Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-038

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔38 وَالْمُحَافَظَةُ عَلَى وَزْنٍ أَوْ سَجْعٍ، فَالْأَوَّلُ نَحْوُ: نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا وَأَنْتَ بِمَا ... عِنْدَكَ رَاضٍ وَالرَّأْيُ مُخْتَلِفُ وَالثَّانِي نَحْوُ: مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى. وَالتَّعْمِيمُ بِاخْتِصَارٍ نَحْوُ: وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ، أَيْ جَمِيعَ عِبَادِهِ، لِأَنَّ حَذْفَ الْمَعْمُولِ يُؤْذِنُ بِالْعُمُومِ. حذف کے نکات بیان ہو رہے ہیں، دواعیِ حذف بھئی۔ کہ بعض اوقات کلام میں سے مسند الیہ یا مسند یا ان کے متعلقات کو حذف کیا جاتا ہے اور یہ حذف کسی داعی کی وجہ سے ہو گا، کسی نقطے کی وجہ سے ہو گا، وہ کیا کیا نکات ہو سکتے ہیں؟ گزشتہ سبق میں کچھ نکات بیان ہوئے۔ اب انہی کا بیان چل رہا ہے۔ اگلا ساتواں داعی ذکر کر رہے ہیں حذف کا بھئی۔ "وَالْمُحَافَظَةُ عَلَى وَزْنٍ أَوْ سَجْعٍ" تو ایک داعی جو ہے حذف کا، وہ محافظت علی الوزن ہے بھئی، وزن کی حفاظت کرنا بھئی، وزن کی حفاظت کرنا۔ جیسے دیکھیے شعر آ رہا ہے: نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا وَأَنْتَ بِمَا ... عِنْدَكَ رَاضٍ وَالرَّأْيُ مُخْتَلِفُ تو اصل میں یہاں پر خبر محذوف ہے: "نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا رَاضُونَ وَأَنْتَ بِمَا عِنْدَكَ رَاضٍ"۔ ہم جو کچھ ہمارے پاس ہے راضون، ہم اس پر راضی ہیں اور آپ جو کچھ آپ کے پاس ہے راض، آپ اس پر راضی ہیں یعنی اس پر خوش ہیں "وَالرَّأْيُ مُخْتَلِفُ" اور حال یہ ہے کہ رائے مختلف ہے بھئی۔ آپ کی اور ہماری رائے الگ الگ ہے، آپ کی اور ہماری سوچ الگ الگ ہے لیکن جس کے پاس جو کچھ ہے وہ اس پر راضی اور خوش ہے، ہمارے پاس جو کچھ ہے ہم اس پر خوش ہیں اور راضی ہیں اور آپ کے پاس جو کچھ ہے آپ اس پر راضی اور خوش ہیں اور رائے دونوں کی الگ الگ ہے۔ تو مقامِ استشہاد کیا ہے یہاں پر؟ "نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا راضون" تو یہاں مسند کو حذف کیا گیا بھئی، مسند کو۔ اور وجہ کیا ہے حذف کرنے کی؟ محافظت علی الوزن، وزن کی حفاظت۔ پہلے ذکر ہو چکا کہ اشعار کا مخصوص وزن ہوتا ہے، ایک حرف بھی اس کی کمی بیشی سے سارے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے اور وہ شعر رہتا ہی نہیں بھئی۔ تو یہاں پر بھی وزنِ شعری کی حفاظت کے لیے راضون کو حذف کر دیا گیا کیونکہ یہاں اس کے ذکر کی گنجائش ہی نہیں ہے، اگر اس کو ذکر کر دیا جائے پھر یہ شعر شعر رہے گا ہی نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس وجہ سے یہاں پر راضون کو حذف کر دیا گیا بھئی۔ شعر کا معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ "نَحْنُ بِمَا عِنْدَنَا راضون" ہم جو کچھ ہمارے پاس ہے ہم اس پر راضی ہیں "وَأَنْتَ بِمَا عِنْدَكَ رَاضٍ" اور آپ جو کچھ آپ کے پاس ہے اس پر راضی ہیں "وَالرَّأْيُ مُخْتَلِفُ" اور حال یہ ہے کہ رائے مختلف ہے بھئی، مختلف ہے۔ اور دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے بھئی، ہر انسان جو ہے وہ اس کے پاس جو ہوتا ہے یعنی اس کی اپنی جو رائے ہوتی ہے اسی پر خوش ہوتا ہے۔ مشرکین کو دیکھ لیں، وہ اپنی سوچ پر خوش ہیں، اپنی رائے پر خوش ہیں کہ ہم شاید صحیح راستے صحیح طریقے پر چل رہے ہیں۔ جو اسی طرح جو جو گمراہی پر ہے وہ اپنی رائے اور اپنی اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے اس کی جو سوچ ہوتی ہے یا جو ذہن ہوتا ہے اسی راستے پر چلتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں صحیح طریقے پر ہوں باقی سب کس پر ہیں؟ غلط طریقے پر ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا شعر کا بھئی؟ تو یہ معنی ہے کہ ہم ہمارے پاس جو کچھ ہے ہم اس پر خوش ہیں یعنی ہماری جو رائے ہے، جو سوچ ہے ہم اسی پر خوش ہیں، تمہاری جو سوچ ہے، تمہاری رائے ہے اسی پر تم خوش تو تم جو کچھ تمہارے پاس ہے اس پر خوش، ہم جو کچھ ہمارے پاس ہے ہم اس پر خوش ہیں اور یہ نہیں کہ سوچ دونوں کی ایک ہی ہے بلکہ دونوں کی سوچ جدا جدا ہے، تمہاری رائے کچھ اور ہے، ہماری رائے کچھ اور ہے لیکن ہم اپنی رائے پر خوش ہیں اور راضی ہیں کہ شاید ہماری رائے ہی صحیح ہے برحق ہے اور تم اپنی رائے پر خوش ہو کہ شاید تمہاری رائے ہی برحق ہے اور صحیح ہے بھئی۔ تو یہاں پر مقامِ استشہاد کیا ہے؟ کس لفظ کو حذف کیا گیا؟ راضون اور وہ کیا ہے؟ مسند ہے، مسند ہے، خبر ہے "نحن" کی بھئی۔ یہ تو شعر کے اندر تھا کہ وزن کی حفاظت کے لیے ایک لفظ کو حذف کیا گیا بھئی۔ "أَوْ سَجْعٍ" یعنی "والمحافظة على سجْع" اور کبھی کس لیے حذف کیا جائے گا؟ وہ داعی کیا ہو گا؟ سجع کی حفاظت، سجع۔ بھئی یہ تو نظم تھی، یہ جو شعر ہے یہ تو کیا ہے؟ نظم ہے، نظم، کلامِ منظوم ہے اور ایک کلامِ منشور ہوتا ہے یعنی نثر، یہ جیسے کتاب کے اندر آپ جو پڑھ رہے ہیں یہ نثر ہے بھئی، نثر۔ اگر اشعار ہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ نظم۔ اگر اشعار نہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ نثر بھئی، نثر۔ تو کلامِ منشور کے اندر یعنی نثر کے اندر آپ نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات چھوٹے چھوٹےفقرے، چھوٹے چھوٹے جملے ہوتے ہیں اور ان کا اختتام ایک جیسے وزن اور ایک جیسے حروف پر ہوتا ہے بھئی، اس کو کہتے ہیں رعایتِ سجع، کیا کہتے ہیں؟ اس کو رعایتِ سجع کہتے ہیں بھئی۔ جیسے دیکھیے: "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" آخر میں کیا آیا؟ "عالمین"۔ آگے آ رہا ہے: "الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" دیکھو ایک جیسے، تو یہ چھوٹے چھوٹے کلام کے چھوٹے چھوٹے حصے جن کا اختتام کس پر ہو؟ ایک جیسے وزن اور ایک جیسے حروف پر ہوتا ہے ان کو اس کو کہتے ہیں رعایتِ سجع بھئی، کیا کہتے ہیں؟ رعایتِ سجع۔ تو ذکر کر رہے ہیں کہ کبھی تو حذف کا داعی کیا ہو گا؟ اگر وہ کلامِ منظوم ہے تو وزن کی حفاظت مقصد ہو گا اور اگر وہ کلامِ منشور ہے یعنی نثر ہے تو وہاں پر حذف کی وجہ کیا ہو گی؟ سجع کی حفاظت، سجع کی۔ اگر اس محذوف کو ذکر کر دیا جائے تو رعایتِ سجع ہو ہی نہیں سکے گی بھئی، تو رعایتِ سجع کرتے ہوئے اس ایک لفظ کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے، جیسے دیکھیے: "وَالثَّانِي" دوسرے کی مثال یعنی جس میں رعایتِ سجع کی حفاظت کے لیے لفظ کو حذف کیا گیا "نَحْوُ: مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى"۔ "مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ" نہیں چھوڑا آپ کو آپ کے پروردگار نے "وَمَا قَلَى"۔ "وَمَا قَلَاكَ" اور نہ آپ سے بیزار ہے، تو یہاں کاف ضمیر مفعول کی اس کو حذف کر لیا گیا، اصل میں ہے "وَمَا قَلَاكَ"، "وَمَا قَلَاكَ" تو یہاں کاف ضمیر جو مفعول واقع ہو رہی تھی اس کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا "مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَاكَ" آپ کو آپ کے پروردگار نے نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے بیزار ہے، تو یہاں پر کاف کو حذف کیا گیا رعایتِ سجع کے لیے، کس لیے؟ رعایتِ سجع کے لیے، اس لیے کیونکہ اس سے آگے اور پیچھے والی آیتوں کو آپ دیکھیں تو ان سب کا اختتام الف پر ہو رہا ہے: "وَالضُّحَى" آخر میں کیا آیا؟ الف، "وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى" آخر میں کیا آیا؟ الف آیا، "مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى" یہاں بھی کیا آ گیا؟ الف، اگر کاف کو ذکر کر دیا جائے "وَمَا قَلَاكَ" تو دیکھیے رعایتِ سجع برقرار نہیں رہے گی بھئی، رعایتِ سجع نہیں ہو گی پھر، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو یہاں کس چیز کو حذف کیا گیا؟ کاف ضمیر کو حذف کیا گیا بھئی، کاف ضمیر کو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو حذف کا داعی کبھی کیا ہو گا؟ اگر نظم ہے تو اس کے اندر وزن کی حفاظت اور اگر وہ نثر ہے تو اس کے اندر حذف کا داعی کیا ہو گا؟ رعایتِ سجع بھئی، اور سجع کس کو کہتے ہیں؟ میں نے کیا بتلایا؟ نثر کے اندر جو چھوٹے چھوٹے فقرے آئیں ان کا اختتام ایک جیسے وزن اور حروف پر کرنا، یہ کیا ہے؟ رعایتِ سجع، رعایتِ سجع۔ یہاں پر آپ کو ایک نقطہ اور بتلاؤں بھئی، انہوں نے دواعیِ حذف میں سجع کو ذکر کیا، سجع کو، اور سجع میں نے بتایا کلامِ منشور کے اندر ایک جیسے وزن اور حروف پر چھوٹے چھوٹے فقروں کا اختتام کرنا یہ ہے رعایتِ سجع، لیکن یہی رعایتِ سجع اگر قرآن میں ہو تو اس کو رعایتِ سجع نہیں کہتے، اس کو بطورِ ادب کے رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں صاد کے ساتھ، قرآن میں ہو تو کیا کہتے ہیں؟ رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں بھئی، تو آپ تفسیر پڑھ رہے ہوں گے تو ہمیشہ یاد رکھیے بھئی وہاں پر کیا لفظ استعمال کرتے ہیں بطورِ ادب کے؟ رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں، تو کوئی رعایتِ سجع بھی کہے آپ سمجھ جائیں یہاں پر مراد کیا ہے قرآن کے اندر رعایتِ فاصلہ مراد ہے بھئی، رعایتِ فاصلہ۔ وجہ اس کی یہ کہ سجع عربی زبان میں کہتے ہیں کبوتر کی آواز کو، کبوتر کی آواز کو کیا کہتے ہیں؟ سجع، تو لہٰذا یہ مناسب نہیں ہے، یہ بے ادبی کی بات ہے کہ اس لفظ کو قرآن کے لیے استعمال کیا جائے، لہٰذا اس کے لیے مفسرین حضرات پھر کیا لفظ استعمال کرتے ہیں؟ فاصلہ، رعایتِ فاصلہ، تو یہ جو "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک جیسے وزن پر جو کلام ختم ہو رہا ہے تو اس کو کیا کہیں گے قرآن کے قرآن میں؟ رعایتِ فاصلہ کہیں گے بھئی۔ جیسے آپ جانتے ہیں بھئی قرآن کے جو الفاظ ہیں اس کے لیے نظم کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اس کے لیے لفظ استعمال نہیں، لفظ کا اطلاق نہیں کیا جاتا ان پر بلکہ بطورِ ادب کے نظم کا لفظ ان پر بولا جاتا ہے نظم کا، کہ نظمِ قرآن میں یوں ہے بھئی، یہ نہیں کہتے لفظِ قرآن میں لفظِ قرآن یوں ہے بھئی، یہ بھی بطورِ ادب کے، اس لیے کیونکہ لفظ کا معنی ہوتا ہے پھینکنا، لفظ کا کیا معنی ہے؟ پھینکنا، لفظ کا معنی ہے پھینکنا اور نظم کا معنی ہے پرونا، جیسے موتی وغیرہ ہیں ان کو لڑی کے اندر پرونا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظم، تو قرآن کے الفاظ کے لیے نظم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ایک تو بطورِ ادب کے اور نیز اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ قرآن کے الفاظ اتنے حسین و جمیل ہیں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہوتے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قرآن کے لیے کیا لفظ استعمال کریں گے؟ نظم کا، اور سجع کے بجائے کیا لفظ استعمال کریں گے؟ فاصلہ، رعایتِ فاصلہ بھئی۔ "وَالتَّعْمِيمُ بِاخْتِصَارٍ" تعمیم کا معنی ہے عموم پیدا کرنا، حذف کبھی کیا جائے گا تعمیم کے لیے "بِاخْتِصَارٍ" ساتھ اختصار کے، اختصار کے ساتھ عموم پیدا کرنے کے لیے بھئی، عموم پیدا کرنے کے لیے، جیسے دیکھیے: "نَحْوُ: وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ" مثال کے طور پر "وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ" اور اللہ بلاتے ہیں سلامتی کے گھر کی طرف یعنی جنت کی طرف، اللہ لوگوں کو کس طرف بلاتے ہیں؟ سلامتی کے گھر یعنی جنت کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں، اب آپ مجھے بتائیے اللہ کوئی خاص قوم یا خاص لوگوں کو جنت کی طرف بلاتے ہیں یا سارے لوگوں کو جنت کی طرف بلاتے ہیں اور اس طرف دعوت دے رہے ہیں؟ سارے لوگوں کو بھئی، تو یہاں پر مفعول کو حذف کر دیا گیا اصل میں تھا "وَاللَّهُ يَدْعُو جَمِيعَ عِبَادِهِ" اللہ اپنے سارے بندوں کو بلاتے ہیں جنت کی طرف بھئی، اللہ اپنے سارے۔ اب یہاں پر اگر "جَمِيعَ عِبَادِهِ" اس کو ذکر کر دیا جائے تو عموم پھر بھی آتا ہے، عموم پھر بھی ہے، "جَمِيعَ عِبَادِهِ" سے کیا پتہ چلا؟ کوئی خاص قوم، کوئی خاص ملک والے، کوئی خاص نسل والے، ان کو بلا رہے ہیں یا سب کو بلا رہے ہیں؟ سب، تو "جَمِيعَ عِبَادِهِ" ذکر کے اندر بھی تعمیم تھی پھر بھی پتہ چل جاتا کہ سارے لوگوں کو اللہ بلا رہے ہیں لیکن تعمیم کے ساتھ ساتھ اختصار بھی ہو بھئی اور اختصار کس صورت میں ہو گا؟ "جَمِيعَ عِبَادِهِ" کو ذکر کرنے سے یہ مختصر ہوتا کلام یا اس کو حذف کرنے سے مختصر ہو جاتا ہے؟ ظاہر سی بات ہے کہ حذف کرنے کے صورت میں کلام کیا ہو جاتا ہے؟ مختصر ہو جاتا ہے، تو یہاں پر "جَمِيعَ عِبَادِهِ" مفعول کو حذف کر دیا گیا کس لیے؟ تعمیم باختصار کے لیے، تعمیم باختصار کے لیے، تعمیم کے ساتھ ساتھ کیا ہو؟ اختصار بھی ہو، اگر ذکر کر دیا جاتا تعمیم تو ہو جاتی لیکن اختصار نہ ہوتا بھئی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں "وَالتَّعْمِيمُ بِاخْتِصَارٍ" اور اختصار کے ساتھ عموم پیدا کرنے کے لیے "نَحْوُ: وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ" مثال کے طور پر "وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ" اور اللہ بلاتے ہیں سلامتی کے گھر کی طرف یعنی جنت کی طرف "أَيْ جَمِيعَ عِبَادِهِ" یعنی اپنے سارے بندوں کو "لِأَنَّ حَذْفَ الْمَعْمُولِ يُؤْذِنُ بِالْعُمُومِ" اس لیے کیونکہ معمول کو حذف کر لینا یہ خبر دیتا ہے عموم کی، معمول کو حذف کر لینا کس چیز کی خبر دیتا ہے؟ عموم کی خبر دیتا ہے۔ بھئی دیکھیے، دوسری مثال سے وضاحت ہو گی، مثلاً میں کہتا ہوں "ضربت زیدا" میں نے زید کی پٹائی کی، یہ جو "زیدا" مفعول کو یعنی یہ جو فعل کا معمول ہے اس معمول کو میں نے ذکر کر دیا، اس ذکر سے کیا پتہ چلا؟ کہ میری ضرب کس پر واقع ہوئی ہے؟ صرف زید پر واقع ہوئی ہے، عمرو یا بکر پر واقع نہیں ہوئی، تو معمول کو ذکر کیا جائے تو وہ فعل کے اندر تخصیص پیدا کر دیتا ہے کہ یہ فعل اس کے معمول کے ساتھ خاص ہے، معلوم ہوا یہ ضرب صرف زید پر واقع ہوئی ہے کسی دوسرے یا تیسرے آدمی پر واقع نہیں ہوئی، اور بعض اوقات اس معمول کو حذف کر لیا جاتا ہے لیکن یہ پھر بھی مراد ہوتا ہے، کوئی قرینہ وہاں دلالت کر رہا ہوتا ہے، تو مفعول جو ہے وہ فضلہ ہے، زائد چیز ہے، اس کو بعض اوقات کلام سے حذف بھی کر لیتے ہیں لیکن کوئی قرینہ وہاں پر دلالت کر رہا ہوتا ہے بھئی، قرینہ کیا ہوتا ہے اس پر؟ دلالت، جیسے اب میں سے اس موقع پر صرف یہ کہہ دیتا ہوں "ضربت"، لیکن کوئی قرینہ ہے اس سے آپ کو خود ہی پتہ چل گیا کہ دراصل یہ کس کی ضرب کی بات ہو رہی ہے؟ کس پہ ضرب واقع ہوئی ہے؟ زید پر واقع ہوئی ہے، اب میں زید کو حذف بھی کر دوں تو کوئی حرج نہیں، آپ کو پھر بھی پتہ چل گیا، قرینے نے آپ کو بتلا دیا کہ ضرب کس پر واقع ہوئی ہے؟ زید پر واقع ہوئی ہے، تو معمول کو ذکر کیا جائے تو یہ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے کہ یہ فعل اسی پر واقع ہوا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ فعل اس پر واقع ہوا ہے، لیکن کبھی کبھار کیا کر لیا جاتا ہے اس معمول کو؟ حذف کر لیا جاتا ہے قرینہ ہونے کی بنا پر۔ اور بعض اوقات فعل کا تعلق سب سے ہوتا ہے، کسی خاص مفعول وغیرہ یا معمول کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہوتا، مثلاً ایک خاص جماعت ہے اس میں پانچ چھ افراد ہیں، زید بھی ہے، مثلاً عامر بھی ہے، بکر بھی ہے، خالد بھی ہے اس کے اندر، اب آپ کہنا چاہتے ہیں میں نے ان سب کی پٹائی کی، تو ایک طریقہ یہ ہے آپ یوں کہیں "ضربت کلہم"، "ضربت کلہم" میں نے ان سب کی پٹائی کی، اب "کلہم" جو معمول ہے فعل کا یعنی جس پر فعل عمل کر رہا ہے اس کو نصب دے رہا ہے تو اس معمول کو ذکر کر دیا تو تعمیم ابھی بھی پیدا ہوئی کیونکہ اس نے "کلہم" نے آپ کو بتلا دیا کہ ضرب صرف زید پر یا صرف بکر پر یا صرف خالد پر واقع نہیں ہوئی بلکہ وہ ساری کی ساری جماعت پر یہ ضرب واقع ہوئی ہے، یہ کس نے بتایا آپ کو؟ "کلہم" نے۔ تو کلہم نے بھی تعمیم پیدا کی لیکن اختصار نہیں آیا۔ "ضربت کلہم" ایک پورے لفظ کو باقاعدہ آپ کو ذکر کرنا پڑا اور آپ چاہتے ہیں کہ عموم کے ساتھ ساتھ اختصار بھی آ جائے تو اس "کلہم" کو حذف کر دیجیے اور یوں کہیے "ضربت"۔ صرف کیا کہا؟ "ضربت"۔ اس "ضربت" کے معمول یعنی مفعول کو حذف کر دیا گیا۔ اور کوئی ایسا قرینہ بھی نہیں موجود جو یہ بتلائے کہ یہ مفعول صرف کون ہے؟ زید ہے، یا صرف کون ہے؟ بکر ہے، یا صرف کیا ہے؟ خالد۔ جب کوئی قرینہ ایسا قائم نہ ہو اور پھر معمول کو حذف کر لیا جائے تو یہ دراصل اشارہ ہوتا ہے اس فعل کے عام ہونے کی طرف کہ یہ "ضربت" کا فعل یہاں پر یہ جو میں نے ضرب لگائی ہے یہ کس قسم کی ضرب ہے؟ عام ہے اور وہ ساری جماعت کو یعنی شامل ہے، ان سب پر یہ ضرب واقع ہوئی ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی فعل بعض اوقات ایک خاص معمول سے متعلق ہوتا ہے "ضربت زیداً"، اس زید کو بھی آپ حذف کبھی کر لیتے ہیں لیکن وہاں پر کوئی قرینہ ہوگا جو بتلائے گا کہ یہاں کس لفظ کو حذف کیا گیا ہے؟ زید کو حذف کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ فعل کا تعلق سب سے ہوتا ہے، اس کو ذکر کر دیں پھر پھر بھی وہاں پر تعمیم ہوتی ہے لیکن اختصار نہیں رہتا اور اگر اس کے معمول کو حذف کر لیا جائے تو تعمیم کے ساتھ ساتھ کیا پیدا ہو جاتا ہے؟ اختصار بھی آ گیا، تعمیم بھی آ گئی۔ تو جب بھی یاد رکھیے بھئی، فعل کے معمول کو یعنی مفعول وغیرہ کو حذف کر لیا جائے اور کسی خاص معمول پر قرینہ بھی نہ ہو تو یہ فعل کس بات کی خبر دیتا ہے؟ کیا بتلاتا ہے؟ کہ یہ فعل عام ہے، اس کا تعلق ہر مفعول سے ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ یہ بتلاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے "واللہ یدعو"، "دعا یدعو" کے معنی ہیں بلانا، اس کے لیے مفعول چاہیے، کس کو بلایا؟ کس کو اللہ بلا رہے ہیں؟ لیکن وہ مفعول بھئی مفعول یہاں ذکر نہیں کیا گیا اور کوئی قرینہ بھی نہیں موجود کہ جس سے یہ پتہ چلے کہ فلاں قوم والے مراد ہیں، یا فلاں ملک والے مراد ہیں، یا فلاں نسل والے مراد ہیں، تو جب کوئی قرینہ موجود نہیں اور پھر معمول کو حذف کر لیا گیا تو یہ کس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور کس بات کی خبر دے رہا ہے؟ یہ فعل جو ہے اس صورت میں عام ہوا، تمام بندوں کو اللہ کے تمام بندوں کو شامل ہوا کہ اللہ کیا کر رہے ہیں؟ اپنے تمام بندوں کو بلا رہے ہیں دارالسلام یعنی جنت کی طرف بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معمول کو کبھی حذف کیا جاتا ہے اور مقصد وہاں کیا ہوتا ہے؟ تعمیم، صرف تعمیم یا تعمیم باختصار بھئی؟ تعمیم باختصار، اختصار کے ساتھ عموم پیدا کرنا بھئی۔ ذکر بھی وہاں اگر "کلہم" کو میں نے ذکر کر دیا تھا، تعمیم پھر بھی آ گئی تھی لیکن اختصار نہیں تھا۔ تو اختصار کے ساتھ عموم پیدا کرنا ہو تو اس کے لیے کیا طریقہ ہے؟ اس معمول کو حذف کر لیا جائے۔ یہ نکات کتابوں میں بھی استعمال ہوں گے، جگہ جگہ آئیں گے، آپ خود غور کریں گے، بعض اوقات کتاب کا مصنف کیا کرے گا؟ کوئی عبارت ذکر کرتے کرتے مفعول کو حذف کر جائے گا یا اور کوئی معمول ہوگا فعل کا اس کو حذف کر جائے گا کس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے؟ کہ یہ فعل عام ہے اور عام ہونے کی طرف بھی اشارہ ہوا اور نیز کلام بھی اس کی وجہ سے کیا ہو گیا؟ مختصر ہو گیا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہیں "والتعمیم باختصار"، اور اختصار کے ساتھ عموم کے پیدا کرنے کے لیے نحو "واللہ یدعو إلی دار السلام" ای "جمیع عبادہ"، یعنی اپنے سارے بندوں کو "لأن حذف المعمول یؤذن بالعموم"، اس لیے کیونکہ معمول کا حذف کرنا یہ عموم کی خبر دیتا ہے۔ "والادب نحو قول الشاعر"، اور کبھی حذف کا نقطہ اور حذف کا داعی وہ ادب ہوگا۔ وہ کیا ہوگا؟ ادب ہوگا، یعنی ایک لفظ کو ذکر کرنا وہ بے ادبی، بے ادبی کی صورت بن جاتی ہے تو اس لفظ کو ایک کہنے والا اس لفظ کو کیا کر دیتا ہے؟ حذف کر دیتا ہے۔ مثلاً کوئی موقع ہے، کوئی مقام ایسا ہے کہ ایک لفظ کا ذکر کیا جائے تو یہ کیا شمار ہوگا؟ بے ادبی شمار ہوگا تو ادب کیا ہے کہ اس مقام پر اس لفظ کو حذف کر لیا جائے۔ جیسے نحو قول الشاعر، جیسے شاعر کا قول ہے بھئی: قد طلبنا فلم نجد لک دوسرے مصرعے کے آخر میں آ رہا ہے "مثلاً"۔ پس ہم نے نہیں پایا آپ کے لیے کوئی مثل، یعنی ہمیں آپ جیسا کوئی نہیں ملا۔ کس چیز میں آپ کا مثل ہمیں نہیں ملا؟ "فی السؤدد"۔ سؤدد کہتے ہیں سرداری کو بھئی۔ سؤدد کا کیا معنی ہے؟ بھئی سؤدد میں آپ دیکھ رہے ہیں یہ ایک لفظ ہے "السؤ"، یہ آدھا لفظ پہلے مصرعے میں اور اگلا آدھا لفظ "دد" دال دو ہیں، وہ اسی لفظ کا حصہ ہیں وہ دوسرے مصرعے میں ہیں۔ یاد رکھیے، عربی اشعار میں ایسا ہوتا رہتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی لفظ آدھا یا کچھ حصہ اس کا ایک مصرعے میں ہوتا ہے اور دوسرا باقی کا حصہ دوسرے مصرعے میں ہوتا ہے۔ کیوں؟ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ وہی بھئی وزنِ شعری کی رعایت بھئی۔ اگر اس پورے سؤدد کو پہلے مصرعے میں ذکر کریں یا دوسرے میں ذکر کر دیں تو شعر کا وزن برقرار نہیں رہتا۔ شعر کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں، ایک حرف، ایک حرف کی کمی بیشی سے پورے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے۔ اگر اس میں سے ایک دال کو بھی اٹھا کر پہلے مصرعے میں لے آئیں تو اس سے پورے پہلے مصرعے کا وزن خراب ہو گیا اور پھر یہ شعر شعر رہا ہی نہ بھئی۔ تو لہٰذا کیا کیا شاعر نے؟ آدھے لفظ کو پہلے مصرعے میں اور آدھے کو دوسرے میں ذکر کر دیا بھئی۔ تو "فلم نجد لک فی السؤدد مثلاً"، ہم نے نہیں پایا آپ کا کوئی مثل "فی السؤدد" سرداری میں "والمجد"، مجد کہتے ہیں بزرگی کو، اور بزرگی میں "والمکارم"، مکارم کہتے ہیں مکر، مکارم جو ہے یہ جمع ہے مکرمۃ کی۔ مکارم کس کی جمع ہے؟ مکرمۃ کی جمع ہے، را پر پیش ہے بھئی مکرمۃ۔ اور مکرمہ کہتے ہیں بھئی عمدہ اور اعلیٰ وصف کو، عمدہ اور اعلیٰ صفت جو ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مکرمۃ۔ اردو میں بھی آپ پڑھتے رہتے ہیں کہ مکارمِ اخلاق بھئی، مکارمِ اخلاق۔ مکارمِ اخلاق کا کیا معنی ہے؟ اعلیٰ اخلاقی اوصاف، عمدہ اخلاقی اوصاف بھئی۔ تو دیکھیے شعر میں کیا کہہ رہے ہیں "فلم نجد لک فی السؤدد والمجد والمکارم مثلاً"، پس ہم نے نہیں پایا آپ کا کوئی مثل سرداری میں اور بزرگی میں اور اعلیٰ صفات کے اندر۔ عمدہ اور اعلیٰ صفات میں اور بزرگی میں اور سرداری میں ہمیں آپ کا کوئی مثل نہیں ملا بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دوبارہ ترجمہ دیکھیے: "قد طلبنا فلم نجد لک فی السؤدد والمجد والمکارم مثلاً"، تحقیق ہم نے طلب کیا پس ہمیں نہیں ملا سرداری میں اور بزرگی میں اور عمدہ صفات کے اندر "مثلاً"، آپ کا کوئی مثل بھئی، آپ کا کوئی مثل ہمیں نہیں ملا۔ مقامِ استشهاد ہے یہاں پر بھئی، "قد طلبنا مثلاً لک"، "قد طلبنا" کے بعد "مثلاً لک" مفعول محذوف ہے بھئی، "مثلاً لک"۔ ہم نے، شاعر کہتا ہے کسی کی تعریف بیان کر رہا ہے، اس کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے "قد طلبنا مثلاً لک"، تحقیق ہم نے آپ کا مثل تلاش کیا کہ کوئی ہمیں آپ جیسا مل جائے "فلم نجد لک فی السؤدد والمجد والمکارم مثلاً"، پس ہمیں آپ کا کوئی مثل نہیں ملا سرداری میں اور بزرگی میں اور عمدہ صفات کے اندر۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب دیکھیے یہاں پر، یہ "مثلاً لک" کو "طلبنا" کا مفعول ہے "مثلاً لک"، ہم نے کس کو طلب کیا؟ آپ کے مثل کو۔ یہاں "مثلاً لک" کو شاعر نے حذف کر دیا۔ کیوں حذف کیا؟ بطورِ ادب کے، بطورِ ادب کے۔ اس لیے کیونکہ یہ بے ادبی کی بات ہے کہ ممدوح کے سامنے یہ کہا جائے ہم آپ کا مثل تلاش کرتے رہے ہیں، ہم آپ جیسا تلاش کرتے رہے ہیں لیکن ہمیں ملا نہیں۔ یہ تو بے ادبی ہے، گویا، گویا اے متکلم، اے یہ بات کہنے والے! یہ جو جس کی تو تعریف کر رہا ہے، یہ اتنا عظیم آدمی ہے، اتنا بڑا سردار ہے، اتنی بزرگی اور عظمت والا ہے، اتنے اعلیٰ اعلیٰ اوصاف ہیں، پھر بھی آپ اس کا مثل تلاش کرتے رہے ہو؟ معلوم ہوا آپ کے خیال میں اس جیسا کوئی دوسرا بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کے خیال میں اس جیسا کوئی دوسرا بھی ہو سکتا ہے، تو یہ بے ادبی کی بات تھی۔ کیا تھی؟ بے ادبی۔ گویا تمہارا یہ خیال ہے کہ اس جیسا اور بھی ہو سکتا ہے، جبھی تو تم تلاش کرتے رہے ہو۔ اگر تمہارے سامنے پوری حقیقت ہوتی تو تم تو خود ہی سمجھ جاتے کہ اس کا تو مثل ممکن ہی نہیں ہے، تم تلاش ہی نہ کرتے بالکل، لیکن تمہارا تلاش کرنا ہی کس بات پر دلالت کر رہا ہے؟ کہ اس جیسا اور بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ تو ممدوح کے سامنے یہ ذکر کرنا کہ ہم آپ جیسے کو تلاش کرتے رہے، یہ بھی بے ادبی کی بات تھی۔ لہٰذا شاعر نے کیا کیا؟ "مثلاً لک" کو حذف کر دیا، "قد طلبنا"، ہم نے تلاش کیا۔ کس کو تلاش کیا؟ وہ ذکر ہی نہیں کیا بھئی، کیونکہ اس کو ذکر کر دیتے ہیں تو کیا لفظ آتا ہے؟ "مثلاً لک"، ہم نے کس کو طلب کیا؟ آپ کے مثل، تو یہ بے ادبی تھی، اس لیے شاعر نے کیا کیا؟ "مثلاً لک" کا لفظ کو حذف کر دیا۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ تو "قد طلبنا"، تحقیق ہم نے طلب کیا، ہم نے تلاش کیا "فلم نجد لک"، پس ہم نے نہیں پایا آپ کا کوئی "فی السؤدد"، سرداری میں "والمجد"، اور بزرگی میں "والمکارم"، اور عمدہ اوصاف کے اندر "مثلاً"، کوئی مثل۔ "وتنزیل المتعدی منزلۃ اللازم لعدم تعلق الغرض بالمعمول نحو ہل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون" "وتنزیل المتعدی منزلۃ اللازم"، اور متعدی کو اتارنا لازم کے، لازم کے درجے میں۔ متعدی یعنی فعلِ متعدی کو فعلِ لازم کے درجے میں اتارنا، حذف کا نقطہ کیا ہوگا کبھی کبھار؟ کہ فعلِ متعدی کو فعلِ لازم کے درجے میں اتار لیا گیا، لہٰذا اس کے مفعول کو حذف کر لیا گیا، کیونکہ مفعول تو آتا ہے فعلِ متعدی کے لیے اور آپ اس فعلِ متعدی کو کس کے درجے میں اتار چکے؟ فعلِ لازم کے درجے میں۔ بھئی دیکھیے، ایک ہوتا ہے فعلِ لازم، ایک ہے فعلِ متعدی۔ فعلِ لازم وہ ہے جس کے لیے مفعول کی ضرورت نہ ہو، صرف فعل اور فاعل سے مل کر ہی بات پوری ہو جائے، فعل کو صرف فاعل کی وہاں ضرورت ہوتی ہے، مفعول کی ضرورت نہیں، تو یہ ہے فعلِ لازم۔ یہ کیا ہے؟ فعلِ لازم۔ اور ایک ہوتا ہے فعلِ متعدی جہاں فاعل کے ساتھ ساتھ مفعول کی بھی ضرورت ہوتی ہے، بغیر مفعول کے وہ فعل پایا ہی نہیں جا سکتا۔ مثلاً دیکھیے میں کہتا ہوں "ضربت"، میں نے پٹائی کی۔ بھئی کس کی پٹائی کی؟ ضرب کے لیے ہمیشہ کوئی مضروب چاہیے، بغیر کوئی مضروب ہوئے کبھی ضرب کا وجود پایا جا سکتا ہے؟ کبھی بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مضروب کوئی بھی نہ ہو اور ضرب پائی جائے۔ مضروب کوئی بھی نہ ہو اور ضرب، تو دیکھیے معلوم ہوا ضرب ایسا فعل ہے جس کے لیے مفعول کا ہونا ضروری ہے، اس کے بغیر اس کا وجود ہی نہیں پایا جائے گا بھئی۔ سمجھے؟ اسی طرح اکل، اکل کھانا، کھانا، اکل کھانے کے لیے ہمیشہ کوئی ماکول چاہیے، کوئی ایسی چیز جسے کھایا جائے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اکل یعنی کھانے کا فعل پایا جائے اور ماکول کچھ نہ ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اکل کیا ہے؟ فعلِ متعدی ہے۔ اسی طرح شرب پینا، شرب فعلِ متعدی ہے، اس کے لیے ہمیشہ مفعول چاہیے، شرب کبھی بھی بغیر مشروب کے نہیں پایا جائے گا، شرب ہمیشہ وہاں ہوگا جہاں کوئی چیز مشروب ہو، کسی چیز کو پیا گیا ہو۔ اگر کوئی چیز پی ہی نہیں گئی تو پھر شرب کا فعل بھی نہیں، معلوم ہوا شرب بغیر مشروب کے نہیں، اکل کا فعل بغیر ماکول کے نہیں، کھانا تو کھایا گیا، کوئی کھانا کھانا تو پایا گیا ہو لیکن کوئی چیز کھائی نہ گئی ہو، ایسا ہو ہی نہیں سکتا، کھانے کا فعل پایا ہی کب جائے گا؟ جب کوئی چیز کھائی جانے والی بھی ہو بھئی۔ تو ضرب بغیر مضروب کے نہیں ہو سکتی، شرب بغیر مشروب کے نہیں ہو سکتا، اکل بغیر ماکول کے نہیں ہو سکتا، تو یہ ہے فعلِ متعدی، یہ کیا ہے؟ فعلِ متعدی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ باقی اس مفعول کو کلام میں کبھی ذکر کیا جاتا ہے، کبھی نہیں ذکر کیا جاتا، وہ الگ چیز ہے، "ضربت" میں نے "زیداً" کو آگے ذکر نہیں کیا، اس سے یہ لازم نہیں آیا کہ اب یہ فعلِ لازم بن گیا۔ کہنا تو چاہیے تھا "ضربت زیداً"، لیکن میں صرف کیا کہہ دیا؟ "ضربت" کہہ دیا کیونکہ مفعول کے حذف پر قرینہ موجود ہے، وہ قرینہ ہی آپ کو بتلا رہا ہے کہ یہاں پر دراصل مفعول کون محذوف ہے؟ "زیداً"، تو میں نے اس لیے حذف کر دیا کیونکہ قرینہ موجود ہوتا ہے، یا جیسے اوپر نکات ذکر ہوئے، ان نکات کی بنا پر مفعول وغیرہ کو حذف کر دیا جاتا ہے، لیکن مفعول کو حذف کرنے کا یہ معنی نہیں کہ اس فعل کا مفعول ہے ہی نہیں، وہ تو آپ فعل کے مفہوم پہ خود ذرا غور کریں، جیسے میں نے ابھی بتایا، ضرب کے مفہوم پر ذرا غور کریں، ضرب کہتے کسے ہیں؟ پٹائی کرنا، تو اس کے لیے مضروب چاہیے یا نہیں؟ آپ کبھی مجھے دکھا دیں کہ ضرب ہو اور مضروب کوئی نہ ہو۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، انسان نہیں تو پتھر ضرور ہوگا جس پہ وہ ضرب واقع ہوئی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کسی نہ کسی چیز پر وہ ضرب ضرور ہوگی، ایسا ہو ہی نہیں سکتا ضرب کا فعل پایا جائے اور مضروب کوئی نہ ہو۔ شرب، شرب کے لیے مشروب ضرور چاہیے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ مجھے شرب کا فعل کر کے دکھائیں اور مشروب کوئی چیز نہ ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اکل یعنی کھانے والا فعل تو پایا جائے اور ماکول کوئی کھائی جانے والی چیز نہ ہو، اکل یعنی کھانے کا فعل تبھی پایا جائے گا جہاں پر کوئی چیز ماکول بھی ہو، کسی چیز کو آپ کھائیں بھئی، پھر ہی ہم کہیں گے اس نے کھایا ہے اس چیز کو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو عبارت میں مفعول کا ذکر نہ کرنا وہ الگ چیز ہے اور فعل کے معنی پر ہی آپ غور کر لیں، اگر وہ مفعول کا تقاضا کرتا ہے تو معلوم ہوا یہ فعلِ متعدی ہے اور اگر وہ مفعول کا تقاضا نہیں کرتا تو وہ معلوم ہوا فعلِ لازم ہے، جیسے "فرّ"، دوڑنا، "فرّ یا فرّ"، "فرّ زیدٌ"، زید دوڑا، کسی مفعول کی ضرورت ہے یہاں پر؟ یہاں کسی مفعول کی ضرورت نہیں، بات پوری ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ "فرّ زیدٌ"، زید بھاگا، یہاں کسی مفعول کی نہیں ضرورت۔ "ضحک زیدٌ"، زید ہنسا، بھئی ہنسا، کوئی مفعول کی ضرورت ہے یہاں پر؟ نہیں، لیکن "ضرب" میں آپ غور کریں، ضرب کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مضروب، شرب کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مشروب بھئی، علم اسی طرح، علم کے لیے ہمیشہ معلوم چاہیے، آپ عالم تبھی کہیں گے جب کسی چیز کو آپ جاننے والے ہیں، تو معلوم چاہیے یا نہیں چاہیے؟ ہاں معلوم نہ ہو اور آپ کو عالم کہہ دیا جائے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ علم کے لیے ہمیشہ علم کا فعل پایا ہی کب جائے گا؟ جب کوئی اس کے لیے معلوم ہو، آپ کو کبھی بھی کوئی شخص ضارب نہیں کہے گا جب تک کسی کی آپ نے پٹائی نہ کی ہو، اب مضروب ضرور ہونا چاہیے پھر ہی آپ کو ضارب کہا جائے گا، مشروب ہوگا تو پھر ہی آپ کو شارب کہا جائے گا ورنہ آپ کو کبھی بھی کوئی شارب نہیں، آپ نے کوئی چیز کھائی ہوگی تو پھر ہی آپ کو آکل کہیں گے کھانے والا، ورنہ اگر ماکول نہیں تو آپ آکل کبھی بن ہی نہیں سکتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن فعلِ لازم میں ایسا نہیں ہوتا، وہاں کسی مفعول کی ضرورت نہیں، جیسے "فرّ زیدٌ"، زید دوڑا، "ضحک زیدٌ"، زید ہنسا، دیکھو یہاں کسی مفعول کی ضرورت نہیں ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو فعلِ لازم اور فعلِ متعدی، ان کے آپ مفہوم پر غور کیا کریں، کلام اور جملے کو نہ دیکھا کریں، جملے میں تو ایک فعلِ متعدی ہوتا ہے اس کے مفعول کو کبھی کیا کر لیتے ہیں؟ حذف کر لیتے ہیں، آپ خود اس میں غور کیا کریں کہ اس فعل کا معنی بغیر مفعول کے پایا جا سکتا ہے یا پایا نہیں جا سکتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے اطلاع دینا، اب آپ مجھے بتائیے، یہ فعلِ لازم ہے یا فعلِ متعدی ہے؟ جی؟ شاباش، یہ فعل متعدی ہے، "اطلاع دینا"، اس کے لیے کوئی اطلاع چاہیے یا نہیں چاہیے؟ چاہیے، میں کوئی آپ کو بات پہنچاؤں گا تو تب آپ مجھے کہیں گے یہ اطلاع دینے والا ہے، اب بغیر بات پہنچائے کوئی مجھے کہہ سکتا ہے یہ اطلاع دینے والا ہے؟ نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آپ مفہوم پر غور کریں اور کوئی مثال ذکر کریں بھئی۔ پڑھنا، پڑھنا۔ پڑھنے کے لیے کوئی پڑھی جانے والی چیز چاہیے یا نہیں؟ بغیر پڑھی جانے والی چیز کے پڑھنے کا فعل پایا جا سکتا ہے؟ نہیں، یہ معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ فعل متعدی ہے اور کیا مثال؟ جی؟ چلنا، ہاں بتائیے یہ فعل لازم ہے فعل متعدی ہے؟ جی؟ زید چلا، کسی مفعول کی ضرورت ہے؟ کسی مفعول کی ضرورت نہیں ہے تو یہ فعل لازم ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو ایک فعل لازم ہوتا ہے، ایک فعل متعدی۔ فعل متعدی کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مفعول، ہاں وہ مفعول عبارت میں کبھی ذکر ہوگا، کبھی ذکر نہیں ہوگا۔ جبکہ فعل لازم کے لیے کبھی مفعول نہیں آتا بھئی، کبھی مفعول نہیں آتا۔ لیکن کبھی کبھار ایسا کر لیا جاتا ہے کہ ایک فعل متعدی ہے، ایک فعل متعدی ہے اس کو فعل لازم ہی کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے اور اس کے مفعول کو ذکر نہیں کیا جاتا، تو فعل کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ فعل لازم کے درجے میں گویا اس کے لیے مفعول چاہیے ہی نہیں، مفعول چاہیے ہی نہیں۔ جیسے دیکھیے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ" کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ لوگ جو نہیں جانتے؟ یہ استفہام انکاری ہے، یہ کیا ہے استفہام انکاری؟ یعنی جہاں پر دوسرے سے اقرار کروانا مقصد ہے یعنی انکار، یہاں استفہام انکاری تو یہاں دوسرے سے انکار کروانا مقصود ہے کہ آ تم نہیں مانتے ہو، یقیناً ایسا نہیں ہے۔ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہیں، نہیں ہو سکتے بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ" جی، جواب آپ کیا دیں گے؟ "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ" کیا وہ لوگ جو جاننے والے ہیں اور نہ جاننے والے ہیں، کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں؟ جواب ہمیشہ کیا آئے گا؟ نہیں بھئی، برابر نہیں ہو سکتے اور "يَعْلَمُونَ" جاننے والے ہیں، بھئی کس چیز کو؟ علم کے لیے معلوم چاہیے یا نہیں چاہیے؟ چاہیے، تو یہاں کیا مراد ہے؟ علم فقہ جاننے والے؟ علم تفسیر جاننے والے؟ یا علم حدیث جاننے والے؟ یا علم طب جاننے والے، یعنی جو طبیب ہیں، علم طب جاننے والے ہیں؟ یا جو تجارت کو جاننے والے ہیں؟ کون سا علم مراد ہے؟ یہاں مفعول کو ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ اس فعل متعدی کو فعل لازم کے درجے میں اتار لیا گیا، کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ اور فعل لازم کے لیے مفعول چاہیے ہوتا ہے یا نہیں چاہیے ہوتا؟ نہیں، اس کے لیے تو مفعول نہیں چاہیے تو اس کو بھی فعل لازم کے درجے میں اتار لیا گیا کہ گویا اس کے لیے مفعول چاہیے ہی نہیں اور کیوں فعل لازم کے درجے میں اتارا گیا؟ کیونکہ اس کے معمول کے ساتھ کوئی غرض متعلق نہیں تھی بھئی، اس کے معمول سے کوئی غرض متعلق نہیں تھی بھئی۔ یعنی اللہ فرما رہے ہیں کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ اس سے کوئی مخصوص علم والے مراد نہیں ہیں، ایک عام بات ہے، آپ کسی بھی شعبے میں چلے جائیں، ایک ہے جاننے والا، ایک ہے نہ جاننے والا، دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ تجارت کے شعبے میں چلے جائیں، ایک ہے تجارت کو جاننے والا، ایک ہے تجارت کو نہ جاننے والا، اے دنیا والو! تم بھی مانتے ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ علم طب ہے، طبیب ہے، ڈاکٹری کا علم ہے، ایک اس علم کا جاننے والا ہے، ایک اس علم کا نہ جاننے والا ہے، اے دنیا والو! تم بھی مانتے ہو یہ علم والا اور وہ لا علم یہ دونوں برابر نہیں ہیں، اسی طرح کسی بھی شعبے میں چلے جائیں تو وہاں کبھی بھی جاننے والا اور نہ جاننے والا دونوں برابر نہیں ہوتے بلکہ کس کو فضیلت ہوتی ہے؟ جاننے والے کو فضیلت ہوتی ہے، تو یہاں کسی مخصوص مخصوص شعبے کا ذکر مقصود نہیں بلکہ عام ہے یہ، عام ہے، ہر جگہ پر اسی طرح ہے، ایک ہے جاننے والا اور ایک ہے نہ جاننے والا، تو دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ تو یہاں پر کسی خاص معمول وہ مقصود ہی نہیں تھا کہ علم طب جاننے والا یا علم تجارت جاننے والا یا شریعت کا علم جاننے والا، نہیں، عام ہر جگہ پر اسی طرح ہے، دنیا والو تم بھی دیکھتے ہو، اے انسانو تم بھی دیکھتے ہو، ہر جگہ پر اسی طرح ہے، ایک ہوتا ہے جاننے والا اور ایک ہوتا ہے نہ جاننے والا، دونوں برابر نہیں ہوتے، تمہارے نزدیک بھی جو جاننے والا ہوتا ہے اس کو فضیلت حاصل ہوتی ہے بھئی۔ تو یہاں پر اس "يَعْلَمُونَ" اس کے معمول کو حذف کر لیا گیا، اس کے لیے کیا چاہیے تھا؟ معلوم چاہیے تھا کوئی، لیکن اس کو کیا کر لیا گیا؟ حذف، کیوں حذف کیا گیا؟ کیا مقصد ہے بتلانا؟ بلکہ یوں کہیں، اس کے معمول کو حذف کر لیا گیا اور اس کو فعل لازم کے درجے میں اتار لیا گیا، گویا اس کے لیے معمول چاہیے ہی نہیں، تو گویا ترجمہ یوں ہوا: "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ" کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جن کے لیے صفت علم ثابت ہے؟ اب مفعول کی ضرورت ہی نہیں رہی، ترجمہ ہی میں نے ایسا کر دیا۔ کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جن کے لیے صفت علم ثابت ہے اور وہ لوگ جن کے لیے صفت علم ثابت نہیں ہے بھئی؟ ہاں اگر ترجمہ کریں جاننے والا، اس کے لیے مفعول کے بارے میں ذہن میں آ سکتا ہے، کیا برابر ہو سکتے ہیں جاننے والے؟ بھئی کس چیز کو جاننے والے؟ مفعول کی طرف ذہن جاتا ہے یا نہیں جاتا؟ لیکن ترجمہ ہی کیا کر دیا میں نے؟ کیا ترجمہ کیا؟ کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جن کے لیے صفت علم ہے اور جن کے لیے صفت علم نہیں ہے بھئی؟ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہاں کیا کیا گیا؟ فعل متعدی کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ فعل لازم، اس کے معمول کو حذف کر لیا گیا اور اس کو فعل لازم کے درجے میں اتار لیا گیا، گویا اس کے لیے مفعول کی ضرورت ہی نہیں ہے اور ایسا کیوں کیا گیا؟ اس فعل متعدی کو فعل لازم کے درجے میں کیوں اتارا گیا؟ کیونکہ اس کا جو معمول تھا اس کے ساتھ کوئی غرض متعلق نہیں تھی، اس کے ساتھ کوئی غرض کوئی مقصد اس سے متعلق نہیں تھا، یہاں غرض ہے ہی نہیں کہ خاص فلاں علم والے یا فلاں علم والے، اس سے کوئی غرض متعلق نہیں بلکہ ایک عام بات کی جا رہی ہے جو ہر مقام پر، ہر شعبے کے اندر جاری ہوتی ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر شمار نہیں ہوتے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ تو یہ معنیٰ ہے: "وَ يُعَدُّ مِنَ الْحَذْفِ تَنْزِيْلُ الْمُتَعَدِّي مَنْزِلَةَ اللَّازِمِ" اور فعل متعدی کو فعل لازم کے درجے میں اتارنا، یہ داعیِ حذف ہوگا کبھی، بھئی کیوں فعل متعدی کو فعل لازم کے درجے میں کیوں اتارا جائے گا؟ کہتے ہیں: "لِعَدَمِ تَعَلُّقِ الْغَرَضِ بِالْمَعْمُولِ" اس وجہ سے کہ اس کا جو معمول ہے اس کے ساتھ کوئی غرض اور کوئی مقصد متعلق نہیں ہے، اس کے ساتھ کوئی مقصد متعلق نہیں ہے بھئی۔ "نَحْوُ" مثال کے طور پر: "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ" کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ لوگ جو نہیں جانتے؟ جی، بات سب کو سمجھ میں آئی؟ کہ نہیں آئی؟ آ گئی۔ تو یہاں پر کیا کیا گیا؟ فعل متعدی تھا، اس کے لیے معمول چاہیے تھا، لیکن اس معمول کو کیا کر لیا گیا؟ حذف اور اس فعل متعدی کو کس کے درجے میں؟ فعل لازم، فعل لازم کے درجے میں کیوں اتارا گیا؟ کیونکہ اس کا جو معمول تھا اس کے ساتھ کسی قسم کی کوئی غرض متعلق نہیں تھا بھئی، بلکہ یہ عام بات ذکر کی جا رہی ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہو سکتے بھئی۔ تو یہ استفہام انکاری ہے، استفہام انکاری جس سے دوسرے سے انکار کہلوایا جاتا ہے، دوسرا خود بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے، آپ کسی سے بھی یہ سوال کریں گے، ہاں بھئی بتائیے، کیا جاننے والا، علم رکھنے والا اور علم نہ رکھنے والا برابر ہو سکتا ہے؟ وہ خود ہی کہے گا، یقیناً نہیں، کبھی بھی برابر نہیں ہو سکتے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے استفہام انکاری جس میں دوسرے سے انکار کروانا مقصد ہوتا ہے کہ وہ بھی اس انکار کا اقرار کر لے بھئی۔ "وَ يُعَدُّ مِنَ الْحَذْفِ إِسْنَادُ الْفِعْلِ إِلَى نَائِبِ الْفَاعِلِ فَيُقَالُ حُذِفَ الْفَاعِلُ لِلْخَوْفِ مِنْهُ أَوْ عَلَيْهِ أَوْ لِلْعِلْمِ بِهِ أَوْ لِلْجَهْلِ" بھئی دیکھیے، ایک ہے فعل معروف، ایک ہے فعل مجہول، فعل معروف جو ہوتا ہے اس کا اسناد فاعل کی طرف ہوتا ہے: "ضَرَبَ زَيْدٌ" اور آگے مثلاً مفعول آتا ہے "عَمْرًوا"، "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" زید نے عمر کی پٹائی کی، یہ "ضَرَبَ" کون سا فعل ہے، معروف یا مجہول؟ معروف، یہ فعل معروف ہے جس کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوگا؟ فاعل کی طرف، اور پھر ایک ہے فعل مجہول: "ضُرِبَ عَمْرٌو" عمر کی پٹائی کی گئی، فعل مجہول کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوتا ہے؟ مفعول کی طرف ہوتا ہے، دیکھیے "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" فاعل کون؟ پٹائی کرنے والا کون؟ زید، اور پٹائی کس پر واقع ہوئی ہے؟ عمر پر، "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" پٹائی کرنے والا کون؟ زید، اور پٹائی واقع کس پر ہوئی ہے؟ عمر پر، سو عمر مفعول ہے، اب ہم کیا کرتے ہیں، اس "زَيْدٌ" فاعل کو حذف کر لیتے ہیں اور اس فعل معروف کو فعل مجہول بنا دیتے ہیں، کیا بن گیا؟ "ضُرِبَ" اور اس کے بعد کیا تھا؟ "عَمْرًوا"، وہ مفعول تھا اس کو نائب الفاعل بنا دیتے ہیں، اس کی طرف فعل کا اسناد کر دیتے ہیں اور وہ مرفوع ہو جاتا ہے: "ضُرِبَ عَمْرٌو"، اب کیا ترجمہ ہوگا؟ "ضُرِبَ عَمْرٌو" عمر کی پٹائی کی گئی، تو فعل مجہول کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوتا ہے؟ مفعول کی طرف بھئی، کس کی طرف ہوتا ہے؟ ہاں لیکن اس مفعول کو کہتے کیا ہیں؟ نائب فاعل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ نائب فاعل کیونکہ اب وہ فعل کا مسند الیہ بن گیا، اس کی طرف فعل کا اسناد ہو گیا، وہ فاعل کا قائم مقام ہو گیا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی دہرائیے بھئی، میں تکرار کروا رہا ہوں، آپ کی آواز مجھے کم آتی ہے، فعل معروف کا اسناد کس کی طرف ہوتا ہے؟ فاعل کی طرف، اور فعل مجہول کا اسناد کس کی طرف؟ مفعول، یعنی اب وہ میں سمجھانے کے لیے کہہ رہا تھا، بات وہی ہے، ہے وہ مفعول ہی، فعل مجہول کا اسناد کس کی طرف؟ نائب الفاعل کی طرف ہوتا ہے، اور یہ نائب الفاعل درحقیقت کیا ہے؟ مفعول ہے بھئی مفعول ہے، کیونکہ اس پر ضرب واقع ہوئی ہے، اس پر یہ فعل واقع ہوا ہے، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب دیکھیے یہ جو فعل مجہول ہے اس کو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کا اسناد نائب الفاعل کی طرف کرنا ہے، فاعل کی طرف کرنا ہی نہیں، تو "ضُرِبَ عَمْرٌو" ہی آپ کہیں گے، یہاں پر فاعل یعنی زید کا ذکر کیا ہی نہیں جا سکتا، اس کی طرف فعل کا اسناد کیا ہی نہیں جا سکتا بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ فعل مجہول کو بنایا ہی کس لیے گیا ہے؟ تو فعل مجہول کا اسناد ہوتا ہی کس کی طرف ہے؟ نائب فاعل کی طرف جو درحقیقت مفعول ہے، یہاں فاعل کا ذکر کیا ہی نہیں جا سکتا، اس فعل مجہول کو وضع ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کا اسناد نائب الفاعل کی طرف کیا جائے، یعنی مفعول کی طرف کیا جائے، تو یہاں پر فاعل کا ذکر ہو ہی نہیں سکتا، فاعل کا ذکر ہو ہی نہیں سکتا۔ جی، اب آپ مجھے بتائیے، میں آپ کے سامنے کہتا ہوں "ضُرِبَ عَمْرٌو"، عمر کی پٹائی کی گئی، بات پوری ہے یا پوری نہیں ہے؟ بات پوری ہے، کوئی لفظ یہاں محذوف ہے؟ کوئی لفظ محذوف نہیں ہے، کوئی لفظ محذوف نہیں، تو یہ دیکھو، فعل مجہول کا اسناد ہے نائب الفاعل کی طرف اور نائب فاعل اس کے ساتھ جب ذکر ہے تو بات پوری ہے، نائب الفاعل کے بغیر تو وہ آ ہی نہیں سکتا کیونکہ فعل کے لیے مسند الیہ تو ضرور چاہیے، تو نائب الفاعل یہاں پر کیا ہے؟ مسند الیہ ہے بھئی، تو وہ اس کے ساتھ ذکر ہے، لیکن اس کو بھی حذف میں سے شمار کیا گیا، یہ درحقیقت یہاں محذوف تو کوئی نہیں، لیکن اس کو شمار کس میں سے کیا گیا؟ حذف میں سے شمار کیا گیا، گویا اصل میں کلام یوں تھا، اس وقت کیا ہے؟ "ضُرِبَ عَمْرٌو"، لیکن گویا بلغاء یہ کہتے ہیں، علم بلاغت والے یوں کہتے ہیں، اصل میں تو یہ "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" ہی تھا، اصل میں کیا تھا؟ "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" ہی تھا، پھر زید فاعل کو حذف کر لیا گیا اور ضرب کو فعل مجہول بنا دیا گیا، کیا کہا گیا؟ "ضُرِبَ"، اور عمر منسوب تھا، مفعول تھا، اس کو کیا بنا دیا گیا؟ نائب فاعل، تو کیا بن گیا کلام؟ "ضُرِبَ عَمْرٌو"، تو اب اس کو بھی حذف میں سے وہ شمار کرتے ہیں، ہے تو حقیقت میں یہاں کوئی حذف نہیں، کیونکہ یہ تو فعل معروف ہے ہی نہیں، فعل معروف ہوتا ہم کہتے فاعل کدھر ہے اس کا، وہ تو فاعل کے بغیر آ ہی نہیں سکتا، یہ تو ہے ہی فعل مجہول، اس کا تو اسناد ہونا ہی کس کی طرف ہے؟ نائب فاعل کی طرف، اور نائب الفاعل اس کے ساتھ ذکر ہے، پھر بھی اس کو کس میں سے شمار کیا جاتا ہے؟ حذف میں سے کہ یہاں فاعل کو حذف کیا گیا ہے، تو فعل مجہول میں کبھی فاعل ذکر نہیں ہوتا، تو یوں شمار کیا جاتا ہے گویا یہاں سے کیا کر لیا گیا؟ فاعل کو حذف کر لیا گیا، کسی نقطے کی بنا پر فاعل کو حذف کر لیا گیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنیٰ ہے: "وَ يُعَدُّ مِنَ الْحَذْفِ" اور شمار کیا گیا ہے حذف میں سے ہی کس چیز کو؟ "إِسْنَادُ الْفِعْلِ إِلَى نَائِبِ الْفَاعِلِ" فعل کا جو اسناد ہے نائب فاعل کی طرف کرنا، فعل کا اسناد یعنی فعل مجہول کا اسناد کرنا کس کی طرف؟ نائب فاعل کی طرف، اس کو بھی کس میں سے شمار کیا گیا ہے؟ حذف، حقیقت میں سے دیکھو خود بتلا دیا ہے انہوں نے، یہ ہے نہیں حذف میں سے، لیکن اس کو شمار کس میں سے کیا گیا ہے؟ حذف، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ حذف میں سے نہیں ہے، لیکن "يُعَدُّ" شمار کیا گیا ہے، "فَيُقَالُ" پس کہا جاتا ہے "حُذِفَ الْفَاعِلُ" کہ فاعل کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا، بھئی کیوں حذف کیا گیا؟ حذف کے لیے تو ہمیشہ کیا چاہیے؟ کوئی نقطہ چاہیے، کوئی داعی چاہیے، وہ داعی کیا کیا ہو سکتے ہیں؟ وہ چند ایک یہاں بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "لِلْخَوْفِ مِنْهُ" اس سے خوف ہونے کی وجہ سے، اس سے خوف، مثلاً دیکھیے آگے مثال آ رہی ہے، ایک شخص ہے اس کا سامان کسی نے چرا لیا، اس کا سامان کسی نے چرا لیا، اب ایک صورت یہ ہے آپ یوں کہیں، آپ کو پتہ لگ گیا کہ فلاں نے چرایا ہے، آپ یوں کہیں: "سَرَقَ فُلَانٌ مَتَاعَهُ"، "سَرَقَ فُلَانٌ الْمَتَاعَ"، فلاں نے کیا کیا؟ متاع یعنی سامان کو چرا لیا ہے، فلاں نے سامان کو ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس فلاں کا نام باقاعدہ ذکر کر رہے ہیں جیسے مثلاً مثلاً زید ہے اس آدمی کا نام جس نے چوری کی ہے، آپ کیا کہہ سکتے ہیں؟ "سَرَقَ زَيْدٌ مَتَاعَهُ" زید نے کیا کیا؟ اس کا سامان چرا لیا، ایک صورت یہ ہے، لیکن آپ یوں نہیں کہتے کیونکہ آپ کو خود زید سے ڈر لگتا ہے، آپ کو اس کا خوف ہے کہ اگر میں اس کا نام ذکر کر دوں گا اس طرح سب کے سامنے تو کل کو ہو سکتا ہے وہ مجھے بھی کوئی نقصان نہ پہنچائے، لہٰذا اب آپ یوں کہتے ہیں: "سُرِقَ مَتَاعُهُ" اس کا سامان چرا لیا گیا، فعل مجہول لے آئے بھئی، فعل معروف لائے ہی نہیں کیونکہ فعل معروف لاتے تو کس کو ذکر کرنا پڑتا؟ فاعل یعنی چوری کرنے والے کا نام ذکر کرنا پڑتا اور آپ کو تو اس سے خوف ہے، اس خوف کی وجہ سے آپ نے اس کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا، اور فعل کون سا ذکر کیا؟ فعل مجہول، اور اس کے لیے نائب فاعل کو ذکر کر دیا: "سُرِقَ الْمَتَاعُ" وہ سامان چرا لیا گیا، کس نے چرایا؟ وہ آپ نے ذکر نہیں کیا۔ جی؟ شاباش، یہ فعل متعدی ہے، "اطلاع دینا"، اس کے لیے کوئی اطلاع چاہیے یا نہیں چاہیے؟ چاہیے، میں کوئی آپ کو بات پہنچاؤں گا تو تب آپ مجھے کہیں گے یہ اطلاع دینے والا ہے، اب بغیر بات پہنچائے کوئی مجھے کہہ سکتا ہے یہ اطلاع دینے والا ہے؟ نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آپ مفہوم پر غور کریں اور کوئی مثال ذکر کریں بھئی۔ پڑھنا، پڑھنا۔ پڑھنے کے لیے کوئی پڑھی جانے والی چیز چاہیے یا نہیں؟ بغیر پڑھی جانے والی چیز کے پڑھنے کا فعل پایا جا سکتا ہے؟ نہیں، یہ معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ فعل متعدی ہے اور کیا مثال؟ جی؟ چلنا، ہاں بتائیے یہ فعل لازم ہے فعل متعدی ہے؟ جی؟ زید چلا، کسی مفعول کی ضرورت ہے؟ کسی مفعول کی ضرورت نہیں ہے تو یہ فعل لازم ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو ایک فعل لازم ہوتا ہے، ایک فعل متعدی۔ فعل متعدی کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مفعول، ہاں وہ مفعول عبارت میں کبھی ذکر ہوگا، کبھی ذکر نہیں ہوگا۔ جبکہ فعل لازم کے لیے کبھی مفعول نہیں آتا بھئی، کبھی مفعول نہیں آتا۔ لیکن کبھی کبھار ایسا کر لیا جاتا ہے کہ ایک فعل متعدی ہے، ایک فعل متعدی ہے اس کو فعل لازم ہی کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے اور اس کے مفعول کو ذکر نہیں کیا جاتا، تو فعل کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ فعل لازم کے درجے میں گویا اس کے لیے مفعول چاہیے ہی نہیں، مفعول چاہیے ہی نہیں۔ جیسے دیکھیے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ" کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ لوگ جو نہیں جانتے؟ یہ استفہام انکاری ہے، یہ کیا ہے استفہام انکاری؟ یعنی جہاں پر دوسرے سے اقرار کروانا مقصد ہے یعنی انکار، یہاں استفہام انکاری تو یہاں دوسرے سے انکار کروانا مقصود ہے کہ آ تم نہیں مانتے ہو، یقیناً ایسا نہیں ہے۔ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہیں، نہیں ہو سکتے بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ" جی، جواب آپ کیا دیں گے؟ "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ" کیا وہ لوگ جو جاننے والے ہیں اور نہ جاننے والے ہیں، کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں؟ جواب ہمیشہ کیا آئے گا؟ نہیں بھئی، برابر نہیں ہو سکتے اور "يَعْلَمُونَ" جاننے والے ہیں، بھئی کس چیز کو؟ علم کے لیے معلوم چاہیے یا نہیں چاہیے؟ چاہیے، تو یہاں کیا مراد ہے؟ علم فقہ جاننے والے؟ علم تفسیر جاننے والے؟ یا علم حدیث جاننے والے؟ یا علم طب جاننے والے، یعنی جو طبیب ہیں، علم طب جاننے والے ہیں؟ یا جو تجارت کو جاننے والے ہیں؟ کون سا علم مراد ہے؟ یہاں مفعول کو ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ اس فعل متعدی کو فعل لازم کے درجے میں اتار لیا گیا، کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ اور فعل لازم کے لیے مفعول چاہیے ہوتا ہے یا نہیں چاہیے ہوتا؟ نہیں، اس کے لیے تو مفعول نہیں چاہیے تو اس کو بھی فعل لازم کے درجے میں اتار لیا گیا کہ گویا اس کے لیے مفعول چاہیے ہی نہیں اور کیوں فعل لازم کے درجے میں اتارا گیا؟ کیونکہ اس کے معمول کے ساتھ کوئی غرض متعلق نہیں تھی بھئی، اس کے معمول سے کوئی غرض متعلق نہیں تھی بھئی۔ یعنی اللہ فرما رہے ہیں کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ اس سے کوئی مخصوص علم والے مراد نہیں ہیں، ایک عام بات ہے، آپ کسی بھی شعبے میں چلے جائیں، ایک ہے جاننے والا، ایک ہے نہ جاننے والا، دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ تجارت کے شعبے میں چلے جائیں، ایک ہے تجارت کو جاننے والا، ایک ہے تجارت کو نہ جاننے والا، اے دنیا والو! تم بھی مانتے ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ علم طب ہے، طبیب ہے، ڈاکٹری کا علم ہے، ایک اس علم کا جاننے والا ہے، ایک اس علم کا نہ جاننے والا ہے، اے دنیا والو! تم بھی مانتے ہو یہ علم والا اور وہ لا علم یہ دونوں برابر نہیں ہیں، اسی طرح کسی بھی شعبے میں چلے جائیں تو وہاں کبھی بھی جاننے والا اور نہ جاننے والا دونوں برابر نہیں ہوتے بلکہ کس کو فضیلت ہوتی ہے؟ جاننے والے کو فضیلت ہوتی ہے، تو یہاں کسی مخصوص شعبے کا ذکر مقصود نہیں بلکہ عام ہے یہ، عام ہے، ہر جگہ پر اسی طرح ہے، ایک ہے جاننے والا اور ایک ہے نہ جاننے والا، تو دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ تو یہاں پر کسی خاص معمول وہ مقصود ہی نہیں تھا کہ علم طب جاننے والا یا علم تجارت جاننے والا یا شریعت کا علم جاننے والا، نہیں، عام ہر جگہ پر اسی طرح ہے، دنیا والو تم بھی دیکھتے ہو، اے انسانو تم بھی دیکھتے ہو، ہر جگہ پر اسی طرح ہے، ایک ہوتا ہے جاننے والا اور ایک ہوتا ہے نہ جاننے والا، دونوں برابر نہیں ہوتے، تمہارے نزدیک بھی جو جاننے والا ہوتا ہے اس کو فضیلت حاصل ہوتی ہے بھئی۔ تو یہاں پر اس "يَعْلَمُونَ" اس کے معمول کو حذف کر لیا گیا، اس کے لیے کیا چاہیے تھا؟ معلوم چاہیے تھا کوئی، لیکن اس کو کیا کر لیا گیا؟ حذف، کیوں حذف کیا گیا؟ کیا مقصد ہے بتلانا؟ بلکہ یوں کہیں، اس کے معمول کو حذف کر لیا گیا اور اس کو فعل لازم کے درجے میں اتار لیا گیا، گویا اس کے لیے معمول چاہیے ہی نہیں، تو گویا ترجمہ یوں ہوا: "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ" کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جن کے لیے صفت علم ثابت ہے؟ اب مفعول کی ضرورت ہی نہیں رہی، ترجمہ ہی میں نے ایسا کر دیا۔ کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جن کے لیے صفت علم ثابت ہے اور وہ لوگ جن کے لیے صفت علم ثابت نہیں ہے بھئی؟ ہاں اگر ترجمہ کریں جاننے والا، اس کے لیے مفعول کے بارے میں ذہن میں آ سکتا ہے، کیا برابر ہو سکتے ہیں جاننے والے؟ بھئی کس چیز کو جاننے والے؟ مفعول کی طرف ذہن جاتا ہے یا نہیں جاتا؟ لیکن ترجمہ ہی کیا کر دیا میں نے؟ کیا ترجمہ کیا؟ کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جن کے لیے صفت علم ہے اور جن کے لیے صفت علم نہیں ہے بھئی؟ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہاں کیا کیا گیا؟ فعل متعدی کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ فعل لازم، اس کے معمول کو حذف کر لیا گیا اور اس کو فعل لازم کے درجے میں اتار لیا گیا، گویا اس کے لیے مفعول کی ضرورت ہی نہیں ہے اور ایسا کیوں کیا گیا؟ اس فعل متعدی کو فعل لازم کے درجے میں کیوں اتارا گیا؟ کیونکہ اس کا جو معمول تھا اس کے ساتھ کوئی غرض متعلق نہیں تھی، اس کے ساتھ کوئی غرض کوئی مقصد اس سے متعلق نہیں تھا، یہاں غرض ہے ہی نہیں کہ خاص فلاں علم والے یا فلاں علم والے، اس سے کوئی غرض متعلق نہیں بلکہ ایک عام بات کی جا رہی ہے جو ہر مقام پر، ہر شعبے کے اندر جاری ہوتی ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر شمار نہیں ہوتے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ تو یہ معنیٰ ہے: "وَ يُعَدُّ مِنَ الْحَذْفِ تَنْزِيْلُ الْمُتَعَدِّي مَنْزِلَةَ اللَّازِمِ" اور فعل متعدی کو فعل لازم کے درجے میں اتارنا، یہ داعیِ حذف ہوگا کبھی، بھئی کیوں فعل متعدی کو فعل لازم کے درجے میں کیوں اتارا جائے گا؟ کہتے ہیں: "لِعَدَمِ تَعَلُّقِ الْغَرَضِ بِالْمَعْمُولِ" اس وجہ سے کہ اس کا جو معمول ہے اس کے ساتھ کوئی غرض اور کوئی مقصد متعلق نہیں ہے، اس کے ساتھ کوئی مقصد متعلق نہیں ہے بھئی۔ "نَحْوُ" مثال کے طور پر: "هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ" کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ لوگ جو نہیں جانتے؟ جی، بات سب کو سمجھ میں آئی؟ کہ نہیں آئی؟ آ گئی۔ تو یہاں پر کیا کیا گیا؟ فعل متعدی تھا، اس کے لیے معمول چاہیے تھا، لیکن اس معمول کو کیا کر لیا گیا؟ حذف اور اس فعل متعدی کو کس کے درجے میں؟ فعل لازم، فعل لازم کے درجے میں کیوں اتارا گیا؟ کیونکہ اس کا جو معمول تھا اس کے ساتھ کسی قسم کی کوئی غرض متعلق نہیں تھا بھئی، بلکہ یہ عام بات ذکر کی جا رہی ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہو سکتے بھئی۔ تو یہ استفہام انکاری ہے، استفہام انکاری جس سے دوسرے سے انکار کہلوایا جاتا ہے، دوسرا خود بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے، آپ کسی سے بھی یہ سوال کریں گے، ہاں بھئی بتائیے، کیا جاننے والا، علم رکھنے والا اور علم نہ رکھنے والا برابر ہو سکتا ہے؟ وہ خود ہی کہے گا، یقیناً نہیں، کبھی بھی برابر نہیں ہو سکتے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے استفہام انکاری جس میں دوسرے سے انکار کروانا مقصد ہوتا ہے کہ وہ بھی اس انکار کا اقرار کر لے بھئی۔ "وَ يُعَدُّ مِنَ الْحَذْفِ إِسْنَادُ الْفِعْلِ إِلَى نَائِبِ الْفَاعِلِ فَيُقَالُ حُذِفَ الْفَاعِلُ لِلْخَوْفِ مِنْهُ أَوْ عَلَيْهِ أَوْ لِلْعِلْمِ بِهِ أَوْ لِلْجَهْلِ" بھئی دیکھیے، ایک ہے فعل معروف، ایک ہے فعل مجہول، فعل معروف جو ہوتا ہے اس کا اسناد فاعل کی طرف ہوتا ہے: "ضَرَبَ زَيْدٌ" اور آگے مثلاً مفعول آتا ہے "عَمْرًوا"، "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" زید نے عمر کی پٹائی کی، یہ "ضَرَبَ" کون سا فعل ہے، معروف یا مجہول؟ معروف، یہ فعل معروف ہے جس کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوگا؟ فاعل کی طرف، اور پھر ایک ہے فعل مجہول: "ضُرِبَ عَمْرٌو" عمر کی پٹائی کی گئی، فعل مجہول کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوتا ہے؟ مفعول کی طرف ہوتا ہے، دیکھیے "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" فاعل کون؟ پٹائی کرنے والا کون؟ زید، اور پٹائی کس پر واقع ہوئی ہے؟ عمر پر، "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" پٹائی کرنے والا کون؟ زید، اور پٹائی واقع کس پر ہوئی ہے؟ عمر پر، سو عمر مفعول ہے، اب ہم کیا کرتے ہیں، اس "زَيْدٌ" فاعل کو حذف کر لیتے ہیں اور اس فعل معروف کو فعل مجہول بنا دیتے ہیں، کیا بن گیا؟ "ضُرِبَ" اور اس کے بعد کیا تھا؟ "عَمْرًوا"، وہ مفعول تھا اس کو نائب الفاعل بنا دیتے ہیں، اس کی طرف فعل کا اسناد کر دیتے ہیں اور وہ مرفوع ہو جاتا ہے: "ضُرِبَ عَمْرٌو"، اب کیا ترجمہ ہوگا؟ "ضُرِبَ عَمْرٌو" عمر کی پٹائی کی گئی، تو فعل مجہول کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوتا ہے؟ مفعول کی طرف بھئی، کس کی طرف ہوتا ہے؟ ہاں لیکن اس مفعول کو کہتے کیا ہیں؟ نائب فاعل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ نائب فاعل کیونکہ اب وہ فعل کا مسند الیہ بن گیا، اس کی طرف فعل کا اسناد ہو گیا، وہ فاعل کا قائم مقام ہو گیا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی دہرائیے بھئی، میں تکرار کروا رہا ہوں، آپ کی آواز مجھے کم آتی ہے، فعل معروف کا اسناد کس کی طرف ہوتا ہے؟ فاعل کی طرف، اور فعل مجہول کا اسناد کس کی طرف؟ مفعول، یعنی اب وہ میں سمجھانے کے لیے کہہ رہا تھا، بات وہی ہے، ہے وہ مفعول ہی، فعل مجہول کا اسناد کس کی طرف؟ نائب الفاعل کی طرف ہوتا ہے، اور یہ نائب الفاعل درحقیقت کیا ہے؟ مفعول ہے بھئی مفعول ہے، کیونکہ اس پر ضرب واقع ہوئی ہے، اس پر یہ فعل واقع ہوا ہے، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب دیکھیے یہ جو فعل مجہول ہے اس کو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کا اسناد نائب الفاعل کی طرف کرنا ہے، فاعل کی طرف کرنا ہی نہیں، تو "ضُرِبَ عَمْرٌو" ہی آپ کہیں گے، یہاں پر فاعل یعنی زید کا ذکر کیا ہی نہیں جا سکتا، اس کی طرف فعل کا اسناد کیا ہی نہیں جا سکتا بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ فعل مجہول کو بنایا ہی کس لیے گیا ہے؟ تو فعل مجہول کا اسناد ہوتا ہی کس کی طرف ہے؟ نائب فاعل کی طرف جو درحقیقت مفعول ہے، یہاں فاعل کا ذکر کیا ہی نہیں جا سکتا، اس فعل مجہول کو وضع ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کا اسناد نائب الفاعل کی طرف کیا جائے، یعنی مفعول کی طرف کیا جائے، تو یہاں پر فاعل کا ذکر ہو ہی نہیں سکتا، فاعل کا ذکر ہو ہی نہیں سکتا۔ جی، اب آپ مجھے بتائیے، میں آپ کے سامنے کہتا ہوں "ضُرِبَ عَمْرٌو"، عمر کی پٹائی کی گئی، بات پوری ہے یا پوری نہیں ہے؟ بات پوری ہے، کوئی لفظ یہاں محذوف ہے؟ کوئی لفظ محذوف نہیں ہے، کوئی لفظ محذوف نہیں، تو یہ دیکھو، فعل مجہول کا اسناد ہے نائب الفاعل کی طرف اور نائب فاعل اس کے ساتھ جب ذکر ہے تو بات پوری ہے، نائب الفاعل کے بغیر تو وہ آ ہی نہیں سکتا کیونکہ فعل کے لیے مسند الیہ تو ضرور چاہیے، تو نائب الفاعل یہاں پر کیا ہے؟ مسند الیہ ہے بھئی، تو وہ اس کے ساتھ ذکر ہے، لیکن اس کو بھی حذف میں سے شمار کیا گیا، یہ درحقیقت یہاں محذوف تو کوئی نہیں، لیکن اس کو شمار کس میں سے کیا گیا؟ حذف میں سے شمار کیا گیا، گویا اصل میں کلام یوں تھا، اس وقت کیا ہے؟ "ضُرِبَ عَمْرٌو"، لیکن گویا بلغاء یہ کہتے ہیں، علم بلاغت والے یوں کہتے ہیں، اصل میں تو یہ "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" ہی تھا، اصل میں کیا تھا؟ "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًوا" ہی تھا، پھر زید فاعل کو حذف کر لیا گیا اور ضرب کو فعل مجہول بنا دیا گیا، کیا کہا گیا؟ "ضُرِبَ"، اور عمر منسوب تھا، مفعول تھا، اس کو کیا بنا دیا گیا؟ نائب فاعل، تو کیا بن گیا کلام؟ "ضُرِبَ عَمْرٌو"، تو اب اس کو بھی حذف میں سے وہ شمار کرتے ہیں، ہے تو حقیقت میں یہاں کوئی حذف نہیں، کیونکہ یہ تو فعل معروف ہے ہی نہیں، فعل معروف ہوتا ہم کہتے فاعل کدھر ہے اس کا، وہ تو فاعل کے بغیر آ ہی نہیں سکتا، یہ تو ہے ہی فعل مجہول، اس کا تو اسناد ہونا ہی کس کی طرف ہے؟ نائب فاعل کی طرف، اور نائب الفاعل اس کے ساتھ ذکر ہے، پھر بھی اس کو کس میں سے شمار کیا جاتا ہے؟ حذف میں سے کہ یہاں فاعل کو حذف کیا گیا ہے، تو فعل مجہول میں کبھی فاعل ذکر نہیں ہوتا، تو یوں شمار کیا جاتا ہے گویا یہاں سے کیا کر لیا گیا؟ فاعل کو حذف کر لیا گیا، کسی نقطے کی بنا پر فاعل کو حذف کر لیا گیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنیٰ ہے: "وَ يُعَدُّ مِنَ الْحَذْفِ" اور شمار کیا گیا ہے حذف میں سے ہی کس چیز کو؟ "إِسْنَادُ الْفِعْلِ إِلَى نَائِبِ الْفَاعِلِ" فعل کا جو اسناد ہے نائب فاعل کی طرف کرنا، فعل کا اسناد یعنی فعل مجہول کا اسناد کرنا کس کی طرف؟ نائب فاعل کی طرف، اس کو بھی کس میں سے شمار کیا گیا ہے؟ حذف، حقیقت میں سے دیکھو خود بتلا دیا ہے انہوں نے، یہ ہے نہیں حذف میں سے، لیکن اس کو شمار کس میں سے کیا گیا ہے؟ حذف، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ حذف میں سے نہیں ہے، لیکن "يُعَدُّ" شمار کیا گیا ہے، "فَيُقَالُ" پس کہا جاتا ہے "حُذِفَ الْفَاعِلُ" کہ فاعل کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا، بھئی کیوں حذف کیا گیا؟ حذف کے لیے تو ہمیشہ کیا چاہیے؟ کوئی نقطہ چاہیے، کوئی داعی چاہیے، وہ داعی کیا کیا ہو سکتے ہیں؟ وہ چند ایک یہاں بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "لِلْخَوْفِ مِنْهُ" اس سے خوف ہونے کی وجہ سے، اس سے خوف، مثلاً دیکھیے آگے مثال آ رہی ہے، ایک شخص ہے اس کا سامان کسی نے چرا لیا، اس کا سامان کسی نے چرا لیا، اب ایک صورت یہ ہے آپ یوں کہیں، آپ کو پتہ لگ گیا کہ فلاں نے چرایا ہے، آپ یوں کہیں: "سَرَقَ فُلَانٌ مَتَاعَهُ"، "سَرَقَ فُلَانٌ الْمَتَاعَ"، فلاں نے کیا کیا؟ متاع یعنی سامان کو چرا لیا ہے، فلاں نے سامان کو ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس فلاں کا نام باقاعدہ ذکر کر رہے ہیں جیسے مثلاً مثلاً زید ہے اس آدمی کا نام جس نے چوری کی ہے، آپ کیا کہہ سکتے ہیں؟ "سَرَقَ زَيْدٌ مَتَاعَهُ" زید نے کیا کیا؟ اس کا سامان چرا لیا، ایک صورت یہ ہے، لیکن آپ یوں نہیں کہتے کیونکہ آپ کو خود زید سے ڈر لگتا ہے، آپ کو اس کا خوف ہے کہ اگر میں اس کا نام ذکر کر دوں گا اس طرح سب کے سامنے تو کل کو ہو سکتا ہے وہ مجھے بھی کوئی نقصان نہ پہنچائے، لہٰذا اب آپ یوں کہتے ہیں: "سُرِقَ مَتَاعُهُ" اس کا سامان چرا لیا گیا، فعل مجہول لے آئے بھئی، فعل معروف لائے ہی نہیں کیونکہ فعل معروف لاتے تو کس کو ذکر کرنا پڑتا؟ فاعل یعنی چوری کرنے والے کا نام ذکر کرنا پڑتا اور آپ کو تو اس سے خوف ہے، اس خوف کی وجہ سے آپ نے اس کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا، اور فعل کون سا ذکر کیا؟ فعل مجہول، اور اس کے لیے نائب فاعل کو ذکر کر دیا: "سُرِقَ الْمَتَاعُ" وہ سامان چرا لیا گیا، کس نے چرایا؟ وہ آپ نے ذکر نہیں کیا۔ اور آپ بھی اس طرح کرتے رہتے ہیں بھئی، بعض اوقات کیا کرتے ہیں؟ ایک آدمی کا نام نہیں ذکر کرنا چاہتے، آپ اس کے نام کو حذف کر لیتے ہیں۔ کیوں حذف کر لیتے ہیں؟ کیونکہ آپ کو اس کا خوف ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہاں پر آپ فعل مجہول استعمال کر لیتے ہیں۔ نقطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: "فَيُقَالُ" پس کہا جاتا ہے: "حُذِفَ الْفَاعِلُ" فاعل کو حذف کر لیا گیا "لِلْخَوْفِ مِنْهُ" اس سے خوف ہونے کی وجہ سے "أَوْ عَلَيْهِ" یا اس پر خوف ہے "لِلْخَوْفِ عَلَيْهِ" فاعل کو حذف کر لیا گیا کیوں؟ اس پر خوف ہے یعنی اس کے بارے میں خوف ہے، بھئی آپ نے اس لیے فاعل کو حذف کیا، آپ نے کہا: "سُرِقَ الْمَتَاعُ" سامان کو چرا لیا گیا، فاعل کا نام نہیں ذکر کیا۔ کیوں نہیں ذکر کیا؟ اس لیے نہیں کہ آپ کو اس سے ڈر لگتا ہے، آپ کو اس سے کوئی ڈر نہیں لگتا، لیکن آپ نے پھر بھی اس کا نام نہیں ذکر کیا کیونکہ آپ کو اس کے بارے میں خوف ہے کہ اگر میں نے سب کو اس کا نام بتا دیا تو کوئی اس کو چھوڑے گا نہیں، اس کو تکلیف پہنچائے گا۔ تو اس پر خوف ہے، اس کے بارے میں آپ کو کیا ہے؟ خوف ہے۔ یہ معنیٰ ہے: "أَوْ عَلَيْهِ" یعنی "لِلْخَوْفِ عَلَيْهِ" اس کے بارے میں آپ کو خوف ہے۔ عبارت پر نظر ہے بھئی؟ یہ "مِنْهُ" کی جگہ اٹھا کر "عَلَيْهِ" لگا دیں، "لِلْخَوْفِ عَلَيْهِ" کہ آپ کا اس پر خوف ہے۔ "أَوْ لِلْعِلْمِ بِهِ" یا فاعل کو حذف کر لیا گیا "لِلْعِلْمِ بِهِ" کیونکہ اس کا علم ہے، سب کو اس کا پتہ ہے، جیسے دیکھیے آگے مثال آ رہی ہے: "وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا" اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ اب یہ نہیں کہا گیا: "خَلَقَ اللَّهُ الْإِنْسَانَ"، لفظِ اللہ فاعل جو تھا اس کو حذف کر دیا گیا اور فعل مجہول کو ذکر کر دیا گیا۔ کیوں ذکر کیا گیا؟ کیونکہ سب کو فاعل کا علم ہے کہ یہ تخلیق والا فعل، یہ پیدا کرنے والا فعل یہ کون کرتا ہے؟ یہ اللہ ہی کی ذات کے ساتھ خاص ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنیٰ ہے "أَوْ لِلْعِلْمِ" کہ "حُذِفَ الْفَاعِلُ لِلْعِلْمِ بِهِ" فاعل کو حذف کر لیا گیا کیونکہ اس کا علم ہے۔ "أَوِ الْجَهْلِ" یا فاعل کو اس لیے حذف کر لیا جاتا ہے کیونکہ فاعل مجہول ہوتا ہے، اس کا علم ہی نہیں ہوتا، پتہ ہی نہیں ہوتا، مثلاً آپ کہتے ہیں: "سُرِقَ الْمَتَاعُ" سامان چرا لیا گیا۔ اب آپ نے فاعل کو نہیں ذکر کیا، فعل معروف نہیں لائے بلکہ فعل مجہول لائے، فعل معروف کیوں نہیں لائے؟ اس وجہ سے نہیں کہ آپ کو اس سے ڈر لگتا ہے یا آپ کو اس کے بارے میں ڈر لگتا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں ہے بھئی۔ سامان تو چوری کر لیا گیا لیکن آپ کو نہیں پتہ کس نے چوری کیا ہے، جب فاعل کا پتہ ہی نہیں ہے تو ذکر کیسے ہو سکتا ہے؟ تو لہٰذا آپ نے کیا کہہ دیا؟ "سُرِقَ الْمَتَاعُ" سامان چرا، وہ سامان چرا لیا گیا ہے، تو یہاں فاعل کو حذف کیا گیا، کس وجہ سے حذف کیا گیا؟ کیونکہ وہ مجہول ہے، اس کا علم ہی نہیں ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: "نَحْوُ: سُرِقَ الْمَتَاعُ" وہ سامان چرا لیا گیا "وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا" اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا۔ باقی یہ چند نکات ذکر کر دیے۔ یہ صرف بات سمجھانے کے لیے، سمجھ میں آیا؟ نکات بہت سے ہو سکتے ہیں۔ صرف یہی نکات نہیں ہیں حذف کے، حذف کے اور بھی نکات ہو سکتے ہیں موقع محل کے مطابق بھئی۔ ہاں، یہ چند مثالیں مثالیں ذکر کر دیں جن سے وضاحت ہو گئی بھئی، آپ کو پتہ لگ گیا اچھا ان ان نکات کی وجہ سے حذف کیا گیا ہے، دوسرے مقام پر آپ غور کریں بھئی۔ اور آپ اپنے خود اپنے کلام میں آپ غور کریں، آپ کو تھوڑا سا ہی غور کریں گے آپ کو اندازہ ہو جائے گا بھئی کہ دیکھو یہ بھی نقطہ ہے، یہ بھی نقطہ ہے، آپ خود بھی حذف کرتے ہیں بہت سے مواقع پر ایک چیز کو اور اس کے بہت سے نقطے ہوتے ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔