‏اچھا بھئی، کتاب پر دیکھیے بھئی۔ ‏بسم الله الرحمن الرحيم، حامداً ومصلياً، سبق اول۔ ‏علم کی تعریف اور اس کی قسمیں۔ ‏علم: کسی شے کی صورت کا تمہارے ذہن میں آنا جیسے زید، جیسے زید کسی نے بولا اور تمہارے ذہن میں اس کی ‏‏‏صورت آئی، یہ زید کا علم ہے۔ ‏علم کی دو قسمیں ہیں: نمبر ایک تصور، نمبر دو تصدیق۔ ‏سب سے پہلے بھئی علم کا معنی سمجھ لیں بھئی۔ ‏علم کا معنی ہے جاننا۔ جاننا۔ جان لینا، پہچان لینا، یہ کیا ہے؟ علم کا معنی ہے، علم کا معنی۔ ‏مثلاً، اپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام زید ہے۔ میں جیسے ہی زید کہتا ہوں، اپ کے ذہن میں فوراً زید کی صورت ا جاتی ‏‏‏ہے، کیونکہ اپ اس کو جانتے ہیں۔ تو یہ زید کا علم ہے۔ معلوم ہوا اپ کو زید کا علم ہے، اپ زید کو جانتے ہیں، اپ زید کو ‏‏‏پہچانتے ہیں۔ ‏اور اگر میں کسی ایسے ادمی کا نام لوں جس کو اپ نے دیکھا نہیں، نہ اس کی کوئی پہچان ہے، تو اپ کے ذہن میں کوئی ‏‏‏صورت نہیں آئے گی۔ اس کو کہیں گے جہل بھئی جہل۔ جہل کا معنی ہے نہ جاننا بھئی۔ ایک چیز کی پہچان نہ ہونا۔ ‏تو ہم کہیں گے، مثلاً زید کا اپ کو علم ہے، تو ہم کہیں گے، اہ اپ زید کے عالم ہیں، یعنی اپ کو زید، اپ زید کو جاننے ‏‏‏والے ہیں۔ اور جس ادمی کو اپ نہیں جانتے اس کے بارے میں کہیں گے کہ اپ اس ادمی سے جاہل ہیں، یعنی اپ اس کو ‏‏‏نہیں جانتے۔ ‏تو علم کا کیا معنی ہے؟ جاننا۔ اور جہل کا کیا معنی ہے؟ نہ جاننا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ‏اب یاد رکھو، جو یہ جو ہمارا بدن ہے، یہ آلہ ہے آلہ۔ آلہ وہ چیز جس کے ذریعے کوئی کام سرانجام دیا جائے اس کو آلہ ‏‏‏کہتے ہیں۔ جیسے اللہ نے ہمیں چیزوں کو پکڑنے کے لیے ہاتھ دیا ہے، تو یہ ہاتھ ایک آلہ ہے جس کے ذریعے ہم چیزوں ‏‏‏کو پکڑتے ہیں۔ اسی طرح دیکھنے کے لیے اللہ نے ہمیں آنکھیں دی ہیں، تو آنکھیں آلہ ہیں جس کے ذریعے ہم چیزوں کو ‏‏‏دیکھتے ہیں۔ ہمیں سننے کے لیے اللہ نے کان عطا فرمائے ہیں، تو کان آلہ ہیں جس کے ذریعے ہم چیزوں کو سنتے ہیں۔ تو ‏‏‏آلہ کا معنی سمجھ میں آیا؟ آلہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے ذریعے کوئی کام سرانجام دیا جائے وہ آلہ کہلاتا ہے۔ مثلاً ہم ‏‏‏لکھتے کس سے ہیں؟ قلم سے، تو قلم کیا ہوا؟ لکھنے کا آلہ ہوا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ‏جی، تو یہ مختلف چیزیں ہیں، کچھ تو میں نے بدنِ انسانی میں اپ کو بتا دیے، کچھ باہر کی زندگی میں دیکھ لیں، جیسے ‏‏‏بھئی میں نے قلم ذکر کیا۔ قلم کیا ہے؟ ایک آلہ ہے لکھنے کا بھئی، لکھنے کا۔ اور اسی طرح اور مثال بنا لیجیے، گاڑی ‏‏‏ہے، موٹر سائیکل ہے، یہ سفر کرنے کا آلہ ہے۔ اس کے ذریعے ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ بڑی جلدی پہنچ جاتے ہیں ‏‏‏بھئی، اس پر سفر کرتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کوئی بھی کام جس چیز کے ذریعے سرانجام دیا جائے، ‏‏‏اسے کیا کہتے ہیں؟ آلہ کہتے ہیں۔ ‏تو یاد رکھیے کہ انسان جو ہے، انسان کے اندر اصل حاکم روح ہے، اور یہ بدن اس کا آلہ ہے۔ اصل حاکم کون ہے؟ روح ‏‏‏ہے، روح کے لیے یہ بدن آلہ ہے۔ روح جدھر کو جانا چاہتی ہے تو بدن ادھر کو قدم اٹھانے لگتا ہے۔ روح جس چیز کو ‏‏‏پکڑنا چاہتی ہے تو بدن کے ذریعے ہاتھ بڑھاتی ہے اور اس چیز کو پکڑ لیتی ہے۔ تو اصل حاکم کون ہے؟ روح ہے، اور ‏‏‏یہ سارا بدن کیا ہے اس کا؟ آلہ ہے۔ ‏پھر اسی طرح یاد رکھیے، روح کو اللہ نے مختلف قسم کے آلے نصیب فرمائے ہیں۔ کچھ تو یہ آلے ہیں جو ہمیں نظر آ ‏‏‏رہے ہیں، جیسے آنکھیں ہیں، کان ہیں، ناک ہے، ناک کے ذریعے ہم مختلف چیزوں کو سونگھتے ہیں، سمجھے؟ جیسے ‏‏‏زبان ہے، زبان کے ذریعے ہم مختلف چیزوں کو چکھتے ہیں، ان کے ذائقے کا ہمیں پتہ چلتا ہے، ناک کے ذریعے مختلف ‏‏‏قسم کے خوشبوؤں کا ہمیں پتہ چلتا ہے۔ اسی طرح اسی طرح پورے بدن میں ایک طاقت پھیلی ہوئی ہے چھونے کی، جب ‏‏‏کسی چیز کو ہم چھوتے ہیں ہاتھ لگاتے ہیں ہمیں پتہ چل جاتا ہے یہ چیز خشک ہے یا گیلی ہے، یہ چیز نرم ہے یا سخت ‏‏‏ہے، تو یہ سب کیا ہیں؟ قوتیں ہیں۔ یہ سب قوتیں ہیں جو اللہ نے انسان کو نصیب سمجھے نصیب فرمائی ہیں، اور یہ آلات ‏‏‏اللہ نے انسان کو نصیب فرمائے ہیں جس کے ذریعے مختلف چیزوں کی پہچان کرتا ہے۔ ‏تو سوچنے اور سمجھنے کے لیے اللہ نے انسان کو عقل نصیب فرمائی ہے۔ تو عقل بھی روح کا ایک آلہ ہے۔ عقل کیا ہے؟ ‏‏‏یا یوں کہو، قوت ہے۔ تو اللہ نے انسان کو سوچنے اور سمجھنے کے لیے عقل نصیب فرمائی ہے۔ اس عقل کے ذریعے ہم ‏‏‏چیزوں کو پہچانتے ہیں، ان کو سمجھتے ہیں، اسی کے اسی میں ہم چیزوں کو یاد رکھتے ہیں، تفصیل آگے ا جائے گی میں ‏‏‏مختصراً اپ کو سمجھانے کے لیے بیان کر رہا ہوں، بڑی کتابوں کے اندر مزید تفصیل ا جائے گی۔ ‏تو دیکھو، یہ جو عقل ہے نا عقل، یہ ایک قوت اللہ نے نصیب فرمائی ہے۔ جس کے ذریعے ہم چیزوں کو سمجھتے ہیں، ‏‏‏چیزوں کو جانتے ہیں، چیزوں کو پہچانتے ہیں۔ اور بعض اوقات یہی یہی جو قوت ہے، اس میں خرابی ا جاتی ہے۔ پھر اپ ‏‏‏دیکھتے ہیں ایک انسان ہوتا ہے، لیکن نہ وہ کسی چیز کو سمجھتا ہے، نہ اسے کسی چیز کا ہوش ہوتا ہے، مثلاً پاگل کو ‏‏‏دیکھ لیں، ایک ادمی جب پاگل ہو جاتا ہے یا پاگل ہو شروع سے، تو اپ دیکھتے ہیں اسے کسی چیز کی سمجھ نہیں اتی، ‏‏‏اسے کچھ بھی کہیں وہ نہیں سمجھتا۔ میلا کچیلا پھر رہا ہو گا، ننگ دھڑنگ ہے، اس کو کسی چیز کا ہوش نہیں، کیونکہ ‏‏‏وہ عقل کیا ہے اس میں خلل ا گیا، خرابی ا گئی۔ تو یہ عقل کیا ہے؟ اس کے ذریعے انسان سوچتا ہے، سمجھتا ہے، چیزوں ‏‏‏کو پہچانتا ہے، جا- اور کیا کرنا ہے، کیا کرنا مناسب ہے، کیا کرنا مناسب نہیں، یہ سب کس کے ذریعے فیصلہ کرتا ہے؟ ‏‏‏عقل کے ذریعے، ‏تو یہ جو اصل ان میں ذکر کر رہا تھا، اصل حاکم بدن میں روح ہے، اور یہ بدن کیا ہے اس کا؟ آلہ ہے، آلہ۔ جیسے ‏‏‏دیکھیے، جب کسی شخص کی موت ہو جاتی ہے، وہ مر جاتا ہے، اس کے بدن سے روح نکل جاتی ہے، اب دیکھو وہی ‏‏‏ہاتھ موجود ہیں لیکن کسی چیز کو پکڑ نہیں سکتے، وہی آنکھیں موجود ہیں لیکن کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتیں، وہی کان ‏‏‏موجود ہیں لیکن کسی چیز کو سن نہیں سکتے، کیونکہ اصل جو حاکم تھا وہ وہ ختم ہوا، وہ چلا گیا اس میں سے۔ یہ اسی ‏‏‏طرح ہے جیسے گاڑی، گاڑی سفر کرنے کا آلہ ہے، لیکن اس کو چلانے والا کون؟ ڈرائیور ہے، ڈرائیور ہے تو گاڑی ‏‏‏چلے گی، دائیں مڑے گی، بائیں مڑے گی، جہاں‎ ‎ضرورت جس طرف ڈرائیور لے جانا چاہے گا اس کو لے جائے گا۔ اسی ‏‏‏طرح بدنِ انسانی کے اندر اصل حاکم کون ہے؟ روح ہے جو اس سارے بدن کو چلا رہی ہے بھئی، اس کے ذریعے ‏‏مختلف ‏کام سرانجام دے رہی ہے۔ ‏اور روح کو اللہ نے عقل نصیب فرمائی ہے، عقل کے ذریعے عقل ایک قوت جس کے ذریعے وہ چیزوں کو سمجھتی، ‏‏‏جانتی، پہچانتی ہے۔ تو یہ جو چیزوں کو ہم جانتے ہیں، پہچانتے ہیں، یہ کس قوت کے ذریعے ہے؟ عقل کے ذریعے، عقل ‏‏‏کے ذریعے، بات چل رہی تھی علم کی، علم کسے کہتے ہیں؟ کسی چیز کو جاننا، کسی چیز کو پہچاننا، اور یہ کس کے ‏‏‏ذریعے ہوتا ہے؟ عقل کے ذریعے، عقل ہے تو ہم چیزوں کو جان لیں گے، عقل نہیں تو چیزوں کو نہیں جان سکتے۔ ‏اور یہ یاد رکھنا، ہم یہ مخلوق کے علم کی بات کر رہے ہیں، خالق کے علم کی بات نہیں، اللہ کے علم کی بات نہیں، اللہ کے ‏‏‏علم کی حقیقت کا ہمیں علم نہیں، ہاں البتہ مخلوق کا جاننا، پہچاننا اور اس کا علم کیا ہوتا ہے، اس کی تفصیل اپ کے ‏‏‏سامنے بیان ہو رہی ہے۔ ‏تو مخلوق کا علم کسے کہتے ہیں؟ کسی چیز کا جاننا، اور جاننے کا کیا معنی؟ کہ اس کی صورت اپ کے ذہن میں ا جائے۔ ‏‏‏مثلاً بھئی، میں اپ کے سامنے بولتا ہوں: بادشاہی مسجد، فوراً ایک صورت ذہن میں ا گئی یا نہیں ا گئی؟ معلوم ہوا اپ کو ‏‏‏بادشاہی مسجد کا علم ہے، اسی لیے فوراً اس کی پہچان اپ کے ذہن میں ا گئی۔ تو جیسے ہی میں نے بادشاہی مسجد کہا، ‏‏‏فوراً اپ کے ذہن میں اس کی صورت ا گئی، اس کی تصویر ا گئی۔ ‏یا دو اور مثال لے لیجیے، مثلاً، یا جیسے دیکھیے: شاہ فیصل مسجد، جیسے ہی میں نے کہا شاہ فیصل مسجد، فوراً ایک ‏‏‏تصویر اپ کے ذہن میں ا گئی یا نہیں ا گئی؟ دیکھا یہ اپ کو اس کی اس کا علم ہے، اپ کو اس کی پہچان ہے، اپ اس کو ‏‏‏جانتے ہیں، تو ہم یوں کہیں گے کہ اپ کو شاہ فیصل مسجد کا علم ہے، اپ کو بادشاہی مسجد کا علم ہے۔ ‏اور جس چیز کا علم ہوا، اس کو کہتے ہیں معلوم۔ بادشاہی مسجد اپ کو معلوم ہے، شاہ فیصل مسجد اپ کو معلوم ہے، تو ‏‏‏معلوم وہ چیز ہے جس کا اپ کو کیا ہوا؟ علم، جس کو اپ پہچانتے ہیں۔ تو پہچان کا نام تو علم، اور جس چیز کو پہچانا اس ‏‏‏کو کیا کہتے ہیں؟ معلوم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ معلوم کہتے ہیں۔ فرق سمجھ میں ا رہا ہے؟ ‏علم کا کیا معنی؟ جاننا اور پہچاننا۔ اور معلوم کسے کہتے ہیں؟ جس چیز کو جانا ہے، جس چیز کو پہچانا ہے، وہ کیا ہے؟ ‏‏‏معلوم ہے، معلوم ہے۔ ‏اور پھر یاد رکھیے، یہ جو عقل ہے نا عقل، یا عقل کہہ لو، یا ذہن کہہ لو، یہ عقل کی مثال ایک آئینے کی طرح ہے، آئینہ، ‏‏‏شیشہ جس میں اپ شکل دیکھتے ہیں، صورت دیکھتے ہیں، اپنے اپ کو سنوارتے ہیں، یہ کیا ہے؟ شیشہ، اس کو کیا کہتے ‏‏‏ہیں اردو میں؟ آئینہ کہتے ہیں، آئینہ۔ جیسے دیکھو، آئینے کے سامنے جو بھی چیز آئے گی، آئینے کے اندر اس کی ‏‏‏صورت نظر انے لگے گی۔ اسی طرح عقل کے سام- عقل بھی ایک آئینہ ہے، عقل بھی کیا ہے؟ عقل ایک آئینہ بنایا ہے اللہ ‏‏‏نے، انسان کو عطا فرمایا ہے، اس کے سامنے جب بھی کوئی چیز اتی ہے، اس کی فوراً اس کے اندر اس کی عقل کے ‏‏‏اندر اس کی صورت ا جاتی ہے۔ ‏جیسے ابھی اپ نے دیکھا، میں نے کہا بادشاہی مسجد، فوراً ایک صورت ا گئی، کیونکہ اپ نے بادشاہی مسجد کی تصویر ‏‏‏دیکھی ہوئی ہے یا بادشاہی مسجد کو جا کر دیکھا ہوا ہے، تو اس عقل کے آئینے میں فوراً کیا آئی اس کی؟ جب اپ نے ‏‏‏بادشاہی مسجد کو دیکھا، تو اس آئینے میں کیا ا گئی؟ اس کی تصویر ا گئی، اور آئینے کے سامنے سے چیز ہٹ جائے تو ‏‏‏وہ ختم ہو جاتی ہے، لیکن عقل، عقل کے اندر جب ایک تصویر ا جائے، عقل اس کو محفوظ کر لیتی ہے پیچھے اپنی ‏‏‏الماریوں کے اندر، صورت سمجھ میں ا گئی؟ اللہ نے اس کو قوت دی ہے اور قوتیں نصیب فرمائی ہیں، تو اصل حاکم ہے ‏‏‏روح، روح کو ایک قوت نصیب فرمائی اللہ نے اس کا کیا نام ہے؟ عقل، اور پھر اس عقل کو آگے اللہ نے اور قوتیں نصیب ‏‏‏فرمائی ہیں، دیکھنے کی قوت اللہ نے عقل کو دی ہے، لیکن وہ کس کے ذریعے دیکھتی ہے؟ آنکھ کے ذریعے، سننے کی ‏‏‏قوت اللہ نے عقل کو دی ہے، لیکن یہ قوت یہ سنتی کس کے ذریعے ہے؟ کان میں، تو یہ قوت اللہ نے کان میں رکھی ہے، ‏‏‏لیکن یہ ساری چیزیں بالآخر اتی کہاں پر ہیں؟ عقل میں، کہاں پر اتی ہیں؟ عقل میں، جیسے دیکھو، حکومت کے مختلف ‏‏‏ادارے ہوتے ہیں، ایک حکومت ہو، اسلامی مملکت ہو، اس کے بہت سے ادارے ہوتے ہیں، وہ کیا کرتے ہیں؟ پورے ملک ‏‏‏سے خبریں اکٹھی کر کے مرکز میں پہنچاتے ہیں کہ فلاں ملک فلاں شہر میں یہ حالات ہیں، فلاں علاقے میں اس قسم کے ‏‏‏حالات ہیں، یا فلاں جگہ پر کوئی حکومت کے خلاف سازشیں کر رہا ہے یا نقصان پہنچانا چاہ رہا ہے، یا فلاں جگہ پر ‏‏‏کوئی حکومت کے لیے بڑی اہم خدمات سرانجام دے رہا ہے، یہ ساری خبریں کہاں جمع ہوتی ہیں؟ مرکز میں، تو اسی ‏‏‏طرح عقل کو اللہ نے مرکز بنایا ہے، یہ ساری چیزیں، کان جو کچھ سن رہے ہیں، کہاں پہنچتا ہے؟ عقل میں، آنکھیں جو ‏‏‏کچھ دیکھ رہی ہیں، کہاں پہنچتا ہے؟ عقل میں، زبان جن جن چیزوں کو چکھ رہی ہے، یہ کہاں پہنچتا ہے؟ یہ ساری چیزیں ‏‏‏عقل میں پہنچتی ہیں، اور، اور پھر عقل کیا کرتی ہے؟ ان چیزوں کو محفوظ کر لیتی ہے، اس کے لیے اللہ نے اس کو ‏‏‏قوتیں نصیب فرمائی ہیں، وہ ان چیزوں کو محفوظ کر لیتی ہے۔ ‏تو اصل حاکم کیا ہے؟ روح، اور روح کو اللہ نے کون سی قوت نصیب فرمائی؟ عقل، جس کے ذریعے وہ چیزوں کو ‏‏‏جانتی ہے، پہچانتی ہے، اور پھر اس عقل کو آگے اللہ نے مزید قوتیں نصیب فرمائی ہیں، جن کے ذریعے وہ مختلف ‏‏‏چیزوں کا علم حاصل کرتی ہے، یعنی ان کو پہچانتی ہے، اور پہچان کر پھر کیا کر لیتی ہے ان کو؟ محفوظ بھی کر لیتی ‏‏‏ہے، یہ نہیں کہ ایک چیز اپ نے دیکھ لی، گزر گئی، ختم ہو گئی، نہیں، ہاں وہ چیز محفوظ ہو گئی۔ ‏سمجھ میں آئی بات؟ محفوظ اور اس کو ذاکرہ کہتے ہیں، یا قوتِ حافظہ، اپ بھی سنتے ہیں کہ فلاں کی قوتِ حافظہ بہت ‏‏‏زیادہ ہے، کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ کیا معنی ہوتا ہے؟ معلوم ہوا اس کا وہ جو الماری والا خانہ ہے جس کے اندر ساری ‏‏‏تصویریں جمع ہو رہی ہیں، وہ اس کا بڑا مضبوط ہے بھئی، فوراً جو بھی چیز ایک دفعہ اس میں چلی جائے پھر وہ اس ‏‏کو ‏بھولتا نہیں۔ ‏جیسے امامِ بخاری رحمہ اللہ کے بارے میں اتا ہے، اللہ نے بے انتہا قوی حافظہ نصیب فرمایا تھا، جو چیز ایک دفعہ سن ‏‏‏لیتے تھے پھر بھولتے ہی نہیں تھے، اسی طرح علامہ انور شاہ کشم- بڑے بڑے ہمارے علماء، ائمہ گزرے ہیں، جن کو ‏‏‏اللہ نے ایسے ایسے قوتِ حافظہ نصیب فرمائی تھی کہ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ‏‏‏کے بارے میں اتا ہے کہ وہ کسی چیز کو کسی چیز پر سرسری نظر ہی ڈال لیتے، تو 15 یا 20 سال یا غالباً 25 سال م- ‏‏‏علماء نے لکھا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ پھر میں اس چیز کو بھولتا ہی نہیں۔ ‏چنانچہ وہ اخبار پڑھتے ہی نہیں تھے، کس نے پوچھا: حضرت! اپ اخبار کیوں نہیں پڑھتے؟ فرمایا کہ: میں جو کچھ پڑھتا ‏‏‏ہوں میرے حافظے میں محفوظ ہو جاتا ہے، تو اخبار میں تو بیکار خبریں ہوتی ہیں، مجھے کیا ضرورت ہے اپنے ذہن میں ‏‏‏یہ ساری بیکار خبریں محفوظ کرنے کی؟ ‏تو ہاں البتہ عام ادمی کی قوتِ حافظہ اتنی نہیں ہوتی، کچھ چیزیں اس میں محفوظ ہو جاتی ہیں، کچھ چیزیں وہ بھول جاتا ‏‏‏ہے، نکل جاتی ہیں ذہن سے بھئی۔ ‏صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو میں ذکر کر رہا تھا عقل کے بارے میں، تو عقل بھی ایک آئینہ ہے، عقل بھی ایک آئینہ، لیکن ‏‏‏فرق یہ ہے، ایک ہے جو ظاہری آئینہ جس میں اپ اپنے اپ کو سنوارتے ہیں، اس آئینے میں صرف اس چیز کی شکل اتی ‏‏‏ہے، اس چیز کی تصویر اتی ہے جس کا اپنا کوئی جسم ہو، جس چیز کا اپنا کوئی جسم نہیں، آئینے میں اس کی شکل بھی ‏‏‏نہیں اتی۔ ‏جیسے دیکھو، ہوا، ہوا کا اپنا کوئی ظاہری جسم ہے؟ آنکھوں سے یعنی نظر اتی ہے؟ نہیں، تو آئینے میں بھی اس کی ‏‏‏صورت نہیں آئے گی ہوا کی، لیکن جب میں اپ- اپ کی عقل میں جو چیزیں آنکھوں سے دکھائی نہ دیں ان کی بھی صورت ‏‏‏ا جاتی ہے، ان کی بھی پہچان ا جاتی ہے۔ ‏دیکھو، مثلاً میں کہتا ہوں: ہوا نہیں چل رہی، اپ سمجھ گئے یا نہیں ہوا کس کو کہتے ہیں؟ ہوا جانتے ہو یا نہیں جانتے ہوا ‏‏‏کو؟ دیکھا، یہ عقل کے اندر اس کی ایک پہچان ہے، آئینے میں تو ہوا کی صورت نہیں اتی، لیکن ہماری عقل میں اس کی ‏‏‏صورت ا جاتی ہے، صورت سے مراد ہے پہچان، کیا ا جاتی ہے اس کی؟ پہچان، یا دیکھو مثلاً بھئی، ذائقہ ہے، کوئی ‏‏چیز ‏کڑوی ہوتی ہے، کوئی چیز میٹھی ہوتی ہے، کوئی چیز کھٹی ہوتی ہے، اب آئینہ جو ہے، شیشہ جو ہے، اس میں ان ‏‏ذائقوں ‏کی تصویر نہیں اتی، لیکن عقل کے اندر ان سب کی صورتیں اور ان کی پہچان ہے یا نہیں؟ میں جیسے ہی کہتا ہوں: ‏‏میٹھا ‏ذائقہ، اپ سمجھ گئے یا نہیں کس قسم کا ذائقہ ہے؟ میں نے کہا: کھٹا ذائقہ، فوراً اپ کے ذہن میں ا گیا اچھا فلاں قسم کا ‏‏ذائقہ ‏مراد ہے، یا مثلاً میں کہتا ہوں کڑوا ذائقہ، اپ فوراً سمجھ گئے، یہ عقل کے اندر ان کی صورتیں ہیں، کیا ہیں؟ ‏‏صورتوں ‏سے کیا مراد ہے؟ ان کی پہچان ہے، کیا ہے؟ تو صورت سے مراد تصویر نہ لینا جو اپ دنیا میں تصویر اپ ‏‏دیکھتے ہیں ‏چیز- کسی انسان کی تصویر ہے، جگہ کی تصویر ہے، نہیں، بلکہ صورت سے کیا مراد ہے؟ پہچان، تو عقل ‏‏کے اندر جو ‏چیزیں آنکھ سے نہ دکھائی دیں، ان کی بھی پہچان اور صورتیں محفوظ ہوتی ہیں۔ ‏مثلاً دیکھو بھئی، مختلف خوشبوئیں ہیں، میں اپ سے کہتا ہوں: موتیے کی خوشبو، فورا پہچان آ گئی یعنی آپ کے ذہن ‏‏میں۔ ‏دیکھو یہ آپ کے عقل میں اس کی ایک صورت، اس کی ایک پہچان محفوظ تھی، آپ سمجھ گئے فلاں خوشبو کا ذکر ‏‏ہو رہا ‏ہے۔ یا مثلاً میں کہتا ہوں، "گلاب کی خوشبو"، فورا آپ کے ذہن میں ایک خوشبو کی پہچان آ گئی، "اچھا، فلاں ‏‏خوشبو کی ‏بات ہو رہی ہے۔" یا آپ کے سامنے خوشبو رکھ دی جائے لا کر، آپ اس کو سونگھ کر بتلا دیتے ہیں کہ یہ تو ‏‏گلاب کی ‏خوشبو ہے۔ کیوں؟ جب آپ نے خوشبو کو سونگھا، آپ کے حافظے میں، آپ کے عقل میں پہلے سے گلاب کی خوشبو کی پہچان موجود ‏‏‏تھی۔ جیسے ہی آپ نے سونگھا، آپ کو پتہ چلا، "ہاں، یہ تو وہ چیز ہے۔" آپ نے فورا کہہ دیا، "یہ کون سی خوشبو ہے؟ ‏‏‏گلاب کی۔" تو یہ اس ا اس طرح آپ نے اس چیز کو پہچان لیا۔ اسی طرح موتیے کی خوشبو رکھ دیں، تو آپ اس کو پہچان لیتے ہیں۔ اسی طرح مختلف چیزوں کی پہچان ہے، مثلاً میں ‏‏‏کہتا ہوں، "گائے، بیل، بکری، گھوڑا"، صورتیں آ رہی ہیں یعنی آپ کے ذہن میں؟ یہ سب چیزوں کا آپ کو علم ہے، آپ کو ‏‏‏ان کی پہچان ہے۔ اسی طرح میں کہتا ہوں، "سیب، ناشپاتی، امرود، عام، تربوز"، صورتیں آ رہی ہیں یا نہیں؟ یہ ان چیزوں کا آپ کو علم ہے، ‏‏‏ان کی پہچان فورا عقل، جیسے ہی میں نام لیتا ہوں، عقل فورا وہ چیز سامنے لے آتی ہے، "یہ اس چیز کا ذکر ہو رہا ہے۔" ‏‏‏میں نے جیسے ہی تربوز کا نام لیا، فورا اس کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی۔ دوسرے پھل کا نام لیا، فورا ذہن میں ‏‏‏پہچان لیا کہ یہ فلاں چیز کی بات ہو رہی ہے۔ تو معلوم ہوا، یہ عقل ایک ایسا ایسا روحانی آئینہ ہے، جس میں صر نہ صرف دکھائی جس میں نہ صرف دکھائی دینے ‏‏‏والی چیزوں کی صورت اور پہچان آتی ہے، بلکہ وہ چیزیں جو دکھائی نہیں دیتیں آنکھوں سے، ان کی صورت اور پہچان ‏‏‏بھی اس کے اندر آ جاتی ہے، ان کی تصویر بھی اس کے اندر آ جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب صورت کا معنی آپ کو سمجھ میں آیا؟ صورت کا معنی تصویر تو نہیں کریں گے، بلکہ صورت سے کیا مراد ہے؟ اس ‏‏‏کی پہچان ہے۔ ہاں، اگر صورت اگر اس کی پہچان ہے۔ یا جیسے آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کا نام ہے زید۔ جیسے ہی میں ‏‏‏نے کہا، "زید"، فورا آپ کے ذہن میں آپ کے اس ساتھی کی تصویر آ گئی، دیکھا یہ زید کی پہچان ہے، اور اس کے کہ ‏‏‏اس طرح کے اس کے اس طرح کے بال ہیں، اس طرح کی آنکھیں ہیں، اس طرح کا چہرہ ہے، ساری صورت اک آپ کے ‏‏‏ذہن میں اس کی آ گئی۔ اب آگے مزید یاد رکھیے بھئی کہ یہ جو یہ جو باہر کی دنیا ہے، اس میں دو قسم کی چیزیں ہیں۔ کچھ وہ چیزیں ہیں جن کا ‏‏‏اپنا الگ وجود ہے، جو ہمیں آنکھوں سے دکھائی دیتی ہیں، اور کچھ وہ چیزیں ہیں جن کا اپنا الگ وجود نہیں، جن کا اپنا ‏‏‏الگ وجود ہے، اس کو عین کہتے ہیں، عین یا ن، عینٌ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عین، عین کہتے ہیں۔ اور جس چیز کا اپنا ‏‏‏الگ وجود نہیں، اپنے وجود میں دوسری چیزوں کی محتاج ہے، اس کو عرض کہتے ہیں۔ عین ر ض، کیا کہتے ہیں؟ ‏‏‏عرض، ر کو ساکن نہیں پڑھنا، ر پر فتحہ پڑھنا ہے، زبر پڑھنا ہے، عرض، عرض۔ سارے پڑھو کیسے؟ عرض، عرض ‏‏‏نہیں پڑھنا، عرض کا معنی ہے چوڑائی، اور عرض کا کیا معنی ہے؟ وہ چیز جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو۔ عین کسے ‏‏‏کہتے ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو، زبان سے دہراؤ بھئی، عین کسے کہتے ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو، وہ اپنے ‏‏‏وجود میں کسی دوسری چیز کی محتاج نہ ہو۔ اور عرض کسے کہتے ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود نہیں، وہ اپنے وجود میں ‏‏‏غیر کی محتاج ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں، "زید بہادر ہے۔" دیکھو زید کا تو اپنا الگ وجود ہے، زید مثلاً آپ کا ساتھی ہے، تو آپ کو نظر آتا ہے ‏‏‏یا نہیں نظر آتا؟ زید کا اپنا الگ وجود ہے۔ لیکن مجھے بہادری بہادری کا وجود کبھی آپ نے دیکھا ہے؟ بہادری کا اپنا ‏‏‏الگ کوئی وجود نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہی زید زید کی اسی جرات کا نام بہادری ہے بھئی، اور بہادری کوئی ‏‏‏الگ چیز نہیں کہ اس کا اپنا الگ وجود ہو، آنکھوں سے کسی کو نظر آ جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اپنا الگ ‏‏‏وجود نہیں، زید ہے تو زید کے ساتھ اس کی بہادری بھی ہے، اور زید نہ ہو تو پھر زید کی بہادری ہو سکتی ہے؟ نہیں، ‏‏‏الگ زید کی بہادری نہیں ہو سکتی۔ یا مثلاً زید کی، میں کہتا ہوں، "زید سخی آدمی ہے۔" تو سخاوت دیکھو، یہ عرض ہے، ‏‏‏اس کا اپنا الگ وجود نہیں، زید ہے تو سخا اس کی سخاوت بھی ہو سکتی ہے، زید نہیں تو زید کی سخاوت بھی نہیں، تو ‏‏‏دیکھو سخاوت ایک صفت ہے زید کی، اس کا اپنا الگ وجود نہیں، تو سخاوت کا اپنا الگ وجود نہیں، بہادری اور شجاعت ‏‏‏کا اپنا الگ وجود نہیں ہے۔ یہ ایک صفت ہے جو غیر کے ساتھ قائم ہوتی ہے، مثلاً بہادری ہے، شیر بھی بہادر ہوتا ہے، شیر ہے تو بہادری اس کی ‏‏‏ہے، شیر نہیں تو اس کی بہادری بھی نہیں، بہادری کا اپنا الگ وجود ہوتا ہی نہیں ہے، یہ ایک صفت ہوتی ہے کسی چیز ‏‏‏کی، سخاوت کا اپنا الگ وجود ہے ہی نہیں، یہ صفت ہوتی ہے کسی ذات کی، وہ ذات ہے تو اس کی سخاوت بھی ہے، وہ ‏‏‏ذات نہیں تو اس کی سخاوت بھی نہیں ہے، تو بات سمجھ میں آ گئی؟ کچھ چیزیں ہیں جن کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے، وہ آپ ‏‏‏خود غور کر لیں، دیکھو میرے سامنے یہ کتاب موجود ہے، اس کا اپنا الگ وجود ہے، یہ تپائی موجود ہے، اس کا اپنا الگ ‏‏‏وجود ہے، یہ کمرہ ہے، یہ چھت ہے، یہ پنکھے ہیں، جو جو کچھ آپ کو آنکھوں سے نظر آ رہا ہے، ان سب چیزوں کا اپنا ‏‏‏الگ وجود ہے، اور کچھ صفات ہوتی ہیں، ان کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اپنا الگ، یا جیسے سفیدی ہے سفیدی، یہ دیکھو یہ دیوار آپ کو سفید نظر آ رہی ہے، یا یہ کپڑا آپ کو سفید نظر آ رہا ہے، ‏‏‏یا یہ کاغذ آپ کو سفید نظر آ رہا ہے، تو یاد رکھو یہ سفیدی صفت ہے، اس کا اپنا الگ وجود نہیں، یہ دیوار نہ ہوتی تو ‏‏‏سفیدی بھی نہ ہوتی، یہ پنکھا یہ کپڑے سفید نہ ہوتے تو سفیدی بھی نہ ہوتی، یہ سفید ورقہ نہ ہوتا تو سفیدی بھی نہ ہوتی۔ ‏‏‏آپ کہیں گے سفیدی کا تو اپنا الگ وجود ہے، ہم بازار سے سفیدی کرتے ہیں لا لے کر آتے ہیں اور پھر باقاعدہ کیا کرتے ‏‏‏ہیں؟ دیوار پر سفیدی کرتے ہیں، تو سفیدی الگ ہوتی ہے یا نہیں؟ جواب: نہیں نہیں، وہ سفیدی الگ نہیں ہے، وہ ایک ‏‏‏خاص قسم کی مٹی ہے، کیا ہے؟ مٹی، جس کو آپ چونا کہتے ہیں، اور اس چونے کے ہر ذرے میں سفیدی ہے، وہ مٹی نہ ‏‏‏ہو، صرف مجھے سفیدی دکھا دو، مٹی نہ ہو۔ آپ کہتے ہیں، "ہم بازار سے پینٹ کا ڈبہ لاتے ہیں، اس کے اندر خالص سفیدی ہوتی ہے۔" نہیں بھئی، وہ اس کے اندر وہ ‏‏‏تیل اور کیمیکل ہوتا ہے، اس کے ہر ہر جز میں، ہر ہر ذرے میں سفیدی اس کے اوپر لگی ہوئی ہوتی ہے، الگ سفیدی ‏‏‏نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو الگ سفیدی سفیدی صفت ہے کسی چیز کی صفت ہوتی ہے، وہ چیز ہوگی تو سفیدی ‏‏‏بھی ہوگی، وہ چیز نہیں تو سفیدی کا اپنا الگ وجود بھی نہیں، یہ کپڑا اس کے یہ جو سفید کپڑا ہے، اس پر سفیدی اس کے ‏‏‏ایک ایک جز میں سفیدی ہے، لیکن اس سے آپ الگ کر دیں، سفیدی ہو، الگ نہیں ہو سکتی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے گلاب کی خوشبو ہے، گلاب کی خوشبو۔ گلاب کی خوشبو گلاب کے ایک ایک پھول کی پتی کے ایک ایک ذرے ‏‏‏میں وہ خوشبو ہے، یا اس کے اندر دیکھو وہ گلاب کا رنگ ہے، وہ رنگ اس سے الگ نہیں ہو سکتا۔ اگر الگ ہو گا بھی، ‏‏‏کچھ نہ کچھ چیز ہو گی اس پہ وہ رنگ لگا ہو گا، اکیلا رنگ الگ نہیں ہو سکتا، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی، آپ کیا ‏‏‏کہتے ہیں، "ہم تو چونا لے کر آتے ہیں"، اور چونے کو لوگ کیا کہتے ہیں؟ "سفیدی"، لیکن دراصل یہ سفیدی نہیں ہے ‏‏‏جس کی میں بات کر رہا ہوں، ہے تو ٹھیک ہے سفیدی اسی کو کہتے ہیں، لیکن سفیدی کا معنی جو الگ ہو، کسی چیز کے ‏‏‏ساتھ لگی ہوئی نہ ہو، اور یہ وہ مٹی ہوتی ہے یا نہیں؟ ڈھیر لگا ہوتا ہے، اس کے ایک ایک ذرے میں کیا ہے؟ سفیدی ‏‏‏داخل ہے۔ تو سفیدی ایک صفت ہے، ایک عرض ہے، اس کا اپنا الگ وجود نہیں، جبکہ کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا اپنا الگ وجود ہے، ‏‏‏تو جس کا اپنا الگ وجود ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عین، عین، اور جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو، وہ اپنے وجود میں غیر ‏‏‏کی محتاج ہے، وہ غیر ہے تو اس کا وجود ہے، وہ غیر نہیں تو اس کا اپنا الگ وجود بھی نہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏‏‏عرض کہتے ہیں، عرض، ر کو ساکن نہیں پڑھنا، کیا کہنا ہے؟ عرض کہتے ہیں، عرض کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی ‏‏‏بھئی؟ اب ایک چھوٹی سی بات اور سمجھ لیں بھئی، باقی پھر انشاء اللہ کل کریں گے۔ یاد رکھیے، ہم جو بھی بات بولتے ہیں، پہلے ذہن میں اس کا خیال آتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے میں آپ کے سامنے یہ اتنی ‏‏‏لمبی تقریر کر رہا ہوں، یہ بغیر سوچے سمجھے میری زبان چل رہی ہے یا بات پہلے میرے ذہن میں آتی ہے اور پھر ‏‏‏زبان کے ذریعے میں اس کو ادا کرتا ہوں؟ پہلے بات ہمیشہ ذہن میں آتی ہے، پھر انسان اس کو زبان سے ادا کرتا ہے۔ تو ‏‏‏جو ذہن میں آئی، وہ بھی بات ہے۔ اور وہی چیز جب زبان پر آ گئی، وہی بات ہے، تو اس بات کی دو صورت شکلیں ہو ‏‏‏گئیں، ایک شکل وہ جب وہ ذہن میں محفوظ ہے، دوسری شکل وہ جب میں نے اس کو زبان سے ادا کر دیا، تو جب ذہن میں ‏‏‏بات ہو، اس کو کہتے ہیں وہ وہ ہے قول، وہ کیا ہے وہ بات کو کیا کہتے ہیں؟ قول، عربی میں کیا کہتے ہیں؟ قول، ق دو ‏‏‏نقطوں والا و ل، قول، بات کو کیا کہتے ہیں؟ قول، تو یہ جو بات پہلے ذہن میں ہے، ذہن میں آتی ہے، ہم ذہن میں سوچتے ‏‏‏ہیں، اس کو کہتے ہیں قول معقول، جو عقل میں ہے، معلوم کا کیا معنی؟ وہ چیز جو ہمیں معلوم ہوئی، جس کا پتہ چلا، تو ‏‏‏معقول وہ چیز جو کس میں آئی؟ عقل میں آئی، تو قول معقول کس کو کہتے ہیں؟ جو بات ہمارے ابھی ذہن میں ہو، اس کو ‏‏‏کیا کہتے ہیں؟ قول معقول، اور پھر یہی بات جب ہم زبان سے ادا کر دیں، تو اس کو کہتے ہیں قول ملفوظ، یعنی یہ اب اس ‏‏‏پر ہم نے تلفظ کر دیا۔ یہ جو زبان سے ہم بول رہے ہیں نا، اس کو لفظ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ لفظ کہتے ہیں، تو جس پر تلفظ کیا، وہ ہوا ‏‏‏ملفوظ، تو ذہن میں جب بات آئی، اس کا کیا نام؟ قول معقول، اور اسی کو جب زبان سے ادا کر دیا، تو اس کا کیا نام؟ قول ‏‏‏ملفوظ، اور یاد رکھو، منطقی کی ساری توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے، ہمارے ذہن میں کس کس طرح کی باتیں آ ‏‏‏سکتی ہیں، اور ان کے کیا کیا نام ہیں، یہ سارا اس علم میں ہمیں وہ بتلائیں گے بھئی۔ لیکن یہ باتیں سمجھنے کے، جب آپ کے ذہن میں ایک بات ہے، کیا ساتھ والے کو پتہ چلے گا؟ نہیں، جب تک آپ اس کو ‏‏‏زبان سے ادا نہیں کرتے، ساتھ والے کو پتہ ہی نہیں چلے گا، دیکھیے کتنی ہی باتیں ہیں، آپ ذہن میں سوچتے ہیں، لیکن ‏‏‏زبان سے بولتے نہیں ہیں، تو وہ قول معقول تو ہے، قول ملفوظ نہیں، لیکن جب اسی میں سے کسی بات کو آپ زبان سے ‏‏‏بھی ادا کر دیں، تو وہ قول معقول بھی ہے، جو ذہن کے اندر، اور وہ قول ملفوظ بھی ہے، جو کہاں پر آ گیا؟ جو زبان سے ‏‏‏ادا ہو گیا، جو لفظ ادا ہوئے۔ تو اور منطقی کی اصل توجہ، علم منطق پڑھنے والے کی توجہ کس کی طرف ہوتی ہے؟ قول معقول کی طرف، جو بات ‏‏‏ہمارے ذہن میں ائے، لیکن ذہن کی بات ایک دوسرے کو سمجھانے کے لیے، ہمیں لفظوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، میرے ذہن ‏‏‏میں کیا ہے؟ جب تک میں بولوں گا نہیں، اس پہ تلفظ نہیں کروں گا، اس کو قول ملفوظ کی شکل نہیں دوں گا، آپ کو پتہ ہی ‏‏‏نہیں چلے گا، تو ایک دوسرے کو سمجھانے کے لیے ہمیں کس کا سہارا لینا پڑتا ہے؟ قول ملفوظ کا، تو لہذا منطقی قول ‏‏‏ملفوظ کی بھی بات کر جائے گا، کیونکہ اس کی ضرورت پیش آتی ہے، اس کے بغیر گزارا نہیں، لیکن دراصل اس کی ‏‏‏توجہ کس کی طرف ہے؟ قول معقول کی طرف، وہ ساری بحث کس کی کرتا ہے؟ قول معقول کی، مثلاً "زید" ہمارے ذہن ‏‏‏میں آیا، یا میں نے ذہن میں سوچا "زید تو بڑا عالم ہے"، تو یہ دیکھو یہ قول معقول ہے، منطقی اس کے بارے میں بحث ‏‏‏کرے گا کہ یہ کس قسم کا کلام ہے، اور اس میں کیا کیا اج حصے ہیں اس کے وغیرہ، منطقی اس کی توجہ ساری اس کی ‏‏‏طرف ہو گی، تو منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف ہوتی ہے؟ قول معقول کی طرف، اور وہ قول ملفوظ کے بارے میں ‏‏‏بھی بولتا ہے اور بات کرتا ہے، بحث کرتا ہے، لیکن اصل توجہ قول معقول ہی کی طرف ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے بھئی، آج ہم نے علم کے بارے میں پڑھا، علم کسے کہتے ہیں؟ پہچاننا، کسی شئے کی صورت جو ہمارے ذہن ‏‏‏میں آئے، اس کو اس چیز کا علم کہتے ہیں، اور اگر ایک چیز کا نام لیا گیا اور آپ کے ذہن میں اس کی صورت نہیں آئی، ‏‏‏اس کا کیا معنی؟ کہ آپ اس چیز سے جاہل ہیں، یعنی آپ کو اس چیز کا پتہ نہیں ہے بھئی، نہیں ہے۔ اور یہ عقل جو ہے، یہ ایک روحانی آئینہ ہے، اس کے اندر چیزوں کی صورت آتی ہے، ایک قوت اللہ نے نصیب فرمائی ‏‏‏ہے روح کو، جس کے ذریعے وہ چیزوں کو پہچانتی ہے، اور اس میں خلل آ جائے تو پھر یہ اپنے سارے کام چھوڑ دیتی ‏‏‏ہے، اور آپ خود دیکھتے ہیں کہ جس کی عقل نہ ہو، پاگل ہے، بے وقوف ہے، تو وہ اسے کے سامنے کچھ بھی کہتے ‏‏‏رہیں، اسے بات سمجھ میں نہیں آتی۔ تو یہ عقل ایک روحانی آئینہ ہے، البتہ اس میں فرق یہ ہے کہ یہ عام آئینے کی طرح نہیں، یہ بڑا ہی طاقتور آئینہ ہے، اس ‏‏‏کے اندر دیکھی جانے والی چیزوں کی صورت بھی آ جاتی ہے، اس میں چکھی جانے والی چیزوں کی صورت ذائقوں کی ‏‏‏صورت بھی آ جاتی ہے، اس میں سننے آوازوں کی صورت بھی آ جاتی ہے، دیکھو مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کا نام ‏‏‏زید ہے۔ آپ کمرے کے اندر بیٹھے تھے کہ باہر سے کسی نے آپ کو آواز دی، آپ کو نہیں پتہ باہر کون ہے، آپ کو باہر ‏‏‏سے جیسے ہی آواز آئی، آپ نے فورا کہا، "اوہو! زید آ گیا ہے۔" بھئی، آپ نے تو زید کو نہیں دیکھا، کیسے پتہ چلا؟ آواز ‏‏‏کو آپ نے پہچان لیا، ذہن کے اندر عقل میں وہ آواز محفوظ تھی، جیسے ہی باہر سے وہ آواز آئی، آپ کی عقل نے اس کو ‏‏‏فورا پہچان لیا کہ یہ تو زید کی آواز ہے، اور آپ کو پتہ چل گیا۔ تو دیکھا، یہ ایک روحانی آئینہ ہے، لیکن اس میں ہر چیز کی پہچان آ جاتی ہے، اس میں تصویریں بھی آ جاتی ہیں چیزوں ‏‏‏کی، اس کے اندر ذائقوں کی صورت بھی آ جاتی ہے، اس میں دکھ دیکھی جانے والی چیزوں کی صورت بھی آ جاتی ہے، ‏‏‏اس میں چکھی جانے والی چیزوں کی صورت بھی آ جاتی ہے، تو ہر چیز کی صورت اس عقل کے اندر آ جاتی ہے، لیکن ‏‏‏اصل حاکم روح ہے بھئی، اصل حاکم کون ہے؟ روح ہے بھئی۔ انسان کے اندر اصل حاکم روح ہے بھئی، اصل حاکم روح ہے۔ روح حاکم ہونے کا معنی یہ ہے، حکم دینے والی، فیصلہ ‏‏‏کرنے والی، تو یہ جو آپ مختلف کام کرتے ہیں، کہیں آ رہے ہیں، کہیں جا رہے ہیں، کسی سے بات کر رہے ہیں، یہ سارا ‏‏‏کچھ دراصل آپ کی روح کر رہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ بدن نہیں، یہ روح فیصلہ کرتی ہے، "ادھر کو چلنا ہے"، تو بدن اس کو لے کر ادھر کو چل ‏‏‏پڑتا ہے، کیونکہ یہ بدن کیا ہے اس کے لیے؟ ال اس کے تابع ہے، اس کا آلہ ہے، اور میں نے مثال سے وضاحت کی تھی ‏‏‏کہ دیکھو، جب موت آتی ہے، روح نکل جاتی ہے، اب وہی ہاتھ ہیں لیکن کچھ نہیں کر سکتے، وہی آنکھیں ہیں، وہی کان ‏‏‏ہیں، وہی زبان ہے، وہی پاؤں ہیں، لیکن کوئی بھی اپنا کام اب سرانجام نہیں دے رہا، کیونکہ یہ آلہ ہے، جو چلانے والی ‏‏‏چیز تھی وہ اب اس میں ہے ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ روح جو ہے، یہ سارے فیصلے کرتی ہے، کیا کرنا ہے، کدھر کو جانا ہے، یہ سب چیزیں کون سرانجام دیتی ہے؟ یہ ‏‏‏تمام کام جو ہے، جو کچھ آپ کرتے ہیں، یہ روح سرانجام دے رہی ہے آپ کی بھئی، وہ فیصلے کرتی ہے، کیا کرنا ہے، ‏‏‏کیا نہیں کرنا۔ اور پھر میں نے آپ کو یہ بتلایا، ایک ہے عین اور ایک ہے عرض، عین کسے کہتے ہیں؟ جس چیز کا اپنا الگ وجود ہو، ‏‏‏جو ہمیں آنکھوں سے دکھائی دے رہا ہے عموماً، اور الگ وجود ہے، اس کو عین کہتے ہیں، اور جس چیز کا اپنا الگ ‏‏‏وجود نہیں، وہ اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرض کہتے ہیں۔ زبان سے ذرا دہرائیں، "جس ‏‏‏چیز کا اپنا الگ وجود ہو، اسے عین کہتے ہیں۔" اور جس چیز کا اپنا الگ وجود نہیں، وہ اپنے وجود میں غیر کی محتاج ‏‏‏ہے، اور وہ غیر ہے تو اس کا بھی وجود ہے، وہ غیر نہیں تو اس کا بھی وجود نہیں، اس کو عرض کہتے ہیں۔ دہرائو، ‏‏‏‏"اور وہ چیز جس کا کا اپنا الگ وجود نہیں، وہ اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہے، اگر وہ غیر ہے تو اس کا بھی وجود ‏‏‏ہے، اگر وہ غیر نہیں تو اس کا بھی وجود نہیں، اس کو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرض کہتے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ ‏‏‏گئی بھئی۔ اور قول کی کتنی قسمیں ہیں؟ دو، ایک قول معقول اور ایک قول ملفوظ اور منطقی کی اصل توجہ کس کی ‏‏‏طرف؟ قول معقول کی طرف، وہ ساری بحث کس کے بارے میں کرے گا؟ قول معقول کے بارے میں کرے گا، جو جو ‏‏‏چیزیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں وہ ان کے بارے میں بحث کرے گا۔ ہاں، کبھی کبھی ضرورت کی بناء پر وہ قول ملفوظ کی ‏‏‏بھی بحث کرے گا لیکن اس کی اصل توجہ کس کی طرف ہے؟ قول معقول کی طرف۔ تو یہ ہے بھئی منطق بھئی۔ سمجھ میں آ رہی ہے؟ منطق سے ذہن تیز ہوتا ہے، اس میں گہری باتیں آتی ہیں۔ عام باتیں ہوتی ہیں لیکن ان کو وہ علمی ‏‏‏رنگ دے دیتے ہیں، ان کے نام رکھ دیتے ہیں چیزوں کے اور تو ذہن پہ جب اور اللہ نے انسان کو، اس کے ذہن کو ایسا ‏‏‏بنایا ہے، اس کو وہ جس قدر استعمال کرتا ہے علم کی اس کے ذہن کی صلاحیت بڑھتی چلی جاتی ہے بھئی۔ تو اس سے منطق سے ذہن تیز ہوتا ہے بھئی۔ جی اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھی تعریف دیکھ لیجیے۔ علم کی تعریف اور اس کی قسمیں۔ علم دیکھیے کسی شئے کی صورت کا تمہارے ذہن میں آنا، جیسے زید۔ مثلاً آپ کا ‏‏‏جاننے والا ہے کسی نے جیسے ہی زید کہا فورا آپ کے ذہن میں اس کی تو یہ زید کا علم ہے۔ جیسے زید کسی نے بولا ‏‏‏اور تمہارے ذہن میں اس کی صورت آئی، یہ زید کا علم ہے۔ کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہ آئی ہو؟ اچھی طرح؟ ہاں۔ بڑے منطقی بننا ہے آپ نے بھئی۔ ایسے زبردست منطقی بننا ہے کہ اور طلباء کو بھی آپ نے منطق ‏‏‏سکھانی ہے بھئی۔ اللہ آپ میں سے ہر ایک کو بڑا عالم، بڑا مدرس اور بڑا منطقی اور خوب دین کا کام کرنے والا بنائے ‏‏‏بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھذا و المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔