اچھا جی لکھیے بھئی اگے۔ ‎ ‎عنوان: ایک عظیم فائدہ۔ ایک عظیم فائدہ۔ منطق کی تمام کتابوں میں، منطق کی تمام کتابوں میں، علمِ منطق کی وہی تعریف مذکور ہے، علمِ منطق کی وہی تعریف ‏مذکور ہے جو گزشتہ سبق میں آپ نے لکھی، جو گزشتہ سبق میں آپ نے لکھی کہ علمِ منطق وہ علم ہے، کہ علمِ منطق وہ ‏علم ہے جو نظر و فکر میں، جو نظر و فکر میں انسان کی غلطی سے، انسان کی غلطی سے حفاظت کرتا ہے، حفاظت کرتا ‏ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ آپ نے کیا تعریف لکھی تھی کہ علمِ منطق وہ علم ہے جو نظر و فکر میں انسان کو غلطی ‏سے بچاتا ہے، غلطی سے۔ اور نظر و فکر اور تصور اور تصدیق وغیرہ کا ذکر آیا تھا گزشتہ سبق میں تعریف کے اندر ‏اور میں نے بتلایا کہ یہ آگے ان کا تفصیلاً ذکر آ جائے گا۔ بس فی الحال ابھی یہ تعریف آپ یاد کر لیں کہ علمِ منطق جو ہے ‏نظر و فکر میں غلطی سے انسان کو بچاتا ہے۔ کیا لکھا؟ تو کہ تمام کتابوں میں علمِ منطق کی یہی تعریف درج ہے جو ‏گزشتہ سبق میں آپ نے لکھی کہ علمِ منطق وہ علم ہے جو نظر و فکر میں انسان کو غلطی سے بچاتا ہے۔ جی آگے لکھیے۔ لیکن میرے والدِ محترم، لیکن میرے والدِ محترم شیخ الحدیث والطفسییر، شیخ الحدیث والطفسییر، شیخ ‏الحدیث والطفسییر حضرت مولانا، حضرت مولانا محمد موسیٰ، محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ، رحمہ اللہ، رحمۃً ‏واسعۃً، رحمۃً واسعۃً فرماتے تھے، فرماتے تھے کہ عام کتابوں میں، کہ عام کتابوں میں علمِ منطق کی جو تعریف درج ہے، ‏کہ عام کتابوں میں علمِ منطق کی جو تعریف درج ہے وہ درست نہیں ہے، وہ درست نہیں ہے۔ درجۂ سادسہ میں، درجۂ سادسہ میں جب ہم حضرت شیخ رحمہ اللہ سے، جب ہم حضرت شیخ رحمہ اللہ سے شرحِ عقائد ‏کتاب پڑھ رہے تھے، شرحِ عقائد کتاب پڑھ رہے تھے اور کتاب کے آغاز میں، اور کتاب کے آغاز میں علمِ کلام کی وجہِ ‏تسمیہ، علمِ کلام کی وجہِ تسمیہ یعنی علمِ کلام کو، علمِ کلام کو، علمِ کلام کیوں کہا جاتا ہے؟ یعنی علمِ کلام کو علمِ کلام کیوں ‏کہا جاتا ہے؟ ذکر کرتے ہوئے، ذکر کرتے ہوئے جب یہ عبارت آئی، جب یہ عبارت آئی "ولأنه يورث قدرةً على الكلام في ‏تحقيق الشرعيات وإلزام الخصوم كالمنطق للفلاسفة‎"‎ ترجمہ بھی اس کا لکھ لیں۔ ترجمہ: علمِ کلام کو علمِ کلام اس لیے کہتے ہیں، علمِ کلام کو علمِ کلام اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ‏یہ انسان میں قدرت پیدا کرتا ہے، کیونکہ یہ انسان میں قدرت پیدا کرتا ہے کہ وہ کلام کر سکے، کلام کر سکے شرعیات ‏کی تحقیق میں، شرعیات کی تحقیق میں اور فریقِ مخالف پر اعتراض کرنے کی، اور فریقِ مخالف پر اعتراض کرنے کی ‏جیسے کہ منطق ہے فلاسفہ کے لیے، جیسے کہ منطق ہے فلاسفہ کے لیے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ پھر دیکھ لو عبارت کو "ولأنه يورث قدرةً" کہ علمِ کلام کو علمِ کلام اس لیے کہتے ہیں ‏‏"لأنه يورث قدرةً" کیونکہ یہ قدرت پیدا کرتا ہے "على الكلام" کس چیز کی قدرت پیدا کرتا ہے؟ کلام کرنے کی، بولنے کی، ‏بات کرنے کی قدرت پیدا کرتا ہے۔ کس چیز میں؟ "في تحقيق الشرعيات" شرعی چیزوں کی تحقیق کرنے میں، یعنی ان کو ‏ثابت کرنے میں کہ آپ دلائل کے ذریعے کیا کرتے ہیں شرعی احکام، مسائل، عقائد وغیرہ کو کیا کرتے ہیں؟ ثابت کرتے ‏ہیں، دلیل بناتے ہیں۔ تو اس علمِ کلام کے ذریعے آپ کیا کس چیز پر قادر ہو جاتے ہیں کہ شرعی مسائل اور عقائد وغیرہ ‏کے بارے میں دلائل پیش کر سکیں۔ جب یہ علم آپ کو آ جائے گا علمِ کلام تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ دلائل کے یہ شرعی ‏چیزوں کے لیے کیا پیش کر سکتے ہیں؟ دلائل پیش کر سکتے ہیں، دلائل پیش کر سکتے ہیں۔ شرعی چیزوں کے ثابت ‏کرنے کے بارے میں کلام کرنا، یعنی دلائل وغیرہ ذکر کرنا، اس کی بھی قدرت پیدا کرتا ہے اور إلزام الخصوم جو ہے ‏اس کی بھی قدرت پیدا کرتا ہے، یعنی اس میں بھی انسان إلزامِ خصوم... خصم کہتے ہیں فریقِ مخالف کو جس سے آپ کی ‏بحث ہو رہی ہے، جس سے آپ کا مناظرہ وغیرہ ہو رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ خصوم خصم کی جمع ‏فریقِ مخالف کو کہتے ہیں۔ إلزام کا معنی ہے اس پر کوئی چیز لازم کرنا، اس میں یعنی اس پر اعتراض کرنا، اس کا رد ‏کرنا۔ تو علمِ کلام جب آپ سیکھ لیتے ہیں تو آپ دلائل کے ذریعے شرعی چیزوں کو بھی ثابت کر سکتے ہیں، یعنی یوں ‏کہیں اپنی بات کو ثابت کر سکتے ہیں جو شرعی چیزیں ہیں جو آپ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں اور فریقِ مخالف کی بات کو ‏رد کر کے اس پر اعتراض بھی کر سکتے ہیں کہ آپ اس کی بات کو رد کرتے ہیں کہ آپ کی بات ٹھیک نہیں ہے اور یہ ‏بات اس کے لیے آپ باقاعدہ دلائل ذکر کر سکتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو علمِ کلام کو علمِ کلام کیوں کہتے ہیں؟ ‏کہ قدرت پیدا کرتا ہے کہ وہ کلام کر سکے۔ کس چیز کے بارے میں کلام کر سکے؟ شرعیات کو ثابت کرنے کے، ان کی ‏تحقیق کے بارے میں یعنی ان کے بارے میں دلائل ذکر کرنے کے بارے میں اور فریقِ مخالف پر رد کرنے کی قدرت۔ ‏صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ اس پر وہ کلام کر سکے بھئی، کلام کر سکے۔ جیسے کہ منطق ہے کس کے لیے؟ فلاسفہ ‏کے لیے۔ معلوم ہوا جب منطق سیکھے گا تو فلسفی بھی اپنی بات ثابت کر سکے گا اور دوسرے کی بات کیا کر سکے گا؟ ‏رد کر سکے گا، جیسے منطق ہے کس کے لیے؟ فلاسفہ کے لیے۔ تو علمِ کلام سے شرعی چیزوں میں بات کرنے کا ملکہ ‏پیدا ہوتا ہے۔ علمِ کلام سے شرعی چیزوں میں کلام کرنے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے اور اپنے مخالف کو جواب دینے کا ملکہ ‏پیدا ہوتا ہے جیسے کہ منطق سے، منطق کی وجہ سے فلاسفہ کو کلام کرنے کا ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کو ‏ثابت کر سکیں اور دوسرے کی بات کو کیا کر سکیں؟ رد کر سکیں۔ چلیے، یہ تو خیر میں عبارت سمجھا رہا تھا۔ آگے لکھیے بھئی! تو جب شرحِ عقائد میں یہ عبارت آئی، تو جب شرحِ عقائد میں یہ عبارت آئی اس موقع پر والد صاحب ‏رحمہ اللہ، والد صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ منطق کی جو تعریف عام کتابوں میں رائج ہے، عام کتابوں میں رائج ہے ‏وہ درست نہیں ہے، وہ درست نہیں ہے۔ میں علمِ منطق کی اور تعریف کرتا ہوں، میں علمِ منطق کی اور تعریف کرتا ہوں، ‏میں علمِ منطق کی اور تعریف کرتا ہوں اور صاحبِ شرحِ عقائد کی یہ عبارت، اور صاحبِ شرحِ عقائد کی یہ عبارت میری ‏تعریف کی تائید کر رہی ہے، میری تعریف کی تائید کر رہی ہے۔ آگے الگ سطر لکھیے بھئی۔ آپ فرمانے لگے، آپ فرمانے لگے کہ علمِ منطق، کہ علمِ منطق نظر و فکر میں، کہ علمِ منطق ‏نظر و فکر میں انسان کو غلطی سے نہیں بچاتا، انسان کو غلطی سے نہیں بچاتا۔ اچھا، ایک بات یاد رکھنا، یہ جو پیچھے علمِ کلام کا ذکر آیا تھا نا، یہ علمِ کلام یہ آپ انشاءاللہ درجۂ سادسہ میں پڑھیں گے۔ ‏اس میں عقیدے کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے کہ اللہ ایک ہے، جنت موجود ہے، جہنم ہے، قیامت قائم ہو گی، یہ اور اللہ ‏کی صفات، اللہ کی ذات وغیرہ ان چیزوں... تو باقی فقہ میں تو احکامات کا ذکر ہے نا کہ نماز کیسے پڑھنی ہے، روزہ ‏کیسے رکھنا ہے، وضو کیسے کرنا ہے وغیرہ، یہ چیزیں ذکر ہیں۔ جبکہ علمِ کلام کے اندر جو ہے وہ عقیدے کی بحث ‏ہوتی ہے اور وہاں پر اور یہ شرحِ عقائد عقیدے کی کتاب ہے، تو اس میں یہ عبارت آئی تھی، اس موقع پر والد صاحب نے ‏یہ تقریر فرمائی۔ جی، کیا لکھا؟ علمِ منطق... ہاں، نظر و فکر... علمِ منطق نظر و فکر میں انسان کو غلطی سے نہیں بچاتا۔ ‏آگے لکھیے: اگر یہ انسان کو غلطی سے بچاتا، اگر یہ انسان کو غلطی سے بچاتا تو مناطقہ کے آپس میں اختلافات، تو ‏مناطقہ کے آپس میں اختلافات نہیں ہونے چاہیے تھے۔ تو مناطقہ کے آپس میں اختلافات نہیں ہونے چاہیے تھے۔ لیکن ہم ‏دیکھتے ہیں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مناطقہ کے آپس میں اتنے زیادہ اختلافات ہیں، کہ مناطقہ کے آپس میں اتنے زیادہ ‏اختلافات ہیں کہ اور کسی کے اتنے اختلافات نہیں، کہ اور کسی کے اتنے اختلافات نہیں۔ اور اگر اس علم نے، اور اگر اس ‏علم نے چھوٹے مناطقہ کو، چھوٹے مناطقہ کو غلطی سے نہیں بچایا، غلطی سے نہیں بچایا تو کم از کم، تو کم از کم کبارِ ‏مناطقہ، کبارِ مناطقہ یعنی بڑے بڑے مناطقہ کو تو، یعنی بڑے بڑے مناطقہ کو تو غلطی سے بچانا چاہیے تھا، کو غلطی ‏سے بچانا چاہیے تھا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کبارِ مناطقہ کے آپس میں، کہ کبارِ مناطقہ کے آپس میں ‏بہت زیادہ اختلافات ہیں، بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ آگے الگ سطر لکھیے بھئی۔ مزید والد صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے، مزید والد صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ مثال ‏کے طور پر، کہ مثال کے طور پر تذکرہ کتاب کی شرح، تذکرہ... تا، ذال ہے ذال... تذکرہ کتاب کی شرح علامہ دوانی نے ‏کی، تذکرہ کتاب کی شرح علامہ دوانی نے کی... دال، واؤ، واؤ مشدد ہے بھئی، دوانی... تذکرہ کتاب کی شرح علامہ دوانی ‏نے کی، علامہ شیرازی کو پتہ چلا، علامہ شیرازی کو پتہ چلا تو انہوں نے بھی تذکرہ کتاب کی شرح لکھی، تو انہوں نے ‏بھی تذکرہ کتاب کی شرح لکھی اور ہر ہر مقام پر، اور ہر ہر مقام پر علامہ دوانی کی باتوں کو رد کیا، علامہ دوانی کی ‏باتوں کو رد کیا اور ان پر اپنی طرف سے، اور ان پر اپنی طرف سے بہت سے اعتراضات کیے، بہت سے اعتراضات ‏کیے ۔ یہ دونوں علماء ایک ہی زمانے کے تھے، یہ دونوں علماء ایک ہی زمانے میں تھے اور کبارِ مناطقہ میں سے تھے، ‏اور کبارِ مناطقہ میں سے تھے۔ علامہ دوانی کی یہ شرح، علامہ دوانی کی یہ شرح حاشیہ قدیمہ للدواّنی، حاشیہ قدیمہ ‏للدواّنی کے نام سے مشہور ہے، حاشیہ قدیمہ للدواّنی کے نام سے مشہور ہے جبکہ علامہ شیرازی کی شرح، جبکہ علامہ ‏شیرازی کی شرح حاشیہ قدیمہ للشیرازی، حاشیہ قدیمہ للشیرازی، حاشیہ قدیمہ للشیرازی کے نام سے معروف ہے، کے نام ‏سے معروف ہے۔ آگے الگ سطر۔ علامہ دوانی کو پتہ چلا، علامہ دوانی کو پتہ چلا کہ علامہ شیرازی نے دوبارہ میرا رد کیا ہے، کہ علامہ ‏شیرازی نے دوبارہ میرا رد کیا ہے تو انہوں نے تذکرہ کتاب کی نئی شرح لکھی، تو انہوں نے تذکرہ کتاب کی نئی شرح ‏لکھی اور اس میں علامہ شیرازی کا ہر جگہ رد کیا، اور اس میں علامہ شیرازی کا ہر جگہ رد کیا اور ان پر بہت سے ‏اعتراضات کیے، اور ان پر بہت سے اعتراضات کیے۔ علامہ شیرازی کو پتہ چلا، علامہ شیرازی کو پتہ چلا تو انہوں نے ‏بھی، تو انہوں نے بھی نئی شرح لکھی، نئی شرح لکھی اور اس میں علامہ دوانی کا رد کیا، اور اس میں علامہ دوانی کا رد ‏کیا اور ان پر اعتراضات کیے، اور ان پر اعتراضات کیے۔ یہ نئی شرحیں، یہ نئی شرحیں حاشیہ جدیدہ للدواّنی، حاشیہ ‏جدیدہ للدواّنی اور حاشیہ جدیدہ للشیرازی، اور حاشیہ جدیدہ للشیرازی کے نام سے مشہور ہیں، کے نام سے مشہور ہیں۔ علامہ دوانی کو پتہ چلا... آگے لکھیے۔ الگ سطر میں لکھو بھئی۔ علامہ دوانی کو پتہ چلا، علامہ دوانی کو پتہ چلا کہ ‏علامہ شیرازی نے دوبارہ میرا رد کیا ہے، کہ علامہ شیرازی نے دوبارہ میرا رد کیا ہے تو انہوں نے تذکرہ کی تیسری ‏شرح لکھی، تو انہوں نے تذکرہ کی تیسری شرح لکھی بھئی اور اس میں علامہ شیرازی کا رد کیا اور اعتراضات کیے، ‏اور اس میں علامہ شیرازی کا رد کیا اور اعتراضات کیے۔ یہ حاشیہ، یہ حاشیہ حاشیہ اجدّ للدواّنی... اجدّ، اجدّ... الف، جیم، ‏دال یعنی ہمزہ، جیم، دال، یہ جدید سے اسمِ تفضیل ہے بھئی، اجدّ، دال مشدد ہے۔ کیا لکھا؟ یہ حاشیہ، یہ شرح حاشیہ اجدّ ‏للدواّنی کے نام سے معروف ہے، حاشیہ اجدّ للدواّنی کے نام سے معروف ہے، کے نام سے معروف ہے۔ علامہ شیرازی ‏کو پتہ چلا، علامہ شیرازی کو پتہ چلا تو انہوں نے بھی، تو انہوں نے بھی حاشیہ اجدّ للشیرازی لکھ کر، حاشیہ اجدّ ‏للشیرازی لکھ کر دوانی کا رد کیا اور اعتراضات کیے، دوانی کا رد کیا اور اعتراضات کیے۔ جی، آگے الگ سطر لکھیے۔ والد صاحب رحمہ اللہ مزید فرمانے لگے، والد صاحب رحمہ اللہ مزید فرمانے لگے کہ ان سب ‏باتوں سے میری بات کی تائید ہوتی ہے، میری بات کی تائید ہوتی ہے کہ منطق نظر و فکر میں، کہ منطق نظر و فکر میں ‏انسان کو غلطی سے نہیں بچاتا، کہ منطق نظر و فکر میں انسان کو غلطی سے نہیں بچاتا۔ اللہ، چلیے بس بھئی کافی ہو گیا اور کل پھر انشاءاللہ یہ بحث مکمل کر لیں گے اور والد صاحب علمِ منطق کی کیا تعریف ‏کیا کرتے تھے وہ انشاءاللہ کل پھر لکھ لیں گے اور وہ عجیب تعریف ہے بھئی اور واقعے کے مطابق ہے بھئی، واقعے ‏کے اعتبار سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ منطق کی وہی تعریف درست ہے۔ اللہ، چلیے بس بھئی، ‎ ‎هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔