Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-026

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۲۶ الکلام علٰى الإنشاء، الإنشاء إما طلبي أو غير طلبي، فالطلبي ما يستدعي مطلوبا غير حاصل وقت الطلب، وغير الطلبي ما ليس كذلك، والأول يكون بخمسة أشياء: الأمر، والنهي، والاستفهام، والتمني، والنداء۔ خبر کی بحث مکمل ہوئی۔ اب انشاء کے بارے میں آپ کو تفصیل بتلائیں گے بھئی۔ انشاء کی تعریف پیچھے گزر چکی کہ انشاء وہ کلام ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ اب آگے تقسیم کر رہے ہیں انشاء کی کہ انشاء دو قسم پر ہوگا: طلبی ہوگا یا غیر طلبی ہوگا۔ نام سے ہی معنی کا پتہ چل رہا ہے۔ انشاء طلبی وہ جس کے اندر طلب ہو بھئی، کسی چیز کی طلب ہو اور انشاء غیر طلبی جس کے اندر کسی چیز کی طلب نہ ہو، ہے تو انشاء لیکن اس میں طلب نہیں ہے، تو وہ انشاء غیر طلبی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: الکلام علٰى الإنشاء، انشاء پر کلام یعنی انشاء کے بارے میں کلام۔ الإنشاء إما طلبي أو غير طلبي، انشاء یا تو وہ طلبی ہوگا یا غیر طلبی ہوگا۔ فالطلبي ما يستدعي مطلوبا غير حاصل وقت الطلب۔ اب طلبی اور غیر طلبی کسے کہتے ہیں وہ بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: فالطلبي، تو انشاء طلبی جو ہے: ما، وہ انشاء ہے؛ يستدعي مطلوبا، تقاضا کرتا ہے، استدعاء کا معنی تقاضا کرنا، چاہنا؛ ما يستدعي مطلوبا، جو تقاضا کرتا ہے، جو چاہتا ہے مطلوب کا، ایسا مطلوب غیر حاصل وقت الطلب، جو طلب کے وقت حاصل نہ ہو۔ انشاء طلبی وہ ہے جو ایسے مطلوب کا تقاضا کرے جو طلب کے وقت حاصل نہ ہو۔ تو انشاء طلبی کی انہوں نے کیا تعریف کی؟ ما يستدعي مطلوبا، جو کس کا تقاضا کرے؟ جو تقاضا کرے مطلوب کا اور مطلوب کی آگے صفت ذکر کر دی کہ وہ غیر حاصل وقت الطلب کہ وہ طلب کے وقت حاصل نہ ہو۔ کیونکہ طلب حقیقت کے اندر طلب کہتے ہی اس چیز کو ہیں: ایسی چیز کا ارادہ کرنا جو انسان کو حاصل نہ ہو، جو انسان کو حاصل نہ ہو بھئی۔ یہ ہے طلب کا حقیقی معنی بھئی، طلب کا حقیقی معنی۔ تو اس میں بھی مطلوب کا تقاضا ہوگا اور وہ مطلوب اس قسم کا ہوگا جو اس جو حاصل نہ ہوگا بھئی اس وقت میں، طلب کے وقت حاصل نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ما يستدعي مطلوبا غير حاصل وقت الطلب، جو تقاضا کرے ایسے مطلوب کا جو طلب کے وقت حاصل نہ ہو۔ وغير الطلبي ما ليس كذلك، اور انشاء غیر طلبی وہ ہے جو ایسا نہ ہو یعنی جس میں مطلوب کا تقاضا نہ ہو بھئی جس میں۔ والأول يكون بخمسة أشياء، اور پہلی قسم یعنی انشاء طلبی وہ يكون بخمسة أشياء، وہ پانچ چیزوں کے ساتھ ہوگا بھئی۔ وہ انشاء کتنی چیزوں کے ساتھ ہوگا؟ پانچ چیزیں ہیں: الأمر، والنهي، والاستفهام، والتمني، والنداء۔ امر، نہی، استفہام، تمنی اور نداء۔ بئی دیکھیے، امر، امر کے اندر بھی ایک چیز کی طلب ہوتی ہے۔ آپ کسی سے مثلاً کہتے ہیں: "اضرب زيدا"، زید کی پٹائی کرو، تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ ضرب زید کو طلب کر رہے ہیں کہ کیا کیا جائے، مخاطب کیا کرے؟ زید کی پٹائی، تو دیکھو اس میں ضرب کی طلب ہے بھئی۔ نہی، نہی نہی کے اندر کسی چیز سے روکا جاتا ہے، تو آپ کہیں گے اس میں تو روکا جاتا ہے اس میں طلب نہیں، لیکن آپ اصول کی کتابوں میں پڑھ چکے ہوں گے بھئی کہ نہی کے اندر بھی طلب ہے، لیکن امر میں تھی طلب کسی چیز کے کرنے کی اور نہی میں جو طلب ہوتی ہے وہ کسی چیز کے چھوڑنے کی طلب ہوتی ہے، ترک فعل کی طلب ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کسی سے کہتے ہیں: "لا تضرب زيدا"، آپ زید کی پٹائی نہ کیجیے، تو اب آپ کس چیز کو طلب کر رہے ہیں؟ ضرب کو یا ترک ضرب کو؟ ترک ضرب کو، ضرب کے چھوڑنے کو طلب کر رہے ہیں کہ مخاطب کیا کرے؟ زید کی پٹائی نہ کرے، تو ہے اس میں بھی طلب، نہی کے اندر بھی طلب ہے بھئی، ہم انشاء طلبی کی قسمیں پڑھ رہے ہیں، تو نہی کے اندر بھی طلب، لیکن اس کے اندر فعل کی طلب نہیں بلکہ ترک فعل کی طلب ہے بھئی۔ فالاستفهام، اور تیسری قسم جو ہے استفہام ہے بھئی استفہام۔ استفہام میں بھی آپ جانتے ہیں کسی چیز کی طلب ہوتی ہے، آپ کسی سے کوئی سوال پوچھتے ہیں، تو سوال میں بھی کیا ہوتی ہے؟ اس کے جواب کی طلب ہوتی ہے بھئی۔ والتمني، تمنا کے اندر بھی طلب ہوتی ہے کسی چیز کی، کوئی ایسی چیز جس کا انسان کے لیے حصول ناممکن ہو یا انتہائی مشکل ہو اس کی طلب کا انسان اظہار کرے، اس کو ذکر کرے، تو یہ ہے تمنی بھئی تمنی۔ بعض اوقات وہ چیز ممکن ہی نہیں ہوتی مثلاً بوڑھا شخص کہے: "اليت الشباب يعود"، کاش کہ جوانی لوٹ آئے، اب دیکھیے اس کے اندر بھی طلب ہے، لیکن طلب کس چیز کی ہے؟ جوانی کی، جس کا لوٹنا ممکن نہیں ہے بھئی، ممکن نہیں ہے۔ اور اسی طرح مثلاً کوئی بڑا ہی غریب آدمی ہے اور وہ کثیر مال کی تمنا کرتا ہے بھئی کثیر مال کی، اب کثیر مال کا اسے حاصل ہونا ناممکن تو نہیں لیکن بڑا مشکل ہے بھئی، تو یہ بھی تمنا ہے بھئی تمنا۔ اس کے ساتھ ایک اور قسم ہے جسے ترجی کہتے ہیں آپ نے پڑھا ہوگا بھئی، ترجی، تو ترجی جو ہے اس میں کسی ایسی چیز کے طلب ہوتی ہے جس کے حصول کی توقع ہوتی ہے، امید ہوتی ہے۔ تمنا کے اندر وہ چیز جو ہے یا تو اس کا حصول ممکن ہی نہیں ہوگا یا ممکن تو ہے لیکن بڑا ہی مشکل ہے، لیکن ترجی کے اندر اس چیز کا حصول ممکن ہوتا ہے، اس کی توقع ہوتی ہے بھئی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ترجی کہتے ہیں بھئی، ترجی کہتے ہیں۔ تو یہاں پر صاحب کتاب نے ترجی کو ذکر نہیں کیا، چنانچہ بعض علماء، دوسرے علماء وہ ترجی کو ذکر کرتے ہیں، وہ چھٹی قسم پھر بناتے ہیں، ترجی بھئی۔ اور بعض علماء نے پھر یہاں یہ کہا کہ اس تمنی ہی کے اندر ترجی بھی داخل ہے، تمنی ہی کے اندر ترجی بھی داخل ہے بھئی۔ والنداء، اور پانچویں قسم ہے نداء۔ مثلاً آپ کسی کو نداء دیتے ہیں: "یا زید"، تو اس میں بھی طلب ہے، نداء کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ مخاطب کو اپنی طرف متوجہ کیا جاتا ہے، تو نداء کے اندر بھی طلب ہوتی ہے، آپ مخاطب کی توجہ کو کیا کر رہے ہیں؟ طلب کر رہے ہیں بھئی۔ اور پھر یاد رکھیے یہاں پر یہ جو عبارت آئی: "الأمر والنهي والاستفهام والتمني والنداء"، ان پر آپ رفع بھی پڑھ سکتے ہیں، نصب بھی پڑھ سکتے ہیں، جر بھی پڑھ سکتے ہیں بھئی، جر بھی۔ "الأمرِ والنهيِ والاستفهامِ والتمنيِ والنداءِ"، اور چاہیں تو نصب پڑھ لیں: "الأمرَ والنهيَ والاستفهامَ والتمنيَ والنداءَ"، اور چاہیں تو اس پر جر پڑھیں: "الأمرِ والنهيِ والاستفهامِ والتمنيِ والنداءِ"۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اگر اس کو اس پر رفع پڑھیں: "الأمرُ"، تو یاد رکھیے اس صورت میں یہ خبر ہیں مبتدائے محذوف کی، خبر ہیں مبتدائے محذوف کی بھئی۔ تو مبتدائے محذوف چاہے سب کے لیے ایک ہی نکال لیں: "هي"، "هي" مبتداء اور ضمیر راجع ہے "خمسة أشياء" کو بھئی، وہ پانچ چیزیں کون کون سی ہیں؟ وہ "هي"، یہ ہیں: "الأمر والنهي والاستفهام" بھئی۔ یا چاہیں تو ہر ایک کے لیے مبتداء الگ نکال لیں: "أحدها الأمر، وثانيها النهي، وثالثها الاستفهام، ورابعها التمني، وخامسها النداء"، تو چاہے ہر ایک کے لیے مبتداء الگ نکال لیں، چاہے ایک ہی مبتداء نکال لیں اور ان کو معطوف، معطوف علیہ بنا کر اس کو اس کی خبر بنا دیں بھئی۔ تو یہ تو وجہ ہوئی رفع پڑھنے کی، آپ نصب بھی پڑھ سکتے ہیں یہاں پر، اس صورت میں اس کو مفعول بنائیں فعل محذوف کے لیے: "أعني"، "أعني"، یا یوں کہیں یہاں مصنفین کئی ہیں، تو "نعني" جمع کا صیغہ نکال لیں جمع متکلم کا، کہ پہلا انشاء طلبی وہ پانچ چیزوں سے ہوگا، "نعني الأمر"، ہماری مراد ہے امر، ہماری مراد کیا ہے؟ امر، نہی، استفہام، تمنی اور نداء، تو یہ "نعني"، "نعني" فعل، اس کے اندر "نحن" ضمیر فاعل کی، ہماری مراد یہ ہے اور آگے یہ مفعول بن جائیں گے، منصوب بنیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور آپ چاہیں تو اس پر جر پڑھیں: "الأمرِ والنهيِ"، جر ہونے کی صورت میں یہ اس کو بدل بنائیں "خمسة أشياء" سے، اور آپ نے پڑھا ہے بدل اور مبدل منہ کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو "خمسة أشياء" یہ ہوا مبدل منہ، اور "الأمرِ والنهيِ والاستفهامِ والتمنيِ والنداءِ" یہ کیا ہوا؟ بدل ہوا، اور بدل اور مبدل منہ کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو یہاں تینوں قسم کے اعراب آپ پڑھ سکتے ہیں۔ أما الأمر فهو طلب الفعل على وجه الاستعلاء، اب ان میں سے ہر ایک کو تفصیل سے بیان کریں گے بھئی۔ أما الأمر، باقی امر جو ہے: فهو طلب الفعل على وجه الاستعلاء، وہ فعل کو طلب کرنا ہے استعلاء کے طریقے پر۔ استعلاء کا معنی ہے، استعلاء کا معنی ہے اونچا سمجھنا، بڑا سمجھنا، کسی سے کوئی فعل طلب کیا جائے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے، اپنے آپ کو اونچا سمجھتے ہوئے، تو اس یہ ہے استعلاء بھئی، طلب فعل علٰى وجہ الاستعلاء۔ بھئی یہیں پر دو اور چیزیں بھی سمجھ لیں: ایک ہے امر، ایک ہے دعا، اور اسی طرح ایک ہے التماس، تین چیزیں ہیں یہاں پر: امر، دعا اور التماس۔ امر کے اندر بھی طلب فعل ہے، دعا کے اندر بھی طلب فعل ہے، التماس کے اندر بھی طلب فعل ہے، لیکن یہ طلب فعل اگر استعلاء کے طریقے پر ہو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے ہو، تو اس کو امر کہتے ہیں اور اگر یہی طلب فعل عاجزی کے طریقے پر ہو اپنے آپ کو ادنیٰ سمجھتے ہوئے، تو اس کو دعا کہتے ہیں، اور اگر یہی طلب فعل برابری کے طریقے پر ہو اپنے آپ کو اس کے برابر سمجھتے ہوئے، نہ اس سے اعلیٰ سمجھ رہے ہیں، نہ اس سے ادنیٰ، تو اس کو التماس کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ التماس کہتے ہیں۔ بھئی دیکھیے، آگے مثالیں بھی اس کی آ جائیں گی۔ آقا اپنے غلام سے کہتا ہے کہ: "پانی لے آؤ"، تو یہ حکم دے رہا ہے اور کس طریقے پر ہے؟ علٰى وجہ الاستعلاء اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے کیونکہ وہ دوسرا اس کا غلام ہے بھئی، تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے ایک بات ایک چیز اس سے طلب کر رہا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ امر۔ اسی طرح آپ کہتے ہیں: "اللهم اغفر لي"، اے اللہ! میری مغفرت فرما دیجیے۔ اب "اغفر" صیغہ تو امر کا ہے، لیکن آپ لوگ اس کو کیا کہتے ہیں؟ دعا کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ دعا کہتے ہیں، کیوں دعا کہتے ہیں؟ کیونکہ یہاں طلب فعل ہے عاجزی کے طریقے پر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اپنے آپ کو ادنیٰ سمجھتے ہوئے فعل طلب فعل کی طلب ہے اس کے اندر دعا کے اندر بھئی۔ اور ایک ہے طلب فعل برابری کے طریقے پر، اس کو التماس کہتے ہیں جیسے آپ اپنے ساتھی کسی کو کہتے ہیں کہ بھئی: "یہ کتاب مجھے دے دیجیے"، اب آپ یہ طلب فعل کر رہے ہیں لیکن یہ نہ استعلاء کے طریقے پر ہے، نہ عاجزی کے طریقے پر ہے، بلکہ برابری کے طریقے پر ہے، تو اس کو التماس کہیں گے، کیا کہیں گے؟ التماس، اردو میں اس کو یوں کہیں: درخواست کہیں گے، درخواست کر رہے ہیں، یا یوں کہیں: گزارش کر رہے ہیں بھئی، گزارش بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو امر کے اندر البتہ استعلاء ضروری ہے۔ امر اسی کو کہیں گے جو علٰى وجہ الاستعلاء ہو بھئی، استعلاء کے طریقے پر اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے۔ تو کہتے ہیں: أما الأمر فهو طلب الفعل على وجه الاستعلاء، امر جو ہے وہ فعل کو طلب کرنا ہے استعلاء کے طریقے پر اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے۔ وله أربع صيغ، اور اس کے چار صیغے ہیں۔ امر کے کتنے صیغے ہیں؟ چار صیغے ہیں بھئی وہ بیان کریں گے جن میں امر کا معنی ہے بھئی۔ فعل الأمر، ایک تو فعل امر ہے، نحو: "خذ الكتاب بقوة"۔ فعل امر بھئی، آپ نے امر کی قسمیں پڑھی ہیں صرف و نحو کے اندر، امر دو قسم پر ہے: ایک امر ہے بے لام بغیر لام کے، اور ایک امر ہے بالام یعنی لام کے ساتھ بھئی۔ "اضرب"، یہ کون سا امر ہے؟ بغیر لام کے، یہ بھی صیغہ امر، اور ایک ہے بالام، لام کے ساتھ امر کے صیغے آتے ہیں، وہ کون سے ہیں؟ مثلاً "ليضرب"، چاہیے کہ وہ پٹائی کرے، "لأضرب"، چاہیے کہ میں پٹائی کروں، "لتضرب"، چاہیے کہ تمہاری پٹائی کی جائے، وغیرہ، یہ کیا ہیں؟ بالام بھئی۔ تو آپ نے صرف وغیرہ میں پڑھا کہ امر کے صیغے دو ہی ہیں: ایک "اضرب" اور ایک "ليضرب"، یعنی ایک بے لام، لام کے بغیر، اور ایک بالام یعنی لام کے ساتھ بھئی، لام کے ساتھ۔ تو صرف اور نحو میں جب آپ پڑھیں گے تو وہاں پر آپ کو صرف امر کے یہی دو صیغے بتائے جائیں گے، لیکن یہاں پر یہ بیان کر رہے ہیں: وله أربع صيغ، اس کے چار صیغے ہیں، چار صیغے۔ تو یہاں یہ بات یاد رکھنا کہ ایک اصطلاح ہے علم صرف اور علم نحو والوں کی، اور ایک اصطلاح ہے علم بلاغت اور علم اصول فقہ والوں کی۔ علم نحو اور صرف کے نزدیک امر کے صرف دو صیغے ہیں: ایک بے لام اور ایک بالام، یعنی ایک "اضرب" اور ایک "ليضرب" بھئی، دو صیغے ہیں، یہ کس کے نزدیک؟ علماء صرف اور علماء نحو کے نزدیک۔ جبکہ علماء بلاغت اور علماء اصول فقہ جو ہیں ان کے نزدیک امر کے چار صیغے ہیں بھئی، چار صیغے ہیں جو یہاں بیان کریں گے۔ بھئی کیا وجہ ہے یہ فرق کیوں ہے؟ ان کے نزدیک دو صیغے کیوں؟ ان کے نزدیک چار صیغے کیوں؟ وجہ یہ کہ علماء صرف و نحو جو ہیں وہ لفظوں سے بحث کرتے ہیں، صرف کے اندر آپ دیکھتے ہیں کہ ایک لفظ کس طرح دوسرے لفظ سے بنایا جاتا ہے، کس طرح گردان چلتی ہے، کس طرح صیغے بنائے جاتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور اسی طرح نحو کے اندر، کس لفظ پہ رفع پڑھنا ہے، کس پہ نصب پڑھنا ہے، کس پہ جر پڑھنا ہے، تو وہاں بات ہوتی ہے لفظوں کی، وہ لفظوں سے بحث کرتے ہیں اور لفظوں کے اعتبار سے، لفظوں کے اعتبار سے کلام عرب میں صرف دو لفظ ہیں جو طلب فعل کے لیے وضع ہیں۔ کلام عرب میں کتنی قسم کے لفظ ہیں؟ دو قسم کے لفظ ہیں جو طلب فعل کے لیے وضع ہیں، جن کو وضع ہی طلب فعل کے لیے کیا گیا ہے: ایک وہ "اضرب" یعنی امر بے لام، اور ایک "ليضرب" یعنی امر بالام، یہ دو قسم کے صیغے ہیں۔ تو چونکہ یہ دو صیغے ہی طلب فعل کے لیے وضع کیے گئے ہیں، یہ دو لفظ ہی، اور علماء صرف اور نحوی بحث کرتے ہیں لفظوں سے اور اب بات چل رہی ہے امر کی جس کے اندر کیا ہو؟ طلب فعل ہو، تو وہ صرف انہی دو کو امر کہتے ہیں، کیونکہ انہی دو کو کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ طلب فعل، امر کسے کہتے ہیں؟ جس میں کیا ہو؟ طلب فعل ہو، اور طلب فعل کے لیے کتنے صیغے وضع ہیں؟ یہ دو قسم کے صیغے وضع ہیں، تو انہی دو کو وہ امر کہتے ہیں، باقی صیغے طلب فعل کے لیے وضع ہی نہیں ہیں، لہٰذا وہ ان کو امر بھی نہیں کہتے۔ جبکہ علم بلاغت اور علم اصول فقہ والے یہ بحث کرتے ہیں معنی سے۔ وہ بحث کرتے تھے لفظوں سے، یہ بحث کس سے کرتے ہیں؟ معنیٰ سے۔ تو یہ ہر اس صیغے کو امر کہیں گے جس میں طلبِ فعل والا معنیٰ آ جائے۔ جس میں کون سا معنیٰ آ جائے؟ طلبِ فعل والا معنیٰ آتا ہے، اس کو وہ امر کہیں گے بھئی۔ چنانچہ بھئی! اسمِ فعل ہے ایک قسم اسمِ فعل، جو ہوتا تو اسم ہے لیکن معنیٰ فعل والا ادا کرتا ہے۔ آپ نے نحو میں پڑھا ہے بھئی۔ اسمِ فعل کس کو کہتے ہیں؟ جو ہے تو اسم، لیکن معنیٰ کس کا ادا کر رہا ہے؟ فعل والا۔ اور یہ اسمِ فعل آپ نے پڑھا ہے کبھی فعلِ ماضی کے معنیٰ میں ہوتا ہے، کبھی فعلِ امر کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔ تو یہ معنیٰ کس کا ادا کر رہا ہے؟ فعلِ امر والا معنیٰ ادا کر رہا ہے۔ امر ہے تو نہیں لیکن معنیٰ کس کا ادا کر رہا ہے؟ امر والا معنیٰ ادا کر رہا ہے۔ اس لیے چونکہ دیکھو معنیٰ امر والا آ گیا تو لہٰذا علماءِ بلاغت اور علماءِ اصولِ فقہ کے نزدیک یہ بھی کیا ہوا؟ امر ہوا۔ یہ بھی کیا ہوا؟ امر ہوا کیونکہ یہ امر والا معنیٰ ادا کر رہا ہے اور یہ بھی بحث کرتے ہیں معنیٰ سے، تو معنیٰ اسی جیسا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح بعض اوقات مصدر جو ہوتا ہے وہ امر کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ فعلِ امر کو حذف کر لیا جاتا ہے اور اس کی جگہ مصدر کو اس کا قائم مقام کر دیا جاتا ہے بھئی، مصدر کو۔ بھئی دیکھیے، آپ کہتے ہیں: ضربت زیداً ضرباً۔ ضربت زیداً ضرباً، یہ ضرباً کیا ہے؟ مفعولِ مطلق ہے، مفعولِ مطلق وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔ تو ضرباً مصدر ہے جو ماقبل فعل یعنی ضربت ہی کے معنیٰ میں ہے۔ وہاں بھی ضرب کا ذکر، ضرباً کے اندر بھی ضرب ہی کا ذکر۔ تو مفعولِ مطلق وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنیٰ میں ہوتا ہے اور اس کی بحث تراکیب میں آپ نے پڑھی ہو گی، آپ کو یاد ہو گا۔ بعض اوقات یہ جو مفعولِ مطلق ہے اس کے عامل، وہ جو اس کا فعل ہے اس کو حذف کرنا واجب ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ بعض، ابھی تو اس جملے میں تو میں نے ذکر کیا: ضربت ضرباً، ضربت ساتھ ذکر ہے ضرباً کے۔ لیکن بعض اوقات اس کو حذف کرنا واجب ہوتا ہے جیسے: شکراً۔ آپ عرب سے جب بھی بات کریں گے، وہ آپ کا شکریہ ادا کرے گا تو شکراً کہے گا صرف۔ یہ دراصل مفعولِ مطلق ہے بھئی، شکرت شکراً کبھی بھی کسی عرب سے آپ نہیں سنیں گے بھئی۔ تو شکرت کا حذف کرنا واجب ہے۔ اگر واجب نہ ہوتا ہم کسی عرب سے تو سن لیتے، وہ یوں کہتا: شکرت شکراً، لیکن ہم جب بھی سنتے ہیں کیا سنتے ہیں ان سے؟ شکراً۔ اور یہ تو ہے مفعولِ مطلق، معلوم ہوا یہ ایسا مفعولِ مطلق ہے جس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ گویا یہ مفعولِ مطلق اس فعل کے قائم مقام ہو گیا۔ اس فعل کے قائم مقام، تو اسی طرح ہے بھئی۔ سعیاً، سعیاً، آگے کتاب میں مثال آ جائے گی۔ سعیاً فی الخیر، عرب کہتے ہیں بھئی ایک دوسرے سے: سعیاً فی الخیر بھئی۔ اصل میں ہے: اسعَ سعیاً فی الخیر۔ اسعَ فعلِ امر، اسعیٰ کرنا کوشش کرنا، کوشش کرو فی الخیر، کس کے اندر؟ بھلائی، بھلائی کے کام میں کوشش کرو، نیکی کے اندر کوشش کرو بھئی، لیکن عرب کبھی بھی یوں نہیں کہیں گے: اسعَ سعیاً فی الخیر، بلکہ وہ صرف کیا کہیں گے؟ سعیاً فی الخیر، ہمیشہ اسی طرح کہیں گے۔ معلوم ہوا سعیاً کو اسعَ فعلِ امر کا قائم مقام کر دیا گیا۔ کیا کر دیا گیا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ ہاں، تو سعیاً فی الخیر کیا ترجمہ ہے؟ ترجمہ، ترجمہ کیجیے اردو میں سعیاً فی الخیر۔ ہاں، تم خیر میں کوشش کرو۔ دیکھو طلبِ فعل ہے، کیا ہے؟ دیکھو امر والا ترجمہ ہے، امر والا ترجمہ۔ تو ہے تو یہ مصدر سعیاً، مفعولِ مطلق ہے لیکن معنیٰ کس کا ادا کر رہا ہے؟ امر والا معنیٰ ادا کر، لہٰذا علمِ بلاغت والے اور علمِ اصولِ فقہ والوں کے نزدیک اس کو بھی کیا کہیں گے؟ امر ہی کہیں گے، اگرچہ یہ امر نہیں یہ تو مصدر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک اصطلاح ہے کس کی؟ علماءِ صرف اور علماءِ نحو کی، اور ایک اصطلاح ہے علماءِ بلاغت اور علماءِ اصولِ فقہ کی، تو علماءِ صرف اور نحو کے نزدیک امر جو ہے وہ صرف دو صیغے ہیں امر کے، ایک امر بے لام اور ایک امر بالام، یعنی اِضرب اور لِیضرب، کیونکہ صرفی اور نحوی لفظوں سے بحث کرتے ہیں اور لفظوں کے اعتبار سے صرف یہی دو قسم کے لفظ ہیں جن کو طلبِ فعل کے لیے وضع کیا گیا ہے، جبکہ علماءِ بلاغت اور علماءِ اصولِ فقہ وہ بحث کرتے ہیں معنیٰ سے، تو وہ لفظوں کو نہیں دیکھیں گے وہ معنیٰ کو دیکھیں گے۔ جہاں بھی امر والا معنیٰ آئے گا وہ کہیں گے یہ امر ہے، وہ کیا کہیں گے؟ لہٰذا اسمِ فعل، وہ تو سرے سے فعل ہی نہیں ہے۔ وہ تو سرے سے فعل، لیکن معنیٰ کس کا ادا کر رہا ہے؟ فعلِ امر والا، تو اس کو بھی وہ کہیں گے یہ امر ہے۔ اسی طرح مفعولِ مطلق بعض جگہ وہ فعلِ امر والا معنیٰ ادا کرتا ہے یعنی اس کے قائم مقام ہو جاتا ہے تو اس کو بھی وہ کیا کہیں گے؟ امر ہے۔ تو ان کے نزدیک گویا صیغے کتنے ہو گئے؟ چار ہو گئے: ایک امر بے لام، ایک امر بالام، اور اسی طرح اسمِ فعل جو امر کے معنیٰ میں ہو، اور اسی طرح وہ مفعولِ مطلق جو کس معنیٰ میں ہو؟ امر کے معنیٰ میں ہو، اس کے قائم مقام ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: و لھ اربع صیغ، اور اس کے چار صیغے ہیں یعنی امر کے، فعل الامر، ایک تو فعلِ امر ہے وہی بے لام بھئی، نحو مثال کے طور پر: خذ الکتاب بقوۃ، پکڑ لو کتاب کو مضبوطی سے، قوت کے ساتھ۔ اللہ فرما رہے ہیں کتاب کو، کتاب کو مضبوطی سے تھام لو، مضبوطی سے پکڑ لو، تو خذ امر آیا خذ، اور یہ بے لام ہے یا بالام ہے؟ بے لام ہے، یہ اس کی مثال آ گئی۔ والمضارع المقرون باللام، دوسرا صیغہ اس کا جو ہے وہ فعلِ مضارع جو ملا ہوا ہو لام کے ساتھ، نحو مثال کے طور پر: لینفق ذو سعۃ من سعتہ، لینفق چاہیے کہ خرچ کرے، ذو سعۃ، وسعت کہتے ہیں گنجائش کو، ذو سعۃ گنجائش والا، من سعتہ اپنی گنجائش میں سے، چاہیے کہ خرچ کرے گنجائش والا اپنی گنجائش میں سے، یعنی اپنی گنجائش کے بقدر خرچ کرے۔ اس آیت میں یہ بیان ہو رہا ہے کہ جو بچے ہوتے ہیں ان کا خرچہ، ان کا نفقہ وغیرہ یہ والد کے ذمے ہوتا ہے، ان کا خرچہ کس کے ذمے ہے؟ والد کے بھئی، بیوی کے ذمے نہیں ہے، ماں کے ذمے نہیں ہے بچوں کا خرچہ، بلکہ کس کے ذمے ہے؟ والد کے ذمے ہے اور اللہ فرما رہے ہیں: لینفق ذو سعۃ من سعتہ، چاہیے کہ گنجائش والا اپنی گنجائش کے بقدر خرچ کرے، یعنی جتنا اللہ نے مال دیا ہے، اگر مال زیادہ دیا ہے تو ان پر بھی کھلے طور پر خرچ کرنا چاہیے، اگر ہاتھ تنگ ہے تو اس کے بقدر ان پر خرچ کرو، لیکن خرچ کرنا ذمہ داری ہے کس کی؟ والد کی۔ تو معنیٰ سمجھ میں آیا؟ گنجائش والا اپنی گنجائش کے بقدر خرچ کرے بھئی، جتنی گنجائش ہے اس کے بقدر خرچ کرے، مال تھوڑا ہے تو اس کے مطابق خرچ کرے، گنجائش زیادہ ہے مال زیادہ ہے تو ان پر اچھے طریقے سے خرچ کرے، ان کو اچھا کھلائے، اچھا پلائے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو بہرحال محلِ استشہاد ہے یہاں پر: لینفق، لینفق یہ کون سا امر ہے؟ بالام، یہ وہی مضارع مقرون باللام بھئی، بالام ہے۔ واسم فعل الامر، اور امر کا اسمِ فعل بھئی۔ میں نے بتایا اسمِ فعل وہ ہوتا تو اسم ہے لیکن معنیٰ کس کا ادا کرتا ہے؟ فعل، پھر یہ فعل جو ہے جس کا معنیٰ ادا کر رہا ہے کبھی یہ فعلِ ماضی کا معنیٰ ادا کرے گا اور کبھی فعلِ امر کا معنیٰ ادا کرے گا، یہاں ہماری امر کی بحث چل رہی ہے اس طرف اس لیے صرف اسی کو بیان کیا جو کون سا معنیٰ ادا کر رہا ہے؟ امر والا، اسی لیے کہا واسم فعل الامر، اور امر کا اسمِ فعل، نحو: حی علی الفلاح۔ اب اس میں دیکھیے یہ حی آیا یہ اسمِ فعل ہے۔ اسمِ فعل، اور حی کے معنیٰ ہیں: جلدی آؤ، جلدی کرو، علی الفلاح، فلاح کہتے ہیں خیر کو، بھلائی کو۔ بھلائی کی طرف، کامیابی کی طرف جلدی کرو۔ حی علی الفلاح کا کیا معنیٰ؟ کامیابی کی طرف جلدی آؤ، بھلائی کی طرف جلدی آؤ، تو یہ حی اسمِ فعل ہے اور امر کے معنیٰ میں ہے: جلدی آؤ، جلدی کرو۔ والمصدر النائب عن فعل الامر، اور وہ مصدر جو نائب ہو فعلِ امر سے، یعنی اس کا قائم مقام ہو جیسے: سعیاً فی خیر، اصل میں کیا تھا؟ اسعَ سعیاً فی خیر، اسعَ فعلِ امر تھا یہاں پر لیکن اس کو حذف کرنا واجب، اور یہ سعیاً کیا بن جاتا ہے اس کا قائم مقام، تو اس کو حذف کر کے اس کو اس کا قائم مقام بنا دیا گیا، جب اس کو اس کا قائم مقام بنا دیا گیا ہے اب اصل کو ذکر نہیں کر سکتے، کیونکہ اس کو کیا کر دیا گیا؟ اس کا قائم مقام، تو یہ مصدر نائب ہے یعنی اس کا قائم مقام ہے اس فعلِ امر کا، جیسے: سعیاً فی خیر، کوشش کرو تم بھلائی میں۔ وقد تخرج صیغ الامر۔ بھئی پیچھے امر کا حقیقی معنیٰ تو بیان کر دیا کہ امر کا حقیقی معنیٰ کیا ہے؟ طلب الفعل علی وجہ الاستعلاء، طلبِ فعل کس طریقے پر؟ استعلاء کے طریقے پر، بڑا اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے، اپنے آپ کو اونچا سمجھتے ہوئے یہ کیا ہے؟ امر کا حقیقی معنیٰ۔ لیکن کہتے ہیں کبھی کبھار یہ امر کا صیغہ اپنے معنیٰ اصلی سے نکل جاتا ہے دوسرے معانی کی طرف، اور ان کا پتہ سیاقِ کلام اور قرائنِ احوال سے چلتا ہے بھئی، کس سے چلتا ہے؟ سیاقِ کلام، کلام کا چلاؤ بتلاتا ہے کہ یہاں امر کا حقیقی معنیٰ مراد نہیں ہے بھئی، یا اسی طرح قرائنِ احوال، کوئی حال تھا قرینہ ہوتا ہے، کوئی قرینہ ہوتا ہے وہ بتلاتا ہے جیسے اس شخص کا حال بھئی۔ میں نے بتلایا تھا قرینہ کسے کہتے ہیں؟ القرینۃ ھو امر یشیر الی المطلق، قرینہ وہ چیز ہے جو کس کی طرف اشارہ کرے؟ مطلوب کی طرف اشارہ کرے جس سے مطلوب کا پتہ چل جائے بھئی۔ اور میں نے بتایا تھا یہ قرینہ جو ہے یہ لفظیہ بھی ہو سکتا ہے، قرینہ حالیہ بھی ہو سکتا ہے۔ کبھی لفظوں سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ والا معنیٰ یہاں مراد ہے، کبھی لفظ سے تو پتہ نہیں چل رہا لیکن حالت سے پتہ چل جاتا ہے، اس کا حال بتلا دیتا ہے کہ یہاں یہ والا معنیٰ مراد، جیسے آپ کا ساتھی آیا کمرے میں اور آپ نے کہا: شیر آ گیا۔ کیا کہا؟ شیر آ گیا۔ اب یہاں پر لفظوں سے تو پتہ نہیں چل رہا، کسی کے سامنے کہیں ویسے شیر آ گیا تو وہ اس سے جنگلی درندے کا معنیٰ ہی لے گا، لیکن اس وقت حالت بتلا رہی ہے کہ اس سے بہادر انسان مراد ہے، کیونکہ آیا کون ہے اس وقت یہاں پر؟ شیر آیا ہے یا آپ کا ساتھی آیا ہے؟ ساتھی آیا ہے، یہ ساتھی کا آنا یہ حالت بتلا رہی ہے کہ یہاں شیر کس معنیٰ میں ہے؟ بہادر آدمی کے معنیٰ، تو یہ قرینہ ہوا، یہ قرینہ ہوا۔ اس قرینے نے آپ کو بتلایا کہ لفظِ شیر کس معنیٰ کے اندر ہے؟ بہادر آدمی کے معنیٰ میں ہے۔ اور کبھی کبھار قرینہ لفظیہ ہوتا ہے، لفظ آپ کو بتلاتے ہیں کہ یہ لفظ اس معنیٰ میں ہے، اس کو قرینہ لفظیہ کہتے ہیں۔ جیسے میں کہتا ہوں: میں نے آج ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ آپ، آپ فوراً سمجھ گئے شیر سے کیا مراد ہے؟ کیسے پتہ چلا؟ یہ تیر چلانے کے جو لفظ ساتھ آیا اس لفظ نے بتلایا، کیونکہ تیر چلانا یہ جنگلی درندہ تو نہیں چلا سکتا بلکہ کون چلاتا ہے؟ انسان چلاتا ہے، تو اس سے آپ کو پتہ چلا کہ یہاں شیر سے بہادر آدمی والا معنیٰ ہے۔ تو قرینہ حالیہ بھی ہو سکتا ہے اور قرینہ لفظیہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہاں بھی یہی بات بیان کریں گے کہ وہ سیاقِ کلام، کلام کا چلاؤ بتلائے گا، کیا بتلائے گا؟ کلام کا چلاؤ یعنی لفظوں وغیرہ سے ہی پتہ چل جائے گا، یا کبھی کبھار وہ قرینہ حال ہو کر کوئی حال بتلائے گا کہ یہاں، یہاں طلبِ فعل کس طریقے پر ہے؟ استعلاء کے طریقے پر نہیں، بھئی دیکھیے بات یہ چل رہی ہے نہ کہ امر کا حقیقی معنیٰ کیا ہے؟ طلب الفعل علی وجہ الاستعلاء، طلبِ فعل کرنا کس طریقے پر؟ استعلاء، اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے کسی سے فعل طلب کرنا یہ ہے امر، لیکن اگر کسی مقام پر اس طریقے سے امر کا صیغہ آپ لے آتے ہیں لیکن استعلاء کے طریقے پر نہیں ہوتا، تو ہم کہیں گے کہ یہ امر نہیں ہے۔ جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی، آپ کہتے ہیں: اللھم اغفر لی، اے اللہ! میری مغفرت فرما دیجیے۔ اب اغفر، یہ تو صیغہ امر کا ہے لیکن کوئی بھی اس کو امر نہیں کہتا، بلکہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ دعا کہتے ہیں، کیونکہ یہاں پر یہ قرینہ حالیہ وغیرہ پتہ لگ گیا، انسان کی حالت عاجزی سے اللہ کے سامنے رو رہا ہے، گڑگڑا رہا ہے، یہ حالت ہی بتلا رہی ہے اس کی کہ یہ کس طریقے پر طلبِ فعل ہے؟ عاجزی کے طریقے پر ہے، استعلاء کے طریقے پر نہیں ہے۔ دیکھیے کتاب پر: وقد تخرج صیغ الامر عن معناھا الاصلی الی معان اخر، اور کبھی نکل جاتا ہے، تخرج، تخرج پڑھیے گا بھئی اس کو، وقد تخرج صیغ الامر، اور کبھی نکل جاتے ہیں امر کے صیغے عن معناھا الاصلی اپنے معنیٰ اصلی سے الی معان اخر، کس طرف نکل جاتے ہیں؟ دوسرے معانی کی طرف۔ معنیٰ اصلی کیا تھا؟ طلب الفعل علی وجہ الاستعلاء، اور اس سے نکل جاتے ہیں دوسرے معانی کی طرف، یعنی ان میں طلبِ فعل ہوگا لیکن استعلاء نہیں، یا اور معنیٰ، تفھم من سیاق الکلام و قرائن الاحوال، دوسرے ایسے معانی کی طرف تفھم، بھئی دیکھیے، میں نے بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کی صفت بنتا ہے، کیا بنتا ہے؟ صفت۔ معانٍ، نکرہ آیا، اخر، یہ اس کی ایک صفت آئی، اور تفھم، یہ پھر فعل آیا، فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنے گا؟ فاعل یا نائب فاعل سے، جملہ، اور جملہ بھی کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں، تو یہ پھر نکرہ آیا تو یہ بھی اسی کی صفت ہے۔ الی معان اخر تفھم من سیاق الکلام، تو وہ نکل جاتا ہے ایسے دوسرے معانی کی طرف جو مفہوم ہوتے ہیں، جو سمجھ میں آتے ہیں سیاقِ کلام سے اور قرائنِ احوال سے، حال کے قرینوں سے۔ کالدعاء، جیسے کہ دعا ہے، نحو مثال کے طور پر: رب اوزعنی ان اشکر نعمتک، اوزعَ کے معنیٰ ہوتے ہیں توفیق دینا بھئی، اوزعنی، رب اوزعنی، اے میرے پروردگار! اوزعنی، آپ مجھے توفیق دیجیے ان اشکر نعمتک کہ میں شکر ادا کروں آپ کی نعمت کا، اے اللہ! اے میرے پروردگار! آپ مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کی نعمت کا شکر ادا کروں بھئی۔ اب دیکھیے اوزع، صیغہ امر کا ہے، لیکن طلبِ فعل یہاں علی وجہ الاستعلاء ہے یا عاجزی کے طریقے پر ہے؟ عاجزی، لہٰذا اس لیے اس کو امر نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ دعا، صیغہ تو امر ہی کا ہے لیکن کہیں گے کیا اس کو؟ دعا، تو یہ دیکھو اپنے معنیٰ اصلی سے نکل گیا، اس میں استعلاء کے طریقے پر طلبِ فعل نہیں ہے بلکہ عاجزی کے طریقے پر ہے۔ والالتماس، اور جیسے کہ التماس ہے، کقولک لمن یساویک: اعطنی الکتاب، جیسے کہ آپ کا قول لمن اس شخص سے یساویک جو آپ کے برابر ہے۔ اپنے برابر والے سے آپ کا یہ کہنا: اعطنی الکتاب، اعطنی مجھے دے دیجیے الکتاب وہ کتاب، وہ کتاب مجھے دے دیجیے۔ تو یہاں پر بھی طلبِ فعل ہے لیکن کس طریقے پر ہے؟ برابری کے طریقے پر، تو استعلاء ہے؟ نہیں، استعلاء نہیں، جب استعلاء ہوگا تو برابری نہیں، برابری ہے تو استعلاء نہیں، تو یہ برابری کے طریقے پر ہے اس سے، تو یہ اپنے اصلی معنیٰ سے نکل گیا اس لیے اس کو التماس کہتے ہیں۔ اچھا چلیے، بس کرتے ہیں، بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔