Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-028

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔28 واما النهي فهو طلب الكف عن الفعل على وجه الاستعلاء وله صيغة واحدة، وهي المضارع مع لا الناهية كقوله تعالى: "ولا تفسدوا في الأرض بعد إصلاحها". انشاء کی بحث آپ نے پڑھنا شروع کی تھی اور صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا کہ انشاء دو قسم پر ہے: ایک طلبی ہے اور ایک غیر طلبی۔ طلبی وہ ہے جو تقاضا کرے ایسے مطلوب کا جو طلب کے وقت حاصل نہ ہو بھئی۔ اور جب کہ انشاء غیر طلبی وہ ہے جو ایسا نہ ہو، یعنی جس میں کسی چیز کی طلب نہ ہو۔ اور انشاء طلبی جو ہے انہوں نے بتلایا آپ کو وہ پانچ چیزوں کے ساتھ ہے، پانچ چیزیں ہیں۔ امر ہے، نہی ہے، استفہام ہے، تمنا ہے اور ندا ہے۔ ان میں سے سب سے پہلے امر کے بارے میں انہوں نے آپ کو بتلایا کہ امر جو ہے وہ کسی فعل کو طلب کرنا ہے استعلاء کے طریقے پر اور اس کے چار صیغے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا کہ کبھی کبھار امر کا صیغہ جو ہے وہ اپنے معنی اصلی سے نکل جاتا ہے اور دوسرے معنی ادا کرتا ہے اور اس کا پتہ قرینے سے چلتا ہے بھئی اس میں کہ کس معنی کے لیے ہے۔ تو معنی اصلی سے نکل جاتا ہے اور امر کا معنی اصلی کیا تھا؟ کہ اس میں طلب فعل ہو اور یہ طلب فعل بھی کس طریقے پر ہو؟ استعلاء۔ تو لہذا معنی اصلی سے تب نکلے گا جب یہ دونوں چیزیں یا دونوں میں سے کوئی ایک نہ پائی جائے۔ مثلاً امر کا صیغہ آتا ہے اور سرے سے اس میں طلب فعل ہی نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہ اپنے معنی اصلی میں استعمال نہیں ہو رہا۔ یا طلب فعل تو اس کے اندر ہے لیکن طلب فعل استعلاء کے طریقے پر نہیں ہے، تو بھی سمجھ جائیں کہ یہ امر اپنے معنی اصلی سے نکل گیا ہے، یا دونوں ہی نہ ہوں، طلب فعل بھی نہ ہو اور استعلاء بھی نہ ہو۔ جی۔ آج ہم نہی کے بارے میں پڑھیں گے، امر کا بیان مکمل ہوا۔ تو نہی کی تعریف کر رہے ہیں، کہتے ہیں: واما النهي، اور باقی نہی جو ہے فهو طلب الكف عن الفعل على وجه الاستعلاء. كف کا معنی کف یکف کے معنی ہوتے ہیں روکنے کے، روکنے کے۔ تو نہی جو ہے فهو طلب الكف عن الفعل، وہ فعل سے روکنے کو طلب کرنا۔ فعل سے روکنے کو طلب کرنا على وجه الاستعلاء، استعلاء کے طریقے پر بھئی۔ استعلاء؟ بڑا سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو، اپنے آپ کو اونچا سمجھتے ہوئے کسی سے فعل کے سے رکنے کو طلب کرنا، یہ ہے نہی بھئی۔ آپ مثلاً کسی سے کہتے ہیں "لا تضرب زيداً"، تو یہ آپ ضرب سے روکنے کو طلب کر رہے ہیں کہ وہ ضرب کو چھوڑ دے، ضرب کو ترک کر دے، اور کس طریقے پر ہو اگر یہ؟ استعلاء کے طریقے پر ہو، اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے ہو، حکم دے رہے ہیں آپ، تو اس صورت میں یہ کیا کہلائے گا؟ نہی، یہ نہی کہلائے گی بھئی نہی۔ تو کہتے ہیں: واما النهي فهو طلب الكف عن الفعل على وجه الاستعلاء، اور باقی نہی جو ہے وہ فعل سے روکنے کو طلب کرنا ہے استعلاء کے طریقے پر۔ وله صيغة واحدة، اور اس کا ایک ہی صیغہ ہے، نہی کا ایک ہی، امر کے تو چار صیغے انہوں نے آپ کو بتلائے تھے لیکن نہی کا ایک ہی صیغہ ہے۔ وهي المضارع مع لا الناهية، اور یہ وہ فعل مضارع ہے مع لا جو کس کے ساتھ ہو؟ لا کے ساتھ، اور وہ لا بھی الناهية نہی والا ہو، کون سا لا ہو؟ نہی والا ہو بھئی، روکنے والا ہو، روکنے والا۔ تو یہ وہ فعل مضارع ہے جو لا نہی کے ساتھ آئے تو جیسے لا تضرب بھئی لا تضرب، تو یہ لا کون سا ہے؟ نہی والا ہے بھئی۔ كقوله تعالى، اب اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ولا تفسدوا في الأرض، اور تم لوگ فساد نہ مچاؤ زمین میں بعد إصلاحها، اس کی اصلاح کے بعد۔ زمین کی اصلاح کے بعد اس زمین کے اندر تم لوگ فساد نہ مچاؤ، یعنی جب زمین کے اندر معاملات ٹھیک طرح چل رہے ہوں تو تم لوگ اس میں فساد نہ مچاؤ بھئی۔ تو لا تفسدوا، یہ صیغہ آیا اور یہ صیغہ ہے نہی کا بھئی۔ اس میں دیکھیے ایک فعل سے روکنے کو طلب کیا جا رہا ہے، کس فعل سے روکنے کو طلب کیا جا رہا ہے؟ فساد مچانے سے روکا جا رہا ہے بھئی، اس کو چھوڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے، اور حکم دینے والی ذات کون سی؟ اللہ تعالیٰ کی ہے، تو یہ کف عن الفعل کو کس طریقے پر طلب کیا جا رہا ہے؟ استعلاء کے طریقے پر، تو یہ نہی ہے بھئی نہی بھئی۔ وقد تخرج صيغته عن معناها الأصلي إلى معان أخر تفهم من المقام والسياق. وقد تخرج، اس کو تخرج پڑھنا بھئی، تخرج نہ پڑھنا، اسی طرح کی عبارت پیچھے امر کے اندر بھی آئی، آگے بھی کئی جگہ آئے گی ایسی عبارت، تو تخرج نہ پڑھنا بلکہ کیا پڑھنا اس کو؟ تخرج۔ یہ وقد تخرج صيغته اور کبھی کبھار نکل جاتا ہے اس نہی کا صیغہ عن معناها الأصلي اپنے اصلی معنی سے۔ کبھی کبھار یہ نہی کا صیغہ اپنے معنی اصلی سے نکل جاتا ہے إلى معان أخر دوسرے معانی کی طرف تفهم من المقام والسياق، گزشتہ سبق میں بھی ایسی عبارت آئی تھی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو معان نکرہ آیا، أخر اس کے لیے پہلی صفت، اور تفهم من المقام والسياق یہ اس کے لیے دوسری صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کس کے ساتھ کرتے ہیں؟ موصوف بات پوری کیا کریں، موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لاتے ہیں۔ تو اب دیکھیے ترجمہ ذرا بھئی، میں اس کے مطابق ترجمہ کرتا ہوں: اور کبھی کبھار نہی کا صیغہ اپنے معنی اصلی سے نکل جاتا ہے ایسے دوسرے معانی کی طرف جو مفہوم ہوتے ہیں، جو سمجھ میں آتے ہیں مقام اور سیاق سے، جو اس مقام اور اس جہاں، وہ مقام، وہ محل ہی بتلا دے گا کہ یہاں کون سا معنی مراد ہے یا وہ سیاق، یعنی کلام کا چلاؤ وہاں بتلا دے گا کہ اس سے فلاں معنی مراد ہے، معنی اصلی مراد نہیں ہے بھئی۔ تو لہذا نہی کا حقیقی معنی تو کیا تھا؟ فعل سے روکنے کو طلب کرنا، اور یہ فعل سے روکنے کو جو طلب کیا جا رہا ہو، یہ کس طریقے پر ہونا چاہیے؟ استعلاء کے طریقے پر۔ تو لہذا یہ دونوں چیزیں ہوں تو ہم کہیں گے نہی اپنے معنی میں ہے۔ اگر دونوں میں سے ایک بھی منتفی ہو گئی اور ختم ہو گئی تو پھر کہیں گے یہ اپنے اصل معنی میں نہیں ہے۔ اگر طلب الكف عن الفعل یہ تو پایا جائے لیکن استعلاء کے طریقے پر نہ ہو تو پھر یہ نہی اپنے اصل معنی سے نکل گئی بھئی، نہی کا صیغہ کیا ہوا اپنے اصل معنی سے نکل گیا۔ یا سرے سے اس میں طلب ہو ہی نہ، تو بھی نہی کا معنی اپنے نہی کا لفظ صیغہ اپنے معنی اصلی سے نکل گیا بھئی، نکل گیا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا امر کے اندر بھئی کہ ایک ہے امر، ایک ہے دعا اور ایک ہے التماس۔ امر کے اندر بھی طلب فعل، دعا کے اندر بھی طلب فعل، التماس کے اندر بھی طلب فعل، لیکن امر کے اندر طلب فعل ہے استعلاء کے طریقے پر، دعا کے اندر طلب فعل ہے عاجزی کے طریقے پر، اور التماس کے اندر طلب فعل ہے برابری کے طور مساوات کے طریقے پر۔ بالکل اسی طرح نہی کے اندر بھی ہے، اگر وہ جو طلب الكف ہے طلب الكف وہ طلب الكف جو ہے، اگر وہ استعلاء کے طریقے پر ہو تو وہ ہے نہی، اور اگر وہ عاجزی کے طریقے پر ہو وہ طلب الكف، تو یہ ہے دعا، اور وہی طلب الكف اگر برابری کے طریقے پر ہو تو یہ التماس ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ التماس ہے بھئی۔ تو چنانچہ کہہ رہے ہیں: كالدعاء، جیسے کہ دعا ہے، نحو مثال کے طور پر: فلا تشمت بي الأعداء. فلا تشمت بي الأعداء، پس آپ خوش نہ کیجیے مجھ پر دشمنوں کو۔ فلا تشمت، پس آپ خوش نہ کیجیے بي مجھ پر الأعداء، کس کو؟ دشمنوں کو۔ اشمت يشمت کے معنی ہوتے ہیں کسی شخص کو تکلیف دے کر اس کے دشمن کو خوش کرنا بھئی۔ اشمت يشمت کے کیا معنی ہیں؟ کسی شخص کے دشمن کو خوش کرنا اس شخص کو تکلیف دے کر، یا یوں کہیں، اس کسی شخص کو تکلیف دے کر اس کے دشمن کو خوش کرنا، یہ ہے اشمات بھئی۔ تو یہ حضرت ہارون علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام وہ کوہ طور پر تشریف لے گئے تورات لینے کے لیے، اللہ نے ان کو وہاں پر بلوایا، وہ وہاں تشریف لے گئے۔ تو وہاں پر تشریف لے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر اور اپنے بھئی حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنے قوم بنو اسرائیل میں چھوڑ گئے اور ان سے فرمایا کہ میری واپسی تک میری قوم کا ان لوگوں کا خیال رکھنا، گمراہی وغیرہ سے ان کو بچانے کی کوشش کرنا اور ان کی رہنمائی کرتے رہنا۔ لیکن جب واپس آئے تو ادھر بنو اسرائیل والے جو تھے وہ گمراہی کے اندر مبتلا ہوئے اور انہوں نے وہ بچھڑا بنایا تھا اور اس کی عبادت وغیرہ شروع کر دی تھی بھئی۔ تفصیلی واقعہ آپ تفسیر وغیرہ کے اندر پڑھ چکے ہوں گے یا کئی جگہ اساتذہ سے سن چکے ہوں گے، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام جب واپس آئے اور اپنی قوم کی یہ حالت دیکھی تو بڑے ہی سخت جلال میں آ گئے بھئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت تو ویسے بھی بڑی جلالی تھی، تو بڑے جلال میں آ گئے اور اپنے بھئی پر سخت غصے ہوئے حتیٰ کہ اتنے غصے ہوئے کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال پکڑ لیے اور ان سے کہنے لگے کہ تم نے ان کا خیال کیوں نہیں رکھا؟ تو حضرت ہارون علیہ السلام فرمانے لگے کہ میں نے تو بڑی کوشش کی لیکن یہ لوگ میری بات کہاں سنتے تھے۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو سر کے اور داڑھی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچا تو وہ فرمانے لگے: "فلا تشمت بي الأعداء"، مجھ پر میرے دشمنوں کو خوش نہ کیجیے، مجھ پر میرے دشمنوں کو نہ ہنسائیے۔ یعنی آپ مجھے تکلیف دے رہے ہیں، میں نے تو اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں کی، مگر یہ لوگ میری بات سنتے ہی نہیں تھے، میری باتوں کی یہ لوگ پرواہ کرتے ہی نہیں تھے، اب آپ مجھے اس طرح اس سلوک کر رہے ہیں، میرے ساتھ اس طرح سختی کر رہے ہیں تو آپ میرے دشمنوں کو کیا کر رہے ہیں؟ خوش، وہ مجھ پر خوش ہو رہے ہیں میری یہ حالت دیکھ کر، تو آپ مجھے تکلیف دے کر میرے دشمنوں کو مجھ پر خوش نہ کیجیے۔ تو کہتے ہیں: فلا تشمت بي الأعداء، پس آپ میرے دشمنوں کو مجھ پر نہ ہنسائیں بھئی، یا یوں ترجمہ کر لیں: فلا تشمت بي الأعداء، آپ مجھ پر میرے دشمنوں کو نہ ہنسائیے۔ اب دیکھیے "لا تشمت" آیا، صیغہ تو نہی کا ہے، صیغہ کون سا؟ نہی کا، اور نہی میں تو ہوتا ہے طلب الكف على وجه الاستعلاء، کسی فعل سے روکنے کو طلب کیا جاتا ہے اور کس طریقے پر ہوتا ہے؟ استعلاء، اور یہاں پر حضرت ہارون علیہ السلام استعلاء کے طریقے پر یہ کہہ رہے ہیں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے یا عاجزی کرتے کے طور پر بھئی؟ عاجزی کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ آپ مجھے چھوڑ دیجیے، آپ میرے ساتھ یوں سختی نہ کیجیے، میں نے اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں کی، یہ لوگ میری کسی بات کی پرواہ ہی نہیں کرتے تھے، سنتے ہی نہیں تھے، تو اس میں میرا قصور نہیں ہے بھئی۔ تو یہ عاجزی کے طریقے پر کہہ رہے ہیں: فلا تشمت بي الأعداء، آپ مجھ پر میرے دشمنوں کو نہ ہنسائیے۔ تو اس لیے اس کو نہی نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ دعا کہیں گے دعا۔ وللا لتماس، اور کبھی کبھار کس معنی کے لیے آئے گا نہی کا صیغہ؟ التماس کے لیے آئے گا كقولك لمن يساويك، جیسے آپ کا کہنا اس شخص سے يساويك جو آپ کے برابر ہے، آپ کسی ایسے شخص سے کہتے ہیں جو آپ کے برابر ہے کہ: لا تبرح من مکانك حتى أرجع إليك. لا تبرح، تم نہ ہٹنا من مکانك اپنی جگہ سے حتى أرجع إليك، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس واپس لوٹ آؤں۔ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یعنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس واپس لوٹ آؤں۔ تو اب دیکھیے "لا تبرح"، صیغہ تو نہی کا ہے، لیکن یہاں پر آپ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے نہیں کہہ رہے یہ نہی کا صیغہ بلکہ اس کے برابر میں کے ہیں، برابر سمجھتے ہوئے یہی صیغہ آپ نے ادا کیا، تو اب یہ طلب الكف تو ہے اس کے اندر، لیکن یہ طلب الكف استعلاء کے طریقے پر نہیں، لہذا اس کو نہی نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ التماس کہیں گے، یعنی درخواست اور گزارش کہیں گے بھئی۔ تو دیکھیے میں نے آپ سے کہا تھا "وقد تخرج" پڑھیے، "تخرج" نہ پڑھیے بھئی۔ دیکھیے یہی صیغہ: فلا تشمت بي الأعداء، یا لا تبرح آپ نے کہا، تو یہ اس کو اس کے معنی اصلی سے کوئی آپ نے نکالا؟ آپ نے تو صرف یہ جملہ کہا: لا تبرح من مکانك حتى أرجع إليك، آپ نے صرف یہ جملہ کہا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے کیا وہ نہی کے صیغے کو اس کے اصل معنی سے نکالا؟ نہیں، انہوں نے تو صرف اتنا فرمایا: فلا تشمت بي الأعداء، لیکن اس اس قسم کے موقع پر جب اس صیغے کو استعمال کیا گیا یہ خود بخود اپنے معنی اصلی سے نکل گیا۔ تو "تخرج" کہیں تو "تخرج" کا تو کیا معنی ہوگا؟ نکالا گیا ہو، یعنی باقاعدہ معلوم ہو کسی نے نکالا ہے اس کو اس کے معنی اصلی سے۔ نہیں بھئی، کسی نے باقاعدہ اس کو اپنے معنی اصلی سے نکالا نہیں، جیسے میں نے ابھی مثال ذکر کی، آپ اپنے ساتھی سے کہہ رہے ہیں: لا تبرح، اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔ اب آپ نے کوئی عمل نہیں کیا کہ یہ اپنے معنی اصلی سے نکل جائے، ہاں آپ نے صرف ایک جملہ کہا، اس جملے میں یہی نہی کا صیغہ آیا، لیکن جب غور کیا گیا تو پتہ چلا یہ استعلاء کے طریقے پر طلب الكف نہیں ہے، معلوم ہوا یہ صیغہ اپنے معنی اصلی سے نکل گیا ہے اور خود بخود نکل گیا ہے، جب استعمال ایسے مقام پر کریں گے یہ خود ہی اپنے معنی اصلی سے نکل جائے گا بھئی، وہ معنی ادا ہی نہیں کرے گا، مقام ہی وہ والا نہیں ہے، محل ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لا قد تخرج پڑھیں گے، قد تخرج نہیں پڑھیں گے بھئی۔ والتمني، اور تمنا نحو مثال کے طور پر: لا تطلع، في قوله: لا تطلع کا جیسے صیغہ آیا فی قوله، کسی شاعر کے اس قول کے اندر: يا ليل طل يا نوم زل يا صبح خف لا تطلع يا ليل طل يا نوم زل يا صبح خف لا تطلع يا ليل طل طال يطول سے طل صیغہ امر آیا بھئی۔ اے رات طل طویل ہو جا، يا نوم زل، زال يزول سے صیغہ امر آیا، دور ہونا، اے نیند زائل ہو جا، دور ہو جا، يا صبح خف، وقف يقف سے امر آیا، اے صبح رک جا، لا تطلع، طلوع نہ ہو۔ طلوع نہ ہو۔ تو محل استشہاد ہے "لا تطلع"، یہ صیغہ تو نہی کا ہے لیکن یہاں یہ تمنا کے لیے آیا ہے بھئی، کس کے لیے آیا ہے؟ تمنا کے لیے۔ بھئی جیسے گزشتہ سبق کے اندر ایک شعر آپ نے پڑھا تھا: "ألا أيها الليل الطويل ألا انجلي، بصبح وما الإصباح منك بأمثل"، اس شعر کے اندر شاعر صبح سخت تکلیف اور پریشانی اور غم کے اندر تھا اور وہ رات سے کہہ رہا تھا کہ تو جلدی سے گزر جا، جلدی سے صبح روشن صبح طلوع ہو جائے۔ یہ شعر اس کا بالکل برعکس ہے بھئی، بالکل برعکس۔ وہاں شاعر تھا غم کی حالت میں اور رات گزرنے میں ہی نہیں آ رہی تھی، اور یہ شاعر جو ہے خوشی کی حالت میں ہے، اس کے دوست احباب، ساتھی وغیرہ رشتہ دار آئے ہوئے ہیں اور خوشی کا موقع ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ خوشی کا وقت بڑی جلدی گزرتا ہے، خوشی کی وجہ سے انسان کو اس کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا بھئی، تو لہذا اب یہ خوشی کا موقع ہے تو اور شاعر کو یہ خوف ہے کہ یہ خوشی کا وقت ہے اور خوشی کا وقت تو بڑی جلدی گزر جاتا ہے، مجھے پتہ بھی نہیں چلے گا اور گزر جائے گا، تو چنانچہ وہ رات کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے: يا ليل فحتى الطول، يا ليل طل يا نوم زل، أي: يا ليل طول، يا نوم زل، أي: نوم دور ہٹ جا مجھ سے، میری یہ خوشی کے لمحات غفلت میں میرے گزریں، ایسا کرنے کی کوشش نہ کر، مجھے نیند کی طرف نہ لے جا، يا صبح قف لا تطلع طلوعك. اے صبح رک جا، طلوع نہ ہو۔ اے صبح رک جا، طلوع نہ ہو۔ تو یہاں وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ وقت کو روکنا چاہتا ہے کہ یہ خوشی کا وقت ہے، یہ تاکہ زیادہ سے زیادہ دیر تک رہے بھئی۔ تو یہاں پر وہ صيغہ لے کر آیا: لا تطلع لا طلوعك. اے صبح تو طلوع نہ ہو۔ اور اس کو انہوں نے تمنا کی مثال کے طور پر ذکر کیا۔ بھئی، یہ تمنا کی مثال کس طرح ہے؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے صيغہ ہے نہی کا اور نہی کہتے تھے طلب الكف على وجه الاستعلاء. فعل سے رکنے کو طلب کرنا استعلاء کے طریقے پر، استعلاء کے طریقے پر۔ اور یہاں پر خوشی کا وقت ہے اور خوشی کا وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے اور یہ شاعر خطاب کس کو کر رہا ہے؟ صبح کو: يا صبح لا تطلع، اے صبح تو طلوع نہ ہو، طلوع نہ ہو، حالانکہ صبح تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو خطاب کیا جائے اور اس سے بات کی جائے۔ صبح تو زمانے کا نام ہے اور یہ صبح کی قدرت میں تو نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو روک لے اور طلوع نہ ہونے دے بھئی اپنے آپ کو۔ تو لہٰذا معلوم ہوا کہ یہاں یہ اپنے اصل معنی میں نہیں ہے بھئی، لا تطلع اپنے اصل معنی میں نہیں ہے، کیونکہ جس سے خطاب کر رہا ہے اس میں قدرت ہی نہیں، صلاحیت ہی نہیں ہے کہ اس سے خطاب کیا جائے یا وہ اس پر عمل کرے، تو پھر یہ کس معنی میں ہے؟ تمنا کے معنی میں پھر کس طرح ہے؟ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ صبح سے کیا کہہ رہا ہے؟ تو طلوع نہ ہو اور ایسا ہو سکتا ہے کہ صبح طلوع نہ ہو؟ صبح طلوع نہ ہو ایسا تو نہیں ہو سکتا، تو یہ ایک ایسی چیز کو طلب کر رہا ہے جو ممکن ہی نہیں ہے اور ناممکن چیز کو طلب کرنا اسی کو تمنا کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ کیا ہے؟ کس کی مثال ہے؟ تمنا کی بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: يا ليل طل يا نوم زل يا صبح قف لا تطلعي، اے رات طویل ہو جا، اے نیند دور ہٹ جا، اے صبح رک جا، تو طلوع نہ ہو۔ ولتهديد، اور کبھی نہی جو ہے وہ تحدید کے لیے آئے گی۔ تحدید کا کیا معنی ہے؟ پچھلے سبق میں بھی آیا تھا یہ لفظ بھئی۔ تحدید: دھمکی دینا۔ ولتهديد، اور کبھی نہی کا صيغہ دھمکی دینے کے لیے آئے گا كقولك لخادمك: لا تطع أمري. لا تطع أمري، تو میری بات نہ مان، تو میرے حکم کی اطاعت نہ کر، تو میرے حکم کی فرماں برداری نہ کر۔ اب دیکھیے، آپ کا ایک خادم ہے اور آپ اس کو یہ کہہ رہے ہیں: تو میری خـ... میری بات کی، میرے حکم کی فرماں برداری نہ کر! حالانکہ وہ آپ کا خادم ہے اور خادم کو رکھا ہی کس لیے جاتا ہے؟ خدمت کے لیے، اور آپ اس سے کیا کہہ رہے ہیں؟ تو میری... میرے حکم کی تعمیل نہ کر، میرے حکم کی فرماں برداری نہ کر! حالانکہ خادم کو تو رکھا ہی خدمت کے لیے جاتا ہے، تو معلوم ہوا آپ جو اس کو روک رہے ہیں خدمت سے، معلوم ہوا یہاں حقیقی معنی مراد نہیں۔ بلکہ یہ آپ دراصل غصے میں اور دھمکی کے طور پر اس سے کہہ رہے ہیں۔ معلوم ہوا اس نے کوئی ایسی نافرمانی کی ہے، آپ دیکھـ... ہم دیکھتے بھی ہیں، اس طرح ہوتا بھی رہتا ہے، کوئی شخص اپنے ملازم وغیرہ سے سخت ناراض ہو جاتا ہے تو اس کو کیا کہتا ہے؟ تم میری بات نہ ماننا، تو یہ کیا اس کو روک رہا ہوتا ہے یا اس کو دھمکی دے رہا ہوتا ہے؟ دھمکی دے رہا ہوتا ہے کہ تم میری بات مان تو نہیں رہے اور میری بات بالکل نہ مانو، عنقریب تمہیں اس کے انجام کا اور اس کا پھل تمہیں چکھنا پڑے گا، اس کا انجام تمہاری آنکھوں کے سامنے آ جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: ولتهديد كقولك لخادمك لا تطع أمري، اور دھمکی کے لیے، جیسے کہ آپ کا اپنے خادم سے کہنا: لا تطع أمري، تو میرے حکم کی اطاعت نہ کر۔ و أملـ... وأما الاستفهام، یہ نہی کی بحث ختم ہوئی بھئی۔ بھئی، یہ یاد رکھیے، انہوں نے آپ کو بتلایا کہ امر کا صيغہ کبھی اپنے معنی اصلی سے نکل جاتا ہے اور اور معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس کی کئی مثالیں ذکر کیں۔ اسی طرح نہی کے اندر بھی دو تین مثالیں ذکر کر دیں۔ تو یہ معنی نہیں کہ پھر یہ انہی میں سے کسی معنی کے لیے استعمال ہو گا، جب اصل معنی سے نکلے گا تو یہ جو مثالیں ذکر کیں، صرف انہی میں وہ دوسرے معانی بند نہیں ہیں، بلکہ یہ بطور مثال کے ذکر کر دیے بھئی، اور بھی کسی اور معنی کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، لیکن جس معنی کے لیے بھی استعمال ہو گا، وہ اپنے معنی اصلی سے نکل کر اس معنی کے لیے استعمال ہو گا بھئی۔ وأما الاستفهام فهو طلب العلم بشيء، وأدواته الهمزة، وهل، وما، ومن، ومتى، وأيان، وكيف، وأين، وأنى، وكم، وأي. امر کے بعد نہی کی بات آئی تھی، وہ بھی مکمل ہو گئی بھئی، اور انشاء طلبی آپ نے پڑھا، پانچ چیزوں سے ہوتا ہے: امر ہے، نہی ہے، استفہام ہے، تمنا ہے اور ندا ہے۔ امر کی بات بھی مکمل ہوئی، نہی کی بات بھی مکمل ہوئی، اب استفہام کی بات آئی۔ کہتے ہیں: وأما الاستفهام، اور باقی استفہام جو ہے، فهو طلب العلم بشيء، کسی چیز کے علم کو طلب کرنا، کسی چیز کے علم کو طلب کرنا، یعنی کسی چیز کے جاننے کو طلب کرنا، تو یہ ہے استفہام بھئی، کہ آپ کسی چیز کے علم کو طلب کرتے ہیں، کسی چیز کے جاننے کو طلب کرتے ہیں کہ یہ چیز کس طرح ہے، کیسے ہے بھئی۔ وأدواته الهمزة، اور اس کے جو کلمات ہیں، جو اس کے آلات ہیں، جن کے ذریعے استفہام کیا جاتا ہے... أدوات جمع ہے اداة کی، اور اداة کہتے ہیں آلے کو، کس کو؟ آلے کو، وہ چیز جس کے ذریعے کوئی کام سرانجام دیا جائے، اسے آلہ کہتے ہیں۔ تو ادوات استفہام بیان ہو رہے ہیں، یعنی وہ کلمات جن کے ذریعے استفہام کیا جائے، جن کے ذریعے سوال پوچھا جائے، کسی چیز کے علم کو طلب کیا جائے، وہ کون کون سے کلمات ہیں؟ وہ آپ کو بتلانے لگے ہیں کہ الهمزة، ایک ہمزہ ہے، وهل، اور ہل ہے، ما ہے، اور من ہے، اور متى ہے، اور أيان ہے، اور كيف ہے، اور أين ہے، اور أنى ہے، اور كم ہے، اور أي ہے، ان کے ذریعے جب بھی سوال کیا جاتا ہے، ان ان کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے، تو یہ ادوات استفہام ہیں، یعنی آلات استفہام ہیں، ان کے ذریعے... ان کلمات کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے بھئی۔ فالهمزة لطلب التصور أو التصديق. بھئی، یہاں تصور اور تصدیق کا ذکر آیا بھئی، تصور اور تصدیق کا۔ آپ منطق کے اندر پڑھ چکے ہیں تصور اور تصدیق کے بارے میں۔ تصدیق کس کو کہتے ہیں؟ ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو ثابت کرنا، یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی کرنا، یہ ہے تصدیق بھئی۔ زيد قائم، تو دیکھیے اس میں زید کے لیے کیا ثابت کیا گیا؟ قیام کو۔ اور زيد ليس بقائم، یہاں پر زید سے قیام کی نفی کی گئی، تو یہ ہے تصدیق بھئی، جس میں ایک چیز کا ثبوت ہو دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی ہو دوسری چیز سے، تو یہ ہے تصدیق۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے، جو پورا کلام ہو، یعنی جملہ ہو، تام جملہ جس سے پوری بات کا پتہ چل رہا ہو، اس کو کہتے ہیں تصدیق بھئی۔ اور جو اس کے مقابلے میں جملہ نہ ہو، یعنی مفرد ہو، اس کو کہتے ہیں تصور بھئی، تصور۔ اب صرف زید... میں صرف زید آپ کے سامنے کہوں، آپ کو کوئی بات سمجھ میں آئی؟ نہیں بھئی، آپ کہیں گے بھئی، کیا ہوا زید کو؟ بات تو پوری کیجیے بھئی، تو زید پورا جملہ نہیں۔ یا صرف قائم کہوں، تو یہ بھی پورا جملہ نہیں، تو یہ مفرد ہیں اور ان کو کیا کہیں گے؟ تصور۔ تو زید... زید الگ تصور ہے اور قیام یہ الگ تصور ہے، لیکن جب اسی قیام کو آپ زید کے لیے ثابت کر دیتے ہیں یا اس سے اس کی نفی کر دیتے ہیں، تو یہی تصدیق بن جائے گی۔ تو تصدیق کے اندر اسناد ہو گا، کیا ہو گا؟ اسناد ہو گا، یعنی بات پوری ہو گی، یعنی جملہ ہو گا، کلام ہو گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ہے تصور اور تصدیق بھئی۔ بھئی، اب آپ مجھے بتائیے کہ یہ تصور ہے یا تصدیق ہے؟ 'میرا قلم'... شاباش، یہ تصور ہے، آپ کہیں گے کیا ہوا آپ کے قلم کو؟ بات تو پوری کیجیے۔ 'میری وہ کتاب جو آپ کے پاس تھی'... تصور، شاباش بھئی، حالانکہ کتنے سارے لفظ ہیں، لیکن یہ تو میں صرف ابھی آپ کو پہچان کروا رہا ہوں، 'میری وہ کتاب جو آپ کے پاس تھی'... دیکھیے، ابھی بات پوری نہیں ہوئی، وہ آگے آئے گا، تو مثلاً آگے کلام کس طرح پورا ہوتا ہے؟ 'میری وہ کتاب جو آپ کے پاس تھی، وہ میں نے 100 روپے کی خریدی تھی' بھئی، دیکھا؟ اب بات پوری ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لفظوں کو زیادہ لفظ ہوں اس کو دیکھ کر آپ نے دھوکے میں نہیں پڑنا بھئی، بس جب جملہ پورا ہو تو وہ ہے تصدیق، جملہ پورا نہ ہو تو یہ ہے تصور ہے بھئی۔ اب دیکھیے، دو چیزیں آ گئیں: ایک ہے تصور اور ایک ہے تصدیق۔ تو یاد رکھیے، یہ جو استفہام ہے، اس میں آپ نے پڑھا کسی چیز کے علم کو طلب کیا جاتا ہے، تو اب یہ علم جس کو طلب کیا جا رہا ہے، یا تو یہ تصور کے علم کو طلب کیا جائے گا یا تصدیق کے علم کو طلب کیا جائے گا، یا یوں کہیں: کبھی اس کے لیے تصور کو طلب کیا جائے گا، کبھی ان ادوات کے ذریعے تصدیق کو طلب کیا جائے گا، تو یاد رکھیے اس اعتبار سے یہ تین قسم کے ہیں۔ ان میں سے کچھ ادوات استفہام ایسے ہیں جن کے ذریعے صرف تصور کو طلب کیا جاتا ہے، لہٰذا آپ بھی جب تصور کو طلب کرنا ہو ان کو استعمال کریں، باقیوں کو استعمال نہیں۔ بعض مقا-... بعض ایسے ہیں جن کو تصور اور تصدیق دونوں کے بارے میں پوچھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو آپ بھی اس کو دونوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، تصور کے بارے میں پوچھنا چاہیں تب بھی اس کو استعمال کر سکتے ہیں، تصدیق کے بارے میں پوچھنا چاہیں تب بھی اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کو صرف تصدیق کے بارے میں پوچھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو آپ بھی ان کو ہمیشہ صرف تصدیق کے پوچھنے ہی کے لیے استعمال کیجیے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی، ہم علم معانی پڑھ رہے ہیں نا؟ علم معانی میں کسی لفظ کے ان احوال کو جانا جاتا ہے، لفظ عربی کے ان احوال کو جانا جاتا ہے جس سے وہ کیا ہو جائے؟ مقتضائے حال کے مطابق ہو جائے، تو جـ... تو لہٰذا یہاں پر بھی یہی آپ کو بتلائیں گے کہ مـ... کہ آپ کا لفظ جس لفظ کے ذریعے آپ استفہام کر رہے ہیں، سوال پوچھ رہے ہیں، اس کو مقتضائے حال کے مطابق ہونا چاہیے۔ مثلاً آپ تصور کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں تو وہ آپ کو وہی لفظ استعمال کرنا چاہیے جو کس لیے استعمال ہوتا ہے؟ تصور کے لیے جو جو لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ آپ تصدیق کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں تو وہ لفظ استعمال کیجیے جو تصدیق کے پوچھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا لفظ ہے جو دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے تو آپ بھی اس کو دونوں مواقع پر استعمال کر سکتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں تین قسم کے لفظ ہیں بھئی: بعض وہ ہیں جن کو تصور اور تصدیق دونوں کے طلب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور بعض ایسے ہیں جن کو صرف تصدیق کے طلب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور بعض ایسے ہیں جن کو صرف تصور کے استفہام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب تفصیل وہ یہی تفصیل آپ کو بتلانے لگے ہیں، کہتے ہیں: فالهمزة لطلب التصور أو التصديق، ہمزہ جو ہے وہ تصور یا تصدیق کی طلب کے لیے ہے، یعنی ہمزہ جو ہے، استفہام کے جو ادوات ہیں، یاد رکھیے ان میں ہمزہ اصل ہے، اصل ہے۔ تو اس کو طلب تصور کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں اور طلب تصدیق... تو کہتے ہیں: فالهمزة لطلب التصور أو التصديق، پس ہمزہ جو ہے وہ طلب تصور یا طلب تصدیق کے لیے ہے۔ والتصور... میں نے آپ کو بتلا دیا تصور کسے کہتے ہیں: مفرد کو، جس میں اسناد نہ ہو، جو جملہ نہ ہو بھئی، وہی بیان کر رہے ہیں: والتصور هو إدراك المفرد كقولك، اور تصور جو ہے، وہ مفرد کا ادراک کرنا ہے، جیسے آپ کا قول... بھئی، إدراك المفرد کہا، مفرد کا ادراک کرنا، ادراک کرنا یعنی اس کو جاننا، تصور کس چیز کا نام ہے؟ مفرد کے ادراک کا نام ہے، مفرد کے جاننے کا نام ہے، مفرد کا ذہن میں آنا یہ ہے تصور بھئی، اور اسناد کے ساتھ ہو تو یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ بھئی، دیکھیے یہ جو مناطقہ ہوتے ہیں نا، مناطقہ، یہ اصل میں بحث کرتے ہیں 'قول معقول' کے بارے میں۔ ایک ہم زبان سے بات کرتے ہیں، لیکن زبان سے جب بھی بات کریں گے، پہلے بات ذہن کے اندر آئے گی۔ تو جو ذہن کے اندر بات آئی ہے، وہی بات جس کو ابھی ہم نے زبان سے ادا کرنا ہے، وہی بات جب تک ذہن میں ہے، اس کو کہیں گے 'قول معقول'، کیا کہیں گے؟ 'قول معقول'، یعنی عقل کے اندر ہے یہ قول ابھی، ذہن کے اندر ہے۔ اور یہی بات جب زبان پر آ جائے گی، تو اس کو کہیں گے 'قول ملفوظ' بھئی، کیا کہیں گے؟ 'قول ملفوظ' کہیں گے۔ تو مناطقہ جو ہیں، یہ قول ملفوظ سے بحث نہیں اصل ان کا مقصد، وہ بات کرتے ہیں قول معقول سے جو ذہن میں بات آتی ہے۔ کیا آتی ہے؟ ذہن میں بات آتی ہے، لیکن جو بات ذہن میں آتی ہے، وہ دوسرے کو بتائی کس طرح جاتی ہے؟ لفظوں کے ذریعے بتائی جاتی ہے نا، تو ڈر-... یہ لفظ اس کے لیے آلہ ہیں دوسرے کو سکھانے کا اور بتانے کا۔ تو منطقی کی نظر اصل میں وہ ذہن میں آنے والی بات ہے، وہ اسی کے بارے میں بات کرے گا اور اس... وہی اس کے مدنظر ہو گی، لیکن چونکہ اس کو سمجھانے کے لیے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے، لہٰذا وہ الفاظ کی بھی بات کرے گا۔ کس کی بات کرے گا؟ الفاظ کی بھی بات کرے گا، لہٰذا... زيد قائم، یہ بات جس... جب آپ کے ذہن میں آئی اور آپ نے یقین کر لیا کہ ز-... زید کیا ہے؟ کھڑا ہے، یعنی ذہن میں آپ نے زید کے لیے قیام کو ثابت کر دیا، تو اس کو کہیں گے تصدیق، کیا کہیں گے؟ تصدیق۔ ابھی آپ کی زبان پر بھی یہ بات نہیں آئی، صرف ذہن میں ہے، لیکن منطقی کیا کہیں گے، یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے، تو... ہاں، اور جب اب سمجھانے کے لیے ہمیں لفظوں کے ذریعے بتانا پڑتا ہے کہ دیکھیے: زيد قائم، زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام ثابت ہے، اس لیے یہ تصدیق ہے۔ تو منطقی کی اصل نظر یہ لفظوں کی طرف نہیں ہوتی، اس کی اصل نظر کیا ہے؟ عقل میں آنے والی چیزیں جو ہیں، عقل میں جو بات آتی ہے اس کی طرف اس کی نظر ہوتی ہے، اس لیے انہوں نے کہا: هو إدراك المفرد، جو مفرد کا ادراک ہے، اس کو جاننا ہے، جاننا ہے یعنی ذہن میں اس کا آنا: كقولك، جیسے کہ آپ کا یہ قول: أ علي مسافر أم خالد، کیا علی مسافر ہے یا خالد؟ یعنی کیا علی سفر کرنے والا ہے یا خالد؟ تو دیکھیے، اب آپ یہ سوال کر رہے ہیں، آپ نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا علی سفر کرنے والا ہے یا خالد؟ اب اتنا تو آپ کو یقین ہے کہ سفر کسی نے کیا ہے، کوئی سفر کرنے والا ہے ضرور، لیکن تعین نہیں آپ کے ذہن میں کہ وہ سفر کرنے والا کون ہے، کہ میں سفر کرنے والا وہ علی ہے یا خالد، تو اتنا تو آپ کو پتہ کہ کوئی سفر کرنے والا ہے، لیکن کرنے والا کون؟ یہ تعین نہیں تھی آپ کے ذہن میں، آپ نے اس تعین کو طلب کیا۔ تعین تو جواب میں مثلاً وہ کہے گا کہ علی، سفر کرنے والا کون ہے؟ علی ہے۔ یا جواب میں مثلاً وہ کہتا ہے کہ خالد ہے جو بھی جواب ہوا بھئی۔ تو یہاں دیکھیے، آپ تعیین کو طلب کر رہے ہیں، دو چیزوں میں سے ایک کی تعیین کو طلب کر رہے ہیں، تو یہ دراصل آپ تصور کے بارے میں پوچھ رہے ہیں يا آپ تصور کا کو طلب کر رہے ہیں۔ کیا کر رہے ہیں؟ بھئی دیکھئے انھوں نے آپ کو بتلایا کہ حمزہ جو ہے، وہ طلب تصور کے لیے بھی آ سکتا ہے اور طلب تصدیق کے لیے بھی آ سکتا ہے اور طلب تصور کی مثال ذکر کر دی أَعَلِيٌّ مُسَافِرٌ أَمْ خَالِدٌ۔ کیا کہتے ہیں کہ یہ کس کی مثال ہے؟ طلب تصور کی مثال ہے۔ بھئی! آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ یہاں طلب تصور ہے يا طلب تصدیق ہے؟ یہ حروف کے یہ جو ادوات آئے، ان کے ذریعے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہ جو ادوات آئے، ان کے ذریعے سوال پوچھا جاتا ہے اور سوال تصور کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے، تصدیق کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے، مثلاً حمزہ کے اندر۔ حمزہ کے اندر تصور کے بارے میں بھی سوال ہو سکتا ہے اور تصدیق کے بارے میں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ سوال تصور کا ہو رہا ہے يا یہ سوال تصدیق کا ہو رہا ہے؟ بھئی! یاد رکھنا۔ اگر وہ جو سوال ہے، اس کا جواب نعم یا لا کے ساتھ ہو، کس کے ساتھ؟ نعم یا لا، ہاں یا نہیں کے ساتھ جواب بنتا ہو اس کا، تو یاد رکھیے وہاں دراصل تصدیق کو طلب کیا جا رہا ہوتا ہے اور جہاں پر جواب نعم یا لا کے ساتھ نہ دیا جا سکے بلکہ ایک چیز کی تعیین کرنا پڑے، وہ یاد رکھیے وہ طلب تصور ہو گا۔ کیا ہو گا؟ پہچان اب آپ کو ہو رہے گی کہ نہیں رہے گی بھئی؟ طلب تصدیق کے لیے ہے کوئی سوال، آپ کو کیسے پتہ چلے گا؟ اگر اس سوال کا جواب نعم یا لا کے ساتھ ہو تو پھر سمجھ جائیے کہ یہ دراصل تصدیق کو طلب کیا جا رہا ہے اس سوال کے ذریعے اور اگر اس سوال کا جواب نعم یا لا کے ساتھ نہ دیا جا سکے بلکہ تعیین کرنا پڑے تو پھر آپ سمجھ جائیے کہ دراصل کیا کیا جا رہا ہے؟ تصور کو طلب کیا جا رہا ہے۔ کیا اگلے ہفتے امتحانات شروع ہو رہے ہیں يا نہیں؟ یہ کس چیز کا سوال ہے؟ تصدیق کا یا تصور کا؟ کیا اگلے ہفتے امتحانات شروع ہو رہے ہیں؟ مجھے یہ بتائیے، یہ طلب تصور ہے یا طلب تصدیق ہے؟ کیا اگلے ہفتے امتحانات ہو رہے ہیں؟ طلب تصدیق ہے، کیسے پتہ چلا؟ ہاں کہ اس کا جواب یا تو نعم سے دینا پڑے گا یا لا کے ساتھ، کہ ہاں ہو رہے ہیں یا نہیں۔ تو یہ طلب تصدیق ہے۔ اب آپ مجھے بتائیے، أَعَلِيٌّ مُسَافِرٌ أَمْ خَالِدٌ؟ کیا علی سفر کرنے والا ہے يا خالد؟ طلب تصور ہے يا طلب تصدیق ہے؟ طلب تصور ہے۔ کیسے پتہ چلا آپ کو؟ ہاں، نعم یا لا کے ساتھ نہیں جواب دے سکتے بلکہ تعیین کو طلب کیا جا رہا ہے کہ آپ کو اتنا تو پتہ ہے کہ سفر کرنے والا کوئی ہے، یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے، اب آپ صرف تعیین چاہتے ہیں کہ وہ کون ہے، علی يا خالد ہے بھئی، علیہ الرحمہ۔ اچھا اور مثالیں ایک دو کر لیجیے تاکہ اور بات واضح ہو جائے کہ یہ طلب تصور ہے يا طلب تصدیق ہے بھئی۔ کل آپ سبق پڑھنے کے لیے کیوں نہیں آئے؟ جی، یہ طلب تصور ہے يا طلب تصدیق ہے؟ یہ طلب تصور ہے۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ کیونکہ اس کا جواب ہاں یا نہیں کے ساتھ نہیں دے سکتے۔ میں نے آپ سے کہا آپ کل سبق پڑھنے کیوں نہیں آئے تھے؟ آپ کہیں "ہاں"، جواب بنتا ہی نہیں یا آپ کہیں "نہیں"، جواب بنتا ہی نہیں، بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ ہاں، میں تعیین آپ سے دراصل طلب کر رہا ہوں، وہ وجہ کیا ہے، وہ علت کیا ہے جس کی وجہ سے آپ پڑھنے نہ آ سکے، تو یہ دراصل کیا کر رہا ہوں میں؟ طلب تصور کر رہا ہوں بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے اب یہی بیان کر رہے ہیں: كَقَوْلِكَ جیسے کہ آپ کا قول: أَعَلِيٌّ مُسَافِرٌ أَمْ خَالِدٌ کیا علی سفر کرنے والا ہے يا خالد؟ تَعْتَقِدُ أَنَّ السَّفَرَ حَصَلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَكِنْ تَطْلُبُ تَعْيِينَهُ آپ کا یہ اعتقاد ہے كَه أَنَّ السَّفَرَ حَصَلَ مِنْ أَحَدِهِمَا کہ سفر ان دونوں میں سے کسی ایک سے حاصل ہوا ہے، یعنی آپ کو یہ یقین تو ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک نے سفر کیا ضرور ہے وَلَكِنْ تَطْلُبُ تَعْيِينَهُ لیکن آپ کس کو طلب کر رہے ہیں؟ صرف اس کی تعیین کو طلب کر رہے ہیں کہ وہ ان دو میں سے وہ ایک کون سا ہے جس نے سفر کیا ہے بھئی، سفر کیا ہے۔ تو دیکھو، طلب تعیین، یہ کس کے اندر ہو گا؟ طلب تصور۔ وَلِذَا يُجَابُ بِالتَّعْيِينِ اور اسی وجہ سے اس کا جواب تعیین کے ساتھ دیا جائے گا فَيُقَالُ عَلِيٌّ مَثَلًا پس کہا جائے گا علی، مثال کے طور پر۔ تعیین کرتے ہوئے مثلاً کیا کہا جائے گا؟ علی یا مثلاً خالد بھئی۔ وَالتَّصْدِيقُ هُوَ إِدْرَاكُ النِّسْبَةِ اور تصدیق جو ہے، وہ نسبت کا ادراک کرنا ہے بھئی، کس چیز کا؟ نسبت کا ادراک کرنا، اس کا جاننا، یعنی ذہن میں آنا بھئی۔ دیکھیے، تصور تھا مفرد کا ادراک اور تصدیق کس کا نام ہے؟ تصور تھا مفرد کا ادراک اور تصدیق؟ بھئی عبارت پہ نظر رکھیے! نسبت کا ادراک، تصدیق کس چیز کا نام ہے؟ نسبت، نسبت بھئی وہ اسناد، اسناد۔ اسناد کس کو کہتے تھے؟ اسناد تام۔ ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہو، یہ ہے نسبت بھئی۔ مثلاً زید کی طرف آپ قیام کی نسبت کرتے ہیں کہ زَيْدٌ قَائِمٌ یا آپ زید کی طرف عدم قیام کی نسبت کرتے ہیں کہ زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ، یہ ہے نسبت بھئی۔ تو یہ اسناد تام مراد ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ کس کے اندر ہو گا اسناد تام؟ تصدیق کے اندر ہو گا۔ کہتے ہیں: وَالتَّصْدِيقُ هُوَ إِدْرَاكُ النِّسْبَةِ اور تصدیق جو ہے، وہ نسبت کا ادراک کرنا ہے نَحْوُ مثال کے طور پر: أَسَافَرَ عَلِيٌّ؟ کیا علی نے سفر کیا ہے؟ جی، اب بتائیے! یہ تصدیق کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے یا تصور کے بارے میں؟ أَسَافَرَ عَلِيٌّ؟ کیا علی نے سفر کیا ہے؟ یہ تصدیق ہے کہ اس کا جواب ہاں یا نہیں کے ساتھ ہو گا۔ تَسْتَفْهِمُ عَنْ حُصُولِ السَّفَرِ وَعَدَمِهِ آپ پوچھ رہے ہیں حصول سفر اور عدم حصول سفر کے بارے میں کہ سفر حاصل ہوا ہے یعنی پایا گیا ہے یا سفر نہیں پایا گیا۔ وَلِذَا يُجَابُ بِنَعَمْ أَوْ لَا اور اسی وجہ سے اس کا جواب نعم یا لا کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ وَالْمَسْؤُولُ عَنْهُ فِي التَّصَوُّرِ مَا يَلِي الْهَمْزَةَ اور مسئول عنہ وہ چیز جس کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔ مسئول عنہ کیا ہے؟ وہ چیز۔ وَالْمَسْؤُولُ یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ حمزہ استفہام جو ہے، اس کے ذریعے تصور کو بھی طلب کیا جاتا ہے اور تصدیق کو بھی بھئی۔ بھئی تصدیق میں تو نعم یا لا کے ساتھ جواب آئے گا۔ اب اگر تصور کو طلب کیا جا رہا ہے کس کے ذریعے؟ حمزہ کے ذریعے، تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کس چیز کے بارے میں، کس چیز کی تعیین کو طلب کیا جا رہا ہے؟ تو وہی بیان کر رہے ہیں کہ کہ مسئول عنہ، وہ چیز جو پوچھی جائے، پوچھی گئی ہے فِي التَّصَوُّرِ کس کے اندر؟ تصور میں مَا وہ چیز ہے يَلِي الْهَمْزَةَ ولی یلی کے معنی ہوتے ہیں ملے ہونے کے، ملنے کے مَا يَلِي الْهَمْزَةَ جو ملی ہوئی ہے حمزہ کے ساتھ۔ وہ لفظ جو حمزہ کے ساتھ ملا ہوا ہے، وہ مسئول عنہ ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ مسئول عنہ ہے تصور کے اندر۔ جیسے دیکھیے: أَعَلِيٌّ مُسَافِرٌ أَمْ خَالِدٌ حمزہ کے ساتھ کیا ملا ہوا ہے؟ عَلِيٌّ، عَلِيٌّ۔ یہ لفظ جو ملا ہوا ہے، اس کے بارے میں اور جو اس کا معادل ہے آگے، ام کے بعد ذکر ہو گا، بھئی دیکھیے۔ ذرا عبارت پہلے کتاب پر دیکھ لیجیے: وَالْمَسْؤُولُ عَنْهُ فِي التَّصَوُّرِ مَا يَلِي الْهَمْزَةَ وَيَكُونُ لَهُ مُعَادِلٌ يُذْكَرُ بَعْدَ أَمْ اور وہ چیز جس کے بارے میں پوچھا گیا ہو تصور میں، ما وہ چیز ہو گی يَلِي الْهَمْزَةَ جو کس کے ساتھ ملی ہوئی ہو؟ حمزہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو، یعنی وہ لفظ جو حمزہ کے ساتھ ملا ہوا ہے وَيَكُونُ لَهُ مُعَادِلٌ اور اس کا کوئی معادل ہو گا، معادل کا معنی برابر کا، اس کا کوئی برابر کا ہو گا يُذْكَرُ بَعْدَ أَمْ جو کس کے بعد ذکر کیا جائے گا؟ ام کے بعد۔ بھئی دیکھیے: أَعَلِيٌّ مُسَافِرٌ أَمْ خَالِدٌ کیا علی سفر کرنے والا ہے يا خالد؟ تو حمزہ استفہام کے ساتھ کون سا لفظ ملا ہوا ہے؟ علی، اس کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے اور اس کا ایک معادل ہے برابر کا، وہ کس کے بعد ذکر ہے؟ ام کے بعد، ام کے بعد کون سا لفظ ذکر ہے؟ خالد۔ تو علی اور خالد، علی اور خالد، تو یہ خالد، علی کے برابر کا ہے، یعنی آپ کو ان دو کے بارے میں آپ پوچھ رہے ہیں کہ ان دو میں سے تعیین کرو، یہ دونوں برابر ہیں، یا تو اس نے سفر کیا ہے یا اس نے سفر کیا ہے، یہ دونوں برابر ہیں، اس دو کے بارے میں مجھے پتہ نہیں شک ہے، آپ تعیین کر دیں ان دو برابر میں سے کون سا والا ہے جس کے ساتھ یہ سفر قائم ہے، جس نے یہ سفر کیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَالْمَسْؤُولُ عَنْهُ فِي التَّصَوُّرِ مَا يَلِي الْهَمْزَةَ وَيَكُونُ لَهُ مُعَادِلٌ يُذْكَرُ بَعْدَ أَمْ اور وہ چیز جس کے بارے میں پوچھا گیا ہے تصور کے اندر، وہ ہے جو ملا ہوا ہے حمزہ کے ساتھ اور اس کا کوئی معادل ہو گا جس کو ذکر کیا جائے گا ام کے بعد وَتُسَمَّى مُتَّصِلَةً اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ ام، ام متصلہ۔ یہ جو ام جو آگے حمزہ کے بعد آ رہا ہے، اس کو ام متصلہ کہتے ہیں۔ کب؟ جب سوال تصور کے بارے میں ہو، جب سوال کس کے بارے میں ہو؟ تصور کے بارے میں ہے اور جہاں دو برابر چیزیں، ایک حمزہ کے ساتھ اور ایک ام کے ساتھ ذکر ہوں تو یہ جو ام آتا ہے، اس کو ام متصلہ کہتے ہیں، ام متصلہ بھئی۔ چلیے بس بھئی، باقی کل کریں گے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔