علامہ تفتازانی کے معاصر میر سید السند الشریف الجرجانی تھے، جو کہ حنفی ہیں۔ ان میں مناظرے ہوتے، یہاں تک لکھا ‏ہے؟ آگے لکھیے بھئی‎!‎ میر سید السند بادشاہ تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پھر رسائی کے بعد دونوں میں چپقلشِ معاصرانہ—چپقلش: چ، ‏پ، ق دو نقطوں والا، ل، اور ش—معاصرانہ: م، ع، ا، ص، ر، ا، ن، اور گول ہ۔ لکھ لیا بھئی؟ چپقلشِ معاصرانہ۔ پھر ‏رسائی کے بعد دونوں میں چپقلشِ معاصرانہ شروع ہو گئی۔ ان دونوں کے درمیان دو بڑے مناظرے ہوئے۔ ان دونوں کے درمیان دو مناظرے بڑے ہوئے۔ ایک مناظرہ اس موضوع ‏پر ہوا—مناظرہ: ط، ظ، ظ آئے گی بیچ میں بھئی مناظرہ میں—ایک مناظرہ اس موضوع پر ہوا کہ انتقام سببِ غضب ہے ‏کہ انتقام سببِ غضب ہے۔ غضب میں ض آئے گا بھئی درمیان میں، ض—کہ انتقام سببِ غضب ہے یا غضب سببِ انتقام ‏ہے۔ انتقام سببِ غضب ہے یا غضب سببِ انتقام ہے۔ علامہ تفتازانی کہتے تھے کہ انتقام سببِ غضب ہے، اس میں اسے ‏شکست ہوئی۔ دوسرا مناظرہ آيت "أولئک على هدى من ربهم"—أولئک: الف کے بعد واؤ بھی لکھنا ہے بھئی أولئک، ل، ل کے بعد دندانہ ‏ہے اور اس کے نیچے ہمزہ ہے، آگے کاف ہے چھوٹا، أولئک—على هدى: ه، د، اور ي ہے بھئی د کے اوپر دو زبر آ ‏جائیں گے، ه، د، اور ي، أولئک على هدى من ربهم—لکھ لیا بھئی؟ دوسرا مناظرہ آيت "أولئک على هدى من ربهم" کے ‏بارے میں ہوا—علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہاں استعارہ—ا، س، ت دو نقطوں والی، ع، ا، ر، اور گول ہ، استعارہ—‏تبعیت—ت دو نقطوں والی، ب، ع، ي، اور گول ہ، تبعیت۔ لکھ لیا بھئی؟ استعارہ تبعیت اور استعارہ تمثیلیت—تمثیلیت: ‏تمثیل میں ث آئے گی ا، ب، ت، ث—اس میں یہاں استعارہ تبعیت اور استعارہ تمثیلیت جمع ہیں اور دونوں جمع ہو سکتے ‏ہیں۔ جبکہ میر سید السند فرماتے ہیں کہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ بادشاہ تیمور لنگ خود بھی یہ مناظرہ دیکھنے آیا۔ سید السند نے تفتازانی ہی کی کتابوں سے بھی حوالے دیے—کیا لکھا؟ سید السند نے تفتازانی ہی کی کتابوں سے بھی ‏حوالے دیے—سید السند کے حق میں مناظرے کا فیصلہ کر دیا گیا۔ یہ مناظرہ 791 ہجری کے—791: 7، 9، 1—یہ ‏مناظرہ 791 ہجری کے آخر میں ہوا۔ تیمور لنگ نے میر سید السند کو شیخ الاسلام بنا دیا۔ علامہ تفتازانی اپنی سبکی—س، ‏ب، ک چھوٹا، اور ي، سبکی—علامہ تفتازانی اپنی سبکی پر دل برداشتہ ہو گئے اور غم کی وجہ سے چند ماہ میں ہی ‏انتقال فرما گئے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ غم ایسی چیز ہے، انسان کو ختم کر دیتا ہے۔ اتنے غمزدہ ہوئے، چند ماہ میں ہی ان کا انتقال ہو ‏گیا غم کی وجہ سے بھئی۔ اور یہ بہت بڑے علامہ تھے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بادشاہ کا یہ رویہ جس کی وجہ سے وہ غمزدہ ‏ہوئے بھئی۔ کسی ایک مسئلے کے اندر کسی عالم کی کمزوری کسی مسئلے میں ہونا، اس سے اس کے علم میں کوئی کمی ‏نہیں آتی بھئی۔ علامہ تفتازانی بہت بڑے عالم تھے بھئی، بہت بڑے! کسی ایک مسئلے میں کمزوری سے کوئی عالم چھوٹا ‏نہیں ہو جاتا بھئی۔ پہلے میں پہلا، دو بڑے مناظرے ہوئے بھئی۔ پہلے میں بھی علامہ تفتازانی کو شکست ہوئی اور دوسرے میں بھی۔ تو یہ ‏میر سید السند، علامہ تفتازانی کے واسطے سے ہی بادشاہ تک پہنچا تھا۔ سمجھ میں آیا؟ اس نے علامہ تفتازانی سے کہا ‏تھا، ملا اور کہ "میں فوجی ہوں، بڑا تیر اندازی میں بہت بڑا ماہر ہوں، بادشاہ سے کسی طرح میری ملاقات کروا دو، میں ‏اس کو اپنا کمال دکھاؤں گا۔" تو علامہ تفتازانی لے گئے اس کو اپنے ساتھ اور بادشاہ کے سامنے پیش کیا اور ذکر کیا کہ ‏‏"یہ کہتا ہے کہ میں تیر اندازی کا بہت ماہر ہوں"۔ بادشاہ نے کہا "دکھاؤ بھئی اپنا کمال"۔ تو میر سید السند نے اپنے پاس ‏کچھ علمی چیزیں جو لکھی ہوئی تھیں، وہ نکال لیں اور بادشاہ کو سنانا شروع کر دیں کہ "یہ ہیں میرے تیر"۔ اور بڑے ‏علمی اعتراضات وغیرہ بعض کتابوں پر اور بہت اونچے اعتراضات وغیرہ تھے، بادشاہ بڑا متاثر ہوا بھئی۔ چنانچہ پھر ‏بادشاہ تک رسائی ان کی بھی ہو گئی اور پھر ویسے یہ علامہ تفتازانی کے شاگردوں کے درجے میں تھے بھئی، کم عمر ‏تھے ان سے، چھوٹے تھے بھئی۔ تو بہرحال ایک اور علامہ تفتازانی کی زبان میں لکنت تھی تھوڑی سی، وہ اٹک اٹک کے بولتے تھے۔ قلم تو ان کا ایسا ‏زبردست تھا کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، ایسی زبردست تحریر تھی کہ انسان آج بھی پڑھتا ہے حیران رہ جاتا ہے۔ ‏لیکن زبان بولنے میں اتنے تیز نہیں تھے، زبان میں کچھ لکنت تھی بھئی۔ جبکہ میر سید السند بولنے میں تیز تھے بھئی۔ تو ‏دو مناظرے ہوئے بھئی، ایک تو مناظرہ اس پر کہ انتقام سببِ غضب ہے یا غضب سببِ انتقام—انتقام سببِ غضب ہے۔ ‏انتقام کا معنی ہے نا بدلہ لینا، بدلہ لینا، کہ پہلے انسان میں بدلہ لینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، پھر اس کو غصہ آتا ہے؟ یا پہلے ‏غصہ آتا ہے اور پھر بدلہ لینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے؟ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ کیا؟ کہ پہلے بدلہ لینے کا جذبہ پیدا ہوتا ‏ہے پھر اس کو غصہ آتا ہے یا پہلے غصہ آتا ہے اور اس کی وجہ سے کیا ہے؟ یا یوں کہو دوبارہ سنو! پہلے یہ کہ بدلہ ‏لینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اس جذبے کی وجہ سے انسان کو غصہ آتا ہے، یا پہلے غصہ آتا ہے اور اس غصے کی ‏وجہ سے پھر بدلہ لینے کا جذبہ اس میں پیدا ہوتا ہے۔ تو اس میں اختلاف ہوا اور علامہ تفتازانی کہتے تھے کہ انتقام سببِ ‏غضب ہے، پہلے بدلہ لینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کی وجہ سے انسان کو غصہ آ جاتا ہے۔ تو بہرحال اس میں ‏میر سید السند جیت گئے بھئی۔ دوسرا یہ جو آیت ہے "أولئک على هدى من ربهم"، یہاں ایک استعارہ تبعیت ہے اور ایک استعارہ تمثیلیت، دونوں جمع ہیں ‏علامہ تفتازانی فرماتے ہیں، دونوں استعارے جمع ہیں اور دونوں جمع ہو سکتے ہیں، جبکہ میر سید السند فرماتے تھے کہ ‏دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ اور اس میں بھی علامہ تفتازانی کو شکست ہوئی بھئی۔ یہ تھے بھئی ماتن کے احوال ‏بھئی۔ اب آگے لکھیے بھئی! شارح کے احوال۔ شارح کے احوال مختصر سے ہیں بھئی، ان کی تفصیل کوئی ایسی نہیں ہے۔ یاد ‏رکھیے بھئی! پہلے ایک بات یاد رکھیں، یہ جو علامہ تفتازانی کا متن ہے نا تہذیب، اس کی کئی شروحات لکھی گئی ہیں ‏بھئی، یہ بڑی مقبول کتاب! اور کئی شروحات لکھی گئی ہیں، تو یہ بھی اس کی ایک شرح ہے، شرح تہذیب جو ہم پڑھیں ‏گے، یہ شرح۔ تو اس کے علاوہ بھی اس کی اور شروحات لکھی گئی ہیں، یہ یاد رکھنا بھئی‎!‎ تو لکھیے بھئی! احوالِ شارح۔ تہذیب کی جو شرح ہم پڑھیں گے، اس کے مصنف کا نام عبد اللہ ابن حسین یزدی ہے—یزدی ‏ہے: ي، ز، د، اور ي—عبد اللہ ابن حسین یزدی ہے: ي، ز، د، ي، یزدی ہے۔ اور یہ شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور ‏ان کی اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ علمِ منطق میں بڑی مہارت رکھتے تھے اور ان کی اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے ‏کہ یہ علمِ منطق میں بڑی مہارت رکھتے تھے، اور ان کی وفات 1015 ہجری—1، 0، 1، 5—1015 ہجری میں اصفہان ‏شہر میں ہوئی اور ان کی وفات 1015 ہجری میں اصفہان شہر میں ہوئی۔ یہ شاگرد ہیں علامہ دوانی کے۔ تہذیب کی ایک شرح علامہ جلال الدین دوانی نے بھی لکھی، علامہ جلال الدین دوانی نے ‏بھی لکھی ہے اور اس شرحِ دوانی کی شرح میر زاہد ہروی نے لکھی ہے—ہروی: ه، ر، و، اور ي، ه کے نیچے زیر ‏ڈالیں، ر پر زبر ڈالیں، و کے نیچے پھر زیر ڈالیں، ہروی، لکھ لیا بھئی؟—تو اس شرحِ دوانی کی شرح میر زاہد ہروی نے ‏لکھی ہے اور یہ شرحِ میر زاہد اور شرحِ دوانی داخلِ درس ہیں۔ یہ شرحِ میر زاہد اور شرحِ دوانی بھی داخلِ درس ہیں۔ ‏شرحِ دوانی ملا جلال کے نام سے معروف ہے، شرحِ دوانی ملا جلال کے نام سے مشہور ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو منطق کی کتابیں، بہت سی کتابیں مصنفوں کے ناموں سے مشہور ہیں، مثلاً ملا حسن، یہ ‏مصنف تھے تو ان کی کتاب بھی اسی نام سے مشہور ہے، ملا حسن کہتے ہیں۔ یہ علامہ جلال الدین دوانی کی شرح ہے تو ‏یہ ملا جلال کے نام سے مشہور ہے۔ ایک اسی طرح ایک کتاب کی شرح قاضی مبارک نے لکھی ہے تو وہ نام ہی اس کا ‏قاضی مبارک، اسی نام سے ہی وہ مشہور ہے، قاضی مبارک بھئی۔ چلیے بس بھئی! یہ ابتدائی باتیں مکمل ہو گئیں اور انشاء اللہ کل سے ہم باقاعدہ کتاب کی عبارت شروع کر دیں گے بھئی۔ ‏چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ چلیے، بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تیمور لنگ کا ذکر آیا بھئی، تیمور لنگ۔ ہمارا خاندان جو ہے ‏ہاشمی سید ہے بھئی، سید۔ اور یہ سلسلہ پہنچتا ہے حضرت فاطمہ کے واسطے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک بھئی۔ ‏لیکن والد صاحب کی عادت تھی، سید تو ہمیشہ لوگ نام کے ساتھ لکھتے ہیں، والد صاحب نہیں لکھتے تھے، اب ہم بھی ‏اسی طرح نام کے ساتھ لکھتے نہیں ہیں بھئی۔ بس اللہ نیک اعمال کی توفیق نصیب فرمائے بھئی۔ تو ہاشمی سید، اور ‏ہمارے خاندان کے ایک بہت بڑے ولی اللہ اور بزرگ گزرے ہیں افغانستان میں، کوئی یہی یہی تیمور لنگ کے زمانے میں ‏وہ گزرے ہیں بھئی۔ اور ان کا نام تھا شیخ محمد روحانی رحمہ اللہ۔ یہ والد صاحب نام کے ساتھ جو روحانی لکھتے ہیں، یہ ‏انہی کی نسبت سے لکھتے ہیں۔ اور یہ اس زمانے میں تھے افغانستان میں، غزنی کے علاقے میں، اور وہی اور انہوں نے ‏عظیم دین کی خدمات سرانجام دیں اس علاقے میں بھئی۔ اور ان کے خلفاء کی تعداد تین ساڑھے تین سو سے بھی زائد تھی ‏بھئی، بہت بڑے ولی تھے، بڑی خدمات ان کی بھئی! بدعات وغیرہ کو ختم کیا اس نے سارے علاقوں سے اور اسلام کو ‏پھیلایا۔ اور پورے افغانستان میں ان کی شہرت ہے بھئی، جیسے حضرت علی ہجویری لاہور میں، ان کا مزار پورے ‏پاکستان میں مشہور ہے، داتا گنج بخش کے نام سے مشہور ہے یا نہیں؟ یہ پورے... تو اسی طرح شیخ محمد روحانی رحمہ ‏اللہ جو ہیں، وہ بھی پورے افغانستان میں مشہور اور ان کو روحانی صاحب یا روحانی بابا کے نام سے مشہور بھئی، ان کا ‏مزار ہے وہاں پر۔ تو کہتے ہیں وہ جو شجرہِ نسب بعض جو ہیں، ان میں یہ واقعہ لکھا ہوا ہے کہ تیمور لنگ ایک دفعہ اس علاقے سے گزرا ‏تھا، وہ اسی علاقے کا تھا نا، تیمور لنگ افغانستان اور ایران کا یہ جو سارا علاقہ ہے، اور حکومت اس کی بہت وسیع تھی ‏بھئی، بہت وسیع تھی! تو وہ کہتے ہیں ایک دفعہ اس جگہ سے گزر رہا تھا، کہیں جنگ وغیرہ کے لیے جا رہا تھا، تو ‏کسی نے ان کو بتایا کہ یہاں ایک اللہ کے بہت بڑے ولی ہیں اور تو تیمور لنگ بھی ان کو ملنے آیا بھئی وہاں پر گزرتے ‏ہوئے۔ پھر ان کو ملنے آیا اور تیمور لنگ کی کہتے ہیں ایک بیٹی تھی، وہ بہت بیمار تھی، اس کا علاج کروا کروا کروا وہ ‏تھک گیا تھا، لیکن وہ ٹھیک نہیں ہو رہی تھی۔ تو وہ ان بزرگ سے بھی ملا اور ان سے، حضرت ان محمد روحانی رحمہ ‏اللہ سے ملا اور بڑا متاثر ہوا ان کی شخصیت سے بھئی۔ بزرگوں کا اللہ نے ایسا رعب وغیرہ رکھا ہوتا ہے جسے لفظوں ‏میں بیان نہیں کیا جا سکتا اگرچہ وہ سادہ انسان ہوتے ہیں، لیکن قدرتی جب اللہ والا ہوتا ہے، دوسرے کا دل جو ہے وہ اس ‏پر رعب طاری ہو جاتا ہے۔ تو بس تیمور لنگ پر ان کا بڑا اثر ہوا اور پھر تیمور لنگ نے ان سے دعا کی درخواست کی اور اپنی بیٹی کے بارے میں ‏کہ "یہ بہت شدید بیمار ہے، اس کے لیے دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ اس کو ٹھیک فرما دیں"۔ ان کے پاس لے کر آیا ان کو، تو ‏انہوں نے اس پر دم وغیرہ بھی کیا اور دعا کی، کہتے ہیں ان کی دعا سے، ان کی کرامت سے اللہ نے اسی وقت اس کی ‏بیٹی کو ٹھیک کر دیا بھئی، اسی وقت ٹھیک ہو گئی۔ اور تیمور لنگ اتنا خوش ہوا کہ اتنے عرصے سے یہ تکلیف اور ‏پریشانی تھی، آپ کی دعا سے اللہ نے یہ پریشانی دور فرمائی، تو خوش ہو کر کہ "میری اس بیٹی کو آپ کی وجہ سے ‏زندگی ملی ہے، اس لیے یہ میں آپ ہی کو سونپتا ہوں"۔ چنانچہ انہی سے نکاح کر دیا، ان کے عقد میں دے دیا ان کو، عقد ‏میں دے دیا! تو یہ سید محمد روحانی جو ہیں نا، یہ ہمارے آباؤ اجداد میں سے ہیں۔ اور جس بادشاہ کی وہ جو بیٹی ان کے ‏عقد میں آئی تھی، ہماری نسل انہی کے واسطے سے ان تک پہنچتی ہے بھئی۔ انہی بیٹی سے ان کے ایک بیٹے تھے، احمد ‏نام تھا، وہ بھی بڑے ولی اللہ تھے۔ ان سے ہمارا نسب ان تک پہنچتا ہے۔ بڑا قریب تھا، یہ ساری دنیا کا بادشاہ بن جاتا، بہت بڑی حکومت تھی، بہت بڑی حکومت تھی! معلوم ہوا بہت بڑی سلطنت ‏تھی، اگرچہ اس بات میں مبالغہ بھی ہو، لیکن معلوم ہوا کوئی چھوٹی سلطنت نہیں تھی اس کی، بہت بڑی، یعنی اس کے ‏مقابلے کی کوئی اور سلطنت تھی ہی نہیں اس وقت دنیا میں، اتنی بڑی سلطنت اور اتنی بڑی حکومت تھی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ ‏وہ زمانہ تھا جب مسلمان دنیا میں سپر پاور تھے بھئی، کوئی ان کے مقابلے میں نہیں تھا۔ اور جب دین سے دور ہو گئے ‏مسلمان، تو اللہ نے بھی غیروں کو ان پر مسلط کر دیا، آج ہمارے اخلاق کی حالت تو دیکھو! بچہ بچہ، پانچ چار سال کا بچہ ‏بھی جھوٹ بول رہا ہوتا ہے، دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے، وہ بڑوں کو دیکھتا ہے کہ سب اس طرح کر رہے ہیں۔ ہر ‏شخص اپنے مفاد کے لیے دوسرے کو کچھ بھی ہو جائے، "میرا فائدہ ہو جائے، باقی چاہے کوئی مرے جئے، مجھے اس ‏سے غرض نہیں ہے"۔ حالانکہ حدیث میں آتا ہے: "الدين النصيحة"، دین تو خیر خواہی ہی کا نام ہے! ہر ایک سے خیر خواہی کرنا، جیسے اپنے ‏سگے بھئی کے لیے انسان ہر چیز میں خیر خواہی کرتا ہے، خود تکلیف اٹھا لیتا ہے لیکن اپنے بھئی کو تکلیف نہیں ہونے ‏دیتا بھئی، اسلام تو یہی سکھاتا ہے۔ ہر شخص، مسلمان نہیں، کافر کے ساتھ بھی آپ کا واسطہ پڑے، تو آپ کا اخلاق ایسا ‏ہونا چاہیے اپنے اوپر اس کو ترجیح دیں، خود تکلیف اٹھا لو، اسے تکلیف نہ ہونے دو، آپ دیکھیں گے وہ کلمہ پڑھ کر ‏اسلام میں آپ کے سامنے داخل ہو جائے گا۔ اسلام اس طرح پھیلتا تھا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ابھی قریب کی بات بھئی میں نے کہیں سنا، بلکہ جس جو مسلمان ہوا تھا، خود اسی کا انٹرویو وغیرہ تھا، کوئی وہ اپنے ‏احوال بیان کر رہا تھا۔ اس نے کہا: "میں ترکی میں گیا، میں ترکی سیر کرنے گیا تھا اپنی بیوی کے... بڑی عمر کا تھا، ‏بوڑھا آدمی، میں بھی تھا اور میری بیوی بھی تھے... بیوی بھی تھی اور ہم سیر کرنے گئے ترکی میں۔ گھومتے گھومتے ‏ایک مرتبہ ہم ایک گاؤں پہنچے، رات کا وقت ہو چکا تھا، تو اب سمجھ نہیں آ رہی کہ کہاں رہیں، کوئی ہوٹل وغیرہ بھی ‏نہیں مل رہا، تو راستے میں ایک ترکی کا... ترکی شہری ملا، تو اس نے مجھے کہا... بڑا خوش ہوا کہ آپ تو ہمارے ‏مہمان ہیں بھئی، اسلام نے تو ہمیں مہمان کا اکرام کرنے کا حکم دیا ہے، آئیے آئیے ہمارے گھر آپ آ جائیے، آپ یہاں ‏رہیے۔" کہتے ہیں: "مجھے وہ گھر لے گیا بھئی، تو اس کی بیوی بھی تھی، بیٹیاں بھی تھیں، تو کمرے میں لے گیا اور ‏کھانا وغیرہ ہم نے کھایا۔ کھانا کھانے کے بعد اس نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ یہی آرام کریں، ہم ساتھ دوسری جگہ ہے، وہاں ‏آرام کر لیتے ہیں۔ چنانچہ میں اور میری بیوی، دونوں بوڑھے تھے، کہتے ہیں ہم دونوں لیٹ گئے، سو گئے۔ کہتے ہیں ‏صبح ہم اٹھے، باہر نکلے تو دیکھا وہ ترکی اور اس کے بیوی بچے باہر درخت کے نیچے سو رہے ہیں بھئی! ان کا وہی ‏ایک ہی کمرہ تھا، کہتے ہیں میں بڑا حیران ہوا اور میں نے اس سے کہا کہ تم پاگل ہو؟ یہ کیسا کام تم نے کیا؟ اتنی شدید ‏سردی میں تم لوگ باہر لیٹ گئے اور ہمیں اندر سلا دیا؟" ترکی میں تو بہت سردی ہوتی ہے بھئی، ٹھنڈا علاقہ ہے، بہت ‏ٹھنڈا علاقہ ہے۔ "ہمیں اندر سلا دیا تم نے؟" تو وہ کہنے لگے بھئی: "آپ ہمارے مہمان تھے اور حضور صلی اللہ علیہ ‏وسلم نے مہمان کے اکرام کا حکم دیا ہے، یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ہم آپ کا اکرام نہ کرتے؟‎"‎ اس کے اس بات نے ہمارے دل پہ اتنا اثر کیا کہ جب میں اور میری بیوی واپس آئے، ہم نے اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ‏چند ماہ تک ہم مطالعہ کرتے رہے اور پھر اس کے بعد میں بھی مسلمان ہو گیا، میری بیوی بھی مسلمان ہو گئی۔ اسلام اس ‏طرح پھیلتا تھا بھئی، اس طرح پھیلتا تھا‎!‎ اور آج کا مسلمان... ہمارا اخلاقی زوال اس حد تک پہنچ گیا، چاہے ہمیں جھوٹ بولنا پڑے، چاہے دھوکہ دینا پڑے، چاہے ‏کچھ کرنا پڑے، بس ذاتی مفاد! اپنا ذاتی فائدہ ہو جائے۔ حالانکہ یہ مومن کا طریقہ کار نہیں ہے، یہ صحابہ کا طریقہ نہیں ‏ہے، یہ حضور کا بتایا ہوا طریقہ نہیں ہے: "الدين النصيحة"، دین تو خیر خواہی ہی ہے، اور کچھ نہیں! صرف اور صرف ‏کیا؟ خیر خواہی! ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی کرنا اور اپنی ضرورت چھوڑ دینا، لیکن دوسرے کی ضرورت پوری کر ‏دینا بھئی۔ اپنی تکلیف اٹھا لینا، لیکن دوسرے کی مدد کر دینا بھئی، دوسرے کی مدد کر دینا۔ آپ بھی اس راستے کو اپنا لو، ‏اللہ تک پہنچ جاؤ گے بھئی! اللہ ایسی ایسی کامیابیاں دے گا، تکلیفیں تو آئیں گی، یہ راستہ تو ہے تکلیفوں والا، لیکن جتنی ‏تکلیف آئے گی، آپ دیکھیں گے آپ کا دل خوشیوں سے بھرتا چلا جا رہا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ خوشی بڑھتی جا ‏رہی ہے، بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ خوشی دل میں اللہ ڈالتے ہیں۔ جب آپ اللہ کے راستے پر چلیں گے، اللہ اطمینان و ‏سکون اور خوشیوں سے آپ کا دل بھر دیں گے۔ تو کسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ، چاہے کافر ہی کیوں نہ ہو کافر! اور اللہ دین ‏کا اتنا کام لے لیں گے کہ آپ حیران رہ جائیں گے، حیران رہ جائیں گے‎!‎ آج بھی بعض اوقات پرانے، کوئی چھوٹا سا دیہات ہوتا ہے اور وہاں پر وہ مسجد وغیرہ بڑی کرتے ہیں یا کچھ، اس کے ‏آس پاس وہ جو امام کوئی پہلے دفن ہوتا ہے پرانا، چھوٹا سا گاؤں 15، 20، 40 افراد والا، تو قبر کبھی... یہ ایک آدھ دفعہ ‏نہیں، کئی واقعات ہو چکے ہیں! قبر کھودتے ہیں، دیکھتے ہیں وہ امام صحیح سلامت اس کے اندر موجود ہے، اس کی ‏میت، اس کو ذرا بھی نقصان نہیں ہوا، حالانکہ اس کے انتقال کو بیسیوں سال یا کئی دہائیاں گزر چکی ہیں یا کئی صدیاں ‏گزر چکی ہیں۔ تو اگر بظاہر دیکھا جائے، ایک چھوٹے سے گاؤں کا امام گزرا، چھوٹے سے گاؤں کا! لیکن وہاں وہ اللہ کے بتائے ہوئے ‏طریقے پر چل رہا تھا، خیر خواہی کے ساتھ چل رہا تھا، اخلاص سے دین کا کام کر رہا تھا، چاہے تھوڑا سا ہی اس نے ‏کام کیا، لیکن اللہ کے ہاں مقبول تھا بھئی، اللہ کا محبوب تھا‎!‎ سمجھ میں آیا؟ تو دعا کرو اللہ ہم سب کو صحابہ کے اخلاق نصیب فرمائے بھئی، اور ہمیں دین کی اشاعت کرنے والا ‏بنائے اور خیر خواہی کرنے والا مسلمان اللہ ہم کو بنائے بھئی۔ چلیے بس، چند یہ باتیں ذہن میں آئیں تو آپ کے سامنے ذکر ‏کر دیں بھئی۔