جی، آگے سبق دیکھیے بھئی کتاب پر۔ والله علم على الأصح للذات الواجب الوجود المستجمع لجميع صفات الكمال ‏ولِدلالته على هذا الاستجماع صار الكلام في قوة أن يقال الحمد مطلقًا منحصر في ‏حق من هو مستجمع لجميع صفات الكمال من حيث هو كذلك فكان كدعوى الشيء ‏ببينة وبرهان ولا يخفى لطفه‎.‎ یہ ہم شرح پڑھ رہے ہیں بھئی۔ اور شارح کا کام ہے متن کے اندر جو الفاظ ‏آئیں، جو باتیں آئیں ان کی شرح کرے، ان کا معنی بیان کرے۔ تو سب سے پہلے لفظ حمد آیا تھا، اس کے بارے میں شارح نے بڑی تفصیل ‏بیان کی۔ اس کے بعد "الحمد لله" لفظ اللہ آیا بھئی۔ اب لفظ اللہ کے بارے میں بتلا ‏رہے ہیں۔ کہتے ہیں "والله" اور لفظ اللہ جو ہے "علم" یہ نام ہے "على الأصح" زیادہ ‏صحیح قول کے مطابق "للذات" اس ذات کے لیے "الواجب الوجود" جو واجب ‏الوجود ہے "المستجمع لجميع صفات الكمال" مستجمع کا معنی ہے جمع کرنے ‏والا یعنی جامع، جامع۔ جو جامع ہے، جمع کرنے والا ہے لجميع صفات الكمال، ‏تمام صفات کمال کو۔ جمع کرنے والا ہے یعنی اس کی ذات میں جمع ہیں۔ اس ‏کی ذات میں جمع ہیں تمام صفات کمال بھئی۔ تو یاد رکھیے، لفظ اللہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ علم ہے، علم آپ ‏جانتے ہیں نام بھئی نام۔ جیسے کسی کا نام زید ہوتا ہے، کسی کا نام بکر ہوتا ‏ہے، کسی کا خالد، اسی طرح ذات باری تعالیٰ کا نام کیا ہے؟ اللہ بھئی، یہ علم ‏ہے علم۔ اور یاد رکھو، علم کے اندر شرکت نہیں ہوتی۔ علم کے اندر جیسے کسی ‏شخص کا بیٹا پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کا نام زید رکھ دیتا ہے، تو وہ اکیلے اس ‏ایک فرد کا نام کیا رکھتا ہے؟ زید، اس میں شرکت نہیں، آپ کہیں گے بھئی ‏بعض اوقات دو یا تین آدمیوں کا نام زید ہوتا ہے، شرکت تو آ گئی؟ نہیں بھئی، ‏شرکت نہیں آئی، ہر ایک کی وضع الگ ہے۔ ایک کے والدین نے جب نام رکھا ‏تھا زید کا تو صرف اپنے بیٹے کا نام زید رکھا تھا، دوسرے کا نام زید نہیں۔ ‏دوسروں کے والدین نے انہوں نے اپنے اکیلے بیٹے کا نام کیا رکھا؟ زید، تو ‏جس وقت وضع کر رہے تھے وہ اکیلے ایک ہی فرد کے لیے یہ نام رکھ رہے ‏تھے بھئی۔ تو وضع کے اعتبار سے ان کے اندر شرکت نہیں ہوتی بھئی۔ تو علم جو ہے نا علم، اس میں کسی بھی لحاظ سے شرکت نہیں ہوتی، کسی ‏بھی لحاظ سے۔ اور اگر شرکت آ جائے پھر تو وہ کلی بن جاتا ہے، حالانکہ ‏علم کلی نہیں ہوتا، وہ ایک ذات پر دلالت کرتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو علماء کا ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ لفظ اللہ علم ہے۔ یعنی اس میں کوئی تبدیلی ‏نہیں ہوئی، یہ اسی طرح تھا، اللہ، یہ اسی طرح تھا۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ‏ہیں کہ نہیں، یہ لفظ اللہ دراصل إله سے بنا ہے۔ اور إله معبود کو کہتے ہیں۔ اور ‏یہ کلی ہے۔ إله معبود کیا ہے؟ کلی، بھئی ایک شخص بت کو سجدے کرتا ہے ‏تو یہ بت اس کا کیا ہے؟ الہ ہے، معبود ہے۔ ایک سورج کو سجدے کرتا ہے تو ‏یہ سورج اس کا کیا ہے؟ الہ ہے، معبود ہے۔ اور ایک شخص درخت کو سجدے ‏کرتا ہے تو یہ درخت اس کا کیا ہے؟ الہ ہے اور معبود ہے۔ تو الہ تو کلی ہے، ‏وہ ہر معبود پر بولا جاتا ہے۔ تو وہ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ لفظ الہ سے بنا ‏ہے لفظ اللہ اور یہ کلی تھا، اور کلی کے اندر تو شرکت ہوتی ہے۔ پھر اس إله ‏پر کیا داخل ہوا؟ الف لام، تو کیا بن گیا؟ الإله، کیا بن گیا؟ الإله، پھر درمیان ‏میں جو ہمزہ الہ کا تھا، اس کو خلاف القياس گرا دیا گیا، تو اللہ بن گیا۔ کیا بن ‏گیا؟ اللہ بن گیا۔ اور اس سے معبود حقیقی مراد ہے، اور معبود حقیقی تو ایک ‏ہی ہے، معبود تو معبود حقیقی تو ایک ہی ہے، تو دراصل تو گویا یہ لفظ کلی ‏تھا، لیکن یہ بولا ایک ہی ذات پر جاتا ہے جو کیا ہے معبود حقیقی، کیونکہ اور ‏افراد اس کے موجود ہی نہیں، معبود ایک ہی ہے دو یا تین نہیں ہیں۔ تو دیکھو پہلا قول اگر لیا جائے، تو اس پہلے قول کا مطلب یہ ہے کہ لفظ الہ ‏جو ہے، وہ علم ہے، اس میں کسی بھی درجے میں شرکت نہیں، اور دوسرے ‏قول کو اگر لیا جائے تو وہ إله سے بنا اور إله کیا تھا؟ کلی تھا، اور کلی میں ‏شرکت ہو سکتی ہے۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟ کتنے قول ‏میں نے ذکر کیے علماء کے؟ دو قول ذکر کیے بھئی۔ پہلا قول یہ ہے کہ یہ لفظ اللہ علم ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ إله سے بنا ‏ہے اور إله کیا ہے؟ کلی۔ علم ہو تو اس میں شرکت نہیں ہو سکتی، کلی کے ‏اندر شرکت ہو سکتی ہے۔ شرکت ہو سکتی ہے، لیکن شرکت ہے نہیں کیونکہ ‏معبود حقیقی صرف ایک ہی ہے، تو شرکت ہے نہیں۔ تو بہرحال دونوں کا مفاد، فائدہ دونوں سے ایک ہی قسم کا حاصل ہو رہا ہے، ‏لیکن پھر بھی بہرحال اگر علم مانا جائے تو وہ درجہ اعلیٰ ہے، کیونکہ اس ‏میں شرکت کا امکان بھی نہیں ہے، شرکت کا، کیونکہ نام ایک ہی ذات کا رکھا ‏جاتا ہے اور اس میں کسی قسم کی شرکت نہیں ہوتی، اور دوسرا قول اگر لیا ‏جائے تو اس سے مراد کیا ہے؟ معبود حقیقی، اور معبود حقیقی ایک ہی ہے۔ ‏ایک ہی ہے، تو اس شرکت اس وقت اس میں بھی نہیں، لیکن بہرحال شرکت کا ‏امکان تو آ جاتا ہے نا کسی نہ کسی درجے میں۔ کہ معبود ہے ایک فرض کر ‏لو، اگر دو ہوتے فرض کر لو، تو دونوں پہ صادق آتا یا نہ آتا؟ تو بہرحال تو ‏امکان تو آ جاتا ہے، اگرچہ حقیقت میں فائدہ ایک ہی ہے اس وقت، کیونکہ ‏معبود حقیقی کیا ہے؟ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا ‏بھئی۔ تو اسی لیے مصنف نے کہا کہ لفظ اللہ علم ہے، اس قول کو ترجیح دی۔ اور ‏‏"على الأصح"، أصح اس میں تفصیل ہے۔ زیادہ صحیح قول کے مطابق، یہ کیا ‏ہے؟ علم ہے، زیادہ صحیح قول کے مطابق۔ معلوم ہوا دوسرا قول بھی صحیح ‏ہے، لیکن یہ والا قول زیادہ صحیح ہے۔ آپ عبارتوں میں پڑھیں گے، قیمتی ‏بات ذکر کر دوں، بعض جگہ یہ لفظ آتا ہے "على الأصح"، اور بعض جگہ آتا ‏ہے "على الصحيح"، صحیح قول کے مطابق، اور بعض جگہ آتا ہے زیادہ ‏صحیح قول کے مطابق، کس میں طاقت زیادہ؟ ہاں، ہر طالب علم یہی کہے گا ‏زیادہ صحیح میں طاقت زیادہ، نہیں نہیں، صحیح کے اندر طاقت زیادہ ہے، ‏کیونکہ جب کہہ دیا "على الصحيح" صحیح قول کے مطابق، تو اس کا مطلب ‏ہوا کہ دوسرا قول صحیح ہے ہی نہیں سرے سے۔ جب کہہ دیا یہ قول صحیح ‏ہے، تو معلوم ہوا دوسرا قول صحیح نہیں، اور جب کہہ دیں یہ قول زیادہ ‏صحیح ہے، اس کا مطلب ہے دوسرا بھی صحیح ہے، لیکن یہ والا زیادہ ‏صحیح ہے، تو دیکھا قوت کس کے اندر زیادہ ہے؟ صحیح کے اندر زیادہ قوت ‏ہے بھئی، اس میں آپ دوسرے قول کو بالکل ہی رد کر دیتے ہیں، جبکہ اس ‏میں دوسرے قول کو رد نہیں کیا جاتا، اس کو بھی صحیح قرار دیا، لیکن اس ‏کو زیادہ صحیح قرار دیا، اعلیٰ درجے کا قرار دیا۔ تو کہتے ہیں "والله علم" اور لفظ اللہ جو ہے یہ علم ہے، نام ہے "على الأصح" ‏زیادہ صحیح قول کے مطابق، نام ہے، کس کا نام ہے؟ "للذات الواجب الوجود" ‏اس ذات کا جو واجب الوجود ہے۔ "المستجمع لجميع صفات الكمال" وہ ذات جو ‏کہ جس کے اندر جمع ہیں ساری صفات کمال، جس کے اندر جمع ہیں ساری ‏صفات کمال۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے اندر کچھ صفات کو اچھا سمجھا جاتا ہے، پسندیدہ ‏سمجھا جاتا ہے، آپ جس قوم میں بھی چلے جائیں، جس جگہ بھی چلے جائیں ‏ان صفات کو اچھا سمجھا جاتا ہے، مثلاً بہادری، بہادر آدمی کے ہر جگہ عزت ‏ہوتی ہے۔ جیسے سچ بولنا، سچے آدمی کو ہر جگہ پسند کیا جاتا ہے۔ اسی ‏طرح ایک ہے بولنا، ایک ہے گونگا ہونا، کس صفت کو لوگ پسند کرتے ہیں؟ ‏بولنا، بولنا کمال ہے، تو یہ صفات کمال ہیں، یہ ساری کیا ہیں؟ صفات کمال، ‏جن کو کمال سمجھا جاتا ہے، اچھا اعلیٰ سمجھا جاتا ہے۔ تو مثلاً بہادری ہے، سچ بولنا ہے، سخاوت ہے، یہ ساری کیا ہیں؟ صفات کمال۔ ‏اسی طرح میں نے ذکر کر دیا، ایک ہے بولنا، ایک ہے گونگا ہونا، کس صفت ‏کو لوگ کمال سمجھتے ہیں اور اعلیٰ سمجھتے ہیں؟ بولنے کو، اسی طرح ایک ‏ہے علم، ایک ہے جہالت، علم کو اچھا سمجھتے ہیں یا جہالت کو؟ علم کو، ہر ‏جگہ علم عالم کی ہر مقام پر عزت کرتے ہیں، کسی بھی فن کے اندر ہو، ‏ڈاکٹری میں بھی دیکھ لیں جو زیادہ علم والا ہو گا، اس کی لوگ زیادہ عزت ‏کریں گے، انجینئرنگ کے اندر وہ جس کا زیادہ علم ہو گا باقی انجینئر بھی اس ‏کی عزت کریں گے، تو ہر فن کے اندر اسی طرح ہے، تو علم کیا ہے؟ صفت ‏کمال۔ اسی طرح قدرت کا ہونا، یہ بھی کیا ہے؟ صفت کمال، کہ انسان افعال ‏کرنے پر قادر ہو بھئی۔ تو یہ صفات کمال ہیں، یہ کیا ہیں؟ صفات کمال۔ تو جتنی بھی "المستجمع" ‏دیکھیے کتاب پر، "المستجمع لجميع صفات الكمال" وہ ذات کہ اس کے اندر ‏جمع ہیں تمام صفات کمال، جس کے اندر جمع ہیں تمام صفات کمال، بلکہ ‏درحقیقت صفات کمال صرف اسی ذات کے اندر ہیں۔ تمام صفات کمال صرف ‏کس میں ہیں؟ حقیقت میں صرف اللہ کی صفات صفات کمال ساری اللہ کی ذات ‏میں بند ہیں، کیونکہ اگر کسی اور میں آپ کو کوئی اچھی صفت نظر بھی آئی، ‏تو اس کو کس نے پیدا کیا؟ اللہ نے پیدا کیا ہے، تو وہ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ‏لہٰذا وہ کمال کس کا ہوا؟ اللہ ہی کا کمال ہوا، تو معلوم ہوا صفات کمال بند ہیں ‏کس ذات کے اندر؟ وہ ذات جو واجب الوجود ہے بھئی۔ کسی جگہ آپ کسی ‏شخص کو دیکھتے ہیں بڑا بہادر ہے، کسی کو دیکھتے ہیں اس میں ایک بہت ‏زبردست کمال ہے، کسی میں دوسرا کمال، کسی چیز میں تیسرا کمال دیکھتے ‏ہیں، لیکن دراصل یہ سارے کمالات کس کے ہیں؟ اللہ کی ذات کے، کہ اللہ نے ‏ان چیزوں کو بنایا اور ان میں یہ صفات رکھیں بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ صفات ‏کمال جتنی بھی ہیں، درحقیقت وہ کس کی ہیں؟ اللہ ہی کی ہیں بھئی، اللہ ہی کی ‏ذات میں ہیں۔ یہ آپ نے تعریف یاد کرنی ہے، آپ سے کوئی پوچھ لے کہ اللہ کے بارے میں ‏بتلائیے، تو آپ کہیں گے کہ "والله علم"، "على الأصح" یہ اس کو نکال دیں ‏یہاں سے، ٹھیک ہے؟ اس کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں، یہ تعریف کا حصہ ‏نہیں، "والله علم للذات الواجب الوجود المستجمع لجميع صفات الكمال" لفظ اللہ علم ‏ہے اس ذات کا جو واجب الوجود ہے، اور جس میں جمع ہیں تمام صفات کمال۔ مصنف نے حمد کا معنی بھی بیان کیا کہ "الحمد هو الثناء باللسان على الجميل ‏الاختياري نعمة كان أو غير نعمة"، اور پھر لفظ اللہ کے بارے میں بھی بتلا دیا ‏کہ وہ علم ہے اس ذات کا جو واجب الوجود ہے اور جس میں تمام صفات کمال ‏جمع ہیں۔ ‎"‎ولِدلالته على هذا الاستجماع" اور اس وجہ سے کہ یہ لفظ دلالت کر رہا ہے ‏اس استجماع پر، ان صفات کے جمع ہونے پر، لفظ اللہ کیا ہے؟ دلالت، لفظ اللہ ‏کسے کہتے ہیں؟ ابھی تو بتلایا، وہ نام ہے اس ذات کا جو واجب الوجود ہے ‏اور جس میں جمع ہے ساری صفات کمال، تو دیکھا لفظ اللہ بولتے ہی یہ ساری ‏چیزیں آپ کے ذہن میں آ جاتی ہیں۔ تو لفظ اللہ دلالت کر رہا ہے کس بات پر؟ ‏لفظ اللہ بولتے ہی یہ باتیں ذہن میں آتی ہیں یا نہیں؟ کیا؟ کہ وہ واجب الوجود ‏ہے اور اس میں تمام صفات کمال، تو دلالت کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز سے ‏دوسری چیز سمجھ میں آ جائے، آپ نے کمرے کے اندر دھوپ دیکھی، آپ کو ‏فوراً پتہ چل گیا کہ سورج نکل آیا ہے، یا میں نے جیسے ہی کہا "زید"، تو ‏فوراً آپ کے ذہن میں کس کی ذات آ گئی؟ زید کی ذات آ گئی، تو لفظ زید، میں ‏نے تو زبان سے کہا تھا، تو اس لفظ زید نے ذات زید پر کیا کی؟ دلالت کی۔ تو ‏لفظ اللہ جب بھی بولیں، لفظ اللہ کا یہ معنی آپ کے ذہن میں آ جاتا ہے۔ کہ وہ ‏واجب الوجود کا نام ہے اور اس میں ساری صفات کمال جمع، تو لفظ اللہ ان ‏صفات کے جمع ہونے پر دلالت کر رہا ہے۔ لفظ اللہ کیا کر رہا ہے؟ لفظ اللہ ‏جیسے ہی بولیں فوراً ہی یہ بات ذہن میں آتی ہے یا نہیں کہ وہ ذات جس میں ‏یہ ساری صفات کمال موجود، آتی ہے یہ بات کہ نہیں آتی؟ تو لفظ اللہ اس پر ‏دلالت کر رہا ہے یا نہیں؟ لفظ اللہ بولتے ہی یہ چیز ذہن میں آتی ہے تو لفظ اللہ ‏ان پر دلالت کر رہا ہے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ "ولِدلالته على هذا الاستجماع" ‏اور لفظ اللہ کے اس جمع ہونے پر دلالت کرنے کی وجہ سے "صار الكلام" یہ ‏کلام ہو گیا "في قوة" اس قوت میں، اس درجے میں، اس درجے کا کلام ہو گیا ‏‏"أن يقال" کہ یوں کہا جائے۔ اچھا چلیے پہلے اس کو سمجھ لیں بھئی، پھر میں ترجمہ کرتا ہوں۔ مصنف نے شروع میں کہا "الحمد لله"، شارح اس کی اس کا معنی بیان کر رہے ‏ہیں، الحمد لله کا معنی کیا ہے؟ الحمد لله کا معنی یہ ہے، تمام تعریفیں اللہ کے ‏ساتھ خاص ہیں۔ تو مصنف نے کہا "الحمد لله"، الحمد لله کا معنی کیا ہے؟ تمام حمدیں اللہ کے ‏ساتھ خاص ہیں، تمام حمدیں اللہ کے لیے ہیں۔ تمام حمدیں جیسے آپ کہتے ہیں، ‏کیونکہ یہاں لام آیا نا "لله"، اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے ساتھ خاص ہیں، لام ‏اختصاص کے لیے آتا ہے کہ یہ چیز اس کے ساتھ خاص ہے یعنی اس کی ہے۔ ‏مثلاً میں کہتا ہوں "الكتاب لزيد"، یہ کتاب لزيد کس کی ہے؟ زید کی ہے، معلوم ‏ہوا یہ خاص ہے اسی کے ساتھ، یہ اسی کی ہے، کسی اور کی نہیں، تو یہاں پر ‏بھی آیا "الحمد لله"، تمام تعریفیں خاص ہیں کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ، یعنی ‏تمام حمدیں اللہ ہی کی ہیں، تمام حمدیں اللہ کے لیے ہیں بھئی، تمام حمدیں اللہ ‏کے لیے۔ اچھا یہ تمام کہاں سے آیا؟ ذرا اب ہمیں الف لام کی قسمیں کرنا پڑیں گی بھئی، ‏پھر وہ تو وہ بھی سن لیجیے۔ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں الف لام کی قسمیں، بس ‏میں ذرا جلدی جلدی دہرا دوں گا، تو آپ نے توجہ سے بیٹھنا ہے بھئی۔ یاد ‏رکھیے الف لام جو ہے نا دو قسم پر ہے، ایک الف لام اسمی، ایک الف لام ‏حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر آئے۔ اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر آئے، ایک ہوتا ہے فاعل، ایک ہوتا ‏ہے اسم فاعل، ایک ہوتا ہے مفعول، ایک ہوتا ہے اسم مفعول۔ فاعل، فاعل وہ ‏ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے، یہ آسان لفظوں میں کہوں بس جس ‏کو فعل کیا کرے؟ رفع دے، "ضرب زيدٌ"، یہ زید کو "ضرب" کیا کر رہا ہے؟ ‏رفع دے رہا ہے، تو یہ زید کیا ہے؟ فاعل، اور مفعول وہ ہے جس کو صفت ‏فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، "ضرب زيدٌ عمرًا"، یہ عمراً کو کس نے ‏نصب دیا؟ "ضرب" نے، تو یہ عمراً مفعول ہوا۔ تو فاعل کسے کہتے ہیں؟ جس ‏کو فعل رفع دے، فعل یا صفت کا صیغہ، اور مفعول کسے کہتے ہیں؟ جس کو ‏فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، اور ایک ہے اسم فاعل، اسم فاعل تو فاعل وہ ‏ہے جس کو فعل رفع دے، اور اسم فاعل وہ مخصوص صیغے کا نام ہے جو آپ ‏نے گردانوں میں پڑھا تھا "ضرب يضرب ضربًا فهو ضاربٌ"، یہ ضاربٌ، ‏مانعٌ، مکرمٌ، مستخرجٌ، مقاتلٌ، یہ سارے کیا ہیں؟ اسم فاعل ہیں، تو اسم فاعل ‏اس مخصوص صیغے کا نام ہے، مخصوص وزن کا۔ اور اسی طرح ایک ہوتا ‏ہے مفعول، مفعول وہ ہے جس کو فعل کیا کرے؟ نصب دے، اور ایک ہے اسم ‏مفعول، اسم مفعول وہ مخصوص صیغے کا نام ہے جو آپ نے گردانوں میں ‏پڑھا، مضروبٌ، مفتوحٌ، ممنوعٌ، مکرمٌ، مستخرجٌ، یاد ہیں گردانیں بھئی؟ تو یہ ‏سارے کیا ہیں؟ اسم مفعول۔ پھر دہراؤ، فاعل کسے کہتے ہیں؟ جس کو فعل یا ‏صفت کا صیغہ رفع دے، اور مفعول کسے کہتے ہیں؟ نہیں پھر دہراؤ، فاعل ‏کسے کہتے ہیں؟ فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے، اور اسم فاعل؟ وہ خاص ‏صیغہ جو آپ نے گردانوں میں پڑھا "ضاربٌ"، "مکرمٌ" وغیرہ۔ اور ایک ہے ‏مفعول اور ایک ہے اسم مفعول، مفعول کسے کہتے ہیں؟ جس کو فعل یا صفت ‏کا صیغہ نصب دے، اور اسم مفعول؟ وہ گردانوں میں جو آپ نے صیغہ پڑھا ‏‏"ممنوعٌ"، "مفتوحٌ"، "مضروبٌ" وغیرہ بھئی۔ تو الف لام اسمی اور الف لام حرفی، الف لام اسمی وہ ہے جو اسم فاعل اور ‏اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو۔ ضارب پر ذرا الف لام لے آؤ، الضارب، یہ ‏الف لام کیا ہے؟ اسمی ہے۔ مضروب، مضروب اسم مفعول ہے، اس پر الف لام ‏لے آؤ، المضروب، یہ الف لام کیا ہے؟ اسمی ہے۔ یہ جو الف لام اسمی ہے، یہ دراصل اسم موصول ہے۔ تو الضارب بمعنی الذي ‏يضرب کے ہوا، الف لام سے "الذي" بنا لیا اور ضارب سے کیا بنا لیا؟ ‏‏"يضرب" فعل، کیونکہ موصول کا صلہ جملہ آتا ہے، مفرد نہیں آتا، تو اس کو ‏فعل بنا لیا تاکہ جملہ بن جائے۔ تو الضارب کس معنی میں ہوا؟ الذي يضرب، ‏اور المضروب، الذي يضرب کے معنی میں ہوا، تو دیکھا اس کو الف لام کا ‏معنی ہم نے الذی کے ساتھ کیا، معلوم ہوا یہ اسم موصول ہے، صورت تو حرف ‏جیسی ہے یعنی الف لام ہے، لیکن دراصل یہ کیا ہے؟ اسم ہے، چنانچہ آپ اس ‏سال قافیہ پڑھ رہے ہیں، آپ قافیہ میں پڑھیں گے صاحب قافیہ جب اسماء ‏موصولہ گنوائیں گے نا، تو وہاں پر الف لام بھی گنوائیں گے کہ الف لام، معلوم ‏ہوا یہ اسم ہے، صورت کے اعتبار سے یہ حرف جیسا، لیکن دراصل یہ کیا ‏ہے؟ تو الف لام اسمی کسے کہتے ہیں؟ وہ الف لام جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے ‏صیغوں پر داخل ہو، اور یہ دراصل کیا ہوتا ہے؟ اسم ہوتا ہے۔ دوسرا ہے الف لام حرفی، الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی ‏طرف اشارہ کیا جائے۔ اس کے ذریعے کسی لفظ کو معرفہ بنایا جاتا ہے، ‏جیسے کتاب پر کیا لے آئے؟ الف لام، تو کیا بن گیا؟ الکتاب، اور کتاب کیا یہ ‏اسم فاعل کا صیغہ ہے؟ اسم فاعل؟ نہیں، کیا اسم مفعول کا صیغہ ہے؟ نہیں، تو ‏معلوم ہوا یہ الف لام اسمی نہیں، یہ الف لام حرفی۔ رجل، اس پر الف لام لے ‏آئیں الرجل، تو رجل کوئی اسم فاعل کا صیغہ ہے؟ نہیں، اسم مفعول کا صیغہ ‏ہے؟ نہیں، معلوم ہوا اس پر جو الف لام آیا، وہ الف لام اسمی نہیں ہے بلکہ الف ‏لام حرفی۔ تو الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی لفظ کو معرفہ بنایا ‏جاتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ ‏یہ تعبیر ہمیشہ یاد رکھنا، الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی ‏طرف اشارہ کیا جائے۔ تو اشارہ کسی چیز کی جنس اور حقیقت کی طرف ہو گا یا افراد کی طرف ہو ‏گا؟ کس کی طرف؟ جنس اور حقیقت جس سے وہ چیز بنی ہے یوں کہہ لو، یا ‏ماہیت کی طرف جنس اور حقیقت کی طرف اشارہ ہو گا یا کس کی طرف ‏اشارہ ہو گا؟ افراد کی طرف، افراد کی طرف۔ اگر الف لام کے ذریعے جنس ‏اور حقیقت کی طرف اشارہ ہو، تو اس کو الف لام جنسی کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ ‏الف لام حرفی کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہو؟ جنس اور حقیقت کی طرف ‏اشارہ ہو، افراد کی طرف اشارہ نہ ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف لام ‏جنسی، اور اگر الف لام کے ذریعے اشارہ ہو افراد کی طرف، تو پھر اشارہ ہو ‏گا تمام افراد کی طرف یا بعض افراد کی طرف؟ ظاہر سی بات ہے دو ہی ‏صورتیں بنتی ہیں نا، جب افراد کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، یا تو سب کی ‏طرف اشارہ کر رہے ہیں، سارے مراد ہیں یا بعض کی، اگر ساروں کی طرف ‏اشارہ کر رہے ہیں، تو اس کو کہیں گے الف لام استغراقی، الف لام استغراقی ‏جو تمام افراد کو گھیر لے، سب اس میں آ جائیں، اور اگر بعض افراد کی ‏طرف اشارہ ہے، تو پھر دو احوال سے خالی نہیں، یا وہ بعض افراد خارج میں ‏متعین ہوں گے یا متعین نہیں، اگر وہ خارج میں متعین ہیں، تو اس کو کہیں گے ‏الف لام عہد خارجی، اور اگر وہ خارج میں متعین نہیں، تو اس کو کہیں گے ‏الف لام عہد ذہنی یا الف لام ذہنی۔ تو الف لام حرفی کتنی قسم کا ہوا؟ چار، الف لام جنسی، الف لام استغراقی، الف ‏لام عہد خارجی اور الف لام عہد ذہنی بھئی۔ دیکھو مثالوں سے اور زیادہ وضاحت ہو جائے گی، میں کہتا ہوں "الرجل خيرٌ ‏من المرأة"، الرجل پر میں الف لام لایا، تو الرجل یہ الف لام کون سا ہے؟ تو ہم ‏ترجمہ کر کے دیکھتے ہیں۔ اگر اس میں الف لام جنسی نہ لیں، افراد کی طرف اشارہ ہو، تو پھر معنی بن ‏جائے گا کہ افراد رجل وہ بہتر ہیں کس سے؟ افراد امراۃ سے، مرد کے جو ‏افراد ہیں یعنی جو مرد ہیں، وہ افضل ہیں کس سے؟ عورتوں سے، اور حالانکہ ‏یہ بات درست ہر جگہ نہیں رہتی، اس لیے کیونکہ ایمان والی عورت کافر مرد ‏سے یقیناً افضل ہے بھئی، اسی طرح نیک عورت فاسق مرد سے یقیناً افضل ‏ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہاں افراد نہیں مراد، بلکہ یہاں جنس مراد ہے، کہ جو ‏جنس رجل جو ہے، اس کو اللہ نے فضیلت بخشی ہے کس پر؟ جنس امراۃ پر، ‏ایک جنس ہے مردوں کی، ایک جنس کیا ہے؟ عورتوں کی، اللہ نے کس کو ‏فضیلت بخشی ہے؟ مردوں کو فضیلت بخشی ہے، آپ بھی دیکھتے ہیں دنیا میں ‏حکومت کرنے والے کون ہیں؟ مرد ہی ہیں عموماً بھئی، اور آپ بھی دیکھتے ‏ہیں کہ کسی کے ہاں اولاد ہوتی ہے، وہ بیٹے پر زیادہ خوش ہوتا ہے یا بیٹی ‏پر زیادہ خوش ہوتا ہے؟ بیٹے پر ظاہر بات ہے خوش ہوتا ہے، صورت سمجھ ‏میں آ گئی؟ کیونکہ اللہ نے اس کو فضیلت دی ہے بیٹوں کو بھئی مردوں کو۔ تو اب جو آیا الرجل، توجہ ہے؟ "الرجل خيرٌ من المرأة"، تو یہ الف لام جنسی ‏ہے، تو ترجمہ ہو گا، جنس رجل، جنس مرد وہ افضل ہے کس سے؟ جنس ‏عورت سے، افراد کی بات نہیں ہو رہی، افراد عورتوں کے بھی بعض اوقات ‏افضل ہو سکتے ہیں مردوں سے، لیکن جنس کے اعتبار سے مرد ہونا یہ کیا ‏ہے؟ افضل ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ الف لام جنسی۔ دوسرا ہے الف لام استغراقی، الف لام استغراقی وہ ہے جس میں تمام افراد کی ‏طرف اشارہ ہو، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں "والعصر، إن الإنسان لفي ‏خسر"، قسم ہے زمانے کی، إن الإنسان، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں۔ یہ ‏تمام، یہ کس کا ترجمہ میں کر رہا ہوں؟ یہ الف لام کا، الإنسان پر جو الف لام آ ‏رہا ہے نا، یہ استغراقی ہے، کیا کوئی خاص انسان خسارے میں ہے یا سارے ‏انسان خسارے میں ہیں؟ تمام انسان یاد رکھو خسارے میں ہیں، صرف وہ ‏خسارے میں نہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ تو یہ الإنسان پر ‏الف لام کون سا ہے؟ استغراقی، اور یہ تمام افراد کا احاطہ کرتا ہے، اسی لیے ‏اس کا ترجمہ کریں گے، إن الإنسان، یقیناً تمام انسان جو ہیں خسارے میں ہیں، ‏تو اگر آپ سے کوئی کہے بھئی یہاں تمام اور کل کا لفظ تو ہے ہی نہیں، یہ آپ ‏کہاں سے ترجمہ کر رہے ہیں؟ تو آپ جواب دیں گے کہ یہ الف لام کا ترجمہ ‏میں کر رہا ہوں، کیونکہ وہ الف لام کون سا ہے؟ استغراقی ہے۔ اور ایک ہے الف لام عہد خارجی، جس میں تمام افراد کی طرف اشارہ نہیں ‏ہوتا، بعض افراد کی طرف ہوتا ہے، وہ پھر بعض ایک بھی ہو سکتا ہے، دو ‏بھی ہو سکتے ہیں، زیادہ بھی، الرجل، وہ ایک آدمی، الرجلان، وہ دو آدمی، ‏الرجال، وہ سارے آدمی، دیکھا تو کئی جس قسم کا لفظ ہو گا اس اتنے ہی کی ‏طرف اشارہ ہو گا بھئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف لام عہد خارجی جو خارج میں متعین ہوں، خارج ‏میں بھئی، خارج میں متعین۔ اور اس دیکھو مثال سے وضاحت ہو گی، میں آپ ‏کو کہتا ہوں، کل رات میرے پاس ایک آدمی آیا تھا "جاءني رجلٌ أمس"، رجل ‏میں نکرہ لایا کیونکہ آپ اس کو پہچانتے نہیں ہیں، معرفہ نہیں لایا، الف لام ‏لاؤں گا تو معرفہ بن جائے گا، اور معرفہ تو اس کو کہتے ہیں جس کو انسان ‏کو پہچان ہو، تو میں نے کہا آپ کو تو پہچان ہی کوئی نہیں، تو میں نے کیا کہا ‏‏"جاءني رجلٌ"، کل میرے پاس کوئی ایک آدمی آیا تھا، اب میں آپ کو کہنا ‏چاہتا ہوں پھر میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، تو میں الف لام لاؤں گا "فأكرمتُ ‏الرجلا"، تو میں نے اکرام کیا الرجلا، اس آدمی کا، دیکھو الف لام کے ذریعے ‏اشارہ ہو رہا ہے اسی آدمی کا جس کو آپ پہچان چکے، جس کا ابھی ذکر چل ‏رہا تھا۔ تو دیکھو آپ کو اس کے نام کا بھی نہیں پتہ، آپ نے اس کو دیکھا بھی نہیں، ‏لیکن ایک دفعہ جب ذکر آ گیا تو متعین ہو گیا یا نہیں؟ آپ سمجھ گئے یا نہیں ‏میں کس آدمی کی بات کر رہا ہوں؟ آپ سمجھ گئے کہ میں نے اس آدمی کا ‏اکرام کیا، آپ سمجھ گئے اس آدمی کی بات ہو رہی ہے جو رات کو آیا تھا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور اگر افراد کی طرف اشارہ ہو، لیکن وہ افراد خارج میں متعین نہ ہوں، تو ‏اس کو کہتے ہیں الف لام عہد ذہنی، یعنی ذہن میں اس کے ایک یا زیادہ افراد ‏کا تصور کر لیا اور اس کی طرف اشارہ کر دیا، اور اس کی مثال قرآن میں ‏آتی ہے، حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس ان کے بیٹے آئے اور حضرت ‏یوسف علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ ان کو ہم اپنے ساتھ جنگل میں کھلانے ‏کے لیے لے جاتے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ ‏السلام سے بہت زیادہ محبت تھی، تو ان کو فکر تھی کہیں ان کو نقصان نہ ‏پہنچ جائے وہاں پر، تو فرمانے لگے "إني أخاف أن يأكله الذئب"، مجھے خوف ‏ہے أن يأكله الذئب کہ اس کو کہ ان کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔ الذئب آیا، ‏الذئب، الذئب، ذئبٌ، ذئبٌ بھیڑیے کو کہتے ہیں، اور اب یہاں پر الف لام اس پر ‏آیا "أخاف أن يأكله الذئب"، الذئب الف لام آ رہا ہے، اور الف لام کے ذریعے تو ‏کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اب آپ مجھے بتائیے کیا الذئب میں الف ‏لام اسمی ہے یا حرفی؟ اسمی تو نہیں ہے کیونکہ ذئبٌ نہ اسم فاعل کا صیغہ ‏ہے، نہ اسم مفعول، معلوم ہوا یہ الف لام حرفی ہے۔ الف لام حرفی ہو تو پھر ‏اس کے ذریعے یا تو افراد کی طرف اشارہ ہوتا ہے یا جنس، تو اس کے ‏ذریعے جنس کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ پھر تو ترجمہ بن جائے گا ‏کہ مجھے خوف ہے بھیڑیوں کی حقیقت اس کو کھا جائے گی، حالانکہ بھیڑیوں ‏کی جو حقیقت ہے جس سے بھیڑیے بنے ہیں، وہ افراد وہ جانوروں کو کھاتی ‏ہے یا بھیڑیوں کے افراد کھاتے ہیں؟ بھیڑیوں کے افراد چیزوں کو کھاتے ہیں، ‏اس کی حقیقت نہیں کھاتی بھئی، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ الف لام جنسی نہیں، تو ‏پھر کون سا الف لام؟ افراد مراد ہیں؟ تو پھر اگر ہم اس سے مراد لے لیں تمام ‏افراد، تو پھر ترجمہ ہو جائے گا کہ مجھے خوف ہے کہ ساری دنیا کے ‏بھیڑیے مل کر ان کو کھا جائیں گے، تو کیا ایسا ممکن تھا؟ نہیں، یہ بھی نہیں ‏ممکن، معلوم ہوا الف لام استغراقی بھی مراد نہیں، پھر دوسری صورت ہے ‏الف لام عہد خارجی لے لو، خارج میں کوئی خاص ایک بھیڑیا ہے اس کی ‏طرف اشارہ ہو اور حضرت یعقوب علیہ السلام فرما رہے ہوں مجھے خوف ‏ہے کہ وہ والا جو بھیڑیا ہے نا وہ والا، وہ اس کو کھا جائے گا، کیا کسی ‏خاص بھیڑیے کی طرف اشارہ تھا؟ نہیں، تو یہ معلوم ہوا یہ عہد خارجی بھی ‏نہیں، تو یہ عہد ذہنی ہے بھئی، حضرت یعقوب علیہ السلام نے ذہن میں ‏بھیڑیے کا ایک فرد سوچا اور اس کی طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کر دیا، ‏اور یاد رکھو یہ جو الف لام عہد ذہنی ہوتا ہے نا، یہ جس لفظ پر داخل ہوتا ‏ہے، وہ لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ بن گیا، الذئب کیا ہے؟ معرفہ، لیکن ‏معنی کے اعتبار سے نکرہ کا نکرہ ہی ہے، اس لیے نکرہ والا ہی ترجمہ کریں ‏گے، مجھے خوف ہے کہ کوئی بھیڑیا ان کو کھا جائے گا۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ پھر ایک دفعہ الف لام کی قسمیں ‏جلدی جلدی سن لو، الف لام دو قسم پر، یا وہ اسمی ہو گا یا حرفی، الف لام ‏اسمی وہ ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو، اور یہ کس ‏معنی میں ہوتا ہے؟ الذی کے معنی میں ہوتا ہے، یعنی یہ اسم ہے اور معرفہ ‏ہے، جبکہ الف لام حرفی وہ حرف ہے، وہ جس لفظ پر داخل ہوتا ہے اس کو ‏معرفہ بنا دیتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، ‏اب اب اب اگر اشارہ کیا جائے جنس کی طرف، تو وہ کیا ہے؟ الف لام جنسی، ‏اگر اشارہ کیا جائے افراد کی طرف، تو پھر تمام افراد کو اشارہ ہو گا یا بعض ‏کو؟ اگر تمام کو اشارہ ہے تو وہ الف لام استغراقی، اور اگر بعض کو اشارہ ‏ہے، تو وہ بعض وہ خارج میں متعین ہوں گے یا متعین نہیں، اگر وہ خارج میں ‏متعین ہیں تو وہ الف لام عہد خارجی، اور اگر وہ خارج میں متعین نہیں تو وہ ‏الف لام عہد ذہنی بھئی، الف لام عہد ذہنی۔ اب ایک اور بات یاد رکھیں۔ جنس جو ہوتی ہے نا جنس، جنس کا وجود خارج ‏میں اپنے افراد کے ضمن میں ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ جنس کا جنس تو حقیقت اور ‏ماہیت کو کہتے ہیں نا جس سے کوئی چیز بنی ہے، اس حقیقت اور ماہیت کا ‏وجود یہ بھی خارج میں پائی جاتی ہے جنس، لیکن اپنے افراد کے ضمن میں، ‏کس کے ضمن میں؟ اپنے افراد کے ضمن میں، جیسے دیکھو انسان کی حقیقت ‏کیا ہے؟ حیوان ناطق، تو انسان ایک جنس ہے، حیوان ناطق کیا ہے؟ حیوان ‏اور ناطق دو اجزاء ملے، تو یہ انسان کی کیا ہے؟ جنس ہے، ماہیت ہے، اس ‏ماہیت کا خارج میں وجود اکیلا نہیں ہو گا، اپنے افراد کے ضمن میں ہو گا، ‏اور انسان کے افراد خارج میں مثلاً کون ہے؟ زید ہے، جب زید پایا جا رہا ہے ‏تو حیوان ناطق بھی پایا جا رہا ہے یا نہیں؟ جب بکر پایا جا رہا ہے تو حیوان ‏ناطق بھی پایا جا رہا ہے یا نہیں؟ جب خالد پایا جا رہا ہے تو حیوان ناطق ‏بھی؟ تو جنس کا خارج میں جو وجود ہوتا ہے، کس کے ضمن میں ہوتا ہے؟ ‏اپنے افراد کے ضمن میں، جب افراد موجود ہیں تو جنس بھی موجود ہے۔ بہرحال اتنی لمبی تقریر کی، میرا بتانے کا مقصد یہ تھا کہ یہ الحمد لله، تمام ‏تعریفیں اللہ کے لیے، یہ تمام کا لفظ آ رہا ہے یہاں پر، یہ بتانا مقصد تھا۔ تو ‏معلوم ہوا یہ الف لام استغراقی لینا پڑے گا۔ الف لام استغراقی اسی میں آتا ہے نا، تمام حمدیں، یا اس کو الف لام جنسی بھی ‏لے سکتے ہیں، پھر بھی معنی ہو جائے گا تمام تعریفیں، بھئی وہ کیسے؟ بھئی ‏اس لیے، جب الحمد میں الف لام کیا لے لیں؟ جنسی، تو معنی ہو جائے گا جنس ‏حمد کس کے ساتھ خاص ہے؟ اللہ کے ساتھ، اور جنس کا خارج میں وجود ‏ویسے ہوتا ہے یا اپنے افراد کے ضمن میں؟ اپنے افراد کے ضمن میں، جب ‏آپ نے کہہ دیا کہ جنس حمد ساری ہی اللہ کے ساتھ خاص ہے، اس کا مطلب ‏ہوا جنس کے تو سارے افراد معلوم ہوا وہ اللہ ہی کے ساتھ خاص ہیں، کیونکہ ‏جنس کا خارج میں وجود کس کے ضمن میں ہوتا ہے؟ نہیں سمجھ میں آئی ‏بات؟ دیکھو الف لام استغراقی لو یا الف لام جنسی لو، دونوں کا ترجمہ یہی ہو گا کہ ‏تمام حمدیں کس کے ساتھ ہیں، کس کے ساتھ خاص ہیں؟ اللہ کے ساتھ۔ ‏استغراقی لو پھر تو بات واضح ہے۔ استغراقی الحمد، تمام افرادِ حمد دنیا میں ‏جتنے بھی ہیں، آپ جس چیز کی بھی تعریف کر لیں، وہ ساری خاص ہیں کس ‏کے ساتھ؟ یعنی وہ دراصل اللہ ہی کی آپ تعریف کر رہے ہیں۔ تو استغراقی میں تو ترجمہ واضح ہے، تمام حمدیں اللہ کے لیے ہیں، لیکن ‏جنسی؟ جنسِ حمد خاص ہے کس کے ساتھ؟ تو جنس کا تو خارج میں اپنا الگ وجود ‏ہوتا ہی نہیں، جنس کا تو وجود ہوتا ہی کس کے ضمن میں ہے؟ اپنے افراد، تو ‏یہ یہ ایک حمد، یہ بھی کیا ہے؟ جنس حمد اس میں پائی جا رہی ہے، دوسری ‏حمد ہے، اس میں بھی کیا ہے؟ جنس حمد ہے یا نہیں؟ تیسری میں بھی جنس ‏حمد ہے یا نہیں؟ چوتھی میں بھی کیا ہے؟ جنس حمد، جب آپ نے کہہ دیا جنس ‏حمد کس کے ساتھ خاص ہے؟ اللہ کے ساتھ، اور جنس تو خارج انہی افراد کے ‏اندر تھی، تو معلوم ہوا یہ افرادِ حمد سارے ہی کس کے ساتھ خاص ہیں؟ اللہ ‏کے ساتھ، معلوم ہوا تعریف جب بھی کریں گے، وہ دراصل کس کی ہے؟ اللہ ہی ‏کی ہے۔ اب بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ تو چاہے الف لام جنسی مراد ‏لے لیں، چاہے الف لام استغراقی، دونوں صورتوں میں معنی ہو گا کہ تمام ‏تعریفیں کس کے لیے ہیں؟ اللہ کے لیے، تمام استغراقی ہو پھر تو واضح ہے ‏بات، جنسی ہو تو جنس کا وجود خارج میں ہوتا ہی کس کے ضمن میں ہے؟ ‏افراد، جب آپ نے کہہ دیا ساری جنسِ حمد کس کے ساتھ ہے؟ فرض کرو ‏‏۱۰۰ قسم کی حمدیں ہیں فرض کر لو، ویسے تو لا تعداد ہیں، ۱۰۰ حمدیں ہیں۔ ‏ٹھیک ہے؟ ۱۰۰ میں سے ہم نے کیا کہا؟ جنسِ حمد خاص ہے کس کے ساتھ؟ ‏اللہ، اچھا، تو ان ۱۰۰ کی ۱۰۰ حمدوں میں ہر حمد جنسِ حمد ہے یا نہیں؟ تو ‏جب آپ نے جنسِ حمد خاص کر دیا، تو ہر حمد خود بخود کس کے ساتھ خاص ‏ہو گئی؟ اللہ، تو بات وہی ہو گئی کہ تمام حمدیں کس کے ساتھ خاص ہیں؟ اللہ ‏کے ساتھ، اب بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے جی اب قریب پہنچ گئے ہیں بھئی، جو یہ بات بیان کرنا چاہتے ہیں اب ‏انشاءاللہ آپ کو اچھی طرح سمجھ میں آئے گی۔ پھر ذرا دہرا لو۔ لفظ اللہ وہ علم ہے، نام ہے اس ذات کا جو واجب الوجود ہے، اور جس میں تمام ‏صفات کمال جمع ہیں۔ دوسری بات، لفظ اللہ اس جمع ہونے پر دلالت کرتا ہے یا ‏نہیں؟ جیسے ہی لفظ اللہ بولیں، ذہن میں یہ آتا ہے یا نہیں کہ وہ ذات جس میں ‏ساری صفات کمال جمع؟ اب یہ جو حمد ہے، یاد رکھو یہ بھی صفات کمال ہے۔ ‏حمد بھی کیا ہے؟ صفت کمال، کسی کی تعریف کی جائے اس کو لوگ کمال ‏سمجھتے ہیں یا کسی کی برائی کی جائے اس کو کمال سمجھتے ہیں؟ تعریف، ‏ظاہر سی بات ہے، تعریف کو ہر ایک پسند کرتا ہے اور اس کو کمال سمجھا ‏جاتا ہے، کہ ایسی خوبی ہو کہ ہر ایک تعریف کرنے پر مجبور ہو جائے بھئی۔ ‏تو حمد کیا ہے؟ صفت کمال، صفت کمال ہے یا نہیں؟ اور تمام صفات کمال کس ‏ذات میں جمع؟ اللہ کی ذات میں، تو معلوم ہوا حمد بھی کس کے لیے کس ذات ‏کے لیے ہے؟ اللہ کے لیے، بھئی دیکھو نا حمد ہے صفت کمال، حمد کیا ہے؟ ‏صفت کمال، اور تمام صفات کمال کس ذات کے ساتھ خاص ہیں؟ اللہ کے ساتھ ‏خاص ہیں، تو معلوم ہوا حمد بھی کس کے ساتھ خاص ہو گئی؟ اللہ ہی کے ساتھ ‏خاص ہو گئی، کیونکہ وہ ذات ایسی ہے، یعنی اس میں ساری صفات کمال ‏جمع، وہ واجب الوجود ہے اور اس میں ساری صفات کمال۔ تو مصنف نے یوں ‏سمجھو ادھر دیکھو، مصنف نے کہا الحمد لله، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ ‏کے ساتھ خاص ہیں، لام کس لیے آیا؟ اختصاص کے لیے، تمام تعریفیں خاص ‏ہیں کس کے ساتھ؟ یا معلوم ہوا تمام تعریفیں بند ہیں اللہ کی ذات میں، کسی کی ‏بھی آپ تعریف کر دو دراصل وہ کس کی تعریف ہے حقیقت میں؟ اللہ کی ‏تعریف ہے، تو تمام حمدیں بند ہیں کس ذات میں؟ اللہ تعالیٰ کی ذات میں، اللہ کی ‏ذات میں۔ کیوں؟ تمام صفات کمال، یہ گویا مصنف نے دعویٰ کر دیا۔ جب ‏مصنف نے کیا کہا؟ تمام صفا مصنف نے کہا الحمد لله، تو کیا ترجمہ ہوا؟ تمام ‏حمدیں، وہ کیا؟ بند ہیں کس میں؟ اللہ کی ذات میں، تو یہ ایک دعویٰ کر دیا، کیا ‏کر دیا؟ دعویٰ کر دیا۔ اور دعوے کے لیے دلیل چاہیے یا نہیں چاہیے؟ آپ ایک ‏کتاب اٹھائیں اور کہیں یہ کتاب میری ہے، تو ساتھی کہیں گے دلیل کیا ہے؟ ‏تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ کتاب تمہاری ہے؟ دعوے کے لیے دلیل ‏چاہیے، تو اور دلیل ساتھ ہی موجود ہے، عجیب بات یہ ہے۔ الحمد لله میں ‏دعویٰ بھی ہے دلیل بھی ہے، کمال اس کا یہ ہے بھئی۔ دعویٰ کیا؟ کہ تمام ‏حمدیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ تمام حمدیں، اور دلیل بھی موجود ہے، کیا دلیل ہے؟ ‏کیونکہ وہ ایسی ذات ہے، جس میں ساری صفات کمال اسی کے اندر ہیں، اس ‏میں بند ہیں، اس میں بند ہیں، تو حمد بھی کیا ہے؟ یہ حمد بھی صفت کمال ہے ‏اور تمام صفات کمال اس ذات میں بند ہیں، اس میں جمع ہیں، تو حمد بھی اسی ‏میں بند ہو گئی، اسی میں جمع۔ تو دعویٰ کے ساتھ ساتھ دلیل بھی گویا ساتھ ہی ‏ہے۔ دعویٰ کے ساتھ دلیل، جیسے آپ کہیں بھئی، چار جفت ہے۔ جفت اور طاق ‏جانتے ہو یا نہیں؟ جفت جو دو سے تقسیم ہو، برابر جس کے دو حصے ہوں، ‏اور طاق جس کے دو برابر حصے نہ، میں نے کہا چار جفت ہے۔ آپ نے مان ‏لیا فوراً، کیوں؟ کیونکہ ساتھ ہی دلیل بھی آ گئی، خود ہی آپ کے ذہن میں آیا، ‏ذہن نے اس کے دو حصے برابر کیے اور کہا ہاں جی بات ٹھیک ہے۔ میں نے ‏کہا ۱۰ جفت ہے، فوراً مان گئے یا نہیں؟ کسی دلیل کی ضرورت نہیں، دلیل ‏ساتھ ہی آ گئی، جیسے ہی جملہ کہا ساتھ ہی آپ کے ذہن نے فوراً دیکھا اس ‏کے تو دو برابر حصے ہو رہے ہیں، ہاں جی یہ ۱۰ جفت ہے۔ تو دیکھو یہ ‏دعویٰ مع الدلیل کے ہے۔ یہاں پر بھی اسی طرح، دعویٰ کیا کیا گیا؟ تمام ‏حمدیں کس کے لیے ہیں؟ اللہ کے لیے ہیں، یہ دعویٰ کر دیا گیا، اور دلیل بھی ‏ساتھ آ گئی، کیونکہ اس میں لفظ اللہ آ رہا ہے، اور لفظ اللہ کیا بتلا رہا ہے؟ کہ ‏یہ وہ ذات ہے جس میں ساری صفات کمال کیا ہیں؟ جمع، جب ساری صفات ‏کمال اسی کے اندر جمع ہیں، حقیقت میں اسی کی صفات ہیں، تو ساری حمدیں ‏بھی حقیقت میں کس کی ہونی چاہئیں؟ اسی کی ہونی چاہئیں، تو ساتھ دلیل آ گئی ‏یا نہیں؟ تو گویا یوں بن گیا کلام کہ سنو ادھر، اب یوں ہوا کلام، حمد صفت ‏کمال ہے۔ اور تمام صفات کمال بند ہیں اس واجب الوجود کی ذات میں۔ تو معلوم ‏ہوا حمد بھی بند ہے کس میں؟ اس واجب الوجود، پھر سنو، پھر سنو، صغریٰ ‏کبریٰ ملائیں گے ہم، حمد صفت کمال ہے۔ اور تمام صفات کمال اس ذات واجب ‏الوجود میں بند ہیں۔ نتیجہ کیا نکلا؟ حمد بھی اسی ذات میں، پھر سنو، میرا ‏خیال نہیں توجہ ہوئی، حمد کیا ہے؟ صفت کمال ہے، اور تمام صفات کمال بند ‏ہیں اس ذات میں، تو حمد بھی بند ہے اس ذات، جیسے میں کہوں زید درجہ ‏رابعہ میں پڑھتا ہے، اور درجہ رابعہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، نتیجہ ‏کیا نکلا؟ زید بھی بڑا منطقی ہے، تو یہاں بھی دیکھو صغریٰ کبریٰ ہو رہا ہے، ‏حمد کیا ہے؟ صفت کمال، صفت کمال ہے، اور ہر صفت کمال بند ہے اس ذات ‏واجب الوجود الوجود میں، تو حمد بھی بند ہے اسی واجب الوجود، یعنی تمام ‏حمدیں اسی کی ہیں درحقیقت بھئی، اب بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دعویٰ کے ‏ساتھ کیا آ گئی؟ دلیل بھی آ گئی، اور ایک ہوتا ہے اکیلا دعویٰ اور ایک ہوتا ‏ہے دعوے کے ساتھ خود ہی دلیل آ جائے، کس میں لطف زیادہ؟ دعوے کے ‏ساتھ دلیل بھی آ جائے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں "ولِدلالته على هذا الاستجماع" اور اس وجہ سے کہ لفظ اللہ دلالت ‏کر رہا ہے ان صفات کے جمع ہونے پر "صار الكلام" تو یہ والا کلام، کون سا ‏کلام؟ الکلام میں الف لام آیا، یہ والا کلام، کون سا کلام؟ وہ جو الحمد لله اوپر ‏آیا، یہ والا کلام الحمد لله، یہ اس میں اس درجے میں "أن يقال" کہ یوں کہا گیا ‏ہو۔ کہا تو صرف الحمد لله، لیکن درحقیقت کہا گیا کہ الحمد جو ہے صفت کمال ہے ‏واجب الوجود ہے اور اس جس میں ساری صفات کمال جمع ہیں کے اندر بند ‏ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ کلام اسی درجے میں ہو گیا "أن يقال" کہ ‏یوں کہا جائے "الحمد مطلقا" کہ حمد جو ہے مطلقاً "منحصرٌ" وہ بند ہے۔ بند ‏ہے، یعنی اسی کے ساتھ خاص ہے "في حق من هو" اس ذات کے حق میں کہ ‏جو "مستجمع لجميع صفات الكمال" جس میں جمع ہیں، جو جمع کرنے والی ہے ‏تمام صفات کمال، جمع کرنے والی ہے یعنی اس میں جمع ہیں۔ جمع کرنے کا ‏فعل نہیں مراد کہ وہ جمع کرتی ہے وہ ساری صفات کمال کو، نہیں نہیں، وہ ‏جمع کرنے والی ہے یعنی اس میں جمع ہیں اس اس میں جمع ہیں ساری صفات ‏کمال۔ تو گویا یوں کہا گیا کہ حمد مطلقاً بند ہے۔ مطلقاً کیا معنی؟ مطلقاً، أطلق يطلق ‏إطلاق کا معنی ہے آزاد، آزاد، جس میں کوئی قید نہ ہو۔ میں کہتا ہوں "جاءني ‏رجلٌ عالمٌ"، تو میں نے کیا کہا؟ میرے پاس مطلق آدمی آیا تھا یا عالم آدمی آیا ‏تھا؟ میں نے عالم آدمی کا کہا، مطلق کوئی بھی آدمی آیا تھا، میں نے ایسا نہیں ‏کہا۔ تو یہ جو عالم تھی یہ قید بن گئی اس کے لیے، اگر میں صرف یہ کہتا ‏‏"جاءني رجلٌ"، اب اس میں کوئی قید ہے؟ نہیں، تو یہ ہم کہیں گے مطلق ہے، ‏کیا ہے؟ اس میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں، تو حمد، تو حمد بھی مطلقاً، بھئی ‏دیکھو، یہ مثلاً فرض کرو یہ ایک قسم کی حمد ہے، یہ دوسری قسم کی حمد ‏ہے، یہ تیسری قسم کی حمد ہے، یہ چوتھی قسم کی حمد ہے، تو انہوں نے کیا ‏کہا؟ فلاں قسم والی حمد اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے؟ یا مطلقاً ہر حمد کہا؟ ‏مطلقاً یعنی مطلقاً آزاد کہا اس میں کسی قسم کی قید نہیں کہ فلاں ہے اور فلاں ‏نہیں، مطلقاً ہر قسم کی ساری حمدیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مطلقاً کا معنی ‏جس میں کسی قسم کی قید نہ ہو، اس میں ساری کی ساری آ گئیں، یعنی ‏استغراق آ گیا۔ تو یہ مطلقاً لفظ لا کر اشارہ کر دیا کہ الف لام استغراقی یا جنسی لو تاکہ تمام ‏حمدیں آ جائیں، کسی قسم کی قید نہیں ہے کہ فلاں حمد ہے اور فلاں حمد نہیں، ‏تو ال تو یوں کہا گیا گویا کہ الحمد، یہ اسی الحمد لله کا اب ترجمہ کر رہے ہیں، ‏کہتے ہیں گویا کہا تو مصنف نے الحمد لله، لیکن یوں سمجھو کہ یوں یہ کہا کہ ‏‏"الحمد مطلقا منحصرٌ" کہ حمد جو ہے مطلقاً وہ بند ہے "في حق من هو" اس ‏ذات کے حق میں کہ جو کہ "مستجمع لجميع صفات الكمال" کہ جس کے اندر ‏جمع ہیں تمام صفات کمال "من حيث هو كذلك" اس حیثیت سے کہ وہ ایسی ہے، ‏کذلک ک، ک لکھے ہوئے ہیں دونوں اکٹھے، یہ تخفیف مخفف ہے بھئی تخفیف ‏کر دی، كذلك، ک کے بعد ایک ذال بھی آنا تھا اور پھر لام نے بھی آنا تھا، ‏لیکن عربی میں کبھی کبھار مختصر کر دیتے ہیں لفظ کو حذف کر دیتے ہیں ‏تاکہ مختصر ہو جائے، تو یہ كذلك لفظ ہے بھئی، اس حیثیت سے کہ وہ ذات ‏ایسی ہے۔ اس حیثیت سے کہ وہ ذات آسان لفظوں میں یوں کہو، کیونکہ وہ ذات ‏ایسی ہے۔ کیونکہ وہ ذات پھر سنو، حمد بند ہے اس ذات میں، توجہ ہے؟ یہ جو ابھی میں ‏نے عبارت پڑھی اسی کا ترجمہ سمجھا رہا ہوں، حمد مطلقاً بند ہے اس ذات ‏میں جس میں تمام صفات کمال جمع ہیں۔ کیونکہ وہ ذات ایسی ہے، یعنی وہ تمام ‏صفات کمال کو جامع ہے، جب سارے صفات کمال کو وہ جامع ہے، تو حمد ‏بھی کس میں سے ہے؟ صفات کمال میں سے، تو یہ بھی اسی کے اندر بند ہو ‏گی۔ "من حيث" تو اس کا ترجمہ یوں کر لیں، کیونکہ وہ ذات ایسی ہے، کیونکہ ‏وہ ذات کیا معنی ایسی ہے؟ اس میں تمام صفات کمال اس میں جمع، یا یوں ‏ترجمہ کر لو، اس وجہ سے کہ وہ ذات ایسی ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ ذات ‏ایسی ہے "فكان كدعوى الشيء ببينة وبرهان" بینہ اور برہان کا ایک معنی دليل ‏دليل، "فكان" تو وہ ہو گیا "كدعوى الشيء" جیسے کہ ایک چیز کا دعویٰ کیا ‏جائے "ببينة وبرهان" کس کے ساتھ؟ دلیل کے ساتھ "ولا يخفى لطفه" اور اس ‏بات کا لطف پوشیدہ نہیں۔ اس بات کی لطافت اور خوشگوار ہونا پوشیدہ نہیں، ‏ایک ہے دعویٰ دلیل کے ساتھ، ایک دعویٰ بغیر دلیل کے، کون سے کس میں ‏لطف زیادہ؟ جس میں دعویٰ دلیل کے ساتھ ہو، تو یہاں بھی ایسا ہی ہے کہ۔ تو ‏یہ ایسے ہی ہوا جیسے کہ "كدعوى الشيء ببينة وبرهان" جیسے کہ ایک شے ‏کا دعویٰ ہو دلیل کے ساتھ، بینہ اور برہان یعنی دلیل، جیسے کہ ایک شے کا ‏دعویٰ ہو دلیل کے ساتھ "ولا يخفى لطفه" اور اس کا لطف پوشیدہ نہیں بھئی۔ سوال: "فكان كدعوى الشيء"، ک لے آئے، کیا لے آئے؟ کاف تشبیہ کے لیے آتا ‏ہے آپ نے پڑھا ہے، "زيدٌ كالأسد"، زید شیر جیسا ہے، تو میں زید کو تشبیہ ‏دے رہا ہوں کس کے ساتھ؟ شیر کے، تو کاف کس لیے آتا ہے؟ تشبیہ کے لیے۔ ‏آپ نے اتنی لمبی تقریر کی تو آپ کہ الحمد لله میں صرف دعویٰ نہیں ہے، بلکہ ‏دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ہے، توجہ ہے؟ آپ نے اتنی لمبی تقریر کی کہ ‏الحمد لله میں صرف دعویٰ نہیں، بلکہ ساتھ ساتھ کیا ہے؟ دلیل بھی ہے، تو آپ ‏کو کہنا چاہیے "فكان دعوى الشيء ببينة وبرهان"، یہ دعوائے شے ہے بینہ اور ‏برہان کے ساتھ، لیکن آپ کہہ رہے ہیں دعوائے شے ببینہ برہان نہیں، آپ کہہ ‏رہے ہیں اس کی طرح ہے۔ فرق ہے نا دونوں میں، ایک میں کہوں زید شیر ‏ہے اور ایک میں کہوں زید شیر جیسا ہے، دونوں میں فرق ہے یا نہیں ہے؟ تو ‏آپ کو کہنا چاہیے تھا یہ دعوائے شے ہے ببینہ و برہان، لیکن آپ یہ نہیں کہہ ‏رہے کہ یہ شے کا دعویٰ ببینہ اور برہان ہے، بلکہ آپ کہتے ہیں یہ دعوائے ‏شے ببینہ اور برہان جیسا ہے، تو یہ جیسا ہے کیوں کہہ رہے ہو؟ یہاں تو آپ ‏نے بتا دیا، دعویٰ بھی ہے اور بینہ بھی ہے۔ تو جواب یہ کہ بھئی حقیقت میں تو ‏یہاں صرف دعویٰ ہی ہے، دونوں میں فرق تو ہے نا، ایک مفہوم ہونا اور چیز ‏ہے، ایک لفظوں میں صراحتًا کے ساتھ ہونا اور چیز ہے، ایک صرف یہ کہا ‏گیا الحمد لله، اور ایک کہا جاتا کہ حمد بند ہے اللہ کی ذات میں، کیونکہ وہ ‏سارے صفات کمال کو جامع ہے، تو وہ تو تھا دعوائے شے مع بینہ، تو یہ ‏دعوائے شے مع بینہ تو نہیں، لیکن اس جیسا ہے، کیونکہ اس سے سمجھ میں ‏یہی بات آ رہی ہے۔ تو فرق سمجھ میں آیا؟ یہ اسی لیے کہا "فكان كدعوى ‏الشيء ببينة وبرهان"، تو یہ اسی طرح ہوا جیسے کہ کسی شے کا دعویٰ ہو ‏دلیل کے ساتھ "ولا يخفى لطفه" اور اس کا لطف پوشیدہ نہیں بھئی۔ خلاصہ کلام پھر سن لو مختصراً دو منٹ میں۔ آج آپ نے پڑھا لفظ اللہ کے بارے میں، کہ لفظ اللہ وہ علم ہے اس ذات کا جو ‏واجب الوجود ہے اور جس میں ساری صفات کمال جمع ہیں۔ تو لفظ اللہ اس پر ‏دلالت کرتا ہے کہ وہ کس ذات کا نام ہے؟ جو واجب الوجود، اور جس میں ‏ساری صفات کمال جمع۔ تو جب لفظ اللہ ان چیزوں پر دلالت کر رہا ہے، تو ‏الحمد لله یہ کہنا اسی طرح ہو گیا گویا مصنف نے یوں کہا کہ حمد بند ہے کس ‏کے اندر؟ اس ذات کے اندر جس جس میں تمام صفات کمال جمع ہیں۔ کیونکہ ‏وہ ذات ایسی ہے، یعنی اس میں ساری صفات کمال جمع ہیں، کیونکہ حمد بھی ‏کیا ہے صفت کمال، اور تمام صفات کمال جمع ہیں اس ذات میں، تو حمد بھی ‏ساری جمع ہے اس ذات کے اندر، اسی کے ساتھ خاص ہے، تو یہ اسی طرح ‏ہو گیا جیسے کہ ایک چیز کا دعویٰ کیا جائے اور ساتھ ساتھ دلیل، یہ ہے ایسا ‏نہیں کہ دعویٰ بھی ہے اور ساتھ دلیل، لیکن اسی جیسا ہے، کیونکہ سمجھ میں آ ‏رہا ہے اس سے، اور اس کا لطف کہتے ہیں پوشیدہ نہیں، کل اس سبق کو انشاءاللہ دوبارہ پورے تفصیل کے ساتھ کر لیں گے، اگر کوئی ‏کمی وغیرہ ہوئی، اور کوئی بات آپ کو ابھی تک پوری طرح سمجھ میں نہیں ‏آئی، جب کل دوبارہ کریں گے، تو مکمل انشاءاللہ حل ہو جائے گا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔