وَضَمِنَ بِكَسْرِ مِعْزَفٍ وَإِرَاقَةِ سَكَرٍ وَمُنَصَّفٍ وَصَحَّ بَيْعُهَا. کہتے ہیں وَضَمِنَ اور ضامن ہوگا بِكَسْرِ مِعْزَفٍ بھئی، معزف کے توڑنے سے بھئی۔ معزف بھئی، اسی طرح وَإِرَاقَةِ سَكَرٍ وَمُنَصَّفٍ بھئی۔ معزف یہ آلہ ہے مولانا کوئی گانے بجانے کا آلہ بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسے معزف کہتے ہیں۔ تو اس کے توڑنے پر ضمان آئے گا بھئی۔ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں ضمان نہیں آئے گا بھئی، کیونکہ یہ گانے بجانے کا آلہ ہے۔ اچھا بھئی، جبکہ امام صاحب اس میں وہ جس چیز سے بنا ہوا ہے لکڑی وغیرہ اس کا ضمان فرماتے ہیں کہ اس اعتبار سے ضمان آئے گا کہ اس میں لکڑی وغیرہ چیزیں کام لگی ہوئی ہیں بھئی۔ اچھا، اسی طرح وَضَمِنَ بِكَسْرِ مِعْزَفٍ وَإِرَاقَةِ سَكَرٍ وَمُنَصَّفٍ۔ اَراقَ يُرِيْقُ کا معنی بہا دینا۔ کسی نے کسی کی سکر بہا دی، سکر یہ نَقِيْعُ التَّمْرِ بھی اس کو کہتے ہیں، یہ کھجور کا پانی کچا جو تیز ہو جائے اور نشہ آور ہو جائے بھئی۔ کھجور کا پانی ہے بھئی کچا جس کو پکایا نہیں جاتا یعنی اور تیز ہو جاتا ہے، نشہ آور ہو جاتا ہے بھئی۔ سکر کہلاتا ہے نَقِيْعُ التَّمْرِ بھی بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح منصف، یہ انگور کا رس جس کو پکایا جائے اتنا پکایا جائے کہ نصف رہ جائے، نصف خشک ہو جائے۔ یہ کیا کہلاتا ہے؟ منصف۔ یہ بھی نشہ آور ہے، جی۔ نشہ آور بھئی، تو یہ نشہ آور ہو جاتے ہیں اور تیز ہو جاتے ہیں بھئی۔ تیز ہونے کا معنی سمجھتے ہو یا نہیں سمجھتے؟ آج کل کے میں نے مثال بھی غالباً ذکر کی تھی بھئی، اس سے شاید بات، یہ جیسے بوتل پیتے ہیں آپ بھئی، بوتل تیز نہیں ہوتی بھئی؟ ہاں، تو اس طرح کوئی ذائقہ ہوتا ہوگا جو تیز مراد ہے بھئی۔ تو یہ تیز ہو جاتے ہیں بھئی۔ اور ان کو اگر کوئی بہا دے تو چونکہ یہ بھی مولانا نشہ آور ہوتے ہیں اس لیے ان کے بہانے پر بھئی، ہاں لیکن ان کے یہ نشہ آور ہوتے ہیں لیکن ان میں ضمان آئے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا، اچھا۔ کیونکہ اس میں اور بھی بعض منافع ہیں بھئی، صرف نشہ آور ہی نہیں اور بھی منافع ہیں، جی۔ اور ان کا بیچنا بھی صحیح بھئی۔ تو کہتے ہیں وَضَمِنَ بِكَسْرِ مِعْزَفٍ ضامن ہوگا معزف آلہِ لہو کو توڑ دینے سے بھی وَإِرَاقَةِ سَكَرٍ وَمُنَصَّفٍ سکر اور منصف کو بہا دینے سے بھی وَصَحَّ بَيْعُهَا بیچنا بھی صحیح ان کا بھئی۔ الْمِعْزَفُ آلَةُ اللَّهْوِ معزف آلہِ لہو ہے گانے بجانے کا کوئی آلہ ہے مولانا، كَالطُّنْبُورِ وَالْمِزْمَارِ طنبور کہتے ہیں مولانا ستار کو بھئی، وہ جس پر تار لگے ہوتے ہیں بھئی لکڑی پر بجانے کے لیے، وَالْمِزْمَارِ یہ بانسری، سارنگی وغیرہ اس طرح منہ سے بجانے والی کوئی چیز ہے۔ كَالطُّنْبُورِ وَالْمِزْمَارِ وَنَحْوِهِمَا هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے کہ ضمان آئے گا وَعِنْدَهُمَا لَا يَضْمَنُ صاحبین کے نزدیک ان میں ضمان نہیں آئے گا۔ وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنَّمَا يَضْمَنُ قِيمَتَهُ لِغَيْرِ اللَّهْوِ کہ ان کا ضامن ہوگا ان کی اس قیمت کا بھئی جو قیمت کا بھئی جو غیرِ لہو کے لیے ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ جو لکڑی ہے اس کے اندر۔ وَفِي الطُّنْبُورِ طنبور کے اندر، ستار کے اندر يَضْمَنُ الْخَشَبَ الْمَنْحُوتَ ضامن ہوگا اس لکڑی کا جو تراشی گئی ہے بھئی، اس لکڑی کا جو تراشی گئی ہے۔ تو وہ لکڑی وغیرہ کی وجہ سے کہتے ہیں اس کا ضمان آئے گا جو لہو و لعب کے لیے نہیں ہے بھئی، اور کاموں میں بھی استعمال ہو سکتی ہے اگرچہ فی الحال یہاں لگی ہوئی ہے بھئی۔ وَأَمَّا طَبْلُ الْغُزَاةِ اور باقی جو غازیوں کا ڈھول ہوتا ہے وَالدُّفُّ الَّذِي يُبَاحُ ضَرْبُهُ فِي الْعُرْسِ اور وہ دف بھئی مباح ہے جس کا بجانا فِي الْعُرْسِ شادی کے اندر، فَمَضْمُونٌ بِالاتِّفَاقِ وہ تو مضمون ہیں بالاتفاق یعنی ان میں تو ضمان آئے گا بھئی۔ طبل ڈھول کو کہتے ہیں غازیوں کا بھئی، جنگوں میں کوئی ڈھول بجاتے تھے خاص قسم کا ڈھول بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور جی، اسی کو نقارہ بھی کہتے تھے بھئی، نقارے بجائے جاتے اور جس سے کیا ہوتا تھا؟ لڑنے والوں میں ہیجان بڑھتا تھا بھئی، سمجھ میں آیا؟ گھوڑے وغیرہ ہوتے ہیں ان میں بھی ہیجان بڑھتا تھا بھئی، لڑتے تھے۔ تو طبل ڈھول کو کہتے ہیں، اسی سے بھئی وہ طبلہ بھی سنا ہوگا آپ نے اردو میں، طبل، طبلہ وہ یہ اس کی چھوٹا جو ڈھول ہو اس کو طبلہ کہتے ہیں بھئی، جو بڑا ہے اس کو طبل کہتے ہیں۔ اچھا، دف بھئی، اردو میں آپ جسے دف کہتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ صحیح لفظ دُف ہے بھئی عربی کے اندر۔ ان میں ضمان آئے گا مولانا، ضمان آئے گا۔ وَفِي أُمِّ وَلَدٍ غُصِبَتْ فَهَلَكَتْ لَا يَضْمَنُ بِخِلَافِ الْمُدَبَّرِ اور امِ... ایسی امِ ولد کے اندر غُصِبَتْ جسے غصب کر لیا گیا فَهَلَكَتْ پس وہ ہلاک ہو گئی لَا يَضْمَنُ ضامن نہیں ہوگا بِخِلَافِ الْمُدَبَّرِ بر خلاف مدبر کے بھئی۔ تو مدبر کو کسی نے غصب کر لیا بھئی اور وہ اس کے ہاں ہلاک ہوا تو ضمان آئے گا، لیکن امِ ولد کو غصب کیا اور ہلاک ہوئی تو اس میں ضمان... هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے فَإِنَّ الْمُدَبَّرَ مُتَقَوِّمٌ عِنْدَهُ اس لیے کہ مدبر جو ہے بھئی وہ قیمت والا ہے امام صاحب کے نزدیک وہ متقوم ہے لَا أُمَّ الْوَلَدِ نہ کہ امِ ولد، وَعِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک يَضْمَنُهُمَا لِتَقَوُّمِهِمَا ضامن ہوگا ان دونوں کا بموجب ان دونوں کے متقوم ہونے کے، کیونکہ ان کے نزدیک دونوں متقوم ہیں جبکہ امام صاحب کے نزدیک صرف مدبر متقوم ہے۔ وَمَنْ حَلَّ عَبْدَ غَيْرِهِ أَوْ رِبَاطَ دَابَّتِهِ أَوْ فَتَحَ بَابَ اسْطَبْلِهَا أَوْ قَفَصَ طَائِرِهِ فَذَهَبَتْ أَوْ سَعَى إِلَى سُلْطَانٍ... بھئی، اگلے مسائل سے پہلے آپ نے اصولِ فقہ کے اندر ایک ضابطہ پڑھا ہے بھئی۔ ایک ہے سبب، ایک ہے علت۔ سبب وہ ہے جو مُفْضِي إِلَى الشَّيْءِ ہو واسطے کے ذریعے اور علت وہ ہے جو مُفْضِي إِلَى الشَّيْءِ ہو بلا واسطہ۔ تو سبب کسی چیز تک پہنچانے والا ہوتا ہے، ہاں اس کے ہوتے ہوئے یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز بھی پائی جائے۔ یہ سبب کہلاتا ہے اور علت وہ ہے جو بالذات مؤثر ہوتی ہے کسی شئے کے اندر، جب وہ پائی جائے گی تو وہ شئے بھی یعنی معلول ضرور پایا جائے گا۔ تو سبب ہوتا ہے مفضی واسطے کے ذریعے اور علت ہوتی ہے بغیر واسطے کے، اور جہاں پر سبب اور علت جمع ہو جائیں وہاں حکم کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ علت کی طرف کی جائے گی، سبب کی طرف نہیں کی جائے گی۔ اچھا، تو دیکھیے کہتے ہیں کسی شخص نے دوسرے کے غلام کو کھول دیا، اس کی بیڑی وغیرہ کھول دی بھئی، یا اس کے جانور کی رسی کھول دی یا اصطبل کا دروازہ کھول دیا یا پنجرے کا دروازہ کھول دیا، پنجرے کا دروازہ کھول دیا، سمجھ میں آیا؟ اور وہ یہ غلام یا جانور یا پرندہ اڑ گئے، بھاگ گئے مولانا۔ تو ان صورتوں کے اندر بھئی اس شخص پر ضمان نہیں آئے گا جس نے غلام کی بیڑیاں کھولی تھیں، کیوں نہیں بھئی؟ اس لیے کہ اس شخص کا بیڑیاں کھولنا یہ ہے سبب اور غلام کا بھاگ جانا یہ ہے علت اور اس کا ہلاک ہو جانا یہ ہے حکم مولانا۔ یہ کیا ہے؟ تو اس کے غلام کے بھاگ جانے، ضائع ہو جانے کے اندر، ہلاک ہو جانے کے اندر اس شخص وہ شخص سبب کے درجے میں ہے اور اس غلام کا اپنا فعل کیا ہے؟ بھئی اس نے صرف کیا کیا تھا؟ بیڑیاں کھولی ہیں، درمیان میں غلام کا اپنا فعل آ گیا، وہ اپنے ارادے سے بھاگا اور پھر کیا ہوا؟ وہ ضائع ہوا یا ہلاک ہو گیا۔ تو لہٰذا اس شخص کا کھولنا ہے سبب، غلام کا خود بھاگ جانا ارادے کے ساتھ یہ ہے علت اور اس کا ہلاک ہو جانا یہ ہے حکم بھئی، اور حکم کے ساتھ کیا جمع ہو گئے؟ علت بھی اور سبب بھی، تو اب اس ہلاکت کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ علت کی طرف کی جائے گی یعنی غلام کی ہلاکت کا سبب یہ نہیں کہیں گے بیڑیاں کھولنا ہے بلکہ اس کا بھاگ جانا ہے۔ صورت سمجھ میں؟ تو غلام کا بھاگ جانا تو وہ خود سبب بنا ہے اپنی ہلاکت کا، لہٰذا دروازہ... وہ بیڑیاں کھولنے والے پر ضمان نہیں آئے گا۔ اسی طرح اگلے تمام مسائل میں ہے، دروازہ اصطبل کا کھولا تو جانور پھر بھاگا بھئی، تو جانور کا بھاگنا ہے علت اور دروازہ کھولنا ہے سبب، تو لہٰذا اس سبب کی طرف حکم کی نسبت... ایک شخص نے اصطبل کا دروازہ کھولا بھئی، جانور بھاگ گیا اور ہلاک ہوا، تو جانور کا ہلاک ہونا یہ ہے حکم، اور اس شخص کا دروازہ کھولنا یہ کیا تھا؟ سبب، اور علت درمیان میں کیا تھی؟ جانور کا بھاگ جانا، سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ بھاگ جانا جب علت ہے، اس کی طرف حکم کی نسبت کریں گے، اس دروازہ کھولنے کی طرف... لہٰذا دروازہ کھولنے والے پر ضمان نہیں آئے گا۔ کہتے ہیں وَمَنْ حَلَّ عَبْدَ غَيْرِهِ اور جس نے غیر کے غلام کو کھول دیا یعنی زنجیروں وغیرہ سے باندھا ہوا تھا اس نے اس کو کھول دیا، أَوْ رِبَاطَ دَابَّتِهِ رباط رسی کو کہتے ہیں، یا کسی نے دوسرے کے جانور کی رسی کو کیا کیا؟ کھول دیا، أَوْ فَتَحَ بَابَ اسْطَبْلِهَا اور یا اس دابہ کے اصطبل کے دروازے کو کسی نے کھول دیا، أَوْ قَفَصَ طَائِرِهِ یا پرندے کے پنجرے کو کھول دیا، فَذَهَبَتْ پس یہ چلے گئے بھئی، یہ غلام یا دابہ یا پرندہ تینوں چلے گئے۔ اچھا جی، آگے آ رہا ہے بھئی... دوسری سطر پوری چھوڑ دیں، تیسری بھی چھوڑ دیں، اگلی چوتھی سطر میں آ رہا ہے لَا يَضْمَنُ۔ مل گیا بھئی؟ سُلْطَانُ شَيْئًا لَا يَضْمَنُ، یہ لَا يَضْمَنُ جزا ہے مولانا، اور بھی کئی صورتیں بیچ میں آ رہی ہیں، ان تمام صورتوں میں یہ شخص ضامن نہیں ہوگا۔ أَوْ سَعَى إِلَى سُلْطَانٍ، ایک آدمی دوسرے کو تکلیف پہنچاتا تھا بھئی، اور اس نے اس کو بڑا سمجھایا، روکا، منع کیا، وہ باز نہیں آتا، آخر اس نے مجبور ہو کر بادشاہ کے پاس شکایت کی، تو کیا اس شکایت کی وجہ سے اس کو کوئی بادشاہ کی طرف سے تکلیف پہنچی، اس پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں اس پر ضمان نہیں، کیونکہ یہ تو مجبور تھا، اس کے بغیر وہ مان ہی نہیں رہا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا ایک شخص گناہوں میں مبتلا ہے، فسق و فجور کرتا ہے، یہ اس کو ایک دوسرا آدمی اس کو سمجھاتا رہتا ہے، وہ باز نہیں آتا بھئی، اس نے پھر آگے حاکم کے پاس اس کی شکایت کر دی، تو حاکم کی وجہ سے اس کو پھر کیا ہوئی؟ جو سزا وغیرہ ملی، کیا اس پر ضمان آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، وہ اپنے فسق سے باز ہی نہیں آ رہا تھا اس کے کہنے سے، تو مجبور تھا وہ کہ وہ کیا کرے؟ حاکم کو بتائے بھئی۔ تو یہ سبب بنا اور حاکم یا بادشاہ خود کیا بنا؟ علت بنا، تو حکم کی نسبت علت کی طرف ہوگی، اس سبب کی طرف نہیں ہوگی۔ یہ مولانا، أَوْ سَعَى إِلَى سُلْطَانٍ یا وہ شخص جس نے بھئی چغلی کی بادشاہ کے پاس بِـمَنْ أُوذِيَ هِ اس شخص کی يُؤْذِيهِ جو اسے اذیت دیتا تھا، ایک نے دوسرے کی اذیت... چغلی کی جو اسے اذیت دیتا تھا، وَلَا يَدْفَعُ بِلَا رَفْعٍ اور وہ دور بھی نہیں ہوتی اس کی اذیت دور نہیں ہوتی بِلَا رَفْعٍ بادشاہ تک بات پہنچائے... بادشاہ تک بات پہنچائے بغیر وہ بات دور ہی نہیں ہو رہی تھی اس کی تکلیف بھئی۔ أَوْ مَنْ يَفْسُقُ، عطف ہے مولانا، یا وہ شخص جو فسق کرتا ہے وَلَا يَمْتَنِعُ بِالنَّهْيِ... یہ ہاں، أَوْ سَعَى إِلَى سُلْطَانٍ بِـمَنْ يَفْسُقُ یا جس نے بادشاہ کے پاس چغلی کی ایسے شخص کی جو کیا کرتا ہے؟ فسق کرتا ہے، وَلَا يَمْتَنِعُ بِالنَّهْيِ اور اس کے منع کرنے سے رکتا نہیں، باز نہیں آتا، أَوْ قَالَ مَعَ سُلْطَانٍ قَدْ يُغَرِّمُ وَقَدْ لَا يُغَرِّمُ یا ایک شخص ہے بھئی، ایک بادشاہ ہے، وہ لوگوں سے ٹیکس وغیرہ وصول کرتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں، کبھی دل کرتا ہے کسی سے وصول کر لیتا ہے، کبھی دل کرتا ہے نہیں کرتا تو وصول بھی نہیں کرتا۔ اب ایک شخص نے بادشاہ کو بتایا: بادشاہ سلامت! فلاں آدمی کے پاس بڑا مال آیا ہے۔ مال آیا، بادشاہ نے بھئی فوراً اس سے جرمانہ لے لیا، ٹیکس وغیرہ وصول کر لیا بھئی۔ تو کیا اب اس بتانے والے پر ضمان آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس پر ضمان نہیں آئے گا، کیونکہ بادشاہ ایسا ہے جو کبھی ٹیکس لیتا ہے اور کبھی ٹیکس نہیں لیتا، تو ضروری تو نہیں تھا بادشاہ کو پتہ لگے وہ ٹیکس لے بھئی، وہ تو... جی، تو وہ شخص بنا سبب اور بادشاہ کا ٹیکس لینا یہ کیا بنا؟ علت بنا اس کے مال کی ہلاکت کا، تو لہٰذا اب اس مال کے ہلاکت کی نسبت چغل خور کی طرف نہیں کی جائے گی، لہٰذا اس پر ضمان نہیں۔ ہاں اگر بادشاہ ایسا ہے جو ہمیشہ ٹیکس لیتا ہے، جہاں اس کو کہیں پتہ لگے کہ اس کے پاس مال آیا ہے، اس میں سے کچھ اپنا حصہ ضرور نکال لیتا ہے، اب اس پر ضمان آئے گا مولانا، کیونکہ اب تو کیا ہے؟ جب بھی وہ بتائے گا یہ عِلَّةُ الْعِلَّةِ کے درجے میں ہوا، بادشاہ نے ضرور وہ کام کرنا ہے اس کو پتہ ہے، تو اب سبب کی طرف نسبت کی جائے گی اور اس پر ضمان آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ أَوْ قَالَ مَعَ سُلْطَانٍ اور کہا اس نے ایسے بادشاہ سے قَدْ يُغَرِّمُ وَقَدْ لَا يُغَرِّمُ جو کبھی ٹیکس... جو جرمانہ کرتا ہے اور کبھی جرمانہ نہیں کرتا، ایسے بادشاہ کے پاس اس نے بات کی كَأَنَّهُ وَجَدَ مَالًا کہ فلاں جو ہے اس نے مال پایا ہے، فَيُغَرِّمُهُ السُّلْطَانُ شَيْئًا تو پھر بادشاہ اسے کچھ... اس سے جرمانہ کر دیتا ہے کسی چیز کا یعنی کوئی چیز لے لیتا ہے اس سے بطورِ ٹیکس کے، لَا يَضْمَنُ تو ان تمام صورتوں میں بادشاہ کو بتانے والا، اس پر ضمان... یہ جزا آ گئی ساری صورتوں کی بھئی۔ سبب پر ضمان... وَلَوْ غَرَّمَ الْبَتَّةَ اور اگر بادشاہ وہ جرمانہ کرتا ہے یقینی طور پر، قطعی طور پر، يَضْمَنُ اس صورت میں بتلانے والا ضامن ہوگا بھئی۔ وَكَذَا لَوْ سَعَى بِغَيْرِ حَقٍّ عِنْدَ مُحَمَّدٍ... بھئی، اگر کسی نے ناحق کسی کی چغلی کر دی بادشاہ کے پاس پھر کیا اس پر ضمان آئے گا یا نہیں بھئی؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، اس پر ضمان آئے گا بھئی، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ وَكَذَا لَوْ سَعَى بِغَيْرِ حَقٍّ اسی طرح اگر کسی نے چغلی کی ناحق مولانا عِنْدَ مُحَمَّدٍ رحمہ اللہ، جی، یعنی اس پر بھی ضمان آئے گا، یہ کس کے نزدیک ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، زَجْرًا لَهُ اس کی ڈانٹ کے لیے بھئی، ڈانٹ کے طور پر، وَبِهِ يُفْتَى اسی پر فتویٰ دیا جائے گا، اسی پر فتویٰ ہے، وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ لَا يَضْمَنُ السَّاعِي جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں تمام صورتوں میں ساعی یعنی چغل خور ضامن نہیں ہوگا، اوپر صورتیں آئیں نا متن میں کہ چغل خور ضامن نہیں... کیوں نہیں ہوگا؟ لِأَنَّهُ تَوَسَّطَ فِعْلُ فَاعِلٍ مُخْتَارٍ اس لیے کہ درمیان میں آ گیا ایک بااختیار فاعل کا فعل بھئی، بااختیار فاعل کا... یعنی درمیان میں بھئی بادشاہ نے ٹیکس لیا یا بادشاہ نے دوسرے کو روکا وغیرہ، تو وہ اپنے اختیار سے کیا بھئی۔ تو یہ سارے متن کے مسائل کی یہ دلیل آ گئی مولانا، اوپر متن میں لَا يَضْمَنُ تک جتنی صورتیں تھیں، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک چونکہ درمیان میں فاعلِ مختار کا فعل آ جاتا تھا اور وہ علت بنتی تھی اور حکم کی نسبت لہٰذا علت کی طرف کی جائے گی، سبب کی طرف نہیں... غلام کو اس نے کھولا تھا تو غلام اپنے ارادے سے بھاگا تھا مولانا، تو وہ فاعلِ مختار تھا، بااختیار پاک تھا، بادشاہ نے ٹیکس لیا تو بادشاہ بھی کیا تھا؟ بااختیار تھا اس فعل کو کرنے والا، لہٰذا درمیان میں ایک فاعلِ مختار کا فعل آ گیا، وَفِي فَتْحِ بَابِ الإِسْطَبْلِ وَالْقَفَصِ خِلَافُ مُحَمَّدٍ رحمہ اللہ اور اسی طرح بھئی اصطبل اور پنجرے کے دروازہ کھولنے کے اندر بھی بھئی... اس میں بھی امام محمد رحمہ اللہ کا خلاف ہے بھئی، وہ فرماتے ہیں اس صورتوں میں بھی اس شخص پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا۔ لَهُمَا تَوَسُّطُ فِعْلِ الْمُخْتَارِ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل کیا ہے؟ کہ بااختیار فاعل کا فعل درمیان میں آ گیا ان تمام صورتوں میں، وَلَهُ اور امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّ الطَّائِرَ مَجْبُولٌ عَلَى النِّفَارِ کہ پرندہ جو ہے وہ... کو پیدا کیا گیا ہے عَلَى النِّفَارِ، کس پر؟ فطرت میں ہے اس کی۔ نِفَارِ کا معنی ہے بھاگنا، بھئی، بھاگنا، بھئی۔ یعنی اس میں بھاگنا خِلْقَۃً ہے پرندے کے اندر، بھئی۔ وہ تو جب بھی اس کو موقع ملے گا وہ اڑ جائے گا، بھئی، چلا جائے گا۔ لہٰذا یہاں پرندہ جو ہے، وہ کیا ہے؟ مَجْبُولٌ۔ جبلت کہتے ہیں فطرت کے اندر ہونا، کسی چیز کے اندر۔ پیدائشی طور پر ایک چیز کا پایا جانا، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ پیدائشی جو چیزیں ہوتی ہیں کسی میں، وہ جبلت کہلاتی ہیں، بھئی۔ اور وَلَهُ، امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّ الطَّائِرَ مَجْبُولٌ عَلَى النِّفَارِ، بھئی۔ پرندہ جو ہے وہ تو پیدا ہی کیا گیا ہے عَلَى النِّفَارِ، کس پر؟ نِفَارِ پر۔ دور چلے جانے پر، بھاگ جانے پر، اڑ جانے پر۔ تو یہ جانور یا پرندہ، یہ تو جب بھی اس کو راستہ ملے گا، یہ بھاگ ہی جائے گا۔ لہٰذا اس صورت کے اندر، بھئی، اب دروازہ کھولنے والے پر ضمان آئے گا، بھئی۔ أَنَّ الطَّائِرَ مَجْبُولٌ عَلَى النِّفَارِ، یعنی پرندہ اسی بھاگنے کی عادت پر پیدا کیا گیا ہے۔ یہ اس کے اندر خِلْقَۃً ایک چیز رکھی گئی ہے کہ جب اسے موقع ملتا ہے، وہ بھاگ جائے گا، وہ رہے گا نہیں کسی کے پاس۔ لہٰذا، یہ تو اس کی فطرت میں ہے، اس کی طبیعت کے اندر ہے۔ پنجرے کا تو اصل جو ہے اس کی ہلاکت کی نسبت اب لہٰذا کس کی طرف کی جائے گی؟ دروازہ کھولنے والے کی طرف پنجرے کا، بھئی، یا اصلاً دروازہ کھولنے والے کی طرف۔ چلیے بھئی، ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ اچھا، چلیے جی، دعا بھی کر لیں۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جو اتنا پڑھا گیا، پڑھایا گیا، یا اللہ! سب کو قبول فرما۔ اے اللہ! اس مبارک مجلس کے اندر ہم نے دین کی ایک کتاب کا ایک بڑا حصہ ختم کیا ہے، اے اللہ! اسے قبول فرما۔ اے اللہ! اس کے پڑھنے پڑھانے کے اندر جو کوتاہیاں ہم سے ہوئی ہوں، اے اللہ! انہیں معاف فرما۔ اے اللہ! انہیں معاف فرما۔ اے اللہ! جو کوتاہیاں ہوئی ہوں، یقیناً اے اللہ! بہت کوتاہیاں ہوئی ہوں گی، اے اللہ! وہ کوتاہیاں معاف فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام تکالیف دور فرما۔ اے اللہ! خیر و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے شہداء ہوئے، اے اللہ! اسلام آباد کے اندر، اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان، اے اللہ! جو ان کے گھر والے جو باقی ہیں، اے اللہ! ان کو اطمینان و سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! جو اس وقت ظالموں کے قبضے میں ہیں، اے اللہ! ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ اے اللہ! ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ اے اللہ! اے اللہ! یقیناً یہ تیرے دین کے خاطر، جان دینے والے عظیم شہداء ہیں۔ اے اللہ! جامعہ جامعہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں جتنے شہید ہوئے، اے اللہ! ان کے وسیلے سے ہمارے تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! یقیناً یہ آپ کے بہترین اور پسندیدہ لوگ تھے۔ اے اللہ! چنے ہوئے لوگ تھے۔ اے اللہ! ان کے وسیلے سے ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ان کے وسیلے سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! گمراہیوں اور فتنوں سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! ان شہداء کو، اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہم جلد ہی، اے اللہ! ان کے خون کو رنگ لاتا ہوا دیکھیں۔ اے اللہ! اس مملکت کے اندر ہم اسلامی نظام کو پھیلتا، پھولتا ہوا دیکھیں۔ اے اللہ! کفریہ نظام کو ختم ہوتا ہوا دیکھیں۔ اے اللہ! جو اس ظلم کے اندر، اے اللہ! شریک تھے، اے اللہ! جنہوں نے یہ ظلم کیا، جو کرنے والے تھے، جو کروانے والے تھے، جو معاون تھے، اے اللہ! سب کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! سب کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کو مقام، اے اللہ! عبرت کا نشان بنا دیجیے۔ اے اللہ! ان کو عبرت کا نشان بنا دیجیے۔ اے اللہ! تمام اہل ایمان کے دل اس وقت زخمی ہیں۔ اے اللہ! سب خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ اے اللہ! سب انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔ اے اللہ! ایسے اسباب بنا دیجیے، اے اللہ! کہ سب کے دلوں کو تسلی ہو جائے۔ اے اللہ! سب، تمام اہل ایمان کے دلوں کو، اے اللہ! قرار نصیب فرما۔ اے اللہ! ایسے امور فرما دے، اے، اے اللہ! کہ سب کو اطمینان و سکون ہو جائے۔ اے اللہ! اے اللہ! جتنے ظالم ہیں، اے اللہ! ان کو نشان عبرت بنا دے۔ اے اللہ! ان کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیک حاکم نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیک حاکم نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیک حاکم نصیب فرما۔ یا اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ان شہداء کے وسیلے سے ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی اس طرح عظیم شہادتیں نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام عالم کے اندر جہاں جہاں مسلمان جس انداز میں دینی کام میں لگے ہوئے ہیں، علماء ہیں، طلباء ہیں، مدارس، مساجد ہیں، مجاہدین، مبلغین، اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ان مجاہدین کے وسیلے سے ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جو دشمن کی قید میں ہیں، اے اللہ! جو حکومت کی قید میں ہیں، اے اللہ! جو کفار کی قید میں ہیں، اے اللہ! سب کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ اے اللہ! ان پر بے انتہا ظلم کیا جا رہا ہے، اے اللہ! اے اللہ! ان، اے اللہ! ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! گمراہیوں سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جو، جتنے حاضرین ہیں، سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! ان سب پر علم کے دروازے کھول دے۔ اے اللہ! سب کی، اے اللہ! تحصیل علم میں جو رکاوٹیں ہیں، ان کو دور فرما۔ اے اللہ! ہر ایک سے خیر کے چشمے جاری فرما۔ اے اللہ! اپنے، ہمارے لیے، تمام اساتذہ کے لیے اور والدین کے لیے، ان سب کو عظیم صدقہ جاریہ بنا۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! اس حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو یا گھروں میں کوئی بیمار ہو، اے اللہ! سب کو شفاء نصیب فرما۔ اے اللہ! ہر قسم کے جسمانی اور روحانی امراض سے ہمیں شفاء نصیب فرما۔ اے اللہ! گناہوں والی مجالس سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اوقات میں برکت نصیب فرما۔ اے اللہ! اپ کو، اے اللہ! صحیح سمجھ نصیب فرما۔ اے اللہ! شرک و بدعت، کفر و گمراہی کو ختم کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! اس کو، اے اللہ! اے اللہ! اس کے لیے صحیح سمجھ اور حکمت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اور بھی بہت سے احباب نے دعاؤں کا کہا ہے۔ اے اللہ! آپ تو سب کو جانتے ہیں۔ اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو عزیز و اقارب ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! ان کے، سب کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ان کے اہل و عیال، گھر والے، اولاد باقی ہیں، ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! انہیں وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! پریشانیاں دور فرما۔ اور اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں، اے اللہ! ان سب کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! ان سب کو وسیع حلال رزق دے۔ اے اللہ! حرام سے سب کی حفاظت فرما۔ حرام کے ذرے ذرے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری بھی حرام سے حفاظت فرما۔ قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حرام سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کو بھی وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ بھی ایمان پر فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ان ہماری آنے والی نسلوں کا بھی خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! کفر، بدعت اور گمراہی سے ہماری بھی حفاظت فرما اور قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اس مجلس کے اندر ہم نے، اے اللہ! آپ کے دین کی ایک کتاب ختم کی ہے، اے اللہ! اس کو قبول فرما۔ اے اللہ! قبول فرما۔ اے اللہ! پڑھنے اور پڑھانے میں اخلاص نصیب فرما۔ اے اللہ! ریاکاری سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! جتنے امراض روحانی ہیں، سب سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ان شہداء کے وسیلے سے، اے اللہ! یقیناً، اے اللہ! تاریخِ اسلامی کے عظیم شہداء ہیں۔ اے اللہ! ان کے وسیلے سے، اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! گناہوں والی مجالس سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے گھروں میں دین کا بول بالا فرما۔ اے اللہ! پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! اطمینان و سکون و مسرتیں نصیب فرما۔ اے اللہ! دنیا میں بھی معزز نصیب فرما۔ اے اللہ! آخرت میں بھی عزت۔ اے اللہ! میرے تمام تلامذہ کو، اے اللہ! دنیا میں بھی معزز و محترم فرما۔ اے اللہ! آخرت میں بھی معزز و محترم فرما۔ اے اللہ! سب سے دین کا کام لے۔ اے اللہ! اخلاص کے ساتھ، اے اللہ! حکمت کے ساتھ، اے اللہ! بہت زیادہ دین کا کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے مقاصد اور حاجات ہیں، سب پوری فرما۔ اے اللہ! سب پوری فرما۔ میری لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے کہ اے اللہ! تمام مقاصد پورے فرما۔ اے اللہ! تمام رکاوٹیں دور فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کی ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میری والدہ کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست کہ اے اللہ! انہیں صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر خیر، عافیت اور مسرت کے ساتھ قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! جتنے طلباء ہیں، اے اللہ! جن کے والدین زندہ ہیں یا جو ان سے زندہ ہیں، یا اللہ! ان سب کو، اے اللہ! مسرت نصیب فرما۔ صحت و عافیت نصیب فرما۔ ان کا سایہ تا دیر ان کے سروں پر سلامت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جہنم کی آگ سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ اے اللہ! اے اللہ! ہم سب کو جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ يَا أَكْرَمَ الْأَكْرَمِينَ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، يَا عَزِيزُ يَا لَطِيفُ، يَا غَفَّارُ يَا، يَا غَفَّارُ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! اس دور کے اندر، اے اللہ! جب ہر طرف، اے اللہ! کفر پھیل رہا ہے، ہر طرف گمراہیاں پھیل رہی ہیں۔ اے اللہ! اہل ایمان کے دل زخمی ہیں۔ اے اللہ!، اے اللہ! بہت پریشان ہیں۔ اے اللہ! خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ اے اللہ! ایسے امور فرما، اے اللہ! ایسے امور فرما دے کہ سب کو اطمینان و سکون مل جائے۔ اے اللہ! ان زخمی دلوں کو قرار آ جائے۔ اے اللہ! سکون مل جائے۔ اے اللہ! آپ تو قادر ہیں۔ اے اللہ! آپ تو قادر ہیں۔ اے اللہ! جو لوگ لگے ہوئے ہیں، اے اللہ! جس انداز میں بھی دین کے کام میں، سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری طرف کا اس مجلس میں ہم نے جتنی دعائیں مانگی ہیں، اے اللہ! سب قبول فرما۔ اس پورے سال کے اندر، اس مجلس کے اندر جتنی دعائیں ہم مانگتے رہے ہیں، اے اللہ! وہ تمام دعائیں قبول فرما۔ تمام دعائیں قبول فرما۔ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَىٰ