سبق نمبر۔۵ مقدمة في الفصاحة والبلاغة. الفصاحة في اللغة تنبئ عن البيان والظهور، يقال: أفصح الصبي في منطقه إذا بان وظهر كلامه. گزشتہ سبق میں میں نے اپ کو بتلایا کہ مصنفین نے اپنی اس کتاب کو مرتب کیا ایک مقدمے اور تین فنون پر۔ تین فنون پر اور وجہِ حصر بیان کی تھی بھئی، اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے بتلایا تھا اس لیے کیونکہ اس کتاب میں جو کچھ مذکور ہے یا تو وہ مقاصد کے قبیل سے ہوگا یا مقاصد کے قبیل سے نہیں ہوگا۔ اگر وہ مقاصد کے قبیل سے نہیں ہے تو وہ مقدمہ ہے اور اگر وہ مقاصد کے قبیل سے ہے تو پھر اس کے اندر غرض اور مقصد جو ہوگا وہ معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا ہوگا یا تعقیدِ معنوی سے بچنا ہوگا یا اس کے علاوہ غرض ہوگی کوئی۔ اگر معنیِ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا مقصد ہو تو یہ فنِ اول یعنی علم المعانی ہے، اگر تعقیدِ معنوی سے بچنا مقصد ہو تو یہ فنِ ثانی ہے اور اگر اس کے علاوہ مقصد ہے تو وہ فنِ ثالث ہے۔ تو یاد رکھیے، فنِ ثالث کے اندر وہ چیزیں ذکر ہوں گی جن سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ مختلف قسم کی صنعتیں ذکر ہوں گی جس سے کلام میں کیا پیدا ہوتا ہے؟ حسن پیدا ہوتا ہے۔ مقدمہ کا لفظ آیا بھئی، یاد رکھیے یہ مقدمہ کا لفظ، یہ ماخوذ ہے "مقدمۃ الجیش" سے۔ مقدمۃ الجیش لشکر کے اگلے حصے کو کہتے ہیں، جیش کہتے ہیں لشکر کو، تو مقدمۃ الجیش لشکر کا جو اگلا حصہ ہے۔ قدیم زمانے میں یاد رکھیے، عموماً لشکر کے پانچ حصے ہوا کرتے تھے، پانچ حصے—جو حصہ دائیں طرف ہوتا اس کو میمنہ کہتے تھے، جو بائیں طرف ہوتا اس کو میسرہ کہتے تھے، جو حصہ پیچھے ہوتا تھا اس کو ساقہ کہتے تھے (قاف دو نقطوں والا) ساقہ، اور جو حصہ آگے ہوتا اس کو مقدمہ کہتے تھے اور جو حصہ بیچ میں ہوتا اسے قلب کہا جاتا تھا قلب بھئی، تو کتنے حصے ہوتے تھے لشکر کے؟ پانچ—میمنہ، میسرہ، ساقہ، مقدمہ اور قلب، تو یہ پانچ۔ تو یہ مقدمہ کا لفظ اس "مقدمۃ الجیش" سے ماخوذ ہے۔ جیسے وہ لشکر کے آگے ہوتا تھا، اسی طرح یہ حصہ بھی باقی کتاب سے مقدم ہوتا ہے، پہلے ہوتا ہے۔ تو یہ مقدمہ بمعنی "متقدمہ" کے ہوا، یہ مقدمہ کس معنی میں؟ متقدمہ، اس لیے کیونکہ قدم یقدم تقديم کے معنی ہوتے ہیں آگے کرنا، تو "مقدمۃ" اسمِ فاعل آیا، کیا معنی ہوا؟ آگے کرنے والا، تو یہ مقدمہ مقاصد کو آگے کرتا ہے اپنے سے یا خود ان پر پہلے آگے آ جاتا ہے؟ خود پہلے آتا ہے، تو معلوم ہوا یہ آگے کرنے والا نہیں ہے بلکہ "متقدمۃ" آگے ہونے والا ہے، یہ خود کیا ہے ان سے آگے ہو گیا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی مان؟ تو معلوم ہوا یہ مقدمۃ کس معنی میں ہے؟ متقدمۃ، متقدمۃ کا معنی ہے آگے ہونے والا، تو یہ بھی کیا ہے خود آگے ہے بھئی، اور کلامِ عرب میں اس طرح ہوتا رہتا ہے، ایک لفظ ایک باب کا اور دوسرے باب کے معنی میں وہ استعمال ہو جاتا ہے بھئی، تو یہ مقدمۃ کس معنی میں ہوا؟ متقدمۃ کے معنی میں ہوا۔ یا یہ مقدمۃ اپنے ہی معنی میں ہے، آگے کرنے والا، تو بھئی اس پر اشکال آتا ہے یہ تو آگے ہونے والا ہے، آگے کرنے والا نہیں، جواب: کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو مقاصد کے سمجھنے میں آگے کرنے والا ہے اور جو اس کو پڑھ لے گا وہ جلدی بات کو سمجھ جائے گا بھئی، تو اب مقدمۃ کس معنی میں ہوا؟ مقدمہ ہی کے معنی میں، آگے کرنے والا، کس کو آگے کرتا ہے؟ اپنے پڑھنے والے کو مقاصد کے سمجھنے میں آگے کر دیتا ہے، وہ جلدی بات سمجھ لیتا ہے۔ تقریر سمجھ میں آئی یہاں تک بھئی؟ یا تو مقدمۃ کس معنی میں ہے؟ متقدمۃ، خود آگے ہے، اس لیے متقدمۃ کے معنی میں، یا اگر اس کو اپنے ہی معنی میں رکھیں، آگے کرنے والا، تو کس کو آگے کرنے والا ہے؟ مقاصد کو تو آگے نہیں کرنے والا، پھر کس کو آگے کرنے والا ہے؟ اپنے پڑھنے والے کو آگے کرنے والا ہے، اس کو جلدی آگے مقاصد سمجھ میں آ جائیں گے بھئی۔ تو یہ مقدمہ ہے: فی الفصاحۃ والبلاغۃ، اور اس میں کیا بیان کریں گے؟ فصاحت اور بلاغت کا معنی بیان کریں گے بھئی، فصاحت اور بلاغت کا۔ تو کہتے ہیں: الفصاحۃ في اللغة تنبئ عن البيان والظهور. أنبأ ينبئ إنباء کے معنی ہوتے ہیں خبر دینے کے، بتلانے کے۔ الفصاحۃ في اللغة—اللغۃ، لغت کسے کہتے ہیں؟ زبان کو، زبان۔ اللغۃ—الف لام آیا بھئی، معلوم ہوا کوئی خاص زبان مراد ہے، کون سی زبان مراد ہے؟ کس زبان میں فصاحت کے قواعد ہم پڑھ رہے ہیں؟ عربی زبان کے فصاحت کے قواعد یہاں ذکر ہوں گے بھئی، اگرچہ اور زبانوں میں بھی یہ قوانین جاری ہوتے ہیں لیکن یہاں پر ہم عربی زبان کے اعتبار سے بالخصوص پڑھ رہے ہیں تاکہ قرآن کی فصاحت و بلاغت کو جان سکیں بھئی، تو اللغۃ سے کیا مراد ہے؟ عربی، عربی زبان بھئی۔ تو کہتے ہیں: الفصاحۃ في اللغة، فصاحت کا لفظ عربی زبان میں تنبئ، وہ خبر دیتا ہے، وہ بتلاتا ہے عن البيان والظهور، کس کی خبر دیتا ہے؟ بیان اور ظهور کی۔ بیان اور ظهور کا ایک معنی ہے، یہ عطفِ تفسیری ہے بھئی۔ یہ جو ظهور کا عطف ہوا بیان پر، یہ عطف کون سا ہے؟ عطفِ تفسیری جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ جس میں معطوف وہ معنی بیان کر دیتا ہے معطوف علیہ کا۔ بیان کا کیا معنی؟ کس نے بیان کر دیا؟ ظهور نے، بیان کا کیا معنی ہے؟ ظهور اس کا معنی ہے بھئی، تو دونوں کا ایک معنی ہے بھئی۔ بیان معطوف علیہ ہے اور ظهور اس پر عطف ہے، وہ معطوف ہے، اور یہ عطفِ تفسیری ہے، دونوں کا ایک معنی ہے۔ بیان اور ظهور کا کیا ہے؟ ایک ہی معنی ہے، تو یہ کون سا عطف ہوا؟ عطفِ تفسیری، عطفِ تفسیری کسے کہتے ہیں؟ ماقبل والا کون؟ معطوف علیہ، مابعد والا؟ معطوف، تو جہاں معطوف کے ذریعے معطوف علیہ کا معنی بیان کر دیا جائے، ذکر کر دیا جائے، اس کو عطفِ تفسیری کہتے ہیں۔ بیان کا کیا معنی؟ آگے بتلا دیا "الظہور" بھئی، ظاہر ہونا، بیان کا کیا معنی؟ ظاہر ہونا، تو یہ ظهور دراصل اسی بیان کے معنی کو ظاہر کر رہا ہے بھئی، اسی کے معنی کو بیان کر رہا ہے، اس کا معنی بتلا رہا ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ عطفِ تفسیری کس کو کہتے ہیں؟ معطوف کس کا معنی بیان کرے؟ معطوف علیہ یعنی جو ماقبل میں آیا اس کا معنی بیان کرے، یہاں لفظ آیا "بیان"، اس کا کیا معنی ہے؟ آگے عطفِ تفسیری کے لیے کیا اس کا معنی بیان کر دیا، بتلا دیا، کیا معنی ہے بیان کا؟ ظهور، کیا معنی ظهور؟ ظاہر ہونا۔ تو الفصاحۃ في اللغة عربی زبان کے اندر وہ وہ ظهور کی خبر دیتی ہے۔ بھئی یاد رکھیے، فصاحت کا فصاحت کے عربی زبان میں کئی معانی آتے ہیں۔ فصاحت کا معنی ظهور نہیں ہے۔ ظاہر ہونا، ظهور کا معنی ظاہر ہونا، تو فصاحت کا معنی ظاہر ہونا نہیں ہے، فصاحت کے کئی معانی آتے ہیں عربی زبان میں، لیکن ان سب معانی کے اندر ظهور ملحوظ ہے، ظاہر ہونا ملحوظ ہے، مثلاً دیکھیے: دودھ کے اوپر سے جھاگ اور ملائی ختم ہو جائے تو کہتے ہیں "فصح اللبن"، "فصح اللبن"، اور یہاں بھی ظاہر ہونے کا معنی ہے، ملائی اور جھاگ ختم ہوگی تو دودھ کیا ہو جائے گا؟ ظاہر ہو جائے گا۔ اسی طرح کوئی آدمی صاف گفتگو کرنے لگے، واضح اور واضح گفتگو کرنے لگے، مثلاً کوئی غیرِ عرب ہے، عربی زبان میں واضح بات کرنے لگے تو کیا کہتے ہیں؟ "فصح الرجل"، وہ آدمی صاف بات چیت کرنے لگا، یا بچہ جب ذرا بڑا ہوا، اب زبان بات چیت، الفاظ سارے سیکھ لیے، اب واضح بات کرنے لگا تو کیا کہتے ہیں؟ "فصح الصبي"، کیا معنی؟ بچہ صاف بولنے لگا ہے، صاف باتیں کرنے لگا ہے۔ اب یہاں "فصح" کا لفظ آیا، لیکن یہاں بھی ظاہر ہونے کا معنی ملحوظ ہے کہ اس کی باتیں کیا ہو گئی ہیں؟ خوب اب ظاہر ہو گئی ہیں، واضح ہو گئی ہیں، سمجھ میں آ جائے، ہر بات اس کی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ یا اسی طرح صبح ہو، روشنی ہو جائے تو عربی میں کہتے ہیں "أفصح الصبح"، صبح ہو گئی، اور اس کے اندر بھی کون سا معنی ملحوظ ہے؟ ظاہر، کیونکہ جب صبح ہوگی تو ہر چیز کیا ہو جائے گی؟ یا صبح ظاہر ہو گئی یوں کہیں، صبح ظاہر ہو گئی، یا ہر چیز کیا ہو جاتی ہے؟ روشنی ہوتی ہے تو ہر چیز ظاہر ہو جاتی ہے۔ تو فصاحت کا اپنا معنی ظاہر ہونا نہیں، اس کے کئی معانی آتے ہیں لیکن ہر معنی کے اندر کیا ملحوظ ہے؟ ظاہر ہونا ملحوظ ہے، اسی لیے کہا، یہ نہیں کہا کہ فصاحت کا معنی بیان اور ظهور ہے بلکہ کیا کہا؟ الفصاحۃ في اللغة تنبئ عن البيان والظهور، کہ فصاحت عربی زبان میں وہ خبر دیتی ہے کس چیز کا؟ ظهور اور بیان کا کی خبر دیتی ہے، یعنی اس کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ظهور یا بیان ہوا ہے کسی قسم کا۔ يقال أفصح الصبي في منطقه، کہا جاتا ہے: "أفصح الصبي في منطقه" کہ فصیح ہو گیا بچہ "في منطقه" اپنی بول چال میں، اپنی بات چیت میں، بچہ اپنی بات چیت میں، اپنی بول چال میں فصیح ہو گیا، یہ کب کہتے ہیں؟ إذا بان وظهر كلامه، یہ پھر عطفِ تفسیری آیا، "بان" کا معنی کس کے ذریعے کر دیا گیا؟ "ظهر" کے ذریعے، بان کے معنی ظاہر ہونے کے، "إذا بان وظهر كلامه" جس وقت اس کا کلام ظاہر ہو جائے بھئی، ظاہر ہو جائے۔ وتقع في الاصطلاح وصفاً للكلمة والكلام والمتكلم. وتقع في الاصطلاح، یہ عبارت کیسے پڑھیں گے بھئی؟ پڑھیے بھئی! "وتقع في الاصطلاح"، نہیں بھئی، "وتقع في الاصطلاح"، یہ عام شائع غلطی ہے بھئی، اصطلاح کون سا باب ہے؟ بابِ افتعال، اور بابِ افتعال کا ہمزہ وصلی ہے یا اصلی ہے؟ وصلی ہے، اور ہمزہ وصل کے بارے میں آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں کہ درجِ عبارت میں ہمزہ وصل گر جاتا ہے، درجِ عبارت میں ہمزہ وصل—تو یہ ہمارے ہاں شائع غلطیوں میں سے ہے، شائع غلطی آپ کسی سے بھی یہ پڑھوائیں گے، یہ عبارت اسی طرح پڑھے گا "وتقع في الاصطلاح"، وہ ہمزہ وصلی پڑھے گا، حالانکہ صاحبِ قافیہ، جنہوں نے قافیہ جیسی عظیم کتاب نحو کے اندر لکھی، اسی طرح صرف کے اندر انہوں نے ایک عظیم کتاب شافیہ لکھی بھئی، اس کے اندر وہ فرماتے ہیں: "وإثباتها وصلاً لحنٌ"، ہمزہ وصل کو ثابت رکھنا وصلاً، وصل کی حالت میں "لحنٌ"، یہ کیا ہے؟ غلطی ہے، تو یہ سب علماء کے نزدیک اسی طرح ہے، ہمزہ وصل کو اگر درجِ عبارت میں برقرار رکھا جائے گا تو یہ غلطی ہے اور باقاعدہ میں نے حوالہ بھی دے دیا شافیہ کا بھئی۔ لیکن آپ جہاں بھی سنیں گے، عموماً اسی طرح سنیں گے "في الاصطلاح"، ہمزہ وصل کو برقرار رکھتے ہیں، حالانکہ اس کو گرنا چاہیے۔ تو پھر کیسے پڑھیں گے؟ الف لام آ گیا شروع میں، الف لام کے ہمزہ بھی وصلی، وہ بھی گر گیا۔ لام ساکن، صاد بھی ساکن، تو لام کو—الساکن إذا حرک حرک بالکسر—تو لِاصطلاح، کیا پڑھیں؟ لام کو کسرہ دے کر صاد سے ملائیں گے: لِاصطلاح۔ اچھا، اب پیچھے "في" کو کیسے پڑھیں گے؟ "وتقع في لِاصطلاح"، نہیں، یوں نہیں۔ یہ تو میں نے آپ کو ضابطہ بتا دیا، ہر جگہ آسانی سے آپ لگاتے جائیں گے، ہمزہ وصل کو گرا دینا اور لام کو کسرہ دے دینا، لیکن اب پچھلے حرف لفظ کو ملانا کیسے ہے وہ ذرا مشکل ہے، لیکن ایک دفعہ سمجھ جائیں گے انشاء اللہ پھر غلطی نہیں ہوگی بھئی۔ بھئی، "في" کو جب کسی لفظ سے ہم ملاتے ہیں تو کیسے پڑھتے ہیں؟ فی، الدار—اس کو ذرا ملا کر پڑھو: فِدّار، فِدّار، معلوم ہوا یا گر گئی۔ یا گری یا نہیں بھئی؟ یا گر گئی۔ اچھا، دوسرا لفظ لے آؤ اسلام، الاسلام—اس کے ساتھ "في" کو ملاؤ: فِلِاسلام، اسلام کا ہمزہ تو اصلی ہے وہ نہیں گرے گا بھئی، بابِ افعال ہے۔ فِلِاسلام، اسی طرح پڑھیں گے نا؟ کہ یا کو برقرار رکھیں گے؟ یا کو برقرار رکھیں گے تو یوں پڑھیں گے: فیلِاسلام، کوئی "فیلِاسلام" پڑھتا ہے یا "فِلِاسلام" پڑھتا ہے؟ تو دیکھو، جب بھی "في" کو اگلے ساکن سے ملاتے ہیں تو یا گر جاتی ہے۔ یا گر جاتی ہے، یہاں بھی اسی طرح کرنا ہے، یا کو گرا دیں، بھئی یا کو کیوں گرائیں؟ آگے تو لام کے نیچے کسرہ آ رہا ہے، یا کو تو وہاں گراتے ہیں جہاں اگلا ساکن ہو—فِلِاسلام، یہ یا کو کیوں گرایا؟ کیونکہ آگے لام بھی ساکن تھا، دو ساکن تو نہیں آ سکتے تھے یہاں پر، لہٰذا یا کو گرا دیا، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر بھی، یہاں پر یا کو کیوں گرائیں گے؟ وجہ یہ کہ لام، فِلِاصطلاح، لام کے نیچے اگرچہ ہم نے کسرہ دے دیا، لیکن یہ کسرہ اس کی مستقل حرکت ہے یا عارضی حرکت تھی؟ عارضی حرکت، اور عارضی حرکت کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا ابھی بھی یوں سمجھیں گے لام ساکن ہے، اور اب لام ساکن ہو تو یا کو کیا کرتے ہیں؟ گرا دیتے ہیں، گویا صرف فا کے نیچے کسرہ پڑھیں گے، یہ کسرہ ہی بتلا رہا ہے یہاں پر یا موجود تھی۔ تو اب کیسے پڑھیں گے؟ لام کے نیچے تو کسرہ پڑھنا ہی ہے، وہ تو میں نے بتا دیا، "لِاصطلاح" میں کوئی تبدیلی نہیں کرنی، ماقبل کی اب بات سمجھا رہا تھا، "في" نہیں پڑھنا بلکہ کیا پڑھنا ہے؟ فِ، فِ—صرف فا کے نیچے کسرہ پڑھیں: فِلِاصطلاح، فِلِاصطلاح۔ کیسے پڑھیں گے؟ فِلِاصطلاح، فِلِاصطلاح، تو دیکھیے! تیزی سے آپ پڑھیں گے کسی کو بھی پتہ نہیں چلے گا کہ آپ نے "فِل الاصطلاح" پڑھا یا "فِلِاصطلاح" پڑھا بھئی، طریقہ سمجھ میں آیا؟ اگر یہاں "من" ہوتا پھر کیسے پڑھتے؟ وہی الاسلام کے ساتھ ذرا جوڑ کے بتاؤ: مِنَ الاسلامِ، معلوم ہوا نون پر کیا پڑھتے ہو؟ فتحہ، تو وہی یہاں صورت بتا دو، بنا دو بھئی: مِنَ—پھر وہی، بھئی "لِاصطلاح" تو بن چکا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی، اس سے ماقبل کی حرکت اب ہم بنا کر رہے ہیں کہ کس طرح اس کو پڑھنا ہے بھئی۔ مینل! پھر لام کو ساکن دوبارہ کر دیا۔ مینَ الاصطلاح، مینَ الاصطلاح، مینَ الاصطلاح۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو کسی حرف ماقبل والے کو کیسے پڑھنا ہے وہ ذرا مشکل ہے۔ اس کو کسی اور ساکن کے ساتھ جوڑ کر دیکھو کس طرح وہ جڑتا ہے۔ فی کو ہم نے لام ساکن سے جوڑا 'فل' بنا تھا۔ معلوم ہوا یا گر ہی جاتی تھی۔ فا کے نیچے صرف کسرہ رہ جاتا تھا۔ یہاں بھی ہم نے اسی طرح پڑھا۔ 'فل اصطلاح' اور من، من کو ساکن سے ذرا ملاؤ کیا بنا؟ 'مینل'۔ اچھا 'علیٰ' آ جائے پھر کیسے پڑھو گے؟ اسلام کے ساتھ، 'الاسلام' کے ساتھ ملاؤ 'علیٰ' کو۔ 'علل'۔ 'علل' معلوم ہوا وہ الف 'علیٰ' الف گر چکا ہے۔ گرایا نہیں، صرف لام پر فتحہ رہ گیا ہے۔ وہی فتحہ یہاں پڑھو، کیسے پڑھیں گے؟ 'عللاصطلاح'، 'عللاصطلاح'۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ نئی بات تھی، اس لیے میں نے تفصیل سے آپ کو سمجھائی اور ہر جگہ اسی طرح پڑھو بھئی۔ لام کے نیچے تو کسرہ ہی ہے لیکن ماقبل کے اعتبار سے گویا لام ابھی بھی ساکن ہے۔ گویا حقیقت آپ تو حرکت دیکھ چکے ہیں لیکن گویا ابھی بھی ماقبل کے لیے وہ کیا ہے؟ اور ساکن کے اعتبار سے پچھلے حرف کو بنا لو۔ کیسے پڑھا جائے گا؟ پھر اس کو لام کے نیچے کسرہ ہی پڑھو اور ماقبل کو اس کے مطابق بنا کر پڑھ لیجیے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ وَتَقَعُ فِي الِاصْطِلَاحِ وَصْفًا لِلْكَلِمَةِ وَالْكَلَامِ وَالْمُتَكَلِّمِ اور یہ فصاحت واقع ہوتی ہے اصطلاح میں وصفاً، کیا واقع ہوتی ہے؟ وصف واقع یعنی صفت واقع ہوتی ہے للكلمةِ، کس کی؟ کلمہ کی، والکلامِ اور کلام کی، والمتکلمِ اور متکلم کی؟ یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ یہ فصاحت جو ہے یہ کلمہ کی بھی صفت بنتی ہے، کلام کی بھی صفت بنتی ہے اور متکلم کی بھی صفت بنتی ہے۔ کلمہ کی صفت بھی فصاحت بنتی ہے بھئی۔ عربی زبان میں کہتے ہیں هَذِهِ كَلِمَةٌ فَصِيحَةٌ۔ فصیحۃ کس کی صفت آئی؟ کلمۃ کی۔ اسی طرح کوئی کلام فصیح ہو تو عرب کہتے ہیں هَذَا كَلَامٌ فَصِيحٌ۔ یہ کلام کیا ہے؟ فصیح ہے۔ تو کس کی صفت آئی فصیح؟ کلام کی۔ یا کوئی قصیدہ ہو، نظم ہو تو کہتے ہیں هَذِهِ قَصِيدَةٌ فَصِيحَةٌ۔ تو یہ فصیحۃ کس کی صفت آئی؟ قصیدہ، اور قصیدہ کیا ہے؟ کلام ہے بھئی کلام۔ تو یہ فصاحت کلمہ کی بھی صفت بنتی ہے اور کلام کی بھی اور متکلم... کوئی متکلم فصیح بات کرنے والا ہو تو کہتے ہیں هَذَا مُتَكَلِّمٌ فَصِيحٌ۔ تو یہ فصیح کس کی صفت بنتی ہے؟ متکلم کی۔ کلمے کی صفت بنتی ہے، کیا معنیٰ؟ کسی کلمے کے بارے میں عرب کہتے ہیں هَذِهِ الْكَلِمَةُ فَصِيحَةٌ یا هَذَا اللَّفْظُ فَصِيحٌ۔ دیکھو یہ کلمہ پر اس فصاحت کا اطلاق کر... اور کلام کے بارے میں بھی کہتے ہیں هَذَا الْكَلَامُ فَصِيحٌ یا هَذِهِ الْقَصِيدَةُ فَصِيحَةٌ۔ اور متکلم کے بارے میں بھی کہتے ہیں هَذَا الْمُتَكَلِّمُ فَصِيحٌ یا هَذَا الرَّجُلُ فَصِيحٌ۔ اور رجل کون ہوتا ہے وہ کلام ہے یا کلمہ ہے؟ وہ تو متکلم ہوا کرتا ہے، معلوم ہوا فصاحت متکلم کی بھی صفت بنتی ہے، کلام کی بھی اور کلمے کی بھی۔ تو یہ فصاحت معلوم ہوا کلمہ کی بھی صفت بنتی ہے، کلام کی بھی صفت بنتی ہے اور متکلم کی۔ یہ دراصل تقسیم کر رہے ہیں بھئی فصاحت کی کہ یہ تین قسم پر ہے۔ کلمہ بھی فصیح ہو سکتا ہے، کلام بھی فصیح ہو سکتا ہے، متکلم بھی فصیح ہو سکتا ہے۔ تو یہ تقسیم کر رہے ہیں بھئی، تقسیم۔ کس کی تقسیم کر رہے ہیں؟ فصاحت کی۔ اشکال ہوتا ہے کہ اے صاحبِ کتاب! پہلے چیز کی تعریف کی جاتی ہے پھر اس کی تقسیم کی جاتی ہے۔ پہلے تعریف کریں اس کی پہچان تو کروائیں یہ چیز کیا ہے، پھر آگے اس کے افراد بھی ہمیں بتلا دینا۔ جیسے صاحبِ کافیہ کیا فرماتے ہیں کافیہ کے شروع میں؟ 'الکلمۃ لفظ وضع لمعنی مفرد'۔ پہلے کلمہ کی تعریف کی اور پھر آگے بتلایا 'وھی اسم و فعل و حرف' اور یہ کیا ہے؟ اسم ہے، فعل ہے اور حرف ہے۔ پہلے کلمہ کی پہچان کروا دی پھر اس کی تقسیم کی، اس کے افراد بتلائے کہ یہ تین قسم پر ہو سکتی ہے، اسم بھی کلمہ ہو سکتا ہے، فعل بھی اور... تو آپ کو بھی پہلے فصاحت کی تعریف کرنی چاہیے تھی۔ آپ نے تو ہمیں صرف اتنا بتایا فصاحت کس کی خبر دیتی ہے؟ ظہور کا۔ یہ فصاحت کی تعریف تو نہیں، یہ تو صرف... تو آپ نے فصاحت کی تعریف نہیں کی اور اس کی تقسیم شروع کر دی۔ تو جواب یہ کہ یہاں کوئی مشترکہ تعریف ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ جس میں یہ فصاحتِ کلام، فصاحتِ کلمہ اور فصاحتِ متکلم تینوں اس کے اندر داخل ہو جاتے، کوئی ایسی تعریف ممکن ہی نہیں تھی بھئی۔ وہاں تو ممکن تھی کافیہ کے اندر، کیا تعریف کی کلمہ کی؟ 'لفظ وضع لمعنی مفرد'۔ اسم بھی اس میں آ گیا، اسم بھی 'لفظ وضع لمعنی مفرد' ہے۔ فعل بھی اس کے اندر آ گیا 'لفظ وضع لمعنی مفرد'، حرف بھی اس کے اندر آ گیا، تو وہ ایک ایسی تعریف تھی وہ تینوں اس کے اندر داخل ہو جاتے تھے لیکن یہاں کوئی ایسی تعریف ہو ہی نہیں سکتی، کوئی ایک مشترکہ مفہوم ہے ہی نہیں، تینوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ کلمہ کے اندر فصاحت وہ اور چیز ہے، کلام کے اندر فصاحت اور چیز ہے، متکلم کے اندر فصاحت اور چیز ہے، یہ بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، کوئی ایک تعریف ان کی نہیں ہو سکتی تھی، اس لیے پہلے تقسیم کر دی اور پھر ہر ایک کی الگ الگ کیا کریں گے؟ تعریف کریں گے بھئی۔ یہ اسی طرح ہے، آپ نے ہمیں مثال دی صاحبِ کافیہ کی کہ انہوں نے شروع میں تعریف کی ہے پھر کیا کی ہے؟ تقسیم۔ آگے چلیں ذرا کافیہ کے اندر، مستثنٰی کی بحث آتی ہے تو پہلے وہ تقسیم کرتے ہیں پھر اس کے بعد کیا کرتے ہیں؟ تعریف کرتے ہیں کہ مستثنٰی دو قسم پر ہے: ایک متصل اور ایک منقطع، متصل اس کو کہتے ہیں، منقطع اس کو کہتے ہیں۔ تو وہاں جیسے وہاں ایک مشترک مفہوم نہیں ہو سکتا تھا تو مجبوراً پہلے تقسیم کی پھر اس کے بعد ہر ایک کی الگ تعریف، تو یہاں پر بھی پہلے تقسیم کر دی اب ہر ایک کی کیا کریں گے؟ الگ الگ تعریف کریں گے۔ اچھا بھئی! یہ پیچھے آیا بھئی 'وَتَقَعُ فِي الِاصْطِلَاحِ' کہ اصطلاح کے اندر فصاحت کلمے، کلام اور متکلم کی صفت بنتی ہے۔ کیا کہا؟ ہاں، اصطلاح کے اندر بنتی ہے۔ بھئی اصطلاح درست نہیں ہے بھئی، یہاں 'فی الاصطلاح' کا لفظ یا تو ہونا ہی نہیں چاہیے، یا 'فی الاصل' ہونا چاہیے یہاں۔ 'وَتَقَعُ فِي الْأَصْلِ'۔ عربی زبان کے اندر بھئی، عرب جو ہیں یہ جو میں نے بتلایا کہ کہتے ہیں هَذِهِ كَلِمَةٌ فَصِيحَةٌ، هَذَا كَلَامٌ فَصِيحٌ اور هَذَا مُتَكَلِّمٌ... یہ کلامِ عرب میں اس طرح ہے بھئی، کس کے اندر؟ یہ کسی کی الگ خاص اصطلاح نہیں ہے کسی خاص علم والوں وغیرہ کی بلکہ کلامِ عرب کے اندر ہی اس طرح ہے کہ عرب کیا کرتے ہیں؟ فصاحت کے ساتھ کلمے کو بھی موصوف کرتے ہیں، کلام کو بھی موصوف کرتے ہیں اور متکلم کو بھی موصوف کرتے ہیں۔ تو یہ 'فی الاصطلاح' کا لفظ یہاں نہیں ہونا چاہیے یا پھر 'فی الاصل' کا لفظ ہونا چاہیے کہ کس کے اندر؟ اصل میں، یعنی عربی زبان... اصل سے کیا مراد ہے؟ لغت بھئی، وہی عربی زبان کے اندر یہ صفت بنتی ہے کلمے کی بھی، کلام کی بھی اور متکلم کی بھی۔ یا یوں کہہ لیں کہ چونکہ عربی زبان میں یہ کلمے، کلام اور متکلم تینوں کی صفت بنتی ہے اس لیے اصطلاحِ علمِ بلاغت کے اندر بھی یہ کیا ہے تینوں کی صفت بنے گی بھئی۔ تو آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ففصاحة الكلمة سلامتها من تنافر الحروف ومخالفة القياس والغرابة۔ اب ہر ایک کی الگ الگ تعریف کرنے لگے ہیں، سب سے پہلے فصاحتِ کلمہ کی تعریف کر رہے ہیں۔ فصاحت کی کتنی قسمیں آئیں؟ تین: فصاحتِ کلمہ، فصاحتِ کلام اور فصاحتِ متکلم۔ تو سب سے پہلے فصاحتِ کلمہ کو ذکر کر رہے ہیں۔ سوال پیدا ہوا کہ آپ نے ہمیں بتلا دیا فصاحت تین قسم پر ہے: فصاحت فی الکلمہ، فصاحت فی الکلام اور فصاحت فی المتکلم۔ اب آگے جب ہر ایک کو بیان کرنے لگے ہیں تو آپ نے فصاحتِ کلمہ کو کیوں مقدم کیا؟ پہلے فصاحتِ کلام کو بیان کر دیتے یا فصاحتِ متکلم کو بیان کر دیتے، آپ نے فصاحتِ کلمہ کو کیوں مقدم کیا؟ جواب آسان ہے بھئی کہ چونکہ فصاحتِ کلمہ موقوف علیہ ہے اور فصاحتِ کلام اور متکلم موقوف ہیں، اور موقوف علیہ موقوف پر مقدم ہوتا ہے۔ فصاحتِ کلام تبھی سمجھ آئے گی جب فصاحتِ کلمہ کا پتہ ہو۔ چونکہ کلامِ فصیح، اس کے آگے تعریف کریں گے، بتائیں گے آپ کو، کلامِ فصیح کس کو کہتے ہیں؟ وہ بتائیں گے، جس میں یہ عیب بھی نہ ہو، یہ عیب بھی نہ ہو، یہ... توجہ ہے بھئی؟ کس کی تعریف کر رہا ہوں میں؟ کلامِ فصیح کی، جس میں یہ عیب بھی نہ ہو، یہ بھی نہ ہو، یہ بھی نہ ہو اور اس کے تمام کلمات بھی فصیح ہوں۔ تمام کلمات بھی فصیح ہوں، یہ کس کے اندر آ رہا ہے؟ کلامِ فصیح کی تعریف میں آ رہا ہے، کلمات فصیح ہوں، تو کلماتِ فصیح کا آپ کو پہلے سے پتہ ہونا چاہیے یا نہیں؟ ورنہ آپ کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ فصاحت فی الکلام کس چیز کا نام ہے۔ اور آسان مثال سے چلیں سمجھیے۔ متکلم کسے کہتے ہیں؟ کلام کرنے والا۔ اگر آپ کو کلام کی تعریف نہیں آتی تو متکلم کی تعریف آئے گی؟ آپ کو فرض کریں کلام کا پتہ ہی نہیں ہے۔ میں آپ کو کہتا ہوں: متکلم کلام کرنے والا ہوتا ہے۔ آپ فوراً کہیں گے کلام کسے کہتے ہیں؟ کیونکہ آپ کو کلام کا پتہ ہی نہیں ہے۔ معلوم ہوا متکلم کا تبھی آپ کو پتہ چلے گا جب پہلے کس کا پتہ ہو؟ کلام کا۔ معلوم ہوا اس سے پہلے کلام کا علم ہونا چاہیے۔ اچھا! کلام کسے کہتے ہیں؟ جو کم از کم دو کلموں سے مل کر بنے اور ان میں اسناد پایا جائے، کلام کسے کہتے ہیں؟ جو دو کلموں سے مل کر بنے اور اس میں اسناد پایا جائے، دو کلموں سے مل کر بنے۔ اب آپ کو کلموں کا پتہ ہی نہیں ہے تو کلام سمجھ میں آئے گا آپ کو؟ آپ فوراً کہیں گے بھئی کلمہ کس کو کہتے ہیں؟ معلوم ہوا کلام کو سمجھنے سے پہلے کس کا سمجھنا ضروری ہے؟ کلمے کا، کیونکہ کلام کہتے ہی کس کو ہیں جو کس سے بنا ہو؟ دو کلموں سے۔ آپ جیسے ہی میں کہوں گا کلام وہ ہے جو دو کلموں سے بنا ہو، آپ فوراً کلمہ تو ہم نے پڑھا نہیں یہ کس کو کہتے ہیں۔ تو آپ کو پہلے سے علم ہونا چاہیے۔ لہٰذا، سب سے پہلے کلمہ کو سمجھایا جاتا ہے، پھر اس کے بعد کس کو سمجھایا جائے گا؟ کلام کو سمجھایا... کلمہ سمجھ میں آ جائے گا، اب کلام کے اندر کلمہ کا لفظ آئے گا بھی آپ کو پہلے سے پتہ ہو گا۔ تو آپ کو کلام کا بھی پتہ چل جائے گا۔ پھر متکلم کی تعریف آئے گی تو متکلم کے اندر کیا لفظ آئے گا؟ کلام، اور وہ بھی آپ کو پتہ چل چکا ہے تو وہ بھی آپ کو سمجھ میں آ جائے گا۔ معلوم ہوا متکلم کا سمجھنا موقوف ہے کس پر؟ کلام، اور کلام کا سمجھنا موقوف ہے کس پر؟ کلمہ پر۔ تو کلام ہوا موقوف، کس پر موقوف ہے اس کا سمجھنا؟ کلمہ، اور کلمہ ہوا موقوف علیہ۔ تو کون مقدم ہوتا ہے؟ موقوف علیہ، پہلے اس کو سمجھا جاتا ہے اس کے بعد کس کو سمجھا جاتا ہے؟ موقوف۔ اور اچھا کلام اور متکلم، ان میں سے کون موقوف ہے؟ متکلم کا سمجھنا موقوف ہے کس پر؟ کلام پر، تو کلام ہوا موقوف علیہ اور متکلم ہوا موقوف، پہلے کس کو لائیں گے؟ موقوف علیہ کو پہلے لایا جائے گا اور موقوف کو بعد میں لایا جائے گا۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، ایک ہے فصاحت فی الکلمہ، ایک ہے فصاحت فی الکلام، ایک ہے فصاحت فی المتکلم۔ فصاحتِ کلمہ کا پتہ ہو گا تو فصاحت فی الکلام بھی سمجھ میں آئے گی، فصاحت فی الکلام کا پتہ ہو گا تو فصاحت فی المتکلم بھی سمجھ میں آئے گی، اسی لیے فصاحت فی الکلمہ کو پہلے سمجھائیں گے، فصاحتِ کلام کو اس کے بعد سمجھائیں گے اور فصاحت فی المتکلم کو اس کے بعد سمجھائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس لیے یہاں پر انہوں نے فصاحتِ کلمہ کو مقدم کیا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے یہاں فصاحت اور بلاغت دو چیزیں مقدمے میں ذکر کرنی تھیں انہوں نے، لیکن ان فصاحت اور بلاغت میں سے کس کو شروع کر دیا؟ فصاحت کو پہلے سمجھانا شروع کر دیا، بلاغت آگے جا کر آپ کو سمجھائیں گے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے بلاغت پہلے کیوں نہیں سمجھائی؟ فصاحت بعد میں سمجھا دیتے اور بلاغت پہلے؟ تو جواب یہی ہے کہ بلاغت کو سمجھنے کے لیے فصاحت کا سمجھنا ضروری ہے کیونکہ بلاغت کی تعریف میں فصاحت کا لفظ آئے گا، تو آپ کو پہلے سے کیا پتہ ہونا چاہیے؟ فصاحت کا پتہ ہونا چاہیے، تو لہٰذا بلاغت ہوئی موقوف اور فصاحت ہوئی موقوف علیہ، تو اور موقوف علیہ مقدم ہوتا ہے، اسی وجہ سے یہاں پر بھی انہوں نے فصاحت کو مقدم کیا اور پہلے اس کا ذکر شروع کیا بھئی۔ جی، تو اب سب سے پہلے فصاحتِ کلمہ کو بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ففصاحة الكلمة، پس کلمے کی فصاحت، کلمے کا فصیح ہونا جو ہے سلامتها، وہ کلمے کا سالم ہونا ہے من تنافر الحروف، تین عیبوں سے کلمے کا پاک ہونا ضروری، کلمہ سالم ہونا چاہیے کس چیز سے؟ تین عیوب، کون سے عیوب؟ من تنافر الحروف، تنافر... پہلا عیب کیا ہے؟ تنافرِ حروف۔ ومخالفة القياس، دوسرا عیب کیا ہے؟ مخالفتِ قیاس۔ والغرابة، اور تیسرا عیب ہے غرابت۔ کلمہ فصیح وہ ہے جب وہ سالم ہو، وہ سلامت ہو ان تین عیبوں سے: تنافرِ حروف، مخالفتِ قیاس اور غرابت۔ ان تین عیبوں سے کلمہ جب سلامت ہو گا، محفوظ ہو گا تو اس کو کیا کہیں گے ہم؟ کلمۂ فصیحہ کہیں گے بھئی، کلمۂ فصیحہ۔ تین عیب اس میں نہ ہوں بھئی۔ تین عیب، یہ تین عیبوں سے خالی ہونا ضروری ہے بھئی۔ وجہ یہ کہ یہاں تین چیزیں ہیں ہر کلمے کے اندر: ایک اس کا مادہ ہے، ایک اس کی صورت ہوتی ہے، اور ایک پھر اس کی اپنے معنیٰ پر دلالت ہوا کرتی ہے۔ جیسے علم کا لفظ، مادہ اس کا کیا ہے؟ ع، ل، م، یہ ہے اس کا مادہ۔ پھر ع، ل، م جڑے آپس میں، ع کے نیچے کسرہ آیا، ل ساکن ہوا تو ایک صورت بن گئی، اور صورتیں بھی بن سکتی تھیں یا نہیں؟ علم، یعلم وغیرہ کتنی صورتیں ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو ایک مخصوص صورت بن گئی بھئی، یہ کیا کہلاتی ہے؟ صیغہ، کیا کہلاتی ہے؟ صیغہ۔ ایک ہے مادہ، ایک ہے صیغہ۔ پھر اس علم کے لفظ نے اپنے معنیٰ پر دلالت بھی کی، علم کہتے ہی اس کا معنیٰ آپ کو سمجھ میں آ گیا۔ جیسے میں زید کہتا ہوں، مثلاً زید آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام ہے، میں جیسے ہی کہوں گا زید، فوراً اس کی صورت آپ کے ذہن میں آ جائے گی کہ اس زید کی بات ہونے لگی ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ زید لفظ کی اپنے معنیٰ پر دلالت ہے، لفظِ زید نے کس پر دلالت کی؟ اپنے معنیٰ پر۔ دلالت کس کو کہتے ہیں بھئی؟ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جانا، یہ ہے دلالت، یہ ہے دلالت۔ میں نے تو لفظ بولا، آپ کے ذہن میں صورت آ گئی بھئی، تو اس صورت پر اس لفظ نے کیا کی؟ دلالت کی۔ تو لہٰذا، ایک ہے کلمے کا مادہ، ایک ہے کلمے کی صورت یعنی صیغہ، اور ایک ہے کلمے کی دلالت اپنے معنی پر۔ تین چیزیں سمجھ میں آ گئیں، توجہ ہے بھئی؟ میں تکرار کے انداز میں پڑھا رہا ہوں تاکہ تکرار بھی ہو جائے آپ کا۔ کتنی چیزیں ہیں یہاں پر؟ تین۔ اول کیا ہے؟ کلمے کا مادہ۔ دوسری چیز؟ اس کی صورت ہے یعنی صیغہ۔ اور تیسری چیز؟ اپنے معنی پر دلالت۔ اگر کلمے کے مادہ کے اندر کوئی عیب پایا جائے اس کو کہتے ہیں تنافرِ حروف۔ اگر کلمے کے جو صورت ہے یعنی صیغہ ہے اس میں کوئی عیب پایا جائے اس کو کہتے ہیں مخالفت القياس۔ اور اگر اس کے دلالت على المعنى میں کوئی عیب پایا جائے تو اس کو کہتے ہیں غرابت۔ کیا کہتے ہیں؟ غرابت۔ تو کلمہ فصیح تب ہو گا جب نہ اس کے مادے میں کوئی عیب ہو، نہ اس کی صورت میں کوئی عیب ہو، نہ اس کے اپنے معنی پر دلالت کرنے میں کوئی عیب ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی لیے کہا کہ ففصاحة الكلمة کلمے کا فصیح ہونا جو ہے، سلامتها اس کا سلامت ہونا ہے، من تنافر الحروف ومخالفة القياس والغرابة تنافرِ حروف سے، اور مخالفتِ قیاس سے، اور غرابت سے۔ آسان لفظوں میں ابھی سمجھ لیجیے، آگے بھی تفصیلی بات وہ خود بیان کریں گے۔ تنافرِ حروف، کون سا عیب ہے؟ مادے میں جو عیب ہو۔ یعنی ایسے حروف جمع ہو جاتے ہیں کلمے میں کہ زبان پر اس لفظ کی ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے۔ جیسے آگے لفظ آ رہا ہے "ہع خع"۔ یہ کسی گھاس یا پودے کا نام ہے "ہع خع"۔ کتنا ثقیل لفظ ہے بھئی! سارے حروفِ حلقی جمع ہو گئے اس کے اندر بھئی۔ تو یہ ثقیل، تو یہ کس کے اندر عیب آیا بھئی؟ مادے کے اندر۔ کبھی عیب جو ہے وہ صورت میں ہو گا، یعنی کلمہ صرفی قانون کے خلاف ہو گا۔ کلمہ کیا ہو گا؟ آپ نے صرف میں پڑھا ہے، سارے قوانین پڑھے ہیں کہ کس طرح صورت بنتی ہے کلمے کی اور وہ... تو علماء نے باقاعدہ اس کے قوانین جو ہیں وہ مدون کیے، تو اگر اس صرفی قانون کے خلاف ہو کلمہ تو یہ کیا ہے؟ مخالفتِ قیاس ہے۔ اور اگر دلالت على المعنى میں خرابی ہو، یعنی لفظ بولا معنی سمجھ میں نہیں آ رہا کسی کو بھئی! لفظ کے بولتے ہی کیا ہونا چاہیے؟ ہر ایک کو معنی سمجھ میں آنا چاہیے۔ ہاں، لیکن آپ نے لفظ بولا، کسی کو معنی ہی سمجھ میں نہیں آ رہا، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ یہ غرابت ہے، یہ اپنے معنی پر دلالت نہیں کر رہا ورنہ تو اس کے بولتے ہی فوراً جیسے زید کا لفظ بولتے ہی فوراً زید کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی تھی، اسی طرح اس لفظ کو بولتے ہی فوراً اس کا معنی ذہن میں آنا چاہیے تھا لیکن آیا نہیں، معلوم ہوا یہ اپنے معنی پر صحیح طریقے سے دلالت نہیں کر رہا، خرابی ہے کچھ بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔