Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-027

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔27‏ والتمني نحو: أَلَا أَيُّهَا اللَّيْلُ الطَّوِيلُ أَلَا انْجَلِي بِصُبْحٍ وَمَا الإِصْبَاحُ مِنْكَ بِأَمْثَلِ والإرشاد نحو: إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ والتهديد نحو: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ گذشتہ سبق میں ہم نے انشاء کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ آپ نے پڑھا ‏کہ انشاء دو قسم پر ہے: یا تو وہ طلبی ہوگا یا غیر طلبی ہوگا۔ انشاءِ طلبی وہ ‏ہے جو ایسے مطلوب کا تقاضا کرے جو طلب کے وقت حاصل نہ ہو، جو طلب ‏کے وقت حاصل نہ ہو بھئی۔ اس لیے کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ طلب ‏حقیقت میں کہتے ہی اس کو ہیں کسی چیز کے حاصل کرنے کا ارادہ کرنا۔ یہ ‏کیا ہے؟ طلب ہے طلب، اور کسی چیز کے حاصل کرنے کا ارادہ انسان تبھی ‏کرتا ہے جب وہ چیز اس کے پاس نہ ہو، اس کو حاصل نہ ہو۔ اگر ایک چیز ‏حاصل ہے تو پھر تو اس کی تحصیل نہیں ہو سکتی بھئی۔ جب ایک چیز کیا ‏ہے؟ کسی چیز کے حاصل کرنے کا ارادہ کرنا، تو حاصل کرنے کا معنیٰ ہی ‏یہ ہوا کہ وہ چیز معلوم ہوا آپ کے پاس نہیں ہے۔ ایک چیز آپ کے پاس ہو پھر ‏اس کے حاصل کرنے کا ارادہ کریں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا بھئی، سمجھ میں ‏آیا بھئی؟ جی، تو اسی لیے انہوں نے کہا کہ ایسا مطلوب جو طلب کے وقت ‏حاصل نہ ہو بھئی، اور غیر طلبی انشاء وہ ہے جو ایسا نہ ہو جس میں یعنی ‏مطلوب غیر حاصل کا تقاضا نہ ہو، جیسے مثلاً قسم ہے بھئی، قسم۔ اب قسم کیا ‏ہے؟ واللہِ، تو کہ میں قسم کھاتا ہوں اللہ کی۔ اب دیکھیے اس کے اندر کسی قسم ‏کی طلب وغیرہ نہیں ہے، تو یہ کیا ہے؟ انشاء غیر طلبی ہے، یا افعال مدح و ‏ذم وغیرہ ہیں بھئی، کسی کی انسان تعریف کرتا ہے جیسے مثلاً کہتے ہیں: نِعْمَ ‏الرَّجُلُ زَيْدٌ، زید کتنا اچھا آدمی ہے! تو اب اس میں کسی قسم کی طلب نہیں، تو ‏یہ انشاء غیر طلبی ہے۔ پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ انشاء طلبی جو ہے وہ پانچ چیزوں کے ساتھ ‏ہوگا بھئی، پانچ چیزوں کے ساتھ: امر، نہی، استفہام، تمنا، اور ندا۔ اس کے بعد ‏امر کی تفصیل بیان کرنا شروع کی تھی اور بتلایا تھا کہ امر وہ کسی فعل کو ‏طلب کرنا ہے استعلاء کے طریقے پر، اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے اور ‏اونچا سمجھتے ہوئے، اور اس کے چار صیغے ہیں۔ یہاں میں نے آپ کو بتلایا ‏تھا کہ انہوں نے چار صیغے اس لیے کہا کیونکہ یہ ہم علمِ بلاغت کی کتاب ‏پڑھ رہے ہیں۔ علماءِ صرف اور نحو کی کتابیں آپ دیکھیں گے تو وہاں آپ کو ‏ملے گا کہ امر کے دو صیغے ہیں: ایک بے لام اور ایک با لام۔ ایک مثلاً ‏اِضْرِبْ جیسے صیغے ہیں جن میں لام نہیں آتا، اور ایک جو ہے لِيَضْرِبْ ‏جیسے صیغے ہیں جن کے شروع میں کیا آتا ہے؟ لام آتا ہے۔ تو وہاں آپ کو ‏یہی بتلائیں گے کہ امر کے دو ہی صیغے ہیں، نحو کے اندر بھی یہی بتلائیں ‏گے اور صرف میں بھی۔ لیکن یہ علمِ بلاغت ہے اور علمِ بلاغت والے ہر اس ‏لفظ کو امر کہتے ہیں جس کا معنیٰ امر والا ہو، کیونکہ یہ بحث معنیٰ سے ‏کرتے ہیں تو جب امر والا معنیٰ آ جائے تو وہ کہتے ہیں یہ امر ہے، چاہے وہ ‏امر کا صیغہ نہ ہو بھئی۔ تو علماءِ صرف اور نحو وہ بحث کرتے ہیں لفظوں ‏سے اور لفظوں کے اعتبار سے تو صرف یہی دو صیغے جو ہیں، دو قسم کے ‏جو صیغے ہیں، یہ طلبِ فعل کے لیے وضع ہیں بھئی۔ جبکہ علماءِ اصول یعنی ‏علماءِ اصولِ فقہ اور علماءِ بلاغت وہ بحث کرتے ہیں معنیٰ سے، تو وہ ہر اس ‏لفظ کو امر کہیں گے جس کا معنیٰ امر والا ہو۔ تو لہٰذا ان کے نزدیک اسمِ فعل ‏جو ہے جو امر کے معنیٰ میں ہو، وہ بھی کیا ہے؟ امر ہے۔ اسی طرح وہ ‏مصدر جسے فعلِ امر کا قائم مقام کر دیا گیا ہو جیسے سَعْيًا فِي الْخَيْرِ، یہ بھی ‏کیا ہے علماءِ بلاغت کے نزدیک؟ امر ہی ہے بھئی۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کبھی کبھار امر کا صیغہ اپنے معنیٰ ‏اصلی سے نکل جاتا ہے دوسرے معانی کی طرف، جن کا پتہ سیاقِ کلام سے ‏اور قرائنِ احوال سے چلتا ہے۔ سیاقِ کلام یعنی کلام کا چلاؤ، کلام کا چلنا بتا ‏دیتا ہے کہ یہاں پر صیغہ تو امر کا آیا ہے لیکن امر والا معنیٰ مراد نہیں ہے ‏بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے بھئی، ایک شخص دعا کر رہا ہے: ‏اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، تو اب دیکھیے اغْفِرْ صیغہ تو امر کا ہے لیکن یہاں وہ کس سے ‏مخاطب ہے؟ ذاتِ باری تعالیٰ سے، اور اللہ کے سامنے یہ صیغہ لے کر آیا اور ‏روتے ہوئے گڑگڑاتے ہوئے یہ صیغہ اس کی زبان پر آیا، تو پتہ چلا یہاں ‏استعلاء کے طریقے پر نہیں ہے بلکہ کس طریقے پر ہے؟ عاجزی کے طریقے ‏پر ہے، تو چنانچہ اس کو دعا کہا جاتا ہے بھئی، دعا کہا جاتا ہے۔ میں نے آپ ‏کو بتلایا تھا کہ ایک ہے امر، ایک ہے دعا، ایک ہے التماس بھئی۔ امر کہتے ‏ہیں طلبِ فعل کو استعلاء کے طریقے پر، یہ ہے امر، یہ امر کا حقیقی معنیٰ ‏ہے۔ اور اگر طلبِ فعل ہو عاجزی کے طریقے پر، تو یہ کیا ہے؟ دعا، یا یوں ‏کہیں طلبِ فعل ہو اپنے آپ کو ادنیٰ سمجھتے ہوئے، تو یہ کیا ہے؟ دعا ہے۔ ‏اور اگر طلبِ فعل ہو برابری کے طریقے پر، مساوات کے طریقے پر، تو اس ‏کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو التماس کہتے ہیں بھئی، التماس۔ تو دیکھیے انہوں نے بتلایا کہ کبھی کبھار امر کا صیغہ اپنے معنیٰ اصلی سے ‏نکل جاتا ہے۔ معنیٰ اصلی کیا تھا امر کا؟ طلبُ الفعلِ علٰی وجہِ الاستعلاءِ بھئی۔ ‏تو طلبِ فعل بھی ہو اس کے اندر اور استعلاء بھی ہو، استعلاء کے طریقے پر ‏ہو طلبِ فعل۔ تو جب معنیٰ اصلی سے نکل جائے گا تو پھر کبھی کبھار طلبِ ‏فعل تو اس میں ہوگی، طلبِ فعل تو ہوگی لیکن استعلاء نہیں ہوگا، جیسے دعا ‏تھی بھئی۔ طلبِ فعل ہے لیکن استعلاء نہیں، اور کبھی سِرے سے طلبِ فعل ‏ہوگی ہی نہیں اس کے اندر، تو دونوں چیزوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں ‏پائی جائے گی تو امر اپنے اصل معنیٰ پر باقی نہ رہا۔ اگر اپنے اصل معنیٰ پر ‏ہے تو کیا دو چیزیں ضروری؟ طلبِ فعل بھی ضروری اور اس کے اندر ‏استعلاء بھی ضروری اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے بھئی، اور اگر دونوں ‏میں سے چاہے ایک چیز منتفی ہو جائے، ایک چیز نہ پائی جائے یا دونوں نہ ‏پائی جائیں، تو صیغہِ امر معلوم ہوا اپنے معنیٰ اصلی سے نکل گیا ہے، اور اس ‏کا پتہ سیاقِ کلام سے چلے گا، یا اسی طرح کوئی اور قرینہ وغیرہ بتلائے گا ‏کہ یہ اس وقت طلبِ فعل علٰی وجہِ الاستعلاء کے لیے نہیں ہے بھئی، صورت ‏سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنیٰ تھا کہ کبھی کبھار امر کا صیغہ اپنے معنیٰ اصلی سے نکل جاتا ہے ‏دوسرے معانی کی طرف، اور اس کی مثال ایک تو دعا ذکر کی: رَبِّ أَوْزِعْنِي ‏أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ، اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کی ‏نعمت کا شکر ادا کروں۔ تو أَوْزِعْ، أَوْزِعْ صیغہِ امر آیا، لیکن یہاں اور یہاں ‏طلبِ فعل تو ہے لیکن استعلاء کے طریقے پر نہیں ہے بلکہ عاجزی کے ‏طریقے پر ہے، لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ دعا بھئی۔ اور التماس کی مثال انہوں ‏نے ذکر کی جیسے آپ اپنے ساتھی سے، اپنے برابر والے شخص سے کہتے ‏ہیں: أَعْطِنِي الْكِتَابَ، مجھے وہ کتاب دے دیجیے۔ اب یہ یہاں اپنے آپ کو بڑا ‏سمجھتے ہوئے نہیں کہہ رہے، نہ اپنے آپ کو ادنیٰ سمجھتے ہوئے، بلکہ کس ‏طریقے پر کہہ رہے ہیں؟ برابری کے طریقے پر، تو اس کو التماس کہتے ہیں ‏عربی میں، اور اردو میں بھی التماس کا لفظ استعمال ہوتا ہے یا اس کے لیے ‏کیا لفظ استعمال کر سکتے ہیں آپ؟ درخواست کا، یا گزارش کا بھئی، گزارش۔ اب آگے اسی کی اور مثالیں چل رہی ہیں جہاں صیغہِ امر اپنے معنیٰ اصلی ‏سے نکل گیا ہو۔ آگے کہتے ہیں: وَالتَّمَنِّي، اور تمنا بھئی، تمنا، کسی چیز کی ‏تمنا کرنا۔ میں نے بتلایا تھا ایک ہے تمنا، ایک ہے ترجی بھئی۔ تمنا میں بھی ‏کسی چیز کو طلب کیا جاتا ہے، ترجی میں بھی کیا ہے؟ طلب یعنی اس میں ‏طلب ہوتی ہے، لیکن تمنا اس کو کہیں گے جہاں اس چیز کا حاصل ہونا ممکن ‏ہی نہ ہو، یا ممکن تو ہو لیکن نہایت مشکل ہو، تو اس کو کیا کہیں گے؟ تمنا۔ ‏اور اگر طلبِ فعل ہے اور اس چیز کا الحصول ممکن ہے بھئی، کیا ہے؟ ممکن ‏ہے، آسانی سے اس کی توقع ہے امید ہے، تو اس کو کہتے ہیں ترجی بھئی، کیا ‏کہتے ہیں؟ ترجی کہتے ہیں بھئی۔ وَالتَّمَنِّي نَحْوُ: أَلَا أَيُّهَا اللَّيْلُ الطَّوِيلُ أَلَا انْجَلِي بِصُبْحٍ وَمَا الإِصْبَاحُ مِنْكَ بِأَمْثَلِ یاد رکھیے یہ امرؤالقیس کا شعر ہے بھئی، امرؤالقیس کا۔ امرؤالقیس عرب کا ‏مشہور فصیح و بلیغ شاعر گزرا ہے، زمانہِ جاہلیت کے اندر ظہورِ اسلام سے ‏پہلے یہ بہت مشہور شاعر گزرا ہے عرب کا بھئی، بڑا ہی فصیح و بلیغ، اور ‏سبعہ معلقات کے اندر آپ اس کے اشعار پڑھیں گے بھئی، تو اس کا جو معلقہ ‏ہے اسی میں سے یہ ایک شعر ہے بھئی، ایک شعر۔ اور یہ امرؤالقیس یاد ‏رکھیے بڑا فصیح و بلیغ شاعر تھا، بڑی شہرت تھی اس کی اور یہ ملکِ ضلیل ‏کے نام سے مشہور تھا بھئی، کس نام سے؟ ملک، ملک بادشاہ، ضلیل ضاد کے ‏ساتھ بھئی، مبالغے کا صیغہ ہے، بڑا گمراہ بھئی، بڑا گمراہ بادشاہ۔ ملکِ ضلیل ‏کا کیا معنیٰ ہوا؟ بڑا گمراہ بادشاہ۔ تو یہ اس نام سے مشہور تھا۔ وجہ اس کی یہ ‏کہ یہ عورتوں کے پیچھے گھومتا پھرتا تھا بھئی، بڑا عاشق مزاج آدمی تھا، ‏خصوصاً اس کی چچازاد بہن عنیزہ اس کے ساتھ اس کا معاشقہ بڑا مشہور تھا ‏اور اس کی محبت میں اشعار وغیرہ کہا کرتا تھا بھئی۔ اور عربوں کو اللہ نے ‏بڑا قوی حافظہ دیا تھا، اشعار تو ان کو سنتے ہی یاد ہو جاتے تھے اور ہر ‏طرف پھیل جاتے تھے بھئی، تو یہ اس کے عشق میں محبت میں اشعار کہتا ‏تھا۔ تو یہاں بھی اسی طرح وہ شعر کہہ رہا ہے، دیکھیے بھئی: أَلَا أَيُّهَا اللَّيْلُ ‏الطَّوِيلُ، أَلَا حرفِ تنبیہ ہے بھئی، تنبیہ حرفِ تنبیہ۔ تو اردو میں اس کا ترجمہ ‏کبھی 'خبردار' سے کیا جاتا ہے، کبھی 'آگاہ رہو'، کبھی 'سنو' کے ساتھ اس کا ‏ترجمہ کر دیا جاتا ہے، موقع محل کے مطابق بھئی۔ أَلَا أَيُّهَا اللَّيْلُ الطَّوِيلُ، أَلَا ‏حرفِ تنبیہ آیا، أَيُّهَا اللَّيْلُ الطَّوِيلُ اے لمبی رات! اے طویل رات! أَلَا پھر حرفِ ‏تنبیہ آیا بھئی، انْجَلِي، انْجَلِي، انْجَلِي کے اندر یاد رکھیے یہ یا جو ہے یا، یہ یا ‏دیکھ کر آپ یہ نہ سمجھیے کہ یہ واحد مونث حاضر کا صیغہ ہے بھئی۔ ‏اِضْرِبْ، اِضْرِبَا، اِضْرِبُوا، اِضْرِبِي، دیکھو اِضْرِبِي یہ کون سا صیغہ ہے؟ واحد ‏مونث حاضر کا صیغہ ہے امر کا، تو آپ اس یا کو دیکھ کر یہ نہ سمجھیے کہ ‏یہ واحد مونث حاضر کا صیغہ ہے بلکہ یہ یا اشباع کی ہے، اشباع، الف ش با ‏الف ع، اشباع۔ اشباع کا معنیٰ ہے کھینچنا، لمبا کرنا۔ تو دیکھیے لام کے نیچے صرف کسرہ تھا اور صرف کسرہ ہو تو اس کو ‏کیسے پڑھیں گے؟ انْجَلِ، تو لام کے نیچے صرف کیا تھا؟ کسرہ تھا انْجَلِ، پھر ‏اس کے ساتھ اس حرکت کو لمبا کرنے کے لیے یا ملا دی گئی بھئی۔ کسرے ‏کے ساتھ یا ملا دی جائے تو کسرہ لمبا پڑھا جاتا ہے، فتحہ کے ساتھ الف ملا ‏دیا جائے تو اس فتحہ کو لمبا کھینچا جاتا ہے، اور ضمہ کے ساتھ واؤ آ جائے ‏تو پھر اس ضمہ کو کیا کیا جاتا ہے؟ لمبا کیا جاتا ہے، کھینچا جاتا ہے۔ تو یہاں ‏پر بھی یہ جو یا ہے یہ یاۓ اشباع ہے، اشباع کی، اسی کسرے کو لمبا کرنے ‏کے لیے بھئی۔ اور اس کو یہاں کیوں ذکر کیا؟ کیوں لایا گیا؟ بھئی، دراصل یہ اشعار کے ‏خاص اوزان ہوتے ہیں۔ آگے چل کر آپ پڑھیں گے بھئی، ان اشعار کے خاص ‏اوزان ہوتے ہیں، ایک حرکت کے بدلنے سے پورے شعر کا وزن خراب ہو ‏جاتا ہے۔ تو جس کو اللہ نے ذوق دیا ہوتا ہے وہ ذرا سی حرکت ادھر ادھر ہو ‏شعر کے اندر، وزن کے مطابق نہ ہو، عام آدمی کو تو پتہ نہیں چلے گا لیکن ‏جس کو اللہ نے ذوق دیا ہوگا وہ سنتے ہی فوراً کہہ دے گا کہ اس شعر کا وزن ‏صحیح نہیں بھئی۔ بھئی شعر کے اندر ایک خاص ترنم ہوتا ہے، ایک خاص ‏روانگی اور سلاست ہوتی ہے، اگر ایک حرکت ادھر ادھر ہو جائے، سکون کی ‏جگہ حرکت آ جائے یا حرکت کی جگہ سکون آ جائے تو وہ وزن سارا بگڑ ‏جاتا ہے، وہ ترنم اس میں نہیں رہتا، وہ روانگی اور سلاست اس کے اندر نہیں ‏رہتی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اشعار کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں، تو ‏اس وزن کے اس کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں پر کیا کیا گیا؟ یا کا یہ یا کو ‏لمبا کیا گیا بھئی، یا کو کسرے کو لمبا کیا گیا۔ اور پھر اس میں یہ یاد رکھیے کہ اشعار میں ایسا ہوتا ہے کہ اشباع کیا جاتا ‏ہے۔ اشباع کا کیا معنیٰ؟ حرکت کو کھینچنا، لمبا کرنا۔ کبھی ضمہ کو کھینچ کر ‏لمبا کر دیا جائے گا، کبھی فتحہ کو کھینچ کر لمبا کر دیا جائے گا، کبھی کسرہ ‏کو کھینچ کر لمبا کر دیا جائے گا۔ تو ضمہ لمبا ہوگا کہ اس کے ساتھ واؤ ملایا ‏جائے، فتحہ لمبا ہوگا اس کے ساتھ الف ملایا جائے، اور کسرہ لمبا ہوگا اس ‏کے ساتھ یا ملائی جائے۔ تو یہ ساتھ ملاتے تو ہیں لیکن لکھتے نہیں ہیں۔ کتابت ‏میں نہیں آتے، صرف پڑھنے میں آتے ہیں، تلفظ میں آتے ہیں، لکھنے میں ‏نہیں آتے یہ جو اشباع کی یا، واؤ، یا الف ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں پر یہ یا لکھی ‏بھی گئی ہے باقاعدہ بھئی، باقاعدہ، تو لکھنا اس کا صحیح نہیں ہے بھئی، یہ ‏لکھنا کیا ہے؟ غلطی۔ لیکن بہرحال یہ شعر کے اندر یہ لفظ روایات میں اسی ‏طرح نقل ہوتا چلا آیا ہے یا کے ساتھ بھئی، یا کے ساتھ نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ ‏البتہ علماء ساتھ ساتھ تصریح کرتے ہیں کہ یہ یا ہونی نہیں چاہیے لیکن یہ نقل ‏اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے یا کے ساتھ، اس لیے ہم بھی یا کے ساتھ لکھ رہے ‏ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انْجَلَى يَنَجَلِي، انْجَلَى کے معنیٰ ہوتے ہیں روشن ہونے کے، روشن ہونے کے۔ ‏انْجَلَى يَنْجَلِي بھئی ہے تو صیغہ امر کا، لیکن آخر میں کسرہ ہے۔ آپ کہیں گے ‏امر کا تو آخر مجزوم ہوتا ہے، جزم آتا ہے۔ بھئی گردانیں اگر آپ نے پڑھی ‏ہوں آپ کو پتہ ہے امر کا صیغہ ہو اور صیغہ حاضر کا، اور آخر میں کوئی ‏حرکت آ رہی ہو تو اس کا مطلب ہے وہاں کوئی حرفِ علت حذف ہوا ہے۔ اصل ‏میں تو ہے اِضْرِبْ، دیکھو با آخر میں ساکن ہے، با آخر میں ساکن، لیکن اگر ‏آخر میں حرکت آ جائے مثلاً اِرْمِ، اِرْمِ، ہمزہ را میم، میم کے نیچے کسرہ۔ اب ‏یہ میم کے کسرے نے بتلا دیا کہ بھئی صیغہ تو امر کا ہے، یہاں تو جزم آنا ‏چاہیے تھا لیکن کسرہ آ رہا ہے، تو یہ کسرہ بتلاتا ہے یہاں کوئی حرف حذف ‏ہوا ہے، اور کسرے کے مناسب کیا ہے یہاں؟ یا، معلوم ہوا یہاں یا حذف ہوئی ‏ہے بھئی۔ رَمَى يَرْمِي، تو تَرْمِي، تَرْمِي سے امر بنایا، تو کیا بن گیا؟ اِرْمِ، یا آخر ‏سے گر گئی بھئی۔ تو یہاں بھی اسی طرح یہاں یا جو تھی صیغے کی اپنی وہ ‏یا گر گئی بھئی، اور یہ یا اشباع والی ہے۔ یہاں تک بات سب کو اچھی طرح ‏سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انْجَلَى يَنْجَلِي کے معنیٰ کیا ہوتے ہیں؟ روشن ہونے کے۔ انْجَلِي تو روشن ہو ‏جا۔ أَلَا أَيُّهَا اللَّيْلُ الطَّوِيلُ أَلَا انْجَلِي اے طویل رات! اے لمبی رات! تو روشن ہو ‏جا بِصُبْحٍ صبح کے ساتھ، تو روشن ہو جا صبح کے ساتھ، وَمَا الإِصْبَاحُ مِنْكَ، ‏آپ کی کتابوں میں 'منكِ' تو نہیں ہے؟ کاف کے نیچے کسرہ تو نہیں ہے بھئی؟ ‏ہاں 'منكَ' ہونا چاہیے، کاف پر فتحہ کریں بھئی اگر کسرہ ہے یہ غلطی ہے ‏بھئی کتابت کی۔ کیونکہ یہ کاف ضمیر یہ خطاب ہو رہا ہے لیل کو لیل، رات ‏کو، اور لیل کا لفظ مذکر ہے مونث نہیں ہے بھئی۔ وَمَا الإِصْبَاحُ مِنْكَ، اصباح کا ‏أَصْبَحَ يُصْبِحُ کا معنیٰ صبح ہونا، وَمَا الإِصْبَاحُ مِنْكَ بِأَمْثَلِ، امثل یہاں بمعنیٰ ‏افضل کے ہے۔ امثل کس معنیٰ میں ہے؟ افضل، وَمَا الإِصْبَاحُ مِنْكَ بِأَمْثَلِ اور ‏صبح بھی کوئی تیرے مقابلے میں افضل نہیں ہے۔ صبح بھی تجھ سے کوئی افضل نہیں ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا ‏بھئی؟ دوبارہ سنیے ترجمہ۔ الا ایہا اللیل الطویل الا انجلی۔ اے لمبی رات! روشن ‏ہو جا بالصبح صبح کے ساتھ۔ و ما الاصباح منک بامثل۔ اور صبح بھی کوئی ‏تجھ سے افضل نہیں ہے بھئی۔ اصبح یصبح اصباح کا کیا معنی ہوتا ہے؟ صبح میں داخل ہونا، صبح کے وقت ‏کا ہونا بھئی۔ تو صبح بھی تجھ سے کوئی افضل نہیں ہے۔ بھئی! یہ امرؤ القیس میں نے بتایا، ‏بڑا عاشق مزاج آدمی تھا۔ تو یہ اب ایسی ہی کوئی رات آئی بھئی اور یہ عشق ‏کی آگ میں جل رہا ہے اور سخت تکلیف میں اور وہ رات طویل سیاہ رات ہے۔ ‏آپ جانتے ہیں بھئی، انسان اچھی خوشی کی حالت میں ہو، پرسکون ہو تو وقت ‏کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا، وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔ لیکن اگر تکلیف ‏کے اندر ہو تو وقت گزرتا ہی نہیں، آسانی سے بیماری وغیرہ میں اس کا ‏تجربہ ہو جاتا ہے۔ بھئی انسان بیمار ہوتا ہے تو رات گزرنے میں ہی نہیں آتی ‏کیونکہ انسان تکلیف کے اندر ہوتا ہے بھئی۔ تو یہاں، یہاں تو یہ عشق کی آگ ‏میں جل رہا ہے جو سب سے بڑی بیماری تھی، تو وہ رات گزر ہی نہیں رہی۔ یہ سخت تکلیف اور پریشانی کے عالم میں اور رات گزرنے میں ہی نہیں آ ‏رہی۔ تو چنانچہ وہ اسی رات کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے طویل ‏رات! انجلی بالصبح روشن ہو جا کس کے ساتھ؟ صبح کے ساتھ روشن ہو جا، ‏صبح کے ساتھ روشن ہو جا۔ اور پھر آگے کہتا ہے و ما الاصباح منک بامثل ‏اور صبح بھی تجھ سے کوئی افضل نہیں ہے۔ یہ نہیں کہ صبح ہوتے ہی میرے ‏غم ختم ہو جائیں گے۔ تو صبح بھی تیری جیسے، میری رات کے اندر میرے ‏غموں نے مجھے گھیرا ہوا ہے، صبح بھی انہی غموں نے مجھے گھیرا ہوا ‏ہوگا، تو صبح بھی کوئی ہو بھی جائے تو صبح بھی تجھ سے کوئی افضل نہیں ‏ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دوبارہ شعر کا ترجمہ ایک دفعہ دیکھ لیجیے: الا ایہا اللیل الطویل الا انجلی ‏بالصبح و ما الاصباح منک بامثل۔ اے طویل رات! روشن ہو جا صبح کے ساتھ ‏اور صبح بھی تجھ سے کوئی افضل نہیں ہے۔ مقام استشہاد ہے "انجلی"۔ بات کس کی چل رہی ہے؟ وہ امر جو اپنے معنی ‏اصلی سے نکل گیا ہو۔ معنی اصلی سے امر کا اصلی معنی کیا تھا؟ طلب فعل ‏ہو اور استعلاء کے طریقے پر ہو۔ تو یہاں پر صیغہ امر کیا آیا؟ انجلی۔ اور یہ ‏صیغہ امر یہ ہے مقام استشہاد اور یہ مثال کس کی ذکر کی؟ تمنا کی، یعنی یہ ‏امر جو آیا یہ تمنا کے لیے ہے۔ یہ علی وجہ الاستعلاء نہیں۔ بھئی تمنا میں بھی طلب فعل ہوتا ہے، امر میں بھی ‏طلب فعل ہے لیکن تمنا کے اندر استعلاء کے طریقے پر نہیں ہے بھئی، سمجھ ‏میں آیا بھئی؟ تو یہ اپنے معنی اصلی سے نکل گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ‏کو تمنا پر کیوں محمول کیا گیا؟ کیا دلیل ہے اس بات کی کہ یہ صیغہ امر اس ‏سے تمنا مراد ہے؟ وہ تمنا کر رہا ہے کہ صبح ہو جائے۔ کیا کر رہا ہے؟ صبح ‏ہونے کی تمنا کر رہا ہے، اس کو کس طرح تمنا پر محمول کیا گیا؟ بھئی ‏دیکھیے! وہ خطاب کس کو کر رہا ہے؟ رات کو۔ تو وہ خطاب رات کو کر رہا ‏ہے اور رات سے روشن ہو، روشن ہو جانے کو طلب کر رہا ہے۔ کس چیز کو ‏طلب کر رہا ہے؟ روشن ہو جانے کو طلب کر رہا ہے اور کیا رات کی قدرت ‏میں ہے کہ وہ روشن ہو جائے صبح میں؟ جی؟ نہیں، رات کی قدرت میں ہی ‏نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ خطاب رات کو کر رہا ہے اور اس ‏سے روشن ہو جانے کو طلب کر رہا ہے اور رات کی قدرت میں ہی نہیں ہے ‏کہ وہ روشن ہو جائے بھئی، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ اپنے حقیقی معنی میں نہیں۔ یہ ‏امر کیا ہے؟ حقیقی معنی میں نہیں۔ پھر اس کو تمنا پر کیوں محمول کیا گیا؟ ‏اور بھی تو معانی ہیں جیسے یہ زجر اور دعا ہے، التماس ہے، نیچے تحدید ‏ہے، ارشاد ہے، تعجیز، اور کسی معنی پر محمول نہیں کیا گیا بلکہ کس معنی ‏پر محمول کیا گیا؟ تمنا۔ بھئی وجہ یہ، وجہ یہ کہ شاعر اس سے ماقبل اور ‏مابعد کے اشعار کے اندر اپنے غموں کا ذکر کرتا ہے کہ مجھے غموں نے ہر ‏طرف سے گھیر رکھا ہے، تکالیف اور پریشانیوں نے میرا احاطہ کیا ہوا ہے ‏اور پھر رات کی تاریکی کا ذکر کرتا ہے کہ خوب تاریک سیاہ رات ہے اور ‏اس نے ہر چیز کو اپنے، ہر چیز کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے جس طرح ‏سمندر کی موجیں ہوتی ہیں، وہ کسی چیز کو گھیر لیتی ہیں تو کسی طرف ‏نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ تو یہ جو باتیں اس سے ماقبل، مابعد میں وہ ‏ذکر کر رہا ہے، ان سے پتا چلتا ہے، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کو توقع ‏اور امید ہی نہیں ہے کہ یہ اتنی طویل رات ہے، اس تاریکی نے اس طرح ہر ‏چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے گویا شاعر کو توقع ہی نہیں ہے اب اس ‏کے روشن ہو جانے کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ ماقبل اور مابعد کے اشعار سے کیا اندازہ ہوتا ہے؟ ‏شاعر اپنی پریشانی، غم، تکلیف کو ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ رات ہر ‏طرف چھائی ہوئی ہے، اس کی تاریکی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ‏ہے، تو اس کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کو یوں لگ رہا ہے اتنی ‏طویل رات ہے، اس طرح اس کی تاریکی نے ہر چیز کو لپیٹ میں لے رکھا ‏ہے کہ معلوم ہوتا ہے یہ رات کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے، اتنی لمبی رات ‏ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کو گویا اس رات کے روشن ہو جانے کی امید ہی ‏نہیں ہے اور ایک چیز کی امید ہی نہ ہو اور پھر اس کو طلب کیا جائے اس کو ‏کیا کہتے ہیں؟ تمنا ہی، اسی کو تو کہتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی ‏بھئی؟ رات کے روشن ہو جانے کی اسے امید بھی نہیں اور پھر بھی کہہ رہا ‏ہے انجلی، روشن ہو جا، تو یہ کیا ہے؟ تمنا ہے بھئی، تمنا کر رہا ہے، کاش ‏کہ یہ رات صبح کے ساتھ روشن ہو جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو ‏اچھی طرح؟ و للارشاد نحو اذ تداینتم بدین الی اجل مسمى فاکتبوہ و لیکتب بینکم کاتب بالعدل۔ ‏اور کبھی امر جو ہے، معنی اصلی سے نکلے گا اور کس معنی کے لیے آئے ‏گا؟ ارشاد کے لیے۔ ارشاد کا معنی ہے رہنمائی کرنا، رہنمائی کرنا۔ اور ‏رہنمائی ہو دنیاوی مصلحت کے لیے، دنیاوی خیر اور بھلائی کے لیے تو اس ‏کو کہتے ہیں ارشاد بھئی۔ جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے، اللہ فرماتے ‏ہیں: اذ تداینتم بدین، جب تم معاملہ کرو کوئی ادھار کا۔ دین کس کو کہتے ہیں؟ ‏ادھار۔ اذ تداینتم، جب تم کوئی معاملہ کرو بدین، کسی دین کا، الی اجل مسمى۔ ‏اجل کہتے ہیں مدت کو، مسمیٰ، مقررہ بھئی۔ جب تم معاملہ کرو کسی ادھار کا ‏الی اجل مسمى کسی مقررہ مدت تک، فاکتبوہ، تو اس کو کیا کر لو؟ لکھ لو، و ‏لیکتب بینکم، اور چاہیے کہ لکھ لے تمہارے درمیان، کاتب بالعدل، کوئی کاتب ‏عدل کے ساتھ، انصاف کے ساتھ۔ تو اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ اے مومنو! جب تم کوئی ادھار والا معاملہ کرنے ‏لگو کسی مقررہ مدت تک کہ مثلاً اتنی مدت، فلاں وقت پہ تم مجھے پیسے ادا ‏کرو گے۔ دو آدمیوں نے آپس میں کوئی خرید و فروخت والا یا کوئی معاملہ کیا ‏اور مدت مقرر کی کہ فلاں وقت کیا کرو گے مجھے پیسے؟ تو دیکھو یہ تم ‏ادھار کا معاملہ کر رہے ہو کس کے ساتھ؟ ایک مقررہ وقت، مقررہ مدت کے ‏لیے، تو اس کو آپس، لکھ لو بھئی اور اگر تم دونوں میں کو لکھنا نہیں آتا تو ‏کوئی تیسرا شخص ہو جو انصاف والا ہو، وہ اس کو صحیح طریقے سے لکھ ‏لے بھئی۔ اب دیکھیے یہاں پر فاکتبوہ امر کا صیغہ آیا اور و لیکتب یہ کیا ہے؟ یہ بھی ‏امر کا صیغہ آیا بھئی۔ تو امر کا صیغہ آیا اور امر تو کس لیے ہوتا ہے؟ طلب ‏فعل علی وجہ الاستعلاء بھئی، علی وجہ الاستعلاء۔ اور امر وجوب کے لیے آتا ‏ہے، آپ نے اصول فقہ کی کتابوں میں پڑھا ہے۔ کسی سے فعل کو طلب کیا ‏جائے استعلاء کے طریقے پر اور اس میں وہ فعل دوسرے پر کیا ہو جاتا ہے؟ ‏امر آپ نے پڑھا ہے بھئی، نور الانوار پڑھ رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے؟ اصول ‏الشاشی۔ امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، وجوب۔ جب اللہ اور اللہ کے ‏رسول کسی چیز کا حکم دیں تو تمام مومنوں پر، تمام لوگوں پر اس کا کرنا ‏واجب ہو جاتا ہے بھئی، واجب ہو جاتا ہے۔ تو یہاں یہ جو امر آیا، یہ وجوب کے لیے نہیں ہے۔ جب بھی آپ کوئی ایسا ‏معاملہ کریں تو آپ کے لیے لکھنا واجب نہیں ہے، واجب نہیں ہے۔ تو یہ امر ‏وجوب کے لیے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ رہنمائی کرتے ہوئے دنیاوی فائدے کی ‏خاطر اللہ رہنمائی کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ اگر اس طرح کا کبھی معاملہ ‏کرو تو لکھ لیا کرو بھئی، یعنی لکھ لینے میں بہتری ہے تاکہ آگے بعد میں کسی ‏قسم کی پریشانی نہ ہو، کسی دوسرے کو انکار کرنے کا موقع نہ ملے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ امر جو آیا وہ ارشاد کے لیے ہے، رہنمائی، اور ‏رہنمائی بھی کس لیے؟ دنیاوی مصلحت کے لیے، دنیاوی فائدے کے لیے۔ اچھا، ‏تو فاکتبوہ و لیکتب بھئی۔ تو یہ امر کس لیے ہے؟ ارشاد کے لیے ہے، وجوب ‏کے لیے نہیں۔ یاد رکھیے یہ اگر امر اپنے اصل معنی میں ہو یعنی طلب فعل ہو ‏علی وجوہ، علی وجہ الاستعلاء، تو پھر اس صورت میں یہ وجوب کا فائدہ دیتا ‏ہے، اس صورت میں وہ کام واجب ہو جاتا ہے۔ جب کوئی بڑا چھوٹے سے کوئی کام کہے اور کس طریقے پر کہا؟ مثلاً بڑا ‏ہے، چھوٹے کو کہا ہے تو استعلاء کے طریقے پر کہا، تو اس صورت میں وہ ‏کام اس پر کیا ہو جاتا ہے؟ واجب۔ چنانچہ اگر آقا اپنے غلام سے کوئی کام ‏کہے کہ جاؤ جا کر یہ کام کرو، تو وہ غلام وہ کام نہ کرے تو سارے لوگ کیا ‏کہتے ہیں؟ اس نے نافرمانی کی ہے، کیا کی ہے؟ معلوم ہوا اس پر وہ کام ‏واجب تھا بھئی، جبھی اس کو کس سے تعبیر کیا جا رہا ہے؟ اور تو یہاں پر تو ‏اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں فاکتبوہ، لیکن اس کے باوجود وہ لکھنا واجب نہیں۔ حالانکہ اگر یہ امر ہوتا، اپنے اصل معنی پر ہوتا تو لکھنا کیا ہوتا؟ واجب ہوتا، ‏لیکن علماء، فقہاء، محدثین فرماتے ہیں کہ یہ لکھنا واجب نہیں، معلوم ہوا یہ ‏امر وجوب کے لیے نہیں اور معلوم ہوا یہ اپنے اصل معنی میں یعنی طلب فعل ‏علی وجہ الاستعلاء نہیں، ورنہ تو یہ کس لیے ہوتا؟ وجوب کے لیے بھئی۔ اسی ‏طرح آگے بھی مثالوں میں آئے گا، وہاں بھی امر وجوب کے لیے نہیں ہوگا، ‏ورنہ تو اگر وہ اپنے اصل معنی میں ہو تو پھر تو وہ وجوب کا فائدہ دے گا ‏بھئی۔ و التہدید، اور تحدید ہے، نحو اعملوا ما شئتم۔ تحدید کا معنی ہے دھمکی بھئی۔ ‏اور امر کبھی کس لیے آئے گا؟ دھمکی دینے کے لیے بھی آئے گا جیسے اللہ ‏قرآن میں فرماتے ہیں اعملوا، تم لوگ کرو ما شئتم جو تم چاہو۔ جو تم چاہتے ہو ‏کرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین مکہ کو دعوت و تبلیغ کرتے رہے، ان کو ‏دعوت دیتے کہ شرک اور بت پرستی کو چھوڑ دو، اللہ کی وحدانیت کی طرف آ ‏جاؤ، توحید پر آ جاؤ، ان برائیوں کو چھوڑ دو، نیکی کے راستے کو اپنا لو، ‏لیکن وہ کبھی کیا بہانے بناتے، کبھی کیا طریقہ اختیار کرتے، کبھی کس طرح ‏کی باتیں کرتے، تو عجیب عجیب اعتراضات کرتے، مذاق اڑاتے، بات سننے ‏کو تیار نہ ہوتے۔ تو اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں: اعملوا ما شئتم، جو، جو تم جو ‏چاہتے ہو کرو۔ تو یہ بطور دھمکی کے اللہ فرما رہے ہیں۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ اللہ ان سے ‏طلب فرما رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں وہ کریں۔ اللہ ان سے طلب نہیں فرما ‏رہے بلکہ یہ بطور دھمکی کے اللہ فرما رہے ہیں، جیسے آپ بھی دیکھتے ہیں ‏بھئی، آپ بھی دیکھتے ہیں ایک شخص کا کوئی ملازم ہوتا ہے یا اس کا کوئی ‏غلام ہوتا ہے اور وہ اس سے کسی کام کے کرنے کا کہتا ہے اور وہ وہ کام ‏نہیں کرتا، ٹال مٹول کرتا ہے یا ادھر ادھر وقت گزار دیتا ہے، وہ کام نہیں ‏کرتا، تو آقا یا مالک، آقا یا مالک یا جس کا وہ ملازم ہے، وہ شخص اس سے ‏غصے میں آ کر کہتا ہے، ہاں جو دل میں آتا ہے کرتے رہو۔ جو دل میں آتا ‏ہے، کرتے رہو۔ کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ جو دل میں آ رہا ہے وہ کرتے رہو، یہ مراد ہوتی ہے یا ‏وہ دھمکی دے رہا ہوتا ہے؟ ہاں کہ جو دل میں آتا ہے کرو، تو عنقریب تم اس ‏کا انجام دیکھ لوگے۔ تو یہ بطور دھمکی کے وہ کہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ ‏گئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح اللہ فرما رہے ہیں اعملوا ما شئتم، تم لوگ کرو جو ‏چاہتے ہو، یعنی عنقریب تمہیں اس کا انجام معلوم ہو جائے گا جب تم، جب ‏تمہاری آنکھیں بند ہوں گی، موت آئے گی تو تمہیں پتا لگ جائے گا کہ اس ‏پیغمبر کی باتیں سچی تھیں یا سچی نہیں تھیں اور پھر قیامت کے سامنے جب ‏ہمارے سامنے پیش ہو گے تو تمہارے ایک ایک عمل کا تمہیں جواب دینا پڑے ‏گا بھئی۔ و التعجیز، اور کبھی امر جو ہے تعجیز کے لیے آئے گا۔ تعجیز کا معنی ہے ‏عاجز کرنا، کسی دوسرے کے عاجز ہونے کا اظہار کرنا، یہ کیا ہے؟ تعجیز۔ ‏نحو مثال کے طور پر: یا لبکر انشروا لی کلیبا، یا لبکر این این الفرار۔ یہ شعر ہے تعجیز کی مثال بھئی: یا لبکر انشروا لی کلیبا، یا لبکر این این ‏الفرار۔ یاد رکھیے یہ شعر جو ہے، شاعر مہلہل ابن ربیعہ کا شعر ہے بھئی۔ ‏مہلہل ابن ربیعہ بھئی، دونوں جگہ دو آنکھوں والی "ھ" ہے بھئی، مہلہل ابن ‏ربیعہ۔ اور یہ اپنے بھئی کلیب ابن ربیعہ کے خون بہا اور فدیے کا مطالبہ کر ‏رہا ہے۔ کلیب، کاف چھوٹا، یہ شعر کے اندر بھی لفظ آ رہا ہے کلیبا، پہلے مصرعے ‏کے اندر۔ یہ اپنے بھئی کلیب ابن ربیعہ کے خون بہا اور فدیے کا مطالبہ کر رہا ‏ہے۔ اچھا مختصراً ویسے واقعہ بیان کر دیتا ہوں، سن، بھئی عرب کا قبیلہ ‏ربیعہ جو ہے، قبیلہ ربیعہ 40, 42 سال تک آپس کی سخت خانہ جنگی کا ‏شکار رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے، پانچویں صدی کے آخر اور ‏چھٹی صدی کے شروع میں 40, 42 سال تک ان کی آپس میں زبردست خانہ ‏جنگی رہی بھئی۔ قبیلہ ربیعہ کی دو شاخیں، قبیلہ بکر اور قبیلہ تغلب بھئی۔ بنو ‏تغلب اور بنو بکر جو ہیں، ان دو قبیلائوں کے اندر لڑائی اور جنگ چھڑ گئی ‏اور معمولی سی بات پر بھئی، معمولی سی بات پر یہ جنگ چھڑی اور 40, 42 ‏سال تک یہ جنگ جاری رہی۔ جس کے اندر ہزاروں انسان، ہزاروں افراد قتل ‏ہوئے بھئی، عورتیں بیوہ ہوئیں، بچے یتیم ہوئے، گھر اجڑ گئے اور خون کی ‏ندیاں بہہ گئیں بھئی۔ اور عرب کے اندر ان جنگوں کا تذکرہ رہتا تھا، مجالس ان جنگوں کے ‏تذکروں سے گرم رہتی تھیں، ہر جگہ انہی جنگوں کا تذکرہ تھا بھئی۔ اور 40, ‏‏42 سال کے بعد پھر یہاں تک کہ اس دونوں قبیلائوں کے تمام بڑے بڑے ‏سرکردہ افراد ختم ہو گئے تو پھر معمولی سی گفت و شنید کے بعد ہی آپس میں ‏انہوں نے صلح کر لی بھئی۔ اکثر لوگ ان کے ختم ہو چکے تھے۔ 40, 42 سال آپ ذرا سوچیے تو سہی، ‏کتنی طویل جنگ، کتنی طویل لڑائی بھئی۔ اور یہ جنگ، جنگ بسوس کے نام ‏سے مشہور ہے عرب کے اندر بھئی۔ کتابوں کے اندر آپ کو اس کا تذکرہ ‏جنگ بسوس، با، سین، واؤ، سین، جنگ بسوس کے نام سے اس کا ذکر ملتا ‏ہے۔ اس کا واقعہ یوں ہوا تھا کہ میں نے بتلایا قبیلہ ربیعہ، اس کی دو شاخیں بنو ‏تغلب اور بنو بکر۔ بنو تغلب، تا دو نقطوں والے، غین، لام اور با، بنو تغلب اور ‏بنو بکر، ان دو میں لڑائی چھڑی بھئی۔ بنو تغلب کا سردار جو تھا وہ کلیب ابن ‏ربیعہ تھا۔ کون تھا؟ یہ کلیب ابن ربیعہ جس کا شعر میں ذکر آ رہا ہے، یہ بنو ‏تغلب کا سردار تھا بھئی اور یہ بڑا سرکش انسان تھا، اتنا سرکش انسان تھا کہ ‏جس علاقے کو یہ اپنے اونٹوں کے چرنے کے لیے منتخب کر لیتا تھا، وہاں ‏کسی دوسرے کے اونٹوں کو بھی چرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ تو اس نے ‏ایک کچھ علاقہ مخصوص کیا، وہاں اس کے اونٹ چرتے تھے۔ ایک دن کسی ‏عورت کی ایک اونٹنی جو ہے اس طرف چلی گئی بھئی اور وہ وہاں پر چرنے ‏لگی۔ اس نے اپنے علاقے کے اندر اس اونٹنی کو چرتے ہوئے دیکھا تو بڑے ‏سخت غصے میں آ گیا اور اپنے غلاموں کو اس کو زخمی کرنے کا حکم دیا، ‏جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کے علاقے میں جہاں یہ اونٹوں کو ‏چراتا تھا، وہاں ایک خاص قسم کے پرندے کا گھونسلا تھا اور اس نے انڈے ‏دیے ہوئے تھے۔ تو اس اونٹنی نے وہ انڈے توڑ دیے، خراب کر دیے، تو اس ‏پر اس کو غصہ چڑھا بھئی۔ تو بہرحال جب اس نے اس اونٹنی کو اپنے علاقے ‏میں دیکھا تو اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس اونٹنی کے بچے کو قتل کر دو، اور اس اونٹنی کے تھنوں پر ‏تیر اور نیزے مارو۔ چنانچہ انہوں نے، غلاموں نے اس اونٹنی کے بچے کو ‏قتل کر دیا اور تھنوں پر تیر اور نیزے مارے، تو اونٹنی کا خون اور دودھ ‏بہنے لگا۔ اونٹنی چیختی چلاتی ہوئی بھاگی وہاں سے، گھر پہنچی بھئی۔ تو یہ ‏ایک عورت تھی بسوس نام کی، بسوس۔ اس عورت کی یہ اونٹنی تھی، اس نے ‏جب یہ اونٹنی کی یہ حالت دیکھی تو چیخنا چلانا اور رونا پیٹنا شروع کر دیا ‏اور اتنا واویلا مچایا بھئی، اتنا واویلا مچایا کہ اس کا بھانجا تھا جساس، جساس ‏ابن مرہ۔ جساس، دونوں جگہ "س" ہے اس میں، جساس۔ تو اس کا بھانجا تھا ‏جساس ابن مرہ، وہ اس سے آ کر کہنے لگا کہ تم فکر نہ کرو، غم نہ کرو، میں ‏اس کا بدلہ لوں گا تمہارے لیے، تم فکر نہ کرو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس ‏عورت نے واویلا مچایا۔ چنانچہ یہ جساس ابن مرہ نے پھر اس کے بعد، وہ کلیب کی تاک میں رہنے لگا ‏جس نے اونٹنی کو زخمی کروایا تھا، اور موقع ملتے ہی اس کو قتل کر دیا۔ تو ‏یہ جساس کا تعلق تھا بنو بکر سے، اور کلیب سردار تھا کس کا؟ بنو تغلب کا۔ ‏تو اس جساس نے اس کو قتل کر دیا بھئی، قتل کر دیا۔ اور پھر اس بات پر ‏دونوں قبیلوں کے اندر جنگ چھڑ گئی، لڑائی چھڑ گئی اور 40 سال تک، 42 ‏سال تک یہ لڑائی جاری رہی بھئی، 40، 42 سال تک۔ پھر اس جنگ کا سب سے آخری مقتول بھی جو ہے، یہی جساس تھا جس نے ‏قتل کر کے جنگ کا آغاز کیا تھا بھئی۔ یہ جساس جو تھا، اس نے کس کو قتل ‏کیا شروع میں؟ کلیب کو۔ اور یاد رکھیے یہ کلیب اس کا بہنوئی بھی تھا۔ اسی ‏جساس کی بہن کی شادی کس سے ہوئی تھی؟ اسی کلیب سے۔ اور جب اس نے ‏کلیب کو قتل کیا تو اس کی بہن حاملہ تھی بھئی اس وقت، تو اس نے ایک بچے ‏کو جنم دیا۔ پھر اس، تو یہ بچہ کیا، جساس اسی بچے کا ماموں تھا۔ تو اس ‏جساس نے اس بچے کی پرورش کی بھئی، اپنے پاس اس کو رکھا، جنگیں، ‏جنگ ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ بچہ بڑا ہو گیا، 40، 42 سال کا ہو گیا بھئی، ‏اور اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ میرے والد کو جساس نے قتل کیا ہے۔ پھر اس وقت ‏کسی طرح اس کو پتہ چل گیا تو، کہ میرے والد کو اس جساس نے قتل کیا تھا، ‏تو وہ جساس کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا تم نے میرے والد کو قتل کیا تھا؟ ‏جساس نے کہا ہاں میں نے قتل کیا تھا۔ جساس بھی اس وقت بوڑھا ہو چکا ہو ‏گا، لیکن دیکھو میں نے اچھا بدلہ بھی تو دیا، تمہاری اچھی طرح بہترین اپنے ‏بیٹوں کی طرح میں نے تمہاری پرورش کی اور خیال رکھا، اس لیے مجھے ‏امید ہے تم مجھے کچھ نہیں کہو گے۔ وہ جو بیٹا تھا کلیب کا، وہ کہنے لگا کہ ‏نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے باپ کا قاتل زندہ رہے، میرے لوگ ساری ‏عمر مجھے طعنے دیتے رہیں گے کہ اس شخص کے باپ کا قاتل آج بھی زندہ ‏ہے بھئی۔ چنانچہ اس نے اس جساس کو پھر قتل کر دیا اور کہتے ہیں یہ اس ‏جنگ کا آخری مقتول تھا بھئی، پھر جنگ اس کے بعد وہ صلح وغیرہ ہو گئی ‏اور ختم۔ تو یہ جنگ جنگ بسوس کے نام سے مشہور ہے اور یہ اس عورت کے واویلا ‏مچانے پر شروع ہوئی بھئی۔ اس کی اونٹنی زخمی ہوئی تھی تو، بعض لوگ ‏واویلا مچاتے ہیں، بعض مرد بھی ہوتے ہیں اور زیادہ تر عورتوں میں یہ، اور ‏تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اچھے، ایسا ایسا واویلا، ایسا شور مچاتے ہیں کہ ‏بڑے بڑے سمجھدار لوگوں کی عقل پر پھر پردے پڑ جاتے ہیں بھئی، اور ‏غضب کی آگ ان کے دلوں میں بھڑک اٹھتی ہے اس کی باتیں سنتے ہی بھئی۔ ‏تو چنانچہ جساس نے دیکھو اس کی باتوں میں آ کر کلیب کو قتل کر دیا۔ اور پھر یہ جنگ چونکہ بسوس کی عورت کی وجہ سے شروع ہوئی تھی، اس ‏کے واویلا مچانے اور اس کے بھڑکانے کی وجہ سے، تو یہ جنگ جنگ ‏بسوس کہلاتی ہے۔ اور پھر یہ عورت نحوسَت کے اندر پورے عرب میں ‏ضرب المثل بن گئی کہ اتنی منحوس عورت کہ اس کی وجہ سے پورے دو ‏قبیلے ختم ہو گئے۔ چنانچہ آج بھی اس کا نام نحوسَت کے اندر بطور ضرب ‏المثل کے عرب میں ذکر کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص بڑا منحوس ہو یا اس ‏کی نحوسَت کو بیان کرنا ہو تو عربی میں کہتے ہیں: "فلان اشئم من بسوس"، ‏فلاں تو بسوس سے بھی زیادہ منحوس ہے بھئی۔ تو اس کے نام کو بطور ‏ضرب المثل کے ذکر کیا جاتا ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ وہ اس سے متعلق شعر ہے۔ یہ شاعر ہے ‏مہلہل ابن ربیعہ اور اپنے بھئی کلیب ابن ربیعہ کے خون بہا اور فدیے کا ‏مطالبہ کر رہا ہے بھئی۔ دیکھیے شعر کے اندر، کہتا ہے‎:‎ یا لَ بَکْرٍ یا لَ بَکْرٍ لَ بَکْرٍ، یہ لام استغاثہ کا ہے۔ آپ نے قافیہ میں پڑھا ہو گا یا ہدایۃ النحو میں، کہ ‏لامِ استغاثہ جب منادیٰ پر داخل ہوتا ہے تو اس کو جر دے دیتا ہے، تو یہاں پر ‏بھی "یا لَ بَکْرٍ" جر آ گیا بھئی۔ ‎"‎یا لَ بَکْرٍ" اے قبیلہء بکر والو! وہ جساس قبیلہء بکر سے تھا نہ جس نے قتل ‏کیا تھا کلیب کو۔ "یا لَ بَکْرٍ" اے قبیلہء بکر والو! "انشروا" بھئی نَشَرَ یَنْشُرُ اور ‏اَنْشَرَ یُنْشِرُ، یعنی ثلاثی مجرد سے یا ثلاثی مزید فیہ سے، دونوں سے اس کا ‏معنیٰ اَنْشَرَ یُنْشِرُ اور نَشَرَ یَنْشُرُ کے معنیٰ ہوتے ہیں زندہ کرنا۔ کسی مردے کو ‏زندہ، تو دونوں کا معنیٰ ہے زندہ کرنا۔ لیکن یاد رکھیے شعر کے اندر جو ‏روایات کے اندر آیا ہے، وہ "انشروا" باب افعال سے آیا ہے، ثلاثی مجرد سے ‏نہیں ہے بلکہ ثلاثی مزید فیہ سے ہے۔ ‎"‎یا لَ بَکْرٍ" اے قبیلہء بکر والو! "انشروا لی کلیبا" تم لوگ زندہ کرو میرے لیے ‏کلیب کو۔ تم نے کلیب کو قتل کیا ہے، تم کیا کرو میرے لیے؟ کلیب کو زندہ ‏کرو۔ "یا لَ بَکْرٍ" اے قبیلہء بکر والو! "اَینَ اَینَ الفرارُ" کہاں کہاں بھاگنا ہے؟ ‏کہاں بھاگو گے؟ تم ہم سے بچ نہیں سکتے، تم ہمارے لیے کلیب کو زندہ کرو۔ ‏تو یہ "این" ثانی جو ہے، یہ "این" اول کی تاکید ہے۔ آپ نے پڑھا ہے ایک ہی ‏لفظ کو دو دفعہ ذکر کیا جائے تو دوسرا کیا ہوتا ہے پہلے کے لیے؟ تاکید ہوتا ‏ہے، اسی کو پختہ کرتا ہے، مضبوط کرتا ہے۔ ‎"‎یا لَ بَکْرٍ انشروا لی کلیبا، یا لَ بَکْرٍ اَینَ اَینَ الفرارُ" اے قبیلہء بکر والو! تم ‏لوگ زندہ کرو میرے لیے کلیب کو، اے قبیلہء بکر والو! کہاں کہاں بھاگو گے؟ ‏یعنی کہیں ہم سے بچ نہیں سکتے، بھاگ نہیں سکتے۔ اب مقامِ استشہاد ہے "انشروا"، صیغہء امر آیا، صیغہء امر آیا۔ اور یہ صیغہء ‏امر طلبِ فعل کے لیے نہیں ہے، شاعر ان سے یہ نہیں طلب کر رہا کہ کلیب ‏کو زندہ کرو، بلکہ شاعر ان کے عجز کو ظاہر کر رہا ہے۔ ان، کیا کہہ رہا ہے ‏ان کو؟ کلیب کو زندہ کرو، اور وہ کلیب کو زندہ کرنا ان کی دسترس میں ہے؟ ‏ان کی دسترس میں ہے ہی نہیں، وہ اس کے کرنے سے عاجز ہیں، تو شاعر ‏ان کے عاجز ہونے کو ظاہر کر رہا ہے بھئی، کہ تم لوگ کیا ہو؟ عاجز ہو، ‏کچھ کرنے کے قابل نہیں ہو بھئی، تو ان کے عجز کو ظاہر کر رہا ہے۔ بات ‏سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو "یا لَ بَکْرٍ انشروا لی کلیبا"۔ "والاهانة نحو کونوا حجارة او حدیدا"، اور کبھی ‏امر جو ہے وہ اہانت کے لیے آئے گا بھئی۔ اہانت کا معنیٰ ہے دوسرے کی، ‏دوسرے کو ذلیل کرنا بھئی، اس کی اہانت کرنا۔ "نحو کونوا حجارة او حدیدا" تم ‏لوگ پتھر بن جاؤ یا لوہا بن جاؤ، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں۔ بھئی مشرکینِ مکہ ‏کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن رات تبلیغ میں لگے رہتے کہ اللہ کی توحید ‏اور وحدانیت کی طرف آ جاؤ، یہ بت پرستی اور شرک وغیرہ برائیوں کو ‏چھوڑ دو بھئی، اور اگر تم ایسا کرو گے، اس سیدھے راستے پر آ جاؤ گے تو ‏دنیا کے اندر بھی تمہیں اطمینان و سکون حاصل ہو گا اور تکالیف سے بچ جاؤ ‏گے، اور آخرت میں تمہیں جنت جیسی عظیم نعمت اللہ تعالیٰ دیں گے۔ تو وہ ‏حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک انسان مر ‏جائے، مٹی میں گل سڑ جائے، بالکل راک، مٹی ہو جائے اور پھر وہ دوبارہ ‏زندہ ہو بھئی۔ تو اس طرح کی باتیں کرتے اور ایمان نہ لاتے تھے بھئی۔ تو اس ‏پر اللہ فرما رہے ہیں بھئی: "کونوا حجارة او حدیدا" کہ اے لوگو، اے مشرکین! ‏تم ایمان تو نہیں لاتے، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہمارے لیے تمہیں زندہ کرنا مشکل ‏ہے، حالانکہ تم بھی جانتے ہو، تمہارے لیے بھی ایک کام پہلی مرتبہ مشکل ‏ہوتا ہے، دوسری مرتبہ کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ تو ہمارے لیے تو نہ پہلی مرتبہ ‏کوئی کام مشکل ہے نہ دوسری مرتبہ مشکل ہے، ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ بھی ‏پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے، تو دوسری مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لیے کیا ‏مشکل ہے جبکہ ایک دفعہ چیز بن بھی چکی ہے۔ تو اے مشرکین! ہمارے لیے ‏کوئی کام مشکل نہیں ہے، جس کام کو تم ناممکن سمجھتے ہو ہمارے لیے کوئی ‏مشکل نہیں ہے کام، کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ ان سے فرما ‏رہے ہیں: "کونوا حجارة او حدیدا" تم پتھر ہو جاؤ یا لوہا یا اور کوئی، یعنی جو ‏سخت چیز جو تمہارے نزدیک طاقت والی ہے چاہے وہ ہو جاؤ، تو بھی ہم تم ‏سب کو زندہ کریں گے اور تمہیں اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا پڑے گا، یہ نہ ‏سمجھنا کہ زندہ کرنا ہمارے لیے مشکل ہے یا ناممکن ہے۔ تو دیکھیے، یہاں پر جو امر آیا وہ اہانت کے لیے ہے۔ اللہ فرما رہا ہے تم پتھر ‏ہو جاؤ یا لوہا ہو جاؤ، ہمیں تمہاری کوئی پروا نہیں ہے، تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ ‏ہمیں فکر نہیں، ہم نے تو قیامت کے دن کا اعلان کر رکھا ہے اور ہم قیامت ‏کے دن سب کو اٹھائیں گے اور سب کا حساب لیں گے، تمہیں بھی اپنے اعمال ‏کا جواب دینا پڑے گا بھئی۔ تو یہاں امر کس لیے آیا؟ ان سے پتھر اور لوہا ‏ہونے کو طلب نہیں کیا جا رہا کیونکہ یہ تو ان کی قدرت میں نہیں ہے، وہ پتھر ‏یا لوہا بن سکتے ہیں؟ وہ پتھر، تو یہاں پر معلوم ہوا امر اپنے حقیقی معنیٰ میں ‏ہے ہی نہیں، پھر کس لیے ہے؟ اہانت کے لیے ہے، ان کو ذلیل کرنے کے لیے ‏ہے، اللہ فرما رہے ہیں ہمیں تمہاری کوئی پروا نہیں۔ تم کچھ بھی ہو جاؤ، ہم ‏تمہیں پھر کیا کریں گے آخرت میں؟ زندہ کریں گے بھئی۔ ‎"‎والاباحة" اور کبھی امر اباحت کے لیے آئے گا بھئی، مباح کر دینا، جائز کر ‏دینا کسی چیز کو۔ "نحو" مثال کے طور پر "کلو واشربوا" تم کھاؤ اور پیو، تم ‏کھاؤ اور پیو۔ بھئی یاد رکھیے، ابتدائے اسلام کے اندر اسلام کے احکامات ‏تدریجاً نازل ہوئے ہیں، تو ابتداء کے اندر جب روزے فرض کیے گئے تو ‏روزے بڑے مشکل تھے۔ صرف رات کے ابتدائی حصے میں کھانے پینے کی ‏اجازت ہوتی تھی، رات کے بالکل شروع کے حصے میں، اس کے بعد پھر ‏روزہ پھر شروع ہو جاتا، اور رات میں بھی پھر کھانے پینے کی اجازت نہیں ‏ہوتی تھی، اگلا سارا دن بھی کھانے پینے وغیرہ کی اجازت نہیں، شام تک، ‏اور پھر اس میں بھی شام کے صرف ابتدائی حصے میں کھانے پینے کی ‏اجازت گئی۔ تو ابتدائی حصے میں صرف کھانے پینے کی اجازت ہوتی تھی، ‏باقی رات میں کھانے پینے کی اجازت نہیں۔ لیکن پھر اللہ کی طرف سے حکم ‏آیا بھئی: "کلو واشربوا" کہ کیا کرو؟ رات کو بھی کھاؤ اور پیو، "حتی یتبین لکم ‏الخیط ابیض من الخیط الاسود" یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہو جائے صبح ‏کی سفید دھاری، رات کی سیاہ دھاری کے مقابلے میں، یعنی یہاں تک کہ فجرِ ‏صادق طلوع ہو جائے۔ فجرِ صادق طلوع ہونے تک تم کیا کر سکتے ہو؟ کھا ‏پی سکتے ہو۔ تو دیکھیے یہاں پر، اب پہلے کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی، ‏اب یہاں پر کیا کیا جا رہا ہے؟ "کلو واشربوا" کھانے پینے کی اجازت دی جا ‏رہی ہے، اور یہ اباحت کے لیے ہے بھئی۔ کیا، دیکھو صیغے تو امر کے ہیں، ‏‏"کلو"، "واشربوا"، جیسے اوپر والا صیغہ "کونوا" امر کا صیغہ تھا بھئی، وہاں ‏وہ امر کس لیے تھا؟ اہانت کے لیے، وجوب کے لیے نہیں کیونکہ حجارہ اور ‏حدید تو وہ بن ہی نہیں سکتے۔ یہاں پر بھی "کلو واشربوا" امر کے صیغے آئے ‏اور یہ امر کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے نہیں ہے، بھئی سحری کھانا واجب ‏ہے؟ جی؟ سحری کھانا آپ بھی جانتے ہیں واجب نہیں ہے بھئی، تو معلوم ہوا ‏یہ کس لیے ہے امر؟ اباحت کے لیے ہے، کہ مباح ہے تمہارے لیے کھانا پینا ‏چاہو تو کھا پی سکتے ہو طلوعِ فجر تک بھئی۔ ‎"‎والامتنان" اور امتنان کا معنیٰ ہے احسان جتلا نا بھئی، احسان جتلانا۔ ‏‏"والامتنان" اور کبھی امر کس لیے آئے گا؟ احسان جتلانے کے لیے، اپنا ‏احسان بتانے کے لیے۔ "نحو" مثال کے طور پر "کلو مما رزقکم اللہ" کھاؤ تم ‏اس میں سے جو تمہیں اللہ نے رزق دیا ہے۔ تو "کلو" امر آیا، اور یہ امر ‏وجوب کے لیے نہیں ہے، وجوب کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اللہ احسان ‏کے طور پر اپنا احسان بتلا رہے ہیں کہ جو تمہیں اللہ نے رزق دیا ہے اس ‏میں سے کھاؤ بھئی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کیسے پتہ چلا کہ یہ امر احسان کے ‏لیے ہے؟ کہتے ہیں یہ جو آگے قرینہ آیا "مما رزقکم اللہ"، وہ جو تمہیں اللہ نے ‏رزق دیا ہے، یہ قرینہ بتلا رہا ہے کہ یہ بطورِ احسان کے اللہ فرما رہے ہیں کہ ‏ہم نے تمہیں کھانے پینے کی ہر طرح کی نعمتیں دے رکھی ہیں، ہماری ان ‏نعمتوں میں سے کھاؤ پیو۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بطورِ احسان کے اللہ ‏فرما رہے ہیں بھئی، تو یہ وجوب کے لیے نہیں۔ ‎"‎والتخییر" اور کبھی امر کس لیے آئے گا؟ تخییر کے لیے آئے گا، اختیار ‏دینے کے لیے۔ بھئی دیکھیے، مثلاً آپ کے سامنے دو کتابیں پڑی ہیں، آپ اپنے ‏ساتھی سے کہتے ہیں: "خذ هذا او هذا" یہ، یہ اٹھا لو یا یہ اٹھا لو، تو آپ نے ‏اس کو اختیار دیا دو چیزوں میں سے ایک چیز کا، اس کو کہتے ہیں تخییر۔ ‏‏"خذ هذا او هذا"، تو "خذ" امر آیا اور یہ امر کس لیے ہے؟ اختیار دینے کے ‏لیے ہے بھئی، اختیار دینے کے لیے۔ "والتخییر نحو خذ هذا او ذاک" یہ لے لو ‏یا یہ لے لو۔ اچھا بھئی، اباحت اور تخییر میں فرق یہ ہے کہ اباحت میں دونوں ‏چیزوں کا جمع کرنا جائز ہوتا ہے، تخییر میں دونوں چیزوں کا جمع کرنا جائز ‏نہیں۔ دیکھو، "کلو واشربوا" کھاؤ اور پیو، چاہے تو صرف آپ کھائیں، چاہے ‏تو صرف پئیں اور چاہے تو دونوں کریں، کھائیں اور پئیں، سحری کے اندر ‏کھانا بھی صرف کھائیں، یہ بھی ٹھیک ہے، صرف پی لیں، یہ بھی ٹھیک ہے، ‏کھائیں اور پئیں سب صورتیں جائز ہیں یا جائز نہیں؟ اور چاہے تو سرے سے ‏سحری کھائیں ہی نہ، روزہ ہو گا یا نہیں ہو گا؟ روزہ تو ہو جائے گا اگرچہ ‏مسنون چیز رہ گئی، لیکن بہرحال بات اس وقت وجوب کی ہو رہی ہے کہ ‏واجب نہیں ہے۔ تو یہاں البتہ جب آپ نے دوسرے سے کہا کہ ان دو کتابوں ‏میں سے ایک لے لو، تو وہ اس کے لیے ایک کتاب لینے کی تو اجازت ہو گی، ‏دونوں لینے کی اجازت نہیں۔ اچھا پھر پتہ کیسے چلے گا کہ کوئی امر اباحت ‏کے لیے ہے یا تخییر کے لیے ہے؟ کہتے ہیں بھئی قرینہ بتلا دے گا، کوئی نہ ‏کوئی قرینہ وہاں بتلا دے گا۔ مثلاً آپ کا اگر کوئی قریبی ساتھی ہے، آپ نے ‏اس کے سامنے دو کتابیں رکھیں، آپ نے کہا بھئی یہ والی کتاب لے لو یا یہ ‏والی لے لو، وہ کہتا ہے نہیں بھئی میں تو دونوں لوں گا، دونوں اس نے اٹھا ‏لیں۔ معلوم ہوا یہ امر کس لیے تھا؟ اباحت کے لیے تھا، ورنہ تخییر کے لیے ‏ہوتا تو آپ اس کو دونوں کتابیں لینے کی اجازت نہ دیتے۔ موقع محل، ہاں اس ‏کے مقابلے میں ایک آپ دکاندار کے ساتھ بات کر رہے ہیں، دکاندار آپ سے ‏کہتا ہے یہ والی 500 روپے میں، یہ والی چیز لے لیں یا یہ والی لے لیں، آپ ‏دونوں اٹھا سکتے ہیں 500 میں؟ نہیں، وہ معلوم ہوا وہ کیا کر رہا ہے؟ تخییر ‏ہے یہاں پر کہ دونوں میں سے جو چاہیں آپ لے لیں بھئی، صورت سمجھ، تو ‏وہ قرینہ وغیرہ بتلا دے گا۔ ‎"‎والتسویة" اور کبھی امر کس لیے آئے گا؟ تسویہ، برابری بیان کرنے کے ‏لیے۔ "نحو اصبروا او لا تصبروا" تم لوگ صبر کرو یا صبر نہ کرو۔ تو یہاں ‏‏"اصبروا" امر آیا، لیکن یہ امر وجوب وغیرہ کے لیے نہیں کہ تم لوگ صبر ‏کرنا ان سے طلب کیا جا رہا ہو، بلکہ یہ برابری بیان کرنے کے لیے ہے۔ ‏جہنمی جہنم میں جلیں گے اور چیخ و پکار کریں گے، اللہ سے فریاد کریں گے ‏کہ اللہ ہمیں یہاں سے نکال لیجیے، لیکن ان کی ایک نہیں سنی جائے گی، اللہ ‏ان کی طرف توجہ ہی نہیں فرمائیں گے، تو پھر وہ آپس میں کہیں گے کہ یوں ‏کرتے ہیں صبر کر لیتے ہیں، ذرا خاموش بیٹھ جاتے ہیں، اتنی چیخ و پکار کر ‏لی اس کا تو فائدہ نہیں ہوا، خاموشی سے برداشت کرتے ہیں عذاب کو، شاید ‏اللہ تعالیٰ اس پر ہمیں یہاں سے نکال لیں۔ تو اس موقع پر انہیں اللہ کی طرف ‏سے کہا جائے گا: "اصبروا او لا تصبروا" تم لوگ صبر کرو یا صبر نہ کرو، ‏یعنی تمہارے لیے دونوں چیزیں برابر ہیں، تمہیں ہر حال میں اب یہی پر رہنا ‏ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کی جہنم سے حفاظت فرمائے بھئی۔ حکم دیا کہ اس اونٹنی کے بچے کو قتل کر دو، اور اس اونٹنی کے تھنوں پر ‏تیر اور نیزے مارو۔ چنانچہ انہوں نے، غلاموں نے اس اونٹنی کے بچے کو ‏قتل کر دیا اور تھنوں پر تیر اور نیزے مارے، تو اونٹنی کا خون اور دودھ ‏بہنے لگا۔ اونٹنی چیختی چلاتی ہوئی بھاگی وہاں سے، گھر پہنچی بھئی۔ تو یہ ‏ایک عورت تھی بسوس نام کی، بسوس۔ اس عورت کی یہ اونٹنی تھی، اس نے ‏جب یہ اونٹنی کی یہ حالت دیکھی تو چیخنا چلانا اور رونا پیٹنا شروع کر دیا ‏اور اتنا واویلا مچایا بھئی، اتنا واویلا مچایا کہ اس کا بھانجا تھا جساس، جساس ‏ابن مرہ۔ جساس، دونوں جگہ "س" ہے اس میں، جساس۔ تو اس کا بھانجا تھا ‏جساس ابن مرہ، وہ اس سے آ کر کہنے لگا کہ تم فکر نہ کرو، غم نہ کرو، میں ‏اس کا بدلہ لوں گا تمہارے لیے، تم فکر نہ کرو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس ‏عورت نے واویلا مچایا۔ چنانچہ یہ جساس ابن مرہ نے پھر اس کے بعد، وہ کلیب کی تاک میں رہنے لگا ‏جس نے اونٹنی کو زخمی کروایا تھا، اور موقع ملتے ہی اس کو قتل کر دیا۔ تو ‏یہ جساس کا تعلق تھا بنو بکر سے، اور کلیب سردار تھا کس کا؟ بنو تغلب کا۔ ‏تو اس جساس نے اس کو قتل کر دیا بھئی، قتل کر دیا۔ اور پھر اس بات پر ‏دونوں قبیلوں کے اندر جنگ چھڑ گئی، لڑائی چھڑ گئی اور 40 سال تک، 42 ‏سال تک یہ لڑائی جاری رہی بھئی، 40، 42 سال تک۔ پھر اس جنگ کا سب سے آخری مقتول بھی جو ہے، یہی جساس تھا جس نے ‏قتل کر کے جنگ کا آغاز کیا تھا بھئی۔ یہ جساس جو تھا، اس نے کس کو قتل ‏کیا شروع میں؟ کلیب کو۔ اور یاد رکھیے یہ کلیب اس کا بہنوئی بھی تھا۔ اسی ‏جساس کی بہن کی شادی کس سے ہوئی تھی؟ اسی کلیب سے۔ اور جب اس نے ‏کلیب کو قتل کیا تو اس کی بہن حاملہ تھی بھئی اس وقت، تو اس نے ایک بچے ‏کو جنم دیا۔ پھر اس، تو یہ بچہ کیا، جساس اسی بچے کا ماموں تھا۔ تو اس ‏جساس نے اس بچے کی پرورش کی بھئی، اپنے پاس اس کو رکھا، جنگیں، ‏جنگ ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ بچہ بڑا ہو گیا، 40، 42 سال کا ہو گیا بھئی، ‏اور اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ میرے والد کو جساس نے قتل کیا ہے۔ پھر اس وقت ‏کسی طرح اس کو پتہ چل گیا تو، کہ میرے والد کو اس جساس نے قتل کیا تھا، ‏تو وہ جساس کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا تم نے میرے والد کو قتل کیا تھا؟ ‏جساس نے کہا ہاں میں نے قتل کیا تھا۔ جساس بھی اس وقت بوڑھا ہو چکا ہو ‏گا، لیکن دیکھو میں نے اچھا بدلہ بھی تو دیا، تمہاری اچھی طرح بہترین اپنے ‏بیٹوں کی طرح میں نے تمہاری پرورش کی اور خیال رکھا، اس لیے مجھے ‏امید ہے تم مجھے کچھ نہیں کہو گے۔ وہ جو بیٹا تھا کلیب کا، وہ کہنے لگا کہ ‏نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے باپ کا قاتل زندہ رہے، میرے لوگ ساری ‏عمر مجھے طعنے دیتے رہیں گے کہ اس شخص کے باپ کا قاتل آج بھی زندہ ‏ہے بھئی۔ چنانچہ اس نے اس جساس کو پھر قتل کر دیا اور کہتے ہیں یہ اس ‏جنگ کا آخری مقتول تھا بھئی، پھر جنگ اس کے بعد وہ صلح وغیرہ ہو گئی ‏اور ختم۔ تو یہ جنگ جنگ بسوس کے نام سے مشہور ہے اور یہ اس عورت کے واویلا ‏مچانے پر شروع ہوئی بھئی۔ اس کی اونٹنی زخمی ہوئی تھی تو، بعض لوگ ‏واویلا مچاتے ہیں، بعض مرد بھی ہوتے ہیں اور زیادہ تر عورتوں میں یہ، اور ‏تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اچھے، ایسا ایسا واویلا، ایسا شور مچاتے ہیں کہ ‏بڑے بڑے سمجھدار لوگوں کی عقل پر پھر پردے پڑ جاتے ہیں بھئی، اور ‏غضب کی آگ ان کے دلوں میں بھڑک اٹھتی ہے اس کی باتیں سنتے ہی بھئی۔ ‏تو چنانچہ جساس نے دیکھو اس کی باتوں میں آ کر کلیب کو قتل کر دیا۔ اور پھر یہ جنگ چونکہ بسوس کی عورت کی وجہ سے شروع ہوئی تھی، اس ‏کے واویلا مچانے اور اس کے بھڑکانے کی وجہ سے، تو یہ جنگ جنگ ‏بسوس کہلاتی ہے۔ اور پھر یہ عورت نحوسَت کے اندر پورے عرب میں ‏ضرب المثل بن گئی کہ اتنی منحوس عورت کہ اس کی وجہ سے پورے دو ‏قبیلے ختم ہو گئے۔ چنانچہ آج بھی اس کا نام نحوسَت کے اندر بطور ضرب ‏المثل کے عرب میں ذکر کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص بڑا منحوس ہو یا اس ‏کی نحوسَت کو بیان کرنا ہو تو عربی میں کہتے ہیں: "فلان اشئم من بسوس"، ‏فلاں تو بسوس سے بھی زیادہ منحوس ہے بھئی۔ تو اس کے نام کو بطور ‏ضرب المثل کے ذکر کیا جاتا ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ وہ اس سے متعلق شعر ہے۔ یہ شاعر ہے ‏مہلہل ابن ربیعہ اور اپنے بھئی کلیب ابن ربیعہ کے خون بہا اور فدیے کا ‏مطالبہ کر رہا ہے بھئی۔ دیکھیے شعر کے اندر، کہتا ہے‎:‎ یا لَ بَکْرٍ یا لَ بَکْرٍ لَ بَکْرٍ، یہ لام استغاثہ کا ہے۔ آپ نے قافیہ میں پڑھا ہو گا یا ہدایۃ النحو میں، کہ ‏لامِ استغاثہ جب منادیٰ پر داخل ہوتا ہے تو اس کو جر دے دیتا ہے، تو یہاں پر ‏بھی "یا لَ بَکْرٍ" جر آ گیا بھئی۔ ‎"‎یا لَ بَکْرٍ" اے قبیلہء بکر والو! وہ جساس قبیلہء بکر سے تھا نہ جس نے قتل ‏کیا تھا کلیب کو۔ "یا لَ بَکْرٍ" اے قبیلہء بکر والو! "انشروا" بھئی نَشَرَ یَنْشُرُ اور ‏اَنْشَرَ یُنْشِرُ، یعنی ثلاثی مجرد سے یا ثلاثی مزید فیہ سے، دونوں سے اس کا ‏معنیٰ اَنْشَرَ یُنْشِرُ اور نَشَرَ یَنْشُرُ کے معنیٰ ہوتے ہیں زندہ کرنا۔ کسی مردے کو ‏زندہ، تو دونوں کا معنیٰ ہے زندہ کرنا۔ لیکن یاد رکھیے شعر کے اندر جو ‏روایات کے اندر آیا ہے، وہ "انشروا" باب افعال سے آیا ہے، ثلاثی مجرد سے ‏نہیں ہے بلکہ ثلاثی مزید فیہ سے ہے۔ ‎"‎یا لَ بَکْرٍ" اے قبیلہء بکر والو! "انشروا لی کلیبا" تم لوگ زندہ کرو میرے لیے ‏کلیب کو۔ تم نے کلیب کو قتل کیا ہے، تم کیا کرو میرے لیے؟ کلیب کو زندہ ‏کرو۔ "یا لَ بَکْرٍ" اے قبیلہء بکر والو! "اَینَ اَینَ الفرارُ" کہاں کہاں بھاگنا ہے؟ ‏کہاں بھاگو گے؟ تم ہم سے بچ نہیں سکتے، تم ہمارے لیے کلیب کو زندہ کرو۔ ‏تو یہ "این" ثانی جو ہے، یہ "این" اول کی تاکید ہے۔ آپ نے پڑھا ہے ایک ہی ‏لفظ کو دو دفعہ ذکر کیا جائے تو دوسرا کیا ہوتا ہے پہلے کے لیے؟ تاکید ہوتا ‏ہے، اسی کو پختہ کرتا ہے، مضبوط کرتا ہے۔ ‎"‎یا لَ بَکْرٍ انشروا لی کلیبا، یا لَ بَکْرٍ اَینَ اَینَ الفرارُ" اے قبیلہء بکر والو! تم ‏لوگ زندہ کرو میرے لیے کلیب کو، اے قبیلہء بکر والو! کہاں کہاں بھاگو گے؟ ‏یعنی کہیں ہم سے بچ نہیں سکتے، بھاگ نہیں سکتے۔ اب مقامِ استشہاد ہے "انشروا"، صیغہء امر آیا، صیغہء امر آیا۔ اور یہ صیغہء ‏امر طلبِ فعل کے لیے نہیں ہے، شاعر ان سے یہ نہیں طلب کر رہا کہ کلیب ‏کو زندہ کرو، بلکہ شاعر ان کے عجز کو ظاہر کر رہا ہے۔ ان، کیا کہہ رہا ہے ‏ان کو؟ کلیب کو زندہ کرو، اور وہ کلیب کو زندہ کرنا ان کی دسترس میں ہے؟ ‏ان کی دسترس میں ہے ہی نہیں، وہ اس کے کرنے سے عاجز ہیں، تو شاعر ‏ان کے عاجز ہونے کو ظاہر کر رہا ہے بھئی، کہ تم لوگ کیا ہو؟ عاجز ہو، ‏کچھ کرنے کے قابل نہیں ہو بھئی، تو ان کے عجز کو ظاہر کر رہا ہے۔ بات ‏سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو "یا لَ بَکْرٍ انشروا لی کلیبا"۔ "والاهانة نحو کونوا حجارة او حدیدا"، اور کبھی ‏امر جو ہے وہ اہانت کے لیے آئے گا بھئی۔ اہانت کا معنیٰ ہے دوسرے کی، ‏دوسرے کو ذلیل کرنا بھئی، اس کی اہانت کرنا۔ "نحو کونوا حجارة او حدیدا" تم ‏لوگ پتھر بن جاؤ یا لوہا بن جاؤ، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں۔ بھئی مشرکینِ مکہ ‏کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن رات تبلیغ میں لگے رہتے کہ اللہ کی توحید ‏اور وحدانیت کی طرف آ جاؤ، یہ بت پرستی اور شرک وغیرہ برائیوں کو ‏چھوڑ دو بھئی، اور اگر تم ایسا کرو گے، اس سیدھے راستے پر آ جاؤ گے تو ‏دنیا کے اندر بھی تمہیں اطمینان و سکون حاصل ہو گا اور تکالیف سے بچ جاؤ ‏گے، اور آخرت میں تمہیں جنت جیسی عظیم نعمت اللہ تعالیٰ دیں گے۔ تو وہ ‏حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک انسان مر ‏جائے، مٹی میں گل سڑ جائے، بالکل راک، مٹی ہو جائے اور پھر وہ دوبارہ ‏زندہ ہو بھئی۔ تو اس طرح کی باتیں کرتے اور ایمان نہ لاتے تھے بھئی۔ تو اس ‏پر اللہ فرما رہے ہیں بھئی: "کونوا حجارة او حدیدا" کہ اے لوگو، اے مشرکین! ‏تم ایمان تو نہیں لاتے، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہمارے لیے تمہیں زندہ کرنا مشکل ‏ہے، حالانکہ تم بھی جانتے ہو، تمہارے لیے بھی ایک کام پہلی مرتبہ مشکل ‏ہوتا ہے، دوسری مرتبہ کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ تو ہمارے لیے تو نہ پہلی مرتبہ ‏کوئی کام مشکل ہے نہ دوسری مرتبہ مشکل ہے، ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ بھی ‏پیدا کیا جب تم کچھ بھی نہیں تھے، تو دوسری مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لیے کیا ‏مشکل ہے جبکہ ایک دفعہ چیز بن بھی چکی ہے۔ تو اے مشرکین! ہمارے لیے ‏کوئی کام مشکل نہیں ہے، جس کام کو تم ناممکن سمجھتے ہو ہمارے لیے کوئی ‏مشکل نہیں ہے کام، کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ ان سے فرما ‏رہے ہیں: "کونوا حجارة او حدیدا" تم پتھر ہو جاؤ یا لوہا یا اور کوئی، یعنی جو ‏سخت چیز جو تمہارے نزدیک طاقت والی ہے چاہے وہ ہو جاؤ، تو بھی ہم تم ‏سب کو زندہ کریں گے اور تمہیں اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا پڑے گا، یہ نہ ‏سمجھنا کہ زندہ کرنا ہمارے لیے مشکل ہے یا ناممکن ہے۔ تو دیکھیے، یہاں پر جو امر آیا وہ اہانت کے لیے ہے۔ اللہ فرما رہا ہے تم پتھر ‏ہو جاؤ یا لوہا ہو جاؤ، ہمیں تمہاری کوئی پروا نہیں ہے، تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ ‏ہمیں فکر نہیں، ہم نے تو قیامت کے دن کا اعلان کر رکھا ہے اور ہم قیامت ‏کے دن سب کو اٹھائیں گے اور سب کا حساب لیں گے، تمہیں بھی اپنے اعمال ‏کا جواب دینا پڑے گا بھئی۔ تو یہاں امر کس لیے آیا؟ ان سے پتھر اور لوہا ‏ہونے کو طلب نہیں کیا جا رہا کیونکہ یہ تو ان کی قدرت میں نہیں ہے، وہ پتھر ‏یا لوہا بن سکتے ہیں؟ وہ پتھر، تو یہاں پر معلوم ہوا امر اپنے حقیقی معنیٰ میں ‏ہے ہی نہیں، پھر کس لیے ہے؟ اہانت کے لیے ہے، ان کو ذلیل کرنے کے لیے ‏ہے، اللہ فرما رہے ہیں ہمیں تمہاری کوئی پروا نہیں۔ تم کچھ بھی ہو جاؤ، ہم ‏تمہیں پھر کیا کریں گے آخرت میں؟ زندہ کریں گے بھئی۔ ‎"‎والاباحة" اور کبھی امر اباحت کے لیے آئے گا بھئی، مباح کر دینا، جائز کر ‏دینا کسی چیز کو۔ "نحو" مثال کے طور پر "کلو واشربوا" تم کھاؤ اور پیو، تم ‏کھاؤ اور پیو۔ بھئی یاد رکھیے، ابتدائے اسلام کے اندر اسلام کے احکامات ‏تدریجاً نازل ہوئے ہیں، تو ابتداء کے اندر جب روزے فرض کیے گئے تو ‏روزے بڑے مشکل تھے۔ صرف رات کے ابتدائی حصے میں کھانے پینے کی ‏اجازت ہوتی تھی، رات کے بالکل شروع کے حصے میں، اس کے بعد پھر ‏روزہ پھر شروع ہو جاتا، اور رات میں بھی پھر کھانے پینے کی اجازت نہیں ‏ہوتی تھی، اگلا سارا دن بھی کھانے پینے وغیرہ کی اجازت نہیں، شام تک، ‏اور پھر اس میں بھی شام کے صرف ابتدائی حصے میں کھانے پینے کی ‏اجازت گئی۔ تو ابتدائی حصے میں صرف کھانے پینے کی اجازت ہوتی تھی، ‏باقی رات میں کھانے پینے کی اجازت نہیں۔ لیکن پھر اللہ کی طرف سے حکم ‏آیا بھئی: "کلو واشربوا" کہ کیا کرو؟ رات کو بھی کھاؤ اور پیو، "حتی یتبین لکم ‏الخیط ابیض من الخیط الاسود" یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہو جائے صبح ‏کی سفید دھاری، رات کی سیاہ دھاری کے مقابلے میں، یعنی یہاں تک کہ فجرِ ‏صادق طلوع ہو جائے۔ فجرِ صادق طلوع ہونے تک تم کیا کر سکتے ہو؟ کھا ‏پی سکتے ہو۔ تو دیکھیے یہاں پر، اب پہلے کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی، ‏اب یہاں پر کیا کیا جا رہا ہے؟ "کلو واشربوا" کھانے پینے کی اجازت دی جا ‏رہی ہے، اور یہ اباحت کے لیے ہے بھئی۔ کیا، دیکھو صیغے تو امر کے ہیں، ‏‏"کلو"، "واشربوا"، جیسے اوپر والا صیغہ "کونوا" امر کا صیغہ تھا بھئی، وہاں ‏وہ امر کس لیے تھا؟ اہانت کے لیے، وجوب کے لیے نہیں کیونکہ حجارہ اور ‏حدید تو وہ بن ہی نہیں سکتے۔ یہاں پر بھی "کلو واشربوا" امر کے صیغے آئے ‏اور یہ امر کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے نہیں ہے، بھئی سحری کھانا واجب ‏ہے؟ جی؟ سحری کھانا آپ بھی جانتے ہیں واجب نہیں ہے بھئی، تو معلوم ہوا ‏یہ کس لیے ہے امر؟ اباحت کے لیے ہے، کہ مباح ہے تمہارے لیے کھانا پینا ‏چاہو تو کھا پی سکتے ہو طلوعِ فجر تک بھئی۔ ‎"‎والامتنان" اور امتنان کا معنیٰ ہے احسان جتلا نا بھئی، احسان جتلانا۔ ‏‏"والامتنان" اور کبھی امر کس لیے آئے گا؟ احسان جتلانے کے لیے، اپنا ‏احسان بتانے کے لیے۔ "نحو" مثال کے طور پر "کلو مما رزقکم اللہ" کھاؤ تم ‏اس میں سے جو تمہیں اللہ نے رزق دیا ہے۔ تو "کلو" امر آیا، اور یہ امر ‏وجوب کے لیے نہیں ہے، وجوب کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اللہ احسان ‏کے طور پر اپنا احسان بتلا رہے ہیں کہ جو تمہیں اللہ نے رزق دیا ہے اس ‏میں سے کھاؤ بھئی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کیسے پتہ چلا کہ یہ امر احسان کے ‏لیے ہے؟ کہتے ہیں یہ جو آگے قرینہ آیا "مما رزقکم اللہ"، وہ جو تمہیں اللہ نے ‏رزق دیا ہے، یہ قرینہ بتلا رہا ہے کہ یہ بطورِ احسان کے اللہ فرما رہے ہیں کہ ‏ہم نے تمہیں کھانے پینے کی ہر طرح کی نعمتیں دے رکھی ہیں، ہماری ان ‏نعمتوں میں سے کھاؤ پیو۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بطورِ احسان کے اللہ ‏فرما رہے ہیں بھئی، تو یہ وجوب کے لیے نہیں۔ ‎"‎والتخییر" اور کبھی امر کس لیے آئے گا؟ تخییر کے لیے آئے گا، اختیار ‏دینے کے لیے۔ بھئی دیکھیے، مثلاً آپ کے سامنے دو کتابیں پڑی ہیں، آپ اپنے ‏ساتھی سے کہتے ہیں: "خذ هذا او هذا" یہ، یہ اٹھا لو یا یہ اٹھا لو، تو آپ نے ‏اس کو اختیار دیا دو چیزوں میں سے ایک چیز کا، اس کو کہتے ہیں تخییر۔ ‏‏"خذ هذا او هذا"، تو "خذ" امر آیا اور یہ امر کس لیے ہے؟ اختیار دینے کے ‏لیے ہے بھئی، اختیار دینے کے لیے۔ "والتخییر نحو خذ هذا او ذاک" یہ لے لو ‏یا یہ لے لو۔ اچھا بھئی، اباحت اور تخییر میں فرق یہ ہے کہ اباحت میں دونوں ‏چیزوں کا جمع کرنا جائز ہوتا ہے، تخییر میں دونوں چیزوں کا جمع کرنا جائز ‏نہیں۔ دیکھو، "کلو واشربوا" کھاؤ اور پیو، چاہے تو صرف آپ کھائیں، چاہے ‏تو صرف پئیں اور چاہے تو دونوں کریں، کھائیں اور پئیں، سحری کے اندر ‏کھانا بھی صرف کھائیں، یہ بھی ٹھیک ہے، صرف پی لیں، یہ بھی ٹھیک ہے، ‏کھائیں اور پئیں سب صورتیں جائز ہیں یا جائز نہیں؟ اور چاہے تو سرے سے ‏سحری کھائیں ہی نہ، روزہ ہو گا یا نہیں ہو گا؟ روزہ تو ہو جائے گا اگرچہ ‏مسنون چیز رہ گئی، لیکن بہرحال بات اس وقت وجوب کی ہو رہی ہے کہ ‏واجب نہیں ہے۔ تو یہاں البتہ جب آپ نے دوسرے سے کہا کہ ان دو کتابوں ‏میں سے ایک لے لو، تو وہ اس کے لیے ایک کتاب لینے کی تو اجازت ہو گی، ‏دونوں لینے کی اجازت نہیں۔ اچھا پھر پتہ کیسے چلے گا کہ کوئی امر اباحت ‏کے لیے ہے یا تخییر کے لیے ہے؟ کہتے ہیں بھئی قرینہ بتلا دے گا، کوئی نہ ‏کوئی قرینہ وہاں بتلا دے گا۔ مثلاً آپ کا اگر کوئی قریبی ساتھی ہے، آپ نے ‏اس کے سامنے دو کتابیں رکھیں، آپ نے کہا بھئی یہ والی کتاب لے لو یا یہ ‏والی لے لو، وہ کہتا ہے نہیں بھئی میں تو دونوں لوں گا، دونوں اس نے اٹھا ‏لیں۔ معلوم ہوا یہ امر کس لیے تھا؟ اباحت کے لیے تھا، ورنہ تخییر کے لیے ‏ہوتا تو آپ اس کو دونوں کتابیں لینے کی اجازت نہ دیتے۔ موقع محل، ہاں اس ‏کے مقابلے میں ایک آپ دکاندار کے ساتھ بات کر رہے ہیں، دکاندار آپ سے ‏کہتا ہے یہ والی 500 روپے میں، یہ والی چیز لے لیں یا یہ والی لے لیں، آپ ‏دونوں اٹھا سکتے ہیں 500 میں؟ نہیں، وہ معلوم ہوا وہ کیا کر رہا ہے؟ تخییر ‏ہے یہاں پر کہ دونوں میں سے جو چاہیں آپ لے لیں بھئی، صورت سمجھ، تو ‏وہ قرینہ وغیرہ بتلا دے گا۔ ‎"‎والتسویة" اور کبھی امر کس لیے آئے گا؟ تسویہ، برابری بیان کرنے کے ‏لیے۔ "نحو اصبروا او لا تصبروا" تم لوگ صبر کرو یا صبر نہ کرو۔ تو یہاں ‏‏"اصبروا" امر آیا، لیکن یہ امر وجوب وغیرہ کے لیے نہیں کہ تم لوگ صبر ‏کرنا ان سے طلب کیا جا رہا ہو، بلکہ یہ برابری بیان کرنے کے لیے ہے۔ ‏جہنمی جہنم میں جلیں گے اور چیخ و پکار کریں گے، اللہ سے فریاد کریں گے ‏کہ اللہ ہمیں یہاں سے نکال لیجیے، لیکن ان کی ایک نہیں سنی جائے گی، اللہ ‏ان کی طرف توجہ ہی نہیں فرمائیں گے، تو پھر وہ آپس میں کہیں گے کہ یوں ‏کرتے ہیں صبر کر لیتے ہیں، ذرا خاموش بیٹھ جاتے ہیں، اتنی چیخ و پکار کر ‏لی اس کا تو فائدہ نہیں ہوا، خاموشی سے برداشت کرتے ہیں عذاب کو، شاید ‏اللہ تعالیٰ اس پر ہمیں یہاں سے نکال لیں۔ تو اس موقع پر انہیں اللہ کی طرف ‏سے کہا جائے گا: "اصبروا او لا تصبروا" تم لوگ صبر کرو یا صبر نہ کرو، ‏یعنی تمہارے لیے دونوں چیزیں برابر ہیں، تمہیں ہر حال میں اب یہی پر رہنا ‏ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کی جہنم سے حفاظت فرمائے بھئی۔ تو یہ امر برابری بیان کرنے کے لیے ہے کہ صبر اور صبر نہ کرنا دونوں ان ‏کے لیے برابر ہیں۔ "والإکرام" اور کبھی امر اکرام کے لیے آئے گا بھئی، ‏عزت بڑھانے کے لیے، عزت کے لیے، "نحو" مثال کے طور پر "ادخلوها ‏بسلام آمنین"، "ادخلو" تم لوگ داخل ہو جاؤ، "ہا" ضمیر راجع ہے جنت کو، تم ‏لوگ اس، تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ "بسلام" سلامتی کے ساتھ "آمنین" اس ‏حال میں کہ تم مامون ہو یعنی امن کے ساتھ ہو۔ تو جنتی جب جنت میں داخل ہوں گے بھئی، آپ لوگ جب جنت میں داخل ہو ‏رہے ہوں گے، آپ کو فرشتے کہیں گے بھئی، اللہ کی طرف سے آپ کو کہا ‏جائے گا کہ اس میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ اب "ادخلو" امر ‏آیا، تو یہ امر وجوب کے لیے نہیں ہے، طلبِ فعل کے لیے نہیں ہے، بلکہ ‏صرف بطورِ اکرام اور بطورِ عزت کے کہا جائے گا، جیسے آپ کے ہاں بھی ‏مہمان آتا ہے، آپ اس کو کہتے ہیں "آئیے، آئیے، تشریف لائیے"، دیکھیے یہ ‏امر کے صیغے ہیں، "آئیے، تشریف لائیے"، "یہ آپ کا اپنا گھر ہے، آپ کی ‏اپنی جگہ ہے"، تو یہ آپ کس لیے کہتے ہیں مہمان کو؟ اس کی عزت افزائی ‏کے لیے، اس کی عزت کرتے ہوئے اس کو کہتے ہیں۔ تو اسی طرح جب ‏مومنین جنت میں جائیں گے تو ان کو بطورِ عزت ان کی عزت کرتے ہوئے ان ‏کو یوں کہا جائے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کس چیز سے پتہ چلا کہ یہ امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ ‏اکرام کے لیے ہے؟ یاد رکھیے، جو آگے قرینہ آ رہا ہے "بسلام آمنین"، داخل ‏ہو جاؤ اس میں سلامتی اور، سلامتی اور امن کے ساتھ، یہ قرینہ بتلا رہا ہے ‏کہ یہ بطورِ اکرام اور عزت کے ان کو یوں کہا جائے گا بھئی۔ بات سب کو ‏سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو۔ اچھا بھئی، یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ "ألا أیہا اللیل الطویل ألا انجلی"، "انجلی" ‏کو امر، تمنا پر محمول کیا گیا۔ اور تمنا تو کہتے ہیں کسی ایسی چیز کی تمنا ‏اور طلب کرنا جو ممکن ہی نہ ہو، اچھا ممکن ہی نہ ہو، اور حالانکہ رات کا ‏تو صبح کے ساتھ روشن ہو جانا ممکن ہے۔ تو اس کو تمنا کیسے کہیں گے؟ ‏بھئی میں نے ابھی بتایا، تمنا ایسی چیز کو طلب کرنا جس کا حاصل ہونا ممکن ‏ہی نہ ہو یا ممکن تو ہو لیکن سخت دشوار ہو۔ کیا ہو؟ سخت دشوار، تو یہاں پر ‏بھی ماقبل اور مابعد کے اشعار بتاتے ہیں کہ شاعر اتنے غم اور تکلیف میں ‏مبتلا ہے اور رات نے اور اس کی تاریکی نے اس کا اس طرح احاطہ کیا ہوا ‏ہے جو وہ بیان کرتا ہے، گویا اس شاعر کو امید ہی نہیں ہے کہ اس کے لیے ‏رات بھی روشن ہو گی اور صبح کبھی آئے گی بھئی، ختم ہونے میں ہی نہیں آ ‏رہی، اس کو امید ہی نہیں ہے اس رات کے ختم ہونے کی بھئی۔ سمجھ میں آیا ‏بھئی؟ اور امید نہیں اور پھر وہ کیا کر رہا ہے؟ اس کو طلب کر رہا ہے، اسی ‏کو تو تمنا کہتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو امید ہی نہیں ہے یا ‏بہت مشکل ہے اس کے خیال میں کہ یہ روشن ہو جائے۔ چلیے بس بھئی، هذا ‏هو المراد والله أعلم بحقیقة الکلام۔