أچھا بھئی! دیکھیے بھئی کتاب پر‎:‎ قولہ: التوفیق: ھو توجیہ الاسباب نحو المطلوب الخیر۔ قولہ: والصلاۃ:وھی بمعنی الدعاء، ائی طلب الرحمۃ، واذا اسند الی اللہ تعالیٰ ‏یجرد عن معنی الطلب، ویراد بہ الرحمۃ مجازاً۔ قولہ: علی من ارسلہ: لم يصرح باسمه عليه السلام تعظيماً وإجلالاً وتنبيهاً على ‏أنه فيما ذكر من الوصف بمرتبة لا يتبادر الذهن منه إلا إليه۔ أچھا بھئی! پہلے ذرا متن دوبارہ دیکھ لیجیے بھئی‎:‎ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ الذی ھدانا سواء الطریق، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں ‏ہدایت دی سواء الطریق سیدھے راستے کی، وجعل لنا التوفیق خیر رفیق، اور ‏جس نے بنایا توفیق کو ہمارے لیے ہمارا بہترین ساتھی، والصلاۃ والسلام علی ‏من ارسلہ ھدیً، اور رحمت اور سلامتی ہو علی من اس ذات پر ارسلہ جس کو ‏اللہ نے بھیجا ھدیً ہدایت بنا کر۔ اور رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جن کو ‏اللہ نے ہدایت بنا کر بھیجا۔ توجہ ہے؟ جی۔ پھر دیکھیں: والصلاۃ والسلام علی ‏من ارسلہ ھدیً، اور رحمت اور سلامتی ہو علی من اس ذات پر ارسلہ جن کو ‏اللہ نے بھیجا ھدیً ہدایت بنا کر، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ أچھا بھئی! یہاں لفظ ھدیً آیا، یہ بتائیے یہ ھدیً، یہ اعراب کے اعتبار سے اسم ‏کی جو سولہ قسمیں ہیں، یہ کون سی قسم ہے؟ ھدیً۔ دیکھ رہے ہیں بھئی؟ دال ‏پر دو زبر ہیں آگے یا ہے۔ ھدیً، جی، اعراب کے اعتبار سے آپ نے پڑھا ہے ‏اسم سولہ قسم پر ہے۔ یہ ان قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ اسم مقصور۔ شاباش! یہ اسم مقصور ہے، اسم مقصور کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں ‏الف مقصورہ آئے، کیا آئے؟ الف مقصورہ آئے، جیسے موسیٰ، عیسیٰ۔ اور الف ‏مقصورہ یہ عام الف کو کہتے ہیں، یعنی جس کو زیادہ لمبا نہیں کرتے، چھوٹا ‏الف ہے۔ الف مقصورہ، ایک الف ممدودہ ہوتا ہے جس میں الف کے بعد ہمزہ آ ‏جائے تو اس کو بہت لمبا کرتے ہیں بھئی تجوید میں آپ پڑھ چکے ہوں گے۔ تو ‏یہ الف مقصورہ جو عام چھوٹا الف ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف مقصورہ ‏بھئی۔ یہ نہ بات سمجھ رہے ہیں شاید یہ کھڑی زبر ہو اس کو الف مقصورہ ‏کہتے ہیں، نہیں نہیں۔ الف مقصورہ کا معنی چھوٹا الف، تو وہ جو کھڑی زبر ‏بھی ہے اس سے عام الف کی طرح پڑھتے ہیں نہ؟ جی۔ تو یہ چھوٹا الف ہے ‏کہ اور دوسرا جو الف ممدودہ ہوتا ہے اس کو لمبا کرنا پڑتا ہے کافی بھئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اسم مقصور ہے، اسم مقصور تو اسے کہتے ہیں کہ ‏جس کے آخر میں الف مقصورہ آئے، ھدیً، ھدیً کے آخر میں تو میں تنوین ‏پڑھ رہا ہوں، یہاں تو کوئی الف نہیں؟ تو یاد رکھیے یہاں الف تقدیراً موجود ہے، الف یہاں موجود موجود تھا اجتماع ‏ساکنین کی وجہ سے گر گیا۔ اصل میں کیا تھا؟ ھدَیٌ، کیا تھا؟ ھدَیٌ۔ ھدَیٌ، اور ‏تو آخر میں تنوین تھی، اور تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نون ساکن کا نام ہے۔ ‏دیکھیے میں آپ کے سامنے ایک لفظ لکھتا ہوں آپ نے پڑھنا ہے: ز، یا، دال، ‏اور دال پر میں نے دو پیش بھی ڈال دیے، اب اس کو ذرا پڑھیں؟ زیدٌ۔ زیدٌ، بھئی آخر میں تو آپ نون پڑھ رہے ہیں میں نے تو کوئی نون نہیں لکھا، ‏میں نے تو آخر میں دال لکھی ہے: ز، یا، دال۔ تو آپ فوراً جواب میں کہیں گے ‏کہ یہ جو تنوین آپ نے اوپر ڈالی یہ تنوین اس یہ دراصل نون ساکن ہے یہ ہم ‏پڑھ رہے ہیں، تو تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نون ساکن کا نام، تو یہاں بھی ‏اسی طرح تھا: ھدَیٌ بھئی، اور پھر یا متحرک ماقبل فتحہ ہے دال پر، تو اس کو ‏کس سے بدلا؟ الف سے۔ اور وہ تنوین والا نون بھی آخر میں ابھی تک موجود ‏ہے، تو کیا بن گیا؟ ھدان، ھدان۔ ھدَیٌ، یا متحرک ماقبل دال پر فتحہ کس سے ‏بدلا؟ الف سے، اور پھر، پھر الف اور، الف بھی ساکن آگے نون بھی ساکن، تو ‏اجتماع ساکنین آیا اور اجتماع ساکنین میں اول اگر حرف مدہ ہو تو اس کو گرا ‏دیتے ہیں، تو الف گر گیا تو کیا رہ گیا؟ ھدیً۔ تو یہاں الف تھا وہ کس کی وجہ سے گرا ہے؟ اجتماع ساکنین، ہاں اگر اس پر ‏الف لام ہوتا، تو الھدیٰ، پھر الف نے نہیں گرنا تھا، کیونکہ آخر میں پھر تنوین ‏نہیں، اور الف تو کس وجہ سے گرا تھا؟ کہ تنوین کے ساتھ اس کا اجتماع ‏ساکنین آیا تھا، جب الف لام آئے گا تو تنوین نہیں، جب تنوین نہیں تو یہ الف ‏گرے گا بھی نہیں۔ تو اسی طرح لفظ ہے معنًی، عربی میں جہاں کہیں بھی آئے آپ نے اگر مضاف ‏نہ ہو تو آپ نے معنًی پڑھنا ہے، نون پر دو زبر پڑھنے ہیں۔ اسی طرح فتًى ‏ہے: ف، ت، اور یا بھئی فتًى، جس کے معنی جوان کے ہیں بھئی، نوجوان۔ تو ‏فتًى، ہاں ان پر جب الف لام آ جائے پھر وہ الف آخر سے نہیں گرے گا: ‏المعنى، الفتى۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جی۔ تو یہ اسم مقصور ہے ‏بھئی اس کے آخر میں الف مقصورہ ہے لیکن تقدیراً ہے، اجتماع ساکنین کی ‏وجہ سے اس وقت گر چکا ہے۔ تو والصلاۃ والسلام علی من ارسلہ ھدیً، اور رحمت اور سلامتی ہو علی من ‏اس ذات پر ارسلہ جس کو اللہ نے بھیجا ھدیً ہدایت بنا کر۔ اب آئیے شرح پر ‏بھئی‎:‎ قولہ: التوفیق، مصنف کا قول توفیق بھئی، متن کے اندر توفیق منصوب تھا تو ‏یہاں بھی وہی اعراب پڑھیں: قولہ: التوفیق۔ قولہ: التوفیق: ھو توجیھ الاسباب نحو المطلوب الخیر۔ توجیہ، وجہ یوجہ توجیہ کا معنی ہے متوجہ کرنا، تابع بنانا، اسباب جمع ہے ‏سبب کی، نحوٌ، نحوٌ کا معنی ہے طرف اور جانب، طرف اور جانب، اور ‏المطلوب الخیر، مطلوب خیر یعنی وہ چیز جو مطلوب ہو، مقصود ہو، اور خیر ‏والی ہو، اچھی چیز ہو، شر والی نہ ہو بھئی۔ تو توفیق کا معنی بیان کر رہے ہیں متن میں توفیق کا لفظ آیا تھا، تو شارح بتلا ‏رہے ہیں کہ توفیق کسے کہتے ہیں؟ کہ ھو توجیھ الاسباب نحو المطلوب الخیر، ‏وہ اسباب کو متوجہ کرنا ہے نحو المطلوب الخیر مطلوب خیر کی طرف، یعنی ‏جو آپ کا کوئی خیر مطلوب ہے، کوئی خیر کا مقصد ہے آپ کا اور اللہ اس ‏کے لیے اسباب سارے آپ کو مہیا فرما دے، سارے اسباب آپ کے لیے تابع ‏کر دے، سارے اسباب آپ کے لیے بنا دے، تو ہم کہیں گے کہ اللہ نے آپ کو ‏اس کام کی توفیق دے دی۔ مثلاً آپ حج پر جانا چاہتے تھے تو دیکھو یہ آپ کا ‏مطلوب خیر ہے، ایک خیر والا مقصد ہے آپ کا مطلوب ہے مقصود ہے آپ کو ‏اور خیر والا ہے، نیکی کا کام ہے، تو آپ حج پر جانا چاہتے ہیں تو اللہ نے آپ ‏کو سارے اسباب اللہ نے دے دیے اور ساری رکاوٹیں دور فرما دیں اور چنانچہ ‏آپ حج پر چلے گئے اور حج کیا، تو آپ کہتے ہیں الحمد للہ اللہ نے مجھے حج ‏کی توفیق دے دی۔ اللہ نے مجھے حج کی توفیق دے دی، کیا معنی؟ یعنی اللہ نے ‏سارے اسباب دے دیے اور ساری رکاوٹیں دور فرما دیں، تو توفیق کہتے ہیں ‏کہ جو خیر کا مقصد ہو جو اس کے لیے تمام اسباب کا مہیا کر دینا، تمام اسباب ‏کو متوجہ کر دینا۔ تو کہتے ہیں دیکھیے پھر کتاب پر: ھو توجیھ الاسباب نحو المطلوب الخیر، وہ ‏اسباب کو متوجہ کرنا ہے نحو المطلوب الخیر مطلوب خیر کی طرف۔ اور یاد ‏رکھیے یہ اس کا مفہوم شرعی ہے، اسباب کو متوجہ کرنا کس کی طرف؟ ‏مطلوب خیر کی طرف، یہ اس کا شرعی مفہوم بیان ہو رہا ہے۔ شریعت میں ‏شریعت میں توفیق تبھی کہیں گے جب آپ کا مقصود خیر ہو، اچھا مقصد ہو، ‏خیر والا مقصد ہو، جبکہ عربی زبان کے اندر اس میں خیر کی شرط نہیں ہے ‏بھئی، چاہے خیر ہو چاہے شر ہو دونوں کے لیے توفیق کا لفظ بولتے ہیں۔ ‏نیکی کے کام کے لیے اسباب بن جائیں تب بھی کہتے ہیں توفیق، اور شر کے ‏کام کے لیے اسباب بن جائیں تب بھی کیا کہتے ہیں؟ توفیق۔ تو عربی زبان میں ‏تو یہ دونوں کے لیے بولا جاتا ہے لیکن اصطلاح شریعت میں یہ صرف خیر ‏کے لیے توفیق کا لفظ بولا جاتا ہے شر کے لیے نہیں بولا جاتا، تو یہ مفہوم ‏شرعی بیان کیا مفہوم لغوی بیان نہیں کیا۔ آگے دیکھیے: قولہ: والصلاۃ، مصنف کا قول والصلاۃ، وھی بمعنی الدعاء، ای ‏طلب الرحمۃ۔ یاد رکھیے صلاۃ بھئی صلاۃ، صلاۃ کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو صلاۃ ‏اللہ، اللہ کی صلاۃ، تو اس کا معنی ہوتا ہے اس کا معنی ہوتا ہے رحمت بھئی، ‏کیا معنی ہوتا ہے؟ رحمت۔ اور جب اس کی نسبت انسانوں کی طرف ہو تو پھر ‏اس کا معنی ہوتا ہے دعا، اور دعا، دعا کہتے ہیں رحمت طلب کرنا، دعا کسے ‏کہتے ہیں؟ میں نے اللہ سے دعا کی یعنی اللہ سے رحمت طلب کی، رحمت ‏مانگی میں نے اللہ سے۔ اور فرشتوں کی طرف اس صلاۃ کی نسبت ہو تو اس ‏کے معنی ہیں استغفار کرنا استغفار بھئی استغفار۔ تو یہ صلاۃ ہے اور اس تو اس کے حقیقی معنی دراصل جو ہے وہ طلب رحمت ‏ہے، ایک حقیقی معنی ہوتا ہے ایک مجازی معنی ہوتا ہے۔ تو بہرحال صلاۃ ان ‏معانی میں استعمال ہوتا ہے، البتہ صلاۃ کا حقیقی معنی جو ہے وہ طلب رحمت ‏ہے، حقیقی معنی کیا ہے؟ طلب رحمت ہے۔ دیکھیے وہ ایک معنی جس کے ‏لیے لفظ کو وضع کیا جائے مقرر کیا جائے اور پھر ایک وہ معنی جس کے ‏اندر اس کو استعمال کیا جائے، مثلاً شیر کا لفظ اردو زبان میں ایک جنگلی ‏درندے کے لیے وضع ہے اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے، لیکن یہ صرف اس ‏جنگلی درندے کے لیے ہی نہیں استعمال ہوتا، بہادر آدمی کے لیے بھی استعمال ‏ہوتا ہے۔ جنگل میں جا رہے ہیں آپ نے وہ جنگلی درندہ دیکھا تو اپنے ساتھی ‏کو کہتے ہیں: وہ شیر ہے! تو دیکھو اب شیر کا لفظ آپ بول رہے ہیں اور کس ‏معنی میں؟ اسی معنی میں جس کے لیے اس کو کیا کیا گیا تھا؟ وضع اور مقرر ‏کیا گیا تھا، وضع کا کیا معنی؟ مقرر، جس کے لیے اس کو مقرر کیا گیا تھا، ‏بنایا گیا تھا۔ تو یہ ہے حقیقی معنی، اور بعض اوقات اس کو آپ دوسرے معنی میں استعمال ‏کرتے ہیں، مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے جو بڑا بہادر ہے، وہ کمرے کے اندر ‏داخل ہوتا ہے تو آپ سب ساتھیوں کو کہتے ہیں: لو بھئی شیر آ گیا! اب یہ کس ‏معنی میں ہے شیر؟ بہادر آدمی کے معنی میں ہے، کیونکہ اس وقت یہاں کوئی ‏جنگلی درندہ نہیں آیا بلکہ ایک انسان آیا ہے، بہادر آدمی آیا ہے، تو آپ یہاں ‏شیر اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہو رہا، بلکہ دوسرے معنی میں ‏استعمال ہو رہا ہے اور اس کو پھر مجاز کہتے ہیں، لفظ کو اپنے معنی موضوع ‏لہ کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال کیا جائے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ ‏مجاز کہتے ہیں۔ اپنے حقیقی معنی میں لفظ کو استعمال کریں تو وہ کیا ہے؟ ‏حقیقت، اور کسی دوسرے معنی میں استعمال کریں تو وہ کیا ہے؟ مجاز۔ تو یہاں پر بھی آپ کو شارح بتلائیں گے کہ صلاۃ کا حقیقی معنی تو ہے طلب ‏رحمت، صلاۃ کا حقیقی معنی کیا ہے؟ طلب رحمت، رحمت کو طلب کرنا، ‏رحمت کو مانگنا، لیکن جب اللہ کی طرف اس کی نسبت ہو تو پھر یہ صرف ‏رحمت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، طلب رحمت کا معنی تو ہے رحمت ‏مانگنا، اور اللہ کیا کسی اور سے رحمت مانگتے ہیں یا اللہ رحمت کو نازل ‏فرماتے ہیں؟ نازل فرماتے ہیں۔ اللہ تو رحمت کو نازل فرماتے ہیں، لہٰذا جب اللہ ‏کی طرف اس صلاۃ کے لفظ کی نسبت ہوگی تو وہاں رحمت مانگنا نہیں کہیں ‏گے، کیونکہ یہ تو کفریہ معنی ہو جائے گا کہ اللہ کسی اور سے رحمت مانگ ‏رہے ہیں، بلکہ یہاں صرف اس کا کیا معنی کریں گے؟ رحمت، کیا معنی کریں ‏گے؟ رحمت، کہ اللہ رحمت نازل فرماتے ہیں۔ تو اس صلاۃ کا حقیقی معنی کیا؟ رحمت طلب کرنا، اور جب اللہ کی طرف ‏نسبت ہوئی تو طلب کے لفظ کو طلب کو ہٹا دیا یہاں سے، اب صرف کس معنی ‏میں رہ گیا؟ رحمت کے معنی میں، تو لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہو رہا ‏ہے یا غیر حقیقی میں؟ جی، اب غیر حقیقی میں استعمال ہو رہا ہے، حقیقی ‏معنی تو کیا تھا؟ طلب رحمت، رحمت کو مانگنا، اب آپ نے طلب سے خالی کر ‏لیا اب صرف کس معنی میں؟ رحمت، تو وضع تو تھا، یہ مقرر تو تھا طلب ‏رحمت کے لیے، لیکن استعمال کس میں کر رہے ہیں آپ؟ رحمت کے معنی ‏میں، تو یہ حقیقی معنی نہیں تو یہ مجاز ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ مجاز۔ تو آپ کو ‏شارح بتلائیں گے کہ یہاں پر صلاۃ کا لفظ آیا، اور رحمت اور سلامتی ہو کس ‏کی طرف سے ہو؟ اللہ کی طرف سے۔ دوبارہ دیکھو متن پر: والصلاۃ والسلام علی من ارسلہ ھدیً، اور رحمت اور ‏سلامتی ہو علی من اس ذات پر ارسلہ جس کو اللہ نے بھیجا ھدیً ہدایت بنا کر۔ ‏تو رحمت اور سلامتی ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر، کیا معنی ہوا؟ رحمت ‏اور سلامتی ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور کس کی طرف سے ہو؟ اللہ ‏کی طرف سے، تو یہ صلاۃ کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ اللہ کی طرف ‏ہو رہی ہے کہ اللہ کی طرف سے صلاۃ ہو یعنی رحمت ہو، تو یہاں اب طلب ‏رحمت نہیں معنی ہوگا بلکہ کیا ہوگا؟ رحمت، اور یہ رحمت یہ اس کا حقیقی ‏معنی ہے یا مجازی؟ مجازی معنی ہے، تو یہاں یہ حقیقی معنی میں استعمال ‏نہیں ہے بلکہ کس معنی میں ہے؟ مجازی معنی میں ہے۔ دیکھیے بھئی شرح پر: والصلاۃ: وھی بمعنی الدعاء، صلاۃ جو ہے یہ دعا کے ‏معنی میں ہے، ای طلب الرحمۃ، یعنی کہ رحمت کو طلب کرنا، ای طلب یہ ای ‏تفسیر کے لیے آتا ہے کسی چیز کا معنی بیان کرنے کے لیے، اس کی تفسیر ‏بیان کرنے کے لیے: ای طلب الرحمۃ، یہ کس کی تفسیر ہو رہی ہے؟ دعا کی، ‏اور دعا ہے مجرور: بمعنی الدعاء، کیونکہ کیا ہے؟ مضاف الیہ، تو یاد رکھیے ‏یہ دعا جس کا معنی بیان ہو رہا ہے اس کو کہتے ہیں مفسَّر، اور جو آگے ای ‏کے بعد آئے اس کو کہتے ہیں تفسیر، اور مفسَّر اور تفسیر کا وہی اعراب ہوتا ‏ہے جو مفسَّر کا ہو، اور مفسَّر الدعاء یہ کیا ہے؟ مجرور، تو طلب الرحمۃ وہ ‏بھی کیا ہوگا؟ مجرور ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ البتہ ترکیب میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ مفسَّر ہے یا مفسِّر ہے، ‏ترکیب میں وہ چیزیں ذکر کرتے ہیں جس سے اعراب کا پتہ چلے، اور مفسَّر ‏اور مفسِّر کوئی ہدایت النحو یا قافیہ میں آپ نے کہیں پڑھا؟ مفسَّر کسے مفسَّر ‏کی کوئی وضاحت کی گئی ہو؟ نہیں، کیونکہ وہاں اعراب کی بات کرتے ہیں۔ ‏تو پھر، پھر مفسَّر اور مفسِّر یہ اعراب ایک جیسا ہے کیا یہ پھر اصل میں کیا ‏ہیں؟ یاد رکھیے ترکیب کے اعتبار سے یہ جو مفسَّر ہوتا ہے یہ مبدل منہ ہوتا ‏ہے اور آگے طلب الرحمۃ یہ جو تفسیر ہوتی ہے یہ بدل ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ ‏بدل ہے بھئی، اور مبدل منہ اور بدل کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ ایک ہی ہوتا ہے ‏بھئی۔ تو کہتے ہیں: والصلاۃ: وھی بمعنی الدعاء، یہ دعا کے معنی میں ہے، بھئی دعا ‏کیا معنی؟ ای طلب الرحمۃ، یعنی کہ رحمت طلب کرنا، واذا اسند الی اللہ تعالیٰ، ‏اور جب اس کا اسناد ہو اللہ تعالیٰ کی طرف، اسناد بھئی جس کے ساتھ فعل قائم ‏ہو، جس کے ساتھ فعل قائم ہو، تو کہتے ہیں فعل کا اس کی طرف اسناد ہے: ‏ضرب زیدٌ، یہ ضرب کس نے لگائی؟ زید نے، تو ہم یوں کہیں گے یہ ضرب ‏کا اسناد ہے زید کی طرف یعنی فاعل کی طرف، کس کی طرف؟ فاعل: ضرب ‏زیدٌ عمراً، عمراً کی طرف نہیں اسناد عمراً تو مفعول ہے، فعل کا اسناد کس کی ‏طرف ہوتا ہے؟ فاعل کی طرف ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی یہ صلاۃ نازل کرنے ‏والی ذات کون؟ اللہ کی، تو ہم یوں کہیں گے اس صلاۃ کا اسناد ہو رہا ہے کس ‏کی طرف؟ اللہ کی طرف۔ ایک فعل کو جو کرنے والا ہو اس کے بارے میں ‏کہتے ہیں کہ اس فعل کا اس کی طرف اسناد ہے، اور وہ کون ہوتا ہے؟ فاعل ‏بھئی، یا فعل مجہول میں نائب الفاعل ہوتا ہے، فعل مجہول میں نائب الفاعل ہوتا ‏ہے۔ تو کہتے ہیں: واذا اسند الی اللہ تعالیٰ، اور جب اس صلاۃ کا اسناد کیا جائے اللہ ‏تعالیٰ کی طرف، یجرد، خالی کر لیا جاتا ہے یعنی خالی ہوتا ہے یہ، عن معنی ‏الطلب، کس سے؟ طلب کے معنی سے، ویراد بہ الرحمۃ مجازاً، اور اس سے ‏رحمت مراد ہوتی ہے مجازاً، مجازی طور پر، کیونکہ حقیقی معنی تو کیا ہے؟ ‏طلب رحمت، اور یہاں کون سے معنی مراد ہے؟ رحمت، تو یہ حقیقی معنی تو ‏نہ رہا تو یہ کون سا معنی ہوا؟ مجازی معنی ہوا۔ قولہ: علی من ارسلہ، مصنف کا قول علی من ارسلہ، اس علی من اس ذات پر ‏ارسلہ جس کو اللہ نے بھیجا، اچھا قولہ علی من ارسلہ مصنف کا قول علی من ‏ارسلہ، لم يصرح باسمہ عليه السلام تعظيماً وإجلالاً، یہ سوال کا جواب دے رہے ‏ہیں شارح، یہاں ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں شارح، سوال یہ کہ مصنف ‏نے اوپر یہ نہیں کہا: والصلاۃ والسلام علی محمد، رحمت اور سلامتی ہو کس ‏پر؟ محمد پر، ہاں نام نہیں ذکر کیا حضور علیہ السلام کا، بلکہ اس کے بجائے ‏ان کا وصف ذکر کر دیا: من ارسلہ، وہ ذات جس کو کس نے بھیجا؟ اللہ نے ‏بھیجا، تو وصف ذکر کر دیا کہ ان کو اللہ نے بھیجا ہے، باقی ان کے نام ذکر ‏نہیں کیا اس کی کیا وجہ ہے؟ تو شارح آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ تعظیم کے طور پر، یعنی حضور علیہ ‏السلام کی تعظیم کا اظہار کرنے کے لیے، ان کے احترام کے طور پر، ان کی ‏بزرگی کا اظہار کرنے کے لیے مصنف نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ‏ذکر نہیں کیا بلکہ ان کا وصف ذکر کیا۔ یاد رکھو وصف ذکر کرنے میں تعظیم ‏زیادہ ہے بھئی، وصف ذکر کرنے میں تعظیم، بلکہ جتنی ذات بڑی ہو تو اس کا ‏نام ذکر کرنا بے ادبی سمجھا جاتا ہے، مثلاً عام حالات میں دیکھ لیں جیسے آپ ‏کا استاد ہو تو استاد کا نام لینا کیا سمجھا جاتا ہے؟ بے ادبی سمجھا جاتا ہے، ‏اور ہر طالب علم کوئی بھی نام نہیں لیتا بلکہ کیا کہتا ہے؟ اے میرے استاد! تو ‏وصف ذکر کرتا ہے، کیونکہ وصف کے اندر تعظیم ہے بھئی، یا اسی طرح ‏کوئی شخص گورنر ہے تو اس کا نام نہیں لیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ گورنر ‏صاحب، دیکھا؟ وصف ذکر کریں گے۔ کوئی ڈاکٹر ہے تو نام نہیں لیں گے بلکہ ‏ڈاکٹر صاحب کہیں گے، وصف ذکر کریں گے کیونکہ وصف کے اندر کیا ہے؟ ‏تعظیم، یا جیسے امیر المؤمنین ہیں تو کوئی نام نہیں لے گا بلکہ کیا کہے گا؟ ‏اے امیر المؤمنین! دیکھو وصف ذکر، تو وصف میں کیا ہے؟ وصف میں بہت ‏تعظیم ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی شارح آپ کو بتلائیں گے کہ مصنف نے ‏حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام گرامی ذکر نہیں کیا، آپ کا وصف ذکر کیا ‏بطور تعظیم کے اور آپ کی بزرگی کے اظہار کے لیے بھئی، معنی سمجھ میں ‏آ گیا؟ لم یصرح، تصریح نہیں کی مصنف نے، صرح یصرح تصریح کا معنی ہوتا ‏ہے صاف لفظوں میں ذکر کرنا، صراحتاً ذکر کرنا، یعنی صراحتاً محمد نہیں ‏فرمایا، ہاں وصف کے ذریعے ان کی طرف اشارہ ضرور، ذکر تو کیا حضور ‏کا لیکن صراحتاً ذکر نہیں، صراحتاً ذکر کیا ہوتا؟ کہ نام ذکر کرتے، لیکن کس ‏طریقے سے ذکر کیا؟ وصف کے ساتھ، وصف رسالت کو ذکر کیا کہ اللہ نے ان ‏کو بھیجا ہے۔ لم يصرح باسمہ عليه السلام تعظيماً وإجلالاً، مصنف نے تصریح نہیں کی ‏حضور علیہ السلام کے نام کی تعظيماً وإجلالاً، تعظیماً و اجلالاً کا ایک معنی: ‏تعظیم کرتے ہوئے و اجلالاً اور بزرگی بزرگی کا اظہار کرنے کے لیے، کہ ‏حضور علیہ السلام کی ذات بہت اونچی بہت عظمت ہے۔ ایک تو وجہ یہ، کس ‏لیے ذکر نہیں کیا؟ تعظیم کے طور پر، دوسری وجہ کہ مصنف آپ کو یہ بتلانا ‏چاہتے ہیں کہ متن میں وصف رسالت ذکر ہے، کیا ذکر ہے؟ وصف رسالت۔ رسول کسے کہتے ہیں؟ جس کو اللہ نے بھیجا، وہ پیغمبر جسے اللہ نے، ایک ‏ہے نبی ایک ہے رسول، چلیے یہ آگے بھی ذکر آ رہا ہے یہاں سمجھ لیں: نبی ‏وہ شخص جسے اللہ نے اپنے دین کی دعوت دینے کے لیے لوگوں کی طرف ‏بھیجا ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نبی، اور اسی نبی کو اگر کتاب دی گئی ہو تو ‏پھر اس کو رسول کہتے ہیں، تو رسول کا درجہ نبی سے بڑھ کر ہے بھئی۔ نبی ‏ہر دعوت دینے والا جس کو اللہ نے بھیجا، اور رسول وہ خاص نبی جس کو اللہ ‏نے کتاب بھی دی، تو رسول کا درجہ اونچا ہے۔ دونوں پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے، نبی بھی اور رسول بھی، یہ ‏دونوں کون ہیں؟ جن کو اللہ نے اپنے احکام کی تبلیغ کے لیے لوگوں کی طرف ‏بھیجا ہو۔ اور ان دونوں پر وحی نازل ہوتی ہے، البتہ رسول کا درجہ اعلیٰ ہے، ‏رسول وہ ہے جس پر اللہ کی طرف سے وحی بھی نازل ہوتی ہے اور اللہ کی ‏طرف سے اس پر کوئی کتاب بھی نازل ہوئی ہو۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏رسول کہتے ہیں۔ تو جو بھی رسول ہے وہ نبی ضرور ہے، کیونکہ نبی کسے کہتے ہیں؟ جسے ‏اللہ نے اپنے احکام لوگوں تک پہنچانے کے لیے بھیجا اور اس پر کیا نازل ‏ہوتی ہو؟ وحی، تو رسول بھی اسی مقصد کے لیے آتا ہے کہ لوگوں تک اللہ ‏کے احکام پہنچاتا ہے اور اس پر وحی نازل ہوتی ہے، البتہ رسول کا درجہ ‏اعلیٰ، رسول اس نبی کو کہتے ہیں جس پر اللہ نے کوئی کتاب بھی نازل فرمائی ‏ہو بھئی۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے، حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ‏میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ انبیاء کتنے ہیں؟ فرمایا کہ ‏ایک لاکھ چوبیس ہزار، اور پھر وہ فرماتے ہیں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی ‏عنہ کہ میں نے پوچھا اور رسول کتنے ہیں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ‏فرمایا: تین سو تیرہ۔ انبیاء کتنے؟ ایک لاکھ چوبیس ہزار، اور رسول کتنے؟ ‏تین سو تیرہ۔ اور یاد رکھیے کل آسمانی کتابیں ایک سو چار ہیں بھئی، کل آسمانی کتابیں جو ‏نازل فرمائیں اللہ نے وہ کتنی ہیں؟ ایک سو چار ہیں، البتہ ان میں سے چار ‏بڑی کتابیں ہیں: تورات، زبور، انجیل، اور قرآن، چار بڑی کتابیں ہیں اور باقی ‏صحیفے ہیں بھئی صحیفے، صحیفے، چھوٹی کتابیں کہہ لیں، چھوٹی کتابیں، ‏صحیفہ کہتے ہیں لکھے ہوئے کاغذ بھئی، یعنی وہ کچھ احکام یوں کہیں کچھ ‏احکام اللہ نے نازل فرمائے وہ کچھ تختیوں وغیرہ ان پر لکھے ہوئے یا ویسے ‏ہی، تو وہ صحیفے ہیں جبکہ یہ بڑی کتابیں ہیں بھئی تورات، زبور، انجیل، ‏اور قرآن، یہ تو بڑی کتابیں ہیں کل کتابیں ایک سو چار ہیں، تو ان میں سے ‏چار بڑی کتابیں اور باقی صحیفے ہیں اور صحیفہ کسے کہتے ہیں عربی میں؟ ‏لکھے ہوئے کاغذ کو، معلوم ہوا باقی چھوٹی کتابیں تھیں، کچھ چند ایک تختیاں ‏تھیں جو اللہ کی طرف سے احکام نازل ہوئے تو وہ مختصر چھوٹی کتابیں تھیں ‏ان جس کو صحیفہ کہتے ہیں۔ تو پھر ذہن پھر بھی اشکال ہوتا ہے کہ رسول تو ہو ۳۱۳ اور کتابیں کتنی؟ ‏‏۱۰۴، تو پھر تو ۱۰۴ رسول ہونے چاہئیں، ۱۰۴ کتابیں ہیں تو رسول کتنے؟ ‏‏۱۰۴، لیکن رسولوں کی تعداد حدیث میں کتنی مذکور ہے؟ ۳۱۳، تو علماء ‏فرماتے ہیں کہ رسول کے لیے کتاب جدید ضروری نہیں ہے، بلکہ وحی جدید ‏ضروری ہے، کہ یعنی وہی کتاب اللہ دوبارہ نازل فرما دیں تو گویا یہ ایک الگ ‏کتاب ہے، کیا ہے؟ الگ کتاب ہے، تو اس اعتبار سے اگرچہ وہ کتابیں اور ‏صحیفے ۱۰۴ ہی ہیں لیکن انہی میں سے بعض کو دوبارہ انبیاء پر رسولوں پر ‏نازل کیا گیا تو اس اعتبار سے کل ۳۱۳ رسول ہیں۔ تو رسالت کا درجہ نبوت سے بڑھ کر، کیونکہ رسول جو ہے وہ اس پر بھی اللہ ‏کی طرف سے وحی بھی نازل ہوتی ہے اور نیز اس کو اللہ نے کتاب بھی دی ‏ہوتی ہے، تو رسالت کا درجہ اعلیٰ ہے بھئی۔ اور متن میں اوپر کیا آیا؟ علی من ارسلہ، جس کو اللہ نے بھیجا، ارسل مادہ ‏ذکر کیا ارسل، اللہ نے بھیجا اسی سے کیا ہے اسی سے کیا پتہ چلا؟ کہ وہ اللہ ‏کے رسول ہیں بھئی رسول۔ کہ مصنف نے حضور علیہ السلام کا نام نہیں لیا ایک تو تعظیم کی وجہ سے ‏اور دوسرا یہ بتلانے کے لیے کہ حضور علیہ السلام کا وصف رسالت ایسا ہے ‏کہ جب مطلقاً رسول اللہ کہہ دیا جائے تو اس سے فوراً ذہن حضور علیہ السلام ‏کی طرف جاتا ہے کسی اور پیغمبر کی طرف نہیں جاتا، اگرچہ رسول اور بھی ‏ہیں، رسول اور بھی ہیں، سمجھ میں آیا؟ جی۔ لیکن جب رسول اللہ مطلقاً کہہ دیا ‏جائے تو ذہن فوراً کس کی طرف جاتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ‏طرف، مثلاً دیکھو میں آپ سے کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ‏فرمایا، آپ فوراً سمجھ گئے کہ ہمارے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان ‏کی بات ہو رہی ہے کسی اور رسول کی بات نہیں ہو رہی بھئی۔ بات سمجھ میں ‏آ گئی؟ جواب سمجھ میں آیا کیا؟ پہلا سو پہلا جواب کیا؟ بطور تعظیم، اور ‏دوسرا جواب کیا؟ اس بات پر متنبیٰ کرنے کے لیے آپ کو یہ بتلانے کے لیے ‏کہ حضور علیہ السلام کا وصف رسالت، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جو ‏وصف رسالت ہے یہ ایسا ہے کہ جب بھی رسالت کو مطلقاً ذکر کیا جائے تو ‏ذہن کس کی طرف جاتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف جاتا ہے ‏کسی اور کی طرف نہیں جاتا، تو جب من ارسلہ کہہ دیا تو ذہن فوراً کس کی ‏طرف چلا گیا؟ حضور علیہ السلام کی طرف ہی گیا کسی اور کی طرف نہیں ‏گیا۔ جی، یہ معنی ہے: وتنبیھاً، اور اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے، علی انہ فیما ‏ذکر من الوصف، علی انہ فیما ذکر من الوصف کہ حضور علیہ السلام فیما ذکر ‏من الوصف اس وصف میں جس کو ذکر کیا گیا، بمرتبۃ ایسے درجے میں ہیں، ‏لا یتبادر الذھن منہ کہ متبادر نہیں ہوتا ذہن اس سے، تبادر کا معنی ہے ذہن کا ‏سبقت کرنا ایک معنی کی طرف چلے جانا کہ اچھا اس لفظ کا یہ معنی ہے، ‏صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے مثلاً میں نے لفظ شیر بولا، شیر بولتے ہی ‏اولاً آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ جنگلی درندہ آیا، لیکن پھر آپ غور کرتے ہیں کہ ‏نہیں یہاں تو جنگلی درندہ نہیں آیا کون آیا ہے؟ بہادر آدمی آیا ہے، تو جس لفظ ‏میں مع ایک جس معنی میں کوئی لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے ذہن فوراً سنتے ‏ہی فوراً اس معنی کی طرف جاتا ہے، یعنی اس معنی کی طرف سبقت کرتا ہے ‏ذہن کیا کرتا ہے؟ تو اس کو کہتے ہیں تبادر، ذہن اس معنی کی طرف فوراً چلا ‏گیا۔ کہ حضور علیہ السلام جو ہیں وصف رسالت میں دوبارہ سنو: وتنبیھاً، اور ‏اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے، علی انہ، کہ حضور علیہ السلام، فیما ذکر من ‏الوصف، جو ذکر کیا گیا وصف کس کے اندر، بمرتبۃ، ایسے درجے میں ہیں، ‏لا یتبادر الذھن منہ إلا إلیہ، کہ ذہن سبقت نہیں کرتا اس وصف سے، إلا إلیہ، ‏مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہی، انہی کی طرف جاتا ہے فوراً ‏ذہن کہ وہی مراد ہیں اس سے کسی اور طرف ذہن نہیں جاتا۔ حاصل کلام یہ ہوا، اعتراض یہ ہوتا تھا کہ ماتن نے والصلاۃ والسلام علی محمد ‏کیوں نہیں کہا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں لیا بلکہ من ارسلہ وصف ‏رسالت کو ذکر کیا، تو شارح نے آپ کو بتلا دیا کہ چاہے محمد کہہ لو چاہے ‏من ارسلہ کہہ لو ایک ہی بات ہے، جیسے محمد کہنے سے کسی اور کی طرف ‏ذہن نہیں جاتا جس کا نام ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہی کی طرف ‏ذہن جاتا ہے، اسی طرح رسول اللہ یا من ارسلہ وصف رسالت کو جب ذکر ‏کریں تو بھی ذہن صرف کس کی طرف جاتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ‏کی طرف، تو جو فائدہ محمد لفظ محمد نے دینا تھا وہی فائدہ کون دے رہا ہے؟ ‏من ارسلہ۔ محمد کہنے کی صورت میں ذہن صرف کس کی طرف جاتا؟ حضور ‏صلی اللہ علیہ وسلم، تو من ارسلہ کہنے سے بھی ذہن صرف کس کی طرف جا ‏رہا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، تو دونوں برابر ہیں، لہٰذا یہ ‏اشکال نہیں ہو سکتا کہ محمد کہتے تو بالکل صاف پتہ لگتا اب تو صاف پتہ ‏نہیں چل رہا، نہیں نہیں چاہے محمد کہہ دو چاہے من ارسلہ یعنی رسول اللہ ‏کہہ دو دونوں برابر ہیں، محمد کہنے میں جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ‏کی طرف ذہن سیدھا سبقت کرتا ہے انہی کی طرف جاتا ہے، اسی طرح من ‏ارسلہ کہنے کی صورت میں بھی ذہن انہی کی طرف جاتا ہے یعنی دونوں ‏چیزیں برابر ہیں چاہے نام ذکر کر دو حضور کا چاہے ان کا وصف رسالت ‏ذکر کر دو، ذہن سیدھا انہی کی طرف جاتا ہے کسی اور کی طرف جاتا ہی ‏نہیں، کسی قسم کا کوئی اشتباہ پیدا ہوتا ہی نہیں تو دونوں ایک ہی جیسے ہیں ‏دونوں میں سے جس کو بھی چاہے استعمال کیا جا سکتا ہے، البتہ وصف ‏رسالت میں اور فائدے بھی آ گئے جو محمد کے کہنے میں وہ فائدے نہ تھے، ‏تو وہ بھی پھر آگے ذکر کریں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ واختار من بین صفات ھذہ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی حضور علیہ السلام کی ‏تو اور بھی صفات ہیں آپ نے کیا کہا؟ کہ حضور علیہ السلام کا نام کیوں نہیں ‏ذکر کیا؟ کیونکہ بطور ایک تو تعظیم کے طور پر اور دوسرا اس بات پر تنبیہ ‏کرنے کے لیے کہ وصف رسالت بولو تو حضور علیہ السلام ہی ذہن میں آتے ‏ہیں کسی اور طرف ذہن نہیں جاتا، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام ‏کی تو اور بھی صفات ہیں، جیسے وہ رسول ہیں اسی طرح وہ نبی بھی ہیں، ‏اسی طرح وہ امانت دار بھی ہیں بھئی، اسی طرح وہ صادق سچے بھی ہیں، وہ ‏شجاع بہادر بھی ہیں، کتنی ہی ان کی صفات ہیں تو ان میں سے یہ خاص طور ‏پر وصف رسالت ہی کو کیوں ذکر کیا؟ باقی کسی اور وصف کو ذکر کر دیتے، ‏تو آپ کو شارح بتلائیں گے کہ وصف رسالت سب سے اعلیٰ درجہ ہے بھئی، ‏جب وصف رسالت کو ذکر کر دیا تو باقی ساری صفات خود بخود اس کے اندر ‏آ گئیں، کیونکہ جب کہہ دیا رسول ہیں تو رسول تو کہتے ہی اس کو ہیں جو ‏نبی بھی ہو اور اس کو شریعت بھی دی گئی ہو اور کتاب بھی دی گئی ہو، تو ‏نبوت بھی بیچ میں آ گئی یا نہیں آ گئی؟ نبوت بھی آ گئی، اور پھر جب اللہ نے ‏بھیجا ہے تو یقیناً اللہ ایسے انسان کو اللہ نے بھیجا ہوا دعوت و تبلیغ کے لیے ‏جو صادق بھی ہوگا، جو امین بھی ہوگا، جو شجاع بھی ہوگا، تمام صفات اس ‏کے اندر ہوں گی، بڑی کامل ذات ہوگی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وصف ‏رسالت باقی تمام صفات سے بڑھ کر ہے، تو اس لیے اس کو خاص طور پر ‏ذکر کیا کیونکہ جب سب سے اعلیٰ صفت آ گئی تو نیچے والی خود بخود اس ‏میں آ گئیں بھئی۔ واختار من بین صفات ھذہ، اور اختیار کیا مصنف نے حضور علیہ السلام کی ‏صفات میں سے ھذہ اس صفت رسالت کو، لکونھا مستلزمۃ لسائر الصفات ‏الكمالیۃ، اس لیے کیونکہ یہ مستلزم ہے تمام صفات کمالیہ کو، یہ مستلزم ہے؟ ‏تمام صفات کمالیہ کو، وہ صفتیں جن کو کمال سمجھا جاتا ہے جیسے سچ بولنا ‏ہے، امانت داری ہے، بہادری ہے وغیرہ، جتنی صفات کمالیہ ہیں ان سب کو یہ ‏رسالت مستلزم ہے یعنی اس کے ساتھ اس کے ساتھ وہ صفات لازم ہیں۔ بھئی ‏سورج جب نکلتا ہے کیا روشنی ہو جاتی ہے، تو یہ دن کا ہونا سورج کے ساتھ ‏اور روشنی کا ہونا سورج کے ساتھ لازم ہے، تو یہاں بھی اسی طرح یہ باقی ‏صفات رسالت کے ساتھ لازم ہیں، جب رسالت آ گئی تو باقی صفات خود بخود آ ‏گئیں بھئی۔ لکونھا مستلزمۃ لسائر الصفات الكمالیۃ، اس لیے کیونکہ یہ وصف رسالت ‏مستلزم ہے تمام صفات کمالیہ کو، یعنی تمام صفات کمالیہ اس کے ساتھ لازم ‏ہیں۔ مع ما فیہ من التصریح، اور ساتھ اس کے کہ اس میں اس بات کی بھی تصریح ‏ہے۔ بھئی دیکھو، اگر کہہ دیتے: والصلاۃ والسلام علی محمد، رحمت اور ‏سلامتی ہو محمد پر، تو اس سے یہ تو صراحتاً نہ ہوتی کہ حضور علیہ السلام ‏رسول ہیں، نام ذکر ہوتا نہ تو وصف وصف تو ساتھ نہ ہوتا، لیکن جب ارسلہ ‏من ارسلہ کو ذکر کیا تو خود بخود فوراً کون سی صفت ذہن میں آ گئی؟ رسالت ‏والی صفت آ گئی، تو پتہ چلا کہ حضور علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں، یہ من ‏ارسلہ کہا تو پتہ چلا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، اگر محمد کہتے تو لفظوں سے ‏یہ پتہ نہ چلتا کہ وہ اللہ کے، اگرچہ ہم سب کو علم تو ہے لیکن لفظوں میں تو ‏یہ ذکر نہ ہوتا، لیکن اب کیا ہے لفظوں سے صراحتاً پتہ چل رہا ہے کہ وہ اللہ ‏کے رسول ہیں۔ مع ما فیہ من التصریح، ساتھ اس کے کہ اس میں اس بات کی بھی تصریح ہے ‏یعنی صراحت ہے، صاف لفظوں میں یہ بیان ہے، بكونہ علیہ السلام مرسلاً، کہ ‏حضور علیہ السلام وہ مرسل ہیں یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں، فإن ‏الرسالة فوق النبوة، پس بیشک رسالت جو ہے وہ نبوت سے بڑھ کر ہے، فإن ‏المرسل ھو النبي الذي أرسل إلیہ، أرسل پڑھیں گے یا أُرسِل؟ بھئی أرسل پڑھیں ‏نہ، تو بھیجا، وہ ھو النبی الذی، وہ پیغمبر ہے، الذی أرسل کہ بھیجا ان کی ‏طرف، کس نے بھیجا؟ اللہ نے، إلیہ ان کی طرف، کس کو بھیجا؟ وحیاً و کتاباً، ‏تو یہ منصوب ہونے چاہیے تھے، کیا ہونے چاہیے تھے؟ لیکن یہ تو مرفوع ‏ہیں، معلوم ہوا یہاں أُرسِل پڑھو مجہول ان کو نائب فاعل بنایا گیا ہے۔ ھو النبی ‏الذی، کہ وہ پیغمبر ہیں، الذی أُرسِل إلیہ وحیٌ و کتابٌ، کہ بھیجی گئی ہو ان کی ‏طرف وحی اور کتاب، رسالت کا مقام نبوت سے بڑھ کر ہے، نبی تو ہر وہ ‏شخص جس ہر وہ شخص جس کو اللہ نے دین کی دعوت دینے کے لیے بھیجا ‏ہو، لیکن رسول وہ نبی ہے کہ جس کی طرف اللہ نے کتاب بھیجی ہو بھئی۔ قولہ: ھدیً، إما مفعول لہ لقولہ أرسلہ، وحینئذ یراد بالھدیٰ ھدایۃ اللہ، حتی یکون ‏فعلاً لفاعل الفعل المعلل بہ، أو حال عن الفاعل أو عن المفعول۔ اب بھئی ترکیب ذکر کر رہے ہیں، اوپر آیا تھا ھدیً، یہ ھدیً ترکیب میں کیا ‏واقع ہو رہا ہے؟ تو دو ترکیبیں بتائیں گے آپ کو شارح، ایک ترکیب تو یہ کہ ‏یہ مفعول لہ واقع ہو رہا ہے، دوسری ترکیب یہ کہ یہ حال واقع ہو رہا ہے۔ پہلی ‏ترکیب کیا؟ یہ مفعول لہ، مفعول لہ جانتے ہو کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ‏ماقبل فعل کی علت اور وجہ بیان کرے، جیسے: ضربت زیداً تادیباً، میں نے ‏زید کی پٹائی کی، تادیباً کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے، ضربت زیداً تادیباً، ‏میں نے زید کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے، تو دیکھیے یہ جو تادیب آگے ‏مصدر آ رہا ہے، یہ منصوب ہے، اس کو مفعول لہ کہتے ہیں اور یہ ماقبل فعل ‏کی علت اور وجہ بیان کرتا ہے، تادیباً مصدر بتلا رہا ہے کہ یہ پٹائی کیوں ‏ہوئی ہے، اس کی وجہ اور سبب کیا ہے؟ ادب کا سکھانا، یہ عام وجہ سے ‏کسی اور وجہ سے پٹائی نہیں ہوئی بلکہ اس کا مقصد کیا تھا؟ ادب سکھانا، تو ‏جوں جوں پٹائی ہوتی گئی وہ ادب سیکھتا چلا گیا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ‏مفعول لہ کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے، تو یہاں ‏پر بھی اوپر ابھی ابھی شرح میں آیا کہ حضور علیہ السلام کے نام کی تصریح ‏نہیں کی: تعظیماً، یہ بھی مفعول لہ ہے، وجہ ذکر کی جا رہی ہے کیوں نہیں ‏ذکر کیوں نہیں نام کی تصریح کی؟ بطور تعظیم کے لیے، بطور تعظیم کے ‏لیے، آگے آیا و اجلالاً، وہ تعظیماً اور اجلالاً کا ایک معنی میں نے بتلایا بھئی، ‏و اجلالاً بزرگی کا اظہار کرنے کے لیے، و تنبیھاً، دیکھو یہ بھی کیا ہے؟ ‏مفعول لہ ہے، حضور علیہ السلام کا نام ذکر نہیں کیا کیوں نہیں ذکر کیا؟ ‏تعظیماً و اجلالاً و تنبیھاً، دیکھا دو وجہیں ذکر کر دیں، بطور تعظیم کے کیونکہ ‏اجلالاً کا اور تعظیم کا تو ایک معنی ہے نہ، تو دو وجہیں ذکر کر دیں، یوں ‏کہو: تعظیماً و تنبیھاً، تعظیم کرنے کے لیے، اور اس بات پر متنبیٰ کرنے کے ‏لیے جو آگے آ رہی ہے جو انہوں نے آگے ذکر کی۔ تو یہ دونوں کیا ہیں؟ ‏مفعول لہ، مفعول لہ کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت ظاہر ‏کرے۔ تو پہلی ترکیب یہ بتلا رہے ہیں کہ یہاں پر جو ھدیً آیا یہ مفعول لہ ہے، اور ‏مفعول لہ کسے کہتے ہیں؟ جو ماقبل فعل کی علت ظاہر کرے: ضربتہ تادیباً، ‏میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے، دیکھا؟ "کے لیے" ‏وجہ ذکر ہو رہی ہے، ادب سکھانے کے لیے۔ تو یہاں پر بھی ھدیً آیا، اور ‏ھدیً کیا بتلا رہے ہیں شارح؟ کیا بتلا رہے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ مفعول لہ، اب ‏ذرا ترجمہ کرو اب آپ کو بھی عبارت سمجھ میں آ گئی: والصلاۃ والسلام علی ‏من ارسلہ ھدیً، اور رحمت اور سلامتی ہو علی من اس ذات پر ارسلہ جن کو ‏اللہ نے بھیجا ھدیً، جی ترجمہ کریں؟ ہدایت کے لیے۔ شاباش! مفعول لہ والا ترجمہ، ہدایت دینے کے لیے، جن کو اللہ نے بھیجا ہدایت ‏دینے کے لیے، کہ وہ لوگوں کو ہدایت دیں بھئی، یہ ہے "کے لیے" مفعول لہ ‏ذکر ہو رہا ہے، بھیجنے کی وجہ کیا ہے؟ ہدایت دینا بھئی لوگوں کو۔ أچھا اب یاد رکھیے کہ یہ جو مفعول لہ ہے یہ وجہ ذکر وجہ بیان کرتا ہے، اور ‏وجہ بیان کرنے کے لیے عربی میں لام استعمال ہوتا ہے: ضربتہ للتادیب، میں ‏نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ للتادیب ادب سکھانے کے لیے، تو لام استعمال ‏ہوتا ہے، پھر بعض اوقات اس لام کو گرا دیتے ہیں اور اس مصدر کو منصوب ‏پڑھتے ہیں: تادیباً، اصل میں کیا تھا؟ للتادیب، پھر لام کو گرایا اور اس کو کیا ‏پڑھا؟ منصوب، لیکن کہاں یہ لام ہم گرا کر نصب پڑھ سکتے ہیں اور کہاں ‏نہیں پڑھ سکتے، علماء نے اس کی باقاعدہ شرطیں ذکر کی ہیں، ان شرطوں ‏میں سے ایک شرط یہ ہے، ایک شرط یہ ہے کہ یہ لام آپ تب گرا کر نصب ‏پڑھ سکتے ہیں جب ماقبل میں ماقبل والا فعل جس کی علت بیان کی جا رہی ‏ہے، وہ فعل اور یہ والا فعل دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہو، دونوں کا فاعل ‏ایک ہی ذات ہو، مثلاً میں کہتا ہوں: ضربت زیداً للتادیب، توجہ ہے؟ ضربت ‏زیداً للتادیب، میں نے زید کی پٹائی کی للتادیب کس لیے؟ ادب سکھانے کے ‏لیے۔ اب مجھے بتائیے، یا یوں کرو، دوسری مثال لو: ضرب زیدٌ للتادیب، زید ‏نے پٹائی کی کسی کی پٹائی کی زید نے، مثلاً عمراً: ضرب زیدٌ عمراً للتادیب، ‏زید نے پٹائی کی عمر کی للتادیب کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے۔ اب میں ‏چاہتا ہوں یہ للتادیب کے لام کو گراؤں اور اس کو میں تادیباً منصوب پڑھوں، ‏اس کو مفعول لہ بنا دوں، تو میں اب اس کو بنا سکتا ہوں یا نہیں؟ تو علماء نے ‏اس کی شروط اس کی شرطیں ذکر کی ہیں، ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ‏ماقبل والا فعل اور یہ جو مفعول لہ ہے دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہونی ‏چاہیے، توجہ ہے؟ ماقبل والا فعل اور یہ جو مفعول لہ ہے ان دونوں کا فاعل ‏ایک ہونا چاہیے، مجھے بتائیے: ضرب زیدٌ عمراً، جی یہ ضرب کا فاعل کون؟ ‏یہ ضرب کون لگانے والا؟ زید ہے، اور للتادیب ادب سکھانے کے لیے، یہ ادب ‏سکھانے والا کون؟ یہ بھی زید ہے، معلوم ہوا دونوں کا فاعل ایک ہی ہے، ‏ضرب لگانے والا بھی زید اور ادب سکھانے والا بھی زید، لہٰذا یہ دونوں کا ‏فاعل ایک ہے اور باقی بھی شرطیں پوری ہوں تو اب اس لام کو گرا دو اور ‏تادیباً بھی کہہ سکتے ہو، تو دونوں طرح آپ بول سکتے ہو: ضرب زیدٌ عمراً ‏للتادیب، لام کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہیں، اور ضرب زیدٌ عمراً تادیباً، یہ ‏نصب کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ تو یہ لام کو گرانے کے لیے، اصل میں تو وجہ بیان کرنے کے لیے لام ہے، ‏لام کو ضرور لانا چاہیے، لیکن لام کو گرا بھی سکتے ہیں اور نصب بھی پڑھ ‏سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ایک شرط کیا ذکر کی علماء نے؟ کہ ماقبل والے ‏فعل اور مفعول لہ دونوں کا فاعل کیا ہونا چاہیے؟ ایک ہی ذات ہونی چاہیے۔ تو یہی شارح بیان کریں گے، کہتے ہیں بھئی دیکھیے، اوپر جو آیا نہ متن میں: ‏والصلاۃ والسلام علی من ارسلہ ھدیً، آپ نے پہلی ترکیب کیا کی؟ ھدیً کی، کہ ‏یہ کیا ہے؟ مفعول لہ، اور مفعول لہ ہے اور وہ علت کے لیے علت بیان کرنے ‏کے لیے آتا ہے، اور علت بیان کرنے کے لیے تو اصل میں عربی میں کیا ‏استعمال ہوتا ہے؟ لام، تو لام تو یہاں تبھی گرے گا جب کہ ماقبل والے فعل اور ‏ان دونوں اس ان دونوں کا فاعل کیا ہو؟ ایک ہی ذات ہو پھر ہی گرا سکتے ‏ہیں، تو شارح وہ بھی بتلا رہے ہیں آپ کو کہ ہاں بھئی دونوں کا دونوں کا ‏فاعل ایک ہی ہے، دونوں کا فاعل ایک ہی ہے، بھیجنے والی ذات دیکھو متن پہ ‏دیکھو اوپر: رحمت اور سلامتی ہو علی من اس ذات پر ارسلہ جن کو اللہ نے ‏بھیجا، ارسل کے اندر ھو ضمیر ہے، ارسل کے اندر جو لفظ اللہ کی طرف ‏راجع ہے وہ جو شروع میں آیا تھا: الحمد للہ، بھیجا کس نے بھیجا؟ اللہ نے، اور ‏یہ ارسلہ کے ساتھ جو ہا ضمیر ہے یہ ہا ضمیر یہ من کو راجع، کس کو راجع؟ ‏من موصول ہے نہ، صلے کو موصول سے جوڑتے ہیں یا نہیں جوڑتے؟ اور ‏تو یہ راجع ہے من کو، اور من سے کون مراد؟ حضور علیہ السلام، وہ ذات، ‏تو رحمت اور سلامتی ہو علی من اس ذات پر ارسلہ جس پر جن کو اللہ نے ‏بھیجا ھدیً، کس لیے؟ ہدایت دینے کے لیے، تو یہ ھدیً یہ علت بیان کر رہا ‏ہے، وجہ بیان کر رہا ہے، کس فعل کی؟ ارسلہ کی، کس کی؟ ارسلہ، ارسلہ ‏فعل کی، بھئی دیکھو نہ ضربتہ تادیباً، میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب ‏سکھانے کے لیے، تو تادیباً سے پہلے کون سا فعل ہے؟ ضربت، تو یہ اسی کی ‏علت بیان کر رہا ہے، تو یہاں پر بھی ھدیً جب مفعول لہ ہے تو مفعول لہ سے ‏ماقبل فعل کون سا ہے؟ ارسلہ، اللہ نے بھیجا کیا بنا کر؟ ہدایت بنا کر، تو اس کو ‏آپ مفعول لہ بتا رہے ہیں، اور مفعول لہ اس کے لیے تو لام آنا چاہیے تھا، لام ‏کو گرایا گیا ہے، اور اس کے گرانے کے لیے کیا شرط تھی؟ کہ اس ہدایت اس ‏ھدیً ہدایت دینا، اور ماقبل میں ارسل، دونوں کا فاعل ایک ذات ہونی چاہیے، ‏ایک ذات ہونی چاہیے، تو شارح آپ کو بتلائیں گے کہ ہاں دونوں کے دونوں کا ‏فاعل ایک ہی ذات ہے، بھیجنے والی ذات بھی کون؟ اللہ، اور ہدایت دینے والی ‏ذات بھی کون سی؟ اللہ کی، دیکھو کس نے بھیجا؟ اللہ نے، تو ارسلہ کا فاعل ‏کون؟ اللہ تعالیٰ، اللہ نے کس لیے بھیجا؟ ہدایت دینے کے لیے، معلوم ہوا ہدایت ‏کون دینا چاہ رہے ہیں؟ اللہ دینا چاہ رہے ہیں، تو ہدایت دینے والی ذات بھی ‏کون سی؟ اللہ کی، اللہ نے ہدایت دینے کے لیے بھیجا ہے، تو ارسلہ کا فاعل ‏بھی اللہ کی ذات، اور ھدیً کا فاعل بھی اللہ کی ذات، تو دونوں کا فاعل ایک ہی ‏ذات ہو گئی، لہٰذا اب لام کو گرانا جائز ہوا، تو چنانچہ لام گرا دیا اور ھدیً کو ‏کیا بنایا؟ منصوب بنایا۔ عبارت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ أچھا ایک اور بات بھی یاد رکھیں: ضربتہ للتادیب، جب یہ لام موجود ہو نہ، تو ‏پھر اس کو مفعول لہ نہیں کہتے، اس کو جار مجرور کہتے ہیں، ترکیب پڑھی ‏ہے یا نہیں؟ پھر آپ اس کو جار مجرور کہہ کر جوڑتے ہیں، اور جب لام گرا ‏کر اس پر آپ نصب پڑھیں پھر اس کو مفعول لہ کہتے ہیں: ضربتہ تادیباً، یہ ‏تادیباً کیا ہے؟ مفعول لہ، اور ضربتہ للتادیب یہ کیا ہیں؟ یہ جار مجرور ہیں۔ أچھا میں نے تو آپ کو آسان لفظوں میں بتایا، کیا؟ کہ مفعول لہ بنانے کے لیے ‏ضروری ہے، یعنی لام کو گرانے کے لیے کیا ضروری؟ کہ ماقبل کے فعل اور ‏اس مفعول لہ کا فاعل ایک ہی ذات ہونی چاہیے، اسی بات کو شارح بھی ذکر ‏کریں گے لیکن ذرا مشکل الفاظ میں، دیکھیے‎:‎ کہتے ہیں: ھدیً، إما مفعول لہ، یا تو یہ مفعول لہ ہے، لقولہ أرسلہ، مصنف کے ‏قول ارسلہ کے لیے یہ مفعول لہ ہے یعنی اس کی علت بیان کر رہا ہے، ‏وحینئذٍ، اور اس وقت، اور اس کس وقت؟ جب آپ اس کو مفعول لہ بنائیں، کیا ‏بنائیں؟ اور جب اس وقت جب، وحینئذٍ، اور اس وقت، یراد بالھدیٰ ھدایۃ اللہ، ‏ھدیٰ سے مراد جو ہے ھدایۃ اللہ، کس کی ہدایت ہے؟ اللہ، کس نے بھیجا؟ اللہ ‏نے، ہدایت کون دینا چاہتے ہیں؟ اللہ، دیکھا؟ تو دونوں کے فاعل کون؟ اللہ کی ‏ذات ہے، یہی ذکر کر رہے ہیں: وحینئذٍ یراد بالھدیٰ ھدایۃ اللہ، اور اس وقت ‏ھدیٰ سے مراد اللہ کی ہدایت ہے، حتی یکون فعلاً لفاعل الفعل المعلل بہ، یہاں ‏تک کہ یہ فعل ہو گیا فعل معلل بہ کے فاعل کا، یہ فعل ہوا کس کا؟ فعل معلل بہ ‏کے فاعل، وہی بات بیان ہو رہی ہے جو میں نے بیان کی، میں نے آسان لفظوں ‏میں بیان کی کیا؟ مفعول لہ کو منصوب کرنے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ ‏ماقبل کا فعل اور مفعول لہ دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہو، اسی کو وہ ذرا ‏پیچیدہ الفاظ میں ذکر کر رہے ہیں، دیکھو بھئی! اس کو بھی سمجھ لو‎:‎ ضربتہ تادیباً، میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے کی؟ ادب سکھانے کے لیے، ‏یہ تادیباً میں وجہ ذکر کر رہا ہوں کس چیز کی؟ مارنے کی، ضرب کی میں ‏وجہ ذکر کر رہا ہوں، یہ ضرب کیوں لگی ہے؟ تادیباً، کس لیے؟ ادب سکھانے ‏کے لیے، تو ماقبل میں جو فعل ہے جس کی وجہ ذکر کر رہا ہوں کس کے ‏ساتھ میں؟ تادیباً، توجہ ہے؟ اپنے سامنے ذرا ایک جملہ لکھو: ضربتہ تادیباً، ‏جلدی کرو تاکہ مجھے پھر بار بار نہ بولنا پڑے آپ سمجھ جائیں بھئی، جلدی ‏جلدی کریں بھئی: ضربتہ تادیباً۔ أچھا، لکھ لیا؟ دیکھیے بھئی، اب نظر رکھو ذرا اس جملے پہ نظر رکھو: تادیباً، ‏ادب سکھانے کے لیے، یہ کس چیز کی وجہ میں ذکر کر رہا ہوں؟ جملے پہ ‏نظر رکھو میری طرف نہ دیکھو، جی، تادیباً یہ میں کس کی وجہ ذکر کر رہا ‏ہوں؟ ضربتہ کی، یہ ضرب کیوں لگائی میں نے؟ ادب سکھانے کے لیے، تو ‏ماقبل میں جو فعل ہے جس کی وجہ ذکر کر رہا ہوں کس کے ساتھ میں؟ تادیباً ‏کے ساتھ، تو یہ تادیباً یہ علت ذکر ہو رہی ہے ماقبل والے فعل کی، اور علت ‏ذکر کرنا اس کو عربی میں کہتے ہیں تعلیل، آپ پڑھ چکے ہیں، گزشتہ سے ‏پیوستہ سبق میں آیا تھا بھئی: اللہ کے افعال معلل بالاغراض نہیں، علل یعلل ‏تعلیل کا کیا معنی ہے؟ وجہ ذکر کرنا، سبب ذکر کرنا، میں نے دیکھو یہ جو ‏جملہ آپ کو لکھوایا میں نے اس کی پٹائی کی ہے، وجہ بھی ساتھ ذکر کی یا ‏نہیں کی کیوں کی ہے؟ ساتھ میں نے وجہ بھی ذکر کر دی، تو یہ جو ضربتہ ‏فعل ہے یہ یہ اس کی تعلیل کی گئی ہے، کیا معنی تعلیل کی گئی ہے؟ یعنی اس ‏کی وجہ ذکر کی گئی ہے، تو یہ فعل معلل بہ ہوا، علل یعلل تعلیلاً فھو معللٌ، ‏تعلیل کرنے والا، اور معللٌ جس کی تعلیل کی جائے جس کی وجہ ذکر کی ‏جائے، تو یہ جو ماقبل والا فعل ہے ضربت یہ فعل معلل بہ ہے، یہ کیا ہے؟ یہ ‏وہ فعل ہے جس کی علت بیان کی گئی ہے کس کے ساتھ؟ تادیباً کے ساتھ، تو ‏یہ ضربتہ کیا ہے؟ فعل معلل بہ۔ اب سنو، اب مصنف فرماتے ہیں کہ بھئی، ادھر دیکھو، مصنف فرماتے ہیں کہ ‏مفعول لہ سے لام کو گرانا اور اس کو منصوب کرنے کے لیے ضروری ہے، ‏میں نے کیا بتایا؟ کہ ماقبل والا فعل اور اس کا فاعل ایک ہو، مصنف کہیں گے ‏ماقبل والا فعل نہیں کہیں گے، وہ کہیں گے فعل معلل بہ اور اس کا فاعل ایک ‏ہو، بات وہی ہے یا نہیں؟ وہی بات ہے، فعل معلل بہ جو ماقبل والا فعل ہے ‏یعنی جس کی علت بیان کی گئی ہے، اور اس مفعول لہ دونوں کا فاعل ایک ہی ‏ہو۔ دیکھیے اب عبارت کتاب پر‎:‎ تو کہتے ہیں اس صورت میں ہدایت سے مراد ھدایۃ اللہ، اللہ کی ہدایت ہے، حتى ‏يكون فعلاً، یہاں یہاں تک کہ یہ مفعول بہ فعل ہوگا کس کا؟ لفاعل الفعل المعلل ‏بہ، اب صرف لفظ فعل معلل بہ پہ آؤ ذرا: فعل معلل بہ، لفاعل الفعل المعلل بہ، ‏فعل معلل بہ کا فاعل، فعل معلل بہ کون یہاں پر؟ وہ فعل جس کی علت بیان کی ‏گئی، کون سا فعل ہے؟ ارسلہ، یہ کیا ہے؟ فعل معلل بہ، اس کا اس سے عبارت ‏پہ بھی نظر رکھو: لفاعل الفعل المعلل بہ، فعل معلل بہ کا فاعل، فعل معلل بہ ‏کون؟ ارسلہ، اس فعل معلل بہ کا فاعل کون؟ اللہ تعالیٰ، کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ۔ تو تو یہ ھدیً بھی، يكون فعلاً، یہ ھدیً بھی، عبارت پہ نظر ہے؟ ھدیً، يكون ‏فعلاً، یہ بھی فعل ہے کس کا فعل ہے؟ لفاعل الفعل المعلل بہ، فعل معلل بہ کے ‏فاعل، یہ بھی فعل معلل بہ کے فاعل ہی کا فعل ہے یعنی دونوں کا فاعل ایک ہی ‏ہے۔ عبارت سمجھ میں آئی؟ حتى يكون فعلاً، یہاں تک کہ یہ مفعول لہ فعل ہوگا ‏کس کا؟ لفاعل الفعل المعلل بہ، فعل معلل بہ کے فعل معلل بہ کا فاعل کون؟ اللہ ‏تعالیٰ، تو یہ ہدایت بھی اسی کا فعل ہے تو اس کے بھی فاعل کون؟ اللہ بھئی، تو ‏لہٰذا اب لام کو گرانا اور اس پر نصب پڑھنا درست ہے بھئی، بات سمجھ میں آ ‏گئی؟ پھر دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ھدیً إما مفعول لہ، یا تو مفعول لہ ہے، لقولہ ‏أرسلہ، مصنف کے قول ارسلہ کے لیے، وحینئذ یراد بالھدیٰ ھدایۃ اللہ، اور اس ‏وقت ہدایت سے مراد اللہ کی ہدایت ہوگی، حتى يكون فعلاً لفاعل الفعل المعلل بہ، ‏یہاں تک کہ یہ مفعول لہ یہ جو ھدیً ہے، یہ مفعول لہ یہ فعل ہوگا کس کا فعل ‏ہوگا؟ لفاعل الفعل المعلل بہ، فعل معلل بہ کے فاعل ہی یعنی اللہ ہی کا فعل ہے۔ أو حال عن الفاعل أو عن المفعول، یا یہ کیا ہے؟ حال، یا یہ ھدیً حال ہے، عن ‏الفاعل او عن المفعول، یا تو فاعل سے حال ہے یا مفعول سے حال ہے، وحینئذٍ، ‏اور یہ دوسری ترکیب بیان کر رہے ہیں کہ یہ ھدیً یا حال ہے فاعل سے یا ‏مفعول، فاعل کون؟ ارسلہ، ارسل کے اندر ھو ضمیر اور وہ کس کو لوٹ رہی ‏ہے؟ اللہ کو، وہ فاعل، اور یہ ارسلہ یہ ہا ضمیر سے کون مراد؟ حضور صلی ‏اللہ علیہ وسلم، یہ من کو راجع ہے، تو ارسلا کا فاعل کون؟ اللہ تعالیٰ، اور ‏بھیجا ارسلہ، کس کو بھیجا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو، تو وہ ہوئے مفعول، ‏تو یہ ھدیً یا تو اس کو فاعل سے حال بنا لو یا مفعول سے، مفعول سے حال بنا ‏لو۔ أچھا فاعل سے حال بنائیں تو فاعل کون؟ ارسل کے اندر ھو ضمیر، اور مفعول ‏ارسلہ یہ ہا ضمیر کیا ہے؟ مفعول، تو چاہے تو اس سے حال بنا لیں۔ وحینئذٍ، ‏اور اس یہ دوسری ترکیب بیان کر رہے ہیں کہ یہ ھدیً یا حال ہے فاعل سے یا ‏مفعول، وحینئذٍ فالمدثر بمعنی اسم الفاعل، مصدر جو ہے وہ اسم فاعل کے معنی ‏میں ہوگا، مصدر کس معنی میں ہوگا؟ اسم فاعل کے معنی میں ہوگا، دیکھیے ‏بھئی! یاد رکھیے، مصدر جو ہے نا وصف ہے، مصدر کیا ہے؟ وصف ہے، ‏جیسے پٹائی کرنا، یہ پٹائی کرنا یہ آپ کی صفت ہوگی آپ نے پٹائی کی ہے تو ‏آپ ہیں پٹائی کرنے والے، تو پٹائی کرنا آپ کی صفت، اگر یہ پٹائی زید نے ‏کی ہے تو یہ پٹائی کرنا کس کی صفت؟ زید کی صفت، اگر یہ پٹائی کس نے ‏کی ہے؟ عمر نے، تو یہ پٹائی کرنا کس کی صفت؟ عمر کی صفت، تو یہ جو ‏مصدر ہوتا ہے نا یہ وصف ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ وصف ہوتا ہے، اور وصف ‏کا حمل ذات پر صحیح نہیں۔ وصف کا حمل ذات پر صحیح نہیں، مثلاً میں کہتا ہوں: زیدٌ ضربٌ، زید پٹائی ‏کرنا ہے، آپ کہیں گے بھئی زید تو ضرب پٹائی کرنا کیسے؟ زید پٹائی کرنے ‏والا ہے، یوں کہو، زیدٌ ضربٌ یہ کہنا تو درست نہیں، دیکھو زیدٌ، توجہ دیں ‏ادھر دیکھو: زیدٌ ضربٌ، زیدٌ مبتدا اور ضربٌ اس کی خبر، یہ جو خبر ہے نہ ‏اس کا حمل ہوتا ہے کس پر؟ مبتدا پر، یعنی اس کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اس پر ‏حمل کیا جاتا ہے، تو جب آپ نے کہا: زیدٌ ضربٌ، تو زید تو ذات کا نام، اور ‏ضربٌ یہ تو صفت ہے، تو صفت کا حمل ذات پر صحیح نہیں، ہاں آپ کو یوں ‏نہیں کہنا چاہیے: زیدٌ ضربٌ، آپ کو کہنا چاہیے: زیدٌ ضاربٌ، زید پٹائی کرنے ‏والا ہے، اب ضاربٌ پٹائی کرنے والا، وہ تو کوئی ذات ہی ہوگی، تو ذات کا ‏حمل تو ذات پر ٹھیک ہے لیکن وصف کا حمل ذات پر صحیح نہیں ہے، اشکال ‏سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو یہاں پر بھی ھدیً آیا، تو ھدی یھدی ھدیً، یہ ہدایت یہ ‏مصدر ہے، کیا ہے؟ مصدر ہے، اور یہ حال بن رہا ہے کس سے؟ یا فاعل سے ‏یا مفعول سے، فاعل وہ بھی ذات ہے اللہ تعالیٰ کی، مفعول وہ بھی ذات ہے ‏حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، اور ھدیً تو مصدر ہے، اور مصدر تو کیا ہے؟ ‏وصف، وصف ہے، تو یاد رکھیے یہ جو حال ہوتا ہے نا حال، یہ بھی خبر کی ‏طرح اس کا بھی حمل ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ حمل، تو اب صفت کا حمل کس ‏پر کر رہے ہیں؟ ذات پر، اور صفت کا تو حمل ذات پر صحیح نہیں، تو پھر ‏آپ کو یہ بتلائیں گے کہ یہ مصدر ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ مصدر کبھی اسم ‏فاعل کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی اسم مفعول، جیسے: زیدٌ عدلٌ، عربی ‏میں کہتے ہیں: زیدٌ عدلٌ، عدل کا معنی انصاف، انصاف کرنا، اور پھر وہاں ‏کہتے ہیں: زیدٌ عدلٌ، کہ یہ تو عدل تو وصف ہے، مصدر ہے، اور مصدر کا ‏حمل پر تو مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، تو پھر کہتے ہیں کہ عدل ‏بمعنی عادل کے ہے، عدل بمعنی؟ تو مصدر کبھی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ‏ہے، عادل کیا ہے؟ اسم فاعل، فاعل نہیں بلکہ اسم فاعل، اور اسی طرح کبھی ‏مصدر جو ہے وہ اسم مفعول کے معنی میں بھی ہوتا ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: ‏زیدٌ ضربٌ، زیدٌ ضربٌ، آپ فوراً کہیں گے یہ ضربٌ تو صفت ہے اس کا حمل ‏تو زید پر صحیح نہیں، تو پھر اس کو اس یا تو اسم فاعل کے معنی میں لینا ‏پڑے گا یا اسم مفعول، اور یہ موقع کے مطابق ہے، مثلاً اگر زید نے کسی کی ‏پٹائی کی ہے تو یہ ضربٌ کس معنی میں؟ ضاربٌ کے، زیدٌ ضربٌ کس معنی ‏میں؟ زیدٌ ضاربٌ کے معنی میں، اور اگر زید کی کسی نے پٹائی کی ہے، تو ‏زیدٌ ضربٌ کس معنی میں؟ زیدٌ مضروبٌ کے معنی میں ہے، بات سمجھ میں آ ‏گئی؟ تو یہ جو مصدر ہوتا ہے کبھی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی ‏اسم مفعول کے معنی میں موقع کے اعتبار سے، یہاں پر البتہ یہ ھدیً مصدر ‏ہے اس کو ہم اسم فاعل یعنی ہادی کے معنی میں لیں گے، کس معنی میں؟ ‏ہادی، ہدایت دینے والا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہادی ہدایت دینے والا۔ تو علی من اب دیکھو معنی کیا بن جائے گا؟ علی والصلاۃ والسلام اور رحمت ‏اور سلامتی ہو علی من اس ذات پر ارسلہ جس کو اللہ نے بھیجا، ھدیً ای ‏ھادیاً، اس حال میں کہ وہ ہدایت دینے والا ہے۔ اس حال میں کہ وہ ہدایت دینے ‏والا، اب دیکھو حمل صحیح ہو گیا، اور آپ نے ابھی انہوں نے بتایا کہ فاعل ‏سے بھی حال بنا سکتے ہو اور مفعول سے بھی حال، فاعل سے بناؤ، فاعل ‏کون یہاں پر؟ ارسل کے اندر ھو ضمیر، اور وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ اللہ کو ‏وہ فاعل، اور یہ ارسلہ یہ ہا ضمیر سے کون مراد؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، ‏یہ من کو راجع ہے، تو ارسلہ کا فاعل کون؟ اللہ تعالیٰ، اور بھیجا ارسلہ، کس ‏کو بھیجا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو، تو وہ ‏ہوئے مفعول، تو یہ ھدیً یا تو اس کو فاعل سے حال بنا لو، یا مفعول سے، ‏مفعول سے حال بنا لو۔ فاعل سے حال بنائیں تو فاعل کون؟ ارسل کے اندر ھو ‏ضمیر، اور مفعول ارسلہ یہ ہا ضمیر کیا ہے؟ مفعول، تو چاہے تو اس سے حال ‏بنا لیں۔ ترجمہ یوں ہوگا: رحمت اور سلامتی ہو علی من اس ذات پر ارسلہ جس کو اللہ ‏نے بھیجا ھادیاً اس حال میں کہ وہ اللہ ہدایت دینے والے ہیں۔ اس حال میں کہ ‏وہ اللہ ہدایت دینے والے ہیں، تو یہ ہم نے حال بنایا کس سے؟ فاعل سے، اور ‏آپ چاہیں تو مفعول سے حال بنائیں، یعنی اس صورت میں معنی یہ ہوگا: اور ‏رحمت اور سلامتی ہو علی من اس ذات پر ارسلہ جس کو اللہ نے بھیجا اس ‏حال میں، کہ وہ بھیجے ہوئے، یعنی حضور علیہ السلام، ھادیاً، ہدایت دینے ‏والے ہیں۔ حضور علیہ السلام کو بھیجا اس حال میں کہ وہ ہدایت دینے والے ‏ہیں، تو معنی سمجھ میں آیا؟ ایک صورت ہے یہ حال بنے گا کس سے؟ فاعل ‏سے، اور دوسری صورت میں حال بنے گا کس سے؟ مفعول سے، لیکن یہ تو ‏مصدر ہے، مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، اور حال کا بھی حمل ہوتا ‏ہے ذوالحال پر، تو پھر جواب دے دیا کہ یہ ھدیً کس معنی میں ہے؟ اسم فاعل ‏ہادی کے معنی میں ہے، تو ھادیاً اس حال میں کہ وہ ہدایت دینے والا، اور یہ ‏ہادی حال بنایا ہے کس سے؟ فاعل سے، تو معنی یہ ہوگا اللہ نے بھیجا حضور ‏علیہ السلام کو اس حال میں کہ اللہ ہدایت دینے والے ہیں، اور اگر آپ اس کو ‏حال بنائیں کس سے؟ مفعول سے، تو معنی یہ ہوگا اس اللہ نے بھیجا حضور ‏علیہ السلام کو اس حال میں کہ حضور علیہ السلام ہدایت دینے والے ہیں، معنی ‏سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے: أو حال عن الفاعل أو عن المفعول، یا یہ ھدیً جو ہے حال ہے ‏فاعل سے یا مفعول سے، وحینئذٍ فالمدثر بمعنی اسم الفاعل، اور تو اس صورت ‏میں یہ جو مصدر ہے یہ اسم فاعل کے معنی میں ہوگا۔ لیکن یاد رکھو، شارح نے تو کہا کہ دونوں سے حال بنا سکتے ہیں، بنا دونوں ‏سے سکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ یہ حال بنایا جائے حضور صلی اللہ علیہ ‏حضور علیہ السلام سے۔ کس سے بنایا جائے؟ حضور علیہ السلام، کیونکہ یہاں حضور کی صفت ذکر ‏ہو رہی ہے، حضور علیہ السلام پر صلاۃ و سلام کا ذکر ہے، تو مناسب یہ ہے ‏کہ حضور علیہ السلام ہدایت دینے والے ہیں یہاں یہ ذکر ہونا چاہیے۔ باقی اللہ ‏ہدایت دینے والے ہیں اس کا تو پہلے ہی ذکر کر دیا: الحمد للہ الذی ھدانا، متن ‏میں اوپر آیا تھا یا نہیں؟ تو وہاں سے پتہ چل گیا تھا کہ اللہ کی ذات ہدایت دینے ‏والی ہے، تو حقیقۃً تو اللہ ہی کی ذات ہدایت دینے والی ہے، حضور علیہ السلام ‏بھی جو ہدایت دیتے ہیں کس کی اجازت سے دیتے ہیں؟ اللہ کی اجازت سے ‏دیتے ہیں، تو بہرحال ماقبل میں ہدایت اللہ کا ہادی ہونا ذکر ہو چکا تھا، لہٰذا ‏مناسب یہ ہے کہ یہاں پر جو ہادی ہونا ہے کس کا ذکر کیا جائے تو بہتر ہے؟ ‏حضور علیہ السلام، تو مفعول سے اس کو حال بنانا بہتر ہے بھئی۔ أو یقال أطلق على ذي الحال مبالغةً، یا یوں کہا جائے گا: أطلق على ذي الحال ‏مبالغةً، کہ اس مصدر کا اطلاق کیا گیا، اطلاق کیا گیا یعنی ان پر بولا گیا ہے، ‏علی ذی الحال کس پر؟ ذوالحال پر، مبالغۃً بطور مبالغہ کے، نحو: زیدٌ عدلٌ۔ بھئی دیکھیے، ایک تو وجہ یہ ذکر کر دی کہ یہ ھدیً کو کیا بناؤ؟ حال، اور ‏جب حال بنایا ہے تو اس حال تو حال کا تو حمل ہوتا ہے کس پر؟ ذوالحال پر، ‏اور ذات پر ذات کا حمل ہو سکتا ہے، وصف کا حمل نہیں، تو لہٰذا اس ھدیً کو ‏کس معنی میں لینا پڑے گا؟ ھادیاً کے معنی میں، اسم فاعل کے معنی میں لینا ‏پڑے گا، دوسری بات ذکر کر رہے ہیں کہ بلکہ آپ ہادی کے معنی میں بھی نہ ‏لیں، ھدیً کو ھدیً ہی کے معنی میں رہنے دیں جیسے: زیدٌ عدلٌ، زیدٌ عدلٌ، ‏وہاں با علماء کیا فرماتے ہیں؟ یہ عدل کس معنی میں ہے؟ عادل کے معنی میں ‏ہے کہ زید عدل کرنے والا ہے، انصاف کرنے والا ہے، لیکن محققین علماء ‏فرماتے ہیں کہ کوئی عدل کو عادل کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں، ‏بھئی پھر کیسے حمل ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی بطور المبالغہ کے حمل ہوگا، کس ‏طرح حمل ہوگا؟ بطور مبالغہ، آپ ایک شخص آپ کہیں زید عدل کرنے والا ‏ہے، زید عدل بھئی، عدل کرنے والا تو عمر بھی ہے مثلاً، وہ تو بکر بھی ہے، ‏وہ تو خالد بھی ہے، لیکن آپ اس اور مبالغہ کرنا چاہتے ہیں، یعنی خوب مبالغہ ‏کرنا چاہتے ہیں، زیادہ کے ساتھ وصف کو ذکر کرنا چاہتے ہیں، تو پھر اس کو ‏اسی طرح رہنے دو: زیدٌ عدلٌ، زید عدل ہے۔ اس کو عادل نہ بناؤ، کس معنی ‏میں لو؟ اس کو اپنے ہی معنی میں رکھو، زید عدل ہے، کیا معنی؟ معنی یہ کہ ‏زید اتنا انصاف کرنے والا ہے کہ وہ خود ہی عدل بن چکا ہے، کیا بن چکا ‏ہے؟ خود ہی عدل بن چکا، یعنی کہیں بـ عدل کے خلاف کوئی قدم وہ اٹھاتا ہی ‏نہیں، تو یوں کہو اس کی سراپا ذات ہی کیا بن چکی ہے؟ عدل، اور مجھے بتاؤ ‏زیدٌ عادلٌ میں مبالغہ زیادہ ہے، تعریف زیادہ ہے، یا زیدٌ عدلٌ میں مبالغہ زیادہ ‏ہے؟ ظاہر سی بات ہے کہ زیدٌ عدلٌ میں مبالغہ ہے بھئی خوب کہ یہ نہیں کہا ‏کہ وہ عدل کرنے والا ہے بلکہ اس کی ذات ہی کیا بن چکی ہے؟ عدل ہو چکی ‏ہے سراپا وہ عدل ہے، یوں کہو اس کا ترجمہ یوں ہوگا: زید سراپا عدل ہے، ‏زیدٌ عدلٌ، زید سراپا عدل ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ھدیً کو حال بنایا، اور اس کو حال کو ہادی کے ‏معنی میں ھدیً کو ہادی کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں بلکہ ھدیً کو ‏اسی طرح مصدری رہنے دو، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی کیا ‏ہے؟ ہدایت ہے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سراپا ہی ہدایت ہیں بھئی، تو ‏دیکھو اس کے اندر کیا ہے؟ مبالغہ مبالغہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: أو یقال، یا یوں کہا جائے گا: أطلق على ذي الحال، کہ اس مصدر ‏ھدیً کا اطلاق کیا گیا علی ذی الحال، کس پر؟ ذوالحال پر، ذی الحال، بھئی وہ ‏ذو پڑھا ہے یا نہیں؟ اسماء ستہ مکبرہ میں سے حالت رفعی میں واؤ کے ساتھ: ‏ذو مال، حالت نصبی میں: ذا مال، اور حالت جری میں: ذی مال، اسی لیے یہاں ‏ذی الحال آیا ذی الحال، کیونکہ علی جارّہ داخل ہے۔ تو أطلق اس کا اطلاق کیا ‏گیا ہے علی ذی الحال، کس پر؟ ھدیً کا اطلاق کیا گیا ہے، اطلاق کا کیا معنی؟ ‏بولا گیا ہے اس پر، اس ھدیً کو بولا گیا ہے علی ذی الحال، کس پر؟ ذوالحال ‏پر بولا گیا ہے، مبالغۃً مبالغہ کرنے کے لیے، نحو: زیدٌ عدلٌ، جیسے: زیدٌ عدلٌ ‏بھئی۔ تو حاصل کلام پھر سمجھ لیں بھئی‎!‎ آج ہم نے توفیق کے بارے میں پڑھا، آپ نے پڑھا کہ توفیق جو ہے شریعت ‏کے اندر وہ اسباب کو متوجہ کر دینا ہے مطلوب خیر کی جانب، آپ کا جو ‏نیکی کے اور خیر کے کام کا ارادہ ہے اللہ اس کے لیے سارے اسباب آپ کو ‏نصیب فرما دیں، تو کہتے ہیں اللہ نے اس کام کی اسے توفیق دے دی۔ پھر اس کے بعد صلاۃ کی بات آئی تھی، تو شارح نے آپ کو بتلایا کہ صلاۃ کا ‏اصل معنی تو ہے طلب رحمت، لیکن یہاں پر چونکہ اللہ کی طرف اسناد ہو رہا ‏ہے تو یہ طلب رحمت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کس معنی میں ہے؟ رحمت ‏کے معنی میں ہے، تو جب یہ رحمت کے معنی میں ہوا تو یہ اس کا حقیقی ‏معنی نہیں ہے بلکہ کون سا معنی ہے؟ مجازی معنی ہے۔ اس کے بعد ذکر کیا کہ مصنف نے اوپر حضور علیہ السلام کا نام نہیں لیا بلکہ ‏آپ کے وصف رسالت کو ذکر کیا: علی من ارسلہ، جن کو اللہ نے بھیجا، تو ‏وصف رسالت کو ذکر کیا، یہ کیا وجہ ہے؟ تو دو وجہیں ذکر کیں: ایک تو یہ ‏کہ بطور تعظیم کے، کیونکہ وصف کے اندر تعظیم ہے اور نام لینے کو بے ‏ادبی سمجھا جاتا ہے۔ اس پر ایک البتہ اشکال ہوتا ہے، کہ حضور علیہ السلام کا نام نہیں لیا بطور ‏تعظیم کے، اور پیچھے خالق کا ذکر آیا تھا، اللہ کا ذکر آیا تھا، وہاں تو اللہ کا ‏نام لیا، وہ تو خالق ہے، تو وہاں تو اور زیادہ تعظیم چاہیے تھی، تو وہاں پر ‏کیوں نام کو ذکر کیا؟ بس ایک آسان جواب اس کا یاد رکھیے کہ بھئی اللہ کا نام ‏لینا تو عبادت ہے، اللہ کا نام لینا تو ہمیں تو کہا گیا زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر ‏کریں بھئی، اللہ کا نام لیں، تو لہٰذا اور وہاں معاملہ اور ہے اور یہاں معاملہ اور ‏ہے بھئی۔ تو تعظیم کے طور پر، اور اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے کہ حضور علیہ ‏السلام وصف رسالت میں حضور علیہ السلام کا ایسا مقام ہے کہ جب بھی ‏رسالت کو ذکر کیا جائے، جب بھی رسول اللہ کہا جائے، ذہن فوراً انہی کی ‏طرف جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔ اور پھر باقی صفات بھی تھیں حضور کی، لیکن اس وصف رسالت کو اختیار ‏کیا، کیونکہ یہ سب سے اعلیٰ وصف ہے، جب سب سے اعلیٰ وصف آ گیا تو ‏باقی نیچے والے وصف خود بخود تمام صفات کمالیہ خود بخود اس کے اندر آ ‏گئیں بھئی۔ اور نیز اس لیے بھی نام نہیں لیا، کیونکہ اگر حضور کا نام لے لیتے تو پھر پتہ ‏نہیں چلنا تھا کہ حضور اللہ کے رسول ہیں، پتہ تو سب کو ہے لیکن عبارت ‏میں تو ذکر نہیں ہونا تھا نہ، عبارت سے تو پتہ نہیں چلنا تھا کہ اللہ کے رسول ‏ہیں، اب جب من ارسلہ کہہ دیا کہ ان کو اللہ نے بھیجا ہے یعنی رسول بنا کر، ‏تو اب صراحتاً پتہ چل گیا بھئی۔ پھر اس کے بعد ھدیً کا لفظ آیا تھا متن میں، کہ یہ ترکیب میں کیا واقع ہو رہا ‏ہے؟ تو بتلایا کہ یہ ھدیً یہ دو ترکیبیں ہیں: یا تو یہ مفعول لہ بنے گا اور یا کیا ‏بنے گا؟ حال، اگر مفعول لہ بنے، تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ مفعول لہ میں ‏جب لام کو گرایا جاتا ہے تو اس کے لیے تو شرط ہے کہ ماقبل فعل معلل بہ کا ‏فاعل اور اس مفعول لہ کا فاعل ایک ہونا چاہیے، تو جواب دیا کہ بھئی یہاں ‏بھی ہدایت سے اللہ کی ہدایت مراد ہے، تو ماقبل میں ارسل کا فعل بھی کس کا؟ ‏کس نے بھیجا؟ اللہ نے، اور ہدایت دینے کے لیے، تو یہ ہدایت دینا بھی کس کا ‏کام؟ اللہ کا، تو یہ جو یہ مفعول لہ کا فاعل اور فعل معلل بہ کا فاعل ایک ہی ‏ذات ہے، اس لیے لام کو حذف کرنا جائز ہے، صحیح ہے، یہ مفعول لہ بن ‏سکتا ہے۔ یا یہ حال ہے، اور حال پھر یہ فاعل سے بھی حال بن سکتا ہے، ارسل کے ‏اندر ھو ضمیر جو اللہ کو راجع، اور یہ ارسلہ کی ہا ضمیر سے بھی حال بن ‏سکتا ہے جو مفعول کی ہے۔ لیکن اس صورت میں پھر ھدیً صفت ہے، وصف ‏ہے، مصدر ہے، اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، لہٰذا اس ھدیً کو ‏کس معنی میں لینا پڑے گا؟ ہادی کے معنی میں لینا پڑے گا، ہدایت دینے والا۔ یا یوں کہا جائے کہ اس کو ہادی کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں ہے، ‏بلکہ بطور مبالغہ کے اسی طرح وصف کا، مصدر کا، وصف کا یعنی مصدر کا ‏حمل کیا گیا ہے کس پر؟ ذات پر، کیونکہ حال جو ہے اس کا حمل ہوتا ہے کس ‏پر؟ ذوالحال پر، تو یہاں بھی اسی طرح ہے، جیسے زیدٌ عدلٌ میں عدلٌ کا حمل ‏ہے زید پر بطور مبالغہ کے، یہاں پر بھی ھدیً کا حمل ہے کس پر؟ ذوالحال ‏پر، یعنی کہ حضور علیہ السلام کی ذات ہی کیا ہے؟ سراپا ہدایت ہے۔ چلیے ‏بس بھئی، ھذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔