آگے دیکھیے وہ متن دیکھ لیں۔ وبعد فهذا غاية تهذيب الكلام في تحرير المنطق والكلام، وتقريب المرام من تقرير عقائد الإسلام، جعلته تبصرة لمن حاول التبصر لدى الإفهام، وتذكرة لمن أراد أن يتذكر من ذوي الأفهام، سيما الولد الأعز الحفي الحري بالإكرام، سمي حبيب الله عليه التحية والسلام، لا زال له من التوفيق قوام ومن التأييد عصام، وعلى الله التوكل وبه الاعتصام. وبعد، یہاں مضاف محذوف ہے بھئی، أي وبعد الحمد والصلاة. حمد و صلاۃ کے بعد، یہ تہذیب کا خطبہ چل رہا ہے بھئی خطبہ۔ شروع میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام کا ذکر کیا اور اسی طرح حضور کی آل اور صحابہ پر بھی۔ اس کے بعد اب اس کتاب کے بارے میں چند باتیں ذکر کرنے لگے ہیں۔ تو وبعد، أي بعد الحمد والصلاة. اور حمد و صلاۃ کے بعد: فهذا غاية تهذيب الكلام في تحرير المنطق والكلام. غاية کا معنی ہے انتہا، انتہا۔ تہذیب، هذب يهذب تهذيب کا معنی ہے صاف ستھرا کرنا، بیکار اور ردی چیزوں کو نکال دینا۔ جیسے اپ دیکھتے ہیں بھئی سال کے بعد پودوں وغیرہ گھروں میں جو پودے وغیرہ لگے ہوں یا باغات میں پودے لگے ہوں ان کو صاف ستھرا کیا جاتا ہے، جو شاخیں زائد ادھر ادھر نکلی ہوں ان کو کاٹا جاتا ہے ان کو برابر کیا جاتا ہے، تو یہ ہے تہذیب۔ زائد اور بیکار چیزوں کو نکال دینا، صاف ستھرا کرنا۔ تو کہتے ہیں حمد و صلاۃ کے بعد فهذا غاية تهذيب الكلام، یہ انتہا درجے کا کلام کو مہذب کرنا ہے۔ یہ انتہا درجے کا کلام کو مہذب کرنا ہے۔ هذب يهذب تهذيب کا کیا معنی ہے؟ مہذب کرنا، مہذب کرنا۔ تو یہ مصدر ہے، مصدر ہے۔ اور هذا کے ذریعے اشارہ ہے اس کتاب کی طرف، اور یہ کتاب تو ذات ہے اور تہذیب تو مصدر ہے۔ تو هذا غاية تهذيب الكلام، تو مصدر کا حمل ہو رہا ہے ذات پر۔ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ جیسے آیا تھا زيد عدل، زید کیا تھا؟ زید ہے ذات اور عدل کیا ہے؟ مصدر، اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں۔ تو بتلایا تھا کہ عدل کس معنی میں ہے؟ عادل کے معنی میں ہے۔ ایک جواب یہ تھا، اور دوسرا علماء محققین جواب دیتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ عدل کو عادل کے معنی میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ حمل ہے بطور مبالغہ کے۔ یعنی زید اتنا عدل کرنے والا ہے کہ وہ خود ہی کیا بن گیا ہے؟ عدل۔ تو یوں کہیں گے زيد عدل، زید سراپا عدل ہے، تو اس میں مبالغہ زیادہ ہے، اس میں تعریف زیادہ ہے، لہٰذا اسی طرح اس کا حمل کیا جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، هذا سے مراد ہے یہ کتاب، اور آگے غاية تهذيب الكلام، یہ تہذیب ہے مصدر، تو مصدر کا حمل ہو رہا ہے کس پر؟ ذات پر۔ یا تو مبالغہ ہے، بطور مبالغہ کے حمل ہے، یعنی اس کی تہذیب کی گئی، اتنا صاف ستھرا کیا گیا کہ اس کی ذات ہی کیا بن گئی؟ تہذیب بن گئی، بات سمجھ میں آ گئی صاف ستھری بن۔ یا اس کو مفعول مطلق بناؤ، کیا بناؤ؟ مفعول مطلق۔ مفعول مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو۔ ضربت زيدا ضربا، ضربت زيدا ضربا، تو دیکھو ضربت فعل ہے، آگے ضربا اسی معنی میں مصدر آ رہا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول مطلق، مفعول مطلق۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح، اس سے پہلے نکال لو، خبر محذوف نکال لو فهذا كلام مهذب، فهذا كلام مهذب، یہ جو کتاب ہے یعنی یہ جو کلام ہے، یہ کون سا کلام ہے؟ کلام مہذب ہے، جس کی تہذیب، مہذب اسی تہذیب سے اسم مفعول ہے نا، اور اسم مفعول کا حمل کس پر ہوتا ہے؟ ذات پر ہوتا ہے نا، جس کی تہذیب کی گئی ہے، وہ ذات جس کی تہذیب کی گئی ہے۔ تو کلام گویا یوں ہو گیا کہ هذا كلام مهذب، جملہ کس طرح ہوا؟ هذا كلام مهذب، ف بھی ملاؤ، کتاب میں ف بھی ہے، فهذا كلام مهذب، یہ ایک مہذب کلام ہے، کیا معنی مہذب کلام؟ جس کی کیا کی گئی ہے؟ تہذیب کی گئی ہے۔ اور یہ تو مہذب اسم مفعول آیا، اور آپ جانتے ہیں اس کے کہ اسم فاعل، اسم مفعول، یہ صفت کے صیغے بھی فعل کی طرح عمل کرتے ہیں، جیسے فعل کے لیے فاعل مفعول وغیرہ چاہیے ہوتے ہیں، ان کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل وغیرہ اور مفعول کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو یہ اسی کی طرح ہے، اور اس کے بعد آگے یہ غاية تهذيب مصدر آ گیا، تو یہ کیا بن جائے گا؟ مفعول مطلق۔ ماقبل میں کیا ہے؟ لفظ مہذب، فعل تو نہیں ہے لیکن شبہ فعل ہے یا نہیں؟ فعل جیسا ہے، یہ مہذب بھی، تو اسی کے آگے مصدر آ گیا، تو اس مصدر کو کیا کہیں گے؟ مفعول مطلق۔ معلوم ہوا مفعول مطلق سے پہلے فعل کا آنا ضروری نہیں، فعل یا اس جیسا کوئی اس جیسی کوئی چیز آ جائے اور وہ کیا؟ اسم فاعل آ جائے یا اسم مفعول وغیرہ بھی آ جائیں تو بھی مفعول مطلق آگے آ سکتا ہے۔ اب دیکھیے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، ایک جملہ ذکر کرتا ہوں، ذرا مجھے اس کا ترجمہ کر کے بتاؤ۔ ضربت زيدا ضربا، ضربت زيدا ضربا، ترجمہ کرو اردو میں با محاورہ اس کا کیا ترجمہ کریں گے؟ عموماً طلباء یہی ترجمہ کرتے ہیں: ضربت زيدا، میں نے زید کو مارا، ضربا، مارنا۔ میں نے زید کو مارا، مارنا، نہیں بھئی! مفعول مطلق کا الگ ترجمہ نہیں کرنا بھئی، یہ اسی فعل میں بس تاکید پیدا کر رہا ہے، اس میں ذرا زور پیدا کر رہا ہے، تو اس کا الگ ترجمہ نہیں کرتے، بس ترجمہ وہی کر دیں گے: میں نے زید کو مارا۔ میں نے زید کو مارا۔ اور اسی طرح اگر میں کہوں: ضربت زيدا ضربا شديدا، ضربت زيدا ضربا شديدا، یہ ضربا ہے کیا؟ مفعول مطلق، اور یہ شديدا اسی کی صفت ہے۔ تو وہی پرانا ترجمہ جیسے آپ نے پہلے کیا اس لحاظ سے ترجمہ کیا کریں گے طلباء؟ ضربت زيدا، میں نے مارا زید کو، ضربا شديدا، شدید مارنا، سخت مارنا۔ لیکن ایسے نہیں کرنا، اس کو اسی کے ساتھ جوڑ دو جملے کے ساتھ، کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے زید کو سخت مارا، شدید مارا، بہت زیادہ مارا، بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، تو اسی کے ساتھ جوڑ دیں گے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، فهذا كلام مهذب، یہ کیسا کلام ہے؟ مہذب، جس کی کیا کی گئی ہے؟ تہذیب۔ اور آگے آ گیا غاية تهذيب الكلام، انتہا درجے کا کلام کو مہذب کرنا، یہ مفعول مطلق آ گیا۔ کیا آیا؟ غاية کا کیا معنی؟ انتہا، انتہا درجے کا کلام کو مہذب کرنا۔ اب اس کو ماقبل کے ساتھ جوڑ دو ترجمے میں: هذا كلام مهذب، اسی کے اندر لے آؤ غاية تهذيب الكلام کو۔ جیسے ضربا شديدا، شديدا کو کس میں لے آئے تھے؟ فعل کے ساتھ آپ لائے تھے یا نہیں؟ ضربت زيدا ضربا شديدا، میں نے زید کی بہت سخت پٹائی کی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ اب یہاں بھی اسی طرح کر دو، یہ غاية تهذيب الكلام، اس کو ختم کرو، اور اسی کا معنی اٹھا کر لے آؤ كلام مهذب کے اندر: هذا كلام مهذب، شاباش، یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ ہاں، تو اس مصدر کا الگ معنی نہیں کرنا۔ حمد و صلاۃ کے بعد یہ جو ہے انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، في تحرير المنطق والكلام، تحریر کا معنی بیان، تحریر کا معنی بیان۔ بیان کا لفظ نہیں ذکر کیا، تحریر کا لفظ ذکر کیا۔ بیان کسے کہتے ہیں؟ بھئی یہ جو کچھ ہم زبان سے کہتے ہیں یہ بیان ہے، یہ کیا ہے؟ بیان، اصل میں بان يبين کا معنی ہوتا ہے ظاہر کرنا، تو بیان وہ کلام جو دل کی بات کو ظاہر کرے، تو ظاہر سی بات ہے میں جو کچھ بھی کہوں گا وہی کہوں گا جو میرے دل میں ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیان، تو جو بھی کلام انسان کہتا ہے وہ بیان ہے۔ لیکن یہاں بیان کے بجائے تحریر کا لفظ استعمال کیا تحریر کا۔ تحریر اس بیان کو کہتے ہیں جو حشو و زوائد سے خالی ہو، جو کس سے؟ بیکار اور ردی چیزیں اس میں نہ ہوں، بیکار باتیں نہیں، خالص جو مقصد ہے وہ اس کے اندر ذکر ہو، اس کو کہتے ہیں تحریر۔ ایک ہے بیان، اس میں ہو سکتا ہے زائد چیزیں ہوں، ہو سکتا ہے زائد چیزیں نہ ہوں۔ اور ایک ہے تحریر، اس کے اندر زائد چیزیں نہیں ہوں گی، خالص مقصد کی باتیں ہوں گی، تو بتلا دیا کہ یہ جو کتاب ہے، یہ منطق اور کلام کے بیان میں ہے، لیکن اس کے لیے لفظ کیا لائے؟ تحریر، یعنی منطق اور کلام کا ایسا بیان ہے جس میں حشو و زوائد، بیکار اور ردی چیزیں نہیں۔ یہ میں نے ایسی باتیں اس اپنی کتاب میں جمع کی ہیں کہ ان میں کے ردی اور بیکار سب چیزوں کو میں نے نکال دیا ہے اور خالص جو مقصد کی اور قیمتی اور اہم باتیں ہیں صرف ان کو رکھا ہے اس کے اندر۔ تو بیان کے بجائے کیا لفظ استعمال کیا؟ تحریر، تحریر کا کیا معنی؟ وہ بیان جو حشو و زوائد سے خالی ہو۔ دوبارہ سنیں: اور حمد و صلاۃ کے بعد، فهذا غاية تهذيب الكلام، یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، في تحرير المنطق والكلام، علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔ یعنی اس میں علم منطق اور علم کلام کو بیان کیا گیا ہے، لیکن ہے کس قسم کا کلام؟ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، مہذب کلام۔ تو منطق، علم منطق آپ پڑھ چکے ہیں، وہ ان قوانین کا مجموعہ ہے جن کی رعایت رکھی جائے تو وہ ذہن کو نظر و فکر میں غلطی سے بچاتے ہیں۔ اور علم کلام، علم کلام میں آپ کو بتلا چکا ہوں کہ یہ جو تہذیب متن ہے، اس کے دو حصے ہیں: ایک علم منطق میں ہے اور ایک علم کلام، علم کلام وہ علم جس میں عقیدے کی بحث ہوتی ہے۔ عقیدے کی بحث ہوتی ہے، مثلاً اللہ ایک ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے، قیامت کا دن قائم ہو گا، وغیرہ بھئی، یہ سب کیا ہیں؟ عقیدے ہیں۔ ایک وہ علم ہے جس میں عمل کی بحث ہوتی ہے کہ نماز کیسے پڑھنی ہے، روزہ کیسے رکھنا ہے، حج کیسے کرنا ہے، تو جن میں عمل کا ذکر ہوتا ہے اور زندگی کے ہر قسم کے معاملات کا، اس کو علم فقہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ علم فقہ، جبکہ علم کلام کے اندر صرف عقیدے کی بحث ہوتی ہے جس میں جس کے اندر عمل کا دخل نہیں۔ تو یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے في تحرير المنطق والكلام، علم منطق اور علم کلام کے بیان میں، وتقريب المرام، جی، تقریب کا عطف ہے تہذیب پر، اور اس پر غاية داخل تھا تو یہاں پر یہ بھی کس کے نیچے آ گیا؟ غاية، أي غاية غاية تقريب المرام۔ تو اس کا عطف اس مجرور پر ہے تو یہ بھی مجرور ہو گا وتقريب المرام، أي هذا غاية تقريب المرام، عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور یہ کتاب جو ہے غاية تقريب المرام، غاية کا معنی میں نے ذکر کر دیا، اس کا معنی ہے انتہا۔ تقریب، قرب يقرب تقريب کا معنی ہے قریب کرنا، قریب کرنا۔ المرام، مرام کہتے ہیں مقصد کو بھئی جس کا انسان ارادہ کرتا ہے۔ تو تقریب المرام، مقصد کو قریب کرنا، مقصد کو قریب کرنا، یعنی ذہن کے قریب کرنا کہ ذہن اس کو آسانی سے قبول کر لے، سمجھ لے اس کو۔ ایک ہے نا مشکل اور پیچیدہ بات کرنا، تو جب آپ نے مشکل بات کی تو آپ نے اس کو ذہنوں سے دور کر دیا، اب دوسرے کے لیے سمجھنا اس کو مشکل ہو گا۔ اور ایک ہے کہ آپ اس کو اتنے آسان اور بہترین انداز میں ذکر کریں کہ فوراً سننے والا سمجھ لے، تو ہم کہیں گے: آپ نے اس بات کو اتنے آسان انداز میں ذکر کیا کہ آپ نے اس کو ذہنوں کے قریب کر دیا، اب کوئی بھی اس کو پڑھے گا یا سنے گا تو آسانی سے اس کو سمجھ لے گا۔ تو یہ کتاب کیا ہے؟ وبعد فهذا غاية تقريب المرام، هذا کے ذریعے اشارہ کس کی طرف؟ کتاب کی طرف، تو فهذا الكتاب، یہ کتاب جو ہے غاية تقريب المرام، یہ مقصد کو انتہائی قریب کرنا ہے، مقصد کو انتہائی قریب کرنا ہے۔ یہاں پھر وہی اشکال ہوتا ہے، اشکال کیا؟ کہ غاية تقريب، تقریب کیا ہے؟ مصدر، قرب يقرب تقريبا، باب تفعیل کا مصدر ہے، اور هذا الكتاب، تو هذا کیا ہے؟ کتاب کی طرف اشارہ، اور کتاب کیا ہے؟ ذات۔ تو مبتدا ہوا ذات، اور خبر کیا آ گئی؟ غاية تقريب المرام، وہ مصدر، اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، جیسے زيد عدل، تو کیا کہتے ہیں؟ دراصل کیا ہے؟ زيد عادل ہے۔ یا دوسرا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ حمل ہے بطور مبالغہ کے، یہ حمل ہے بطور یا تو کہو یا تو یوں کہنا پڑے گا: زید زيد عدل، زید أي زيد عادل، زید عدل کرنے والا ہے، زید انصاف نہیں بلکہ انصاف کرنے والا ہے، لہٰذا آپ کو عدل کو، مصدر کو اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنی میں لینا پڑتا ہے، جیسے عدل کو کس معنی میں لیا؟ اسم فاعل کے معنی میں لیا۔ اور بعض علماء نے بتلایا، علماء محققین فرماتے ہیں کہ عدل کو عادل کے معنی میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ عدل اپنے ہی معنی میں ہے اور اس کا حمل ہو رہا ہے زید پر بطور مبالغہ کے، بطور مبالغہ کے۔ یعنی خوب جو چیز آپ بیان کر رہے ہیں اس میں خوب مبالغہ کرنے کے لیے، زیادی ذکر کرنے کے لیے، اگر آپ کہیں: زيد عادل، زید عدل کرنے والا ہے، اور ایک آپ کہتے ہیں: زيد عدل، زید خود ہی انصاف ہے، یعنی سراپا انصاف ہے، یعنی اتنا عدل کرتا ہے کہ وہ سراپا ہی کیا ہے؟ انصاف ہے، سر سے پاؤں تک انصاف ہی انصاف ہے وہ۔ تو دیکھو مبالغہ اور تعریف کس کے اندر زیادہ؟ کہ جب آپ عدل کا براہ راست حمل کس پر کریں؟ زید، زيد عادل، زید انصاف کرنے والا ہے، اس میں اتنی تعریف نہیں ہے، زيد عدل کے اندر تعریف زیادہ ہے کہ وہ سر سے پاؤں تک خود ہی کیا ہے؟ انصاف ہے۔ تو اس کے اندر مبالغہ زیادہ ہے، تعریف زیادہ ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح، دیکھیے کتاب پر: فهذا الكتاب، یہ کتاب جو ہے غاية تقريب المرام، یہ مقصد کو انتہائی قریب کرنا ہے۔ تو یہ حمل ہوا بطور مبالغہ کے، یہ حمل کیا ہوا بطور مصدر کا حمل ہو گیا ذات پر بطور مبالغہ کے، تو ایک یہ۔ یا دوسری ترکیب یہ کرو کہ اس کو مفعول مطلق بناؤ، جیسے غاية تهذيب الكلام کو کیا بنایا تھا؟ ایک تو ایک تو جواب یہی تھا نا کہ غاية تهذيب الكلام کا حمل ہو رہا ہے کس پر؟ هذا، اور یہ حمل کون سا ہے؟ بطور مبالغہ کے ہے۔ اور دوسرا جواب کیا دیا؟ کہ یہاں یہ مفعول مطلق ہے اور خبر محذوف ہے، أي هذا كلام مهذب غاية تهذيب الكلام، تو یہاں بھی اسی طرح کر لو: فهذا الكتاب، تقریب کو اسم فاعل اسم فاعل کے معنی میں لے لو، پہلے تہذیب کو ہم نے مہذب اسم مفعول کے معنی میں لیا تھا، یہاں تقریب کو کس معنی میں لے لو؟ اسم فاعل مقرب کے معنی میں، فهذا الكتاب مقرب للمرام، یہ کتاب کیا ہے؟ قریب کرنے والی ہے للمرام، کس کو؟ مقصد کو، مقصد وہ باتیں جو مصنف بیان کرنا جس چیز کا مصنف نے کیا کیا ہے؟ ارادہ کیا ہے، اس کو قریب کرنے والی ہے، فهذا الكتاب مقرب للمرام غاية تقريب المرام۔ ترکیب کی توجہ ہے؟ تقریب کا عطف کس پر؟ تہذیب پر، اور تہذیب پر کیا داخل؟ غاية، تو کیا عبارت کیسے بن گئی؟ فهذا غاية تقريب المرام، تو غاية تقريب المرام یہ تو ہوا مصدر، تو ایک جواب یہ کہ یہ مصدر کا حمل ہو رہا ہے ذات پر بطور مبالغہ کے۔ دوسرا یہ کہ غاية تقريب غاية تقريب المرام غاية تقريب المرام اس کو مفعول مطلق بناؤ اور خبر محذوف الگ نکال لو، خبر کیا کر لو؟ محذوف الگ نکال لو۔ تو کیا بن جائے گی عبارت؟ فهذا هذا الكتاب، واضح بات کر دو تاکہ بات سمجھ میں آ جائے: فهذا الكتاب، یہ ہے مبتدا، آگے فهذا کہہ دو چلو: فهذا مقرب للمرام، هذا یہ کتاب جو ہے مقرب للمرام، یہ مقصد کو قریب کرنے والی ہے، مقرب اسم فاعل ہے نا، یہ کتاب مقصد کو قریب کرنے والی ہے، آگے مفعول مطلق بھی آ گیا: غاية تقريب المرام، مقصد کو انتہائی قریب کرنا، مقصد کو انتہائی قریب کرنا، اور میں نے بتلایا تھا مفعول مطلق کا الگ ترجمہ نہیں کرتے، اس کو ماقبل کے ساتھ ہی ملا دو۔ پھر سنو، اب آپ نے جوڑ کر مجھے بتانا ہے، کلام یوں بن گیا: فهذا مقرب للمرام غاية تقريب المرام، فهذا مقرب للمرام غاية تقريب المرام، تو لفظی ترجمہ کیا بن رہا ہے؟ یہ جو ہے، یہ کتاب، یہ مقرب للمرام، مقصد کو قریب کرنے والی ہے، غاية تقريب المرام، مقصد کو انتہائی قریب کرنا۔ اب با محاورہ ترجمہ کرو: هذا مقرب للمرام غاية تقريب المرام، اب ترجمہ کرو: کہ یہ کتاب مقصد کو انتہا درجے کا قریب کرنے والی ہے، غاية تقريب، انتہا درجے کا، اس کو بیچ میں ہی لے آؤ کہ یہ کتاب مقصد کو انتہا درجے کے قریب کرنے والی ہے، کس چیز کے قریب کرنے والی ہے؟ ذہنوں کے، طبیعتوں کے، کہ ان کو فوراً سمجھ جائیں اور باتوں کو پوری طرح سمجھ میں آ جائے۔ تو یہ کتاب یعنی ایسے خوبصورت اور پیارے اور آسان انداز میں میں نے لکھی ہے کہ مقصد کو کیا کرتی ہے؟ ذہنوں کے قریب کرتی ہے اور طلباء وغیرہ اس کو فوراً آسانی سے سمجھ جاتے ہیں۔ اور من تقرير عقائد الإسلام، یہ من بیانیہ ہے۔ اس کے ساتھ ماقبل کا معنی بیان کیا جاتا ہے، بھئی بعض اوقات ایسا ہوتا ہے یہ عام عبارتوں میں آپ پڑھیں گے کہ یہ من بیانیہ ہے یا یہ من بیان کر رہا ہے۔ کسی لفظ میں ابہام ہوتا ہے، بات پوری سمجھ میں نہیں آ رہی ہوتی، تو من کے ساتھ اس کا بیان کر دیا جاتا ہے، جیسے ماقبل میں کیا آیا؟ کہ یہ مقصد کو انتہائی قریب کرنے والی کتاب ہے، بھئی مقصد کیا ہے؟ مقصد کا تو پتہ ہی نہیں، اس میں کیا ہے؟ ابہام ہے، معنی کا اب کیا کون مقصد کیا ہے؟ تو من کے ساتھ بیان کر دیا: من تقرير عقائد الإسلام، یعنی اسلام کے عقیدوں کو ثابت کرنا، یعنی اسلام کے عقیدوں کو ثابت کرنا۔ قرر يقرر تقرير، اس کا معنی ہوتا ہے اثبات، ثابت کرنا۔ اردو میں تقریر ہے ایک نا، اردو میں تو تقریر کا معنی ہے وہ جو خطبہ خطاب کیا جاتا ہے نا، جو خطبہ دیتا ہے عالم یا جو وعظ کرتا ہے نصیحت کرتا ہے، وہ کیا ہے؟ تقریر۔ لیکن عربی میں قرر يقرر تقرير کا معنی ہے اثبات، کسی چیز کو ثابت کرنا۔ تو تقرير عقائد الإسلام، یہ آپس میں مضاف مضاف الیہ ہیں تینوں، تو اسلام کے عقیدوں کو ثابت کرنا، تو یہ بیان ہے کس کا؟ مرام کا۔ یہ کتاب مقصد کو انتہائی قریب کرنے والی ہے، بھئی کیا مقصد ہے؟ من تقرير عقائد الإسلام، یعنی اسلام کے عقیدوں کو ثابت کرنا، بھئی علم کلام آئے گا نا آگے، اور علم کلام میں کیا ہوتا ہے؟ اسلامی عقائد کو ثابت کیا جاتا ہے، اس کے دلائل ذکر ہوتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ من تقرير عقائد الإسلام، یہ کس کا معنی بیان ہو رہا ہے؟ مرام کا، تو یہ بیان ہے مرام کا۔ تو اس کو مرام کے ساتھ ہی جوڑ دو، کس کے ساتھ جوڑ دو؟ مرام۔ آپ نے کیا ترجمہ کیا تھا؟ هذا مقرب، یہ کتاب کیا ہے؟ یہ کتاب یہ کتاب بہت قریب کرنے والی ہے مقصد، یعنی اسلامی عقیدوں کے اثبات کو، یہ کتاب مقصد یعنی اسلامی عقیدوں کے اثبات کو ذہنوں کے بہت قریب کرنے والی ہے، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں دوبارہ سن لو: وبعد فهذا غاية تهذيب الكلام في تحرير المنطق والكلام، حمد و صلاۃ کے بعد پس یہ کتاب جو ہے انتہا درجے کا مہذب کلام ہے علم منطق اور علم کلام کے بیان میں، اور یہ کتاب جو ہے مقصد یعنی اسلامی عقائد کے اثبات کو ذہنوں کے انتہائی قریب کرنے والی ہے۔ آگے دیکھیے بھئی: جعلته تبصرة لمن حاول التبصر لدى الإفهام، لدى الإفهام، یہ مضاف الیہ ہے بھئی۔ جعلته، جعل کا معنی ہے بنا دینا، کر دینا، اور یہ دو مفعول چاہتا ہے، دو مفعول چاہتا ہے۔ تبصرة، تبصرہ کہتے ہیں بصیرت والا بنانا، بصر يبصر تبصرة، کیا معنی ہے؟ بصیرت والا بنا دینا، بصیرت والا۔ اور بصیرت کہتے ہیں سمجھ بوجھ، فہم و فراست، ذہانت، دل کا نور۔ بصیرت کا کیا معنی؟ فہم و فراست، سمجھ، سمجھداری، یوں کہو سمجھداری، سمجھداری، فہم و فراست، دل کا نور۔ تو بصیرت، یہ دل کا نور ہے بھئی، دل کا نور ہے۔ جیسے دیکھو اندھیرے کے اندر آپ کے پاس چراغ ہو، تو یہ چراغ چیزوں کو نمایاں کر دے گا، آپ کو ارد گرد سارا کچھ نظر آئے گا۔ اسی طرح یہ بصیرت دل کے اندر جب ہو، دل جب دل کے پاس یہ نور موجود ہو، تو اس نور کی روشنی میں وہ حق اور باطل کو، صحیح اور غلط کو فوراً پہچان لیتا ہے بھئی۔ تو یہ صلاحیت دل کے اندر اللہ نے رکھی ہوتی ہے۔ تو بصیرت، تو تبصرہ کا کیا معنی؟ بصیرت والا بنانا، یعنی دوسرے کو، دوسرے کو بصیرت والا بنا دینا۔ لمن حاول، حاول کا معنی ہے ارادہ کرنا، حاول يحاول محاولة، ارادہ کرنا۔ تبصر، تبصر دیکھو تبصرہ تھا متعدی، دوسرے کو بصیرت والا بنا دینا، اور تبصر کا معنی ہے خود بصیرت والا بننا، تبصر کا کیا معنی؟ خود بصیرت یعنی بصیرت حاصل کرنا۔ لدى، لدى کے معنی ہیں پاس، أي عند عند۔ الإفهام، افہام، سمجھانا، أفهم يفهم إفهاما، باب افعال کا مصدر ہے بھئی، سمجھانا دوسرے کو۔ یہ ہے افہام، دیکھو ہمزہ کے نیچے زیر پڑھنا، اور اسی سطر کے آخر میں آ رہا ہے: ذوي الأفهام، وہ افہام، الف کے فتحہ کے ساتھ آپ نے پڑھنا ہے، ایک ہے افہام، ایک ہے افہام، دونوں میں فرق کا پتہ ہے؟ کیا فرق ہے؟ یاد رکھو ہمزہ کے نیچے زیر ہو تو یہ مصدر ہے باب افعال کا، افعال، افہام۔ اور جب ہمزہ پر فتحہ ہو تو یہ جمع کے اندر آتا ہے، افہام جمع ہے فہم کی۔ فہم کی، بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے افعال، اقلام، تو جمع کے اندر کیا ہے؟ ہمزہ پر زبر آتا ہے۔ تو آپ نے ہمیشہ خیال رکھنا ہے جہاں کہیں مصدر ہو وہاں آپ نے ہمزہ کے نیچے زیر پڑھنا ہے، افعال، اور جہاں جمع ہو وہاں زبر پڑھنا ہے بھئی۔ تو افہام کا معنی سمجھانا، دوسرے کو سمجھانا۔ فہم کا معنی خود سمجھنا، اور افہام کا معنی دوسرے کو سمجھانا۔ جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو تبصرة بصیرت دینے والا بنایا ہے، میں نے یہ جو کتاب لکھی ہے تہذیب، کیسی کتاب ہے؟ جو دوسرے کو بصیرت دیتی ہے، اس کو سمجھدار بنا دیتی ہے۔ تو یہ میں نے اس کتاب کو بصیرت دینے والا بنایا ہے لمن، بھئی کس کے لیے؟ لمن اس شخص کے لیے حاول التبصر، جو ارادہ کرے بصیرت حاصل کرنے کا۔ جو شخص بصیرت حاصل کرنا چاہتا ہے، دل کا نور حاصل کرنا چاہتا ہے، جو سمجھداری حاصل کرنا چاہتا ہے، میں نے اس کتاب کو اس کے لیے دل کا نور پیدا کرنے والا بنایا ہے۔ تو یوں کریں دونوں جگہ ترجمہ کر لیں بصیرت کے ساتھ، دیکھو یوں ترجمہ ہو گا: میں نے اس کتاب کو بصیرت پیدا کرنے والا بنایا ہے اس شخص کے لیے جو ارادہ کرے بصیرت حاصل کرنے کا لدى الإفهام سمجھاتے وقت، جو شخص سمجھاتے وقت کس کا ارادہ کرے؟ بصیرت حاصل کرنے کا ارادہ کرے اس کے لیے میں نے اس کو بصیرت بصیرت پیدا کرنے والا بنایا ہے۔ یا اس کا معنی کر لیں سمجھ کے، تو پھر تبصرہ تبصرہ کا معنی کر لیں سمجھانے والا، سمجھانے والا، یعنی دوسرے کو سمجھ دینے والا، اور تبصر کا معنی کیا کر لیں؟ سمجھنے والا، خود سمجھنا۔ جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھات سمجھاتے وقت۔ یا اس کا معنی کر لیں دل کا نور: جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو دل کا نور پیدا کرنے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے حاول التبصر جو دل کا نور حاصل کرنا چاہے لدى الإفهام سمجھاتے وقت۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ سمجھاتے وقت۔ لدى الإفهام، افہام مصدر ہے بھئی، افہام کیا ہے؟ مصدر، اور آگے جو آ رہا ہے: من ذوي الأفهام، وہاں جو افہام ہے وہ جمع ہے، وہ مصدر نہیں ہے، فہم کی جمع افہام ہے۔ اچھا، تو سمجھانا، ترجمہ کیا ہوا؟ جعلته تبصرة لمن حاول التبصر لدى الإفهام، توجہ سے سننا: میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا لمن اس شخص کے لیے حاول التبصر جس کا ارادہ سمجھنے کا ہو لدى الإفهام سمجھاتے وقت، أفهم يفهم إفهام کا کیا معنی؟ سمجھانا، سمجھاتے وقت جس کا ارادہ سمجھنے کا ہو، میں نے اس کتاب اس کتاب کو اس کے لیے سمجھانے والا بنایا ہے۔ تو یہ جو آیا نا افہام، افہام سمجھاتے وقت، افہام کا کیا معنی؟ سمجھانا، لدى الإفهام سمجھاتے وقت۔ یاد رکھیے، یہ کلام یہ کلام استاد کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے اور شاگرد کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے، دونوں احتمال ہیں اس میں۔ دونوں احتمال، کیونکہ سمجھانے کے لیے دو افراد چاہیے نا: ایک جو سمجھانے والا ہے، وہ کون؟ استاد، اور ایک جس کو سمجھایا جا رہا ہے، وہ کون ہے؟ شاگرد۔ تو یہاں دونوں احتمال ہیں، تو لمن حاول التبصر، توجہ ہے؟ لمن حاول التبصر، وہ جو سمجھنے کا ارادہ کرے، وہ شخص، من سے مراد، وہ شخص جو سمجھنے کا ارادہ، تو یہ من سے مراد استاد بھی لے سکتے ہیں آپ اور اس سے آپ شاگرد یعنی طالب علم بھی مراد لے سکتے ہیں، دونوں احتمال ہیں۔ کس طرح؟ دیکھو: جعلته، پہلے ترجمہ کر لیتے ہیں طالب علم کے اعتبار سے لدى الإفهام سمجھاتے وقت، میں نے اس کتاب کو، توجہ ہے؟ میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے، اس طالب علم کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت، یعنی جب استاد اسے سمجھا رہا ہو۔ میں نے اس کتاب کو، من سے میں نے کون مراد لیا؟ جس کو سمجھایا جا رہا ہے یعنی طالب علم، متعلم۔ تو جعلته تبصرة، ترجمے پہ نظر رکھو: میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس طالب علم کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت، یعنی جب اسے استاد سمجھایا جا رہا ہو، جب استاد اسے سمجھا رہا ہو، تو جو طالب علم سمجھنے کا ارادہ کرنا چاہتا ہے، بات کو سمجھنا چاہتا ہے، میں نے اس اس کتاب کو اس کے لیے سمجھانے والا بنایا ہے، یعنی ایسی پیاری عبارت لایا ہوں کہ وہ آسانی سے اس کو سمجھ لے گا بشرطیکہ کہ اس کا ارادہ کیا ہو؟ سمجھنے کا ہو بھئی۔ تو من سے کون مراد ہوا؟ شاگرد، طالب علم مراد ہوا، متعلم مراد ہوا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ من سے مراد لے لیں استاد، معلم مراد لے لیں۔ پھر کیسے ترجمہ ہو گا؟ جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے، یعنی اس استاد کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت۔ بات نہیں سمجھ میں آئی؟ استاد پہلے بات کو خود سمجھے گا پھر ہی سمجھائے گا نا؟ استاد جب سبق پڑھاتا ہے پہلے مطالعہ وغیرہ کر کے آتا ہے یا نہیں آتا؟ وہ اس بات کو سمجھ کر پھر آ کر طلباء کو پڑھاتا ہے، تو لدى الإفهام سمجھاتے وقت، یعنی ایک شخص ہے طلباء کو کیا کر رہا ہے؟ پڑھا رہا ہے، سمجھا رہا ہے، یعنی ان کا استاد ہے، کیا ہے؟ استاد۔ یہ استاد کیا کرنا چاہتا ہے؟ بات کو سمجھنا چاہتا ہے تاکہ اچھی طرح سمجھے تو طلباء کو پھر اچھی طرح پڑھائے، تو میں نے اس کتاب کو ایسی اس کی پیاری عبارتیں لایا ہوں، اس کو ایسے خوبصورت انداز میں لکھا ہے کہ جو استاد سمجھنے کا ارادہ کرے، اس کے لیے یہ کتاب کیا ہے؟ سمجھانے والی ہے، جو کہ استاد سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام کب؟ سمجھاتے وقت، جب سمجھ طلباء کو سمجھاتے وقت وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ بات کو سمجھ، تو سمجھاتے وقت، سمجھاتے وقت طلباء کو پڑھاتے وقت، یوں کہہ لو، طلباء کو پڑھاتے وقت جو استاد سمجھنے کا ارادہ کرے، میں نے اس کتاب کو اس کے لیے سمجھانے والا بنایا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک صورت میں من سے کون مراد؟ متعلم، اور ایک صورت میں من سے مراد معلم ہے۔ اب ترجمہ دیکھ لو: جعلته تبصرة لمن حاول التبصر لدى الإفهام، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے، یعنی اس طالب علم کے لیے جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت، کہ جب استاد اسے سمجھا رہا ہو۔ یا دوسرا ترجمہ: جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے، یعنی اس معلم کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت بھئی۔ وتذكرة لمن أراد أن يتذكر من ذوي الأفهام. تذکرہ کا معنی ہے یاد کروانا، نصیحت کرنا دوسرے کو، یاد کروانا اور نصیحت کرنا دوسرے کو۔ لمن أراد أن يتذكر، اور تذکر کا معنی ہے نصیحت قبول کرنا۔ تذکرہ کا معنی تھا دوسرے کو نصیحت کرنا، اور تذکر کا معنی ہے خود نصیحت قبول کرنا۔ اسی طرح تذکرہ کا معنی ہے دوسرے کو یاد کروانا، اور تذکر أن يتذكر، تذکر کا معنی ہے خود یاد کرنا، کیا معنی ہے؟ خود یاد کرنا۔ اچھا، من ذوي الأفهام، افہام جمع ہے فہم کی۔ افہام جمع ہے فہم، فہم، فہم سمجھ کو کہتے ہیں سمجھ۔ ذوي الأفهام، سمجھ والے، سمجھ والے، جیسے کہتے ہیں نا ذو مال، کیا معنی؟ مال والا، اور اسی میں ذو کی جمع آتی ہے ذوون، ذوون۔ اور حالت نصبی جری میں کیا کہیں گے؟ ذوين، مسلمون اور مسلمين، ذوون، اور حالت نصبی جری میں؟ ذوين، اور اسی میں دیکھو ذوي الأفهام، پھر نون اضافت سے گر گیا، ذوي الأفهام، سمجھ والے۔ ذو مال کا کیا معنی؟ مال والا، اور ذوي المال، مال والے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے ذوي الأفهام، سمجھ والے۔ افہام کا جمع لانے کی اس کے معنی جمع کرنے کی ضرورت نہیں، اردو میں سمجھ ہی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ وتذكرة، اور میں اس کا عطف اسی تبصرة پر ہے، اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے لمن أراد جس شخص کا یہ ارادہ ہو أن يتذكر کہ وہ یاد کر لے، من ذوي الأفهام اس حال میں کہ وہ سمجھداروں میں سے ہو، ذوي الأفهام، سمجھ والے یعنی سمجھدار، اس حال میں کہ وہ کس میں سے ہو؟ سمجھداروں میں سے ہو۔ وتذكرة، اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے کہ یاد کرواتی ہے، اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے لمن أراد جس شخص کا یہ ارادہ ہو أن يتذكر کہ وہ یاد کر لے، من ذوي الأفهام اس حال میں کہ وہ سمجھداروں میں سے ہو۔ دوسرا ترجمہ بھی کر لیں: نصیحت کرنا اور نصیحت قبول کرنا۔ وتذكرة، اور میں نے اس کتاب کو نصیحت کرنے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے أراد جس کا یہ ارادہ ہو أن يتذكر کہ وہ نصیحت قبول کر لے، من ذوي الأفهام اس حال میں کہ وہ کس میں سے ہو؟ سمجھداروں میں سے ہو۔ بھئی دیکھیے، من ذوي الأفهام، اس کو میں نے حال بنایا، أن يتذكر کے اندر ھو ضمیر ہے، يتذكر فعل ہے نا؟ فعل کے لیے فاعل چاہیے یا نہیں؟ تو اس کے اندر ھو ضمیر ہے، لمن أراد أن يتذكر کہ نصیحت قبول کرے ھو، وہ، کہ وہ کیا کرے؟ نصیحت قبول کرے، تو ھو ضمیر کو بناؤ ذو الحال، اور من ذوي الأفهام اس کو کیا بناؤ؟ حال۔ کیسے ترکیب کیسے ہو گی؟ أن يتذكر، يتذكر فعل، اس کے اندر ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کیا ہے؟ ذو الحال، ذو الحال۔ من جارّہ، ذوي مجرور لفظاً مضاف، الأفهام مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور کس کے لیے؟ من کے لیے، من جار مجرور مل کر متعلق نى يتذكر سے۔ اوں اوں! حال بنا رہے ہیں حال۔ جی، کیسے بنائیں گے؟ جار مجرور جار مجرور براہ راست تو کچھ بھی نہیں بنیں گے، جوڑنا تو ضرور ہے، تو اس کے نکال لو ثابتاً، ثابتاً، کیونکہ حال کیا ہوتا ہے؟ منصوب، تو ثابتاً بھی میں نے کیا نکالا؟ منصوب۔ تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ثابتاً سے، اور ثابتاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر بھی فعل کی طرح کیا چاہیے؟ ضمیر، اس کے اندر ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ ذو الحال کو، حال کو کس سے جوڑتے ہیں؟ ذو الحال سے، تو اس میں فاعل اپنے فاعل، ثابتاً جو ہے، ثابتاً اسم فاعل اپنے فاعل ھو جو ہے، اپنے فاعل اور جار مجرور یعنی متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ حال، ذو الحال اپنے حال سے مل کر یہ فاعل بن جائے گا کس کے لیے؟ يتذكر کے لیے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس صورت میں یہ صفت ہو گی وہ جو نصیحت قبول کرنے والا ہے اس حال میں کہ وہ کس میں سے ہو؟ سمجھداروں میں سے ہو، معلوم ہوا سمجھدار کون ہے وہ؟ اس کی صفت بیان ہو رہی ہے۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ سمجھدار کون ہے؟ نصیحت قبول کرنے والا یا یاد کرنے والا، اور اسی سے یہ حال ہے، اور حال کیا ہوتی ہے؟ ذو الحال کی صفت ہوتی ہے، تو یہ اسی کی صفت بیان ہوئی۔ اور یا اس کو یوں کرو: من ذوي الأفهام کو براہ راست يتذكر سے جوڑ دو، کس سے جوڑ دو؟ يتذكر سے، پھر معنی ہی سارا بدل جائے گا۔ میں نے بتلایا تھا آپ کو نحو کے اسباق میں کہ جار مجرور جس چیز سے متعلق ہوتے ہیں تو اسی کے مطابق ترجمہ بھی ہو گا، متعلق بدلے گا تو ترجمہ بھی بدل جائے گا بھئی۔ تو یہاں اس من ذوي الأفهام کو دوسری ترکیب یہ ہے کہ يتذكر سے جوڑ دو براہ راست، يتذكر فعل، ھو ضمیر اس کا فاعل، اور من ذوي الأفهام جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ يتذكر فعل سے۔ تو اب معنی یہ ہو جائے گا أن يتذكر کہ وہ نصیحت قبول کرے یا وہ یاد کرے من ذوي الأفهام سمجھداروں سے، یعنی استاد، استاد۔ جو وہ طالب علم جو یاد کرنا چاہے، کس سے یاد کرنا چاہے؟ اپنے استادوں سے، سمجھداروں سے یعنی اپنے استادوں سے جو یاد کرنا چاہے، ان کے لیے میں نے اس کو یاد کرنے والا بنایا ہے، نصیحت قبول کرنے والا بنایا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر سنو، اب ترجمہ سنو: وتذكرة، اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے لمن اس کے لیے أراد أن يتذكر جس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ اس کو یاد کرے من ذوي الأفهام اس حال میں کہ من ذوي الأفهام وہ کس میں سے ہو؟ سمجھداروں میں سے ہو۔ اب دوسرا ترجمہ کریں: اور میں نے اس کتاب کو تذکرة یاد کروانے والا بنایا ہے لمن أراد اس طالب علم کے لیے جس کا ارادہ یہ ہو أن يتذكر کہ وہ اس کتاب کو یاد کرے من ذوي الأفهام سمجھداروں سے، سمجھداروں سے اس کتاب کو کیا کر لے؟ یاد کر لے، اور سمجھ یعنی کن سے؟ اساتذہ سے۔ ابھی آپ نے پڑھا کہ من ذوي الأفهام یا تو یہ براہ راست متعلق ہے يتذكر سے، أن يتذكر سے، کس سے متعلق ہے؟ أن يتذكر سے، کہ وہ نصیحت حاصل کرے من ذوي الأفهام کس سے؟ سمجھداروں سے یعنی اساتذہ سے، کون مراد ہیں؟ اساتذہ، اساتذہ۔ تو من کس سے متعلق ہے؟ أن يتذكر سے۔ دوسری صورت یہ آپ نے پڑھا کہ أن يتذكر کے اندر ہے ھو ضمیر، وہ ہے ذو الحال، اور من ذوي الأفهام اس سے کیا بنے گا؟ حال بنے گا، جو نصیحت قبول کرنا چاہے اس حال میں کہ من ذوي الأفهام وہ کس میں سے ہو؟ سمجھداروں میں سے ہو، تو یہاں بھی وہی دونوں احتمال جو کس میں تھے؟ لمن حاول التبصر لدى الإفهام، وہاں استاد بھی مراد لے سکتے ہیں اور شاگرد، یہاں بھی اسی طرح لمن أراد اس سے استاد بھی مراد لے سکتے ہیں اور شاگرد بھی۔ استاد کیسے مراد ہو گا؟ دیکھو: وتذكرة، میں نے اس کتاب کو نصیحت کرنے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے، یعنی اس استاد کے لیے أراد أن يتذكر کہ وہ کیا کرے؟ نصیحت حاصل کرے، نصیحت قبول کرے۔ میں نے اس کتاب کو نصیحت کرنے والا بنایا ہے اس استاد کے لیے، اس شخص کے لیے، اس کی جگہ استاد لے آؤ بات کو سمجھنے کے لیے، اس شخص کے لیے جس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ نصیحت قبول کرے، نصیحت حاصل کرے اس حال میں کہ من ذوي الأفهام وہ کس میں سے ہو؟ سمجھداروں میں سے ہو، یعنی وہ استاد کس میں سے ہو؟ سمجھداروں میں سے ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو من سے کون مراد لیا؟ استاد، معلم، اور دوسری صورت یہ ہے کہ من سے مراد متعلم یعنی شاگرد لے لو، سیکھنے والا، اور میں نے اس کتاب کو نصیحت کرنے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے، اس طالب علم کے لیے أراد أن يتذكر جس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ نصیحت حاصل کرے من ذوي الأفهام سمجھداروں سے، یعنی اپنے اساتذہ سے۔ تو جب آپ من سے مراد لیں استاد، تو پھر من ذوي الأفهام کو بنائیں حال، وہ سمجھدار کون ہیں؟ استاد خود، اور جب آپ من سے مراد لیں طالب علم، تو پھر اس صورت میں من کو جوڑ دیں يتذكر سے کہ وہ طالب علم جس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ نصیحت حاصل کرے، کس سے نصیحت حاصل کرے؟ من ذوي الأفهام، اپنے سمجھدار اساتذہ سے، من ذوي الأفهام سمجھداروں سے یعنی اپنے اساتذہ سے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی دونوں احتمال۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ علامہ تفتازانی کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں، اور ان میں آپ ترصیع بھی دیکھ رہے ہیں، صنعت ترصیع، ترصیع اس کو کہتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے کلام کے جملے ہوں اور کلام کے ٹکڑے ہوں اور وہ بالکل ایک دوسرے جیسے ہوں، ایک جیسے جیسے، جیسے دیکھو پچھلے جملے میں آیا تھا تبصرة، ادھر کیا آ گیا؟ تذكرة، ادھر کیا آیا تھا لمن حاول، ادھر کیا آیا؟ لمن أراد، اور اسی طرح جی، اور ادھر کیا آیا تھا لدى الإفهام، یہاں کیا آیا؟ ذوي الأفهام۔ تو یہ ساری عبارت ان کی بڑی خوبصورت اور دیکھو کتنے کتنے معنی اس میں سے نکل رہے ہیں۔ سيما الولد، سيما، یہ اصل میں ہے لا سيما، یہاں لا محذوف ہے، لا، کبھی لا کو ساتھ لکھتے ہیں، کبھی کیا کر لیتے ہیں؟ حذف کر لیتے ہیں، اور سيما، سین کے بعد ہے یا، اور یا کو مشدد بھی پڑھ سکتے ہو اور تخفیف کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہو، مشدد پڑھو: لا سيما، تخفیف کے ساتھ پڑھو: لا سيما، لا سيما، دونوں طرح اس کو پڑھا جاتا ہے، اور لا کو کبھی لفظوں میں لکھتے ہیں اور کبھی کیا کر لیتے ہیں؟ حذف کر لیتے ہیں، لیکن مراد ہوتا ہے، لا وہاں موجود ہوتا ہے، صرف لفظوں سے کیا کر لیتے ہیں؟ حذف۔ اور معنی اس کا ہوتا ہے خاص طور پر، کیا معنی ہوتا ہے؟ خاص طور پر۔ الولد، یاد رکھو یہ لا سيما کے بعد جو لفظ آتا ہے نا اس پر تینوں اعراب پڑھے جا سکتے ہیں، جیسے یہاں الولد آیا، تو الولدُ، الولدَ، الولدِ، تینوں اعراب پڑھے جا سکتے ہیں۔ اگر اس کو پڑھو مرفوع، کیا پڑھو؟ مرفوع، تو یہ خبر بنے گا الولدُ، خبر بنے گا، اور اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں گے: لا سيما هو الولدُ، لا سيما هو الولدُ، تو ھو کیا ہے؟ مبتدا، اور الولدُ اس کی خبر، اور یہ جملہ اسمیہ ہو کر یہ جو ما ہے نا پیچھے ما، یہ ما موصولہ ہے یا موصوفہ ہے۔ کیا ہے؟ ایک ما موصولہ ہوتا ہے، ایک ما موصوفہ ہوتا ہے، ما موصولہ کے لیے کیا چاہیے؟ صلہ، ما موصوفہ کے لیے صفت چاہیے۔ اور فرق صرف اتنا ہے ما موصولہ وہ معرفہ ہوتا ہے، اس میں موصول ہے نا، اور ما موصوفہ نکرہ ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ بس یہ فرق ہے۔ تو یہ هو الولدُ، یہ مبتدا خبر مل کر اگر ما موصولہ بنانا چاہتے ہو تو هو الولدُ کو اس کی اس کا صلہ بناؤ، اور اگر ما کو موصوفہ بناتے ہو تو هو الولدُ کو اس کی صفت بناؤ۔ اور اگر پڑھتے ہیں الولدَ منصوب پڑھتے ہیں، تو منصوب ہے یہ مستثنیٰ ہونے کی بناء پر، لا سيما استثناء کے لیے آتا ہے، کس کے لیے؟ اور مستثنیٰ آپ نے پڑھا ہے منصوب ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی کیا پڑھیں گے؟ الولدَ منصوب پڑھیں گے۔ یا اس کو کس کے لیے فعل نکال لیں گے اور یہ مفعول بنے گا، اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے۔ فعل نکالیں گے أعني، أعني، وہی يعني نہیں کہتے آپ یعنی اور أعني، اسی سے متکلم کا صیغہ ہے أعني، میری مراد یہ ہے۔ کیا؟ الولدَ، یہ مفعول بن جائے گا، تو أعني کے اندر أنا ضمیر فاعل، اور الولدَ مفعول، تو دو وجہیں ذکر کر دیں منصوب پڑھنے کی: یا تو یہ أعني کے لیے مفعول بنا لیں گے یا یہ مستثنیٰ ہے۔ اور تیسری ترکیب یہ ہے الولدِ مجرور پڑھو، مجرور پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سي، یہ ہے مضاف، اور الولدِ یہ ہے مضاف الیہ، اور درمیان میں یہ ما زائدہ ہے۔ یہ ما کیا ہے؟ زائدہ، دیکھو آج آپ کو پتہ چلا کبھی کبھار مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان کوئی حرف زائد بھی آ جاتا ہے، لیکن اس کا شمار نہیں کیا جاتا، اعتبار نہیں کیا جاتا، یوں سمجھا جائے گا کہ سي براہ راست مضاف ہو رہا ہے کس کی طرف؟ الولدِ کی طرف۔ تو یہاں تینوں اعراب پڑھ سکتے ہیں آپ۔ پھر یاد رکھیے الأعز، یہ زا مشدد ہے، یہ اسم تفصیل ہے عزیز سے، عزیز سے، عزیز سے۔ یہ صفت اول ہے ولد کی، لہٰذا اس پر وہی اعراب آئے گا جو کس پر تھا؟ ولد پر، ولد پر رفع پڑھا تو اس پر بھی رفع پڑھنا، ولد پر نصب پڑھا تو اس پر بھی نصب پڑھنا، ولد پر جر پڑھا تو اس پر بھی جر پڑھنا۔ الحفي، یہ صفت ثانی ہے الولد کی، اس پر بھی وہی اعراب آئے گا جو الولد پر آپ پڑھیں گے۔ الحري، یہ صفت ثالث ہے ولد کی، اس پر بھی وہی اعراب آئے گا الحري بالإكرام۔ اور آگے آ رہا ہے: سمي حبيب الله، یہ سمي یہ بھی صفت ہے الولد کی، چوتھی صفت ہے، اس پر بھی وہی اعراب پڑھنا ہے جو کس پر پڑھا؟ الولد پر، مثلاً اگر آپ رفع پڑھتے ہیں تو یوں پڑھیں گے: الولدُ الأعزُ الحفيُ الحريُ بالإكرامِ سميُ حبيبِ الله عليه التحية والسلام۔ اور اگر نصب پڑھتے ہیں: سيما الولدَ الأعزَ الحفيَ الحريَ بالإكرامِ سميَ حبيبِ اللهِ عليه التحية والسلام۔ اگر جر پڑھتے ہیں: سيما الولدِ الأعزِ الحفيِ الحريِ بالإكرامِ سميِ حبيبِ اللهِ عليه التحية والسلام، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب الولد، دیکھو الف لام آیا، ہر لڑکا یا بچہ مراد ہے یا خاص کوئی لڑکا مراد ہے؟ خاص، یاد رکھیے جو ولد ہے نا ولد، یہ لفظ اولاد پر بولا جاتا ہے، اس پر؟ چاہے ایک ہوں، دو ہوں یا زیادہ ہوں، مذکر ہوں یا مؤنث، تو اردو میں اس کا بہترین مترادف اولاد ہے، کیا ہے؟ اولاد، تو الولد، لیکن یہاں مصنف جو علامہ تفتازانی ہیں ان کا بیٹا مراد ہے، بیٹا، تو الولد وہ بیٹا یعنی مراد مصنف کا بیٹا ہے، یا اس میں یوں کر لو الف لام کو عوض بنا لو مضاف الیہ سے، اصل میں کیا تھا؟ ولدي، میرا بیٹا، اور پھر یا کو ختم کیا اور اس کے عوض کیا لے آئے؟ الف لام، یا یوں کہہ دیں الف لام کے ذریعے اس مصنف کے بیٹے کی طرف اشارہ ہے، تو ترجمہ اسی کے مطابق کر دو: الولد، میرا بیٹا، وہ بیٹا یعنی میرا بیٹا، تعین ہے یا نہیں بھئی؟ جی، تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ الف لام عوض ہوتا ہے مضاف الیہ سے، الف ولدي تھا، اور پھر یا کو ختم کیا اور اس کے عوض کیا لے آئے؟ الف لام، جبکہ بعض کہتے ہیں نہیں، الف لام مضاف الیہ کا عوض نہیں ہوتا، بس الف لام کے ذریعے کسی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، اور یہاں پر الولد کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف؟ مصنف کے بیٹے کی طرف، تو اسی کے مطابق ترجمہ کر لو کہ "میرا بیٹا"۔ الأعز، اعز، یہ یہ اسم تفصیل ہے عزیز سے، عزیز، اور عزیز کا ایک معنی آتا ہے اور بھی معانی ہیں، ایک معنی اس کا آتا ہے پیارا اور محبوب۔ الأعز، جو وہ جو سب سے زیادہ پیارا ہے، جو سب سے زیادہ محبوب ہے مجھے، اپنے بیٹے کے بارے میں کہہ رہے ہیں، جو مجھے بڑا محبوب ہے۔ الحفي، حفی کا معنی شفقت کرنے والا، رحم کھانے والا، تو الحفي یعنی وہ بیٹا جو شفقت کرنے والا ہے یعنی اپنے والدین پر، یا شفقت کرنے والا سب پر، یعنی یوں کہو رحمدل کر لو ترجمہ اس کا: الحفي وہ بیٹا جو کیا ہے؟ رحمدل ہے، نرم دل والا ہے، نرم دل والا ہے۔ حفي، حفي، کون سا صیغہ ہے؟ پہلے بتاؤ الأعز، یہ کون سا صیغہ ہے؟ اسم تفصیل ہے شاباش! الأعز عزیز سے۔ حفي، یہ کون سا صیغہ ہے؟ شاباش! یہ صفت مشبہ ہے، شد کو ختم کر دو ذرا، شد کو ختم کر دو: حفي، شريف، حفي، پھر یا کا یا میں کیا کر دیا؟ ادغام، کیا بن گیا؟ حفي۔ اسی طرح اگلا لفظ ہے حري، یہ بھی کیا ہے؟ صفت مشبہ، کیا تھا اصل میں؟ حري، اور پھر یا کا یا میں ادغام کر دیا تو حري ہوا۔ حري کا معنی ہے لائق، کسی چیز کے لائق ہونا، کسی چیز کے قابل ہونا۔ الحري بالإكرام، وہ بیٹا جو کہ لائق ہے بالإكرام اکرام کے، میرا وہ بیٹا جو کس کے لائق ہے؟ جو اکرام کے لائق ہے کہ اس کا اکرام کیا جانا چاہیے، اس کا اکرام کیا جائے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ میرا وہ بیٹا جو اکرام کے لائق ہے۔ اکرام کے لائق ہے کیوں ہے؟ کیونکہ اس میں وہ بڑا صاحب فضل و کمال ہے، اس میں بہت سی صفات اور خوبیاں ہیں، تو وہ اس لائق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے، یا اس وجہ سے اکرام کیا جائے کیونکہ اس کا نام محمد ہے۔ اس بیٹے کا کیا نام ہے؟ محمد ہے۔ تو چونکہ اس کا نام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی طرح ہے، لیے اس لیے چاہیے کہ اس کا اکرام کیا جائے۔ سمي حبيب الله، سمي کا معنی ہے ہم نام ہونا، کیا معنی ہے؟ ہم نام ہونا۔ سمي، کون سا صیغہ ہے؟ یہ بھی صفت مشبہ ہے: سمي، فعيل، پھر یا کا یا میں ادغام ہوا۔ سمي حبيب الله، حبیب اللہ، یہ آپس میں مضاف مضاف الیہ بن رہے ہیں سارے: سمي حبيب الله، حبیب اللہ، اللہ کے جو حبیب ہیں، اللہ کے جو محبوب ہیں، اللہ کے محبوب کون؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، تو حبیب اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اسی لیے آگے کہا: عليه التحية والسلام، تحیت اور سلام کا ایک معنی ہے، جیسے پیغمبر کا نام آئے تو ہم کیا کہتے ہیں؟ علیہ الصلاۃ والسلام، تو یہاں بھی اسی لیے چونکہ حضور کا ذکر آیا: حبیب اللہ، اللہ کے جو محبوب ہیں، عليه التحية والسلام، ان پر رحمت اور سلامتی ہو۔ سمي حبيب، میرا بیٹا ان کا ہم نام ہے۔ سمي حبيب الله، میرا بیٹا اللہ کے محبوب جو ہیں عليه التحية والسلام، ان پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو، میرا بیٹا ان کا ہم نام ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس کو سمي پڑھنا، سمی کا کیا معنی بتلایا؟ ہم نام۔ سمي نہ پڑھنا، بعض اس کو سمي پڑھتے ہیں: سمي، کہ میرے بیٹے کا نام رکھا گیا ہے، کیا نام رکھا گیا ہے؟ حبیب اللہ، یہ مفعول مفعول بن جائے گا۔ سمي هو، اس کے اندر کیا ضمیر ہو گی؟ ھو، دیکھا سارا ترجمہ غلط ہو جائے گا: سمي حبيب الله، میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟ حبیب اللہ، کیا نام ہے؟ حبیب اللہ ہے، اور اس پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو۔ بھئی علیہ الصلاۃ والسلام یہ تو صرف پیغمبروں کے ساتھ بولا جاتا ہے، غیر پیغمبر کے ساتھ نہیں بولا جاتا، اور یہ کہہ رہے ہیں جی میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟ حبیب اللہ، میرے بیٹے کا نام حبیب اللہ ہے، اللہ کی اس پر رحمت اور سلامتی ہو، دیکھو غلط ہو گیا یا نہیں ترجمہ سارا؟ تو لہٰذا سمي سمي نہیں پڑھنا اس کو: سمي حبيب الله، جو اللہ کے محبوب یعنی محمد، یہاں حبیب اللہ کو اٹھا کر ذرا محمد رکھ دو، بات اور ہو جائے، واضح ہو جائے گی۔ سمي محمد، جو کہ محمد علیہ التحیت والسلام علیہ جو کہ محمد علیہ الصلاۃ والسلام کا ہم نام ہے، اب بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے اب ترجمہ: لا سيما، اچھا سيما، خاص طور پر۔ پیچھے بتایا: میں نے اس کتاب کو بصیرت پیدا کرنے والا بنایا، جو بھی بصیرت حاصل کرنا چاہے، اور میں نے اس کو یاد کرنے والا بنایا، یاد کروانے والا بنایا، جو بھی یاد کرنا چاہے، سب کے لیے، لیکن خاص طور پر اپنے بیٹے کے لیے، خاص طور پر اپنے بیٹے کے لیے یہ کتاب ہے، اس کے لیے میں نے اس کو تبصرہ اور تذکرہ بنایا ہے۔ سيما الولد الأعز، يرحمك الله، خاص طور پر، خاص طور پر اپنے بیٹے کے لیے، میں نے اس کو تبصرہ اور تذکرہ بنایا ہے سب کے لیے، خاص اور خاص طور پر اپنے بیٹے کے لیے۔ تو لا سيما آتا ہے کہ ما بعد کو ماقبل پر فضیلت دیتا ہے، توجہ ہے؟ لا سيما کس لیے آتا ہے؟ ما بعد کو ماقبل پر کیا دیتا ہے؟ فضیلت، ماقبل میں تھا جو بھی نصیحت حاصل کرنا چاہے اور جو بھی اس سے یاد کرنا چاہے، اور ما بعد کو فضیلت دے دی: خاص طور پر کس کے لیے بنایا اس کو تبصرہ اور تذکرہ؟ اپنے بیٹے کے لیے۔ تو سيما الولد الأعز، الحمد لله، يرحمك الله، خاص طور پر اپنے بیٹے کے لیے الأعز جو کہ میں جو کہ مجھے بڑا ہی محبوب ہے، الحفي اور بڑا ہی رحمدل جو کہ رحمدل ہے، الحري بالإكرام جو لائق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے، سمي حبيب الله عليه التحية والسلام جو اللہ کے محبوب جو اللہ کے محبوب علیہ الصلاۃ والسلام کا ہم نام ہے، یعنی بیٹے کا بھی کیا نام ہے؟ محمد ہے۔ لا زال له من التوفيق قوام، لا زال أي ما زال، ہمیشہ ہمیشہ، ہمیشہ جو ہے له اس کے لیے من التوفيق توفیق سے قوام، قوام کہتے ہیں اجزائے ترکیبی جس سے کوئی چیز بنے، جس سے کوئی چیز بنے۔ تو یہاں اس کو بمعنی سہارا اور بنیاد کر لیں: لا زال له من التوفيق قوام، ہمیشہ اس کے لیے توفیق کی اس کا سہارا رہے، ہمیشہ اس کے لیے اللہ کی توفیق کا سہارا رہے، یعنی وہ جو بھی کام کرے اللہ کی توفیق اس کے ساتھ شامل حال ہو جائے، تو قوام کا کیا معنی؟ اجزائے ترکیبی جس سے کوئی چیز بنے، تو یہاں کیا معنی کر لیں؟ سہارا یا مدد یا بنیاد، تو لا زال له من التوفيق قوام، ہمیشہ اس کے لیے اللہ کی توفیق جو ہے اس کا سہارا رہے، اس کی مدد رہے، ومن التأييد عصام، تائید کا معنی ہے مدد کرنا، نصرت کرنا۔ عصام، عصام وہ ابھی ماقبل سبق میں گزرا تھا بھئی، وہاں کیا آیا تھا؟ معصومون، معصوم کا کیا معنی تھا؟ گناہ سے محفوظ، معصوم کا کیا معنی ہے؟ گناہ سے محفوظ، اور یہ صرف انبیاء کی خصوصیت ہے۔ تو عصام، اسی سے عصام ہے بھئی، عصام، عصام وہ چیز جس کے ذریعے حفاظت ہو، جس کے ذریعے کیا ہو؟ حفاظت ہو۔ ومن التأييد عصام، اور ہمیشہ اس کے لیے ومن التأييد عصام اللہ کی مدد کے ساتھ اس کی حفاظت ہو، ہمیشہ اللہ کی مدد کے ساتھ اللہ کی نصرت کے ساتھ اس کی حفاظت، ہمیشہ اللہ کی نصرت جو ہے اس کی حفاظت کرنے والی ہو۔ وعلى الله التوكل، اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے، توکل کا کیا معنی؟ بھروسہ، اور اللہ ہی پر بھروسہ اور اعتماد ہے، وبه الاعتصام، اعتصام پھر اسی عصام سے آ گیا، اعتصام کا معنی ہے کسی کا دامن تھام لینا، کسی کی مدد لینا، کسی کی حفاظت لینا، یہ کیا ہے؟ اعتصام۔ وبه الاعتصام، اور اللہ ہی کا دامن تھامنا ہے، یعنی ہم اللہ ہی کی مدد مانگتے ہیں، ہم ہم اللہ ہی کی مدد مانگتے ہیں، اللہ کی حفاظت میں آتے ہیں، معنی سمجھ میں آ گیا؟ لا زال له من التوفيق قوام، ہمیشہ اس کے لیے اللہ کی توفیق کا سہارا رہے، ومن التأييد عصام، اور ہمیشہ اللہ کی مدد کے ساتھ اور ہمیشہ اللہ کی مدد اس کی محافظ رہے، وعلى الله التوكل، اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے، وبه الاعتصام، اور ہم اسی کی حفاظت میں ہم آتے ہیں، یعنی اسی کی حفاظت، اسی کی پناہ پکڑتے ہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ ایک دفعہ ترجمہ سن لیں بھئی: تو کہتے ہیں: وبعد فهذا غاية تهذيب الكلام في تحرير المنطق والكلام، اور حمد و صلاۃ کے بعد پس یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے علم منطق اور علم کلام کے بیان میں، وتقريب المرام من تقرير عقائد الإسلام، اور یہ کتاب جو ہے مقصد یعنی اسلامی عقائد کے اثبات کو ذہنوں کے انتہائی قریب کرنے والی ہے، اور یہ کتاب انتہائی قریب کرنے والی ہے مقصد یعنی اسلامی عقیدوں کے اثبات کو ذہنوں کے، کہ ذہنوں کے قریب کر دیتی ہے اس کو سمجھنا طلباء وغیرہ کے لیے آسان ہو جاتا ہے، جعلته تبصرة لمن حاول التبصر لدى الإفهام، اور میں نے اس کو سمجھانے والا بنایا ہے اس شخص کے لیے جس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ سمجھ حاصل کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت، وتذكرة لمن أراد أن يتذكر من ذوي الأفهام، اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے، یاد کروانے والا بنایا ہے جس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ یاد کرے اس حال میں کہ وہ سمجھداروں میں سے ہو وہ طالب علم، یا میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے اس طالب علم کے لیے جس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ یاد کرے سمجھدار اساتذہ سے، یاد کرے اس کو سمجھدار اساتذہ سے، خاص طور پر میرا وہ بیٹا جو کہ مجھے بڑا ہی محبوب ہے، بڑا رحمدل ہے، لائق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے، اور جو اللہ کے محبوب علیہ التحیت والسلام ان کا ہم نام ہے، یعنی بیٹے کا بھی کیا نام ہے؟ محمد ہے، لا زال له من التوفيق قوام، ہمیشہ اللہ کی توفیق جو ہے وہ اس کی مددگار رہے، ومن التأييد عصام، اور ہمیشہ اللہ کی مدد جو ہے وہ اس کی محافظ رہے، وعلى الله التوكل، اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے، وبه الاعتصام، اور ہم اسی کی پناہ پکڑتے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔