Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-037

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔ 37 والتنبیه علی تعین المحذوف ولو ادعاء، نحو: «خالق كل شيء»، و«وهاب الألوف»، واختبار تنبه السامع أو مقدار تنبهه، نحو: «نوره مستفاد من نور الشمس»، و«واسطة عقد الكواكب». ذكر اور حذف کا باب چل رہا ہے۔ گزشتہ اسباق کے اندر آپ نے پڑھا کہ جب مخاطب کو حکم کا فائدہ مقصود ہو، تو جو لفظ کسی معنی پر دلالت کر رہا ہو اس حکم کے اندر، اصل یہ ہے کہ اس لفظ کو ذکر کیا جائے۔ اور کوئی لفظ ایسا ہے جو باقی کلام سے پہلے سے ہی مفہوم ہو رہا ہے، تو اصل اس کے اندر یہ ہے کہ اس کو کیا کر دیا جائے؟ حذف کیا جائے۔ حذف کیا جائے۔ لیکن کبھی کبھار ان کے خلاف کیا جاتا ہے، اور وہ کسی نقطے کی بناء پر ہوگا، اور پھر وہ نکات آپ نے پڑھنا شروع کیے اور سب سے پہلے انہوں نے دواعیِ ذکر بیان کیے، اس کے بعد پھر حذف کے کیا کیا دواعی ہیں؟ کس وجہ سے مسند الیہ وغیرہ کو کبھی حذف کیا جاتا ہے؟ اس میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں، وہ بیان ہو رہے ہیں۔ سب سے پہلے آپ کو بتلایا کہ کبھی کبھار مسند الیہ کو اس لیے حذف کیا جاتا ہے کیونکہ آپ مخاطب کے علاوہ باقیوں سے بات کو چھپانا چاہتے ہیں۔ مثلاً: آپ اپنے ساتھ والے سے بات کر رہے ہیں اور بھی ساتھی وہاں بیٹھے ہیں، اور آپ اس سے علی کی بات، کوئی بات کر رہے تھے۔ اب چار پانچ ساتھی اور آئے اور ان میں وہ علی بھی تھا، تو اب آپ کہتے ہیں: «اقبل» "آ گیا"۔ آپ نے یہ نہیں کہا کہ "علی آ گیا ہے"، کیوں؟ یہ کیوں نہیں کہا؟ مسند الیہ کو کیوں حذف کیا؟ کیونکہ باقیوں سے آپ بات کو چھپانا چاہتے ہیں۔ اب جب آپ نے کہا "آ گیا"، تو یہ جو آپ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا اس کو تو پتہ چل گیا کہ جس کی ابھی بات ہو رہی تھی، یعنی علی، وہ آیا ہے، جبکہ باقیوں کو پتہ نہیں چلا کہ اس نے کس کے آنے کی بات کی ہے؛ کیونکہ علی اکیلا تو نہیں آیا، چار پانچ ساتھی آئے ہیں، تو انہیں پتہ نہیں چلا کہ یہ کس کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ آ گیا ہے۔ اور دوسرا داعیِ حذف آپ نے پڑھا کہ انکار کو آسان بنانے کے لیے، تاکہ آپ ضرورت پڑنے پر آسانی سے بات سے انکار کر سکیں، اس لیے کبھی کبھار حذف کیا جاتا ہے۔ جیسے آپ کسی ساتھی کے ساتھ آپ کا کسی ساتھی کا آپ سے جھگڑا ہے، اور اب وہ بھی ہے اور بھی ساتھی ہیں، تو ایک کے ساتھ اس کے بارے میں بات کر، شروع کرتے ہیں باقیوں کی توجہ نہیں ہے۔ اس ایک ساتھی کے ساتھ آپ نے بات شروع کی اور پھر اب آپ اس کے بارے میں جس سے آپ کا جھگڑا ہوا ہے اس کے بارے میں آپ کہتے ہیں: «لئيم خسيس»۔ تو اس کا نام نہیں لیا، مسند الیہ کو ذکر نہیں کیا، کیوں نہیں ذکر کیا؟ تاکہ آپ بعد میں آسانی سے انکار کر سکیں اگر وہ اگر وہ اپنا ناراضگی کا اظہار کرتا ہے کہ آپ نے مجھے یہ کیوں کہا، تو آپ آسانی سے انکار کر سکتے ہیں کہ بھئی میں تو آپ کی بات نہیں کر رہا تھا، میں تو کسی اور کی بات کر رہا تھا۔ آگے بتلا رہے ہیں: والتنبیه علی تعین المحذوف ولو ادعاء، اور متنبہ کرنے کے لیے محذوف کی تعیین پر، کہ وہ جس کو حذف کیا گیا ہے وہ متعین ہے، اس پر متنبہ کرنے کے لیے۔ بھئی! کبھی کبھار مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے کیونکہ بات کرنے والا دوسروں کو بتلانا چاہتا ہے کہ یہ جو مسند میں نے ذکر کیا... حذف کس کو کیا ہے؟ مسند الیہ۔ اور ذکر کس کو کیا ہے؟ مسند کو۔ تو یہ بات کرنے والا دوسروں کو بتلانا چاہتا ہے، اس پر متنبہ کرنا چاہتا ہے کہ یہ جو مسند ہے، یہ جو فعل ہے، یہ خاص ہے ایک ہی ذات کے ساتھ، لہٰذا اس کو ذکر نہ بھی کیا جائے تو پھر بھی بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔ مثلاً: جیسے ایک شخص کہتا ہے: «خالق كل شيء»، "ہر چیز کو پیدا کرنے والا"۔ اب کہنا تو یہ چاہیے تھا: «الله خالق كل شيء»، "اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے"، لیکن مسند الیہ لفظِ اللہ کو اس نے حذف کر دیا۔ کیا بتلانے کے لیے؟ اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے کہ یہ جو پیدا کرنے والا فعل ہے، یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ خاص ہے، تو یہاں اور کسی کو شبہ ہو ہی نہیں سکتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس نقطے کی بناء پر، یہ معنی ہے: «والتنبیه علی تعین المحذوف»، اور متنبہ کرنے کے لیے اس محذوف کی تعیین پر کہ وہ متعین ہے، اس کو نہ ذکر کیا جائے پھر بھی پتہ ہے کہ «خالق كل شيء» وہ کون سی ذات ہے؟ اللہ کی، تو اصل میں کیا تھا؟ «الله خالق كل شيء»، تو لفظِ اللہ جو ہے مسند الیہ، اس کو کیوں حذف کیا متکلم نے؟ اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے کہ یہ محذوف یہاں متعین، جس کو حذف کیا گیا ہے وہ متعین ہے، «خالق كل شيء» یہ ذات اللہ کے سوا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی بھئی۔ ولو ادعاء، اگرچہ دعویٰ کے طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ ولو ادعاء، اگرچہ... بھئی! یہ تو فعل تھا جو حقیقتاً متعین تھا، حقیقتاً ایک ہی ذات وہ سب کچھ پیدا کرنے والی ہے اور وہ کون سی ذات ہے؟ اللہ کی۔ بعض اوقات وہ ذات متعین تو نہیں ہوگی، لیکن متکلم کا دعویٰ ہوگا اس فعل کے بارے میں گویا کہ یہ مختص ہے، خاص ہے ایک ہی ذات کے ساتھ۔ مثلاً: متکلم کہتا ہے: «وهاب الألوف»، الوف جمع ہے الف کی بھئی، الف کس کو کہتے ہیں؟ ہزار کو، الوف: ہزارہا۔ «وهاب الألوف»، "ہزارہا عطا کرنے والا"۔ اب کون ہے ہزارہا عطا کرنے والا؟ تو اصل میں کلام تھا: «السلطان وهاب الألوف»، "وہ بادشاہ جو ہے وہ ہزارہا عطا..."، یا مثلاً بادشاہ کی تو کوئی زید ہے مثلاً، اس کی بات کر رہا ہے، «زيد وهاب الألوف»، "زید ہزارہا روپے عطا کرنے والا ہے"۔ تو اب یہاں السلطان کو یا زید کو متکلم نے حذف کر دیا، کیوں؟ متکلم کا گویا دعویٰ یہ ہے: یہ ہزارہا عطا کرنے کا فعل صرف زید ہی کرتا ہے، وہی متعین ہے، اور کوئی یہاں مسند الیہ دوسرا کوئی آدمی ایسا نہیں ہے ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اب یہ حقیقتاً تو نہیں، حقیقتاً تو اور بھی ہو سکتا ہے کوئی مالدار اور سخاوت کا وصف ہو سکتا ہے اس میں بھی پایا جائے، وہ بھی عطا کر سکتا ہے ہزارہا، لیکن متکلم کیا کر رہا ہے یہاں پر؟ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ ہزارہا عطا کرنے کا فعل کون کر سکتا ہے؟ صرف زید ہی کر سکتا ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو پچھلی مثال تھی: «خالق كل شيء»، وہاں حقیقتاً محذوف متعین تھا، اور وہ کیا؟ لفظِ اللہ، یعنی اللہ ہی کی ذات وہ فعل کر سکتی ہے۔ اور یہاں پر حقیقتاً متعین نہیں ہے محذوف بلکہ دعویٰ ہے اس کی تعیین کا کہ وہ متعین ہے، یہ ہزارہا عطا کرنے کا فعل صرف زید مثلاً اگر زید حذف کیا ہے تو گویا یہ دعویٰ ہے صرف زید یہ فعل کر سکتا ہے اور کوئی کر ہی نہیں سکتا، اس لیے اس کو حذف کر دیا کہ حذف نہ اس کو، یعنی متکلم یہ کہہ... متکلم کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب میں نے کہہ دیا: «وهاب الألوف»، "ہزارہا عطا کرتا ہے"، تو خود ہی سمجھ جاؤ کون مراد ہے؟ زید مراد ہے بھئی، کیونکہ اور کوئی ہزارہا عطا کرتا ہی نہیں، گویا متکلم کا یہ دعویٰ ہے۔ یا اگر بادشاہ ہے تو یہاں خود ہی سمجھ جاؤ کون مراد ہے؟ السلطان مراد ہے؛ کیونکہ یہ فعل اور کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ اب یہ حقیقتاً تو ایسا نہیں، لیکن متکلم کا یہ دعویٰ ہے گویا کہ وہ متعین ہے۔ واختبار تنبه السامع أو مقدار تنبهه، واختبار تنبه السامع، اختبار کہتے ہیں امتحان لینا، جانچنا، پرکھنا۔ تنبہ کہتے ہیں سمجھ کو، سمجھداری بھئی۔ واختبار تنبه السامع، سامع جو ہے آپ کا، آپ کا جو مخاطب ہے جس سے آپ بات کر رہے ہیں، اس کی سمجھ کی جانچنے کے لیے، اس کی سمجھداری کا امتحان لینے کے لیے کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے بھئی، مسند الیہ کو۔ یعنی آپ کے سامنے جو مخاطب ہے، آپ امتحان لینا چاہتے ہیں، پرکھنا چاہتے ہیں کہ یہ کچھ سمجھدار بھی ہے یا سمجھدار نہیں ہے؟ صرف ظاہری باتیں سمجھتا ہے یا گہری باتوں کو بھی سمجھ لیتا ہے؟ چنانچہ آپ مسند الیہ کو کیا کر دیتے ہیں؟ حذف کر دیتے ہیں۔ کیوں حذف کیا؟ کیا مقصد ہے؟ آپ پرکھنا چاہتے ہیں، آپ امتحان لینا چاہتے ہیں مخاطب کا جس سے آپ بات کر رہے ہیں کہ میں نے حذف کر دیا، یہ پھر بھی بات کو سمجھتا ہے یا نہیں۔ اور قرینہ ضرور ہوگا وہاں پر، میں نے آپ کو پہلے ذکر کر دیا تھا، جہاں پر بھی حذف ہوگا وہاں ہمیشہ کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے، تو قرینے کے ہوتے ہوئے آپ حذف کریں گے، قرینے کے بغیر حذف کر دیں پھر تو سمجھدار آدمی بھی اس کو کبھی نہیں سمجھے گا، اس کو پتہ ہی نہیں چلے گا یہاں کیا لفظ حذف ہے بھئی۔ الا یہ کہ وہ متعین ہو، جیسے اوپر والی مثال تھی: «خالق كل شيء»، وہ تو کیا تھا؟ وہ تو متعین تھا، لیکن ہر جگہ پر تو ایسا نہیں ہوتا، تو اس کے لیے کیا چاہیے ہمیشہ؟ کوئی قرینہ چاہیے۔ تو قرینہ موجود تھا اور آپ نے پھر مسند الیہ کو حذف کر دیا، کس لیے حذف کیا؟ کیا مقصد ہے آپ کا؟ سامع کا امتحان لے رہے ہیں کہ وہ سمجھدار ہے یا سمجھدار نہیں۔ یہ معنی ہے: واختبار تنبه السامع، اور سننے والے کی سمجھداری کا امتحان لینے کے لیے۔ أو مقدار تنبهه، تنبه السامع، اس کو ذرا ہٹائیں، اس کی جگہ لے آئیں: مقدار تنبهه أي مقدار تنبه المخاطب۔ تو کیا بن گیا کلام گویا؟ دوبارہ سنیے: واختبار تنبه السامع أو اختبار مقدار تنبه المخاطب، یا آپ امتحان لینا چاہتے ہیں مخاطب کی سمجھداری کی مقدار کا۔ پہلے میں کیا تھا؟ سمجھداری کا امتحان لینا چاہتے ہیں کہ سمجھدار بھی ہے یا سمجھدار نہیں۔ دوسرے میں ہے: اتنا تو پتہ ہے آپ کو کہ یہ ہے سمجھدار، لیکن اب آپ جانچنا چاہتے ہیں، پرکھنا چاہتے ہیں کتنا سمجھدار ہے؟ تھوڑا یا زیادہ بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ پہلے میں کیا تھا؟ کہ سمجھدار بھی ہے یا نہیں؟ اختبار تنبه السامع، سننے والے کے سمجھداری کا، متنبہ ہونے کا۔ دوسرے میں اس کے سمجھداری کے مقدار کو جانچنا چاہتے ہیں کتنا سمجھدار ہے بھئی۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ نحو، مثال کے طور پر: «نوره مستفاد من نور الشمس»، اس کی جو روشنی ہے وہ حاصل ہوتی ہے «من نور الشمس»، سورج کی روشنی سے۔ اس کی روشنی کس سے حاصل ہوتی ہے؟ ہاں، اس کی روشنی جو ہے وہ سورج سے حاصل ہو... سورج کی روشنی سے حاصل ہوتی ہے۔ «وواسطة عقد الكواكب»، عقد کہتے ہیں ہار کو بھئی، ہار، جو گلے میں پہنا جاتا ہے، ہار۔ کواکب: ستارے۔ واسطہ، واسطہ۔ بھئی! آپ نے اگر کبھی موتیوں کا ہار دیکھا ہو، درمیان میں اس کے ایک بڑا موتی ہوتا ہے، موتیوں کے ہار کے درمیان میں ایک بڑا موتی ہوتا ہے اس کو واسطہ کہتے ہیں، اس بڑے موتی کو کیا کہتے ہیں؟ واسطہ۔ «وواسطة عقد الكواكب»، اور ستاروں کے ہار کا وہ بڑا موتی ہے، وہ ستاروں کے ہار کا بڑا موتی ہے۔ اب دیکھیے! کہنا تو یہ چاہیے تھا: «هو واسطة عقد الكواكب»، "وہ جو ہے..."، بات کس کی چل رہی ہے؟ چاند کی بات چل رہی ہے۔ اب «هو» کہنا چاہیے تھا: «هو واسطة عقد الكواكب»، "وہ ستاروں کے ہار کا بڑا موتی ہے"، یعنی کہ چاند۔ لیکن اس «هو» کو یہاں حذف کر دیا گیا، کس لیے؟ دونوں نکات ہو سکتے ہیں: یا تو آپ نے اس لیے حذف کیا کہ آپ مخاطب کو... کا امتحان لینا چاہتے ہیں کہ وہ سمجھدار ہے یا سمجھدار نہیں، یا کس لیے حذف کیا ہے؟ آپ کو سمجھداری کا تو پتہ ہے لیکن آپ یہ امتحان لینا چاہتے ہیں کتنا سمجھدار ہے، صرف ذکر کیا جائے پھر ہی بات کو سمجھتا ہے یا حذف کرنے کی صورت میں بھی بات کو سمجھ لیتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جیسے بھئی! ایک بادشاہ کے بارے میں آتا ہے، ایک مرتبہ سردیوں کے دن تھے، وہ اپنے درباریوں کے ہمراہ، اپنے وزیروں اور مشیروں کے ہمراہ کشتی میں بیٹھا دریا کی سیر کر رہا تھا، تو سیر کرتے کرتے... اب بادشاہ بیٹھا ہوا ہے، سارے ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں، بادشاہ اچانک اپنے ایک وزیر کی طرف مڑا اور اس سے کہنے لگا: "بھئی! اس وقت تمہارا کیا کھانے کو دل کر رہا ہے؟" اب سردیوں کے دن تھے، تو وہ وزیر فوراً بولا: "ابلے ہوئے انڈے کی زردی"۔ بادشاہ نے کہا: "کیا کھانے کو دل کر رہا ہے؟" اس نے کیا کہا؟ "ابلے ہوئے انڈے کی زردی"۔ سردی کی مناسبت سے اس نے جواب دیا۔ خیر یہ بات گزر گئی، واپس آ گئے، وقت گزرتا رہا، گزرتا رہا، ہوتے ہوتے اگلا سال آ گیا۔ پھر ایسے ہی ایک دن سیر کر رہے ہیں کشتی کے اندر، کشتی چل رہی ہے، بادشاہ بیٹھا ہوا ہے اور باتیں ادھر ادھر کی ہو رہی ہیں، اچانک باتیں کرتے کرتے بادشاہ اس وزیر کی طرف مڑا اور ایک دم کہا: "کس چیز کے ساتھ؟" اس نے کہا جی: "نمک کے ساتھ"۔ اب دیکھو کتنا سمجھدار آدمی تھا! ایک سال اس بات کو گزر چکا تھا، اور یہ بھی نہیں کہ بادشاہ نے کہا تھا اس بات کو یاد رکھنا، خود ہی اس کو یاد تھی وہ بات، اور بادشاہ نے ادھوری بات کی، اب بات شروع... کوئی اور چل رہی ہے، ایک دم کہا: "کس چیز کے ساتھ؟" اس نے فوراً کیا کہا؟ "نمک کے ساتھ"۔ تو یہ بادشاہ اس کی سمجھداری کی مقدار کو جانچ رہا تھا کہ دیکھو، یہ ظاہری باتیں ہی سمجھتا ہے یا پرانی باتیں بھی یاد رکھتا ہے اور گہری باتیں بھی سمجھ جاتا ہے، اشاروں سے بھی بات کو سمجھ لیتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے: اختبار مقدار تنبهه بھئی۔ وـضيق المقام إما لتوجع، اور مقام کا تنگ ہونا، ضیق کا معنی ہے تنگ ہونا۔ ضیق المقام: مقام کا تنگ ہونا۔ بھئی! ایک مقام تنگ ہوتا ہے، وہاں لمبی بات کی ہی نہیں جا سکتی، اس لیے مسند الیہ کو حذف کر لیا جاتا ہے۔ آپ مجھے بتائیے، ایک لفظ کو ذکر کرنے سے کلام مختصر ہوتا ہے یا اس کو حذف کرنے سے کلام مختصر ہوگا؟ ظاہر سی بات ہے ایک لفظ کو حذف کریں گے تو کلام مختصر ہو جائے گا۔ تو ایک مقام ایسا ہے کہ وہاں لمبی بات کی ہی نہیں جا سکتی، تو اس ضیقِ مقام کی وجہ سے اس لفظ کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے۔ پھر مقام کیوں تنگ ہوتا ہے؟ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جو آگے ایک دو یہ بھی ذکر کر دیں گے، مثلاً: مقام اس لیے تنگ ہے کہ جو سننے والا ہے یہ بڑا دکھی اور غمزدہ بیٹھا ہے، اور آپ کو بھی پتہ ہے، جب انسان خوش ہوتا ہے وہ خوب کھل کر باتیں کرتا ہے، اور جب غمزدہ ہوتا ہے، تکلیف میں ہوتا ہے، پریشانی میں ہوتا ہے تو بولنے کو طبیعت ہی نہیں کرتی، انسان چاہتا ہے کسی سے بات ہی نہ کرے، تو اب غم کی وجہ سے غم کی وجہ سے اب ایک شخص ہے وہ لمبی بات کرتا ہی نہیں ہے، مقام ہی تنگ ہے، طبیعت ہی نہیں کر رہی لمبی بات کرنے کو، تو وہ کیا کر لیتا ہے؟ مسند الیہ کو حذف کر لیتا ہے، جیسے دیکھیے بھئی! وَضِيقُ الْمَقَامِ اور ضیقِ داعئ حذف جو ہے، وہ مقام کا تنگ ہونا ہے۔ إِمَّا لِتَوَجُّعٍ یہ مقام کا تنگ ہونا، یا تو کس وجہ سے ہوگا؟ توجع دکھی ہونے کی، توجع کا معنیٰ دکھ محسوس کرنا، تکلیف اٹھانا۔ دکھ کی وجہ سے، غم کی وجہ سے ہوگا، نحو مثال کے طور پر: قَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ قُلْتُ عَلِيلُ سَهَرٌ دَائِمٌ وَحُزْنٌ طَوِيلُ قَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ اس نے مجھ سے کہا، كيف انت? تمہارا کیا حال ہے؟ قُلْتُ عَلِيلُ میں نے کیا کہا؟ بیمار ہوں، علیل کہتے ہیں علیل کہتے ہیں بیمار کو، علت کہتے ہیں بیماری کو۔ قُلْتُ عَلِيلُ میں نے کہا بیمار ہوں۔ سَهَرٌ دَائِمٌ سہر کا معنیٰ ہے جاگنا، سَهَرٌ دَائِمٌ ہمیشہ کا جاگنا ہے، یعنی ہمیشہ کی بے خوابی ہے، نیند آتی نہیں، وَحُزْنٌ طَوِيلُ اور لمبا غم ہے۔ بھئی، یہ کوئی عاشق بیٹھا ہوا تھا، عشق کی بیماری میں مبتلا ہے، اب یہ تکلیف اور یہ بیماری تو ایسی ہے جو لا علاج ہے۔ اب اس غم اور تکلیف اور دکھ کی حالت کے اندر کہتا ہے، کہ مجھے اس نے کہا، کہ تمہارا کیا حال ہے؟ قُلْتُ عَلِيلُ میں نے کیا کہا؟ میں بیمار ہوں، سَهَرٌ دَائِمٌ ہمیشہ کی بے خوابی ہے، نیند آتی نہیں راتوں کو، وَحُزْنٌ طَوِيلُ اور بڑا ہی لمبا غم ہے اور غم تو ختم ہو جاتے ہیں، پر یہ غم بڑا لمبا ہے ختم ہونے میں ہی نہیں آتا بھئی۔ تو اب دیکھیے، مقامِ استشہاد ہے، علیل۔ کہنا چاہیے تھا، أنا عليل، میں بیمار ہوں، لیکن کیا کہا؟ علیل، صرف اتنا کہا، أنا کو حذف کر دیا جو مسند الیہ تھا۔ کس وجہ سے؟ مقام تنگ تھا اور مقام تنگ ہونے کی تو کوئی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں، یہاں کیوں مقام تنگ ہے؟ ہاں وہ غم میں مبتلا ہے، تکلیف میں ہے اور تکلیف میں انسان لمبی بات نہیں کرنا چاہتا۔ یہ تو تھا ایک وجہ، ایک نقطہ۔ دوسرا نقطہ اسی مقام پر، اس لیے کیونکہ یہاں مقام تنگ ہے، بھئی کیوں تنگ ہے؟ اس لیے کیونکہ یہ شعر ہے اور شعر کا مخصوص وزن ہوتا ہے، ایک حرف اس میں زائد آ جائے، تو سارے شعر کا ترنم اور روانی خراب ہو جاتی ہے، وزن خراب ہو جاتا ہے، تو یہاں گنجائش ہی نہیں ہے کہ أنا کو ذکر کیا جائے، اگر أنا کو ذکر کر دیا جائے گا، تو یہ شعر شعر رہے گا ہی نہیں، خراب ہو جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مقام کیوں تنگ ہے یہاں پر؟ وزنِ شعری کی وجہ سے، شعر کا وزن صحیح نہیں رہتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تیسرا نقطہ بیان کر رہے ہیں، کبھی مقام تنگ ہوگا، کس وجہ سے؟ وَإِمَّا لِخَوْفِ فَوَاتِ فُرْصَةٍ فوات کا معنیٰ ہے فوت ہو جانا، رہ جانا، چھوٹ جانا۔ فرصة کہتے ہیں موقعے کو، موقعے کو، موقعے کے چھوٹ جانے کے خوف کی وجہ سے، بھئی آپ کہیں ساتھی شکار کے لیے گئے، اب آپ شکار کی تلاش میں ہیں، آرام آرام سے دَبے قدم، دَبے پاؤں جو ہیں ہلکے ہلکے قدم اٹھا رہے ہیں کہ کہیں شکار نظر آئے، کوئی ہرن وغیرہ اس کو ہم شکار کر لیں، ایسے میں آپ کے ساتھی کی نظر ایک ہرن پر پڑی، ایک جھاڑیوں کے پیچھے اس کو ہرن نظر آیا۔ اس نے فوراً آپ سے کہا، ہرن ہے۔ کیا کہا؟ ہرن ہے۔ اس نے یہ نہیں کہا، وہ ہرن ہے۔ کیونکہ مقام بڑا تنگ ہے، اب اتنا موقع ہی نہیں، اگر وہ ذرا لمبی بات کرے گا، ادھر ہرن بھاگ کر نکل جائے گا بھئی، تو مقام کیا ہے؟ تنگ ہے، کیوں تنگ ہے؟ موقعے کے چھوٹ جانے کے خوف، موقعے کے فوت ہو جانے کا خوف ہے، کہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے ضیقِ مقام، تو کہنا تو آپ کو، مثلاً انہوں نے کہا غزالٌ، غزال کہتے ہیں ہرن کو عربی زبان میں، تو وہ متکلم نے کیا کہا؟ غزالٌ، کہنا چاہیے تھا: هٰذَا غَزَالٌ، یہ ہرن ہے، یا ذَالِكَ غَزَالٌ، وہ ہرن ہے، لیکن اس هٰذَا یا ذَالِكَ کو اس نے کیا کر دیا؟ حذف، کیوں؟ کیونکہ موقع فوت ہو جائے گا، موقع ہاتھ سے نکل جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ وَإِمَّا لِخَوْفِ فَوَاتِ فُرْصَةٍ یا موقعے کے چھوٹ جانے کے خوف کی وجہ سے، نحو نحو قول الصياد، صیاد کہتے ہیں شکاری کو، نحو قول الصياد جیسے کہ شکاری کا قول: غزالٌ، ہرن ہے، تو یہ اس نے یہ نہیں کہا، وہ ہرن ہے، بلکہ کیا کہا؟ ہرن ہے۔ وَالتَّعْظِيمُ وَالتَّحْقِيرُ لِصَوْنِهِ عَنْ لِسَانِكَ أَوْ صَوْنِ لِسَانِكَ عَنْهُ فَالأَوَّلُ نَحْوُ نُجُومُ سَمَاءٍ وَالثَّانِي نَحْوُ قَوْمٌ إِذَا أَكَلُوا أَخْفَوْا حَدِيثَهُمْ حذف کے نکات بیان ہو رہے ہیں۔ وَالتَّعْظِيمُ اگلا داعیِ حذف جو ذکر کیا، وہ ہے تعظیم، کبھی کبھار مسند الیہ کو تعظیم کی وجہ سے حذف کر لیا جاتا ہے، آپ اس کی عظمت کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں، جیسے یہ اوپر والی مثال ہی دیکھ لیجیے، خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ، ہونا کیا چاہیے تھا؟ اللهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ، لیکن آپ بطورِ تعظیم کے لفظِ اللہ کو حذف کر دیتے ہیں، آپ بتلانا یہ چاہتے ہیں سننے والوں کو، کہ وہ ذات بڑی عظیم ہے، اس کا نام بھی بڑا مبارک ہے اور میری زبان بڑی گندی ہے اور بڑی ادنیٰ درجے کی ہے اور گھٹیا ہے، تو وہ ذات اتنی عظیم اور اس کا نام اتنا مبارک اور پیارا، کہ میں اپنی زبان کو بھی اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس نام کو اپنی زبان پر لے کر آؤں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے یہاں پر، جیسے اوپر تو جیسے اسی اوپر والی کو مثال بنا لیں، خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ، تو موقع بمحل کے مطابق، بعض اوقات ہو سکتا ہے آپ یہ کیوں حذف کر دیں لفظِ اللہ کو؟ تعظیم کے، تو کبھی تو ہوگا محذوف کے متعین ہونے پر دلالت کرنے کے لیے اور کبھی کس لیے ہو سکتا ہے؟ تعظیم کے لیے، کہ آپ بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ بڑی عظیم ذات ہے، وہ مبارک نام ہے، بڑی مبارک ذات ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا جیسے انہوں نے مثال ذکر کی: نُجُومُ سَمَاءٍ آسمان کے ستارے ہیں۔ اصل میں تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ هم نُجُومُ سَمَاءٍ، وہ آسمان کے ستارے ہیں، هم نُجُومُ یا ہونا چاہیے تھا، الصَّحَابَةُ نُجُومُ سَمَاءٍ، صحابہ کیا ہیں؟ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آسمان کے ستارے ہیں۔ لیکن الصحابہ کو حذف کر دیا متکلم نے، ان کی عظمت بتلانے کے لیے، کہ وہ بڑی عظیم اور مبارک اور پیاری ہستیاں ہیں، کہ زمین نے نہ اس سے پہلے ایسے لوگ دیکھے تھے، نہ قیامت تک پھر ایسے لوگوں کو دیکھ سکے گی، تو یہ اتنے عظیم اور مبارک لوگ ہیں اور میری زبان بڑی ادنیٰ اور گھٹیا ہے، اس قابل نہیں کہ اس کے اس لفظ کو، اس مبارک لفظ کو ادا کرے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا وَالتَّحْقِيرُ کبھی اس کا عکس ہوگا۔ عکس ہوگا۔ آپ مسند الیہ کو حذف کرتے ہیں، کیا مقصد ہے؟ اس کی تحقیر کرنا چاہتے ہیں بھئی۔ تحقیر کرنا، کہ بڑا ہی حقیر ہے، وہ مسند الیہ کو حذف کر دیا، ذکر نہیں کرتے یہ بتلانے کے لیے کہ وہ بڑے ہی حقیر لوگ ہیں، بڑے ہی گھٹیا لوگ ہیں، اتنے گھٹیا لوگ ہیں کہ میں ان کا ذکر اپنی زبان پر نہیں لانا چاہتا، ان لوگوں کو میں اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ ان کا ذکر اپنی زبان سے کروں۔ تو آپ اپنی زبان کو ان لوگوں کے ذکر سے بچانا چاہتے ہیں۔ آپ کیا کرتے ہیں اپنی زبان کو ان لوگوں کے ذکر سے بچانا چاہتے ہیں، تو یہ موقع بمحل کے مطابق خود ہی پتہ چل جائے گا کہ یہاں تعظیم کا ارادہ ہے یا تحقیر کا ارادہ ہے بھئی، تحقیر کا ارادہ ہے۔ تو پہلے میں کیا تھا تعظیم کے اندر؟ آپ مسند الیہ کو اپنی زبان سے بچانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی زبان بڑی ادنیٰ اور وہ بڑا اعلیٰ اور تحقیر کے اندر کیا تھا؟ پہلی میں کیا تھا؟ ان کو بچانا چاہتے ہیں، کس سے؟ اپنی زبان سے۔ اور تحقیر کے اندر کیا ہے؟ اپنی زبان کو ان سے بچانا چاہتے ہیں کہ وہ اس قابل نہیں کہ میں ان کو اپنی زبان سے ادا کروں اور ان کا ذکر کروں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے آگے مثال اس کی آ رہی ہے، وہ دیکھیے پہلے کتاب پر بھئی، وَالتَّعْظِيمُ وَالتَّحْقِيرُ اور دواعیِ حذف میں سے تعظیم ہے اور تحقیر ہے، لِصَوْنِهِ عَنْ لِسَانِكَ صون کا معنیٰ بچانا، لِصَوْنِهِ عَنْ لِسَانِكَ اس وجہ سے کہ آپ بچانا چاہتے ہیں اس کو عَنْ لِسَانِكَ اپنی زبان سے، آپ اس کو بچانا چاہتے ہیں اپنی زبان سے، یہ کس کے اندر ہوگا، تعظیم میں یا تحقیر میں؟ اس کو بچانا چاہتے ہیں۔ تعظیم میں، أَوْ صَوْنِ لِسَانِكَ عَنْهُ یا اپنی زبان کو بچانا چاہتے ہیں اس سے، یہ کس میں ہوگا؟ تحقیر کے اندر ہوگا، فَالأَوَّلُ پہلے کی مثال، نحو مثال کے طور پر: نُجُومُ سَمَاءٍ أي هم نُجُومُ سَمَاءٍ یا الصَّحَابَةُ نُجُومُ سَمَاءٍ، وَالثَّانِي اور دوسرا تحقیر کی مثال، نحو: قَوْمٌ إِذَا أَكَلُوا أَخْفَوْا حَدِيثَهُمْ اصل میں ہے هم قَوْمٌ، وہ ایسے لوگ ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں، لیکن شاعر نے کیا کیا؟ هم کو حذف کر دیا، یہ بتلانے کے لیے کہ وہ اتنے گھٹیا اور ادنیٰ لوگ ہیں کہ میں ان کے ذکر کو اپنی زبان پر لانا بھی مناسب نہیں سمجھتا، تو هم مسند الیہ کو حذف کر دیا۔ تو شاعر کہتا ہے: قَوْمٌ إِذَا أَكَلُوا أَخْفَوْا حَدِيثَهُمْ، یہ کسی کی مذمت بیان کر رہا ہے شاعر بھئی، وہ ایسے لوگ ہیں، إِذَا أَكَلُوا جب وہ کھاتے ہیں، یعنی جب کھانا وغیرہ کھاتے ہیں، أَخْفَوْا حَدِيثَهُمْ وہ آہستہ کرتے ہیں اپنی باتوں کو، اخفا کا معنیٰ پست کرنا، چھپانا، وہ چھپاتے ہیں اپنی باتوں کو۔ یعنی وہ ایسے لوگ ہیں، جب کھانا کھاتے ہیں، تو باتیں بھی آہستہ آہستہ کرتے ہیں۔ اگلا مصرع ہے: وَاسْتَوْثَقُوا مِنْ رِتَاجِ الْبَابِ وَالدَّارِ کتاب میں نہیں ذکر، ویسے بتلا رہا ہوں آپ کو، دوسرا مصرع کیا ہے؟ وَاسْتَوْثَقُوا مِنْ رِتَاجِ الْبَابِ وَالدَّارِ اور وہ دروازے کے جو، دروازے وغیرہ ان کو بند کر لیتے ہیں اور ان کا اطمینان کر لیتے ہیں کہ گھر کے اور کمرے کے دروازے وغیرہ خوب اچھی طرح بند ہیں۔ تو شاعر کسی کی مذمت بیان کر رہا ہے اور اس کے ذکر کرتے ہوئے اس نے هم جو مسند الیہ تھا، حذف کر دیا کہ یہ بڑے گھٹیا لوگ ہیں، میں ان کا ذکر اپنی زبان پر بھی نہیں لانا چاہتا۔ اور کیسے لوگ ہیں؟ کہتا ہے، جب یہ لوگ کھانا کھانے لگتے ہیں، تو باتیں بھی آہستہ کر دیتے ہیں، بلکہ کھانے سے پہلے دروازے وغیرہ سارے ان کا اطمینان کر لیتے ہیں کہ سارے کنڈے لگے ہوئے ہیں، دروازے بند ہیں، کوئی آ تو نہیں سکتا، پھر اس کے بعد باتیں بھی آہستہ کرتے ہیں، کوئی سن نہ لے، کہیں کوئی مانگنے والا نہ آ جائے، کوئی بھوکا نہ آ جائے، کوئی ضرورت مند نہ آ جائے، تو ہمیں اس کو بھی کھانے میں شریک کرنا پڑے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ان کسی کی مذمت کر رہا ہے شاعر، تو کہتا ہے: قَوْمٌ إِذَا أَكَلُوا أَخْفَوْا حَدِيثَهُمْ وہ ایسے لوگ ہیں جب کھانا کھاتے ہیں، أَخْفَوْا حَدِيثَهُمْ حدیث بات کو کہتے ہیں، تو اپنی بات جو ہے اس کو پست کرتے ہیں، آہستہ کرتے ہیں، چلیے بس کریں، بس بھئی هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔