Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-034

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 18
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔34 واما النداء فهو طلب الإقبال بحرف نائب مناب أدعو. وأدواته ثمانية: يا، والهمزة، وأي، وآ، وآي، وأيا، وهيا، ووا. فالهمزة وأي للقريب، وغيرهما للبعيد. آج ہم نداء کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا کہ انشاء دو قسم پر ہے، ایک انشاء طلبی اور ایک انشاء غیر طلبی۔ اور انشاء طلبی جو ہے وہ پانچ چیزوں کے ساتھ ہوتا ہے: امر ہے، نہی ہے، استفہام ہے، تمنی ہے، اور نداء۔ تو امر، نہی، استفہام اور تمنی کی بحث مکمل ہوئی، آج آپ پانچویں اور آخری چیز نداء جو ہے اس کے بارے میں بتلائیں گے۔ تو کہتے ہیں: واما النداء فهو طلب الإقبال بحرف نائب مناب أدعو. تو وہ توجہ کو طلب کرنا ہے۔ فهو طلب الإقبال، توجہ کو طلب کرنا ہے یعنی مخاطب کی توجہ کو متکلم طلب کرتا ہے، جس سے خطاب کر رہا ہے، جس سے بات کر رہا ہے اس کی توجہ کو طلب کرنا، بحرف ایسے حرف کے ساتھ نائب مناب أدعو جو قائم مقام ہے أدعو کے۔ واما النداء فهو طلب الإقبال بحرف نائب مناب أدعو. اور باقی نداء جو ہے وہ توجہ کو طلب کرنا ہے ایسے حرف کے ساتھ جو قائم مقام ہو أدعو کے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: یا زیدُ! اے زید! تو یہ جو 'یا' ہے یہ قائم مقام ہے 'أدعو' فعل کے بھئی۔ اصل میں گویا متکلم گویا یوں کہہ رہا ہے: أدعو زيداً، میں زید کو بلا رہا ہوں۔ میں کس کو بلا رہا ہوں؟ میں زید کو بلا رہا ہوں۔ تو 'أدعو' فعل کی جگہ کیا پھر لے آئے؟ 'یا' لے آئے بھئی، 'یا'۔ اور منادیٰ کو مبنی کر دیا، مبنی علی الضم جب مفرد ہو، تو کیا کہتے ہیں؟ یا زیدُ! تو یہ 'یا' کس کے قائم مقام ہے؟ 'أدعو' فعل کے، اور 'أدعو' کا کیا معنی ہے؟ میں بلا رہا ہوں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یا تو اسی لیے، تو یہ 'یا' جو ہے یہ قائم مقام ہے 'أدعو' فعل کے، یہی ذکر کر رہے ہیں: وہ توجہ کو طلب کرنا ہے بحرف نائب مناب أدعو، ایسے حرف کے ساتھ جو قائم مقام أدعو فعل کے ہو بھئی۔ وأدواته ثمانية، اور یہ نداء کے جو ادوات ہیں وہ آٹھ ہیں بھئی۔ آٹھ آلات ہیں یعنی آٹھ کلمات ہیں جن کے ساتھ کیا کیا جاتی ہے؟ نداء کی جاتی ہے۔ اور وہ کون کون سے ہیں؟ وہ بیان کر رہے ہیں آگے بھئی: 'یا'، ایک تو 'یا' ہے، آپ کہتے ہیں: یا زیدُ۔ والهمزة، اور حمزہ ہے، آپ کہتے ہیں: أزيدُ۔ یہ حمزہ کس لیے ہے؟ نداء کے لیے ہے۔ وأي، اور ایک 'أي' ہے، جیسے: أي زيدٌ۔ وآ، اور ایک یہ حرف ہے نداء کے لیے: آ زيدُ، یہ 'آ' بھی کیا ہے دراصل؟ حرف نداء ہے 'یا' کی طرح بھئی۔ وآي زيدُ، دیکھا؟ آي زيدُ، یہ بھی کس لیے ہے؟ حرف نداء ہے، نداء کے لیے۔ وأيا وهيا ووا، اسی طرح 'أیا' ہے، 'ہیا' ہے، اور 'وا'۔ أيا زيدُ، هيا زيدُ، اور اسی طرح وا زيدُ، تو یہ 'وا' بھی کیا ہے؟ حرف نداء ہے بھئی، حرف نداء۔ تو یہ سب قائم مقام ہیں 'أدعو' فعل کے بھئی۔ اب آگے تفصیل بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: فالهمزة وأي للقريب، وغيرهما للبعيد. حمزہ اور أي، یہ قریب کے لیے ہیں، یعنی جب منادیٰ جس کو آپ نداء دے رہے ہیں وہ قریب ہو تو کون سے حروف استعمال کرنے ہیں؟ حمزہ اور أي۔ زید آپ کے قریب ہے اور آپ اس کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں اپنی طرف تو آپ کہیں گے: أزيدُ، یا آپ کہیں گے: أي زيدُ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وغيرهما للبعيد، اور ان کے علاوہ جو ہیں وہ بعید کے لیے ہیں، یعنی آٹھ میں سے یہ حمزہ اور أي تو قریب کے لیے ہیں، کوئی قریب ہو اس کو نداء دینے کے لیے، اس کو متوجہ کرنے کے لیے، اور باقی چھ جو ہیں وہ بعید کے لیے ہیں، اگر منادیٰ دور ہے تو پھر اس کو آواز دینے کے لیے باقی چھ استعمال کیے جاتے ہیں بھئی، چھ استعمال کیے جاتے ہیں۔ معلوم ہوا زید آپ سے دور ہے تو پھر اب آپ 'أزيدُ' نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ أيا زيدُ، یا هيا زيدُ، یا وا زيدُ، اور اسی طرح اور جو ہیں بھئی، حمزہ اور أي کے علاوہ بھئی وہ سب بھئی۔ جب انہوں نے کہا کہ حمزہ اور أي قریب کے لیے ہیں اور باقی سارے کس کے لیے ہیں ان دونوں کے علاوہ؟ بعید کے لیے، تو اس میں 'یا' بھی داخل ہو گئی۔ معلوم ہوا ان کے نزدیک 'یا' بھی بعید کے لیے ہے، کوئی دور ہو تو تب کہیں گے: 'یا زیدُ'۔ قریب ہو اس کے لیے 'یا' استعمال نہیں، یعنی اس کے لیے وضع نہیں ہے 'یا' یا اس کے لیے وضع نہیں ہے۔ تو یاد رکھیے یہ جو آیا کہ 'یا' بھی بعید کے لیے ہے، یہ علامہ زمخشری کا مذہب ہے بھئی۔ علامہ زمخشری کا مذہب ہے، جبکہ صاحبِ کافیہ علامہ ابن حاجب رحمہ اللہ اور دیگر علماء فرماتے ہیں کہ 'یا' بعید کے لیے نہیں ہے بلکہ 'یا' عام ہے، وہ قریب کے لیے بھی وضع ہے اور بعید کے لیے بھی، سب کے لیے وہ استعمال کیا، جس کے لیے بھی استعمال کیا جائے وہ حقیقت ہے، یعنی اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، قریب کے لیے بھی، زید آپ کے قریب ہو تب بھی کہہ سکتے ہیں: یا زیدُ، اور بعید ہو پھر بھی کیا کہہ سکتے ہیں؟ یا زیدُ، یہ سب کے لیے، قریب بعید دونوں کے لیے وضع ہے بھئی۔ وقد ينزل البعيد منزلة القريب فينادى بالهمزة وأي. یہاں سے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ اگرچہ یہ حمزہ اور أي تو قریب کے لیے وضع ہیں، اور باقی سارے بعید کے لیے وضع ہیں، تو قریب والے کے لیے قریب والے کو استعمال کرنا چاہیے، بعید والے کے لیے بعید والے حرفِ نداء کو استعمال کرنا چاہیے، لیکن کبھی اس کا عکس بھی کیا جاتا ہے بھئی، قریب والے کے لیے بعید والا حرفِ نداء استعمال کر لیا جاتا ہے، اور بعید والے کے لیے قریب والا حرفِ نداء استعمال کر لیا جاتا ہے۔ مثلاً زید آپ کے قریب ہے، کہنا تو آپ کو چاہیے: أزيدُ یا أي زيدُ، لیکن آپ اس کے بجائے أيا زيدُ یا هيا زيدُ وغیرہ بھی کہہ سکتے ہیں بھئی، لیکن یہ کسی نقطے کی وجہ سے ہو گا۔ کس کی وجہ سے؟ کوئی کسی نقطے، کوئی وہاں نقطہ ہو گا، کوئی خاص ایسا مقتضیٰ ہو گا جس کی وجہ سے آپ کیا کریں گے؟ اس قریب کی جگہ بعید والا اور بعید کی جگہ قریب والا استعمال کر لیں گے۔ تو وہ چند نقطے مثلاً بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وقد ينزل البعيد منزلة القريب، اور کبھی اتار لیا جاتا ہے دور والے کو قریب والے کے درجے میں۔ کبھی کبھار کیا کر لیا جاتا ہے؟ بعید والا، ایک آدمی ہے تو بعید، دور ہے آپ سے، لیکن وہاں آپ قریب والا حرفِ نداء استعمال کرتے ہیں، یعنی آپ نے اس بعید کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ قریب کے درجے میں اتار لیا، فينادى بالهمزة وأي، پس اس کو نداء دی جاتی ہے حمزہ اور أي کے ساتھ۔ تو حمزہ اور أي تو وضع ہیں کس کے لیے؟ قریب کے لیے، لیکن آپ بعید والے کو ہی کس کے درجے میں اتار لیتے ہیں؟ قریب کے، اور جب قریب کے درجے میں اتار لیا تو اب اس کو حمزہ اور أي کے ساتھ پھر نداء کرتے ہیں۔ إشارة إلى أنه لشدة استحضاره في ذهن المتكلم صار كالحاضر معه. إشارة، اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے، کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ بعید کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ قریب کے درجے میں اتار کر قریب والے حرفِ نداء سے اس کو نداء کی جاتی ہے، کس لیے؟ إشارة إلى أنه لشدة استحضاره في ذهن المتكلم، اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ وہ جو ہے لشدة استحضاره، شدت کے ساتھ حاضر ہونے کی وجہ سے في ذهن المتكلم متکلم کے ذہن میں، صار كالحاضر معه، یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ وہ اس کے ساتھ ہی حاضر ہو، اس کے پاس ہی موجود ہو۔ بھئی بعض اوقات منادیٰ ہے تو بعید، وہاں پر استعمال تو بعید والا حرفِ نداء ہونا چاہیے، لیکن آپ کیا کرتے ہیں؟ اس بعید والے کو قریب والے کے درجے میں اتار لیتے ہیں اور پھر اس کو قریب والے حرفِ نداء کے ساتھ نداء دیتے ہیں، اور کس بات اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ اگرچہ تم مجھ سے دور ہو لیکن میرے ہر وقت میرے دل میں تم موجود ہوتے ہو تو گویا تم میرے پاس ہی موجود ہو جب دل کے اندر موجود ہو، تو وہ ہے تو بعید لیکن قریب کے درجے میں کیوں اتارا؟ کس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے؟ کہ اگرچہ جگہ اور مکان کے اعتبار سے تم لوگ مجھ سے دور ہو لیکن میرے دل میں ہر وقت حاضر ہو تم، میرے دل میں اس موجود ہو، اور جب دل میں ہو تو گویا میرے پاس ہی ہو تم میرے پاس، اور جب میرے پاس ہو تو اس لیے میں نے بعید والا حرف استعمال نہیں کیا بلکہ کون سا حرف استعمال کیا؟ قریب والا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنی ہے: إشارة، اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے، إلى أنه لشدة استحضاره في ذهن المتكلم، کہ وہ جو مخاطب جو ہے شدت سے، استحضار کا معنی حاضر ہونا، لشدة استحضاره في ذهن المتكلم، متکلم کے ذہن میں شدت کے ساتھ حاضر ہونے کی وجہ سے صار كالحاضر معه، یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس کے ساتھ ہی حاضر ہو، اس کے پاس ہی موجود ہو۔ كقول الشاعر، جیسے شاعر کا قول ہے: أ سكان نعمان الأراك تيقنوا بأنكم في ربع قلبي سكان أ سكان نعمان الأراك، سكان جمع ہے ساکن کی، رہنے والے، رہائشی۔ نعمان الأراك، بھئی یہ نون پر آپ کی کتابوں میں بھی پیش لگا ہے؟ ہاں، یہ نون پر زبر ہونی چاہیے بھئی، نعمان الأراك۔ نعمان الأراك یہ ایک وادی ہے، کہتے ہیں طائف اور مکہ کے درمیان، اس وادی کا نام ہے نعمان الأراك۔ أ سكان نعمان الأراك، حمزہ ہے نداء کے لیے، اور قریب کے لیے یہ وضع ہے آپ جانتے ہیں۔ اے نعمان الأراك کے رہنے والو! اے نعمان الأراك کے رہنے والو! بھئی آپ جانتے ہیں جب منادیٰ مضاف ہو، عبد الله، اس کو ہم نداء کرنا چاہتے ہیں، تو کیسے کہیں گے؟ یا عبدَ الله، یہ دال پر کیا پڑھا آپ نے؟ زبر، فتحہ پڑھا، کیوں پڑھا فتحہ؟ کیونکہ منادیٰ جب مضاف ہو تو اس پر فتحہ پڑھتے ہیں۔ یہاں پر بھی سكان نعمان الأراك، تو یہ سكان مضاف ہے، نعمان الأراك کیا ہے؟ مضاف الیہ، تو اسی لیے سكان پر فتحہ پڑھا گیا: أ سكان نعمان الأراك، اے نعمان الأراك کے رہنے والو! تيقنوا، تم یقین کرو، تم یقین رکھو، بأنكم، اس میں یہ 'باء' زائدہ ہے بھئی، 'باء' کیا ہے؟ زائدہ، تو یہ دراصل کس معنی میں ہوا؟ أنكم في ربع قلبي سكان. تم یقین کرو کہ تم جو ہو في ربع قلبي، ربع کہتے ہیں وہ بڑا گھر جس کے اندر کئی چھوٹے چھوٹے گھر ہوں۔ ربع کسے کہتے ہیں؟ وہ بڑا گھر جس میں کئی چھوٹے چھوٹے گھر ہوں، دوسرے لفظوں میں یوں کہیے حویلی، کس کو کہیں گے؟ حویلی کو، یا اسی طرح گھر کے ارد گرد جو جگہ ہوتی ہے پاس ارد گرد کی، اس کو بھی ربع کہتے ہیں، یعنی یوں کہیے محلہ بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ محلہ۔ اے نعمان الأراك کے رہنے والو! یقین کرو بأنكم في ربع قلبي، قلبي 'یا' متکلم کی ہے ساتھ، میرے دل کی کے محلے میں ہو، تم یقین کرو کہ تم لوگ میرے دل کے محلے میں ہو، میرے دل کے محلے میں سكان رہنے والے ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اے نعمان الأراك کے رہنے والو! یقین کرو کہ تم میرے دل کی، یوں ترجمہ کر لیں با محاورہ، یقین کرو کہ تم میرے دل کی بستی میں رہنے والے ہو، تم لوگ میرے دل کی بستی میں بستے ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اب دیکھیے شاعر نداء دے رہا ہے، جن کو نداء دے رہا ہے؟ نعمان الأراك کے رہنے والوں کو، اور وہ بستی تو بڑی دور ہے، یہ یہاں کسی اور جگہ بیٹھا ہوا ہے، یہاں سے ان بستی والوں کو خطاب کر رہا ہے، تو وہ قریب ہیں یا بعید ہیں؟ بعید ہیں بھئی، بعید ہیں، تو بعید والا حرفِ نداء استعمال ہونا چاہیے، لیکن وہ قریب والا حرفِ نداء استعمال کرتا ہے، کیا بتلانے کے لیے؟ کہ اگرچہ جگہ اور مکان کے اعتبار سے تم دور ہو مجھ سے، لیکن تم لوگ میرے دل سے دور نہیں ہو بلکہ ہر وقت میرے دل میں ہو، تو گویا میرے پاس ہی موجود ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: أ سكان نعمان الأراك تيقنوا، بأنكم في ربع قلبي سكان. اے نعمان الأراك کے رہنے والو! یقین کرو کہ تم میرے دل کی بستی میں بستے ہو۔ وقد ينزل القريب منزلة البعيد، اور کبھی کبھار قریب والے کو بعید کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے۔ پہلے تو کیا تھا؟ بعید کو قریب کے درجے میں اتارا، اور کبھی اس کا عکس کیا جاتا ہے، ایک شخص ہے قریب آپ کے لیکن آپ اس کو بعید کے درجے میں اتار لیتے ہیں اور بعید والے حرفِ نداء کے ساتھ اس کو نداء دیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وقد ينزل القريب منزلة البعيد، اور کبھی کبھار جو ہے قریب والے کو دور والے کے درجے میں اتار دیا جاتا ہے، فينادى بأحد الحروف الموضوعة له أي للبعيد، پس اس کو نداء دی جاتی ہے ان حروف میں سے کسی ایک کے ساتھ جن کو وضع کیا گیا ہے له أي للبعيد، کس کے لیے؟ بعید، جن کو بعید، بھئی وہ ہے تو قریب، لیکن کس کے درجے میں اتار لیا؟ بعید کے درجے میں اتار لیا، تو جو حروف بعید کے لیے وضع ہیں انہی میں سے کسی ایک کے ساتھ اس کو نداء پھر دی جاتی ہے۔ إشارة إلى أن المنادى عظيم الشأن رفيـع المرتبة، اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ یہ جو منادیٰ ہے جس کو میں نداء دے رہا ہوں، عظيم الشأن، بڑی عظیم شان والا ہے، رفيـع المرتبة، بڑے اونچے درجے رتبے والا ہے، حتى كأن، یہ 'کأنّ' پڑھنا اس کو بھئی، 'کان' نہیں پڑھنا، حتى كأن، یہاں تک کہ گویا کہ بعد درجته في العظم، اس کے جو درجے کی دوری ہے بڑا ہونے میں، وہ بہت عظیم آدمی ہے، بہت اونچا درجہ ہے، تو گویا اس کے بڑا ہونے میں جو اس کے درجے کی دوری ہے عن درجة المتكلم، کس کے درجے سے دوری؟ متکلم کے درجے سے دوری، بعد في المسافة، یہ دوری ہے مسافت کے اندر بھئی، مسافت میں ہی کیا ہے؟ دوری ہے۔ بھئی دیکھیے، ایک شخص ہے وہ آپ کے قریب ہے، لیکن آپ اس کو بعید کے درجے میں اتار کر کون سا حرفِ نداء استعمال کرتے ہیں؟ بعید والا، آپ کیوں ایسا کرتے ہیں؟ یہ ہے تو قریب، آپ نے اس کو بعید کے درجے میں کیوں اتارا؟ دراصل آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ جس کو میں نداء دے رہا ہوں، یہ بہت بڑا آدمی ہے، بہت اونچے مقام والا ہے، تو اس کا مقام میرے مقام سے بہت اونچا ہے، تو اس بلندیِ مرتبہ کو آپ نے بعدِ مکانی کے درجے میں اتار، بھئی وہ تو آپ سے درجوں کے اعتبار سے اونچا ہے، جگہ کے اعتبار سے تو دور نہیں اس وقت، مکان کے اعتبار سے تو کیا ہے آپ کے وہ؟ قریب ہے، تو ہے تو قربِ مکانی، جگہ کے اعتبار سے قرب ہے، قریب ہے، لیکن اس کا درجہ بڑا اونچا ہے تو درجوں کے اعتبار سے یعنی وہ ہم سے بڑا اونچا ہے، بڑا دور ہے، تو اس بعدِ رتبی جو ہے، کس کو؟ بعدِ رتبی کو، دوری کس چیز میں ہے آپ سے اس کی؟ رتبے میں دوری ہے، جگہ کے اعتبار سے تو دوری نہیں، لیکن بعدِ رتبی کو آپ بعدِ مکانی کے درجے میں اتار لیتے ہیں۔ رتبہ بڑا اونچا ہے، تو گویا اس کا مقام اور اس کی جگہ بھی مجھ سے بڑی دور ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کیا کرتے ہیں یہاں پر؟ بُعدِ رتبی کو، ہاں، بُعدِ مکانی کے درجے میں اتار لیا، لفظ سمجھ میں آ رہے ہیں؟ کس چیز کو؟ بُعدِ رتبی کو، درجے میں اونچا ہے، جگہ میں تو دور نہیں، جگہ میں تو بالکل قریب کھڑا ہے وہ۔ لیکن، آپ کیا کہتے ہیں، بتلانا کیا چاہتے ہیں کہ اس کا درجہ بڑا اونچا ہے، درجہ بڑا اونچا ہے۔ تو، یہ درجہ اونچا بتلانے کے لیے آپ بعید والا حرفِ ندا لائے۔ تو گویا کہ آپ نے اس کے بُعدِ رتبی کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ بُعدِ مکانی کے درجے میں اتار لیا کہ گویا جگہ کے اعتبار سے میرے سے یہ بڑا دور ہے، مقام کے اعتبار سے مجھ سے بڑا دور ہے۔ اور جب دور ہے مقام کے اعتبار سے، تو اس کے لیے کیا استعمال کرتے ہیں؟ بعید والا حرفِ ندا، اس لیے میں نے بعید والا حرفِ ندا استعمال کر لیا۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہیں: اشارة الى ان المنادى عظيم الشان رفیع المرتبة. اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ منادیٰ جو ہے، بڑی عظیم شان والا ہے، اونچے مرتبے والا ہے۔ حتى كان بعد درجته في العظم عن درجة المتكلم بعد في المسافة. گویا کہ اس کے جو درجے کی دوری ہے عظمت کے اندر بڑا ہونے میں، جو اس کے درجے کی دوری ہے متکلم کے درجے سے، یہ جو درجے کی دوری ہے، یہ مسافت میں دوری ہے۔ گویا مسافت کے اعتبار سے وہ بڑا آپ سے دور ہے اور جب دور ہے تو اس کے لیے کون سا حرفِ ندا استعمال کر دیا؟ دور والا بھئی۔ كقولك: جیسے آپ کا یہ قول: أيا مولاي، اے میرے آقا! اب غلام کہتا ہے اپنے آقا سے، آقا اس کے قریب کھڑا ہے، تو اس کو کہنا تو یہ چاہیے: أ مولاي، یا کہنا چاہیے: أي مولاي، قریب والے حرفِ ندا۔ لیکن وہ کیا کہتا ہے؟ أيا مولاي، بعید والا حرفِ ندا استعمال کیا۔ کیوں استعمال کیا؟ کیا بتلانا چاہتا ہے غلام؟ کہ میرا درجہ بڑا نیچے اور میرے آقا، وہ تو بڑی عظیم شخصیت ہیں، اس کا درجہ بہت اونچا ہے۔ تو یہ مجھ سے درجوں کے اعتبار سے بڑا دور ہے، بڑا دور ہے۔ تو گویا اس بلندیِ درجات کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ بلندیِ مکان کہہ لیں یا دوریِ مکان کہہ لیں، بلندیِ مکان کے درجے میں، یعنی جگہ اور مقام کے اعتبار سے مجھ سے گویا بڑا دور ہے۔ اصل میں تو وہ درجے کے اعتبار سے اونچا ہے، مکان کے اعتبار سے تو دور نہیں، لیکن اس بُعدِ درجہ کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ بُعدِ مکانی کے درجے میں۔ آگے خود بتلا رہے ہیں: وأنت معه، حال یہ ہے کہ آپ اس کے ساتھ ہیں۔ كقولك: أيا مولاي وأنت معه، جیسے آپ کا کہنا: أيا مولاي، اے میرے آقا! مولا کہتے ہیں آقا کو اور یا متکلم کی ہے۔ اے میرے آقا! وأنت معه، حال یہ ہے کہ آپ اس کے ساتھ ہیں، یعنی وہ آپ کے قریب ہے، لیکن آپ پھر بھی أيا لے کر آئے بھئی، اس بلندیِ رتبہ کو بتلانے کے لیے۔ تو یہ ہے بلاغت بھئی، یہ ہے بلاغت۔ غلام نے صرف کیا کہا ہے؟ آقا قریب کھڑا ہے، اس نے صرف کیا کہا؟ أيا مولاي، کتنی گہری بات کر گیا وہ! آپ غور کریں، اب آپ کو نقطے کا پتہ چل گیا۔ کہ دیکھو، یہ اس صرف أيا لفظ استعمال کر کے اپنے آقا کی عظمت کی طرف اس نے اشارہ کر دیا کہ میرا آقا کوئی معمولی آدمی نہیں ہے، بہت اونچا آدمی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ أو اشارة الى انحطاط درجته، کبھی اس کا عکس ہوتا ہے بھئی۔ یہاں تو غلام نے أيا لفظ کیوں استعمال کیا؟ آقا کی عظمت بتلانے کے لیے کہ درجوں میں بڑا اونچا ہے، بہت اونچی شخصیت ہے یہ۔ کبھی اس کا عکس ہوتا ہے۔ ایک آدمی آپ کے پاس کھڑا ہے، آپ اس کے لیے بعید والا حرفِ ندا استعمال کر لیتے ہیں، یہ بتلانے کے لیے کہ یہ بڑا ہی گھٹیا آدمی ہے، میں اونچا آدمی ہوں، لیکن اس کا درجہ تو بہت ہی نیچے ہے۔ اور جب بہت نیچے ہے تو مجھ سے بڑا دور ہوا درجوں کے اعتبار سے۔ اور اس بُعدِ درجہ کو کس کے درجے میں اتار لیا آپ نے؟ بُعدِ مکان، جب درجوں میں بہت نیچے ہے تو گویا مجھ سے بہت دور ہے، اور جب بہت دور ہے تو پھر آپ نے وہاں کیا کہہ دیا؟ بعید والا حرفِ ندا استعمال کر لیا۔ اور یہ موقع محل پر خود ہی سننے والے کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہاں کہنے والے کی مراد عظمت ہے یا کہنے والا جو ہے، اس کے ادنیٰ ہونے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ أو اشارة الى انحطاط درجته، انحطاط کا معنیٰ: پست ہونا، نیچا ہونا۔ أو اشارة الى انحطاط درجته، یا اشارہ کرنے کے لیے اس کے درجے کے پست ہونے کی طرف، كقولك: جیسے کہ آپ کا کہنا: أيا هذا، أيا هذا لمن هو معك، لمن، آپ یہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ أيا هذا، کس کو؟ لمن هو معك، اس شخص سے جو آپ کے ساتھ ہے۔ جب آپ کے ساتھ ہے تو قریب ہے، جب قریب ہے تو اس کے لیے کیا استعمال ہونا چاہیے تھا؟ قریب والا، أهذا یا أي هذا، لیکن آپ نے کیا کہہ دیا؟ أيا هذا، یہ أيا کیوں لے کر آئے؟ کیا بتلانے کے لیے؟ کہ مجھ سے بہت دور ہے، کس اعتبار سے؟ درجوں کے اعتبار سے، یعنی بہت نیچے ہے مجھ سے درجوں کے اعتبار سے۔ أو اشارة الى أن السامع غافل لنحو نوم أو ذهول. تیسرا نقطہ آ رہا ہے بھئی کہ ایک شخص ہے تو قریب آپ کے، لیکن وہ غافل ہے، غفلت میں ہے۔ تو قریب ہے تو حرفِ ندا تو قریب والا استعمال ہونا چاہیے، لیکن آپ بتلانا یہ چاہتے ہیں سننے والوں کو کہ میں نے بعید کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ کہ دیکھنے میں بے شک یہ یہاں ہے اس وقت، لیکن حقیقت میں یہاں نہیں ہے، کہیں اور پہنچا ہوا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ مثلاً طالبِ علم ہے، سبق میں بیٹھا ہوا ہے، لیکن گھر کی سیر کر رہا ہے، سبق کی طرف توجہ ہی نہیں ہے۔ اب اس کو استاد کہتا ہے، کیا کہتا ہے مثلاً؟ أيا فلان، أيا فلان۔ تو ہونا تو یہاں چاہیے تھا: أ فلان يا أي فلان، لیکن استاد کیا کہتا ہے؟ أيا فلان، بعید والی حرف، بعید والا حرف استعمال کر لیا، یہ بتلانے کے لیے کہ بے شک اس وقت تمہیں یہ اپنے قریب بیٹھا ہوا دکھائی دے رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اس وقت یہاں نہیں ہے، بلکہ ذہن میں یہ اس وقت کہاں پہنچا ہوا ہے؟ اپنے گھر پہنچا ہوا ہے بھئی۔ نقطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: أو اشارة الى أن السامع غافل، یا اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ أن السامع غافل، کہ سننے والا غافل ہے۔ بھئی، کیوں غافل ہے؟ کہتے ہیں: لنحو نوم أو ذهول، نحو کا معنیٰ: مثل، أي لمثل نوم أو ذهول، ذہول کہتے ہیں بے توجہی کو، ذہن کا متوجہ نہ ہونا۔ نیند یا ذہنی بے توجہی جیسی چیزوں کی وجہ سے۔ متکلم جو ندا دینے والا ہے، وہ بعید والا حرف لے کر آیا، کیا بتلانے کے لیے؟ کیا بتلانا چاہتا ہے؟ کہ سننے والا جو ہے، غافل، وہ غافل ہے بھئی، کس وجہ سے غافل ہے؟ لنحو نوم أو ذهول، نیند یا بے توجہی جیسی چیز کی وجہ سے۔ یا تو نیند کی وجہ سے نیند آ رہی ہے، تو وہ ذہنًا یہاں حاضر نہیں ہے بھئی، یا بے توجہی ہے، اس کی توجہ ادھر کو نہیں ہے، اس کی توجہ اس وقت کہیں اور ہے، تو وہ غافل ہے، اس بات کی طرف اشارہ۔ تو گویا کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ قریب کے بجائے بعید والا حرفِ ندا استعمال کیا جاتا ہے۔ کس لیے؟ پہلا نقطہ کیا بتلایا؟ اس کے عظمت بتلانے کے لیے۔ اور کبھی کبھار قریب کے بجائے بعید والا حرفِ ندا استعمال کیا جاتا ہے، مخاطب کی درجوں کے نیچا ہونا بتلانے کے لیے کہ بڑے ہی ادنیٰ درجے والا آدمی ہے یہ۔ اور کبھی کبھار قریب کے بجائے بعید والا حرفِ ندا استعمال کیا جاتا ہے، کیا بتلانے کے لیے؟ کہ یہ سننے والا غافل ہے اس وقت، کیا ہے؟ غافل ہے، مثلاً نیند کی وجہ سے یا ذہنی بے توجہی کی وجہ سے۔ كأنه غير حاضر في المجلس، گویا کہ وہ مجلس میں حاضر ہی نہیں ہے اور دور ہے۔ كقولك لِلسَّاهِي، جیسے کہ آپ کا کہنا لِلسَّاهِي، بھولنے والے سے، ساہی: بھولنے والا، جو غفلت میں ہے۔ تو جیسے آپ کسی بھولنے والے سے یا غافل سے کہتے ہیں: أيا فلان، اے فلاں! وقد تخرج الفاظ النداء، یہ تو تھا کہ حروفِ ندا ہیں، لیکن وہ استعمال بھی استعمال بھی متوجہ کرنے کے لیے ہی ہوئے۔ چاہے قریب والے کو بعید کے درجے میں اتارا یا بعید والے کو قریب کے درجے میں اتارا، لیکن حروفِ ندا کو استعمال کس لیے کیا؟ دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے۔ اب آگے آپ کو بتلائیں گے کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے، حرفِ ندا استعمال کیا جاتا ہے، لیکن وہاں دوسرے کو متوجہ کرنا مقصد ہوتا ہی نہیں، مقصد کیونکہ یا تو وہ تو پہلے سے ہی متوجہ ہے یا کوئی اور وجہ ہے کہ وہاں متوجہ کرنا مقصد ہی نہیں، مقصد ہی کوئی اور ہے ندا کا وہاں پر بھئی، جیسے آگے مثالیں آ جائیں گی۔ تو معلوم ہوا، جب ایسی جگہ آئے گی، ایسی جگہ آ جائے، تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ حرفِ ندا اپنے معنیٰ اصلی سے نکل گیا۔ معنیٰ اصلی تو کیا تھا اس کا؟ کیا تعریف کی تھی؟ فهو طلب الاقبال، وہ کیا کرنا ہے؟ توجہ کو طلب کرنا ہے، توجہ کو طلب کرنا ہے۔ لیکن ایک شخص اگر پہلے ہی متوجہ ہے، پھر آپ حرفِ ندا استعمال کرتے ہیں، معلوم ہوا کسی اور معنیٰ کے لیے آپ لائے ہیں حرفِ ندا، متوجہ کرنے کے لیے نہیں، کیونکہ متوجہ تو وہ پہلے سے ہے۔ یا آپ حرفِ ندا لائے ہیں اور ایک بے جان چیز کو خطاب کر رہے ہیں، کس کو خطاب کر رہے ہیں؟ بے جان چیز کو خطاب کر رہے ہیں، بھئی بے جان چیز کو تو بے جان چیز میں تو جان ہی نہیں ہے، وہ کیسے آپ کی طرف متوجہ ہو؟ معلوم ہوا حرفِ ندا یہاں متوجہ کرنے کے لیے آپ نہیں لائے، بلکہ کسی اور مقصد کے لیے لائے ہیں، جو آگے اب بیان ہوں گے، یہ سب اس کے مجازی معانی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وقد تخرج الفاظ النداء عن معناها الاصلي لمعان اخر تفهم من القرائن، اور کبھی کبھار نکل جاتے ہیں ندا کے الفاظ عن معناها الاصلي، اپنے معنیٰ اصلی سے، کس سے نکل جاتے ہیں؟ اپنے معنیٰ اصلی سے، یعنی جس کے لیے وہ وضع تھے، یعنی دوسرے کو متوجہ کرنا جو ان کا معنیٰ اصلی تھا، اس سے نکل جاتے ہیں، لمعان اخر تفهم من القرائن، ایسے دوسرے معانی کی طرف جو قرینوں سے سمجھ میں آتے ہیں۔ بھئی، کس معنیٰ میں وہ استعمال ہو رہا ہے؟ وہ آپ کو قرینہ کوئی بتلا دے گا، جس مقام پر کوئی آدمی اس کو استعمال کرے گا، وہ قرینے سے آپ کو پتہ چل جائے گا بھئی۔ جیسے مثلاً كالإغراء، جیسے کہ ابھارنا، اغراء، يغري کا معنیٰ ہے: ابھارنا، دوسرے کو برانگیختہ کرنا، بھڑکانا، دوسرے کو بھڑکانا۔ كالإغراء، جیسے کہ ابھارنا، نحو، مثال کے طور پر، نحو قولك لمن اقبل يتظلم، آپ کا کہنا لمن اقبل، اس شخص سے جو متوجہ ہے، دیکھو، متوجہ ہے، قید بڑھا دی انہوں نے، آپ حرفِ ندا لا رہے ہیں اور کس شخص کے لیے؟ جو پہلے ہی متوجہ ہے، يتظلم، تظلم کا معنیٰ ہے: دوسرے کے ظلم کی شکایت کرنا۔ کوئی شخص اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بیان کرتا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ يتظلم، دوسرے کے ظلم کی شکایت کر رہا ہے، یا یوں کہو آسان لفظوں میں، اپنی مظلومیت کو بیان کرنا، یہ ہے يتظلم، تظلم ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی معنیٰ؟ کیا معنیٰ ہے؟ اپنی مظلومیت کو بیان کرنا، اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو بیان کرنا، یہ ہے تظلم بھئی۔ كالإغراء نحو قولك لمن اقبل يتظلم، جیسے کہ ابھارنا، جیسے کہ آپ کا کہنا اس شخص سے جو متوجہ ہے آپ کی طرف، يتظلم، اس حال میں کہ وہ اپنی مظلومیت کو بیان کر رہا ہے، اس شخص سے آپ کہتے ہیں: يا مظلوم! اسے آپ کیا کہتے ہیں؟ يا مظلوم! تو يا حرفِ ندا لے کر آئے بھئی، اور حرفِ ندا کا اصل مقصد تو کیا ہے؟ دوسرے کو اپنی طرف متوجہ کرنا، لیکن یہاں پر انہوں نے آپ کو پہلے بتا دیا کہ وہ تو پہلے ہی متوجہ ہے اور آپ کو اپنے غموں کی اور دکھوں کی باتیں سنا رہا ہے۔ تو جب پوری طرح متوجہ ہے، پھر یہ آپ نے يا مظلوم! جو اس کو کہا، کیا مقصد تھا اس کا؟ دراصل یہاں مقصد اس کو ابھارنا ہے، آپ اس کے جذبات کو اور بھڑکا رہے ہیں اور اس کو اور اس بات پر آمادہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو اور بیان کرے بھئی، اور زیادہ بیان کرے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو، وہ اب آپ کو اپنی بات سنا رہا ہے اور اس میں آپ بیچ میں کہتے ہیں: ہاں، يا مظلوم! اے مظلوم! تو دراصل یا مظلوم کہہ کر آپ کیا کر رہے ہیں؟ اسے اور آمادہ، یوں کہیں، آپ اسے اور اس بات پر آمادہ اور تیار کر رہے ہیں کہ وہ اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم اور تکالیف کو بیان کرے، تاکہ جتنے بیٹھے ہوئے لوگ ہیں، وہ سارے بھی ذرا سن لیں کہ اس کے ساتھ اس بیچارے پر کتنی تکالیف آئی ہیں، کتنے غم اور دکھ آئے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ والزجر، اور جیسے کہ ڈانٹ ہے بھئی، ڈانٹ ڈپٹ، زجر کا معنیٰ ہے: ڈانٹنا بھئی، ڈانٹ ڈپٹ۔ والزجر، اور زجر ہے، نحو، مثال کے طور پر: أ فؤادي متى المتاب ألما تصح والشیب فوق رأسي ألما. أ فؤادي، فؤاد کہتے ہیں دل کو، یا متکلم کی ہے، ہمزہ شروع میں ندا کے لیے ہے، أ فؤادي، اے میرے دل! اے میرے دل! متى المتاب، متاب ہے ظرف کا صیغہ، تاب یتوب سے، تاب یتوب توبةً، تو متاب: توبہ کرنے کی جگہ یا توبہ کرنے کا وقت۔ ظرف ہے نا، ظرف کس لیے آتا ہے؟ جگہ یا وقت کا معنیٰ آتا ہے، تو متاب یہاں وقت کے معنیٰ میں ہے۔ أ فؤادي متى المتاب، کچھ شاعر ہے، وہ اپنے دل کو خطاب کر رہا ہے، ہمزہ کے ساتھ بھئی دیکھیے، ہمزہ لایا: أ فؤادي أيا فؤادي، اے میرے دل! اب حالانکہ اپنے نفس کو تو اپنے دل کو تو خطاب نہیں کیا جاتا، حرفِ ندا تو کس لیے وضع ہے؟ دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے، اور انسان خود جب ایک بات کر رہا ہے، خود اس کا ذہن متوجہ ہے یا نہیں؟ تو ہاں، تو اپنے آپ کو تو خطاب نہیں کیا جاتا، خطاب کا مقصد تو دوسرے کو متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ تو لیکن یہاں پر وہ خطاب کر رہا ہے، معلوم ہوا یہاں متوجہ کرنا مقصد نہیں ہے، بلکہ یہاں مقصد ڈانٹ ڈپٹ ہے، شاعر اپنے نفس کو ڈانٹ رہا ہے، اپنے دل کو ڈانٹ رہا ہے اور ملامت کر رہا ہے کہ بڑھاپا تیرے سر پر اتر آیا اور تیرے بال سفید ہو گئے، کیا ابھی بھی توبہ کا وقت نہیں آیا کہ تو سب گناہوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پوری توجہ کے ساتھ اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جائے؟ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو دیکھیے، کہتا ہے: أ فؤادي، اے میرے دل! متى المتاب، کب توبہ کا وقت آئے گا؟ متى، توبہ کا وقت، متى المتاب، کب توبہ کا وقت آئے گا؟ ألما تصح، کیا ابھی تک تجھے ہوش نہیں آیا؟ والشیب فوق رأسي ألما، اور بڑھاپا جو ہے، فوق رأسي، میرے سر کے اوپر، ألما، اتر آیا ہے۔ اتر آیا ہے، معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دیکھیے بھئی، ذرا لفظوں پہ غور کیجیے۔ ألما، یہ جو پہلا ألما آیا پہلے مصرعے میں، اس میں یہ ہمزہ استفہام کے لیے ہے۔ ہمزہ کس لیے ہے؟ استفہام کے لیے، اور لما، آپ نے پڑھا ہے کہ لما لم کی طرح ہے اور یہ مضارع کو جزم دیتا ہے۔ مثل آپ کہتے ہیں، بھئی: ”لَمْ يَضْرِبْ زَيْدٌ“۔ اسی طرح عربی میں کہتے ہیں: ”لَمَّا يَضْرِبْ زَيْدٌ“۔ تو ”لَمْ يَضْرِبْ زَيْدٌ“ کا کیا معنیٰ تھا؟ ماضی کا معنیٰ... ماضی کے ترجمہ ہوگا: ”لَمْ يَضْرِبْ زَيْدٌ“، زید نے پٹائی نہیں کی، کس زمانے میں؟ ماضی کے زمانے میں۔ تو یہ ”لَمْ“ جو ہے، یہ لفظوں میں کیا عمل کرتا ہے؟ آخر میں جزم دیتا ہے، مضارع کے آخر میں، اور اگر نونِ اعرابی ہو تو اس کو گرا دیتا ہے۔ اور معنیٰ کے اندر عمل کیا کرتا ہے؟ مضارع کو کس معنیٰ میں کر دیتا ہے؟ ماضی کے معنیٰ میں۔ تو ”لَمْ يَضْرِبْ زَيْدٌ“ کا کیا معنیٰ ہوا؟ زید نے پٹائی نہیں کی، یعنی زمانۂ ماضی۔ ”لَمَّا“ بھی بالکل اسی طرح عمل کرتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ ”لَمَّا“ کے اندر جس چیز کی نفی کی جا رہی ہے، آگے اس کی توقع اور امید ہوتی ہے۔ ”لَمْ“ میں ایسا نہیں، لیکن ”لَمَّا“ میں... بھئی، جس چیز کی نفی کی جا رہی ہے، آگے اس کے ہونے کی توقع ہوتی ہے۔ تو ”لَمْ يَضْرِبْ زَيْدٌ“ کا کیا معنیٰ ہوا؟ زید نے پٹائی نہیں کی، اور ”لَمَّا يَضْرِبْ زَيْدٌ“، اس کا معنیٰ ہوگا: زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی۔ کیا سمجھ میں آیا آپ کو؟ زید نے... ذرا غور کریں میرے جملے پر... زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی۔ معلوم ہوا، آپ کو توقع ہے، امید ہے، امکان ہے، وہ آگے کیا کرے گا؟ پٹائی کرے گا۔ یہ احساس ہوا یا نہیں اس جملے سے؟ جی، تو یہ... لہٰذا ”لَمْ يَضْرِبْ“ کا ترجمہ کیا کریں گے؟ ماضی کے ساتھ کہ زید نے پٹائی نہیں کی۔ اور ”لَمَّا يَضْرِبْ زَيْدٌ“ کا کیا معنیٰ ہے؟ زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی، معلوم ہوا توقع ہے، امید ہے کہ آگے وہ کیا کرے گا؟ پٹائی کرے گا، بھئی، پٹائی کرے گا۔ تو یہاں بھی یہ وہی ”لَمَّا“ ہے۔ اور حمزہ کون سا ہے ”أَلَمَّا“ کے اندر؟ استفہام، سوال پوچھنے کے لیے۔ تو شاعر کہتا ہے: ”أَلَمَّا تَصْحُ“۔ ”صَحَا يَصْحُو“ کے معنیٰ ہوتے ہیں: ہوش میں آنا، ہوش میں آنا۔ واؤ آخر سے گر گیا۔ ”أَلَمَّا تَصْحُ“، کیا ابھی تک تو ہوش میں نہیں آیا؟ ترجمہ... نظر ہے بھئی ترجمے؟ ”أَلَمَّا تَصْحُ“، کیا ابھی تک تجھے ہوش نہیں آیا؟ معلوم ہوا، آگے امید ہے، توقع ہے۔ شاعر کیا... کہ شاید دل ہوش میں آ جائے۔ ”أَلَمَّا تَصْحُ“، کیا ابھی تک تو ہوش میں نہیں آیا؟ ”وَالشَّيْبُ“، یہ جملہ آگے حالیہ ہے، اور حال یہ ہے... ”شَیْب“ کہتے ہیں سفید بالوں کو اور بڑھاپے کو... اور بڑھاپا جو ہے ”فَوْقَ رَأْسِي“، میرے سر کے اوپر، ”أَلَمَّا“، یہاں پر ”أَلَمَّا“ پورا یہ فعل ہے، یہ حمزہ الگ نہیں ہے، یہ فعل ہے: ”أَلَمَّا يُلِمُّ“۔ ”أَلَمَّا“ کا معنیٰ ہے: نازل ہونا، اترنا۔ اور اس کے آخر میں جو الف آیا، یہ تثنیہ کا نہیں ہے، ”أَلَمَّ أَلَمَّا أَلَمُّوا“، آپ کہیں یہ شاید تثنیہ والا الف ہے۔ نہیں، نہیں، یہ الفِ اشباع کے لیے ہے۔ یہ بات پہلے بیان ہو چکی، اشباع کا کیا معنیٰ ہے؟ حرکت کو کھینچنا، لمبا کرنا۔ تو اسی فتحہ کو کھینچ دیا تو کیا بن گیا؟ الف بن گیا۔ ”أَلَمَّا“، تو یہ الفِ اشباع کے لیے ہے، حرکت کو لمبا کرنے کے لیے ہے، کیونکہ میں نے آپ کو بتایا تھا: اشعار کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں۔ ایک حرف کی بھی کمی بیشی ہو جائے تو پورے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے۔ تو یہاں الف کو کس لیے بڑھایا گیا؟ اشباع کے لیے، تاکہ ایک ساکن اور آگے زیادہ ہو جائے، تاکہ آواز لمبی ہو جائے، شعر کا وزن ٹھیک ہو جائے، بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ پہلا ”أَلَمَّا“ کیا ہے؟ حمزۂ استفہام کے لیے، اور ”لَمَّا“ جو فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے۔ اور دُوسرا ”أَلَمَّا“، یہ فعل ہے، اس کا کیا معنیٰ ہے؟ اترنا اور نازل ہونا۔ اب ترجمہ دیکھیے: أَفُؤَادِي مَتَى المَتَابُ أَلَمَّا تَصْحُ وَالشَّيْبُ فَوْقَ رَأْسِي أَلَمَّا اے میرے دل! کب توبہ کا وقت آئے گا؟ ”أَلَمَّا تَصْحُ“، کیا ابھی تک تجھے ہوش نہیں آیا؟ ”وَالشَّيْبُ فَوْقَ رَأْسِي أَلَمَّا“، اور حال یہ ہے کہ بڑھاپا میرے سر پر اتر آیا ہے، یعنی میرے بال سفید ہو گئے ہیں۔ تو اس شعر کے اندر دیکھیے صنعتِ جناس ہے، جناس۔ پہلے مصرعے کے آخر میں بھی آیا: ”أَلَمَّا“، دوسرے مصرعے کے آخر میں بھی آیا: ”أَلَمَّا“۔ پڑھنے میں، تلفظ میں دونوں بالکل ایک جیسے، لیکن دونوں ہیں الگ الگ چیز۔ دوسرا ”أَلَمَّا“، وہ سارا فعل ہے۔ پہلا ”أَلَمَّا“، اس میں حمزہ الگ ہے، الگ حرف ہے، ”لَمَّا“ الگ۔ اس کو کہتے ہیں صنعتِ جناس، کہ ایسے لفظ لانا کلام کے اندر جو... جن کا تلفظ ایک جیسا ہو، لیکن معنیٰ الگ الگ ہو، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے ایک شاعر کہتا ہے: إِنَّ فِي بُسْتَانِنَا نَارَنْجَنَا مَنْ جَنَى نَارَنْجَنَا نَاراً جَنَى بیشک ہمارے باغ میں... ”إِنَّ فِي بُسْتَانِنَا نَارَنْجَنَا“، بیشک ہمارے باغ میں ہماری نارنگیاں ہیں، بھئی۔ نارنگی، یہ کوئی مالٹے کی طرح کی کوئی پھل ہے چھوٹا، نارنگیاں ہیں۔ ”مَنْ جَنَى نَارَنْجَنَا“، جس نے ہماری نارنگیوں کو توڑا، ”نَاراً جَنَى“، اس نے آگ کو توڑا، یعنی اس سے پھر ہم نمٹ لیں گے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو پہلا ہے: ”نَارَنْجَنَا“، ہماری نارنگیاں، نون متکلم کا ہے۔ اور دوسرا ہے: ”نَاراً جَنَى“، آگ... ”نَاراً“: آگ، ”جَنَى“: یہ فعل ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ ”إِنَّ فِي بُسْتَانِنَا نَارَنْجَنَا مَنْ جَنَى نَارَنْجَنَا نَاراً جَنَى“۔ تو یہ صنعتِ جناس ہے، اور اس سے بھی کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے، بھئی۔ اور لیکن اصل اصل حسن جب ہو اس میں، یعنی کلام کے سارے لفظ بھی سارے فصیح ہوں، اور موقع محل کے مطابق ہو، یعنی مقتضائے حال کے مطابق ہو، اس کے بعد پھر اس میں اور حسن ان صنعتوں کے ذریعے پیدا کیا جاتا ہے، بھئی، صنعتوں کے ذریعے— تو یہاں پر شاعر نے جو خطاب کیا: ”أَفُؤَادِي“، اے میرے دل! کیا مقصد ہے یہاں پر؟ کیا اس کو متوجہ کرنا مقصد ہے؟ نہیں، انسان اپنے آپ کو خطاب نہیں کرتا، بلکہ مقصد یہاں کیا ہے؟ وہ اپنے دل کو، اپنے نفس کو ڈانٹ رہا ہے، اس کو ملامت کر رہا ہے کہ کیوں تو گناہوں سے باز نہیں آتا، نیکی کی طرف پوری طرح متوجہ کیوں نہیں ہوتا۔ وَالتَّحَيُّرِ وَالتَّضَجُّرِ، نَحْوُ: أَيَا مَنَازِلَ سَلْمَى أَيْنَ سَلْمَاكِ. اور تحیر کا معنیٰ: حیران ہونا، تضجر کا معنیٰ: بے قرار ہونا۔ تو... ”وَالتَّحَيُّرِ وَالتَّضَجُّرِ“، اور حیران ہونے اور بے قرار ہونے کے لیے، یعنی ان کے اظہار کے لیے۔ أَيْ: وَإِظْهَارِ التَّحَيُّرِ وَالتَّضَجُّرِ۔ اور کبھی حرفِ ندا آئے گا، لیکن کیا مقصد ہوگا؟ متوجہ کرنا مقصد نہیں، بلکہ کہنے والا جو ہے وہ اپنی بے قراری اور حیرت کا اظہار کر رہا ہوگا، نحوُ... مثال کے طور پر ایک شاعر کہتا ہے: ”أَيَا مَنَازِلَ سَلْمَى أَيْنَ سَلْمَاكِ“، اے سلمیٰ کے گھروں! کہاں ہے تمہاری سلمیٰ؟ تو یہ شاعر کی محبوبہ اور معشوقہ تھی، اور اب وہ کہیں چلی گئی، اب شاعر بے قرار ہے، اور غم اور تکلیف کے اندر ہے، تو اس غم کے اندر ڈوبا ہوا وہ اس کے گھروں کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے: ”أَيَا مَنَازِلَ سَلْمَى“، اے سلمیٰ کے گھروں! ”أَيْنَ سَلْمَاكِ“، تمہاری سلمیٰ کہاں ہے؟ کدھر ہے؟ تو دیکھیے، یہاں آیا: ”أَيَا مَنَازِلَ سَلْمَى“، اے سلمیٰ کے گھروں! حالانکہ گھر تو کوئی ایسی چیز نہیں جو متوجہ ہو سکے۔ معلوم ہوا، یہاں ندا کا مقصد متوجہ کرنا نہیں، بلکہ دراصل کیا ہے؟ شاعر اپنی اس بے قراری کا اظہار کر رہا ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا معنیٰ، بھئی؟ وَيَكْثُرُ هٰذَا فِي نِدَاءِ الْأَطْلَالِ وَالْمَطَايَا وَنَحْوِهَا. اور بکثرت ہوتا ہے اس طرح ”فِي نِدَاءِ الْأَطْلَالِ“... اطلال جمع ہے طَلَل کی، طَلَل، اور یہ اطلال کہتے ہیں کھنڈرات کو، کھنڈرات۔ مطایا جمع ہے مَطِيَّۃ کی، سواری کو کہتے ہیں، بھئی۔ اور ایسا بکثرت کیا جاتا ہے کھنڈرات اور سواریوں اور اس جیسی چیزوں کی ندا میں۔ کیا بتلا رہے ہیں صاحبِ کتاب آپ کو کہ ایسا بکثرت کیا جاتا ہے کس کے اندر؟ کھنڈرات، سواریوں، اور ان جیسی چیزوں کی ندا کے اندر، کہ اپنی... اپنی حیرت اور اپنی بے قراری کا اظہار کیا جاتا ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ ان کو خطاب کیا جاتا ہے اور اس طرح کے مقاصد ہوتے ہیں۔ حالانکہ کھنڈرات... کھنڈرات کو خطاب کیا جائے، ندا دی جائے، وہ تو کوئی متوجہ ہونے والی چیز نہیں۔ سواری پر کوئی شخص اکیلا جنگل میں سواری پر جا رہا ہے، شاعر، اور مثلاً وہاں وہ سواری کو خطاب کرتے ہوئے کوئی بات ذکر کرتا ہے، تو دراصل وہ سواری کو متوجہ نہیں کر رہا، کیونکہ سواری تو متوجہ نہیں ہو سکتی، بلکہ مقصد وہاں کیا ہوتا ہے؟ مثلاً اپنی بے قراری کا اظہار، یا اپنی حیرت کا اظہار، یا اس جیسا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ وَالتَّحَسُّرِ وَالتَّوَجُّعِ. تحسر کا معنیٰ: افسوس ہونا، حسرت ہونا۔ توجع کا معنیٰ: دکھ ہونا، تکلیف ہونا۔ ”وَالتَّحَسُّرِ وَالتَّوَجُّعِ“، أَيْ: إِظْهَارِ التَّحَسُّرِ وَالتَّوَجُّعِ۔ اپنے غم اور افسوس کے اظہار اور دکھ کے اظہار کے لیے، بھئی۔ کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کو ندا کی جاتی ہے، لیکن وہاں مقصد اس کو متوجہ کرنا نہیں ہوتا، بلکہ کیا مقصد ہوتا ہے؟ اپنے افسوس کو ظاہر کرنا، اور اپنی تکلیف کو ظاہر کرنا، كَقَوْلِهِ... جیسے کسی شاعر کا قول ہے، بھئی: أَيَا قَبْرَ مَعْنٍ كَيْفَ وَارَيْتَ جُودَهُ وَقَدْ كَانَ مِنْهُ الْبَرُّ وَالْبَحْرُ مُتْرَعَا یاد رکھیے معن ابن زائدہ... معن ابن زائدہ، جیسے، بھئی، آپ کے ہاں تو صرف حاتم طائی مشہور ہے اس کا نام یہاں تک پہنچا، تو سخاوت کے اندر، بھئی۔ لیکن عرب کے اندر صرف حاتم طائی سخاوت میں نہیں مشہور، اور بھی افراد سخاوت کے اندر انتہا درجے تک ان کی شہرت ہے، اور بطورِ ضرب المثل کے ان کے نام کو استعمال کیا جاتا ہے، مثلاً کوئی بڑا ہی سخی ہو تو عرب میں جیسے کہتے ہیں: فلاں تو حاتم طائی ہے، حاتم طائی۔ اسی طرح اور بھی بعض ہیں جیسے یہ معن ابن زائدہ ہے۔ کس کا بہت بڑا سخی ہو تو اس کی سخاوت کو بیان کرنا ہو تو کہتے ہیں: فلاں تو معن ابن زائدہ ہے، بھئی، فلاں تو معن ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ یہ بھی بہت بڑا سخی شخص گزرا ہے، بھئی۔ تو اب اس کا انتقال ہو گیا، اور انتقال کے بعد اس کو دفنا دیا گیا، تو ایک شاعر جو ہے اس کی قبر کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے: ”أَيَا قَبْرَ مَعْنٍ“، اے معن کی قبر! ”كَيْفَ وَارَيْتَ جُودَهُ“، وارَى يُوَارِي کے معنیٰ: ڈھانپ لینا، چھپا لینا۔ جود کہتے ہیں سخاوت کو۔ اے معن کی قبر! تو نے معن کی سخاوت کو کیسے چھپا لیا؟ اپنے اندر اس کو کیسے چھپا لیا؟ ”وَقَدْ كَانَ مِنْهُ الْبَرُّ وَالْبَحْرُ مُتْرَعَا“، اور تحقیق اس کی سخاوت جو ہے... مِنْهُ أَيْ مِنْ جُودِهِ... اس کی سخاوت سے تو خشک اور سمندر جو ہیں، ”مُتْرَعَا“: بھرے ہوئے تھے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا، بھئی؟ شاعر جو ہے یہاں پر اپنے دیکھیے قبر کو خطاب کر رہا ہے، لیکن قبر تو کوئی ایسی چیز نہیں جو متوجہ ہو سکے، معلوم ہوا یہاں متوجہ کرنا مقصد نہیں، پھر کیا مقصد ہے؟ دراصل شاعر اپنے غم، دکھ، اور افسوس کا اظہار کر رہا ہے کہ اتنی عظیم شخصیت ہم سے جدا ہو کر چلی گئی، تو اس پر غم کا اظہار کر رہا ہے، اور خطاب کرتے ہوئے کیا کہتا ہے؟ اے قبر، اے معن کی قبر! تو نے کیسے اتنی عظیم سخاوت کو اپنے اندر چھپا لیا؟ یہ اس کی سخاوت تو ایسی تھی کہ خشکی کو بھی اس نے بھر دیا تھا، سمندر کو بھی اس نے بھر دیا تھا، تو اتنی عظیم چیز کو تو نے، اے دو گز کی قبر، تو نے کس طرح اتنی عظیم چیز کو اپنے اندر چھپا لیا اور ڈھانپ لیا، بھئی؟ معنیٰ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو مترعاً کا کیا معنیٰ؟ بھرا ہونا، بھئی۔ وَالتَّذَكُّرِ. اور کبھی کبھار کس لیے لایا جاتا ہے حرفِ ندا؟ تذکر: یاد کرنے کے لیے۔ کوئی گزری ہوئی بات یاد آتی ہے، اس کو یاد کرنے کے لیے انسان کیا کرتا ہے؟ حرفِ ندا کو استعمال کرتا ہے۔ نحوُ... مثال کے طور پر: أَيَا مَنْزِلَيْ سَلْمَى سَلَامٌ عَلَيْكُمَا هَلِ الْأَزْمُنُ اللَّاتِي مَضَيْنَ رَوَاجِعُ ”أَيَا مَنْزِلَيْ سَلْمَى“، مَنْزِلَيْنِ تثنیہ ہے، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ ”أَيَا مَنْزِلَيْ سَلْمَى“، اے سلمیٰ کے دو گھروں! ”سَلَامٌ عَلَيْكُمَا“، تم پر سلامتی ہو۔ ”هَلِ الْأَزْمُنُ اللَّاتِي مَضَيْنَ“، کیا... اَزْمُن جمع ہے زمان کی... کیا وہ زمانے ”اللَّاتِي مَضَيْنَ“، جو کہ گزر گئے ہیں، ”رَوَاجِعُ“، کیا وہ لوٹنے والے ہیں؟ کیا وہ لوٹ آئیں گے؟ تو شاعر کیا کہتا ہے؟ اے سلمیٰ کے دو گھروں! تم پر سلامتی ہو، کیا وہ زمانے جو گزر گئے ہیں واپس آ سکتے ہیں؟ کیا وہ گزرا ہوا زمانہ واپس آ سکتا ہے، کوئی ایسی صورت ہے؟ تو یہاں پر وہ سلمیٰ کے گھروں کو خطاب کر رہا ہے، لیکن یہاں متوجہ کرنا مقصد نہیں کیونکہ گھر تو متوجہ ہونے والی چیز نہیں ہے، پھر یہاں مقصد کیا ہے؟ بس وہ دراصل اپنے اس گزرے ہوئے وقت کو یاد کر رہا ہے، شاعر کیا کر رہا ہے؟ گزرے ہوئے وقت کو یاد کر رہا ہے، بھئی۔ وَغَيْرُ الطَّلَبِيِّ يَكُونُ بِالتَّعَجُّبِ وَالْقَسَمِ وَصِيَغِ الْعُقُودِ كَبِعْتُ وَاشْتَرَيْتُ، وَيَكُونُ بِغَيْرِ ذٰلِكَ. بھئی، یہ تو انشاءِ طلبی کی بحث مکمل ہوئی، حرفِ ندا کی... ندا کی بھی بحث مکمل ہو گئی۔ اب آپ کو شروع میں بتایا تھا کہ انشاء کتنی قسم پر ہے؟ ایک طلبی، ایک غیر طلبی۔ طلبی تو پانچ چیزوں کے ساتھ تھا: امر، نہی، استفہام، تمنا، اور ندا۔ اور جو غیر طلبی ہے وہ... کہتے ہیں وہ غیر طلبی ہے: ”يَكُونُ بِالتَّعَجُّبِ“، کس کے ساتھ ہوگا؟ تعجب کے ساتھ ہوگا۔ تعجب کے لیے مثلاً کون سے صیغے وضع ہیں؟ مَا أَفْعَلَهُ اور أَفْعِلْ بِهِ۔ اسی طرح قسم ہے، بھئی: وَاللّٰهِ، بِاللّٰهِ، وغیرہ۔ صِيَغِ الْعُقُودِ، عقد کے جو صیغے ہیں، بھئی، جن کے ساتھ عقد کیا جاتا ہے، آپ نے پڑھا ہے: عقد ایجاب و قبول وغیرہ، جیسے بِعْتُ اور اشْتَرَيْتُ وغیرہ ہے، اسی طرح نَكَحْتُ... نکاح بھی ایک عقد ہے، اسی طرح فسخ کسی چیز کو کرنا، اقالہ کرنا، مثلاً بیع کے اندر رجوع کر لینا، أَقَلْتُ وغیرہ، جو بھی عقود کے لیے صیغے استعمال ہوتے ہیں عقد کرنے کے لیے، وہ سارے بھی۔ ”وَيَكُونُ بِغَيْرِ ذٰلِكَ“، اور ان کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ بھی ہوگا۔ یہ تو کچھ ہم نے مثالیں ذکر کر دیں، یہ انشاءِ غیر طلبی کی قسمیں ہیں، دیکھو ان کے اندر طلب نہیں ہے۔ باقی جو پیچھے گزرے ان میں کیا تھی؟ طلب۔ تو انشاءِ غیر طلبی تعجب کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، قسم بھی ہو سکتی ہے، عقد کے صیغے بھی ہو سکتے ہیں، اور ان کے علاوہ اور چیزیں بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً اور کیا ہے؟ افعالِ مدح و ذم ہیں، مدح... کسی کی مدح کی جاتی ہے: نِعْمَ الرَّجُلُ زَيْدٌ، زید کتنا اچھا آدمی ہے! دیکھو، یہاں طلب نہیں ہے، بلکہ کیا کیا جا رہا ہے؟ کسی کی تعریف کی جا رہی ہے، وغیرہ۔ تو یہ چیزیں ہیں، ان کے... یہ ان کے ساتھ ہوگا وہ انشاء، بھئی۔ وَأَنْوَاعُ الْإِنْشَاءِ غَيْرِ الطَّلَبِيِّ لَيْسَتْ مِنْ مَبَاحِثِ عِلْمِ الْمَعَانِي، فَلِذٰلِكَ ضَرَبْنَا صَفْحاً عَنْهَا. اور انشاءِ غیر طلبی کی جو قسمیں ہیں، یہ علمِ معانی کی بحثوں میں سے نہیں ہیں، ”فَلِذٰلِكَ ضَرَبْنَا“... ضَرَبَ کا معنیٰ ہے: پھیرنا، پھیرنا... ”فَلِذٰلِكَ ضَرَبْنَا“، اسی لیے ہم نے پھیر لیا ”صَفْحاً“: پہلو کو ”عَنْهَا“: ان سے۔ یعنی ہم نے بھی، یہ چونکہ علمِ معانی کی بحثوں میں سے نہیں ہیں یہ بحثیں، اس لیے ہم نے بھی ان سے پہلو تہی کی، یعنی ان سے اپنے پہلو کو پھیر لیا، ان سے اعراض کیا، ہم نے ان کو ذکر نہیں کیا، ان کو ہم نے نہیں چھیڑا یہاں پر۔ بات سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو انہوں نے بتلایا: غیر طلبی جو ہے تعجب، قسم، عقود کے صیغے وغیرہ، ان چیزوں کے ساتھ انشاءِ غیر طلبی ہوگا، اور یہ چونکہ علمِ معانی کی ابحاث نہیں ہیں لہٰذا ہم نے بھی ان سے پہلو تہی کی اور ان کو یہاں پر ذکر نہیں کیا۔ تو ان کو عموماً بلاغت کی کتابوں میں زیادہ ذکر نہیں کیا جاتا، وجہ یہ، بھئی، کیونکہ ان سے بہت کم بلاغت کی بحثیں متعلق ہیں، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز اس لیے کہ بھئی، کہ اس میں سے اکثر جو ہیں، وہ خبر سے انشاء کی طرف منتقل کیے گئے ہیں۔ دیکھو، بِعْتُ... بِعْتُ، اصل میں تو یہ ماضی کا صیغہ ہے، یہ عقد کے لیے تو وضع نہیں ہے، یہ تو خبر دینے کے لیے، آپ کسی کو بتلاتے ہیں: بِعْتُ الْكِتَابَ، میں نے وہ کتاب بیچ دی۔ تو دیکھو، اصل میں یہ کس لیے وضع ہے؟ خبر، کسی کو خبر دینے کے لیے، لیکن پھر اس خبریت سے ان کو منتقل کر دیا گیا کس کی طرف؟ انشاء کی طرف اس کو منتقل کیا گیا۔ لہٰذا اس لیے بھی ان کی بحث یہاں پر نہیں کی، ان میں سے اکثر ایسے ہیں کہ ان کو خبریت سے منتقل کیا گیا کس کی طرف؟ کس کی طرف؟ انشاء کی طرف۔ تو بس، خبر کی بحث پیچھے گزری یا نہیں؟ جی، وہیں سے ان کی اس کے نکات کا بھی کو بھی جانا جا سکتا ہے۔ خبر کی ان کو بھی خبر کس کس کی طرح منتقل کیا گیا ہے؟ انشاء۔ تو اصل میں تو یہ خبر تھے، تو خبر کے اندر جو نکات تھے انہی کی وجہ سے انہی کو دیکھا جا سکتا ہے، وہی نکات یہاں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے ان میں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بھئی، ایک بات بتلائیے۔ "كَبِعْتُ وَاشْتَرَيْتُ"، "بِعْتُ" فعل ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ حروفِ جارہ صرف اسم پر داخل ہوتے ہیں۔ حروفِ جارہ خاصہ ہیں اسم کا، پڑھا ہے یا نہیں بھئی نحو میں؟ تو یہاں پر تو کاف جارہ ہے اور "بِعْتُ" فعل پر داخل ہو رہا ہے۔ کیا جواب دیں گے؟ ہاں، شاباش۔ یہ "بِعْتُ" کا لفظ یہاں مراد ہے۔ أَيْ كَهٰذَا اللَّفْظِ۔ "بِعْتُ" کو ذرا ہٹاؤ، یہ لگاؤ۔ كَهٰذَا اللَّفْظِ، جیسے کہ یہ لفظ ہے۔ کون سا لفظ؟ "بِعْتُ"۔ صورت سمجھ، تو یہاں لفظ مراد ہے۔ لفظ مراد ہے، اسی لیے یہاں پر اس کا ترجمہ بھی نہیں کرنا۔ ترجمہ کیسے کریں گے؟ دیکھیے عبارت کا: "اور انشاءِ غیر طلبی تعجب کے ساتھ ہوگا، قسم کے ساتھ ہوگا، اور عقود کے جو صیغے ہیں ان کے ساتھ ہوگا، جیسے بِعْتُ اور اشْتَرَيْتُ"۔ دیکھو "بِعْتُ" کا میں نے ترجمہ نہیں کیا، "اشْتَرَيْتُ" کا ترجمہ نہیں۔ اور چونکہ یہاں پر لفظ مراد ہے، لہذا "اشْتَرَيْتُ" کا حمزہ بھی نہیں گرے گا۔ اب وہ وصلی نہ رہا، وہ قطعی بن گیا۔ کیونکہ کیا مراد ہے؟ لفظِ "اشْتَرَيْتُ" مراد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، "اشْتَرَيْتُ" کا حمزہ ویسے وصلی ہے، وہ درجِ عبارت میں گر جاتا ہے، لیکن اس وقت کیا مراد ہے؟ لفظ۔ یعنی یوں کہو، وہ جو عبارتوں میں "اشْتَرَيْتُ" لفظ آتا ہے، اس کا نام ہی ہم نے "اشْتَرَيْتُ" رکھ دیا۔ یہ علم بن گیا، اور علم میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ لہذا یہاں پر "بِعْتُ" اور "اشْتَرَيْتُ" علم کے درجے میں ہیں، ان کا ترجمہ بھی نہیں ہوگا، اور ان کا حمزہ بھی نہیں گرے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی۔ هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔