اچھا بھئی کتاب پر دیکھیے۔ علم کی دو قسمیں ہیں، نمبر ایک: تصور، اور نمبر دو: تصدیق۔ تصدیق: علم اس بات کا ہے کہ فلاں شئے فلاں شئے ہے، جیسے کہ تم کو اس بات کا علم ہو کہ زید عمر کا باپ ہے۔ تصور: وہ علم ہے جس میں اس قسم کا علم نہ ہو، جیسے صرف زید کا علم، یا مثلاً زید کا غلام۔ اچھا بھئی کل کے سبق میں ہم نے کل کے سبق میں ہم نے علم کے بارے میں پڑھا تھا۔ آپ نے پڑھا، علم کا کیا معنی ہے؟ جاننا۔ کسی چیز کو جاننا اور پہچاننا بھئی۔ تو کسی چیز کا کی یہ جو پہچان ہمارے ذہن میں ہو، تو ہم کہتے ہیں ہمیں اس چیز کا علم ہے۔ میں نے کئی مثالوں سے اس ‏‏کی وضاحت کی تھی، مثلاً بادشاہی مسجد کا نام لیا اور فوراً اس کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی، معلوم ہوا آپ کو ‏‏بادشاہی مسجد کا علم ہے۔ اور اگر ایک چیز کا نام لیا جائے اور کوئی صورت آپ کے ذہن میں نہیں آتی کیونکہ آپ اس کو جانتے نہیں، پہچانتے ‏‏نہیں، تو ہم کہیں گے کہ اہ کہ یہ جو سننے والا ہے وہ اس چیز سے جاہل ہے، یعنی اس کو اس چیز کا علم نہیں ہے۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ انسان جو ہے اس کے اندر اصل حاکم روح ہے۔ یعنی یہ تمام چیزوں کے کرنے، نہ کرنے ‏‏وغیرہ کا حکم دینے والی کون ہوتی ہے؟ روح۔ مثلاً آپ کہیں جانا چاہ رہے ہیں، تو یہ دراصل روح ہے، یہ بدن خود نہیں ‏‏چل رہا، روح ادھر جانا چاہتی ہے تو وہ بدن کو اس طرف لے چلتی ہے بھئی۔ تو روح کا حکم ہوتا ہے اور بدن اس کا آلہ ہے، یہ اس کے تابع ہوتا ہے، اس کے تا اور اس کے حکم پر عمل کرتا ہے۔ ‏‏جیسے گاڑی کے اندر ڈرائیور ہوتا ہے، گاڑی اس کے تابع ہوتی ہے، وہ جدھر کو گاڑی لے جانا چاہے لے جاتا ہے۔ تو اسی طرح روح اصل حاکم ہے۔ یعنی وہ حکم دیتی ہے، وہ فیصلہ کرتی ہے اور بدن اس کے تابع ہوتا ہے۔ پھر اس روح کو اللہ نے مختلف قسم کی قوتیں ‏‏نصیب فرمائی ہیں بھئی۔ اور ان میں سب سے بڑی جو قوت ہے وہ عقل کی ہے بھئی، عقل۔ تو عقل ایک قوت ہے۔ اور پھر اس عقل کو آگے اللہ نے مزید قوتیں نصیب فرمائی ہیں جن کے ذریعے عقل مختلف کام ‏‏سرانجام دیتی ہے۔ مثلاً ہم چیزوں کو دیکھتے ہیں، تو یہ معلومات آنکھوں کے ذریعے سے عقل میں پہنچتی ہیں۔ ہم کسی ‏‏بات کو سنتے ہیں، تو یہ بات کانوں کے ذریعے سے، کان سنتے ہیں اور کہاں پہنچاتے ہیں؟ عقل کے اندر پہنچاتے ہیں ‏‏بھئی۔ عقل کے اندر، جیسے کسی جیسے ملک کی تمام خبریں جو ہیں مرکز کے اندر پہنچتی ہیں اور اور پھر مرکز میں وہاں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کیا کرنا ‏‏ہے، یہ کس قسم کی خبریں ہیں۔ تو عقل فیصلہ کرتی ہے۔ جیسے مثال میں نے ذکر کی تھی، آپ نے دیوار کے پیچھے سے زید کی آواز سنی، فوراً یہ آواز ‏‏کانوں نے دماغ تک پہنچائی، عقل تک پہنچائی اور عقل نے فوراً فیصلہ دیا آپ کو کہ بھئی یہ تو زید کی آواز ہے۔ میرے ‏‏پاس ریکارڈ میں یہ آواز محفوظ ہے، یہ کس کی آواز ہے؟ زید کی۔ معلوم ہوا باہر زید آیا ہے بھئی۔ کانوں نے تو صرف سنا، لیکن یہ کس نے بتایا آپ کو باہر زید ہے؟ یہ عقل نے بتایا بھئی۔ تو عقل ایک آئینہ ہے، اس کے ‏‏سامنے جو چیز آتی ہے وہ اس کی شکل اس کے اندر آجاتی ہے، لیکن ایک ظاہری آئینہ ہے اس میں صرف ظاہری جو ‏‏آنکھوں سے نظر آنے والی چیزیں ہیں ان کی صورتیں آتی ہیں اس ظاہری آئینے میں۔ لیکن عقل ایک ایسا روحانی آئینہ ‏‏ہے، اس میں ان چیزوں کی بھی صورتیں آجاتی ہیں جن کی ظاہری دنیا میں جو آنکھوں سے ہمیں دکھائی نہیں دیتیں۔ مثلاً ‏‏ذائقے کی بھی صورت اس میں آجاتی ہے، خوشبو کی صورت بھی اس میں آجاتی ہے، آواز کی صورت بھی آجاتی ہے۔ ‏‏صورت کیا معنیٰ؟ یعنی اس کی پہچان، اس کی پہچان اس میں آجاتی ہے اور عام آئینے کے سامنے تو جب ایک چیز آتی ‏‏ہے اور سامنے سے ہٹ جائے وہ صورت ختم ہو جاتی ہے، لیکن عقل کے سامنے جب ایک چیز آجاتی ہے اور عقل اس ‏‏کو پہچان لے، اس کو آپ جان لیں تو عقل اس کو اپنے پاس محفوظ کر لیتی ہے۔ اور پھر جب ضرورت پیش آتی ہے، آپ اس سے کوئی بات پوچھتا ہے، آپ سوچنے لگتے ہیں، کسی نے کوئی پرانی بات آپ سے پوچھی، تو آپ سوچنے لگتے ہیں۔ یہ دراصل آپ کیا کر رہے ہیں؟ یہ دراصل عقل اس ‏‏الماری کے خانے میں وہ چیز تلاش کر رہی ہے کہ بات کس طرح ہوئی تھی، کیا ہوا تھا اور وہ باتیں اگر محفوظ ہوں، ‏‏حافظہ قوی ہو، وہ فوراً نکال کے عقل کہہ دے گی ہاں یہ بات یوں یوں ہوئی تھی، فلاں نے یوں کہا تھا، پھر فلاں نے یوں ‏‏کہا تھا۔ اور اگر حافظہ کمزور ہوا تو پھر ذرا دیر لگے گی اور اگر اور زیادہ کمزور ہوا تو بعض اوقات یاد ہی نہیں آئے ‏‏گی بات کہ کیا بات ہوئی تھی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے علم بھئی۔ علم جو عقل میں چیزوں کی صورت اور پہچان آتی ہے وہ اس چیز کا علم ہے۔ اور جس چیز کی صورت آئے، اس کو معلوم ‏‏کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ معلوم کہتے ہیں، معلوم۔ اس کے بعد میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ چیزیں دو قسم کی ہیں، ایک عین اور ایک عرض۔ عین وہ چیز جس کا اپنا الگ ‏‏وجود ہو۔ جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج نہ ہو۔ یہ جتنی چیزیں آپ کو آنکھوں سے نظر آرہی ہیں یہ ساری عین ہیں، ان کا اپنا ‏‏الگ وجود ہے۔ یہ کتاب ہے، یہ تفائی ہے، یہ پنکھا، یہ دیوار، یہ کھڑکی، یہ پردے، یہ جو جو کچھ سامنے آپ کو نظر آرہا ‏‏ہے، یہ سب کیا ہیں؟ عین ہیں، ان کا اپنا الگ وجود ہے۔ آپ کی اپنی ذات ہے، یہ عین ہے بھئی، اس کا اپنا الگ وجود ہے۔ ‏‏اور کچھ چیزیں وہ ہوتی ہیں کہ جن کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا، ہمارے ذہن میں تو آتی ہیں، ہم اس کو سمجھتے ہیں، جانتے ہیں، لیکن خارج میں اس کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا۔ جیسے مثال میں نے ذکر کی تھی سفیدی۔ سفیدی کا اپنا الگ وجود نہیں ہے، وہ ہمیشہ کسی چیز کی صفت ہوگی، کسی چیز ‏‏کے ساتھ لگی ہوگی اور وہ چیز ہمیں سفید نظر آئے گی۔ یا جیسے میں نے ذکر کیا تھا مطلب جیسے گلاب کی پتیوں کا رنگ ہے۔ یہ رنگ کوئی الگ چیز نہیں، یہ انہی پتیوں کے ‏‏اندر ان کی صفت ہے جو ہمیں دکھائی دے رہی ہے۔ یہ پتیاں نہ ہوتیں تو یہ والا رنگ بھی ان میں نہ ہوتا، الگ ان سے ‏‏یعنی ان پتیوں سے نہیں ہو سکتا۔ یا جیسے اسی طرح گلاب کی خوشبو ہے بھئی۔ تو یہ خوشبو کیا ہے؟ اس گلاب کی صفت ہے، اس کا اپنا الگ وجود نہیں ہے بھئی۔ یا جیسے سخاوت ہے۔ اور واضح مثال بھئی۔ سخاوت دیکھو، سخاوت کا کوئی اپنا الگ وجود، آپ نے کبھی سخاوت کا وجود دیکھا ہے؟ نہیں، سخاوت تو کہتے ہیں مال کو کوئی کھلے ‏‏دل کے ساتھ جو خرچ کرتا ہے، دوسروں کی مدد کرتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سخاوت۔ تو یہ ایک تو ایک عمل کا نام ہے، اس کا تو اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے بھئی۔ یا بہادری، بہادری کا کوئی اپنا الگ ‏وجود ‏نہیں ہے۔ ہاں، یہ کسی کی صفت ہوتی ہے، وہ موصوف ہوگا تو اس کی بہادری بھی ہوگی۔ وہ موصوف نہیں تو بہادری کا اپنا الگ ‏‏وجود بھی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ ان کو عرض کہتے ہیں، را کے فتحہ کے ساتھ، عین پر بھی زبر پڑھو اور را پر بھی زبر، عرض۔ تو ایک ہے عین ‏‏اور ایک ہے عرض۔ عین کسے کہتے ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود۔ عرض وہ جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو، دوسری چیز کی ‏‏صفت ہو، وہ چیز ہے تو اس کا بھی وجود ہے، وہ چیز نہیں تو اس کا بھی وجود نہیں ہے بھئی۔ اس کے بعد ایک اور چھوٹی سی بات میں نے ذکر کی تھی: قولِ معقول اور قولِ ملفوظ کی۔ قول بات کو کہتے ہیں بھئی۔ بات کو کہتے ہیں۔ اور اور جو کچھ بھی ہم زبان سے بولتے ہیں پہلے ذہن میں وہ بات آتی ہے، عقل میں وہ بات آتی ہے اور پھر ہم زبان کو ‏‏حرکت دیتے ہیں اور اس کو ادا کر دیتے ہیں زبان سے، یعنی اس پر تلفظ کرتے ہیں۔ یہ جو زبان سے ہم کوئی لفظ بولتے ‏‏ہیں اس کو کہتے ہیں تلفظ کرنا اس پر، کیا کہتے ہیں؟ اور یہ جو زبان سے یہ مطلب یہ جو ادا کر رہے ہیں، ان کو لفظ ‏‏کہتے ہیں۔ لفظ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ان پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ یہ میں جو کچھ بول رہا ہوں یہ کیا ہیں؟ الفاظ ہیں اور لفظ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ وہ جس پر تلفظ کیا زبان سے آپ نے، جس کو منہ سے ادا کیا، منہ سے وہ بات نکالی، وہ کیا ہے؟ وہ الفاظ ہیں اور الفاظ ‏‏جن پر ہم کیا کرتے ہیں؟ تلفظ کرتے ہیں۔ ہر آواز کو لفظ الفاظ نہیں کہتے۔ سمجھ میں آیا؟ بکری بھی آواز نکالتی ہے، بھینس بھی آواز، لیکن ان کو الفاظ نہیں کہتے۔ لفظ کسے کہتے ہیں؟ جس پر ‏‏انسان کیا کرتا ہے؟ تلفظ کرتا ہے، جو بولتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جو بھی بات ہم کہتے ہیں، بولتے ہیں، پہلے ہماری عقل میں آتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہ بات کرنی ہے اور پھر زبان ‏‏کے ذریعے وہ لفظ بول دیتے ہیں۔ تو جب تک وہ بات عقل میں ہے اس کو کہتے ہیں قولِ معقول۔ یعنی وہ بات جو عقل میں آئی ہے۔ اور وہی بات جب ہم زبان سے کہہ دیتے ہیں تو اس کو کہتے ہیں قولِ ملفوظ بھئی۔ قولِ ملفوظ کہ اس پر ہم نے تلفظ کر دیا۔ تلفظ کر دیا۔ اور میں نے بتایا تھا نحوی کی اصل توجہ قولِ معقول کی طرف ہے، وہ جتنی باتیں کرتا ہے عموماً وہ قولِ معقول کے ‏‏بارے میں کرتا ہے کہ ہماری عقل میں کیا کیا باتیں آتی ہیں اور وہ کس قسم کی ہوتی ہیں۔ وہ ان کے بارے میں بحث کرتا ہے۔ ہاں، بعض اوقات اسے قولِ ملفوظ پر کے بارے میں بھی بات کرنا پڑتی ہے اس سے کیونکہ قولِ ملفوظ بھی بہت قیمتی ‏‏ہے، بیکار نہیں ہے۔ دیکھو، ایک بات آپ کی عقل میں ہے، جب تک عقل میں ہے ساتھ والے کسی کو پتہ نہیں اور آپ تو ‏‏ساتھ والے کو بتانا چاہتے ہیں، مثلاً آپ اس سے کہنا چاہتے ہیں مجھے پیاس لگی ہے، پانی لے کر آؤ۔ تو اب ذہن میں ہزار ‏‏دفعہ سوچیں ساتھ والا تو کبھی پانی نہیں لے کر آئے گا، مجبور ہو کر آپ کو زبان سے کہنا پڑے گا کہ بھئی میرے لیے ‏‏پانی لے آؤ۔ اب وہ آپ کی بات سمجھ گیا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے، کیا چیز طلب کر رہا ہے، وہ جائے گا اور آپ کے لیے ‏‏پانی لے آئے گا۔ تو قولِ ملفوظ بھی بیکار نہیں ہے، بہت قیمتی، اسی کے ذریعے ہم دیکھو یہ جو آپ سب سبق میں آپ کو سمجھا رہا ہوں ‏‏کس کے ذریعے سمجھا رہا ہوں؟ قولِ ملفوظ کے ذریعے، تو قولِ ملفوظ کے ذریعے ہم آپس میں ایک دوسرے کو اپنے دل ‏‏کی بات سمجھاتے ہیں، جو کہنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں۔ تو بہرحال، تو منطقی پھر قولِ ملفوظ کے بارے میں بھی بحث ‏‏کرتا ہے لیکن اصل توجہ اس کی کس کی طرف ہوتی ہے؟ قولِ معقول کی طرف بھئی، قولِ معقول کی طرف۔ اب آئیے جی آج کے سبق میں بھئی۔ آج کے سبق میں وہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ علم کی دو قسمیں، علم تو پتہ چل گیا آپ کو، علم کسے کہتے ہیں؟ جاننا، کسی چیز کی صورت کا ذہن میں آنا، یہ کیا ہے؟ علم ہے۔ اب آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہ علم دو قسم کا ہے، ایک کو تصور کہتے ہیں اور ایک کو تصدیق کہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں سمجھو بھئی، تصدیق وہ ہے جس میں بات پوری ہو۔ اور تصور وہ ہے جس میں بات پوری نہ ہو، چاہے جتنے بھی لفظ آ جائیں لیکن بات پوری نہیں تو وہ تصور ہے، اور اگر ‏‏بات پوری ہے تو اس کو تصدیق کہتے ہیں۔ اب دیکھیے مثلاً آپ مجھے بتائیے، میں آپ کے سامنے کوئی بات کرتا ہوں آپ نے مجھے بتانا ہے بات پوری ہے یا بات ‏‏پوری نہیں۔ زید اور عمر اور بکر اور خالد۔ پوری ہے؟ نہیں، آپ کہیں گے بھئی کیا ہوا ان چاروں کو، اب بات تو پوری کریں۔ تو یہ کیا ہے، تصور ہے یا تصدیق ہے؟ یہ تصور ہے، چاہے جتنے بھی لفظ ہوں، 20 ہوں، 30 ہوں، جتنے بھی ہوں، جب تک بات پوری نہیں یہ تصور ہے۔ اور ‏‏جب بات پوری ہو جائے تو پھر وہ تصدیق۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، زید عالم ہے۔ تصدیق ہے، اس میں پوری بات ہو گئی، آپ کو سمجھ میں آگئی میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں آپ کو کہ زید عالم ہے۔ دیکھو، ‏‏زید الگ ذات ہے، زید کا الگ معنی، عالم ہونے کا الگ معنی، میں نے زید پر حکم لگا دیا کہ وہ کیا ہے؟ عالم۔ یہ یاد رکھو، میں نے جو کہا نہ "زید عالم ہے‎"‎، یہ کیا ہے تصور ہے یا تصدیق ہے؟ تصدیق ہے، یاد رکھو تصدیق میں دو چیزیں ہوں گی۔ تصدیق میں کتنی چیزیں ہوں گی؟ دو چیزیں، ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور ایک وہ آگے بات ہوگی۔ زید عالم ہے، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، تو زید وہ ہے جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے اور کیا بات کی؟ کہ وہ عالم ہے، تو یہ عالم ہے دیکھو یہ اس کی خبر ہے۔ پہلے کو علمِ نحو میں آپ آگے جا کر پڑھیں گے، ابھی سے بلکہ اس کو سمجھ لیں، جس کے بارے میں بات کی جائے اس ‏‏کو کہتے ہیں مبتدا۔ اور جس اور جو بات کی جائے اس کو کہتے ہیں خبر۔ جس کے بارے میں، دوبارہ دہرائیں، جس کے بارے میں بات کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبتدا، اور جو بات کی جائے ‏‏اس کو کیا کہتے ہیں؟ خبر کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور یہ مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی ہو سکتا ہے، میں نے کہا "زید عالم ہے"، مجھے بتائیے میں نے زید کے لیے ‏‏عالم ہونے کو ثابت کیا یا اس کی نفی کی؟ نفی کا مطلب ہے یعنی اس سے اس حکم کو کاٹ دینا کہ ایسا نہیں ہے۔ مجھے بتائیے، میں نے کیا کہا، "زید عالم ہے" یا "عالم نہیں ہے"؟ عالم ہے، تو یہ میں نے زید کے لیے عالم ہونے کا اثبات کیا یوں کہیں گے، زید کے لیے میں نے توجہ ہے؟ میں نے زید کے لیے عالم ہونے کا اثبات کیا اور اگر میں کہوں "زید عالم نہیں ہے"، تو میں تو یوں کہیں گے ‏‏کہ میں نے زید سے عالم ہونے کی نفی کی المعانی۔ باتیں دو طرح ہو سکتی ہیں نا کہ اس ان میں اثبات بھی ہو سکتا ہے اور اس میں نفی، میں کہتا ہوں "زید عالم ہے"، یہ بھی ‏‏ایک بات ہے۔ اور میں یہ کہتا ہوں کہ زید مثلاً "زید عالم نہیں ہے"، یہ بھی ایک بات ہے، لیکن ایک بات میں اثبات ہے اور ایک میں کیا ‏‏ہے؟ نفی، بلکہ ایک میں زید کی مثال بنا لو، مثلاً دوسرے میں عمر کی بنا لو، میں کہتا ہوں زید عالم ہے۔ اور عمر عالم نہیں ہے، دیکھا، تو زید کے لیے عالم ہونے کا اثبات اور عمر سے عالم ہونے کی نفی، اور بات ایک میں پوری ہے کہ دونوں میں ‏‏پوری ہے؟ زید عالم ہے، پوری ہے، ادھوری ہے؟ اچھا، عمر عالم نہیں ہے، یہ بھی پوری ہے، دونوں باتیں پوری ہیں بھئی، تو باتیں پوری ہونے کی بھی دو صورتیں ہو گئیں، کبھی اثبات ہوتا ہے ‏اس ‏میں اور کبھی کیا ہوتی ہے؟ نفی ہوتی ہے۔ آپ بھی دیکھیں آپ جتنی باتیں آپس میں کرتے ہیں کسی میں ایک بات دوسری کے لیے ایک چیز ثابت کر رہے ہوتے ہیں، ‏‏کبھی ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ اپنے ساتھی کو کہتے ہیں، میں آج بازار نہیں گیا تھا۔ دیکھا، آپ نے اپنے سے بازار جانے کی نفی کر دی، یا آپ اس کو بتاتے ہیں، آج صبح میں فلاں ساتھی کو ملنے گیا تھا، ‏‏تو دیکھا آپ نے اپنے لیے کیا کیا؟ ایک چیز کو ثابت کر دیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو آپ اپنی باتوں میں غور کر لیں، آپ کبھی ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات کرتے ہیں اور کبھی ایک چیز کی ‏‏دوسری چیز سے نفی کرتے ہیں، تو چاہے اثبات ہو، چاہے نفی ہو، لیکن جب بات پوری ہے تو اس کو کہیں گے یہ تصدیق ‏‏ہے۔ تو یہ کیا ہے اگر نفی ہو تو یہ کیا ہے؟ چاہے نفی ہو، چاہے اثبات ہو، یہ دونوں کس کی قسمیں ہیں؟ تصدیق، تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ تصدیق میں ہمیشہ دو چیزیں ‏‏ہوں گی، ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور ایک آگے پھر بات ہوگی، اور وہ بات مثبت بھی ہو سکتی ہے ‏‏اور منفی بھی ہو۔ حاصل سمجھ میں آیا؟ کیا؟ کہ تصدیق میں ہمیشہ کم از کم کتنی چیزیں ہوں گی؟ دو چیزیں ہوں گی، ایک وہ جس کے بارے میں بات کی جائے، اور دوسری وہ جو بات ہے، دوبارہ دہرائیں، ایک وہ جو، ایک وہ جس کے بارے میں ‏‏بات کی جائے، اور ایک وہ جو بات ہے، اور وہ بات مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی ہو سکتی ہے۔ جبکہ تصور میں ایسا نہیں ہوگا بھئی، تصور میں ایسا نہیں ہوگا۔ اب مجھے آپ نے بتانا ہے کہ یہ تصور ہے یا تصدیق ہے: زید کا بیٹا، بات پوری ہے؟ آپ کہیں گے اس کو کیا ہوا، بات تو پوری کریں۔ تو زید کا بیٹا، اگرچہ دیکھو تین لفظ ہیں: زید، کا، بیٹا، تو یہ کیا ہے؟ تصور ہے، اور مثال دیکھو:‏ زید کے بیٹے کا دوست، یہ بھی تصور ہے، آپ کہیں گے اس کو کیا ہوا، آپ بات تو پوری کریں، آپ نے بات نہیں پوری کی۔ ہاں، جب میں کہوں گا: زید کے بیٹے کا دوست میرے پاس آیا تھا، اب بات پوری ہو گئی، آپ کہیں گے آپ کو پتہ لگ گیا ‏‏کہ میں کیا کہنا چاہ رہا تھا۔ یا میں جیسے مثلاً اور مثال لے لیں:‏ بہادر آدمی، یہ تصور ہے یا تصدیق ہے؟ تصور ہے۔ ہاں، آپ کہیں گے بہادر آدمی کو کیا ہوا؟ تو میں مثلاً کہتا ہوں اہ ایک بہادر آدمی کل میرے پاس آئے گا، دیکھا اب بات پوری ہو گئی۔ یا میں کہتا ہوں: بہادر آدمی آپ کا دوست ہے۔ اب آپ کو بات پوری سمجھ میں آگئی۔ تو لہذا تصور کیا ہے آسان لفظوں میں؟ جس میں بات پوری نہ ہو۔ یعنی ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات یا نفی نہ ہو۔ توجہ ہے؟ تصور میں ایک چیز سے ‏‏دوسری چیز ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات یا نفی نہ ہو۔ نہیں ہوگی۔ اور تصدیق میں ایک چیز کے لیے دوسری ‏‏چیز کا اثبات یا نفی ہوگی۔ تو اب دیکھو، معلوم ہوا تصدیق کے کتنے جز ہوں گے؟ دو جز ہوں گے۔ کتنے جز ہوں گے؟ دو جز۔ ایک وہ جز جس کے بارے میں بات کی جائے۔ آسان بات ہے، کوئی مشکل ہے؟ نہیں، بس پریشان ذرا بھی نہیں ہونا، بالکل آسان لفظوں ‏‏میں میں سمجھا رہا ہوں۔ تو تصدیق میں کتنی چیزیں ہوں گی؟ دو۔ پہلی کیا ہوگی؟ وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے۔ اور دوسری کیا چیز؟ ‏‏وہ جو بات کی جائے۔ اور وہ بات ہاں، اس میں اثبات بھی ہو سکتا ہے اور اس میں نفی بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت بھی ‏‏ہو سکتا ہے اور ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی بھی ہو سکتی ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو اب آپ کے سامنے جب بھی کوئی پوری بات آجائے، آپ اس میں خود غور کرکے دو حصے بنا سکتے ہیں۔ ایک وہ حصہ کہ جس کے بارے میں بات کی جائے اور ایک وہ حصہ جو بات کی جا رہی ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں:‏ زید عمرو کا بیٹا ہے۔ زید عمرو کا بیٹا ہے۔ جی، کس کے بارے میں میں نے بات کی؟ زید کے بارے میں۔ تو زید کو کیا کہیں گے؟ مبتدا۔ علمِ نحو میں آپ پڑھیں گے۔ زید کو کیا کہیں گے؟ مبتدا۔ اور آگے جو دوسرا حصہ ہے جو بات ہے، اس کو کہیں گے خبر۔ اب پھر مجھے بتاؤ، زید عمرو کا بیٹا ہے۔ کس کے ‏‏بارے میں بات کی؟ اور کیا بات کی؟ کہ وہ عمرو کا بیٹا ہے۔ تو مبتدا کون؟ زید۔ اور عمرو کا بیٹا، یہ کیا ہے؟ خبر ہے۔ ‏‏صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھو مبتدا میں صرف ایک لفظ ہے زید، اور خبر میں عمرو کا بیٹا ہے، تین لفظ آگئے، صورت ‏‏سمجھ میں آگئی؟ اور اور مثال لے لیں۔ عمرو کا بیٹا زید ہے۔ عمرو کا بیٹا زید ہے۔ ہاں، اب مجھے بتائیں کس کے بارے میں بات کی؟ عمرو کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں بات؟ بھئی جس کے بارے میں بات کی جاتی ہے وہ تو ظاہر سی بات ہے شروع میں آتا ہے۔ غور کریں۔ عمرو کا بیٹا زید ہے۔ کس کے بارے میں بات کی؟ عمرو کے بیٹے کے بارے میں۔ عمرو کا بیٹا، کیا ہے؟ زید۔ کیا بات کی؟ کہ وہ زید ہے، یعنی اس کا نام کیا ہے؟ زید ہے۔ صورت سمجھ... تو بات کس کے ‏‏بارے میں کی؟ کس کے بارے میں کی؟ عمرو کے بیٹے کے بارے میں، اور کیا بات کی؟ کہ وہ زید ہے، یعنی اس کا نام زید۔ تو آپ نے ‏‏لفظوں میں غور کرنا ہے۔ کبھی مبتدا کے اندر ایک ہی لفظ ہوگا اور خبر میں بھی ایک ہی لفظ ہوگا، جیسے زید عالم ہے۔ یا زید عالم نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اور بعض اوقات مبتدا میں ایک لفظ ہوگا خبر میں کئی لفظ ہوں گے۔ زید عمرو کا بیٹا ہے۔ مبتدا کون؟ زید۔ اور خبر کیا؟ عمرو کا بیٹا، اس میں کتنے لفظ ہیں؟ تین لفظ آگئے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور کبھی ‏‏بالعکس ہوگا، یعنی مبتدا میں تین لفظ ہوں گے خبر میں ایک لفظ ہوگا۔ عمرو کا بیٹا زید ہے۔ جی، مبتدا کون؟ عمرو کا بیٹا، اس کے بارے میں میں نے بات کی، اور کیا بات کی؟ زید ہے، تو دیکھو خبر کے اندر ایک لفظ آیا۔ کبھی ‏‏دونوں کے اندر کئی کئی لفظ ہوں گے۔ عمرو کا بیٹا زید کا دوست ہے۔ دیکھا؟ کس کے بارے میں بات کی؟ عمرو کے بیٹے کے بارے میں بات کی، اور کیا بات کی؟ زید کا دوست ہے، تو زید ‏‏کا دوست دیکھو یہاں بھی تین لفظ اور مبتدا میں کیا تھا؟ عمرو کا بیٹا، اس میں بھی تین لفظ، اور زید کا دوست خبر کے اندر بھی تین لفظ۔ تو پہلے جز کو کیا کہتے ہیں؟ مبتدا، ‏‏دوسرے جز اور دوسرے حصے کو کیا کہتے ہیں؟ خبر کہتے ہیں۔ یہ علمِ نحو میں آپ پڑھیں گے۔ اور علمی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ حکم لگایا ہے۔ یہ جو بات کرنے کو کیا کہتے ہیں؟ حکم لگانا۔ توجہ ہے؟ بات کرنے کو علمی اصطلاح میں کیا کہا جاتا ہے؟ حکم لگانا۔ جب میں نے کہا زید عالم ہے، توجہ ہے؟ زید عالم ہے، تو میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید، اور کیا بات کی؟ عالم ‏‏ہے۔ علمی اصطلاح میں یوں کہیں گے:‏ میں نے زید پر حکم لگایا، اور کیا حکم لگایا؟ کہ وہ عالم ہے۔ اب بات سمجھ میں آگئی؟ بس علمی علم اعتبار سے نام الگ ‏‏ہیں، بات تو آپ کو سمجھ میں آگئی۔ جس کے بارے میں بات کی جائے، وہ کون ہوتا ہے؟ مبتدا، اور جو بات کی جائے وہ کیا ہے؟ خبر۔ لیکن علمی انداز میں ‏‏کیا کہیں گے؟ یہ نہیں کہیں گے میں نے زید کے بارے میں بات کی، یوں کہیں گے میں نے زید پر حکم لگایا۔ اب اگر کوئی کہے میں نے زید پر حکم لگایا، آپ فوراً سمجھ گئے کیا کہنا چاہ رہا ہے؟ کہ میں نے زید کے بارے میں بات کی بھئی۔ تو حکم لگانے کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کسی چیز کے بارے میں بات کرنا، خبر ‏‏دینا۔ پھر دہراؤ!‏ زید عالم ہے، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، اور کیا بات کی؟ عالم ہے، تو میں نے گویا زید پر ‏‏کیا کیا؟ حکم لگایا، تو زید جس پر حکم لگایا، اس کو کہتے ہیں محکوم علیہ۔ کیا کہتے ہیں؟ آسان چیزیں ہیں، آسان، یہ دو چار ذرا نام آرہے ہیں، ان کو یاد کر لیں آگے آسان ہے۔ جس پر، جس کے ‏‏بارے میں بات کی، جس پر حکم لگایا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ محکوم علیہ۔ ایک نام میں نے پہلے بتایا وہ کیا ہے؟ مبتدا۔ ‏‏دوسرا نام کیا ہے؟ محکوم علیہ، محکوم علیہ۔ تو محکوم علیہ ہے، اور جو بات کی اس کا ایک نام کیا ہے؟ خبر۔ دوسرا نام ہے محکوم بہ۔ کیا ہے؟ مبتدا کا ایک نام مبتدا اور دوسرا نام محکوم علیہ، اور خبر کا ایک نام خبر اور دوسرا نام محکوم بہ ہے، صورت ‏‏سمجھ میں آگئی؟ تو محکوم علیہ اور محکوم بہ، یہ تو آپ کو سب بتائیں گے، ہر کتاب میں آئے گا کہ مبتدا محکوم علیہ ہوتا ہے۔ محکوم علیہ ‏‏کا کیا معنی؟ جس کے بارے میں بات کی، اور علمی انداز میں کیا کہو؟ جس کے اوپر حکم لگایا۔ محکومٌ علیہِ، اس پر حکم لگایا، دیکھو ‏‏لفظوں سے پتہ چل رہا ہے یا نہیں؟ محکومٌ علیہِ، اس پر حکم لگایا، اور آگے جو حکم لگایا، وہ جو بات کی، وہ ہے محکومٌ بہِ۔ وہ کیا ہے؟ محکوم بہِ ہے بھئی۔ اور علمِ منطق کے اندر اس مبتدا اور محکوم علیہ کو موضوع کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع، مشکل بات تو نہیں ہے؟ آسان بات ہے، بہت آسان باتیں ہیں، ‏‏آپ بس آپ نے توجہ کرنی ہے اور پریشان نہیں ہونا، بالکل آسان باتیں ہیں، میں ان کو بار بار دہرائوں گا، بالکل ذہن نشین ہو جائیں گی، یہ ‏‏فکر نہ کرنا کہ ہمیں یاد نہیں رہیں گی، نہیں نہیں، بار بار میں دہراتا رہوں گا، خوب ذہن نشین ہو جائیں گی۔ اچھا، منطق ‏‏میں مبتدا کو موضوع کہتے ہیں، ضاد کے ساتھ، م و ض و ع، موضوع۔ اور جو خبر ہے منطق میں اس کو محمول کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ م ح م و ل، محمول۔ اب تین تین نام آپ کے پاس آگئے، ایک ہی چیز کے نام ہیں۔ تصدیق میں کیا ہوتا ہے؟ کتنی چیزیں ہوتی ہیں؟ دو۔ ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور دوسری چیز بات ‏‏ہے۔ اب انہی دو کے نام الگ الگ ہیں۔ علمِ نحو میں، یا عام علمِ نحو میں اس کے کیا نام ہیں؟ اس کا کیا نام ہے؟ مبتدا، جس ‏‏کے بارے میں بات کی جائے اس کا ایک نام کیا ہے؟ مبتدا، دوسرا نام اس کا جو استعمال ہوتا ہے، وہ کیا ہے؟ اسی پہلے جز کا نام، خبر تو دوسرے حصے کا نام ہے نا، پہلے کا نام، ایک نام کیا؟ مبتدا، دوسرا نام محکوم علیہ، اور تیسرا نام؟ موضوع، تیسرا نام موضوع۔ پھر دہراؤ، پہلا نام مبتدا، دوسرا نام محکوم علیہ، تیسرا نام موضوع۔ اور دوسرا وہ جو بات ہے، اس بات کا دوسرا ایک نام خبر، دوسرا نام محکوم بہ، یا محکوم بہ کہیں، اور تیسرا نام محمول، ‏‏کیا نام ہے؟ محمول ہے، محمول ہے۔ یاد رکھیے، یہ جو مبتدا اور خبر ہے، یہ تو عموماً علمِ نحو میں استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ جو موضوع اور محمول ہے، موضوع اور محمول ہے، یہ علمِ منطق میں استعمال ہوتا ہے، یہ ایک ہی چیز کے نام ‏‏ہیں، اور یہ جو محکوم علیہ اور محکوم بہ ہے، یہ دونوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ علمِ منطق والا مبتدا کا کیا نام لے گا؟ موضوع۔ اور خبر کا کیا نام لے گا؟ محمول بھئی۔ اور علمِ نحو والا کیا نام لے گا؟ موضوع کا؟ مبتدا۔ اور کیا نام لے گا محمول کا؟ خبر، خبر لے گا۔ اور کون سا نام دونوں ‏‏استعمال کریں گے مبتدا کے لیے؟ محکوم علیہ، اور خبر کے لیے کون سا نام دونوں استعمال کریں گے؟ محکوم بہ، صورت سمجھ میں آگئی۔ جی، تو آپ کو پتہ چل گیا تصور تصور اور تصدیق کے بارے میں۔ تصور بھی علم کا نام ہے، تصدیق بھی علم کا نام ہے۔ علم کا کیا معنی تھا؟ جاننا اور پہچاننا، اور اسی علم کی کتنی قسمیں ہیں؟ دو قسمیں ہیں، کیونکہ وہ چیز جس کو ہم جانیں ‏‏گے، یا تو وہ اس میں بات پوری ہوگی یا بات پوری نہیں ہوگی، اگر بات پوری ہے تو وہ کیا ہے؟ اگر بات پوری ہے، تصدیق ہے، اور اگر بات پوری نہیں تو وہ تصور ہے، تو یاد رکھو ہماری جتنی بھی معلومات ہیں، توجہ ہے؟ ہماری جتنی بھی معلومات ہیں، معلومات کیا ہوتی ہیں؟ ابھی ابھی میں نے بتایا، معلوم کس کو کہتے ہیں؟ جس چیز کا ہمیں علم ہوا، اب اسی کی جمع کیا ہے؟ معلومات۔ جس کے علم زیادہ ہوتا ہے ہم کہتے ہیں اس کی معلومات زیادہ ہیں، صورت سمجھ میں آگئی، اس کو زیادہ چیزوں کا علم ‏‏ہے، تو یہ جتنی بھی ہماری معلومات ہیں، یعنی جو بھی ہمارے ذہن میں محفوظ ہے، وہ دو قسم کی ہوں گی، یا وہ کیا ہوں گی؟ تصور، یا تصدیق بھئی۔ یا یوں کہو دوسرے لفظوں میں کہ قولِ معقول جو ہے، وہ دو قسم پر ہے، یا تصور ہوگا یا تصدیق ہوگا۔ اسی طرح قولِ ملفوظ بھی اس... اسی طرح ہوتا ہے قولِ معقول کی طرح ہی، تو اس میں بھی کتنی قسمیں ہیں؟ دو قسمیں، یا ‏‏وہ تصور ہوگا یا تصدیق، تصور وہ جس میں بات پوری نہیں ہوگی، اور تصدیق وہ جس کے اندر بات پوری ہوگی بھئی۔ ‏‏بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر ذرا دوبارہ بھئی۔ جی، کتاب میں لکھا ہے: علم کی دو قسمیں ہیں، تصور، تصدیق۔ سمجھ میں آرہا ہے؟ تصور کسے کہتے ہیں اور تصدیق، ‏‏اب اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ اب بتانے لگے ہیں تصدیق کسے کہتے ہیں۔ تصدیق میں علم اس بات کا ہے کہ فلاں شئے ‏‏فلاں شئے ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ فلاں شئے فلاں شئے ہے۔ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ بولو بھئی! خاموش کیوں ہو؟ میں نے اتنی لمبی تقریر کی، ایک گھنٹے سے سمجھا رہا ہوں، پھر آپ خاموش بیٹھے ہیں۔ کس کی بات ہو رہی ہے؟ کس کی بات ہو رہی ہے؟ بات ہاں، کس کی ہو رہی ہے؟ تصدیق کی بات ہو رہی ہے، اور تصدیق میں نے بتایا کس کو کہتے ہیں، اس میں کتنی ‏‏چیزیں ہوتی ہیں؟ دو، ایک پہلی چیز جس کے بارے میں اور دوسری چیز جو بات کی جائے، اسی کو دیکھو اپنے لفظوں ‏‏میں کہہ رہے ہیں، دیکھو پہلی چیز کے لیے کہہ رہے ہیں "فلاں شئے"، فلاں شئے کوئی بھی ہو سکتی ہے: زید، عمرو، ‏‏بکر، خالد، کوئی بھی۔ اور دوسری چیز کیا ہے؟ "فلاں شئے ہے"، یعنی جیسے زید عالم ہے۔ پہلے فلاں شئے سے کیا مراد؟ مثلاً زید، اس جملے ‏‏کو سامنے رکھو: "زید عالم ہے"، تو زید، فلاں شئے، کوئی متعین چیز کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، نام نہیں لے رہے، ‏‏کوئی بھی آپ لا سکتے ہیں، آپ زید، عمرو، بکر، خالد، کوئی بھی لا سکتے ہیں، تو یہ پہلا زيد کیا ہے؟ فلاں شئے، اور اگلا دوسرا کیا ہے؟ "فلاں شئے ہے"، وہ کیا ہے؟ عالم ہونا، وہ جو بات ہے، تو پہلا فلاں شئے، وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے، یہ دوسرا فلاں شئے ہے وہ ‏‏جو بات کی جا رہی ہے۔ سمجھ میں بات آئی بھی کہ ویسے سر ہلا رہے ہیں؟ آگئی؟ پہلی فلاں شئے سے کیا مراد؟ زید، یعنی وہ چیز جس کے بارے میں بات، یعنی جس پر حکم لگایا جا رہا ہے، اور دوسرا ‏‏جو فلاں شئے آرہا ہے، وہ جو وہ جو بات کی جا رہی ہے، وہ جو حکم لگایا جا رہا ہے۔ تو علم اس بات کا ہے کہ فلاں شئے فلاں شئے ہے، بھئی دیکھیے اور اچھا، سوال یہ ہے، یہ "فلاں شئے" کیوں لائے؟ بھئی وجہ یہ، ادھر دیکھو!‏ یہ دیکھو، یہ ہے تصدیق آپ کے سامنے، نظر آرہی ہے آپ کو؟ یہ تصدیق ہے، یہ اس کا پہلا حصہ، یہ اس کا دوسرا ‏‏حصہ، تو پہلا حصہ کچھ بھی ہو سکتا ہے، آپ دنیا کی جتنی باتیں اٹھا لیں، اس میں ہمیشہ ایک پہلا حصہ ہوگا اور ایک ‏‏دوسرا، اور ہر ایک کا پہلا حصہ الگ ہے یا نہیں؟ آپ جو بھی باتیں کر رہے ہیں: میں کل گھر گیا تھا، میں نے پانی پیا تھا، میں نے فلاں سے ملاقات کی تھی، میں پھر بازار ‏‏گیا تھا، میں نے یہ چیز خریدی تھی، ایک ایک جملے کو آپ اٹھاتے جائیں، آپ دیکھیں گے ہر جملے کے دو حصے ہیں، ‏‏دو حصے ہیں، ایک وہ جس کے بارے میں بات ہو رہی ہے، ایک وہ جو... مثلاً آپ کہتے ہیں: میں کل گھر گیا تھا، کس ‏‏کے بارے میں بات کی؟ اپنے بارے میں، تو "میں" یہ ہے مبتدا، اور کیا بات کی؟ کل گھر گیا تھا، یہ سارا کیا ہے؟ یہ خبر ہے، اور آگے آپ کہتے ہیں:‏ زید کل میرے پاس آیا تھا۔ کس کے بارے میں بات کی؟ زید، اور کیا بات کی؟ تو دیکھو پہلے پچھلے جملے میں موضوع کیا ‏‏تھا؟ میں، اب موضوع کون ہے؟ زید، اور پچھلے جملے میں موضوع کیا محمول کیا تھا؟ میں گھر گیا تھا، اب موضوع اب اب محمول کیا ہے؟ کہ وہ میرے پاس ‏‏آیا تھا، تو دیکھو موضوع ہر جملے میں موضوع الگ ہوگا اور محمول بھی الگ ہوگا، تو انہوں نے ایک جملہ خاص نہیں ‏‏ذکر کیا کہ آپ سمجھیں موضوع ہمیشہ یہی آئے گا، محمول یہی آئے گا، بلکہ موضوع کے لیے لفظ لے آئے "فلاں شئے"، ‏‏اب فلاں شئے سے آپ کسی بھی چیز کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں، زید کو کہہ سکتے ہیں فلاں، فلاں شئے، انسان ہے نا، بکر بھی کیا ہے؟ وہ بھی تو کوئی بھی چیز مراد ہو سکتی ہے، اور خبر بھی کچھ ہو سکتی ہے تو اس کے لیے بھی کیا لے آئے؟ ‏"فلاں شئے" لے آئے، اور فلاں شئے سے کنایہ ہوتا ہے، کوئی چیز مراد ہوتی ہے، وہ کچھ بھی ہو سکتی ہے، تو جو بھی ‏‏موضوع لائیں وہ "فلاں شئے" میں داخل ہو جائے گا، اور جو بھی خبر لائیں وہ کس کے اندر داخل ہے؟ "فلاں شئے" کے ‏‏اندر داخل ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ متعین ہے، الگ الگ ہے، بدلتے رہیں، لیکن ہر ایک فلاں شئے ہے۔ تو علم اس بات کا ہے کہ فلاں شئے فلاں شئے ہے، تو پہلا فلاں شئے کیا ہے؟ زید، اور وہ کیا ہے؟ مبتدا، اور دوسرا فلاں شئے سے کیا مراد ہے یہاں؟ خبر ہے، تو یعنی اس میں بتانا یہ چاہتے ہیں کہ تصدیق میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات ہوگا یا اس کی کیا ‏‏ہوگی؟ نفی، لیکن دو حصے ہوں گے۔ ایک پہلی فلاں شئے، ایک دوسری فلاں شئے جس کی آپ نفی یا اثبات کر رہے ہیں۔ ‏‏اور اسی نفی یا اثبات کو علمی اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟ حکم لگانا کہ آپ موضوع پر یہ حکم لگا رہے ہیں یا اس حکم ‏‏کی آپ کیا کر رہے ہیں؟ نفی کر رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ جیسا کہ تم، جیسے کہ تم کو اس بات کا علم ہو، یعنی جیسے کہ تم کو اس بات کا پتہ ہو، تم اس بات کو جانتے ہو کہ زید ‏‏عمرو کا باپ ہے۔ زید عمرو کا باپ ہے۔ دیکھا؟ مبتدا کون؟ زید۔ اور خبر کیا ہے؟ عمرو کا باپ، یہ خبر ہے۔ مبتدا کا دوسرا نام کیا؟ محکومٌ علیہ۔ خبر کا دوسرا نام کیا؟ محکومٌ بہ۔ مبتدا کا تیسرا نام کیا؟ موضوع۔ اور خبر کا تیسرا نام کیا؟ محمول۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور انہوں نے جو ‏‏تعریف کی، وہ تعریف ذرا اس پہ لگاؤ، یہ جو زید ہے نا زید، یہ وہ فلاں شئے ہے پہلی والی۔ زید کیا ہے؟ فلاں شئے سے کسی متعین چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور زید بھی کوئی کسی متعین آدمی کا نام ہے یا ‏‏نہیں؟ تو فلاں شئے پہلے سے مراد کون ہے یہاں؟ زید ہے، اور دوسرا فلاں شئے کیا ہے؟ عمرو کا باپ، صورت سمجھ ‏‏میں آگئی؟ تو تصدیق میں یہ دو جز ہوتے ہیں، جیسے کہ تم کو اس بات کا علم ہو، یعنی آپ کو اس بات کی پہچان ہو کہ زید ‏‏عمرو کا باپ ہے۔ تصور آگے، تصور وہ علم ہے، دیکھا یہ بھی علم کا نام ہے۔ تصدیق بھی علم کا نام، تصور بھی علم کا نام۔ آپ کا علم یہی دو قسم پر ہے یاد رکھو، یا وہ تصور ہوگا، یا وہ تصدیق، یعنی یا تو اس میں بات پوری ہوگی یا بات پوری نہیں ہوگی، تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ تو تصور وہ علم ہے جس میں اس قسم کا علم نہ ہو، جس میں یعنی ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی نہ ہو، جیسے صرف زید کا ‏‏علم۔ زید، مجھے بتاؤ تصور ہے یا تصدیق؟ تصور ہے۔ تو یہ ہے زید کا علم۔ یا مثلاً زید کا غلام، زید کا غلام، تصور ہے یا تصدیق؟ تصور ہے۔ دیکھا اس میں دوسری کوئی چیز نہیں جس کے لیے آپ ثابت، زید کے ‏‏غلام کے بھئی کا بیٹا، تصور ہے، آپ کہیں گے اس کو کیا ہوا بات تو پوری کریں، اس میں تو بات ہی پوری نہیں ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں ‏‏آگئی؟ حاصلِ کلام یہ ہوا، کہ ہمارا علم جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ یعنی جو بھی چیز ہماری عقل میں آتی ہے، ہمارے ذہن میں آتی ہے، جو بھی ہماری معلومات ہیں جن کو ہم جانتے ہیں وہ ‏‏دو قسم پر ہیں۔ یا وہ کیا ہیں؟ تصور، یا وہ کیا ہیں؟ تصدیق۔ تصور میں ایک چیز کا ثبوت یا نفی دوسری چیز سے نہیں ‏‏ہوگی، جبکہ تصدیق میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہوگا یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہوگی اور ‏‏تصور میں ایسا نہیں ہوگا۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی؟ یہ ہیں تصور اور تصدیق بھئی، تصور اور تصدیق بھئی۔ اور پھر میں نے یہ بھی بتایا کہ اس میں جملے کے ہمیشہ تصدیق میں دو حصے ہوتے ہیں۔ دو حصے ہوتے ہیں۔ پہلے حصے کو مبتدا اور دوسرے کو خبر، اور دوسرا نام پہلے حصے کو محکومٌ علیہ اور دوسرے ‏‏کو محکومٌ بہ، اور تیسرا نام منطق کے اندر خاص طور پر پہلے حصے کو موضوع اور دوسرے کو محمول کہتے ہیں۔ ‏‏اور تو اور تو یہ جو ہم کہتے ہیں ایک چیز کے لیے، ایک چیز کے بارے میں بات کی، اسی کو علمی انداز میں کیا کہیں ‏‏گے؟ ایک چیز کا دوسری پر حکم لگایا، صورت سمجھ میں آگئی۔ اور منطق میں یوں کہیں گے، ایک چیز پر دوسری چیز کا حمل کیا۔ تینوں ایک چیزیں ہیں، ایک چیز کے بارے میں دوسری، ایک چیز کے بارے میں بات کی، اسی کو علمی رنگ میں کیا کہو؟ ایک چیز پر دوسری چیز کا حکم لگایا، اور منطق والے کیا کہتے ہیں؟ ایک چیز پر دوسری چیز کا حمل کیا، تینوں کا ‏‏ایک معنی ہے، حکم لگانے کا معنی بھی بات کرنا، حمل کرنے کا معنی بھی بات کرنا۔ چلیے بس بھئی باقی انشاءاللہ کل ‏‏پڑھیں گے بھئی۔ تو پریشان ذرا بھی نہیں ہونا، میں بار بار تکرار کرواؤں گا، آپ نے بھی محنت کرنی ہے، ٹھیک ہے؟ کوئی مشکل چیز ‏‏نہیں، بار بار تکرار کریں گے، دیکھو، کچھ چیزوں کا آپ نے، آپ کو علم ہے، اور کچھ چیزوں کا علم نہیں، تو ان کو اب آپ جانتے جا رہے ہیں۔ تو، تو منطق جو ہے اس سے ذہن تیز ہوتا ہے، دماغ کو خرچ کرنا پڑتا ہے، زور لگانا پڑتا ہے، اور جتنا دماغ پر زور ‏‏ڈالیں گے اور اس کو، مشکل بات کو، کی طرف ذہن کو متوجہ کریں گے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے آپ کا ‏‏ذہن تیز سے تیز تر ہوتا چلا جائے گا بھئی، چلیے بھئی اللہ آپ سب کو بڑا عالم بنائے، هذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقة ‏الکلام۔