پہلے ذرا گزشتہ اس سبق کا خلاصہ پھر سن لیں، بھئی!‏ آپ نے پڑھا کہ علم جو ہے اس کا معنی ہے جاننا، پہچاننا۔ اور جب آپ کو کسی چیز کا علم ہوتا ہے تو جیسے ہی اس چیز کو ذکر کیا جائے، آپ کے ذہن میں فوراً اس کی صورت ‏اور ‏اس کی پہچان آ جاتی ہے۔ مثلاً، زید کا میں نے نام لیا، اس کو آپ جانتے ہیں، فوراً اس کی صورت آپ کے ذہن میں آ جائے گی۔ یا مثلاً آپ کا بھئی ‏‏ہے، میں جیسے ہی اس کا نام لوں گا، دیکھیں فوراً اس کی صورت آپ کے ذہن میں آ جائے گی۔ اور اسی طرح وہ، یعنی نظر آنے والی چیزیں ہوں، چاہے نظر آنے والی چیزیں نہ ہوں، صرف سمجھی جانے والی چیزیں ہوں، پھر بھی ‏‏ذہن ان کو پہچان لیتا ہے، جیسے خوشبو ہے۔ خوشبو، اب اس کی کوئی صورت نہیں ہوتی، لیکن ایسے خوشبو کا میں نام ‏‏لوں جس کو آپ جانتے ہیں، فوراً آپ کے ذہن میں اس کی صورت، یعنی اس کی پہچان آ جائے گی۔ ذائقے جو ہیں، ذائقوں ‏‏کی کوئی صورت نہیں ہوتی، لیکن جیسے ہی میں کسی ذائقے کا نام لوں گا جس سے آپ واقف ہوں، فوراً آپ کے ذہن میں ‏‏اس کی پہچان آ جائے گی، بھئی!‏ تو یہ اس چیز کا علم ہے۔ علم کا معنی ہے جاننا، اور جس چیز کو جان لیا، اس کو کہتے ہیں معلوم۔ کیا کہتے ہیں؟ معلوم۔ اور یہی معلوم زیادہ ہوں تو ‏‏جمع استعمال ہو گی معلومات۔ تو جس آدمی کا علم زیادہ ہو، کہیں گے، یا تو کہتے ہیں، یوں کہتے ہیں اس کا علم زیادہ ہے، ‏‏یا یوں کہتے ہیں اس کی معلومات زیادہ ہیں، بھئی!‏ اور پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ انسان کے اندر اصل حاکم روح ہے، بھئی! اصل حاکم روح ہے۔ روح حاکم ہونے کا ‏‏معنی یہ ہے، حکم دینے والی، فیصلہ کرنے والی۔ تو یہ جو آپ مختلف کام کرتے ہیں، کہیں آ رہے ہیں، کہیں جا رہے ہیں، کسی سے بات کر رہے ہیں، یہ سارا کچھ دراصل ‏‏آپ کی روح کر رہی ہے، بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ بدن نہیں، یہ روح فیصلہ کرتی ہے ادھر کو چلنا ہے تو بدن ‏‏اس کو لے کر ادھر کو چل پڑتا ہے، کیونکہ یہ بدن کیا ہے اس کے لیے؟ اس کے تابع ہے، اس کا آلہ ہے اور میں نے ‏‏مثال سے وضاحت کی تھی کہ دیکھو! جب موت آتی ہے، روح نکل جاتی ہے، اب وہی ہاتھ ہیں لیکن کچھ نہیں کر سکتے، ‏‏وہی آنکھیں ہیں، وہی کان ہیں، وہی زبان ہے، وہی پاؤں ہیں، لیکن کوئی بھی اپنا کام اب سرانجام نہیں دے رہا، کیونکہ یہ ‏‏آلہ ہے، جو چلانے والی چیز تھی وہ اب اس میں ہے ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو یہ روح جو ہے یہ سارے فیصلے کرتی ہے، کیا کرنا ہے، کدھر کو جانا ہے، یہ سب چیزیں کون سرانجام دیتی ہے؟ یہ ‏‏تمام کام جو ہے، جو کچھ آپ کرتے ہیں یہ روح سرانجام دے رہی ہے آپ کی، بھئی! وہ فیصلے کرتی ہے کیا کرنا ہے، ‏کیا ‏نہیں کرنا۔ اس کے بعد میں نے بتلایا تھا کہ یہ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں دو قسم کی ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو ظاہری آنکھوں سے ہمیں نظر ‏‏آتی ہیں، ان کو عین کہتے ہیں۔ اور کچھ وہ چیزیں ہیں جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتیں، البتہ ذہن ان کو سمجھتا ہے ‏‏اور پہچانتا ہے اور وہ وہ صفات ہیں، ان کو عرض کہتے ہیں۔ تو جن کا اپنا الگ وجود ہو، اپنے وجود میں غیر کی محتاج نہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ عین، اور جمع ہے اعیان۔ اسی طرح ‏‏جو صفت ہے، جو جس کا اپنا الگ وجود نہیں، اس کو عرض کہتے ہیں اور اس کی جمع ہے اعراض، بھئی!‏ پھر آپ نے تصور اور تصدیق کے بارے میں پڑھا۔ میں نے بتلایا، آپ کی جتنی بھی معلومات ہیں، یعنی جن جن چیزوں کا ‏‏بھی آپ کو علم ہے، وہ یا تصور ہوں گی یا تصدیق ہوں گی۔ تصدیق اسے کہتے ہیں جس میں بات پوری ہو۔ مثلاً زید عالم ہے۔ زید میرے پاس کل آیا تھا۔ میں کل بازار جاؤں گا۔ دیکھو یہ جتنے میں جملے بول رہا ہوں، پوری پوری ‏‏بات آپ کو سمجھ میں، پوری پوری بات آپ کو سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو جب بات پوری سمجھ میں آ جائے، تو سمجھ جائیں ‏‏کہ یہ تصدیق ہے، اور اگر بات پوری نہ ہو، ادھوری ہو، تو پھر اس کو تصور کہتے ہیں بھئی! تصور۔‏ تو تصور میں ایک لفظ ہونا ضروری نہیں، کئی لفظ ہوں گے، لیکن بات پوری نہیں ہے تو آپ کیا کہیں گے، یہ تصدیق ‏‏نہیں ہے بلکہ تصور ہے، بھئی! تصور ہے۔‏ اب ذرا مجھے بتائیے، بھئی!‏ پتا چلاتے ہیں کہ آپ کو تصور اور تصدیق میں فرق سمجھ آیا یا نہیں؟ میں کچھ الفاظ بولوں گا، آپ نے مجھے بتانا ہے، یہ ‏‏تصور ہے یا تصدیق؟ جی! زید؟ تصر۔ تصور۔ زید کا دوست؟ تصور۔ تصور ہے، شاباش! زید کے دوست کے بھئی کا بیٹا؟ تصور۔ شاباش! یہ بھی تصور ہے۔ اچھا!‏ کل زید میرے پاس آیا تھا؟ تصدیق۔ شاباش! یہ تصدیق ہے۔ مکہ معظمہ سعودی عرب میں ہے؟ تصدیق۔ تصدیق ہے، شاباش!‏ پاکستان ہمارا وطن ہے؟ تصدیق۔ یہ تصدیق ہے، شاباش!‏ وہ آدمی جس کو آپ نے کل میرے ساتھ مسجد میں دیکھا تھا؟ تصدیق۔ تصور ہے۔ تصور۔ جی؟ تصور۔ وہ، غور کرو! وہ آدمی جس کو آپ نے کل میرے ساتھ مسجد میں دیکھا تھا؟ تصور۔ شاباش! تصور ہے، بات پوری نہیں ہے۔ جتنا مرضی لفظ جتنے مرضی بڑھ جائیں، اس کو آپ نے نہیں دیکھنا، ‏‏اور تھا اور ہے کو بھی نہیں دیکھنا۔ دیکھو! وہ آدمی جس کو کل آپ نے میرے ساتھ دیکھا، مسجد میں دیکھا تھا، آخر میں ‏‏اب تھا آ رہا ہے، اس سے انسان کو دھوکا لگ جاتا ہے شاید یہ پوری بات ہے، لیکن پوری بات کدھر ہے؟ دوسرا کہے گا: ‏‏ہاں! کیا ہوا اس کو؟ کہے گا یا نہیں کہے گا؟ آپ نے بات پوری نہیں کی۔ ہاں! اب میں ج، اب سنو جب میں پورا جملہ کہوں ‏‏گا وہ یوں ہو گا: "وہ آدمی جس کو کل آپ نے میرے ساتھ مسجد میں دیکھا تھا، میرا بھئی ہے۔"‏ اب کیا بن گئی؟ تصدیق۔ تو وہ جو میں نے پہلے لمبے الفاظ استعمال کیے تھے: "وہ آدمی جس کو کل آپ نے میرے ساتھ ‏‏مسجد میں دیکھا تھا"، یہ تو ابھی میں پہچان کروا رہا ہوں اس ایک آدمی کی۔ اس کو کیا ہوا؟ وہ تو آگے بات ابھی باقی ہے۔ تو لہٰذا یہ کیا ہے؟ تصور ہے، "وہ آدمی جس کو آپ نے کل میرے ساتھ ‏‏مسجد میں دیکھا تھا"، یہ تصور ہے اور جب ساتھ آگے کوئی بھی بات ملا لی، وہ میرا بھئی ہے یا وہ میرا دوست ہے یا وہ ‏‏آج پھر آئے گا، جو بھی اب بات آگے ملاؤں گا، پھر جملہ پورا ہو جائے گا اور پھر اس کو کیا کہیں گے؟ تصدیق کہیں ‏‏گے، بھئی! شاباش! شاباش! دیکھا؟ معلوم ہوا، اب آپ تصور اور تصدیق کو اچھی طرح سمجھ گئے ہیں، بھئی!‏ اسی طرح ایک بات میں نے کی تھی قول کے بارے میں کہ یہ جو ہم باتیں کرتے ہیں، یہ ہے قول۔ یہ کیا ہے؟ قول، اور یہ قول دو قسم پر ہے۔ ایک قول کی وہ ‏‏صورت جب ہمارے ذہن میں ہو، کیونکہ ہم جب بھی کوئی بات کرتے ہیں، پہلے ذہن میں وہ بات آتی ہے، سوچتے ہیں اور ‏‏پھر زبان کے ذریعے اس کو ادا کر دیتے ہیں، اور بعض اوقات بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کو ہم زبان سے ذکر ہی ‏‏نہیں کرتے، بھئی! ذہن میں آئیں اور وہیں پر ختم ہو گئیں، ہم نے آگے اس کو ذکر ہی نہیں کیا۔ تو یہ جو بات ہے، یہ قول، اس کو قول کہتے ہیں۔ جب تک یہ عقل میں ہے، اس کو کہیں گے قولِ معقول، اور جب یہ زبان ‏‏پر آ جائے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قولِ ملفوظ۔ اچھا! لفظ کسے کہتے ہیں؟ لفظ، میں نے بتایا تھا۔ جی؟ جو زبان سے ہاں! جو ہم زبان سے بولتے ہیں، یہ کیا ہے؟ لفظ، اور اس لفظ، اور اس کی جمع ہے الفاظ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جو ‏‏زبان سے ہم بول رہے ہیں وہ لفظ ہے، تو انسان جب زبان سے جو ادا کرتا ہے وہ لفظ ہے، اب اور حیوانات ہیں، وہ آوازیں ‏‏وغیرہ نکالتے ہیں، ان کو لفظ نہیں کہتے، بھئی! لفظ یہ باتیں، یہ جو ہم کرتے ہیں ان کا نام ہے اور اور حیوان تو اس طرح ‏‏باتیں نہیں کرتے، بھئی!‏ تو یہ لفظ ہے، اور، تو یہ قول ہوا، اور ق، تو قول گویا دو قسم کا ہوا، ایک قولِ معقول اور ایک قولِ ملفوظ، اور منطقی کی ‏‏اصل توجہ کس کی طرف ہوتی ہے؟ وہ قولِ معقول کی طرف، ہمارے ذہن میں کس کس طرح کی باتیں آ سکتی ہیں، ان ‏‏کے کیا نام ہوں گے، ان کو کیا کہیں گے، منطقی سارا اس کے بارے میں بحث کرتا ہے، تا، ساری تفصیل آگے چلے گی، ‏‏اک، یہ ساری قولِ معقول کی باتیں، قولِ معقول کے بارے میں بحث ہو گی، ہاں! کبھی کبھی منطقی کو قولِ ملفوظ کے ‏‏بارے میں بھی بحث کرنا پڑتی ہے، کیونکہ قولِ ملفوظ بھی کوئی عام چیز نہیں ہے، بڑی قیمتی چیز ہے، ز، جب کوئی ‏‏قول ملفوظ ہو گا تو دوسرے کو ہماری بات سمجھ میں آئے گی، جب تک ذہن میں ہے، قولِ معقول ہے، دوسرے کو کچھ پتا ‏‏نہیں، جب ہم زبان سے ادا کریں گے تو پھر اس دوسرے کو بات سمجھ میں آئے گی، تو ہم ایک دوسرے کو باتیں سمجھانے ‏‏کے لیے یا کوئی بات کہنے کے لیے یا اپنے دل کی بات دوسرے کو پہنچانے کے لیے کس چیز کا سہارا لیتے ہیں؟ قولِ ‏‏ملفوظ کا، لفظوں کا سہارا لیتے ہیں، تو لہٰذا، پھر بعض اوقات منطقی قولِ ملفوظ کے بارے میں بھی بحث کرتا ہے، تو جو ‏‏چیزیں قولِ معقول میں جو قسمیں جاری ہوتی ہیں، مثلاً آپ آگے پڑھیں گے، مفرد کیا ہے، مرکب کیا ہے، قضیہ کیا ہے، تو ‏‏جو جو چیزیں قولِ معقول میں ان کے جو نام ہیں، قولِ ملفوظ میں بھی وہی نام ہیں، وہی چیز ہوتی ہے نا! پہلے عقل میں ‏‏ہے، پھر کہاں پر آ گئی؟ زبان، تو ایک ہی چیز ہے، البتہ ایک ذہن کے اندر ہے، ایک زبان پر ہے، تو جو نام وہ ذہن کے ‏‏اندر والی ق، قول کے ہیں، وہی نام کس کے ہوں گے؟ قولِ ملفوظ کے بھی وہی نام ہوں گے۔ ذہن کے اندر صرف "زید" ہے، یہ کیا ہے؟ قولِ معقول۔ قولِ معقول، اور نام کیا ہو گا اس کا؟ تصور یا تصدیق؟ تصور۔ تصور، ذہن کے اندر "زید"، یہ تصور ہے۔ اور اب زبان سے بھی میں کہوں "زید"، یہ بھی کیا ہے؟ یہ بھی تصور ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ "زید عالم ہے"، یہ ‏‏ذہن میں میں نے سوچا، یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ تصدیق، اور یہی بات میں نے زبان سے کہی "زید عالم ہے"، یہ بھی کیا ہے؟ تصدیق، تو دیکھو! وہی ‏‏تقسیم جو اس میں آئے گی قولِ معقول میں، وہی تقسیم کس کے اندر آئے گی؟ قولِ ملفوظ کے اندر بھی آئے گی، بھئی! بات ‏‏سمجھ میں آ گئی؟ تو کل تصدیق کے بارے میں تفصیلی بحث ہوئی تھی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تصدیق میں، تصدیق میں ایک چیز کے ‏‏لیے آپ دوسری چیز ثابت کرتے ہیں یا اس کی نفی کرتے ہیں۔ یا یوں کہیں، ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا آپ اثبات کرتے ہیں یا اس سے دوسری چیز کی نفی کرتے ہیں، "زید عالم ‏‏ہے"، اس میں کیا ہے؟ اثبات۔ اثبات ہے، اور میں کہتا ہوں "عمرو عالم نہیں ہے"، اس میں کیا ہے؟ نفی، تو پہلے میں زید کے لیے عالم ہونے کا ‏‏اثبات، دوسرے میں عمرو سے عالم ہونے کی نفی ہے، اور یہ دونوں تصدیق ہیں، بھئی! تو تصدیق وہ مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی اس کے اندر ایک چیز کا اثبات بھی ہو سکتا ہے اور ایک چیز کی نفی بھی ہو سکتی ہے، لیکن بہرحال وہ ہے ‏‏تصدیق ہی، بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے! تھوڑا اور گہرائی میں چلتے ہیں، بھئی! اور گہرائی کے اندر۔ بائی! دیکھیے! میں لفظ بولوں گا، آپ نے مجھے بتانا ہے کہ یہ تصور ہے یا تصدیق ہے؟ زید؟ تصور۔ تصور ہے، شاباش! زید اور عمرو اور بکر؟ تصور۔ یہ بھی تصور ہے، شاباش! دیکھا؟ ایک لفظ تھا وہ بھی تصور تھا، کئی لفظ آ گئے لیکن بات پوری نہیں، وہ بھی کیا ‏‏ہے؟ تصور ہی ہے، بھئی! زید کا بھئی؟ تصور۔ تصور ہے، شاباش! بہادر زید؟ تصور۔ یہ بھی تصور ہے، شاباش! دیکھا؟ لفظوں کے بڑھنے سے جب تک بات پوری نہیں، لفظوں کے بڑھنے سے کوئی اثر نہیں پڑتا، وہ تصور ہی رہے گا، بھئی! تصور ہی رہے گا۔ اب مجھے آپ بتائیے، پھر بتائیے! "زید عالم ہے"، یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے، اب تھوڑی تفصیل یاد رکھیں، یاد رکھیے! یہ ‏‏تصدیق کے اندر ضروری ہے کہ یہ جو آپ ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات کر رہے ہیں، "زید عالم ہے"، آپ زید ‏‏کے لیے کیا ثابت کر رہے ہیں؟ عالم ہونا ثابت کر رہے ہیں، یہ سا، یہ جو ثابت کرنا ہو، یہ یقین کے طریقے پر ہو۔ یہ کس طریقے پر ہو؟ یقین، آپ کو یقین ہو کہ زید عالم ہے، آپ کے ذہن میں آیا: "زید عالم ہے‎"‎، آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ ایسا ہے، تو پھر اس کو کہیں گے یہ تصدیق ہے۔ لیکن بعض اوقات ایک بات ذہن میں آتی ہے، ‏‏لیکن یقین نہیں ہوتا، اب آپ کو پتا نہیں ہے کہ زید عالم ہے یا نہیں، ذہن میں آیا "زید عالم ہے‎"‎، لیکن دوسری طرف یہ بھی خیال ہے کہ شاید عالم نہ ہو، تو آپ کو اس چیز کا یقین نہیں ہے۔ ذہن میں کیا آیا؟ "زید عالم ہے"، جملہ کیا آیا؟ "زید عالم ہے"، لیکن آپ کو اس کا یقین نہیں، یقین نہ ہو پھر اس کی دو ‏‏صورتیں ہیں، یا تو ۵۰ فیصد خیال ہو گا آپ کا کہ "زید عالم ہے‎"‎، اس کے لیے عالم ہونا ثابت ہے، اور ۵۰ فیصد خیال یہ ہو گا کہ عالم نہیں ہے۔ آپ کو پتا نہیں ہے نا! آپ کو ایک چیز کا یقین نہیں، پتا ہی نہیں ہے، جب پتا نہیں ہے تو دونوں احتمال آئیں گے یا نہیں آئیں ‏‏گے؟ تو لہٰذا، آپ کے ذہن میں یہ بھی خیال کہ ہو سکتا ہے عالم ہو، تو ہو سکتا ہے عالم نہ ہو، تو اب آپ نے زید کے لیے عالم ‏‏ہونے کا حکم تو لگایا کہ "زید عالم ہے"، ذہن میں سوچا یا نہیں سوچا؟ لیکن یقین ہے یا شک ہے آپ کو؟ عالم ہونے میں شک ہے۔ شک۔ بھئی! ابھی ذہن میں آپ کے ایک طرف یہ خیال ہے کہ وہ عالم ہے، تو دوسری طرف یہ بھی خیال ہے کہ ہو سکتا ہے وہ ‏‏عالم نہ، تو اب جب آپ نے زید پر حکم تو لگا دیا، ٹھیک ہے!‏ ‏"زید عالم ہے"،‏ لیکن آپ کو یقین نہیں، شک ہے۔ آدھا خیال یہ ہے کہ یہ عالم ہے، آدھا خیال یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے، تو یہ اس کو شک کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ شک کہتے ‏‏ہیں، اور یاد رکھیے! شک تصدیق کی، شک جو ہے وہ تصدیق نہیں ہے بلکہ تصور ہے۔ شک کیا ہے؟ تصور۔ دیکھو! شک کے اندر ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات تو ہے، لیکن یقین نہیں ہے، آدھا خیال ‏‏اس کے ہونے کا ہے تو آدھا خیال اس کے نہ ہونے کا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کو، یہ شک ہوا، اور شک ‏‏کس قسم میں سے ہے؟ تصور۔ یا جیسے آپ اپنے ساتھی کو کہتے ہیں: "زید آ گیا ہو گا‎"‎، دیکھو! آپ نے زید کے بارے میں کیا بات کر دی؟ آنے، آنے کی بات کر دی کہ "زید آ گیا ہو گا‎"‎، لیکن کیا آپ کو یقین ہے؟ نہیں! یقین نہیں، آپ، دیکھو! "آ گیا ہو گا"، یہ "ہو گا" کا لفظ بتلا رہا ہے کہ آپ کو زید کے آنے کا یقین نہیں ہے، آپ کا ‏‏خیال ہے آ گیا ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی خیال ہے کہ ہو سکتا ہے ابھی نہ آیا ہو۔ تو زید، مثلاً آپ یہاں بیٹھے ہیں، زید نے آپ کو وقت دیا تھا کہ اتنے بجے میں فلاں جگہ پر پہنچ جاؤں گا، تو آپ اپنے ‏‏ساتھی سے کہتے ہیں: "زید آ گیا ہو گا‎"‎، تو دیکھو! یہ جہاں جتنا خیال ہے اس کے آنے کا، ساتھ ہی ذہن میں یہ بھی ہے، ہو سکتا ہے دیر ہو گئی ہو، ابھی تک وہ آیا ‏‏نہ ہو، تو یہ کیا ہے؟ شک ہے، تو اس کو، یہ کس قسم میں سے ہے؟ یہ تصور ہے، یہ تصدیق نہیں، اور یہ بھی یاد رکھیں! ‏‏شک کے اندر آدھا خیال ضروری ہے، ۵۰ فیصد، ۵۰ فیصد خیال ہونے کا ہو تو ۵۰ فیصد نہ ہونے کا ہو، اس کو شک ‏‏کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ شک، اور شک کس قسم میں سے؟ تصور کی قسم میں سے، اگرچہ اس میں لفظوں کو دیکھو، بظاہر ‏‏پورا جملہ لگ رہا ہے، لیکن چونکہ یقین نہیں ہے، لہٰذا اس کو تصدیق نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ تصور کہیں گے۔ اچھا! دوسری صورت یہ ہے کہ آپ کا زیادہ خیال یہ ہے کہ آ گیا ہو گا، زید عموماً وقت کا خیال رکھتا ہے، وہ وقت پہ پہنچ جایا کرتا ہے، تو زیادہ خیال ‏‏یہ ہے کہ وہ آ گیا ہو گا۔ تھوڑا خیال یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کوئی رکاوٹ پیش آ گئی ہو، نہ آیا ہو، یوں سمجھو ۸۰ فیصد آپ کا خیال ہے وہ آ گیا ہو ‏‏گا، لیکن ساتھ ہی ذہن میں یہ بھی ہے ۲۰ فیصد ہو سکتا ہے نہ آیا ہو، لیکن آپ اپنے ساتھی کو کہتے ہیں: "زید آ گیا ہو گا‎"‎، اب اس کو شک نہیں کہیں گے، کیونکہ اس میں دونوں جانبیں برابر نہیں، شک کے اندر برابر ہونا ضروری، ۵۰ فیصد ‏‏خیال ہوتا ہے آنے کا، تو ۵۰ فیصد خیال ہوتا ہے نہ آنے کا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں تو ۵۰ سے زیادہ ہے، ۸۰ فیصد یا ۶۰، ۷۰ جو بھی ہے، مطلب زیادہ خیال ہے اس کے آنے کا اور تھوڑا خیال ہے ‏‏نہ آنے کا، تو یہ جو زیادہ خیال ہونا، اس کو علمِ منطق کے اندر ظن کہتے ہیں، ظ اور ن۔ ظ اور ن۔ ن مشدد ہے، ظن، کیا کہتے ہیں؟ ظن، ظن، زیادہ خیال ہو، اور وہ ‏‏جو تھوڑا خیال ہے، اس کو وہم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وہم۔ زیادہ خیال کیا ہے آپ کو؟ کہ زید آ گیا ہوگا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ یہ ظن ہے۔ بس جب آپ کو کوئی کہہ دے "میرا یہ ظن ہے"، آپ سمجھ جائیں ‏‏اس کا یہ زیادہ خیال ہے۔ یقین نہیں ہے لیکن زیادہ خیال ہے۔ اور جب آپ کو کوئی کہہ دے "یہ وہم ہے"، تو معلوم ہوا یہ ‏‏تھوڑا خیال ہے۔ یہ منطق کے اندر، عام زبان میں نہیں، عام بول چال میں اس طرح فرق نہیں اتنا کیا جاتا۔ لیکن منطق کے ‏‏اندر جب کہا جائے، جب کہا جائے "یہ اس میں شک ہے"، اس کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ کہ آدھا خیال ہونے کا ہے، تو آدھا خیال نہ ہونے کا ہے۔ اور جب کہا جائے "ظن ہے"، تو؟ آدھے سے زیادہ خیال ہونے کا، اا... اور تھوڑا خیال نہ ہونے کا۔ اور وہ جو تھوڑا خیال ہے نہ ہونے کا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شک، اس میں دونوں طرفیں برابر ہوتی ہیں۔ اس کو، وہ کس قبیل سے ہے؟ وہ کس قسم میں سے ہے؟ وہ تصور میں ‏‏سے ہے۔ اور یہ جو ظن اور وہم ہیں، یاد رکھیے ظن، اس میں زیادہ خیال ہے۔ یہ تصدیق کی قسم ہے۔ یہ یقین کے قریب ‏‏بات ہو گئی نہ۔ یقین تو نہیں، لیکن یقین کے قریب ہو گئی، اور قریب ہو گئی تو وہی حکم آ گیا جو اس کا تھا۔ اور یقین تو کیا ‏‏ہے؟ تصدیق۔ جب آپ کو یقین ہے کہ زید آ گیا ہے، تو وہ کیا ہے؟ تصدیق۔ تو یہ جو یقین کے قریب ہے، وہ بھی کیا ہوگا؟ ‏‏تصدیق۔ تو ظن کس قسم میں سے؟ تصدیق کی قسم میں سے، اور وہم؟ وہم تصور ہے بھئی۔ وہم وہ تھوڑا سا جو خیال ہے، ‏‏وہ کیا ہے؟ تصور۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ تو گویا ہمارے پاس کل چار صورتیں بن گئیں۔ ایک یہ کہ آپ کو ایک چیز کا یقین ہو۔ زید عمر کا بھئی ہے، یقین ہے آپ ‏‏کو، یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے، شاباش۔ دوسری صورت، آپ کو پتہ نہیں ہے۔ تو آپ دوسرے ساتھی سے کہتے ہیں: زید عمر ‏‏کا بھئی ہوگا۔ دونوں جانبیں برابر ہیں، تو اس کا نام کیا ہے؟ اس کو شک کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ شک۔ اور یہ کس قسم ‏‏میں سے ہے؟ جی؟ شک شک، ہاں تو یہ شک ہے، اور یہ کس قسم میں سے ہے؟ تصور کی قسم میں سے ہے۔ اور اگر آپ ‏‏کا زیادہ خیال ہے ایک چیز کا، اا... کہ مثلاً زیادہ خیال یہ ہے کہ زید عمر کا بھئی ہے۔ لیکن تھوڑا سا ذہن میں یہ بھی آتا ‏‏ہے کہ ہو سکتا ہے یہ اس کا بھئی نہ ہو۔ چونکہ زیادہ، تو یہ جو زیادہ خیال ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن کہتے ہیں۔ اور ‏‏یہ کس قسم میں سے ہے؟ تصدیق کی قسم ہے۔ اور وہ جو تھوڑا خیال ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم کہتے ہیں، اور وہ ‏‏کس قسم میں سے ہے؟ تصور کی قسم میں سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا تصدیق میں یقین کا ہونا ضروری ہے۔ یقین ہوگا یا قریب ہوگا یقین کے۔ صورت ‏‏سمجھ میں آ گئی؟ آپ نے ابھی نہومیر نہیں پڑھی، اسی سال آپ انشاء اللہ جب نہومیر پڑھیں گے۔ اور وہاں چل کر آپ کو بتلائیں گے کہ جملہ ‏‏دو قسم پر ہوتا ہے۔ ایک جملہ انشائیہ ہوتا ہے، ایک جملہ خبریہ ہوتا ہے۔ جملہ کتنی قسم کا؟ دو قسم کا۔ ایک جملہ انشائیہ۔ جملہ انشائیہ، نام زبان سے دہراؤ بھئی، ابھی آنے والے ہیں، آپ پڑھ رہے ‏‏ہیں کتابیں انشاء اللہ چند دنوں میں ہی، وہ کتابوں کے اندر نہومیر وغیرہ میں یہ چیزیں آ جائیں گی، لیکن ابھی سے سمجھ ‏‏لو۔ جملہ کتنی قسم پر؟ دو قسم پر، ایک جملہ انشائیہ، دہراؤ زبان سے۔ جملہ انشائیہ، اور دوسرا جملہ خبریہ۔ ہاں، پہلی قسم ‏‏کیا ہے؟ ایک قسم کیا ہے؟ جملہ انشائیہ، اور دوسری قسم؟ جملہ خبریہ۔ یاد رکھو، جملہ خبریہ، ابھی تک ہم جو مثالیں ذکر کر رہے تھے، یہ جملہ خبریہ کی ہیں۔ جملہ خبریہ میں ایک چیز کو ‏‏دوسری چیز کے لیے ثابت کیا جاتا ہے یا اس کی نفی کی جاتی ہے۔ زید عالم ہے۔ دیکھو میں نے زید کے لیے کیا ثابت کیا؟ عالم ہونے کو، تو یہ جملہ خبریہ ہے۔ میں نے آپ کو خبر دی، اے، ‏‏میں نے آپ کو ایک بات بتلائی کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے، یا میں سے آپ سے مثلاً کہتا ہوں کہ زید میرے پاس پرسوں آیا ‏‏تھا، تو میں نے آپ کو ایک بات بتلائی یا نہیں بتلائی؟ تو یہ بھی جملہ خبریہ ہے۔ تو جملہ خبریہ میں ہمیشہ دوسرے کو ‏‏کوئی بات بتلائی جاتی ہو، بتلائی جاتی ہے۔ تو اس میں ہمیشہ دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جس کے بارے میں بات کی ‏‏جائے اور ایک وہ جو بات کی جائے۔ اس کو جملہ خبریہ کہتے ہیں۔ جملہ خبریہ میں دوسرے کو خبر دی جاتی ہے، دوسرے کو بات بتلائی جاتی ہے۔ دہرائیں، جملہ خبریہ میں دوسرے کو ‏‏بات بتلائی جاتی ہے، خبر دی جاتی ہے۔ بات بتلانے کو کیا کہتے ہیں؟ خبر دینا۔ تو دوسرے کو خبر دی جاتی ہے، بات ‏‏بتلائی جاتی ہے۔ اور یا یوں کہیں کہ جس میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو ثابت کیا جاتا ہے یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ‏‏کی جاتی ہے۔ جبکہ جملہ انشائیہ میں ایسا نہیں ہوتا۔ جملہ انشائیہ کی آپ پڑھیں گے، تقریباً اا... جملہ انشائیہ کی آٹھ دس قسمیں ہیں بھئی، ‏‏وہ آپ پڑھیں گے انشاء اللہ نہومیر وغیرہ میں۔ مثلاً آپ کسی ساتھی سے کہتے ہیں: آپ کا کیا نام ہے؟ دیکھو، ابھی آپ نے ‏‏اس کو کوئی بات بتلائی؟ نہیں، یہ تو آپ اس سے پوچھ رہے ہیں، تو یہ جملہ خبریہ نہیں ہے، یہ کیا ہے؟ جملہ انشائیہ۔ تو ‏‏یاد رکھیں، یہ جو سوال کیا جاتا ہے کسی سے، یہ جملہ انشائیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ اسی طرح کبھی کسی کو حکم دیا جاتا ہے۔ ‏‏استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے کہ میرے لیے پانی لے کر آؤ۔ اب استاد نے شاگرد کو کوئی بات بتلائی یا اس سے کوئی کام ‏‏طلب کیا، اس کو کوئی حکم دیا؟ استاد نے اس کو حکم دیا ہے، کوئی بات نہیں بتلائی۔ تو یہ جو حکم دینا ہے، کوئی کام ‏‏کسی سے طلب کرنا ہے کہ ایسا کر دو، اس کو امر کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ امر، نحو میں بھی آپ پڑھیں گے، صرف ‏‏میں بھی آپ پڑھیں گے، اور امر، یہ بھی جملہ انشائیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ تو یہ انشاء کی قسم ہے، انشاء کی!‏ اسی طرح بعض اوقات کسی کو آپ ایک کام سے روکتے ہیں۔ مثلاً استاد شاگرد سے کہتا ہے: اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ اب ‏‏استاد ایک کام سے، کوئی خبر دے، استاد کوئی خبر دے رہا ہے شاگرد کو؟ خبر نہیں دے رہا، اس کو ایک کام سے روک ‏‏رہا ہے، یعنی اس سے ایک چیز کو طلب کر رہا ہے نہ کرنے، اس سے ایک چیز کے نہ کرنے کو طلب کر رہا ہے کہ ‏‏ایسا نہ کرو۔ تو یہ، اس کو نہی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ نہی کہتے ہیں، اور نہی بھی انشاء کی قسم ہے۔ گرمی لگ رہی ہے؟ جتنی قربانی دو گے، دین کے اندر جتنی قربانی دو گے، اللہ اتنی ہی برکتیں نصیب فرما دیں گے۔ ‏‏ہمارے بڑے علماء، یہ تو پنکھے آج کل آئے ہیں۔ پہلے پنکھے ہوتے ہی نہیں تھے۔ ابھی بھی دیہات میں، مدارس میں چلے ‏‏جائیں، بعض مدرسوں میں ابھی بھی پنکھے نہیں ہیں۔ اور 50 یا 100 سال پہلے تو کسی مدرسے میں بھی پنکھے نہیں ‏‏ہوتے تھے۔ طالب علم اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی لیے ان کے علم میں برکت زیادہ ہوتی تھی۔ گاؤں کے سیدھا سادا ‏‏آدمی ہوتا تھا لیکن اتنا کام کر جاتا تھا کہ دنیا حیران ہوتی تھی بھئی۔ تو آپ کو میں نے بتلایا کہ ایک ہے اا... ایک ہے استفہام، یعنی سوال پوچھنا کسی سے۔ استفہام کس ق... کس قسم میں سے ‏‏ہے؟ یہ جملہ، یہ انشاء کی قسم ہے، جملہ انشائیہ ہوتا ہے۔ ایک ہے کسی دوسرے کو حکم دینا، اس کو امر کہتے ہیں، یہ ‏‏بھی کس قسم میں سے ہے؟ جملہ انشائیہ۔ اور ایک ہے کسی دوسرے کو کسی کام سے روکنا، اس کو نہی کہتے ہیں۔ کیا ‏‏کہتے ہیں؟ نہی کہتے ہیں۔ نہی بھی کس قسم میں سے ہے؟ یہ بھی جملہ انشائیہ ہے، یعنی انشاء کی قسم میں سے ہے۔ تو انشاء کی دو تین قسمیں میں نے بیان کر دیں، پہلا کیا؟ امر ہے، کسی کو حکم دینا، ایک قسم۔ دوسری؟ نہی ہے، کسی کو ‏‏دوسرے کام سے روکنا۔ تیسرا؟ استفہام! تیسرا کیا ہے؟ استفہام، کسی سے کوئی سوال پوچھنا، یہ بھی کس قسم میں سے ‏‏ہے؟ انشاء کی قسم ہے، جملہ انشائیہ ہے۔ اسی طرح یاد رکھیے، قسم ہے، قسم!‏ آپ بعض اوقات کسی بات پر قسم اٹھاتے ہیں، تو یہ جو قسم ہے "خدا کی قسم"، اردو میں یوں کہتے ہیں نا "خدا کی قسم"، ‏‏اسی کو ذرا پورا کر دیں "میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں"، وہی معنیٰ نا، خدا کی، صرف "خدا کی قسم" کہہ لیں، "اللہ کی قسم" ‏‏کہہ لیں یا یوں کہہ لیں "میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں"۔ یاد رکھیے یہ بھی انشاء ہے۔ یہ بھی کیا ہے؟ کیوں؟ اس میں میں کوئی بات آپ کو نہیں بتلا رہا، میں اللہ کی قسم کھا رہا ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ میں ‏‏آپ کو کوئی چیز بتلا نہیں رہا بلکہ کیا کر رہا ہوں؟ اللہ کی قسم کھا رہا ہوں۔ تو یہ قسم جو ہے، یہ بھی انشاء کی قسم ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ کل دس قسمیں ہیں، تین چار میں نے بیان کر دیں سمجھانے کے لیے۔ اب دیکھیے، یہ جو ‏‏جملہ انشائیہ ہوتا ہے، اس میں بھی جملہ پورا ہوتا ہے۔ اس میں بھی کیا ہوتا ہے؟ جملہ پورا ہوتا ہے، مثلاً میں نے آپ سے ‏‏پوچھا: آپ کا کیا نام ہے؟ جملہ پورا ہے یا نہیں؟ جملہ پورا ہے، لیکن اس کو تصدیق نہیں کہیں گے، کیونکہ یہ جملہ انشائیہ ‏‏ہے اور جملہ انشائیہ تصور کی قسم ہے۔ میں نے آپ سے کہا: زید کی پٹائی کرو!‏ اب مجھے بتاؤ، زید کی پٹائی کرو، یہ کس قبیل سے ہے؟ جی؟ جملہ انشائیہ کی کون سی قسم ہے یہ؟ جملہ انشائیہ تو ‏‏تصور ہے، یہ جملہ انشائیہ کی کون سی قسم ہے؟ میں نے تین چار قسمیں بتائیں۔ یہ امر ہے، یہ میں آپ کو حکم دے رہا ‏‏ہوں: زید کی پٹائی کرو! تو یہ امر ہے، اور امر کیا ہے؟ انشاء، اور انشاء کس قسم میں سے؟ تصور کی قسم میں سے۔ تو بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو کیا حاصل کلام کیا؟ کہ بعض اوقات ایک ہی تصور کے اندر ایک ہی لفظ ‏‏ہوگا، جیسے زید، یہ کیا ہے؟ تصور ہے۔ بعض اوقات لفظ زیادہ ہوں گے لیکن بات پوری نہیں ہوگی، زید کا بھئی، یہ کیا ‏‏ہے؟ دیکھو لفظ زیادہ ہیں لیکن بات پوری نہیں، یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ اسی طرح بعض اوقات، بعض اوقات بات پوری ‏‏ہوگی لیکن اس میں آپ کو شک ہوگا، وہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ بعض اوقات بات پوری ہوگی لیکن اس میں آپ کو زیادہ ‏‏خیال ہوگا ایک چیز کا، وہ کیا ہے؟ وہ تصدیق ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن۔ اور وہ جو تھوڑا خیال ہے، اس کو کیا ‏‏کہتے ہیں؟ وہم۔ اور اسی طرح بعض اوقات جو ہے وہ جملہ انشائیہ ہوگا، جملہ تو پورا ہے لیکن جملہ خبریہ نہیں ہے بلکہ ‏‏جملہ انشائیہ، وہ بھی کس قسم میں سے؟ وہ بھی تصور کی قسم میں سے۔ تو تصور کی گویا کئی قسمیں بن گئیں۔ کبھی ‏‏تصور میں ایک لفظ ہوتا ہے، کبھی لفظ زیادہ ہوتے ہیں لیکن بات پوری نہیں ہوتی، یہ بھی تصور۔ کبھی اس میں جملہ پورا ‏‏ہوتا ہے، جملہ پورا، بات پوری ہوتی ہے لیکن اس کے اندر شک ہوتا ہے، تو اس، وہ بھی کس میں سے؟ تصور میں سے، ‏‏یا تھوڑا خیال ہوتا ہے، وہ بھی کس قسم میں سے؟ تصور میں سے، یا جملہ تو پورا ہوتا ہے لیکن وہ جملہ انشائیہ ہوتا ہے: ‏‏امر یا نہی یا استفہام یا قسم، وہ بھی کس قسم میں سے؟ تصور، تو دیکھا تصور کی کئی قسموں کا آج آپ کو پتہ چل گیا۔ ‏‏جبکہ تصدیق، تصدیق میں آپ کو یقین ہونا ضروری یا غالب گمان ہونا ضروری ہے، یعنی ظن کا ہونا ضروری ہے۔ زید عالم ہے۔ کیا یہ ہمیشہ تصدیق ہی ہوگی یا تصور بھی ہو سکتا ہے؟ زید عالم ہے۔ تصور بھی ہو سکتا ہے، اسی میں اگر شک آ گیا، یہ کیا بن جائے گا؟ یہی اگر وہم ہوا تو یہ بھی کیا بن جائے گا؟ تصور۔ ‏‏ہاں، اگر زید عالم ہے اس کا آپ کو یقین ہے یا اس کا زیادہ خیال ہے، تو پھر اس صورت میں یہ کیا ہے؟ تو تصدیق میں ‏‏زیادہ خیال ہونا یا یقین کا ہونا ضروری ہے۔ اور اسی طرح جو، اور جملہ انشائیہ کے بارے میں بھی آپ نے جان لیا، وہ ‏‏کس قسم میں سے ہے؟ تصور کی قسم میں سے ہے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے بھئی، دوبارہ ذرا کتاب پر دیکھ لیں بھئی، پہلا سبق ہمارا مکمل ہو رہا ہے، دوبارہ سارا دیکھ لیں:‏ سبق اول: علم کی تعریف اور اس کی قسمیں علم: کسی شے کی صورت کا تمہارے ذہن میں آنا، جیسے زید کسی نے بولا اور تمہارے ذہن میں اس کی صورت آئی، یہ ‏‏زید کا علم ہے۔ علم کی دو قسمیں ہیں: تصور اور تصدیق۔ تصدیق: یہ علم اس بات کا ہے کہ فلاں شے فلاں شے ہے۔ فلاں شے؟ جیسے کہ تم کو اس بات کا علم ہو کہ زید عمر کے ‏‏والد ہیں، دیکھو پوری بات ہے۔ اور تصور وہ علم ہے جس میں اس قسم کا علم نہ ہو، جیسے صرف زید کا علم یا مثلاً زید کا غلام، یہ سب کیا ہیں؟ تصور ‏‏ہیں۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اب یہ ذرا مثالیں ہیں، سوالات پوچھے ہیں کتاب کے اندر، ان کو بھی حل کر ‏‏لیتے ہیں۔ لکھا ہے: ان مثالوں میں غور کرو اور بتاؤ کہ تصور کون ہے اور تصدیق کون؟ زید کا گھوڑا: تصور ہے، شاباش!‏ عمر کی بیٹی: تصور ہے، شاباش! کیونکہ بات پوری نہیں۔ تیسرا ہے: عمر زید کا غلام: یہ بھی تصور ہے، شاباش! کیونکہ بات پوری نہیں۔ نمبر چار: بکر خالد کا بیٹا ہوگا:‏ بکر، توجہ سے، بکر خالد کا بیٹا ہوگا:‏ جی؟ تصور ہے، کیسے پتہ چلا؟ شاباش، شک ہو گا، یہ ہو گا کا لفظ بتلا رہا ہے۔ شاباش، تو بکر خالد کا بیٹا ہوگا، یہ کیا ‏‏ہے؟ تصور ہے۔ سرد پانی: تصور ہے۔‏ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔ تصدیق ہے، شاباش! کیونکہ پوری بات ہے۔ جنت حق ہے۔ تصدیق ہے، شاباش!‏ دوزخ کا عذاب: تصور ہے، پوری بات نہیں۔ قبر کا عذاب حق ہے۔ یہ بھی تصدیق ہے، شاباش! کیونکہ پوری بات ہے۔ مکہ معظمہ: یہ بھی تصور ہے، شاباش!‏ دیکھا بھئی! اب مجھے بتاؤ منطق مشکل ہے؟ انشاء اللہ بالکل آسان ہے۔ دیکھو یہ سوالات ہیں، آپ نے کتنے آرام سے حل ‏‏کر لیے! ہم آگے بڑھتے چلے جائیں گے، انشاء اللہ کوئی آپ کا منطق میں مقابلہ نہیں کر سکے گا انشاء اللہ، ٹھیک ہے؟ ‏‏اور کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، جب تک آپ کو بات سمجھ میں نہیں آئے گی ہم آگے چلیں گے ہی نہیں، بات سمجھ میں ‏‏آ جائے گی پھر آگے چلیں گے، ٹھیک ہے؟ تو ذرا بھی پریشان نہیں ہونا، انشاء اللہ یہ بہت آسان ہے اور بہت دلچسپ ہے ‏‏بھئی، بہت دلچسپ ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔