Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔30 والمن مسؤول عنه في تصور ما يلي الهمزة ويكون له معادل يذكر بعد أم وتسمى متصلة فتقول في الاستفهام عن المسند إليه أأنت فعلت هذا أم يوسف، وعن المسند أراغب أنت عن الأمر أم راغب فيه. استفهام کی بحث چل رہی ہے اور آپ نے پڑھا استفہام جو ہوتا استفہام جو ہے، وہ کسی چیز کے علم کو طلب کرنا، کسی چیز کے جانے کو طلب کرنا، اور اس کے بہت سے ادوات ہیں، حمزہ، ہل، ما، من، وغیرہ، یہ ادوات استفہام ہیں۔ اور پھر یہ ادوات استفہام جو طلب العلم کے لیے آتے ہیں، کسی چیز کا علم طلب کرنے کے لیے، یا تو یہ تصور کا علم طلب کرنے کے لیے آئیں گے، یا تصدیق کا۔ یعنی یا تو یہ تصور کی طلب کے لیے آئیں گے، یا تصدیق کی طلب کے لیے آئیں گے بھئی، تصدیق کے۔ تصور اور تصدیق بھئی، اس کی تعریف کتاب کے اندر کل آ گئی تھی، انہوں نے آپ کو بتلایا تھا تصور وہ ادراک المفرد ہے، مفرد کا ادراک کرنا، اور ادراک کا کیا معنی ہے؟ ادراک کا معنی ہے، یوں کہیں، کسی چیز کا حاصل کرنا یعنی ذہن میں۔ یعنی کسی چیز کا ذہن میں تعقل کرنا، کیا کرنا؟ تعقل کرنا، عقل میں ایک چیز کا آنا، ذہن میں آنا۔ مثلاً، آپ نے ایک چیز کا تصور کیا، سوچا، ذہن میں آئی۔ تو اگر اس، یہ جو چیز آپ نے سوچی ہے، اس کے اندر حکم ہے، تو اس کو کہیں گے ادراک النسبۃ، یہ تصدیق ہے بھئی۔ مثلاً، زید اور قیام دو چیزیں ہیں اور اس میں آپ نے قیام کی نسبت زید کی طرف کی ہے، زید کے لیے قیام کو ثابت مانا ہے۔ تو گویا ذہن میں آپ نے زید پر تصدیق زید پر قیام کا حکم لگا دیا، اس کا یقین کر لیا، تو یہ ہے ادراک النسبۃ۔ تصدیق بھئی، ادراک النسبۃ، آپ نے کس چیز کا ادراک کیا ہے؟ کس چیز کا تعقل کیا ہے؟ نسبت کا، نسبت وہ جو ایک چیز کا حکم لگا رہے ہیں دوسری چیز پر بھئی، جو دونوں کے اندر جو تعلق آ گیا، جب آپ نے زید پر قیام کا حکم لگایا۔ تو پہلے زید کا لفظ مثلاً الگ تھا، قیام ایک الگ چیز ہے، زید الگ چیز ہے۔ تو آپ نے دونوں میں ربط دے دیا یا ربط نہیں دیا بھئی؟ ربط دے دیا۔ تو یہ جو بیچ میں ربط آیا، تعلق آیا، یہ جو آپ نے ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے ثابت کر دیا، آپ نے ایک چیز کا حکم دوسری چیز پر لگا دیا، یہ ہے ادراک النسبۃ بھئی۔ کہ آپ نے کس چیز کا ادراک کیا ہے؟ نسبت کا، کس چیز کا تعقل کیا ہے؟ نسبت کا، تعقل بھئی عقل میں کسی چیز کا حاصل ہونا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگر یہ جو ادراک کیا، یہ جو تعقل کیا، یہ جو عقل میں چیز حاصل ہوئی، یہ ہے ادراک، اور یہ ادراک یا تو مفرد کا ہوگا یا نسبت کا ہوگا۔ اگر نسبت نہیں ہے، تو اس کو مفرد کہیں گے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ادراک مفرد کا ہوگا یا نسبت کا ہوگا، اگر مفرد کا ادراک ہے، یعنی اس میں نسبت نہیں ہے، ایک چیز کا دوسری چیز پر حکم نہیں لگایا گیا، تو یہ ہے تصور، یہ کیا ہے؟ تصور۔ اور اگر ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے، یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہے، تو حکم لگا دیا آپ نے، تو یا اگر ثابت ہے چیز، تو یہ ثبوت والا حکم لگایا، اور اگر نفی کی ہے، تو یہ نفی والا حکم لگایا، ثبوت والا حکم مثلاً زید قائم، نفی والا حکم مثلاً زید ليس بقائم۔ تو جو یہ جو آپ نے تعقل کیا، یہ نسبت جس کا تعقل کیا، اس میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہوگا، یا اس سے دوسری چیز کی نفی ہوگی، تو چاہے ثبوت ہو، چاہے نفی ہو، اس کو تصدیق کہیں گے، کیا کہیں گے؟ تصدیق، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک قول ملفوظ ہے لفظوں سے، لفظ، اور ایک قول معقول ہے بھئی، عقل میں ایک چیز کا آنا اور اس کا حاصل ہونا۔ تو منطقی، یہ تصور اور تصدیق، یہ منطق میں پڑھتے ہیں نہ آپ؟ تصور اور تصدیق، یہ مناطقہ کی اصطلاح ہے اصل میں، تو وہ منطقی جو ہے اب وہ اصل میں اس کی نظر اس قول معقول کی طرف ہوتی ہے، یہ جو ذہن کے اندر ایک چیز کا حصول ہوتا ہے، ذہن میں ایک چیز حاصل ہوتی ہے، یہ ہے قول معقول بھئی، ذہن میں جو چیز آتی ہے، یہ ہے قول معقول، ابھی آپ زبان پر اس کو نہیں لائے، آپ کے ذہن میں ہے، تو کیا ہے قول معقول۔ اور یہی بات جب آپ کی زبان پر آتی ہے، تو لفظوں کی صورت میں آتی ہے، تو اس کو کہتے ہیں قول ملفوظ بھئی، تو مناطقہ کی اصل نظر کس کی طرف ہوتی ہے؟ قول معقول کی طرف، کہ جو چیز عقل میں آئے، اس میں وہ دیکھتے ہیں کہ یہ مفرد چیز عقل میں حاصل ہوئی ہے یا نسبت حاصل ہوئی ہے۔ لیکن چونکہ جو بات عقل میں آتی ہے، اس کو سمجھانے کے لیے الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہے، الفاظ کے بغیر تو آپ دوسرے کو بات نہیں سمجھا سکتے، تو اسی لیے اصل توجہ تو منطقی کی قول معقول کی طرف ہوتی ہے، لیکن وہ قول ملفوظ سے بھی بحث کرتا ہے، لفظوں کی بھی بحث کرتا ہے، اسی وجہ سے کیونکہ معقول کو سمجھانے کے لیے کس کا سہارا لینا پڑتا ہے؟ لفظوں کا، لیکن اصل توجہ نہیں ہوتی اس کی قول ملفوظ کی طرف، اصل توجہ کس کی طرف ہے؟ قول معقول کی طرف توجہ ہے، اسی لیے انہوں نے کہا ادراک المفرد۔ تصور کی تعریف کیا کی؟ ادراک المفرد، مفرد کا ذہن میں حاصل ہونا، مفرد کا ذہن میں تعقل کرنا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ادراک کا لفظ استعمال کیا، ادراک کا معنی کیا ہے؟ حاصل کرنا، کسی چیز کا حصول بھئی۔ اور تصدیق کی انہوں نے کیا تعریف کی؟ ادراک النسبۃ، نسبت کا ادراک کرنا، نسبت، یعنی جس میں ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہو۔ لہذا اسی لیے مناطقہ شک کو تصدیق نہیں کہتے۔ اگرچہ جملہ پورا ہوتا ہے، مثلاً زید قائم، اسی میں آپ کو یقین ہے، آپ کو اس بات کا اگر یقین ہے، زید کے لیے قیام ثابت ہے، اس کا آپ نے تعقل کیا، تو ذہن کے اندر آپ نے گویا زید پر کیا حکم لگایا ہے؟ قیام کا، اور آپ کو اس کا یقین بھی ہے، تو اس کو تصدیق کہیں گے۔ کیونکہ یہ ادراک ہے نسبت کا، غالب گمان ہے آپ کا کہ زید کھڑا ہے، یقین تو نہیں، لیکن کیا ہے؟ غالب گمان ہے، تو اس کو بھی وہ نسبت کہیں گے۔ لیکن اگر آپ کو شک ہے، شک کے اندر دونوں جانبیں برابر ہوتی ہیں، آپ کو شک ہے کہ پتہ نہیں یہ قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں؟ اب آپ کے ذہن میں تو ہے، زید قائم، لیکن یہ قیام کا حکم پتہ نہیں زید کے لیے ہے یا نہیں ہے؟ اس میں آپ کو شک ہے، دونوں جانبیں برابر ہیں، قیام کے ہونے کا بھی برابر احتمال، اور نہ ہونے کا بھی برابر، تو یہ ہے شک، اور اس شک کو مناطقہ تصدیق نہیں کہتے، اس کو تصور کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تصور کہتے ہیں بھئی، تصور کہتے ہیں، کیونکہ تصدیق میں ان کے نزدیک یقین کا ہونا ضروری ہے، یا غالب گمان کا ہونا ضروری ہے، تو غالب گمان بھی یقین کے قریب ہوا بھئی، تو شک کو وہ تصدیق کہتے ہی نہیں، اس کو وہ تصور کہتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اس میں وہ نسبت کا ادراک نہیں ہے۔ جی، تو بات چل رہی تھی کہ یہ جو ادوات استفہام ہیں، یہ ان میں سے حمزہ اصل ہے، اور یہ طلب تصور کے لیے بھی آ سکتا ہے اور طلب تصدیق کے لیے بھی آ سکتا ہے۔ بھئی، ہم علم المعانی پڑھ رہے ہیں، جس میں آپ نے پڑھا کہ علم معانی لفظ عربی کے ان احوال کو جاننے کا نام ہے، جن کی وجہ سے لفظ مقتضائے حال کے مطابق ہوتا ہے، یعنی حال کس قسم کے، جس قسم کے کلام کا تقاضا کر رہا ہے، آپ بھی اسی طرح کا کلام لے کر آئیں، یہ آپ کو کس سے پتہ چلے گا؟ علم معانی، علم معانی بتلائے گا یہ مقام ہے، یہ اس قسم کے کلام کا تقاضا کر رہا ہے، لہذا آپ اس طرح کا کلام لاؤ۔ دوسرا حال ہوگا، علم معانی آپ کو بتلائے گا کہ یہ حال ہے، اور یہ حال اس قسم کے کلام کا تقاضا کرتا ہے، لہذا پھر آپ اس طرح کا کلام لے کر آتے ہیں بھئی۔ تو لہذا یہ، جب حمزہ طلب تصور کے لیے بھی ہے اور طلب تصدیق کے لیے بھی ہے، علم معانی سے آپ کو پتہ چل گیا، لہذا جب آپ تصور کو طلب کرنے لگیں، تب بھی حمزہ لا سکتے ہیں، جب آپ تصدیق کو طلب کرنے لگیں، تب بھی کیا کر سکتے ہیں؟ حمزہ لا سکتے ہیں، یہ علم معانی سے آپ کو پتہ چل گیا کہ یہ دونوں مقام پر حمزہ استعمال ہو سکتا ہے، تو آپ بھی دونوں جگہ استعمال کر سکتے ہیں۔ پھر آگے بتائیں گے کچھ لفظ ایسے ہیں جو صرف طلب تصدیق کے لیے ہیں، تو لہذا جب طلب تصدیق کا مقام ہو، وہاں تو آپ اس کو استعمال کر سکتے ہیں، جہاں طلب تصور ہو، وہاں پر اس کو استعمال نہیں کر سکتے، اور کچھ لفظ ایسے ہیں جو صرف طلب تصور کے لیے استعمال ہوتے ہیں، تو لہذا تصور طلب کرنے کا مقام ہو، تو وہاں پر آپ ان لفظوں کو استعمال کر سکتے ہیں، لیکن اگر تصدیق طلب کرنے کا مقام ہو، تو وہاں پر ان لفظوں کو استعمال نہیں کر سکتے بھئی۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا، حمزہ جو ہے یہ اصل ہے اور یہ طلب تصور کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور طلب تصدیق کے لیے بھی ہو سکتا ہے، اور میں نے آپ کو علامت بتلائی تھی کہ آپ کو پتہ کس طرح چلے گا؟ کسی سوال سے، کہ تصور کو طلب کیا جا رہا ہے یا تصدیق کو طلب کیا جا رہا ہے؟ میں نے بتلایا تھا، اگر سوال کے جواب میں نعم یا لا آتا ہو، نعم اور لا کے علاوہ اور صورت وہاں نہیں بنتی، صرف نعم اور لا کے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ جواب دیا جا سکے، تو سمجھ جائیے یہ تصدیق کو طلب کیا جا رہا ہے۔ اور اگر نعم یا لا کے ساتھ نہ ہو، بلکہ دو چیزوں میں سے یا زیادہ میں سے کسی ایک کی تعین کو طلب کیا جا رہا ہو، تو سمجھ جائیے یہ دراصل تصور کو طلب کیا جا رہا ہے، تصور کو۔ تو اس کی پہلی مثال انہوں نے ذکر کی بھئی، أعلیا مسافر أم خالدا؟ کیا علی سفر کرنے والا ہے یا خالد؟ کیا علی مسافر ہے یا خالد؟ اب آپ دیکھیے، اس کا جواب نعم یا لا سے نہیں دیا جا سکتا، معلوم ہوا یہ طلب تصدیق نہیں ہے، بلکہ یہ کیا ہے؟ طلب تصور ہے، کہ آپ تعین طلب کر رہے ہیں۔ تعین، معلوم ہوا نسبت کا ادراک تو آپ کو حاصل ہے۔ لیکن تعین نہیں ہے آپ کے نزدیک، توجہ رکھنا بھئی، یہ بات بار بار آگے آئے گی، جب آپ تصور کو طلب کر رہے ہیں، معلوم ہوا نسبت کا ادراک حاصل ہے آپ کو، آپ نے کہا أعلیا مسافر أم خالدا، معلوم ہوا اتنا آپ کو پتہ ہے کہ سفر حاصل ہوا ہے، سفر کرنا پایا گیا ہے، نسبت کا ادراک ہے، کسی نے سفر کیا ہے، اتنا آپ کو پتہ ہے، تصدیق کا علم آپ کو، توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہاں پر معلوم ہوا تصدیق کا علم ہے آپ کو، کیا چیز کی تصدیق؟ ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت، معلوم ہوا کوئی ایک شخص ایسا ہے، جس کے لیے سفر ثابت ہے، اس نے سفر کیا ہے، تو آپ کو نسبت کا ادراک حاصل ہے، لیکن تعین نہیں کہ یہ سفر کرنے کا وصف کس کو حاصل ہے؟ علی کو یا خالد کو؟ صرف تعین نہیں ہے، باقی اتنا آپ کو علم ہے کہ سفر کسی نے کیا ہے بھئی۔ تو تصدیق کا علم آپ کو ہے، نسبت کا علم ہے آپ کو، البتہ صرف تعین نہیں ہے کہ وہ سفر کرنے والا کون ہے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جہاں جہاں طلب تصور ہوگا، وہاں تصدیق کا علم آپ کو حاصل ہوگا، اور آپ پھر اس کی تعین کو طلب کر رہے ہوں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لہذا یہاں پر بھی معلوم ہوا کہ سفر تو کسی نے کیا ہے۔ نسبت کا تو علم آپ کو ہے کہ سفر واقع ہوا ہے، کسی نے کسی ایک شخص نے سفر کیا ہے، لیکن تعین نہیں ہو رہی، اب آپ اس کو متعین کروانا چاہتے ہیں، اسی لیے آپ نے سوال پوچھا کہ سفر کس نے کیا ہے؟ یہ سفر کس کے ساتھ قائم ہے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب حمزہ کے طلب تصور کے لیے بھی آ سکتا ہے اور طلب تصدیق کے لیے بھی آ سکتا ہے، تو حمزہ کے لیے جب سوال کریں گے، انہوں نے آپ کو بتلایا، والمسؤول عنه في التصور ما يلي الهمزة ويكون له معادل يذكر بعد أم، کہ وہ چیز جس کے بارے میں پوچھا گیا ہوگا تصور میں، ما وہ چیز ہوگی يلي الهمزة جو کس کے ساتھ ملی ہوئی ہو؟ حمزہ کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی، جیسے أعلیا، حمزہ کے ساتھ کیا ملا ہوا ہے؟ علی کا لفظ، ويكون له معادل، أي لفظ معادل، معادل کا معنی برابر پر، اور اس کا کوئی برابر کا لفظ ہوگا، يذكر بعد أم، جس کو کس کے بعد ذکر کیا جائے گا؟ أم کے بعد، جیسے أم کے بعد اس جملے میں خالد ذکر ہے، تو حمزہ کے بعد علی ذکر ہے، اور اس کے ساتھ اس کا ایک معادل لفظ جو أم کے بعد ذکر ہے، وہ ہے خالد، تو آپ ان دو کے اندر آپ کس چیز کو طلب کر رہے ہیں؟ تعین کو طلب کر رہے ہیں۔ تو حمزہ کے لیے جس چیز کا سوال کیا جائے گا، وہ لفظ ہوگا، وہ چیز ہوگی جو کس کے فوراً بعد آئے؟ حمزہ کے فوراً بعد، اور اس کے ساتھ اس کا ایک معادل بھی، اس کے برابر کا بھی ذکر ہوگا، جن دو کے اندر آپ کو شک ہے اور احتمال ہے کہ ان میں جن دو میں سے ایک کی تعین کو آپ طلب کر رہے ہیں، تو دوسرا کس کے بعد آئے گا؟ أم کے بعد آئے گا بھئی، تو یہ دوسرا لفظ پہلے کے معادل ہوا، پہلا اس کے معادل اور دوسرا پہلے کے معادل برابر ہیں کہ ان دونوں میں سے، معلوم ہوا ان دو، آپ کو پتہ ہے، ان دو میں سے کسی ایک نے سفر کیا ہے، سفر کیا ہے ان دو میں سے کسی ایک نے، یہ آپ کو یقین ہے، لیکن تعین نہیں ہے آپ کو کہ کون ہے وہ ان دو میں سے، وہ ایک کون ہے؟ آپ اس تعین کو اب طلب کر رہے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وتسمى متصلة، اور اس أم کو أم متصلہ کہتے ہیں۔ بھئی، آپ نے قافیہ کے اندر پڑھا ہوگا کہ أم دو قسم پر ہے۔ یہ حرف أم کیا ہے؟ دو قسم پر ہے، ایک کو أم متصلہ کہتے ہیں، ایک کو أم منقطعہ کہتے ہیں۔ أم متصلہ، یہ تصور کے طلب میں استعمال ہوتا ہے، اور أم منقطعہ، وہ، وہ تصدیق کے اندر استعمال ہوگا بھئی۔ أم متصلہ کس میں استعمال ہوگا؟ تصور کے لیے، اور أم منقطعہ؟ تصدیق کے لیے استعمال ہوگا، تو دو قسم کا أم ہوا، ایک أم متصلہ اور ایک أم منقطعہ، اب متصلہ کس کو کہتے ہیں؟ منقطعہ کس کو کہتے ہیں؟ یہ اور مزید تفصیل یاد رکھیے گا بھئی۔ أم متصلہ وہ ہے کہ جس کے ذریعے دو چیزوں میں سے ایک کی تعین کو طلب کیا جائے۔ أم متصلہ وہ ہے جس کے ذریعے دو چیزوں میں سے ایک چیز کی تعین کو طلب کیا جائے، جیسے ابھی مثال گزری تھی، أعلیا مسافر أم خالدا، یہاں پر بھی دو چیزیں، علی اور خالد، ان دو چیزوں میں سے ایک کی تعین کو آپ کیا کر رہے ہیں؟ طلب کر رہے ہیں، تو یہ کیا ہے أم متصلہ۔ اس کے مقابلے میں دوسرا أم منقطعہ ہے بھئی، أم منقطعہ، اور أم منقطعہ یاد رکھیے، آپ قافیہ میں اس کی مثال دی ہے کہ آپ کو دور سے صحرا میں کوئی چیز مثلاً حرکت کرتی ہوئی نظر آئی، تو آپ نے بڑے یقین سے اپنے ساتھی سے کہا: إنها لإبل، یقیناً یہ اونٹ ہیں بھئی۔ عام متصلہ کے لیے کیا طلب کیا جاتا، کس کو ذکر کرتے ہیں؟ طلب تصور میں وہ ذکر ہوتا ہے، پیچھے اپ ہمزہ کے اندر پڑھ چکے۔ تو حال کیا، حال سے پتہ چل رہا ہے کہ تصدیق کو طلب کیا جا رہا ہے اور آگے عام متصلہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ تصور کو طلب کیا جا رہا ہے۔ کس کو؟ تصور کو طلب کیا جا رہا ہے اور میں نے اپ کو بتلایا تھا، جہاں تصور کا کی طلب ہوتی ہے معلوم ہوا تصدیق کا علم اپ کو پہلے سے ہے۔ جہاں تصور کی طلب ہوتی ہے وہاں تصدیق کا علم پہلے سے ہے، تو یہاں حال بتلا رہا ہے اپ کو تصدیق کا علم ہی نہیں ہے کیونکہ حال کس لیے آتا ہے؟ طلب تصدیق کے لیے اور ام بتلا رہا ہے کہ اپ کو تصدیق کا علم پہلے سے ہے، تو دونوں میں منافات ہے، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ حال کس لیے آتا ہے؟ طلب تصدیق کے لیے، معلوم ہوا اپ کو تصدیق کا علم ہے ہی نہیں اور ام کس لیے آتا ہے؟ طلب تصور کے لیے، معلوم ہوا اپ کو تصدیق کا علم پہلے سے ہے، تو حال نے بتلایا اپ کو تصدیق کا علم نہیں اور ام سے پتہ چل رہا ہے اپ کو تصدیق کا علم ہے، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہو سکتی، یا تو اپ کو تصدیق کا علم پہلے سے ہوگا یا پہلے سے علم نہیں ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں ہی چیزیں ہوں، اپ کو علم ہو بھی اور اپ کو علم نہ بھی ہو، تو لہذا دونوں میں منافات ہیں۔ حال نے بتلایا کہ طلب تصدیق ہے، ام نے بتلایا کہ تصدیق کا پہلے سے ہی پتہ ہے، اس کی کوئی طلب نہیں ہے، صرف تصور کی طلب ہے، تو دونوں ایک دوسرے میں، ایک دوسرے میں منافات ہے، لہذا یہاں پر معادل کو ذکر کرنا صحیح نہیں، یعنی ام متصلہ کو استعمال کرنا صحیح نہیں بھئی۔ لہذا فلا يقال یہ نہیں کہا جا سکتا: "هل جاء صديقك أم عدوك؟" یہ تو وہ تھی صورت جب ہم نے اس کو ام متصلہ بنایا۔ ہاں! اس کو ام منقطعہ اپ بنا سکتے ہیں بھئی، کیا بنا سکتے ہیں؟ ام منقطعہ بنا سکتے ہیں، مثلاً کیسے؟ فرق کیا بتلایا تھا ام متصلہ اور منقطعہ میں؟ ام منقطعہ کے بعد پورا جملہ ائے گا، تو لہذا ما بعد میں پورا جملہ کر دو کلام صحیح ہو جائے گا۔ "هل جاء صديقك أم جاء عدوك؟" "أم جاء عدوك" اب ام کے بعد معادل نہیں ذکر، ایک لفظ نہیں ذکر بلکہ پورا کلام ذکر ہے اور یہ ام کون سا بن جائے گا؟ منقطعہ، معلوم ہوا اپ نے پہلے اس کے مخاطب کے دوست کے بارے میں پوچھا، پھر اس سوال کو چھوڑ دیا کہ دوست کے بارے میں تو میں نے پوچھنا ہی نہیں تھا، میں نے تو کس کے بارے میں پوچھنا تھا؟ اس کے دشمن کے بارے میں، تو لہذا وہ کلام چھوڑ کر دوسرا سوال اپ نے کر دیا، تو یہ ام منقطعہ ہوا اور ام منقطعہ وہ تو تصدیق کے اندر استعمال ہوتا ہے، تو حال بھی تصدیق کے لیے ہو جائے گا، ام منقطعہ بھی کس لیے ہے؟ تصدیق کے لیے، دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے بھئی۔ تو لہذا یہاں ام متصلہ کا استعمال تو صحیح نہیں، ام منقطعہ کا استعمال صحیح ہے بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ اور نیز یہ بھی یاد رکھیے! حال جس جملے پر داخل ہو اس کا مثبت ہونا بھی ضروری ہے، منفی کلام نہیں ہونا چاہیے، "هل جاء صديقك؟" کیا اپ کا دوست اگیا ہے؟ دیکھیے مثبت کلام ہے، نفی لا یا ما وغیرہ اس کلام میں نہیں، اگر لا اور ما ہو پھر حال کا استعمال صحیح نہیں، "هل ما جاء صديقك؟" یہ کہنا صحیح نہیں، بلکہ کیا کہیں گے؟ "هل جاء صديقك؟" بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ وهل تسمى بسيطة إن استطهم بها عن وجود شيء في نفسه اور حال جو ہے اس کو بسیطہ کہتے ہیں، بھئی یاد رکھیے اب تقسیم کر رہے ہیں، آگے اپ کو بتائیں گے کہ حال دو قسم پر ہے، ایک کو حال بسیطہ کہتے ہیں اور ایک کو حال مرکبہ کہتے ہیں۔ ایک کو کیا کہتے ہیں؟ حال، اتنا تو پتہ چل گیا اپ کو کہ حال کے ذریعے نسبت کو طلب کیا جاتا ہے، یعنی تصدیق کو طلب کیا جاتا ہے۔ پھر یہ دو قسم پر ہے، ایک حال بسیطہ اور ایک حال مرکبہ۔ حال بسیطہ وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کے نفسِ وجود کے بارے میں پوچھا جائے، کیا یہ چیز موجود ہے؟ کیا یہ چیز خارج میں پائی جاتی ہے؟ کیا یہ چیز خارج میں پائی جاتی ہے؟ خارج میں اس کا وجود بھی ہے یا نہیں؟ مثلاً اپ کسی سے پوچھتے ہیں: "هل العنقاء موجودة؟" کیا عنقا پرندہ موجود ہے؟ یعنی کیا اس کا وجود پایا جاتا ہے؟ خارج میں اس کا وجود ہے؟ تو عنقا یاد رکھیے، عنقا کہتے ہیں یہ ایک فرضی پرندہ ہے، حقیقت میں نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ ایک فرضی پرندہ ہے، ویسے ایک پرندہ فرض کر لیا گیا، جس اور بہت بڑا پرندہ ہے کہتے ہیں جس کا ایک پر مشرق میں ہے تو ایک پر مغرب میں ہے، یعنی ساری دنیا کا ہی گویا اس نے احاطہ کیا ہوا ہے، اتنا بڑا پرندہ ہے، تو یہ ایک فرضی ہے، حقیقت سے اس کا تعلق نہیں ہے بھئی، تو یہ ہے عنقا، عنقا۔ اور بعض علماء نے لکھا ہے کہ نہیں یہ حقیقت میں ایک پرندہ تھا اور حضرت صالح علیہ السلام اور ان کے زمانے میں اور اس سے پہلے زمانے میں یہ پرندہ پایا جاتا تھا بھئی، حضرت حضرت صالح علیہ السلام کے زمانے میں یہ اور اس سے پہلے اور یہ بڑا پرندہ تھا، یہ آتا تھا اور لوگوں کے بچے وغیرہ اٹھا کر لے جاتا تھا بھئی۔ خوراک وغیرہ کے طور پر ان بچوں کو، بڑا پرندہ تھا تو بچوں وغیرہ بھی جہاں موقع ملا اٹھا کر لے جاتا، تو لوگ بڑے تکلیف میں پڑ گئے، پریشانی میں اور حضرت صالح علیہ السلام کے پاس آئے، دعا کی درخواست کی، تو حضرت صالح علیہ السلام نے اس کے لیے، اس کے بد دعا کی اور اللہ تعالی نے اس پرندے کی نسل ہی کو ختم فرما دیا بھئی، تو یہ بعض میں لکھا ہے کہ اس زمانے میں ایک بڑا پرندہ تھا بھئی۔ تو اب کوئی شخص اپ سے پوچھتا ہے: "هل العنقاء موجودة؟" کیا عنقا موجود ہے؟ یعنی کیا اس کا وجود پایا جاتا ہے خارج میں، یہ پرندہ ہوتا ہے؟ تو اپ جواب میں کیا کہتے ہیں؟ نعم یا لا، نعم کہیں گے یا لا کہیں گے جو بھی سوال کے مطابق، تو یہ تو عنقا ویسے ایک مثال ذکر کر دی، کوئی بھی سوال، کسی بھی چیز کے بارے میں اپ پوچھیں کہ اس کا وجود خارج میں ہے یا وجود خارج میں نہیں، تو یہ جو حال جس کے ذریعے کسی چیز کے نفسِ وجود کے بارے میں پوچھا جائے کہ یہ چیز ہے یا چیز نہیں ہے، اس حال کو حالِ بسیطہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ حالِ بسیطہ کہتے ہیں۔ اور دوسرا حالِ مرکبہ، حالِ مرکبہ وہ ہے جس میں ایک چیز، بھئی دیکھیے! بسیط اس کو کہتے ہیں جس کے اجزاء نہ ہوں۔ بسیط کسے کہتے ہیں؟ جس کے اجزاء نہ ہوں، اجزاء نہ ہوں، یعنی دو یا تین چیزیں وہاں نہیں ہوں گی، ایک ہی چیز ہوگی، اس کے اجزاء نہیں ہوں گے۔ اور مرکب جس کے اجزاء ہوتے ہیں، جو کئی چیزوں سے مل کر بنے۔ تو دیکھیے حالِ بسیطہ میں ایک چیز کے نفسِ وجود کے بارے میں سوال کیا گیا، یہاں اجزاء ہے ہی نہیں۔ نفسِ وجود کا سوال کیا گیا، کس طرح؟ کیا عنقا موجود ہے؟ تو عنقا اور اس کا وجود، یہ دونوں ایک ہی چیزیں ہیں، عنقا پرندہ اور خارج میں عین اس کا وجود، دیکھو یہ ایک چیز ہے یا نہیں؟ وہی خارج میں جو عین اس کا وجود ہے، اسی کو عنقا کہتے ہیں یا کسی اور چیز کو کہتے ہیں؟ اسی کو کہتے ہیں، یہ تو ایک ہی چیز سے گویا سوال ہو رہا ہے، اس کے وجود، کسی چیز کے وجود کا سوال پوچھ رہے ہیں کہ وہ چیز پائی جاتی ہے یا نہیں پائی جاتی، تو وہاں اس کو کیا کہیں گے؟ حالِ بسیطہ، کیونکہ ایک ہی چیز ہے، دونوں دراصل ایک ہی چیزیں ہیں، یہاں اجزاء نہیں، دو چیزیں نہیں ہیں۔ دو چیزیں نہیں، عنقا اور ہو، اس کا وجود الگ ہو، پھر تو اپ کہیں گے دو چیزیں ا گئی ہیں سوال کے اندر، عنقا بھی ایا، وجود بھی ایا، عنقا الگ چیز، اس کا وجود الگ، لیکن یہاں تو دو چیزیں الگ آئی نہیں، عنقا جو ہے وہی تو ہے وہ جو خارج میں اس کا وجود ہے، تو اپ نے اسی کے بارے میں سوال کیا کہ عنقا کا خارج میں وجود ہے کہ وجود نہیں ہے، صورت اس لیے اس کو حالِ بسیطہ کہتے ہیں، جبکہ حالِ مرکبہ میں دو چیزیں آئیں گی، کیونکہ وہ مرکب ہوگا۔ مثلاً اپ کہتے ہیں: "هل زيد قائم؟" کیا زید کھڑا ہے؟ تو دو چیزیں ا گئیں، زید الگ اور قائم یعنی قیام الگ، دو چیزیں ہیں یا نہیں؟ تو دو الگ الگ چیزیں ہیں، تو اپ نے زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے یا ثبوت نہیں؟ اس کے بارے میں پوچھا، تو دو الگ الگ چیزیں آئیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ حالِ مرکبہ کہیں گے، حالِ بسیطہ میں دو یا زیادہ چیزیں نہیں تھیں، ایک ہی چیز تھی، اسی چیز کے وجود کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور اس کا وجود، وہ تو وہی عین وہی چیز تو ہے، کوئی اور الگ چیز تو نہیں ہے، تو وہ بسیط تھی اور بسیط ہے، یعنی اس میں دو یا زیادہ چیزیں نہیں، اجزاء نہیں ہیں، جبکہ حالِ مرکبہ کے اندر دو یا زیادہ چیزیں ہوں گی، ایک چیز کا سوال ہوگا دوسری چیز کے لیے کہ یہ اس کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں، "هل زيد قائم؟" کیا زید کھڑا ہے؟ تو دیکھیے اپ نے زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے یا ثبوت نہیں؟ اس کے بارے میں پوچھا، تو زید الگ چیز ہے، قیام الگ چیز ہے بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ دیکھیے اب کتاب پر، وهل تسمى بسيطة اور حال جو ہے اس کو بسیطہ کہتے ہیں، إن استطهم بها عن وجود شيء في نفسه اگر پوچھا جائے، سوال کیا جائے بها، ای بحال، ہا ضمیر کس کو راجع؟ حال کو، اس کو بسیطہ کہیں گے اگر سوال کیا جائے اس حال کے ذریعے عن وجود شيء کسی چیز کے وجود کا في نفسه اپنی ذات کے اعتبار سے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے خارج میں عنقا کا وجود ہے یا وجود نہیں، نحو "هل العنقاء موجودة؟" کیا عنقا موجود ہے؟ یعنی کیا اس کا وجود پایا جاتا ہے خارج میں؟ ومركبة اس کا عطف ہے بسيطة پر، اور حال کو مرکبہ کہتے ہیں، إن استطهم بها عن وجود شيء لشيء دیکھا یہاں دو چیزیں ا گئیں اور حال کو مرکبہ کہیں گے، اگر پوچھا جائے بها اس حال کے ذریعے عن وجود شيء کسی چیز کے وجود کے بارے میں لشيء کسی دوسری چیز کے لیے، کہ کیا ایک چیز کا وجود ہے دوسری چیز کے لیے یا وجود نہیں ہے؟ اس کو حالِ مرکبہ کہیں گے، بات بھی سمجھ میں ائی کہ نہیں ائی بھئی؟ میں اپ سے پوچھتا ہوں، کیا انسان کا خارج میں وجود ہے؟ "هل الإنسان موجود؟" یہ حال کون سا ہے؟ حالِ بسیطہ ہے، سمجھ میں ایا بھئی؟ تو اس کے لیے ہمیشہ اسی طرح سوال ہوگا اور دوسرا حالِ مرکبہ ہوگا، اس میں نفسِ وجود کے علاوہ اور کوئی بھی بات پوچھی جائے گی وہ حالِ مرکبہ ہوگا۔ مثلاً میں اپ سے کہتا ہوں، کیا اپ کے پاس کاپی ہے؟ حال کے ذریعے عربی میں سوال کرے کوئی، یہ بھی مرکبہ، کیا زید اگیا ہے؟ یہ بھی اگر حال سے سوال ہو حال کون سا ہوگا؟ مرکبہ، کیا اپ کا ساتھی اپ کے پاس ہے؟ دیکھو یہ بھی اگر حال سے سوال ہوگا کون سا ہوگا حال؟ مرکبہ، کیونکہ نفسِ وجود کا جو سوال ہو صرف اس میں وہ حالِ بسیطہ کہلائے گا، باقی سب صورتوں میں کیا کہلائے گا؟ مرکبہ کہلائے گا، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں اور حال کو مرکبہ کہیں گے، إن استطهم بها عن وجود شيء لشيء اگر پوچھا جائے اس حال کے ذریعے ایک چیز کے وجود کو دوسری چیز کے لیے۔ نحو مثال کے طور پر، "هل تبيض العنقاء وتفرخ؟" بھئی اس مثال پہ توجہ رکھنا بھئی، "هل تبيض العنقاء وتفرخ؟" باض یبیض کے معنی انڈے دینا اور فرخ یفرخ کے معنی چوزے والا ہونا، "هل تبيض العنقاء وتفرخ؟" کیا "هل تبيض العنقاء وتفرخ؟" کیا عنقا انڈے اور بچے دیتا ہے؟ یہ ترجمہ کر لیں، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ یہ تفرخ کا کیا معنی ہے؟ چوزے والا ہونا، کیا عنقا انڈے دیتا ہے اور چوزوں والا ہوتا ہے؟ یہ لفظی ترجمہ اس کا بن گیا، صورت سمجھ میں اگئی؟ ایک شخص اپ سے پوچھتا ہے: "هل تبيض العنقاء وتفرخ؟" کیا عنقا انڈے دیتا ہے اور چوزوں والا ہوتا ہے؟ اپ جواب میں کہیں گے: نعم یا جواب میں کہیں گے: لا۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ تو یعنی گویا پوچھنے والا یہ پوچھ رہا ہے، کیا عنقا کی نسل آگے چلتی ہے؟ یعنی انڈے اور چوزے اس کے ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے؟ اپ جواب میں کیا کہیں گے؟ نعم یا کیا کہیں گے؟ لا کہیں گے، تو یہ تصدیق کے لیے حال ایا، کیونکہ حال آتا ہی کس لیے ہے؟ تصدیق کے لیے، یہ واؤ کو او نہ پڑھنا بھئی، او پڑھیں گے تو بات ہی ساری غلط ہو جائے گی، پھر تو معنی بن جائے گا: "هل تبيض العنقاء أو تفرخ؟" کیا عنقا انڈے دیتا ہے یا چوزوں والا ہوتا ہے؟ پھر تو اپ تعین کو طلب کر رہے ہیں اور حال ہے، حال تو تعین کے لیے، تصور کی طلب کے لیے نہیں آتا بلکہ کس لیے آتا ہے؟ تصدیق کی طلب کے لیے آتا ہے بھئی، تو یہ واؤ ہے بھئی، معنی اچھی طرح سمجھ میں اگیا بھئی؟ اس سوال کا مقصد کیا ہے: "هل تبيض العنقاء وتفرخ؟" یعنی کیا اس کی نسل آگے چلتی ہے، انڈوں اور بچوں، چوزوں والا وہ ہوتا ہے؟ تو جواب میں کیا ائے گا؟ نعم یا لا اور اگر اس کو او پڑھیں پھر تو یہ طلبِ تصور بن جائے گا، صرف گویا اتنا اپ کو پتہ ہے کہ اس کی نسل آگے چلتی ہے لیکن یہ نہیں پتہ انڈے ہوتے ہیں یا چوزے یعنی بچے ہوتے ہیں، صورت سمجھ میں اگئی؟ تو پھر یہ درست نہ رہے گا۔ تو اپ کہتے ہیں: "هل تبيض العنقاء وتفرخ؟" کیا عنقا انڈے دیتا ہے اور چوزے والا ہوتا ہے؟ وما يطلب بها شرح الاسم اور ما جو ہے اس کے ذریعے کسی اسم کی شرح کو طلب کیا جاتا ہے، بھئی ہمزہ کی بات بھی گزر گئی، حال کی بات بھی گزر گئی، ہمزہ طلبِ تصور اور طلبِ تصدیق دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، حال صرف طلبِ تصدیق کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ باقی ادوات جو پیچھے ذکر ہوئے تھے اور جن کا آگے ذکر ارہا ہے وہی ادوات ان کی تفصیل ارہی ہے بھئی، کیا کیا مثلاً پیچھے گزرے تھے؟ ما، من، متى، أيان، كيف، أين، أنى، كم، أي وغیرہ، یہ سارے طلبِ تصور کے لیے آتے ہیں۔ ہمزہ ہے دونوں کی طلب کے لیے، تصور اور تصدیق دونوں کی، حال ہے صرف تصدیق کی طلب کے لیے، جبکہ اب باقی جتنے ذکر ہوں گے یہ سارے طلبِ تصور کے لیے آئیں گے اور طلبِ تصور کا کیا معنی ہے؟ کہ اپ کو تصدیق کا علم پہلے سے ہے، اب صرف کیا چاہتے ہیں؟ تعین چاہتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو لہذا اب باقیوں کا بیان شروع ہوا، ما بھئی، وما يطلب بها شرح الاسم اور ما جو ہے طلب کیا جاتا ہے بها، ہا ضمیر ما کو راجع، ما کے ذریعے شرح الاسم، کس چیز کو؟ اسم کی شرح کو، اسم سے مراد ہے کلمہ، کلمہ، اسم سے مراد وہ اسم نہیں ہے جو فعل اور حرف کے مقابلے میں ائے بلکہ اسم سے کیا مراد ہے؟ کلمہ، ما کے ذریعے کسی کلمے کی شرح کو یعنی اس کے معنی کو طلب کیا جاتا ہے، چاہے معنی لغوی پوچھا جائے یا معنی اصطلاحی پوچھا جائے، اپ جانتے ہیں ایک معنی لغوی ہوتا ہے، ایک معنی اصطلاحی، کسی خاص علم، کسی خاص اصطلاح کے اندر اس کا معنی ہوتا ہے۔ تو یہ، تو چاہے کوئی بھی معنی پوچھا جائے، شرح سے کیا مراد ہے؟ اسم کا معنی، اس کی تفسیر، اس کو پوچھا جاتا ہے، تو کسی بھی کلمے کا اپ معنی جاننا چاہتے ہیں، تو کس کے ذریعے سوال کریں گے؟ ما کے ذریعے، ما کے ذریعے، مثلاً کوئی پوچھتا ہے: "ما الإنسان؟" "ما الإنسان؟" اور مقصد کیا ہے، کیا پوچھنا چاہتا ہے؟ انسان لفظ کا معنی پوچھنا چاہتا ہے، تو یہ ما، اس کے لیے ما استعمال ہوگا اور اس کو کہیں گے ما شارحہ، کیا کہیں گے؟ ما شارحہ، جس کے ذریعے کسی اسم کے شرح کو طلب کیا جاتا ہے، یعنی اس کے معنی کو پوچھا جاتا ہے، معنی طلب کیا جاتا ہے۔ وہ تو کہتے ہیں وما يطلب بها شرح الاسم اور ما جو ہے طلب کیا جاتا ہے اس کے ذریعے اسم کی شرح کو، یعنی اس کے معنی کو اور اس کی تفسیر کو، نحو مثال کے طور پر: "ما العسجد؟" کوئی پوچھتا ہے اپ سے "ما العسجد؟" معلوم ہوا وہ عسجد لفظ کا معنی پوچھ رہا ہے، تو جواب میں اپ کہیں گے: "هو ذهب" کیا کہیں گے؟ "هو ذهب" سونا ہے۔ وہ یعنی عسجد سونے کو کہتے ہیں بھئی، سونا چاندی جو ہے، وہ سونا جو ہے اس کو عسجد کہتے ہیں عربی زبان میں۔ اور اسی طرح کوئی پوچھتا ہے: "أو اللجين أي ما اللجين؟" لجین کیا چیز ہے؟ معلوم ہوا وہ معنی پوچھ رہا ہے لجین کا، اس کو معنی کا پتہ نہیں ہے۔ جواب میں آپ کہتے ہیں: "هو فضةٌ"، لجین کسے کہتے ہیں؟ چاندی کو کہتے ہیں عربی زبان میں۔ تو عسجد سونے کا نام ہے اور لجین چاندی کو کہتے ہیں بھئی۔ "أو حقیقت المسمى" اس کا عطف ہے "شرح الاسم" پر۔ "شرح الاسم" کو ذرا اٹھائیں اس کی جگہ "حقیقت المسمى" رکھیں: "وما يطلب بها حقیقت المسمى"، اور ما کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ مسمى کی حقیقت کو طلب کیا جاتا ہے۔ تو کلام پورا کیا ہوا؟ "وما يطلب بها شرح الاسم أو حقیقت المسمى"، ما جو ہے اس کے ذریعے اسم کی شرح کو طلب کیا جاتا ہے یا مسمى کی حقیقت کو طلب کیا جاتا ہے۔ بھئی ایک ہوتا ہے اسم، ایک ہوتا ہے مسمى۔ اسم، جیسے آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام ہے زید، تو یہ زید ہوا اسم، اور ذاتِ زید ہوئی مسمى۔ میں جیسے ہی زید کہتا ہوں اس کی ذات آپ کے ذہن میں فوراً آ جاتی ہے، اس کا تصور آپ کے ذہن میں آ جاتا ہے۔ تو میں تو ذکر کر رہا تھا زید، میں نے تو صرف نام لیا، اسم لیا، اور آپ کے ذہن میں اس کا مسمى آ گیا، کون آ گیا؟ مسمى آ گیا۔ یعنی جس کا وہ نام ہے، جس کا وہ نام۔ بھئی دیکھیے یہ، یہ عربی زبان میں اس کو کہتے ہیں کتاب، کیا کہتے ہیں؟ کتاب۔ یہ کتاب جس میں آپ سبق پڑھ رہے ہیں، عربی، اردو میں بھی عربی میں بھی اس کو کیا کہتے ہیں؟ کتاب۔ اب میں زبان سے کہتا ہوں کتاب، میں نے تو ایک لفظ بولا لیکن جیسے ہی لفظ زبان پر آیا آپ کے ذہن میں اس مسمى، یہ جس کا نام کتاب ہے فوراً آپ کے ذہن میں یہ آ گئی۔ آپ کے ذہن میں، تو اسم کیا ہے؟ اسم تو اس لفظ، وہ لفظ ہے، اور مسمى اس کا اس کی ذات ہے، وہ مسمى جس چیز کا وہ نام ہے بھئی، وہ کیا ہوگا؟ مسمى ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا! انہوں نے کیا کہا؟ کہ ما کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی اسم کی شرح کو طلب کیا جاتا ہے یا مسمى کی حقیقت کو، اسم کی بھئی اسم کی تو شرح ہوگی، اسم تو لفظ کا نام ہے، اس لفظ کا معنی ذکر ہوگا اور مسمى مسمى کی تو حقیقت کے بارے میں سوال ہوگا، مثلاً وہی مثال دیکھو: "ما الإنسان"، "ما الإنسان"، اگر میں اس کے ذریعے انسان لفظ کا معنی پوچھ رہا ہوں، اس لفظِ انسان، کس کا؟ ذاتِ انسان کو نہ دیکھیں، لفظ، لفظِ انسان کا اگر شرح طلب کر رہا ہوں تو معنی یہ، یہ جو لفظِ انسان ہے اس کا کیا معنی ہوتا ہے، یہ کس کو کہتے ہیں؟ یہ میں پوچھ رہا ہوں، اور اگر میں اس کے ذریعے کیا کر رہا ہوں؟ حقیقتِ مسمى پوچھ رہا ہوں تو پھر میں اس لفظ کا معنی نہیں پوچھ رہا، یہ جس ذات کو کہتے ہیں، یہ انسان جس ذات کا نام ہے، اس کی حقیقت کیا ہے، اس کی ماہیت کیا ہے، میں اس کا سوال کر رہا ہوں۔ اس کا سوال، تو اس ما کے ذریعے اسم کی شرح کو بھی طلب کیا جاتا ہے اور کبھی اسی ما کے ذریعے اس اسم کا جو مسمى ہوتا ہے اس کی حقیقت کو بھی طلب کیا جاتا ہے۔ "ما الإنسان"، ما کے ساتھ تو اسم ذکر ہے، لیکن میں اس اسم کا معنی نہیں پوچھ رہا، بلکہ اس اسم کا جو مسمى ہے، جس کا یہ نام ہے، جس کو انسان کہتے ہیں اس کی حقیقت پوچھ رہا ہوں، تو مثلاً جواب میں آپ کیا کہیں گے؟ "حیوانٌ ناطقٌ" بھئی۔ اگر مثلاً میں نے کیا پوچھا؟ انسان کے شرح پوچھی، "ما الإنسان"، انسان کسے کہتے ہیں؟ انسان کسے کہتے ہیں؟ حقیقت نہیں پوچھ رہا، لفظ کا معنی پوچھ رہا ہوں، تو آپ کچھ بھی جواب دے دیں جس سے کچھ نہ کچھ وضاحت ہو جائے۔ مثلاً آپ کہہ دیں: انسان ایک مخصوص جاندار کا نام ہے، بس، جواب ہو گیا۔ میں نے بھی کیا پوچھا تھا؟ انسان کسے کہتے ہیں؟ "ما الإنسان"، آپ تھوڑی سی وضاحت کر دیں بس جواب ہو گیا۔ جیسے آپ نے کیا کہا جواب میں؟ انسان ایک مخصوص جاندار کا نام ہے۔ اور اگر پوری تعریف کر دیں وہ بھی ٹھیک ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اگر میں پوچھوں: "ما الإنسان" اور مقصد میرا کیا ہے؟ مسمى کی حقیقت پوچھ رہا ہوں، تو جواب میں آپ کو صرف کیا کہنا پڑے گا؟ "حیوانٌ ناطقٌ"، کہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق ہے بھئی، حیوانِ ناطق ہے۔ تو اب یہ حیوانِ ناطق، یہ انسان کی حقیقت ہے بھئی۔ تو اس کو کہیں گے ما حقیقیہ۔ جس کے ذریعے اسم کی شرح کو طلب کیا جائے اسے کہتے ہیں ما شارحہ، اور جس ما کے ذریعے مسمى کی حقیقت کو طلب کیا جائے اسے کہتے ہیں ما حقیقیہ کہتے ہیں بھئی، ما حقیقیہ۔ تو کہتے ہیں: "أو حقیقت المسمى"، یا اس ما کے ذریعے طلب کیا جائے گا مسمى کی حقیقت کو، "نحو ما الإنسان"، جیسے "ما الإنسان"، اس ما کے ذریعے حقیقتِ انسان کو طلب کیا گیا۔ "أو حال المذكور معها"، یا اس ما کے ذریعے طلب کیا جائے گا حال اس چیز کا جو ذکر کی گئی ہے "معها" یعنی "مع ما"، یہ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ ما کو۔ اس چیز کے حال کو پوچھا جائے گا "المذكور معها" جو ذکر کیا گیا ہے کس کے ساتھ؟ ما کے ساتھ۔ "كقولك لقادم"، جیسے آپ کا کہنا آنے والے سے، قدوم کا معنی ہوتا ہے آنا، "كقولك لقادم عليك"، جیسے کہ آپ کا کہنا آپ کے پاس آنے والے سے، آپ کے پاس ایک شخص آیا اور آپ اس آنے والے سے کہتے ہیں: "ما أنت؟"، "ما أنت؟"، آپ کیا ہیں؟ اب دیکھیے، ما کے ساتھ کیا ذکر کیا گیا؟ او بھئی، "حال المذكور معها"، وہ اس چیز کا حال جو ما کے ساتھ ذکر ہے، اس کے حال کو طلب کیا جاتا ہے کس کے ذریعے؟ ما کے ذریعے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ ما کے ذریعے کبھی کیا کیا جائے گا؟ کسی اسم کی شرح کو طلب کیا جائے گا، کبھی ما کے ذریعے کیا کیا جائے گا؟ مسمى کی حقیقت کو طلب کیا جائے گا، اور کبھی ما کے ذریعے وہ لفظ جو ما کے ساتھ ذکر ہے، جیسے "ما أنت"، ما کے ساتھ کون سا لفظ ذکر ہے؟ "أنت"، اس "أنت" جو ما کے ساتھ ذکر ہے، اس کے حال کو پوچھا جائے گا۔ کس کو؟ حال کو، تو اب آپ "ما أنت" کے ذریعے "أنت" لفظ کی شرح بھی نہیں پوچھ رہے، آپ اس ما کے ذریعے یہ جو ساتھ "أنت" ذکر ہے، اس کی حقیقت بھی "أنت" کی حقیقت بھی نہیں پوچھ رہے، بلکہ "أنت" کے حال کو پوچھ رہے ہیں، اس کے وصف کو پوچھ رہے ہیں، "ما أنت"، آپ کیا ہیں؟ یعنی عالم ہیں یا تاجر ہیں؟ آپ عالم ہیں یا تاجر ہیں، یا اس طرح کی کوئی بھی بات آپ پوچھ رہے ہیں، کوئی بھی حال پوچھ رہے ہیں، کس کا حال پوچھ رہے ہیں؟ جو ما کے ساتھ "المذكور معها"، جو ما کے ساتھ جو لفظ ذکر کیا گیا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں دیکھیے، "أنت" کا میں نے اس کے حال کو پوچھا، "ما أنت"، آپ کیا ہیں؟ تو آپ جواب میں کہیں گے: "عالمٌ"، یا کوئی جواب میں مثلاً کیا کہے گا؟ "تاجرٌ" وغیرہ جو بھی موقع محل کے مطابق بھئی جواب ہوا۔ معلوم ہوا، ما کے ذریعے اسم کی شرح کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے، اس کو ما شارحہ کہتے ہیں، ما کے ذریعے مسمى کی حقیقت کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے، اس کو ما حقیقیہ کہتے ہیں، اور اسی طرح ما کے ذریعے جو لفظ اس کے ساتھ ذکر ہے، اس کے حال کو بھی پوچھا جا سکتا ہے، اس کا بھی سوال کیا جا سکتا ہے، سوال کیا جا سکتا ہے۔ اب دیکھیے! ہمارے پاس چار چیزیں آ گئیں: ہل بھی دو قسم پر، ما بھی دو قسم پر، ایک ہل بسیطہ، ایک ہل مرکبہ، ایک ما شارحہ، ایک ما حقیقیہ، تو یہ چار چیزیں ہوئیں، چار قسم کی۔ ان میں یاد رکھیے پھر علمائے منطق، آپ نے منطق میں پڑھا ہوگا، وہ ترتیب بھی بیان کرتے ہیں کہ پہلے کس سے سوال ہوتا ہے، پھر کیا، پھر کس کو استعمال کیا جاتا ہے، پھر کس کو استعمال کیا جاتا ہے؟ تو سب سے پہلے ما شارحہ سے سوال ہوتا ہے، کس کے ذریعے؟ ما شارحہ کے، کوئی لفظ آپ کے سامنے آتا ہے، آپ سب سے پہلے اس لفظ کا معنی دوسرے سے پوچھتے ہیں، اس لفظ کا کیا معنی ہے؟ "ما العنقاء؟"، عنقا کسے کہتے ہیں؟ جواب، آپ کو اس کا معنی کا پتہ چل گیا کہ یہ ایک بڑا پرندہ ہے۔ پھر اب آپ سوال کرتے ہیں ہلِ بسیطہ کے ذریعے: "هل العنقاء موجودةٌ؟"، کیا عنقا کا خارج میں وجود پایا جاتا ہے؟ پھر آپ کو مثلاً پتہ چلا، ہاں خارج میں بھی پایا جاتا ہے۔ اب آپ اس کی حقیقت کے بارے میں پوچھتے ہیں، اور حقیقت کا سوال کس سے ہوگا؟ ما حقیقیہ کے ذریعے، "ما العنقاء؟"، عنقا کی حقیقت کیا ہے؟ تو آپ پھر حقیقت بتلائے گا دوسرا آپ کو، پھر جب حقیقت کا بھی پتہ چل گیا، اب آپ باقی باتوں کے بارے میں پوچھیں گے کہ کیا یہ انڈے بچے دیتا ہے؟ کیا اس کی نسل آگے چلتی ہے؟ کیا اس کا اس کا رنگ کس طرح کا ہوتا ہے؟ یہ کتنا بڑا ہوتا ہے، کتنا چھوٹا ہوتا ہے، وغیرہ، وہ پھر بعد کی باتیں ہیں بھئی، تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ اور اس کا وہ کس کے ذریعے ہوگا؟ ہلِ مرکبہ کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ تو سب سے پہلے کس کے ذریعے سوال ہوتا ہے؟ ما شارحہ کے ذریعے، اور پھر اس کے بعد؟ ہلِ بسیطہ کے ذریعے سوال ہوتا ہے، اس کے بعد؟ ما حقیقیہ کے ذریعے سوال ہوگا، اور سب سے آخر میں؟ ہلِ مرکبہ کے ذریعے، تفصیل بھی سمجھ میں آئی کہ ساری اوپر سے گزر گئی؟ اتنی لمبی تقریر، حالانکہ یہ مختصر مقام تھا، میں نے کہا خوب وضاحت ہو جائے، اتنی تفصیل بیان کی۔ تو ہل کتنی قسم پر؟ بسیطہ اور مرکبہ، اور بسیطہ کے ذریعے نفسِ وجود کا سوال ہوتا ہے، اور مرکبہ کے ذریعے کسی وصف وغیرہ کا سوال ہوتا ہے، اور ما کے ذریعے شرحِ اسم کو طلب کیا جائے گا یا حقیقتِ مسمى کو طلب کیا جائے گا، تو ترتیب کیا ہے سب سے پہلے؟ ما شارحہ ہے، پھر ہلِ بسیطہ ہے، پھر ما حقیقیہ ہے، پھر ہلِ مرکبہ ہے۔ ما شارحہ سب سے پہلے، کوئی لفظ آپ کے سامنے آیا سب سے پہلے کیا کریں گے؟ اس لفظ کے معنی کا آپ کو پتہ چلنا چاہیے، تو ما شارحہ سے سوال کریں گے، پھر اس کے بعد آپ پوچھیں گے کہ اس کا خارج میں وجود ہے یا خارج میں وجود نہیں؟ اور وہ سوال کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ ہلِ بسیطہ کے ذریعے، پھر اس کے بعد جب آپ کو پتہ چل گیا کہ خارج میں بھی پایا جاتا ہے تو پھر اب آپ سوال کریں گے اس کی حقیقت کے بارے میں، اس کی حقیقت کیا ہے، ماہیت کیا ہے؟ اور وہ کس کے ذریعے سوال ہوگا؟ ما حقیقیہ کے ذریعے، اور پھر جب حقیقت کا بھی پتہ چل گیا، اب آپ باقی اوصاف اور باقی باتوں کے بارے میں پوچھیں گے، اور وہ کس کے ذریعے سوال ہوگا؟ ہلِ مرکبہ کے ذریعے بھئی، چلیے، بس بھئی هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔