Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-024

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۲۴ وَالْأَصْلُ فِي الْخَبَرِ أَنْ يُلْقَى لِإِفَادَةِ الْمُخَاطَبِ الْحُكْمَ الَّذِي تَضَمَّنَهُ الْجُمْلَةُ، كَمَا فِي قَوْلِنَا: حَضَرَ الْأَمِيرُ، أَوْ لِإِفَادَةِ أَنَّ الْمُتَكَلِّمَ عَالِمٌ بِهِ، نَحْوُ: أَنْتَ حَضَرْتَ أَمْسِ، وَيُسَمَّى الْحُكْمُ فَائِدَةَ الْخَبَرِ، وَكَوْنُ الْمُتَكَلِّمِ عَالِمًا بِهِ لَازِمَ الْفَائِدَةِ. وَالْأَصْلُ فِي الْخَبَرِ أَنْ يُلْقَى لِإِفَادَةِ الْمُخَاطَبِ الْحُكْمَ الَّذِي تَضَمَّنَهُ الْجُمْلَةُ. یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ خبر کے اندر اصل یہ ہے أَنْ يُلْقَى کہ وہ لائی جائے لِإِفَادَةِ الْمُخَاطَبِ تاکہ فائدہ دے مخاطب کو الْحُكْمَ الَّذِي تَضَمَّنَهُ الْجُمْلَةُ اس حکم کا جس پر وہ جملہ جس کو وہ جملہ متضمن ہے، یعنی جس پر وہ جملہ مشتمل ہے۔ بھئی خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ اس لیے لائی جاتی ہے تاکہ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دے جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے بھئی، جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ اصل خبر کے اندر جو ہے وہ اس بات کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے۔ مثلاً آپ بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کا ساتھی آپ سے آ کر کہتا ہے جَاءَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ کہ حضرت امیر المؤمنین تشریف لے آئے ہیں، تشریف لے آئے ہیں۔ تو اس نے آ کر کیا خبر دی آپ کو؟ امیر المؤمنین جَاءَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، یہ خبر ہے یا انشاء ہے؟ خبر ہے، اور خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ یہ اس فائدے کو دینے کے لیے لائی جاتی ہے جس پر یہ جملہ مشتمل ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ جملہ کس بات پر مشتمل ہے؟ اس میں آپ کو کیا بتایا جا رہا ہے؟ امیر المؤمنین کا آنا، اس میں کیا بتلایا جا رہا ہے؟ امیر المؤمنین کا آنا آپ کو بتلایا جا رہا ہے۔ تو یہ وہ حکم ہے جس پر یہ خبر مشتمل ہے، یعنی مجیءِ امیر المؤمنین۔ یہ خبر کس حکم پر مشتمل ہے؟ مجیءِ امیر المؤمنین، مجیء امیر المؤمنین کی آمد بھئی، ان کا آنا۔ تو خبر جو ہے وہ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے جس پر وہ مشتمل ہوتی ہے۔ تو آپ کو اس سے کیا پتہ چلا؟ آپ کو کس بات کا پتہ چلا؟ امیر المؤمنین کے آنے کا، کس چیز کا پتہ چلا؟ یہ ہے وہ حکم جس پر خبر مشتمل تھی، یعنی یوں آسان لفظوں میں کہیں جو بات بتلائی جائے۔ حکم سے کیا مراد ہے؟ جو بات بتلائی گئی ہے اس کلام کے اندر خبر وہی بتلانے کے لیے لائی جاتی ہے بھئی۔ آپ کا دوسرا ساتھی آیا اس نے آپ سے آ کر کہا: "زید سفر پر گیا ہے۔" آپ کو فائدہ ہوا یا نہیں؟ بات کا پتہ چلا یا نہیں؟ پتہ چلا، کس بات کا پتہ چلا؟ زید کے سفر پر جانے کا، یہ ہے وہ حکم جس پر یہ خبر مشتمل تھی۔ یہ خبر کس حکم پر مشتمل تھی؟ زید کے سفر پر جانے کا ذکر تھا اس میں، یعنی یہ ہے وہ حکم جس پر یہ خبر مشتمل... حکم سمجھ میں آیا بھئی حکم کسے کہتے ہیں؟ جی؟ بھئی دیکھیے نا، جب میں نے کہا جَاءَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، جَاءَ ہے مسند اور امیر المؤمنین کیا ہے؟ مسند الیہ، اور جملے کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ مسند کا حکم لگایا جاتا ہے کس پر؟ مسند الیہ پر۔ تو یہاں پر بھی مجیء کا حکم لگایا گیا کس پر؟ امیر المؤمنین پر، تو یہ ہے وہ حکم خبر کا بھئی، یعنی مجیءِ... یہ خبر کس حکم پر مشتمل ہے؟ مجیءِ امیر المؤمنین پر، جیسے اردو میں میں نے مثالیں ذکر کر دیں کہ ایک آدمی آ کر آپ سے کہتا ہے: "امیر المؤمنین تشریف لے آئے ہیں۔" تو کیا کس حکم پر یہ خبر مشتمل تھی؟ اس میں کیا بتلایا جا رہا ہے؟ امیر المؤمنین کا آنا، یا یوں کہیں امیر المؤمنین کی آمد، یہ وہی لفظ ہے جو میں عربی میں ادا کر رہا تھا مجیءِ امیر المؤمنین، امیر المؤمنین کا آنا۔ دوسرا جملہ مثلاً میں نے کہا: "زید سفر پر چلا گیا ہے۔" "زید سفر پر چلا گیا ہے۔" اس سے آپ کو کس بات کا علم ہوا؟ زید کے سفر پر جانے کا، تو اب عربی میں میں کہوں سَافَرَ زَيْدٌ، سَافَرَ زَيْدٌ۔ جب ایک ساتھی نے آپ سے آ کر کہا کہ زید سفر پر گیا ہے، آپ کو کس بات کا علم ہوا؟ زید کے سفر پر جانے کا، تو زید کا سفر پر جانا یہ وہ حکم ہے جو اس خبر کے اندر بیان کیا جا رہا ہے، اس جملے کے اندر کیا کیا جا رہا ہے؟ بیان کیا جا رہا ہے۔ خبر سے وہ مبتدا والی خبر نہ سمجھنا، یہ پورا جملہ کیا ہے؟ خبر ہے، یعنی جو انشاء کے مقابلے میں آئے وہ خبر ہم پڑھ رہے ہیں بھئی، یہ پورا جملہ کیا ہے؟ خبر، اور اس جملے میں کیا خبر دی گئی آپ کو؟ زید کے سفر پر جانے کی، تو زید کا سفر پر جانا یہ وہ حکم ہے جس پر یہ خبر مشتمل تھی۔ اسی کو عربی لفظوں میں کہیں تو کیسے ادا کریں گے؟ سَافَرَ زَيْدٌ تو جملہ تھا، زید کا سفر پر جانا، دیکھو جانا یہ مصدر کے آخر میں آتا ہے، مصدر بناؤ اس سے بھئی، یعنی مسافرةِ زید، مسافرةِ زید۔ تو یہ خبر سَافَرَ زَيْدٌ، یہ خبر جو آپ کو دی گئی یہ کس حکم پر مشتمل ہے؟ سَافَرَ يُسَافِرُ مُسَافَرَةً، مسافرةِ زید پر، کس پر؟ مسافرةِ زید پر، اسے مصدر بنا لیا، زید کے سفر کرنے پر، سفر پر جانے پر۔ اور کوئی مثال بنا لیں بھئی، ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الدَّارِ، ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الدَّارِ، میں نے زید کی پٹائی کی اس کے اس گھر میں۔ اب دیکھیے، اس میں آپ کو کیا بتلایا گیا؟ کس بات کا پتہ چلا اس خبر سے آپ کو؟ زید کی اس گھر میں پٹائی ہونا۔ سارے لفظوں کو بیچ میں لے آئیں بس مصدر بنا دیں، زید کی اس گھر میں پٹائی ہونے کا آپ کو پتہ چلا۔ عربی میں اسی کو ادا کریں گے تو کیا کہیں گے؟ ضربت زیداً فی الدار کہ یہ خبر کس حکم پر مشتمل ہے؟ کس طرح کہیں گے عربی میں؟ ضربِ زید فی الدار، کیا کہیں گے؟ ہاں، ضربِ زید فی الدار، یا یوں کہیں عربی اعراب بھی لگا لیں ضربُ زیدٍ فی الدار۔ یہ خبر کس حکم پر مشتمل ہے؟ ضربُ زیدٍ فی الدار پر مشتمل ہے۔ آپ تو آپ کو پتہ لگ گیا بھئی، خبر جو ہے اس کے ذریعے انسان کو کسی بات کا پتہ چلتا ہے اور خبر کے اندر اصل بھی یہی ہے کہ اس کو کس مقصد کے لیے لایا جائے کہ مخاطب کو اس حکم کا پتہ چل جائے جو اس خبر کے اندر ہے بھئی۔ کیا فائدہ ہے خبر کے لانے کا؟ آپ بھی کسی سے جب بات کرتے ہیں، جب آپ کسی سے بات کرتے ہیں کوئی جملہ اس کے سامنے کہتے ہیں تو عموماً کیا مقصد ہوتا ہے؟ اس جملے کے اندر جو حکم ہوتا ہے وہ اس کو بتلانا مقصد ہوتا ہے، اس کا اس کو فائدہ دینا مقصد ہوتا ہے کہ اس کو پتہ چل جائے بھئی۔ کتاب میں انہوں نے کیا بتایا؟ کہ اصل خبر میں کیا ہے کہ وہ لائی جائے لِإِفَادَةِ الْمُخَاطَبِ الْحُكْمَ کہ وہ فائدہ دے مخاطب کو اس حکم کا الَّذِي تَضَمَّنَهُ الْجُمْلَةُ جس پر وہ جملہ جس کو وہ جملہ متضمن ہے، یعنی جو جملے کے اندر ہے، یعنی وہ جملہ جس پر مشتمل ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کوئی بھی خبر لائی جاتی ہے عموماً مقصد کیا ہوتا ہے؟ وہ بات بتلانا مقصد ہوتا ہے جو جملے کے اندر ہوتی ہے وہ بات بتلانا مقصد ہوتی ہے بھئی۔ اور کوئی مثال بنا لیں بھئی۔ اردو میں، اردو میں کوئی بنائیں بھئی۔ مثلاً آپ سارے بیٹھے ہوئے تھے، زید آیا اور اس نے آ کر اونچی آواز میں سب سے کہا کہ اگلے ہفتے سے 20 دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں بھئی، اگلے ہفتے سے 20 دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ دیکھو آپ کو ایک بات کا پتہ چلا جو اس سے پہلے آپ کو پتہ نہیں تھی بھئی، اور وہ کیا بات؟ پوری بات کریں، ہاں اگلے ہفتے میں سے 20 دن کی چھٹیوں کے ہونے کا آپ کو پتہ چلا، اگلے ہفتے سے 20 دن کی چھٹیوں کے ہونے کا پتہ چلا۔ تو دیکھا، یہ جو بات ہے جس کا آپ کو پتہ چلا، یہ وہ حکم ہے جس جو اس خبر کے اندر تھا بھئی، یہ وہ حکم ہے جو کس کے اندر تھا؟ اس خبر کے اندر تھا بھئی۔ تو دیکھو آپ کو اس خبر کا فائدہ حاصل ہوا، یعنی آپ کو اس کا علم ہوا، آپ کو پہلے پتہ نہیں تھا، تو فائدہ فائدۂ علم ہوا یا نہیں ہوا بھئی؟ فائدۂ علم ہوا آپ کو، اس یہ ہے اس کو کہتے ہیں فائدۃ الخبر، کیا کہتے ہیں؟ اس کو فائدۃ الخبر کہتے ہیں، یعنی وہ بات جو خبر سے معلوم ہو اس کو کہتے ہیں فائدۃ الخبر۔ اس نے آ کر کہا: "اگلے ہفتے سے 20 دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔" آپ کو کس بات کا پتہ چلا؟ اگلے ہفتے سے 20 دن کی چھٹیوں کے ہونے کا پتہ چلا، یہ ہے فائدۃ الخبر، یہ کیا ہے؟ یہ ہے فائدۃ الخبر۔ تو وہ حکم جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے اس حکم کا جو مخاطب کو فائدہ ہوا اس کو کیا کہتے ہیں؟ تو خبر میں اصل بھی کیا ہے؟ کس مقصد کے لیے لائی جائے وہ؟ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے جس پر وہ خبر مشتمل ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آسان لفظوں میں میں نے کیا بتلایا؟ وہ بات بتلانے کے لیے جس پر یہ خبر مشتمل ہے بھئی جو اس میں بتلائی جا رہی ہے۔ تو خبر کے توجہ سے سننا بھئی، خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ اس حکم کہ وہ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے بھئی۔ اب جب زید نے آ کر آپ سب کے سامنے اونچی آواز میں کہہ دیا کہ اگلے ہفتے سے 20 دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں، اس سے آپ کو ایک تو آپ کو اس بات کا پتہ چلا کہ کون سی بات کا؟ اگلے ہفتے سے 20 دن کی چھٹیوں کے ہونے کا پتہ چلا، ایک اور بات کا بھی آپ کو پتہ چلا، وہ کیا؟ کہ زید کو بھی اس بات کا پتہ ہے جبھی تو وہ آپ کو بتا رہا ہے، اس کو آپ سے پہلے پتہ چلا تو اس نے آ کر آپ کو خبر دی۔ تو معلوم ہوا زید بھی اس حکم پر واقف ہے۔ کس حکم پر؟ اگلے ہفتے سے 20 دن کی چھٹیوں کے ہونے پر وہ بھی واقف ہے، یا ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ واقف نہ ہو اسے پتہ نہ ہو اور آپ کو وہ کہہ رہا ہو؟ جب بھی کوئی کسی کو خبر دے گا یقیناً اس کو پہلے اس کا علم ہوگا بھئی، اس کا اس کو پہلے علم ہوگا۔ تو آپ کو ایک تو فائدۃ الخبر ہوا اس حکم کا پتہ چلا جس پر یہ خبر مشتمل تھی، دوسرا کس چیز کا پتہ چلا؟ زید کو بھی اس بات کا پتہ ہے، زید اس بات پر عالم ہے، یعنی یوں کہیں زید کے عالم ہونے کا پتہ چلا۔ عالم کس چیز پر عالم ہونے کا؟ عالم تمام چیزوں پر عالم ہونا مراد نہیں، اس خبر پر وہ عالم ہے یعنی اس کو وہ جانتا ہے، اس کو وہ اس خبر پر وہ خود بھی واقف ہے جبھی تو وہ آ کر آپ کو بتلا رہا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے، زید بھی اب آ کر بیٹھ گیا، اس نے آپ کو بات بتلا دی، اس نے آ کر آپ کو بات بتلائی اور پھر وہ آپ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور آپ کا ساتھی آتا ہے اور آ کر آپ کے پاس بیٹھا اور آپ سے کہنے لگا کہ بھئی یہ زید کو بتاؤ اگلے ہفتے سے 20 دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ آپ اس کو فوراً جواب میں کیا کہیں گے؟ کہ بھئی زید کو تو پتہ ہے۔ دیکھا، یہ زید زید نے تو نہیں یہ لفظ کہے تھے کہ مجھے پتہ ہے، لیکن آپ کو خود بخود اس کی خبر بتانے سے ہی پتہ چل گیا تھا کہ اس کو اس بات کا علم ہے جبھی تو اب آپ نے اس ساتھی کو کہا کہ زید کو علم ہے، زید نے تو یہ لفظ کہے ہی نہیں تھے مجھے علم، لیکن آپ کو خبر سنتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ خبر بتانے والے کو بھی اس بات کا علم ہے۔ اس کو کہتے ہیں لازمِ فائدۃ الخبر، کیا کہتے ہیں؟ لازمِ فائدۃ الخبر۔ تو خبر میں اصل یہ ہے کہ وہ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے، مشتمل ہوتی ہے، یا کبھی مقصد یہ ہوتا ہے کہ متکلم صرف یہ بتلانے کے لیے خبر لاتا ہے کہ مجھے اس خبر کا علم ہے۔ مجھے اس خبر کا علم ہے۔ بھئی دیکھیے، آپ بھی اس طرح کرتے رہتے ہیں، کبھی کبھار آپ خبر لاتے ہیں فائدۃ الخبر کے دینے کے لیے، دوسرے کو آپ کیا دینا چاہتے ہیں؟ فائدۃ الخبر، یعنی وہ بات بتلانا چاہتے ہیں، اور کبھی آپ کو بات بتلانا آپ کا مقصد نہیں ہوتا آپ دوسرے کو صرف یہ بتلانے کے لیے خبر لاتے ہیں کہ مجھے بھی اس بات کا پتہ چل چکا ہے، مجھے بھی اس کا علم ہے بھئی۔ ایسا کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ دوسرے کے سامنے کبھی آپ بات کرتے ہیں وہ بات بتلانا اس کو مقصد نہیں ہوتا کیونکہ وہ بات تو اس کو پہلے سے پتہ ہوتی ہے، لیکن آپ وہی جملہ اس کے سامنے پھر دہراتے ہیں مقصد کیا ہوتا ہے؟ یہ بتلانے کے لیے کہ مجھے بھی اس بات کا علم ہے بھئی علم۔ مثلاً زید نے ایک بات آپ سے چھپا کر رکھی تھی، اب اس کو علم بھی ہے اور اس نے چھپا کر بھی رکھی ہے، آپ کو وہ خبر گھومتے گھومتے مل گئی بھئی، اب آپ کو وہ خبر جب ملی تو اب آپ زید کے سامنے جا کر وہی بات اس سے کرتے ہیں، لیکن مقصد کیا ہوتا ہے؟ اس کو وہ بات بتلانا مقصد ہوتا ہے؟ نہیں، وہ تو اس کو پتہ ہی ہے، اسی نے تو چھپا کر رکھا تھا اس بات کو، آپ کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ زید کو یہ بتلانا کہ مجھے اس بات کا پتہ چل چکا ہے، میں اس بات پر عالم ہوں، میں کیا ہوں؟ تو خبر کے اندر یاد رکھیے، توجہ ہے پوری سبق کی طرف؟ خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے جس حکم پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے، یا مخاطب کو یہ بتلانے کے لیے لائی جاتی ہے وہ خبر کہ خبر دینے والے کو بھی اس بات کا پتہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینا جس پر وہ خبر مشتمل ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ فائدۃ الخبر۔ مخاطب کو وہ بات بتلانا جس پر وہ خبر مشتمل ہے یہ کیا کہلاتا ہے؟ فائدۃ الخبر۔ اور مخاطب کو اس بات کا بھی پتہ چلنا کہ بتانے والے بھی اس بات پر عالم ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ لازمِ فائدۃ الخبر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی سب کو؟ سمجھ میں آ گئی بات بھئی؟ تو اس کو لازمِ فائدۃ الخبر کہتے ہیں۔ بھئی اس کو لازم کیوں کہتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کیونکہ یہ فائدۃ الخبر کے ساتھ لازم ہے۔ یہ کیا ہے؟ جہاں بھی فائدۃ الخبر ہوگا ساتھ لازمِ فائدۃ الخبر ضرور ہوگا، یعنی جہاں آپ کو کسی بات کا پتہ چلے گا وہاں یہ بھی ضرور پتہ چلے گا کہ یہ بتانے والے بھی اس بات پر عالم ہے، اس کو بھی اس بات کا پتہ ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا فائدۃ الخبر آئے اور ساتھ لازمِ فائدۃ الخبر نہ آئے، وہ خود بخود آپ کو بات بتلانے والے کے بتلانے سے ہی فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ یہ مجھے بتلا رہا ہے معلوم ہوا اس کو اس بات کا علم ہے۔ ہے۔ تو جہاں فائدۃ الخبر ہوتا ہے وہاں ساتھ کیا ہو گا؟ لازم فائدۃ۔ لازم فائدۃ الخبر کیا چیز ہے؟ کہ خبر دینے والے کو بھی اس بات کا توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ مجھے آوازیں کم آ رہی ہیں، میں تکرار کروا رہا ہوں۔ ۱۰ دفعہ میرا خیال ہے یہ جملے دہرا چکا ہوں آپ کے فائدے کے لیے۔ خاموش نہ بیٹھا کریں، مجھے جواب دیا کریں کہ آپ کو بات سمجھ میں آئی یا سمجھ میں نہیں آئی۔ آپ خاموش بیٹھے رہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں بات سمجھ میں نہیں آئی کسی کو۔ میں پھر اس کو دہراتا ہوں۔ بات سمجھ میں آیا کرے تو بتائیں، پتہ چلے کہ آپ کو بات سمجھ میں آ گئی ہے۔ فائدۃ الخبر کسے کہتے ہیں؟ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینا جس پر وہ خبر مشتمل ہے۔ لازم فائدۃ الخبر کسے کہتے ہیں؟ مخاطب کو یہ بتلانا کہ مجھے بھی اس بات کا علم ہے۔ چاہے بتلانا مقصد ہو یا نہ ہو، لیکن اس کو یہ پتہ چل جائے گا کہ یہ بات بتلانے والے کو خود بھی اس بات کا پتہ ہے۔ اس کو کہتے ہیں لازم فائدۃ الخبر۔ تو خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ فائدۃ الخبر کے لیے لائی جائے گی یا لازم فائدۃ الخبر کے لیے لائی جائے گی۔ یعنی یوں واضح لفظوں میں یوں کہو تفصیل کے ساتھ کہ خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ یہ مخاطب کو یا تو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے یا مخاطب کو اس بات کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے کہ بات کرنے والا اس خبر پر عالم ہے، وہ اس کو جانتا ہے بھئی، اس کو جانتا ہے۔ اب مجھے بتائیے، آپ کا ساتھی آیا، اس نے آ کر آپ سے کہا: مہمان آ گئے ہیں۔ یہاں فائدۃ الخبر کیا ہے؟ مہمانوں کا آنا، یہ ہے فائدۃ الخبر۔ اور لازم فائدۃ الخبر کیا ہے؟ ہاں، یہ جو خبر لانے والا ہے اس کو بھی پتہ ہے کہ مہمان آ گئے ہیں۔ اس کو پتہ ہے جبھی تو ہمیں بتلا رہا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ ہے لازم فائدۃ الخبر۔ تو خبر کے اندر اصل کیا ہے؟ وہ کس لیے لائی جاتی ہے؟ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے یا مخاطب کو اس بات کا فائدہ دینے کے لیے کہ متکلم اس خبر پر عالم ہے، وہ اس کو جاننے والا ہے۔ یا مختصراً یوں کہیے، خبر لانے میں اصل کیا ہے؟ کس مقصد کے لیے لائی جاتی ہے؟ فائدۃ الخبر دینے کے لیے یا لازم فائدۃ الخبر دینے کے لیے۔ اس کو میں نے بتلایا، لازم فائدۃ الخبر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ فائدۃ الخبر کے ساتھ لازم ہے۔ جہاں بھی فائدۃ الخبر ہو گا، وہاں لازم فائدۃ الخبر ضرور ہو گا۔ لیکن جہاں بھی لازم فائدۃ الخبر ہو، وہاں فائدۃ الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ وہاں فائدۃ الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی، زید آیا اس نے آ کر آپ سب کو بتایا کہ اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ زید بھی آ کر آپ کے ساتھ بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک دوسرا ساتھی آپ کا آیا اور اس نے بھی یوں ہی کہا کہ اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ اب آپ مجھے بتائیے، فائدۃ الخبر ہے یہاں پر؟ جی؟ کیا آپ کو کوئی نئی بات معلوم ہوئی؟ جو آپ کو پہلے معلوم نہیں تھی؟ تو یہاں فائدۃ الخبر نہیں۔ ہاں، کیا ہے؟ لازم فائدۃ الخبر ہے۔ آپ کو یہ پتہ چل گیا کہ یہ جو بات اب لے کر آیا ہے اور اب بات کر رہا ہے، اس کو بھی معلوم ہوا، چھٹیوں کا پتہ چل چکا ہے۔ اس کو بھی یہ بھی اس بات پر عالم ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جہاں بھی فائدۃ الخبر ہو گا، وہاں کیا ضرور ہو گا؟ لازم فائدۃ الخبر اس کے ساتھ ضرور ہو گا۔ لیکن لازم فائدۃ الخبر جہاں پر ہو، وہاں فائدۃ الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ اسی لیے اس کو لازم فائدۃ الخبر کہتے ہیں کہ یہ فائدۃ الخبر کے ساتھ لازم ہے، اس سے جدا نہیں ہو سکتا بھئی۔ جی، اب ذرا کتاب پر دیکھیے۔ والاصل فی الخبر ان یلقی لافادۃ المخاطب الحکم الذی تضمنہ الجملۃ۔ اور اصل خبر کے اندر یہ ہے کہ وہ لائی جائے لافادۃ المخاطب مخاطب کو فائدہ دینے کے لیے۔ کس چیز کا فائدہ دینے کے لیے؟ الحکم الذی تضمنہ الجملۃ اس حکم کا جس کو وہ جملہ متضمن ہے۔ کما فی قولنا جیسے ہمارے اس قول کے اندر: حضر الامیر، امیر حاضر ہو گئے، امیر تشریف لے آئے۔ امیر، یہ اردو والا امیر نہیں ہے بھئی جس کے معنی مالدار کے ہوتے ہیں، بلکہ عربی میں امیر کس کو کہتے ہیں؟ امیر سردار کو بھئی، رئیس کو، سربراہ کو بھئی۔ تو امیر تشریف لے آئے ہیں۔ او لافادۃ ان المتکلم عالم بہ یا اس بات کا فائدہ دینے کے لیے خبر لائی جاتی ہے کہ متکلم جو (یعنی جو بات کرنے والا ہے) وہ بھی اس خبر پر عالم ہے، وہ بھی اس خبر پر واقف ہے، اسے بھی اس بات کا پتہ ہے۔ یہ بتلانے کے لیے خبر لائی جاتی ہے۔ نحو مثال کے طور پر: انت حضرت امس۔ امس کا معنی گزشتہ کل۔ انت حضرت، آپ حاضر ہوئے تھے امس گزشتہ کل میں۔ آپ گزشتہ کل حاضر ہوئے تھے، آپ گزشتہ کل حاضر تھے۔ بھئی، آپ کل سبق میں آئے تھے۔ سبق میں آئے تھے۔ اور آپ کو خود اس بات کا پتہ ہے یا نہیں کہ آپ آئے تھے؟ یقیناً جب آپ خود آئے تھے، تو سب سے زیادہ علم ہی آپ کو ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو آپ کو اپنے ہی آنے کا پتہ نہ ہو یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ تو انہوں نے ایسی مثال ذکر کی جس میں فائدۃ الخبر کا احتمال ہی نہیں۔ اب وہ ساتھی جب آپ سے کہہ رہا ہے: "آپ کل آئے تھے"، تو آپ ہی کی تو بات کر رہا ہے۔ تو یقینی طور پر آپ کو اپنی بات کا تو پتہ ہے کہ آپ آئے تھے۔ تو یہاں پر فائدۃ الخبر نہیں۔ فائدۃ الخبر یہاں پر مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ آپ ہی کے آنے کے بارے میں وہ آپ کو بتلائے، ایک نئی بات بتلائے، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ تو آپ کی اپنی بات ہے، آپ کو سب سے زیادہ پتہ ہے اپنے بارے میں کہ آپ آئے تھے بھئی۔ تو اب اس نے آ کر آپ سے کہا: "آپ کل آئے تھے"۔ تو یہاں فائدۃ الخبر تو نہیں۔ آپ کو کوئی نئی بات تو معلوم نہیں ہوئی اور نہ اس کا یہ بتلانے کا مقصد ہے کہ آپ کو نئی بات بتلائے۔ بلکہ وہ یہ بات اور یہ جملہ کیوں کہہ رہا ہے؟ کیا بتلانا چاہتا ہے؟ کہ مجھے بھی پتہ چل چکا ہے، میں بھی عالم ہوں اس بات پر کہ آپ کل آئے تھے۔ تو یہاں فائدۃ الخبر نہیں، لیکن کیا ہے؟ لازم فائدۃ الخبر ہے۔ نحو انت حضرت امس، کل آپ حاضر تھے۔ ویسمی الحکم فائدۃ الخبر اور وہ حکم جس پر وہ خبر مشتمل تھی بھئی، اس حکم کو کہتے ہیں فائدۃ الخبر۔ اس حکم کو فائدۃ الخبر کہتے ہیں۔ و کون المتکلم عالما بہ اور متکلم کا اس خبر پر عالم ہونا، اس کو لازم الفائدۃ، اس کو لازم الفائدۃ کہتے ہیں۔ یعنی یوں کہیں، لازم فائدۃ الخبر۔ کیا کہتے ہیں؟ لازم فائدۃ الخبر بھئی۔ یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی کہ فائدۃ الخبر کسے کہتے ہیں؟ آسان لفظوں میں، اردو میں مجھے بتائیے۔ فائدۃ الخبر کسے کہتے ہیں؟ مخاطب کو وہ بات بتلانا جو اس جملے کے اندر ہے، یہ کیا ہے؟ فائدۃ الخبر۔ اور مخاطب کو یہ بتلانا کہ مجھے بھی اس بات کا علم ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ لازم فائدۃ الخبر کہتے ہیں بھئی۔ و قد یلقی الخبر لاغراض اخرى اور کبھی کبھار خبر لائی جاتی ہے دوسری غرضوں کے لیے، دوسرے مقاصد کے لیے۔ بھئی، خبر کے اندر اصل تو یہی ہے، وہ اسی مقصد کے لیے لائی جائے تاکہ دوسرے کو فائدۃ الخبر ہو یا لازم فائدۃ الخبر ہو۔ اصل تو یہی ہے۔ اصل کیا ہے؟ خبر کس لیے ہو؟ فائدۃ الخبر کے لیے۔ اور کبھی کس لیے ہو؟ لازم فائدۃ الخبر کے لیے۔ لیکن کبھی کبھار خبر لائی جاتی ہے اور وہاں کوئی اور غرض مقصود ہوتی ہے۔ نہ وہاں فائدۃ الخبر دینا مقصود ہوتا ہے اور نہ لازم فائدۃ الخبر وہاں مقصود ہوتا ہے بھئی۔ مثلاً آپ بھی ایسا کرتے ہیں، لیکن آپ نے کبھی توجہ نہیں کی اس کی طرف بھئی۔ توجہ نہیں کی۔ اب علم بلاغت سے آپ کو پتہ چلے گا کہ ہم بھی اس طرح کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھار خبر لانے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ دوسرے کو بات بتلانا مقصد ہوتا ہے، (یعنی فائدۃ الخبر مقصود ہوتا ہے)۔ کبھی دوسرے کو یہ بتلانا مقصد ہوتا ہے کہ مجھے اس بات کا پتہ ہے۔ وہ کیا ہے؟ لازم فائدۃ الخبر۔ اور کبھی کبھار آپ بھی خبر لاتے ہیں، جملہ بولتے ہیں، لیکن مقصد نہ فائدۃ الخبر ہوتا ہے اور نہ لازم فائدۃ الخبر۔ مثلاً دیکھیے، آپ سارے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے اور زید نے آ کر کیا اطلاع دی؟ کہ اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ زید نے اطلاع دے دی۔ ساتھی آپ وہی بیٹھے ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر گزری، آپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ کے بیٹھے ہوئے ساتھیوں میں سے اب ایک ساتھی اونچی آواز میں کہتا ہے: "اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں"۔ اب نہ یہاں فائدۃ الخبر مقصود، نہ لازم فائدۃ الخبر مقصود ہے۔ فائدۃ الخبر کیوں نہیں مقصود؟ کیونکہ اسے بھی پتہ ہے، سب کو اس بات کا پتہ ہے۔ اور نیز لازم فائدۃ الخبر دینا بھی مقصود نہیں کہ مجھے بھی اس بات کا پتہ چل چکا ہے، میں بھی اس بات پر واقف ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ سب کے سامنے آ کر زید نے کہا تھا، آپ کو بھی پتہ ہے، جتنے بیٹھے ہوئے ساتھی ہیں سب کو اس بات کا علم ہے بھئی۔ سب کو اس بات کا علم۔ تو اس کے بولنے سے نہ آپ کو فائدۃ الخبر حاصل ہو گا اور نہ لازم۔۔۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں آپ کو پہلے سے حاصل ہیں۔ پھر اس کے خبر لانے کا مقصد کیا ہے؟ دراصل وہ اپنی اس خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہے جو چھپائے نہیں چھپ رہی اس سے بھئی۔ چھپائے نہیں چھپ رہی۔ اسی لیے اس نے کہا کہ اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ تو آپ بھی کرتے ہیں یا نہیں اس طرح بھئی؟ خوشی کے اندر ایک بات خوشی کی ہوتی ہے، پتہ ہے میرے ساتھ والے کو پتہ ہے، لیکن پھر بھی آپ اس کے سامنے وہی جملہ بولتے ہیں۔ کیا مقصد ہوتا ہے آپ کے بولنے کا؟ آپ اپنی اس خوشی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہاں جو خبر لائی گئی، نہ یہ فائدۃ الخبر کے لیے ہے، نہ لازم فائدۃ الخبر کے لیے ہے، بلکہ یہاں کیا مقصد ہے؟ خوشی کا اظہار ہے۔ آپ اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ میں نہایت خوش ہوں اس خبر سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معلوم ہوا، آپ بھی ایسا کرتے رہتے ہیں کہ خبر کبھی کبھار لاتے ہیں اور مقصد نہ فائدۃ الخبر ہوتا ہے اور نہ لازم فائدۃ الخبر مقصد ہوتا ہے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: و قد یلقی الخبر لاغراض اخرى اور کبھی خبر لائی جاتی ہے دوسری غرضوں کے لیے۔ كالا سترحام فی قول موسی علیہ الصلوۃ والسلام: رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر۔ استرحام کا معنی ہے رحم طلب کرنا۔ رحم کو طلب کرنا۔ رحم اور مہربانی کو طلب کرنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قول میں: رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر۔ رب، اے میرے پروردگار! انی، بے شک میں فقیر، محتاج ہوں۔ رب انی فقیر، اے میرے پروردگار! بے شک میں محتاج ہوں لما انزلت الی من خیر، اس چیز کا جو آپ میری طرف نازل فرمائیں من خیر، یعنی کہ خیر، جو بھلائی ہے۔ آپ میری طرف جو بھلائی بھی نازل فرمائیں اور مجھے عطا فرمائیں، میں اس کا کیا ہوں؟ محتاج ہوں۔ اے اللہ، دیکھیے بھئی، یہ تو میں نے سمجھانے کے لیے انی کے ساتھ فقیر کو جوڑا کہ یہ اس کی خبر ہے انّ کی۔ کہ میں محتاج ہوں کس چیز کا؟ لما انزلت الی، وہ جو آپ میری طرف نازل فرمائیں من خیر، یہ بیان ہے ما انزلت کا، یعنی کہ خیر۔ کس چیز کو نازل فرمائیں میری طرف؟ خیر اور بھلائی۔ جو بھلائی آپ میری طرف نازل فرمائیں، میں اس کا محتاج ہوں۔ اب دیکھیے، حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ فرما رہے ہیں۔ کیا مقصد ہے اس کے لیے؟ کس سے۔۔۔ کس کی طرف رخِ کلام ہے بھئی؟ کس سے فرما رہے ہیں وہ؟ اللہ سے فرما رہے ہیں۔ تو یہاں کیا مقصد ہے؟ فائدۃ الخبر کا ہے مقصد؟ اللہ کو ایک بات بتلانا چاہتے ہوں جس کا اللہ کو علم نہ ہو، ایسا ہو سکتا ہے بھئی؟ اللہ تو ہر چیز کو جاننے والے ہیں، اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ تو یہاں فائدۃ الخبر غرض ہو ہی نہیں سکتی۔ اچھا فائدۃ الخبر تو غرض نہیں، لازم فائدۃ الخبر غرض ہو گی، اللہ کو یہ بتلانا چاہتے ہوں کہ مجھے اس بات کا علم ہے؟ جی؟ نہیں، یہ بھی۔۔۔ اللہ تو ہر چیز کو جاننے والے ہیں بھئی۔ تو یہاں نہ فائدۃ الخبر غرض ہے، نہ لازم فائدۃ الخبر غرض ہے، بلکہ غرض کیا ہے؟ اللہ کی رحمت اور مہربانی کو طلب کرنا ہے، اس مقصد کے لیے یہ فرما رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ و اظہار الضعف فی قول زکریا علیہ السلام اور کمزوری کا اظہار جیسے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے قول میں ہے۔ اس مقصد کے لیے کبھی لایا جاتا ہے خبر کو۔ کیا فرماتے ہیں؟ رب انی وہن العظم منی۔ رب، اے میرے پروردگار! انی، بے شک میں۔۔۔ وہن العظم منی، وہن کمزور ہونا۔ وہن العظم منی، کمزور ہو گئی ہیں ہڈیاں مجھ سے (یعنی میری)۔ میری ہڈیاں کیا ہو گئی ہیں؟ کمزور ہو گئی ہیں۔ یعنی میں بوڑھا ہو گیا ہوں، کمزور ہو گیا ہوں، ضعیف ہو گیا ہوں۔ اب بتائیے بھئی، حضرت زکریا علیہ السلام اللہ سے فرما رہے ہیں: "رب! اے میرے پروردگار، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں"۔ یہاں مقصد کیا ہے؟ فائدۃ الخبر ہے؟ یہ بتلانا چاہتے ہیں اللہ کو کہ میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور اللہ کو پہلے سے علم نہ ہو، ایسا ہو سکتا ہے بھئی؟ نہیں۔ فائدۃ۔۔۔ معلوم ہوا، یہاں فائدۃ الخبر غرض نہیں۔ اچھا، یہ بتلانا چاہتے ہوں کہ مجھے اس بات کا علم ہے (یعنی لازم فائدۃ الخبر بتلانا مقصد ہے)؟ کہ میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں۔ جی؟ نہیں، اللہ کو تو ہر چیز کا علم۔ پھر کیا مقصد ہے یہاں پر؟ اپنے ضعف کا اظہار کر رہے ہیں۔ نہ یہاں ان کا مقصد فائدۃ الخبر ہے، نہ لازم فائدۃ الخبر ہے، صرف کیا کر رہے ہیں؟ اپنے ضعف کا، اپنی کمزوری کا اظہار کر رہے ہیں بھئی۔ اوپر کیا آیا تھا؟ كالا سترحام و اظہار الضعف، اس کو مجرور پڑھنا بھئی۔ استرحام پر عطف ہے۔ آگے کیا آ رہا ہے؟ و اظہار التحسر اور حسرت کا اظہار کرنا، غم کا اظہار کرنا فی قول امراۃ عمران جیسے کہ امرأۃِ عمران کے قول میں۔ امرأۃِ عمران بھئی۔ عمران، حضرت مریم کے والد کا نام۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام بھی عمران۔ تو یہاں حضرت مریم کے والد مراد ہیں۔ تو ان کی بیوی نے منّت مانی تھی، حاملہ تھیں امرأۃِ عمران بھئی۔ وہ حاملہ تھیں، تو انہوں نے منّت مانی کہ اے اللہ، یہ جو میرے پیٹ میں حمل ہے، یہ میں آپ کے راستے میں اس کو آزاد کرتی ہوں کہ لڑکا ہو۔ اور اللہ کے راستے میں آزاد کرنے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ جو ہو گا، یہ دنیاوی کاموں وغیرہ میں مشغول نہیں رہے گا بلکہ یہ بیت المقدس کی خدمت کرتا رہے گا اور ہر وقت آپ کی عبادت وغیرہ ہی میں مشغول رہے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ انہوں نے منّت مانی تھی۔ لیکن جب جنم دیا تو بیٹی پیدا ہوئیں بھئی، بیٹی پیدا ہوئی، حضرت مریم پیدا ہوئیں۔ اور تو اس وقت وہ کہنے لگیں: رب انی وضعتها انثى، کہ اے میرے پروردگار، میں نے تو اس کو بیٹی جنم دیا ہے، میں نے تو کس کو جنم دیا ہے؟ بیٹی کو جنم دیا ہے۔ آگے اللہ فرماتے ہیں: واللہ اعلم بما وضعت، اور اللہ خوب جانتے ہیں اس چیز کو جس کو اس نے جنم دیا۔ انہوں نے یوں کہا کہ اللہ، میں نے تو اس بیٹی کو جنم دیا۔ اللہ تو خوب واقف ہیں جس چیز کو انہوں نے جنم دیا۔ ہے۔ تو جہاں فائدۃ الخبر ہوتا ہے وہاں ساتھ کیا ہو گا؟ لازم فائدۃ۔ لازم فائدۃ الخبر کیا چیز ہے؟ کہ خبر دینے والے کو بھی اس بات کا توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ مجھے آوازیں کم آ رہی ہیں، میں تکرار کروا رہا ہوں۔ ۱۰ دفعہ میرا خیال ہے یہ جملے دہرا چکا ہوں آپ کے فائدے کے لیے۔ خاموش نہ بیٹھا کریں، مجھے جواب دیا کریں کہ آپ کو بات سمجھ میں آئی یا سمجھ میں نہیں آئی۔ آپ خاموش بیٹھے رہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں بات سمجھ میں نہیں آئی کسی کو۔ میں پھر اس کو دہراتا ہوں۔ بات سمجھ میں آیا کرے تو بتائیں، پتہ چلے کہ آپ کو بات سمجھ میں آ گئی ہے۔ فائدۃ الخبر کسے کہتے ہیں؟ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینا جس پر وہ خبر مشتمل ہے۔ لازم فائدۃ الخبر کسے کہتے ہیں؟ مخاطب کو یہ بتلانا کہ مجھے بھی اس بات کا علم ہے۔ چاہے بتلانا مقصد ہو یا نہ ہو، لیکن اس کو یہ پتہ چل جائے گا کہ یہ بات بتلانے والے کو خود بھی اس بات کا پتہ ہے۔ اس کو کہتے ہیں لازم فائدۃ الخبر۔ تو خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ فائدۃ الخبر کے لیے لائی جائے گی یا لازم فائدۃ الخبر کے لیے لائی جائے گی۔ یعنی یوں واضح لفظوں میں یوں کہو تفصیل کے ساتھ کہ خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ یہ مخاطب کو یا تو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے یا مخاطب کو اس بات کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے کہ بات کرنے والا اس خبر پر عالم ہے، وہ اس کو جانتا ہے بھئی، اس کو جانتا ہے۔ اب مجھے بتائیے، آپ کا ساتھی آیا، اس نے آ کر آپ سے کہا: مہمان آ گئے ہیں۔ یہاں فائدۃ الخبر کیا ہے؟ مہمانوں کا آنا، یہ ہے فائدۃ الخبر۔ اور لازم فائدۃ الخبر کیا ہے؟ ہاں، یہ جو خبر لانے والا ہے اس کو بھی پتہ ہے کہ مہمان آ گئے ہیں۔ اس کو پتہ ہے جبھی تو ہمیں بتلا رہا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ ہے لازم فائدۃ الخبر۔ تو خبر کے اندر اصل کیا ہے؟ وہ کس لیے لائی جاتی ہے؟ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے یا مخاطب کو اس بات کا فائدہ دینے کے لیے کہ متکلم اس خبر پر عالم ہے، وہ اس کو جاننے والا ہے۔ یا مختصراً یوں کہیے، خبر لانے میں اصل کیا ہے؟ کس مقصد کے لیے لائی جاتی ہے؟ فائدۃ الخبر دینے کے لیے یا لازم فائدۃ الخبر دینے کے لیے۔ اس کو میں نے بتلایا، لازم فائدۃ الخبر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ فائدۃ الخبر کے ساتھ لازم ہے۔ جہاں بھی فائدۃ الخبر ہو گا، وہاں لازم فائدۃ الخبر ضرور ہو گا۔ لیکن جہاں بھی لازم فائدۃ الخبر ہو، وہاں فائدۃ الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ وہاں فائدۃ الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی، زید آیا اس نے آ کر آپ سب کو بتایا کہ اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ زید بھی آ کر آپ کے ساتھ بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک دوسرا ساتھی آپ کا آیا اور اس نے بھی یوں ہی کہا کہ اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ اب آپ مجھے بتائیے، فائدۃ الخبر ہے یہاں پر؟ جی؟ کیا آپ کو کوئی نئی بات معلوم ہوئی؟ جو آپ کو پہلے معلوم نہیں تھی؟ تو یہاں فائدۃ الخبر نہیں۔ ہاں، کیا ہے؟ لازم فائدۃ الخبر ہے۔ آپ کو یہ پتہ چل گیا کہ یہ جو بات اب لے کر آیا ہے اور اب بات کر رہا ہے، اس کو بھی معلوم ہوا، چھٹیوں کا پتہ چل چکا ہے۔ اس کو بھی یہ بھی اس بات پر عالم ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جہاں بھی فائدۃ الخبر ہو گا، وہاں کیا ضرور ہو گا؟ لازم فائدۃ الخبر اس کے ساتھ ضرور ہو گا۔ لیکن لازم فائدۃ الخبر جہاں پر ہو، وہاں فائدۃ الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ اسی لیے اس کو لازم فائدۃ الخبر کہتے ہیں کہ یہ فائدۃ الخبر کے ساتھ لازم ہے، اس سے جدا نہیں ہو سکتا بھئی۔ جی، اب ذرا کتاب پر دیکھیے۔ والاصل فی الخبر ان یلقی لافادۃ المخاطب الحکم الذی تضمنہ الجملۃ۔ اور اصل خبر کے اندر یہ ہے کہ وہ لائی جائے لافادۃ المخاطب مخاطب کو فائدہ دینے کے لیے۔ کس چیز کا فائدہ دینے کے لیے؟ الحکم الذی تضمنہ الجملۃ اس حکم کا جس کو وہ جملہ متضمن ہے۔ کما فی قولنا جیسے ہمارے اس قول کے اندر: حضر الامیر، امیر حاضر ہو گئے، امیر تشریف لے آئے۔ امیر، یہ اردو والا امیر نہیں ہے بھئی جس کے معنی مالدار کے ہوتے ہیں، بلکہ عربی میں امیر کس کو کہتے ہیں؟ امیر سردار کو بھئی، رئیس کو، سربراہ کو بھئی۔ تو امیر تشریف لے آئے ہیں۔ او لافادۃ ان المتکلم عالم بہ یا اس بات کا فائدہ دینے کے لیے خبر لائی جاتی ہے کہ متکلم جو (یعنی جو بات کرنے والا ہے) وہ بھی اس خبر پر عالم ہے، وہ بھی اس خبر پر واقف ہے، اسے بھی اس بات کا پتہ ہے۔ یہ بتلانے کے لیے خبر لائی جاتی ہے۔ نحو مثال کے طور پر: انت حضرت امس۔ امس کا معنی گزشتہ کل۔ انت حضرت، آپ حاضر ہوئے تھے امس گزشتہ کل میں۔ آپ گزشتہ کل حاضر ہوئے تھے، آپ گزشتہ کل حاضر تھے۔ بھئی، آپ کل سبق میں آئے تھے۔ سبق میں آئے تھے۔ اور آپ کو خود اس بات کا پتہ ہے یا نہیں کہ آپ آئے تھے؟ یقیناً جب آپ خود آئے تھے، تو سب سے زیادہ علم ہی آپ کو ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو آپ کو اپنے ہی آنے کا پتہ نہ ہو یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ تو انہوں نے ایسی مثال ذکر کی جس میں فائدۃ الخبر کا احتمال ہی نہیں۔ اب وہ ساتھی جب آپ سے کہہ رہا ہے: "آپ کل آئے تھے"، تو آپ ہی کی تو بات کر رہا ہے۔ تو یقینی طور پر آپ کو اپنی بات کا تو پتہ ہے کہ آپ آئے تھے۔ تو یہاں پر فائدۃ الخبر نہیں۔ فائدۃ الخبر یہاں پر مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ آپ ہی کے آنے کے بارے میں وہ آپ کو بتلائے، ایک نئی بات بتلائے، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ تو آپ کی اپنی بات ہے، آپ کو سب سے زیادہ پتہ ہے اپنے بارے میں کہ آپ آئے تھے بھئی۔ تو اب اس نے آ کر آپ سے کہا: "آپ کل آئے تھے"۔ تو یہاں فائدۃ الخبر تو نہیں۔ آپ کو کوئی نئی بات تو معلوم نہیں ہوئی اور نہ اس کا یہ بتلانے کا مقصد ہے کہ آپ کو نئی بات بتلائے۔ بلکہ وہ یہ بات اور یہ جملہ کیوں کہہ رہا ہے؟ کیا بتلانا چاہتا ہے؟ کہ مجھے بھی پتہ چل چکا ہے، میں بھی عالم ہوں اس بات پر کہ آپ کل آئے تھے۔ تو یہاں فائدۃ الخبر نہیں، لیکن کیا ہے؟ لازم فائدۃ الخبر ہے۔ نحو انت حضرت امس، کل آپ حاضر تھے۔ ویسمی الحکم فائدۃ الخبر اور وہ حکم جس پر وہ خبر مشتمل تھی بھئی، اس حکم کو کہتے ہیں فائدۃ الخبر۔ اس حکم کو فائدۃ الخبر کہتے ہیں۔ و کون المتکلم عالما بہ اور متکلم کا اس خبر پر عالم ہونا، اس کو لازم الفائدۃ، اس کو لازم الفائدۃ کہتے ہیں۔ یعنی یوں کہیں، لازم فائدۃ الخبر۔ کیا کہتے ہیں؟ لازم فائدۃ الخبر بھئی۔ یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی کہ فائدۃ الخبر کسے کہتے ہیں؟ آسان لفظوں میں، اردو میں مجھے بتائیے۔ فائدۃ الخبر کسے کہتے ہیں؟ مخاطب کو وہ بات بتلانا جو اس جملے کے اندر ہے، یہ کیا ہے؟ فائدۃ الخبر۔ اور مخاطب کو یہ بتلانا کہ مجھے بھی اس بات کا علم ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ لازم فائدۃ الخبر کہتے ہیں بھئی۔ و قد یلقی الخبر لاغراض اخرى اور کبھی کبھار خبر لائی جاتی ہے دوسری غرضوں کے لیے، دوسرے مقاصد کے لیے۔ بھئی، خبر کے اندر اصل تو یہی ہے، وہ اسی مقصد کے لیے لائی جائے تاکہ دوسرے کو فائدۃ الخبر ہو یا لازم فائدۃ الخبر ہو۔ اصل تو یہی ہے۔ اصل کیا ہے؟ خبر کس لیے ہو؟ فائدۃ الخبر کے لیے۔ اور کبھی کس لیے ہو؟ لازم فائدۃ الخبر کے لیے۔ لیکن کبھی کبھار خبر لائی جاتی ہے اور وہاں کوئی اور غرض مقصود ہوتی ہے۔ نہ وہاں فائدۃ الخبر دینا مقصود ہوتا ہے اور نہ لازم فائدۃ الخبر وہاں مقصود ہوتا ہے بھئی۔ مثلاً آپ بھی ایسا کرتے ہیں، لیکن آپ نے کبھی توجہ نہیں کی اس کی طرف بھئی۔ توجہ نہیں کی۔ اب علم بلاغت سے آپ کو پتہ چلے گا کہ ہم بھی اس طرح کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھار خبر لانے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ دوسرے کو بات بتلانا مقصد ہوتا ہے، (یعنی فائدۃ الخبر مقصود ہوتا ہے)۔ کبھی دوسرے کو یہ بتلانا مقصد ہوتا ہے کہ مجھے اس بات کا پتہ ہے۔ وہ کیا ہے؟ لازم فائدۃ الخبر۔ اور کبھی کبھار آپ بھی خبر لاتے ہیں، جملہ بولتے ہیں، لیکن مقصد نہ فائدۃ الخبر ہوتا ہے اور نہ لازم فائدۃ الخبر۔ مثلاً دیکھیے، آپ سارے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے اور زید نے آ کر کیا اطلاع دی؟ کہ اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ زید نے اطلاع دے دی۔ ساتھی آپ وہی بیٹھے ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر گزری، آپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ کے بیٹھے ہوئے ساتھیوں میں سے اب ایک ساتھی اونچی آواز میں کہتا ہے: "اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں"۔ اب نہ یہاں فائدۃ الخبر مقصود، نہ لازم فائدۃ الخبر مقصود ہے۔ فائدۃ الخبر کیوں نہیں مقصود؟ کیونکہ اسے بھی پتہ ہے، سب کو اس بات کا پتہ ہے۔ اور نیز لازم فائدۃ الخبر دینا بھی مقصود نہیں کہ مجھے بھی اس بات کا پتہ چل چکا ہے، میں بھی اس بات پر واقف ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ سب کے سامنے آ کر زید نے کہا تھا، آپ کو بھی پتہ ہے، جتنے بیٹھے ہوئے ساتھی ہیں سب کو اس بات کا علم ہے بھئی۔ سب کو اس بات کا علم۔ تو اس کے بولنے سے نہ آپ کو فائدۃ الخبر حاصل ہو گا اور نہ لازم۔۔۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں آپ کو پہلے سے حاصل ہیں۔ پھر اس کے خبر لانے کا مقصد کیا ہے؟ دراصل وہ اپنی اس خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہے جو چھپائے نہیں چھپ رہی اس سے بھئی۔ چھپائے نہیں چھپ رہی۔ اسی لیے اس نے کہا کہ اگلے ہفتے سے ۲۰ دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ تو آپ بھی کرتے ہیں یا نہیں اس طرح بھئی؟ خوشی کے اندر ایک بات خوشی کی ہوتی ہے، پتہ ہے میرے ساتھ والے کو پتہ ہے، لیکن پھر بھی آپ اس کے سامنے وہی جملہ بولتے ہیں۔ کیا مقصد ہوتا ہے آپ کے بولنے کا؟ آپ اپنی اس خوشی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہاں جو خبر لائی گئی، نہ یہ فائدۃ الخبر کے لیے ہے، نہ لازم فائدۃ الخبر کے لیے ہے، بلکہ یہاں کیا مقصد ہے؟ خوشی کا اظہار ہے۔ آپ اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ میں نہایت خوش ہوں اس خبر سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معلوم ہوا، آپ بھی ایسا کرتے رہتے ہیں کہ خبر کبھی کبھار لاتے ہیں اور مقصد نہ فائدۃ الخبر ہوتا ہے اور نہ لازم فائدۃ الخبر مقصد ہوتا ہے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: و قد یلقی الخبر لاغراض اخرى اور کبھی خبر لائی جاتی ہے دوسری غرضوں کے لیے۔ كالا سترحام فی قول موسی علیہ الصلوۃ والسلام: رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر۔ استرحام کا معنی ہے رحم طلب کرنا۔ رحم کو طلب کرنا۔ رحم اور مہربانی کو طلب کرنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قول میں: رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر۔ رب، اے میرے پروردگار! انی، بے شک میں فقیر، محتاج ہوں۔ رب انی فقیر، اے میرے پروردگار! بے شک میں محتاج ہوں لما انزلت الی من خیر، اس چیز کا جو آپ میری طرف نازل فرمائیں من خیر، یعنی کہ خیر، جو بھلائی ہے۔ آپ میری طرف جو بھلائی بھی نازل فرمائیں اور مجھے عطا فرمائیں، میں اس کا کیا ہوں؟ محتاج ہوں۔ اے اللہ، دیکھیے بھئی، یہ تو میں نے سمجھانے کے لیے انی کے ساتھ فقیر کو جوڑا کہ یہ اس کی خبر ہے انّ کی۔ کہ میں محتاج ہوں کس چیز کا؟ لما انزلت الی، وہ جو آپ میری طرف نازل فرمائیں من خیر، یہ بیان ہے ما انزلت کا، یعنی کہ خیر۔ کس چیز کو نازل فرمائیں میری طرف؟ خیر اور بھلائی۔ جو بھلائی آپ میری طرف نازل فرمائیں، میں اس کا محتاج ہوں۔ اب دیکھیے، حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ فرما رہے ہیں۔ کیا مقصد ہے اس کے لیے؟ کس سے۔۔۔ کس کی طرف رخِ کلام ہے بھئی؟ کس سے فرما رہے ہیں وہ؟ اللہ سے فرما رہے ہیں۔ تو یہاں کیا مقصد ہے؟ فائدۃ الخبر کا ہے مقصد؟ اللہ کو ایک بات بتلانا چاہتے ہوں جس کا اللہ کو علم نہ ہو، ایسا ہو سکتا ہے بھئی؟ اللہ تو ہر چیز کو جاننے والے ہیں، اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ تو یہاں فائدۃ الخبر غرض ہو ہی نہیں سکتی۔ اچھا فائدۃ الخبر تو غرض نہیں، لازم فائدۃ الخبر غرض ہو گی، اللہ کو یہ بتلانا چاہتے ہوں کہ مجھے اس بات کا علم ہے؟ جی؟ نہیں، یہ بھی۔۔۔ اللہ تو ہر چیز کو جاننے والے ہیں بھئی۔ تو یہاں نہ فائدۃ الخبر غرض ہے، نہ لازم فائدۃ الخبر غرض ہے، بلکہ غرض کیا ہے؟ اللہ کی رحمت اور مہربانی کو طلب کرنا ہے، اس مقصد کے لیے یہ فرما رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ و اظہار الضعف فی قول زکریا علیہ السلام اور کمزوری کا اظہار جیسے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے قول میں ہے۔ اس مقصد کے لیے کبھی لایا جاتا ہے خبر کو۔ کیا فرماتے ہیں؟ رب انی وہن العظم منی۔ رب، اے میرے پروردگار! انی، بے شک میں۔۔۔ وہن العظم منی، وہن کمزور ہونا۔ وہن العظم منی، کمزور ہو گئی ہیں ہڈیاں مجھ سے (یعنی میری)۔ میری ہڈیاں کیا ہو گئی ہیں؟ کمزور ہو گئی ہیں۔ یعنی میں بوڑھا ہو گیا ہوں، کمزور ہو گیا ہوں، ضعیف ہو گیا ہوں۔ اب بتائیے بھئی، حضرت زکریا علیہ السلام اللہ سے فرما رہے ہیں: "رب! اے میرے پروردگار، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں"۔ یہاں مقصد کیا ہے؟ فائدۃ الخبر ہے؟ یہ بتلانا چاہتے ہیں اللہ کو کہ میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور اللہ کو پہلے سے علم نہ ہو، ایسا ہو سکتا ہے بھئی؟ نہیں۔ فائدۃ۔۔۔ معلوم ہوا، یہاں فائدۃ الخبر غرض نہیں۔ اچھا، یہ بتلانا چاہتے ہوں کہ مجھے اس بات کا علم ہے (یعنی لازم فائدۃ الخبر بتلانا مقصد ہے)؟ کہ میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں۔ جی؟ نہیں، اللہ کو تو ہر چیز کا علم۔ پھر کیا مقصد ہے یہاں پر؟ اپنے ضعف کا اظہار کر رہے ہیں۔ نہ یہاں ان کا مقصد فائدۃ الخبر ہے، نہ لازم فائدۃ الخبر ہے، صرف کیا کر رہے ہیں؟ اپنے ضعف کا، اپنی کمزوری کا اظہار کر رہے ہیں بھئی۔ اوپر کیا آیا تھا؟ كالا سترحام و اظہار الضعف، اس کو مجرور پڑھنا بھئی۔ استرحام پر عطف ہے۔ آگے کیا آ رہا ہے؟ و اظہار التحسر اور حسرت کا اظہار کرنا، غم کا اظہار کرنا فی قول امراۃ عمران جیسے کہ امرأۃِ عمران کے قول میں۔ امرأۃِ عمران بھئی۔ عمران، حضرت مریم کے والد کا نام۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام بھی عمران۔ تو یہاں حضرت مریم کے والد مراد ہیں۔ تو ان کی بیوی نے منّت مانی تھی، حاملہ تھیں امرأۃِ عمران بھئی۔ وہ حاملہ تھیں، تو انہوں نے منّت مانی کہ اے اللہ، یہ جو میرے پیٹ میں حمل ہے، یہ میں آپ کے راستے میں اس کو آزاد کرتی ہوں کہ لڑکا ہو۔ اور اللہ کے راستے میں آزاد کرنے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ جو ہو گا، یہ دنیاوی کاموں وغیرہ میں مشغول نہیں رہے گا بلکہ یہ بیت المقدس کی خدمت کرتا رہے گا اور ہر وقت آپ کی عبادت وغیرہ ہی میں مشغول رہے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ انہوں نے منّت مانی تھی۔ لیکن جب جنم دیا تو بیٹی پیدا ہوئیں بھئی، بیٹی پیدا ہوئی، حضرت مریم پیدا ہوئیں۔ اور تو اس وقت وہ کہنے لگیں: رب انی وضعتها انثى، کہ اے میرے پروردگار، میں نے تو اس کو بیٹی جنم دیا ہے، میں نے تو کس کو جنم دیا ہے؟ بیٹی کو جنم دیا ہے۔ آگے اللہ فرماتے ہیں: واللہ اعلم بما وضعت، اور اللہ خوب جانتے ہیں اس چیز کو جس کو اس نے جنم دیا۔ انہوں نے یوں کہا کہ اللہ، میں نے تو اس بیٹی کو جنم دیا۔ اللہ تو خوب واقف ہیں جس چیز کو انہوں نے جنم دیا۔ تو دیکھیے یہاں پر وہ فرما رہی ہیں کہ میں نے بیٹی کو جنم دیا ہے، اب یہاں فائدۃ الخبر مقصد ہے؟ کیا اللہ کو یہ بتلانا مقصد ہے کہ میں نے بیٹی کو جنم دیا اور اللہ کو پہلے سے اس بات کا علم نہ ہو؟ نہیں، معلوم ہوا یہاں فائدۃ الخبر مقصد نہیں۔ اچھا، کیا یہ مقصد ہے اللہ کو یہ بتلانا مقصد ہو کہ مجھے اس بات کا علم ہے کہ میں نے کس کو جنم دیا ہے؟ نہیں، تو یہاں لازم فائدۃ الخبر بھی مقصد نہیں ہے اور فائدۃ الخبر بھی مقصد نہیں، بلکہ صرف غم اور افسوس کا اظہار ہے۔ کیونکہ انہوں نے تو کیا منت مانی تھی کہ بیٹا ہو گا تو اس کو اللہ کے راستے میں آزاد کریں گی اور بیٹی پیدا ہوئی۔ اب بیٹی تو اس طرح کا کام نہیں کر سکتی، تو اس وجہ سے وہ غم اور افسوس کا اظہار کر رہی تھیں۔ چنانچہ آگے اللہ فرماتے ہیں: واللہ اعلم بما وضعت اور اللہ خوب جاننے والے ہیں جس کو انہوں نے جنم دیا بھئی۔ اللہ خوب۔۔۔ تو یہ اس کے اندر یہ اظہارِ تحسر جو ہے یا یوں کہیں امرأۃ عمران کا قول یہاں پر صرف یہ ہے: رب انی وضعتها انثى۔ یہ صرف ان کا کلام ہے، باقی واللہ اعلم بما وضعت یہ اللہ کا کلام ہے بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ خوب جاننے والے ہیں جس کو انہوں نے جنم دیا تھا بھئی۔ تو یہ جو آیا رب انی وضعتها انثى، اس کے اندر حسرت کا، افسوس کا، غم کا اظہار ہے بھئی۔ نہ فائدۃ الخبر مقصود اور نہ لازم فائدۃ الخبر مقصود، کیونکہ اللہ ہر بات جاننے والے ہیں۔ تو یہ صرف غم اور افسوس کے اظہار کے لیے انہوں نے یہ جملہ کہا بھئی۔ و اظہار الفرح بمقبل و الشماتۃ مدبر فی قولک۔ آپ کی کتابوں میں فی قولہ تعالی تو نہیں بھئی؟ فی قولہ تعالی نہیں ہونا چاہیے بھئی اگر کسی کتاب میں ہے۔ یہ اصل کتاب کے اندر بھی جو اصل نسخے ہیں، ان کے اندر بھی فی قولک ہے بھئی۔ قولک، اور فی قولک ہی ہونا چاہیے، فی قولہ تعالی یہاں نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ و اظہار الفرح بمقبل فرح کہتے ہیں خوشی کو۔ مقبل کہتے ہیں آنے والی چیز، آنے والا۔ شماتت۔۔۔ اچھا، مقبل کہتے ہیں آنے والا۔ مدبر کہتے ہیں جانے والا۔ مدبر کسے کہتے ہیں؟ جانے والا۔ تو فرح کا معنی ہے خوشی۔ شماتت، شماتت کا معنی بھی ہے خوشی بھئی۔ شماتت کا بھی کیا معنی ہے؟ خوشی۔ لیکن یاد رکھیے، شماتت وہ خوشی ہے جو کسی مخالف اور کسی دشمن کی مصیبت پر ہو، وہ خوشی۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ شماتت کہتے ہیں۔ عام خوشی نہیں، بلکہ کون سی خوشی؟ جو کسی مخالف یا دشمن کی مصیبت اور تکلیف پر جو خوشی ہو، اس کو شماتت کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: و اظہار الفرح بمقبل و الشماتۃ مدبر فی قولک۔ اور بھئی دیکھیے، کسی مقام پر اہل اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور اہل باطل کو شکست ہوئی، تو آپ اس موقع پر کہتے ہیں: جاء الحق وزحق الباطل۔ اہل اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور اہل باطل کو شکست ہوئی، تو اس موقع پر آپ کہتے ہیں: جاء الحق وزحق الباطل۔ حق آ گیا وزحق الباطل اور باطل فنا ہو گیا، ہلاک ہو گیا۔ حق سے مراد ہے اسلام اور باطل سے مراد کفر وغیرہ، شرک۔ تو حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ تو حق آ گیا یعنی اسلام آ گیا اور باطل فنا ہوا، ہلاک ہوا۔ تو اب یہ آپ کلام کہتے ہیں اور کس موقع پر کہا آپ نے؟ جب اہل اسلام کو فتح ہوئی اور اہل باطل کو شکست ہوئی۔ تو دیکھیے، یہ کلام لانے کا مقصد کیا ہے؟ آپ خوشی کا اظہار کرتے ہیں آنے والی چیز پر۔ اور وہ آنے والی چیز کیا ہے؟ اسلام۔ اور آپ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں پلٹ جانے والی چیز پر اور وہ کیا ہے؟ کفر بھئی۔ تو کفر کے پلٹ جانے اور اس کے ہلاک و برباد ہونے پر اور اسلام کی آمد پر آپ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں یہ قولک ہونا چاہیے بھئی، آپ کا قول۔ فی قولہ تعالی یہاں درست بنتا ہی نہیں بھئی، آپ خود بھی غور کر لیں۔ آنے والی چیز پر خوشی کا اظہار اور پلٹ جانے والی چیز پر یعنی جانے والی چیز پر خوشی کا اظہار، کیا اللہ کے کلام میں جو آیا، اللہ اس کا تو معنی پھر یہ بنے گا کہ اللہ اسلام کے آنے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور کفر کے فنا ہونے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں بھئی۔ حالانکہ اللہ کی تو قدرت میں ہے ہر چیز بھئی۔ اللہ تعالی تو چاہیں تو سارے کفر کو ہی نیست و نابود کر دیں اور ختم فرما دیں۔ تو یہاں یہ معنی بنتا ہی نہیں اللہ کے کہ اللہ خوشی کا اظہار فرما رہے ہیں۔ حتیٰ کہ قرآن میں بھی ذرا غور کر لیں، تو قرآن میں بھی اس سے پہلے قل کا لفظ آیا ہے۔ قل جاء الحق وزحق الباطل۔ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے، آپ کہہ دیجیے جاء الحق وزحق الباطل۔ آپ یعنی اس خوشی کا اظہار کیجیے کہ اسلام آ گیا اور کفر مٹ گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں فی قولک ہونا چاہیے بھئی اور اصل نسخوں کے اندر اسی طرح ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں نہ فائدۃ الخبر مقصود ہے، نہ لازم فائدۃ الخبر مقصود ہے۔ اہل اسلام کو فتح ہوئی ہے اور کفار کو شکست ہوئی ہے۔ سب کو پتہ ہے۔ جس سے آپ بات کر رہے ہیں اس کو بھی اس بات کا پتہ کہ اسلام والوں کو فتح ہوئی ہے اور کفر والوں کو شکست ہوئی ہے۔ لیکن اس کے سامنے پھر بھی آپ کہتے ہیں جاء الحق وزحق الباطل۔ نہ یہاں آپ کا مقصد فائدۃ الخبر ہے اور نہ لازم فائدۃ الخبر ہے، کیونکہ سب کو اس بات کا پتہ ہے۔ تو آپ کا دراصل مقصد کیا ہے اپنے اس قول کے اندر؟ خوشی کا اظہار، انے والی چیز پر خوشی کا اظہار اور جانے والی اور فنا ہونے والی چیز پر خوشی کا اظہار ہے بھئی۔ و اظہار السرور فی قولک اور خوشی کا اظہار آپ کے اس قول کے اندر: اخذت جائزۃ التقدم۔ جائزہ کہتے ہیں انعام کو، تقدم اگے ہونا۔ میں نے آگے ہونے کا انعام لیا۔ آگے ہونے یا یوں کہیں اول آنے کا انعام لیا میں نے۔ میں نے کس چیز کا انعام لیا؟ اول آنے کا، آگے نکلنے کا، دوسروں سے آگے نکلنے کا انعام میں نے لیا، یعنی میں دوسروں سے آگے نکلا اور پھر مجھے انعام ملا۔ آپ یہ کہتے ہیں لمن یعلم ذلک اس شخص سے جو اس بات کو جانتا ہے۔ آپ کو انعام ملا ہے، آپ کے ساتھی جو آپ کے ساتھ کھڑا ہے اس کو بھی پتہ ہے کہ آپ کو انعام ملا ہے۔ تو یہاں پر آپ کہتے ہیں، میں نے اول آنے کا انعام لیا۔ فائدۃ الخبر ہے یہاں مقصد؟ نہیں، اس کو بھی علم ہے اس بات کا، تو فائدۃ الخبر غرض نہیں۔ اور لازم فائدۃ الخبر بھی یہاں غرض نہیں۔ آپ اسے یہ نہیں بتلانا چاہتے کہ میں نے انعام لیا ہے مجھے علم ہے، کیونکہ جب لیا ہی آپ نے ہے تو اس کو پتہ ہے کہ آپ کو آپ ہی تو لینے والے ہیں بھئی اور پھر کس کو علم ہو گا بھئی۔ تو فائدۃ الخبر بھی یہاں مقصد نہیں اور لازم فائدۃ الخبر بھی مقصد نہیں، کیونکہ یہ دونوں چیزیں آپ کے ساتھی کو پہلے سے ہی پتہ ہیں۔ پھر بھی آپ اس کو کہتے ہیں: مجھے پہلے نمبر کا انعام میں نے لیا ہے۔ کیا مقصد ہے؟ صرف اپنی خوشی بتلانا چاہتے ہیں بھئی۔ و التوبیخ فی قولک للعاسر اور ڈانٹ ڈپٹ آپ کے اس قول میں للعاسر۔ عاسر کہتے ہیں ٹھوکر کھانے والا، پھسلنے والا۔ جو پھسل جائے، ٹھوکر کھا کر گر پڑے، اسے کیا کہتے ہیں؟ عاسر۔ ایک ساتھی ہے آپ کا، آپ چل رہے ہیں اور وہ ٹھوکر کھا کر یا پھسل کر گر جاتا ہے، آپ اسے ڈانٹ کر کہتے ہوئے کہتے ہیں: الشمس طالعۃ، سورج نکلا ہوا ہے۔ کیا کہتے ہیں؟ مطلب کیسے ٹھوکر کھا لی، کس طرح پھسل کر گر گئے، نیچے دیکھتے کیوں نہیں راستے کی طرف بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اب آپ بتائیے، سورج نکلا ہوا ہے، یہ اس کو پتہ ہے یا نہیں؟ پتہ ہے۔ اور سورج کے نکلنے کا آپ کو علم، بتلانے والے کو علم ہے، یہ بھی اس کو پتہ ہے یا نہیں؟ جب اس نے دیکھ رہا ہے سورج نکلا ہوا ہے، اسے پتہ ہے سب کو اس بات کا علم ہے۔ تو آپ اپنے عالم ہونے کے بارے میں بتلائیں، یہ نہیں ہو سکتا یہاں پر، کیونکہ یہ تو ظاہر سی بات ہے بھئی۔ اور آپ اس کو ایک سورج نکلنے کا بتلائیں، بھئی وہ خود دیکھ رہا ہے۔ معلوم ہوا، یہاں فائدۃ الخبر بھی مقصد نہیں اور لازم فائدۃ الخبر بھی مقصد نہیں۔ مقصد کیا ہے؟ اس کو ڈانٹ رہے ہیں آپ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے، بس بھئی۔ هذا هو المرام والله اعلم بحقيقۃ الکلام۔