صناعتِ معنویہ ہم پڑھ رہے ہیں مولانا۔ کل ہم نے صنعتِ مقابلہ پڑھی۔ صنعتِ مقابلہ کس کو کہتے ہیں؟ کہ دو یا دو سے زیادہ متوافق معانی کو ذکر کیا جائے، اور پھر علی الترتیب ہر ایک کے مقابل کو لایا جائے مولانا۔ اور متوافق کا معنی بتلایا تھا انھوں نے آپ کو کہ متوافق کا یہ معنی نہیں کہ ایک دوسرے کے متماثل ہوں یا ایک دوسرے کے مناسب ہوں۔ بس یہ کہ ان کے درمیان تضاد اور تقابل نہ ہو۔تضاد اور تقابل نہ ہو اور اس کی مثال ذکر کی تھی:ما احسنَ الدِّینَ والدُّنیا اِذا اجتَمَعا ... وَاَقبَحَ الكُفرَ وَالاِفلاسَ بالرَّجُلِکتنا ہی اچھا ہے دین اور مالدار دنیا، اذا اجتمعا جب یہ جمع ہو جائیں ایک شخص میں۔ اور کتنا برا ہے کفر اور افلاس ایک شخص میں جب یہ جمع ہو جائیں بھئی۔ تو حسن، دین، دنیا، تین چیزیں ذکر ہوئی تھیں، تو تین ان کے مقابل لائے گئے: قبح، کفر، اور افلاس کو۔اس کے بعد چار کی مثال ذکر کی آیت کے اندر: اعطاء، اتقاء، تصدیق بالحسنىٰ اور تیسیر لليسرىٰ ذکر ہوا، جبکہ اس کے مقابلے میں بخل، استغناء، تکذیب بالحسنىٰ اور تیسیر للعسرىٰ ذکر ہوا بھئی۔ اس کے بعد اعطاء کے مقابلے میں بخل بھی واضح تھا، تصدیق کے مقابلے میں تکذیب بھی واضح تھی، تیسیر لليسرىٰ کے مقابلے میں تیسیر للعسرىٰ بھی واضح تھی۔ صرف اتقاء کے معنی میں استغناء، اس میں کچھ ابہام تھا تو مصنف نے خود اس کی تشریح کی اور آپ کو بتلایا، کہ استغناء، اتقاء کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ استغناء بے پروا ہونا اس کا معنی، گویا کہ وہ بے رغبت ہوا اس چیز سے جو اللہ کے پاس ہے، تو گویا کہ وہ بے پروا ہے اس سے، فلم یتقِ تو وہ کیا ہوا؟ وہ ڈرا نہیں۔ یعنی اللہ سے ڈرا نہیں اور حرام کام کرتا رہا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ دنیاوی شہوتوں کے ساتھ وہ بے پروا ہو گیا آخرت سے، تو وہ ڈرا نہیں، تو عدمِ اتقاء لازم ہے کس کے ساتھ مولانا؟ استغناء کے ساتھ۔ تو اتقاء کے مقابلے میں کیا آیا مولانا؟ استغناء، اور استغناء کے ساتھ کیا لازم ہے؟ عدمِ اتقاء، اور عدمِ اتقاء مقابل ہے کس کے؟ اتقاء کے۔اور علامہ سکاکی نے ایک اور شرط بھی لگائی یہاں پر، کہ وہ فرماتے ہیں، ایک اور قید بڑھائی، وہ فرماتے ہیں کہ اگر اولین کے اندر، یہ پہلی جو متوافقین ذکر ہوئے ہیں، ان کے اندر اگر کوئی شرط یا امرِ مشترک ذکر کیا جائے، تو یہاں ان کی ضدین میں اس کی ضد کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ تو جیسے اس آیت کے اندر پہلی کے اندر تیسیر کی اشتراط تھا مولانا، کہ جو بھی اعطاء کرے گا، اتقاء ہو، اور تصدیق بالحسنىٰ ہو، تو پھر اس کے لیے کیا ہے؟ تیسیر ہے، آسانی ہے مولانا۔ اور اس کے مقابلے میں کیا ذکر کیا گیا؟ کہ جو بھی بخل کرے گا، استغناء کرے گا اور تکذیب بالحسنىٰ کرے گا تو اس کے ساتھ کیا، اس کی ضد ذکر کی گئی تیسیر کی اور وہ کیا؟ تعسیر کو ذکر کیا گیا۔ تو علامہ سکاکی کی اگر بات مان لی جائے تو اس صورت میں یہ جو شعر تھا وہ اس کی صنعتِ مقابلہ کی مثال نہیں بنتا۔ اس لیے کہ شعر کے اندر پہلے تین کے ساتھ کیا شرط لگائی گئی تھی؟ جب یہ جمع ہو جائیں، تو ان کی ضدین کے ساتھ ضد کی شرط لگائی جائے گی کہ کیا جب وہ جدا ہو جائیں، اور وہ قید تو وہاں پر ملحوظ نہیں، وہاں پر بھی اجتماعی ملحوظ ہے۔اس کے بعد مراعاۃ النظیر کی صنعت پڑھی اور مراعاۃ النظیر کس کو کہتے ہیں مولانا؟ کہ آپ ایک امر اور اس کے مناسبات کو ایک کلام میں جمع کر دیں، جیسے: الشَّمسُ وَالقَمَرُ بِحُسبانٍ۔ تو شمس کے ساتھ قمر کا ذکر ہوا اور دونوں ایک دوسرے کے مناسب ہیں، دونوں نورانی جسم ہیں، اور ایک دن کے وقت آسمان پر چمکتا ہے تو دوسرا رات کے وقت بھئی۔ اور تین کی مثال جیسے: كَ القَسِيِّ المُعَطَّفَاتِ بَلِ الأَسهُمِ ... بَلِ الأَسهُمِ مَبرِيَّةً بَلِ الأَوتارِ۔ شاعر اونٹوں کی تعریف کر رہا ہے کہ وہ دبلے پتلے ہیں کمان کی طرح، وہ کمان جو مڑی ہوئی ہو، بلکہ تیروں کی طرح جو تراشے گئے ہوں، بلکہ وتر کی طرح ہیں وہ جو چمڑا باندھا جاتا ہے۔ تو پہلے تشبیہ بیان کی کمان کے ساتھ، لیکن کمان کچھ موٹی ہوتی ہے، پھر اس سے عدول کیا اور کہا نہیں، بلکہ کس کی طرح ہیں؟ تیروں کی طرح جو ان سے پتلے ہوتے ہیں۔ پھر اس سے بھی عدول کیا کہ نہیں، تیر بھی کچھ موٹے ہوتے ہیں، بلکہ وہ کس کی طرح ہیں؟ وتر کی طرح ہیں بھئی۔ تو تین مناسبات: کمان، تیر اور وتر، ان کے آپس میں مناسبت ظاہر ہے بھئی۔اس کے بعد کہتے ہیں مراعاۃ النظیر کی ایک اور قسم ہے جس کو تشابہ الأطراف کہتے ہیں، کہ کلام کا اختتام کرنا ایسے الفاظ کے ساتھ، ایسے معنی کے ساتھ جو مناسب ہو کس کے؟ ابتداء کے۔ جو معنی ابتداء میں، جو بات ابتداء میں ذکر ہوئی تھی اس کے مناسب کو کس میں لانا؟ آخر میں لے کر آنا۔ تو تشابہ کلام کی دونوں طرفین ایک دوسرے کے مشابہ ہو گئیں، ان کی ایک دوسرے کے ساتھ مناسبت آ گئی۔ مثلاً شروع میں دعویٰ ذکر تھا تو آخر میں کیا ذکر ہوئی؟ دلیل ذکر ہوئی، یا شروع میں معلول ذکر تھا تو آخر میں علت ذکر ہوئی۔ جیسے: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ، تو لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ کی علت کیا ہے؟ اللَّطِيفُ وہ ذکر ہوئی، اور وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ کی علت کیا ہے؟ الْخَبِيرُ۔اور اسی مراعاۃ النظیر کے ساتھ ملحق ہے مولانا، کہ دو معانی کو ذکر کیا جائے اگرچہ ان دو معانی کے اندر مناسبت تو نہیں ہے، لیکن اس معنیٰ ثانی کو تعبیر ایسے لفظوں سے یا ایک کو یا دونوں کو تعبیر ایسے لفظ سے کر دیا گیا کہ ان لفظوں کی آپس میں کیا ہے؟ مناسبت ہے۔ تو یہ ملحق بمراعاۃ النظیر ہے مولانا، اور اس کو ایہام التناسب بھی کہتے ہیں کس لیے کہ بظاہر وہم پڑتا ہے کہ ان میں کیا موجود ہے؟ مناسبت موجود ہے، اگرچہ مناسبت موجود نہیں، کیونکہ معنیٰ جو مراد ہیں معنیٰ حقیقی مراد نہیں وہاں، معنیٰ جو مراد ہیں مولانا ان میں مناسبت نہیں بھئی، دوسرا معنیٰ مراد ہے۔اس کے بعد مولانا ارصاد پڑھی صنعت ہم نے، اور اس ارصاد کو بعض علماء نے تسہیم بھی اس کا نام رکھا ہے۔ ارصاد کا معنیٰ ہے گھات لگانا، کسی نگران کو مقرر کرنا راستے پر، فتو جیسے وہ نگران خبر دیتا ہے آنے والے کی، اسی طرح اس میں بھی ایک لفظ لے آتے ہیں اس کلام کے اندر جو آخر میں آنے والے عجُز کی طرف اشارہ کر دیتا ہے۔ عجُز کس کو کہتے ہیں؟ جس پر شعر کا اختتام ہو رہا ہو یا جس پر فقیرے کے فقیرے کا اختتام ہو رہا ہو، اس کی طرف اشارہ کر دیتا ہے بشرطیکہ حرفِ روی صیغے کے ساتھ معلوم ہو۔ حرفِ روی کس کو کہتے ہیں مولانا؟ شعر کا آخری حرف جس پر شعر کی بناء ہوتی ہے، اور نظم کے اندر ہر شعر کے آخر میں پھر وہی حرف لایا جاتا ہے۔ جیسے: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ۔ تو اس سے ماقبل کی آیت کے اندر بھی آخر میں فعل آ رہا تھا اور اس فعل کے آخر میں کیا تھا؟ نون، جس کا ماقبل کیا تھا؟ واؤ۔ تو فعل تھا تو اس سے اندازہ لگا لیا کہ لِیَظْلِمَهُمْ کا مادہ آخر ظلم ہے، اور حرفِ روی نے بتلا دیا کہ وہ کیا ہے مادہ، کیا بنے گا؟ صیغہ کیا بنے گا؟ یظلمون۔ اور جیسے: اِذا لَم تَستَطِع شَيئاً فَدَعهُ ... وَجاوِزهُ اِلى ما تَستَطيعُ۔ جب تو استطاعت نہیں رکھتا کسی چیز کی تو اس کو چھوڑ دے اور بڑھ جا اس کی طرف جس کی تو استطاعت... تو تستطیع آنے سے پہلے ہی آپ کو پتہ چل گیا کہ تستطیع آئے گا اس لیے کہ ماقبل شعر کے اندر بھی حرفِ روی عین تھا جس سے ماقبل کیا تھی؟ یا۔وَمِنْهُ، أَيْ وَمِنَ الْمَعْنَوِيِّ الْمُشَاكَلَةُ، اور اسی معنوی میں سے مولانا کون ہے؟ مشاکلہ ہے۔ وَهِيَ ذِكْرُ الشَّيْءِ بِلَفْظِ... مشاکلہ اس کو کہتے ہیں مولانا کہ دو معنیٰ آپ نے ذکر کیے بھئی، دو معنیٰ کلام کے اندر ذکر کیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک یہ معنیٰ ہے، ایک یہ معنیٰ ہے۔ ان کو آپ نے کلام میں ذکر کیا۔ لیکن اس معنیٰ کو تعبیر اس لفظ سے نہیں کیا جس کے ساتھ اس کو تعبیر کیا جاتا ہے، بلکہ اس معنیٰ کو بھی اسی معنیٰ کے لفظ کے ساتھ تعبیر کر دیا، کیونکہ یہ اس کے پڑوس میں واقع ہو رہا تھا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دو معنیٰ آپ لے کر آئے مولانا، اور اس کو ایک لفظ سے تعبیر کرتے ہیں، اس کو بھی ایک لفظ سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن اس معنیٰ ثانی کو آپ نے کیا کیا؟ اسی معنیٰ، پہلے معنیٰ کے لفظ سے تعبیر کر دیا، اگرچہ اس کا لفظ جدا تھا لیکن آپ نے تعبیر کس سے کر دیا؟ پہلے معنیٰ کے لفظ سے، اور دونوں میں اگرچہ کوئی مناسبت اور موجود نہیں، لیکن آپ نے تعبیر کیوں کیا؟ کیونکہ یہ اس کے پڑوس میں تھا۔ جیسے مولانا شعر آیا، پھر یہ پڑوس میں ہونا واقع ہو گا، کبھی یہ واقع ہو گا حقیقتاً، عبارت میں وہ لفظ بھی ذکر ہو گا پہلے معنیٰ کا وہ لفظ بھی ذکر ہو گا، تو ثانی کو بھی ہم نے کیا کر دیا؟ اسی سے تعبیر کر دیا۔ اور کبھی مولانا وہ معنیٰ اول کا لفظ عبارت میں مذکور نہیں ہو گا، بلکہ اس پر قرینہ دلالت کر رہا ہو گا، معنیٰ کے اعتبار سے ہمیں سمجھ میں آ رہا ہے۔ تو یہ بھی وقوع ہے لیکن یہ تقدِیراً ہے، یہ کیا ہے؟ تو یہ لفظ تقدِیراً اس لفظ کے پڑوس میں واقع ہے، کیونکہ قرینے سے ہمیں وہ پہلا بھی سمجھ میں آ رہا ہے۔ جیسے یہ شعر ہے مولانا، شاعر کہتا ہے:قَالُوا اقْتَرِحْ شَيْئاً نُجِدْ لَكَ طَبْخَهُ ... قَالُوا اقْتَرِحْ شَيْئاًانہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ تجویز کیجیے کوئی چیز، نُجِدْ لَكَ طَبْخَهُ ہم عمدہ کریں گے آپ کے لیے اس کا پکانا۔ یعنی آپ شاعر نے کہا کسی کے پاس گیا ہوگا شاعر، تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ بتلائیے آپ کیا کھانا چاہتے ہیں، ہم اچھے اور عمدہ طریقے سے وہ کھانا آپ کے لیے تیار کریں گے۔ فَقُلْتُ اطْبُخُوا لِي جُبَّةً وَقَمِيصاً، تو میں نے کہا میرے لیے ایک جبہ اور قمیض پکا دو۔ ایک جبہ اور قمیض پکا دو۔ اب کہنا چاہیے تھا جبہ اور قمیض سی دو، لیکن اس سینے کو تعبیر کر دیا کس سے؟ پکانے کے ساتھ، اس لیے کہ اس سے پہلے ساتھ پڑوس میں کیا ذکر ہو رہا تھا؟ پکانے کا ذکر ہو رہا تھا، تو اس کو بھی تعبیر کس سے کر دیا؟ پکانے کے ساتھ کر دیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَهِيَ ذِكْرُ الشَّيْءِ بِلَفْظِ غَيْرِهِ، اور یہ ایک چیز کو ذکر کرنا ہے، یعنی ایک معنیٰ کو ذکر کرنا ہے، بِلَفْظِ غَيْرِهِ غیر کے لفظ کے ساتھ، لِوُقُوعِهِ، أَيْ ذٰلِكَ الشَّيْءِ اس وجہ سے کہ وہ چیز واقع ہوئی ہے، فِي صُحْبَتِهِ، أَيْ ذٰلِكَ الْغَيْرِ اس غیر کی صحبت اور اس کے پڑوس میں، تَحْقِيقاً، یا تو یہ وقوع کیا ہوا ہے مولانا؟ تحقیقاً، لفظوں میں بھی وہ بھی مذکور ہے جو دوسرا معنیٰ، أَوْ تَقْدِيراً، یا تقدِیراً ہے مولانا، أَيْ وُقُوعاً مُحَقَّقاً أَوْ مُقَدَّراً، یہ بتلایا یہ وُقُوعاً مُحَقَّقاً وَمُقَدَّراً کہ عبارت علامہ تفتازانی یہ بتلانے کے لیے لائے کہ تحقیق کا تعلق وقوع سے ہے مولانا، کہ یہ وقوع تحقیقاً ہو گا یا تقدِیراً ہو گا۔ ذکر سے اس کا تعلق نہیں کہ ذکر تحقیقاً یا تقدِیراً ہو گا۔ كَقَوْلِهِ، جیسے یہ شعر ہے مولانا: قَالُوا اقْتَرِحْ شَيْئاً، انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ تجویز کیجیے کوئی چیز، مِنْ اِقْتَرَحْتُ عَلَيْهِ شَيْئاً مولانا، کسی کے سامنے کوئی بات لانا۔ اقتراح کس کو کہتے ہیں؟ کسی کے سامنے کوئی بات لانا، کوئی بات رکھنا کسی کے سامنے، یعنی کوئی تجویز پیش کرنا۔ اِقْتَرَحْتُ عَلَيْهِ شَيْئاً، میں نے اس کے سامنے بات رکھی، چیز رکھی، إِذَا سَأَلْتَهُ إِيَّاهُ، جب آپ اس سے اس چیز کا سوال کریں، مِنْ غَيْرِ رَوِيَّةٍ، بغیر غور و فکر، فِي الْبَدِيهِ مولانا، بغیر غور و فکر کے مولانا، آپ وہ تجویز اس کے سامنے رکھیں، وَطَلَبْتَهُ عَلَى سَبِيلِ التَّكْلِيفِ وَالتَّحَكُّمِ، اور آپ اس کو طلب کر رہے ہیں تکلیف اور تحکم کے طریقے پر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ گویا آپ کے لیے لازم ہے، کسی پر ایک چیز کو کیا کر رہے ہیں آپ؟ لازم کر رہے ہیں، تو مکلف بنا رہے ہیں وہ اس کو لازم کر رہے ہیں اس کا حکم کے انداز میں۔ وَجَعْلُهُ مِنْ اقْتَرَحَ الشَّيْءَ، اقتراح کا ایک معنیٰ ہوتا ہے ایجاد کرنا بھی۔ اقتراح کا ایک کیا معنیٰ آتا ہے؟ تو بعضوں نے اس کا معنیٰ ایجاد کرنے کے یہاں کیا۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں نہیں، ایجاد کرنے کے معنیٰ کی یہاں پر کوئی مناسبت... ان لوگوں نے شاعر سے یہ نہیں کہا کہ اقْتَرِحْ شَيْئاً آپ کوئی چیز ایجاد کیجیے، کوئی کھانا خود بنا کر لائیے، پھر ہم اس، آپ کے لیے اس جیسا اچھا کھانا بنا دیں گے، یہ ان کی مراد نہیں تھی، بلکہ ان کا ارادہ تھا صرف بیان کیجیے، تجویز پیش کیجیے۔ وَجَعْلُهُ مِنْ اقْتَرَحَ الشَّيْءَ بِمَعْنَى ابْتَدَعَهُ، غَيْرُ مُنَاسِبٍ، یہ مناسب نہیں ہے، عَلَى مَا لاَ يَخْفَىٰ، جیسا جو کہ مخفی نہیں ہے، بس۔ نُجِدْ، مَجْزُومٌ، نُجِدْ مجزوم ہے مولانا، عَلَى أَنَّهُ جَوَابُ الأَمْرِ، بناء بریں کہ یہ امر کا جواب ہے، مِنَ الإِجَادَةِ، اجادت سے ہے، وَهُوَ تَحْسِينُ الشَّيْءِ، اور یہ کس کو کہتے ہیں؟ کسی چیز کو حسین بنانا، عمدہ بنانا بھئی۔ لَكَ طَبْخَهُ، آپ کے لیے نُجِدْ لَكَ طَبْخَهُ ہم عمدہ کریں گے آپ کے لیے اس کا پکانا۔ فَقُلْتُ، تو میں نے کہا: اطْبُخُوا لِي جُبَّةً وَقَمِيصاً، پکاؤ تم میرے لیے ایک جبہ اور ایک قمیض۔ أَيْ خِيطُوا، یعنی سیو میرے لیے۔ وَذَكَرَ خِيَاطَةَ الْجُبَّةِ بِلَفْظِ الطَّبْخِ، اور ذکر کیا مولانا جبہ کے سینے کے لفظ کو پکانے کے لفظ کے ساتھ، لِوُقُوعِهَا فِي صُحْبَةِ طَبْخِ الطَّعَامِ، اس لیے کہ یہ سینا کہاں پر واقع ہو رہا تھا؟ طبخِ طعام کے صحبت میں۔ وَنَحْوُهُ، اور جیسے مولانا اسی کے مثل ہے: تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ۔ تو جانتا ہے جو وہ جو میرے نفس میں ہے، وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ اور میں نہیں جانتا وہ جو کہ آپ کے نفس میں ہے۔ یہاں پر دیکھو، یہ اللہ تعالیٰ سے فرمارہے ہیں عیسیٰ علیہ السلام کہ اے اللہ! آپ جانتے ہیں وہ جو میرے نفس میں ہے، اور میں نہیں جانتا وہ جو آپ کے نفس میں ہے۔ تو یہاں پر نفس کے لفظ کا اطلاق کیا ذاتِ باری تعالیٰ پر، حالانکہ ذاتِ باری تعالیٰ پر نفس کے لفظ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ صحیح نہیں مولانا، لیکن اس... تو یہاں مراد ذاتِ باری تعالیٰ ہے، لیکن اس ذات کو تعبیر کر دیا کس کے ساتھ؟ نفس کے ساتھ، اس لیے کہ یہ کس کے پڑوس میں آیا تھا؟ اس سے پہلے ایک اور نَفْسِي آیا تھا تو اس کے پڑوس۔ حَيْثُ أُطْلِقَ النَّفْسُ عَلَى ذَاتِ اللَّهِ تَعَالَىٰ، اطلاق کیا گیا نفس کا اللہ کی ذات پر، لِوُقُوعِهِ فِي صُحْبَةِ نَفْسِي، اس لیے کہ یہ ذات، نَفْسِي کی پڑوس میں آئی تھی، واقع ہوئی تھی۔ وَهٰذَا، یہ تو اول کی مثال تھی مولانا جہاں تحقیقاً کیا ہو؟ جہاں پر تحقیقاً کیا ہو مولانا؟ لفظ مذکور ہو عبارت میں۔ وَالثَّانِي، ثانی: وَهُوَ مَا يَكُونُ وُقُوعُهُ فِي صُحْبَةِ الْغَيْرِ تَقْدِيراً، ثانی وہ کہ جہاں پر غیر کی صحبت میں واقع ہونا تقدِیراً ہو، جیسے یہ اللہ کا قول ہے: قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ، کہو تم ہم اللہ پر ایمان لے آئے، وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا، اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا، إِلَىٰ قَوْلِهِ، اللہ کے اس قول تک: صِبْغَةَ اللَّهِ، اللہ کا پاک کرنا، وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً، اور کون بہتر ہے اللہ سے باعتبار پاک کرنے کے، وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ، اور ہم اس کی عبادت کرنے والے ہیں۔ ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ تو دیکھو یہاں صِبْغَةَ، پاک کرنا۔ صبغہ کا معنیٰ ہے رنگ دینا۔ لیکن یہاں کیا معنیٰ مراد ہے؟ پاک کرنا۔ وجہ یہ مولانا کہ عیسائی جو ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تیسرے دن، ولادت کے تیسرے دن ایک پانی میں غسل دیا گیا تھا۔ عیسائی کہتے ہیں ہم نے وہ پانی آج تک محفوظ رکھا ہے۔ کس طرح محفوظ رکھا ہے؟ کہ وہ پانی جو پیالا ہوتا ہے اس سے لے لیتے ہیں، آگے پانی میں ملا لیتے ہیں مولانا۔ اور پھر اس پانی کو اپنے گرجا میں محفوظ رکھتے ہیں بھئی، اس کے اندر وہ زعفران وغیرہ چیزیں ڈالتے ہیں جس سے وہ پانی بدبودار بھی نہیں ہوتا۔ تو اس طرح یہ سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے، تو اس پانی کے اثرات کہتے ہیں ابھی تک چلے آ رہے ہیں، اس کو کبھی ہم نے ختم نہیں ہونے دیا۔ تو جب ان کا کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس لے جاتے ہیں، اس پانی کے اندر اس کو غوطہ دیتے ہیں یا اس کے کچھ چھینٹے وغیرہ اس پر ڈالتے ہیں۔ اور چھینٹے ڈا... وہ زرد رنگ کا پانی ہوتا ہے، اور کہتے ہیں کہ جب یہ چھینٹے دے دیں یا غوطہ دے دیں بچے کو اس پانی کے اندر، تو کہتے ہیں اب یہ پاک ہو گیا۔ اب کیا ہوا؟ دراصل عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے مولانا، کہتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی، اور اس غلطی کی بناء پر کیا ہے؟ آج تک جتنے انسان پیدا... اس کے بعد جتنے انسان پیدا ہوئے سب گناہگار تھے۔ ان کے گناہ کا اثر کیا ہوا؟ عیسائی کہتے ہیں، عیسائیوں کی بات کر رہا ہوں، تو وہ گناہ کا اثر چلتا رہا، یہاں تک کہ ان سارے گناہوں کا پھر کفارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے سولی پر چڑھ کر دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو سولی پر چڑھے تھے وہ کس لیے چڑھے تھے؟ یہ کفارے کے طور پر سب کی طرف سے انہوں نے گناہ کا کفارہ دیا۔ اور ہم کیا کہتے ہیں؟ کہ نہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھے ہی نہیں، بلکہ کیا معاملہ لوگوں پر اشتباہ ہو گیا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو آسمان پر... وہ یہودی جو ان کو قتل کرنے آئے تھے، کمرے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا، اور وہ شخص جو کمرے میں داخل ہوا تھا، اس کی شکل کس کی طرح بنا دی گئی؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بنا دی گئی۔ تو جب وہ باہر نکلا اور کہنے لگا کہ اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو نہیں ہیں، ساتھیوں نے اسی کو پکڑ لیا کہ تو خود ہے اور پھر کہہ رہا ہے کہ اندر نہیں ہے بھئی۔ تو پکڑ کر اسی اپنے ایک ساتھی کو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے آیا تھا، اسی کو کیا کیا؟ سولی پر چڑھا دیا اور مطمئن ہو گئے کہ شاید ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے دی ہے مولانا۔ تو کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ... تو اب بھی کہتے ہیں اس کی وجہ سے اب جو چنانچہ اب انسان کیا ہوا ہے گناہوں سے؟ پاک۔ اور اس کا طریقہ اب پہلے تو پاک ہی نہیں ہوتا تھا، اب بس وہ کیا کرتے ہیں؟ بچہ پیدا ہوا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیا کر چکے ہیں؟ سب کی طرف سے قربانی دے چکے ہیں، بس تیسرے دن اس پہ چھینٹے ڈالے، اب یہ بھی کیا ہوا مولانا گناہوں سے؟ پاک مولانا۔ عجیب مذہب ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ بچہ پیدا ہوا، گناہگار پیدا ہوا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب اس کے اسلام اس کے مقابلے میں کیا کرتا ہے؟ وہ تو گناہوں سے پاک ہونے کے سلسلے میں بچے کی مثال ذکر کیا کرتا ہے، کہ بچہ جیسے ماں کے پیٹ سے آتا ہے بالکل گناہوں سے پاک، اسی طرح جب مثالیں جیسے آتی ہیں، حج کر کے مثلاً کوئی شخص آتا ہے، حج مقبول ہو تو وہ بھی اس طرح گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے جیسے بچہ گناہوں سے پاک۔ تو وہ اپنے بچے کو اس زرد رنگ کے پانی میں غوطہ دیتے ہیں یا اس کے چھینٹے ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں: اب یہ پکا نصرانی، حقیقتاً اب کیا ہوا؟ اب یہ سچا، سچا نصرانی ہو گیا، یا حقیقتاً اب یہ عیسائی بنا ہے، گناہوں سے پاک ہو گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ تطہیر، اس تطہیر میں صبغتہ ہے مولانا، رنگ کا، رنگ چڑھانا ہے۔ وہ بچے پر کیا کر دیا جاتا ہے گویا؟ رنگ۔ تو اس اس میں صبغہ کا معنیٰ آیا مولانا، تو اس کو تعبیر صبغہ سے کیا۔ تعبیر صبغہ، اور پھر آیت... اور پھر یہاں پر آیت کے اندر صِبْغَةَ اللَّهِ ذکر ہوا۔ کیا ذکر ہوا؟ تو وہاں صبغہ کے اندر تطہیر تھی، یہاں بھی صِبْغَةَ اللَّهِ سے کیا مراد ہے؟ تطہیرُ اللّٰہ، اللہ کا پاک کرنا۔ اس لیے کہ یہاں یہ کہتے ہیں، یہ صبغہ جو ہے مصدر ہے، تاکید، مصدرِ مؤکد ہے کس کے لیے؟ آمَنَّا بِاللَّهِ کے لیے مولانا۔ یہ مفعولِ مطلق ہے، مفعولِ مطلق آپ نے پڑھا ہے، کبھی تاکید کے لیے آتا ہے، کبھی عدد کے لیے آتا ہے، اور کبھی نوع بیان کرنے کے لیے۔ تو یہاں یہ مصدر ہے، مفعولِ مطلق ہے اور تاکید کے لیے آیا، اور اس نے آمَنَّا بِاللَّهِ کے اندر تاکید پیدا کی۔ بھئی آمَنَّا بِاللَّهِ میں کیسے تاکید پیدا کی؟ وہاں ایمان ذکر ہے، یہاں صبغہ سے تطہیر مراد لے لیں تو مناسبت تو پھر بھی نہیں آئی۔ کہتے ہیں نہیں، ایمان بھی انسان کو کیا کر دیتا ہے؟ گناہوں اور شرک سے کیا کر دیتا ہے؟ پاک کر دیتا ہے، صاف کر دیتا ہے۔ تو ایمان، آمَنَّا بِاللَّهِ مشتمل ہے تطہیر کے معنیٰ پر، کس کے معنیٰ پر؟ اس میں بھی پاک کرنے کا معنیٰ پایا جا رہا ہے، تو یہ صبغہ اسی کے لیے تاکید ہے۔ یہ اسی لیے... جیسے: ضَرَبْتُ ضَرْباً، یہ ضَرْباً کس کے لیے تاکید ہے؟ ضَرَبْتُ کے لیے۔ تو یہاں آمَنَّا کا کیا معنیٰ؟ جی؟ طَهَّرَنَا، طَهَّرَنَا اللَّهُ۔ اللہ نے ہمیں کیا کیا؟ پاک کر دیا ایمان کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آ گئی یہاں تک بھئی؟ تو چونکہ آیت، اب یہاں پر مولانا نہ لفظوں میں ذکر ہے، نہ عیسائیوں نے ذکر کیا صبغہ کا، نہ وہ عیسائیوں کے اس فعل کے لیے آیت میں صبغہ کا لفظ ذکر ہے، لیکن چونکہ آیت نازل ہوئی ہے کس کے بارے میں؟ جی؟ آیت اسی چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے، آیت کا شانِ نزول یہی ہے کہ وہ جو عیسائی وہ رنگ والے پانی میں بچے کو غوطہ دیتے ہیں اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ تطہیر اس کو کہتے ہیں، اور اس تطہیر میں کیا رہا ہے؟ صبغہ ہے، تو یہاں پر یہ ایمان کی وجہ سے جو پاکی ہے، اس کو بھی تعبیر کس سے کر دیا گیا؟ تطہیر سے کر دیا گیا، صبغہ سے کر دیا گیا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَىٰ: جیسے اللہ کا یہ قول ہے: قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا، ہم ایمان لائے اللہ پر اور وہ جو اس ہماری طرف نازل کیا گیا، اللہ کے اس قول تک: صِبْغَةَ اللَّهِ، اللہ کا پاک کرنا، وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً، اور کون زیادہ بہتر ہے اللہ سے باعتبار پاک کرنے کے، وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ، اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ وَهُوَ، أَيْ قَوْلُهُ: صِبْغَةَ اللَّهِ، مَصْدَرٌ، یہ صِبْغَةَ اللَّهِ مصدر ہے، لِأَنَّهُ فِعْلَةٌ مِنْ صَبَغَ، اس لیے کہ یہ فِعْلَةٌ مصدر ہے صَبَغَ سے۔ مولانا آپ نے پڑھا ہے، کبھی مصدر فَعْلَةٌ کے وزن پر، کبھی فِعْلَةٌ، کبھی فُعْلَةٌ کے وزن پر۔ فَعْلَةٌ کے وزن پر آئے تو یہ کس لیے آتا ہے؟ عدد بیان کرنے کے لیے۔ فِعْلَةٌ کے وزن پر آئے تو یہ حالت اور نوع بیان کرنے کے لیے، اور فُعْلَةٌ کے وزن پر آئے یہ مقدار بیان کرنے کے لیے۔ جیسے آپ کہتے ہیں: أَكَلْتُ لُقْمَةً مولانا۔ أَكَلْتُ... تو یہ کیا ہے مولانا؟ یہ جی؟ لُقْمَةً یہ مصدر ہے، خاص مقدار بتلا رہا ہے۔ یا جیسے أُكْلَةً، یہ مصدر ہے مولانا اور کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ خاص مقدار، خاص خوراک پر مولانا۔ تو اسی یہ فُعْلَةٌ وزن بتلایا۔ اور فِعْلَةٌ کا وزن کس لیے آتا ہے؟ نوع بتلانے کے لیے، جیسے جِلْسَةً۔ خاص نوع پر بیٹھنا: جَلَسْتُ جِلْسَةَ الْقَارِئِ۔ اور جَلْسَةً فَعْلَةٌ کا وزن کس لیے آتا ہے؟ تعداد کے لیے آتا ہے: جَلَسْتُ جَلْسَةً میں ایک دفعہ بیٹھا، جَلْسَتَيْنِ دو مرتبہ بیٹھا، جَلَسَاتٍ زیادہ مرتبہ بیٹھا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ یہ بھی فِعْلَةٌ وزن ہے، اور یہ فِعْلَةٌ وزن کس لیے آتا ہے؟ نوع بیان کرنے کے لیے۔ مِنْ صَبَغَ، صَبَغَ سے ہے، كَالْجِلْسَةِ مِنْ جَلَسَ، وَهِيَ الْحَالَةُ الَّتِي يَقَعُ عَلَيْهَا الصِّبْغُ، اور اس سے کیا وہ حالت مراد ہے جس پر کیا واقع ہو؟ تطہیر، صبغ واقع ہو۔ مُؤَكِّدٌ لِـ: آمَنَّا بِاللَّهِ، اور یہ مصدر مؤکد ہے کس کے لیے؟ آمَنَّا بِاللَّهِ کے لیے بھئی۔ میں نے بتلایا کیونکہ آمَنَّا کس معنیٰ پر مشتمل ہے؟ تطہیر کے معنیٰ پر، أَيْ تَطْهِيرَ اللَّهِ۔ لِأَنَّ الإِيمَانَ يُطَهِّرُ النُّفُوسَ، اس لیے کہ ایمان بھی کیا ہے، نفسوں کو پاک کرتا ہے۔ فَيَكُونُ: آمَنَّا، مُشْتَمِلاً عَلَىٰ تَطْهِيرِ اللَّهِ تَعَالَىٰ لِنُفُوسِ الْمُؤْمِنِينَ، پس آمَنَّا یہ بھی مشتمل ہے اللہ کا پاک کرنا مؤمنین کے نفسوں کو۔ یہ تو تطہیر پر مشتمل ہے آمَنَّا۔ دَالّاً عَلَيْهِ، تو یہ مولانا خبر ہے، فیکون کی خبرِ ثانی۔ اور اس پر دلالت کر رہا ہے مولانا، آمَنَّا کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ تطہیر پر۔ فَيَكُونُ صِبْغَةَ اللَّهِ بِمَعْنَىٰ تَطْهِيرِ اللَّهِ، تو صِبْغَةَ اللَّهِ کس معنیٰ میں ہے مولانا؟ جی، یا یوں کہیں: فَيَكُونُ صِبْغَةَ اللَّهِ وہی اعرابِ حکائی پڑھیں: صِبْغَةَ اللَّهِ بِمَعْنَىٰ تَطْهِيرِ اللَّهِ، تطہیرُ اللہ کے معنیٰ میں۔ مُؤَكِّداً لِمَضْمُونِ قَوْلِهِ: آمَنَّا بِاللَّهِ، اور یہ تاکید پیدا کر رہا ہے آمَنَّا بِاللَّهِ کے مضمون میں۔ ثُمَّ أَشَارَ إِلَىٰ وُقُوعِ تَطْهِيرِ اللَّهِ فِي صُحْبَةِ مَا يُعَبَّرُ عَنْهُ بِالصِّبْغِ تَقْدِيراً، پھر اشارہ کیا اس بات کی طرف کہ تطہیرُ اللہ واقع ہوا ہے فِي صُحْبَةِ مَا اس چیز کی صحبت میں جس کو تعبیر کس سے کیا گیا ہے؟ بھئی وہ نصارانی کیا کرتے تھے؟ اپنے بچوں کو غوطہ دیتے تھے، اور اس غوطے میں بھی کیا تھا؟ صبغ کا معنیٰ پایا جاتا تھا، تو لہٰذا اس کو بھی کس سے تعبیر کر دیا گیا؟ تو یہ جو چوں یہاں تقدِیراً کیسے ہے، اس تقدیر کی مولانا اب وضاحت کر رہے ہیں۔ کہ یہ تطہیرُ اللہ مَا يُعَبَّرُ جس کو صبغ سے تعبیر کیا گیا ہے، اس کی صحبت میں واقع ہے تقدِیراً۔ اس کی طرف اشارہ کیا بِقَوْلِهِ، اپنے اس قول کے ساتھ: وَالأَصْلُ فِيهِ، أَيْ فِي هٰذَا الْمَعْنَىٰ، اور اصل اس کے اندر یہ ہے اس معنیٰ کے اندر: وَهُوَ ذِكْرُ التَّطْهِيرِ بِلَفْظِ الصِّبْغِ، اور وہ یہ کہ ذکر کیا جائے تطہیر کو کس لفظ کے ساتھ؟ لِأَنَّ النَّصَارَىٰ كَانُوا يَغْمِسُونَ أَوْلاَدَهُمْ، نصارانی جو ہے وہ غوطہ دیا کرتے تھے اپنی اولاد کو، فِي مَاءٍ أَصْفَرَ، زرد پانی میں، يُسَمُّونَهُ مَعْمُودِيَّةً، اور اس کو کیا کہتے ہیں وہ؟ معمودیہ کہتے ہیں۔ وَيَقُولُونَ، اور وہ کہتے ہیں، یعنی ان کا یہ اعتقاد ہے: إِنَّهُ، أَيِ الْغَمْسَ فِي ذٰلِكَ الْمَاءِ، تَطْهِيرٌ لَهُمْ، کہ یہ جو غوطہ دینا ہے پانی کے اندر، یہ ان بچوں کے لیے کیا ہے؟ پاکی ہے۔ فَإِذَا فَعَلَ الْوَاحِدُ مِنْهُمْ بِوَلَدِهِ ذٰلِكَ، جب ان میں سے ایک کوئی ایک کرتا ہے اپنے بچے کے ساتھ ذٰلِكَ یہ غوطہ دیں... یہ کام، یعنی غوطہ دیتا ہے، قَالَ، الَآنَ، تو پھر، پھر قَالَ وہ کہتے ہیں: الَآنَ صَارَ نَصْرَانِيّاً حَقّاً، اب کیا ہوا ہے؟ حقیقتاً نصرانی بنا ہے، سچا نصرانی بنا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، گرمی تو ہے مولانا، لیکن پہلے اسی طرح سبق ہوا کرتے تھے، یہ تو اب آپ لوگوں کے مزے ہیں مولانا، پنکھے لگے ہوتے ہیں، کولر بھی لگے ہوتے ہیں، ٹھنڈا پانی بھی موجود ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں دیکھو کتنی تکلیف میں لوگوں نے پڑھا ہو گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حضرت شیخ رحمہ اللہ کا ہی مرتبہ سبق پڑھا رہے ہوتے، اور بجلی چلی جاتی اور اسی طرح گرمی ہوتی، لیکن طلباء بتلاتے، سبق اسی طرح جاری رہتا۔ کئیوں نے بتایا کہ ابھی کچھ چند ماہ پہلے ایک شاگرد آیا تھا، وہ بھی ذکر... وہ اپنا واقعہ بتلا رہا تھا کہ ایک مرتبہ بجلی چلی گئی، وہ سبق پڑھاتے رہے، اور سبق پڑھانے کے بعد کہتے ہیں میں نے ان کے کپڑوں کی طرف دیکھا تو بغیر مبالغے کے کوئی ایک دھاگا بھی خشک نہیں ہو گا۔ سارے کپڑے پسینے سے بھیگے ہوئے، لیکن کہتے ہیں پڑھاتے ہوئے ذرا بھی اندازہ نہیں ہوا کہ اس وقت وہ سخت گرمی اور تکلیف میں بیٹھے ہوئے ہیں مولانا۔ تو سمجھ میں آیا بھئی؟ چلو بھئی۔ فَأُمِرَ الْمُسْلِمُونَ بِأَنْ يَقُولُوا لِلنَّصَارَىٰ: قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ، پس مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ان نصرانیوں سے کہیں، نصرانیوں سے یہ کہو: قُولُوا کہو اے نصرانیو! یوں کہو اے عیسائیو! تم اپنے بچوں کو غوطہ دے کر کہتے ہو پاک ہو گیا، یوں نہ کہو، یوں کہو اے نصرانیو: آمَنَّا بِاللَّهِ کہ ہم کس پر ایمان لے آئے؟ اللہ پر۔ وَصَبَغَنَا اللَّهُ بِالإِيمَانِ صِبْغَةً، اور اللہ نے ہمیں پاک کر دیا ایمان کے ساتھ ایسا پاک کرنا، لاَ مِثْلَ صِبْغَتِنَا، جو ہمارے پاک کرنے جیسا، وَطَهَّرَنَا بِهِ تَطْهِيراً، اور پاک کیا اس کے ایسا رنگ دیا کہ جو ہمارے رنگنے کی طرح نہیں، وَطَهَّرَنَا اور یا یہ عطف تفسیری کر لیں اسی کا، یا پا... اور پاک کر دیا ہمیں ایسا پاک کرنا جو ہمارے پاک کرنے کی طرح... هٰذَا إِذَا كَانَ الْخِطَابُ فِي: قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ، لِلْكَافِرِينَ، یہ اس وقت ہے مولانا یہ تاویل جو ہم نے کی، جبکہ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ یہ کس خطاب کس کے لیے ہو؟ کافروں کے لیے، کہ اے کافرو! عیسائیو! یوں نہ کہو بلکہ یوں کہو کہ ہم ایمان اللہ پر لے آئے۔ وَإِنْ كَانَ الْخِطَابُ لِلْمُسْلِمِينَ، اگر خطاب مسلمین کو ہے: قُولُوا کہ اے مسلمانو! تم کہو۔ تو معنیٰ یہ ہے: أَنَّ الْمُسْلِمِينَ أُمِرُوا بِأَنْ يَقُولُوا: صَبَغَنَا اللَّهُ بِالإِيمَانِ صِبْغَةً، مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ یوں کہیں: صَبَغَنَا اللَّهُ بِالإِيمَانِ صِبْغَةً کہ اللہ نے ہمیں پاک کر دیا ایمان کے ساتھ ایسا پاک کرنا، وَلَمْ نُصْبَغْ صِبْغَتَكُمْ أَيُّهَا النَّصَارَىٰ، اور ہم نہیں پاک کیے گئے تمہاری طرح پاک کرنا اے نصرانیو! جیسے تم پاک کرتے ہو ہم اس طرح پاک نہیں کیے گئے، بلکہ ہم تو ایمان کے ساتھ پاک کیے گئے ہیں۔ فَعُبِّرَ عَنِ الإِيمَانِ بِاللَّهِ بِصِبْغَةِ اللَّهِ، پس تعبیر کیا گیا ایمان باللہ کو صبغۃ اللہ کے ساتھ، لِلْمُشَاكَلَةِ، کس وجہ سے؟ مشاکلت کی وجہ سے۔ لِوُقُوعِهِ فِي صُحْبَةِ صِبْغَةِ النَّصَارَىٰ، اس لیے کہ یہ واقع ہو رہا ہے صبغۃ النصارىٰ کے پڑوس میں، تَقْدِيراً، تقدِیراً واقع ہو رہا ہے، بِهٰذِهِ الْقَرِينَةِ الْحَالِيَّةِ، اس قرینہ حالیہ کے سبب سے، الَّتِي هِيَ سَبَبُ النُّزُولِ، جو کہ سببِ نزول تھا، مِنْ غَمْسِ النَّصَارَىٰ أَوْلاَدَهُمْ، نصرانیوں کا ڈبونا، غوطہ دینا اپنی اولاد کو، فِي الْمَاءِ الأَصْفَرِ، زرد رنگ کے پانی میں۔ جو کہ سببِ نزول تھا، یعنی نصرانیوں کو غوطہ دینا۔ وَإِنْ لَمْ يُذْكَرْ ذٰلِكَ لَفْظاً، اگرچہ اس کو لفظوں کے اعتبار سے ذکر نہیں کیا گیا، لیکن قرینہ حالیہ ہے، اس بارے میں آیت نازل ہوئی ہے، تو قرینہ حالیہ نے اس صبغہ پر دلالت کی، تو ثانی کو بھی کس سے تعبیر کر دیا گیا؟ صبغہ سے تعبیر کر دیا گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ صنعتِ مشاکلہ ہے۔ یا جیسے اس کی وہ مثال ہے، استہزاء کا تذکرہ آتا ہے مولانا شروع کے، پہلے سپارے کے شروع میں بالکل: اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ۔ تو دیکھو یہاں استہزاء ذکر ہوا۔ اللہ ان سے استہزاء فرماتے ہیں؟ نہیں مولانا، یہ معنیٰ نہیں۔ اللہ ان کے استہزاء کا جواب دیتے ہیں، تو چونکہ پہلے ان کا استہزاء ذکر ہوا تھا، تو جو جوابِ استہزاء کو بھی کس سے تعبیر کر دیا گیا؟ استہزاء سے۔ یا مولانا اور اس کی مثال... جی؟ ہاں، اس طرح یہ... الْمُزَاوَجَةُ، وَمِنْهُ، أَيْ وَمِنَ الْمَعْنَوِيِّ الْمُزَاوَجَةُ، اور معنوی میں سے مولانا، مزاوجہ بھی ہے۔ وَهُوَ أَنْ يُزَاوَجَ... وہ یہ ہے کہ ملایا جائے مولانا... أَنْ يُزَاوَجَ، بھئی فعلِ مجہول ہے۔ فعلِ مجہول ہے، اور فعلِ مجہول کس کو چاہتا ہے؟ نائب الفاعل کو، اور فعلِ معروف کس کو چاہتا ہے؟ فاعل کو، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے فعل عبارت میں آتا ہے فعلِ معروف تو اس کے فاعل کا پتہ نہیں چلتا کون ہے فاعل، جیسے: إلّا لَدَارَتْ أَوْ لَتَسَلْسَلَتْ، تو لَدَارَتْ، دَارَتْ فعل، فعلِ معروف، تَسَلْسَلَتْ بھی فعلِ معروف۔ یا کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ عبارت میں فعلِ مجہول آتا ہے اور اس کے نائبِ فاعل کا پتہ نہیں چلتا، تو اس صورت میں اس فعل کے اندر ضمیر فاعل یا نائبِ فاعل مان لی جاتی ہے جو اسی فعل کے مصدر کو راجع ہوتی ہے۔ جو اسی فعل کے... تو لَدَارَتْ، دَارَتْ کے اندر هُوَ ضمیر جو کس کو راجع؟ دَارَتْ کے مصدر یعنی دور کو: وَإِلَّا لَدَارَتِ الدَّوْرُ، أَوْ لَتَسَلْسَلَتِ التَّسَلْسُلُ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: وَإِلَّا لَدَارَتِ الدَّوْرُ، ورنہ دور لازم آئے گا۔ کیا لازم آئے گا؟ یا تسلسل لازم آئے گا۔ تو دَارَتِ الدَّوْرُ، ترجمہ اس کا کیا کریں گے؟ يَقَعُ الدَّوْرُ، کیا واقع ہو گیا؟ دور واقع ہو گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہی بات علامہ تفتازانی بیان کر رہے ہیں: أَيْ تُوقَعُ الْمُزَاوَجَةُ، کیا واقع ہو کیا گیا؟ مزاوجہ واقع کیا گیا۔ میں نے کیا کہا تھا؟ يَقَعُ الدَّوْرُ، دور واقع ہوا، کیونکہ میں نے کس کا ترجمہ کیا تھا؟ فعلِ معروف کا، تو يَقَعُ میں کیا لے کر آیا؟ معروف، اور یہ کیا ہے؟ يُزَاوَجُ مجہول، تو اس کے لیے کیا لکھا... کیا ذکر کیا علامہ تفتازانی نے؟ تُوقَعُ۔ مزاوجہ واقع کیا گیا، عَلَى أَنَّ الْفِعْلَ مُسْنَدٌ إِلَى ضَمِيرِ الْمَصْدَرِ، بناء بریں کہ یہ فعل مسند ہے کس کی طرف؟ مصدر کے ضمیر کی طرف۔ تو دیکھو وہی مزاوجہ کیا ہے مولانا؟ نائب... کیا ہے؟ نائب الفاعل ہے۔ أَوْ إِلَى الظَّرْفِ، یا مولانا کبھی جو آگے ظرف آ رہا ہوتا ہے، وہ ظرف کیا ہوتا ہے؟ نائب الفاعل ہوتا ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں: الْمَفْعُولُ بِهِ، آپ سے کوئی ترکیب پوچھے تو آپ کیا کہیں گے کہ یہ بِهِ ظرف جو ہے یہ کیا ہے؟ نائب ال... کیونکہ مفعول مفعول بھئی، جیسے فعلِ معروف فاعل چاہتا ہے، اسمِ فاعل کیا چاہتا ہے؟ فاعل، صفتِ مشبہ بھی کیا چاہتی ہے؟ فاعل، اسمِ تفصیل بھی کیا چاہتا ہے؟ فاعل، جبکہ اسمِ مفعول کیا چاہتا ہے؟ نائب الفاعل۔ تو الْمَفْعُولُ بِهِ اس کے اندر نائب الفاعل کون؟ تو وہ کہتے ہیں بھئی اس میں ضمیر نہیں، بلکہ آگے جو بِهِ آ رہا ہے، ظرف، جار مجرور کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ظرف، یہ ظرف کیا ہے اس کے لیے؟ نائب الفاعل۔ تو یا تو کہتے ہیں یہاں ضمیر لوٹا دیں يُزَاوَجُ کے مصدر کی طرف اور وہی اس کا نائب الفاعل ہو، یا آگے بَيْنَ مولانا یعنی ظرف آ رہے ہیں مولانا، یہ کیا ہے اس کے لیے؟ نائب الفاعل ہے۔ تو اس کا أَوْ إِلَى الظَّرْفِ، یا اس کا اسم یہ فعل مسند ہے ظرف کی طرف، یعنی کہ یہ قول جو ہے بَيْنَ مَعْنَيَيْنِ فِي الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ، دو معانی کو شرط اور جزا کے اندر۔ زاوج یزاوج کا معنیٰ مولانا ملنا، ملانا۔ تو مزاوجہ کہتے ہیں دو معنیٰ کو ملانا شرط اور... توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ ملنا، ملانا مولانا، دو معنیٰ کو شرط اور جزا کے اندر بھئی۔ یعنی دو معنیٰ ہیں مولانا۔ دیکھیے، ایک یہ معنیٰ ہے، ایک یہ معنیٰ، دو معنیٰ۔ ایک کو میں نے شرط میں ذکر کیا اور ایک کو کس میں؟ جزا میں ذکر کیا، پھر میں نے اس پر مرتب کی ایک چیز، وہی چیز میں نے اس معنیٰ پر بھی جزا کے اندر بھی... تو شرط میں ایک معنیٰ لے کر آیا، جزا میں ایک معنیٰ لے کر آیا، پھر ان دونوں معانی کو میں نے ملا دیا آپس میں، کس طرح ملایا؟ کہ شرط میں معنیٰ پر جو بات مرتب کی تھی، جزا کے اندر بھی اس معنیٰ پر وہی بات مرتب کی۔ وَالْمَعْنَى: أَنْ يُجْعَلَ مَعْنَيَانِ وَاقِعَانِ فِي الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ، کہ بنایا جائے دو ایسے معانی کو جو واقع ہو رہے ہیں شرط اور جزا کے اندر، مُزْدَوَجَيْنِ، ملے ہوئے، فِي أَنْ يَتَرَتَّبَ، یہ یترقب نہیں ہے مولانا، یہ یترت... أَنْ يَتَرَتَّبَ، کہ مرتب ہو، عَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا مَعْنًى رُتِّبَ عَلَى الآخَرِ، ان میں سے ہر ایک پر ایسا معنیٰ جو مرتب کیا گیا ہے کس پر؟ دوسرے پر۔ كَقَوْلِهِ، دیکھو مثال سے بات سمجھ میں آئے گی، جیسے شاعر کا یہ قول ہے: إِذَا مَا نَهَى النَّاهِي فَلَجَّ بِيَ الْهَوَى ...وَأَصَاخَتْ إِلَى الْوَاشِي فَلَجَّ بِهَا الْヒجْرُ إِذَا مَا نَهَى النَّاهِي، جب منع کرتا ہے کوئی منع کرنے والا عن حبها اس کی محبت سے، فَلَجَّ بِيَ الْهَوَى، تو میرے ساتھ محبت لازم ہو جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے مجھ محبت ہے، میرے پاس بھی منع کرنے والے آتے ہیں، چغل خوری کرنے والے آتے ہیں، اور میری جو معشوقہ ہے اس کے پاس بھی منع کرنے والے جاتے ہیں اور چغل خوری کرنے والے... لیکن میرے پاس جب کوئی ایسا شخص آتا ہے جو مجھے منع کرتا ہے، تو محبت اور میری بڑھ جاتی ہے اور میرے ساتھ لازم ہو جاتی ہے۔ اور جب اس کے پاس کوئی چغل خوری کرنے والا جاتا ہے، تو وہ توجہ سے کام، توجہ سے اس کی بات سنتی ہے اور پھر مجھ سے کیا اختیار کر لیتی ہے؟ جدائی کو اختیار کر لیتی ہے۔ أَصَاخَتْ إِلَى الْوَاشِي، وہ کان دھرتی ہے إِلَى الْوَاشِي چغل خور کی طرف، فَلَجَّ بِهَا الْهِجْرُ، تو اس کے ساتھ لازم ہو جاتی ہے جدائی۔ اس کے ساتھ کیا لازم ہو جاتی ہے؟ اب دیکھو مولانا، صنعتِ مزاوجہ کیا بات کس کو کہتے تھے؟ کہ دو معنیٰ ذکر کرنا، ایک شرط میں اور ایک جزا میں۔ یہاں پر شرط میں ذکر ہوا: إِذَا مَا نَهَى النَّاهِي، جب منع کرنے والا کیا کرتا ہے؟ منع کرتا ہے۔ یہ ایک بات یہاں ذکر ہوئی، اور جزا میں ذکر ہے: أَصَاخَتْ إِلَى الْوَاشِي، اور وہ تو وہ کان دھرتی ہے کس کی طرف؟ چغل خور کی طرف، واشی کس کو کہتے ہیں؟ چغل خوری کرنے والا۔ تو وہ کان دھرتی ہے چغل خور کی طرف۔ تو دیکھو شرط تھی: جب مجھے کوئی منع کرنے والا منع کرتا ہے، جزا کیا ہے؟ تو وہ چغل خور کی طرف کان دھرتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ دو معنیٰ ذکر ہوئے۔ پھر مولانا شرط میں وہ جو نہیِ ناہی تھا، اس پہ مرتب ہو رہا تھا کیا؟ میرے ساتھ کیا لازم ہو جاتی ہے؟ تو میرے ساتھ بھی ایک چیز لازم ہو جاتی ہے۔ تو یہاں جزا کے اندر بھی اس پر وہی بات مرتب کی کہ اس کے ساتھ بھی ایک چیز... میرے پاس جب کوئی منع کرنے والا آتا ہے، تو میرے ساتھ بھی ایک چیز لازم، اور جب اس کے پاس وہ کوئی چغل خوری کرتا ہے، تو اس کے ساتھ بھی ایک چیز لازم ہے۔ تو دونوں میں دیکھو لازم آیا، ہاں میرے ساتھ جو لازم ہوتی ہے وہ محبت ہے، اور اس کے ساتھ جو لازم ہوتی ہے وہ جدائی ہے۔ إِذَا مَا نَهَى النَّاهِي، جب مجھے منع کرتا ہے کوئی منع کرنے والا، وَمَنَعَنِي عَنْ حُبِّهَا عاطف تفسیری، فَلَجَّ بِيَ الْهَوَى عاطف تفسیری، پس میں جب مجھے کوئی منع کرنے والا منع کرتا ہے، اور پس جب میرے ساتھ محبت لازم ہو جاتی ہے، أَصَاخَتْ إِلَى الْوَاشِي، تو وہ کیا کرتی ہے؟ کان دھرتی ہے چغل خور کی طرف۔ أَيِ اسْتَمَعَتْ، یہ ترجم... معنیٰ بتلا رہے ہیں أَصَاخَتْ کا، غور سے سنتی ہے، إِلَى النَّمَّامِ الَّذِي، اس چغل خور کی طرف، الَّذِي يَشِي حَدِيثَهُ، جو مزین کرتا ہے اپنے بات کو۔ چغل خور جو آتا ہے وہ کیا کرتا ہے مولانا؟ بڑی میٹھی میٹھی باتیں اور مزین کلام کو وہ ذکر کرے گا۔ وَيُزَيِّنُهُ، فَصَدَّقَتْهُ، تو وہ محبوبہ اس کی تصدیق کرتی ہے، فِي مَا افْتَرَىٰ عَلَيَّ، ان ب... چیزوں میں جو اس نے مجھ پر گھڑی ہیں، فَلَجَّ بِهَا الْهِجْرُ، تو اس کے ساتھ کیا لازم ہو جاتی ہے؟ جدائی۔ زَاوَجَ بَيْنَ نَهْيِ النَّاهِي وَإِصَاخَتِهَا إِلَى الْوَ... إِلَى الْوَاشِي۔ اور ملایا، جمع کیا مولانا نہیِ ناہی کو شاعر نے اور إصاخۃ إلى الـ... إِلَى الْوَاشِي ہو گیا بھئی۔ الوَاشِي۔ نہیِ ناہی جو ذکر ہوا تھا شرط میں، اور کان لگانا چغل خور کی طرف، الْوَاقِعَيْنِ فِي الشَّرْطِ وَالْجَزَاءِ، یہ دو معنیٰ وا... جو کہ واقع تھے شرط اور جزا میں، فِي، ان دونوں کو جمع کیا کس بات میں؟ فِي أَنْ رَتَّبَ عَلَيْهِمَا لَجَاجَ شَيْءٍ، کہ ان دونوں پر مرتب کیا ایک چیز کے لازم ہونے کو۔ وَقَدْ يُتَوَهَّمُ... جی، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں یہ معنیٰ ہے مزاوجہ۔ مزاوجہ اس کو کہتے ہیں کہ دو معانی ایک شرط میں ذکر، ایک جزا میں ذکر، تو اس شرط میں معنیٰ پر جو چیز مرتب کی تھی، جزا میں بھی اس پر وہی چیز مرتب ہو رہی ہے، تو دونوں کو ملا دیا۔ سمجھ میں آیا؟ کہتے ہیں یہ بعضوں نے یہ وہم کیا، کہ مصنف کی عبارت سے کہ دو معانی اگر شرط میں ذکر ہیں، تو جزا میں بھی کتنے معانی ذکر ہوں؟ دو معانی ذکر ہوں۔ یہ معنیٰ کیا بعضوں نے مزاوجہ کا۔ کہتے ہیں نہیں، یہ کوئی معنیٰ مزاوجہ کا یہ معنیٰ نہیں ہے، بلکہ وہی معنیٰ ہے جو ہم نے بیان کیا، کہ اصل میں تو ایک ایک معنیٰ ذکر ہے، لیکن اس ایک معنیٰ پر جب ایک میں ایک چیز مرتب ہو رہی ہے، تو دوسرے میں بھی وہی چیز مرتب ہو رہی ہے۔ وَقَدْ يُتَوَهَّمُ مِنْ ظَاهِرِ عِبَارَةِ... مصنف کی ظاہر عبارت سے کبھی یہ وہم پڑتا ہے: أَنَّ الْمُزَاوَجَةَ هِيَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ مَعْنَيَيْنِ فِي الشَّرْطِ وَمَعْنَيَيْنِ فِي الْجَزَاءِ، کہ مزاوجہ یہ ہے کہ جمع کیا جائے دو معنیٰ کو شرط میں اور دو معنیٰ کو جزا میں، كَمَا جُمِعَ فِي الشَّرْطِ بَيْنَ نَهْيِ النَّاهِي وَلَجَاجِ الْهَوَىٰ، جیسے جمع کیا گیا شرط کے اندر نہیِ ناہی کو اور لجاجِ ہوا کو، وَفِي الْجَزَاءِ بَيْنَ إِصَاخَتِهَا إِلَى الْوَاشِي وَلَجَاجِ الْهِجْرِ، اور جیسے جمع کیا گیا جزا کے اندر إصاخۃ إلى الواشي کو اور لجاجِ ہجر، دو معنیٰ کو ذکر کیا۔ وَهُوَ فَاسِدٌ، اور یہ کیا ہے؟ فاسد ہے۔ إِذْ لاَ قَائِلَ بِالْمُزَاوَجَةِ فِي مِثْلِ قَوْلِنَا، اس لیے کہ ہمارے اس قسم کے قول کے اندر کوئی بھی مزاوجت کا قائل نہیں ہے، جبکہ ہم نے اس کے اندر دو دو معنیٰ شرط اور جزا میں جمع کیے ہیں، جیسے دیکھو: إِذَا جَاءَنِي زَيْدٌ فَسَلَّمَ عَلَيَّ أَجْلَسْتُهُ فَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ۔ جب میرے پاس زید آیا، جب میرے پاس زید آئے گا، فَسَلَّمَ عَلَيَّ، پس میرے اوپر سلام کرے گا، أَجْلَسْتُهُ، تو میں اس کو بٹھاؤں گا، فَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ، اور اس پر کیا کروں گا؟ انعام کروں گا۔ تو دیکھو شرط کے اندر بھی دو باتیں ذکر: آنا اور سلام کرنا، جزا میں بھی دو باتیں ذکر: بٹھانا اور انعام کرنا۔ تو دو دو معنیٰ ذکر ہوئے، لیکن اس کو کوئی مزاوجہ نہیں کہتا۔ مزاوجہ یہ معنیٰ نہیں کہ دو باتیں شرط میں ذکر ہیں، تو دو جزا میں، بلکہ ان دونوں کو ملانا کہ شرط اور جزا پر ایک ہی چیز ہی، ایک ہی چیز کو دونوں پر کیا کر لینا؟ مرتب کر لینا۔ وَمَا ذَكَرْنَا هُوَ الْـ... وَمَا ذَكَرْنَا هُوَ الْمَأْخُوذُ مِنْ كَلاَمِ السَّلَفِ، اور وہ جو ہم نے ذکر کیا، وہ ماخوذ ہے سلف کے قول سے۔ وَمِنْهُ، أَيْ وَمِنَ الْمَعْنَوِيِّ... جی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اردو میں اس کی مثال مولانا:وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے، چپ رہوں میں تو رات جاتی ہے۔ وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے، چپ رہوں میں تو رات جاتی ہے۔ تو دونوں میں جانا ہے۔ ایک میں بات کرتا ہوں، تو کیا ہے؟ ایک چیز چلی جاتی ہے، چپ رہوں تو دوسری، اس میں بھی ایک چیز چلی جاتی ہے۔ ہاں پہلے میں ہے بات جاتی ہے، دوسرے میں... تو دو۔ ایک دوسرا شعر مولانا:جب رات تھی دراز ملاقات کم ہوئی جب رات تھی دراز ملاقات کم ہوئی، ملنے کے دن جو آئے تو پھر رات کم ہوئی۔ ملنے کے دن جو آئے پھر رات کم ہوئی۔ العَكْسُ، وَمِنْهُ، أَيْ وَمِنَ الْمَعْنَوِيِّ العَكْسُ، اور صنعتِ حسن، معنوی میں سے ایک کیا ہے مولانا؟ عکس بھی ہے۔ عکس کس کو کہتے ہیں مولانا؟ کہ کلام کے اول کو آخر کر دینا، آخر کو کلام میں۔ سمجھ میں آیا؟ جو ایک چیز پہلے ذکر تھی اس کو بعد میں ذکر کر دو، اور جو ایک چیز کو آپ لے کر آئے مولانا، ایک پہلے ہے اور دوسرے بعد میں، آگے اس جو پہلے تھی اس کو بعد میں کر دیا، اور جو بعد میں تھی اس کو پہلے کر دیا۔ جیسے مولانا: عَادَاتُ السَّادَاتِ سَادَاتُ العَادَاتِ۔ سادات: سردار، بادشاہ، سردار۔ عَادَاتُ السَّادَاتِ، دیکھو مولانا، ایک عام لوگ ہیں، ایک سردار ہیں مولانا۔ ایک عام لوگوں کی عادتیں ہیں، ایک سرداروں کی عادتیں ہیں۔ تو کہتے ہیں، جو سرداروں کی عادتیں ہوتی ہیں، جیسے سردار لوگوں کے لیے ہے تو وہ سردار ہوتا ہے، اسی طرح سرداروں کی جو عادتیں بھی ہیں، وہ عام لوگوں کی عادتوں کی کیا ہوتی ہیں؟ وہ ان کی عادتیں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ سمجھ میں آیا مولانا؟ اپنے اندر بڑے لوگوں کی عادتیں پیدا کریں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ جی، بڑے لوگوں کی عادتیں پیدا کریں، آپ بڑے بن جائیں گے مولانا۔ العَكْسُ وَالتَّبْدِيلُ، اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ تبدیل۔ وَهُوَ أَنْ يُقَدَّمَ جُزْءٌ فِي الْكَلاَمِ عَلَى جُزْءٍ آخَرَ، اور وہ یہ کہ مقدم کیا جائے کلام کے اندر ایک جز کو دوسرے جز پر، ثُمَّ يُؤَخَّرَ ذٰلِكَ الْمُقَدَّمُ عَنِ الْجُزْءِ الْمُؤَخَّرِ أَوَّلاً، اور پھر اس مقدم کو کیا کر دیا جائے؟ مؤخر کر دیا جائے اس جز وہ اس پر جو جز مؤخر تھا پہلے۔ وَالْعِبَارَةُ السَّرِ... کہتے ہیں یہ عبارت کوئی واضح نہیں مولانا۔ ایک جز جو مقدم تھا اس کو کیا کر دیا ہے؟ مؤخر کر دیا ہے، لیکن صرف اس کو مؤخر ہی نہ کیا جائے، جو مؤخر تھا اس کو مقدم بھی کیا جائے۔ تو یہ عبارت صریح نہیں تھی، اس لیے علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: وَالْعِبَارَةُ الصَّرِيحَةُ مَا ذَكَرَهُ بَعْضُهُمْ، عبارتِ صریح عبارت وہ ہے جو بعض علماء نے ذکر کی ہے: وَهِيَ أَنْ تُقَدِّمَ أَوَّلاً فِي الْكَلاَمِ جُزْءاً، وہ یہ کہ آپ مقدم کر دیں اولاً کلام کے اندر کسی جز کو، ثُمَّ تَعْكِسَهُ، پھر آپ اس کو الٹا دیں، فَتُقَدِّمَ مَا أَخَّرْتَ، پس آپ مقدم کر دیں جس کو آپ نے مؤخر کیا تھا، وَتُؤَخِّرَ مَا تَقَدَّمْتَ، اور مؤخر کر دیں جو پہلے تھا۔ ظَاهِرُ عِبَارَةِ الْمُصَنِّفِ، حالانکہ مصنف کی ظاہر عبارت صادق ہے اس بعد جیسے نحو اس قسم کی مثالوں پر بھی: عَادَاتُ السَّادَاتِ أَشْرَفُ العَادَاتِ۔ عَادَاتُ السَّادَاتِ أَشْرَفُ... تو دیکھو مولانا، عَادَاتُ السَّادَاتِ، عادات مضاف، السادات مضاف الیہ، تو عادات مقدم تھا اور سادات کیا تھا؟ مؤخر۔ تو یہ عادات جو مؤخر تھا، اگلے جز میں دیکھیں: أَشْرَفُ العَادَاتِ، اس کو کیا کر دیا گیا؟ پہلے جو چیز مضاف تھی اس کو کیا بنا دیا گیا؟ مضاف الیہ، تو مضاف مقدم ہوتا ہے، مضاف الیہ مؤخر ہوتا ہے۔ تو ہم نے جو مضاف تھا، مقدم تھا، اس کو کیا بنا دیا؟ تو مصنف کی تعریف اس پر بھی صادق آ رہی ہے جس کے اندر صرف مقدم کو مؤخر کیا گیا ہے، لیکن مؤخر کو مقدم نہیں... سادات جو مؤخر تھا، اس کو مقدم آگے دوبارہ کیا گیا؟ کہنا تو یوں چاہیے تھا: عَادَاتُ السَّادَاتِ سَادَاتُ العَادَاتِ، جو مؤخر تھا اس کو جو مقدم تھا اس کو مؤخر کیا، تو مؤخر کو کیا کرو؟ مقدم بھی کرو، یعنی دونوں جزوں کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ لیکن مصنف نے جو تعریف کی، وہ واضح نہیں، وہ اس پر بھی صادق آ رہی ہے جس میں صرف مقدم کو کیا کیا گیا ہے؟ مؤخر کیا گیا ہے، اور مؤخر کو مقدم نہیں، تو یہ درست نہیں، اس لیے صریح عبارت لائے۔ وَهُوَ لَيْسَ مِنَ الْعَكْسِ، حالانکہ یہ جو اس قسم کی مثالیں عکس میں سے... وَيَقَعُ الْعَكْسُ عَلَىٰ وُجُوهٍ، اور عکس کئی طور پر، کئی طریقوں پر واقع ہوتا ہے۔ مِنْهَا: أَنْ يَقَعَ بَيْنَ أَحَدِ طَرَفَيِ الْجُمْلَةِ وَمَا أُضِيفَ إِلَيْهِ، ایک عکس یہ ہے مولانا کہ وہ واقع ہو جملے کی ایک طرف میں وَمَا أُضِيفَ إِلَيْهِ اور اس کے مضاف الیہ میں۔ جملے کی ایک طرف اور اس کے مضاف الیہ کے اندر مولانا، جیسے: عَادَاتُ السَّادَاتِ سَادَاتُ العَادَاتِ۔ تو دیکھو عَادَاتُ السَّادَاتِ، یہ کیا ہے؟ جملے کی ایک طرف ہے۔ بھئی جملے میں کیا چاہیے؟ ایک مبتداء اور ایک، جملہ اسمیہ ہے۔ تو عادات مبتداء ہے اور سادات اس کے، اور عادات کے لیے السادات کیا ہے؟ مضاف الیہ۔ تو جملے کا ایک طرف ہے عادات، دوسرے طرف کیا ہے؟ سادات۔ تو عادات اور اس کا مضاف الیہ، جملے کی ایک طرف کیا ہے؟ عادات اور اس کا مضاف الیہ، وہ کون ہے؟ السادات۔ اس کے اندر عکس واقع ہوا کہ جو مضاف تھا، آگے جا کر ہم نے مضاف الیہ بنا دیا، اور جو مضاف الیہ تھا، آگے جا کر اس کو کیا بنا دیا؟ مضاف۔ فَالْعَادَاتُ أَحَدُ طَرَفَيِ الْكَلاَمِ، عادات تو اس کلام کی ایک طرف ہے، وَالسَّادَاتُ مُضَافٌ إِلَيْهِ لِذٰلِكَ الطَّرَفِ، اور السادات اس کی طرف کیا ہے؟ مضاف الیہ ہے۔ وَقَدْ وَقَعَ الْعَكْسُ بَيْنَهُمَا، اور ان میں عکس واقع ہوا ہے، بِأَنْ قُدِّمَ أَوَّلاً الْعَادَاتُ عَلَى السَّادَاتِ، کہ پہلے عادات کو سادات پر مقدم کیا گیا، ثُمَّ السَّادَاتُ عَلَى الْعَادَاتِ، اور پھر سادات کو عادات۔ یا جیسے مولانا: كَلاَمُ الْمُلُوكِ مُلُوكُ الْكَلاَمِ، بادشاہوں کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہوتا ہے۔ وَمِنْهَا، أَيْ مِنَ الْوُجُوهِ، اور وجوہ یعنی عکس کئی طور پر واقع ہوتا ہے، ان میں سے یہ ہے کہ: أَنْ يَقَعَ بَيْنَ مُتَعَلِّقَيِ فِعْلَيْنِ فِي جُمْلَتَيْنِ، کہ وہ واقع ہو جائے دو جملوں کے دو جملوں میں دو فعلوں کے متعلقین میں۔ دو جملے آ رہے ہیں مولانا، اس میں دو فعل ہیں۔ یا دو فعل ہیں، تو ہر فعل کیا بنتا ہے؟ جملہ بن جاتا ہے۔ تو دو فعل ہیں ان کے دو متعلقین ہیں۔ پہلے جملے کے اندر یہ متعلق مقدم تھا، دوسرا کیا تھا؟ آگے جا کر ہم کیا کرتے ہیں؟ اس مقدم کو، اس مقدم کو مؤخر کر دیتے ہیں اور مؤخر کو مقدم۔ جیسے: يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ۔ تو دیکھو يُخْرِجُ الْحَيَّ، یہ ایک مفعول متعلق ہے، مِنَ الْمَيِّتِ یہ جار مجرور بھی يُخْرِجُ سے متعلق ہے۔ تو الْحَيَّ مقدم تھا، مِنَ الْمَيِّتِ کیا تھا؟ مؤخر تھا۔ اب ہاں الْحَيَّ مقدم تھا اور میت کیا تھا؟ حی مقدم تھا اور میت مؤخر، اور آگے جا کر میت مقدم اور حی کو کیا کر دیا گیا؟ فَالْحَيُّ وَالْمَيِّتُ مُتَعَلِّقَانِ بِـ: يُخْرِجُ، حی اور میت یہ دونوں متعلق ہیں يُخْرِجُ سے، متعلقان بـ: يخرج، یہ متعلق ہیں یخرج سے، وَقُدِّمَ أَوَّلاً الْحَيُّ عَلَى الْمَيِّتِ، وَثَانِياً الْمَيِّتُ عَلَى الْحَيِّ، اور مقدم کیا گیا اول حی کو میت پر، اور ثانیاً میت کو حی پر۔ وَمِنْهَا، اور عکس کی وجوہ، عکس کے طریقوں میں سے ہے: أَنْ يَقَعَ بَيْنَ لَفْظَيْنِ فِي طَرَفَيِ جُمْلَتَيْنِ، کہ عکس واقع ہو دو لفظوں کے بیچ جملے کے دو طرفین میں۔ جملے کی دو طرفین ہوتی ہیں مولانا، ایک مسند اور ایک مسند الیہ۔ تو وہ چیز جو پہلے مسند کی طرف میں واقع تھی، اس کو آپ مسند الیہ کی طرف میں لے جائیں، اور جو مسند الیہ کی طرف میں واقع تھی اس کو... جیسے مولانا: لاَ هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلاَ هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ۔ تو دیکھو لاَ هُنَّ، یہ هُنَّ کیا ہے؟ مبتداء، اور حِلٌّ لَهُمْ، یہاں لَهُمْ آ رہا ہے۔ تو هُنَّ مسند الیہ کی طرف میں ہے یعنی مسند الیہ ہے، اور لَهُمْ کس کی طرف میں ہے؟ مسند کی طرف میں ہے۔ اور آگے جا کر عکس کیا گیا، جو هُمْ مسند الیہ کی طرف میں تھا، اس کو کس طرف میں لے آئے؟ مسند کی طرف میں تھا، کہاں لے آئے؟ مسند الیہ کی طرف۔ اور جو مسند الیہ کی طرف تھی، وہ کہاں لے گئے؟ تو دیکھو: هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلاَ هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ۔ قُدِّمَ أَوَّلاً هُنَّ عَلَى هُمْ، وَثَانِياً هُمْ عَلَى هُنَّ، پہلے اول ہن کو مقدم کیا گیا ہم پر، اور ثانیاً ہم کو ہن پر۔ وَهُمَا لَفْظَانِ وَقَعَ أَحَدُهُمَا فِي جَانِبِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ، ان میں سے ایک مسند الیہ کی جانب میں واقع ہوا تھا، اور دوسرا مسند کی جانب میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اردو میں اس کی مثال: استادہ، استادہ آب میں یہ روانی خدا کی شان۔ استادہ: کھڑا ہوا پانی۔ استادہ آب میں یہ روانی خدا کی شان۔ پانی میں آگ، آگ میں پانی خدا کی شان۔ پانی میں آگ، آگ میں پانی خدا کی شان۔ تو دیکھو پانی میں آگ تھا پہلے، پھر کیا کیا گیا؟ آگ میں پانی کیا گیا۔ دوسری مثال:کس طرح تجھے پائیں اب ہم کو بتا ظالم کس طرح تجھے پائیں اب ہم کو بتا ظالم یہاں کہتے ہیں وہاں ہوگا، وہاں کہتے ہیں یہاں ہوگا۔ جہاں ہم تجھے تلاش کرنے جائیں ملتے ہی نہیں ہو بھئی۔ یہاں کہتے ہیں وہاں ہوگا، وہاں کہتے ہیں یہاں ہوگا۔ تو دیکھو عکس ہوا۔ ایک اور مثال ہے:بے شکایت نہیں اے ذوق محبت کے مزے محبت میں شکایت نہ ہو تو مزا ہی نہیں بھئی۔ بے شکایت نہیں اے ذوق محبت کے مزے بے محبت نہیں اے ذوق شکایت کے مزے۔ محبت کا مزا بغیر شکایت کے نہیں، اور شکایت کا مزا بغیر محبت کے نہیں۔ بے شکایت نہیں اے ذوق محبت کے مزے، بے محبت نہیں اے ذوق شکایت کے مزے۔ الرُّجُوعُ، وَمِنْهُ، أَيْ وَمِنَ الْمَعْنَوِيِّ الرُّجُوعُ، اور معنوی میں سے ایک کیا ہے مولانا؟ رجوع ہے۔ وَهُوَ الْعَوْدُ إِلَى الْكَلاَمِ السَّابِقِ بِالنَّقْضِ... اور مولانا رجوع اس کو کہتے ہیں کہ ایک بات پہلے ذکر کی جائے، اور پھر آگے اس کی نقیض اس کی ضد لا کر اس کو کیا کر دیا جائے؟ نقیض لا کر اس کو باطل کر دیا جائے، کسی وجہ سے۔ کیا کیا جائے؟ ایک بات کو ذکر کیا جائے، آگے جا کر کیا کیا جائے؟ اسی کی نقیض، اس کی ضد لے آئیں، اس کلام کو باطل کر دیں مولانا، اس کے خلاف لے آئیں، یعنی اس کے خلاف لے آئیں۔ جیسے دیکھیے: وَهُوَ الْعَوْدُ إِلَى الْكَلاَمِ السَّابِقِ بِالنَّقْضِ، أَيْ بِنَقْضِهِ وَإِبْطَالِهِ لِنُكْتَةٍ، اور رجوع کرنا ہے کلامِ سابق کی طرف اس کے نقض کے ساتھ، أَيْ بِنَقْضِهِ اس کو وَإِبْطَالِهِ اس کو باطل کرنے کے ساتھ لِنُكْتَةٍ، لیکن اس کو باطل کس وجہ سے کریں گے؟ کسی نقطے کی وجہ، بغیر نقطے کے نہیں مولانا۔ كَقَوْلِهِ، جیسے شاعر کا یہ قول ہے: قِفْ بِالدِّيَارِ الَّتِي لَمْ يَعْفُهَا الْقِدَمُ ...بَلَىٰ وَغَيَّرَهَا الأَرْوَاحُ وَالدِّيَمُ عرب لوگ مولانا، پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، تو عرب کے اندر پانی بڑا قلیل تھا، وہ لوگ جہاں پانی دیکھا کرتے وہاں پڑاؤ ڈال لیا کرتے۔ اور پھر جب وہاں پانی ختم ہوتا تو وہاں سے کوچ کرتے اور پھر کسی دوسری ایسی جگہ جہاں جا کر پڑاؤ ڈالتے جہاں پر کیا ہوتا تھا؟ پانی ہوتا تھا۔ تو شاعر ہے ایک مقام سے گزر رہا ہے، اور وہ مقام اس مقام پر کسی زمانے میں شاعر کا قیام ہوا تھا، اور کبھی ان قوم والوں کے ساتھ اور ساتھ اس کی محبوبہ بھی تھی مولانا، معشوقہ بھی تھی۔ اب شاعر عرصہ دراز کے بعد وہاں سے گزرا، تو اب کہتا ہے اپنے آپ ہی سے وہ کہتا ہے: قِفْ، وہاں سے گزرتے ہوئے رک جا، بِالدِّيَارِ الَّتِي لَمْ يَعْفُهَا الْقِدَمُ، اس، ان گھروں پر کہ نہیں مٹے... لَمْ يَعْفُهَا الْقِدَمُ، کہ مٹایا نہیں ان کو قدیم ہو، زمانہ قدیم ہونے نے۔ قدم نے کیا، زمانہ پرانا ہونے نے ان کے آثار و نشانات کو ختم نہیں کیا۔ تو وہاں سے گزرتے ہوئے اپنے آپ سے کہتا ہے: ٹھہر جا تھوڑی دیر یہاں، یہاں پر وہ گھر جو ہیں وہ جو قدم زمانہ گزرنے کے باوجود اس زمانے نے ان گھروں کے نشانات کو ختم نہیں کیا، اس کے اثرات نا... اثرات ابھی بھی موجود ہیں۔ پھر فوراً کہتا ہے اگلے مصرعے میں: بَلَىٰ، کیوں نہیں؟ بلکہ ان گھروں کے نشان کیا ہیں؟ مٹ چکے ہیں۔ وَغَيَّرَهَا الأَرْوَاحُ وَالدِّيَمُ، متغیر کر دیا ہے، بدل دیا ہے ان کو، ارواح جمع ہے ریح، ہوا، ہواؤں نے اور مسلسل بارشوں نے، کثیر بارشوں نے ان نشانات کو کیا کر دیا ہے؟ مٹا ڈالا ہے، ختم کر دیا ہے۔ تو دیکھو پہلے شاعر نے کہا تھا کہ ان گھروں کے نشانات مٹے نہیں پرانے ہونے کے باوجود، پھر آگے جا کر پھر لوٹتا ہے اسی بات کا اسی طرح نقیض کے ساتھ: بَلَىٰ کیوں نہیں بھئی، بلکہ ان کے نشانات تو بارشوں اور ہواؤں نے کیا کیے ہیں؟ مٹا دیے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور نقطہ بتلایا تھا کہ یہ کسی نقطے کی وجہ سے ہو گا، بغیر نقطے کے نہیں۔ تو نقطہ یہ تھا، نقطہ یہ ہے مولانا... کہ وہ... پہلے شاعر نے جو کلام کیا وہ حیرت میں تھا، ڈوبا ہوا تھا، اس کو پرانی یادیں آئیں تو یہ سمجھا کہ وہ نشانات ابھی تک ہیں۔ پھر اس نے غور کیا تو پتہ چلا نہیں ہے، تو بطورِ افسوس اپنے غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کیا کرتا ہے کہ کیوں نہیں، بلکہ ان نشانات کو ہواؤں اور بارشیں مٹا چکی ہیں مولانا۔ قِفْ بِالدِّيَارِ الَّتِي، کھڑ... رک جا ان گھروں کے پاس، لَمْ يَعْفُهَا الْقِدَمُ، کہ قدیم زمان... پرانا ہونے نے مٹایا نہیں ان کے نشانات کو، أَيْ لَمْ يُبْلِهَا، ابلی یبلی کا معنیٰ بدلنا، بوسیدہ کرنا، ختم کرنا، ختم نہیں کیا ان کو تَطَاوُلُ الزَّمَانِ وَتَقَادُمُ الأَهْدِ، زمانے کے لمبا ہونے نے اور زمانے کے قدیم ہونے نے۔ ثُمَّ عَادَ إِلَىٰ ذٰلِكَ الْكَلاَمِ وَنَقَضَهُ، پھر وہ لوٹا اس کلام کی طرف اور کیا کیا اس کو؟ توڑ دیا، بِقَوْلِهِ، اپنے اس قول کے ساتھ: بَلَىٰ، کیوں نہیں؟ وَغَيَّرَهَا الأَرْوَاحُ وَالدِّيَمُ، بدل ڈالا ہے اس کو ہواؤں نے اور سے مسلسل کثیر بارشوں نے، أَيِ الرِّيَاحُ وَالأَمْطَارُ۔ وَالنُّكْتَةُ إِظْهَارُ التَّحَيُّرِ وَالتَّدَلُّهِ، اور نقطہ کیا ہے؟ شاعر اپنی حیرت اور تدلہ کا معنیٰ بھی حیران رہ جانا مولانا، اپنے حیرت، حیرت اپنی حیرت کا اظہار کر رہا ہے۔ كَأَنَّهُ أَخْبَرَ أَوَّلاً بِمَا تَحَقَّقَ لَهُ، گویا کہ اس نے پہلے وہ خبر دی جو اس کے نزدیک محقق تھی، ثابت تھی۔ ثُمَّ أَفَاقَ بَعْدَ الإِفَاقَةِ، پھر اس کو کچھ افاقہ ہوا، فَنَقَضَ الْكَلاَمَ السَّابِقَ، تو اس نے باطل کر دیا گزشتہ کلام کو، قَائِلاً: بَلَىٰ عَفَاهَا الْقِدَمُ وَغَيَّرَهَا الأَرْوَاحُ وَالدِّيَمُ، یہ کہتے ہوئے: بَلَىٰ، بلکہ پرانا ہونے نے ان کو مٹا ڈالا ہے، وَغَيَّرَهَا الأَرْوَاحُ وَالدِّيَمُ اور بدل دیا ہے اس کو ہواؤں نے اور مسلسل کثیر بارشوں نے۔ التَّوْرِيَةُ، وَمِنْهُ، أَيْ وَمِنَ الْمَعْنَوِيِّ التَّوْرِيَةُ، اور معنویات میں سے... صنعتِ معنویہ میں سے کیا ہے؟ یا قسمِ معنوی میں سے توریہ ہے۔ وَتُسَمَّى الإِيهَامَ أَيْضاً، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ ایہام بھی کہتے ہیں۔ ایہام، توریہ اس کو کہتے ہیں مولانا، ایک لفظ بولیں آپ اور لفظ کے دو معنیٰ ہوں، ایک معنیٰ قریب ہو اور ایک معنیٰ بعید ہو، اور آپ ارادہ معنیٰ بعید کا کریں، اور مخاطب اس سے کیا سمجھے معنیٰ...؟ تو ایک معنیٰ قریب ہے، ایک بعید ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ آپ کس کا ارادہ کرتے ہیں؟ مخاطب کون سا سمجھتا ہے؟ قریب کا۔ وَهُوَ أَنْ يُطْلَقَ لَفْظٌ لَهُ مَعْنَيَانِ: قَرِيبٌ وَبَعِيدٌ، کہ دو معنیٰ ہوں: قریب اور بعید، وَيُرَادَ بِهِ الْبَعِيدُ، اور اس سے بعید کا ارادہ کیا جائے، اعْتِمَاداً عَلَىٰ قَرِينَةٍ خَفِيَّةٍ، قرینہ خفیہ پر اعتماد کرتے ہوئے آپ بعید مراد لیں۔ وَهِيَ ضَرْبَانِ، پھر یہ دو قسم پر ہے مولانا۔ آپ نے جو لفظ بولا، اس کے کتنے معنیٰ ہیں؟ دو، ایک قریب ہے اور ایک بعید۔ اب یہ جو معنیٰ قریب ہے، اس کے کسی مناسب کو آپ ذکر کریں گے ساتھ یا ذکر... ارادہ تو آپ کا بعید کا ہے، لیکن کسی یہ جو قریب کا کوئی مناسب تھا ذکر ہو گا یا ذکر...؟ اگر ذکر نہیں ہے مناسب، تو اس کو کہتے ہیں مجردہ۔ اور اگر اس کے ساتھ اس قریب کا کوئی مناسب ذکر ہے، تو اس کو کہتے ہیں مرشحہ بھئی۔ وَهِيَ ضَرْبَانِ: الأُولَىٰ مُجَرَّدَةٌ، پہلی قسم مجردہ ہے، وَهِيَ التَّوْرِيَةُ الَّتِي لاَ تُجَامِعُ شَيْئاً مِمَّا يُلاَئِمُ الْمَعْنَى الْقَرِيبَ، اور یہ وہ توریہ ہے کہ جس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ ملی ہوئی ہو جو مناسب ہو، یلائم کا معنیٰ مناسب ہونا، جو مناسب ہو معنیٰ قریب کے۔ نَحْوُ: الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ، رحمن، اللہ عرش پر غالب ہوئے۔ دیکھو مولانا، اِسْتَوَىٰ کا معنیٰ ایک ہے قریب بیٹھنا۔ اللہ عرش پر بیٹھے، یہ معنیٰ تو صحیح نہیں مولانا، اس لیے کہ بیٹھنا ثابت ہو گا تو اللہ کے لیے جسم ثابت ہو گا، اور جسم ثابت ہو گا تو پھر اللہ کے لیے کیا ثابت ہو جائے گا؟ حدوث، اور یہ تو درست... اللہ کی ذات تو کیا ہے؟ قدیم ہے، لہٰذا اللہ کے لیے بیٹھنے کا معنیٰ یہاں... پھر اس کا کیا معنیٰ بھئی؟ یہاں بظاہر قریب معنیٰ ہے، اور ایک بعید ہے غالب ہونا۔ کیا ہونا؟ غالب ہونا، اور یہاں وہ بعید... اور یہاں پر جو قریب ہے، بیٹھنا، اس کے کوئی مناسب بھی ذکر نہیں ہے۔ تو یہ مجردہ ہے۔ أَرَادَ بِـ: اسْتَوَىٰ، مَعْنَاهُ الْبَعِيدَ، ارادہ کیا اِستَوَىٰ سے معنیٰ اس کے معنیٰ بعید کا، وَهُوَ اسْتَوْلَىٰ، اور وہ کیا ہے؟ اِستَولَىٰ یعنی غلبہ ہے، غلبہ پانا۔ وَلَمْ يُقْرَنْ بِهِ شَيْءٌ مِمَّا يُلاَئِمُ الْمَعْنَى الْقَرِيبَ الَّذِي هُوَ الإِسْتِقْرَارُ، اور اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز بھی نہیں ملی ہوئی جو مناسب ہو معنیٰ قریب کے، اور معنیٰ قریب وہ کیا ہے؟ استقرار، قرار پکڑنا، کسی چیز پر بیٹھنا۔ وَالثَّانِيَةُ مُرَشَّحَةٌ، دوسری قسم مرشحہ ہے، وَهِيَ الَّتِي تُجَامِعُ شَيْئاً مِمَّا يُلاَئِمُ الْمَعْنَى الْقَرِيبَ، اور وہ ہے جو ملا ہوا ہو ایسی چیز کے ساتھ جو معنیٰ قریب کے مناسب ہو، جیسے: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ، بنایا ہم نے آسمان کو بأَيدٍ اپنے ہاتھوں سے۔ یہاں ید مراد قدرت ہے، آسمان کو ہم نے کیا کیا اپنی قدرت سے بنایا۔ أَرَادَ... تو دیکھو، یہاں أَيدٍ کے اندر مولانا توریہ ہے۔ اس لیے کہ ید کا ایک معنیٰ تو یہ ہاتھ ہے، عضوِ مخصوص ہے، اور ید کا ایک معنیٰ کیا ہے؟ قدرت کے ہیں، اور یہاں ارادہ کس کا کیا گیا؟ قدرت کا، اور معنیٰ قریب ہاتھ کے مناسب بھی ذکر ہے، اور وہ ہے تعمیر کرنا۔ بَنَيْنَاهَا کا کیا معنیٰ؟ تعمیر، تعمیر کس سے ہوتی ہے؟ تعمیر، اینٹ پر اینٹ رکھی جاتی ہے اور وہ ہاتھ سے ہوتی ہے، تو اس کے ہاتھ کے مناسب معنیٰ قریب کے مناسب ذکر کیا۔ أَرَادَ بِالأَيْدِي مَعْنَاهَا الْبَعِيدَ، ارادہ کیا أَيْدِي سے معنیٰ بعید کا، وَهُوَ الْقُدْرَةُ، اور وہ قدرت ہے، وَقَدْ قُرِنَ بِهَا مَا يُلاَئِمُ الْمَعْنَى الْقَرِيبَ الَّذِي هُوَ الْجَارِحَةُ الْمَخْصُوصَةُ، اور ملایا گیا اس کے ساتھ وہ جو مناسب ہے معنیٰ قریب کے، اور معنیٰ قریب کیا ہے؟ جو کیا ہے؟ مخصوص عضو ہے۔ وَهُوَ قَوْلُهُ: بَنَيْنَاهَا، اور وہ یہ قول ہے اللہ کا: بَنَيْنَاهَا، ہم نے تعمیر کیا۔ إِذِ الْبِنَاءُ مِمَّا يُلاَئِمُ الْيَدَ، اس لیے کہ تعمیر کس کے مناسب ہے؟ ہاتھ کے مناسب ہے۔ وَهٰذَا مَبْنِيٌّ عَلَىٰ مَا اشْتَهَرَ بَيْنَ أَهْلِ الظَّاهِرِ... یہاں سے علامہ تفتازانی یہ بتلا رہے ہیں مولانا، یہ مولانا متشابہات میں سے ہے: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ، یہ کس میں سے ہے؟ متشابہات میں سے ہے۔ الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ، یہ بھی کس میں سے ہے؟ متشابہات میں سے ہے۔ متشابہات کے بارے میں دو مذاہب ہیں مولانا، ایک متقدمین کا، ایک متاخرین کا۔ متقدمین کہتے ہیں اس میں کوئی تاویل کی ضرورت نہیں مولانا، ہم اس کی حقیقت سے واقف نہیں، اور متاخرین تاویل کرتے ہیں مولانا۔ چنانچہ فرماتے... وہ کہتے ہیں اِستَوَىٰ کے بیٹھنے کے معنیٰ میں نہیں ہے، بلکہ کس معنیٰ میں ہے؟ غلبے کا معنیٰ بھی آتا ہے، غلبے کے معنیٰ میں، اور بَنَيْنَا... بِأَيْدٍ کا ذکر آیا، اور یہ کس معنیٰ میں ہے؟ قدرت کے معنیٰ میں ہے چنانچہ۔ تو متشابہات میں دو مذاہب ہیں: متقدمین اور دوسرا کس کا؟ متاخرین کا۔ یہ یوں کہیں، ایک محققین کا ہے اور ایک اہل ظاہر کا ہے۔ ایک کس کا ہے؟ اہل ظاہر کا ہے۔ محققین جو متقدمین ہیں، اہل ظاہر جو متاخرین ہیں۔ اہل ظاہر یہ کہتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ توریہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ توریہ ہے اور اس اعتبار سے بحث کرتے ہیں اس کے اندر، جبکہ متقدمین کہتے ہیں کہ یہاں پر لفظ میں بحث نہیں کی جائے گی حقیقت اور مجاز ہونے کے اعتبار سے۔ کوئی بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو صرف ایک تشبیہ بیان کی گئی ہے، اللہ کی عظمت اور جلال کو ذہن نشین کروانے کے لیے اس کو تشبیہ دی گئی ہے، کس کس چیز کے ساتھ مولانا؟ ایک معقول چیز کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ محسوس چیز کے ساتھ، جس جو ہمیں آنکھوں سے نظر آتی ہے، اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے مولانا۔ اس لیے کہ محسوس چیز انسان اس کو جلدی قبول کرتا ہے، اس کے نزدیک واضح ہوتی ہے۔ کس کے مقابلے میں؟ معقول کے مقابلے میں محسوس چیز زیادہ واضح ہوتی ہے۔ تو یہاں پر کہ لفظ حقیقی اس معنیٰ میں ہے یا مجازی معنیٰ میں ہے، یہ بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ صرف کس لیے؟ یہاں پر اللہ کی عظمت بتلانے اور اس کو ذہن نشین کروانے کے لیے کیا کیا گیا ہے؟ ایک معقول کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ محسوس کے ساتھ، اور پھر مشبہ بہٖ کے لفظ کا اطلاق کر دیا گیا مشبہ پر۔ مشبہ بہٖ کا اطلاق کس پر کر دیا گیا؟ مشبہ پر، تو یہاں اللہ نے جو آسمان کو قوت اور قدرت کے ساتھ بنایا، اس کو تشبیہ دی گئی کس کے ساتھ؟ ہاتھوں کے ساتھ تعمیر کے ساتھ۔ تو مولانا آسمان کو جو اللہ نے وجود دیا، اس کی جو تخلیق کی ہے، اس کو تشبیہ... وہ مشبہ، اور اس کو کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ ہاتھوں کے ساتھ تعمیر کرنا۔ تو وہ مرکب ہیئت تھی، یہ بھی مرکب ہیئت ہے۔ اور اس مشبہ بہٖ کے لفظ کا اطلاق کر دیا گیا کس پر؟ مشبہ پر، تو بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ یہ تو مشبہ بہٖ تھا، اس کا اطلاق کس پر کر دیا؟ تخلیقِ سما پر مولانا۔ صرف کس لیے؟ اللہ کی عظمت کو اجاگر کرنے اور ظاہر کرنے کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ مولانا، وہاں بھی تشبیہ دی گئی مولانا، غلبے کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ بیٹھنے کے ساتھ، کیونکہ غلبے میں بھی انسان ایک چیز پر کیا، ملکِ تام حاصل ہوتی ہے۔ تو بیٹھنے پر بھی کیا ہوتی ہے؟ ملکِ تام، اس کے قبضے میں ہوتی ہے وہ چیز، تو یہاں پر بھی تشبیہ دی گئی، اور مشبہ بہٖ کے لفظ کو مشبہ پر بول دیا گیا۔ وَهٰذَا مَبْنِيٌّ عَلَىٰ مَا اشْتَهَرَ بَيْنَ أَهْلِ الظَّاهِرِ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ، کہتے ہیں: یہ جو ہم نے بات کی یہ بناء بر کس کے ہے؟ وہ جو مشہور ہے اہل ظاہر مفسرین میں سے، ان کے نزدیک ہے۔ وَإِلاَّ فَالتَّحْقِيقُ أَنَّ هٰذَا تَمْثِيلٌ وَتَصْوِيرٌ، ورنہ تحقیق یہ ہے کہ یہ تو تمثیل ہیں، یعنی مرکب کی تشبیہ مرکب کے ساتھ ہے، وَتَصْوِيرٌ اور صورت بنائی گئی ہے، لِعَظَمَتِهِ تَعَالَىٰ، اللہ کی عظمت کی صورت بنائی گئی، بتائی گئی، وَتَوْقِيفٌ عَلَىٰ كُنْهِ جَلاَلِهِ، وتوقیف واقف کروانا، مطلع کرنا، اور مطلع کرنا ہے عَلَى كُنْهِ، کنہ کا معنیٰ مولانا ایک حقیقت کے آتے ہیں، اور ایک کنہ کا کیا معنیٰ ہے؟ انتہاء، اس کا ایک معنیٰ ہے انتہاء۔ جلال عظمت کو کہتے ہیں۔ عَلَىٰ كُنْهِ جَلاَلِهِ، اللہ کی عظمت کی انتہاء پر واقف کروانے کے لیے۔ اللہ کی عظمت کی انتہاء پر واقف کروانے کے لیے ایک صورت بنائی گئی، مِنْ غَيْرِ أَنْ يُتَمَحَّلَ لِلْمُفْرَدَاتِ حَقِيقَةً أَوْ مَجَازاً، بغیر اس کے کہ تکلف کیا جائے مفردات کے لیے باعتبار حقیقت کے یا باعتبار مجاز کے۔ ہٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلاَمِ۔