Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-033

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔33 وَأَمَّا التَّمَنِّي، فَهُوَ طَلَبُ شَيْءٍ مَحْبُوبٍ لَا يُرْجَى حُصُولُهُ، لِكَوْنِهِ مُسْتَحِيلًا أَوْ بَعِيدَ الْوُقُوعِ. كَقَوْلِهِ: «أَلَا لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا... فَأُخْبِرَهُ بِمَا فَعَلَ الْمَشِيبُ». وَقَوْلِ الْمُعْسِرِ: «لَيْتَ لِي أَلْفَ دِينَارٍ». آپ نے پڑھا کہ انشاء جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ ایک طلبی ہے اور ایک غیر طلبی۔ اور پھر انشاء طلبی جو ہے وہ پانچ چیزوں کے ساتھ ہوگا، اور وہ پانچ چیزیں امر ہے، نہی ہے، استفہام ہے، تمنا ہے اور ندا۔ امر، نہی اور استفہام کی بحث مکمل ہوئی، آج ہم تمنا کے بارے میں پڑھیں گے۔ تمنا، جسے اردو میں آپ تمنا اور آرزو کہتے ہیں بھئی، تمنا اور آرزو۔ تو کہتے ہیں: «وَأَمَّا التَّمَنِّي، فَهُوَ طَلَبُ شَيْءٍ مَحْبُوبٍ...» اور باقی تمنا جو ہے تو وہ طلب کرنا ہے ایسی محبوب چیز کو «لَا يُرْجَى حُصُولُهُ». بھئی شَيْءٍ نکرہ آیا، مَحْبُوبٍ صفت اول۔ لَا يُرْجَى یہ فعل آگیا اور فعل بھی اپنے فاعل یا نائب فاعل کے ساتھ مل کر جملہ بنتا ہے اور جملہ بھی کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں۔ تو یہ صفت ثانی ہوئی شَيْءٍ کے لیے بھئی۔ صفت اول محبوب اور صفت ثانی لَا يُرْجَى حُصُولُهُ۔ اور اردو میں موصوف صفت، عربی میں تو موصوف پہلے آتا ہے صفت بعد میں آتی ہے، لیکن اردو میں اس کا عکس ہے بھئی، صفت پہلے آتی ہے موصوف بعد میں آتا ہے۔ مثلاً آپ عربی میں کہتے ہیں رجل شجاع، رجل موصوف شجاع اس کی صفت۔ اور اردو میں اس کا ترجمہ کیا کرتے ہیں؟ بہادر آدمی، تو دیکھو بہادر کو مقدم کر دیا اور آدمی جو مقدم تھا عربی میں اس کو مؤخر کر دیا۔ تو اردو میں صفت مقدم ہوتی ہے اور موصوف مؤخر ہوتا ہے۔ اور یہ ایک طریقہ، دوسرا طریقہ جو میں ذکر کرتا رہتا ہوں کہ صفت کو مؤخر ہی رکھیں اور موصوف سے پہلے نکرہ کے اندر، کس میں؟ نکرہ میں، موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں بھئی، ایسا یا ایسی کا لفظ۔ تو رجل شجاع، پہلا ترجمہ کیا کیا آپ نے؟ بہادر آدمی۔ اگر آپ موصوف کو مقدم ہی رکھنا چاہتے ہیں صفت کو مؤخر اردو میں بھی، تو موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں گے۔ تو رجل شجاع کا اب کیا ترجمہ ہوگا؟ ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے۔ یہ ہوا اس کا ترجمہ۔ تو دو طریقے ہیں موصوف صفت کے ترجمے کے بھئی۔ تو یہاں پر اب دو صفات آئیں تو دونوں طریقے اختیار کر لیں گے بھئی۔ ایک صفت کو مقدم کر دیں گے اور ایک کے لیے ایسا یا ایسی کا لفظ لائیں گے اور اس کو مؤخر ہی رکھیں گے بھئی۔ اس کو کیا کریں گے؟ مؤخر ہی رکھیں گے۔ تو کیا ترجمہ کریں گے؟ «فَهُوَ طَلَبُ شَيْءٍ مَحْبُوبٍ لَا يُرْجَى حُصُولُهُ» باقی تمنا جو ہے وہ طلب کرنا ہے ایسی محبوب چیز کو، ایسی محبوب چیز کو، تو دیکھیے محبوب کو چیز پر مقدم کر دیا، یہ ایک طریقہ۔ اور دوسری کے لیے ایسا کا لفظ لے آیا میں، ایسی محبوب چیز «لَا يُرْجَى حُصُولُهُ»، یرحمک اللہ، «لَا يُرْجَى حُصُولُهُ» کہ امید نہ ہو اس کے حاصل ہونے کی. تمنا جو ہے وہ طلب کرنا ہے ایسی محبوب چیز کو، ایسی پسندیدہ چیز کو کہ «لَا يُرْجَى حُصُولُهُ» جس کے حاصل ہونے کی امید نہ ہو، امید اور توقع نہ ہو بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: «وَأَمَّا التَّمَنِّي، فَهُوَ طَلَبُ شَيْءٍ مَحْبُوبٍ لَا يُرْجَى حُصُولُهُ، لِكَوْنِهِ مُسْتَحِيلًا أَوْ بَعِيدَ الْوُقُوعِ» اور باقی تمنا وہ طلب کرنا ہے ایسی محبوب چیز کو کہ امید نہ ہو اس کے حاصل ہونے کی «لِكَوْنِهِ مُسْتَحِيلًا» اس کے محال ہونے کی وجہ سے «أَوْ بَعِيدَ الْوُقُوعِ» یا بعید الوقوع ہونے کی وجہ سے۔ بھئی یاد رکھیے، تمنا کے اندر ضروری ہے کہ جس چیز کی طلب کی جا رہی ہے، وہ عقلاً یا عادتاً محال ہو یعنی اس کا حاصل ہونا ممکن ہی نہ ہو۔ «أَوْ بَعِيدَ الْوُقُوعِ» یا حاصل ہونا ممکن تو ہے لیکن بڑا بعید ہے، بڑا مشکل ہے، بڑی دور کی بات ہے بھئی۔ مثلاً بھئی، کوئی شخص بوڑھا ہے اور وہ کہتا ہے: لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ، کاش کہ جوانی واپس لوٹ آئے! اب دیکھیے، وہ تمنا کس چیز کی کر رہا ہے؟ جوانی کے واپس لوٹ آنے کی، اور یہ عادتاً ممکن نہیں۔ عادتاً ایک دفعہ جو جوانی جب چلی جائے پھر اس کے بعد دوبارہ جوانی نہیں آتی بھئی۔ تو یہ ایک ناممکن چیز کی طلب کر رہا ہے بھئی، ناممکن۔ تو تمنا ناممکن چیز کی ہوگی یا ایسی چیز کی جس کا ہونا ممکن تو ہے لیکن بڑا مشکل ہے، بڑا دور ہے بھئی۔ جیسے مثلاً کوئی غریب اور تنگ دست آدمی کہتا ہے: لَيْتَ لِي أَلْفَ دِينَارٍ، کاش کہ میرے پاس ہزار دینار ہوتے بھئی! لَيْتَ لِي أَلْفَ دِينَارٍ، کاش میرے پاس ہزار دینار ہوتے! اب دیکھیے یہ ممکن تو ہے کہ اس کو ایک ہزار دینار مل جائیں، لیکن ہے بڑا مشکل بھئی، کیونکہ یہ تنگ دست ہے، غریب ہے، اور ہزار دینار یہ تو یوں سمجھیں آج کل کے زمانے میں کئی لاکھ روپے بنتے ہوں گے بھئی، کئی لاکھ روپے۔ بلکہ شاید کروڑوں تک بات چلی جائے بھئی۔ ایک دینار ساڑھے چار ماشے کا ہوتا ہے بھئی، ساڑھے چار ماشے۔ تو ہزار دینار کتنے کے ہوں گے؟ ساڑھے چار ہزار ماشے۔ ساڑھے چار ہزار، اور بارہ ماشے کا ہوتا ہے ایک تولہ۔ ذرا تولے حساب کریں بھئی جلدی، یہ کتنا بنتا ہے؟ بھئی یہ حساب، یہ اوزان وغیرہ آتے ہیں، یہ تو ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونے چاہئیں بھئی۔ ساڑھے چار ہزار کو ذرا بارہ سے تقسیم کریں۔ تولے بنائیں بھئی، ساڑھے چار ہزار کو بارہ سے... جی؟ 375 تولے۔ 375 تولے بن گئے یہ بھئی۔ اور ایک تولہ کتنے کا ہے آج کل؟ 62 ہزار؟ 62 یا 63 ہزار، اس کو ضرب دیں 375 سے۔ دو کروڑ 32 لاکھ... ہاں یہ سوا دو کروڑ سے بھی زیادہ بنتے ہیں ایک ہزار دینار بھئی۔ اب ایک غریب آدمی کہتا ہے، کاش مجھے سوا دو کروڑ یا تین کروڑ روپے مل جائیں۔ تو دیکھو، اب یہ ممکن تو ہے کہ اس کو اتنے پیسے مل جائیں، لیکن چونکہ وہ غریب ہے، تنگ دست ہے، تو ایسا ہونا بڑا مشکل ہے، بڑا بعید ہے۔ تو تمنا جس چیز کی ہوتی ہے یا تو وہ کیا ہوگا؟ اس کا ہونا ہی ممکن نہ ہوگا یا... یا بعید ہوگا اس کا ہونا بھئی۔ یہی بات کر رہے ہیں: «لِكَوْنِهِ مُسْتَحِيلًا» بجہ اس چیز کے محال ہونے کے، وہ چیز محال ہوگی، یا تو عقلاً ہی محال ہوگی یا عادتاً محال ہوگی، یعنی عادتاً یعنی عموماً ایسا نہیں ہوتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا عقلاً ہی محال ہوگی کہ کوئی اس کے ہونے کا امکان ہی نہیں۔ بھئی دیکھیے! عادتاً محال ہے، اب دیکھیے اب جوانی کا واپس لوٹنا عادتاً محال ہے، عموماً ایسا نہیں ہوتا، ایک دفعہ جوانی چلی جائے تو پھر انسان دوبارہ بعد میں جوان ہو ایسا نہیں ہوتا۔ یہ اللہ کی سنت نہیں، اللہ کا طریقہ نہیں۔ اللہ نے کیا طریقہ جاری فرمایا ہے اپنے مخلوق کے اندر، انسانوں کے اندر؟ کہ انسان جوانی کے بعد بوڑھا ہوتا ہے اور بڑھاپے کے بعد پھر موت آتی ہے، یہ نہیں کہ دوبارہ کیا ہو جائے؟ جوان ہو جائے۔ تو عادتاً یہ محال ہے، عادتاً یہ ممکن نہیں ہے۔ ہاں، عقلاً ممکن ہے بھئی، اللہ تعالی کسی شخص کو دوبارہ جوان فرما دیں، تو عقلاً تو ممکن ہے لیکن اللہ کا یہ طریقہ نہیں بھئی۔ تو یہ محال ہوا عادتاً بھئی، عادتاً۔ تو کہتے ہیں: «وَأَمَّا التَّمَنِّي، فَهُوَ طَلَبُ شَيْءٍ مَحْبُوبٍ لَا يُرْجَى حُصُولُهُ، لِكَوْنِهِ مُسْتَحِيلًا أَوْ بَعِيدَ الْوُقُوعِ» وہ طلب کرنا ہے ایسی محبوب چیز کو کہ امید نہ ہو اس کے حاصل ہونے کی، «لِكَوْنِهِ مُسْتَحِيلًا» بجہ اس کے محال ہونے کے «أَوْ بَعِيدَ الْوُقُوعِ» یا اس کے بعید الوقوع ہونے کی وجہ سے کہ اس کا ہونا بڑا بعید ہو۔ «كَقَوْلِهِ» جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے بھئی: «أَلَا لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا... فَأُخْبِرَهُ بِمَا فَعَلَ الْمَشِيبُ» «فَأُخْبِرَ»، را پر ضمہ تو نہیں آپ کی کتابوں میں؟ ضمہ نہیں، پیش نہیں ہونا چاہیے، را پر فتحہ ہونا چاہیے «فَأُخْبِرَهُ»۔ یہاں "أن" مقدر ہے، "أن" مقدر ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ چھ چیزوں کے جواب میں جو فا آئے اس کے بعد "أن" مقدر ہوتا ہے، امر، نہی، استفہام اور اسی میں کیا ہے؟ تمنا بھی ہے۔ تمنا کے جواب میں اگر فعل مضارع آئے اور اس پر فا داخل ہوئی ہے تو اس فا کے بعد کیا مقدر ہوگا؟ "أن" مقدر ہوگا اور وہ ما بعد کو یعنی فعل مضارع کو نصب دے گا۔ تو اسی لیے «فَأُخْبِرُ» نہیں پڑھیں گے یہاں پر، «فَأُخْبِرَهُ بِمَا فَعَلَ الْمَشِيبُ»۔ تو دیکھیے شاعر کہتا ہے «أَلَا»، «أَلَا» حرف تنبیہ ہے بھئی۔ حرف تنبیہ جس کا اردو میں مختلف موقع و محل کے مطابق ترجمہ کرتے ہیں، اردو میں کوئی اس کا ایسے مترادف نہیں ہے، تو بہرحال اس کا ترجمہ کس سے کر دیتے ہیں؟ "سنو، سنو"، یا کبھی ترجمہ اس سے کر دیتے ہیں "خبردار"، یا کبھی ترجمہ کیا کر دیتے ہیں؟ "آگاہ رہو"۔ تو بہرحال یہ حرف تنبیہ ہے، دوسرے کو متنبہ کرنے کے لیے۔ «أَلَا» سنو! «لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا» کاش کہ جوانی لوٹ آئے «يَوْمًا» کسی روز، «فَأُخْبِرَهُ» تو میں اس کو خبر دوں، میں اس کو بتلاؤں یعنی اس جوانی کو بتلاؤں «بِمَا فَعَلَ الْمَشِيبُ» وہ جو کیا ہے المشیب، مشیب کہتے ہیں سفید بالوں کو اور اسی طرح بڑھاپے کو، وہ جو کیا ہے بڑھاپے نے یعنی میرے ساتھ۔ کاش کہ جوانی کسی روز لوٹ آئے تو میں اس جوانی کو خبر دوں، اس کو اطلاع دوں، میں اس کو بتلاؤں جو کچھ میرے ساتھ بڑھاپے نے کیا، یعنی بڑھاپے کی وجہ سے جو مجھ پر تکالیف، پریشانیاں، بیماریاں اور مصائب آئے اس کے بارے میں میں اس کو بتاؤں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں یہ مثال ہے، شاعر ایسی محبوب چیز کو طلب کر رہا ہے جس کے حاصل، جس کا حاصل ہونا ممکن ہی نہیں ہے، عادتاً بڑھاپے کے بعد دوبارہ جوانی نہیں آتی بھئی۔ «وَقَوْلِ الْمُعْسِرِ» یہ قولِ کا عطف «كَقَوْلِهِ» پیچھے پچھلے قول پر عطف ہے اور اس پر تو کاف جار داخل تھا، مجرور تھا، تو یہ بھی کیا ہوگا؟ مجرور۔ «وَقَوْلِ الْمُعْسِرِ»، معسر کہتے ہیں تنگ دست کو بھئی، غریب جو ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔ «وَقَوْلِ الْمُعْسِرِ» اور تنگ دست آدمی کا قول: «لَيْتَ لِي أَلْفَ دِينَارٍ» کاش کہ میرے پاس ایک ہزار دینار ہوتے! «وَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ مُتَوَقَّعَ الْحُصُولِ، فَإِنَّ تَرَقُّبَهُ يُسَمَّى تَرَجِّيًا، وَيُعَبَّرُ عَنْهُ بِعَسَى أَوْ لَعَلَّ». یہ تو تھی بھئی تمنا۔ تمنا کے بارے میں انہوں نے آپ کو کیا بتلایا؟ ایسی محبوب چیز کو طلب کرنا جو محال ہو، جس کا ہونا محال ہو یا جو بعید الوقوع ہو، اس کو کہتے ہیں تمنا۔ اس کے مقابلے میں ایک ترجی ہے بھئی، ترجی۔ یاد رکھیے ترجی کے اندر، ترجی کے اندر جو وہ چیز جو ہے وہ ممکن ہوگی، ممکن، یعنی محال نہیں ہوگی۔ اور نیز بعید الوقوع نہیں ہوگی، آسانی سے ہونے ہو سکے گی بھئی، آسانی سے ہو سکے۔ تو تمنا کے اندر وہ چیز اگر ممکن ہو تو اس کا بعید الوقوع ہونا ضروری، لیکن ترجی کے اندر جس چیز کی ترجی کی جا رہی ہوگی وہ اس کا حاصل ہونا بعید الوقوع نہیں ہوگا بلکہ قریب الوقوع، اس کے قریب، آسانی سے حاصل ہو سکے گی، آسانی سے ہونے والی ہوگی۔ لہٰذا یاد رکھیے، اگر لفظ تو آئے تمنا والا یعنی "لیت" آ جائے، لیکن چیز ایسی ذکر کی جائے جو آسانی سے حاصل ہوتی ہے، آسانی سے ہونے والی ہے، تو یاد رکھیے پھر یہ دراصل ترجی ہے۔ اگرچہ استعمال "لیت" کا کیا جا رہا ہے لیکن دراصل یہ کیا ہے؟ ترجی ہے، کیونکہ چونکہ وہ چیز آسانی سے حاصل ہونے والی ہے، اور جو چیز آسانی سے حاصل ہو اس کے لیے تمنا نہیں ہوتی بلکہ کیا ہوتی ہے؟ ترجی۔ تو اگر لفظ تو "لیت" کو استعمال کرتا ہے لیکن وہ چیز ایسی ہے جو آسانی سے حاصل ہونے والی ہے تو پھر کہیں گے کہ یہ ترجی ہے جو کس کی صورت میں ذکر کی ہے اس کہنے والے نے؟ تمنا۔ تو صورت تمنا کی ہے لیکن دراصل یہ ترجی ہے۔ اور ترجی کے اندر وہ چیز اس کا حاصل ہونا آسان ہوگا، ممکن ہوگا۔ تو اگر کوئی شخص لفظ استعمال کرتا ہے ترجی والے، ترجی کے لیے "لعل" اور "عسی" آتے ہیں، آپ کو بتلایا انہوں نے، "عسی" اور "لعل"۔ تو اگر استعمال "عسی" یا "لعل" کا کرتا ہے لیکن چیز ایسی ہے جو حاصل ہو ہی نہیں سکتی، یا حاصل تو ہو سکتی ہے لیکن بہت مشکل ہے اس کا حاصل ہونا، تو سمجھ جائیے کہ یہاں دراصل تمنا کی جا رہی ہے لیکن صورت کس کی ہے؟ ترجی۔ تو دراصل پھر یہ تمنا ہوگی بصورتِ ترجی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اگر وہ امر مستحیل ہو یا بعید الوقوع ہو تو اس کو کہیں گے تمنا، اور اگر وہ امر متوقع الحصول ہو یعنی اس کے حاصل ہونے کی توقع ہو، امید ہے، وہ آسانی سے حاصل ہونے والا ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ ترجی کہیں گے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: «وَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ مُتَوَقَّعَ الْحُصُولِ» اور جب وہ امر جو ہے وہ چیز جو ہے وہ اس کے حاصل ہونے کی توقع ہو «فَإِنَّ تَرَقُّبَهُ يُسَمَّى تَرَجِّيًا» تو اس کا انتظار کرنا، ترقب کا معنی انتظار، «فَإِنَّ تَرَقُّبَهُ يُسَمَّى تَرَجِّيًا» تو اس کا انتظار کرنا اس کو ترجی کہتے ہیں «وَيُعَبَّرُ عَنْهُ بِعَسَى أَوْ لَعَلَّ» اور اس کو تعبیر کیا جاتا ہے "عسی" یا "لعل" کے ساتھ۔ جیسے تمنا کو تعبیر کیا جاتا ہے "لیت" کے ساتھ بھئی، جیسے شعر میں آیا تھا "الا لیت"، تو تمنا کو تعبیر کیا جاتا ہے "لیت" کے ساتھ، اسی طرح ترجی کو کس سے تعبیر کیا جاتا ہے؟ "عسی" یا "لعل" کے ساتھ۔ «لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» شاید کہ اللہ پیدا فرما دیں اس کے بعد کوئی امر، کوئی چیز۔ احدث یحدث کے معنی پیدا کرنا۔ شاید اللہ اس کے بعد کوئی سو... یعنی یوں کہیں شاید اس کے بعد اللہ کوئی صورت پیدا فرما دیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک معاملہ ہے وہ ہو ہی نہیں رہا، یعنی آپ کا کوئی کام ہے، ہو ہی نہیں رہا اور اس موقع پر آپ کہتے ہیں «لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» شاید اللہ اس کے بعد کوئی صورت پیدا فرما دیں۔ اس وقت تو کام ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی، لیکن شاید آگے اللہ کوئی صورت پیدا فرما دیں بھئی۔ «لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا». قرآن میں بھی یہ ایسے ہی موقع پر استعمال ہوا ہے۔ اچھا تو یہاں بھئی ایک تمنا آئی اور ایک ترجی۔ یاد رکھیے تمنا اور ترجی میں تین فرق ہیں بھئی، تین فرق ہیں۔ تمنا میں طلب ہوتی ہے، تمنا میں طلب ہوتی ہے جبکہ ترجی میں توقع اور انتظار ہوتا ہے، توقع اور انتظار ہوتا ہے، امید ہوتی ہے۔ تمنا میں کیا ہوگی؟ پہلا فرق کیا ہے؟ تمنا میں کیا ہوگی؟ طلب ہوگی، جبکہ ترجی میں امید اور انتظار ہوگا۔ بھئی یہ پہلا فرق ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے تمنا اور ترجی کے اندر کہ ترجی کے اندر مترجیٰ کا ممکن ہونا ضروری ہے، جبکہ تمنا کے اندر متمنیٰ کا ممکن ہونا ضروری نہیں۔ دوسرا فرق کیا ہے؟ ترجی میں مترجّٰی، جس کی ترجی کی جا رہی ہے، تو ترجی میں مترجّٰی کا ممکن ہونا ضروری ہے۔ جبکہ تمنا میں متمنّٰی کا ممکن ہونا ضروری نہیں۔ ابھی آپ نے پڑھا شاعر تمنا کیا کر رہا ہے؟ کاش کہ جوانی لوٹ آئے، تو جوانی کا لوٹنا یہ ہوا متمنّٰی جس کی وہ تمنا کر رہا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ جوانی واپس لوٹ آئے؟ نہیں، تو دیکھو متمنّٰی محال ہے، مستحیل ہے۔ تو تمنا محال بھی ہو سکتا ہے، ناممکن بھی ہو سکتا ہے، لیکن ترجی اس میں کیا ضروری ہے؟ مترجّٰی ممکن ہونا چاہیے اور قریب الوقوع ہونا چاہیے، یعنی وہ آسانی سے ہونے والا ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آسانی سے ہونا ہو سکے بھئی۔ فرق بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ پہلا فرق کیا ہے کہ تمنا کے اندر طلب ہوتی ہے جبکہ ترجی کے اندر امید اور انتظار ہوتا ہے بھئی۔ دوسرا فرق یہ کہ ترجی کے اندر مترجّٰی کا ممکن ہونا ضروری ہے کہ وہ چیز ایسی ہونی چاہیے جس کی ترجی کی جا رہی ہے کہ وہ ممکن بھی ہو، محال نہیں ہونی چاہیے۔ جبکہ تمنا کے اندر متمنّٰی کا ممکن ہونا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے کوئی شخص ایسی چیز کی تمنا کرے جو ممکن ہی نہ ہو، جو ہو ہی نہ سکے، مثلاً جیسے ابھی شاعر نے تمنا کی جوانی کے لوٹنے کی، اور جوانی کا لوٹنا تو ممکن نہیں، تو متمنّٰی ممکن بھی ہو سکتا ہے اور ناممکن بھی ہو سکتا ہے، لیکن مترجّٰی کا ممکن ہونا ضروری ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تیسرا فرق یہ کہ تمنا میں متمنّٰی کا محبوب ہونا ضروری۔ ایسی چیز کی طلب ہو جو محبوب ہو، پسندیدہ ہو، مرغوب ہو۔ تمنا کے اندر متمنّٰی کا مرغوب ہونا ضروری ہے، لیکن ترجی کے اندر مترجّٰی کا مرغوب اور پسندیدہ اور محبوب ہونا ضروری نہیں۔ تیسرا فرق کیا ہے؟ متمنّٰی کا محبوب ہونا ضروری ہے، لیکن ترجی میں مترجّٰی کا محبوب ہونا ضروری نہیں، بلکہ ترجی ناپسندیدہ چیز کی بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی بیمار ہے اور سخت بیمار ہوا اور اس وقت وہ کہتا ہے "لعلّي أموتُ الآنَ"، "لعلّي أموتُ الآنَ" شاید میں ابھی مر جاؤں گا۔ شاید میں، اتنی اس کی طبیعت خراب ہو گئی، اب وہ خود کیا کہہ رہا ہے؟ شاید میں ابھی مر جاؤں۔ تو اب دیکھیے وہ کس چیز کی ترجی ہے؟ کس چیز کی امید کا ذکر کر رہا ہے؟ موت کی، اور موت پسندیدہ ہے یا ناپسندیدہ چیز بھئی؟ موت تو ناپسندیدہ چیز ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا دیکھیے معلوم ہوا ترجی وہ غیر مرغوب شے کی بھی ہو سکتی ہے، لیکن تمنا ہمیشہ کس کی ہوگی؟ مرغوب اور محبوب چیز کی ہوگی بھئی۔ تو تین فرق ہو گئے بھئی تین فرق تمنا اور ترجی کے اندر۔ ترجی کے اندر، ترجی کے اندر امید اور انتظار ہے، تمنا کے اندر طلب ہے۔ دوسرا فرق، مترجّٰی کا ممکن ہونا شرط ہے، لیکن متمنّٰی کا ممکن ہونا شرط نہیں ہے۔ تیسرا فرق بھئی، متمنّٰی کا شے محبوب و مرغوب ہونا ضروری ہے، جبکہ مترجّٰی کا شے محبوب و مرغوب ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ یہ تین فرق ہیں بھئی۔ "وَلِلتَّمَنِّي أَرْبَعُ أَدَوَاتٍ" اور تمنا کے چار ادوات ہیں بھئی، چار ادوات۔ "وَاحِدَةٌ أَصْلِيَّةٌ" ایک اصلی ان میں جو ہے "وَهِيَ لَيْتَ" اور وہ اور وہ لیتَ ہے "وَثَلَاثَةٌ غَيْرُ أَصْلِيَّةٍ" اور تین جو ہیں وہ غیر اصلی ہیں۔ "وَهِيَ" اور وہ یہ ہیں: هل، جیسے هل ہے، اور آگے آ رہا ہے آیت کے بعد "وَلَوْ"، اور دوسرا کیا ہے؟ لو ہے، اور آخر میں آ رہا ہے "وَلَعَلَّ"، اور تیسرا لعلَّ ہے بھئی لعلَّ۔ بھئی انہوں نے آپ کو بتلایا "وَلِلتَّمَنِّي أَرْبَعُ أَدَوَاتٍ" تمنا کے لیے چار ادوات ہیں، یعنی چار کلمات ہیں، چار لفظ ایسے ہیں جن کے ذریعے تمنا کی جاتی ہے۔ اور ان چار میں سے ایک اصلی ہے "وَهِيَ لَيْتَ" اور وہ لیتَ ہے۔ ایک اصلی ہے یعنی اس کو وضع ہی تمنا کے لیے کیا گیا ہے عربی زبان کے اندر، اس کو مقرر ہی کس کے لیے کیا گیا ہے؟ تمنا کے لیے، تمنا کے لیے عربی میں یہ لفظ وضع کیا گیا ہے، اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن تین دوسرے لفظ ہیں ان کو بھی تمنا کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے کلامِ عرب میں، لیکن وہ اصلاً تمنا کے لیے وضع نہیں، وہ تو اور معانی کے لیے وضع ہیں، مثلاً هل آیا، هل تو استفہام کے لیے وضع ہے، لو آیا، لو تو کس لیے وضع ہے؟ شرط کے لیے وضع ہے، اور لعلَّ آیا، اور لعلَّ تو ترجی کے لیے وضع ہے، تمنا کے لیے نہیں۔ تو یہ تین الفاظ بھی البتہ تمنا میں استعمال ہو جاتے ہیں، لیکن یہ ہیں غیر اصلی، یعنی ان کو تمنا کے لیے وضع نہیں کیا گیا بھئی۔ تو ایک ہے اصلی یعنی اس کو وضع ہی تمنا کے لیے کیا گیا اور وہ ہے لیتَ، اور تین ہیں غیر اصلی یعنی ان کو وضع تو تمنا کے لیے نہیں کیا گیا لیکن یہ استعمال ہو جاتے ہیں مجازاً کس کے اندر؟ تمنا کے اندر بھئی۔ تو یہ کہہ رہے ہیں "وَلِلتَّمَنِّي أَرْبَعُ أَدَوَاتٍ" اور تمنا کے چار ادوات ہیں، چار آلات ہیں یعنی چار کلمات ہیں "وَاحِدَةٌ أَصْلِيَّةٌ" ایک اصلی ہے "وَهِيَ لَيْتَ" اور وہ لیتَ ہے، یعنی یہ وضع کے اعتبار سے ہے "وَثَلَاثَةٌ غَيْرُ أَصْلِيَّةٍ" اور تین غیر اصلی ہیں، یعنی وضع کے اعتبار سے تمنا کے لیے نہیں ہیں "وَهِيَ هَلْ" اور وہ تین یہ ہیں: هل ہے، اور دوسرا کیا ہے؟ دوسرا ہے هل کے نیچے انہوں نے دیکھیے لکھا ہے "لِلِاسْتِفْهَامِ"، هل تو کس لیے ہوتا ہے؟ استفہام کے لیے۔ "وَلَوْ" اور اگلا لو ہے اور اس کے نیچے انہوں نے کیا لکھا؟ شرطیہ، یہ شرط کے لیے ہوتا ہے۔ اور لعلَّ، لعلَّ ہے تیسرا، اور وہ کس لیے ہوتا ہے؟ ترجی کے لیے، اور درمیان میں ہر ایک کی مثال بھی ذکر کرتے جا رہے ہیں جہاں پر هل تمنا کے لیے آیا، جہاں پر لو کس لیے آیا؟ تمنا کے لیے۔ تو کہتے ہیں "وَهِيَ هَلْ" اور وہ تین جو ہیں وہ یہ ہیں: هل ہے، نحو مثال کے طور پر "فَهَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا"، کاش کہ ہمارے کوئی سفارش کرنے والے ہوتے تو وہ ہماری سفارش کرتے۔ کاش کہ ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہوتے تو وہ ہماری سفارش کرتے۔ یہ کفار اور مشرکین کہیں گے قیامت کے روز جب وہ اللہ کے عذاب کو، اللہ کی گرفت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، انہیں پتہ چل جائے گا اور انہیں بتلا دیا جائے گا کہ اب تمہاری چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہے، اور تمہاری اس عذاب سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہے، کسی کو بھی تمہارے معاملے میں سفارش کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے، کسی کو سفارش کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ تو اس موقع پر وہ کہیں گے "فَهَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا" کیا ہمارے کوئی سفارش کرنے والے ہیں تو کہ وہ ہماری سفارش کر، تو وہ ہماری سفارش کر لیں۔ تو یہاں پر هل لے کر آئے وہ هل، اور هل تو کس لیے آتا ہے؟ استفہام کے لیے، لیکن یہ استفہام کے لیے نہیں ہے بلکہ کس لیے ہے؟ تمنا کے لیے یہاں آیا ہے، وہ تمنا کا اظہار کر رہے ہیں، سوال ان کا مقصد نہیں ہے، وہ پوچھ نہیں رہے کہ کیا ہمارا کوئی سفارش کرنے والا ہے؟ وہ کیا کر دیں ہماری سفارش، یہ وہ سوال نہیں کر رہے بلکہ کیا کر رہے ہیں؟ تمنا کا اظہار کر رہے ہیں کہ کاش ہمارا کوئی سفارش کرنے والا ہوتا تو وہ ہماری سفارش کر دیتا بھئی، سفارش کر دیتا۔ تو یہاں هل کس لیے آیا؟ تمنا کے لیے بھئی، تمنا کے لیے۔ تو وہ اب تمنا کا اظہار کریں گے اس موقع پر، تو تمنا کے لیے وہ هل انہوں، وہ کیوں استعمال کریں گے اس موقع پر؟ مفسرینِ حضرات اس موقع پر نقطہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ تمنا کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن تمنا کے لیے جو لفظ وضع ہے لیتَ اس کو استعمال کرنے کے بجائے وہ کیا لفظ استعمال کر رہے ہیں؟ هل، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس میں کیا نقطہ ہے کہ لیتَ سے انہوں نے عدول کیا هل کی طرف؟ اس میں نقطہ کیا ہے؟ نقطہ کیا ہے؟ تو جواب یہ ہے، جواب یہ ہے کہ تمنا عموماً ناممکن چیز کی ہوتی ہے، اور سوال جو ہے وہ ممکن چیز کا ہوتا ہے۔ سوال کس چیز کے بارے میں ہوتا ہے؟ ممکن چیز کے بارے میں ہوتا ہے۔ جبکہ تمنا عموماً کس کی ہوتی ہے؟ ناممکن چیز کی، اور سوال ہوتا ہے ممکن چیز کے بارے میں۔ آپ اپنے ساتھی کو کہتے ہیں "هَلْ جَاءَ زَيْدٌ؟" کیا زید آ گیا ہے؟ اب آپ مجھے بتائیے کیا زید کا آنا ممکن ہے یا ممکن نہیں ہے؟ زید کا آنا تو ممکن ہے بھئی، اسی لیے آپ نے هل کے ساتھ سوال کیا۔ اگر ایک چیز کا ہونا ممکن ہی نہ ہو آپ اس کا سوال نہیں کریں گے کبھی بھی بھئی۔ آپ اس کا، آپ اس کا سوال نہیں کریں گے بھئی۔ مثلاً زید کا انتقال ہو چکا ہے، اب آپ کبھی نہیں کہیں گے "هَلْ جَاءَ زَيْدٌ؟" کیا زید آ گیا ہے؟ کیونکہ اب آپ جانتے ہیں عادۃً اس کا آنا ممکن ہی نہیں ہے بھئی، ممکن ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو استفہام ہمیشہ کس کے بارے میں ہوتا ہے؟ ممکن چیز کے بارے میں، ایک چیز ممکن تو ہو پھر اس کے بارے میں سوال پوچھا جاتا ہے کہ جواب مل جائے بھئی، علم ہو جائے اس چیز کا۔ تو تمنا عموماً ہوتی ہے ناممکن چیز کی، اور سوال ہوتا ہے ممکن چیز کا۔ اب یہاں پر ان کو پہلے ہی بتلا دیا جائے گا کہ تمہاری اب اس عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں، دنیا کے اندر ہم، تمہارے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا اور تمہیں دعوت دی گئی کہ کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید کی طرف آ جاؤ، لیکن تم نے کسی کی بات کو نہیں سنا اور توحید کی طرف نہیں آئے، بلکہ الٹا پیغمبروں کو تکلیف دیتے رہے، مومنین کو قتل کرتے رہے، ان کو تکالیف دیتے رہے اور اسی برائی کے راستے پر چلتے رہے۔ اب تمہاری نجات کی کوئی صورت نہیں ہے، اور کسی کو تمہارے معاملے میں سفارش کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے، کوئی صورت نہیں نجات کی۔ یہ ان کو بتا دیا جائے گا۔ اب وہ کیا کہیں گے؟ "فَهَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ" کیا ہمارے کوئی سفارش کرنے والے ہیں؟ اب هل لے کر آئے، اور سوال وہاں کیا جاتا ہے جہاں کسی چیز کا علم نہ ہو۔ اگر آپ کو پتہ ہے کہ زید آ گیا ہے تو کیا آپ کبھی سوال کریں گے؟ "هَلْ جَاءَ زَيْدٌ؟" یہ آپ تبھی پوچھیں گے جب آپ کو علم نہ ہو۔ علم، تو سوال هل دلالت کرتا ہے کہ ان کو علم نہیں، حالانکہ ان کو تو پہلے سے کیا بتلا دیا گیا ہے؟ ان کو تو بتلا دیا گیا ہے کہ اب تمہاری نجات کی کوئی صورت نہیں، اور تو ان کو علم ہے، علم کے ہونے کے باوجود وہ هل لے کر آئے، اور هل تو آ، کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ علم نہ ہونے پر، معلوم ہوا یہاں هل اپنے اصل معنی میں نہیں، کیونکہ ان کو تو علم ہے۔ علم کے بعد سوال کے، سوال ہوتا ہی نہیں ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہاں هل اپنے اصل معنی میں نہیں، ورنہ تو دونوں چیزوں میں منافات ہے، علم بھی ہو اور هل کے ذریعے کیا پتہ لگے کہ یہ لا علم ہیں، علم بھی ہو، عالم بھی ہوں اور غیر عالم بھی ہوں اس بات پر، یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں، جب ان کو پہلے بتا دیا گیا تو ان کو علم ہے، اور هل آیا یہ تو دلالت کر رہا ہے کہ ان کو علم نہیں ہے، معلوم ہوا هل اپنے اصل معنی میں نہیں۔ تو پھر یہ کس معنی میں ہے؟ تو مفسرینِ حضرات لکھتے ہیں یہ یہاں کس لیے ہے؟ تمنا کے لیے ہے۔ تو هل کے ذریعے دراصل وہ تمنا کر رہے ہیں بھئی، اور تمنا کے لیے هل کیوں لے کر آئے؟ اپنی بے انتہا رغبت اور شوق کو ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ جو چیز ہم ذکر کر رہے ہیں، ہمیں انتہا درجے کی یہ محبوب ہے اور مرغوب ہے، کاش یہ کسی طرح ہمیں مل جائے۔ کیا مل جائے؟ کوئی سفارش کرنے والا مل جائے بھئی۔ تو وہ اپنی بے انتہا چاہت کو، اپنی بے انتہا رغبت کو اور اپنے اس چیز کے بے انتہا محبوب ہونے کو کس کے ساتھ ذکر کریں گے؟ هل کے ساتھ بھئی، هل کے ذریعے وہ بتلانے، مقصد ہی یہ ہے کہ پتہ چل جائے کہ یہ چیز ہمیں بے انتہا مرغوب ہے۔ کس طرح اس سے بے انتہا رغبت کا پتہ لگا؟ بھئی دیکھیے تمنا ہوتی ہے کس چیز کی؟ ناممکن چیز کی عموماً، اور سوال ہوتا ہے کس چیز کا؟ ممکن چیز کا۔ تو کیا ان کے لیے کسی سفارشی کا ہونا ممکن ہوگا وہاں پر؟ ممکن ہی نہیں، جب ان کو بتلا دیا گیا اللہ کی طرف سے ایک فیصلہ آ گیا کہ اب تمہاری نجات کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو پتہ چل گیا کہ ان کے لیے کسی کو سفارش کی بھی اجازت نہیں ہے۔ جب قطعی طور پر بتلا دیا گیا کہ تمہارا کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے، اب گو، تو گویا سفارشی کا ہونا ناممکن ہوا۔ لیکن یہ چیز ان کو تو بڑی محبوب ہے کسی طرح کوئی سفارش کرنے والا مل جائے، تو اس اپنی اس تمنا کو، تمنا کس چیز کی ہے؟ ناممکن چیز کی، لیکن اس کو هل کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ هل کے ذریعے ممکن چیز کا سوال ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو پہلے بتایا هل کے ذریعے کس کا سوال ہوگا؟ ممکن چیز، زید زندہ ہے تو آپ کہیں گے "هَلْ جَاءَ زَيْدٌ؟"، زید مر چکا ہے تو آپ کبھی بھی نہیں کہیں گے "هَلْ جَاءَ زَيْدٌ؟" کیونکہ آپ کے، زید کا آنا ممکن ہی، تو سوال ہوتا ہے ممکن چیز کا، اور تمنا ہوتی ہے ناممکن چیز کی، تو وہ چیز تو ناممکن ہوگی، لیکن اس کو وہ هل کے ساتھ ذکر کریں گے یعنی ممکن کے درجے میں اتار لیں گے اپنی بے انتہا رغبت، شوق اور محبوب ہونے کو، محبوبیت کو ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ چیز ہمیں بے انتہا محبوب ہے، اور یہ ہے تو ناممکن، لیکن اتنی محبوب ہے ہمیں کہ گویا کہ ممکن ہی ہے بھئی۔ اپنی بے انتہا مرغوبیت کو ظاہر کرنے کے لیے اس چیز میں۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ بس دو تین باتیں یاد رکھیں پھر پوری تقریر آپ کے ذہن میں محفوظ ہو جائے گی۔ نمبر ایک: یہ یاد رکھیں کہ تمنا ناممکن چیز کی عموماً ہوتی ہے، اور سوال کس چیز کے بارے میں ہوتا ہے؟ ممکن چیز کے بارے میں ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ یاد رکھیے بھئی کہ سوال ہوتا ہے جہاں انسان کو علم نہ ہو، حالانکہ ان کو یہ پہلے سے علم تھا، جب پہلے سے علم ہوگا پھر هل لے کر آئے، معلوم ہوا یہ سوال کے لیے نہیں، سوال تو وہاں ہوتا ہے جہاں علم نہ ہو، اور یہاں تو ان کو پہلے سے ہی علم ہے، تو معلوم ہوا یہ کسی اور معنی میں ہے۔ اب وہ اور کون سا معنی ہے؟ مفسرینِ حضرات کیا لکھتے ہیں؟ کون سا معنی ہے؟ تمنا والا معنی ہے یہاں پر بھئی، اور تمنا تو پھر اس کو هل کے ساتھ کیوں تعبیر کیا؟ وہ جو پہلی بات میں نے ذکر کی کہ تمنا ہوتی ہے کس چیز کی؟ ناممکن چیز کی، اور سوال کس چیز کا ہوتا ہے؟ ممکن چیز کا، تو اس ناممکن کو انہوں نے کس کے درجے میں اتار دیا؟ ممکن کے درجے میں اتارا، کیوں ممکن کے درجے میں اتارا؟ کہ یہ چیز ہمیں بے انتہا محبوب و مرغوب ہے۔ اتنی محبوب و مرغوب ہے کہ گویا ناممکن ہے ہی نہیں، یہ ممکن ہے اور ہم چاہتے ہیں کسی طرح یہ مل جائے ہمیں، تقریر سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ بات بھی سمجھ میں آئی کہ ویسے سر ہلا رہے ہیں؟ بھئی دیکھیے اگر ابھی بھی بات سمجھ میں نہیں آئی تو دوسری مثال سے اس کو سمجھیں، دوسری مثال سے۔ مثلاً بھئی ایک طالبِ علم ہے اور آپ جانتے ہیں، آپ کو بھی خیر اس کا پورے اندازہ نہیں، طالب علمی کا زمانہ زندگی کا سب سے بہترین زمانہ ہوتا ہے بھئی طالب علمی کا زمانہ۔ اور جونہی طالب علمی ختم ہوتی ہے تو یہ، یہ ساتھیوں کے ساتھ ملاقاتیں، یہ سیر و تفریح، یہ آپس میں بیٹھ کر گپ شپ کرنا، سبق بھی پڑھنا، مطالعہ بھی کرنا اور ساتھ ساتھ ساتھیوں کے ساتھ کھیلنا بھی، گپ شپ لگانا، یہ سب چیزیں بڑی ہی تقریباً ختم ہونے کے قریب، ختم ہی ہو جاتی ہیں بہت تھوڑا، کوئی ایک آدھ ساتھی آپ کے پاس رہ جائے شاید آپ کے علاقے کا ہو، ورنہ سب ساتھی کوئی کس علاقے کا، کوئی کس علاقے کا، سب جدا ہو جاتے ہیں بھئی۔ تو یہ اور یہ طالب علمی کے زمانے کے گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلتا کیسے گزر گیا، اتنی رفتار سے گزر جاتا ہے، اتنی رفتار سے۔ تو اب مثلاً طالب علمی کا زمانہ گزر گیا، طالب علمی کا زمانہ گزر گیا وہ دوستوں کی مجلسیں، وہ محفلیں، وہ دوست احباب وغیرہ سب بچھڑ گئے، اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اب ایک مرتبہ آپ دو ساتھی ملتے ہیں، آپ کو وہ لذت بھرا زمانہ یاد آتا ہے، وہ خوشیوں بھرا زمانہ یاد آتا ہے، اب وہ زمانہ واپس آ سکتا ہے؟ وہ زمانہ واپس نہیں آ سکتا ممکن ہی نہیں۔ گزر گیا، تو وہ اب اپ اپنے ساتھی کو کہتے ہیں، اپ کہتے ہیں اس ساتھی کو جس سے ملے ہیں، بھئی کیا وہ زمانہ واپس آ سکتا ہے؟ کیا کر رہے ہیں اپ؟ سوال کر رہے ہیں۔ بھئی کیا وہ زمانہ پھر دوبارہ واپس آ سکتا ہے؟ تو یہ سوال کر رہے ہیں۔ لیکن، یہ تو اپ بھی جانتے ہیں اس کا آنا واپس ممکن نہیں۔ لیکن یہ سوال اپ نے کیوں کیا؟ اپنی بے انتہا چاہت کو بتلانے کے لیے، کہ اس کا آنا ممکن تو نہیں ہے لیکن مجھے وہ اس کا، اس کی وا، اس کا واپس لوٹنا اتنا محبوب ہے، اتنا محبوب ہے، گویا مجھے تو پتہ ہی نہیں ہے ممکن کہ وہ ناممکن ہے۔ تو اس ناممکن کو بھی گویا اپ نے کس کے درجے میں اتار کر سوال کر لیا؟ ممکن کے درجے میں سوال کر لیا، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو اب اپ کو پتہ ہے اس کا واپس آنا ممکن ہی نہیں ہے، لیکن پھر بھی اپ اپنے ساتھی سے سوال کرتے ہیں۔ بھئی کیا وہ طالب علمی کا زمانہ کسی صورت میں واپس نہیں آ سکتا؟ اب یہ اپ بھی جانتے ہیں کہ وہ واپس نہیں آ سکتا، لیکن یہ اپ سوال کیوں کر رہے ہیں؟ کیا مقصد ہے؟ اپنی بے انتہا چاہت اور رغبت کو بتلانے کے لیے۔ بات اب بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں سمجھ میں آئی، بھئی؟ ہاں، اب اس سوال پر ذرا اپنے غور کریں، اپ اس موقع پر سوال کرتے ہیں۔ اور کہنا تو یہ چاہیے تھا اپ کو، کاش وہ زمانہ واپس آ جائے، بھئی۔ لیکن اپ کیا سوال کرتے ہیں؟ کیا وہ زمانہ پھر واپس آ سکتا ہے؟ اپ خود اس جملے پر ہی غور کر لیں، اپ کو اندازہ ہو جائے گا کتنی چاہت ہے اپ کے دل میں یہ جملہ کہتے ہوئے، بھئی، کہ وہ کاش وہ زمانہ پھر واپس لوٹ آئے، بھئی۔ اب بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی، بھئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، ہل کے ذریعے وہ سوال کر رہے ہیں اور سوال تو ہوتا ہے ممکن چیز کا، اور وہ جس چیز کا سوال کر رہے ہیں وہ تو ناممکن ہے۔ لیکن اس ناممکن کو بھی گویا انہوں نے کس کے درجے میں اتار لیا؟ ممکن کے درجے میں اتار کر اس کے بارے میں سوال کیا۔ کس لیے ایسا کیا؟ اپنی بے، اپنے بے انتہا شوق اور اپنی بے انتہا رغبت کا اظہار کرنے کے لیے، بھئی۔ تو کہیں گے: فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَا، کیا کوئی ہمارے لیے سفارش کرنے والا ہے تو وہ ہماری سفارش کرتا؟ تو دراصل وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ کاش ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والا ہوتا تو ہماری سفارش کرتا۔ وَلَوْ اور اسی طرح جو ہے لو ہے، یہ شرط کے لیے آتا ہے، لیکن تمنا کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے نحو مثال کے طور پر: فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ، فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً، اگر ہمارے لیے لوٹنا ہوتا، کرۃ کے کیا معنی ہیں؟ واپس لوٹنا، واپس لوٹنا، کرۃ۔ اسی سے ہے حیدر کرار، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیا کہتے ہیں؟ حیدر کرار، کرار بار بار پلٹنے والا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کوئی یہ جنگ کا خاص طریقہ تھا، پلٹ پلٹ کر حملہ کرتے تھے، تو کیا کہتے ہیں ان کو؟ حیدر کرار کہتے ہیں۔ تو وہ، فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ، یہ بھی قیامت کے دن وہ کفار کہیں گے، فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً، اگر ہمارے لیے لوٹنا ہوتا، یعنی اگر ہمارے لیے واپسی کی صور، کوئی صورت ہوتی دنیا کے میں، کہ ہم واپس لوٹ جاتے، فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ، تو ہم کس میں سے ہوتے؟ مومنین میں سے ہوتے، ہم بھی اہل ایمان لوگوں میں سے ہوتے۔ تو یہاں دیکھیے لو آیا، اگر ہمارے لیے لوٹنا ہوتا تو ہم بھی کس میں سے ہوتے؟ مومنین میں سے۔ تو یہاں پر یہ لو جو ہے تمنا کے لیے ہے، تمنا کے لیے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ اور دلیل کیا ہے اس کی، کہ یہ تمنا کے لیے ہے؟ دلیل اس کی یہی کہ فَنَكُوْنَ، یہ دیکھو، لو تو شرط کے لیے آتا ہے، یہ تو جزم نہیں دی، یہ تو نصب نہیں دیتا، لیکن یہاں پر فا کے بعد فَنَكُوْنَ فعل مضارع پر کیا آ رہا ہے؟ نصب آ رہا ہے، یہ نصب اس بات کی دلیل ہے کہ لو یہاں شرط کے لیے نہیں ہے، کیونکہ یہ اگر اپنے اصل معنی میں ہوتا، یہ تو نصب نہیں دیتا، بھئی، تو اور تو پھر کس معنی کے لیے ہے؟ تو مفسرین حضرات لکھتے ہیں، بھئی، یہاں یہ کس لیے آیا ہے؟ تمنی کے لیے آیا ہے، تمنی کے لیے۔ فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ، اگر ہمارے لیے واپس لوٹنا ہوتا تو ہم مومنین میں سے ہوتے۔ تو گویا وہ یوں کہہ رہے ہیں: فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً، کاش ہمارے لیے دنیا میں واپس لوٹنا ہوتا، فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ، تو ہم کس میں سے ہوتے؟ مومنین میں سے ہوتے، مومنین میں سے ہوتے۔ تو یہ نقطہ کیا ہے اس کے اندر، یہ لیت سے لو کی طرف عدول کیوں کیا انہوں نے؟ کہنا تو تمنا کے لیے تو کیا لفظ آتا ہے؟ لیت، لیکن انہوں نے کون سا لفظ استعمال کیا؟ لو، اس کی وجہ کیا ہے؟ تو یہاں پر دیکھیے، بھئی! وہ کفار اور مشرکین قیام، قیامت کے دن یہ اپنی اس تمنا کا اظہار کریں گے، اور تمنا کے لیے تو لفظ وضع ہے لیت، لیکن لیت کے بجائے وہ کیا ذکر کریں گے؟ لو ذکر کریں گے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ وہ یہ لیت سے لو کی طرف عدول کیوں کریں گے؟ لیت کے بجائے لو کیوں کہیں، کیوں کہیں گے؟ تو جواب یہ، کہ وہ اپنے متمنى کے معزز ہونا بتلانے کے لیے، کہ جس کی ہم، جس چیز کی ہم تمنا کر رہے ہیں وہ بڑی معزز چیز ہے، بڑی خاص اور بڑی اہم چیز ہے، یہ بتلانے کے لیے وہ لیت سے کس کی طرف عدول کریں گے؟ لو کی طرف عدول کریں گے۔ کیا بتلانے کے لیے؟ کہ جس چیز کی ہم تمنا کر رہے ہیں وہ بڑی ہی معزز چیز ہے، بڑی ہی اہم چیز ہے، بڑی ہی خاص چیز ہے۔ تو یہ بتلانے کے لیے وہ لیت سے عدول کریں گے لو کی طرف۔ بھئی، لو کے ذریعے کیسے پتہ چل رہا ہے کہ وہ چیز بڑی معزز ہے جس کی وہ تمنا کر رہے ہیں؟ وہ چیز بڑی خاص ہے جس کی وہ تمنا کر رہے ہیں؟ بھئی، دیکھیے۔ یہ لو جو ہے نہ یہ حرف امتناع ہے۔ یہ کیا ہے؟ حرف امتناع ہے، جو ایک چیز کے امتنا، ایک چیز کا امتناع بتلانے کے لیے آتا ہے کہ یہ چیز اس چیز کا وجود نہیں پایا گیا، یہ چیز منتفی ہے۔ اس کا وجود نہیں ہے۔ مثلاً اپ کہتے ہیں عربی میں: لو جئتنی لاکرمتک، کسی ساتھی سے اپ کیا کہتے ہیں؟ لو جئتنی لاکرمتک، اگر اپ میرے پاس آئے ہوتے تو میں نے بھی اپ کا اکرام کیا ہوتا۔ کیا پتہ چلا؟ معلوم ہوا وہ آیا بھی نہیں اور اس نے اکرام بھی نہیں کیا۔ تو اکرام نہ کرنے کی وجہ کیا ہوئی؟ اس کا نہ آنا۔ تو لو نے کیا بتلایا؟ پہلی چیز بھی منتفی ہے اور دوسری چیز بھی منتفی ہے، یعنی یہ نہیں پائی گئیں، ان کا وجود نہیں ہے، بھئی۔ ان کا وجود نہیں۔ معلوم ہوا مخاطب جو ہے وہ آیا بھی نہیں، اور یہ جو متکلم ہے اس نے اس کا اکرام بھی نہیں کیا۔ تو لو آتا ہے انتفاء کے لیے کہ ایک چیز منتفی ہے، اس کا وجود نہیں پایا گیا، بھئی۔ سمجھ میں، بات سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ لو کس لیے آتا ہے؟ انتفاء کے لیے کہ ایک چیز کا وجود نہیں پایا گیا دوسری چیز کے نہ ہونے کی وجہ سے، بھئی۔ تو لو انتفاء کے لیے آتا ہے۔ تو یہاں وہ لیت کے بجائے لو لے کر آئے۔ کیا لے کر آئے؟ لو لے کر آئے۔ کس لیے؟ مقصد کیا ہے؟ اب یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ جس چیز کی ہم تمنا کر رہے ہیں وہ بڑی معزز اور خاص چیز ہے۔ بھئی، کس طرح خاص چیز ہے؟ کیسے لو نے اس پر دلالت کی؟ بھئی، دیکھیے۔ جو چیز اپ کو عام ملتی ہو، اپ کے دل میں اس کی قدر نہیں ہوگی، اپ کے دل میں اس کی اہمیت نہیں ہوگی زیادہ، لیکن جو چیز اپ کو کبھی کبھار ملتی ہو، اپ کے دل میں اس کی زیادہ قدر ہوگی، بھئی۔ کیا ہوگی؟ زیادہ قدر ہوگی، اور جو چیز ملتی نہیں اس کی تو بہت زیادہ قدر ہوگی، بھئی۔ جو چیز ملتی نہیں۔ تو یہاں بھی وہ لو لے کر آئے، کیا بتلانے کے لیے؟ کہ یہ چیز جس کی ہم تمنا کر رہے ہیں اس کا وجود ہی نہیں پایا جاتا، یعنی یہ ملتی ہی نہیں ہے۔ یہ چیز ملتی، اور جو چیز نہیں ملتی اس کی تو بہت ہی زیادہ دل میں قدر اور اہمیت ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر وہ لیت کے ساتھ ذکر کرتے تو اس سے ان کے متمنى کے معزز اور خاص ہونے کی طرف اشارہ نہ ہوتا، لیکن جب انہوں نے لو کے ساتھ ذکر کیا اور لو تو کس لیے آتا ہے؟ انتفاء کے لیے کہ ایک چیز کا وجود نہیں ہے، تو یہاں بھی وہ لو لے کر آئے کہ جس کی، چیز کی ہم تمنا کر رہے ہیں وہ چیز ملتی ہی نہیں ہے، اور جو چیز نہیں ملتی اس کی تو دل میں بہت زیادہ قدر ہوتی ہے، معلوم، تو یہ لو اسی لیے لے کر آئے یہ بتلانے کے لیے کہ جس چیز کی ہم تمنا کر رہے ہیں یہ بالکل نہیں ملتی، یہ بڑی ہی خاص چیز ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو یہ ہے نقطہ کہ انہوں نے لو، لیت کے بجائے لو کیوں استعمال کیا، اور لیت سے لو کی طرف کیوں عدول کیا۔ تو دیکھیے، معنی کیا ہوا؟ فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً، اگر ہمارے لیے لوٹنا ہوتا دنیا کے اندر، فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ، تو ہم کس میں سے ہوتے؟ مومنین میں سے۔ یعنی گویا وہ یوں کہہ رہے ہیں: کاش ہمارے لیے دنیا میں لوٹنا ہوتا تو ہم بھی مومنین میں سے ہو جاتے۔ لیکن کاش کے لیے تو عربی میں لفظ وضع ہے لیت، لیکن لیت سے انہوں نے عدول کیا کس کی طرف؟ لو کی طرف، کیا بتلانے کے لیے؟ کہ ہمارا متمنى جو ہے، جس کی ہم تمنا کر رہے ہیں وہ بڑی ہی خاص چیز ہے، اور اسی لیے اس کے لیے لو لے کر آئے کیونکہ لو آتا ہے انتفاء کے لیے، تو انہوں نے بھی گویا یہ بتلا دیا کہ جس کی ہم تمنا کر رہے ہیں وہ چیز ملتی ہی نہیں ہے، اور جو چیز کم ملے اس کی بڑی قدر ہوتی ہے، تو جو ملتی ہی نہیں ہے اس کی تو بہت زیادہ قدر ہوتی ہے، تو وہ بھی یہی بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ بھی بڑی قدر والی چیز ہے، بڑی خاص چیز ہے، بھئی۔ وَلَعَلَّ، اور تیسرا لفظ جو ہے لعل ہے، نحو قولہ جیسے کہ اس شاعر کا یہ قول ہے: أَسِرْبَ الْقَطَا هَلْ مَنْ يُعِيْرُ جَنَاحَهُ ... لَعَلِّي إِلَى مَنْ قَدْ هَوِيْتُ أَطِيْرُ أسرب القطا، حمزہ نداء کے لیے ہے۔ اپ نے پڑھا ہے، حروف نداء: یا، آیا، هيا، اے اور حمزہ مفتوحہ وغیرہ، یہ آگے بحث بھی اسی کی آ رہی ہے، تو حمزہ بھی ہے ان میں حمزہ، تو یہ جو شروع میں الف آیا حمزہ، یہ نداء کے لیے ہے، بھئی، یا کی طرح ہے، یعنی نداء کے لیے ہے۔ أسرب القطا، سرب کہتے ہیں، یاد رکھیے، پرندوں یا جانوروں کی جماعت کو، پرندوں یا جانوروں کی جماعت کو، بھئی۔ اور قطا، قطا یہ ایک پرندہ ہے، بھئی، پرندہ، کبوتر کے مثل، کبوتر جیسا ایک پرندہ ہے، اور بعضوں نے لکھا کہ یہ فاختہ کی ایک قسم ہے، بھئی، فاختہ کی، تو یہ کبوتر کے برابر، بہرحال، کوئی ایک پرندہ ہے، وہ مراد ہے۔ تو ترجمہ، کیا ترجمہ ہوا؟ أسرب القطا، اے قطا پرندوں کی جماعت! اے قطا پرندوں کی جماعت! دیکھیے، اپ نے پڑھا ہے: منادیٰ اگر مضاف ہو، عبد اللہ، اس پر حرف یا، ند، حرف نداء ذرا داخل کرو، یا عبدَ اللہ، دیکھو منادیٰ پر نصب آ گیا، یہاں بھی اسی طرح ہے: سرب القطا، یہ سرب مضاف، القطا مضاف الیہ، اور اس پر حمزہ نداء والا آ گیا، تو اب سرب پر کیا لفظ اعراب پڑھا اپ نے؟ سرب القطا، با پر اسی لیے فتحہ پڑھا، یا عبدَ اللہ کی طرح۔ أسرب القطا، اے قطا پرندوں کی جماعت! هل من يعير جناحه، کیا ہے تم میں کوئی، يعير جناحه، جو مجھے عاریۃً دے دے اپنا پر؟ اعار يعير، بھئی، عاریۃً، کسی سے استعمال کے لیے کوئی چیز لینا، اعار يعير، عاریۃً دینا، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ اعار يعير کا کیا معنی ہے؟ کسی چیز کو عاریۃً کسی کو کوئی چیز دینا۔ مثلاً اپ کہیں جانا چاہتے ہیں، اپنے ساتھی سے سائیکل مانگتے ہیں کہ مجھے سائیکل دے دیجیے، میں، میں نے فلاں جگہ جانا ہے، اور وہ اپ کو اپنی سائیکل دے دیتا ہے، تو یہ جو استعمال کے لیے کوئی چیز کسی سے لی جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عاریت کہتے ہیں، بھئی، عاریت کہتے ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے: أسرب القطا، اے قطا پرندوں کی جماعت! هل، کیا، من يعير جناحه، کیا تم میں کو، کوئی ہے جو عاریۃً دے دے، کیا تم میں کوئی ہے جو عاریۃً اپنا پر دے دے؟ یعنی مجھے استعمال کے لیے اپنے پر دے دے، لعلى، شاید کہ میں، آگے یہ لعل کا اسم تو، لعل، بھئی، اپ جانتے ہیں، لعل ایک اسم اور خبر چاہتا ہے، تو یہ لعل کا اسم تو یہ یا ضمیر متکلم کی ساتھ ملی ہوئی ہے، لعلى، یہ اسم ہے، اور اطير آگے اس کی خبر آ رہی ہے، بھئی، اطير، شاید کہ میں اڑوں، بھئی، شاید کہ میں اڑ جاؤں۔ کس طرف اڑ جاؤں؟ الى من قد هويت، یہ متعلق ہے اطير سے، کس سے متعلق ہے؟ اطير سے، الى من، اس شخص کی طرف، قد هويت، ہوی یہویٰ کے معنی ہیں محبت کرنا، هويت، شاید کہ میں اڑ جاؤں اس شخص کی طرف جس سے میں محبت کرتا ہوں، جسے میں چاہتا ہوں۔ تو دیکھیے، ترجمہ سمجھ میں آ گیا، بھئی؟ أَسِرْبَ الْقَطَا هَلْ مَنْ يُعِيْرُ جَنَاحَهُ ... لَعَلِّي إِلَى مَنْ قَدْ هَوِيْتُ أَطِيْرُ اے قطا پرندوں کی جماعت! کیا تم میں کوئی ہے جو مجھے عاریۃً اپنا پر دے دے؟ لعلى الى من قد هويت اطير، شاید کہ میں اس شخص کی طرف جس سے میں محبت کرتا ہوں اطير، اڑ جاؤں، اس کی طرف اڑ کر چلا جاؤں، بھئی، اڑ کر چلا جاؤں۔ اب دیکھیے، یہاں پر شاعر لعل لے کر آیا، اور لعل کس لیے لائے، لعل تو کس لیے وضع ہے؟ ترجی کے لیے وضع ہے، اور ترجی میں کیا ضروری ہے کہ مترجىٰ ممکن ہونا چاہیے، اور یہاں لعل کے بعد کیا ذکر کر رہا ہے؟ اطير، کہ میں اڑ جاؤں، میں اڑ کر چلا جاؤں، اب اپ مجھے بتائیے، کیا کسی کا پروں کے ذریعے اڑ کر جانا عادتاً ممکن ہے؟ یہ عادتاً ممکن ہی نہیں، تو لعل کو، کے لیے، کے ذریعے وہ ایک ایسی چیز کو ذکر کر رہا ہے جو ممکن ہی نہیں، اور جب معلوم ہوا یہاں صورت تو ترجی کی ہے، لیکن دراصل وہ کیا ذکر کر رہا ہے؟ تمنا کا اظہار کر رہا ہے، بھئی، کیونکہ مترجىٰ کا تو ممکن ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہ چیز تو ممکن ہی نہیں عادتاً، معلوم ہوا یہ دراصل تمنا ہے، صورت ترجی کی، لیکن دراصل کیا ہے؟ تمنی ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ ولاستعمال هذه الادوات في التمني ينصب المضارع الواقع في جوابها، اور ان ادوات کے استعمال کے لیے في التمني تمنا کے اندر، یہ جو ادوات ہیں، بھئی، یہ جو تمنی کے لیے ہیں، ينصب المضارع الواقع في جوابها، نصب دیا جائے گا اس فعل مضارع کو جو واقع ہو ان کے جواب میں۔ ان ادوات کو تمنی میں استعمال کرنے کے لیے کیا کیا جائے گا؟ ان کے بعد جو فعل مضارع آئے گا اس کو نصب دیا جائے گا، بھئی، نصب دیا جائے گا، بھئی۔ تو اف، مثلاً دیکھیے، بھئی: فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَا، اصل میں کیا تھا؟ فيشفعون، فيشفعون، وہ نون گر گیا، کیوں گرا؟ کیونکہ یہاں فا کے بعد ان مقدر ہے، اور ان ناصبہ کیا کرتا ہے؟ اخر، فعل کے، فعل مضارع کے اخر سے نون اعرابی کو گرا دیتا ہے، تو یہاں ان مقدر ہے۔ اسی طرح: فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ، یہ نون پر فتحہ آیا، حالانکہ تھا کیا اصل میں؟ فنكون، پھر یہاں ان مقدر ہے، معلوم ہوا اس نے نصب دیا ہے، تو ان ادوات کو تمنی میں استعمال کرنے کے لیے کیا ہے؟ وہ فعل مضارع جو ان کے جواب میں آئے، وہ کیا ہوگا؟ وہ منصوب ہوگا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔