کِتَابُ الْإِقْرَارِ. هُوَ إِخْبَارٌ بِحَقٍّ لِآخَرَ عَلَيْهِ، وَحُكْمُهُ ظُهُورُ الْمُقَرِّ بِهِ لَا إِنْشَاؤُهُ. فَصَحَّ الْإِقْرَارُ بِالْخَمْرِ لِلْمُسْلِمِ، لَا بِطَلَاقٍ وَعِتْقٍ مُكْرَهًا. اچھا بھئی! آج ہم کتاب الاقرار شروع کریں گے بھئی۔ اقرار؛ اقرار کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: هُوَ إِخْبَارٌ، وہ خبر دینا ہے۔ بِحَقٍّ، ایسے حق کی؛ لِآخَرَ عَلَيْهِ، جو دوسرے کا ہے اس پر۔ اقرار خبر دینے والے پر ہے دوسرے کا۔ میں نے کہا بھئی! میرے... میں نے زید کا ایک ہزار... میں نے زید کے ایک ہزار درہم ادا کرنے ہیں۔ تو دیکھو! میں ہوں خبر دینے والا، اور میں نے خبر دی ہے ایسے حق کی جو دوسرے کا کس پر ہے؟ مجھ پر ہے، دوسرے کا مجھ پر۔ تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ اقرار۔ تو اقرار وہ خبر دینا ہے ایسے حق کی جو دوسرے کا خبر دینے والے پر ہو۔ پھر اس سے ماقبل کتاب الدعویٰ میں اپ دعویٰ کی تعریف پڑھ چکے ہیں۔ دعویٰ کسے کہتے تھے؟ وہ بھی خبر دینا ہے کسی حق کی، لیکن وہ حق خبر دینے والے کا ہوتا ہے غیر پر؛ جبکہ اقرار میں غیر کا حق ہوتا ہے کس پر؟ خبر دینے والے پر۔ تو یہاں یاد رکھو تین لفظ مولانا! ایک ہے مقر، ایک ہے مقر بہ، ایک ہے مقر لہ۔ مقر: اقرار کرنے والا۔ مقر کسے کہیں گے؟ اقرار کرنے والا۔ مقر بہ: جس چیز کا اقرار کیا۔ وہ کیا کہلائے گی؟ مقر بہ۔ اور جس کے لیے اقرار کیا، وہ کیا کہلاتا ہے؟ مقر لہ کہلاتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے زید کے ایک ہزار درہم دینے ہیں، مجھ پر ایک ہزار درہم اس کے واجب ہیں بھئی۔ تو دیکھو! میں ہوا مقر، اور وہ ایک ہزار درہم کیا ہوئے؟ مقر بہ، اور زید کون ہوا؟ مقر لہ ہوا، جس کے لیے اقرار کیا۔ تو کہتے ہیں: وَحُكْمُهُ ظُهُورُ الْمُقَرِّ بِهِ لَا إِنْشَاؤُهُ، حکم کیا ہے اقرار کا بھئی؟ کہتے ہیں: اقرار جو ہے، یہ اس کے ذریعے مقر بہ کا ظهور ہوتا ہے، اس کا انشاء نہیں بھئی۔ اقرار کے ذریعے کیا ہوتا ہے؟ مقر بہ کا ظهور ہوتا ہے، اس کا انشاء نہیں ہوتا۔ ظهور کا معنیٰ بھئی دیکھو! میں نے کہا: میں نے زید کے... زید کا کتنا مال میرے اوپر واجب ہے؟ ایک ہزار درہم میرے اوپر واجب ہیں۔ تو یہ چیز میں نے ظاہر کی ہے، اس کو وجود نہیں دیا۔ یہ معنیٰ نہیں کہ پہلے میرے اوپر ہزار نہیں تھے، اب اس قول کی وجہ سے انشاء ہوا ا... اور انشاءِ دین ہوا اور میرے اوپر کتنے مال لازم ہو گیا؟ یہ نہیں کہ پہلے نہیں تھے اب لازم، بلکہ میرے اوپر پہلے سے لازم تھے، اب میں نے اس کو صرف کیا کیا؟ ظاہر کر دیا۔ تو ظهور ابھی ہوا ہے، انشاء ابھی... تو معلوم ہوا اقرار ظهور کا نام ہے، انشاء کا نام نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنیٰ ہے: وَحُكْمُهُ، حکم اقرار کا کیا ہے؟ ظُهُورُ الْمُقَرِّ بِهِ، کہ اس سے مقر بہ کا ظهور ہوتا ہے؛ لَا إِنْشَاؤُهُ، اس کا انشاء نہیں، یعنی اس کو وجود نہیں دیا جاتا، وہ پہلے سے تھا بھئی۔ فَصَحَّ الْإِقْرَارُ بِالْخَمْرِ لِلْمُسْلِمِ، تو صحیح ہے اقرار خمر کا کرنا مسلمان کے لیے۔ ایک آدمی دوسرے مسلمان کے لیے اقرار کرتا ہے کہ فلاں مسلم کے مجھ پر کتنے... میں نے خمر دینی ہے، فلاں کے مثلاً میرے اوپر اتنی خمر ہے، کہ میرے ذمے اتنی خمر ہے۔ تو کہتے ہیں: یہ اقرار صحیح بھئی۔ انشاء یہ نہیں ہے۔ اگر انشاء... اقرار انشاء کا نام ہوتا تو یہ اقرار صحیح نہ تھا۔ کیوں نہیں صحیح تھا؟ کیونکہ اگر انشاء ہوتی... یہ اقرار کیا تھا؟ اگر انشاء ہوتا تو اس کا مطلب ہے یہ اس مسلمان کو اس وقت اس شراب کا مالک بنا رہا ہے، حالانکہ اس وقت مسلمان کے لیے تو تملیکِ خمر جائز... نہ تملیکِ خمر جائز ہے، نہ تملکِ خمر جائز ہے۔ یہ صرف خبر دے رہا ہے، معلوم ہوا پہلے سے ہی اس کے ذمے ہے بھائی। تو جب پہلے سے ہی اس کے ذمے ہے تو اس وقت تملیکِ خمر نہ پائی گئی بھئی۔ معلوم ہوا مالک وہ پہلے سے ہی ہے، صرف اس کے پاس ہے وہ۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھو! اگر یہ اقرار انشاء ہوتا، معلوم ہوا کہ اس... پہلے خمر نہیں تھی، اب کیا کر رہا ہے اپنے اوپر فلاں کے لیے خمر کو واجب کر رہا ہے، تو یہ اس کو گویا مالک بنائے گا، خمر اس کو ادا کرے گا، تو یہ تو تملیکِ خمر جائز نہیں۔ اچھا! دیکھیے بھئی! تفصیل آگے آ جائے گی۔ یہ معنیٰ ہے: فَصَحَّ الْإِقْرَارُ بِالْخَمْرِ لِلْمُسْلِمِ، تو صحیح ہے اقرار کرنا خمر کا مسلمان کے لیے؛ لَا بِطَلَاقٍ وَعِتْقٍ مُكْرَهًا، لیکن اقرار طلاق کا کرنا یا اقرار عتاق کا کرنا مُكْرَهًا، اس حال میں کہ مقر کیا ہو؟ مکره ہو بھئی! یعنی زبردستی اس سے اقرار کروایا گیا، یہ درست نہیں ہے بھئی۔ یہ درست نہیں۔ بھئی! ایک آدمی نے دوسرے سے زبردستی بھئی... تلوار نکالی بھئی کہ ہاں بھئی! اقرار کرو ان لوگوں کے سامنے کہ تم نے اپنی بیوی کو کیا دی ہے؟ طلاق دی ہے۔ وہ اقرار کر لیتا ہے، زبردستی کی... اقرار کرتا ہے، یہ اقرار معتبر نہیں بھئی۔ یہ اقرار معتبر نہیں۔ کیوں نہیں معتبر؟ کیونکہ اقرار ظهور کا نام ہے، انشاء کا نام نہیں، اور ظهور وہاں ہوتا ہے جہاں چیز پہلے سے پائی جائے، اور یہاں طلاق پہلے سے پائی گئی؟ جب پہلے سے پائی نہیں گئی تو خبر کاذب ہوئی، اور خبرِ کاذب سے طلاق واقع ہوئی؟ نہیں ہوئی۔ اگر اقرار انشاء ہوتا تو اس وقت جو اس نے کہا: میری... میں بیوی کو کیا دے چکا ہوں؟ طلاق دے چکا ہوں، تو انشاءِ طلاق ہوتا اور بیوی کو کیا ہو جاتی؟ طلاق ہو جاتی، اور طلاق تو مکره کی واقع ہو جاتی ہے۔ تو اقرار سے بھی کیا ہونی چاہیے تھی؟ طلاق واقع ہونی چاہیے تھی، لیکن بتلا دیا کہ اقرار وہ ظهور کا نام ہے، انشاء کا نام نہیں۔ تو جب یہاں انشاء ہی نہیں ہے تو طلاق بھی واقع نہیں۔ ہاں! اگر انشاء ہوتا، زبردستی تلوار نکالتا، کہتا: اپنی بیوی کو طلاق دے! وہ کہتا: میں نے اپنی بیوی کو کیا دے دی؟ طلاق دے دی، تو اب انشاءِ طلاق ہو جاتا। تو مکره میں انشاءِ طلاق تو ہو سکتا ہے، ظهورِ طلاق یعنی اقرار صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یا اسی طرح بھئی! آزاد... تلوار نکالی بھئی کہ تم اقرار کرو کہ تم نے کیا کیا ہے؟ تم... تمہارا غلام... تو آزاد... تو وہ اقرار کر لیتا ہے سب کے سامنے: ہاں بھئی! میرا غلام... اس کو میں آزاد کر چکا ہوں، میں اقرار کرتا ہوں۔ نہیں بھئی! اس سے... انشاءِ عتاق تو نہیں ہوا بھئی، پہلے اس نے آزاد کیا تھا؟ پہلے آزاد نہیں کیا تھا، تو اس زبردستی سے اس سے کہلوا دینے سے... تو یہ اقرار ہے، اور اقرار سے صرف ظهور ہوتا ہے، اور ماقبل میں جب عتاق نہیں تو اس وقت سے بھی ظهور نہیں ہوا بھئی۔ ہاں! اگر انشاء ہوتا تو انشاءِ عتاق ہو جاتا، ابھی کیا ہو جاتا؟ غلام فوراً آزاد ہو جاتا بھئی، آزاد ہو جاتا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ لہٰذا انشاءِ عتاق کرے گا تو وہ پھر غلام آزاد ہوگا۔ تلوار نکالی بھئی: چلو بھئی! اپنے غلام کو کیا کرو؟ آزاد کرو۔ لَمَّا كَانَ حُكْمُ الْإِقْرَارِ الظُّهُورَ، جب کہ حکم اقرار کا کیا ہے؟ ظهور ہے؛ لَا الْإِنْشَاءَ، انشاء نہیں ہے؛ صَحَّ الْإِقْرَارُ بِالْخَمْرِ لِلْمُسْلِمِ، تو مسلمان کے لیے خمر کا اقرار کرنا صحیح ہے۔ مسلمان کے لیے خمر کا اقرار کرنا صحیح ہے، کیونکہ یہ کیا ہے مولانا؟ صرف ظهور ہو رہا ہے، اس وقت اس کو مالک نہیں بنا رہا۔ اور اگر یہ انشاء ہوتا تو پھر درست نہ ہوتا، کیوں؟ وَلَا يَصِحُّ تَمْلِيكُ الْخَمْرِ إِيَّاهُ، مسلمان کو تو خمر کا مالک بنانا صحیح... تو اس وقت انشاء ہوتا تو پھر تو اس کو مالک بنانا لازم آتا، اور مالک بنانا تو صحیح نہیں۔ تو صحیح نہیں ہے مسلمان کو خمر کا مالک بنانا۔ وَلَا يَصِحُّ الْإِقْرَارُ بِالطَّلَاقِ وَالْعِتَاقِ، اور صحیح نہیں ہے اقرار کرنا طلاق کا یا عتاق کا؛ مُكْرَهًا، اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ مکره، یعنی اس سے زبردستی اقرار کروایا جائے، یہ درست نہیں ہے۔ وَلَوْ كَانَ إِنْشَاءً لَصَحَّ، اگر اقرار کیا ہوتا؟ انشاء ہوتا تو زبردستی کی طلاق اور عتاق واقع ہو جاتے؛ لِأَنَّ طَلَاقَ الْمُكْرَهِ وَعِتَاقَهُ وَاقِعَانِ، اس لیے کہ مکره کی طلاق اور مکره کے عتاق جو ہیں یہ دونوں واقع ہو جاتے ہیں ہمارے نزدیک۔ وَلَوْ أَقَرَّ حُرٌّ مُكَلَّفٌ بِحَقٍّ مَعْلُومٍ أَوْ مَجْهُولٍ صَحَّ وَلَزِمَهُ بَيَانُ مَا جُهِلَ بِمَا لَهُ قِيمَةٌ بھئی! اگر اقرار کر لیتا ہے حُرٌّ، ایسا شخص جو آزاد ہے؛ مُكَلَّفٌ، جو کیا ہے؟ مکلف ہے، یعنی عاقل بالغ ہے؛ بِحَقٍّ مَعْلُومٍ، کس چیز کا اقرار کرتا ہے؟ ایسے حق کا جو معلوم ہے؛ أَوْ مَجْهُولٍ، یا ایسا حق جو مجہول ہے؛ صَحَّ، تو اقرار صحیح ہے۔ اقرار کیا ہے؟ معلوم ہوا مقر کے اندر بھی تین... مقر کے اندر تین شرطیں ہیں، لیکن مقر لہ... مقر بہ میں کوئی شرط نہیں۔ مقر بہ چاہے معلوم ہو، چاہے مجہول ہو، اقرار پھر بھی... مثلاً کہتا ہے: فلاں کے... مقر بہ معلوم اس کی کیا صورت ہے؟ فلاں کے میں نے ایک ہزار درہم دینے ہیں۔ تو دیکھو مقر بہ کیا ہے؟ معلوم ہے، کتنے درہم ہیں؟ ایک ہزار، اور کبھی مجہول ہوگا: فلاں کے میں نے بہت... بہت سا مال دینا ہے بھئی، کتنا مال دینا ہے؟ اس نے کوئی بیان کیا؟ نہیں بھئی! تو یہ مجہول ہو پھر بھی صحیح ہے۔ ہاں! مجہول ہو تو پھر اس کو مجبور کیا جائے گا بیان پر۔ اقرار صحیح ہو گیا، اب اس کو قاضی مجبور کرے گا: بتلاؤ بھئی! تم نے کیا کہا تھا؟ فلاں کا مال دینا ہے، کتنا مال دینا ہے؟ تو اقرار... مقر میں تین شرطیں ہو گئیں: حر ہو اور مکلف، یعنی عاقل اور بالغ ہو۔ سمجھ میں آیا؟ یا دو شرطیں ہیں، انہوں نے دو بنا دیں: آزاد ہو اور مکلف ہو بھئی۔ اچھا! جی! معلوم ہوا بچے کا اقرار صحیح نہیں، اسی طرح عبدِ محجور کا اقرار بھی صحیح نہیں۔ ہاں! عبدِ ماذون ہو تو اس کا اقرار صحیح، اسی طرح صبیِ ماذون ہو اس کا اقرار بھی صحیح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ أَقَرَّ حُرٌّ مُكَلَّفٌ، اگر آزاد مکلف آدمی نے اقرار کر لیا کسی ایسے حق کا جو معلوم ہے یا مجہول ہے؛ صَحَّ، تو اقرار صحیح ہے؛ وَلَزِمَهُ، اور یہ حق کیا ہو جائے گا اس پر؟ نہیں، وَلَزِمَهُ، اور لازم ہوگا: بَيَانُ مَا جُهِلَ، بیان کرنا اس چیز کا جو مجہول ہے۔ جو چیز مجہول ہے، اس نے کہا تھا بہت سا مال ہے، اس کا بیان کرنا اس پر لازم ہوگا؛ بِمَا، ایسی چیز کے ساتھ؛ لَهُ قِيمَةٌ، جس کی کیا ہو؟ بھئی دیکھو! ایک آدمی نے کہا: میں نے فلاں کا بہت سا... فلاں کا میں نے مال دینا ہے۔ تو اب اس پر کیا لازم ہے؟ کہ وہ بیان کرے، اور ایسی چیز بیان کرنا ضروری ہے جس کی قیمت ہو مولانا! کیونکہ جس کی قیمت ہوگی وہ مال ہے، جس کی قیمت نہیں وہ تو مال ہی نہیں۔ وَلَزِمَهُ بَيَانُ مَا جُهِلَ، بیان کرنا اس کو لازم ہے اس چیز کو جو مجہول ہے؛ بِمَا، ایسی چیز کے ساتھ؛ لَهُ قِيمَةٌ، جس کی کیا ہو؟ قیمت ہو۔ صِحَّةُ الْإِقْرَارِ بِالْمَجْهُولِ مَبْنِيَّةٌ عَلَى أَنَّهُ إِخْبَارٌ لَا إِنْشَاءُ تَمْلِيكٍ، بھئی! اقرار بالجمہول کی صحیح ہونا یہ مبنی ہے اس بات پر کہ یہ اخبار ہے، انشاءِ تملیک نہیں۔ بھئی خبر دے رہا ہے، اور خبر ایک مجہول چیز کی دے دی تو اس سے بیان لے لیں گے۔ لیکن انشاء کرتا ہے، اور انشاء کرتا ہے ایک مجہول چیز کا، یہ تو درست نہیں۔ تو اقرار چونکہ خبر ہے، اس لیے مجہول میں بھی کام چل جائے گا۔ اگر یہ انشاء ہوتا تو مجہول کے اندر نہ... مجہول کے اندر نہ چلتا۔ تو اقرار بالمجہول کا صحیح ہونا یہ مبنی ہے اس بات پر کہ یہ اخبار ہے، نہ کہ انشاءِ تملیک، اگر انشاءِ تملیک ہوتا پھر صحیح نہ تھا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ وَصُدِّقَ الْمُقِرُّ مَعَ حَلِفِهِ إِنِ ادَّعَى الْمُقَرُّ لَهُ أَكْثَرَ مِنْهُ، صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: میں نے زید کے لیے اقرار کیا، میں ہوا مقر، اور زید کون ہوا؟ مقر لہ۔ میں نے کہا: میں نے زید کے ایک ہزار درہم دینے ہیں۔ زید نے کہا: نہیں! ایک ہزار درہم نہیں دینے، بلکہ کتنے دینے ہیں؟ دو ہزار درہم دینے ہیں۔ اب بھئی! وہ چونکہ زائد کو ثابت کر رہا ہے، اس کے ذمے ہے بینہ، اور میں زائد کا کیا کرتا ہوں؟ انکار، تو میں ہوا منکر، لہٰذا میرے اوپر کیا ہے؟ قسم ہے۔ تو مقر کی تصدیق کی جائے گی اس کی قسم کے ساتھ، یہی بات کر رہے ہیں۔ وَصُدِّقَ الْمُقِرُّ، اور مقر کی تصدیق کی جائے گی؛ مَعَ حَلِفِهِ، ساتھ اس کی قسم کے؛ إِنِ ادَّعَى الْمُقَرُّ لَهُ أَكْثَرَ مِنْهُ، اگر مقر لہ اس سے زیادہ کا دعویٰ کر دے۔ وَلَا يُصَدَّقُ فِي أَقَلَّ مِنْ دِرْهَمٍ، اور ایک درہم سے کم میں تصدیق نہیں کی جائے گی مقر کی اس قول کے اندر... فی اس قول میں: عَلَيَّ مَالٌ، مجھ پر مال ہے۔ بھئی دیکھو! میں نے زید کے لیے اقرار کیا: لِزَيْدٍ عَلَيَّ مَالٌ، "زید کے لیے مجھ پر مال ہے"۔ اب بھئی مال تو مجہول ہے بھئی! کتنا مال ہے؟ سو بھی مال ہے، ہزار بھی مال ہے، کروڑ بھی مال ہے بھئی۔ تو لہٰذا اب مجبور کیا جائے گا: بیان کرو بھئی! اب وہ بیان کیا کرتا ہے؟ ایک درہم ہے۔ کتنا ہے؟ ایک درہم دینا ہے۔ کہتے ہیں: تصدیق کر دی جائے گی۔ تو ایک درہم کہ اس سے... ایک درہم یا درہم سے جتنا زیادہ بتا دے، اس میں تو تصدیق کریں گے، لیکن ایک درہم سے کم میں اس کی تصدیق... کیونکہ ایک درہم سے کم کو عرف میں مال نہیں کہتے بھئی۔ وہ تھوڑی سی چیز ہے، اس کو کوئی مال نہیں کہتا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُصَدَّقُ، اور مقر کی تصدیق نہیں کی جائے گی؛ فِي أَقَلَّ مِنْ دِرْهَمٍ، ایک درہم سے کم کے اندر؛ فِي، اس قول کے اندر: عَلَيَّ مَالٌ، کہ "فلاں کا مجھ پر مال ہے"۔ وَمِنَ النِّصَابِ، اور تصدیق نہیں کی جائے گی نصاب... وَمِنَ النِّصَابِ کا عطف کس پر ہے؟ مِنْ دِرْهَمٍ پر ہے بھئی: وَمِنَ النِّصَابِ۔ تو ایک درہم سے کم میں تصدیق نہیں کی جائے گی، اور نصاب سے کم میں تصدیق نہیں کی جائے گی فِي اس قول کے اندر: عَلَيَّ مَالٌ عَظِيمٌ۔ میں نے کہا جی زید کے لیے: لِزَيْدٍ عَلَيَّ مَالٌ عَظِيمٌ، "زید کا مجھ پر عظیم مال ہے"۔ اب میں نے مجہول کا اقرار کیا تو مجھ سے بیان طلب کیا جائے گا کہ کتنا ہے بھئی؟ میں نے کیا کہا؟ بھئی میں نے اس کے سو درہم دینے ہیں، کہتے ہیں: نہیں بھئی! نصاب سے کم میں تصدیق نہیں کی جائے گی۔ معلوم ہوا مالِ عظیم کہا ہے، اور مالِ عظیم کتنا ہے؟ نصاب، یعنی جس پر زکوٰۃ آیا کرتی ہے۔ اس نصاب والا امیر شمار کیا جاتا ہے، وہ عظیم مال شمار ہوتا ہے اور اس پر پھر زکوٰۃ آتی ہے۔ تو جب اس نے مالِ عظیم کہا تو کم از کم کتنا مال ہوگا یہ؟ نصاب کے بقدر ہوگا۔ اگر نصاب سے زائد کا اقرار کرتا ہے تو وہ تو ہوگا ہی ہوگا، لیکن اگر اس سے کم کرے تو اس میں پھر اس کی تصدیق... اس کا قول درست نہیں۔ جی! جب اس نے کہا... دیکھیے کیا کہا؟ عَلَيَّ مَالٌ عَظِيمٌ مِنَ الذَّهَبِ، بھئی مِنَ الذَّهَبِ ساتھ ملاتا ہے، میں نے کہا: لِزَيْدٍ عَلَيَّ مَالٌ عَظِيمٌ مِنَ الذَّهَبِ، "زید کا مجھ پر عظیم مال ہے من الذهب، سونے میں سے"۔ اب مجھے لازمی بات ہے دینار دینے پڑیں گے، اور کتنے دینار دوں گا؟ میں پانچ دینار دینا چاہتا ہوں۔ نہیں بھئی! کم از کم کتنے دینار ہوں جو نصاب کو پہنچیں، اور نصاب کتنا ہے؟ بیس دینار۔ کتنا ہے؟ بیس دینار۔ یاد رکھو بیس دینار پر زکوٰۃ آتی ہے، یہ ساڑھے سات تولے بنتے ہیں۔ اسی کو مثقال بھی کہتے ہیں، دینار اور مثقال ایک وزن کا نام ہے۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں کتاب الزکوٰۃ کے اندر کہ سونے کا نصاب کتنا ہے؟ بیس مثقال ہے، یعنی بیس دینار ہے۔ یہ ساڑھے چار ماشے کا ایک دینار ہوتا ہے بھئی، یہ ساڑھے سات تولے بن جاتے ہیں۔ تو بیس دینار سے کم میں تصدیق نہیں کی جائے گی۔ یا میں نے کہا: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مَالٌ عَظِيمٌ مِنَ الْفِضَّةِ، "فلاں کا مجھ پر عظیم مال ہے، کس میں سے؟ چاندی میں سے"۔ تو نصاب سے کم میں تصدیق... کم از کم کتنا ہے یہ؟ نصاب کتنا ہے بھئی چاندی کا؟ دو سو درہم۔ دو سو... یہ ساڑھے باون تولے چاندی بنتی ہے دو سو درہم، کیونکہ ایک درہم جو ہے تین ماشے، ایک رتی، اور خمس رتی کا ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دینار ہے ساڑھے چار ماشے کا، اور درہم ہے تین ماشے، ایک رتی، اور خمس رتی، یعنی رتی کا پانچواں حصہ۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں: آٹھ چاول کے دانے ہوں تو کتنا ہوتا ہے؟ ایک رتی۔ آٹھ رتیاں ہوں تو کتنا بنتا ہے؟ ایک ماشہ۔ بارہ ماشے ہوں تو کتنا بنتا ہے؟ ایک تولہ۔ سمجھ مَیں آیا، دیکھو ذرا حساب کر لیں. 20 دینار، یہ 20 مثقال۔ دینار مثقال ایک وزن ہے۔ 20 دینار ہوئے اور ایک دینار میں کتنے ماشے؟ ساڑھے چار ماشے۔ کتنے ماشے؟ ساڑھے چار ماشے۔ تو یہ 20 کو ساڑھے چار سے ضرب دو بھئی کتنے ماشے بن گئے؟ جی۔ 90 ماشے بن گئے. کتنے بن گئے؟ 90 ماشے بن گئے اور ایک تولے میں 12 ماشے ہوتے ہیں۔ تو اس کو 12 سے تقسیم کر دو تولے بن جائیں گے۔ 12 ستے 84 تو دیکھو سات تولے اور باقی کتنے رہ گئے؟ چھ ماشے۔ چھ ماشے کتنا تولہ بنا؟ آدھا تولہ تو ساڑھے سات تولے بن گئے۔ ٹھیک ہے بھئی! اور اسی طرح کس کے اندر ہے بھئی؟ چاندی کے اندر بھی بھئی۔ ایک کتنے درہم ہوئے؟ 200 درہم۔ 200 درہم ہے ایک درہم کتنے کا ہے؟ تین ماشے ایک رتی اور خمس رتی یعنی رتی کا پانچواں حصہ۔ اچھا تو پہلے تو یہ خمس رتی کو ہم ذرا ختم کریں بھئی۔ پہلے چلو رتی کر لیں یا پہلے ماشے بنا لیں ٹھہریں۔ تین ماشے ہیں نا تو 200 کو تین سے ضرب دو۔ 600۔ اچھا بھئی یہ 600 ماشے آپ اپنی جیب میں رکھیں بھئی۔ 600 ماشے ہو گئے باقی۔ تین کتنے کا ہوتا ہے ایک درہم؟ تین ماشے اور ایک رتی۔ اچھا ایک کو 200 سے ضرب دو کتنی رتیاں ہو گئیں؟ 200 رتیاں بھئی۔ یہ 200 رتی آپ اپنی جیب میں رکھیں. باقی کیا رہ گیا؟ خمس رتی۔ خمس رتی کا پانچواں حصہ۔ اس کو 200 سے ضرب دو۔ تو دیکھو ایک درہم میں کتنا خمسے؟ خمسے رتی۔ دو دیناروں میں بھی دوسرے میں بھی خمس رتی لیا، تیسرے سے بھی، چوتھے سے بھی، پانچویں میں سے بھی۔ پانچ دیناروں سے خمس رتی لیا تو ایک رتی بن گئی۔ پانچ خمس ہو گئے نا تو کتنا بن گیا؟ ایک رتی بن گئی یا نہیں بن گئی؟ تو لہذا معلوم ہوا پانچ درہم ہوں تو ایک رتی ہمیں حاصل ہو رہی ہے۔ تو پانچ سے 200 کو تقسیم کر دو۔ 40۔ معلوم ہوا 40 رتیاں اور مل جائیں گی۔ پہلے کتنی رتیاں تھیں آپ کے پاس بھئی؟ 200۔ 240 رتیاں ہو گئیں کتنی؟ ماشے کتنے ہیں آپ کے پاس؟ 600۔ اچھا اب 240 رتیوں سے بھی کیا بنا لو؟ ماشے بنا لو۔ ایک ماشے میں کتنی رتی ہوتی ہے؟ آٹھ رتی۔ تو آٹھ کے ساتھ 240 کو تقسیم کرو کتنا آیا؟ 8 تیا 24 نہیں ہوتا؟ کتنی آ گئیں؟ 30 آ گئیں کیا آ گئیں؟ 30 آ گئیں بھئی۔ تو 30 ماشے اور مل گئے ہمیں آپ کے پاس کتنے تھے ماشے؟ 630 ماشے کل بن گئے۔ 200 درہم کے کتنے بن گئے؟ 630 ماشے اب اس کو ذرا 12 ماشے کا ایک تولہ ہوتا ہے 12 سے تقسیم کر دو بھئی۔ جلدی جلدی کرو بھئی۔ 630 تقسیم 12۔ ساڑھے 52 آئے گا۔ ساڑھے 52 دیکھ لینا بھئی۔ جلدی جلدی بھئی۔ ساڑھے 52 تولہ آ گیا یا نہیں آ گیا دیکھا یہ نصاب ہے۔ 630 کو تقسیم کرو 12 سے تو ساڑھے 52 تولہ آ جائے گا۔ وَمِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فِى الْإِبِلِ تو تصدیق نہیں کی جائے گی بھئی 25 اونٹوں سے کم کے اندر بھی بھئی۔ بھئی میں نے کہا زید کا مجھ پر عظیم مال ہے من الْإِبِلِ کس میں سے؟ اونٹوں میں سے تو 25 اونٹوں سے کم میں میری تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ 25 اونٹوں میں اسی کی جنس میں سے ایک فرض بطور زکوٰۃ کے آ جاتا ہے۔ کیا آ جاتا ہے؟ 25 اونٹوں میں سے پھر ایک اونٹ دینا پڑتا ہے بھئی آپ تفصیل پڑھ چکے ہیں ورنہ اس سے کم ہوں پانچ اونٹوں میں آ جاتی ہے زکوٰۃ لیکن وہاں پہ بکری آتی ہے سمجھ میں آیا؟ بکری آتی ہے لیکن جب 25 اونٹ ہو تو پھر ان میں کیا دینا پڑتا ہے؟ ایک اونٹ ہی دینا پڑتا ہے۔ وَمِنْ قَدْرِ النِّصَابِ قِيمَةً اور تصدیق نہیں کی جائے گی نصاب کی مقدار سے باعتبار قیمت کے فِى غَيْرِ مَالِ الزَّكَاةِ جبکہ وہ کس میں اقرار کرے مالِ زکوٰۃ کے علاوہ۔ بھئی میں نے کہا فلاں کا مجھ پر عظیم مال ہے کتابوں میں سے کس میں سے؟ اب کتابیں کیا ہیں؟ مالِ زکوٰۃ کے علاوہ ان کا کوئی نصاب الگ سے ہے؟ الگ ان کا نصاب نہیں تو اب یہاں قیمت کا اعتبار کیا جائے گا اب اس کی ساڑھے 52 تولے چاندی کے برابر جب کتابوں کی قیمت پہنچ جائے گی تو اس میں تصدیق کی جائے گی اس سے کم میں تصدیق معلوم ہوا اور وہ بنتا ہے آج کل تقریبا 17 ہزار روپے بھئی۔ ساڑھے 52 تولہ چاندی کتنے کی ہے؟ 17 تو 17 ہزار سے کم کی کتابوں میں میری تصدیق نہیں کی جائے گی۔ ہاں اس سے زیادہ جتنا بھی ہو جائے۔ وَمِنْ ثَلَاثَةِ نُصُبٍ فِي أَمْوَالِ عِزَامٍ اور تصدیق نہیں کی جائے گی تین نُصُب سے کم کے اندر اموالِ عِظام میں۔ بھئی ایک عام میں نے کہا زید کے مجھ پر میں نے یہ نہیں کہا مالِ عظیم ہے جمع کے صیغہ لیتے ہیں اموالِ عِظام ہیں بہت سے عظیم مال ہیں میرے اوپر زید کے۔ زید کے بہت سے نہ کہیں اب جمع کا لفظ لے کر آئے بھئی زید کے مجھ پر کیا ہیں؟ عظیم مال ہیں عظیم مال جمع لے کر آئے اور جمع کے کم از کم کتنے افراد ہوتے ہیں؟ تین تو ایک اموالِ عظیم میں تھا ایک نصاب تو اس میں کتنے ہو جائیں گے؟ کم از کم تین میں تین سے کم میں تصدیق نہیں کی جائے گی۔ وَدَرَاهِمُ ثَلَاثَةٌ اور دراہِم تین ہیں مولانا دراہِم کتنے ہیں؟ تین ہیں۔ کیا معنی دراہِم تین ہیں؟ یعنی اگر ایک شخص نے دراہِم کا اقرار کیا میں نے زید کے دراہِم دینے ہیں تو تین سے کم میں تصدیق کیوں نہیں کی جائے گی تین سے کم میں کیونکہ دراہِم جمع ہے اور جمع کے کم از کم کتنے افراد ہوتے ہیں؟ تین افراد تو تین سے کم میں تصدیق نہیں ہاں زیادہ کرتا ہے تو زیادہ آ جائے گا کیونکہ زیادہ بھی اسی کا افراد میں سے ہیں تو جمع زیادہ کا بھی احتمال رکھتی ہے۔ وَدَرَاهِمُ كَثِيرَةٌ عَشَرَةٌ اور دراہِم کثیرہ کتنے ہیں؟ عشرہ ہیں دس ہیں۔ ایک آدمی نے کہا بھئی فلانی عَلَيَّ دَرَاهِمُ كَثِيرَةٌ فلاں کے مجھ پر دراہِم کثیرہ ہیں تو 10 سے کم کے اندر اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ یہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کے نزدیک کیوں بھئی 10 سے کم کیوں میں تصدیق کیوں نہیں کریں گے کہتے ہیں لِأَنَّ جَمْعَ الْكَسْرَةِ أَقَلُّهُ عَشَرَةٌ اس لیے کہ جمع کثرت ہے بھئی جمع ہے نا جمع کثرت ہے اور سمجھ میں آیا دراہِم آیا اور کثرت کا لفظ آیا تو اور اس کا کم سے کم جمع کثرت کا اطلاق کتنے پر ہوتا ہے؟ آپ نے پڑھا ایک جمع قلت ہے ایک جمع کثرت تو جمع کثرت جو ہے اس کا عقل کیا ہے؟ 10 ہے تو 10 سے کم میں تقسیم۔ وَعِنْدَهُمَا الصَّاحِبَيْنِ کے نزدیک لَا يُصَدَّقُ فِي أَقَلَّ مِنَ النِّصَابِ نصاب سے کم میں یہاں پر بھی تصدیق اسی لیے کہ دراہِم کثیر کیا شمار ہوتے ہیں؟ نصاب جو ہے وہ کثیر شمار ہوتا ہے کہ اس میں زکوٰۃ آ جاتی ہے۔ وَكَذَا دِرْهَمًا اور وَكَذَا دِرْهَمًا دِرْهَمٌ۔ وَكَذَا دِرْهَمًا ایک درہم ہے۔ وَكَذَا دِرْهَمًا کیا ہے؟ میں نے یوں کہا لِزَيْدٍ عَلَيَّ كَذَا دِرْهَمًا زید کے مجھ پر اتنے درہم ہیں کذا کا لفظ لایا مولانا کذا کنایہ ہوتا ہے عدد سے۔ کذا کیا ہوتا ہے؟ بھئی بعض اوقات انسان عدد بیان نہیں کرنا چاہتا تو اس سے کنایہ کرتا ہے۔ جیسے کوئی کسی کا نام نہیں لینا چاہتا تو فلاں فلاں کہتے ہیں فلاں نے یوں کہا فلاں نے یوں کہا بھئی میں نے آپ کو میں زید کی بات سنا رہا تھا اچانک زید کا ایک دوست آ گیا اب میں زید کا نام نہیں لینا چاہتا تاکہ کہیں اس کو پتہ نہ چلے تو میں کنایہ کرتا ہوں کیا کہتا ہوں؟ پھر فلاں نے مجھے یوں کہا فلاں کو میں نے یوں کہا تو اب دیکھو بات بھی ہو گئی اور دوسرے کو پتہ بھی اسی طرح بعض اوقات بات سے بھی کنایہ کیا جاتا ہے بھئی۔ میں نے اسے ایسے ایسے کہا دیکھا۔ میں نے بات نہیں ذکر کی لیکن اس بات سے کیا کیا کنایہ کر دیا ایسے ایسے کہا اسی طرح کبھی عدد سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ میں نے اسے اتنے اتنے روپے دیے دیکھا تیسرے کو اب پتہ نہیں چلا بھئی تو یہ کنایہ ہوتا ہے عدد سے اب ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کے بارے میں میں نے مثلاً کہا زید کے میرے اوپر اتنے درہم ہیں یا كَذَا دِرْهَمًا۔ كَذَا دِرْهَمًا تو کہتے ہیں یہ درہم ہے بھئی۔ کتنا ہے؟ یعنی ایک درہم سے کم میں اس کی تصدیق یہاں پر نہیں ہوگی زیادہ کر لے تو زیادہ کا احتمال ہے وہ درست ہے لیکن ایک درہم سے کم نہیں۔ بھئی کیسے؟ کہتے ہیں دیکھو کذا ہے عدد مبہم اور آگے دِرْهَمًا ہے اس کی تمیز تو یہی اس کی تفسیر بیان کر رہا ہے کہ کذا سے کیا مراد ہے دراصل؟ ایک میں نے کیا کہا تھا لِزَيْدٍ عَلَيَّ كَذَا دِرْهَمًا کذا ہے عدد اور دِرْهَمًا ہے اس کی تمیز تو یہی تمیز دراصل اس کی کیا کر رہی ہے؟ تفسیر کر رہی ہے تو ایک درہم ہوگا۔ وَكَذَا وَكَذَا أَحَدَ عَشَرَ اور وَكَذَا وَكَذَا کتنے ہیں؟ أَحَدَ عَشَرَ۔ کیسے بھئی دیکھو بھئی! میں نے کہا لِزَيْدٍ عَلَيَّ كَذَا كَذَا دِرْهَمًا۔ زید کے مجھ پر اتنے اتنے درہم ہیں۔ کذا کذا میں دو دفعہ لایا اور درمیان میں حرف عطف کو ذکر کیا؟ نہیں تو دو عدد ہوں اور ان میں حرف عطف بھی نہ ہو وہ کون سے ہیں؟ کہتے ہیں اس میں کم سے کم کون سا ہے؟ بھئی دیکھو ثلاثہ، اربعہ، خمسہ، ستہ، سبعہ، ثمانیہ، تسعہ، عشرہ یہ تو ایک ہی عدد چل رہا ہے ابھی دو تک ہم پہنچے ہیں نہیں آگے کیا آیا؟ أَحَدَ عَشَرَ تو کم سے کم جو مقدار ہے کہ دو عدد ذکر ہوں اور درمیان میں حرف عطف بھی نہ ہو وہ کیا ہے؟ أَحَدَ عَشَرَ ہے۔ تو کذا کذا أَحَدَ عَشَرَ درہم ہیں یعنی اس سے کم میں تصدیق نہیں۔ 11 سے زیادہ اقرار کر لے تو ٹھیک ہے بیان کر دے لیکن اس سے کم میں نہیں۔ وَكَذَا وَكَذَا أَحَدَ وَعِشْرُونَ اور وَكَذَا وَكَذَا کتنے ہیں؟ 21 ہیں کتنے ہیں؟ اس لیے کہ دو عدد کہ ان کے درمیان کذا وکذا میں نے کیا کیا درمیان میں کیا ذکر کیا و تو دو ایسے عدد جن کے درمیان کیا ہے حرف عطف کم سے کم وہ کون سا عدد ہے؟ 21 وہاں جا کر و آتا ہے اس سے پہلے و نہیں آتا تو کم سے کم 21 میں تشریف۔ لِأَنَّ كَذَا وَكَذَا كِنَايَةٌ عَنِ الْعَدَدَيْنِ اس لیے کہ کذا اور کذا یہ کنایہ ہے عدد سے دو عددوں سے وَأَقَلُّ الْعَدَدَيْنِ اور کم سے کم وہ ایسے عدد يَذْكُرَانِ بِغَيْرِ وَاوٍ جو تو ذکر کیا جاتا ہے بغیر واو کے وہ کیا ہیں؟ أَحَدَ عَشَرَ وَأَقَلُّ الْعَدَدَيْنِ يَذْكُرَانِ بِالْوَاوِ اور کم سے کم دو عدد جو ذکر کیے جاتے ہیں واو کے ساتھ أَحَدٌ وَعِشْرُونَ ہے اور اگر تین گنا کیا تین دفعہ کہا عدد کو بلا واو کے میں نے یوں کہا لِزَيْدٍ عَلَيَّ كَذَا كَذَا كَذَا دِرْهَمًا تو کذا میں نے کتنی دفعہ ذکر کیا تین اور درمیان میں واو کو ذکر کیا؟ واو نہیں۔ تو کہتے ہیں اب بھی 11 درہم ہوں گے کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ عربی کے اندر ایسا کوئی عدد نہیں ہے جس میں تین دفعہ بغیر واو کے کیا اجائے؟ عدد آ جائیں۔ کہیں پر بھی عربی میں ایسا نہیں۔ تو معلوم ہوا تین تو ہو نہیں سکتے تو پھر کتنے ہوں گے؟ دو اور دو میں کم سے کم کتنے تھے بغیر واو کے؟ أَحَدَ عَشَرَ۔ وَلَوْ ثَلَّثَ بِلَا وَاوٍ اور اگر تین مرتبہ کیا بغیر واو کے تو یہ 11 ہے لِأَنَّهُ لَا نَظِيرَ لِثَلَاثَةٍ بِلَا وَاوٍ اس لیے کہ عربی میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے کہ تین عدد ہوں بغیر واو کے فَالْأَقْرَبُ مِنْهُ اثْنَانِ بِلَا وَاوٍ تو تین کے سب سے زیادہ قریب دو ہے بلا واو کے یعنی أَحَدَ عَشَرَ وہ کیا ہے؟ أَحَدَ عَشَرَ وَمَعَ وَاوٍ۔ اگر تین دفعہ کیا مَعَ وَاوٍ کے یوں کہا میں نے لِزَيْدٍ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا وَكَذَا دِرْهَمًا۔ تو اب و والے تو آ جاتے ہیں وہ کم سے کم کتنے ہیں؟ 121۔ مِئَةٌ وَأَحَدٌ وَعِشْرُونَ۔ وَمِئَةٌ وَأَحَدٌ وَعِشْرُونَ وہاں جا کر اکٹھے آئے اس سے پہلے کم سے کم یہی ہے بھئی۔ فَمِئَةٌ وَأَحَدٌ وَعِشْرُونَ تو وہ 121 ہے وَإِنْ رَبَّعَ اور اگر چار دفعہ یوں کہا زیدِ کذا و کذا و کذا و کذا درھماً تو چار عدد ذکر کیے جن میں و آ رہا ہے اور سب سے چھوٹا عدد جس میں چار عدد آ جائیں اور سب سے چھوٹی مقدار جس میں چار و آئیں اور درمیان میں و ہو وہ کیا ہے؟ الف و میاۃ و احد وعشرون ہے بھئی تو 1121 ہو جائے گا۔ یعنی ان ربط لفظ کذا مال واوی چار دفعہ کذا کا لفظ کہا و کے ساتھ تو یہون الف و میاۃ و احد وعشرون تو یہ کتنا ہو جائے گا؟ 1121۔ وَعَلَيَّ وَقِبَلِي إِقْرَارٌ بِدَيْنٍ ایک آدمی میں نے یوں کہا لِزَيْدٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ۔ یا میں نے کہا لِزَيْدٍ قِبَلِي دِرْهَمٌ۔ زید کا مجھ پر یا زید کا میری طرف ایک درہم ہے تو کہتے ہیں یہ اقرار بِدَيْنٍ ہے یہ کس چیز کا اقرار ہے؟ دین کا اقرار ہے کیونکہ سمجھ میں آیا بھئی۔ وَصُدِّقَ إِنْ وَصَلَ بِهِ هُوَ وَدِيعَةٌ لیکن میں نے یوں کہا عَلَيَّ دِرْهَمٌ لِزَيْدٍ وَهُوَ وَدِيعَةٌ وَهُوَ وَدِيعَةٌ یہاں بھئی عربی زبان کے قاعدے ذکر ہو رہے ہیں عربی میں ہیں یہ۔ وَهُوَ وَدِيعَةٌ ساتھ ہی میں نے کہہ دیا بھئی کہ وہ کون کس چیز کا ہے درہم؟ بطور امانت کے ہے تو بھئی حالات چاہتا تھا کہ یہ بطور دین کے ہوں لیکن آگے وَدِيعَةٌ اس کے ذریعے اس نے بتلا دیا کہ یہ بطور دین کے نہیں ہے بلکہ بطور امانت کے ہے لہذا تو یہ بیان تغیر ہے یہ کیا ہے؟ بیان تغیر ہے کا اعلی چاہتا تھا کہ بطور دین کے آئیں اور ودیعت چاہتا ہے کہ بطور ودیعت کے آئیں تو اس نے دین سے بدل دیا کلام کو کس کی طرف؟ بھئی دیکھو اعلی چاہتا تھا کہ اس پر لزوم ہو کتنا؟ ایک درہم کا اور ودیعت نے کیا بتلایا؟ کہ اس پر صرف حفاظت ہے بطور حفاظت کے اس پر ہے بھئی۔ تو اس نے الزام سے پھیر دیا کلام کو کس کی طرف؟ حفظ حفاظت کی طرف تو دیکھو بدل دیا تو یہ بیان تغیر ہے اور بیان تغیر کے بارے میں آپ فقہ اصول فقہ کی کتابوں میں پڑھ چکے ہیں کہ متصل ہو تو درست لیکن منفصل ہو تو درست لہذا اگر اس نے اقرار کے ساتھ ہی وَهُوَ وَدِيعَةٌ ملا کر کہہ دیا درمیان میں روکا نہیں تو تصدیق کی جائے گی اور اگر جدا کر کے کہا تو تصدیق نہیں کی جائے گی۔ یہ معنی ہے وَصُدِّقَ إِنْ وَصَلَ بِهِ اگر اور تصدیق کی جائے گی اگر اس نے ساتھ اس کے ملا دیا هُوَ وَدِيعَةٌ وَإِنْ فَصَلَ لَا اور اگر جدا کر دیا تو پھر تصدیق نہیں کی جائے گی۔ لِأَنَّ ظَاهِرَهُ الْإِقْرَارُ بِالدَّيْنِ اس لیے کہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اقرار کس کا کر رہا ہے؟ دین کا اعلیٰ کا کلمه لایا نا تو وہ دین کا اقرار کر رہا ہے فَقَوْلُهُ هُوَ وَدِيعَةٌ يَكُونُ بَيَانَ تَغْيِيرٍ تو وَهُوَ وَدِيعَةٌ کہنا یہ بیان تغیر ہے اور بیان تغیر میں نے بتلایا مَوْصُولًا لَا مَفْصُولًا تو صحیح ہے مَفْصُولًا صحیح نہیں۔ كَالِاسْتِثْنَاءِ وَالتَّخْصِيصِ جیسے کہ استثناء اور تخصیص یہ ملا کر کہیں تو یہ صحیح جدا کر کے کہیں تو صحیح کیونکہ یہ بھی بیان تغیر کی قسموں میں سے ہے جیسے دیکھو مثلاً استثناء ہے میں کہتا ہوں لِزَيْدٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ إِلَّا ثَلَاثَ مِائَةٍ۔ زید کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں مگر 300 کم تو کتنے آئے میرے اوپر؟ 700 تو یہ ملا کر اگر میں نے کہا إِلَّا ثَلَاثَ مِائَةٍ پھر تو ٹھیک لیکن اگر میں نے لِزَيْدٍ عَلَيَّ أَلْفًا کہا پھر تھوڑی دیر بعد جا کر میں نے کیا کہا إِلَّا تو جدا کر کے کہا تو اب میں میرے اوپر ہزار واجب تھے اب میں گویا ان 300 میں سے ان سے رجوع کرنا چاہتا ہوں اور اقرار کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا۔ سمجھ میں آیا تو جدا نہیں ہو سکتا۔ وَعِنْدِي أَوْ مَعِي أَوْ فِي بَيْتِي أَوْ فِي كِيسِي اوْ صُنْدُوقِي أَمَانَةٌ۔ میں نے کہا بھئی: عِنْدِي... عِنْدِي دِرْهَمٌ لِزَيْدٍ، میرے پاس ایک درہم ہے کس کا؟ زید کا۔ یا میں نے کہا: مَعِي... دِرْهَمٌ لِزَيْدٍ، میرے ساتھ ایک درہم ہے، میرے پاس ایک... میں نے کہا: أَوْ فِي بَيْتِي، فِي بَيْتِي دِرْهَمٌ لِزَيْدٍ؛ یا میں نے کہا: فِي كِيسِي، كِيس بٹوے کو کہتے ہیں، میرے بٹوے میں ایک درہم ہے کس کے لیے؟ زید کے لیے؛ یا میں نے کہا: أَوْ فِي صُنْدُوقِي، میرے صندوق میں کیا ہے؟ ایک درہم ہے کس کے لیے؟ زید کے لیے۔ کہتے ہیں: أَمَانَةٌ۔ تو یہ سارے الفاظ کس پر محمول ہوں گے؟ امانت پر۔ یہ امانت کے الفاظ ہیں بھئی۔ امانت کے لیے یہ استعمال ہوتے ہیں۔ وَقَوْلُهُ لِمُدَّعِي الْأَلْفِ: "إِتَّزِنْهَا"، أَوْ "إِنْتَقِدْهَا"، أَوْ "أَجِّلْنِي بِهَا"، أَوْ "قَضَيْتُكَهَا"، أَوْ "أَبْرَأْتَنِي مِنْهَا"، أَوْ "تَصَدَّقْتَ بِهَا عَلَيَّ"، أَوْ "وَهَبْتَهَا لِي"، أَوْ "أَحَلْتُكَ بِهَا عَلَى زَيْدٍ" إِقْرَارٌ۔ بھئی! وَقَوْلُهُ، قَوْلُهُ سے لے کر آخر تک جہاں تک میں نے پڑھا... یہ آخر میں کیا آیا؟ إِقْرَارٌ۔ یہ إِقْرَارٌ خبر ہے، باقی سارا مبتدا ہے۔ باقی سارا کیا ہے؟ اچھا! مدعی سے یہ... مدعی... بھئی ایک آدمی نے میرے اوپر دعویٰ کیا... کہ آپ نے میرے ایک ہزار درہم دینے ہیں۔ میں نے کہا: إِتَّزِنْهَا۔ کیا کہا؟ میں نے کہا: ان کا وزن کر لو۔ ایک صورت یہ۔ إِتَّزِنْهَا، میں ضمیر کے ساتھ کہتا ہوں۔ اور ضمیر کس کو راجع؟ ان ہزار درہموں کو راجع کر رہا ہوں۔ تو میں نے کہا: ان درہموں کا وزن کر لو۔ سمجھ میں آیا؟ اور ایک ہے ہا ضمیر کے بغیر میں کہتا ہوں: إِتَّزِنْ، "وزن کر لے"۔ تو دونوں صورتوں میں الگ مسئلہ۔ اگر ضمیر ساتھ ذکر کی تو گویا میں نے اقرار کر لیا۔ اس نے کیا کہا تھا؟ آپ نے میرے کتنے دینے ہیں؟ ایک ہزار درہم۔ میں نے دس آدمیوں کے سامنے کہہ دیا: إِتَّزِنْهَا، "ان درہموں کا کیا کر لو؟" بس مولانا! میں نے إِتَّزِنْ کے ساتھ ہا ضمیر دی... ذکر کر دی، اور ہا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ انہی دراہم کو، تو میں نے اقرار کر لیا کہ واقعی میں نے کیا دینے ہیں تمہارے؟ ایک ہزار۔ اب مولانا یہ قاضی کے پاس جائے گا اور ان میں سے جن کے سامنے میں نے اقرار کیا تھا دو گواہوں کو لے جائے گا اور مجھ پر کیا ثابت ہو جائیں گے؟ ایک ہزار درہم۔ صورت سمجھ میں آئی؟ لیکن اگر میں نے ضمیر ذکر نہ کی، میں نے کہا: إِتَّزِنْ، "وزن کر لے"۔ اب یہ اقرار نہیں ہے مولانا۔ کیوں؟ کیونکہ اس کے اندر اور احتمال بھی آ گئے۔ إِتَّزِنْ، وزن کر لے، کس چیز کا وزن کر لے؟ إِتَّزِنْ، وزن... یعنی اپنی بات کا وزن کر لے، اپنی بات کو... اپنی بات کو تول لے بھئی! تو درست کلام نہیں کر رہا، پہلے تولو پھر بولو بھئی۔ تو تم اپنے کلام کو تول لو، تم درست کلام نہیں کر رہے، میرے اوپر تمہارے کوئی ہزار نہیں ہیں۔ تو دیکھو... سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اس صورت میں یہ اقرار نہیں بھئی۔ اب... جی! تو دیکھیے بھئی! وَقَوْلُهُ لِمُدَّعِي الْأَلْفِ، اور کسی شخص کا مدعیِ الف، ہزار کی دعویٰ کرنے والے شخص سے یہ کہنا: إِتَّزِنْهَا، "تو ان درہموں کا کیا کر لے؟ وزن کر لے"۔ تو یہ کیا ہے؟ آخر میں کیا آیا تھا؟ إِقْرَارٌ، یہ اقرار ہے۔ أَوْ إِنْتَقِدْهَا، یا یوں کہا: إِنْتَقِدْهَا... إِنْتَقِدْهَا۔ تو ان کو پرکھ لے، کیا کر لے؟ پرکھ لے۔ یہ بھی کیا ہے؟ اقرار، کیونکہ ضمیر لوٹائی بھئی کہ ان کو پرکھ لے ان درہموں کو۔ لیکن اگر صرف یہ کہا: إِنْتَقِدْ، "تو پرکھ لے"۔ ہاں مولانا! یہ اقرار نہیں، کیونکہ اس میں احتمال یہ ہے، گویا وہ یوں کہہ رہا ہے: بھئی تو صحیح کلام نہیں، تو کھوٹا کلام کر رہا ہے؛ إِنْتَقِدْ، اپنے کلام کو کیا کر؟ پرکھ لے۔ جی! تو لیکن اگر ہا ضمیر ساتھ لوٹائی تو پھر یہ إِقْرَارٌ، یہ اقرار ہے۔ وَأَجِّلْنِي بِهَا، "ان کی تو مجھے مہلت دے دے، ان دراہم کے ساتھ مجھے..." تو ہا ضمیر لوٹائی تو اس کا مطلب ہے اس نے اقرار کر لیا کہ دراہم ہیں، اب صرف کیا طلب کر رہا ہے؟ مہلت طلب کر رہا ہے۔ اگر ضمیر نہیں لوٹائی: أَجِّلْنِي، "تو مجھے کیا کر؟ مہلت دے"۔ تو یہ مولانا امکان ہے، وہ یہ کہنا چاہتا ہے: تو مجھے مہلت دے تاکہ میں تجھے جواب دے سکوں۔ أَوْ قَضَيْتُكَهَا، یا یوں کہا مولانا... اس نے ہزار کا دعویٰ کیا، اس نے کیا کہا؟ قَضَيْتُكَهَا، "وہ تو میں نے تجھے ادا کر دیے"۔ تو یہ اس نے اقرار کر لیا، معلوم ہوا اس نے اس کے ہزار درہم دینے ہیں۔ تو ہا ضمیر لوٹائی۔ اگر ہا ضمیر نہیں لوٹاتا، کیا کہتا ہے؟ قَضَيْتُكَ... تو کیا معنیٰ؟ قضا کا معنیٰ آتا ہے فیصلہ کرنا۔ میں نے تو تیرے بارے میں فیصلہ کر دیا کہ تو بڑا جھوٹا آدمی ہے۔ تو یہ معنیٰ ہوا۔ أَوْ أَبْرَأْتَنِي مِنْهَا، یا یوں کہا، اس نے کہا: تو نے میرا ہزار دینا ہے۔ اس نے کیا کہا؟ "تو نے تو مجھے اس سے بری کر دیا تھا، تو نے تو مجھے وہ درہم معاف کر دیے تھے"، تو یہ اقرار ہے۔ اگر ہا ضمیر نہیں لوٹائی بلکہ یوں کہا: أَبْرَأْتَنِي، "کہ تو نے مجھے..." معاف کیا تھا۔ تو معنیٰ یہ ہوگا: تو نے تو مجھے اس بات سے بری کیا تھا کہ تو مجھ پر کبھی کوئی دعویٰ کرے گا۔ تو پھر آج کیوں تو میرے اوپر دعویٰ کر رہا ہے؟ أَوْ تَصَدَّقْتَ بِهَا عَلَيَّ، یا یوں کہا: "تو نے تو وہ مجھ پر صدقہ کیے تھے"۔ ایک نے کہا: تو نے میرے ہزار درہم دینے ہیں۔ دوسرا کیا کہتا ہے: "تو نے تو وہ درہم مجھ پر صدقہ کیے تھے بھئی، صدقہ بھئی"۔ تو یہ بھی اقرار ہے کیونکہ ہا ضمیر لوٹا رہا ہے۔ اگر ہا ضمیر نہ لوٹائے، یوں کہا: تَصَدَّقْتَ عَلَيَّ، "تو نے تو..." تو معنیٰ یہ ہوگا کہ تو نے تو مجھ پر ہمیشہ صدقہ کیا ہے، مجھے ویسے مال دیتا رہا ہے، تو آج میرے اوپر یہ جھوٹا دعویٰ کیوں کر رہا ہے؟ أَوْ وَهَبْتَهَا لِي، یا "تو نے وہ مجھے درہم ہبہ کیے تھے"، تو یہ بھی اقرار ہے۔ لیکن اگر ہا ضمیر نہیں لوٹائی، یوں کہا: وَهَبْتَ... لِي، وَهَبْتَ... وَهَبْتَ یا وَهَبْتَنِي، تو معنیٰ یہ ہوگا کہ تو نے تو مجھے بہت مرتبہ مجھے ہبہ کیا ہے... بہت مرتبہ ہبہ کیا ہے، تو آج تو کیوں میرے اوپر جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے؟ أَوْ أَحَلْتُكَ بِهَا عَلَى زَيْدٍ، "یا میں نے تیرا ان درہموں پر حوالہ کروا دیا تھا کس پر؟ زید پر"۔ بھئی! حوالہ یاد ہے یا بھول گئے بھئی؟ میں نے آپ کا دین دینا تھا ایک ہزار۔ میں نے کیا کیا؟ زید بھی بیٹھا تھا، آپ بھی بیٹھے تھے۔ میں نے کہا بھئی: میری جگہ میرا دین کون ادا کرے گا؟ زید ادا کرے گا۔ زید نے کہا: مجھے قبول ہے۔ آپ نے بھی کیا کر لیا؟ قبول کر لیا مولانا، بس! دین میرے سے ختم، کس پہ چلا گیا؟ تو دیکھو، نقلِ دین ہوا ایک ذمہ سے دوسرے ذمہ کی طرف، یہ کیا کہلاتا ہے؟ حوالہ۔ تو یوں کہا... ایک نے کہا... اب یہ صورت جو متن میں آ رہی ہے: أَحَلْتُكَ بِهَا عَلَى زَيْدٍ۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا: تم نے میرے کتنے درہم دینے ہیں؟ ایک ہزار درہم دینے ہیں۔ دوسرا کیا کہتا ہے: "میں نے تو وہ حوالہ کروا دیا تھا تمہارے درہموں کا کس پر؟ زید پر"۔ تو کہتے ہیں: یہ بھی اقرار ہے، کیونکہ ہا ضمیر اس نے درہموں کو لوٹا دی۔ اگر ہا ضمیر نہ لوٹاتا، یوں کہتا: "میں نے تو تیرا زید پر کیا کیا تھا؟ حوالہ کروایا"۔ تو اب اس میں یہ اقرار نہیں، کیونکہ اس میں اور بھی احتمال آ گئے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے اس کلام کا یہ معنیٰ ہو کہ بھئی میں نے تو تمہارے... کیا کیا تھا؟ میں نے تو زید پر تمہارے لیے ایک مال کا حوالہ کروایا تھا، تو تو نے اس کا کیا کیا بھئی؟ تو نے اس کا کیا کیا؟ وہ وصول کیے یا وصول نہیں کیے بھئی؟ یہ اقرار نہیں کر رہا بھئی۔ تو یہ ساری چیزیں إِقْرَارٌ، اقرار ہیں؛ وَبِلَا ضَمِيرٍ لَا، اور بغیر ضمیر کے اقرار نہیں۔ دیکھیے اب یہی باتیں شرح میں ذکر کریں گے۔ لِأَنَّهُ إِنْ لَمْ يَذْكُرِ الضَّمِيرَ، اس لیے کہ جب اس نے ضمیر کو ذکر نہیں کیا؛ يَحْتَمِلُ، تو احتمال یہ ہے؛ أَنْ يُرَادَ، کہ مراد اس کی یہ ہو: "زِنْ كَلَامَكَ"۔ "إِتَّزِنْ" کا کیا معنیٰ تھا؟ "زِنْ كَلَامَكَ بِمِيزَانِ الْعَقْلِ"، تو اپنے کلام کو عقل کی ترازو سے پرکھ لے، یعنی اپنے کلام کو تول لے۔ اور "إِنْتَقِدْ" کا معنیٰ کیا تھا؟ "أَوْ إِنْتَقِدْ كَلَامَكَ"، تو اپنے کلام کو پرکھ لے؛ وَلَا تَقُلْ قَوْلًا زَيْفًا، اور کھوٹا کلام نہ کر بھئی۔ زیف کا معنیٰ کھوٹا، جھوٹا، جھوٹا کلام نہ کر۔ وَأَجِّلْنِي، اور "أَجِّلْنِي"؛ يُرَادُ بِهِ: "أَمْهِلْنِي"، کہ اس سے اس کے ذریعے ارادہ کیا گیا ہوگا کس کا؟ امکان جی! تو... کہ "أَمْهِلْنِي"، کہ تو مجھے مہلت دے دے جواب کے اندر۔ اور "قَضَيْتُكَ" کا کیا معنیٰ ہوگا؟ وَقَضَيْتُ يُرَادُ بِهِ: "حَكَمْتُ"، کہ "میں نے تیرے بارے میں فیصلہ کر دیا؛ بِأَنَّكَ كَاذِبٌ، کہ تو جھوٹا ہے"۔ وَأَبْرَأْتَنِي، اور "أَبْرَأْتَنِي" کا کیا معنیٰ تھا؟ بغیر ضمیر کے اس کا معنیٰ یہ ہے کہ "أَبْرَأْتَنِي مِنْ..."، "تو نے مجھے بری کر دیا تھا اس بات سے؛ أَنْ لَا تَدَّعِيَ عَلَيَّ، کہ تو مجھ پر کوئی دعویٰ نہیں کرے گا"۔ پھر آج کیوں جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے؟ اور "تَصَدَّقْتَ" کا معنیٰ؟ "وَتَصَدَّقْتَ عَلَيَّ كَثِيرًا"، "تو نے تو مجھ پر بہت بسا اوقات... بہت زیادہ صدقہ کیا ہے، اکثر اوقات مجھ پر صدقہ کرتا رہتا ہے۔ فَمَا بَالُكَ تَدَّعِي عَلَيَّ بِلَا حَقٍّ؟"، تو تجھے کیا ہوا کہ تو مجھ پر بغیر حق کے آج دعویٰ کر رہا ہے؟ اور وهب میں بھی اسی طرح ہے: "وَهَبْتَنِي كَثِيرًا"، اور "تو نے مجھے بہت زیادہ ہبہ کیا ہے"؛ كَمَا تَصَدَّقْتَ، جیسے کس کے اندر تھا؟ "تَصَدَّقْتَ" کے اندر تھا کہ "تو نے تو مجھے بہت زیادہ ہبہ کیا ہے، اب تو تجھے کیا ہوا کہ آج تو مجھ پر بغیر حق کے دعویٰ کر رہا ہے؟" "وَأَحَلْتُ لَكَ مَالًا عَلَى زَيْدٍ"، اور "أَحَلْتُكَ" کا کیا معنیٰ کہ یہ کریں گے کہ "میں نے تو تیرا حوالہ کروایا تھا مال پر عَلَى زَيْدٍ، کس پر؟ مال کا میں نے تیرے لیے حوالہ کروایا تھا زید پر؛ فَمَا صَنَعْتَ بِهِ؟"، تو نے اس کا کیا کیا؟ وہ مال وصول کیا یا وصول... تو یہ اقرار نہیں ہے، یہ ساری صورتیں۔ وَإِنْ أَقَرَّ بِدَيْنٍ مُؤَجَّلٍ صُدِّقَ الْمُقَرُّ لَهُ بھئی! وَإِنْ أَقَرَّ بِدَيْنٍ... صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: میں نے آپ کے لیے اقرار کیا کہ میں نے آپ کے ایک ہزار درہم دینے ہیں چھ مہینے کے بعد۔ تو دو چیزیں میں ذکر کر رہا ہوں بھئی، ہاں اقرار... دو چیزیں میں ذکر کر رہا ہوں اپنے کلام کے اندر۔ ایک کیا ذکر کیا؟ مال، اور دوسرا اپنے لیے کیا حق مانگا؟ کہ مہلت بھی ہے مجھے، کتنی مہلت ہے؟ چھ مہینے۔ تو مال کے اندر تو میری تصدیق کی جائے گی، لیکن اگر مقر لہ انکار کر دیتا ہے تو پھر مدت کے اندر میری تصدیق نہیں کی۔ میں نے تو کہا چھ مہینے بعد دینے ہیں، مقر لہ نے فوراً کہا: نہیں نہیں، چھ مہینے بعد نہیں دینے بلکہ ابھی دینے ہیں۔ تو اب مقر لہ کی کیا کی جائے گی؟ تصدیق کی جائے گی، اور مال مجھ پر کی ادائیگی فوری مجھ پر واجب ہو جائے گی۔ یہ معنیٰ ہے: وَإِنْ أَقَرَّ بِدَيْنٍ مُؤَجَّلٍ، اور اگر کیا کیا... اگر اقرار کیا ایسے دین کا مؤجل جو اجل والا ہے؛ صُدِّقَ الْمُقَرُّ لَهُ، تو تصدیق کی جائے گی مقر لہ کی۔ کب تصدیق کی جائے گی؟ إِنْ قَالَ: "هُوَ حَالٌ"، اگر اس نے کیا کہا کہ وہ مؤجل نہیں ہے دین بلکہ فی الحال ہے، فوری ہے۔ وَحُلِّفَ، اور کیا اس سے کیا لی جائے گی؟ قسم۔ क्योंकि میں دعویٰ کر رہا ہوں اجل کا اور وہ انکار کر رہا ہے، اور منکر پر کیا آتی ہے؟ قسم۔ وَحُلِّفَ، وَحُلِّفَ الْمُقَرُّ لَهُ، اور قسم لی جائے گی مقر لہ سے... جی! قسم دی جائے گی مقر لہ کو عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ مُؤَجَّلًا، اس پر کہ وہ دین مؤجل نہیں ہے؛ فَيَجِبُ لَهُ الدَّيْنُ حَالًا، پس جب وہ قسم کھا لے گا تو کون سا دین واجب ہو جائے گا؟ فوری ادائیگی، حالی دین۔ "وَمِائَةٌ وَدِرْهَمٌ" كُلُّهَا دَرَاهِمُ، وَفِي "مِائَةٌ وَثَوْبٌ" وَ"مِائَةٌ وَثَوْبَانِ" تُفَسَّرُ الْمِائَةُ، وَ"مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ" كُلُّهَا ثِيَابٌ۔ جی! اب یہ کچھ مسئلے ہیں مولانا بیانِ عطف کے ذکر کریں گے بھئی، بیانِ عطف بھئی۔ آپ پڑھ چکے ہیں اصول کی کتابوں کے اندر بیانِ عطف کے بارے میں۔ بیانِ عطف کس کو کہتے تھے کہ جس میں معطوف بیان کرتا تھا معطوف علیہ کا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں پر جب عدد کے ساتھ عطف کیا جائے، دو صورتیں بنتی ہیں مولانا۔ کہ معطوف میں بھی عدد بیان ہوگا یا معطوف میں عدد بیان نہیں ہوگا۔ دیکھو! میں کہتا ہوں: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ بھئی۔ مِائَةٌ کے بعد میں واؤ لایا، اور واؤ کے بعد پھر کوئی عدد ذکر کیا؟ عدد ذکر... تو دیکھو معطوف میں عدد ذکر نہیں۔ واؤ سے جو پہلے ہے وہ معطوف علیہ کہلاتا ہے، واؤ کے جو بعد ہے وہ معطوف۔ تو یہاں واؤ کے بعد یعنی معطوف کے اندر کوئی عدد ذکر... دوسری صورت یہ کہ کبھی معطوف کے اندر بھی عدد ذکر ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ۔ تو واؤ سے پہلے کیا عدد آیا؟ مِائَةٌ، اور معطوف یعنی واؤ کے بعد اس میں بھی کیا آیا عدد؟ ثَلَاثَةُ آیا، کیا آیا؟ ثَلَاثَةُ۔ تو یہ عدد کبھی معطوف میں... صرف معطوف علیہ میں ہوتا ہے، اور کبھی معطوف اور معطوف علیہ دونوں میں آتا ہے بھئی۔ تو یاد رکھو! اگر عدد دونوں جگہ ہو، معطوف میں بھی عدد ہے اور معطوف علیہ میں بھی عدد ہے بھئی... یا یوں کہو: اگر معطوف میں عدد آ جائے۔ معطوف علیہ میں تو ہے ہی عدد، کس میں عدد آ جائے؟ اگر معطوف میں عدد آ جائے اور پھر آگے کیا آیا کرتی ہے؟ تمیز آیا کرتی ہے۔ مثلاً میں نے کیا کہا: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ۔ تو مِائَةٌ کے... معطوف میں یہاں کیا آ رہا ہے؟ معطوف کون ہے؟ ثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ، تو معطوف میں کیا آ رہا ہے؟ عدد، اور عدد کے بعد آگے کیا آ رہی ہے؟ تمیز آ رہی ہے، کیا آ رہی ہے؟ تمیز آ رہی ہے۔ تو یاد رکھو! یہ جو تمیز ہوتی ہے... جب معطوف میں بھی عدد ہو، تو پھر یہ تمیز بیان بنتی ہے دونوں کے لیے۔ کس کے لیے؟ یعنی دونوں سے یہی چیز مراد ہوتی ہے۔ معلوم ہوا مِائَةٌ سے بھی یہی مراد ہے، یعنی أَثْوَابٌ، اور ثَلَاثَةٌ سے بھی کیا مراد ہیں؟ أَثْوَابٌ مراد ہیں۔ ضابطہ سمجھ میں آیا؟ کہ اگر معطوف کے اندر بھی عدد ذکر ہو تو آگے آنے والی تمیز دونوں کے لیے کیا بن جاتی ہے؟ بیان۔ معلوم ہوا مِائَةٌ سے بھی مراد أَثْوَابٌ ہیں، اور ثَلَاثَةٌ سے بھی کیا مراد ہیں؟ أَثْوَابٌ، تو کل اس شخص پر کتنے کپڑے واجب ہو جائیں گے اقرار کرنے والے پر؟ ایک سو تین کپڑے، مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ۔ یا یوں کہتا ہے مولانا: ایک شخص کہتا ہے: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ۔ تو دیکھو مولانا معطوف میں کیا ذکر ہو رہا ہے؟ عدد۔ تو اس صورت میں تمیز معطوف اور معطوف علیہ دونوں کے لیے کیا بنتی ہے؟ بیان۔ معلوم ہوا آگے تمیز دَرَاهِمَ جو آ رہی ہے وہ ثَلَاثَةٌ کے لیے بھی بیان ہے اور مِائَةٌ کے لیے بھی بیان ہے۔ معلوم ہوا مِائَةٌ سے بھی وہی مراد ہے، ثَلَاثَةٌ سے بھی... تو اس شخص پر کتنے دراہم واجب ہو جائیں گے؟ ایک سو تین۔ ایک سو تین واجب ہو جائیں گے بھئی۔ لیکن اگر معطوف میں عدد ذکر نہ ہو... لیکن اگر... معطوف میں عدد ذکر نہ ہو، مثلاً ایک شخص کہتا ہے: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَوْبٌ۔ کیا کہا: مِائَةٌ وَثَوْبٌ؟ تو مِائَةٌ معطوف علیہ ہے، مِائَةٌ، اور معطوف کیا ہے؟ ثَوْبٌ، اس کے ساتھ کوئی عدد آیا؟ کوئی عدد نہیں آیا، تو اس صورت میں مسئلہ مختلف ہے بھئی۔ اس صورت میں طرفین فرماتے ہیں بھئی... امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ بھئی، یہ فرماتے ہیں بھئی... کہ اگر... معطوف جو ہے مکیلات اور موزونات میں سے ہو... کس میں سے ہو؟ مکیلات اور موزونات میں سے ہو، تو یہ معطوف علیہ کا بیان بنے گا ورنہ بیان نہیں بنے گا۔ کیا ضابطہ ہوا؟ کہ اگر معطوف میں عدد ذکر نہ کیا جائے... تو اس صورت میں اگر معطوف مکیلات اور موزونات میں سے ہو، تو یہ اس ماقبل معطوف علیہ کا بیان بنے گا ورنہ اس کا بیان نہیں بنے گا۔ دیکھو! یہاں تین صورتیں بنتی ہیں۔ میں کہتا ہوں: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَوْبٌ۔ یہ ثَوْبٌ مکیلات میں سے ہے، موزونات میں سے ہے، یا غیرِ مکیلی غیرِ موزونی ہے؟ یہ موزونات میں سے بھی نہیں، وزن کر کے نہیں بیچا جاتا؛ مکیلات، ناپ کر کسی برتن میں بھی نہیں بیچا جاتا، تو یہ کپڑا ہے، یہ غیرِ مکیلی غیرِ موزونی چیز ہے۔ اور کبھی معطوف مکیل یا موزون ہوگا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ۔ معطوف علیہ تو ہے مِائَةٌ، لیکن معطوف کیا ہے؟ دِرْهَمٌ، اور دِرْهَمٌ کس میں سے ہے؟ موزون، وزن کی والی چیز میں... وزن والی میں سے چیزوں میں سے ہے۔ اور یا کبھی میں یوں کہتا ہوں: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَقَفِيزُ حِنْطَةٍ۔ تو معطوف کیا... معطوف علیہ کیا ہے یہاں پر بھئی؟ مِائَةٌ، اور معطوف کیا ہے؟ قَفِيزُ حِنْطَةٍ۔ تو اس صورت... یہ مکیلات میں سے ہے یا موزونات میں سے بھئی؟ یہ مکیلات میں سے بھئی۔ معطوف میں جب عدد ذکر نہ ہو... کس میں؟ معطوف میں جب عدد ذکر نہ ہو، پھر اس میں دیکھ لو کہ وہ معطوف مکیلات میں سے ہے، موزونات میں سے ہے، یا غیرِ مکیلی غیرِ موزونی۔ تو اگر وہ مکیلات یا موزونات میں سے ہو، تو یہ معطوف بیان بن جائے گا معطوف علیہ کا۔ کس میں سے ہو اگر؟ مکیلات یا موزونات میں سے ہو تو یہ بیان بن جائے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا۔ مثلاً میں نے کہا: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ“. درہم کس میں سے ہے؟ موزونات میں سے۔ اور جب یہ موزونات میں سے ہو یا مکیلات میں سے ہو معطوف، تو یہ بیان بن جاتا ہے کس کا؟ معطوف علیہ کا۔ اور معطوف علیہ کیا ہے؟ مائۃ، معلوم ہوا مائۃ سے بھی کیا مراد ہے؟ درہم ہی مراد ہیں۔ تو کتنے درہم ہو گئے اس پر؟ ایک سو ایک بھئی۔ یا یوں کہتا ہے: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَقَفِيزُ حِنْطَةٍ“ بھئی، تو معطوف علیہ کیا ہے؟ مائۃ، معطوف کیا ہے؟ قفیز حنطہ، اور قفیز حنطہ کس میں سے ہے؟ مکیلات میں سے ہے، موزونات میں سے ہے یا غیر مکیلی غیر موزونی ہے؟ مکیلات میں سے، اور جب معطوف مکیلات میں سے ہو تو یہ بیان بنتا ہے کس کا؟ معطوف علیہ کا، تو معلوم ہوا ما قبل میں مائۃ سے بھی کیا مراد ہے؟ قفیز حنطہ ہی مراد ہیں، تو کل کتنے قفیز اس پر واجب ہو گئے؟ ایک سو ایک۔ لیکن اگر معطوف غیر مکیلی غیر موزونی ہے، مثلاً کہتا ہے: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَوْبٌ“، تو اب معطوف بیان نہیں بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا۔ اب اس نے کہا جب ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَوْبٌ“، معلوم ہوا ایک کپڑا اس پر واجب ہے اور باقی مائۃ سے کیا مراد ہے؟ مائۃ سے کپڑا تو مراد ہو نہیں سکتا، کیوں؟ کیونکہ کپڑا مکیلات اور موزونات میں سے نہیں، پھر کیا مراد لیں؟ کہتے ہیں اسی آدمی کو پکڑا جائے گا، اسی سے پوچھا جائے گا بھئی یہ سو سے کیا مراد ہے؟ قاضی اس سے پوچھ لے گا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ قاضی اس سے پوچھے گا۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آیا؟ تو خلاصۂ بحث یہ ہوا بھئی کہ اگر معطوف اور معطوف علیہ دونوں جگہ عدد آ رہا ہے تو آگے آنے والی تمیز دونوں کے لیے کیا بن جائے گی؟ بیان بن جائے گی، چاہے وہ تمیز مکیلات میں سے ہو، موزونات میں سے ہو یا غیر مکیلی اور غیر موزونی ہو۔ لیکن اگر معطوف کے اندر عدد نہیں تو اس صورت میں پھر اگر معطوف مکیلات و موزونات میں سے ہے تو یہ معطوف علیہ کا بیان بنے گا، اور اگر یہ مکیلات و موزونات میں سے نہیں تو یہ معطوف علیہ کا بیان بھی نہیں بنے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکیلات یا موزونات جبکہ عدد دوبارہ ذکر نہ ہو، کیا ذکر... وہ فرماتے ہیں جب عدد معطوف کے اندر ذکر نہ ہو تو آگے آنے والی چیز چاہے مکیلات میں سے ہو، چاہے موزونات میں سے ہو، چاہے غیر مکیلی غیر موزونی ہو، کسی بھی صورت میں معطوف معطوف علیہ کے لیے بیان نہیں بنے گا۔ ایک آدمی نے کہا: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ“، تو یہ درہم تو ایک اس پہ واجب ہوا لیکن یہ درہم مائۃ کے لیے بیان نہیں بنے گا، اسی سے پوچھا جائے گا مائۃ سے کیا مراد ہے۔ اگر کسی نے کہا: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَقَفِيزُ حِنْطَةٍ“، وہ فرماتے ہیں ایک قفیز حنطہ تو واجب ہوا لیکن مائۃ کے لیے یہ بیان نہیں بنا، اسی سے پوچھا جائے گا کہ اس مائۃ سے کیا مراد ہے۔ یا کوئی کہتا ہے: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَوْبٌ“، تو اس صورت میں بھی وہ فرماتے ہیں مائۃ کی کیا کی جائے گی؟ اسی سے... ایک کپڑا تو اس پر واجب ہو گیا، باقی مائۃ کی تفسیر اسی سے پوچھی جائے گی بھئی۔ تو ان کے نزدیک معطوف معطوف علیہ کا بیان نہیں بنتا، چاہے مکیلات میں سے ہو، چاہے موزونات میں سے ہو یا غیر مکیلی غیر موزون... جبکہ ہمارے نزدیک مکیلات و موزونات میں سے ہو اگر معطوف تو وہ ما قبل کے لیے بیان بنتا ہے، ورنہ بیان نہیں بنتا۔ چنانچہ یہی مسئلہ ذکر فرما رہے ہیں، دیکھیے بھئی! ”وَمِائَةٌ وَدِرْهَمٌ“ بھئی، یہ کون سی صورت ہے؟ ”مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ“، معطوف میں عدد نہیں اور معطوف کس میں سے ہے؟ موزونات میں سے، تو یہ کیا بنے گا ما قبل کے لیے؟ معلوم ہوا مائۃ سے بھی کیا مراد ہیں؟ درہم ہی مراد، تو کل کتنے درہم ہو جائیں گے؟ ایک سو ایک۔ یہی بات بتلا رہے ہیں: ”مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ كُلُّهَا دَرَاهِمُ“، یہ سارے کے سارے کیا ہیں؟ دراہم ہیں۔ ”وَفِي مِائَةٌ وَثَوْبٌ“، یہ کون سی صورت ہے بھئی؟ کہ معطوف میں عدد ذکر نہیں، اور جب عدد ذکر نہ ہو تو معطوف کبھی بیان بنتا ہے اور کبھی بیان... کب بیان بنتا ہے؟ مکیلات یا موزونات میں سے ہو، اور یہ ثوب مکیلات یا موزونات میں سے ہے؟ نہیں، تو اس صورت میں معلوم ہوا یہ ثوب مائۃ کے لیے بیان... تو اب کیا صورت مسئلے کی ہو گی؟ اس پر کیا کیا ہو گا؟ ایک کپڑا تو واجب ہو گیا لیکن مائۃ کی کیا کی جائے گی؟ تفسیر کی جائے گی، اس سے لی جائے گی۔ یا کہتے ہیں: ”مِائَةٌ وَثَوْبَانِ“ بھئی، ایک آدمی کہتا ہے: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَوْبَانِ“، اب آپ بتلائیے بھئی، کیا مسئلہ ہو گا؟ دو تو کپڑے واجب ہو گئے اور باقی مائۃ کی اس سے تفسیر، کیونکہ معطوف میں عدد ذکر... اور معطوف میں عدد ذکر نہ ہو تو پھر وہ بیان صرف اسی صورت میں بنتا ہے جب وہ مکیلات یا... اور یہ مکیلات و موزونات میں سے نہیں بھئی، تو اب اس سے تفسیر لی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي مِائَةٌ وَثَوْبٌ“ اور ”مِائَةٌ وَثَوْبٌ“ کے اندر ”وَمِائَةٌ وَثَوْبَانِ“ اور ”مِائَةٌ وَثَوْبَانِ“ کے اندر ”تُفَسَّرُ الْمِائَةُ“، مائۃ کی کیا کی جائے گی؟ تفسیر کی جائے گی۔ آگے دیکھیے: ”وَمِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ“، یہ کون سی صورت ہے؟ جس میں معطوف کے اندر بھی کیا ذکر ہے؟ عدد، اور جب معطوف میں عدد ذکر ہو تو آگے آنے والی تمیز دونوں عددوں کے لیے، یعنی معطوف کے لیے بھی اور معطوف علیہ... دونوں کے لیے بیان بن جاتا ہے، چاہے وہ مکیلات و موزونات میں سے ہو یا نہ ہو، تو آگے اثواب آیا، یہ مکیلات اور موزونات میں سے نہیں، لیکن معطوف کے اندر بھی ثلاثہ کا عدد ذکر ہے، تو یہ اثواب تفسیر بنے گی کس کے لیے؟ مائۃ کے لیے بھی اور ثلاثہ کے لیے بھی، معلوم ہوا مائۃ سے بھی کیا مراد؟ کپڑے، ثلاثہ سے بھی کیا مراد؟ کپڑے، تو کل کتنے کپڑے ہوئے؟ ایک سو تین۔ یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَمِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ كُلُّهَا ثِيَابٌ“، یہ سارے کے سارے کیا ہیں؟ کپڑے ہیں۔ ”اعْلَمْ أَنَّ فِي قَوْلِهِ“، جان لے تو کہ اس قول کے اندر کسی کے: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ“، کہ فلاں کے مجھ پر ایک سو اور درہم ہیں، ”عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو کبھی بھی معطوف معطوف علیہ کا بیان نہیں بنتا، تو وہ فرماتے ہیں: ”تُفَسَّرُ الْمِائَةُ“، اس صورت میں بھی مائۃ کی تفسیر کی جائے گی، ”كَمَا فِي عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَوْبٌ“، جیسے کہ ”عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَوْبٌ“ کے اندر تفسیر کی جاتی تھی، ”وَهُوَ الْقِيَاسُ“، اور یہی کیا ہے؟ قیاس بھی یہی، قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ ”وَعِنْدَنَا“، اور ہمارے نزدیک، ”إِذَا ذُكِرَ بَعْدَ لَفْظِ الْعَدَدِ“، کہ جب ذکر کیا جائے عدد کے لفظ کے بعد، ”مَا هُوَ مِنَ الْمُقَدَّرَاتِ“، وہ چیز جو کس میں سے ہو؟ مقدرات، مقدار والی ہو، یعنی مکیلات اور موزونات میں سے ہو، ”كَمَا إِذَا قَالَ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ“، جیسے وہ کہتا ہے ”مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ“، تو یہ موزون ہے، ”وَمِائَةٌ وَقَفِيزُ حِنْطَةٍ“، اور یہ کیا ہے؟ مکیلی چیز ہے اور مکیلات میں سے ہے، ”يَكُونُ الْمِائَةُ مِنْ جِنْسِ ذَلِكَ الْمُقَدَّرِ“، تو مائۃ بھی کیا ہو گا؟ اسی مقدر کی جنس میں سے ہو گا، ”قِيَاسًا عَلَى مَا إِذَا ذُكِرَ بَعْدَ لَفْظِ الْعَدَدِ عَدَدًا آخَرَ“، قیاس کرتے ہوئے اس صورت پر کہ جب اقرار کرنے والا ذکر کرتا ہے عدد کے لفظ کے بعد ایک اور عدد کو، یعنی معطوف میں بھی کیا ذکر کرتا ہے؟ ایک اور عدد کو، تو پھر اس صورت میں وہ سب کی کیا بن جاتی تھی؟ تفسیر بن جاتی تھی، کیا بن جاتی تھی؟ تفسیر۔ ”نَحْوُ مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ“، تو دیکھو ایک عدد ہے مائۃ اور اس کے بعد اس نے ایک اور عدد ثلاثہ ذکر کیا، یعنی معطوف علیہ میں بھی عدد ہے اور معطوف میں بھی، اور آگے ایک ہی تمیز آ رہی ہے تو یہ دونوں کے لیے کیا بن جاتی ہے؟ تمیز، تو اسی طرح ہے مکیلات اور موزونات میں بھی ایک ہی تمیز، ایک ہی تفسیر دونوں کے لیے ہو جائے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْمُقَدَّرَاتِ“، اور اگر مقدرات میں سے وہ نہ ہو بھئی، یعنی وہ جب دوبارہ عدد ذکر نہیں، صرف ایک جگہ کیا ہے؟ ”مِائَةٌ وَثَوْبٌ“، ”مِائَةٌ وَثَوْبٌ“، تو دیکھو دوبارہ عدد ذکر ہے؟ نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْمُقَدَّرَاتِ“، اور اگر وہ مقدرات میں سے نہ ہو، ”كَالثَّوْبِ“، مثلاً جیسے کہ ثوب کہا مثال کے طور پر، ”فَحِينَئِذٍ تُفَسَّرُ الْمِائَةُ“، تو اس صورت میں کیا کی جائے گی؟ مائۃ کی تفسیر کی جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا؟ ”مِائَةٌ وَثَوْبٌ“ کہتا ہے، ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَثَوْبٌ“، تو ثوب مقدرات میں سے ہے؟ قدر والی چیز ہے؟ تو اس صورت میں یہ ثوب مائۃ کا بیان نہیں بنے گا، تو مائۃ کی اس سے کیا کی جائے گی؟ تفسیر لی جائے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ ”وَالْإِقْرَارُ بِدَابَّةٍ فِي اِصْطَبْلٍ يُلْزِمُهَا فَقَطْ“ بھئی، ایک آدمی نے اقرار کیا مولانا، ایک آدمی اقرار کرتا ہے اور اقرار میں لفظِ فی ذکر کرتا ہے، کیا ذکر کرتا ہے؟ اور کس لیے آتا ہے؟ ظرفیت کے لیے، بتلاتا ہے کہ ما بعد ما قبل کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے، تو یاد رکھو اس صورت میں ظرف اور مظروف دونوں لازم ہو جائیں گے اقرار کرنے والے پر، کیا ہو جائیں گے؟ ظرف اور مظروف دونوں اقرار کرنے والے پر لازم ہو جائیں گے، لیکن ایک شرط ہے کہ ظرف جو ہے وہ منقولات میں سے ہو، غیر منقولات میں سے نہ ہو، یعنی گھر، جائیداد وغیرہ جو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل نہیں ہو سکتی وہ نہ ہو بھئی۔ تو ضابطہ کیا ہوا؟ کہ جب اقرار میں کیا لفظ ذکر کرتا ہے؟ فی، تو فی آتا ہے ظرفیت کے لیے، تو اس صورت میں ظرف کے ساتھ ساتھ کیا لازم ہو جائے گا؟ تو معلوم ہوا ظرف کا بھی اقرار ہے اور مظروف کا بھی... لیکن شرط کیا ہے کہ مظروف کس میں سے نہیں ہونا... اور ظرف کس میں سے نہیں ہونا چاہیے؟ غیر منقولات میں سے نہیں ہونا چاہیے ورنہ غیر منقول کے اندر تو غصب جاری نہیں ہو... کوئی سمجھ میں آیا بھئی؟ گھر غصب نہیں کر سکتا بھئی کوئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس میں غصب جاری نہیں ہوتا شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک بھئی۔ لیکن اگر ما فی لفظ استعمال کرتا ہے اور دوسرا ظرف بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، پہلی صورت تو تھی کہ ثانی ظرف بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر ثانی ظرف بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا تو پھر صرف پہلی چیز واجب ہو گی، دوسری چیز واجب... مثلاً ایک آدمی کہتا ہے: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ فِي دِرْهَمٍ“، ایک درہم میں ایک درہم اس کا مجھ پر واجب ہے، تو یہاں فی کے بعد کیا آیا؟ درہم، اور درہم کیا ظرف بن سکتا ہے؟ درہم کے اندر درہم ہم رکھ سکتے ہیں؟ نہیں بھئی، جب وہ ظرف نہیں بن سکتا تو صرف پہلی چیز ہو گی بھئی، اور فی سے پہلے کیا ہے؟ درہم، تو درہم ایک اس پر واجب ہو گا، دوسرا درہم واجب نہیں ہو گا۔ اب ایک آدمی نے اقرار کیا دوسرے کے لیے، دیکھو بھئی! کہتے ہیں میں نے غصبتُ... میں نے فلاں کا دابہ غصب کیا اصطبل، کس کے اندر؟ اصطبل کے اندر، اصطبل بھئی جہاں پر گھوڑے وغیرہ باندھے جاتے ہیں جانور بھئی۔ اب فی لے کر آیا اور فی کے بعد کیا آیا؟ اصطبل کا لفظ آیا اور وہ منقولات میں سے ہے یا غیر منقولات میں سے؟ غیر منقولات میں سے، لہٰذا وہ لازم نہیں ہو گا کیونکہ غیر منقولات میں شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک غصب جاری... تو اس میں غصب نہیں ہے، غصب صرف معلوم ہوا کس کے اندر ہے؟ دابہ کے اندر ہے، تو صرف وہ دابہ اس پر لازم ہو جائے گا گھوڑا وغیرہ، اور وہ اصطبل لازم نہیں... یہ معنی ہے۔ ”وَالْإِقْرَارُ بِدَابَّةٍ فِي اِصْطَبْلٍ“، اور اقرار کرنا دابہ کا اصطبل میں، ”يُلْزِمُهَا“، ”أَيْ يُلْزِمُ دَابَّةً فَقَطْ“ بھئی، ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ تو یہ اقرار لازم کرے گا، ”يُلْزِمُ“ فاعل کی ضمیر اقرار کو راجع ہے، یہ اقرار لازم کرے گا دابہ کو فقط بھئی۔ اچھا! آگے آیا خاتم، اس کا عطف ماقبل میں دابہ پر ہے: ”وَالْإِقْرَارُ بِخَاتَمٍ“، اور اقرار کرنا کس چیز کا؟ انگوٹھی کا، اور آگے آ رہا ہے: ”حَلْقَتَهُ وَفَصَّهُ“، حلقہ کا عطف ہو رہا ہے ”يُلْزِمُهَا“ کی ہا ضمیر پر بھئی، اور اقرار بالخاتم یہ لازم کرتا ہے حلقے کو بھی اور نگینے کو بھی بھئی۔ ایک آدمی نے اقرار کیا: میں نے فلاں کی انگوٹھی غصب کی ہے، کیا کی ہے؟ انگوٹھی غصب کی ہے، تو کیا صرف اس پہ نگینہ لازم ہو گا یا صرف وہ چھلا اس پر لازم ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں، چھلا بھی لازم ہو گا اور نگینہ... کیونکہ انگوٹھی ان دونوں کے مجموعے کا نام ہے، اس میں چھلا بھی ہوتا ہے اور اس پر نگینہ بھی۔ یہ معنی ہے: ”وَخَاتَمٍ حَلْقَتَهُ وَفَصَّهُ“، خاتم کا عطف کس پر کیا میں نے؟ جی؟ دابہ پر، ”وَالْإِقْرَارُ بِدَابَّةٍ وَالْإِقْرَارُ بِخَاتَمٍ“، اور خاتم کا اقرار کرنا یہ لازم کرتا ہے ”يُلْزِمُهَا“، ”وَيُلْزِمُ“ ہا ضمیر کو ہٹائیں اس کی جگہ حلقہ رکھیں: ”يُلْزِمُ حَلْقَتَهُ وَفَصَّهُ“، یہ لازم کرتا ہے اس کے چھلے کو بھی ”وَفَصَّهُ“ اور اس کے نگینے کو بھی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ فص کا لفظ مثلث الفاء ہے۔ فص نگینے کو کہتے ہیں مولانا، یہ مثلث الفاء ہے، کیا معنی مثلث الفاء ہے؟ اس فاء پر تینوں حرکات جائز ہیں بھئی، فَصُّهُ، فِصُّهُ، فُصُّهُ، سمجھ میں آیا بھئی؟ فَصٌّ، فِصٌّ، فُصٌّ، البتہ فتحہ پڑھنا اس میں اعلیٰ ہے بھئی، تو فَص پڑھنا اعلیٰ ہے۔ ”أَيْ“ دیکھو وہی عبارت جو میں نے ذکر کی تھی وہی علامہ صدر الشریعہ بتلا رہے ہیں: ”أَيِ الْإِقْرَارُ بِخَاتَمٍ يُلْزِمُ حَلْقَتَهُ وَفَصَّهُ“، اقرار کرنا انگوٹھی کا یہ لازم کر دیتا ہے اس کے حلقے کو بھی اور اس کے نگینے کو بھی، کہتے ہیں: ”هَذَا مِنْ بَابِ الْعَطْفِ عَلَى مَعْمُولَيْ عَامِلَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ“، یہ کس باب سے ہے؟ عطف علی معمولَی عاملین مختلفین کے قبیل سے ہے، جانتے ہیں یا نہیں جانتے؟ میں نے بتلایا تھا۔ کہ ایک ہی حرفِ عطف کے ذریعے دو معمولوں کا عطف کرنا دو ایسے معمولوں پر جن کے عامل کیا ہوں؟ مختلف ہوں، تو یہ جائز ہے اس صورت میں کہ جبکہ مجرور کیا ہو؟ مقدم، دیکھو بھئی! بھئی خاتم کا عطف کس پر کیا تھا؟ دابہ پر، تو دابہ ہوا معمول، تو خاتم بھی کیا ہوا؟ معمول، تو ایک معمول کا عطف ایک معمول پر ہوا، اور حلقۃ کا عطف کس پر ہوا؟ ”يُلْزِمُهَا“ کی ہا ضمیر، اور ہا ضمیر مفعول تھی، معمول تھی، تو حلقہ بھی کیا ہوا؟ معمول، تو ایک حرفِ عطف ہے واؤ، ”وَخَاتَمٍ“، خاتم سے پہلے جو واؤ آیا، ایک حرفِ عطف کے ذریعے دو معمولوں کا عطف ہم کس پر کر رہے ہیں؟ دو معمولوں پر کر رہے ہیں۔ اچھا! اور نیز بھئی عامل ان دونوں کے الگ الگ ہیں، خاتم کا عطف کس پر کیا؟ دابہ، اور دابہ میں عامل کون؟ با، جار کون دے رہا ہے؟ با، اور حلقہ کا عطف کس پر کیا؟ ”يُلْزِمُهَا“ کی ہا ضمیر پر، اور اس میں عامل کون؟ اس میں ”يُلْزِمُ“ عامل ہے، تو دو ایسے معمولوں کا عطف دو ایسے معمولوں پر کیا جن کے عامل کیا ہیں؟ مختلف ہیں، اور یہ صرف اس صورت میں جائز ہے جمہور کے نزدیک جبکہ مجرور کیا ہو؟ مقدم ہو، اور یہاں پر بھی آپ دیکھ لیجیے بھئی! ”خَاتَمٍ“ مجرور کیا ہے؟ مقدم ہے، ”خَاتَمٍ“ مجرور ہے اور ”حَلْقَتَهُ“ یہ کیا ہے؟ منصوب، دونوں معمولوں میں سے مجرور کیا ہے؟ مقدم ہے تو یہ جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”هَذَا مِنْ بَابِ الْعَطْفِ عَلَى مَعْمُولَيْ عَامِلَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ“، یہ کس باب سے ہے؟ عطف علی معمولَی... معمولین تھا، نون اضافت سے گر گیا، دو مختلف عاملوں کے معمولوں پر عطف کے قبیل سے ہے، ”وَالْمَجْرُورُ مُقَدَّمٌ“، اور حال کیا ہے؟ مجرور مقدم ہے، ”كَمَا فِي الدَّارِ زَيْدٌ وَالْحُجْرَةِ عَمْرٌو“، ”فِي الدَّارِ زَيْدٌ وَالْحُجْرَةِ عَمْرٌو“ پہ غور کرو بھئی! حجرہ کا عطف کس پر ہے؟ دار پر، اور عمرو کا عطف کس پر ہے؟ زید پر۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ حجرہ کا عطف کس پر ہے؟ عبارت یوں ہوئی: ”فِي الدَّارِ زَيْدٌ وَفِي الْحُجْرَةِ عَمْرٌو“، تو حجرہ کا عطف ہوا دار پر اور عمرو کا عطف ہوا زید پر، اور مجرور کیا ہے؟ مقدم ہے، اور دونوں میں عامل بھی الگ الگ، دار کے اندر عامل کون تھا؟ فی، اور زید کے اندر عامل کون ہے؟ ابتداء، وہ مبتدا ہے نا تو اس میں ابتداء عامل ہے۔ تو یہ جائز ہے جب مجرور مقدم ہو، یہاں پر بھی ”وَبِالْحُجْرَةِ“ مجرور مقدم ہے تو جائز ہے ورنہ جائز نہیں... جی۔ وکذا، یہ واؤ اور ہونا چاہیے مولانا یہاں پر: ”وَكَذَا فِي قَوْلِهِ“، اسی طرح ماتن کے اس قول کے اندر بھی ہے، یعنی کیا ہے؟ دو معمولوں کا... تُو ایسے معمولوں پر عطف ہو رہا ہے جِن کے عَامِل کیا ہیں مختلف ہیں اور مَجْرُور کیا ہے مُقْسَمٌ بِه، اس میں یہاں ایک اور وَاو ہونا چاہیے، پَہلا وَاو تو عَمرُو کا ہے بھئی۔ اَچّھا بھئی! اب آگے عبارت کس طرح پڑھیں گے بھئی؟ آپ کو پَتہ تو لگ گیا بھئی! کیسے پڑھیں گے؟ وَالسَّيْفَ جَفْنَهُ وَحَمَائِلَهُ وَنَسْلَهُ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک آَدمی نے دُوسرے کے لیے تلوار کا اقرار کِیا، مَینے زَید کی تلوار غَصَب کی ہے، اب اس پر کیا کیا چیز لازِم ہوگی؟ کَہتے ہیں جَفْنَهُ، یہ اقرار کیا لازم کر دیتا ہے اس پر؟ جَفْنے کو بھی لازِم کر دے گا، حَمَائِل کو بھی لازِم کر دے گا، اور نَسْل کو بھی لازِم کر دے گا۔ جَفْنہ کسے کہتے ہیں؟ جَفْن نیام کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ بھئی! جانتے ہیں آپ، تلوار لوہے کی ایک زَرْف میں ہوتی ہے بھئی، تاکہ لگ نہ جائے بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نِيام کہتے ہیں۔ اَچّھا بھئی! جَفْن کہتے ہیں، حَمَائِل بھئی! حَمَائِل کہتے ہیں بھئی وہ تلوار کو لٹکانے والا جو چَمڑا ہوتا ہے۔ تلوار کیسے رکھی جاتی ہے؟ ہاتھ میں اٹھا کر چلے گا آَدمی ہر وقت؟ نہیں بھئی، کَندھے پر ایک چَمڑا ڈلا ہوتا ہے، جیسے آپ بَنود وغیرہ میں بھی دیکھتے ہیں بھئی، اس کا ایک چَمڑا ہوتا ہے جو کِس پر ڈالا جاتا ہے؟ کَندھے پر۔ تلوار میں بھی اسی طرح چَمڑا ہوتا تھا جو کَندھے پر ڈالا جاتا تھا اور اس سے تلوار کو لٹکایا جاتا تھا، اسے کیا کہتے تھے؟ حَمَائِل؛ تو حَمَائِل بھی لازم ہو جائے گی، وَنَسْلَهُ، نَسْل کہتے ہیں وہ تلوار کا پھَل جو ہے، تلوار کا پھَل وہ جو کاٹنے والا حصہ، اس کا تیز دھار حصّہ بھئی، تیز دھار حصّہ بھئی۔ تو یہ تینوں چیزیں بھئی، تلوار کا ان تینوں کو شامل ہوتا ہے بھئی، یہ ساری اَکٹھی ہوتی ہیں بھئی۔ تلوار جب بھی ہوگی، ہمیشہ کس میں ہوگی؟ نِيام میں ہوگی اور ساتھ اس کے کیا ہوتا ہے؟ ویسے تلوار نہیں رکھی جاتی بھئی، تو یہ جب اس نے تلوار کا اقرار کِیا، تو یہ تینوں چیزیں بھی اس پر لازم ہو جائیں گی۔ وَبِالْحَجَلَةِ، یہ بھی اسی طرح عبارت ہے، وَالْحَجَلَةِ الْعِيدَانِ وَالْكِسْوَةِ. حَجَلَة کہتے ہیں مُسَحْری کو۔ ایک آَدمی نے اقرار کیا، مَینے فُلاں کی مُسَحْری غَصَب کی ہے، اب اس پر کیا کیا لازم ہوگا؟ کَہتے ہیں عِيدَان، عِيدَان والا نا، یہ تَثْنِیَہ نہ سمجھنا، یہ جَمع ہے، عُود کی جَمع ہے۔ عُود کی جَمع ہے۔ اَچّھا! اور كِسْوَة، كِسْوَة کپڑے بھئی، یعنی مُراد پردے ہیں۔ مُسَحْری جانتے ہو بھئی؟ اس میں کیا ہوتے ہیں بھئی؟ لکڑیاں بھی ہوتی ہیں اطراف میں اور اوپر کیا لٹکے ہوتے ہیں؟ پَرْدے لٹکے ہوتے ہیں؛ تو جب مُسَحْری غَصَب کی، تو لازمی بات ہے مُسَحْری کس چیز کا نام ہے؟ لکڑی اور پردوں کا نام، تو لکڑیاں بھی اس پر لازم ہو جائیں گی اور پردے بھی۔ یہ معنی ہے: وَبِالْحَجَلَةِ الْعِيدَانِ وَالْكِسْوَةِ. اَلْحَجَلَةُ الْبَيْتُ الْمُزَيَّنُ بِالثِّيَابِ وَالسُّرُورِ؛ حَجَلَة اس گھر کا نام ہے، جِس کو مُزَيَّن کِیا گیا ہو کپڑوں یعنی پردوں کے ساتھ وَالسُّرُورِ اور تَختوں کے ساتھ بھئی۔ وَثَمَرٍ فِي قَوْسَرَةٍ، اور اگر کسی نے اقرار کِیا پھَل کے غَصَب کرنے کا فِي قَوْسَرَةٍ کس کے اندر؟ ٹوکری میں۔ ایک آَدمی نے کہا مَینے زَید کا پھَل ٹوکری میں غَصَب کیا ہے، بھئی کیا لفظ لے کر آیا؟ ثَمَرٌ فِي قَوْسَرَةٍ، فی کا لفظ لے کر آیا، قَوْسَرَة اور یہ ٹوکری کو کہتے ہیں بھئی، پھلوں کی ٹوکری۔ اَچّھا! پھَل کو غَصَب کیا قَوْسَرَة کس کے اندر بھئی؟ ٹوکری کے اندر، ٹوکری کے اندر۔ اَچّھا! یہ عام ٹوکری نہیں مولانا، کھجور کی جو ٹوکری ہوتی ہے، اس کو کہتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ ثَمَر کا لفظ ہے یا تَمَر ہے بھئی؟ ثَمَر ہوگا بھئی، کیا ہوگا؟ قَوْسَرَة ثَمَر کے لیے ہوتا ہے، ہر ٹوکری کو قَوْسَرَة نہیں کہتے، وہ ٹوکری جو کھجور کے لیے ہوتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قَوْسَرَة کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ ثَمَر لفظ ہوگا، اگر کسی نے کیا کہا؟ مَینے ثَمَر غَصَب کی ہے زَید کی کس کے اندر؟ ٹوکری میں، تو اس پر ثَمَر بھی لازم ہوں گے اور ٹوکری بھی، کیوں؟ کیونکہ اس نے لفظ فِی ذِکر کِیا، اور فِی کس سے آیا کرتا ہے؟ ظَرْفِیَّت کے لیے، اور تو اس صورت میں ظَرْف بھی آتا ہے اور مَزْرُوف بھی، کیونکہ اس نے کیا کہا ہے؟ مَینے کھجور غَصَب کی کس کے اندر؟ ٹوکری میں، معلوم ہوا جب غَصَب کی تو اس وقت ٹوکری کیا تھی؟ ظَرْف تھی، اور ظَرْف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ کھجور اس کے اندر ہو، اگر اس سے کھجور نکل آئی، تو اب ٹوکری اس کے لیے ظَرْف رہی، ظَرْف نہ رہی، لیکن وہ تو کیا کہہ رہا ہے؟ ٹوکری کیا تھی؟ ظَرْف تھی، تو ظَرْف تھی، معلوم ہوا کہ اس کے سَمیت ہی غَصَب کیا، تو یہ معنی ہے: وَثَمَرٍ فِي قَوْسَرَةٍ إِيَّاهُمَا، اور اگر اقرار کیا ثَمَر کا قَوْسَرَة کے اندر، تو یہ لازم کر دے گا إِيَّاهُمَا ان دونوں کو بھئی، كَثَوْبٍ فِي مِنْدِيلٍ أَوْ ثَوْبٍ، جیسے کسی نے اقرار کیا کپڑے کا فِي مِنْدِيلٍ کس کے اندر؟ رُومَال میں، أَوْ ثَوْبٍ یا کپڑے کا کس کے اندر؟ کپڑے میں۔ ایک آَدمی نے کہا غَصَبْتُ ثَوْبًا فِي ثَوْبٍ، یا غَصَبْتُ ثَوْبًا فِي مِنْدِيلٍ، تو فِی کا لفظ استعمال کِیا، اور فِی کس کے لیے آتا ہے؟ ظَرْفِیَّت کے لیے، تو اس پر ظَرْف بھی آئے گا اور مَزْرُوف، کپڑا بھی اور رُومَال بھی، یا ثَوْبٌ فِي ثَوْبٍ کہا تو دو کپڑے آ جائیں گے۔ وَثَوْبٍ فِي عَشْرَةِ أَثْوَابٍ وَاحِدٍ، اور ایک کپڑا دس کپڑوں میں، کہا، تو وَاحِدٌ یہ کیا ہے؟ ایک ہی ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ ایک آَدمی نے کہا غَصَبْتُ ثَوْبًا فِي عَشْرَةِ أَثْوَابٍ، مَینے ایک کپڑا دس کپڑوں میں غَصَب کیا، تو کیا آئے گا؟ ایک کپڑا۔ کیا آئے گا؟ کیوں؟ کیونکہ امام ابُویُوسف رَحْمَةُ اللَّهِ، وہ فرماتے ہیں بھئی، ایک کپڑے کے لیے دس کپڑے ظَرْف نہیں ہو سکتے، ایک کپڑے کے لیے تو کتنا ظَرْف ہوگا؟ ایک ہی کپڑے کو ایک میں ہی لپیٹا جائے گا، ایک کپڑے کو دَس میں نہیں لپیٹا جائے گا، لیکن امام مُحَمَّد رَحْمَةُ اللَّهِ فرماتے ہیں نہیں، اب گیارہ کپڑے آ جائیں گے، بعض اوقات بڑا نَفِیس اور قیمتی کپڑا ہوتا ہے، تو اس کو دَس دَس کپڑوں میں بھی لپیٹا جاتا ہے۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَأَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، یہ شیخین رَحْمَةُ اللَّهِ کے نزدیک ہے بھئی، دیکھا حاشیے میں لکھا ہوا ہے بھئی۔ فَإِنَّ عَشْرَةَ الْأَسْوَابِ لَا تَكُونُ تَابِعَةً لِصَوْبٍ وَاحِدٍ، اس لیے کہ دَس کپڑے وہ ایک کپڑے کے تابعه نہیں ہو سکتے کہ ایک کپڑے کو لپیٹا جائے دَس میں، وَإِنَّمَا مُحَمَّدُ رَحْمَةُ اللَّهِ، جبکہ امام مُحَمَّد رَحْمَةُ اللَّهِ فرماتے ہیں: يَلْزَمُهُ أَحَدَ عَشَرَ ثَوْبًا، اس پر لازِم ہو جائیں گے کتنے بھئی؟ گیارہ کپڑے، لِأَنَّ ثَوْبًا نَفِیسًا، اس لیے کہ نَفِیس کپڑا جو ہے، يُلَفُّ فِي الثِّيَابِ كَثِيرَةٍ، اس کو لپیٹا جاتا ہے بہت سے کپڑوں میں بھئی، بہت سے کپڑوں میں۔ وَخَمْسَةٌ فِي خَمْسَةٍ بِنِيَّةِ الضَّرْبِ خَمْسَةٌ وَبِنِيَّةِ مَعَ عَشَرَةٌ، ایک آَدمی نے کہا دوسرے کے لیے بھئی، مَینے فُلاں کے کپڑے غَصَب کیے ہیں یا فُلاں سے مجھ پر کتنے کپڑے ہیں؟ خَمْسَةٌ فِي خَمْسَةٍ، کہا مولانا، اب کہتے ہیں: اس فِی کے ذریعے، یا تو فِی کا مابعد ظَرْف بننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ درہم مثلاً، کیا کہتا ہے؟ مَینے اس کے غَصَب کیے ہیں دِرْهَم، کتنے دِرْهَم بھئی؟ خَمْسَةٌ فِی، تو مابعد ظَرْف بننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ صلاحیت نہیں رکھتا، تو معلوم ہوا یہاں وہ فِی ظَرْف کے لیے لایا ہے، کس کے لیے؟ ظَرْف کے لیے، معلوم ہوا پانچ ضرب پانچ وہ کہنا چاہتا ہے، پانچ ضرب پانچ۔ تو اس صورت میں کتنے دِرْهَم واجب ہوں گے؟ کہتے ہیں بھئی، اگر اس نے ظَرْف کا ارادہ کیا ہے، تو پانچ ہی دِرْهَم آئیں گے، اس لیے کہ ظَرْف دینے سے چیز نہیں بڑھتی، ظَرْف دینے سے صرف اس کے اجزاء بڑھتے ہیں، کیا بڑھتے ہیں؟ اجزاء بڑھتے ہیں۔ لیکن اگر اس نے فِی کے ذریعے مَعَ کا ارادہ کیا، خَمْسَةٌ فِي خَمْسَةٍ کا کیا معنی ارادہ کیا اس نے؟ خَمْسَةٌ مَعَ خَمْسَةٍ، پانچ کے ساتھ پانچ، تو اب کتنے ہو جائیں گے؟ دَس بھئی، یہ معنی ہے۔ وَخَمْسَةٌ فِي خَمْسَةٍ اور پانچ کے اندر پانچ بھئی، بِنِيَّةِ الضَّرْبِ ضرب کی نیت کے ساتھ ہو، تو خَمْسَةٌ یہ کتنے ہیں؟ پانچ، وَبِنِيَّةِ مَعَ، اور کس کی نیت کے ساتھ ہوں؟ مَعَ کی نیت کے ساتھ ہوں، تو عَشَرَةٌ یہ دَس ہیں، وَعِنْدَ حَسَنِ بْنِ زِيَادٍ، اور حسن بن زیاد کے نزدیک، يَلْزَمُهُ، يَلْزَمُهُ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ، اس پر کتنے لازِم ہو جائیں گے ظَرْف کی نیت سے؟ پَچیس لازِم ہو جائیں گے، وَقَدْ ذُكِرَ ذُكِرَ فِي كِتَابِ الطَّلَاقِ، تحقیق ذکر کیا گیا ہے کس کے اندر؟ کتاب الطلاق کے اندر یہ بات ذکر کی گئی ہے۔ وَفِي مِنْ دِرْهَمٍ إِلَى عَشَرَةٍ، بھئی ایک آَدمی نے دوسرے کے لیے دراہم کا اقرار کیا لیکن یوں کہتا ہے: فُلاں کے مجھ پر دِرْهَم ہیں دَس سے لے کر ایک سے لے کر دَس تک بھئی، مِنْ دِرْ ایک دِرْہم سے لے کر دَس تک بھئی، یا یوں کہا: مَا بَيْنَ دِرْهَمٍ إِلَى عَشَرَةٍ، ایک دِرْہم سے لے کر دَس تک کے بیچ میں جو ہے، تو کہتے ہیں عَلَيْهِ تِسْعَةٌ بھئی، تو امام صاحب کے نزدیک اس پر کتنے آ جائیں گے؟ اس نے کیا کہا تھا؟ ایک سے لے کر دَس تک بھئی، یا کیا کہا؟ ایک سے لے کر دَس تک کے جو درمیان ہیں، دونوں صورتوں میں اس پر کتنے آئیں گے؟ نَو، کیونکہ امام صاحب فرماتے ہیں بھئی، جو آخر والا ہے، غَايَة، وہ تو مُغَيَّر کے اندر داخل نہیں، ہاں جو ابتدا والا ہے، وہ داخل ہو جائے گا، کیوں داخل ہوگا؟ اس لیے کہ ایک سے اوپر کیا ہے؟ دو، دو ہو نہیں سکتا جب تک اس کے ساتھ ایک کو نہ ملایا جائے پچھلے کو، پھر دو سے اوپر کیا ہے؟ تین، تین ہو نہیں سکتا جب تک اس کے ساتھ پچھلے دو کو نہ مِلایا جائے، تو پچھلے دو کے ایک کے ساتھ ایک ملا وہ دو ہوا، اس دو کے ساتھ ایک ملا تو تین ہوا، تو ما قبل والا نہیں، تو ما بعد والا بھی نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ایک کے ساتھ ایک ملا تو کتنا ہوا؟ دو۔ اگر ویسے ہی ایک ملاتے، تو پھر دو ہو سکتا تھا، تو ایک کے ساتھ ایک ملے گا تو دو ہوگا، اگر وہ ایک نہیں تو اگلا دو بھی، تو وہ کہتے ہیں جو ابتدا ہے وہ داخل ہے، کیونکہ اس کے بغیر گزارا نہیں، اس کے بغیر اگلا عدد حاصل ہی نہیں ہو سکتا، لیکن انتہا کو داخل کرنے کی ضرورت نہیں، تو ایک سے لے کر نو، تو نو آ گئے بھئی۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، یہ امام اعظم ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہے بھئی، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ بھئی، یہ شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک ہے بھئی، دیکھا حاشیے میں لکھا ہوا ہے بھئی۔ فَإِنَّ عَشْرَةَ الْأَسْوَابِ لَا تَكُونُ تَابِعَةً لِصَوْبٍ وَاحِدٍ، اس لیے کہ دَس کپڑے وہ ایک کپڑے کے تابعه نہیں ہو سکتے کہ ایک کپڑے کو لپیٹا جائے دَس میں، وَإِنَّمَا مُحَمَّدُ رَحْمَةُ اللَّهِ، جبکہ امام مُحَمَّد رَحْمَةُ اللَّهِ فرماتے ہیں: يَلْزَمُهُ أَحَدَ عَشَرَ ثَوْبًا، اس پر لازِم ہو جائیں گے کتنے بھئی؟ گیارہ کپڑے، لِأَنَّ ثَوْبًا نَفِیسًا، اس لیے کہ نَفِیس کپڑا جو ہے، يُلَفُّ فِي الثِّيَابِ كَثِيرَةٍ، اس کو لپیٹا جاتا ہے بہت سے کپڑوں میں بھئی، بہت سے کپڑوں میں۔ وَمِنْ دَارِ مَا بَيْنَ هَذَا الْحَائِطِ إِلَى هَذَا الْحَائِطِ، بھئی ایک آَدمی دوسرے کے لیے اقرار کرتا ہے زمین کا اقرار کرتا ہے، کہ فُلاں کے لیے میرے گھر میرے اس گھر کے اندر ہے بھئی، یہ گھر ہے بھئی، فُلاں کے لیے میرے اس گھر کے اندر ہے، کدھر تک بھئی؟ کہتا ہے اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک بھئی، اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک، تو اب اس پر کتنا آئے گا؟ کیا یہ دیواریں بھی اقرار میں داخل ہوئی ہیں یا یہ خارج ہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، دیواریں کیا ہیں؟ اقرار سے خارج، کیوں؟ کیونکہ وہاں پر عدد کی بات تھی، اور وہاں پر عدد کے اندر اوپر والا عدد حاصل نہیں ہوتا جب تک نیچے والے عدد کو ساتھ نہ ملاؤ، اور یہاں پر زمین کی بات ہو رہی ہے، اس زمین کے ساتھ یہ دو دیواریں نہ ملاؤ، پھر بھی اس کا وجود ہے یا وجود نہیں؟ پھر بھی اس کا وجود ہے بھئی۔ تُو لہٰذا دیواروں کو یہاں شامل کرنے کی ضرورت نہیں، وَفِی، اور اس قول کے اندر کہ لَهُ مِنْ دَارِ فُلاں کے لیے ہے میرے گھر میں سے مَا بَيْنَ هَذَا الْحَائِطِ إِلَى هَذَا الْحَائِطِ بھئی، اس دیوار سے لے کر اس دیوار کے بیچ جو ہے، وہ حصّہ ہے فُلاں کے لیے، تو لَهُ مَا بَيْنَهُمَا، تو اس مُقَرَّ لَهُ کے لیے کیا ہوگا؟ جو ان دیواروں کے درمیان ہے، یعنی دیواریں نہیں ہوں گی، وَالْفَرْقُ لِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور فرق امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ہے، أَنَّ فِي قَوْلِهِ مَا بَيْنَ الْوَاحِدِ إِلَى الْعَشْرَةِ، کہ وہ جو اس نے مَا بَيْنَ الْوَاحِدِ إِلَى الْعَشْرَةِ کہا تھا، اُس قول کے اندر لَا وُجُودَ لِمَا بَيْنَهُمَا، ان دونوں کے بیچ جو ہے واحد سے لے کر جو عَشَرَة تک ہے ان کے بیچ کیا، جو عدد ہیں ان کا کوئی وجود نہیں ہے، إِلَّا بِانْدِمَامِ الْأَوَّلِ، کہ مگر یہ کہ ان کے ساتھ ان سے پہلے والے کو کیا کیا جائے؟ ملایا جائے، كَمَا يُقَالُ جیسے کہا جاتا ہے، سِنِّي میری عمر جو ہے، مَا بَيْنَ خَمْسِينَ إِلَى سِتِّينَا، پچاس سے لے کر ساٹھ کے بیچ ہے۔ میری عمر کتنی ہے؟ پچاس سے لے کر ساٹھ کے بیچ ہے، بھئی پچاس اور ساٹھ کے درمیان تو دَس عدد ہیں، تو کتنے عدد ہیں؟ نو عدد ہیں، کتنے عدد ہیں؟ نو عدد ہیں یعنی پچاس اور ساٹھ کے درمیان، لیکن یہاں پر جو عمر بتلا رہا ہے، صرف وہ نو عدد بتلانا چاہتا ہے یا نو میں سے پچاس کو بھی ساتھ ملانا پڑے گا؟ وہ بتلانا چاہتا ہے میری عمر اکاون سال ہے یا باون ہے یا ترپن ہے، ان میں سے کوئی ایک عمر ہے، اور پچاس کو ملائے بغیر یہ ہو سکتی ہے اکاون باون؟ نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس نے جب کہا سِنِّي مَا بَيْنَ خَمْسِينَ إِلَى سِتِّينَا میری عمر پچاس ساٹھ کے درمیان ہے، أَيْ مَعَ انْدِمَامِ الْآحَادِ الَّتِي دُونَ الْخَمْسِينَ، یعنی ساتھ ان آحاد کے ملانے کے جو پچاس سے کم ہیں۔ بِخِلَافِ مَا بَيْنَ الْحَائِطَيْنِ، بخلاف اس کے کہ جو دو دیواروں کے بیچ ہے، تو عدد کے اندر مابمیان والوں کا کوئی وجود نہیں، جب تک اول کو ساتھ نہ ملائیں، لیکن دیواروں کے اندر اول کو ساتھ نہ ملائیں، پھر بھی درمیان والی زمین کا وجود ہے، تو لہٰذا یہاں اب غایتین کو ملانے کی ضرورت نہیں، جبکہ وہاں پر غایت اولی کو ملانا پڑے گا۔ وَلَا آخَرَ بِالْحَمْلِ صَحَّةٌ، وَحُمِلَ عَلَى الْوَصِيَّةِ مِنْ غَيْرِهِ، ایک آَدمی نے اقرار کیا دوسرے کے لیے حَمْل کا۔ ایک آَدمی کہتا ہے بھئی، میری یہ جو گائے ہے، اس کا حَمْل زید کا ہے۔ ایک آَدمی نے کیا اقرار کیا؟ میری یہ جو گائے ہے اس کے پیٹ میں حَمْل ہے، وہ حمل کس کا ہے؟ زید۔ تو کیا یہ اقرار صحیح ہے یا اقرار صحیح نہیں؟ کہتے ہیں اقرار صحیح ہے۔ حمل کا اقرار کرنا صحیح، بھئی کیسے صحیح ہو سکتا ہے حمل کا اقرار بھئی؟ کہتے ہیں بھئی اس میں ایک ہی صورت ہے، اور اسی پر ہم محمول کر لیتے ہیں بھئی، وہ کہا کہ کوشش ہوتی ہے بھئی کہ کلام کو کیا کیا جائے؟ لغو ہونے سے بچایا جائے، تو یہاں ایک ہی صورت ہے اور اسی پر ہم محمول کر لیتے ہیں، ہم یوں سمجھیں گے کہ یہ گائے اس مُقِر کو کسی اور نے مثلاً دی تھی، کہ یہ گائے بھئی تمہاری ہو گئی، لیکن گائے تمہاری ہے صرف، اس کے اندر جو حمل ہے وہ تمہارا نہیں، وہ کس کا ہے؟ زید کا، تو اس کو ہم وصیت پر محمول کرتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ وصیت پر، تو اب بات درست ہو گئی یا نہیں ہو گئی بھئی؟ زید کے مُقِر کے لیے اس نے کس کی وصیت کی ہے؟ گائے کی، اور حمل کی وصیت کس کے لیے کر دی؟ زید کے لیے بھئی۔ تُو سمجھ میں آیا؟ بیع و شراہ تو نہیں ہو سکتی یہاں پر نا، کیونکہ حمل کی بیع و شراہ صحیح، تو صرف وصیت پر محمول کرتے ہیں، یہ معنی ہے: وَلَوْ أَقَرَّ بِالْحَمْلِ صَحَّةً، اگر اقرار کیا حمل کا کسی کے لیے صَحَّ، یہ صحیح ہے، وَحُمِلَ عَلَى الْوَصِيَّةِ مِنْ غَيْرِهِ، اور اس کو محمول کیا جائے گا وصیت پر مِنْ غَيْرِهِ اس کے علاوہ سے، یعنی کسی اور نے وصیت کی ہے، أَيْ يُحْمَلُ هَذَا الْإِقْرَارُ، محمول کیا جائے گا اس اقرار کو اِس بات پر کہ نَرَجُلًا أَوْصَى، کہ ایک شخص نے وصیت کی ہے بِالْحَمْلِ لِرَجُلٍ، اس حمل کی کسی دوسرے آدمی کے لیے، وَمَاتَ الْمُوصِي، اور پھر وصیت کرنے والا مر گیا، فَالْآنَ، پس اب جو ہے، يُقِرُّ وَارِثُهُ، اس کا وارث کیا کر رہا ہے؟ یہاں مولانا، مُوْصِی نے وارث کو وصیت کی، بتلایا بھئی کہ بھئی دیکھو، اس گائے کا جو حَمْل ہے وہ کس کو دے دینا؟ زید کو دے دینا، تو اپنے ہی وارث کو اس نے کہا تھا۔ تُو تو فَالْآنَ يُقِرُّ وَارِثُهُ، تو اب اس کا وارث اقرار کرتا ہے بِأَنَّهُ لِلْمُوصَى لَهُ، کہ یہ حمل کس کا ہے؟ مُوصَى لَهُ کا ہے، یعنی جس کے لیے وصیت کی گئی تھی، وَكَذَا لَهُ، لَهُ ضَمِير بھی حمل کو راجع ہے، حمل کے لیے بھی اقرار صحیح ہے، پہلے تو کیا تھا؟ حمل کا اقرار کیا کہ یہ حمل کس کا ہے؟ فُلاں کا ہے، اب ہے حمل کے لیے اقرار کیا، مثلاً کہتا ہے میرے یہ جو فُلانی عورت ہے اس کے پیٹ میں بچہ ہے، اس بچے کا میرے اوپر ایک ہزار ہے، تو اب وصیت کس کے لیے، اب اقرار کس کے لیے کر رہا ہے؟ حمل کے لیے کر رہا ہے، اور پہلے کس کا اقرار تھا؟ حمل کا اقرار تھا بھئی، بھئی یہ کیسے بھئی؟ حمل کے لیے اقرار کیسے ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی یہاں تو دو صورتیں بن جاتی ہیں، پہلی میں تو کتنی صورت تھی؟ ایک، یہاں دو صورتیں ہیں بھئی۔ یہاں بھی یا تو وصیت ہے یا وراثت ہے، کیا ہے؟ اچھا، بھئی! مثلاً میں نے کیا کہا؟ فلانی عورت کے پیٹ میں جو بچہ ہے، جو حمل ہے، اس کے لیے میرے اوپر کتنا واجب ہے؟ ایک ہزار دِرْهَم واجب ہیں، اب مجھ سے وجہ پوچھی جائے گی، اگر میں نے کوئی صحیح وجہ بیان کر دی تو اقرار صحیح، اگر میں نے صحیح وجہ بیان نہ کی تو اقرار بھی صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ صحیح وجہ میں بیان کرتا ہوں، مثلاً کیسے؟ کہ بھئی میرے اوپر جو تھا، یہ دراصل اس کے بَتورو اس کے والد کے میں نے کتنے دینے تھے؟ ایک ہزار، اور والد کا ہو گیا انتقال، تو اب یہ ہزار کس کے ملیں گے، کس کو ملیں گے؟ وارث کو، اور وارث کون ہے اس کا؟ وہ حمل ہے جو جس کو ابھی عورت نے جنم نہیں دیا۔ وراثت پر بھی محمول کر دیا، تو وراثت میں نے سبب ذکر کیا تو یہ صحیح ہے۔ یا میں نے وصیت پر محمول کیا بھئی، کس پر محمول کیا؟ کہ کوئی شخص جو ہے کسی شخص کیا کیا بھئی اس نے؟ جی، وراثت پر محمول، وراثت پر محمول کیا کہ میرا جو مورث تھا اس نے کیا کی تھی؟ وصیت کی تھی کہ ایک ہزار کس کو دے دینا؟ اس عورت کے پیٹ میں جو حمل ہے اور اس وارث کا انتقال ہوا تو اب یہ میرے ذمے بطور، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وصیت بیان کی تو بھی صحیح، وراثت بیان کی تو بھی، لیکن اگر اس کے بجائے کوئی اور سبب بیان کرتا ہے اقرار کرنے والا، یعنی اقرار کرنے والا کیا کہتا ہے؟ بھئی، میں نے اس حمل سے گاڑی خریدی تھی، اس گاڑی کے ابھی میں نے کتنے پیسے باقی دینے ہیں؟ ایک ہزار۔ بھئی، اس بیچارے کا ابھی وجود دنیا میں ہی نہیں آیا تو تم نے گاڑی کہاں سے خرید لی؟ یا میں نے اس سے بطور قرض کے بھئی ایک جگہ میں گیا تھا کاروبار کے سلسلے میں، پیسے کی ضرورت پڑ گئی، میں نے اس سے قرض لے لیا۔ بھئی، ابھی وہ دنیا میں ہی نہیں آیا تو تم نے قرض کہاں سے؟ تو اگر ایسا سبب ذکر کرتا ہے جو درست ہے تو یہ اقرار بھی حمل کے لیے صحیح، اور اگر ایسا سبب ذکر کرتا ہے جو درست نہیں ہے تو پھر یہ اقرار بھی صحیح نہیں، یہی بات کر رہے ہیں، دیکھیے بھئی۔ وَكَذَا لَهُ اور اسی طرح ہے إِقْرَارٌ لَهُ أَي لِلْحَمْلِ حمل کے لیے، یعنی صحیح ہے كَأَنْ بَيَّنَ الْمُقِرُّ سَبَبًا صَالِحًا اگر مقر بیان کرتا ہے ایسا سبب جو درست ٹھیک ہے بھئی كَالْإِرْثِ وَالْوَصِيَّةِ جیسے کہ وراثت ہے یا وصیت ہے أَيْ يَصِحُّ الْإِقْرَارُ لِلْحَمْلِ صحیح ہے اقرار حمل کے لیے إِنْ بَيَّنَ الْمُقِرُّ سَبَبًا صَالِحًا اگر مقر نے کوئی ٹھیک سبب بیان کیا كَالْإِرْثِ وَالْوَصِيَّةِ جیسے کہ ارث وراثت ہے یا وصیت ہے فَإِنَّ الْوَصِيَّةَ لِلْحَمْلِ تَصِحُّ اس لیے کہ وصیت حمل کے لیے کرنا صحیح ہے وَالْحَمْلُ يَرِثُ اور اسی طرح حمل وارث بھی بنتا ہے، تو دونوں صورتیں صحیح۔ وَإِنْ لَمْ يُبَيِّنْ سَبَبًا صَالِحًا اور اگر کوئی ٹھیک سبب بیان نہ کیا، کوئی اچھا سبب بیان نہ کیا كَمَا لَوْ بَيَّنَ الْهِبَةَ جیسے کہ کیا بیان کیا؟ ہبہ، کہ یہ میرے اوپر جو مال ہے وہ دراصل میں نے اس کو ہبہ کیا ہے أَوْ قَالَ یا یوں کہتا ہے اشْتَرَيْتُ لَهُ میں نے اس کے لیے خریدا ہے لَا يَصِحُّ یہ صحیح نہیں۔ وَإِنَّمَا لَا يَحْتَاجُ إِلَى ذِكْرِ السَّبَبِ الصَّالِحِ فِي الْإِقْرَارِ بِالْحَمْلِ بھئی، کیا بات ہے؟ بھئی، جب حمل کا اقرار کیا تھا، اس وقت سبب بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ اور اب حمل کے لیے، پہلے کیا صورت تھی؟ حمل کا اقرار کیا، حمل کس کا ہے؟ زید کا ہے، وہ اس صورت میں سبب پوچھنے کی ضرورت پیش آئی؟ نہیں، وہاں سبب پوچھنے کی ضرورت نہیں اور یہاں پر کیا کرتے ہیں؟ سبب پوچھتے ہیں بھئی، تو وہاں سبب بیان کرنے کی ضرورت نہیں، یہاں سبب بیان کرنے کی ضرورت ہے، یہ فرق کیوں ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ وہاں پر سبب ایک ہی ممکن ہے، اور سبب ممکن ہی نہیں، تو لہذا وہاں خود بخود وہ متعین ہو جائے گا اور یہاں دو سببوں کا امکان ہے، وراثت کا بھی اور وصیت کا بھی، تو دونوں ایک دوسرے کے متعارض ہیں، تو لہذا اب تعین کرنا ضرور۔ بلکہ ایسے اسباب کا بھی امکان ہے جو درست ہی نہیں بنتے بھئی، اچھا۔ وَإِنَّمَا لَا يَحْتَاجُ إِلَى ذِكْرِ السَّبَبِ الصَّالِحِ اور کوئی اچھا سبب ذکر کرنے کی احتیاج نہیں ہوتی فِي الْإِقْرَارِ بِالْحَمْلِ جبکہ حمل کا اقرار کیا جائے لِأَنَّ الْوَصِيَّةَ مُتَعَيِّنَةٌ هُنَاكَ اس لیے کہ وہاں پر وصیت متعین ہوتی ہے بِخِلَافِ الْإِقْرَارِ لِلْحَمْلِ برخلاف کس کے ہے؟ جب اقرار کس کے لیے کیا جائے؟ حمل، فَإِنَّ الْأَسْبَابَ مُتَعَارِضَةٌ اس لیے کہ یہاں پر اسباب باہم کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے متعارض ہیں كَالْإِرْثِ وَالْوَصِيَّةِ جیسے وراثت ہے اور وصیت ہے۔ فَإِنْ وَلَدَتْ حَيًّا اب دیکھو بھئی، میں نے کیا کیا تھا؟ ایک حمل کے لیے وصیت کی تھی، اب فَإِنْ وَلَدَتْ حَيًّا اب اس عورت نے اگر ایک زندہ بچے کو جنم دے دیا لِأَقَلَّ مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ نصف سال سے کم مدت کے اندر أَيْ مِنْ وَقْتِ الْإِقْرَارِ یعنی وقتِ اقرار سے لے کر چھ ماہ نہیں گزرے تھے کہ اس نے بچے کو جنم دے دیا فَلَهُ مَا أَقَرَّ تو اس کے لیے وہ چیز ہو گی جو جس کا اس مقر نے اقرار کیا ہے۔ وَإِنْ وَلَدَتْ حَيَّيْنِ اور اگر اس عورت نے دو بچوں کو جنم دیا فَلَهُمَا تو یہ اقرار کیا ہو گا؟ ان دونوں کے لیے ہو گا، دونوں میں تقسیم ہو گی یہ چیز۔ وَإِنْ وَلَدَتْ مَيِّتًا اور اگر اس نے مردہ بچے کو جنم دیا فَلِلْمُوصِي وَالْمُوَرِّثِ تو یہ مال کس کا شمار ہو گا؟ موصی جس نے وصیت کی تھی جو مر چکا ہے، وَالْمُوَرِّثِ اور جس نے ورا، جس نے جس کی وراثت آئی تھی جو مر چکا ہے، تو موصی اور مورث مر چکے ہیں تو اب یہ انہی کا مال ہے تو کن کو دیا جائے گا؟ ان کے وارثوں کو دے دیا جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو فَلِلْمُوصِي وَالْمُوَرِّثِ کا کیا معنی؟ موصی اور مورث تو دونوں مر چکے، لیکن مال ان کا ہے تو کس کو دے دیا جائے گا؟ ان کے وارثوں کو۔ لِأَنَّهُ إِذَا بَيَّنَ السَّبَبَ اس لیے کہ جب اس نے سبب بیان کر دیا وَقَالَ اور یہ کہا إِنَّ فُلَانًا أَوْصَى بِهَذَا الْحَمْلِ کہ فلاں نے وصیت کی تھی اس حمل کی أَوْصَى لِهَذَا الْحَمْلِ، بِہٰذا نہیں بنتا یہاں بھئی، یہ تو غلط ہے۔ اگر یہ کہا کہ فلاں نے وصیت کی تھی اس حمل کے لیے أَوْ أَنَّ فُلَانًا مَاتَ وَتَرَكَهُمْ إِرْثًا لَهُ یا یہ سبب بیان کیا کہ فلاں مر گیا تھا، یعنی اس کا باپ جو مر گیا تھا، اور اس نے اس کے لیے وہ جو ہزار درہم ہیں بطور میراث کے چھوڑے ہیں فَيَكُونُ هَذَا إِقْرَارًا بِمِلْكِ الْمُوصِي أَوْ الْمُوَرِّثِ تو یہ اقرار ہے کس چیز کا؟ بھئی، جب یہ کہا نہ فلاں نے اس کے لیے وصیت کی ہے یا فلاں نے اس کے لیے یہ مال بطور وراثت کے چھوڑا ہے، معلوم ہوا یہ کس کا مال تھا؟ اصل میں اس وصیت کرنے والے کا یا اس مورث کا، اور یہ دونوں تو اب مر چکے ہیں، تو معلوم ہوا یہ اقرار کیا بِمِلْكِ الْمُوصِي أَوْ الْمُوَرِّثِ موصی یا مورث کی ملکیت کا فَيَنْقَسِمُ بَيْنَ وَرَثَتِهِمَا تو یہ تقسیم ہو جائے گا مال بھئی، کس کے درمیان؟ اس کے ان دونوں کے وارثوں کے درمیان۔ وَإِنْ فَسَّرَ بِبَيْعٍ أَوْ إِقْرَاضٍ اور اگر تفسیر بیان کی، سبب پوچھا گیا، اس نے کہا بھئی، اس حمل کے میرے اوپر ایک ہزار درہم ہیں، بھئی، تمہارے پر ایک ہزار درہم اس حمل کے کیسے آ گئے؟ کہتے ہیں اس نے تفسیر بیان کی بِبَيْعٍ کس کے ساتھ؟ بیع، کہ میری اس کے ساتھ بیع و شراء ہوئی تھی أَوْ إِقْرَاضٍ یا کیا سبب بیان کیا؟ قرض، کہ اس نے مجھے قرض دیا تھا أَوْ أَبْهَمَ الْإِقْرَارَ یا اقرار کو کیا کیا؟ مبہم رکھا، لَغَا تو تینوں صورتوں میں وہ اقرار کیا ہو جائے گا؟ لغو ہو جائے گا۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں يَصِحُّ الْإِقْرَارُ اقرار کیا ہو گا؟ صحیح ہو گا وَيُحْمَلُ عَلَى السَّبَبِ الصَّالِحِ اور اس صورت میں بھی اقرار کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ ایسے سبب پر جو صحیح ہے، یعنی وراثت پر یا وصیت پر ہی محمول کیا جائے گا۔ وَإِنْ أَقَرَّ بِشَرْطِ الْخِيَارِ بھئی، دوسری صورت ہے بھئی، خیارِ شرط کے ساتھ کوئی اقرار کرتا ہے، میں نے کہا بھئی، میں نے زید کے ایک ہزار درہم دینے ہیں، میں اقرار کرتا ہوں لیکن مجھے اپنے اقرار میں تین دن کا خیار ہے۔ مجھے اپنے اقرار میں تین دن میں، میں چاہوں تو اپنے اس اقرار سے رجوع کر سکتا ہوں بھئی، سمجھ میں آیا؟ کہتے ہیں بھئی، اقرار صحیح اور خیارِ شرط باطل، سمجھ میں آیا؟ خیارِ شرط اقرار میں نہیں ہوتا بھئی، کہ مجھے اختیار ہے میں اقرار کو سے رجوع کر لوں، جب ایک دفعہ اقرار کر لیا تو اقرار سے رجوع نہیں، یاد رکھو اقرار سے رجوع نہیں ہو سکتا، ہاں حد کے اندر رجوع ہو سکتا ہے، کیا ہو سکتا ہے؟ ایک آدمی نے پہلے اقرار کیا جس سے اس پر حد لازم آئی پھر اس نے بعد میں اس کا کیا کر دیا؟ انکار کر دیا، تو یہاں رجوع صحیح ہے لیکن مال کے اندر اقرار سے رجوع نہیں، اسی طرح یاد رکھو ایک شخص جو ہے وہ اقرار زبان سے کر سکتا ہے، لیکن صرف سر سے اقرار کرتا ہے، یہ اقرار بھی صحیح نہیں۔ ایک آدمی نے مجھے کہا بھئی، آپ نے میرے ایک ہزار درہم دینے ہیں، میں نے سر ہلایا، جی ہاں، جی ہاں کے اندر کیا کیا؟ نہیں بھئی، صرف سر ہلانا، جب میں زبان سے بول سکتا ہوں تو صرف سر ہلانے سے اقرار معتبر نہیں۔ وَإِنْ أَقَرَّ بِشَرْطِ الْخِيَارِ اگر کسی نے اقرار کیا کس کے ساتھ؟ خیارِ شرط کے ساتھ بِأَنْ قَالَ بعینہٖ طور یوں کہا لِفُلَانٍ عَلَيَّ أَلْفُ دِرْهَمٍ کہ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں عَلَى أَنِّي بِالْخِيَارِ فِيهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ اس شرط پر کہ مجھے خیار ہے ان درہموں کے اندر تین دن تک بھئی، اس اقرار میں مجھے خیار ہے تین دن تک صَحَّ تو اقرار صحیح ہے وَبَطَلَ شَرْطُهُ اور خیارِ شرط کیا ہے؟ تو اس کی شرط باطل ہو گئی، لغو ہوا۔ لِأَنَّ الْخِيَارَ لِلْفَسْخِ اس لیے کہ خیار کس لیے آتا ہے؟ فسخ کے لیے آتا ہے وَالْإِقْرَارُ لَا يَحْتَمِلُهُ اور اقرار تو فسخ کا احتمال نہیں رکھتا، چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔