واختار مذهب القدماء حيث جعل متعلق الأذعان والحكم الذي هو جزء أخير للقضية هو النسبة الخبرية الثبوتية أو السلبية، لا وقوع النسبة الثبوتية التقييدية أو لا وقوعها. وسيشير إلى تثليث أجزاء القضية في مباحث القضايا. كل آپ نے پڑھا کہ فلاسفہ اور امام رازی رحمہ اللہ کے درمیان اختلاف ہے۔ فلاسفہ یعنی حکماء فرماتے ہیں کہ تصدیق جو ہے وہ بسيط ہے، اس کے اجزاء نہیں۔ اور یہ نفس اذعان اور نفسِ حکم کا نام ہے۔ اور اس کے لیے تین تصورات شرط ہیں۔ تصورِ محکوم علیہ، تصورِ محکوم بہ، اور تصورِ نسبتِ حکمیہ یا نسبتِ خبریہ کہہ لیں۔ تو یہ تین اس کے لیے شرط ہیں، لیکن خود تصدیق کے اندر یہ داخل نہیں ہیں، یہ اس کے لیے شرط ہیں اور شرط مشروط سے خارج ہوتی ہے، جیسے وضو نماز سے خارج ہے بھئی۔ جبکہ امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ چیزیں تصدیق کے اندر داخل ہیں، تو ان کے نزدیک تصدیق مرکب ہوئی چار چیزوں سے: تصورِ محکوم علیہ، تصورِ محکوم بہ، تصورِ نسبتِ حکمیہ یعنی نسبتِ خبریہ، اور اس نسبتِ حکمیہ کا اذعان۔ یہ چاروں چیزیں تصدیق کی حقیقت کے اندر داخل ہیں، جیسے مثلاً سائیکل ہے، سائیکل صرف پہیے کا نام بھی نہیں، سائیکل صرف ہینڈل کا نام بھی نہیں، سائیکل صرف گدی کا نام بھی نہیں، بلکہ یہ ساری چیزیں ملیں گی تو کیا بنے گی؟ سائیکل۔ تو اسی طرح یہ چاروں اجزاء ملیں گے تو یہ تصدیق کہلاتے ہیں۔ تو امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصدیق مرکب ہے، جبکہ حکماء کے نزدیک تصدیق بسيط ہے۔ اب آگے ایک اور اختلاف ذکر کر رہے ہیں بھئی، ایک اور اختلاف۔ یاد رکھیے یہ جو فلاسفہ ہیں نا فلاسفہ، ان کے دو گروہ ہیں بھئی: ایک قدیم فلاسفہ جو پہلے گزرے ہیں، اور ایک متاخرین بعد والے فلاسفہ۔ جو قدیم فلاسفہ ہیں، ان کے نزدیک جو قضية ہے وہ مثلث ہے، یعنی اس کے تین اجزاء ہیں۔ قضية کے تین اجزاء ہیں۔ جبکہ متاخرین فلاسفہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ قضية کے چار اجزاء ہیں۔ تو ان کے نزدیک قضية مربع ہے۔ مربعٌ بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ أربعة سے ہے، اور مثلث ثلاثة سے ہے۔ تو قدیم فلاسفہ کے نزدیک قضية کیا ہے؟ مثلث ہے، یعنی اس کے تین اجزاء ہیں۔ تین اجزاء کون کون سے؟ ایک محکوم علیہ، ایک محکوم بہ، اور ایک نسبتِ خبریہ بھئی، نسبتِ خبریہ۔ جبکہ متاخرین فرماتے ہیں کہ نہیں، قضية کے اجزاء چار ہیں بھئی چار۔ ایک محکوم علیہ، ایک محکوم بہ، ایک نسبتِ تقييدية، نسبتِ تقييدية جسے نسبتِ بین بین بھی کہتے ہیں، بین بین۔ اور پھر چوتھا جزو ہے اس نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع۔ تو چار اجزاء ہیں۔ تفصیل آرہی ہے ساروں کی، انشاء اللہ بار بار تکرار میں کرواؤں گا، پریشان نہیں ہونا بس توجہ سے بیٹھے رہیں بھئی۔ تو متاخرین کے نزدیک قضية کے کتنے اجزاء؟ چار اجزاء۔ قضية تو جانتے ہیں نا کسے کہتے ہیں؟ جملہ خبریہ کو، جملہ خبریہ کو، جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، تو ہر کلامِ خبری کیا ہے؟ قضية ہے۔ کلام دو قسم پر نا، یا انشائی ہوگا یا خبری ہوگا، یا تو اس میں انشاء ہوگا یا کسی بات کی خبر دی گئی ہوگی، اور اگر کسی بات کی خبر دی گئی ہے تو اسے قضية کہتے ہیں اور اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ تو قضية وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے بھئی۔ تو یہ جو قضية ہے، مثلاً میں کہتا ہوں زیدٌ عالمٌ، تو قدیم فلاسفہ کے نزدیک اس کے کتنے اجزاء؟ تین اجزاء ہیں: محکوم علیہ، محکوم بہ، اور درمیان میں نسبتِ حکمیہ بھئی، یا نسبتِ خبریہ کہہ لیں، نسبتِ خبریہ تامّہ۔ جبکہ متاخرین فلاسفہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ چار اجزاء ہیں۔ ایک محکوم علیہ، ایک محکوم بہ، پھر ایک نسبتِ تقييدية ہے، پھر اس کے بعد نسبتِ خبریہ چوتھے نمبر پر آئے گی، اسے نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، لا وقوع۔ دیکھیے! متاخرین فرماتے ہیں کہ ایک ہے محکوم علیہ، توجہ ہے؟ ایک ہے محکوم بہ، محکوم بہ۔ ان کے درمیان پہلے ایک نسبتِ تقييدية آتی ہے۔ کیا آتی ہے؟ نسبتِ تقييدية۔ یہ نسبت تو ہے لیکن تام نہیں، خبری نہیں، اس کا کیا نام ہے؟ نسبتِ تقييدية، اور اسی کو نسبتِ بین بین بھی کہتے ہیں۔ بین کا کیا معنی ہوتا ہے؟ زیدٌ بین عمرٍو و خالدٍ، زید کس کے بیچ ہے؟ عمر اور خالد کے بیچ۔ تو یہ بھی نسبتِ بین بین ہے، کیا ہے؟ نسبتِ بین بین۔ اور یہ نسبتِ بین بین، اسی کا نام نسبتِ تقييدية بھی ہے۔ اور اسی کو وہ نسبتِ حکمیہ بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ نسبتِ حکمیہ۔ معلوم ہوا، آپ نے کل پڑھا تھا، حکم کتنے چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ چار چیزوں کے لیے۔ کبھی حکم بول کر کیا مراد لیتے ہیں؟ تصدیق۔ کبھی حکم بول کر کیا مراد لیتے ہیں؟ نسبتِ حکمیہ، وہی نسبتِ خبریہ، نسبتِ خبریہ مراد لیتے ہیں۔ اور کبھی حکم بول کر محکوم بہ مراد لیتے ہیں، اور کبھی حکم بول کر قضية مراد لیتے ہیں۔ تو حکم ان چار چیزوں پر بولا جاتا ہے، آپ نے غور کرنا ہے کس موقع پر کس معنی کے لیے وہ استعمال ہو رہا ہے بھئی۔ تو اسی طرح معلوم ہوا یہ نسبتِ حکمیہ بھی دو چیزوں کے لیے استعمال ہوئی، ابھی تک آپ نے کیا پڑھا تھا؟ وہی نسبتِ خبریہ کا کیا نام ہے؟ نسبتِ حکمیہ بھی۔ نسبتِ حکمیہ اور نسبتِ خبریہ ایک چیز ہے۔ جبکہ یہ متاخرین کے نزدیک وہ نسبتِ حکمیہ کہتے ہیں اس نسبتِ تقييدية کو، کس کو؟ ہاں، تو نسبتِ حکمیہ کا لفظ آئے تو وہ نسبتِ بین بین کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور نسبتِ نسبتِ خبریہ کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ مذہب میں بیان کر رہا ہوں متاخرین فلاسفہ کا، وہ کیا فرماتے ہیں؟ قضية کے کتنے اجزاء؟ چار اجزاء۔ ایک کیا؟ محکوم علیہ، ایک محکوم بہ، اور پھر اس محکوم علیہ اور محکوم بہ کے درمیان اولاً ایک نسبت آتی ہے، ایک جوڑ اور ربط آتا ہے، اور اسے نسبتِ تقييدية کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تقييدية، اسی نسبتِ تقييدية کو وہ نسبتِ نسبتِ حکمیہ بھی کہتے ہیں، اور نیز اس کا کیا نام ہے؟ نسبتِ بین بین، نسبتِ بین بین۔ اور یاد رکھیے نسبتِ تقييدية دو قسم پر ہے۔ یا یہ مرکبِ توصیفی ایک، اور ایک مرکبِ اضافی۔ ایک مرکبِ توصیفی، اور ایک مرکبِ اضافی۔ یعنی موصوف صفت، مرکبِ توصیفی ہی جو مرکب ہوتا ہے موصوف اور صفت سے۔ رجلٌ عالمٌ، دیکھا رجلٌ موصوف، عالمٌ اس کی صفت، عالم آدمی، عالم آدمی۔ پورا جملہ نہیں ہے کہ وہ آدمی عالم ہے، نہیں نہیں، پھر تو نسبتِ تامّہ خبری بن جائے گی، نسبتِ تامّہ نہیں ہے، نسبتِ تقييدية۔ قيّد يقيّد تقييد کا کیا معنی ہے؟ قید کرنا، قید بنانا، مقید کرنا، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو دیکھو رجلٌ، اس کی صفت میں کیا لے آیا؟ عالمٌ، ایسا آدمی جو کہ عالم ہے۔ اب سب غیر عالم نکل گئے یا نہیں نکلے؟ غیر عالم کیا ہوئے اس سے نکل گئے۔ تو پہلے رجل عام تھا، سب پر بولا جا رہا تھا، چاہے عالم ہو چاہے عالم نہ ہو، لیکن ساتھ اس کے ایک قید آگئی کیا؟ رجلٌ عالمٌ۔ اب یہ صرف کس پر بولا جا رہا ہے؟ عالم پر، اور رجلٌ عالمٌ، ان میں ربط اور جوڑ ہے یا نہیں ہے؟ عالمٌ کو ہم نے رجل کے ساتھ جوڑا یا نہیں جوڑا؟ جوڑا، اسی لیے دیکھا یہ قید ہے۔ تو یہ صفت کیا ہوتی ہے موصوف کے لیے؟ قید ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ قید ہوتی ہے۔ اب رجلٌ عالمٌ، کیا میں جاہل پر یہ لفظ بول سکتا ہوں؟ نہیں، جاہل آدمی پر یہ لفظ نہیں بول سکتا، کیونکہ یہاں پر رجل کے ساتھ قید لگی ہوئی ہے کس چیز کی؟ عالمٌ کی۔ توجہ ہے؟ نسبتِ تقييدية دو قسم پر ہے، دو چیزیں اس میں آتی ہیں: ایک مرکبِ توصیفی جو مرکب ہوتا ہے کس سے؟ موصوف اور صفت سے، اور ایک مرکبِ اضافی جو مرکب ہوتا ہے مضاف اور مضاف الیہ سے۔ تو یہ صفت کیا ہوتی ہے موصوف کے لیے؟ قید۔ قید ہوتی ہے، جیسے رجل کا لفظ پہلے ہر آدمی پر بولا جا سکتا تھا، لیکن جب اس کے ساتھ عالمٌ کی قید آگئی اب صرف یہ کن پر بولا جائے گا؟ وہ رجل جو کیا ہوں گے؟ عالم، غیر عالم پر اب یہ نہیں بول سکتے۔ بھئی کیوں نہیں بول سکتے؟ اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ ایک قید آگئی، کون سی قید آگئی؟ عالم کی، تو رجلٌ عالمٌ، یہ موصوف صفت ہیں، عالم آدمی۔ تو یہ موصوف صفت ہیں، اور تو صفت کیا ہوتی ہے؟ موصوف کے لیے قید۔ تو تو دونوں میں ربط اور جوڑ ہے یا نہیں؟ دونوں جڑ گئے نا، جڑے ہیں تو موصوف صفت بنے، جڑتے نہ تو رجل تو الگ لفظ تھا، عالمٌ تو، پھر آپ نے عالمٌ کو کیا کیا؟ رجل کے ساتھ جوڑ دیا، یہ جو جوڑ ہے، یہ جو ربط ہے، اس کو کہتے ہیں نسبت۔ یہ کیا ہے؟ نسبت، اور یہ بتاؤ مجھے تام ہے یا غیر تام ہے؟ غیر تام ہے، کیونکہ تام ہوتا پھر تو بات پوری ہو جاتی، پھر تو ہمارا بنتا وہ آدمی ہے الرجل عالمٌ، وہ آ، وہ تو، وہ تو پھر مبتدا خبر بن جاتے، یہ مبتدا خبر نہیں ہیں، موصوف صفت ہیں۔ کیا ہیں؟ موصوف صفت ہیں، اور موصوف صفت کے ترجمے کا آسان طریقہ میں نے بتایا ہے کہ صفت کو کیا کر دو موصوف پر مقدم کر دو۔ رجلٌ عالمٌ، کیا ترجمہ ہوگا؟ عالم آدمی، یا رجلٌ تاجرٌ، کیا معنی؟ تاجر آدمی۔ نکرہ کے لیے نکرہ صفت آئے گی، معرفہ کے لیے معرفہ۔ زیدٌ العالمُ، کیا ترجمہ ہوگا؟ عالم زید۔ زیدٌ التاجرُ، کیا معنی ہوگا؟ تاجر زید۔ تو دیکھو یہ صفت جو ہوتی ہے نا صفت، اس کو آپ نے موصوف کے ساتھ جوڑ دیا، ربط آگیا، اسی لیے تو یہ صفت ہے۔ اب تاجر الگ لفظ تھا، زید الگ، لیکن آپ نے اس تاجر کو زید کے ساتھ جوڑ دیا، تو نسبت آگئی یا نہیں آگئی بیچ میں؟ نسبت آگئی، تو یہ جو جوڑ اور ربط ہے اسی کو نسبت کہتے ہیں۔ تو اس وقت نسبت بھی ہے، یہ دونوں جڑے ہوئے ہیں، لیکن نسبت غیر تامّہ ہے، کیا ہے؟ غیر تام، تام نہیں ہے، پوری بات اس میں نہیں ہے، اور نیز یہ نسبتِ تقييدية ہے، آپ نے زید کو کیا کر دیا؟ مقید کر دیا کس کے ساتھ؟ التاجر کے ساتھ یا العالم کے ساتھ، جیسے آپ نے رجل کو مقید کر دیا کس کے ساتھ؟ عالم کے ساتھ، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ کیا ہے نسبتِ تقييدية، اور یہ کون سی نسبت ہے؟ غیر تامّہ ہے، تام نہیں، اور اسی نسبت کا دوسرا نام کیا؟ نسبتِ بین بین بھی، اور اسی کا ایک اور نام کیا؟ نسبتِ حکمیہ بھی اسی کو کہہ دیتے ہیں، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ مرکبِ توصیفی یہ بھی نسبتِ تقييدية میں داخل، اور مرکبِ اضافی وہ بھی نسبتِ تقييدية میں داخل، جیسے میں کہتا ہوں غلامُ زیدٍ، زید کا غلام۔ اب غلام عام تھا، صرف اکیلے دیکھو غلام الگ لفظ ہے، زید الگ لفظ ہے، دونوں کو آپ نے جوڑ دیا، غلام کو مضاف بنایا، زید کو مضاف الیہ بنایا، تو جوڑ اور ربط آگیا یا نہیں؟ یہ جو آپ نے دونوں کو جوڑ دیا، ایک کو مضاف بنایا، ایک کو مضاف الیہ بنایا، تو یہ دونوں میں کیا آگیا؟ ربط آگیا، جوڑ آگیا، نسبت آگئی، لیکن کیا یہ نسبت تام ہے؟ اس میں بات پوری ہے؟ نہیں، بات پوری نہیں، صرف اتنا ہے: زید کا غلام، بھئی اس کو کیا ہوا؟ زندہ ہے، مر گیا ہے، کہیں چلا گیا ہے، بات پوری نہیں ہے۔ تو یہ نسبت غیر تام ہے، اور کون سی ہے؟ نسبتِ اضافی ہے، پہلی کیا تھی؟ نسبتِ توصیفی۔ تو یہ نسبتِ اضافی ہے، اور یہ جو مضاف الیہ ہوتا ہے نا، یہ مضاف کے لیے قید ہوتا ہے۔ غلامُ زیدٍ، ذرا زید کو ہٹا دو، غلام، یہ غلام کا لفظ دنیا کے ہر غلام پر بولا جا سکتا ہے کہ یہ بھی غلام، یہ بھی غلام، یہ بھی غلام، لیکن جب آپ نے کہہ دی، اضافت کر دی غلامُ زیدٍ، اب یہ مخصوص غلام پر بولا جائے گا، ہر غلام پر نہیں، کیوں؟ کیونکہ اس کے ساتھ ایک قید لگی ہوئی ہے مضاف الیہ کی کہ غلامُ زیدٍ۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے نسبتِ تقييدية، نسبتِ غیر تامّہ، نسبتِ بین بین، نسبتِ حکمیہ، کئی نام ہیں اس کے۔ تو یہ نسبتِ تقييدية ہے۔ مثلاً ہمارے پاس ایک جملہ ہے: زیدٌ عالمٌ، زیدٌ عالمٌ۔ قدیم فلاسفہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ جو قضية ہے زیدٌ عالمٌ، اس کے تین اجزاء ہیں: محکوم علیہ، محکوم بہ، اور نسبتِ خبریہ، نسبتِ وہی نسبتِ خبریہ تامّہ، تین اجزاء ہیں۔ جبکہ متاخرین کیا فرماتے ہیں؟ چار اجزاء ہیں، چار اجزاء ہیں۔ کس طرح چار اجزاء ہیں؟ ایک ہے محکوم علیہ، دوسرا کیا ہے محکوم بہ، اور تیسرا ان کے درمیان پہلے کون سی نسبت آئی؟ نسبتِ تقييدية، وہ یہاں کیسے آئے گی؟ اس کا طریقہ یہ ہے، اس کا طریقہ یاد رکھو ہمیشہ۔ زیدٌ عالمٌ، زیدٌ عالمٌ، زید موضوع، اور عالمٌ محمول، یا زید محکوم علیہ، اور عالمٌ محکوم بہ۔ محکوم علیہ کو منطق میں کیا کہتے ہیں؟ موضوع بھی کہتے ہیں، اور محکوم بہ کو منطق میں کیا کہتے ہیں؟ محمول بھی کہتے ہیں۔ تو آپ یوں کریں محمول کی اضافت کر دیں موضوع کی طرف، یا آسان نحوی انداز میں بات کر لو، زید ہے مبتدا، اور عالمٌ ہے خبر، خبر کی اضافت کر دو کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، مبتدا کی طرف۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ خبر کا مصدر بناؤ، مصدر بناؤ، اور پھر اس کی اضافت کر دو مبتدا کی طرف۔ تو عالم سے مصدر بنا لو عالمیّت، یعنی عالم ہونا، عالم ہونا، جیسے ضارب سے ضاربیّت، کیا معنی؟ ضارب ہونا، کسی بھی لفظ کے آخر میں یاءِ مشدد اور گول تاء ملا کر اس سے مصدر بنا لیتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ یاءِ مشدد اور گول تاء ملا کر مصدر بنا، تو ضارب کا معنی ہے پٹائی کرنے والا، اسی سے آپ مصدر بنانا چاہیں تو کیسے بنائیں گے؟ ضاربیّت، گول تاء ہے آخر میں، تو کیا معنی ضاربیّت؟ ضارب ہونا، اور مضروب سے بناؤ، اسمِ مفعول سے مصدر بناؤ، مضروبیّت، یعنی مضروب ہونا، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو بعض جگہ اسی طرح مصدر بنا لیں گے، بعض دفعہ بعض جگہ ویسے ہی مصدر نکال لیں گے الگ، جیسے آپ کو آسانی ہو۔ تو یہاں کیا ہے؟ زیدٌ عالمٌ، خبر کون؟ عالم، اس کا مصدر بنا لو: عالمیّت، کیا بنا دو؟ ہاں، مصدر بنا، اور اس کی اضافت کر دو کس کی طرف؟ زید کی طرف: عالمیّةُ زیدٍ، زید کا عالم ہونا۔ دیکھا؟ مرکبِ اضافی بن گیا یا نہیں بن گیا؟ یہ بن، یہ ہے نسبتِ تقييدية، یہ کیا ہے؟ یا دوسری مثال لے لو، اس سے آسان مثال لے لو: زیدٌ قائمٌ، زیدٌ قائمٌ، زید مبتدا، اور قائمٌ اس کی خبر، خبر کا مصدر نکالو، قائم کا مصدر کیا آتا ہے؟ قیام، قیام مصدر آتا ہے یا نہیں اس کا؟ قیام آتا ہے اس کا مصدر، اور کیا کر دو؟ اس کی اضافت کر دو کس کی طرف؟ زید کی طرف، کیا بن گیا؟ قیامُ زیدٍ۔ بھئی زیدٌ عالمٌ، اس میں کیا بات ہو رہی ہے اس جملے میں؟ زید کے عالم ہونے کی بات ہو رہی ہے، کس چیز کی؟ یعنی عالمیّةُ زیدٍ، زید کے عالم، عالمیّت کا کیا معنی؟ عالم ہونا، تو عالمیّةُ زیدٍ، اس جملے میں کیا بات ہو رہی ہے؟ زید کے عالم ہونے کی بات ہو رہی ہے۔ زیدٌ قائمٌ، اس میں کس چیز کی بات ہو رہی ہے؟ زید کے قیام کی بات ہو رہی ہے، دیکھا مصدر بنا رہے ہیں آپ، خود بنا رہے ہیں اردو میں، زید کے عالم ہونے کی بات ہو رہی ہے، دیکھو زید کا عالم ہونا آپ نے مصدر بنا لیا۔ میں نے کہا زیدٌ قائمٌ، اس میں کس چیز کی بات ہو رہی ہے؟ آپ نے زید کے قیام کی بات ہو رہی ہے، دیکھا آپ نے کیا بنا لیا؟ مصدر، تو قیامُ زیدٍ، طریقہ سمجھ میں آیا؟ خبر کا مصدر بناؤ اور اس کی اضافت کر دو کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، یا اور مثال لے لو: زیدٌ فی الدار، زیدٌ فی الدار، اصل میں کیا ہے کلام؟ زیدٌ ثابتٌ فی الدار، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو اب اس ثابتٌ سے مصدر بنا لو: ثبوت، کیا بن گیا؟ ثبوتُ زیدٍ فی الدار، زید کا گھر میں ہونا، جار مجرور کو اسی طرح رکھو، ثبوتُ زیدٍ فی الدار۔ میں نے کہا زیدٌ فی الدار، زید گھر میں ہے، آپ سے کوئی پوچھے بھئی اس جملے میں کیا بات بیان ہو رہی ہے؟ آپ کہیں گے اس میں ثبوتُ زیدٍ فی الدار بیان ہو رہا ہے، زید کا گھر میں ہونا بیان ہو رہا ہے، طریقہ سمجھ میں آرہا ہے؟ کہ آپ کیا کریں گے؟ خبر کا مصدر نکال لیں گے، اور اس کی اضافت کر دیں گے کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، اور باقی لفظوں کو اسی طرح اس کے ساتھ جوڑ دیں گے، جیسے فی الدار کو ویسے ہی ثبوت کے ساتھ جوڑ دیے، مصدر کے ساتھ بھی جار مجرور جڑتے ہیں یا نہیں جڑتے؟ جڑ، تو اسی سے جڑ جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو بات کیا ہو رہی تھی؟ قضية کی، کہ قضية کے اندر متاخرین کے نزدیک کتنے اجزاء؟ چار اجزاء، ایک محکوم علیہ، ایک محکوم بہ، تیسرا کیا ہے؟ نسبتِ تقييدية، جسے نسبتِ بین بین بھی کہتے ہیں، وہ کیسے آتی ہے؟ کہ آپ خبر کے مصدر کی، خبر کا مصدر بنا لیں اور اس کی اضافت کر دیں کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، زیدٌ عالمٌ، زیدٌ عالمٌ، یہ یوں کہو عالمیّت نہ بناؤ، سیدھا آسان مصدر بنا لو: علم، زیدٌ عالمٌ، اس جملے میں کس چیز کی بات ہو رہی ہے؟ علمِ زید کی بات ہو رہی ہے، کس کی بات ہو رہی ہے؟ علمِ زید کی بات ہو رہی ہے، کہ زید کو علم ہے یا علم نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو چاہے عالمیّت بنا لیں وہ بھی بات ٹھیک، آپ چاہے کیا بنا لیں؟ علم، جیسے قائمٌ سے آپ نے کیا بنایا تھا؟ قیام مصدر بنایا تھا۔ صورت سمجھ بھی آئی کہ اوپر سے باتیں گزر رہی ہیں؟ نہیں، سمجھ میں آرہی ہیں، ہاں، تو نسبتِ تقييدية کیسے نکالیں گے؟ کیسے بیان کریں گے؟ کہ خبر کا مصدر نکال لیں گے، اور اس مصدر کی اضافت کر دیں گے کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، تو یہ نسبتِ تقييدية بیان ہو گئی، جیسے زیدٌ عالمٌ، کیا بیان ہوا؟ علمِ زید، زیدٌ قائمٌ، کیا بیان ہوا؟ قیامِ زید۔ تو یہ نسبتِ تقييدية آئی، تو یہ تامّہ ہے یا غیر تامّہ؟ نسبتِ تقييدية جو آئی؟ غیر تامّہ، ہاں، ابھی تو بتایا تھا نسبتِ تقييدية دو چیزیں ہیں: یا مرکبِ توصیفی ہے یا مرکبِ اضافی، مرکبِ توصیفی بھی غیر تام ہوتا ہے، مرکبِ اضافی بھی غیر تام، اس میں بات پوری نہیں ہوتی۔ میں نے کہا غلامُ زیدٍ، زید کا غلام، میں سارا دن بھی کہتا رہوں زید کا غلام، آپ کہیں گے بھئی بات تو پوری کریں، اس کو کیا ہوا ہے؟ وہ زندہ ہے، مر گیا ہے، کہیں چلا گیا ہے؟ یا میں کہوں رجلٌ عالمٌ، ایک عالم آدمی، سارا دن بھی کہتا رہوں آپ کہیں گے بھئی بات تو پوری کریں، ایک عالم آدمی کو کیا ہوا؟ تو یہ تام نہیں ہے، کیا ہے؟ غیر تام۔ تو لہٰذا متاخرین فرماتے ہیں کہ قضية کے چار اجزاء ہیں: کون کون سے چار اجزاء؟ کہ ایک محکوم علیہ، دوسرا محکوم بہ، تیسرا پھر ان کے درمیان ایک نسبتِ تقييدية آگئی بھئی، نسبتِ تقييدية، اور وہ کیسے یہاں پر کیسے آئے گی؟ اضافی آ جاتی ہے، مضاف مضاف الیہ بن گئے بھئی، خبر کا کیا بنا لو؟ مصدر، اور اس کی اضافت کر دو کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، تو یہ مضاف، تو مثلاً زیدٌ قائمٌ، تو نسبتِ تقييدية کیا آئی؟ قیامِ زید، تو یہ نسبتِ تقييدية ہے، اور یہ تام نہیں ہے۔ یہ تیسری چیز آگئی، قضية کی بات ہو رہی ہے نا چار اجزاء ہیں؟ یہ تیسری چیز ہوئی، چوتھی چیز پھر کہتے ہیں اس نسبتِ تقييدية کا وقوع ہوگا یا لا وقوع ہوگا۔ کیا؟ اس نسبتِ تقييدية کا وقوع ہوگا یا لا وقوع ہوگا، مثلاً میں نے کہا زیدٌ قائمٌ، اب چار اجزاء دیکھو بنانے ہیں آپ نے، پہلا جزو کیا ہونا چاہیے؟ محکوم علیہ، دوسرا کیا؟ محکوم بہ، تیسرا کیا؟ نسبتِ تقييدية، اور چوتھا اس نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع۔ کبھی آپ اس کو واقع کرتے ہیں، کبھی اس کو واقع نہیں کرتے، اس کی نفی کر دیتے ہیں۔ مثلاً میں نے کہا: زیدٌ قائمٌ، زیدٌ قائمٌ، محکوم علیہ کون؟ زید، محکوم بہ کون؟ قائمٌ، اچھا نسبتِ تقييدية بناؤ: قیامُ زیدٍ، ٹھیک ہے؟ اب اس قیامِ زید کا پھر وقوع ہوگا یا لا وقوع ہوگا، اور یہاں پر کیا ہے؟ زیدٌ قائمٌ، زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے یا نفی ہے؟ ثبوت ہے، تو یہاں نسبتِ تقييدية کا وقوع ہو رہا ہے، کیا؟ کہ قیامِ زید واقع ہے، قیامِ زید ثابت ہے۔ زیدٌ قائمٌ میں کیا بیان ہوا؟ زید کھڑا ہے، تو زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے یا نفی ہے؟ ثبوت ہے، تو یہ اس اور نسبتِ تقييدية کیا تھی؟ قیامِ، کیا نکالی تھی نسبتِ تقييدية؟ قیامُ زیدٍ، تو قیامِ زید اس جملے میں، کون سے جملے میں؟ زیدٌ قائمٌ، اس جملے میں زیدٌ قائمٌ کے اندر قیامِ زید کا ثبوت ہے یا نفی ہے؟ ثبوت ہے، تو ہم کہیں گے یہاں قیامِ زید کا وقوع ہے اس میں، کیا ہے؟ قیامِ زید کو واقع کیا گیا ہے، اس کو ثابت کیا گیا ہے، کس میں؟ زیدٌ قائمٌ میں۔ نہیں بات سمجھ میں آرہی۔ زیدٌ قائمٌ ایک قضية ہے، کیا ہے؟ قدیم فلاسفہ کے نزدیک تو اس کے تین ہی اجزاء ہیں: کیا؟ ایک زیدٌ محکوم علیہ ہے، ایک قائمٌ محکوم بہ ہے، اور ایک ان دونوں کے درمیان جو ربط ہے اور جوڑ ہے، اور وہ کیا ہے؟ نسبتِ خبریہ تامّہ، قدیم فلاسفہ کے نزدیک، نسبتِ خبریہ تامّہ۔ جبکہ متاخرین کیا فرماتے ہیں؟ کتنے اجزاء؟ چار اجزاء، زیدٌ قائمٌ، کس طرح چار اجزاء؟ دیکھو، زیدٌ کیا ہے؟ محکوم علیہ، اور قائمٌ کیا ہے؟ محکوم بہ، پھر اس کے بعد ایک نسبت آئی، کون سی؟ نسبتِ تقييدية آئی، اور وہ کیا ہے؟ کیا بیان ہو رہا ہے یہاں پر؟ قیامِ زید، قیامِ زید بیان ہو رہا ہے، اور پھر اس قیامِ زید کا اس میں ثبوت ہے یا نفی ہے؟ ثبوت ہے، تو ہم کہیں گے کہ یہاں قیامِ زید کا ثبوت ہے، یا یوں کہو قیامِ زید کو ثابت کیا جا رہا ہے، یا یوں کہو اس میں قیامِ زید کا وقوع ہے، قیامِ زید کا، یا قیامِ زید کو واقع کیا جا رہا ہے۔ دوسرا اس کو ذرا نفی میں لے جاؤ تاکہ لا وقوع بھی آپ کو سمجھ میں آجائے، کبھی وقوع ہوتا ہے اور کبھی لا وقوع ہوتا ہے، یعنی اس کی نفی کی جاتی ہے۔ میں نے کہا: زیدٌ لیس بقائمٍ، زید کھڑا نہیں ہے۔ موضوع کون؟ زید، اور محمول کون؟ وہی قائمٌ، لیس نہیں، لیس تو صرف نفی پر دلالت کر رہا ہے، کس پر دلالت کر رہا ہے؟ نفی پر۔ تو مبتدا کون؟ زید، اچھا اور موضوع، اور محمول کون؟ قائمٌ، اب قائمٌ کے مصدر کی اضافت کرو موضوع کی طرف، قیام، اس جملے میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ قیامِ زید، کیا بیان ہو رہا ہے؟ یہ ہے نسبتِ تقييدية، یہ کیا آگئی؟ اب اس نسبتِ تقييدية کا اس قضية میں قیامِ زید کا وقوع ہو رہا ہے زیدٌ لیس بقائمٍ میں؟ قیامِ زید کا وقوع ہے یا لا وقوع ہے؟ لا وقوع ہے کہ قیامِ زید واقع نہیں ہے، قیامِ زید ثابت نہیں ہے۔ تو قضية مثبت ہوگا یا منفی ہوگا، مثبت ہے تو اس میں نسبتِ تقييدية کا وقوع ہوگا، اور اگر منفی ہے یعنی سلب، سالبہ ہے جملہ، سلب کا کیا معنی؟ نفی، قضية دو قسم پر ہوتا ہے نا؟ یا کیا ہوگا؟ یا تو اس میں ثبوت ہوگا ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے قضية میں، یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہوگی، نفی ہوگی، سمجھ میں؟ تو اگر ثبوت ہے تو اس کو کہیں گے وقوع ہے، نسبتِ تقييدية کا وقوع ہے، اور اگر نفی ہے، سلب کیا جا رہا ہے تو کیا کہیں گے؟ نسبتِ تقييدية کا لا وقوع ہے، بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو اب سنو، چار اجزاء کون سے قضية کے متاخرین کے نزدیک: زیدٌ قائمٌ، ایک کیا ہے؟ محکوم علیہ، دوسرا کیا ہے؟ محکوم بہ، پھر اس محکوم علیہ اور محکوم بہ کے درمیان ایک نسبتِ تقييدية آئی، اور وہ یہاں پر کیا ہے؟ قیامُ زیدٍ، پھر اس نسبتِ تقييدية کا وقوع ہوتا ہے یا لا وقوع ہوتا ہے، یہاں پر کیا ہے زیدٌ قائمٌ میں؟ وقوع ہے۔ اب ایک اور بات یاد رکھو، کتنے اجزاء ہو گئے متاخرین کے نزدیک؟ چار، پہلے محکوم علیہ، پھر محکوم بہ، پھر نسبتِ تقييدية، اور پھر نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع۔ یہ جو نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع ہے، یہ وہی نسبتِ خبریہ ہے۔ نسبتِ خبریہ تامّہ۔ کیا ہے؟ کیا؟ یہ جو کہا، بھئی چوتھا جزو کیا ہے متاخرین کے نزدیک؟ نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، یہ وہی نسبتِ خبریہ ہے۔ وہی نسبتِ خبریہ آپ نے پڑھا تھا یا نہیں کل کے سبق میں؟ پہلی سطر ہی جو کل آئی تھی: کیا؟ اعتقاداً للنسبة الخبرية الثبوتية أو السلبية، اعتقاد کرنا کس چیز، تصدیق کسے کہتے ہیں؟ کہ آپ اعتقاد کر لیں نسبتِ خبری ثبوتی کا یا سلبی کا۔ تو نسبتِ خبری کتنی قسم پر ہے؟ ثبوتی یا سلبی، ثبوتی میں کیا ہوتا ہے؟ ثبوت، وہی یعنی نسبتِ تقييدية کا وقوع ہوتا ہے۔ اور نسبتِ خبری سلبی کے اندر نسبتِ تقييدية کا لا وقوع ہوتا ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جو نسبتِ خبریہ تامّہ ہے، اسی کو وہ متاخرین کیا کہتے ہیں؟ متقدمین کے مذہب پر آؤ، قدیم فلاسفہ کے مذہب پر آؤ، وہ کیا کہتے ہیں؟ کتنے اجزاء قضية کے؟ تین اجزاء ہیں: پہلا کیا؟ محکوم علیہ، دوسرا کیا؟ محکوم بہ، تیسرا کیا؟ نسبتِ خبریہ تامّہ، نسبتِ خبریہ تامّہ۔ اسی نسبتِ خبریہ تامّہ کو متاخرین چوتھے نمبر پر لے گئے، درمیان میں کس کو لے آئے؟ نسبتِ تقييدية کو، کس کو؟ نسبتِ تقييدية، اور پھر اس کے بعد کس کو لائے؟ نسبتِ خبریہ تامّہ کو، لیکن اس کو کس طرح تعبیر کیا؟ اس میں نسبتِ تقييدية کا کیا ہوتا ہے؟ وقوع ہوتا ہے یا لا وقوع ہوتا ہے، وقوع ہو تو وہ ثبوتی ہے، لا وقوع ہو تو وہ سلبی ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا نسبتِ خبریہ تامّہ یہ اور نسبتِ تقييدية کا وقوع اور لا وقوع یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ ایک ہی چیز کے دو، قدیم فلاسفہ اسی کو کہتے ہیں نسبتِ خبریہ تامّہ، متاخرین اس کو کیا کہتے ہیں؟ بھئی قدیم کے نزدیک تیسرا جزو کیا ہے؟ نسبتِ خبریہ تامّہ، اور متاخرین کے نزدیک اسی کو وہ کس درجے پر لے گئے؟ چوتھے نمبر پر لے گئے، اور کس کو کس کے ساتھ تعبیر کیا؟ اپنی کاپی پر لکھو، اپنے سامنے لکھو: نسبتِ تامّہ خبریہ لکھو۔ نسبتِ تامّہ خبریہ، نسبتِ خبریہ تامّہ۔ کاپی پر لکھو بھئی: نسبتِ خبریہ تامّہ۔ یہ تامّہ لکھنا ضروری نہیں ہے، بس نسبتِ خبریہ کہہ دیا تو وہ تامّہ ہی ہوگی بھئی، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ چاہے صرف نسبتِ خبریہ کہہ دو، چاہے نسبتِ خبریہ تامّہ، تامّہ کہہ دیتے ہیں تاکہ خوب وضاحت ہو جائے کہ اس میں بات پوری ہے بھئی۔ نسبتِ خبریہ تامّہ لکھ لیا؟ آگے برابر کا نشان ڈالو، برابر کا نشان کیسے ڈالتے ہیں؟ دو لکیریں حساب میں کیسے لکھتے ہیں؟ دو لکیریں چھوٹی سی ایک دوسرے کے اوپر نیچے ڈال دیتے ہیں، برابر کا نشان۔ برابر کا نشان ڈال دیا؟ آگے لکھ دو: نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع۔ نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع۔ اچھا ادھر وقوع اور لا وقوع دونوں لکھ لیا؟ یوں کرو، یہ جو پہلے لکھا نا نسبتِ خبریہ تامّہ، کیا لکھا پہلے؟ اسی کے ساتھ بین القوسین چھوٹا سا لکھ دو: ثبوتیہ یا سلبية۔ اسی کے ساتھ چھوٹا سا لکھ دو، جو پہلا لفظ لکھا ہے نا نسبتِ خبریہ تامّہ، اسی کے ساتھ چھوٹا سا لکھ دو اس کے اوپر یا اس کے نیچے: ثبوتیہ یا سلبية۔ ثبوتیہ یا سلبية۔ لکھ لیا؟ دیکھا، دیکھا درمیان میں برابر کا نشان ہے، یہ مطلب یہ ہے کہ اس برابر کے اس طرف جو لکھا گیا ہے اور جو اس طرف لکھا گیا ہے یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں، کیا ہیں؟ ایک ہی چیز ہیں، یعنی آپ چاہے یوں کہہ لو: نسبتِ تقييدية کا وقوع اور لا وقوع، یا آپ کہہ دو: نسبتِ خبریہ ثبوتیہ اور یا سلبية، ایک ہی بات ہے۔ ادھر بھی وقوع اور لا وقوع تھا نا؟ تو ادھر میں نے ثبوت اور سلب دونوں کو لکھوا دیا۔ تو نسبتِ خبریہ ثبوتیہ یا سلبية، یہ کہہ لو، یا یوں کہہ لو: نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، ایک ہی بات ہے بھئی۔ تو اب حاصلِ کلام کیا ہوا؟ قدیم فلاسفہ کے نزدیک قضية کے کتنے اجزاء؟ تین اجزاء، قضية مثلث ہے: محکوم علیہ، محکوم بہ، اور نسبتِ خبریہ ثبوتیہ یا سلبية۔ اور متاخرین کے نزدیک چار اجزاء ہیں: محکوم علیہ، محکوم بہ، نسبتِ تقييدية، اور نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع۔ اب بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ یاد رکھیے، یہ جو قدیم اور متاخرین فلاسفہ میں اختلاف ہے، اس اختلاف کی بنیاد ایک اور اختلاف پر ہے۔ یہ جو اختلاف ہے کس میں؟ قضية کے اجزاء میں، قدیم کیا کہتے ہیں؟ تین ہیں، متاخرین کیا کہتے ہیں؟ چار ہیں۔ یہ اختلاف کیوں آیا؟ کہ بھئی دراصل اس اختلاف کی بنیاد ایک اور اختلاف پر ہے، ایک اور چیز میں اختلاف تھا اس کی وجہ سے یہاں پر بھی اختلاف آگیا، اس اختلاف کی بنیاد ایک اور چیز پر۔ وہ اختلاف ہے تصور اور تصدیق کے بارے میں۔ قدیم فلاسفہ فرماتے ہیں، قدیم فلاسفہ کہتے ہیں کہ تصور اور تصدیق ان کی ذات ایک دوسرے سے الگ الگ ہے، تصور اور چیز ہے، تصدیق اور چیز ہے، یہ ادراک کی دو قسمیں ہیں، علم کی دو قسمیں ہیں، اور دونوں بالکل ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں، غیر ہیں، ان کی ذات ہی الگ الگ ہے۔ ان کی ذات ہی الگ، جیسے یوں سمجھو: ایک بھیڑ ہے اور ایک بکری ہے، دونوں الگ الگ ہیں یا نہیں؟ بھیڑ الگ چیز ہے، دنبہ بھئی، دنبہ، بھیڑ الگ چیز، اور بکری الگ چیز ہے، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، جبکہ متاخرین فرماتے ہیں کہ دونوں ایک ہی چیز ہیں، دونوں ادراک کی قسمیں ہیں، علم کی قسمیں ہیں، تو دونوں ایک چیز ہیں۔ قدیم فلاسفہ کیا کہتے ہیں؟ کہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، بالکل الگ، یہ ادراک کی الگ قسم ہے تصدیق، وہ ادراک کی وہ قسم ہے جس میں حکم ہوتا ہے، اذعان ہوتا ہے، تصور کے اندر اذعان نہیں ہوتا، یہ دونوں بالکل ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں، جبکہ متاخرین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں، تو ان کی ذات میں اتحاد ہے، کیا ہے؟ اتحاد، یوں سمجھو جیسے دونوں بکریاں ہیں۔ یہ بھی بکری ہے، وہ بھی بکری، ایک ہی چیز ہیں یا نہیں؟ ہاں، تو دونوں کی ذات متحد ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ ایک ہی چیز ہیں، تو قدیم فلاسفہ کیا فرماتے ہیں؟ دونوں کی ذات الگ الگ، اور متاخرین کیا فرماتے ہیں؟ دونوں کی ذات ایک ہی ہے، ایک ہی چیز کا نام ہے: تصور اور تصدیق، اتحاد ہے ان میں۔ پھر اس تصور اور تصدیق کا تعلق ہوتا ہے نسبتِ خبریہ کے ساتھ، کس سے؟ تصور اور تصدیق ان کا تعلق کس سے ہے؟ نسبتِ خبریہ سے، وہی ثبوتیہ یا سلبی، ابھی جو آپ نے پڑھا نسبتِ خبریہ یا ثبوتی ہوگی یا سلبی، اسی سے تصور کا بھی تعلق، اسی سے تصدیق کا بھی تعلق۔ تعلق، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ کیسے تعلق ہے؟ تصدیق کس چیز کا نام ہے؟ کس چیز کا اذعان؟ اسی نسبتِ خبریہ ثبوتیہ کا اذعان یا سلبیہ کا اذعان، آپ اسی نسبتِ خبریہ کا اذعان کر لیں تو یہ کیا ہے؟ تصدیق، تو تصدیق کا تعلق کس سے ہوا؟ نسبتِ خبریہ سے۔ اور تصور کی بھی دو تین قسمیں آپ نے پڑھی تھیں جن میں نسبتِ خبری نسبتِ خبری ہوتی ہے۔ کس میں؟ بھا‍ئی تصور میں آپ نے کئی صورتیں پڑھی تھیں نا؟ یاد ہے یا بھول گئے؟ ایک ہی چیز کا تصور ہے مثلاً زید، یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ دو یا زیادہ چیزوں کا تصور ہے اور درمیان میں کوئی نسبت نہیں، جیسے زید، عمر، بکر، خالد، کئی چیزوں کا تصور ہے لیکن درمیان میں کوئی ربط اور جوڑ نہیں، تیسری صورت یہ تھی تصور کی کہ دو یا زیادہ چیزوں کا تصور ہے اور ان میں جوڑ اور ربط بھی ہے، وہی نسبتِ تقييدية ہے، مرکبِ اضافی ہے یا مرکبِ توصیفی ہے، مثلاً غلامُ زیدٍ، غلامُ زیدٍ دو لفظ ہیں یا نہیں؟ ایک غلام کا تصور، ایک کس کا تصور؟ زید، اور دونوں میں جوڑ اور ربط ہے یا الگ الگ ہیں؟ ربط ہے دونوں میں، اضافت ہو رہی ہے، تو نسبت ہے، لیکن نسبت تامّہ نہیں ہے بلکہ غیر تامّہ ہے۔ یا مرکبِ توصیفی ہو: زیدٌ العالمُ، تو زید الگ تصور، العالمُ کا الگ تصور، لیکن پھر ان دونوں کو جوڑ دیا، زید کو بنایا موصوف، العالم کو بنایا صفت، تو درمیان میں کیا آگیا؟ جوڑ اور ربط اور نسبت آگئی، لیکن کون سی نسبت ہے؟ غیر تامّہ ہے۔ تصور کی قسمیں میں بیان کر رہا ہوں، آپ نے پڑھی تھیں، کیا تھا تصور؟ یا تو صرف ایک ہی چیز کا کیا ہوگا؟ ادراک۔ تصور بھی ادراک کا نام ہے نا؟ تو آپ ادراک کرتے ہیں ایک ہی چیز کا، صرف کس کا؟ زید کا، یا صرف عالم کا، یا صرف خالد کا، یا صرف بکر کا، کسی بھی ایک چیز کا تصور کیا، تو یہ، تو یہ ایک کسی بھی ایک چیز کا ادراک کیا، تو یہ کیا ہے؟ تصور۔ تصدیق ہے؟ نہیں، یہ تصور ہے۔ دو یا زیادہ چیزوں کا ادراک کیا، لیکن ان میں کوئی جوڑ اور ربط نہیں: زید، بکر، خالد، درخت، پہاڑ، بادل، بارش، الگ الگ چیزوں کا تصور ہے اور درمیان میں کوئی ربط اور جوڑ نہیں، تو کئی چیزوں کا ادراک یہ بھی کیا ہے؟ تصور، کیونکہ ان کے درمیان کوئی جوڑ اور ربط نہیں۔ تیسری صورت یہ کہ دو یا زیادہ چیزوں کا ادراک، اور ان میں ربط اور جوڑ بھی ہے، لیکن وہ تامّہ نہیں، وہ نسبتِ تامّہ نہیں، نسبتِ غیر تامّہ ہے، جیسے آپ نے کس کا تصور کیا؟ زیدٌ العالمُ، موصوف صفت کا تصور کیا، یا آپ نے مضاف مضاف الیہ کا تصور کیا: غلامُ زیدٍ، تو اب درمیان میں جوڑ ہے یا نہیں؟ جوڑ تو ہے، نسبت تو ہے، لیکن یہ تامّہ نہیں بلکہ غیر تامّہ ہے، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ بھی کس میں داخل؟ تصور میں۔ تصدیق میں تو کیا؟ بات پوری ہونی چاہیے یا ادھوری ہوگی؟ تصور تصدیق میں تو بات پوری ہوتی ہے، اس میں تو بات ہی پوری نہیں، تو یہ بھی، یہ ادراک بھی کس میں داخل؟ تصور میں۔ اگلی صورت ہے کہ نسبت بھی ہے، نسبتِ تام بھی ہے، لیکن انشائی ہے، جیسے اضرب عمراً، یہ کیا ہے؟ بات پوری سمجھ میں آرہی ہے یا نہیں؟ بات تو پوری سمجھ میں آرہی ہے، لیکن کس قسم کا جملہ ہے؟ انشائی ہے، یاد رکھیے یہ بھی تصور کے اندر داخل، تو یہ ادراک بھی کس میں ہوا؟ تصور۔ انشاء سارا کس میں داخل ہے؟ تصور میں۔ کتنی صورتیں ہو گئیں تصور کی؟ چار صورتیں ہو گئیں، پہلی صورت کیا؟ ایک ہی چیز کا ادراک ہو۔ دوسری صورت؟ کئی چیزوں کا ادراک، لیکن درمیان میں کوئی تعلق، ربط اور نسبت نہیں۔ تیسری صورت؟ دو یا زیادہ چیزوں کا ادراک اور اور ان میں نسبت بھی ہے، لیکن نسبت کون سی ہے؟ غیر تامّہ ہے، یہ بھی کس میں داخل؟ تصور میں، تین قسمیں ہو گئیں۔ چوتھی صورت کہ کئی چیزوں کا ادراک اور ان میں نسبت اور جوڑ ہے، اور نسبت اور جوڑ بھی کون سا ہے؟ تامّہ ہے، لیکن یہ نسبت کون سی ہے؟ انشائی ہے، تو یہ بھی کس میں داخل؟ تصور میں۔ پانچویں صورت تصور کے اندر یہ داخل کہ دو یا زیادہ چیزوں کا تصور، اور ان میں نسبت بھی ہے، اور نسبتِ تامّہ خبری ہے، لیکن، لیکن اس کا اذعان نہیں ہے، اس کا، مثلاً زیدٌ قائمٌ، کیا ہے؟ زیدٌ قائمٌ، کسی نے آپ سے کہا لیکن آپ کو اس میں تردد ہے، دونوں جانبیں برابر ہیں، کبھی آپ کے ذہن میں آتا ہے زید کھڑا ہوگا، کبھی زید آتا ہے کہ زید کھڑا نہیں ہوگا، تو دیکھو ہونے اور نہ ہونے دونوں کا خیال ہے، اور برابر خیال ہے، دونوں جانبیں برابر، جتنا خیال اس کے ہونے کا اور اتنا ہی خیال اس کے نہ ہونے کا، تو اس کو منطق کی اصطلاح میں آپ نے پڑھا تھا کیا کہتے ہیں؟ شک کہتے ہیں، اور شک کس کے قبیل سے ہے؟ تصور کے قبیل سے، کس قبیل سے؟ اسی طرح بعض اوقات ایک بات کی جاتی ہے آپ کے سامنے، تو اور آپ کا غالب گمان ہوتا ہے کہ ہاں واقعی ایسا ہے، یعنی زیادہ خیال یہ ہوتا ہے کہ ایسا ہے، لیکن تھوڑا سا خیال یہ بھی آ جاتا ہے کہ شاید ایسا نہ ہو، تو جو زیادہ خیال ہے اس کو کہتے ہیں ظن، اور جو تھوڑا خیال ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم، جو تو ظن جو ہے یہ کس کے اندر داخل ہے؟ تصدیق میں داخل ہے، لیکن جو وہم ہے وہ کس کے اندر داخل؟ تصور میں۔ اسی طرح ایک تخیل ہے، بعض اوقات ایک چیز آپ کے ذہن میں آتی ہے، اور پھر نکل جاتی ہے، تو اس کے بارے میں ہونے یا نہ ہونے کا خیال ہی نہیں آتا، آئی اور نکل گئی، ایک خیال سا آیا اور نکل گیا، اگر تردد ہوتا تو کس میں چلا جاتا؟ تصور، یا آپ کو کہ ایسا ہو یا نہ ہو، تصدیق میں جاتا کہ ایسا ہے یا ایسا نہیں، لیکن وہاں وہ آیا، وہاں تردد وغیرہ کوئی چیز ابھی نہیں آئی، بس آیا اور نکل بھی گیا، دوسرے ہونے یا ہونا نہ ہونے کی طرف ذہن ہی نہیں گیا، اس کو کہتے ہیں تخیل، اور یاد رکھیے یہ بھی تصور میں داخل، کس میں داخل؟ کیونکہ تصدیق میں اذعان ضروری ہے، مان لینا، اس کا اعتقاد کر لینا، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو شک، شک میں کیا ہوگا؟ دونوں جانبیں برابر۔ وہم میں کم خیال ہوگا ایک چیز کا، اور تخیل جس میں جس میں ہونے نہ ہونے کی طرف ذہن ہی ابھی نہیں گیا، تو یہ ساری کس میں داخل ہیں؟ تصور، تو تصور کی کتنی صورتیں ہو گئیں؟ پانچ۔ نمبر ایک: ایک ہی چیز کا ادراک ہو۔ دوسری صورت: کئی چیزوں کا ادراک، لیکن درمیان میں کوئی نسبت نہیں۔ تیسری صورت: دو یا زیادہ چیزوں کا ادراک اور ان میں نسبت بھی ہے، لیکن نسبتِ تامّہ نہیں۔ چوتھی صورت: کہ زیادہ چیزوں کا ادراک اور ان میں نسبت بھی ہے، اور نسبتِ تام بھی ہے، لیکن کون سی نسبت ہے؟ انشائی ہے۔ یہ بھی کس میں داخل؟ تصور۔ پانچویں صورت: کہ نسبتِ تام بھی ہے، خبری بھی ہے، لیکن اذعان نہیں ہے، یعنی اس میں شک ہے یا وہم ہے یا وہ تخیل ہے، یہ بھی کس میں داخل؟ تصور میں داخل ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ اچھا! اب دیکھیے! شک، تخیل، اور وہم، اس میں نسبت کون سی ہوتی ہے؟ نسبتِ تامّہ خبری، توجہ ہے؟ شک اور وہم اور تخیل، ان میں نسبتِ تامّہ خبری ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ نسبتِ تامّہ خبری ہوتی ہے۔ اور نسبتِ تامّہ خبری، موضوع اور محمول کے درمیان جو ربط ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں، نسبتِ نسبتِ خبری کس کو کہتے ہیں؟ جو ربط ہوتا ہے، جو تعلق ہوتا ہے، زیدٌ قائمٌ، ان دونوں کے درمیان جو نسبت ہے وہ کیا ہے؟ نسبتِ خبریہ، اسی نسبت سے، اسی نسبت کا یقین ہے، اذعان ہے، تو تصدیق، اور اگر اذعان نہیں تو تصور، تو تصور، یعنی شک ہے، یا وہم ہے، یا تخیل ہے، توجہ ہے؟ اسی نسبتِ خبری کا اگر کیا ہو جائے؟ اذعان ہو جائے، آپ اس کو مان لیں، تو اسی کو کیا کہیں گے؟ تصدیق، اور اگر اسی نسبتِ، یہ نسبتِ خبری تو آگئی، لیکن اس میں شک ہے آپ کو، دونوں جانبیں برابر ہیں، یا آپ کو اس کا تھوڑا خیال ہے، یا وہ ذہن میں آیا، ہونے نہ ہونے کی طرف ذہن ہی نہیں گیا، تو یہ کیا ہے؟ تصور۔ معلوم ہوا، اسی نسبتِ خبری کے ساتھ تعلق آگیا، کس کا؟ تصدیق کا بھی، اور تصور کا بھی، توجہ ہے؟ نسبتِ خبری کسے کہتے ہیں؟ جو موضوع اور محمول کے درمیان ربط ہے، اسی ربط کے ساتھ تصدیق کا بھی تعلق، اسی ربط کے، اسی کے ساتھ تصور کا بھی تعلق، کون سا تصور؟ شک، وہم، اور تخیل، ان کا تعلق، ان میں بھی نسبتِ خبری ہوتی ہے یا نہیں؟ تام ہوتی ہے یا نہیں؟ صرف اذعان نہیں ہوتا۔ تو تصدیق کا تعلق بھی اسی نسبتِ خبری سے، تصور کا تعلق بھی اسی نسبتِ خبری سے، تو اسی نسبتِ خبری سے تصدیق کا بھی تعلق ہے، اور تصور کا بھی تعلق ہو جاتا ہے، لیکن فرق اتنا کہ تصدیق کے اندر اذعان ہوگا، تصور کے اندر اذعان نہیں ہوگا، تردد ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ پھر دہرا لو! تصدیق کا تعلق بھی کس سے؟ نسبتِ خبری سے، اور تصور کا تعلق بھی کس سے؟ نسبتِ خبری سے، ہاں، تصدیق میں اذعان ہوگا، تصور میں اذعان نہیں، اچھا، اب اسی عبارت کی طرف چلتے ہیں جہاں سے میں نے شروع کی تھی کہ یہ جو قدیم فلاسفہ فرماتے ہیں کہ قضية مثلث ہے، اور متاخرین کیا فرماتے ہیں؟ قضية مربع ہے، تو قضية کے اجزاء میں اختلاف کیا کس نے؟ قدیم فلاسفہ نے اور متاخرین نے، میں نے بتایا اس اختلاف کی بنیاد دراصل ایک اور اختلاف پر ہے کہ ان میں اختلاف ہے آپس میں، کیا؟ کہ تصور اور تصدیق یہ متحد ہیں ذات کے اعتبار سے، یا ایک دوسرے سے غیر ہیں؟ کیا ہیں؟ یا ایک دوسرے کے ساتھ، ایک دوسرے سے غیر ہیں، تو یاد رکھیے یہ جو قدیم فلاسفہ ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ تصور اور تصدیق ایک دوسرے سے غیر ہیں، ان کی ذات ہی ایک دوسرے سے الگ الگ ہے، مثلاً جیسے میں نے مثال ذکر کی: ایک بھیڑ ہو اور ایک بکری، بھیڑ کی ذات ہی الگ ہے، بکری کی ذات ہی الگ ہے، تو ان کی ذات ہی الگ، جبکہ متاخرین کیا فرماتے ہیں؟ ان کی ذات ایک ہی ہے، ان میں اتحاد ہے، یہ دونوں ادراک کی قسمیں ہیں، یعنی دونوں ہی یوں سمجھو آسان لفظوں میں دونوں ہی بکریاں ہیں، یہ سمجھانے کے لیے مثال بیان کر رہا ہوں، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ بھی بکری ہے، یہ بھی بکری، یعنی اتحاد ہے، ایک ہی چیز ہیں، اور قدیم فلاسفہ کیا فرماتے ہیں؟ دونوں کی ذات الگ الگ ہے، ایک دوسرے سے غیر ہے، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ میں اختلاف ذکر کرنے لگا ہوں، تمہید اس کے لیے ذکر کر رہا تھا۔ تو لہٰذا قدیم فلاسفہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ تصور اور تصدیق متحد ہیں یا متغاير ہیں؟ متغاير ہیں، کیا ہیں؟ ایک دوسرے سے غیر ہیں۔ اچھا، جب دونوں ایک دوسرے سے غیر ہیں، اور دونوں کا تعلق کس سے آرہا ہے؟ اسی نسبتِ خبریہ سے، اسی نسبتِ خبریہ سے تصدیق بھی جڑتا ہے، اور ابھی بتایا یا نہیں؟ نسبتِ خبریہ سے تصدیق بھی جڑ گئی، اور تصور بھی جڑا، ہاں، تصدیق میں فرق کیا ہے؟ اذعان ہے، تصور میں اذعان نہیں، تو آپ نے تصور اور تصدیق دونوں کس سے متعلق ہو گئے؟ نسبتِ، توجہ نہیں ہے میرا خیال، توجہ، توجہ، بالکل آخر بات ختم کرنے والا، آپ نے تصور اور تصدیق دونوں کس سے جڑ گئے؟ نسبتِ خبریہ سے، کس سے جڑ گئے؟ نسبتِ خبریہ سے جڑ گئے، لیکن ایک ہی چیز سے اگرچہ دونوں جڑ گئے، جیسے زید، جیسے بھیڑ اور بکری، اس کو ایک ہی ستون کے ساتھ آپ باندھ دیں، تو بھی بکری اور بھیڑ میں فرق ہوگا یا نہیں؟ بکری اور ہے، بھیڑ اور ہے، تو لہٰذا قدیم فلاسفہ پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ تصور اور وہ کہتے ہیں تصور اور تصدیق کیا ہیں؟ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں، یہ ایک ہی چیز سے متعلق ہو رہے ہیں، کس سے؟ نسبتِ خبری سے، تو ایک ہی چیز سے متعلق ہو بھی جائیں، تو بھی دونوں الگ الگ ہیں، پہچان ہو جائے گی آرام سے، صورت سمجھ میں آگئی؟ لیکن متاخرین کیا فرماتے ہیں؟ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں، یعنی یوں سمجھو دونوں ہی بکریاں ہیں، اور جب دونوں ہی بکریاں ہیں، اور آپ نے ان کو ایک ہی ستون سے باندھ بھی دیا، اب فرق ہم کیسے کریں گے؟ یہ بھی بکری، وہ بھی بکری ہے، کسی کو کیسے سمجھائیں گے یہ تصور ہے، یہ تصدیق ہے؟ دونوں کی ذات بھی ایک جیسی، اور باندھا بھی کس سے؟ ایک ہی ستون سے، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یعنی ستون الگ الگ ہوتے نا، پھر بھی ہم کسی کو بھیجتے کہ فلاں والی بکری لے آؤ یا فلاں والی، تو دونوں میں فرق ہو جاتا، لیکن باندھا بھی کس سے ہے؟ ایک، یعنی ستون سے کیا مراد ہے یہاں؟ نسبتِ خبری، تصور بھی کس سے متعلق ہو جاتا ہے؟ نسبتِ خبری سے، تصدیق بھی کس سے متعلق ہو جاتی ہے؟ نسبتِ خبری سے، اگر دونوں کی ذات الگ الگ ہے، تو اگر ایک چیز سے جڑ بھی گئے، کوئی حرج نہیں، پہچان ہو جائے گی یا نہیں ہو جائے گی؟ لیکن اگر دونوں ایک ہی چیز ہیں، متاخرین فرماتے ہیں دونوں کی ذات متحد ہے، دونوں کی ذات ایک ہی ہے، جب دونوں کی ذات بھی ایک، اور آپ نے اس کا، ان کا تعلق بھی دونوں کا کس سے؟ نسبتِ خبری سے ہوا، تو گویا ایک ہی ستون سے دونوں کو باندھ دیا، تو اب پہچانیں گے کیسے؟ کیسے ہمیں پتہ لگے گا یہ تصور ہے اور یہ تصدیق؟ دونوں کی ذات بھی ایک، اور دونوں کا متعلق بھی ایک ہی چیز ہے، دونوں ایک ہی چیز سے متعلق ہو رہے ہیں۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ کس پر اشکال ہو رہا ہے؟ متاخرین پر اشکال، چنانچہ متاخرین مجبور ہو گئے اور انہوں نے پھر درمیان میں ایک اور نسبتِ تقييدية نکال لی، کون سی؟ نسبتِ تقييدية نکال لی، کیا کہا؟ کہ نسبتِ خبری سے پہلے ایک اور نسبت آتی ہے، وہ کیا ہے؟ نسبتِ تقييدية آتی ہے۔ اور جو تصدیق ہے نا تصدیق، اس کا تعلق نسبتِ خبری، توجہ ہے؟ وہ کیا کہتے ہیں؟ یہ جو تصدیق ہے، یہ نسبتِ خبری کے ساتھ متعلق ہوتی ہے، کس سے؟ تصدیق، تصدیق کس سے متعلق ہوتی ہے؟ نسبتِ خبری سے متعلق، بھئی متقدمین قدیم نے بھی یہی کہا تھا نا؟ کہ تصدیق کا تعلق کس سے؟ نسبتِ خبری سے، اور تصور کا تعلق بھی کس سے؟ نسبتِ خبری سے، متاخرین بھی یہی کہہ رہے ہیں، لیکن تھوڑا سا دیکھو فرق کریں گے، متاخرین یہ فرماتے ہیں کہ تصدیق کا تعلق تو نسبتِ خبری سے ہے، لیکن تصور کا تعلق نسبتِ خبری سے نہیں، تصور کا تعلق وہ نسبتِ تقييدية سے ہے، تصور کون سا تصور؟ وہ تخیل، وہم، اور شک، جن میں کیا تھا؟ نسبتِ تامّہ خبری تھی، تو ادھر تصدیق میں بھی نسبتِ تامّہ خبری، تصور میں بھی نسبتِ تامّہ خبری، تو متاخرین کیا فرماتے ہیں کہ نسبتِ تامّہ، یہ کہ تصدیق جو ہے یہ تع، اس کا تعلق کس سے؟ نسبتِ خبری سے، اور تصور جو تھا یعنی شک، تخیل، اور وہم، ان کا تعلق نسبتِ خبری سے نہیں ہے، ورنہ تو فرق ہی نہیں ہوگا، دونوں کی ذات بھی ایک جیسی، اور تعلق بھی ایک ہی چیز سے، تو فرق ہی نہیں ہو سکے گا، چنانچہ وہ مجبور ہوئے اور انہیں کہنا پڑا کہ یہ جو تصور ہے نا، تص یعنی شک، وہم، اور تخیل، یہ والا جو تصور ہے، اس کا تعلق نسبتِ خبری سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق نسبتِ تقييدية سے ہے۔ اب فرق آگیا، اب اگرچہ دونوں ہیں بکریاں، لیکن ایک کو باندھا ہے ایک ستون کے ساتھ، دوسری کو باندھا ہے دوسرے ستون کے ساتھ، جو تصدیق ہے اس کو، اس کا تعلق کس سے؟ نسبتِ خبری سے، اور جو تصور ہے اس کا تعلق کس سے؟ نسبتِ تقييدية سے ہے، اب دونوں کی ذات ایک بھی ہے، لیکن متعلق کیا ہو گئے؟ جدا جدا، تو فرق آگیا یا نہیں؟ آپ بھی کہہ رہے تھے ہمیں فرق چاہیے، فرق کیسے کریں گے؟ اگر آپ کہتے ہیں ذات بھی ایک اور ان کا تعلق بھی ایک چیز سے، تو کیسے فرق ہوگا؟ تو بتلا دیا کہ بھئی ذات تو ان کی متحد ہے، البتہ ان کا متعلق جو ہے وہ الگ الگ ہیں، اس سے فرق ہو جائے گا، تصدیق کا متعلق کون ہوگا؟ نسبتِ خبری، اور تصور کا متعلق کون ہوگا؟ نسبتِ تقييدية ہوگی، بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ تو حاصلِ کلام یہ ہوا کہ قدیم فلاسفہ کے نزدیک جو قضية ہے، اس کے تین اجزاء ہیں: محکوم علیہ، محکوم بہ، اور نسبتِ خبری، اور اسی نسبتِ خبری کے ساتھ تعلق ہے تصور کا بھی اور تصدیق کا بھی، کون سا تصور؟ یہ یاد ہے یا بھول گئے؟ کون سا تصور؟ شک، تخیل، اور وہم، جن میں نسبتِ تامّہ ہے، کیا ہے؟ تو اسی نسبتِ تامّہ کے ساتھ متعلق ہے نا، تو ان میں بھی کیا ہے؟ نسبتِ تامّہ، تو نسبتِ تامّہ کے ساتھ تعلق ہے تصور کا بھی اور تصدیق کا بھی، لیکن تصور اور تصدیق کی ذات ہی الگ الگ ہے، یہ علم کی بالکل دو الگ الگ قسمیں ہیں، ان میں اتحاد نہیں ہے، تو اگرچہ ایک ہی چیز سے متعلق ہو بھی گئے، تو بھی ان میں فرق ہو جائے گا بھئی، کیونکہ ان کی ذات الگ الگ ہے، اگرچہ متعلق ایک ہی ہے۔ جبکہ متاخرین فرماتے ہیں کہ تصور اور تصدیق کی ذات ہی متحد ہے، یہ دونوں ادراک اور علم ہی کی قسمیں ہیں، تو ان کی ذات متحد ہے، تصور بھی ادراک، تصدیق بھی ادراک ہے، تو پھر اس پر اشکال ہوا کہ پھر ہم ان میں فرق کیسے کریں گے؟ کہ ان کا متعلق بھی ایک ہی چیز ہو اور ان کی ذات بھی متحد، تو انہوں نے پھر کیا کہا کہ نہیں بھئی، ان کا متعلق ایک نہیں ہے، تصدیق کا متعلق ہے نسبتِ خبری، اور تصور کا متعلق کون ہے؟ نسبتِ تقييدية ہے جو نسبتِ خبری سے پہلے ایک نسبت آتی ہے، نسبتِ خبری سے پہلے ایک نسبتِ تقييدية آتی ہے، پھر کیا آتی ہے؟ نسبتِ خبری، یعنی اسی نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، بات سمجھ میں آگئی؟ اور شارح جو ہیں، وہ آپ کو بتلائیں گے، وہ آپ کو بتلائیں گے کہ مصنف جو ہیں نا شرحِ تہذیب کے، متن جو ہیں، ان کے نزدیک قدیم فلاسفہ کا مذہب پسندیدہ ہے، کس کا؟ قدیم فلاسفہ کا، یعنی تصور اور تصدیق کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں، ان کی ذات الگ الگ ہے، اور اور ان کا متعلق ایک ہی ہے، اور وہ کیا ہے؟ نسبتِ خبری ہے، چنانچہ اسی لیے انہوں نے کیا کہا تھا؟ العلم إن كان إذعاناً للنسبة، إذعان ہو کس کا؟ نسبت کا، دیکھا، إذعان کو کس سے جوڑا؟ نسبتِ خبری سے جوڑا، کس سے؟ نسبتِ خبری، نسبتِ خبری سے جوڑا، نسبتِ تقييدية کے وقوع یا لا وقوع کے ساتھ نہیں جوڑا، ورنہ تو کہہ دیتے: إن كان إذعاناً لوقوع النسبة التقييدية أو لا وقوعها، لیکن وقوع یا لا وقوع کو ذکر نہیں کیا، بلکہ کس کو ذکر کیا؟ نسبتِ خبری کو، توجہ ہے؟ متن کے نزدیک کس کا مذہب پسندیدہ؟ قدیم فلاسفہ کا، کس طرح؟ کہ انہوں نے إذعان، تصدیق میں کیا ہوتا ہے؟ إذعان، إذعان کو کس سے جوڑا؟ للنسبة، إن كان إذعاناً للنسبة، إذعان کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ نسبت سے جوڑ رہے ہیں، دیکھا، تو یہی قضية میں بھی کیا ہوتا ہے؟ تصور اور تصدیق دونوں کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ نسبت سے ہی ہوتا ہے، تو یہاں بھی إذعان کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ نسبت ہی سے جوڑ رہے ہیں، اگر متاخرین کا مذہب ان کے نزدیک پسندیدہ ہوتا، تو نسبت کے بجائے کیا فرماتے؟ نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، بات سمجھ آرہی ہے؟ کیا فرماتے؟ متاخرین تو کیا فرماتے ہیں؟ پہلے ایک نسبتِ تقييدية آتی ہے، پھر اس نسبتِ تقييدية کا وقوع ہوگا یا لا وقوع، اس وقوع یا لا وقوع کے ساتھ إذعان کو جوڑتے، تو کون سا مذہب ہو جاتا؟ متاخرین کا مذہب، لیکن اس وقوع یا لا وقوع کے ساتھ إذعان کو نہیں جوڑا متن میں، متن میں إذعان کے ساتھ کس کو ذکر کیا ہے؟ نسبت کو، کس کو ذکر کیا ہے؟ نسبت کو ذکر کیا ہے۔ معلوم ہوا ان کے نزدیک کون سا مذہب پسندیدہ؟ قدیم فلاسفہ کا مذہب پسندیدہ۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ نسبتِ خبری کہہ لو، یا نسبتِ تقييدية کا وقوع اور لا وقوع کہہ لو، ایک ہی چیز ہیں یا نہیں دونوں؟ جی؟ جی، نسبتِ خبری ثبوتیہ یا سلبیہ، یہ کہہ لو، یا نسبتِ تقييدية کا وقوع اور لا وقوع، یہ چوتھی چیز تو ایک ہی ہے نا دونوں میں؟ وہی جو اس میں تیسرے نمبر پر تھی، ادھر کدھر ہے؟ ادھر چوتھے نمبر پر ہے، تو نسبتِ خبری ثبوتی ہوگی یا سلبی، اور ادھر کیا ہے چوتھے نمبر پر؟ کہ نسبتِ تقييدية کا وقوع ہوگا یا لا وقوع، تو دونوں تو ایک ہی چیز ہیں! تو اس سے تو دعویٰ ثابت نہیں ہوتا آپ کا پوری طرح کہ نسبت سے کیا مراد لے لیں؟ نسبتِ، وہی وقوع یا لا وقوع مراد لے لیں، تو یہ کس کا مذہب بن جائے گا؟ متاخرین کا بن جائے گا، بات سمجھ آرہی ہے؟ میں نے بتایا تھا نا نسبتِ خبری ثبوتی یا سلبی ہوتی ہے، اسی طرح نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، اور نسبتِ خبری ثبوتی یا سلبی، میں نے کاپی پہ کیا لکھوایا؟ نسبتِ خبری ثبوتی یا سلبی برابر ہے کس کے؟ نسبتِ تقييدية کے وقوع یا لا وقوع، دونوں میں سے جو بھی آپ بول دیں، ایک ہی بات ہے، تو یہاں انہوں نے متن میں کیا بول دیا؟ نسبتِ خبری بول دیا نا، اور وہی نسبتِ خبری، وہ کیا ہے؟ اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، تو یہ تو دونوں ایک ہی چیز ہیں، اس سے تو یہ ثابت نہیں ہوتا پوری طرح کہ مصنف نے کس کا مذہب اختیار کیا ہے؟ کہتے ہیں بھئی بہرحال، وقوع یا لا وقوع کو ذکر تو نہیں کیا، اس سے بھی پتہ چل رہا ہے، ورنہ وہ کیا لفظ بولتے؟ نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، نسبتِ خبریہ براہِ راست بول دیا، اور دوسرا یہ کہ آگے چل کر جب قضية کی بحث آئے گی، وہاں متن بتلائیں گے کہ قضية کے تین اجزاء کی طرف وہ اشارہ کر دیں گے، وہاں کہیں گے قضية کے اندر محکوم علیہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ کہ محکوم علیہ کو وہاں وہ ذکر کریں گے، کہ محکوم علیہ کو موضوع کہتے ہیں، محکوم بہ کو محمول کہتے ہیں، اور اور وہ چیز جو نسبت پر دلالت کرے اس کو رابطہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تو دیکھا وہاں تین اجزاء ذکر کریں گے: محکوم علیہ، محکوم بہ، اور رابطہ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نزدیک تین اجزاء ہیں، معلوم ہوا یہاں بھی جو انہوں نے نسبتِ خبریہ کو ذکر کیا، وہ نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع مراد نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ اب دیکھیے بھئی کتاب میں۔ کہتے ہیں: واختار مذهب القدماء، اور مصنف نے اختیار کیا قدیم فلاسفہ کے مذہب کو، حيث جعل متعلق الأذعان والحكم، متعلق پڑھنا، متعلق نہیں، دیکھو، تصور اور تصدیق متعلق ہوتے ہیں، قدیم فلاسفہ کے نزدیک تصور اور متعلق ہوتے ہیں، کس سے متعلق ہوتے ہیں؟ نسبتِ خبریہ کے ساتھ، تو تصور اور تصدیق ہوئے متعلق، اور جو نسبتِ خبریہ ہوئی وہ کیا ہوئی؟ متعلق، یہی بیان کر رہے ہیں: کہ اختیار کیا قدماء کے مذہب کو حيث جعل متعلق الأذعان والحكم، کہ اس حیثیت سے کہ انہوں نے قرار دیا، مصنف نے قرار دیا، جعل کا کیا معنی؟ قرار دینا، کہ انہوں نے قرار دیا اذعان اور حکم کے متعلق کو۔ اذعان اور حکم کیا؟ تصدیق بھئی، تصدیق کا ایک نام میں نے کیا بتلایا تھا؟ حکم بھی ہے، اور اسی کا نام کیا ہے؟ اذعان بھی ہے، تو یہ اذعان اور حکم کو ذرا ہٹاؤ اور اس کی جگہ لفظِ تصدیق رکھ دو، اس حیثیت سے کہ مصنف نے تصدیق کا متعلق قرار دیا، اب بات واضح ہو گئی؟ تصدیق کا متعلق قرار دیا، کسے قرار دیا؟ الذي هو جزء أخير للقضية، وہ جو آخری جزو ہے قضية کا۔ آخری جزو ہے قضية کا، قضية کا پہلا جزو کیا؟ محکوم علیہ، دوسرا جزو کیا؟ محکوم بہ، تیسرا اور آخری جزو کیا؟ نسبتِ خبریہ، وہی بیان کر رہے ہیں: کہ اس حیثیت سے کہ مصنف نے جو ہے وہ تصدیق، یہ اذعان اور حکم کی جگہ کیا رکھ دو؟ تصدیق، اب عبارت واضح ہو جائے گی، مختصر ہو جائے گی، اس حیثیت سے کہ انہوں نے تصدیق کا متعلق قرار دیا، الذي هو، اس چیز کو جو کہ جزء أخير للقضية، جو آخری جزو ہے قضية کا، بھئی وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: هو النسبة الخبرية الثبوتية أو السلبية، وہ جو نسبتِ خبری ثبوتی یا سلبی ہے۔ توجہ ہے؟ قضية کا آخری جزو کیا ہے؟ نسبتِ خبری ثبوتی یا سلبی، اس کو قضية، اس کو تصدیق کا متعلق قرار دیا، اس کو قرار دیا، نسبتِ تقييدية کے وقوع یا لا وقوع کو قرار نہیں دیا۔ توجہ ہے؟ آگے ذرا عبارت مشکل ہے، اس کو ذرا دیکھ لو: لا وقوع النسبة الثبوتية التقييدية أو لا وقوعها، کیا عبارت ہے؟ لا وقوع النسبة الثبوتية، یہ لا کو ذرا ہٹا دو، اس کو چھوڑ دو، وقوع النسبة الثبوتية التقييدية أو لا وقوعها، نسبتِ ثبوتیہ تقييدية کا وقوع أو لا وقوعها یا اس کا لا وقوع۔ اس نسبتِ ثبوتیہ کا وقوع یا لا وقوع، اب اس سارے پر وہ پچھلا لا داخل کر دو، نسبتِ ثبوتیہ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع اس کو قرار نہیں دیا۔ نہیں عبارت سمجھ میں آئی؟ جی؟ یہ جو شروع میں لا ہے نا: لا وقوع النسبة الثبوتية التقييدية، اس لا کو ذرا ہٹا دو، وقوع النسبة الثبوتية التقييدية أو لا وقوعها، نسبتِ ثبوتیہ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، نسبتِ ثبوتیہ کا وقوع یا لا وقوع، اس کو تصدیق کا متعلق قرار نہیں دیا، لا، لا اس پر لا داخل کر دو، یہ نہیں، سمجھ میں آگئی عبارت؟ بات سمجھ میں، دوبارہ دیکھ لو ترجمہ دیکھ لو: کہتے ہیں مصنف نے جو ہے قدماء کے مذہب کو اختیار کیا اس حیثیت سے کہ تصدیق کا متعلق قرار دیا اس چیز کو جو قضية کا آخری جزو ہے، اور وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: وہ نسبتِ خبری ثبوتی یا سلبی ہے، لا وقوع النسبة الثبوتية التقييدية أو لا وقوعها، وقوعِ نسبتِ ثبوتیہ یا لا وقوع کو قرار نہیں دیا۔ یا یوں کہو: وہ نسبتِ خبری ثبوتی یا سلبی ہے، نہ کہ نسبتِ ثبوتیہ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، وہ نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ وسيشير، اور عنقریب مصنف اشارہ کریں گے، إلى تثليث أجزاء القضية، قضية کے اجزاء کے تین ہونے کی طرف، في مباحث القضايا، قضايا کی مباحث، کتاب میں آگے جہاں قضایاؤں کی بحث آئے گی، وہاں وہ اشارہ کریں گے کہ قضية کے اجزاء تین ہیں، کس طرح؟ کہ وہاں محکوم علیہ کو بھی ذکر کریں گے، محکوم بہ کو بھی، اور تیسری چیز کو رابطہ کے نام سے ذکر کریں گے، معلوم ہوا یہی تین اجزاء ہیں بھئی، دال علی النسبة ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ رابطہ کہتے ہیں، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ آگے دیکھیے بھئی! قوله: وإلا فتصورٌ، مصنف کا قول: وإلا فتصورٌ، پھر متن پہ آ جاؤ: العلم إن كان إذعاناً للنسبة فتصديقٌ وإلا فتصورٌ، علم جو ہے اگر وہ اذعان ہو، اعتقاد ہو نسبتِ حکمیہ، نسبتِ خبریہ کا، فتصديقٌ، تو وہ تصدیق ہے، وإلا، اور اگر ایسا نہ ہو، تو وہ تصور ہے، میں نے بتلایا تھا یہ إلا حرفِ استثناء نہیں ہے، یہ إن اور لا سے مرکب ہے، إن لا، اگر ایسا نہ ہو، اور نشانی کیا ہے؟ کہ اس إلا سے پہلے اگر واؤ آ جائے تو پھر یہ حرفِ استثناء إلا نہیں ہوتا، بلکہ إن اور لا سے مرکب ہوتا ہے۔ یرملون والا قائدہ لگانا، إن کے آخر میں کیا ہے؟ نونِ ساکن، اور آگے کیا ہے؟ لا، تو اس نون کو بھی لام کر کے لام میں کیا کر دیا؟ ادغام، کیا بن گیا؟ إلا، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی نسبتِ خبریہ کا اذعان نہ ہو تو وہ تصور، تو اس میں پانچ صورتیں آگئیں، ابھی جو میں نے بیان کی تھیں، وہ ساری تصور میں آگئیں، کیا؟ پہلی چیز کیا؟ کہ ایک ہی چیز کا ادراک ہو۔ یا ایک سے زیادہ چیزوں کا ادراک ہے۔ دو صورتیں ہیں، تیسری صورت کیا؟ دو یا زیادہ چیزوں کا ادراک اور ان میں نسبت بھی ہے، لیکن نسبت تامّہ نہیں۔ چوتھی صورت کہ نسبت تامّہ بھی ہے، لیکن انشائی ہے۔ پانچویں صورت کہ نسبت تامّہ ہے اور خبری ہے، لیکن اذعان نہیں ہے، یعنی شک ہے، دونوں جانبیں برابر ہیں، یا وہم ہے، یعنی تھوڑا خیال ہے، یا تخیل ہے، یعنی بات ذہن میں آئی اور گزر گئی، وہاں اذعان تک بات پہنچی ہی نہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہی بات ذکر کر رہے ہیں کہ تو إلا تصور میں کتنی صورتیں آگئیں؟ پانچ، وہ پانچوں بیان کریں گے: کہتے ہیں: سواء كان إدراكاً لأمر واحدٍ، ورنہ وہ تصور ہے، بھئی کیا معنی؟ کتنی صورتیں آئیں گی اس میں؟ پانچ، اور اگر ایسا نہ ہو، تو پھر سواء، برابر ہے چاہے كان إدراكاً لأمر واحدٍ، کہ ادراک ایک ہی چیز کا ہو، كتصور زيدٍ، جیسے کہ اکیلے زید کا تصور، أو لأمور متعدّدة بدون النسبة، یا متعدد امور کا ادراک ہے لیکن بغیر کسی نسبت کے، كتصور زيدٍ وعمروٍ، جیسے زید اور عمر دونوں کا تصور، لیکن بیچ میں کوئی ربط اور تعلق نہیں، أو مع نسبة غير تامّةٍ، یا ادراک ہوگا نسبت کے ساتھ، لیکن نسبت کون سی ہوگی؟ غیر تامّہ ہوگی، كتصور غلام زيدٍ، جیسے غلامِ زید کا تصور، أو تامّةٍ، یا نسبت ہوگی اور تامّہ بھی ہوگی، إنشائيّةٍ، کون سی ہوگی؟ انشائی ہوگی، كتصور اضرب، جیسے کہ اضرب، امر ہے نا؟ تو انش اس کا تصور، أو خبريّةٍ مدركةٍ بإدراك غير إذعانيٍّ، یا نسبتِ تامّہ خبری ہوگی، لیکن وہ مدرک ہوگی بإدراك غير إذعانيٍّ، ایسے ادراک کے ساتھ جو اس جس میں اذعان نہیں ہوگا، كما في صورة التخيّل والشكّ والوهم، جیسے کہ تخیل، شک، اور وہم کی صورت میں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح؟ حاصلِ کلام یہ ہوا کہ آج آپ نے پڑھا کہ قدیم فلاسفہ اور متاخرین میں اختلاف ہے قضية کے اجزاء کے بارے میں۔ قدیم فلاسفہ فرماتے ہیں کہ قضية مثلث ہے، یعنی اس کے تین اجزاء ہیں۔ جبکہ متاخرین فلاسفہ فرماتے ہیں کہ قضية مربع ہے، یعنی اس کے چار اجزاء ہیں بھئی۔ قدیم فلاسفہ کے نزدیک تین اجزاء یہ ہیں: محکوم علیہ، محکوم بہ، اور نسبتِ خبری، چاہے ثبوتی ہو چاہے سلبی۔ جبکہ متاخرین کے نزدیک چار اجزاء یہ ہیں: محکوم علیہ، محکوم بہ، نسبتِ تقييدية، اور پھر چوتھا جزو کیا ہے؟ اس نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، اور اسی نسبتِ تقييدية کا وقوع یا لا وقوع، اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ نسبتِ خبری تامّہ، ثبوتی یا سلبی بھئی۔ اور نسبتِ تقييدية میں نے بتایا کہ اس کی دو صورتیں ہیں، جس میں نسبت تو ہوتی ہے لیکن بات پوری نہیں ہوتی، ایک اس میں مرکبِ توصیفی داخل ہے، موصوف اور صفت، اور دوسرا مرکبِ اضافی، مضاف مضاف الیہ داخل ہیں، اور یہ نسبتِ تقييدية بنائیں گے کیسے؟ کہ محمول کا مصدر نکال لیں گے، اور اس کی اضافت کر دیں گے کس کی طرف؟ موضوع کی طرف، یا یوں کہہ لیں مبتدا کی طرف، جیسے زیدٌ قائمٌ سے کیا بنے گا؟ قیامُ زیدٍ، زیدٌ عالمٌ سے کیا بنے گا؟ علمُ زیدٍ، یا عالمیّةُ زیدٍ، زید کا عالم ہونا۔ زیدٌ مضروبٌ، اس سے بناؤ ذرا نسبتِ تقييدية: مضروبیّةُ زیدٍ، شاباش بھئی! تو پہلے یہ آتی ہے، پھر اس اس نسبت کا وقوع یا لا وقوع ہوتا ہے، اگر ثبوتی ہو تو وقوع ہوتا ہے، اگر سلبی ہو تو لا وقوع ہوتا ہے بھئی۔ اور میں نے بتلایا کہ یہ قضية کے اجزاء میں اختلاف جو ہے اس وجہ سے ہے، کیونکہ ایک اور چیز میں اختلاف ہے، اور وہ اختلاف ہے تصور اور تصدیق کی ذات کے بارے میں۔ قدیم فلاسفہ فرماتے ہیں کہ تصور اور تصدیق کی ذات ہی الگ الگ ہے، یہ ادراک یعنی علم کی دو بالکل الگ الگ قسمیں ہیں، تصدیق کے اندر اذعانِ حکم ہوتا ہے، اور تصور کے اندر اذعانِ حکم نہیں، تو یہ دونوں بالکل الگ الگ قسمیں ہیں، اور دونوں کا تعلق ہوتا ہے کس سے؟ نسبتِ خبری سے، تو اب اگر ایک چیز سے تعلق ہو بھی گیا، تو کوئی خرابی لازم نہیں آئی، کیونکہ دونوں کی ذات الگ الگ ہے، آرام سے پہچان لیں گے، جیسے بھیڑ اور بکری دونوں کو ایک ہی ستون سے باندھا، تو بھی بھیڑ الگ ہے، بکری الگ ہے، آرام سے پہچان لیں گے۔ جبکہ متاخرین کے نزدیک تصور اور تصدیق جو ہیں وہ متحد ہیں، وہ متحد ہیں ذات کے اعتبار سے، دونوں ادراک اور علم کی قسمیں، تو دونوں علم ہیں، ادراک ایک ہی چیز ہیں، متحد ہیں، تو ان پر اشکال ہوتا ہے کہ پھر تو دونوں ذات کے اعتبار سے بھی متحد ہوئے، اور دونوں کا تعلق کس سے ہے؟ نسبتِ خبریہ سے، تو پھر ہم فرق کیسے کریں گے؟ جب دونوں متحد ہیں تو یوں سمجھو دونوں بکریاں سمجھو، اور اس کو ایک ہی ستون سے باندھا، اب ہم کیسے فرق کریں گے کون تصور ہے اور کون تصدیق ہے؟ دونوں کی ذات میں بھی اتحاد، اور دونوں کا متعلق بھی ایک ہی چیز، تو وہ مجبور ہوئے، اور ان کو کہنا پڑا کہ نہیں، اس نسبتِ خبریہ سے دونوں نہیں متعلق، نسبتِ خبریہ سے پہلے ایک اور نسبتِ تقييدية آتی ہے، اور تصور کا تعلق اس نسبتِ تقييدية سے ہے، اور تصدیق کا تعلق اس نسبتِ خبریہ سے ہے، تو اب دونوں کی ذات اگرچہ ایک ہے، لیکن متعلق کیا ہو گئے؟ جدا جدا، جب متعلق الگ ہیں، تو اب فرق ہو جائے گا، یعنی جیسے ایک کو ایک ستون سے باندھا ہے، دونوں بکریاں ہیں، لیکن ایک کو ایک ستون سے باندھا، دوسری کو دوسرے سے، تو اب فرق ہو جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور مصنف نے کس کے مذہب کو پسند کیا؟ قدماء کے مذہب کو اختیار کیا، اسی لیے انہوں نے اذعان کی جو ہے، اذعان کا تعلق کس سے جوڑا؟ نسبت سے، نسبتِ خبریہ کے ساتھ، جو ثبوتی بھی ہو سکتی ہے اور سلبی بھی، نہ کہ انہوں نے اس کو کس کے ساتھ نہیں جوڑا؟ نسبتِ تقييدية کے وقوع یا لا وقوع کے ساتھ نہیں جوڑا، اور نیز وہ آگے، نیز اس کی تائید بھی ہوتی ہے آگے چل کر مصنف جب قضايا کی بحث آئے گی، تو وہاں اشارہ کر دیں گے کہ قضية کے کتنے اجزاء ہیں؟ تین اجزاء، کس طرح اشارہ کریں گے؟ کہ وہ کہیں گے کہ محکوم علیہ کو موضوع کہتے ہیں، محکوم بہ کو محمول کہتے ہیں، اور دال علی النسبة کو رابطہ کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو وہاں وہ اشارہ کر دیں گے، تو اس سے یہاں سے بھی اور اس جگہ دونوں کو ملائیں تو پتہ چلتا ہے کہ مصنف نے کس کے مذہب کو ترجیح دی ہے؟ قدیم فلاسفہ کے مذہب کو ترجیح دی ہے، اس کے بعد پھر تصور کے اندر پانچ صورتیں جو داخل ہوتی تھیں، ان کو بیان کیا کہ تصور میں یا تو ادراک ہوگا ایک ہی چیز کا، یا کئی چیزوں کا، لیکن درمیان میں کوئی نسبت نہیں ہوگی، یا ادراک ہوگا نسبت کا، لیکن وہ نسبت تام نہیں ہوگی، یا ادراک نسبت کا ہوگا، لیکن وہ کیا ہوگی؟ انشائی ہوگی، یا ادراک ہوگا نسبتِ تامّہ خبری کا، لیکن اس کا اذعان نہیں ہوگا بھئی، تو یہ سب صورتیں کس میں آگئیں؟ تصور میں داخل ہو گئیں بھئی، چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔