سبق نمبر۔۱۳ وَفَصَاحَةُ الْمُتَكَلِّمِ مَلَكَةٌ يَقْتَدِرُ بِهَا عَلَى التَّعْبِيرِ عَنِ الْمَقْصُودِ بِكَلَامٍ فَصِيحٍ فِي أَيِّ غَرَضٍ كَانَ، وَالْبَلَاغَةُ فِي اللُّغَةِ الْوُصُولُ وَالِانْتِهَاءُ، يُقَالُ: بَلَغَ فُلَانٌ مُرَادَهُ إِذَا وَصَلَ إِلَيْهِ، وَبَلَغَ الرَّكْبُ الْمَدِينَةَ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهَا، وَتَقَعُ فِي الِاصْطِلَاحِ وَصْفًا لِلْكَلَامِ وَالْمُتَكَلِّمِ. فصاحت کی بحث چل رہی ہے، آپ نے پڑھا فصاحت جو ہے یہ کلمہ کی بھی صفت بنتی ہے، کلام کی بھی صفت بنتی ہے اور متکلم کی بھی صفت بنتی ہے۔ اور فصاحت فی الکلمہ کے بارے میں پھر آپ نے پڑھا کہ فصاحت فی الکلمہ یہ ہے کہ وہ کلمہ تین عیبوں سے خالی ہو جائے: تنافر حروف، مخالفت القیاس اور غرابت۔ اور کلامِ فصیح وہ ہے جو تین عیبوں سے خالی ہو اور ایک چوتھی چیز اس میں ہونی چاہیے۔ تین عیب جس سے کلامِ فصیح کا خالی ہونا ضروری ہے وہ کون کون سے آپ نے پڑھے؟ تنافرِ کلمات، ضعفِ تالیف اور تعقید بھئی تعقید۔ تو فصاحتِ کلمہ کی بحث بھی مکمل ہوئی، فصاحتِ کلام کی بحث بھی مکمل ہوئی۔ آج ہم فصاحتِ متکلم کے بارے میں پڑھیں گے کہ متکلم میں فصاحت کا کیا معنی بھئی، متکلمِ فصیح کس کو کہیں گے، شاعرِ فصیح کس کو کہیں گے بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَفَصَاحَةُ الْمُتَكَلِّمِ اور متکلم کا فصیح ہونا جو ہے: مَلَكَةٌ يَقْتَدِرُ بِهَا، مَلَكَةٌ میم پر بھی فتحہ، لام پر بھی فتحہ بھئی، مَلَكَةٌ يَقْتَدِرُ بِهَا عَلَى التَّعْبِيرِ عَنِ الْمَقْصُودِ بِكَلَامٍ فَصِيحٍ فِي أَيِّ غَرَضٍ كَانَ۔ فصاحت فی المتکلم جو ہے وہ نام ہے ملکہ، ایسے ملکہ کا کہ يَقْتَدِرُ بِهَا، بھئی ملکہ لفظ آیا ملکہ۔ یاد رکھیے، کسی انسان کو جو ابتداءً صفت حاصل ہوتی ہے وہ حال ہوتی ہے، حال کے درجے میں بھئی۔ کس درجے میں؟ حال کے درجے میں۔ کوئی صفت، کوئی چیز سیکھتا ہے ابتداءً وہ حال کے درجے میں ہے۔ اور اگر وہ اس میں محنت کرے تو وہ چیز اس کے نفس کے ساتھ پختہ ہو جاتی ہے، وہ وصف اس کی ذات کے ساتھ پکا ہو جاتا ہے، پھر اس چیز کی اسے صلاحیت حاصل ہو جاتی ہے۔ تو یہ جو وصف اسے پختہ طور پر حاصل ہو گیا، یہ ملکہ کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ تو ابتداءً جو نفس کو صفت حاصل ہوتی ہے وہ کس درجے میں ہوتی ہے؟ حال کے درجے میں۔ اور محنت نہیں کرے گا تو یہ حال کے درجے میں ہے، اور حَالَیَحُولُ حَوْلًا، اس کا معنی ہے بدل جانا، یہ صفت بھی گزر جائے گی، ختم ہو جائے گی بھئی، اس چیز کی صلاحیت اس میں نہ رہے گی۔ دیکھیے مثلاً مثال کے طور پر، آپ علمِ بلاغت پڑھ رہے ہیں بھئی، اب یہ کتاب جب آپ پڑھتے ہیں، پوری کر لیں گے تو آپ میں بھی اس کتاب کو دوسروں کو سمجھانے کی صلاحیت پیدا... دوسروں کو اب آپ سمجھا سکتے ہیں۔ جب آپ نے اس کو پڑھ لیا، کوئی آپ سے پوچھتا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اس کو وہ مقام سمجھا سکتے ہیں، کتاب کا جو بھی مقام آپ سے کوئی پوچھتا ہے بھئی۔ تو یہ آپ کو وصف حاصل ہو گیا کہ اب آپ اس کتاب کو کیا کر سکتے ہیں؟ پوچھنے پر بتلا سکتے ہیں، حل کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ صفت جو آپ کو حاصل ہوئی، یہ حال کے درجے میں ہے۔ اگر آپ اس کا تکرار نہیں کریں گے، محنت نہیں کریں گے تو چند دن یہ صفت رہے گی، پھر حَالَیَحُولُ حَوْلًا، بدل جائے گی، گزر جائے گی بھئی۔ کچھ عرصہ گزرا اور آپ نے اس کی طرف دوبارہ توجہ کی ہی نہیں، تو بس ختم بھئی، پھر اس کے بعد کوئی پوچھے گا تو اب آپ کو پھر شروحات کی طرف رجوع کرنا پڑے گا، حل کریں گے پھر جا کر آپ کچھ سمجھا سکیں گے۔ لیکن اگر اسی کتاب پر آپ نے خوب پھر محنت کر لی سمجھنے کے بعد بھئی، خوب اس کا تکرار کرتے رہے، خوب پختہ اور ازبر کر لیا، زبردست محنت کی، تو یہ کتاب جو ہے اس کو سمجھانے کی پختہ صفت آپ کو حاصل ہو جائے گی بھئی۔ اب یہ وصف آپ سے زائل نہیں ہو گا۔ جب آپ نے خوب اچھی طرح اس کو ازبر کر لیا تو اب آپ کتاب کو رکھ بھی دیں، زندگی بھر جب بھی کوئی آپ سے پوچھے گا، آپ نے اتنی محنت کی تھی، اتنا بہترین طریقے سے اس کو سیکھ لیا تھا کہ اب زندگی میں جب بھی کوئی آپ سے کوئی جگہ مقام پوچھتا ہے کہ اس کا کیا معنی ہے، آپ میں صلاحیت ہو گی، آپ فوراً اس کو بتلا دیں گے کہ اس کا یہ معنی ہے، یہ کتاب والا یہ بات کر رہا ہے۔ تو دیکھیے وہ یہ وصف اب آپ کی نفس کے ساتھ پختہ ہو گیا، پکا ہو گیا، اب یہ جدا نہیں ہوتا۔ تو یہ جو وصف پکا ہو جائے، اس کو کہتے ہیں ملکہ بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ ابتداءً حال تھا، اب کیا بن گیا؟ ملکہ بن گیا، یعنی اردو میں آسان لفظوں میں کہیے صلاحیت اور مہارت بھئی مہارت، صلاحیت اور... اب آپ میں صلاحیت پیدا ہو گئی، آپ جب بھی کوئی پوچھے، آپ اس کے سامنے اس کو بیان کر سکتے ہیں۔ اب آپ کتاب بند کر کے بھی رکھ دیں، لیکن آپ کی یہ صلاحیت ختم نہیں ہوتی، یہ آپ کے ساتھ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے اس کی مثال دیکھیں، طالبِ علم آٹھ سال پڑھتا ہے درسِ نظامی کی کتابیں، سارا کچھ وہ سمجھ لیتا ہے اچھی طرح، اب آٹھ سال کے بعد یہ علوم جو اس نے سیکھ لیے، دوسرے کو بھی سکھا سکتا ہے، یہ اس میں وصف پیدا ہو گیا۔ لیکن یہ وصف ابتداءً حال کے درجے میں ہے، اگر وہ ان کتابوں کو چھوڑ دے گا، ان سے... اور کاموں میں دنیا کے مشغول ہو جائے گا تو پھر آہستہ آہستہ کچھ ہی عرصے بعد یہ صفت ختم ہو جائے گی بھئی، گزر گئی بھئی، حال تھا گزر گیا بھئی۔ اب اس کے بعد اس کے لیے پڑھانا بڑا مشکل ہو جائے گا۔ لیکن اگر دورۂ حدیث کرنے کے بعد، آٹھ سال پڑھنے کے بعد، پھر وہ ان علوم کو پڑھانا بھی شروع کر دیتا ہے اور آٹھ دس سال پڑھاتا رہتا ہے مسلسل بھئی، تو آٹھ دس سال جب پڑھائے گا تو اب وہ جو وصف حال کے درجے میں تھا، اب ملکہ بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ پختہ، وصف پختہ ہو گیا، اب اس کے بعد اب یہ کتابیں نہ بھی پڑھائے، لیکن اس میں ملکہ آ گیا، صلاحیت آ گئی، اس کو مہارت حاصل ہو گئی، اب جب کبھی کوئی اس کے پاس آئے کہ مجھے یہ پڑھا دیں یا کچھ، تو وہ آسانی سے اس کو پڑھا سکے گا کیونکہ وہ وصف کیا ہو چکا؟ پختہ ہو گیا بھئی پختہ۔ تو ابتداءً جو نفس کو وصف حاصل ہو وہ کیا ہے، کس درجے میں ہے؟ حال کے درجے میں، اور یہی وصف جب پختہ ہو جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ ملکہ کہلاتا ہے بھئی۔ اردو میں کیا کہیں گے اس کو؟ صلاحیت، کہ اس میں اس کام کی صلاحیت ہے، ملکہ ہے بھئی۔ جیسے آپ دیکھتے ہیں بھئی دنیا کے اندر بھی، کوئی شخص کسی کام کو سیکھتا ہے تو تھوڑا سا سیکھے اور پھر چھوڑ دے تو بھول جاتا ہے بھئی۔ کوئی بھی ہنر وہ سیکھنے لگا ہے، کوئی بھی کام وہ کرنے لگا ہے۔ لیکن جب وہ اس ہنر کے ساتھ لگا رہے، محنت کرتا رہے تو کچھ عرصے میں ہی اس کو اس ہنر میں مہارت حاصل ہو جاتی ہے اور پھر اس کے بعد اگر وہ چھوڑ بھی دے، بعد میں کافی عرصے بعد بھی پھر شروع کرے، لیکن اس میں وہ مہارت جو تھی وہ اس سے اب ختم نہیں ہوئی بھئی، مہارت کیا ایک مرتبہ جب آ گئی تو پھر جدا نہیں ہو گی اور وہ پھر اس کام کو اسی طرح بہترین طریقے سے سرانجام دے سکے گا۔ جتنے بھی ہنر ہیں آپ دیکھ لیں بھئی، کوئی چیز بنانے کا ہنر ہے، ٹھیک کرنے کا ہنر ہے وغیرہ، تو یہ چیزیں ابتداءً ان کو سیکھا، یہ کس درجے میں؟ حال کے درجے میں، اور جب اسی میں وہ محنت کر کے ان کی مہارت حاصل کر لیتا ہے تو یہ کیا بن جاتی ہیں؟ یہی وصف کیا بن جاتا ہے؟ ملکہ بن جاتا ہے بھئی۔ تو ملکہ کس چیز کا نام ہے؟ صلاحیت اور مہارت یعنی پختہ وصف جو نفس سے پھر جدا نہیں ہوتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے ملکہ، ملکہ۔ تو فصاحت فی المتکلم کی تعریف کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: وَفَصَاحَةُ الْمُتَكَلِّمِ اور متکلم کے میں فصاحت جو ہے مَلَكَةٌ وہ ایسا پکا وصف ہے، ایسا ایسی پختہ صفت ہے يَقْتَدِرُ بِهَا کہ وہ متکلم قادر ہوتا ہے بِهَا اس وصف کے، اس ملکے کے ذریعے عَلَى التَّعْبِيرِ کس چیز پر؟ تعبیر کرنے پر عَنِ الْمَقْصُودِ کس سے؟ مقصود سے، مقصود سے تعبیر پر وہ قادر ہو جاتا ہے یعنی مقصود کو تعبیر کر سکتا ہے بِكَلَامٍ فَصِيحٍ کس کے ساتھ؟ کلامِ فصیح کے ساتھ فِي أَيِّ غَرَضٍ كَانَ جس غرض میں بھی ہو۔ بھئی ملکہ ویسے تو صلاحیت اور مہارت کا نام ہے لیکن ہم یہاں ہر ملکے کی بات نہیں کر رہے، کون سا ملکے کی بات ہو رہی ہے؟ فصاحت فی المتکلم کی بات ہو رہی ہے۔ متکلم میں فصاحت کس چیز کا نام ہے؟ کسے کہتے ہیں متکلمِ فصیح؟ بتلایا کہ متکلمِ فصیح وہ ہے جس کے اندر ایسی پکی صفت ہو، ایسی پختہ صفت ہو کہ وہ اس صفت کی وجہ سے وہ قادر ہے اس بات پر، اس میں قدرت ہے اس بات کی کہ وہ اپنے مقصود کو تعبیر کر سکے، مقصود کا کیا معنی؟ جو بات دوسرے کو پہنچانا چاہتا ہے، جو ادا کرنا چاہتا ہے۔ تو وہ جو مقصود ہے اس کا، اس کو وہ تعبیر کر سکے، کیا معنی تعبیر کرنے کا؟ ادا کرنا، اس مقصود کو، اس معنی کو وہ ادا کر سکے کس کے ساتھ؟ بِكَلَامٍ فَصِيحٍ، فصیح... تو متکلمِ فصیح وہ ہے جو اپنی ہر غرض، اپنے ہر مقصد کو، یعنی جو معنی وہ دوسرے کو پہنچانا چاہتا ہے، ہر اس معنی کو وہ فصیح کلام کے ساتھ ادا کرنے پر قادر ہو۔ متکلمِ فصیح کسے کہیں گے؟ جو اپنے مقصود کو، جو بھی مقصود ہو اس کا، جس غرض کے سلسلے میں بھی ہو، وہ اس مقصود کو فصیح کلام کے ساتھ تعبیر کر سکے اور ادا کر سکے تو اس کو کیا کہیں گے؟ متکلمِ فصیح کہیں گے۔ تو متکلمِ فصیح وہ ہے جس نے جو بات بھی کسی کو کہنی ہو، اس میں صلاحیت ہو کہ وہ کس کے ساتھ ادا کر سکے اس کو؟ فصیح کلام کے ساتھ، تو اس کو متکلمِ فصیح کہیں گے بھئی۔ اس کو کیا کہیں گے؟ متکلمِ فصیح کہیں گے۔ تو فصاحت فی المتکلم یہ ملکے کا نام ہے، کس چیز کا نام ہے؟ ملکے کا نام ہے۔ کہ جس کے ذریعے وہ کلامِ فصیح کے ساتھ اپنے مقصود کو اور اپنی غرض کو ادا کر سکے، جو معنی دوسرے تک پہنچانا چاہتا ہے اس کو فصیح لفظوں کے ساتھ ادا کر سکے۔ بالفعل فصیح کلام کرنا نہیں ضروری بھئی۔ بالفعل فصیح کلام کرنا ضروری نہیں کہ وہ آپ کے سامنے کچھ فصیح کلام کرے گا تو آپ اس کو کیا کہیں گے؟ متکلمِ فصیح کہیں گے۔ نہیں، ایک آدمی ساری زندگی بولتا ہی نہیں، خاموش رہتا ہے لیکن اس میں صلاحیت ہے کہ وہ جب بھی جس مقصد کو بھی کلامِ... کو ادا کرنا چاہے تو کس کے ساتھ ادا کر سکتا ہے؟ کلامِ فصیح کے ساتھ ادا کر سکتا ہے تو اس کو بس متکلمِ فصیح کہیں گے، چاہے اس نے ساری عمر ایک لفظ بھی زبان سے ادا نہ کیا۔ لیکن اس میں کیا ہے؟ صلاحیت ہے، وہ کیا کر سکتا ہے؟ اپنے مقصد کو فصیح کلام کے ساتھ ادا کر سکتا ہے، بس جب اس میں صلاحیت ہے تو اس کو متکلمِ فصیح کہیں گے۔ تو معلوم ہوا کہ فصاحت فی المتکلم جو ہے وہ ملکے کا نام ہے، اس میں بالفعل، بالفعل فصیح کلام کرنے کی قید نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا ایک آدمی ہے اس میں یہ ملکہ تو نہیں ہے، صلاحیت تو نہیں ہے کہ وہ ہر معنی کو ادا کر سکے فصیح کلام کے ساتھ، لیکن ایک دن اس نے تقریر کی بھئی، کلام کیا اور بڑا ہی فصیح و بلیغ کلام کیا، تو آپ... آپ کیا اس کو متکلمِ فصیح کہیں گے؟ جی؟ نہیں! ایک مرتبہ، دو مرتبہ، دس مرتبہ فصیح کلام کرنے سے کوئی متکلمِ فصیح نہیں بنتا بلکہ متکلمِ فصیح میں صلاحیت ہونی چاہیے یعنی وہ مل... پختہ ملکہ، پختہ صفت ہونی چاہیے کہ وہ جب بھی اپنے جس معنی کو بھی ادا کرنا چاہے اس کو فصیح کلام کے ساتھ ادا کر سکے بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معلوم ہوا اس میں بالفعل کلامِ فصیح کی قید نہیں ہے، ہاں اس میں صلاحیت ہونی چاہیے جس مقام پر بھی، جس قسم کے بھی کلام کی ضرورت ہے وہ فصیح کلام وہاں پر کر سکے بھئی۔ چاہے کسی کی تعریف کرنی ہے، چاہے کسی کی مذمت کرنی ہے، چاہے کوئی بھی کسی بھی قسم کا معنی ادا کرنا ہے، ہر مقام پر وہ کیا کر سکے؟ فصیح کلام کرنے کی اس میں صلاحیت ہو، بس اس کو کیا کہیں گے؟ متکلمِ فصیح کہیں گے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے دوبارہ کتاب پر: وَفَصَاحَةُ الْمُتَكَلِّمِ مَلَكَةٌ يَقْتَدِرُ بِهَا عَلَى التَّعْبِيرِ عَنِ الْمَقْصُودِ بِكَلَامٍ فَصِيحٍ فِي أَيِّ غَرَضٍ كَانَ، اور فصاحت فی المتکلم جو ہے، مَلَكَةٌ وہ ایسا ملکہ ہے، ملکہ نکرہ آیا، نکرہ کے بعد يَقْتَدِرُ فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف... موصوف سے، پوری بات کیا کریں، موصوف سے پہلے 'ایسا' یا 'ایسی' کا لفظ لاتے ہیں۔ تو فصاحت فی المتکلم جو ہے وہ ایسا ملکہ ہے، ایسی پختہ صفت ہے، ایسی پکی صفت ہے کہ يَقْتَدِرُ بِهَا کہ متکلم قادر ہوتا ہے بِهَا اس صفت کی وجہ سے، اس ملکے کی وجہ سے عَلَى التَّعْبِيرِ عَنِ الْمَقْصُودِ کہ وہ مقصود سے تعبیر کر سکتا ہے یعنی اس کو ادا کر سکتا ہے بِكَلَامٍ فَصِيحٍ کس چیز کے ساتھ؟ کلامِ فصیح کے ساتھ، اور کسی ایک موقع پر یا ایک محل پر یا کسی خاص قسم کا کلام نہیں بھئی، کہ ایک آدمی ہے وہ صرف مدح کے سلسلے میں ہمیشہ فصیح کلام کرنے پر قادر ہے، جب بھی کسی کی تعریف کرنی ہے وہ کیا کر سکتا ہے؟ فصیح کلام، باقی ہر موقع پر نہیں کر سکتا لیکن مدح کے اندر وہ جب بھی اس سلسلے میں بات کرتا ہے بڑا فصیح کلام کرتا ہے، تو... تو اس کی وجہ سے بھی اس کو فصیح نہیں کہیں گے بلکہ ہر غرض کو جب وہ کس سے ادا کرنے پر قادر ہو؟ فصیح کلام پر... فصیح کلام کے ساتھ، پھر اس کو کیا کہیں گے؟ متکلمِ فصیح کہیں گے۔ اسی لیے کہا: فِي أَيِّ غَرَضٍ كَانَ جس غرض میں بھی ہو، صرف مدح میں نہیں، صرف مذمت میں نہیں بلکہ جس غرض میں بھی ہو یعنی ہر غرض کے اندر وہ کلامِ فصیح کے ساتھ اپنا معنی ادا کر سکے تو اس کو کیا کہیں گے؟ متکلمِ فصیح کہیں گے بھئی۔ اسی لیے کلامِ فصیح کو اس سے پہلے ذکر کیا بھئی، اور کلامِ فصیح کے اندر اس کی تعریف میں آپ نے پڑھا تھا کہ اس میں تین عیب نہ ہوں اور اس کلام کے سارے کلمات کیا ہوں؟ فصیح۔ تو وہاں کلمۂ فصیح کا لفظ آ رہا تھا کلام کی تعریف میں، معلوم ہوا کلامِ فصیح تبھی آپ کو سمجھ میں آئے گا جب آپ کو کس کا پتہ ہو؟ کلمۂ فصیح۔ اسی لیے کلامِ فصیح پر کلمۂ فصیح کا بیان کیا کیا تھا انہوں نے؟ مقدم کیا تھا، جیسا کہ شروع میں ذکر ہوا تھا اعتراض ہوا تھا کہ فصاحتِ کلمہ کو کیوں مقدم کیا ہے؟ تو جواب وہاں پر بھی یہی گزرا تھا کہ فصاحتِ کلام کے اندر فصاحتِ کلمہ ملحوظ ہے۔ اور فصاحتِ متکلم کے اندر فصاحتِ کلام ملحوظ ہے، تو لہٰذا فصاحتِ متکلم پر فصاحتِ کلام کو پہلے کرنا پڑے گا، اور فصاحتِ کلام کے اندر فصاحتِ کلمہ ملحوظ ہے، تو فصاحتِ کلام سے پہلے فصاحتِ کلمہ کو ذکر کرنا پڑے گا، اسی لیے انہوں نے فصاحتِ کلمہ کو مقدم کیا، اور اس کے بعد فصاحتِ کلام کو لائے اور سب سے آخر میں فصاحتِ متکلم کو لے کر آئے بھئی۔ وَالْبَلَاغَةُ فِي اللُّغَةِ... فصاحت کا بیان مکمل ہوا بھئی، آپ نے فصاحتِ کلمہ کو بھی پڑھ لیا، فصاحتِ کلام بھی آپ نے پڑھ لیا اور فصاحت فی المتکلم بھی آپ جان گئے بھئی۔ اب دیکھیے، متکلمِ فصیح کس کو کہیں گے؟ جس میں کلامِ فصیح کرنے کی... دیکھو، تعریف میں کس کی کر رہا ہوں؟ متکلمِ فصیح کی، اور تعریف کے اندر لفظ آ رہا ہے جو کیا کر سکے؟ کلامِ فصیح، دیکھو کلامِ فصیح اس کی تعریف میں آ رہا ہے۔ معلوم ہوا یہ کلامِ فصیح کا آپ کو پہلے سے پتہ ہونا چاہیے، پھر ہی آپ کو متکلمِ فصیح سمجھ میں آئے گا بھئی۔ وَالْبَلَاغَةُ فِي اللُّغَةِ، جی، فصاحت کا بیان مکمل ہوا، اب بلاغت کے بارے میں آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ بلاغت کسے کہتے ہیں۔ سب سے پہلے بلاغت کا لغوی معنی بیان کر رہے ہیں کہ عربی زبان میں بلاغت کا کیا معنی ہے۔ فصاحت کا معنی تو بیان کیا تھا کہ فصاحت کے کئی معانی آتے ہیں، لیکن ہر معنی کے اندر پہلا [unclear] پایا جائے گا۔ ہر معنی کے اندر پہلا [unclear] دلالت ہوگی بھئی۔ اب بلاغت کے بارے میں بتلانے لگے ہیں کہ اس کا کیا معنی ہے۔ کہتے ہیں: وَالْبَلَاغَةُ فِي اللُّغَةِ اور بلاغت جو ہے عربی زبان میں، فِي اللُّغَةِ عربی... جی اللغۃ میں الف لام اس کے لیے اشارہ ہے، ہر زبان کی طرف نہیں بلکہ کس کی طرف اشارہ ہے؟ لغتِ عربی کی طرف اشارہ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْبَلَاغَةُ فِي اللُّغَةِ اور بلاغت جو ہے عربی زبان میں الْوُصُولُ وَالِانْتِهَاءُ۔ الْوُصُولُ بھئی، وصول اور انتہاء، وصول ہے معطوف علیہ اور الْاِنْتِهَاءُ یہ ہے معطوف، اور یاد رکھیے یہ عطفِ تفسیری ہے۔ عطفِ تفسیری میں پہلے بیان کر چکا، جہاں معطوف معنی بیان کرتا ہے کس کا معطوف علیہ کا۔ معطوف علیہ کون؟ وصول، وصول کا کیا معنی؟ انتہاء، پہنچنا، پہنچنا۔ تو وصول اور انتہاء کا ایک معنی ہے بھئی، پہنچنا۔ اور پڑھیں گے اس کو کیسے؟ الْوُصُولُ وَلِانْتِهَاءِ۔ انتہاء کا ہمزہ وصلی ہے وہ گر جائے گا، الف لام الْاِنْتِهَاءِ، الف لام کا ہمزہ بھی وصلی ہے یہ بھی گر جائے گا، تو لام بھی ساکن، نون بھی ساکن، تو لام کو کسرہ دے دیں گے، لِنْتِهَاءِ، اور ماقبل میں واؤ پر فتحہ، وَلِانْتِهَاءِ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ بات پہلے بھی ذکر ہو چکی بھئی، ہاں اور یہ شائع غلطیوں میں سے ہے، اور عموماً ہر ایک اس کو کس طرح پڑھتا ہے؟ وَالْاِنْتِهَاءِ حالانکہ انتہاء کا ہمزہ وصلی ہے اور اس کو درجِ عبارت میں پڑھنا صحیح نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں بلاغت جو ہے عربی زبان میں الْوُصُولُ وَلِانْتِهَاءُ وہ پہنچنا ہے، یعنی اس کا معنی کیا ہے؟ پہنچنا۔ يُقَالُ عربی زبان میں کہتے ہیں: بَلَغَ فُلَانٌ مُرَادَهُ عربی زبان میں یوں کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ بَلَغَ فُلَانٌ مُرَادَهُ، کب؟ إِذَا وَصَلَ إِلَيْهِ جب وہ اس مراد تک پہنچ جائے۔ جب کوئی شخص اپنی مراد کو پہنچ جائے تو عربی میں کہتے ہیں: بَلَغَ فُلَانٌ مُرَادَهُ، پہنچ گیا فلاں اپنی مراد کو، تو دیکھا بَلَغَ پہنچنے کے معنی میں آیا بھئی۔ وَبَلَغَ الرَّكْبُ الْمَدِينَةَ اور عربی میں کہتے ہیں: وَبَلَغَ الرَّكْبُ الْمَدِينَةَ، رَكْبُ کہتے ہیں سواروں کی جماعت بھئی، 10 یا 10 سے زیادہ سواروں کی جو جماعت ہو اس کو رَكْبُ کہتے ہیں۔ رَاكِبٌ کا کیا معنی؟ سوار، سوار، تو یہ رَكْبُ جو ہے یہ اسمِ جمع ہے بھئی، اسمِ جمع۔ اسمِ جمع اسے کہتے ہیں جو جمع کا صیغہ تو نہ ہو لیکن معنی جمع والا ادا کرے۔ تو رَكْبُ یہ رَاكِبٌ کی جمع نہیں ہے، یہ اسمِ جمع ہے، کیا ہے؟ اسمِ جمع ہے، یہ خود جمع نہیں لیکن معنی جمع والا ادا کر رہا ہے۔ کیا معنی ہے؟ 10 یا 10 سے زیادہ سوار جو ہیں تو دیکھیے، 3 سے زیادہ ہوئے تو جمع بن گئی بھئی، تو یہ 10 پر دلالت کرتا ہے، 10 یا 10 سے زیادہ پر۔ تو معنی تو اس کا جمع والا ہے۔ معنی تو جمع، لیکن صیغہ جمع کا نہیں ہے بھئی۔ الرَّكْبُ بھئی، تو یہ 10 یا 10 سے زیادہ سواروں کی جو جماعت ہو اس کو رَكْبٌ کہتے ہیں، یعنی قافلہ کہیں، کیا معنی؟ قافلہ۔ اب عربی میں کہتے ہیں: بَلَغَ الرَّكْبُ الْمَدِينَةَ، کب کہتے ہیں؟ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهَا، انتہاء کا کیا معنی؟ پہنچنا، جب پہنچ جائے وہ قافلہ إِلَيْهَا، ھا ضمیر راجع ہے مدینہ، وہ شہر کو، جب قافلہ شہر پہنچ جائے تو کہتے ہیں: بَلَغَ الرَّكْبُ الْمَدِينَةَ، قافلہ شہر پہنچ گیا۔ تو دیکھیے بَلَغَ معلوم ہوا کس معنی میں استعمال کرتے ہیں؟ پہنچنے کے معنی میں بھئی۔ وَتَقَعُ فِي الِاصْطِلَاحِ، دیکھیے یہاں کیسے پڑھیں گے؟ وَتَقَعُ فِي الِاصْطِلَاحِ، فی فی... ہاں، لِلِاصْطِلَاحِ، اور عموماً اس کو پڑھا کیسے جاتا ہے؟ فِي الْاِصْطِلَاحِ فِي الْاِصْطِلَاحِ حالانکہ یہ درست نہیں بھئی۔ اصطلاح کا ہمزہ بھی وصلی، الْاِصْطِلَاحِ الف لام کا ہمزہ بھی وصلی، تو لام بھی ساکن، صاد بھی ساکن، لام کو کسرہ دے دیا لِلِاصْطِلَاحِ لِلِاصْطِلَاحِ، اور فا کو ماقبل والے کی وہ صورت بنا لیتے ہیں جو ملنے کی صورت میں تھی۔ ملاتے ہوئے کیا تھا؟ فِل فِل، معلوم ہوا یا گر گئی تھی، تو یا گر گئی تھی صرف فا کے نیچے کسرہ تھا، تو اب بھی اسی طرح صرف فا کے نیچے کسرہ پڑھ دیں گے، یا کو نہیں پڑھیں گے، اور فِلِاصْطِلَاحِ، لیکن سننے والے کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ وہ سمجھے گا شاید فِي الْاِصْطِلَاحِ پڑھا ہے حالانکہ فِي الْاِصْطِلَاحِ پڑھنا غلط بھئی، آپ نے کیا پڑھا؟ فِلِاصْطِلَاحِ۔ وَتَقَعُ فِي الِاصْطِلَاحِ وَصْفًا لِلْكَلَامِ وَالْمُتَكَلِّمِ، اور اصطلاح میں یہ واقع ہوتا ہے وصف کلام اور متکلم کا۔ یعنی بلاغت اصطلاح کے اندر کلام اور متکلم کی صفت بنتی ہے۔ بھئی فصاحت میں تو آپ نے پڑھا تھا کہ فصاحت کلمے کی بھی صفت بنتی ہے، کلام کی بھی اور متکلم کی بھی، لیکن بلاغت یاد رکھیے وہ صرف کلام اور متکلم کی صفت بنتی ہے۔ کوئی کلام ہو تو اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ کلام بلیغ ہے، یہ قصیدہ بڑا بلیغ ہے۔ اور متکلم کے بارے میں بھی کہتے ہیں یہ متکلم بڑا بلیغ ہے، یہ شاعر بڑا بلیغ ہے، یہ مقرر بڑا بلیغ ہے۔ لیکن کلمے کے بارے میں کبھی نہیں کہتے کہ یہ کلمہ بلیغ ہے بھئی، یہ کلمہ کیا ہے؟ بلیغ ہے، یہ نہیں کہتے، اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ کلمے کی صفت کیوں نہیں بنتا؟ وجہ یہ کہ ہم نے عربوں سے کبھی نہیں سنا۔ فصاحت تو وہ عرب کلمہ کی صفت بناتے ہیں، عرب کہتے ہیں یہ کلمہ فصیح ہے، یہ کلام فصیح ہے، یہ متکلم فصیح ہے، لیکن بلاغت کے سلسلے میں وہ کلام کی صفت تو بناتے ہیں بلاغت کو، متکلم کی صفت تو بناتے ہیں، لیکن کبھی ہم نے عربوں سے نہیں سنا کہ انہوں نے کسی کلمے کو کیا کہا ہو؟ بلیغ کہا ہو بھئی، کسی لفظ کو بلیغ کہا ہو۔ بلکہ وہ ہمیشہ کس کو بلیغ کا لفظ کس کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ کلام کے لیے یا متکلم، شاعر ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں شَاعِرٌ بَلِيغٌ، تو دیکھو شاعر متکلم ہے بات کرنے والا ہے۔ کلام ہو تو کہتے ہیں كَلَامٌ بَلِيغٌ، کوئی قصیدہ ہوتا ہے کہتے ہیں یہ قصیدہ بڑا بلیغ ہے، تو قصیدہ بھی وہ کلمہ ہوتا ہے یا کلام ہوتا ہے؟ کلام ہوتا ہے بھئی۔ تو اس کو کلام اور متکلم کی صفت بناتے ہیں اور کلمہ کی صفت نہیں بناتے بھئی، کلمہ کی صفت۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دلیل کیا ہوئی؟ عربوں سے ہم نے اسی طرح سنا ہے، عربوں سے اسی طرح۔ اور اس کی وجہ وہ آگے آپ کو سمجھ میں آ جائے گی کہ بلاغتِ کلام کے اندر مقتضائے حال کے ساتھ مطابقت ملحوظ ہوتی ہے، اور مقتضائے حال کے ساتھ مطابقت یہ کلام کے اندر تو ہو سکتی ہے، کلمہ کے اندر نہیں ہو سکتی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔