ تو حضور علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: كل ذلك لم يكن، "ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔" ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ہوئی، یعنی نہ تو نماز چھوٹی ہوئی ہے، یعنی اللہ کی طرف سے کوئی اس کے چھوٹا کرنے کا حکم بھی نہیں آیا، اور نہ میں بھولا ہوں۔ تو وہ فرمانے لگے: بعض ذلك قد كان، "کوئی بات تو ان میں سے ضرور ہوئی ہے۔" کوئی بات تو ضرور ہوئی ہے ان میں سے۔ تو پھر حضور علیہ السلام باقی صحابہ کی طرف مڑے اور پوچھا کہ کیا بھئی ذوالیدین صحیح کہہ رہے ہیں؟ تو صحابہ نے بتلایا کہ یا رسول اللہ! یہ صحیح کہہ رہے ہیں، واقعی ابھی تو صرف دو رکعتیں ہوئی ہیں۔ تو پھر حضور علیہ السلام نے پھر کھڑے ہو گئے اور اگلی دو رکعتیں بھی مکمل کروا دیں بھئی، اور یاد رکھیے یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی نماز کے اندر کلام کرنا منع نہیں تھا بھئی، کلام کرنا منع نہیں تھا، بعد میں نماز کے اندر کلام کرنے سے منع کر دیا گیا، چنانچہ اسی وجہ سے آپ بھی فقہ میں مسئلہ پڑھتے ہیں، اگر نماز میں کسی نے کلام کر دیا تو اس کی نماز ہی نہیں ہوگی بھئی، بات سمجھ میں آئی؟ تو یہ اس کے بعد حکم نازل ہوا، اس سے پہلے ابھی یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اب دیکھیے بھئی! دیکھیے! حدیث میں نے آپ کو پوری سنا دی، اس کے اندر حضرت ذوالیدین رضی اللہ تعالی عنہ نے اولاً کیا لفظ ذکر کیا؟ کیا پوچھا؟ أقصِرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله؟ "کیا آپ، کیا نماز چھوٹی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟" دو چیزوں کا سوال کیا۔ دو چیزوں میں سے ایک کا، کہ کوئی ایک چیز تو ضرور ہوئی ہے، تو حضور علیہ السلام نے جواب میں ذکر کیا بھئی، دیکھیے یہ دوسری سطر کے اندر، کتاب میں بھی آپ کے آ رہا ہے، حضور فرمانے لگے: كل ذلك لم يكن. كل ذلك لم يكن. اب دیکھیے کل ذلك، یہ کون سے الفاظ ہیں؟ عموم والے، اور لم يكن، یہ کون سے الفاظ ہیں؟ نفی والے، تو کس کو مقدم کیا گیا؟ عموم والے لفظ کو مقدم کیا گیا، کیوں؟ کیا بتلانے کے لیے؟ مقصد کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہاں پر؟ کہ وہ عموم، ان کا حضور علیہ السلام کا مقصد عموم السلب تھا، کیا تھا؟ عموم السلب، عموم السلب کا کیا معنی کیا میں نے آسان لفظوں میں؟ نفی میں عموم پیدا کرنا ہے، یعنی نفی ہر ہر فرد کی کر دینا۔ نفی کر دینا ہر ہر، تو نفی میں عموم پیدا کرنا تھا، یعنی انہوں نے پوچھا تھا: یا رسول اللہ! کیا نماز چھوٹی کر دی گئی؟ یعنی نماز کے چھوٹا ہونے کا حکم آ گیا، نماز کے چھوٹا کر دینے کا حکم آ گیا، یا آپ بھول گئے ہیں؟ حضور علیہ السلام جواب میں کیا فرما رہے ہیں؟ كل ذلك لم يكن، ترجمہ کیا کریں گے؟ ترجمہ یاد رکھنا، "ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔" كل ذلك لم يكن، "ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ہوئی،" کوئی بھی چیز ان میں سے نہیں ہوئی۔ اب، کیا معنی تھا کوئی بھی چیز نہیں ہوئی؟ یعنی نہ تو نماز چھوٹی ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں، دونوں کی نفی مراد تھی، دونوں چیزوں کی نفی فرما رہے ہیں، یعنی نفی کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عموم پیدا فرما دیا، ایک کی نفی نہیں کی بلکہ کس کی نفی کر دی؟ جتنی باتیں تھیں سب کی نفی کر دی، اور باتیں کتنی تھیں؟ دو چیزیں تھیں تو دونوں کی نفی ہو گئی۔ چنانچہ اسی لیے بھئی: أي لم يقع هذا ولا ذاك، "نہ تو یہ والی بات واقع ہوئی ہے اور نہ یہ والی ہوئی ہے بھئی۔" ترجمہ کیا کیا انہوں نے کتاب میں؟ أي لم يقع هذا ولا ذاك، "نہ تو یہ والی بات ہوئی ہے اور نہ وہ والی بات ہوئی ہے،" یعنی نہ پہلی والی اور نہ دوسری والی۔ تو یہ، یہاں پر کیا آیا؟ نفی کے اندر عموم آ گیا، عموم کا کیا معنی ہے؟ ہر ہر فرد کا احاطہ کر لینا، کل دراہم، کل نے کیا فائدہ دیا تھا؟ درہم کے ہر ہر فرد کا احاطہ کر لیا تھا، سارے دراہم بھئی، کیا ترجمہ تھا؟ سارے۔ تو یہاں پر بھی لم يكن ہے نفی، اس نفی پر کیا آ گیا؟ کل ذلك، عموم والا لفظ، اس عموم نے کیا فائدہ دیا؟ آگے جو نفی تھی اس میں کیا پیدا کر دیا؟ عموم، کیا معنی نفی کے اندر عموم پیدا کر دیا؟ ایک ہی نفی کی یا دو کی یا ساروں کی کر دی؟ سارے افراد کی نفی کر دی، اور افراد تو تھے ہی یہاں دو، اگر زیادہ ہوتے تو ان سب کی بھی نفی ہو جاتی، تو دو ہی چیزیں تھیں اور ان دونوں کی حضور علیہ السلام نے نفی فرما دی بھئی، نفی فرما دی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تھا عموم السلب بھئی۔ عموم السلب، کیا معنی؟ نفی میں عموم پیدا کرنا۔ نفی میں عموم پیدا کرنا۔ تو کہتے ہیں: والنص على عموم السلب، أو سلب العموم، اور تصریح کرنا عمومِ سلب پر یا سلبِ عموم پر۔ دوسرا ہے سلب العموم بھئی، سلب العموم۔ بھئی دیکھیے۔ سلب العموم، اب ترجمہ کیجیے: سلب العموم. عموم کا سلب کرنا، یعنی عموم کی نفی کرنا۔ عموم کی کیا کر دینا؟ نفی کر دینا، عموم کی نفی کر دینا۔ تو پہلا کیا تھا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ پہلا کیا تھا؟ نفی میں عموم پیدا کرنا تھا، اور اب ہے عموم کی نفی کرنا، تو آسان سی بات ہے، عموم کی ہم نے نفی کرنی ہے، تو نفی جس چیز پر حرفِ نفی آتا ہے، اس کی کیا کر دیتا ہے وہ؟ نفی کر دیتا ہے۔ تو عموم والے لفظ کے اوپر کیا داخل کر دو؟ حرفِ نفی، یعنی اس سے پہلے حرفِ نفی لے آؤ، تو یہ اس عموم کی کیا کر دے گا؟ نفی کر دے گا بھئی، کیا کر دے گا؟ نفی کر دے گا، مثلاً اگر یہی کلام یوں ہو پہلے کیا تھا؟ كُلُّ ذٰلِكَ لَمْ يَكُنْ۔ اب اسی لَمْ يَكُنْ نفی کو اٹھا کر مقدم کر دو، لَمْ يَكُنْ كُلُّ ذٰلِكَ۔ لَمْ يَكُنْ؟ كُلُّ ذٰلِكَ۔ اب کس کو مقدم کیا؟ نفی کو۔ اور نفی جس چیز پر داخل ہوتی ہے، اس میں کیا، اس کی نفی، یعنی یوں کہئے حرفِ سلب۔ حرفِ سلب جس پر داخل ہوتا ہے، اس کی کیا کر دیتا ہے؟ نفی۔ قَامَ زَيْدٌ، کس چیز کا ثبوت تھا؟ قیامِ زید کا۔ اسی پر حرفِ نفی آیا، مَا قَامَ زَيْدٌ، تو اب کیا ہوئی؟ قیام کی نفی ہوئی۔ تو جس پر حرفِ سلب داخل ہوتا ہے، نفی والا حرف داخل ہوتا ہے، اس کی وہ نفی کر دیتا ہے۔ تو یہاں پر بھی کس کی نفی کرنی ہے؟ سلب العموم، عموم کی نفی۔ عموم کی نفی کرنی ہے، تو عموم والے لفظ پر کیا داخل کر دو؟ نفی والا لفظ داخل کر دو۔ اور عموم والا لفظ کیا تھا یہاں پر؟ كُلُّ ذٰلِكَ۔ اب اس پر نفی کو مقدم کر دو اور یوں کہو لَمْ يَكُنْ كُلُّ ذٰلِكَ۔ اب کیا ترجمہ ہوگا؟ اب ترجمہ ہوگا، یہ ساری باتیں نہیں ہوئیں۔ پہلے کیا ترجمہ تھا؟ ترجمہ لکھیں بھئی، ترجمہ لکھ لیں اپنی کتاب پر، یہ پھر بعد میں اپ پریشان ہوں گے۔ پہلا کیا تھا؟ دوسری سطر میں آ رہا ہے كُلُّ ذٰلِكَ لَمْ يَكُنْ، اس کا ترجمہ لکھ لیجیے۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ جلدی لکھیے بھئی، ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ اس سے اگلی سطر میں آ رہا ہے کتاب میں، لَمْ يَكُنْ كُلُّ ذٰلِكَ، اس کا ترجمہ بھی لکھ لیجیے۔ یہ ساری باتیں نہیں ہوئیں۔ یہ ساری باتیں نہیں ہوئیں۔ لکھ لیا بھئی؟ پہلے کا ترجمہ کیا، ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ اور لَمْ يَكُنْ كُلُّ ذٰلِكَ کا کیا ترجمہ، یہ ساری باتیں نہیں ہوئیں۔ اب اپ کے ذہن میں ائے گا بھئی، یہ تو بظاہر ایک جیسا ہی ترجمہ ہے۔ ایک ہی معنی ہے، ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی، یہ ساری باتیں نہیں ہوئی۔ بظاہر لگ رہا ہے یا نہیں لگ رہا؟ نہیں بھئی، بظاہر اپ کو بے شک لگے، لیکن یہ ایک جیسا نہیں۔ دونوں کا معنی ہی الگ الگ ہے۔ پہلے میں کیا تھا؟ عموم السلب۔ یہ دوسرے میں کیا ہے؟ سلب العموم ہے۔ عموم کی نفی کی جا رہی ہے۔ لَمْ يَكُنْ، نفی کا حرف داخل ہو رہا ہے۔ کس پر داخل ہو رہا ہے؟ كُلُّ ذٰلِكَ، عموم والے لفظ پر، تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟ سلب العموم۔ عموم کی نفی ہوگی یہاں پر، عموم کی نفی ہو گئی۔ یہ ساری باتیں نہیں ہوئیں۔ یہ ساری باتیں، یہ کیا ہے؟ عموم۔ اس کی کیا ہو گئی؟ نفی، نہیں ہوئیں۔ اب ترجمے میں فرق ایا بھئی۔ اپ کہیں گے کس طرح فرق ہے؟ پہلا ترجمہ، ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ دوسرا کیا، دوسرے کا کیا ترجمہ ہوا؟ یہ ساری باتیں نہیں ہوئیں۔ بھئی دیکھیے۔ مثلاً، میرے پاس مجھے ملنے مثلاً درجہ ثالثہ والے طلبہ میں سے کوئی بھی ملنے نہیں ایا۔ اب میں یہی بات اپ کے سامنے کہتا ہوں۔ میرے پاس ملنے کوئی نہیں ایا، اب میں اپ سے کہتا ہوں کہ درجہ ثالثہ والا کوئی بھی مجھے ملنے نہیں ایا۔ میرا کلام صحیح ہے یا غلط ہے؟ ان میں سے کوئی بھی نہیں ایا، تو میرا کلام بھی صحیح ہے۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ اگر ان میں سے ایک ایا تھا، اب میں کہتا ہوں درجہ ثالثہ والا میرے پاس کوئی نہیں ایا، اب میرا کلام صحیح ہے، واقعہ کے مطابق ہے یا واقعہ کے مطابق نہیں؟ اب واقعہ کے مطابق، ایک بھی ایا ہوگا تو میں نہیں کہہ سکتا کہ ان میں سے کوئی نہیں ایا۔ دیکھو "کوئی" کا لفظ استعمال کر رہا ہوں اردو میں۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ میرے پاس کوئی نہیں، اب ترجمہ، اب میرا کلام واقعہ کے مطابق نہیں بنتا۔ معلوم ہوا جب میں لفظِ "کوئی" استعمال کر رہا ہوں، اس کے ساتھ نفی کر رہا ہوں، "کوئی نہیں"، تو اس کا مطلب ہے ایک ایک فرد، ہر ایک کی نفی ہو گئی، ایک ایک فرد کی نفی ہو گئی۔ اس کے بجائے اگر میں "سارے" کا لفظ استعمال کرتا ہوں، پھر اور معنی ہے۔ بھئی دیکھیے، یہی بات میں اپ سے کہنا چاہتا ہوں۔ میرے پاس درجہ ثالثہ، ابھی کلام نہیں، واقعہ بیان کر رہا ہوں۔ میرے پاس درجہ ثالثہ والا ایک بھی طالب علم نہیں ایا۔ اب اسی کو میں یوں کہتا ہوں، میرے پاس درجہ ثالثہ والے سارے طلبہ نہیں ائے۔ ابھی بھی میرا کلام صحیح ہے۔ میرا کلام کیا ہے؟ واقعہ کے مطابق ہے۔ میں نے بھی کیا کہا؟ سارے نہیں ائے۔ تو سارے ہی نہیں ائے بھئی، وہی معنی ہے۔ لیکن اگر ایک طالب علم میرے پاس ایا تھا یا دو ائے تھے، اب میں کہتا ہوں میرے پاس درجہ ثالثہ والے سارے طلبہ نہیں ائے۔ اب بھی میرا کلام صحیح ہے یا نہیں؟ ابھی بھی صحیح ہے، دیکھا؟ اس پہلی صورت میں ایک بھی ایا ہوتا تو میں نہیں کہہ سکتا تھا میرے پاس کوئی نہیں ایا۔ لیکن اب ایک دو ا بھی جائیں پھر بھی میں کہہ سکتا ہوں میرے پاس سارے نہیں ائے، کیونکہ سارے تو نہیں ائے، چند ایک ائے ہیں۔ میں بھی یہی بات کر رہا ہوں، میرے پاس سارے نہیں ائے۔ فرق سمجھ میں ایا بھئی؟ معلوم ہوا، پہلے میں تھا، پہلے میں کیا تھا؟ عموم السلب۔ سلب میں عموم تھا جب میں نے "کوئی" کا ترجمہ کیا تھا، "کوئی نہیں ایا"، وہاں کیا تھا؟ عموم السلب۔ نفی میں عموم تھا، نفی ایک ایک فرد کی کی تھی میں نے، کوئی بھی نہیں ایا۔ اب اگر ایک بھی ا جاتا ہے تو میرا کلام واقعہ کے مطابق نہیں۔ اور اب جو میں کہہ رہا ہوں "سارے نہیں ائے"، یہاں پر کیا ہے؟ یہاں سلب العموم ہے، عموم کی میں نفی کر رہا ہوں کہ سارے نہیں ائے۔ اب اس میں دونوں احتمال ہیں، ہو سکتا ہے ایک بھی نہ ایا ہو، پھر بھی میرا کلام صحیح، ہو سکتا ہے بعض تو ائے ہوں لیکن سارے مجموعی طور پر نہیں ائے، تو بھی میرا یہ کلام صحیح ہے کہ میرے پاس سارے نہیں۔ فرق اچھی طرح سمجھ میں اگیا؟ تو یہ ہے فرق عموم السلب میں اور سلب العموم۔ عموم السلب میں کیا ہوتا ہے؟ ایک ایک فرد کی نفی ہو جاتی ہے اور سلب العموم کے اندر شمول کی نفی ہوتی ہے، مجموعے کی نفی ہوتی ہے اور پھر وہاں کتنے احتمال ہیں؟ دو احتمال، دونوں صورتیں درست بنتی ہیں۔ اس صورت میں ایک ایک فرد کی نفی ہو، اس کا بھی یہ کلام احتمال رکھتا ہے اور بعض کی نفی ہو اور بعض کا ثبوت ہو، اس کا بھی وہ کلام احتمال رکھتا ہے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں اگئی؟ یہ ہے عموم السلب اور سلب العموم بھئی۔ تو اب دیکھیے بھئی، اتنی لمبی تقریر کا مقصد کیا تھا؟ اپ کو عموم السلب اور سلب العموم کا فرق بتلانا تھا۔ اب اپ کلام، اپ ایک کلام کرنا چاہتے ہیں، اس کلام کے اندر سلب والے لفظ بھی ا رہے ہیں نفی والے اور اس کلام کے اندر عموم والے لفظ بھی ا رہے ہیں۔ اب کس کو مقدم کیا جائے؟ تو اپ کو بتلا رہے ہیں کتاب کے اندر کہ اپ جو بات کہنا چاہتے ہیں اس کے مطابق لفظ کو مقدم کر دیں۔ اگر اپ کا ارادہ عموم السلب کا ہے، کس کا ارادہ ہے؟ عموم السلب کا ہے، تو عموم والے لفظ کو مقدم کر دینا۔ یہ صراحت ہو جائے گی کہ اپ یہاں پر کیا کر رہے ہیں؟ عموم السلب کر رہے ہیں، یعنی سلب میں یعنی نفی میں کیا پیدا کر رہے ہیں؟ عموم پیدا۔ اور اگر اپ کا ارادہ سلب العموم ہے، تو پھر سلب والے یعنی نفی والے لفظ کو مقدم کر دینا، تو اس سے کلام میں کیا پیدا ہوگا؟ عموم کا، عموم کی نفی ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں ائی؟ تو جس چیز کی اپ تصریح کرنا چاہتے ہیں، اس کے مطابق لفظ کو مقدم کر دینا بھئی۔ کس کو؟ جس کی اپ تصریح کرنا چاہتے ہیں بھئی۔ اب اس میں اشتباہ بھی لگ جاتا ہے کہ یہاں عموم السلب ہے یا سلب العموم ہے۔ دونوں سمجھ میں ایا بھئی؟ بھئی دیکھیے، عموم السلب۔ ذرا اس جملے پر نظر رکھیے جو حضور علیہ السلام نے جواب میں ارشاد فرمایا، كُلُّ ذٰلِكَ لَمْ يَكُنْ۔ یہ کون سا ہے؟ یہ عموم السلب ہے۔ دیکھو، عموم السلب، اس کا ترجمہ کیا تھا؟ نہیں، عموم السلب، عموم السلب کا لفظی ترجمہ کرو۔ سلب کی، سلب کی، عموم السلب کا کیا معنی؟ سلب میں عموم پیدا کرنا۔ اچھا، عموم السلب میں کون سا لفظ پہلے عربی کے اندر؟ عموم پہلے، اس جملے میں بھی دیکھ لو عموم والا لفظ پہلے ہے۔ السلب مضاف الیہ ہے، جملے میں بھی دیکھ لو السلب والا لفظ بعد میں، نفی والا لفظ بعد میں۔ تو جہاں پر عموم والا لفظ پہلے، وہاں کیا کہیں گے اس کو؟ اور نفی، عموم والا لفظ پہلے اور نفی والا، عموم والا لفظ پہلے اور نفی والا بعد میں، اس کو کیا کہیں گے؟ عموم السلب، کیونکہ عموم والا پہلے اور سلب والا بعد میں، تو وہ ہے عموم السلب۔ اور جہاں پر نفی والا لفظ پہلے ہے اور عموم والا لفظ بعد میں ہے، جیسے لَمْ يَكُنْ كُلُّ ذٰلِكَ، کون سا لفظ پہلے؟ نفی، نفی کے لیے کیا لفظ ہے؟ سلب، اور كُلُّ ذٰلِكَ یہ ہے عموم والا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ سلب العموم، کیا کہیں گے؟ جو پہلے ہے اس کو، اس لفظ کو بھی پہلے ذکر کر دینا ہے عربی میں، صورت سمجھ میں اگئی؟ لَمْ يَكُنْ كُلُّ ذٰلِكَ، مجھے بتائیے یہ کیا ہے؟ لَمْ يَكُنْ کیا ہے؟ سلب ہے نا، تو اسی سے نام بنا لو، سلب العموم ہے۔ اور كُلُّ ذٰلِكَ لَمْ يَكُنْ، كُلُّ کیا ہے اس میں؟ عموم ہے، تو عموم السلب اس کا نام ہے بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ یہ پہچان کے لیے یاد رکھنا۔ تو کہتے ہیں: وَالنَّصُّ عَلَى عُمُوْمِ السَّلْبِ أَوْ سَلْبِ الْعُمُوْمِ، اور تقديم کا داعی کبھی کیا ہوگا؟ تصریح کرنا، صراحۃً ذکر کرنا، کس چیز پر تصریح کرنا؟ عُمُوْمِ السَّلْبِ، کس پر؟ عمومِ سلب پر تصریح، أَوْ سَلْبِ الْعُمُوْمِ، یا کس پر تصریح کرنا؟ سلبِ العموم پر تصریح کرنا۔ یعنی جو اپ کا، اگر اپ کا ارادہ اپ تصریح کرنا چاہتے ہیں، صراحۃً کہنا چاہتے ہیں، کیا کہنا چاہتے ہیں؟ عمومِ سلب چاہتے ہیں، تو پھر کس کو مقدم کرنا؟ عموم والے لفظ کو مقدم کرنا۔ اور اگر اپ صراحت کرنا چاہتے ہیں کس چیز کی؟ سلبِ العموم کی، تو کس کو مقدم کر دینا؟ سلب کو مقدم کر دینا۔ بات سب کو سمجھ میں اگئی بھئی؟ فَالْأَوَّلُ يَكُوْنُ بِتَقْدِيْمِ أَدَاةِ الْعُمُوْمِ عَلَى أَدَاةِ النَّفْيِ، پس پہلا جو ہے، پہلا کون بھئی؟ عمومِ سلب جو ہے، یہ يَكُوْنُ بِتَقْدِيْمِ أَدَاةِ الْعُمُوْمِ عَلَى أَدَاةِ النَّفْيِ، یہ اداةِ عموم کو یعنی عموم والے الفاظ کو مقدم کرنے سے ہوگا عَلَى أَدَاةِ النَّفْيِ کس پر مقدم کرنے سے؟ اداةِ نفی پر، یعنی اپ اداةِ عموم یعنی عموم والے کلمات کو کیا کر دیں؟ مقدم کر دیں کس پر؟ نفی والے کلمات پر۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ نَحْوُ كُلُّ ذٰلِكَ لَمْ يَكُنْ، یعنی ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی، أَيْ لَمْ يَقَعْ هٰذَا وَلَا ذَاكَ، نہ تو یہ بات واقع ہوئی ہے اور نہ یہ والی۔ وَالثَّانِي، دوسری کیا چیز تھی بھئی؟ سلب العموم، يَكُوْنُ بِتَقْدِيْمِ أَدَاةِ النَّفْيِ عَلَى أَدَاةِ الْعُمُوْمِ، تو یہ جو دوسرا ہے یعنی سلب العموم، یہ اداةِ نفی کو اداةِ عموم پر مقدم کرنے سے ہوگا بھئی۔ کس کو مقدم کر دیں؟ اداةِ نفی، کیونکہ سلب العموم، کون سا لفظ پہلے؟ سلب والا، تو اس میں بھی نفی کلام میں مقدم ہوگی۔ نَحْوُ مثال کے طور پر، لَمْ يَكُنْ كُلُّ ذٰلِكَ، کیا ترجمہ ہوا؟ یہ ساری باتیں نہیں ہوئیں، أَيْ لَمْ يَقَعِ الْمَجْمُوْعُ، دیکھا؟ یہ مجموعہ نہیں ہوا، یہ ساری باتیں نہیں ہوئیں۔ فَيَحْتَمِلُ ثُبُوْتَ الْبَعْضِ وَيَحْتَمِلُ نَفْيَ كُلِّ فَرْدٍ، تو یہ کلام احتمال رکھتا ہے بعض کے ثبوت کا۔ یعنی مجموعہ نہیں، سارے نہیں ائے، ہو سکتا ہے بعض ائے ہوں، تو یہ کلام احتمال رکھتا ہے بعض کے ثبوت، وَيَحْتَمِلُ نَفْيَ كُلِّ فَرْدٍ، اور یہ کلام احتمال رکھتا ہے ہر فرد کی نفی کا بھی، یعنی کوئی بھی نہ ایا ہو پھر بھی اپ کا کلام صادق ہے، اس کا بھی اس میں احتمال ہے۔ فرق اچھی طرح سمجھ میں اگیا؟ تو داعی بیان ہو رہا ہے تقديم کا، اگر اپ کس چیز کی تصریح کرنا چاہتے ہیں؟ سلبِ العموم کی، تو کس کو مقدم کر دو؟ سلب والے لفظ کو اور عموم والے کو مؤخر کر دو۔ اور اگر اپ جو ہیں عمومِ سلب چاہتے ہیں، تو پھر کس کو مقدم کر دینا؟ عموم والے لفظ کو مقدم کر دینا اور سلب والے لفظ کو مؤخر کر دینا، یہ ہے تقديم کا نکتہ بھئی۔ اگلے، اگے دیکھیے: وَتَقْوِيَةُ الْحُكْمِ إِذَا كَانَ الْخَبَرُ فِعْلًا نَحْوُ اَلْهِلَالُ ظَهَرَ وَذٰلِكَ لِتَكْرَارِ الْإِسْنَادِ۔ وَتَقْوِيَةُ الْحُكْمِ، اور حکم کو قوی کرنا، مضبوط کرنا، اس میں قوت پیدا کرنا، إِذَا كَانَ الْخَبَرُ فِعْلًا، جب کہ خبر فعل ہو۔ جب کہ خبر کیا ہو؟ فعل ہو۔ نَحْوُ مثال کے طور پر، اَلْهِلَالُ ظَهَرَ، چاند ظاہر ہو گیا، یعنی چاند نظر اگیا۔ چاند نظر اگیا، اب ترکیب کیا ہوگی؟ اَلْهِلَالُ مبتدا اور ظَهَرَ فعل ہے، اس کا اسناد هُوَ ضمیر کی طرف بھئی، اور فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کی؟ اَلْهِلَالُ کی، تو یہاں دیکھیے اسناد دو دفعہ اگیا اور اسناد دو دفعہ ا جائے تو پھر اس میں قوت پیدا ہو جائے گی۔ ایک چیز ایک دفعہ ہے، ایک چیز دو دفعہ ہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ جب ایک چیز دو دفعہ ا جائے تو اس میں زیادہ قوت ہوگی بنسبت ایک کے بھئی، بات سمجھ میں ائی بھئی؟ بھئی اسی کلام کو اگر میں یوں کہوں، ظَهَرَ الْهِلَالُ، ظَهَرَ الْهِلَالُ، ظَهَرَ فعل، اَلْهِلَالُ اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ اور اسناد کتنی دفعہ یہاں ایا؟ ایک ہی مرتبہ، ظَهَرَ فعل، اَلْهِلَالُ اس کا فاعل، بس یہی ایک اسناد ہے۔ لیکن اس کا اگر میں عکس کروں، اَلْهِلَالُ کو پہلے لے اؤں اور ظَهَرَ کو بعد میں لے اؤں، تو دیکھنا دو دفعہ اسناد ائے گا، دوبارہ سنو ترکیب۔ اب میں کس کو مقدم کرتا ہوں؟ اَلْهِلَالُ، اَلْهِلَالُ ظَهَرَ، اَلْهِلَالُ مبتدا، ظَهَرَ فعل، اس کے اندر هُوَ ضمیر جو فاعل ہے اور راجع ہے اَلْهِلَالُ کو۔ تو ظَهَرَ کے اندر میں نے هُوَ ضمیر نکالی، اسی اَلْهِلَالُ کو اس کا فاعل نہیں بنایا، کیوں نہیں بنایا؟ کیونکہ اَلْهِلَالُ کا لفظ ظَهَرَ فعل پر مقدم ہے اور فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا بھئی، جب مقدم ہو جائے کوئی لفظ تو وہ کچھ اور تو ترکیب میں بنے گا لیکن فاعل نہیں بن سکتا۔ تو اَلْهِلَالُ ظَهَرَ، تو اَلْهِلَالُ کا لفظ ظَهَرَ پر کیا ہے؟ مقدم ہے، لہٰذا یہ ظَهَرَ کے لیے فاعل بن سکتا ہے؟ نہیں بن سکتا، تو لہٰذا اب اَلْهِلَالُ کو میں نے کیا بنایا؟ مبتدا، اور ظَهَرَ فعل، ظَهَرَ کے بعد تو اگے کوئی لفظ ہے نہیں اور اس کے لیے فاعل ضرور چاہیے۔ اَلْهِلَالُ تو اس کا فاعل بن نہیں سکتا، پھر اسی کے اندر کیا کریں گے؟ ضمیر نکالیں گے، تو ظَهَرَ فعل کا اسناد ہوا کس کی طرف؟ هُوَ ضمیر کی طرف، وہ اس کے لیے فاعل ہے اور وہی هُوَ ضمیر راجع ہے کس کو؟ اَلْهِلَالُ کو، تو لہٰذا ظَهَرَ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کی؟ اَلْهِلَالُ کی، تو اسناد دو دفعہ اگیا۔ پہلے ظَهَرَ کا اسناد ہوا هُوَ ضمیر کی طرف، کس کی طرف؟ اور پھر پورا جملہ ہو کر اس کا اسناد ہوا کس کی طرف؟ مبتدا اَلْهِلَالُ کی طرف بھئی، تو اسناد کتنی دفعہ ایا؟ دو دفعہ، اور تو یہ کیوں ایا؟ کیونکہ اَلْهِلَالُ کو میں نے مقدم کیا ہے ظَهَرَ پر۔ اگر اسی کو میں مؤخر کرتا تو اسناد ایک دفعہ ہوتا، ظَهَرَ الْهِلَالُ، کتنی دفعہ اسناد؟ ایک دفعہ، اور اَلْهِلَالُ ظَهَرَ، اب کتنی دفعہ اسناد؟ دو دفعہ، تو کس کے اندر قوت زیادہ ہے؟ اَلْهِلَالُ ظَهَرَ کے اندر بھئی، صورت سمجھ میں اگئی؟ تو لہٰذا دیکھیے، ظَهَرَ الْهِلَالُ، کتنی دفعہ اسناد؟ ایک دفعہ۔ میں اپنے جو بات کرنے لگا ہوں اس میں میں قوت پیدا کرنا چاہتا ہوں، زور پیدا کرنا چاہتا ہوں، بھئی اسناد ایک دفعہ ہو تو معلوم ہوا قوت والی بات نہیں، زور والی بات نہیں، لیکن میں کیا پیدا کرنا چاہتا ہوں اپنے کلام میں؟ زور پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اگر میں کہتا ہوں نا مثلاً ظَهَرَ الْهِلَالُ، چاند نظر اگیا، اب یہ ہلکی پھلکی سی بات ہے۔ لیکن جب میں نے کیا کہا؟ اَلْهِلَالُ ظَهَرَ، اب میری بات قوت والی ہو گئی، کیونکہ اسناد دو دفعہ ایا، گویا اب میں اس کہنے والے کو یہ بتلا رہا ہوں کہ یہ جو میں بات کر رہا ہوں، یہ کوئی بے تحقیقی بات نہیں کر رہا بلکہ کس قسم کی بات کر رہا ہوں؟ پکی بات کر رہا ہوں، کیا کر رہا ہوں؟ پکی، مضبوط بات کر رہا ہوں بھئی، تو کون سی کلام میں قوت جو تحقیق کے ساتھ ہو یا جو بے تحقیق ہو؟ جو تحقیق کے ساتھ ہو یقینا اس میں قوت ہوتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی تو یہاں بھی وہ یہی بیان کرنا چاہتا ہے کہنے والا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں وتقوية الحكم إذا... تو یہاں تقدیم کے نکات بیان ہو رہے ہیں، تو یہاں الہلال کو مقدم کیا گیا ظہر پر، کیوں مقدم کیا گیا؟ داعیِ تقدیم کیا ہے یہاں پر؟ تقوية الحكم، حکم میں قوت پیدا کرنا۔ حکم سے کیا مراد ہے؟ بات، آسان لفظوں میں، میں نے کیا کہا تھا؟ بات۔ بات کے اندر قوت اور زور پیدا کرنا جو بات آپ کرنے لگے ہیں۔ وتقوية الحكم إذا كان الخبر فعلاً اور حکم میں یعنی بات میں، بات کو قوی کرنا إذا كان الخبر فعلاً جبکہ خبر کیا ہو؟ فعل ہو، جہاں پر بھی دیکھئے الہلال مبتدا ہے اور ظہر جو اس کی خبر ہے، وہ کیا ہے؟ فعل ہے۔ وذلك لتكرار الإسناد اور یہ بھئی تقویۃِ حکم کیوں ہوتا ہے؟ یہاں پر بات میں قوت کیوں آجاتی ہے؟ کہتے ہیں لتكرار الإسناد، اسناد کے تکرار کی وجہ سے، تکرار کا معنی ہے ایک چیز کا دوسری دفعہ آنا، یہ کیا ہے؟ تکرار۔ تو یہاں پر بھی اسناد کا تکرار ہوا، اسناد کتنی دفعہ آگیا؟ دو دفعہ آگیا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں وذلك لتكرار الإسناد اور یہ تقویۃِ حکم جو ہے، اسناد کے تکرار کی وجہ سے ہے۔ والتخصيص، اگلا نقطہ آگیا تخصیص بھئی۔ بعض اوقات ایک لفظ کو مقدم کر دیا جاتا ہے تو وہ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ آپ نے ضابطہ پڑھا ہوگا تقدیم ما حقه التأخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص۔ تقدیم ما حقه التأخير مقدم کرنا اس لفظ کو جس کا حق مؤخر کرنا تھا کہ اس کو کیا کیا جاتا؟ ایک لفظ کو مؤخر کیا جانا چاہئے تھا اس کو اگر مقدم کر دیا جائے تو یہ تقدیم فائدہ دیتی ہے حصر، قصر اور تخصیص کا۔ حصر، قصر... قاف دو نقطوں والا... اور تخصیص، تینوں کا ایک معنی ہے، اس لئے میں تینوں لفظ بول رہا ہوں۔ کبھی کیا لفظ بول دیتے ہیں؟ حصر، کبھی کیا لفظ بول دیتے ہیں؟ قصر، کبھی کیا لفظ بول دیتے ہیں؟ تخصیص۔ تو حصر... تقدیم ما حقه التأخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص، جس لفظ کو مؤخر ہونا چاہئے تھا اس کو مقدم کر دینا، یہ حصر، قصر اور تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً دیکھئے بھئی، قرآن میں آیا إياك نعبد۔ اگر یہ، یہ إياك یہ مفعول ہے، اس کو مؤخر کر دیا... اس کا مقام تو مؤخر تھا بھئی۔ نعبدك نعبدك، لیکن پھر ترجمہ کیا ہوتا اگر یہ مؤخر ہوتا؟ نعبدك، ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں۔ تو یہاں اللہ کی عبادت کا تو اقرار ہے، لیکن غیر اللہ کی عبادت کی نفی نہیں، تخصیص یہاں نہیں ہے۔ اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، بھئی باقیوں کی بھی عبادت کرتے ہو یا نہیں کرتے؟ اس بارے میں ذکر ہی نہیں یہاں پر۔ ہاں اگر وہ، اگر باقیوں کی بھی عبادت ہو تو بھی یہ کلام صحیح ہے، پھر بھی یہ کلام کیا ہے؟ یعنی، یعنی واقع کے مطابق پھر بھی ہو جاتا، نعبدك، ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پر کیا کیا گیا؟ نعبدك، کاف ضمیر جو مفعول کی تھی اس کو مقدم کر دیا گیا، پہلے ضمیرِ متصل تھی، اب ضمیرِ منفصل آگئی، وہی ضمیر ہے بس منفصل بن گئی، کیا... اب کیا بنا؟ إياك نعبد، تو جس لفظ کا حق مؤخر ہونا تھا اس کو مقدم کر دیا گیا اور تقدیم ما حقه التأخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص، جس کا حق مؤخر ہونا تھا لیکن اس کو مقدم کر دیا گیا، یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ إياك نعبد، اب کیا ترجمہ ہوگا؟ ہم آ... صرف آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، یعنی ہم صرف آپ کی عبادت کرتے ہیں، اب تخصیص آگئی۔ تخصیص کس کو کہتے ہیں؟ تخصیص کہتے ہیں مذکور کے لئے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقیوں سے اس کی نفی ہے۔ تخصیص کسے کہتے ہیں؟ مذکور... جس کے لئے ذکر... جس کو ذکر کیا جا رہا ہے، اس کے لئے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقی سب سے اس کی کیا ہے؟ نفی۔ اسی طرح نفی کے اندر دیکھ لیں تخصیص۔ مذکور کے لئے ایک چیز کی نفی ہے تو باقیوں کے لئے اس کا اثبات ہے۔ تخصیص کی بات کر رہا ہوں، تخصیص کسے کہتے ہیں؟ اے... یا یوں کہیں۔ ایک کے لئے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقیوں سے اس چیز کی نفی ہے، اور نفی میں اگر ایک سے ایک چیز کی نفی ہے تو باقیوں کے لئے اس کا اثبات، یہ ہے تخصیص بھئی۔ یعنی باقیوں کا معاملہ اِ... اس ایک کے سے برعکس ہو، اس کے لئے اگر اثبات ہے تو باقیوں سے کیا ہو؟ نفی، اور اگر اس سے نفی ہے تو باقیوں کے لئے اثبات ہو، یہ ہے تخصیص بھئی۔ تو یہاں پر دیکھئے، إياك نعبد، اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، تو اللہ کے لئے عبادت کا جب اقرار ہے تو باقیوں کی عبادت کی نفی ہے، دیکھا یہ ہے تخصیص بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی طرح دیکھئے، ما أنا قلت، ما أنا قلت مفعول یہاں محذوف ہے، ما أنا قلت هذا۔ سمجھ میں آیا؟ قالَ مفعول چاہتا ہے، اس کو حذف کر دیا کیونکہ مفعول فضلہ ہوتا ہے، زائد چیز ہوتی ہے، اس کو بعض اوقات کلام سے حذف بھی کر لیتے ہیں۔ فاعل کو تو حذف نہیں کیا جا سکتا لیکن مفعول وغیرہ کو حذف کیا جا سکتا ہے۔ تو مثلاً میں کہتا ہوں ما أنا قلت هذا، یہاں پر بھی تخصیص ہے۔ یہاں پر بھی تخصیص ہے۔ کس طرح تخصیص ہے؟ بھئی دیکھئے، ایک بات آپ تک پہنچی ہے، آپ کے خلاف کسی نے کی۔ آپ کے خلاف ایک بات ہے، کسی نے کی ہے، وہ آپ تک پہنچ گئی۔ آپ کا خیال ہے کہ وہ بات میں نے اور زید نے کی ہے۔ کس نے کی ہے؟ میں نے اور زید دونوں نے کی ہے، یا آپ کا یہ خیال ہے کہ میں نے کی ہے، زید نے نہیں کی۔ دونوں صورتیں ذہن میں ہیں؟ کون سی؟ پہلی صورت کیا؟ ہاں، پہلا یہ گمان ہے کہ یہ زید اور یہ جس سے اب مخاطب ہوں، یہ دونوں شریک ہیں اس بات کے اندر۔ یا دوسری صورت کیا؟ کہ مخ... مخاطب جس... اب آپ میرے پاس آئے ہیں، تو آپ کا خیال ہے اس مخاطب نے یہ بات کی ہے، زید نے نہیں کی۔ تو جواب میں، میں اب آپ کو کہتا ہوں، آپ نے مجھ سے کہا کہ یہ بات آپ نے کیوں کی؟ تو میں آپ کو جواب میں کہتا ہوں، ما أنا قلت هذا، ما أنا قلت هذا، یہ میں نے تو نہیں کہا، ترجمے پہ غور... نظر ہے؟ یہ میں نے تو نہیں کہا، کیا ترجمہ؟ دیکھا؟ یہ تخصیص ہے۔ یہ کیا ہے؟ میں اپنی نفی کر رہا ہوں لیکن لفظوں پہ آپ غور کریں، غیر کے لئے اثبات بھی ہو رہا ہے۔ یہ میں نے تو نہیں کہا، میں نے یہ نہیں کہا یہ بات کسی نے کی ہی نہیں، بلکہ میں صرف کس سے نفی کر رہا ہوں؟ اپنے... یہ میں نے تو نہیں کہا، معلوم ہوا غیر نے کہا، یعنی میں آپ کو... یہاں تخصیص پیدا کر رہا ہوں، اپنے سے نفی کر رہا ہوں اور دوسرا جو زید ہے، اس کے لئے کیا کر رہا ہوں؟ اثبات کر رہا ہوں، یہ ہے تخصیص بھئی، یہ کیا ہے؟ تو ترجمہ سمجھ میں آیا؟ یہ میں نے تو نہیں... تو اگر آپ کا یہ خیال تھا، دیکھو، آپ کا اگر یہ خیال تھا دونوں نے بات کی ہے تو جواب میں اب آگیا، یہ میں نے تو نہیں کہا، معلوم ہوا میں نے نہیں کہا، کس نے کہا ہے؟ زید نے، اور اگر آپ کا یہ خیال تھا کہ میں نے یہ بات کی ہے، زید نے کی ہی نہیں، تو میں نے اب آپ کو بتا دیا، پہلی صورت میں، پہلی میں کیا تھا؟ آپ کا خیال تھا دونوں نے کی ہے، دونوں نے کی ہے، میں نے آپ کو بتا دیا کہ نہیں، اس بات میں ہم دونوں شریک نہیں ہیں، صرف زید نے یہ بات کی ہے، میں نے نہیں کی۔ دوسری صورت، آپ کا کیا خیال تھا؟ کہ مخاطب نے بات کی ہے، میں نے کی ہے یہ بات، زید نے نہیں کی، میں نے آپ کو کہہ دیا ما أنا قلت هذا، یہ میں نے تو نہیں کہا، یعنی آپ کو بتلا دیا، آپ کا خیال بالکل برعکس ہے، حقیقت کے برعکس ہے، جس نے نہیں کی اس کے بارے میں آپ سمجھ رہے ہیں کی ہے، اور جس نے کی ہے، اس کے بارے میں آپ سمجھ رہے ہیں کہ اس نے نہیں کی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ما أنا قلت هذا، یہ میں نے تو نہیں کہا، تخصیص آگئی، یہاں کیا آگئی؟ تخصیص آگئی، تخصیص کس طرح اور کس وجہ سے آئی؟ یاد رکھئے ضابطہ بھئی، مسندِ فعلی پر اگر فاعل کو مقدم کر دیا جائے فاعلِ معنوی کو، تو یہ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً دیکھئے بھئی، ضربت، ضربت زيداً، کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے زید کی پٹائی کی، اور ضربت زيداً فاعل کون اس کے اندر؟ متکلم ہے، کون ہے؟ اسی متکلم کی ضمیر کو اگر شروع میں لے آئیں، أنا ضربت زيداً، بلاغت کو سنئے بھئی عربی کا... بلاغت کے نکات انسان حیران رہتا ہے بھئی، کتنی باریک اور گہری باتیں ہیں۔ ضربت زيداً، کیا ترجمہ؟ میں نے زید کی پٹائی کی ہے۔ کسی اور نے کی ہے یا نہیں کی، یہ ذکر ہی نہیں کلام کے اندر۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن اگر اسی پر میں اس... فاعل کون ہے؟ متکلم ہے، اسی متکلم کی ضمیر کو شروع میں بھی لے آؤں، أنا ضربت زيداً، اب ترجمہ ہوگا میں نے ہی زید کی پٹائی کی ہے، تخصیص آگئی۔ اب کیا معنی؟ تخصیص کسے کہتے تھے؟ ایک کے لئے اثبات ہے تو باقیوں سے نفی، معلوم ہوا میں نے کی ہے، کسی اور نے نہیں کی، پہلے کلام میں تخصیص نہیں تھی، صرف اتنا تھا ضربت زيداً، میں نے زید کی پٹائی کی ہے، کسی اور نے کی ہو یا نہ کی ہو، اس سے... اس کا ذکر ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جب فعل پر اس کے فاعل کو... معنوی کو کیا کر دیا جائے؟ مقدم، تو پھر وہ اس میں تخصیص پیدا کر دیتا ہے۔ دیکھو، ضربت، اس کا فاعل بھی متکلم، اور شروع میں ضمیر بھی کون سی لے آئے؟ أنا، تو یہاں پر تخصیص آئے گی۔ اسی طرح ضربتَ ہے، ضربتَ کا اسناد کس کی طرف ہے؟ مخاطب کی طرف، تو اسی مخاطب فاعل کی ضمیر کو مقدم کر دو، أنت ضربتَ، اس میں بھی تخصیص آجائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یا اسی میں فاعل کی ضمیر هو مقدم کر دو، هو ضربَ، ضربَ کے اندر بھی هو، اور مقدم بھی کس کو کیا؟ هو ہی کو، تو اس میں بھی کیا آگئی؟ تخصیص آگئی، بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو فاعلِ معنوی کو جب مسندِ فعلی پر مقدم کر دیں، مسند کون ہے یہاں؟ قلت، أنا مبتدا ہے اور قلت اس کی خبر، اس قلت کے فاعلِ معنوی یعنی اسی فاعل کو کیا کر دیا گیا اس پر؟ مقدم کر دیا گیا، تو اس نے کیا پیدا کر دی؟ تخصیص، اگر ہوتا أنا قلت هذا، کیا ترجمہ تھا؟ یہ میں نے ہی کہا ہے، اور ما أنا قلت هذا، یہ میں نے تو نہیں کہا بھئی۔ تو کہتے ہیں والتخصيص، نحو ما أنا قلت، وإياك نعبد اور کبھی تقدیم کا داعی تخصیص ہوگا جیسے ما أنا قلت، یہ میں نے تو نہیں کہا، وإياك نعبد، اور اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، والمحافظة على وزن أو سجع، اور کبھی تقدیم کا داعی کیا ہوگا؟ حفاظت کرنا على وزنٍ، وزن پر، یعنی شعر کے وزن کے برقرار رکھنے کے لئے ایک لفظ کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ مقدم کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کو مؤخر کر دیا جاتا ہے، أو سجعٍ، یا کبھی سجع کا وزن برقرار رکھنے کے لئے، سجع میں نے آپ کو بتایا تھا، کلامِ نثر جو ہے، ایک ہے نظم جس میں اشعار ہوتے ہیں، ایک نثر ہے جیسے یہ عام کلام آپ پڑھ رہے ہیں، اس کو نثر کہتے ہیں، نثر کے اندر بعض اوقات چھوٹے چھوٹے جملے ہوتے ہیں، ان چھوٹے چھوٹے جملوں اورفقروں کا اختتام ایک جیسے حروف اور وزن پر ہوتا ہے، اس کو کہتے ہیں رعایتِ سجع، کیا کہتے ہیں؟ رعایتِ سجع، اور اسی کو میں نے بتایا تھا قرآن میں رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں بطورِ ادب کے۔ کیا کہتے ہیں؟ رعایتِ فاصلہ، کیونکہ سجع کا معنی تو ہے کبوتر کی آواز، اور اس لفظ کا اطلاق قرآن کے لئے مناسب نہیں، بے ادبی ہے، لہذا وہاں مفسرینِ کرام رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں، تو بعض اوقات ایک لفظ کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ مقدم، اور دوسرے کو مؤخر کیا جاتا ہے، مقصد کیا ہوتا ہے؟ رعایتِ سجع یعنی وہ فقرات کا ایک جیسے لفظوں پر تاکہ اختتام ہو بھئی، جیسے دیکھئے بھئی، إذا نطق السفيه فلا تجبه، فخير من إجابته السكوت۔ إذا نطق، نطق کے معنی بولنا، تکلم کرنا، السفيه، سفاہ کہتے ہیں ناسمجھ کو، بے وقوف کو، إذا نطق السفيه، شاعر نصیحت کر رہا ہے کسی کو، کہتے ہیں إذا نطق السفيه، جب کوئی بے وقوف بات کرے فلا تجبه، تو تو اس کو جواب نہ دے۔ جب کوئی بے وقوف، ناسمجھ آدمی تجھ سے کیا کرے؟ بات کرے، فلا تجبه، تو تو اس کو جواب نہ دے، فخير من إجابته السكوت، تو بہتر ہے اس کو جواب دینے سے السكوت، خاموش رہنا، اس کو جواب دینے سے خاموش رہنا بہتر ہے۔ تو دیکھئے مقامِ استشہاد ہے کہ فخير من إجابته، اس کو مقدم کر دیا گیا اور السكوت کو کیا کر دیا گیا؟ مؤخر کر دیا، اصل میں کلام یوں ہے فالسكوت خير من إجابته، خاموش رہنا بہتر ہے اس کو جواب دینے سے، تو السكوت مبتدا کو مؤخر کیا گیا اور خیر من اجابتہ خبر کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم کر دیا گیا، کس لئے؟ محافظۃً علی وزن بھئی، شعر کے وزن کی حفاظت کرنے کے لئے، اگر السکوت کو مقدم کر دیا جاتا اور خیر من اجابتہ کو مؤخر کر دیا جاتا تو شعر کا وزن برقرار نہ رہتا اور یہ شعر، شعر رہتا ہی نہ، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ تھی محافظۃ علی الوزن کی مثال، دوسرے... دوسرا و الثانی، دوسرا کیا تھا؟ محافظۃ علی سجع، اس کی مثال، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں خذوه فغلوه، ثم الجحيم صلوه، ثم في سلسلة ذرعها سبعون ذراعاً فاسلكوه۔ اب دیکھئے بھئی، قیامت کے دن ارشاد ہوگا مجرموں کے بارے میں، خذوه، اس کو پکڑو، فغلوه، اس کو طوق پہنا دو، یعنی گلے کے اندر اس کے طوق پہنا دو، ثم الجحيم صلوه، جحیم، جہنم، صلو، داخل کرنا، ثم الجحيم صلوه، پھر جہنم کے اندر اس کو داخل کر دو، پھر اس کو جہنم میں داخل کر دو، ثم في سلسلة، سلسلہ، بیڑی، زنجیر بھئی، زنجیر، ثم في سلسلة، پھر ایک ایسی بیڑی میں ذرعها سبعون ذراعاً، ذرعها کہ جس کی پیمائش سبعون ذراعاً، ستر گز ہے، پھر ایک ایسی زنجیر جس کی پیمائش کتنی ہے؟ ستر گز ہے، فاسلكوه، اس میں اس کو جکڑ دو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قیامت کے دن مجرموں کے بارے میں کیا ارشاد ہوگا کہ اس کو پکڑو اور اس کو طوق پہناؤ، اس کے گلے میں وہ طوق ڈال دو لوہے کا، پھر اس کو جہنم کے اندر ڈال دو، پھر ایک ایسی بیڑی میں جس کی پیمائش کتنی ہے؟ ستر گز ہے، اس کو جکڑ دو اس میں، اس کو باندھ دو بھئی جہنم کے اندر۔ اب دیکھئے، یہاں پر کیا آیا؟ ثم الجحيم صلوه، اصل میں یوں ہونا چاہئے صلوه الجحيم، اس کو داخل کر دو کس میں؟ جہنم میں، لیکن الجحیم کو مقدم کیا گیا اور صلوہ کو کیا کیا گیا؟ مؤخر... کس لئے مؤخر کیا گیا؟ رعایتِ سجع کے لئے، یعنی قرآن کے اعتبار سے، یہ تو رعایتِ سجع تو عام ہے، قرآن کے اعتبار سے کیا کہیں گے؟ رعایتِ فاصلہ کے اعتبار سے، کیونکہ پیچھے آیا تھا فغلوه، اب آخر میں دوسرے میں کیا... کیا آگیا آخر میں؟ صلوه، کیونکہ جحیم کو تو اس پر مقدم کر دیا، پھر اسی طرح ثم في سلسلة ذرعها سبعون ذراعاً فاسلكوه، یہاں پر بھی کلام تو اصل میں یوں ہونا چاہئے فاسلكوه، پھر اس کو جکڑ دو في سلسلة ذرعها سبعون ذراعاً، ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش کتنی ہے؟ ستر گز ہے، تو فاسلوکو... فاسلوکوہ کو مقدم ہونا چاہئے تھا اور فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً کو مؤخر ہونا، لیکن فاسلوکو... فاسلوکوہ کو کیا کیا گیا؟ مؤخر کیا گیا اور فی سلسلۃ کو مقدم کیا گیا، کس وجہ سے؟ رعایتِ فاصلہ کے لئے، تاکہ ایک جیسے وزن اور لفظوں پر ان کا اختتام ہو، فغلوه، صلوه، فاسلكوه، یہ سب کے آخر میں آرہا ہے ایک جیسا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ ولم يذكر لكل من التقديم والتأخير دواعي خاصة، اور نہیں ذکر کئے جاتے ہر ایک کے لئے تقدیم اور تاخیر میں سے خاص داعی۔ بھئی یہاں سے اب آپ کو یہ بتلا رہے ہیں، تقدیم کے کچھ نکات انہوں نے بیان کر دئیے تقدیم کے، آگے اب تاخیر کے نکات ذکر نہیں، کسی لفظ کو مؤخر کیا جاتا ہے اس کو مؤخر کرنے میں کیا کیا نقطے ہوتے ہیں؟ یہ تو تھے کس کس کے نقطے تھے؟ تقدیم کے، اب تاخیر کے نقطے نہیں بیان کرتے علماءِ بلاغت اپنی کتابوں میں، اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں بھئی دیکھئے، تاخیر کے علیحدہ نقطے نہیں بیان ہوتے، اس لئے کیونکہ جہاں تقدیم ہوگی وہاں خود بخود کیا ہوگی؟ تاخیر، جہاں ایک لفظ کو مقدم کریں گے یقیناً دوسرے کو کیا کرنا پڑے گا؟ مؤخر کرنا پڑے گا، تو لہذا جو نقطے ایک لفظ کو مقدم کرنے میں ہیں، بعینہِ وہی نقطے دوسرے لفظ کو مؤخر کرنے میں بھی ہیں، تو وہی نقطے ہیں لہذا اس کو علیحدہ سے ذکر... یہ معنی ہے، ولم يذكر لكل من التقديم والتأخير دواعي خاصة، اور نہیں ذکر کئے جاتے تقدیم اور تاخیر... کلام میں قوت جو تحقیق کے ساتھ ہو یا جو بے تحقیق ہو؟ جو تحقیق کے ساتھ ہو یقیناً اس میں قوت ہوتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی تو یہاں بھی وہ یہی بیان کرنا چاہتا ہے کہنے والا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں وتقوية الحكم إذا... تو یہاں تقدیم کے نکات بیان ہو رہے ہیں، تو یہاں الہلال کو مقدم کیا گیا ظہر پر، کیوں مقدم کیا گیا؟ داعیِ تقدیم کیا ہے یہاں پر؟ تقوية الحكم، حکم میں قوت پیدا کرنا۔ حکم سے کیا مراد ہے؟ بات، آسان لفظوں میں، میں نے کیا کہا تھا؟ بات۔ بات کے اندر قوت اور زور پیدا کرنا جو بات آپ کرنے لگے ہیں۔ وتقوية الحكم إذا كان الخبر فعلاً اور حکم میں یعنی بات میں، بات کو قوی کرنا إذا كان الخبر فعلاً جبکہ خبر کیا ہو؟ فعل ہو، جہاں پر بھی دیکھئے الہلال مبتدا ہے اور ظہر جو اس کی خبر ہے، وہ کیا ہے؟ فعل ہے۔ وذلك لتكرار الإسناد اور یہ بھئی تقویۃِ حکم کیوں ہوتا ہے؟ یہاں پر بات میں قوت کیوں آجاتی ہے؟ کہتے ہیں لتكرار الإسناد، اسناد کے تکرار کی وجہ سے، تکرار کا معنی ہے ایک چیز کا دوسری دفعہ آنا، یہ کیا ہے؟ تکرار۔ تو یہاں پر بھی اسناد کا تکرار ہوا، اسناد کتنی دفعہ آگیا؟ دو دفعہ آگیا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں وذلك لتكرار الإسناد اور یہ تقویۃِ حکم جو ہے، اسناد کے تکرار کی وجہ سے ہے۔ والتخصيص، اگلا نقطہ آگیا تخصیص بھئی۔ بعض اوقات ایک لفظ کو مقدم کر دیا جاتا ہے تو وہ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ آپ نے ضابطہ پڑھا ہوگا تقدیم ما حقه التأخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص۔ تقدیم ما حقه التأخير مقدم کرنا اس لفظ کو جس کا حق مؤخر کرنا تھا کہ اس کو کیا کیا جاتا؟ ایک لفظ کو مؤخر کیا جانا چاہئے تھا اس کو اگر مقدم کر دیا جائے تو یہ تقدیم فائدہ دیتی ہے حصر، قصر اور تخصیص کا۔ حصر، قصر... قاف دو نقطوں والا... اور تخصیص، تینوں کا ایک معنی ہے، اس لئے میں تینوں لفظ بول رہا ہوں۔ کبھی کیا لفظ بول دیتے ہیں؟ حصر، کبھی کیا لفظ بول دیتے ہیں؟ قصر، کبھی کیا لفظ بول دیتے ہیں؟ تخصیص۔ تو حصر... تقدیم ما حقه التأخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص، جس لفظ کو مؤخر ہونا چاہئے تھا اس کو مقدم کر دینا، یہ حصر، قصر اور تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً دیکھئے بھئی، قرآن میں آیا إياك نعبد۔ اگر یہ، یہ إياك یہ مفعول ہے، اس کو مؤخر کر دیا... اس کا مقام تو مؤخر تھا بھئی۔ نعبدك نعبدك، لیکن پھر ترجمہ کیا ہوتا اگر یہ مؤخر ہوتا؟ نعبدك، ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں۔ تو یہاں اللہ کی عبادت کا تو اقرار ہے، لیکن غیر اللہ کی عبادت کی نفی نہیں، تخصیص یہاں نہیں ہے۔ اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، بھئی باقیوں کی بھی عبادت کرتے ہو یا نہیں کرتے؟ اس بارے میں ذکر ہی نہیں یہاں پر۔ ہاں اگر وہ، اگر باقیوں کی بھی عبادت ہو تو بھی یہ کلام صحیح ہے، پھر بھی یہ کلام کیا ہے؟ یعنی، یعنی واقع کے مطابق پھر بھی ہو جاتا، نعبدك، ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پر کیا کیا گیا؟ نعبدك، کاف ضمیر جو مفعول کی تھی اس کو مقدم کر دیا گیا، پہلے ضمیرِ متصل تھی، اب ضمیرِ منفصل آگئی، وہی ضمیر ہے بس منفصل بن گئی، کیا... اب کیا بنا؟ إياك نعبد، تو جس لفظ کا حق مؤخر ہونا تھا اس کو مقدم کر دیا گیا اور تقدیم ما حقه التأخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص، جس کا حق مؤخر ہونا تھا لیکن اس کو مقدم کر دیا گیا، یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ إياك نعبد، اب کیا ترجمہ ہوگا؟ ہم آ... صرف آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، یعنی ہم صرف آپ کی عبادت کرتے ہیں، اب تخصیص آگئی۔ تخصیص کس کو کہتے ہیں؟ تخصیص کہتے ہیں مذکور کے لئے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقیوں سے اس کی نفی ہے۔ تخصیص کسے کہتے ہیں؟ مذکور... جس کے لئے ذکر... جس کو ذکر کیا جا رہا ہے، اس کے لئے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقی سب سے اس کی کیا ہے؟ نفی۔ اسی طرح نفی کے اندر دیکھ لیں تخصیص۔ مذکور کے لئے ایک چیز کی نفی ہے تو باقیوں کے لئے اس کا اثبات ہے۔ تخصیص کی بات کر رہا ہوں، تخصیص کسے کہتے ہیں؟ اے... یا یوں کہیں۔ ایک کے لئے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقیوں سے اس چیز کی نفی ہے، اور نفی میں اگر ایک سے ایک چیز کی نفی ہے تو باقیوں کے لئے اس کا اثبات، یہ ہے تخصیص بھئی۔ یعنی باقیوں کا معاملہ اِ... اس ایک کے سے برعکس ہو، اس کے لئے اگر اثبات ہے تو باقیوں سے کیا ہو؟ نفی، اور اگر اس سے نفی ہے تو باقیوں کے لئے اثبات ہو، یہ ہے تخصیص بھئی۔ تو یہاں پر دیکھئے، إياك نعبد، اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، تو اللہ کے لئے عبادت کا جب اقرار ہے تو باقیوں کی عبادت کی نفی ہے، دیکھا یہ ہے تخصیص بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی طرح دیکھئے، ما أنا قلت، ما أنا قلت مفعول یہاں محذوف ہے، ما أنا قلت هذا۔ سمجھ میں آیا؟ قالَ مفعول چاہتا ہے، اس کو حذف کر دیا کیونکہ مفعول فضلہ ہوتا ہے، زائد چیز ہوتی ہے، اس کو بعض اوقات کلام سے حذف بھی کر لیتے ہیں۔ فاعل کو تو حذف نہیں کیا جا سکتا لیکن مفعول وغیرہ کو حذف کیا جا سکتا ہے۔ تو مثلاً میں کہتا ہوں ما أنا قلت هذا، یہاں پر بھی تخصیص ہے۔ یہاں پر بھی تخصیص ہے۔ کس طرح تخصیص ہے؟ بھئی دیکھئے، ایک بات آپ تک پہنچی ہے، آپ کے خلاف کسی نے کی۔ آپ کے خلاف ایک بات ہے، کسی نے کی ہے، وہ آپ تک پہنچ گئی۔ آپ کا خیال ہے کہ وہ بات میں نے اور زید نے کی ہے۔ کس نے کی ہے؟ میں نے اور زید دونوں نے کی ہے، یا آپ کا یہ خیال ہے کہ میں نے کی ہے، زید نے نہیں کی۔ دونوں صورتیں ذہن میں ہیں؟ کون سی؟ پہلی صورت کیا؟ ہاں، پہلا یہ گمان ہے کہ یہ زید اور یہ جس سے اب مخاطب ہوں، یہ دونوں شریک ہیں اس بات کے اندر۔ یا دوسری صورت کیا؟ کہ مخ... مخاطب جس... اب آپ میرے پاس آئے ہیں، تو آپ کا خیال ہے اس مخاطب نے یہ بات کی ہے، زید نے نہیں کی۔ تو جواب میں، میں اب آپ کو کہتا ہوں، آپ نے مجھ سے کہا کہ یہ بات آپ نے کیوں کی؟ تو میں آپ کو جواب میں کہتا ہوں، ما أنا قلت هذا، ما أنا قلت هذا، یہ میں نے تو نہیں کہا، ترجمے پہ غور... نظر ہے؟ یہ میں نے تو نہیں کہا، کیا ترجمہ؟ دیکھا؟ یہ تخصیص ہے۔ یہ کیا ہے؟ میں اپنی نفی کر رہا ہوں لیکن لفظوں پہ آپ غور کریں، غیر کے لئے اثبات بھی ہو رہا ہے۔ یہ میں نے تو نہیں کہا، میں نے یہ نہیں کہا یہ بات کسی نے کی ہی نہیں، بلکہ میں صرف کس سے نفی کر رہا ہوں؟ اپنے... یہ میں نے تو نہیں کہا، معلوم ہوا غیر نے کہا، یعنی میں آپ کو... یہاں تخصیص پیدا کر رہا ہوں، اپنے سے نفی کر رہا ہوں اور دوسرا جو زید ہے، اس کے لئے کیا کر رہا ہوں؟ اثبات کر رہا ہوں، یہ ہے تخصیص بھئی، یہ کیا ہے؟ تو ترجمہ سمجھ میں آیا؟ یہ میں نے تو نہیں... تو اگر آپ کا یہ خیال تھا، دیکھو، آپ کا اگر یہ خیال تھا دونوں نے بات کی ہے تو جواب میں اب آگیا، یہ میں نے تو نہیں کہا، معلوم ہوا میں نے نہیں کہا، کس نے کہا ہے؟ زید نے، اور اگر آپ کا یہ خیال تھا کہ میں نے یہ بات کی ہے، زید نے نہیں کی، تو میں نے اب آپ کو بتا دیا، پہلی صورت میں، پہلی میں کیا تھا؟ آپ کا خیال تھا دونوں نے کی ہے، دونوں نے کی ہے، میں نے آپ کو بتا دیا کہ نہیں، اس بات میں ہم دونوں شریک نہیں ہیں، صرف زید نے یہ بات کی ہے، میں نے نہیں کی۔ دوسری صورت، آپ کا کیا خیال تھا؟ کہ مخاطب نے بات کی ہے، میں نے کی ہے یہ بات، زید نے نہیں کی، میں نے آپ کو کہہ دیا ما أنا قلت هذا، یہ میں نے تو نہیں کہا، یعنی آپ کو بتلا دیا، آپ کا خیال بالکل برعکس ہے، حقیقت کے برعکس ہے، جس نے نہیں کی اس کے بارے میں آپ سمجھ رہے ہیں کی ہے، اور جس نے کی ہے، اس کے بارے میں آپ سمجھ رہے ہیں کہ اس نے نہیں کی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ما أنا قلت هذا، یہ میں نے تو نہیں کہا، تخصیص آگئی، یہاں کیا آگئی؟ تخصیص آگئی، تخصیص کس طرح اور کس وجہ سے آئی؟ یاد رکھئے ضابطہ بھئی، مسندِ فعلی پر اگر فاعل کو مقدم کر دیا جائے فاعلِ معنوی کو، تو یہ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً دیکھئے بھئی، ضربت، ضربت زيداً، کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے زید کی پٹائی کی، اور ضربت زيداً فاعل کون اس کے اندر؟ متکلم ہے، کون ہے؟ اسی متکلم کی ضمیر کو اگر شروع میں لے آئیں، أنا ضربت زيداً، بلاغت کو سنئے بھئی عربی کا... بلاغت کے نکات انسان حیران رہتا ہے بھئی، کتنی باریک اور گہری باتیں ہیں۔ ضربت زيداً، کیا ترجمہ؟ میں نے زید کی پٹائی کی ہے۔ کسی اور نے کی ہے یا نہیں کی، یہ ذکر ہی نہیں کلام کے اندر۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن اگر اسی پر میں اس... فاعل کون ہے؟ متکلم ہے، اسی متکلم کی ضمیر کو شروع میں بھی لے آؤں، أنا ضربت زيداً، اب ترجمہ ہوگا میں نے ہی زید کی پٹائی کی ہے، تخصیص آگئی۔ اب کیا معنی؟ تخصیص کسے کہتے تھے؟ ایک کے لئے اثبات ہے تو باقیوں سے نفی، معلوم ہوا میں نے کی ہے، کسی اور نے نہیں کی، پہلے کلام میں تخصیص نہیں تھی، صرف اتنا تھا ضربت زيداً، میں نے زید کی پٹائی کی ہے، کسی اور نے کی ہو یا نہ کی ہو، اس سے... اس کا ذکر ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جب فعل پر اس کے فاعل کو... معنوی کو کیا کر دیا جائے؟ مقدم، تو پھر وہ اس میں تخصیص پیدا کر دیتا ہے۔ دیکھو، ضربت، اس کا فاعل بھی متکلم، اور شروع میں ضمیر بھی کون سی لے آئے؟ أنا، تو یہاں پر تخصیص آئے گی۔ اسی طرح ضربتَ ہے، ضربتَ کا اسناد کس کی طرف ہے؟ مخاطب کی طرف، تو اسی مخاطب فاعل کی ضمیر کو مقدم کر دو، أنت ضربتَ، اس میں بھی تخصیص آجائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یا اسی میں فاعل کی ضمیر هو مقدم کر دو، هو ضربَ، ضربَ کے اندر بھی هو، اور مقدم بھی کس کو کیا؟ هو ہی کو، تو اس میں بھی کیا آگئی؟ تخصیص آگئی، بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو فاعلِ معنوی کو جب مسندِ فعلی پر مقدم کر دیں، مسند کون ہے یہاں؟ قلت، أنا مبتدا ہے اور قلت اس کی خبر، اس قلت کے فاعلِ معنوی یعنی اسی فاعل کو کیا کر دیا گیا اس پر؟ مقدم کر دیا گیا، تو اس نے کیا پیدا کر دی؟ تخصیص، اگر ہوتا أنا قلت هذا، کیا ترجمہ تھا؟ یہ میں نے ہی کہا ہے، اور ما أنا قلت هذا، یہ میں نے تو نہیں کہا بھئی۔ تو کہتے ہیں والتخصيص، نحو ما أنا قلت، وإياك نعبد اور کبھی تقدیم کا داعی تخصیص ہوگا جیسے ما أنا قلت، یہ میں نے تو نہیں کہا، وإياك نعبد، اور اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، والمافظة على وزن أو سجع، اور کبھی تقدیم کا داعی کیا ہوگا؟ حفاظت کرنا على وزنٍ، وزن پر، یعنی شعر کے وزن کے برقرار رکھنے کے لئے ایک لفظ کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ مقدم کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کو مؤخر کر دیا جاتا ہے، أو سجعٍ، یا کبھی سجع کا وزن برقرار رکھنے کے لئے، سجع میں نے آپ کو بتایا تھا، کلامِ نثر جو ہے، ایک ہے نظم جس میں اشعار ہوتے ہیں، ایک نثر ہے جیسے یہ عام کلام آپ پڑھ رہے ہیں، اس کو نثر کہتے ہیں، نثر کے اندر بعض اوقات چھوٹے چھوٹے جملے ہوتے ہیں، ان چھوٹے چھوٹے جملوں اورفقروں کا اختتام ایک جیسے حروف اور وزن پر ہوتا ہے، اس کو کہتے ہیں رعایتِ سجع، کیا کہتے ہیں؟ رعایتِ سجع، اور اسی کو میں نے بتایا تھا قرآن میں رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں بطورِ ادب کے۔ کیا کہتے ہیں؟ رعایتِ فاصلہ، کیونکہ سجع کا معنی تو ہے کبوتر کی آواز، اور اس لفظ کا اطلاق قرآن کے لئے مناسب نہیں، بے ادبی ہے، لہذا وہاں مفسرینِ کرام رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں، تو بعض اوقات ایک لفظ کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ مقدم، اور دوسرے کو مؤخر کیا جاتا ہے، مقصد کیا ہوتا ہے؟ رعایتِ سجع یعنی وہ فقرات کا ایک جیسے لفظوں پر تاکہ اختتام ہو بھئی، جیسے دیکھئے بھئی، إذا نطق السفيه فلا تجبه، فخير من إجابته السكوت۔ إذا نطق، نطق کے معنی بولنا، تکلم کرنا، السفيه، سفاہ کہتے ہیں ناسمجھ کو، بے وقوف کو، إذا نطق السفيه، شاعر نصیحت کر رہا ہے کسی کو، کہتے ہیں إذا نطق السفيه، جب کوئی بے وقوف بات کرے فلا تجبه، تو تو اس کو جواب نہ دے۔ جب کوئی بے وقوف، ناسمجھ آدمی تجھ سے کیا کرے؟ بات کرے، فلا تجبه، تو تو اس کو جواب نہ دے، فخير من إجابته السكوت، تو بہتر ہے اس کو جواب دینے سے السكوت، خاموش رہنا، اس کو جواب دینے سے خاموش رہنا بہتر ہے۔ تو دیکھئے مقامِ استشہاد ہے کہ فخير من إجابته، اس کو مقدم کر دیا گیا اور السكوت کو کیا کر دیا گیا؟ مؤخر کر دیا، اصل میں کلام یوں ہے فالسكوت خير من إجابته، خاموش رہنا بہتر ہے اس کو جواب دینے سے، تو السكوت مبتدا کو مؤخر کیا گیا اور خیر من اجابتہ خبر کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم کر دیا گیا، کس لئے؟ محافظۃً علی وزن بھئی، شعر کے وزن کی حفاظت کرنے کے لئے، اگر السکوت کو مقدم کر دیا جاتا اور خیر من اجابتہ کو مؤخر کر دیا جاتا تو شعر کا وزن برقرار نہ رہتا اور یہ شعر، شعر رہتا ہی نہ، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ تھی محافظۃ علی الوزن کی مثال، دوسرے... دوسرا و الثانی، دوسرا کیا تھا؟ محافظۃ علی سجع، اس کی مثال، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں خذوه فغلوه، ثم الجحيم صلوه، ثم في سلسلة ذرعها سبعون ذراعاً فاسلكوه۔ اب دیکھئے بھئی، قیامت کے دن ارشاد ہوگا مجرموں کے بارے میں، خذوه، اس کو پکڑو، فغلوه، اس کو طوق پہنا دو، یعنی گلے کے اندر اس کے طوق پہنا دو، ثم الجحيم صلوه، جحیم، جہنم، صلو، داخل کرنا، ثم الجحيم صلوه، پھر جہنم کے اندر اس کو داخل کر دو، پھر اس کو جہنم میں داخل کر دو، ثم في سلسلة، سلسلہ، بیڑی، زنجیر بھئی، زنجیر، ثم في سلسلة، پھر ایک ایسی بیڑی میں ذرعها سبعون ذراعاً، ذرعها کہ جس کی پیمائش سبعون ذراعاً، ستر گز ہے، پھر ایک ایسی زنجیر جس کی پیمائش کتنی ہے؟ ستر گز ہے، فاسلكوه، اس میں اس کو جکڑ دو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قیامت کے دن مجرموں کے بارے میں کیا ارشاد ہوگا کہ اس کو پکڑو اور اس کو طوق پہناؤ، اس کے گلے میں وہ طوق ڈال دو لوہے کا، پھر اس کو جہنم کے اندر ڈال دو، پھر ایک ایسی بیڑی میں جس کی پیمائش کتنی ہے؟ ستر گز ہے، اس کو جکڑ دو اس میں، اس کو باندھ دو بھئی جہنم کے اندر۔ اب دیکھئے، یہاں پر کیا آیا؟ ثم الجحيم صلوه، اصل میں یوں ہونا چاہئے صلوه الجحيم، اس کو داخل کر دو کس میں؟ جہنم میں، لیکن الجحیم کو مقدم کیا گیا اور صلوہ کو کیا کیا گیا؟ مؤخر... کس لئے مؤخر کیا گیا؟ رعایتِ سجع کے لئے، یعنی قرآن کے اعتبار سے، یہ تو رعایتِ سجع تو عام ہے، قرآن کے اعتبار سے کیا کہیں گے؟ رعایتِ فاصلہ کے اعتبار سے، کیونکہ پیچھے آیا تھا فغلوه، اب آخر میں دوسرے میں کیا... کیا آگیا آخر میں؟ صلوه، کیونکہ جحیم کو تو اس پر مقدم کر دیا، پھر اسی طرح ثم في سلسلة ذرعها سبعون ذراعاً فاسلكوه، یہاں پر بھی کلام تو اصل میں یوں ہونا چاہئے فاسلكوه، پھر اس کو جکڑ دو في سلسلة ذرعها سبعون ذراعاً، ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش کتنی ہے؟ ستر گز ہے، تو فاسلوکو... فاسلوکوہ کو مقدم ہونا چاہئے تھا اور فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً کو مؤخر ہونا، لیکن فاسلوکو... فاسلوکوہ کو کیا کیا گیا؟ مؤخر کیا گیا اور فی سلسلۃ کو مقدم کیا گیا، کس وجہ سے؟ رعایتِ فاصلہ کے لئے، تاکہ ایک جیسے وزن اور لفظوں پر ان کا اختتام ہو، فغلوه، صلوه، فاسلكوه، یہ سب کے آخر میں آرہا ہے ایک جیسا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ ولم يذكر لكل من التقديم والتأخير دواعي خاصة، اور نہیں ذکر کئے جاتے ہر ایک کے لئے تقدیم اور تاخیر میں سے خاص دواعی، ان میں سے ہر ایک کے لئے دواعي خاصة، خاص دواعی ان میں سے ہر ایک کے لئے ذکر نہیں کیے جاتے یعنی بلاغت کی کتابوں میں، لأنه إذا تقدم أحد ركني الجملة تأخر الآخر، اس لیے کیونکہ جب مقدم ہو گیا أحد ركني الجملة، اصل میں تھا رکنین، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، جب جملے کے دو رکنوں میں سے کسی ایک کو مقدم کر دیا جائے، تأخر الآخر، تو دوسرا کیا ہو جاتا ہے؟ مؤخر ہو جاتا ہے، فهما متلازمان، تو یہ تقدم اور تاخر کیا ہیں ایک دوسرے کے ساتھ؟ لازم ہیں، جہاں تقدم ہو گا تو دوسرے لفظ کے لیے خود بخود کیا آ جائے گا؟ تاخر، اور جہاں ایک لفظ کا تاخر ہو گا تو دوسرے لفظ کے لیے کیا آ جائے گا؟ تقدم، تو لہذا جو تقديم کے نقطے ہیں بعینہ وہی نقطے کس کے ہیں؟ اس دوسرے لفظ کے تاخیر کے ہیں، مثلاً دیکھیے، إياك نعبد، یہاں پر إياك کو مقدم کیا گیا، تو إياك کے مقدم کرنے میں جو نقطہ ہے اسی، یہاں نعبد کو مؤخر کیا گیا، تو بعینہ وہی نقطہ نعبد کو مؤخر کرنے میں بھی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔