وَمِنَ المَسَائِلِ الكَثِيرَةِ الوُقُوعِ أَنَّهُ لَوْ أَقَرَّ ثُمَّ ادَّعَى أَنَّهُ كَاذِبٌ فِي إِقْرَارِهِ فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى لَا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِهِ وَلَكِنْ يُفْتَى عَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أَنَّ المُقَرَّ لَهُ يُحَلَّفُ أَنَّ المُقِرَّ لَمْ يَكُنْ كَاذِبًا۔ اور کہتے ہیں کثیر الوقوع مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اقرار کر لیتا ہے اور بعد میں کیا کرتا ہے؟ بعد میں کہتے ہیں نہیں بھئی کہ میں نے تو میں اپنے اقرار میں جھوٹا تھا بھئی۔ کیا تھا؟ جھوٹا تھا، تو کیا اس کے قول کی طرف توجہ دی جائے گی یا توجہ نہیں دی جائے گی بھئی؟ یہ کسی اعتبار ہے یا اس کا اعتبار نہیں؟ تو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کے قول کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی، یہ اپنے اقرار سے رجوع کرنا چاہتا ہے اور ایک دفعہ اقرار کر لیا جائے تو اس سے رجوع نہیں ہو سکتا، لیکن کہتے ہیں فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ وہ کہتے ہیں نہیں بھئی، کسی نہ کسی درجے میں یہ بھی قابلِ اعتبار ہے اور کیسے؟ رجوع تو یہاں نہیں ہو سکتا، البتہ پھر ہم یوں کر لیں گے کہ مقر لہ جس کے لیے اس نے اقرار کیا تھا اس سے کیا لے لیں گے؟ قسم لے لیں گے، کیا لے لیں گے؟ قسم لے لیں گے کہ تم قسم اٹھاؤ کہ یہ جھوٹا نہیں ہے۔ یہ تو کہہ رہا ہے میں اپنے اقرار میں کیا ہوں؟ جھوٹا ہوں، تم قسم اٹھاؤ یہ اپنے اقرار میں جھوٹا نہیں ہے، تو پھر اس پر فیصلہ کیا جائے۔ وَمِنَ المَسَائِلِ الكَثِيرَةِ الوُقُوعِ اور کثیر الوقوع مسائل میں سے ہی یہ ہے کہ أَنَّهُ لَوْ أَقَرَّ اگر کسی نے اقرار کر لیا ثُمَّ ادَّعَى أَنَّهُ كَاذِبٌ فِي إِقْرَارِهِ پھر اس نے دعویٰ کر دیا کہ وہ اپنے اقرار میں کیا تھا؟ جھوٹا تھا فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک لَا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِهِ مقر کے اس قول کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی وَلَكِنْ يُفْتَى عَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ لیکن یہ کہتے ہیں فتویٰ جو ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے اور فتویٰ دیا جائے گا کہ أَنَّ المُقَرَّ لَهُ يُحَلَّفُ کہ مقر لہ سے کیا لی جائے گی؟ قسم، اس کو يُحَلَّفُ اس کو قسم دی جائے گی أَنَّ المُقِرَّ لَمْ يَكُنْ كَاذِبًا کہ مقر جو ہے جھوٹا نہیں ہے بھئی، مقر جو جھوٹا نہیں ہے اس پر قسم دی جائے گی۔ وَكَذَا لَوْ ادَّعَى وَارِثُ المُقِرِّ فَعِنْدَ البَعْضِ لَا يُلْتَفَتُ۔ بھئی ایک صورت تو یہ تھی کہ مقر خود اقرار کرتا ہے، خود کہتا ہے بھئی۔ میں نے بھئی پہلے اقرار کر لیا تھا کہ میں نے زید کے کتنے دینے ہیں؟ ایک ہزار درہم دینے ہیں، بعد میں میں نے کہا نہیں بھئی، میں نے تو یہ جھوٹا اقرار کیا تھا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کیا کیا جائے گا؟ زید جس کے لیے میں نے اقرار کیا اس سے اس کو قسم دی جائے گی کہ تم قسم اٹھاؤ کہ یہ جھوٹا نہیں ہے، جھوٹا نہیں ہے۔ لیکن بھئی اقرار میں نے کیا تھا، میں مر گیا، بعد میں میرے جو وارث تھے انہوں نے کہا بھئی، اب جب میں نے اقرار کیا تو میرے اوپر کتنے درہم واجب ہو گئے؟ ایک ہزار درہم لازم ہو گئے، لیکن میرے مرنے کے بعد میرے ورثاء نے کہا بھئی کہ ہمارے مورث نے کیا وہ اپنے اقرار کے اندر جھوٹا تھا، تو کیا ان کا قول معتبر ہے یا معتبر نہیں بھئی؟ کہتے ہیں بھئی کہ بعض کے نزدیک وارثوں کے اس قول کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی، ان کا یہ قول درخورِ اعتناء نہیں ہے بھئی، تو اس کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی۔ کہتے ہیں دیکھیے بھئی، وَكَذَا لَوْ ادَّعَى وَارِثُ المُقِرِّ اگر مقر کے وارثوں نے یہ دعویٰ کر دیا، کیا دعویٰ کیا بھئی؟ کہ ہمارا مورث اپنے اس اقرار میں جھوٹا تھا۔ فَعِنْدَ البَعْضِ لَا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِهِ تو بعض کے نزدیک توجہ نہیں کی جائے گی وارث کے اس قول کی طرف لِأَنَّ حَقَّ الوَرَثَةِ لَمْ يَكُنْ ثَابِتًا فِي زَمَانِ الإِقْرَارِ کہتے ہیں نہیں بھئی ان کے قول کسی درجے میں بھی نہیں ہے، کیونکہ جب اقرار کیا تھا مقر نے تو اس وقت وارثوں کا حق مال کے اندر تھا؟ اس وقت تو وارثوں کا حق ہی نہیں تو ان کا تعلق ہی نہیں ہے اس اقرار کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں اس لیے کہ ورثاء کا حق ثابت ہی نہیں تھا اقرار کے زمانے میں وَالأَصَحُّ لیکن صحیح قول یہ ہے التَّحْلِيفُ کہ کیا دی جائے گی بھئی؟ یہاں بھی مقر لہ کو قسم دی جائے گی، کیوں؟ لِأَنَّ الوَرَثَةَ ادَّعَوْا أَمْرًا اس لیے کہ ورثاء نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا ہے، ایسے امر کا دعویٰ کیا ہے لَوْ أَقَرَّ بِهِ المُقَرُّ لَهُ اگر اس کا اقرار کون کر لے؟ مقر لہ اس کا اقرار کر لے يَلْزَمُهُ تو یہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ بھئی انہوں نے کیا کہا؟ وارثوں نے مقر کے وارثوں نے کیا کہا؟ کہ ہمارا مورث اپنے اقرار میں جھوٹا تھا، تو کہتے ہیں یہاں پر صحیح قول یہ ہے کہ یہاں پر بھی مقر لہ کو کیا دی جائے گی؟ قسم، کیوں قسم دی جائے گی؟ اس لیے کہ وارثوں نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا ہے، اگر مقر لہ اس کا کیا کر لیتا ہے؟ اقرار کر لیتا ہے کہ ہاں واقعی مقر اپنے اقرار میں کیا تھا؟ جھوٹا تھا، تو یہ اس پر لازم ہو جائے گا یا نہیں اس کا اقرار؟ وہ اقرار پہلے والا رد ہو جائے گا یا رد نہیں ہو جائے گا؟ وہ رد ہو جائے گا، تو دیکھو یہاں پر اس کے اقرار کی وجہ سے مقرِ اول کا اقرار کیا ہو جاتا ہے؟ رد ہو جاتا ہے، اس لیے اور یہ اس کا انکار کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ انکار، تو لہٰذا اس صورت میں اب قسم دی جائے، وارثوں نے کیا دعویٰ کیا ہے؟ کہ ہمارا مقر کیا تھا؟ اب ہمارا مورث اپنے اقرار میں جھوٹا تھا۔ اور مقر لہ کیا کر رہا ہے اس کا؟ انکار، تو اب اس کو کیا دی جائے گی؟ قسم دی جائے گی۔ لِأَنَّ الوَرَثَةَ ادَّعَوْا أَمْرًا لَوْ أَقَرَّ بِهِ المُقَرُّ لَهُ يَلْزَمُهُ اس لیے کہ ورثاء نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا ہے کہ اگر مقر لہ اس کا اقرار کر لیتا ہے تو وہ اقرار اس پر کیا ہو جائے گا؟ لازم، کیسے اقرار لازم ہوگا؟ یعنی وہ ہزار درہم کیا ہو جائیں گے؟ ختم ہو جائیں گے۔ یہ کہہ دیتا ہے نا وہ جھوٹا تھا، تو وہ ہزار درہم ختم ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟ اس کا اقرار رد ہو جائے گا۔ تو یہ لازم ہو جاتا ہے۔ اور یہ یہاں پر اس کا انکار کر رہا ہے، وَإِذَا أَنْكَرَ اسْتُحْلِفَ جب انکار کر رہا ہے تو اس کو قسم دی جائے گی، اس سے قسم طلب کی جائے گی۔ وَإِنْ كَانَ الدَّعْوَى عَلَى وَرَثَةِ المُقَرِّ لَهُ بھئی اب مقر لہ مر گیا۔ اب کیا کیا جائے؟ ایک آدمی نے اقرار کیا تھا، میں نے زید کے کتنے دینے ہیں؟ ایک ہزار درہم۔ بعد میں زید کہتا ہے میں جھوٹا ہوں، لیکن مقر لہ مر چکا ہے اس اقرار کے بعد، مر گیا وہ۔ اب اس کے ورثاء باقی ہیں۔ تو پہلے یہ ہزار درہم کس کو دینے تھے؟ زید کو، لیکن زید مر چکا، اب کس کو دینے ہیں؟ ورثاء کو۔ اب مقر لہ مر چکا ہے اس کے وارث ہیں، اس وقت یہ مقر دعویٰ کرتا ہے کہ میں اپنے اقرار میں کیا تھا؟ جھوٹا تھا، تو کیا اب قسم دی جائے گی ورثاء کو یا قسم نہیں دی جائے گی؟ کہتے ہیں ورثاء کو بھی قسم دی جائے گی، لیکن وارث کس طرح بتلا سکتے ہیں بھئی؟ کہتے ہیں ان کو صرف علم پر قسم دی جائے گی کہ تم قسم اٹھاؤ کہ تم اس بات کو نہیں جانتے کہ وہ جھوٹا تھا۔ وَإِنْ كَانَ الدَّعْوَى عَلَى وَرَثَةِ المُقَرِّ لَهُ اور اگر دعویٰ مقر لہ کے ورثاء پر تھا فَالَيَمِينُ عَلَيْهِمْ تو قسم ان پر آئے گی بِالعِلْمِ قسم ان پر کس کے ساتھ ہوگی؟ علم کے ساتھ ہوگی أَنْ لَا نَعْلَمَ کہ ہم نہیں جانتے أَنَّهُ كَاذِبًا کہ مقر کیا تھا؟ جھوٹا تھا، کہ ہم نہیں جانتے کہ مقر جھوٹا ہے۔ بَابُ الِاسْتِثْنَاءِ یعنی یہ اس اقرار کے اندر کسی چیز کا استثناء کر لینا، اس کو نکال دینا۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں، مگر تین سو کم، مگر تین سو، تو کتنے رہ گئے؟ سات سو۔ تو کیا یہ استثناء کرنا صحیح ہے یا استثناء صحیح نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ استثناء جو ہے اگر متصل اس نے کیا تو صحیح، اگر منفصل کیا تو صحیح مثلاً کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دَرَاهِمَ فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ أَلْفُ دِرْهَمٍ ایک ہزار، أَلْفُ دِرْهَمٍ ایک ہزار درہم ہیں إِلَّا إِلَّا ثَلَاثَ مِائَةٍ مگر کتنے بھئی؟ تین سو کم بھئی۔ تو کہتے ہیں اگر ملا کر کہا إِلَّا ثَلَاثَ مِائَةٍ تو پھر تو ٹھیک ہے، اب سات سو اس پر واجب ہو جائیں گے، لیکن اگر جدا کر کے کہا لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ کہا پھر خاموش ہو گیا، تھوڑی دیر بعد کہتا ہے إِلَّا ثَلَاثَ مِائَةٍ اب معتبر نہیں ہے بھئی۔ وَمَنِ اسْتَثْنَى یہاں ضابطہ یاد رکھو کہ کل میں سے بعض کا استثناء تو صحیح ہے، لیکن کل کا کل سے استثناء صحیح نہیں۔ آپ پڑھ چکے ہیں مولانا اصولِ فقہ کے اندر کہ کل کا کل سے استثناء صحیح، ہاں کل سے بعض کا استثناء صحیح ہے بشرطیکہ متصل ہو، منفصل نہ ہو، جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی، اس نے ہزار میں سے کتنے کا استثناء کیا؟ تین سو، اور تین سو ہزار کا کیا ہے؟ بعض ہے، تین سو ہزار کا بعض ہے، یعنی سارا نہیں ہے اس میں سے کچھ ہے بھئی، تو کچھ کا استثناء صحیح۔ لیکن اگر سارے کا استثناء کرتا ہے لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِلَّا أَلْفَ دِرْهَمٍ فلاں کے مجھ پر کتنے ہزار کتنے درہم ہیں؟ ایک ہزار، مگر ایک ہزار کم، تو اب کتنا بچا باقی؟ کچھ بھی نہیں بچا، تو کل سے کل کا استثناء کر رہا ہے اور یہ درست نہیں ہے مولانا، اس لیے کہ یہ دراصل رجوع کرنا چاہتا ہے اور رجوع تو درست نہیں، اقرار ایک دفعہ کر چکا تو رجوع صحیح نہیں۔ لیکن یاد رکھو کل کا کل سے استثناء اس وقت صحیح نہیں جبکہ مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ دونوں ایک ہوں۔ مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ ایک ہوں، لیکن اگر دونوں میں فرق آ جائے لفظوں کا تو پھر استثناء کل کا کل سے صحیح ہے۔ مثلاً ایک آدمی نے کہا: نِسَائِي كُلُّهَا طَوَالِقُ میری ساری بیویوں کو طلاق ہے إِلَّا زَيْنَبَ وَفَاطِمَةَ وَ مثلاً اور کیا؟ وَهِنْدًا جی، تو تین کا نام بعد میں ذکر کر دیا۔ دیکھا گیا تو اس کی تین ہی بیویاں تھیں: زینب، فاطمہ اور ہند، یہی تین اس کی بیویاں ہیں بھئی، اور اس نے پہلے کیا کہا؟ میری ساری بیویوں کو طلاق، مگر کن کو طلاق نہیں؟ زینب، فاطمہ اور ہند کو، تو اس نے کل کا کل سے استثناء کر دیا، تو فقہاء کرام فرماتے ہیں استثناء صحیح ہے، ایک بیوی کو بھی طلاق نہیں ہوئی۔ بھئی یہ تو کل کا کل سے استثناء ہے، بھئی کل کا کل سے استثناء اس وقت درست نہیں ہے جب مستثنیٰ منہ اور مستثنیٰ کا لفظ کیا ہو؟ ایک ہو، اگر دونوں کے لفظوں میں فرق آ جائے تو پھر استثناء صحیح۔ اگر یوں کہتا: نِسَائِي كُلُّهَا طَوَالِقُ إِلَّا نِسَائِي اب مولانا مستثنیٰ منہ بھی کیا تھا؟ نِسَائِي، مستثنیٰ بھی کیا ہے؟ تو یہ استثناء کل کا کل سے صحیح نہیں، لیکن اگر لفظوں کا فرق آ جائے، پہلے تھا نِسَائِي كُلُّهَا اور اب آگے کیا کہا؟ نام ذکر کر دیے، تو فرق آ گیا تو اب استثناء صحیح۔ وَمَنِ اسْتَثْنَى اور جس نے استثناء کر دیا بَعْضَ مَا أَقَرَّ بِهِ بعض اس کا جس نے جس کا اس نے اقرار کیا تھا مُتَّصِلًا اس حال میں کہ وہ کیا ہے؟ اقرار وہ استثناء متصل ہے لَزِمَهُ بَاقِيهِ تو باقی اس پر کیا ہو جائیں گے؟ لازم، یعنی استثناء صحیح ہو جائے گا اور جو باقی بچے گا وہ لازم ہو جائے گا۔ وَإِنِ اسْتَثْنَى الكُلَّ اور اگر سارے کا استثناء کر دیا فَكُلُّهُ તો سارے کے سارے اس پر کیا ہو جائیں گے؟ لازم، أَيْ لَزِمَهُ كُلُّهُ تو سارے لازم ہو جائیں گے، کیوں؟ کہتے ہیں لِأَنَّ اسْتِثْنَاءَ الكُلِّ لَا يَصِحُّ کل کا کل سے استثناء صحیح نہیں، میں نے بتلایا کہ لفظ ایک ہو تو صحیح نہیں، لفظ الگ ہو تو صحیح ہے۔ فَإِنِ اسْتَثْنَى كَيْلِيًّا أَوْ وَزْنِيًّا مِنْ دَرَاهِمَ صَحَّ قِيمَةً وَإِنِ اسْتَثْنَى غَيْرَهُمَا مِنْهَا لَمْ يَصِحَّ۔ صورتِ مسئلہ یہ، ایک آدمی کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار درہم ہیں جی إِلَّا دِينَارًا مگر ایک دینار کم بھئی، تو بھئی استثناء دوسری چیز کا کر رہا ہے، مستثنیٰ منہ اور ہے اور مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کون تھا یہاں؟ دراہم، اور استثناء کس کا کیا؟ دینار کا، یا یوں کہا لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِلَّا قَفِيزَ حِنْطَةٍ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں مگر ایک قفیز گندم کم بھئی، تو کیا یہ استثناء صحیح ہے یا استثناء صحیح نہیں بھئی؟ استثناء صحیح نہیں، تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اگر دراہم سے مثلاً استثناء کر رہا ہے تو اور مستثنیٰ کیا چیز ہے؟ کیلی یا وزنی چیز ہے، یعنی قدر والی چیز ہے، تو پھر استثناء صحیح، اور اگر غیر قدر والی چیز ہے پھر استثناء صحیح۔ تو بھئی میں نے کہا لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِلَّا دِينَارًا استثناء صحیح ہے یا صحیح نہیں بھئی؟ صحیح ہے، کیونکہ دینار کیا ہے؟ وزن والی چیز ہے، سمجھ میں آیا؟ اچھا، میں کہتا ہوں لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِلَّا قَفِيزَ حِنْطَةٍ استثناء صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ صحیح ہے، کیوں؟ کیونکہ مستثنیٰ کیا ہے؟ کیلی چیز ہے بھئی، کیلی، لیکن میں کہتا ہوں لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِلَّا ثَوْبًا مگر ایک کپڑا کم بھئی، استثناء صحیح ہے یا صحیح نہیں ہے بھئی؟ یہ صحیح نہیں، اس لیے کہ یہاں پر مستثنیٰ کیلی چیز نہیں ہے بھئی۔ اچھا، یہ معنی ہے فَإِنِ اسْتَثْنَى كَيْلِيًّا أَوْ وَزْنِيًّا استثناء کیا اگر کیلی یا وزنی چیز کا مِنْ دَرَاهِمَ کس سے؟ دراہم سے استثناء کیا صَحَّ قِيمَةً تو یہ صحیح ہے استثناء باعتبار قیمت کے۔ کیا معنی؟ میں نے کہا تھا میرے اوپر ایک ہزار درہم ہیں مگر کتنے کم؟ ایک دینار کم، تو استثناء صحیح، تو بھئی اب کیسے کم کریں گے؟ کہتے ہیں بھئی ایک دینار کی قیمت لگا لو، ایک دینار کتنے دراہم کے برابر ہے؟ مثلاً 10 کے برابر ہے تو 10 درہم کم کر دو 1000 میں سے، اور ایک قفیز گندم جو میں نے استثناء کیا تھا ایک قفیز گندم کی قیمت لگا لو، وہ مثلاً دو دی دو درہم کا ہے تو دو درہم کیا کر دو 1000 میں سے؟ کم کر دو، تو یہ صحیح ہے استثناء اور کس بھئی کس طرح ہوگا؟ کہتے ہیں قِيمَةً باعتبار قیمت کے استثناء کیا جائے گا، وَإِنِ اسْتَثْنَى غَيْرَهُمَا اگر ان کے ان دونوں کے علاوہ یعنی کیلی اور وزنی چیز کے علاوہ کسی چیز کا استثناء کیا مِنْهَا کس میں سے؟ دراہم میں سے لَمْ يَصِحَّ تو یہ صحیح، تو یہ دراہم کی بات ہو رہی ہے کہ دراہم سے استثناء کرتا ہے کیلی یا وزنی چیز کا۔ إِنْ قَالَ اگر کہا کسی نے لَهُ عَلَيَّ اب وہی تفصیل بتلانے لگے ہیں لَهُ عَلَيَّ مِائَةُ دَرَاهِمَ اچھا بھئی، لَهُ عَلَيَّ مِائَةُ دِرْهَمٍ ہونی چاہیے بات جو دراہم درست نہیں بھئی، کیونکہ مِائَةُ کی تمیز کیا آتی ہے؟ آپ نے کیا پڑھا بھئی نحو کے اندر؟ مِائَةُ کی تمیز کیا آتی ہے؟ مفرد مجرور آتی ہے بھئی، ثَلَاثَةُ سے لے کر عَشَرَةُ تک جمع مجرور آتی ہے بھئی، تو مِائَةُ دِرْهَمٍ ہونا چاہیے، یہ دراہم کتابت کی غلطی ہے مولانا۔ اگر ایک شخص کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةُ دِرْهَمٍ إِلَّا دِينَارًا أَوْ إِلَّا قَفِيزَ حِنْطَةٍ یہ کہتا ہے صَحَّ الِاسْتِثْنَاءُ استثناء صحیح ہے مولانا، وَإِنْ قَالَ اور اگر اس نے یہ کہا إِلَّا ثَوْبًا لَمْ يَصِحَّ استثناء صحیح نہیں۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ یہ حضرت شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے لِوُجُودِ المُجَانَسَةِ بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ کیوں صحیح ہے استثناء؟ کہتے ہیں لِوُجُودِ المُجَانَسَةِ مِنْ وَجْهٍ اس کے اس لیے کہ مجانست پائی جا رہی ہے من وجہ، من وجہ یہ ایک دوسرے کی جنس میں سے ہیں، مجانست ہے یہ دونوں من وجہ کیا ہیں؟ ایک جنس جنس میں سے ہیں، مجانست پائی جانے کی وجہ سے من وجہ إِذَا كَانَ مَكِيلًا أَوْ مَوْزُونًا جبکہ مستثنیٰ کیا ہو؟ مکیل ہو یا موزون ہو بھئی، جی من وجہ مجانست ہے مولانا، من وجہ مجانست ہے بھئی کیوں؟ اس لیے کہ دراہم بھی قدر والے ہیں، دراہم بھی کیا ہیں؟ قدر والے ہیں، اور آگے مستثنیٰ بھی کیا ہے؟ قدر والی چیز ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو من وجہ مجانست موجود ہے، ایک جنس ہیں بھئی۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک لَا يَصِحُّ فِي الكُلِّ کہ تینوں صورتوں کے اندر چاہے قدر والی ہو یا قدر والی نہ ہو، دونوں صورتوں میں صحیح نہیں ہے استثناء لِعَدَمِ المُجَانَسَةِ مِنْ وَجْهٍ اس لیے کہ عدمِ مجانست ہے من وجہ۔ بھئی دیکھو بھئی، جب ایک آدمی کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِلَّا دِينَارًا، تو من وجہ مجانست ہے، من وجہ مجانست نہیں۔ بایں اعتبار مجانست ہے کہ وہ بھی کیا ہے؟ قدر والی ہے، اور یہ بھی چیز کیا ہے؟ قدر والی، اور بایں اعتبار دیکھا جائے تو مجانست نہیں ہے کہ وہ تو ہیں درہم اور یہ کیا چیز ہے؟ دینار بھئی، تو من وجہ مجانست، تو من وجہ مجانست ہے اور من وجہ مجانست نہیں، تو شیخین رحمہما اللہ نے مجانست والی جہت کا اعتبار کیا، امام محمد رحمہ اللہ نے عدمِ مجانست والی جہت کا اعتبار کیا۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَصِحُّ فِي الكُلِّ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ساروں سب ہر صورت میں صحیح ہے، چاہے کیلی وزنی ہو یا کیلی وزنی نہ ہو لِلْمُجَانَسَةِ بموجب مجانست کے پائے جانے کے مِنْ حَيْثِ المَالِيَّةِ کس کے اعتبار سے؟ مَالِيَّةِ کے اعتبار سے، وہ سب وہ فرماتے ہیں سب میں مَالِيَّةٌ ہے تو ان کی ایک گویا ایک ہی جِنْس ہے. تو انہوں نے مَالِيَّةِ کا اعتبار کیا. تو استثنا صحیح ہے تمام صورتوں میں ان کے نزدیک. وَمَنْ أَقَرَّ وَوَصَلَ بِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بَاطِلٌ إِقْرَارُهُ. میں نے کہا بھئی لِزَيْدٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى. ساتھ میں نے کیا کہہ دیا؟ إِنْ شَاءَ اللَّهُ کہہ دیا بھئی، تو إِنْ شَاءَ اللَّهُ کی تلوار ساتھ چلائی مولانا سارا اقرار کیا ہوا؟ ختم ہو گیا. اس لیے کہ میں نے اپنے اقرار کو معلق کر دیا کس کے ساتھ؟ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَشِيَّةِ کے ساتھ، اور تعلیق اقرار کے اندر صحیح نہیں. یا یوں کہیں مولانا تعلیق صحیح ہے تو پھر یہ موقوف ہوا کس پر؟ اللہ کی مشیت کے جاننے پر اور اللہ کی مشیت کا پتہ نہیں چل سکتا. تو یہ معنی ہے وَمَنْ أَقَرَّ جس نے اقرار کیا وَوَصَلَ بِهِ اور ملا دیا اس کے ساتھ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بَاطِلٌ إِقْرَارُهُ تو اس کا بَاطِلٌ إِقْرَارُهُ اس کا اقرار کیا ہو جائے گا؟ باطل. یہ ملانا ضروری ہے الگ کہا تو نہیں ہوگا. وَلَوْ بِاسْتِثْنَاءِ بِنَاءِ دَارٍ أَقَرَّ بِهَا كَانَ لِلْمُقِرِّ لَهُ. صورت مسئلہ یہ ہے. میں نے کہا بھئی ادھر دیکھو بھئی، میں نے کہا یہ گھر زید کا ہے، یہ گھر کس کا ہے؟ یہ گھر زید کا ہے مگر اس کی عمارت میری ہے. استثنا میں نے کس کا کیا؟ عمارت کا. کہتے ہیں یہ استثنا درست نہیں، اس لیے کہ گھر نام ہے صحن اور عمارت دونوں کا. تو عمارت گھر کے اندر بالطبع خود بخود داخل ہو جاتی ہے اور جو چیز بالطبع داخل ہو جاتی ہے اس کا استثنا صحیح نہیں. وَلَوْ بِاسْتِثْنَاءِ بِنَاءِ دَارٍ لکھا دَارٌ نکرہ ہے، اس کے بعد کیا رہا ہے؟ فعل آ رہا ہے، تو یہ کیا بنیں گے؟ موصوف صفت، اور موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا، دیکھنا ترجمہ. اگر کسی نے استثنا کیا ایسے گھر کی عمارت کا أَقَرَّ بِهَا جس گھر کا وہ کیا کر چکا ہے؟ اقرار کر چکا ہے، كَانَ تو وہ دونوں، تثنیہ ہے، وہ دونوں یعنی عمارت گھر سمیت لِلْمُقِرِّ لَهُ کس کے لیے ہوگا؟ مقر لہ کے لیے ہوگا، یا یوں کہیں عمارت صحن سمیت کس کے لیے ہوگی؟ مقر لہ کے لیے. کیوں؟ لِأَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ لَا يَصِحُّ اس لیے کہ یہاں استثنا صحیح نہیں. کیوں نہیں صحیح بھئی؟ کہتے ہیں لِأَنَّ البِنَاءَ إِنَّمَا يَدْخُلُ بِالطَّبْعِ اس لیے کہ بنا یہاں پر داخل ہو جاتی ہے طبع ہونے کی بالطبع بھئی، وَمَا هُوَ كَذَلِكَ اور جو چیز طبعا داخل ہوتی ہو لَا يَصِحُّ اسْتِثْنَاءُهُ اس کا استثنا صحیح نہیں۔ بھئی، جیسے آپ نے پڑھا تھا کس نے باندی کو بیچا اور اس کے حمل کا استثنا کیا تو وہ استثنا صحیح کیونکہ حمل تو طبعاً خود بخود داخل ہو جاتا ہے مبہم میں. وإن قال بناؤہا لي وصلہ لکا فکما قال. بھئی میں لفظ بدل دیے میں نے، پہلے کیا کہا تھا؟ پہلے میں اس صورت میں میں نے کہا تھا گھر زید کا ہے، لیکن عمارت میری. اب میں گھر کا لفظ استعمال نہیں کرتا، میں کہتا ہوں کہ اس گھر کی عمارت جو ہے وہ میری ہے اور اس کا صحن کس کا ہے؟ زید کا. تو کہتے ہیں اب اسی طرح ہوگا جیسے کہا بھئی. کیوں؟ کیونکہ پہلے تو اس نے خود کہا تھا کہ سارا گھر ہی کس کا ہے؟ زید کا. اب یہ تو اب تو میں نے یہ نہیں کہا، بلکہ میں نے تو صرف کیا کہا؟ گھر کی عمارت میری ہے اور صحن اس کا ہے. تو اب الگ الگ میں دونوں کا ذکر کر رہا ہوں، عمارت کو الگ ذکر کر رہا ہوں اور صحن کو الگ. وَإِنْ قَالَ اور اگر یوں کہا بِنَاؤُهَا لِي اس گھر کی عمارت جو ہے میری ہے، وَأَعْطَتْهُ لَكَ اور اس کا صحن جو ہے وہ آپ کا ہے، فَكَمَا قَالَ تو اسی طرح ہوگا جیسے اس نے کہا یا کہا وَفَصْلَ الخَاتَمِ وَنَخْلَةَ بُسْتَانٍ كَبِنَائِهَا۔ انگوٹھی کا نگینہ اور باغ کی کھجور کا درخت بھئی! باغ کے کھجور کا فصل الخاتم انگوٹھی کا نگینہ اور باغ کے درخت کا نخلہ کھجور کے درخت كَبِنَائِهَا یہ بھی کس کی طرح ہے؟ گھر کی عمارت کی طرح ہے۔ مثلاً دیکھو بھئی! میں نے اقرار کیا، یہ انگوٹھی زید کی ہے، مگر نگینہ میرا ہے، یہ درست نہیں مولانا! انگوٹھی تو چھلے اور نگینے دونوں کا نام ہے، تو جب میں نے انگوٹھی کہہ دیا، تو نگینہ بھی بالطبع اس میں کیا ہو گیا؟ شامل۔ تو اب بعد میں اس کا استثناء صحیح۔ تو یہ بھی گھر اور عمارت کی طرح ہوا۔ جیسے گھر سے عمارت کا استثناء صحیح نہیں تھا، تو انگوٹھی سے بھی نگینے کا استثناء صحیح نہیں۔ اسی طرح اگر میں اقرار کرتا ہوں کس چیز کا؟ باغ کا، یہ باغ کس کا ہے؟ زید کا ہے، مگر یہ جو کھجور کے درخت ہیں، یہ میرے ہیں، تو یہ درست نہیں مولانا! کیونکہ وہ درخت کیا ہوتے ہیں؟ باغ میں بالطبع شامل ہوتے ہیں۔ تو یہی بات کہہ رہے ہیں وَفَصْلَ الخَاتَمِ انگوٹھی کا نگینہ وَنَخْلَةَ بُسْتَانٍ اور باغ کے جو درخت ہیں، نخلہ کھجور کے درخت کو کہتے ہیں كَبِنَائِهَا یہ کس کی طرح ہیں؟ بنا دار بھئی! گھر کی عمارت کی طرح ہیں ان کا حکم۔ إِنْ قَالَ اگر کہا کسی نے هَذَا الخَاتَمُ لِفُلَانٍ إِلَّا فَصَّهُ یہ انگوٹھی تو فلانی کی ہے، مگر اس کا نگینہ، وَهَذَا البُسْتَانُ لَهُ إِلَّا نَخْلَتَهُ یا یہ باغ فلاں کا ہے، مگر اس کے کھجور کا درخت بھئی! لَا يَصِحُّ الِاِسْتِثْنَاءُ تو استثناء صحیح نہیں۔ وَلَوْ قَالَ لیکن اگر اس نے یوں کہا انگوٹھی میں دو حصے الگ الگ ذکر کرتا ہے أَنَّ الحَلْقَةَ لَهُ وَالفَصَّ لَهُ لِي۔ یوں کہا بھئی! اسی میں اس اس انگوٹھی کا جو نگینہ ہے، یہ میرا ہے اور اس کا چھلا کس کا ہے؟ زید کا۔ اب بات صحیح ہے، کیوں؟ کیونکہ اب میں نے پوری انگوٹھی کا الگ سے اقرار کیا کہ انگوٹھی زید کی ہے؟ نہیں، اب صرف میں کس کا اقرار کر رہا ہوں؟ چھلے کا۔ یا کہتا ہے یہ زمین ساری میری ہے، یہ زمین ساری میری ہے اور درخت صرف کس کے ہیں؟ زید کے، تو اب پورا باغ نہیں ذکر کیا بلکہ کس کو ذکر کر रहा ہے؟ زمین کو الگ، درختوں کو الگ، اب ٹھیک ہے۔ وَلَوْ قَالَ اور اگر یوں کہا أَنَّ الحَلْقَةَ لَهُ کہ حلقہ یعنی چھلا تو اس کا ہے، وَالفَصَّ لِي فَصَّلِي اور نگینہ میرا ہے، یہ یوں کہا أَوْ أَرْضَ لَهُ زمین تو اس کی ہے وَالنَّخْلَ لِي اور باغ کھجور کیا ہے؟ میری ہے، تو پھر صحیح ہے۔ فَإِنْ قَالَ لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ مِنْ ثَمَنِ عَبْدٍ مَا قَبَضْتُهُ وَعَيَّنَهُ صورتِ مسئلہ یہ ہے۔ میں نے اقرار کیا زید کے لیے، یوں کہا لِزَيْدٍ عَلَيَّ أَلْفٌ مِنْ ثَمَنِ عَبْدٍ یا مِنْ ثَمَنِ هَذَا العَبْدِ زید کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں اس غلام کے عوض میں، کس کے عوض میں؟ اس غلام کے عوض میں، تو کہتے ہیں میں نے اس صورت میں وہ جو ہزار کا اقرار کیا، وہ میں نے مطلق ذکر کیا ہے یا کہا کہ یہ ثمن کے طور پر ہیں، ثمن کے طور پر ہیں اور ثمن کس چیز کے ہیں؟ غلام کے ہیں، اور اس غلام کو میں نے متعین کیا ہے یا متعین نہیں کیا؟ متعین، اگر وہ غلام کو مقیر متعین کر دیتا ہے، تو پھر اس صورت میں یہ صحیح ہے بھئی! یہ کیا ہے؟ صحیح ہے، اور اس صورت میں مُقِرَّ لَهُ اگر وہ غلام حوالے کر دیتا ہے، تو اس کو کتنے دینے پڑیں گے؟ ایک ہزار، اگر وہ غلام حوالے نہیں کرتا، تو اس کو ہزار بھی نہیں دینے پڑیں گے۔ تو اس پر ہزار بھی لازم، صورت سمجھ میں آ گئی، لیکن اگر اقرار کیا ایک ہزار کا ایک آدمی نے اور کہا کہ یہ بطور ثمن کے ہیں، مثلاً غلام کے، لیکن اس غلام کی وہ تعین نہیں کرتا۔ زید کے مجھ پر ایک ہزار روپے ہیں، غلام کے ثمن کے طور پر، بھئی! کون سا غلام وہ اس نے ذکر نہیں کیا، اس کو غیر معین چھوڑ دیا، تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ تفسیر اس کی قبول نہیں کی जाएगी۔ اس نے جو تفسیر بیان کی کہ یہ پیسے کس چیز کے ہیں؟ یہ غیر معین غلام کے ہیں، یہ تفسیر اس کی قبول نہیں کی جائے گی، کیوں نہیں کی جائے گی؟ ہاں، تب تو غیر معین غلام بھی ذکر کر رہا ہے اور ساتھ کہہ رہا ہے میں نے ابھی اس پر قبضہ بھی نہیں کیا، تو معلوم ہوا اس نے غلام کو متعین نہیں کیا، معلوم ہوا یہ رجوع کرنا چاہتا ہے، کیا کرنا چاہتا ہے؟ رجوع کرنا چاہتا ہے، لہذا یہ صحیح نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ یہ صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ جب یہاں پر اس نے مبیع کو مجہول رکھا، کیا رکھا؟ اور جب مبیع مجہول ہو تو گویا مبیع ہلاک ہوا، اور جب مبیع ہلاک ہو جائے تو بیع کیا ہو جایا کرتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے، اور جب بیع ختم ہوتی ہے تو دوسرے پر ثمن بھی واجب نہیں، جب اس پر ثمن واجب نہیں تو اس نے جو اقرار کیا تھا وہ کیا ہو جاتا ہے؟ ختم ہو جاتا ہے، تو یہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ رجوع کرنا چاہتا ہے، مبیع کو مجہول بتلا کر اور رجوع کرنے کی اقرار کے ایک دفعہ جب اقرار کر لیا تو پھر رجوع صحیح نہیں۔ فَإِنْ قَالَ اگر کسی شخص نے کہا لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ فُلَانٍ کہ مجھ پر ایک ہزار ہیں مِنْ ثَمَنِ عَبْدٍ کسی عبد کے ثمن میں سے، ایسا عبد ہے مَا قَبَضْتُهُ کہ میں نے اس پر قبضہ نہیں کیا، وَعَيَّنَهُ اور اس غلام کو کیا کر دیتا ہے؟ متعین بھی کر دیتا ہے، فَإِنْ سَلَّمَهُ المُقِرُّ لَهُ لَزِمَهُ الأَلْفُ اگر مقرہو سپرد کر دیتا ہے وہ غلام اس کے لَزِمَهُ الأَلْفُ تو مقر پر کیا لازم ہو جائے گا؟ ایک ہزار لازم ہو جائیں گے، وَإِلاَّ لَا اور اگر حوالے نہ کرے تو لازم بھی نہیں۔ قَوْلُهُ مَا قَبَضْتُهُ دیکھا بھئی! لام صدر شریعہ بتلا رہے ہیں مَا قَبَضْتُهُ صِفَةُ العَبْدِ متن میں اوپر کیا آیا تھا؟ عبد نکرہ، اور نکرہ کے بعد کیا آیا؟ ما قبست ما تو حرف نفی ہے، حرف ہے، قَبَضْتُهُ تو ما قبست فعل منفی آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کی کیا بنتا ہے؟ صفت، تو اسی لیے میں نے کہا ایسے عبد کے سامان جس پر اس نے قبضہ نہیں کیا، تو مَا قَبَضْتُهُ صِفَةُ العَبْدِ یہ عبد کی صفت ہے، وَقَوْلُهُ عَيَّنَهُ اور عَيَّنَهُ کا جو قول ہے، کیا معنی ہے؟ أَيْ عَيَّنَ العَبْدَ اس نے غلام کو کیا کر دیا؟ غلام کو، تو ھا ضمیر راجع ہے، اس کے ساتھ جو متصل ضمیر ہے وہ راجع ہے عبد کو۔ اس نے غلام کو معین کر دیا وَهُوَ فِي يَدِ المُقِرِّ لَهُ اس حال میں کہ وہ غلام کس کے قبضے میں ہو بھئی؟ مقرہو کے قبضے میں بھی ہونا چاہیے وہ غلام بھئی! سمجھ میں آیا؟ اچھا، کیا صورت تھی؟ میں نے کیا اقرار کیا؟ کہ میں نے زید کے کتنے دینے ہیں؟ ایک ہزار، اور وہ کس چیز کے ہیں؟ ایسے غلام کے ثمن ہیں جس پر میں نے ابھی قبضہ اور وہ کون سا غلام ہے؟ یہ جو سامنے غلام ہے، اور وہ غلام کس کے قبضے میں ہونا چاہیے؟ مقرہو زید کے قبضے میں ہونا چاہیے، تو اس صورت میں اس کا یہ کلام درست ہے سارا، فَإِنْ سَلَّمَ المُقِرُّ لَهُ ذَالِكَ العَبْدَ إِلَى المُقِرِّ اب اگر مقرہو کے پاس جو غلام ہے، وہ غلام اب اگر حوالے کر دیتا ہے، کس کے حوالے کر دیتا ہے؟ مقرہ کے حوالے، لَزِمَهُ الأَلْفُ تو مقرہ پر کیا لازم ہو جائیں گے؟ ألف لازم ہو جائیں گے، وَإِلاَّ لَا ورنہ نہیں، وَإِلاَّ لَمْ يُعَيَّنْ اور اگر مقرہ متعین نہیں کرتا غلام کو لَزِمَهُ تو پھر اس صورت میں ثمن کیا ہو جائیں گے؟ لازم ہو جائیں گے، وَمَا قَبَضْتُهُ لَغْوٌ بھئی! اور وہ جو کہتا ہے نا کہ میں نے اس پر قبضہ نہیں کیا۔ میں نے زید کے ایک ہزار دینے ہیں، ایسے غلام کے ثمن کے جس پر میں نے قبضہ نہیں کیا اور غلام بھی اس نے متعین کوئی نہیں کیا، تو مَا قَبَضْتُهُ جو اس نے کہا تھا وہ کیا ہو جائے گا۔ یعنی اقرار صحیح ہو جائے گا۔ پیسے تو لازم ہو جائیں گے۔ أَيْ قَوْلُهُ وَمَا قَبَضْتُهُ لَغْوٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ یہ لغو ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک، سَوَاءٌ وَصَلَ أَوْ فَصَلَ برابر ہے کہ ملا کر کہے یا جدا کر کے کہے، مَا قَبَضْتُهُ ملا کر کہہ دیتا ہے یا تھوڑی دیر بعد کہہ دیتا ہے۔ اچھا! اس لیے لِأَنَّ إِنْكَارَ القَبْضِ فِي غَيْرِ المُعَيَّنِ يُنَافِي الوُجُوبَ اس لیے کہ انکار کرنا قبضے کا غیر معین کے اندر یہ وجوب کے منافی ہے۔ کیوں منافی ہے وجوب کے؟ دیکھو بھئی! کہتے ہیں لِأَنَّ جَهَالَةَ المَبِيعِ كَهَلَاكِهِ اس لیے کہ مبیع کا مجہول ہونا یہ اس کے ہلاک ہونے کی طرح ہے، اور اس صورت میں فَلَا يَجِبُ الثَّمَنُ ثمن واجب نہیں ہوتے، فَيَكُونُ هَذَا رُجُوعًا تو یہ گویا کیا ہوا؟ تو یہ تو یہ رجوع ہوا، اور رجوع تو اقرار میں درست نہیں۔ وَعِنْدَهُمَا صاحبیں کے نزدیک إِنْ وَصَلَ صُدِّقَ اگر ملا کر اس نے کہا تھا مَا قَبَضْتُهُ تو تصدیق کی جائے گی، لِأَنَّهُ بَيَانُ تَغْيِيرٍ اس لیے کہ یہ کیا ہے؟ بیانِ تغییر ہے عِنْدَهُمَا کس کے نزدیک؟ بیانِ تغییر، اور بیانِ تغییر کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں اصولِ فقہ کے اندر کہ متصل تو صحیح ہے، منفصل صحیح نہیں۔ تو اگر متصل اس نے کہا مَا قَبَضْتُهُ تو درست، اگر منفصل کہا مَا قَبَضْتُهُ تو درست نہیں۔ تو کہتے ہیں صاحبیں کے نزدیک کیا صورت بن جائے گی اگر متصل کہتا ہے، آپ مقرہو کو غلام دے دیتا ہے تو ہزار اس کو دینے پڑیں گے، ورنہ اگر وہ غلام نہیں دیتا تو اس پر ہزار بھی لازم نہیں۔ كَقَوْلِهِ یہ اس کے اسی قول کی طرح ہے مِنْ ثَمَنِ خَمْرٍ ایک آدمی کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں مِنْ ثَمَنِ خَمْرٍ کس کے ثمن میں سے؟ خمر شراب کے ثمن میں سے، تو یہ قول بھی اس کا رد کیا جائے گا امام صاحب کے نزدیک۔ اور صاحبیں کے نزدیک ملا کر کہا تو قبول کیا جائے گا، جدا کر کے کہا تو تو أَيَكُونُ لَغْوًا یہی یہ کلام بھی لغو ہوگا کیونکہ یہ بھی کیا ہے دراصل وہ رجوع کرنا چاہتا ہے اور رجوع درست نہیں۔ تو امام صاحب کے نزدیک وَصَلَ أَمْ فَصَلَ چاہے ملا کر کہے، جدا کر کے کہے، وَعِنْدَهُمَا إِنْ وَصَلَ صَحَّا صاحبیں کے نزدیک اگر ملا کر کہا تو صحیح ہے، وَإِنْ فَصَلَ لَا اگر جدا کر کے کہا تو صحیح نہیں۔ وَفِي مِنْ ثَمَنِ مَتَاعٍ أَوْ قَرْضٍ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی! اچھا ایک آدمی کہتا ہے جی! فلاں کے میرے اوپر ایک ہزار درہم ہیں مِنْ ثَمَنِ مَتَاعٍ کس کے سامان کے ثمن میں سے ہیں؟ وَهِيَ ضُيُوفٌ لیکن وہ درہم کس قسم کے ہیں؟ کھوٹے ہیں، ضُيُوف ہیں، ردی درہم ہیں، یا نَبَّحْرَجَ ہیں بھئی! کون سے درہم ہیں؟ نَبَّحْرَجَ وہ درہم ہیں جو ردی ہونے میں ضیوف سے بھی بڑھ کر ہوں، ان سے بڑھ کر جو ردی ہوں بھئی! تو یا وہ درہم کون سے ہیں؟ نَبَّحْرَجَ دراهم ہیں، أَوْ سَتُّوقَا یا کون سے درہم ہیں؟ سَتُّوقَا ہیں، اور ستّوقا دراھم بھئی! وہ آپ نے پڑھا تھا کون سے دراھم ہیں؟ کہتے ہیں یہ تو دراصل دراھم ہیں ہی نہیں، ان کو مجازاً درہم کہتے ہیں بھئی! یہ پیتل کا ہوتا ہے، اوپر صرف چاندی کا پانی چڑھایا ہوتا ہے بھئی! پیتل یا تانبے کا ہوتا ہے بھئی! أَوْ رَصَاصٌ یا وہ درہم کس قسم کے ہیں؟ رَصَاص کے ہیں، رَصَاص سیسہ یا رانگ مولانا! سیسے کو بھی کہتے ہیں اور رانگ یہ دھات ہے مولانا! ایک اس کا نام ہے۔ جیسے پیپتل، تانبا وغیرہ، اسی طرح یہ ایک دھات ہے بھئی! یا وہ رَانگ کے ہیں، تو اس صورت میں کیا کہا تھا اس نے؟ فلاں کے مجھ پر کتنے درہم ہیں؟ ایک ہزار درہم ہیں کس چیز کے ثمن میں سے؟ سامان کے ثمن میں سے، یا فلاں کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں قرض کے طور پر، لیکن وہ درہم کس قسم کے ہیں؟ آگے بیان کیا کرتا ہے؟ کہ وہ کھوٹے ضیوف ہیں یا نَبَّحْرَجَ ہیں یا سَتُّوقَا ہیں یا رَصَّاس ہیں، تو کہتے ہیں یہ تفاسیر اس کی قبول نہیں کی جائے گی جو اس نے درہم کی تفسیر کی۔ کیوں؟ اس لیے کہ بطور قرض کے یا سامان کے ثمن کے طور پر اس قسم کے درہم نہیں دیے جاتے، بلکہ کون سے درہم دیے جاتے ہیں؟ صحیح درہم دیے جاتے ہیں بھئی! تو امام صاحب کے نزدیک یہ تفسیر اس کی قبول نہیں کی جائے گی، چاہے ملا کر کہے، چاہے جدا کر کے کہے، اور صاحبیں کے نزدیک بھئی! اس کی اس تفسیر کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا اگر ملا کر کہے، کیوں؟ اس لیے کہ یہ بیانِ تغییر ہے، یہ کیا ہے؟ بیانِ تغییر ہے، اور بیانِ تغییر متصلًا تو صحیح ہے، منفصلًا صحیح نہیں۔ جی! وَفِي مِنْ ثَمَنِ مَتَاعٍ اور سامان کے ثمن میں سے أَوْ قَرْضٍ یا کس میں سے؟ قرض میں سے، یعنی فلاں کے مجھ پر ہزار درہم ہیں لیکن سامان کے ثمن میں سے ہیں یا قرض میں سے ہیں، وَهِيَ ضُيُوفٌ اس حال میں کہ یہ درہم کیا ہیں؟ ضیوف ہیں، یا نَبَّحْرَجَ ہیں، یا سَتُّوقَا ہیں، یا رَصَاصُ ہیں، لَزِمَهُ الجَيِّدُ تو اس کی تفسیر کو قبول نہیں کیا جائے گا اور جَيِّد ہی راجح ہوں گے۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمہ اللہ، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ وَصَلَ أَمْ فَصَلَ جدا کر کے کہے، ملا کر کہے یا جدا، وَعِنْدَهُمَا صَاحِبَيْنِ کے نزدیک إِنْ وَصَلَ اگر ملا کر ملایا اس نے صُدِّقَ اس کی تصدیق کی جائے گی۔ لِأَنَّهُ رُجُوعٌ عِنْدَهُ امام صاحب کے نزدیک کیوں نہیں قبول کی جائے گی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ امام صاحب کے نزدیک یہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ رجوع، تو ان کے نزدیک یہ رجوع ہے، اور رجوع کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وَبَيَانِ تَغْيِيرٍ عِنْدَهُمَا اور صاحبیں کے نزدیک یہ کیا ہے؟ بیانِ تغییر ہے، اور بیانِ تغییر متصلًا صحیح ہے، منفصلًا صحیح نہیں۔ وَفِي مِنْ غَصْبٍ أَوْ وَدِيعَةٍ لیکن اگر سبب کیا ذکر کرتا ہے؟ غَصْب یا وَدِيعَة کا ذکر کرتا ہے، مثلاً یوں کہتا ہے: لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ مِنْ غَصْبٍ۔ فلاں کے مجھ پر کتنے دراہم ہیں؟ ایک ہزار دراہم ہیں، کس وجہ سے؟ غَصْب کی وجہ سے، أَوْ وَدِيعَةً یا کس وجہ سے؟ امانت کے طور پر ہیں۔ البتہ وہ دراہم کس قسم کے ہیں؟ عيوب ہیں یا نبهرجة ہیں یا صُتُوقَةٌ ہیں یا رَصَاص۔ تو اب اگر اس نے پہلی صورت میں سبب ذکر کیا تھا کہ وہ سامان کے سمن ہیں یا وہ قرض ہیں اور قرض اور سمن کے طور پر کھوٹے دراہم نہیں دیے جاتے بلکہ کون سے دیے جاتے ہیں؟ صحیح تو امام صاحب فرماتے تھے وہاں صحیح درہم ہی لازم ہوں گے اور اس کی تفسیر قبول نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگر اس نے سبب ذکر کیا غَصْب کو یا وَدِيعَةً کو اور اس میں کہتا ہے کہ وہ دراہم اس قسم کے تھے، کھوٹے تھے تو اب اس کی تفسیر کو کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا۔ اس لیے کہ غَصْب جیسے صحیح درہموں کا ہوتا ہے اسی طرح کھوٹے، غَصْب میں تو جو چیز مل گئی اٹھا کے لے گیا تو وہ صحیح درہم بھی ہو سکتے ہیں اور کھوٹے درہم بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح امانت جو رکھوائی جاتی ہے تو انسان کے پاس جو چیز ہوتی ہے وہی امانت رکھواتا ہے، چاہے صحیح درہم تھے تو وہ امانت رکھوا دے گا، اس کے پاس کھوٹے ہیں تو وہی کیا کر دے گا؟ امانت۔ تو امانت میں اور غَصْب میں دراہم کا جَيِّد ہونا ضروری نہیں۔ وَفِي مِنْ غَصْبٍ أَوْ وَدِيعَةٍ کے اندر إن ادعى أحداً هذه اگر اس نے دعویٰ کر دیا ان سب میں سے کسی ایک کا۔ إن ادعى أحداً هذه ان دراہم میں سے کسی ایک کا دعویٰ کیا کہ وہ دراہم عيوب ہیں یا کھوٹے ہیں، صُدِّقَ تو کیا کی جائے گی؟ تصدیق کی جائے گی، إِلَّا فَصْلًا مگر کیا؟ کس طرح کر دے؟ جُدَا کر دے تو پھر اس کی تفسیر قبول نہیں کی جائے گی۔ فِي الْأَخِيرَيْنِ کس کے اندر؟ اخری دو کے اندر، کس کے اندر؟ اخری دو کے اندر بھئی۔ بھئی پہلے دو کے اندر متصلاً کہے تو بھی صحیح، منفصلاً کہے تو بھی صحیح۔ اگر کہا عيوب ہیں یا نبهرجة ہیں، تو متصلاً کہے پھر بھی قبول، منفصلاً کہے پھر بھی کیونکہ یہ بھی دراہم ہیں۔ عيوب اگرچہ کچھ ادنیٰ ہیں اور نبهرجة اس سے بھی ادنیٰ ہیں، لیکن پھر بھی یہ کیا ہیں دراصل؟ ہیں دراہم ہی، تو اس کی تفسیر قبول کریں گے چاہے متصلاً کہے چاہے منفصلاً۔ لیکن اگر صُتُوقَةٌ اور رَصَاص کے اندر متصلاً کہے پھر تو اس کی تفسیر قبول، اگر منفصلاً کہے تو پھر قبول نہیں۔ یہ باقاعدہ ہے، إِلَّا فَصْلًا فِي الْأَخِيرَيْنِ مگر جدا کر دے اگر کس کے اندر؟ اخری دو کے اندر، تو پھر اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ أَيِنْ قَالَ اگر کسی شخص نے کہا لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ مِنْ غَصْبٍ أَوْ وَدِيعَةٍ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں غَصْب سے یا وَدِيعَةً سے، إِلَّا أَنَّهُ زُيُوفٌ أَوْ نَبَهْرَجَةٌ مگر یہ کہ وہ زُيُوفٌ یا نَبَهْرَجَةٌ ہیں، صُدِّقَ تصدیق کی جائے گی وَصَلَ أَمْ فَصَلَا چاہے ملا کر کہے یا جدا کرے، چاہے ملائے یا جدا کرے، وَإِنْ قَالَ صُتُوقَةٌ وَرَصَاصٌ اور اگر وہ کہتا ہے صُتُوقَةٌ یا رَصَاصٌ ہیں، فَإِنْ وَصَلَ صُدِّقَ تو اگر ملا کر کہا تو تصدیق کی جائے گی، وَإِنْ فَصَلَ لَا اور اگر جدا کیا تو تصدیق نہیں کی جائے گی۔ بھئی وجہ کیا ہے؟ پہلے بيع اور قرض کے اندر آپ نے کہا تھا متصلاً بھی نہیں صحیح، منفصلاً بھی صحیح نہیں اور ان میں کیا کہا؟ متصلاً بھی صحیح ہے اور منفصلاً بھی صحیح۔ کہتے ہیں والفرق بين البيع والقرض بيع اور قرض کے اندر فرق یہ ہے، بیع اور قرض وبين الغصب والوديعة اور غَصْب اور وَدِيعَةً میں فرق یہ ہے کہ ان الأولين کہ پہلی دو جو ہیں یعنی بيع اور قرض، يَقَعَانِ عَلَى الْجِيَادِ یہ کس پر واقع ہوتے ہیں؟ قرض اور بيع میں کون سے دراہم استعمال ہوتے ہیں؟ جَيِّد ہی استعمال ہوتے ہیں، تو وہ جَيِّد پر ہی واقع ہوتے ہیں، فَإِنْ فَسَّرَ الدَّرَاهِمَ بِغَيْرِ الْجِيَادِ پس اگر وہ تفسیر کرتا ہے قرض اور بيع کے اندر ایسے دراہم جو جَيِّد کے گھروں کے علاوہ ہیں، فَيَكُونُ رُجُوعاً بھئی تو یہ دراصل یہ کیا ہے؟ رجوع ہے اور رجوع کیا نہیں جا سکتا اقرار میں۔ وَالْغَصْبُ وَالْوَدِيعَةُ يَقَعَانِ عَلَى كُلِّ ذَلِكَ جبکہ غَصْب اور وَدِيعَةً کی ہر کس ان میں سے ہر ایک پر کیا ہو جاتے ہیں؟ واقع ہو جاتے ہیں گھروں پر بھی اور کھوٹوں پر بھی۔ وَصُتُوقَةٌ وَرَصَاصٌ بھئی ان کے اندر آپ نے فصلًا کی قید کیوں بڑھائی تھی؟ کہتے ہیں وَسُتُوقَةٌ وَرَصَاصٌ لَيْسَا مِنْ جِنْسِ الدَّرَاهِمِ یہ تو دراہم کی جنس میں سے ہی نہیں ہیں، اس لیے بھئی۔ وَإِنَّمَا يُسَمَّيَانِ دَرَاهِمَ مَجَازاً اور ان کو دراہم مجازاً کہتے ہیں، فَيَكُونُ بَيَانَ تَغْيِيرٍ تو جب اس نے کہا نا، کیا کہا؟ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں بطور غَصْب کے یا بطور امانت کے یہ کہا اور ساتھ ہی کیا کہہ دیا لیکن وہ کس قسم کے دراہم ہیں؟ صُتُوقَةٌ یا رَصَاص تو بھئی پہلے تو اقرار کر رہا ہے دراہم کا اور پھر آگے کہہ رہا ہے وہ صُتُوقَةٌ یا رَصَاص اور صُتُوقَةٌ اور رَصَاص تو دراہم نہیں تو یہ تو اپنے کلام کو بدل رہا ہے، تغییر کر رہا ہے، اور بیان تغییر متصلاً تو صحیح ہے، منفصلاً صحیح نہیں۔ فَيَكُونُ بَيَانَ تَغْيِيرٍ تو یہ بیان تغییر ہوا، إِنْ وَصَلَ صُدِّقَ اگر ملایا تو تصدیق کی جائے گی وَإِنْ فَصَلَ لَا اور اگر جدا کیا تو تصدیق نہیں کی جائے گی۔ آگے مولانا یہ متن ہے: وَصُدِّقَ فِي غَصَبْتُ ثَوْباً یہ متن چل رہا ہے بھئی ڈیڑھ سطر متن کی ہے۔ وَصُدِّقَ فی دیکھو کہاں تک ہے متن جہاں تک میں پڑھوں یہ سارا متن ہے۔ وَصُدِّقَ فِي غَصَبْتُ ثَوْباً وَجَاءَ بِمَعِيبٍ وَفِي لَهُ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِلَّا أَنَّهُ يَنْقُصُ كَذَا مُتَّصِلاً وَإِنْ فَصَلَ لَا وَإِنْ فَصَلَ لَا بھئی۔ یہ سارا متن ہے۔ آگے اگلی سطر شروع سے شروع میں دیکھیں: وَلَوْ قَالَ أَخَذْتُ مِنْكَ یہ بھی سارا متن ہے دیکھو جہاں تک میں پڑھوں یہ سارا متن ہے۔ وَلَوْ قَالَ أَخَذْتُ مِنْكَ أَلْفاً وَدِيعَةً فَهَلَكَتْ وَقَالَ الْآخَرُ بَلْ غَصْباً ضَمِنَ وَفِي أَعْطَيْتُهُ آخِذُ وَدِيعَةً وَقَالَ الْآخَرُ غَصَبْتُهُ لَا یہ بھی سارا متن ہے بھئی۔ مل گیا بھئی؟ نشان لگا لیا؟ یہ متن ہے۔ اچھا کہتے ہیں وَصُدِّقَ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی ایک آدمی نے کہا میں نے فلاں کا کپڑا غَصْب کیا ہے، اقرار کر لیا سب کے سامنے۔ پھر بعد میں مولانا نے پھٹے ہوئے کپڑے اٹھا کر لے آیا، کہتے ہیں تصدیق کی جائے گی، کیا کی جائے گی؟ اس لیے کہ غَصْب جیسے صحیح کپڑے کا ہو سکتا ہے اسی طرح پھٹے ہوئے کپڑے کا بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہ معنی ہے وَصُدِّقَ فِي غَصَبْتُ ثَوْباً وَجَاءَ بِمَعِيبٍ زر تصدیق کی جائے گی غَصَبْتُ ثَوْباً کے اندر اس حال میں کہ جب وہ کیا لے کر آیا؟ عيب والے کپڑے لے کر آیا۔ وَفِي لَهُ وَفِي لَهُ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ اور اس قول کے اندر بھی تصدیق کی جائے گی کہ ایک شخص کیا کہتا ہے؟ لَهُ أَيْ لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ فلاں کے مجھ پر کتنے درہم ہیں؟ ایک ہزار درہم ہیں إِلَّا أَنَّهُ يَنْقُصُ كَذَا مگر اس میں سے اتنے کم ہیں۔ ہزار میں سے اتنے کم ہیں، اس کی تصدیق کی جائے گی۔ سمجھ میں آیا متصلاً جبکہ یہ کب کہے؟ متصل کہے وَإِنْ فَصَلَ لَا اور اگر جدا کر کے کہتا ہے تو پھر نہیں، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے یہ استثناء ہے لِأَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ يَصِحُّ مُتَّصِلاً لَا مُنْفَصِلاً استثناء متصل تو صحیح ہے منفصلاً صحیح نہیں۔ وَلَوْ قَالَ اور اگر یوں کہا أَخَذْتُ مِنْكَ أَلْفاً وَدِيعَةً فَهَلَكَتْ ایک آدمی دوسرے سے کہتا ہے بھئی میں نے تجھ سے ایک ہزار لیے تھے بطور امانت کے وہ پس وہ ہلاک ہو گئے ہیں میرے پاس، اب میرے پاس ضمان نہیں، کیونکہ امانت ہلاک ہو جائے تو ضمان نہیں۔ تو ایک آدمی نے کہا میں نے تجھ سے ایک ہزار بطور امانت کے لیے تھے وہ ہلاک ہو گئے، دوسرے نے کہا نہیں! بلکہ تو نے وہ غَصْب کے طور پر مجھ سے لیے تھے، چھین کر لے گیا تھا، زبردستی لے گیا تھا۔ تو اب کہتے ہیں ضمان آئے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں زَمَنَ وہ کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا۔ وَفِي أَعْطَيْتُهُ وَدِيعَةً اور اگر یوں کہا أَعْطَيْتُهَا نہیں مولانا أَعْطَيْتُهَا ہونا چاہیے مولانا، کیا ہونا چاہیے؟ أَعْطَيْتُهَا۔ بھئی پہلا مسئلہ کیا تھا؟ اس میں کیا کہا دوسرے نے؟ ایک نے کہا تھا أَخَذْتُ مِنْكَ أَلْفاً میں نے تجھ سے لیے تھے ایک ہزار، تو کون سا فعل ذکر کیا؟ أُخِذَ کون سا فعل؟ أُخِذَ ذکر کیا اور یہ أُخِذَ سبب ہوتا ہے ضمان کا، کوئی کسی سے ہزار لے لے تو اس پر اس کو ہزار دینے پڑیں گے یا نہیں دینے پڑیں گے؟ ضمان۔ تو اس نے أُخِذَ فعل ذکر کیا اور اگلے کے اندر إِعْطَاءَ فعل ذکر کر رہا ہے، کیا ذکر کر رہا ہے؟ إِعْطَاء اور إِعْطَاء کی نسبت کر رہا ہے اسی مخاطب کی طرف بھئی۔ تو پہلی صورت میں أُخِذَ ذکر کیا تھا اس لیے وہاں دوسرے نے جب غَصْب کہا تو اس پر ضمان آیا وَفِي أَعْطَيْتُهَا وَدِيعَةً بھئی اور اگر یہ کہتا ہے کہ تو نے مجھے ایک ہزار درہم دیے تھے وَدِيعَةً بطور امانت کے وَقَالَ الْآخَرُ غَصَبْتُهُ دوسرا کیا کہتے ہیں نہیں نہیں تو نے وہ کیا کیے تھے؟ غَصْب کیے تھے، لَا تو اس صورت میں یہ ضامن نہیں، کیوں؟ بتلا رہے ہیں والفرق فرق یہ ہے کہ ان الْأَوَّلِ اقرار لِوُجُوبِ الزَّمَانِ کہ پہلے میں اس نے خود اقرار کر لیا وجوب الزمان کا، کیا کر لیا؟ اقرار کر دیا وجوب الزمان کا۔ بھئی اقرار کیا ہے وجوب الزمان کا وہ کس چیز سے کہتے ہیں وَهُوَ الْأَخْذُ، وجوب الزمان بھئی کیا ہے؟ أَيْ یوں کرو عبارت دیکھو: أَنَّ فِي الْأَوَّلِ أَقَرَّ، اقرَّا ہے بھئی، أَقَرَّ لِوُجُوبِ یہاں مضاف محذوف ہے، أَقَرَّ لِسَبَبِ وُجُوبِ الزَّمَانِ۔ عبارت درست نہیں بنے گی بھئی یہ لفظ یاد رکھنا یہاں پر بھئی، سمجھ میں نہیں آئے گی ورنہ آپ کو۔ کہ پہلی صورت میں اس نے اقرار کیا ہے لِوُجُوبِ زَمَانِ أَيْ لِسَبَبِ وُجُوبِ، زمان کے واجب ہونے کے سبب کا، زمان کا سبب کیا ہے؟ وَهُوَ الْأَخْذُ بھئی وہ کیا ہے؟ أخذ، أخذ کیا بنتا ہے؟ سبب بنتا ہے زمان کا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کوئی کسی سے مال لے لے تو یہ مال لینا سبب ہے کس چیز کا؟ زمان کا اس پر کیا ایا کرتا ہے؟ زمان آتا ہے، عبارت سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ جی! اس نے اقرار کس کا کیا؟ وجوب زمان کے سبب کا، اور وجوب زمان کا سبب کیا ہے؟ وَهُوَ الْأَخْذُ وہ أخذ، یعنی أخذ فعل کا اس نے اقرار کیا، خود کہہ رہا ہے میں نے تم سے کتنے لیے تھے؟ 1000۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب اس نے جو وَدِيعَةً اس کی تفسیر بیان کی، وہ تفسیر اب قبول نہیں کی جائے گی۔ وَفِي الثَّانِي اور ثانی کے اندر بھئی لَمْ يُقَرَّ بِذَالِكَ اس نے اس سبب کا اقرار نہیں کیا، أَعْطَيْتُهَا ذکر کیا بھئی، أخذ کو ذکر کیا کہ میں نے تم سے لیے تھے، أخذ کی صورت میں تو کیا آتا ہے زمان، لیکن إِعْطَاء ذکر کر رہا ہے تو أخذ کو ذکر نہیں کیا تو زمان بھی نہیں۔ وَفِي الثَّانِي اور دوسری صورت میں، دوسری صورت کون سی ہے؟ وَفِي أَعْطَيْتُهَا وَدِيعَةً والی لَمْ يُقَرَّ بِذَالِكَ اس نے اقرار نہیں کیا اس سبب کا۔ بَلِ الْآخَرُ يَدَّعِي عَلَيْهِ الْغَصْبَ بلکہ دوسرا شخص جو ہے مقر لہ اس پر دعویٰ کر رہا ہے کس چیز کا؟ غَصْب کا، وَهُوَ يُنْكِرُ اور مقر کیا کر رہا ہے؟ اس کا انکار کر رہا ہے، فَالْقَوْلُ لَهُ تو قول بھی کس کا ہوتا ہے؟ منکر ہی کا ہوتا ہے، مقیر کا معتبر ہے، تو اس پر زمان نہیں آئے گا۔ وَفِي هَذَا صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی ایک آدمی آیا، جی؟ غَصْب ہے، غَصْب تو آئے گی بھئی جس کا قول معتبر ہے، معلوم ہوا دوسرے کے ذمے ایک نے کہا بھئی تو نے مجھے 1000 دیے تھے بطور امانت کے، دوسرے نے کہا نہیں نہیں، بطور تو نے کس طرح لیے تھے؟ غَصْب کے طور پر لیے تھے، تو قول کس کا معتبر؟ مُخْرِ کا، کس کا؟ اقرار کرنے والے کا، وہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے کس طور پر لیے تھے؟ امانت کے طور پر، اور وہ میرے پاس کیا ہو چکے؟ ہلاک ہو چکے، جب ہلاک ہو چکے ہیں، تو اب میرے اوپر اس کا زمان نہیں، اور دوسرا کیا کہتا ہے؟ تو نے غَصْب کیے تھے، تو وہ ہوا مدعی، اور مدعی کے ذمے بينہ ہے، اگر وہ بينہ لے آتا ہے، پھر تو ٹھیک ہے، نہیں تو اس کے ذمے کیا آ جائے گی؟ مقیر کے ذمے قسم آ جائے گی، اس کا قول معتبر ہے قسم کے ساتھ بھئی۔ سمجھے؟ قسم ذکر نہیں کی جاتی، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ ویسے تو ق اور معتبر ہے، بلکہ کیا لی جائے گی؟ ہمیشہ تمام معاملات میں جتنے بھی مسائل کے اندر جس کا قول معتبر ہوتا ہے، کس کے ساتھ ہوتا ہے؟ قسم، چند معاملات ہیں جن کے اندر قسم نہیں لی جاتی، آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، نصب، نکاح وغیرہ، طلاق، آپ تفصيل پڑھ چکے ہیں بھئی، تفصيل سارے وہ مسائل گزرے۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، ادھر دیکھو۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے پاس آپ کا موبائل پڑا ہے، آپ کا ساتھی آیا آ کر کہنے لگا، آپ کا ساتھی آیا آ کر وہ موبائل اٹھا لیا، کہنے لگا بھئی یہ موبائل میرا آپ کے پاس امانت پڑا تھا نا، آپ کو یاد ہوگا، اب میں اپنے موبائل لینے آیا ہوں اور میں نے لے لیا۔ آپ نے کہا نہیں نہیں، یہ تمہارا موبائل نہیں ہے بلکہ میرا موبائل ہے، اب کس کا قول معتبر ہے؟ آنے والے نے کیا کہا؟ یہ میرا یہ موبائل آپ کے پاس بطور امانت کے تھا، اب میں نے اس کو اٹھا لیا ہے، لے لیا ہے، مقیر یہ کہتا ہے، مقیر لہو جواب میں کیا کہتا ہے؟ نہیں نہیں، بلکہ یہ تو میرا اپنا ہے، تو یہ موبائل کون لے گا؟ کہتے ہیں بھئی یہ مقیر لہو کا ہوگا۔ کس کا ہوگا؟ مقیر لہو کا ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ صورت سمجھ میں آ گئی کہ ایک چیز تھی، دوسرے کے پاس تھی، دوسرے نے اٹھا کر کیا کہا؟ میری یہ چیز آپ کے پاس امانت تھی، میں نے لے لی، دوسرا کہتا ہے نہیں نہیں، یہ تو میری اپنی چیز ہے، تو کس کی ہوگی وہ چیز؟ مُقِر لَہُ کی، بھئی کیوں؟ اس لیے کہ اس نے خود اقرار کر لیا اس کے قبضے کا، کہاں کے نہیں، کہ یہ چیز آپ کے پاس امانت تھی، اور امانت میں دوسرے کا کیا ہوتا ہے؟ قبضہ ہوتا ہے یا قبضہ نہیں ہوتا بھئی؟ دوسرے کا قبضہ تو اس نے خود اقرار کر لیا کہ اس چیز پر دراصل کس کا قبضہ تھا؟ مُقِر لَہُ کا، جب مُقِر لَہُ کا قبضہ ہے، تو اب اس کا قول معتبر، بھئی اگر تمہارا ہے، تم نے امانت رکھوایا تھا، تو تم بینہ لے کر آؤ بھئی، ویسے تمہارا قول قبول نہیں۔ یہ معنی ہے، وَفِي اور اس مسئلہ کے اندر، کون سا مسئلہ؟ هَذَا یوں بھئی، ایک آدمی کہہ رہا ہے بھئی یہاں سے کلام شروع ہو گیا، فِي الگ ہے، هَذَا قول ہے، مقولہ ہے بھئی۔ اس صورت میں، هَذَا بھئی یہ فی متعلق ہے آخر میں آ رہا ہے، بالکل سطر کے آخر میں، اگلی سطر میں، أَخَذَهُ، نظر آیا بھئی؟ أَخَذَهُ یہ فی سے متعلق ہے، لے لے گا، کون لے لے گا؟ آگے اگلے صفحے پر کیا آ رہا ہے؟ اَلْمُقَرُّ لَهُ، کون لے لے گا؟ مُقِر لَہُ۔ فِي اس صورت کے اندر، کون سی صورت میں؟ یہ جو درمیان میں آ رہی ہے، هَذَا كَانَ وَدِيعَةً لِي عِنْدَكَ، مقیر کہتا ہے بھئی یہ جو چیز تھی، یہ میری امانت تھی، آپ کے پاس، فَأَخَذْتُهُ، میں نے ابھی اس کو کیا کیا ہے؟ لے لیا ہے، فَقَالَ هُوَ لِي، تو مقیر مقر لہ کیا کہتا ہے؟ هُوَ لِي، یہ چیز تو میری اپنی ہے، تو أَخَذَهُ اس صورت میں مُقِر لَہُ کیا کرے گا؟ اس چیز کو لے لے گا، لِأَنَّهُ أَقَرَّ بِيَدِهِ، اس لیے کہ مقیر نے یہاں پر خود اقرار کر لیا ہے مُقِر لَہُ کے قبضے کا، ثُمَّ دَعَى أَنَّهُ كَانَ لِي، فَأَخَذْتُهُ، پھر اس کے بعد وہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ چیز میری ہے، پس میں نے اس کو لے لیا، فَیُسَلِّمُهُ إِلَى الْمُقَرِّ لَهُ، تو اس صورت میں وہ کس کو سپرد کرے گا وہ مال؟ مُقِر لَہُ کے سپرد کرے گا، وَيُقِيمُ الْبَيِّنَةَ، اور کیا قائم کرے گا؟ بینہ۔ وَصُدِّقَ مَنْ قَالَ أَجَرْتُ فَرَسِي أَوْ ثَوْبِي هَذَا فَرَكِبَهُ أَوْ لَبِسَهُ وَرَدَّهُ أَوْ أَخَذَ ثَوْبِي هَذَا بِكَذَا فَقَبَضْتُهُ، بھئی گزشتہ مسئلے میں کیا صورت تھی؟ ایک آدمی آیا تھا، دوسرے کے قبضے کا اقرار کیا تھا کہ یہ چیز تمہارے پاس میں نے بطور امانت کے رکھوائی تھی، لیکن میری چیز ہے، اب میں اپنی چیز واپس لیتا ہوں، تو امانت کا ذکر کیا تھا، اب اسی طرح جھگڑا ہے دو آدمیوں کا ایک اور چیز کے اندر، لیکن وہاں پر امانت کا ذکر نہیں ہے، اجارے کا ذکر ہے بھئی۔ اجارے یا اعارے کا ذکر ہے، مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو اس صورت میں، اب مُخْرِ کا قول معتبر ہوگا۔ امانت کے امانت کے اندر کس کے مالک ہونے کا حکم لگایا گیا تھا؟ مُقِر لَہُ کے، لیکن اجارے اور اعارے کے اندر بھئی مکر کے قبضے کا فیصلہ کیا جائے گا، مکر کے مالک ہونے کا فیصلہ دیکھو صورتِ مسئلہ یہ ہے۔ ایک گھوڑا ہے میرے پاس، بھئی۔ میں نے کہا کہ یہ گھوڑا میں نے زید کو دیا تھا صرف سواری کرنے کے لیے، عاریتاً دیا تھا ایک دن سواری کے لیے، اور اس نے اس کو اس پر سواری کی، پھر مجھے واپس دے گیا، یا میں نے اس کو کرائے پر دیا تھا، اجارے کے طور پر، وہ لے گیا، ایک دن کا کرایہ دیا، گھوڑے پر ایک دن سواری کی اور پھر مجھے گھوڑا واپس کر گیا، تو کلام کون کر رہا ہے؟ مُوجِر۔ کلام کون کر رہا ہے؟ اور وہ چیز کس کے قبضے میں اس وقت؟ مُوجِر کے قبضے میں ہے، تو اب، جی، مُوجِر کے قبضے میں ہے۔ اور وہ دوسرا، مستاجِر کیا کہتا ہے؟ کہ یہ چیز میری ہے، میں نے کہا, زید یہ گھوڑا مجھ سے سواری کے لیے لے کر گیا تھا، اب واپس کر دیا ہے۔ زید کہتا ہے نہیں نہیں، یہ گھوڑا تو میرا اپنا ہے، تو اس صورت میں جس کا قبضہ ہے، اسی کے لیے، مُوجِر یعنی جو کہہ رہا ہے کہ میں نے اجارے پر دیا تھا،اس کے لیے اس چیز کا فیصلہ کر دیا جائے گا وَصُدِّقَ اور تصدیق کی جائے گی مَنْ قَالَ اس شخص کی جس نے یہ کہا آَجَرْتُ فَرَسِي میں نے اجرت پر دیا تھا اپنا گھوڑا أَوْ ثَوْبِي یا اپنا کپڑا هَذَا اپنا یہ والا کپڑا فَرَكِبَهُ پھر وہ مستاجر کیا ہوا تھا اس گھوڑے پر؟ سوار ہوا تھا یا جس کو میں نے کپڑا دیا تھا لَبِسَهُ اس نے کیا کیا اس کو؟ پہن لیا تھا وَرَدَّهُ اور پھر کیا کر دیا؟ وہ گھوڑا یا کپڑا واپس کر دیا۔ أَوْ خَاطَ ثَوْبِي هَذَا بِكَذَا یہ کپڑا میں نے زید کو دیا تھا لیکن سینے کے لیے دیا تھا اتنے رقم کے عوض میں اور اس نے سی کر مجھے کیا کر دیا ہے؟ واپس کر دیا ہے۔ جی، أَوْ خَاطَ ثَوْبِي هَذَا بِكَذَا یا اس نے میرے اس کپڑے کو سیا ہے اتنی رقم کے عوض میں فَقَبَضْتُهُ پھر میں نے اس پر کیا کر لیا ہے؟ قبضہ کر لیا ہے، تو اس صورت میں کس کی تصدیق کی جائے گی؟ جو اجارے کی بات کر رہا ہے یا اعارے کی بات کر رہا ہے۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَهُمَا اور صاحبین کے نزدیک يَجِبُ واجب ہے أَنْ يُسَلَّمَ إِلَى الْمُقَرِّ لَهُ کہ وہ چیز کس کے سپرد کر دے؟ مقر لہ کے سپرد کر دے ثُمَّ يَدَّعِيهِ پھر کیا کرے اس کا؟ دعویٰ کرے كَمَا فِي مَسْأَلَةِ الْوَدِيعَةِ جیسے کس کے اندر تھا؟ امانت والے مسئلے میں بھئی۔ امانت والے مسئلے میں اس نے چونکہ قبضے کا اقرار کیا تھا لہذا وہ چیز اسی کی تھی اور اس کے ذمے کیا ضروری تھا؟ بینہ، تو یہاں پر بھی اس نے دوسرے کے قبضے کا اقرار کر لیا، صاحبین فرماتے ہیں، جب اجارے پر دیا تھا تو دوسرے کا قبضہ آیا یا نہیں آیا؟ یا عاریتاً دیا تھا استعمال کے لیے تو دوسرے کا کیا آ گیا؟ قبضہ، تو اس نے قبضے کا اقرار کر لیا، جب قبضے کا اقرار کر لیا تو چیز اب اس کے حوالے کر دو اور پھر کیا کرو؟ دعویٰ کرو، کیا لے کر آؤ؟ بینہ لے کر آؤ۔ تو یہ اسی طرح ہے، وَهُوَ الْقِيَاسُ تو یہی کیا ہے؟ قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں استحساناً قبضہ کس کا موجر کا یا معیر کا شمار ہو گا اور وجہ کیا ہے؟ وَوَجْهُ الاِسْتِحْسَانِ اور استحسان کی وجہ یہ ہے أَنَّ فِي الإِجَارَةِ لَمْ يُقِرَّ بِيَدِ الآخَرِ مُطْلَقًا بھئی دیکھو امام صاحب فرماتے ہیں فرق ہے دونوں قبضوں میں۔ امانۃً جو قبضہ اس نے جس قبضے کا اقرار کیا تھا وہ مطلق قبضہ تھا۔ امانت کے اندر قبضہ مقصود ہوتا ہے بھئی، میں ایک چیز اپ کے پاس جب رکھواتا ہوں تو مقصد ہی کیا ہوتا ہے کہ اپ اس پر کیا کریں؟ قبضہ کریں، اپنے پاس اس کو سنبھال کر رکھیں بھئی۔ تو امانت میں قبضہ ہوتا ہے مطلق کیونکہ قبضہ وہاں مقصود ہے، جبکہ اجارے کے اندر قبضہ مطلق نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مقید ہے، بھئی نفع اٹھانے کے لیے قبضہ ضروری تھا ورنہ تو میں قبضے میں نہ دیتا، تو ودیعت کے اندر قبضہ تھا کونسا؟ مطلق، ہاں اور اجارے میں قبضہ ضرورت کی بناء پر ہے، کس کی بناء پر ہے؟ ضرورت کی بناء پر، تو وہ ہے قبضہ ضروری اور یہ ہے قبضہ مطلق، تو قبضہ مطلق کا مسئلہ الگ ہے اور قبضہ ضروریہ کا مسئلہ الگ ہے، وہ بقدرِ ضرورت تھا اور ضرورت پوری ہو چکی، وہ اپنا نفع اس سے حاصل کر چکا، لہذا اب اس کے لیے فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ وَوَجْهُ الاِسْتِحْسَانِ استحسان کی وجہ یہ ہے أَنَّ فِي الإِجَارَةِ کہ اجارہ کے اندر لَمْ يُقِرَّ بِيَدِ الآخَرِ مُطْلَقًا کہ اس نے اقرار نہیں کیا دوسرے کے مطلق قبضے کا بَلْ يَدُهُ ضَرُورِيَّةٌ بلکہ اس کا قبضہ کس قسم کا ہے؟ وہ قبضہ جو ضرورت کی بناء پر ہے لِأَجْلِ الاِنْتِفَاعِ کس لیے؟ نفع اٹھانے کے لیے، کیونکہ بغیر قبضے کے وہاں نفع ہی ممکن نہیں۔ وَبَقِيَ فِيمَا وَرَاءَ الضَّرُورَةِ یہ فی اگلا جو آ رہا ہے یہ مولانا کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے، یہ درست نہیں بنتا یہاں بھئی، فَبَقِيَ فِيمَا وَرَاءَ الضَّرُورَةِ حُكْمُ يَدِ الْمُوجِرِ تو ضرورت سے جو زائد ہے، ضرورت کے جو ماوراء ہے اس کے اندر باقی رہے گا، ترجمہ غور سے سننا، فَبَقِيَ باقی رہے گا فِيمَا وَرَاءَ الضَّرُورَةِ ضرورت کے علاوہ میں، ضرورت کے علاوہ میں باقی رہے گا، کیا باقی رہے گا؟ حُكْمُ يَدِ الْمُوجِرِ موجر کے قبضے کا حکم۔ بھئی ضرورت کتنی تھی؟ جتنا نفع اٹھانے کی تھی اور وہ نفع کیا کر چکا؟ اٹھا چکا، اب نفع اٹھانے کے علاوہ جو قبضہ ہے اس میں وہ کس کا شمار ہو گا؟ موجر ہی کا شمار ہو گا، بِخِلاَفِ الْوَدِيعَةِ بخلاف کس کے؟ ودیعت کے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں فَبَقِيَ فِيمَا وَرَاءَ الضَّرُورَةِ حُكْمُ يَدِ الْمُوجِرِ بِخِلاَفِ الْوَدِيعَةِ تو باقی رہے گا ضرورت کے علاوہ کے اندر بھئی موجر کے قبضے کا حکم، موجر کے قبضے کا حکم باقی رہے گا بخلاف ودیعت کے کہ اس میں قبضہ کس قسم کا تھا؟ مطلق قبضہ تھا۔ چلیں مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلاَمِ۔