کتاب پر دیکھیے بھائی آگے سبق۔ تصور اور تصدیق کی قسمیں۔ تصور کی دو قسمیں ہیں: تصورِ بدیہی، تصورِ نظری۔ تصورِ بدیہی ایسی شے کا علم ہے کہ اس کی تعریف بتانے کی ضرورت نہ ہو اور بغیر تعریف کے سمجھ میں آ جائے، ‏جیسے: پانی، آگ، گرمی، سردی؛ کہ سنتے ہی یہ چیزیں ہماری سمجھ میں آ جاتی ہیں، جس کی تعریف کی ضرورت نہیں۔ تصورِ نظری اس شے کا علم ہے کہ بغیر تعریف کیے وہ ہماری سمجھ میں نہ آئے، جیسے: اسم، فعل، حرف، معرب، ‏مبنی، جن، فرشتہ، بھوت، دیو وغیرہ۔ تصدیق کی بھی اسی طرح دو قسمیں ہیں۔ اچھا بھائی، یہ تو آج کا سبق ہے۔ آئیے، پہلے ذرا گزشتہ باتوں کا خلاصہ پھر سن لیں، تاکہ خوب اچھی طرح ذہن نشین ہو جائیں۔ آپ نے پڑھا کہ علم کا معنی ہے جاننا اور پہچاننا۔ جب آپ کسی چیز کو جان لیں اور پہچان لیں، تو تو کہیں گے آپ کو اس چیز کا علم حاصل ہو گیا۔ اور جس چیز کو جان لیا، اس کو کیا کہیں گے؟ معلوم۔ کیا کہیں گے؟ معلوم کہیں گے۔ اور آپ نے پڑھا کہ یہ جو معلوم ہے، یہ دو قسم پر ہو گا: یا تصور ہو گا، یا تصدیق۔ تصور وہ ہے جس میں بات پوری نہ ہو، چاہے جتنے بھی لفظ ہوں، وہ تصور کہلائے گا۔ اور اگر بات پوری ہو—یعنی ایک چیز کا ذکر ہو اور ساتھ اس کے بات بھی ذکر ہو، مثلاً: "زید کھڑا ہے"—تو دیکھو، ‏کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، اور کیا بات کی؟ کہ وہ کھڑا ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق۔ اس کو تصدیق کہتے ہیں بھائی۔ تو تصدیق میں ہمیشہ دو چیزیں ہوں گی بھائی تصدیق میں: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے، اور دوسری ‏وہ بات ہو گی۔ پھر مزید تفصیل میں نے آپ کے سامنے بیان کی تھی، کہ تصور جو ہے، وہ ایک بھی وہ اس میں ایک چیز بھی ہو سکتی ہے، جیسے: کتاب، قلم، دیوار۔ ایک ایک چیز۔ "کتاب"—یہ کیا ہے؟ تصور۔ ‏"قلم"—یہ کیا ہے؟ یہ تصور ہے۔ ‏"دیوار"—یہ بھی تصور ہے۔ تو تصور میں ایک چیز بھی ہو سکتی ہے، کئی چیزیں بھی ہو سکتی ہیں، لیکن بات پوری نہیں ہو گی، جیسے: "زید اور ‏عمرو اور بکر اور خالد"—دیکھو، یہ چار نام ذکر ہیں، لیکن بات پوری نہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ تصور۔ اسی طرح اگر بات تو پوری ہو، لیکن اس کے اندر شک ہو، تو اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ تصور کہتے ہیں۔ مثلاً، میں آپ سے کہتا ہوں کہ "زید آ گیا ہو گا"—دیکھو، اب یہ "ہو گا" لفظ بتلا رہا ہے کہ آپ کو زید کے آنے کا یقین ‏نہیں ہے، بلکہ شک ہے۔ یعنی جتنا خیال اس کے آنے کا ہے، اتنا ہی یہ خیال بھی ذہن میں آتا ہے کہ شاید وہ نہ آیا ہو!‏ تو آدھا خیال ہے آنے کا، آدھا خیال ہے نہ آنے کا۔ یعنی یوں کہو، 50 فیصد خیال ہے آنے کا، تو 50 فیصد ہی خیال ہے نہ ‏آنے کا۔ تو اس کو منطق کی اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟ شک کہتے ہیں۔ اور شک بھی کس قبیل سے ہے؟ کس قسم میں سے ہے؟ یہ تصور کی قسم میں سے ہے۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دونوں جانبیں ذہن میں آتی ہیں—آنے کا بھی مثلاً خیال، اور نہ آنے کا بھی خیال، زید کے ‏آنے کا بھی خیال اور نہ آنے کا بھی خیال—لیکن ایک جانب کا خیال زیادہ ہے۔ زیادہ خیال یہ ہے کہ زید آ گیا ہو گا۔ ہاں، تھوڑا سا خیال یہ بھی ذہن میں آ جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے کوئی رکاوٹ آ گئی ہو، تو وہ نہ آیا ہو!‏ لیکن زیادہ خیال کس کا؟ آنے کا۔ تو جب اب جب آپ نے کہا "زید آ گیا ہو گا" اور زیادہ خیال ہے، تو اس کو منطق کی ‏اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟ ظن کہتے ہیں، ظاء اور نون بھائی، ظن۔ اور وہ جو تھوڑا سا خیال ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم کہتے ہیں۔ اور آپ نے پڑھا کہ یہ جو وہم ہے، یہ تصور کی قسم میں سے ہے۔ وہ جو تھوڑا خیال ہے، اس کو وہ کس قسم میں سے؟ ‏تصور۔ اور یہ جو زیادہ خیال ہے، اس کو ظن کہتے ہیں، اور یہ کس قسم میں سے ہے؟ یہ تصدیق کی قسم ہے۔ تصدیق کی قسم۔ اسی طرح، بعض اوقات بات پوری ہوتی ہے، لیکن لیکن وہ جملہ خبریہ نہیں ہوتا، بلکہ جملہ انشائیہ ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ جملہ انشائیہ ہوتا ہے، تو اس تو یہ جو جملہ انشائیہ ہے، یہ اس کی قسمیں آپ پڑھیں گے، اِس اِسی سال آپ ‏نحو کے اندر پڑھ لیں گے، نحومیر میں پڑھ لیں گے، تو انشا کی تقریباً 10 قسمیں ہیں، اور وہ سب کے سب تصور کی قسم ‏ہیں۔ مثلاً، آپ کسی سے کوئی بات پوچھتے ہیں، استفہام ہے، تو یہ تصور ہے بھائی، کیونکہ یہ استفہام کیا ہے؟ انشا، اور انشا ‏کس میں سے؟ تصور میں سے۔ مثلاً، آپ کسی سے پوچھتے ہیں: "آپ کا کیا نام ہے؟"—دیکھیے، اب آپ ایک بات پوچھ ‏رہے ہیں—یا آپ اس سے پوچھتے ہیں: "آپ کہاں رہتے ہیں؟"—یا آپ اس سے پوچھتے ہیں: "آپ کہاں سے آئے ہیں؟"—‏یا آپ اس سے پوچھتے ہیں: "تصور کسے کہتے ہیں؟"—تو جتنے سوالات ہوں گے، یہ سوالات کیا ہیں؟ استفہام ہے۔ اس ‏میں ایک بات پوچھی جا رہی ہے، ایک سوال پوچھا جا رہا ہے، اس کو استفہام کہتے ہیں، اور استفہام کس قسم میں سے؟ ‏انشا، اور انشا کس میں سے؟ انشا تصور ہے بھائی، تصور میں سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح آپ کسی کو کسی چیز کا حکم دیتے ہیں، مثلاً، استاد شاگرد سے کہتا ہے: "پانی لے آؤ۔"‏ تو یہ جو آپ دوسرے کو کام کہہ رہے ہیں، یہ ہے امر—حکم دینا۔ اور امر کس قسم میں سے ہے؟ انشا کی قسم میں ہے، ‏اور انشا کس میں سے ہے؟ تصور کی قسم ہے۔ اسی طرح بعض اوقات آپ دوسرے کو کسی چیز سے روکتے ہیں، حکم دیتے ہیں، تو یہ نہی ہے، اور نہی بھی کس قسم ‏میں سے ہے؟ یہ بھی انشا کی قسم ہے بھائی، انشا کی قسم۔ اسی طرح قسم ہے، قسم ہے۔ قسم بھی آپ پڑھیں گے انشا کی قسم ہے۔ اور انشا کس میں سے؟ تصور کی قسم۔ لیکن اس میں ایک بات سمجھ لیں بھائی:‏ ایک ہے قسم، ایک ہے آگے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی۔ مثلاً، آپ کہتے ہیں: "اللہ کی قسم، زید نہیں آیا ہے۔"‏ تو "اللہ کی قسم"—اس کو کہتے ہیں قسم، یہ کیا ہے؟ یہ جو آپ کہہ رہے ہیں "اللہ کی قسم" یا یوں کہہ رہے ہیں "میں اللہ ‏کی قسم کھاتا ہوں"، یہ کیا ہے؟ قسم۔ اور آگے جو بات کر رہے ہیں، اس کو کہتے ہیں جوابِ قسم۔ جو آپ نے کیا کہی مثلاً؟ کہ "زید نہیں آیا ہے۔"‏ تو یاد رکھیے، قسم کی بات ہو رہی ہے، وہ کیا ہے؟ انشا۔ آگے جوابِ قسم، اس کی بات نہیں ہو رہی۔ مثلاً، آپ نے جوابِ قسم یہاں کیا ہے؟ کہ "زید نہیں آیا ہے۔"‏ تو یہ یہ یاد رکھیے، یہ جوابِ قسم ہے، جوابِ قسم کی بات نہیں، وہ انشا بھی ہو سکتا ہے، وہ خبر بھی ہو سکتی ہے بھائی۔ فرق کیا ہے؟ ایک عام جملہ، اس کو جملہ خبریہ کہتے ہیں۔ اور یہ جس میں کوئی بات بتلائی جائے۔ انشا اور خبر، انشا اور خبر—پھر سمجھ لیں بھائی، انشا اور خبر میں فرق—ایک جملہ خبریہ ہوتا ہے، ایک جملہ انشائیہ ‏ہوتا ہے۔ جملہ خبریہ میں کوئی بات بتلائی جاتی ہے، کوئی خبر دی جاتی ہے، جبکہ جملہ انشائیہ میں ایسا نہیں ہوتا، اس میں کوئی ‏خبر نہیں دی جاتی، اس میں کوئی بات نہیں بتلائی جاتی، آپ کسی سے سوال پوچھ رہے ہیں، تو اس سے کوئی چیز طلب ‏کر رہے ہیں، یا آپ قسم کھا رہے ہیں، آپ قسم کو وجود دے رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھائی؟ تو انشا کے اندر طلب ہو گی، یا اسی طرح آپ کسی چیز کو وجود دیں گے بھائی۔ تو جملہ کتنی قسم پر؟ جملہ دو قسم پر ہوتا ہے بھائی، یاد رکھیے۔ ایک جملہ انشائیہ اور ایک جملہ خبریہ۔ جملہ خبریہ اس میں کوئی بات کی جاتی ہے، کوئی اِمم بات بتلائی جاتی ہے دوسرے کو، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "زید ‏کھڑا ہے۔" دیکھو، میں نے زید کے بارے میں آپ کو ایک بات بتلائی۔ یا میں آپ سے کہتا ہوں: "زید آ گیا ہے۔" دیکھو، میں نے زید کے بارے میں ایک آپ بات آپ کو بتلائی۔ یا میں آپ سے ‏کہتا ہوں: "منطق اچھا علم ہے۔" دیکھو، میں نے ایک بات آپ کو بتلائی۔ یا میں آپ سے کہتا ہوں: "آج موسم بڑا اچھا ہے۔" ‏تو یہ میں نے ایک بات آپ کو بتلائی۔ تو جملہ خبریہ میں کیا ہوتا ہے؟ ایک بات بتلائی جاتی ہے۔ اور جملہ انشائیہ، اس میں بات نہیں بتلائی جاتی۔ اس میں یا تو طلب ہو گی، یا اس کے اندر کسی چیز کو وجود وغیرہ دینا ہو گا۔ مثلاً، میں آپ سے کہتا ہوں: "پانی لے آؤ۔" دیکھو، میں ایک چیز آپ ‏سے طلب کر رہا ہوں۔ یہ تو یہ "پانی لے آؤ"—یہ کیا ہے؟ امر، امر۔ ایک چیز طلب کر رہا ہوں۔ یا میں آپ کو ایک چیز ‏سے منع کرتا ہوں کہ "زید کی پٹائی نہ کرو۔" یہ نہی ہے، اور نہی بھی کس قسم میں سے؟ انشا میں سے۔ اور یا اسی طرح میں آپ کے سامنے قسم اٹھاتا ہوں: "اللہ کی قسم۔" یہ بھی کیا ہے؟ یا میں کہتا ہوں: "میں اللہ کی قسم کھاتا ‏ہوں۔" یہ بھی کیا ہے؟ انشا، انشا۔ تو جملہ خبریہ میں ایک اِمم بات بتلائی جاتی ہے بھائی، اور آسان فرق یہ ہے—آگے چل کر یہ بھی آپ کو بتلائیں گے—‏کہ جملہ خبریہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا اور جھوٹا کہا جا سکے، سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اگر کسی بات کے بارے میں کسی کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے، تو سمجھ جائیں یہ جو بات ہے، یہ جملہ خبریہ ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو، تو سمجھ جائیں یہ جملہ انشائیہ ہے۔ مثلاً، آپ کا ایک ساتھی آپ کو بتلاتا ہے کہ "میں اور زید کل عمرو کے پاس ملنے گئے تھے۔"‏ اب آپ دوسرے ساتھیوں کو کہہ سکتے ہیں: "یہ سچ بول رہا ہے۔" یا ہو ہو سکتا ہے آپ کہیں: "یہ جھوٹ بول رہا ہے۔" کہہ ‏سکتے ہیں یا نہیں کہہ سکتے؟ تو معلوم ہوا یہ کون سا جملہ تھا؟ جملہ خبریہ تھا۔ جس میں بات بتلائی جا رہی تھی، اور اس کے کہنے والے کو سچا بھی کہہ سکتے ہیں اور جھوٹا بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن جملہ انشائیہ میں ایسا نہیں ہوتا۔ آپ کا کوئی مثلاً ساتھی آپ سے کہتا ہے: "میرے لیے پانی لے آؤ۔"‏ دوسرا کہہ سکتا ہے: "یہ جھوٹ بول رہا ہے"؟ وہ کہے گا: "بھائی، میں نے کوئی بات بتلائی نہیں ہے، آپ جھوٹ کس ‏اعتبار سے مجھے کہہ رہے ہیں، جھوٹا کہہ رہے ہیں؟ میں نے تو ایک چیز طلب کی ہے اس سے۔"‏ یا آپ کسی کو کہیں کہ "زید کی پٹائی نہ کرو"، کبھی کوئی دوسرا کہے گا: "یہ سچ بول رہا ہے" یا "یہ جھوٹ بول رہا ‏ہے"؟ نہیں، کیونکہ آپ کوئی بات تو بتلا ہی نہیں رہے، آپ تو ایک چیز سے دوسرے کو منع کر رہے ہیں۔ یا آپ قسم اٹھاتے ہیں: "میں قسم کھاتا ہوں۔"‏ کبھی بھی آپ کو کوئی یہ نہیں کہے گا کہ "یہ سچ بول رہا ہے" یا "جھوٹ بول رہا ہے"—قسم کے اعتبار سے، میں نے ‏ابھی بتایا: ایک ہے قسم، ایک آگے جس بات پر قسم کھائی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جوابِ قسم۔ جوابِ قسم اور چیز ہے، اس ‏کے اعتبار سے کسی کو بعض اوقات سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ لیکن قسم کے اعتبار سے نہیں!‏ مثلاً دیکھو، میں کہتا ہوں: "میں قسم کھاتا ہوں، زید عمرو کا بھائی ہے۔"‏ تو "میں قسم کھاتا ہوں"—یہ ایک حصہ کلام کا، "زید عمرو کا بھائی ہے"—یہ کیا ہے؟ دوسرا حصہ ہے۔ پہلا حصہ انشا ‏ہے، اس میں وہ صرف قسم اٹھا رہا ہے، قسم کو وجود دے رہا ہے، اس میں کوئی بات نہیں بتلا رہا، لہٰذا "میں قسم کھاتا ‏ہوں"، اس حصے میں کوئی بھی آپ کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا، آپ کہیں گے: "میں نے کوئی بات تو بتلائی نہیں، میں ‏نے تو صرف کیا کیا ہے؟ میں نے صرف قسم کھائی ہے۔" ہاں، جو آگے آنے والی بات آپ نے کی کہ "زید عمرو کا بھائی ‏ہے"، اس بات پر آپ کو کوئی کہہ سکتا ہے: "یہ سچ بول رہا ہے" یا کوئی کہہ سکتا ہے کہ "یہ جھوٹ بول رہا ہے۔" تو ‏دیکھا؟ یہ جو آپ کو سچا یا جھوٹا کہا گیا، یہ "میں قسم کھاتا ہوں" اس کے اعتبار سے کہا گیا یا آگے جوابِ قسم کے اعتبار سے ‏کہا گیا؟ جوابِ قسم کے اعتبار سے۔ تو قسم اور چیز ہے، جوابِ قسم اور چیز ہے، اور انشا کی قسم انشا میں کون داخل ہے؟ قسم داخل ہے، جوابِ قسم نہیں! جوابِ قسم پہ پھر الگ غور کریں آپ!‏ جوابِ قسم—کہ وہ جملہ خبریہ ہے یا جملہ انشا؟ اور کیسے پتہ چلائیں گے؟ جوابِ قسم کو کیسے پتہ چلے گا آپ کو کہ یہ جملہ خبریہ ہے یا جملہ انشائیہ ہے؟ ابھی میں نے آسان سی پہچان آپ کو ‏بتلائی، کیسے پتہ چلائیں گے؟ پہلا جملہ "میں قسم کھاتا ہوں"، دوسرا جملہ ہاں، جوابِ قسم، جوابِ قسم کی صرف بات کر رہا ہوں میں اس وقت!‏ کیسے پہچانیں گے کہ یہ جملہ انشائیہ ہے یا جملہ خبریہ ہے؟ سچا یا جھوٹا کہیں۔ ہاں! جملہ خبریہ کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ اگر وہ جوابِ قسم ایسا ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں، تو پھر وہ معلوم ہوا وہ جوابِ قسم جو ہے، وہ ‏جملہ خبریہ ہے! اور اگر وہ جملہ ایسا نہیں، تو پھر معلوم ہوا وہ کیا ہے؟ جملہ انشا۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ ایک ہے قسم، ‏ایک ہے جوابِ قسم۔ تو ایک قسم ہے اور ایک جوابِ قسم ہے، قسم ہمیشہ کیا ہو گی؟ جملہ انشائیہ، اور جوابِ قسم اس پہ آپ نے پھر خود غور کرنا ہے کہ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں ‏یا نہیں کہہ سکتے، اگر سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں، تو معلوم ہوا یہ جوابِ قسم کیا ہے؟ جملہ خبریہ ہے، اور اگر ایسا نہیں ‏ہے، تو معلوم ہوا یہ جوابِ قسم کیا ہے؟ جملہ انشائیہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قسم اور چیز ہے، جوابِ قسم اور ‏چیز ہے، دونوں کو الگ الگ آپ کو دیکھنا پڑے گا۔ اسی طرح انشا کی ایک قسم ندا بھی آپ پڑھیں گے: ندا۔ ندا: آواز دینا کسی کو، پکارنا بھائی! مثلاً میں کہتا ہوں: "اے زید، میرے پاس آؤ۔"‏ ‏"اے زید، میرے پاس آؤ۔"‏ تو "اے زید"، عربی میں کیا کہیں گے؟ یَا زَیْدُ۔ تو "اے زید"، یہ ہے ندا—دیکھو، میں اس کو پکار رہا ہوں۔ اور "اے زید"، کیا اس پر کوئی مجھے سچا یا جھوٹا کہہ سکتا ہے؟ نہیں۔ اگر مجھے کوئی کہے گا کہ "یہ سچ بول رہا ہے"، تو میں کہوں گا: "بھائی، میں نے تو کوئی بات ہی نہیں کی! میں نے تو ‏صرف زید کو پکارا ہے، اس کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، آپ کس اعتبار سے مجھے سچا یا جھوٹا کہہ رہے ہیں؟ میں ‏نے تو کوئی بات ہی نہیں بتلائی! کوئی بات کریں، کوئی بات بتلائیں، تو پھر ہی کہا جاتا ہے نا سچا یا جھوٹا!" تو معلوم ہوا ‏‏"اے زید"، یہ کیا ہے؟ ندا، اور ندا کس قسم میں سے ہے؟ انشا۔ ہاں، ندا کے بعد آگے جوابِ ندا آتا ہے۔ مثلاً میں نے کہا: ‏‏"اے زید،‏ میرے لیے پانی لے آؤ۔"‏ یہ جو آگے بات آئی، اس کو کہتے ہیں جوابِ ندا۔ جو پہلے آواز دی، وہ کیا ہے؟ ندا، اور آگے جو بات کی، وہ کیا ہے؟ جوابِ ندا۔ اور ندا کا اور حکم ہے، جوابِ ندا کا اور ‏حکم! دونوں میں الگ غور کر لو۔ "اے زید"—یہ کون سا جملہ؟ ندا، اور ندا کس قسم میں سے؟ جملہ انشائیہ ہے، اور جملہ انشائیہ کس قسم میں سے؟ جملہ انشائیہ تصور ہے۔ جبکہ آگے جو میں نے کہا:‏ ‏"اے زید، میرے لیے پانی لاؤ"—یہ "میرے لیے پانی لے آؤ"، یہ کیا ہے؟ جوابِ ندا یہ جوابِ ندا ہے، اور دیکھو یہ کون کس قسم کا جملہ ہے؟ خبریہ خبریہ یہ نہ اِم انشائیہ غور کرو! غور کرو جملے کے اندر!‏ انشائیہ اِمم یہ یہ بھی جملہ انشائیہ ہے، کیونکہ میں ایک چیز طلب کر رہا ہوں، ایک حکم دے رہا ہوں، امر ہے اور کہ "میرے لیے ‏پانی لے آؤ۔" اور امر کس قسم میں سے؟ انشائیہ—اس "میرے لیے پانی لے آؤ"، اس میں آپ کو کوئی جھوٹا یا سچا نہیں ‏کہہ سکتا، کیونکہ آپ کہیں گے: "میں نے تو کوئی بات کی نہیں، میں تو اپنے لیے کیا منگوا رہا ہوں؟ پانی منگوا رہا ہوں، ‏حکم دے رہا ہوں۔"‏ تو دیکھو، یہاں ندا بھی جملہ انشائیہ، اور جوابِ ندا بھی جملہ انشائیہ۔ اور کبھی کبھی دونوں مختلف ہوں گے۔ مثلاً، میں کہتا ہوں: "اے زید، عمرو آ گیا ہے۔"‏ تو "اے زید"، یہ کیا ہے؟ ندا، اور یہ ندا کس قسم میں سے؟ جملہ انشائیہ ہے، انشا کی قسم ہے، اور انشا کس میں سے؟ انشا تصور ہے۔ آگے میں نے کیا کہا؟ ‏"عمرو آ گیا ہے۔" یہ کیا ہے؟‏ جوابِ ندا، اور مجھے بتائیے، جوابِ ندا یہاں پر "عمرو آ گیا ہے"، یہ جملہ انشائیہ ہے یا جملہ خبریہ ہے؟ جملہ خبریہ۔ یہ جملہ خبریہ ہے، میں نے ایک بات بتلائی اس کو کہ "عمرو آ گیا ہے"، ہاں اس پر مجھے کوئی دوسرا آدمی مجھے کہہ ‏سکتا ہے کہ یہ سچ بول رہے ہیں، یا کہہ سکتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ بات بتلا رہا ہوں، اور بات سچی بھی ہو سکتی ہے اور جھوٹی بھی ہو سکتی ہے بھائی! صورت سمجھ میں آگئی؟ ‏تو دیکھا! یہاں نداء تو جملہ انشائیہ ہے، لیکن جوابِ نداء کیا ہے؟ جملہ خبریہ ہے۔ اسی طرح قسم میں دیکھ لو، مثلاً میں کہتا ‏ہوں: "اللہ کی قسم! زید عمر کا بھائی ہے۔"‏ تو "اللہ کی قسم!" یہ کیا ہے؟ یہ انشاء ہے۔ تصور ہے۔ اور "زید عمر کا بھائی ہے" یہ؟ یہ جملہ خبریہ ہے۔ یہ جوابِ قسم ‏ہے اور جملہ خبریہ ہے، "زید عمر کا بھائی ہے۔" کوئی کہہ سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہے، یا کہہ سکتا ہے یہ جھوٹ بول ‏رہا ہے، تو اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے، معلوم ہوا یہ جملہ خبریہ ہے بھائی!‏ اور بعض اوقات جوابِ قسم جو ہے وہ بھی جملہ انشائیہ ہو سکتا ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: "اللہ کی قسم! زید کی پٹائی کر!"‏ صورت سمجھ میں آگئی؟ مثلاً میں نے ویسے ہی ساتھ قسم ملا دی، اور آگے کیا کہہ دیا؟ زید، "اللہ کی قسم! زید کی پٹائی ‏کر!" یا میں کہتا ہوں: "اللہ کی قسم! میرے لیے پانی لے آؤ!" ویسے قسم ساتھ ملا دی اس کے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو "اللہ کی قسم!" یہ کیا ہوا؟ جملہ انشائیہ، تصور۔ اور "پانی لے آؤ" یہ بھی جملہ انشائیہ، اور یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ ‏بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی؟ کہ ایک ہے قسم، ایک ہے جوابِ قسم۔ ایک ہے نداء، ایک ہے جوابِ نداء۔ دونوں ‏کا حکم ایک بھی ہو سکتا ہے اور الگ الگ بھی ہو سکتا ہے، دونوں دو الگ چیزیں ہیں۔ آپ نحو کے اندر خصوصاً تفصیل ‏آئے گی، تو وہاں پر طلباء سمجھتے ہیں کہ شاید نداء اور جوابِ نداء سارا مل کے جملہ انشائیہ ہے۔ لیکن آپ یاد رکھنا کہ نہیں! نداء اور چیز، جوابِ نداء اور چیز، دونوں کا حکم الگ الگ بیان کرنا پڑے گا، اور دونوں ‏انشائیہ بھی ہو سکتے ہیں اور دونوں الگ الگ، یعنی پہلا تو انشائیہ ہی ہے، دوسرا خبریہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو قسم میں بھی اس طرح، قسم کا حکم اور، جوابِ قسم کا حکم اور، الگ دیکھنا پڑے گا۔ نداء میں بھی اسی طرح، نداء ‏ہمیشہ انشائیہ ہوگی، لیکن جوابِ نداء وہ خبریہ بھی ہو سکتی ہے اور انشائیہ بھی۔ تو یہ ہے فرق جملہ انشائیہ میں اور جملہ خبریہ میں۔ پھر دہرا لیں، جملہ خبریہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو ‏سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، وہ جملہ خبریہ ہے۔ اور جو ایسا نہ ہو، وہ کیا ہے؟ وہ جملہ انشائیہ ہے۔ اچھی طرح بات سمجھ ‏میں آگئی؟ اچھا، ایک اور بات جو پہلے سبق میں گزری تھی، آپ نے پڑھا تھا تصور اور تصدیق کے بارے میں۔ تصدیق میں پڑھا ‏تھا آپ نے، تصدیق کہ تصدیق جو ہے یہ اس میں یا تو یقین ہونا چاہیے یا یہ یقین کے قریب ہو۔ یقین ہوگا، مثلاً میں نے کہا: "زید عمر کا بھائی ہے۔" اور یقین کے قریب ہو جو ظن ہے ظن، جس میں زیادہ خیال ہے، وہ ‏بھی کیا ہے؟ تصدیق ہے، تصدیق ہے۔ تو معلوم ہوا، تصدیق کے اندر بات پوری ہوگی۔ بات کیا ہوگی؟ پوری ہوگی۔ ایک چیز ہوگی جس کے بارے میں بات کی جائے، اور ایک آگے کیا ہوگی؟ بات۔ اور تو دو ‏چیزیں ہوں گی۔ اور پھر یہ جو آپ بات کر رہے ہیں یا یہ جو بات آپ کے ذہن میں آئی، کیونکہ آپ نے پڑھا قول کتنی قسم ‏کا؟ دو قسم، ایک قولِ معقول، ایک قولِ ملفوظ۔ وہی بات جب ذہن میں آئے تو کیا کہلاتی ہے؟ قولِ معقول۔ وہی بات جب ‏زبان پر آئے تو وہ قولِ ملفوظ ہے۔ اور منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف ہوتی ہے؟ قولِ معقول کی طرف۔ وہ جو یہ جو ‏تصور بتلا رہا ہے، منطقی جو ہمیں تصدیق بتلا رہا ہے، یہ ساری بات چل رہی ہے قولِ معقول کی۔ لیکن قولِ ملفوظ میں ‏بھی یہی تقسیم جاری ہوگی۔ آپ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ "زید عمر کا بھائی ہے۔"‏ اب مجھے بتائیے، یہ جملہ انشائیہ ہے یا جملہ خبریہ ہے؟ ظاہر سی بات ہے، جملہ خبریہ ہے۔ زبان سے بھی کہہ دیں گے ‏‏"زید عمر کا بھائی ہے" تو یہ بھی کیا ہے؟ جملہ خبریہ۔ یعنی جو نام قولِ معقول کے ہوں گے، وہی نام کس کے ہوں گے؟ ‏قولِ ملفوظ کے بھی وہی نام ہوں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جو چیز قولِ معقول میں تصور ہے، وہ چیز قولِ ملفوظ میں ‏بھی کیا ہوگی؟ تصور۔ جو چیز قولِ معقول کے اندر تصدیق ہے، وہ قولِ ملفوظ میں بھی اس کا وہی نام یعنی تصدیق ہی ‏ہوگا۔ تو معلوم ہوا، تصدیق کے اندر دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے، اور ایک جو بات کی ‏جائے بھائی، جو بات کی جائے۔ اور آسان لفظوں میں تو یہ ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: "زید کھڑا ہے۔" تو کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں۔ ‏اور کیا بات کی؟ کہ وہ کھڑا ہے۔ لیکن علمی اصطلاح میں نحو میں آپ پڑھیں گے کہ زید پر حکم لگایا۔ زید پر حکم لگایا۔ تو جس کے بارے میں بات کی جائے، علمِ نحو میں اس کو کہتے ہیں مبتدا۔ اور جو بات کی جائے اس کو ‏کیا کہتے ہیں؟ خبر۔ جس کے بارے میں بات کی وہ مبتدا، اور جو بات کی وہ خبر۔ اور اسی کو علمی... تو عام کلام میں یوں کہیں گے: "میں ‏نے زید کے بارے میں بات کی۔" لیکن علمی اصطلاح کے اندر یوں کہیں گے: "میں نے زید پر حکم لگایا۔"‏ کیا کیا؟ زید... جس کے بارے میں بات کی جائے، اس کو پھر کیا کہتے ہیں؟ مبتدا اور خبر، وہ تو نام گزر گئے۔ اب یہ ‏حکم لگانے کے اعتبار سے کیا نام بن گئے؟ جس پر حکم لگایا، وہ ہے محکومٌ علیہ۔ اور جو حکم لگایا، وہ کیا ہے؟ محکومٌ ‏بہٖ۔ معلوم ہوا "زید کھڑا ہے"، کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں۔ دوسرے لفظوں میں میں نے زید پر حکم ‏لگایا ہے۔ کیا کیا ہے؟ حکم لگایا۔ تو زید کون ہوا؟ محکومٌ علیہ، محکومٌ علیہ۔ تو محکومٌ علیہ ہے۔ اور آگے بات کیا کی کہ ‏وہ کھڑا ہے، یہ محکومٌ بہٖ ہے بھائی!‏ تو گویا، وہ جس کے بارے میں بات کی جائے، اس کو علمِ نحو میں کیا کہتے ہیں؟ مبتدا۔ اور جو بات کی جائے اس کو؟ ‏خبر۔ مبتدا کا دوسرا نام کیا؟ محکومٌ علیہ۔ خبر کا دوسرا نام کیا؟ محکومٌ بہٖ۔ جبکہ علمِ منطق کے اندر میں نے دو اور نام بھی ‏بتلائے تھے۔ علمِ منطق کے اندر، جو مبتدا ہے، یعنی جو محکومٌ علیہ ہے، اس کو موضوع کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ موضوع۔ م، و، ‏ض، و اور ع، موضوع۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو علمِ منطق کے اندر، جس کے بارے میں بات کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع۔ اور جو بات کی جائے، اس کو ‏محمول کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ تو دیکھا! یہ دونوں چیزوں کے تین تین نام آپ کو ہر وقت یاد ہونے چاہئیں۔ اگر میں مبتدا کہوں، یا ‏میں محکومٌ علیہ کہوں، یا میں موضوع کہوں، تو یہ ایک ہی چیز کے تینوں نام ہیں۔ ایک ہی چیز کے تینوں نام۔ اور اگر میں خبر کہوں، یا میں محکومٌ بہٖ کہوں، یا میں محمول کہوں، تو یہ بھی تینوں ایک ہی ‏چیز کے نام ہیں۔ جو بات آگے کی گئی، اس کے تین نام ہیں۔ جس کے بارے میں بات کی جائے، اس کے بھی تین نام، اور ‏جو بات کی جائے اس کے بھی تین نام۔ جس کے بارے میں بات کی جائے، اس کا ایک نام کیا؟ پہلا نام، علمِ نحو کے ‏اعتبار سے: مبتدا۔ اور دوسرے کا نام؟ خبر۔ خبر! مبتدا کے ساتھ کیا بولتے ہیں؟ خبر کا۔ تو جس کے بارے میں بات کی جائے، علمِ نحو میں اسے کیا کہتے ہیں؟ مبتدا۔ ‏دوبارہ دہرا ئیں، جس کے بارے میں بات کی جائے، علمِ نحو میں اسے کیا کہتے ہیں؟ مبتدا۔ اور جو بات کی جائے اسے؟ ‏خبر۔ دوسرا نام کیا ہے مبتدا کا؟ محکومٌ علیہ۔ اور جو بات کی جائے اسے؟ محکومٌ بہٖ۔ بھائی! یہ محکومٌ علیہ اور محکومٌ بہٖ کیوں ‏کہتے ہیں؟ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ یہ جو خبر ہے، یہ جو بات کی گئی ہے، یہ دراصل حکم لگایا گیا ہے۔ یہ جو بات کی گئی ہے یہ... اور حکم جس پر لگایا، وہ کیا بن گیا؟ محکومٌ علیہ، اس پر حکم لگایا گیا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں ‏آرہا ہے؟ علٰی کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پر، پر۔ محکومٌ علیہ، اس پر حکم لگایا گیا ہے۔ اور جو بات ہے، محکومٌ بہٖ، اس کا ‏حکم لگایا گیا ہے۔ جس پر حکم لگایا وہ کیا؟ محکومٌ علیہ۔ اور جس کا حکم لگایا؟ محکومٌ بہٖ۔ اور یہ محکومٌ علیہ اور محکومٌ بہٖ کیوں کہتے ‏ہیں؟ کیونکہ ایک پر حکم لگایا گیا ہے اور دوسری چیز کا حکم لگایا گیا ہے، اس اعتبار سے ایک محکومٌ علیہ ہوا اور ‏ایک محکومٌ بہٖ۔ اور علمِ منطق کے اعتبار سے ان کے کیا نام ہوئے؟ موضوع اور محمول۔ جس کے بارے میں بات کی ‏جائے وہ ہے موضوع، اور جو بات کی جائے وہ محمول ہے؛ م، ح، م، و، ل، محمول۔ تو پہلے کو کہتے ہیں موضوع، اور دوسرے کو کہتے ہیں محمول۔ اور اس کو بھی دوسرے لفظوں میں یوں کہتے ہیں:‏ کہ یہ جو خبر ہے، یہ جو محمول ہے، اس کو محمول کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کا حمل کیا گیا ہے موضوع پر۔ توجہ ہے؟ پہلے حصے کا نام کیا؟ موضوع۔ دوسرے حصے کا نام کیا؟ محمول۔ تو کیا کہیں گے اس کو محمول کیوں ‏کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کا حمل کیا گیا ہے کس پر؟ موضوع پر۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو گویا تین چیزیں ہیں: ایک ہے بات کرنا، ایک ہے حکم لگانا، ایک ہے حمل کرنا۔ ایک ہی چیز ہے، ایک ہی بات ہے۔ آپ ‏چاہے کیا کہہ لیں؟ بات کی گئی ہے۔ آپ چاہے کیا کہہ لیں؟ حکم لگایا گیا ہے۔ آپ چاہے کیا کہہ لیں؟ حمل کیا گیا ہے۔ ‏صورت سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا اب کوئی آپ کے سامنے یہ کہے کہ زید کے بارے میں بات کی گئی ہے، یا آپ کے سامنے ‏کہے زید پر حکم لگایا گیا ہے، یا آپ کے سامنے کہے زید پر حمل کیا گیا ہے، تینوں کا ایک ہی معنی ہے کہ معلوم ہوا ‏اس کے بارے میں کوئی بات کی گئی ہے بھائی!‏ پھر ذرا ایک دفعہ جلدی جلدی دہرا لیں۔ پہلے حصے جو ہے، جس کے بارے میں بات کی گئی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں ‏نحو میں؟ مبتدا۔ اور اسی مبتدا کا دوسرا نام کیا ہے؟ غور، غور کرو! میں کیا کہہ رہا ہوں آپ... دوسرے حصے کا نہیں میں پوچھ رہا، پہلے ہی حصے کے بارے میں پوچھ ‏رہا ہوں۔ پہلے حصے کا ایک نام علمِ نحو میں ہے، وہ کیا ہے؟ مبتدا۔ اسی پہلے حصے ہی کا دوسرا نام کیا ہے؟ محکومٌ ‏علیہ۔ اور اسی کا تیسرا نام علمِ منطق میں کیا ہے؟ موضوع ہے۔ لہٰذا آپ کے سامنے کوئی مبتدا کا لفظ ذکر کر دے، یا ‏محکومٌ علیہ ذکر کر دے، یا موضوع ذکر کر دے، تو آپ نے پریشان نہیں ہونا، آپ سمجھ گئے کہ یہ ایک ہی چیز کے ‏بارے میں بات ہو رہی ہے۔ کون سی چیز؟ جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے، وہ ہے۔ اور دوسرے حصے کے کتنے نام؟ اس کے بھی تین نام۔ پہلا نام علمِ نحو میں، وہ کیا ہے؟ خبر ہے۔ دوسرا نام اس کا؟ ‏محکومٌ بہٖ۔ تیسرا نام؟ محمول۔ جب یہ تین میں سے کوئی ایک بھی نام ذکر کر... ذکر کرے، آپ سمجھیں دوسرے حصے کی ‏بات ہو رہی ہے، یعنی وہ جو بات کی گئی ہے۔ اور بات کرنا، اس کے لیے علمی لفظ کیا استعمال ہوتا ہے؟ حکم لگانا۔ بات کرنا؟ حکم لگانا۔ اور یا دوسرا لفظ؟ حمل کرنا، ‏حمل کرنا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ پھر کہو! بات کرنا، اس کے لیے کیا لفظ استعمال ہوتا ہے؟ حکم لگانا، اور یا ‏دوسرا لفظ کیا ہوتا ہے؟ حمل کرنا۔ تو کوئی شخص یوں کہہ دے کہ زید کے بارے میں بات کی گئی، یا کوئی شخص یہ کہہ ‏دے زید پر حکم لگایا گیا، یا کوئی شخص یہ کہے کہ زید پر حمل کیا گیا، آپ سمجھ جائیں تینوں کا ایک ہی معنی ہے، کیا ‏معنی؟ کہ زید کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ ان چیزوں کو بار بار دہرانا ہے آپ نے، ٹھیک ہے؟ یہ نام آپ نے یاد کرنے ہیں۔ میں موضوع کہہ دوں، بس آپ سمجھیں ‏کس کی بات ہو رہی ہے۔ میں محمول کہہ دوں، آپ فوراً سمجھیں کس کی بات ہو رہی ہے۔ میں حکم لگانا کہوں، یا میں حمل ‏کرنا کہوں، یا میں بات کرنا کہوں، آپ سمجھیں ایک ہی چیز کا ذکر ہو رہا ہے۔ یا اسی... یا مبتدا ہے، یا محکومٌ علیہ ہے، یا موضوع ہے، تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ کس چیز کا ذکر ہو رہا ہے۔ اب دیکھیے بھائی! اب آج کے سبق کے بارے میں ہم بات کرتے ہیں بھائی!‏ اتنا تو آپ کو پتہ چل گیا کہ ہمارے ذہن میں کوئی بھی چیز آئے، یعنی ہمیں کسی بھی چیز کا علم حاصل ہو... علم حاصل ‏ہونے کا کیا معنی؟ علم ہونے کا کیا معنی؟ کسی چیز کا معلوم ہونا، یعنی اس کی صورت ہمارے ذہن میں آنا، اس کی پہچان ‏ہمارے ذہن میں آنا۔ تو کسی بھی چیز کا علم جب ہمیں حاصل ہوگا، وہ ہمیشہ... وہ ہمیشہ یا وہ تصور ہوگا یا کیا ہوگا؟ ‏تصدیق۔ اس کے علاوہ کوئی تیسری صورت ہو سکتی ہے؟ نہیں! وہ انہی دو میں سے ہوگا۔ اگر اس میں بات پوری ہے تو ‏وہ تصدیق ہے، اگر بات پوری نہیں یا جملہ انشائیہ ہے یا شک ہے یا وہم ہے، تو یہ سب کس کے قسم ہیں؟ تصور کے قسم ‏ہیں۔ معلوم ہوا ہماری معلومات جتنی بھی ہوں، وہ یا تصور ہوں گی یا کیا ہوں گی؟ تصدیق ہوں گی، تصدیق ہوں گی۔ اب آگے مزید سمجھ لو، آسان سی بات ہے۔ یاد رکھو! چاہے تصور ہو، چاہے تصدیق ہو، بعض اوقات سیدھی سادھی بات ‏ہوتی ہے، آسان بات ہوتی ہے، سنتے ہی انسان سمجھ جاتا ہے۔ وہاں دماغ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، غور و فکر نہیں کرنا پڑتا۔ تو اگر ایسا ہو تو اس کو "بدیہی" کہتے ہیں۔ ‏کیا کہتے ہیں؟ یہ دیکھو آپ کی کتاب میں ہے: "تصورِ بدیہی"، "تصورِ بدیہی"۔ تو جو چیز بھی بغیر غور و فکر کیے... ‏توجہ ہے؟ جو چیز بھی بغیر غور و فکر کیے، بغیر دماغ خرچ کیے، بغیر سوچے فوراً ہمیں سمجھ میں آجائے، اس کو ‏بدیہی کہتے ہیں۔ اور جہاں ہمیں دماغ خرچ کرنا پڑے، سوچنا پڑے، فکر کرنی پڑے اس کے بارے میں، ذہن ہمیں اس کے ‏بارے میں خرچ کرنا پڑے، تو اس کو "نظری" کہتے ہیں۔ یہ آپ کی کتاب میں دیا ہوا ہے: "تصورِ نظری"، مل گیا بھائی؟ ‏تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظری۔ تو بدیہی کیا چیز؟ جو بات ہمیں فوراً سمجھ میں آجائے، غور و فکر نہ کرنا پڑے، سوچنا ‏نہ پڑے۔ اور اگر غور و فکر کرنا پڑے یا سوچنا پڑے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظری کہتے ہیں۔ اب آپ مجھے بتائیے، ‏تصور...‏ بدیہی ہے یا نظری؟ جی؟ نظری ہے۔ آپ کیا کہہ رہے ہو؟ بدیہی کیوں ہے تصور؟ سن کر سمجھ میں آرہا ہے۔ سن کر سمجھ میں آجاتا ہے؟ آپ کیوں نظری کہہ رہے ہیں تصور کو؟ سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا تصور...‏ دیکھو! مجھے دو تین دن لگانے پڑے، تب جا کے آپ کو تصور کا پتہ چلا، تصور کسے کہتے ہیں۔ تب جا کر آپ کو پورا ‏پتہ چلا تصدیق کسے کہتے ہیں۔ تو تصور خود کیا ہے؟ نظری ہے، دماغ خرچ کرنا پڑا۔ آپ کو پہلے آتا تھا؟ جب پہلے دن آپ سبق میں آئے تھے، آپ کو ‏پتہ تھا تصور کسے کہتے ہیں؟ آپ کو پتہ تھا تصدیق کسے کہتے ہیں؟ دماغ خرچ کرنا پڑا یا نہیں کرنا پڑا؟ آپ کو پتہ چل ‏گیا کہ تصور اس کو کہتے ہیں، تصدیق اس کو کہتے ہیں۔ تو تصور اور تصدیق، یہ کیا ہیں؟ نظری ہیں، نظری ہیں۔ لیکن یہ تو خود تصور اور تصدیق کی بات چل رہی تھی۔ اب...‏ تصور... جو چیزیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں، وہ بھی ساری کیا ہوں گی؟ یا تصور ہوں گی یا تصدیق ہوں گی۔ تو خود... خود تصور اور خود تصدیق، ان کی جو تعریف ہم نے کی، اس اعتبار سے تو یہ کیا ہیں؟ نظری ہیں۔ لیکن یہ تصور اور تصدیق علم کا نام ہے۔ کس چیز کا؟ علم کا۔ اور علم کسی بھی چیز کا ہو سکتا ہے: کتاب کا، قلم کا، ‏دیوار کا، سردی، گرمی، مختلف چیزیں ‏ਜੋ‏ بھی دیکھو نام لو، اس کی پہچان۔ دیوار میں نے کہا، آپ کے ذہن میں کوئی چیز ‏آئی؟ فوراً ایک معنیٰ آپ کے ذہن میں آ گیا کہ تصور علم کا نام ہے۔ تصدیق بھی کس چیز کا نام ہے؟ علم کا نام ہے۔ علم کا نام ہے۔ اور کسی بھی چیز کا جو علم ہے وہ ‏دو طرح ہو سکتا ہے۔ بعض چیزیں ایسی ہیں جو بغیر غور و فکر کے ہمیں فوراً سمجھ میں آ جاتی ہیں، اور بعض چیزیں ‏ایسی ہیں جن میں ہمیں غور و فکر کرنا پڑتا ہے اور دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ تو جو چیزیں ہمیں فوراً سمجھ میں آ جائیں ‏ان کو کیا کہیں گے؟ بدیہی۔ اور جن میں دماغ خرچ کرنا پڑے اسے کیا کہیں گے؟ نظری۔ اب آپ چیزوں میں خود غور کر ‏لیں۔ آپ دیکھیں گے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو ہر آدمی سمجھتا ہے۔ چھوٹا بچہ بھی ان کو جانتا ہے، بڑا بھی جانتا ہے، ‏ذہین بھی جانتا ہے، کم ذہن والا بھی جانتا ہے، مثلاً سردی؟ دیکھو، ہر ایک جانتا ہے سردی کسے کہتے ہیں۔ گرمی؟ ہر ‏ایک جانتا ہے گرمی کسے کہتے ہیں۔ آسمان؟ ہر ایک جانتا ہے آسمان کسے کہتے ہیں۔ زمین؟ ہر ایک جانتا ہے زمین کسے کہتے ہیں۔ تو یہ سب کیا ہیں؟ بدیہی ‏ہیں۔ سب کیا ہیں؟ اور تصور ہیں یا تصدیق؟ تصور۔ یہ سب تصور ہیں، ایک ایک لفظ آ رہا ہے بھائی۔ تو یہ تصور کون سا ہوا؟ تصورِ بدیہی ہوا، اور بعض چیزیں وہ ہیں کہ ‏جس میں باقاعدہ تفصیل بیان کرنا پڑتی ہے، ذہن خرچ کرنا پڑتا ہے، پھر جا کر دوسرے کو بات سمجھ میں آتی ہے، اس ‏کو کیا کہتے ہیں؟ نظری کہتے ہیں، نظری کہتے ہیں۔ مثلاً، فرشتے، فرشتے، اب فرشتے کسے کہتے ہیں؟ یہ دوسرے کو سمجھانا پڑتا ہے کہ دیکھو اللہ کی بنائی ہوئی ایک مخلوق ہے، جسے جنہیں اللہ ‏نے نور سے بنایا ہے، اور جو اللہ کے حکم پر چلتے ہیں اور کبھی بھی اس کی نافرمانی نہیں کرتے، تو دیکھو اتنی ‏تفصیل بیان کرنا پڑی، پھر جا کر اس کو پتہ چلتا ہے، اچھا! فرشتہ اس کو کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ فرشتہ، یہ کیا ہے؟ یہ ‏نظری ہے، اور تصور ہے یا تصدیق ہے؟ تصور ہے، تو اس کو کہیں گے تصورِ نظری۔ تصورِ نظری۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھائی؟ چلیے بس بھائی، باقی پھر انشاءاللہ کل پھر ہم اس کو ذرا تفصیل سے کر لیں گے۔ تصورِ بدیہی، تصورِ نظری اور اسی ‏طرح تصدیقِ بدیہی اور تصدیقِ نظری کل انشاءاللہ تفصیل سے کر لیں گے۔ آج تو زیادہ باتیں گزشتہ اسباق کا خلاصہ ذکر ‏کرنے میں ہی زیادہ وقت گزر گیا بھائی۔ چلیے بس بھائی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ تکرار کرتے ہو اس سبق کا؟ کہ نہیں کرتے؟ کس وقت کرتے ہو؟ جی، میں جا کر کرتا ہوں۔ اچھا، چلو شاباش! محنت کرو بھائی۔ زبردست منطقی بننا ہے۔ سمجھ آ رہی ہے اب تک باتیں کہ نہیں؟ بس اسی طرح، آہستہ ‏آہستہ اب دیکھیں گے بڑھتے چلے جائیں گے منطق میں، آپ بڑھتے چلے جائیں گے۔ اور پھر انشاءاللہ کوئی آپ کا مقابلہ ‏منطق میں نہیں کر سکے گا، کوئی بھی نہیں۔