كِتَابُ الدَّعْوَى هُوَ إِخْبَارٌ بِحَقٍّ لَهُ عَلَى غَيْرِهِ، وَالْمُدَّعِي مَنْ لَا يُجْبَرُ عَلَى الْخُصُومَةِ، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ مَنْ يُجْبَرُ. لَمَّا فَسَّرَ الدَّعْوَى كَانَ الْمُدَّعِي عَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ هُوَ الْمُخْبِرُ بِحَقٍّ لَهُ عَلَى غَيْرِهِ، فَقَوْلُهُ: ”الْمُدَّعِي مَنْ لَا يُجْبَرُ عَلَى الْخُصُومَةِ“ تَفْسِيرٌ آخَرُ ذَكَرَهُ بَعْضُ الْمَشَايِخِ. اس بات کے اندر دعوے سے متعلقہ باتیں ذکر کریں گے، دعوی کہتے کس کو ہیں بھئی اور اس میں کیسے کیا جاتا ہے، کس کس چیز کو ذکر کیا جائے گا؟ سمجھ میں آیا قاضی کے پاس کوئی شخص جاتا ہے اور دعوی کرتا ہے تو کس طرح کرے گا بھئی، کیا چیزیں ذکر کرے گا؟ هِيَ إِخْبَارٌ دعوی کس چیز کا نام ہے؟ ہی ضمیر لوٹائی والا نہ معلوم ہوا دعوی کا لفظ عربی میں مؤنث ہے بھئی، دعوی کا لفظ کیا ہے؟ مؤنث ہے تو کہتے ہیں هِيَ إِخْبَارٌ یہ خبردینا ہے بِحَقٍّ ایسے حق کا لَهُ بھئی جو خبر دینے والے کا ہے عَلَى غَيْرِهِ اس کے علاوہ پر بھئی، دعوی کس کو کہتے ہیں بھئی جو؟ یہ خبر دینا ہے اپنے کسی حق کا غیر پر بھئی، دیکھیے ایک شخص کے پاس ایک گاڑی ہے دوسرے نے کہا یہ گاڑی میری ہے، یہ دعوی ہے مولانا یہ گاڑی کس کی ہے؟ تو دیکھو مدعی اس شخص نے کیا کہا؟ کیا خبر دی؟ اس نے خبر دی کس چیز کی؟ ایک ایسے حق کی جو اس کا ہے کس پر؟ غیر پر، کہ یہ گاڑی اس کے پاس جو ہے یہ میرا حق ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو دعوی کہتے ہیں خبر دینا اپنے کسی حق کے بارے میں عَلَى غَيْرِهِ غیر پر بھئی، کہ هِيَ إِخْبَارٌ یہ خبر دینا ہے بِحَقٍّ لَهُ ایسے حق کا لَهُ جو کس کا ہے اس خبر دینے والے کا ہے عَلَى غَيْرِهِ غیر پر بھئی۔ وَالْمُدَّعِي بھئی اور مدعی وہ ہے بھئی مَنْ لَا يُجْبَرُ عَلَى الْخُصُومَةِ مدعی وہ ہے بھئی جسے مجبور نہیں کیا جا سکتا خصومت پر، جسے خصومت پر مجبور نہیں، مقدمے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا بھئی، دیکھیے میری گاڑی ایک شخص کے پاس ہے، میں دعوی کرتا ہوں کہ یہ گاڑی میری ہے، لیکن مجھے اس خصومت پر، اس مقدمے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، میں چاہوں تو یہ مقدمہ کروں، چاہوں تو نہ کروں، چھوڑ دوں بھئی، میری مرضی ہے بھئی۔ جی لیکن مدعی علیہ آگے بتائیں گے، وہ ہے جس کو مجبور کیا جائے گا بھئی مقدمے پر بھئی، اب مثلا گاڑی اس کے پاس ہے، میں نے دعوی کر دیا تو اس کو مجبور کیا جائے گا کہ جواب دے بھئی، کیا کرے؟ اسے جواب دینا پڑے گا ہر حال میں، وہ نہیں کر یہ کر سکتا کہ جواب دے یا نہ دے بھئی۔ تو کہتے ہیں هِيَ إِخْبَارٌ بِحَقٍّ لَهُ عَلَى غَيْرِهِ یہ خبر دینا ہے کسی خبر دینے والے کا اپنے حق کے بارے میں عَلَى غَيْرِهِ اپنے علاوہ پر، وَالْمُدَّعِي مَنْ لَا يُجْبَرُ عَلَى الْخُصُومَةِ اور مدعی وہ ہے جس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا خصومت پر، مقدمے پر، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ مَنْ يُجْبَرُ اور مدعا علیہ وہ ہے جس کو مجبور کیا جا سکتا ہے، تو دعوی کی پہلے تعریف کی، دعوی کسے کہتے ہیں، پھر کہا مدعی کسے کہتے ہیں اور پھر بتلایا مدعا علیہ کسے کہتے ہیں۔ لَمَّا فَسَّرَ الدَّعْوَى جب ماتن نے تفسیر بیان کر دی دعوی کی، اس کی تعریف کر دی، كَانَ الْمُدَّعِي عَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ تو مدعی اس تفسیر پر کیا بنتا تھا بھئی؟ دعوی کی کیا تفسیر کی تھی؟ دعوی کسے کہتے ہیں؟ هِيَ إِخْبَارٌ بِحَقٍّ لَهُ عَلَى غَيْرِهِ غیر پر اپنے کسی حق کی خبر دینا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ دعوی، تو مدعی کیا ہونا چاہیے اس تعریف کے مطابق؟ مدعی وہ ہے جو خبر دینے والا ہے، جو غیر پر اپنے کسی حق کی خبر، وہ مدعی ہے، لیکن یہ تعریف نہیں کی بلکہ اس کی مدعی کی الگ تعریف کی مولانا، جو بعض دیگر علماء فقہاء نے ذکر کی بھئی۔ بھئی دعوی کی کیا تعریف کی؟ غیر پر اپنے کسی حق کی خبر دینا، تو یہ خبر دینے والا ہی کیا کہلاتا ہے؟ مدعی، تو اسی مدعی کی تعریف کیا ہونی چاہیے؟ کہ وہ جو مخبر ہے، خبر دینے والا ہے، غیر پر اپنے کسی حق کی، لیکن اس یہ تعریف نہیں کی بلکہ اور تعریف کی بھئی، دراصل بہت سے اعتراضات وغیرہ وارد ہوتے ہیں، تو اس لیے مدعی کی الگ تفسیر کی جو زیادہ پسندیدہ ہے بعض علماء نے ذکر کی، کیا ذکر کی بھئی؟ کہ مدعی وہ ہے جس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا اور مدعی علیہ وہ ہے جسے مجبور کیا جائے گا۔ لَمَّا فَسَّرَ الدَّعْوَى جب ماتن نے تفسیر بیان کر دی دعوی کی، كَانَ الْمُدَّعِي عَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ تو اس دعوی کی تفسیر پر مدعی جو ہے وَالْمُخْبِرُ بِحَقٍّ لَهُ عَلَى غَيْرِهِ وہ کس کا نام ہے؟ وہ خبر دینے والا ہے بِحَقٍّ لَهُ اپنے کسی حق کی عَلَى غَيْرِهِ اپنے غَیر پر بھئی، اپنے کسی حق کی جو خبر دیتا ہے غیر پر وہ مدعی ہے، یہ تعریف ہونی چاہیے تھی، فَقَوْلُهُ لیکن ماتن کا یہ جو قول ہے، پس ماتن کا یہ جو قول ہے الْمُدَّعِي مَنْ لَا يُجْبَرُ عَلَى الْخُصُومَةِ، تَفْسِيرٌ آخَرُ مدعی وہ ہے جس کو خصومت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، یہ تفسير آخَرُ یہ مدعی کی دوسری تفسیر ہے، معلوم ہوا ایک تفسیر وہ ہے، مدعی کس کا نام ہے مخبر بحق اللہ علیہ، لیکن وہ چھوڑ کر یہ تفسیر ذکر کی، ذَكَرَهُ بَعْضُ الْمَشَايِخِ جسے بعض دیگر مشائخ فقہا نے ذکر کیا ہے بھئی۔ وَقَدْ قِيلَ اور تحقیق کہا گیا ہے بھئی جی، اور تعریفیں بھی بہت سی ہیں مدعی کی، بعض نے یہ تعریف کی الْمُدَّعِي لَنْ يَتَمَسَّكُ مولانا يلتمس نہیں یتمسک ہے بھئی، جانب میں لکھا بھی ہوا ہے بھئی، تو بعض نسخوں میں يلتمس کا لفظ آیا لیکن یہ کتابت کی غلطی بھئی۔ الْمُدَّعِي مَنْ يَتَمَسَّكُ بِخِلَافِ الظَّاهِرِ بِ با ہونی چاہیے، تمسک کا معنی ہوتا ہے دلیل پکڑنا بھئی، دلیل پکڑنا، تمسک کا کیا معنی ہے؟ دلیل پکڑنا، استدلال کرنا، استدلال کرنا، اچھا مدعی کس کو کہتے ہیں بھئی؟ جو تمسک کرے بھئی خلاف ظاہر سے، خلاف ظاہر بات کو پکڑے بھئی، خلاف ظاہر بات کو بیان کرے، بھئی دیکھیے مدعی کون ہوتا ہے؟ جو تمسک کرتا ہے کس سے؟ خلاف ظاہر سے، دیکھیے ایک گاڑی ہے آپ اس میں بیٹھے ہوئے ہیں، آپ چلا رہے ہیں، تو ظاہر کیا ہے؟ اس گاڑی کا مالک بھی کون ہے؟ جو چلانے والا ہے وہی گاڑی کا مالک ہے، یقینی بات ہے، ظاہر یہی ہے، یہ آپ کے پاس کھڑی ہے، گھر میں کھڑی ہے، آپ کے قبضے میں ہے، تو ظاہر یہ ہے کہ گاڑی آپ کی ہے مولانا، لیکن ایک شخص اٹھ کر دعوی کر دیتا ہے کہ یہ گاڑی میری ہے، تو اس نے ظاہر کے مطابق بات کی ہے یا خلاف ظاہر بات کی ہے؟ خلاف ظاہر بات کی، یہ معنی ہے بھئی الْمُدَّعِي مَنْ يَتَمَسَّكُ بِخِلَافِ الظَّاهِرِ وہ جو تمسک کرتا ہے خلاف ظاہر سے وَهُوَ الْأَمْرُ الْحَادِثُ اور وہ نیا پیش انے والا معاملہ ہے۔ وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ اور مدعلی جو ہے مَنْ يَتَمَسَّكُ بِالظَّاهِرِ جو تمسک کرتا ہے کس کے؟ ظاہر کے ساتھ تمسک کرتا ہے۔ مدعلی کہتے ہیں نہیں، اب ایک شخص نے اٹھ کر دعوی کر دیا زید کے پاس جو گاڑی ہے یہ میری گاڑی ہے، اور زید کیا کہتا ہے؟ نہیں، یہ گاڑی تمہاری نہیں، یہ میرے قبضے میں ہے، میری گاڑی ہے، میرے پاس ہے، تو اس نے ظاہر کے ساتھ تمسک کیا تو یہ مدعلی ہے، كَالْعَدَمِ الْأَصْلِي جیسے کہ عدم اصل، دیکھو عدم، عدم اصلی۔ ایک ہے مطلق عدم، ایک ہے عدم اصلی، دیکھو عدم اصلی یہ ہے کہ ایک چیز شروع میں اس کا وجود ہی نہیں تھا، ایک چیز ایسی ہے جس کا شروع میں وجود ہی نہیں تھا بھئی، یہ ہے عدم اصلی بھئی، بنی نہیں ابھی بھئی، پیدائش ہی نہیں ہوئی اس کی اور پھر اس کے بعد اس کا وجود آگیا۔ تو یہ اب چیز موجود ہوئی مولانا، پھر اس کے بعد کیا ہو سکتی ہے؟ پھر ختم ہو سکتی ہے، تو عدم دوبارہ بھی آ سکتا ہے، لیکن عدم اصلی کس کو کہتے ہیں؟ جو پہلی ہو، ابھی اس کا وجود ہی نہ ہو بھئی، وجود آنے سے پہلے جو عدم ہے، کبھی ابھی ایک مرتبہ بھی اس کی پیدائش نہیں ہوئی، وجود نہیں آیا، تو وہ جو عدم ہے وہ کیا کہلاتا ہے؟ عدم اصلی کہلاتا ہے۔ تو عدم اصلی یاد رکھو ہر چیز کے اندر بھئی، عدم اصل ہے اور وجود امر حادث ہے مولانا، وجود کیا ہے امر حادث؟ اصل ہے ہر چیز میں عدم کہ اس کو نہیں ہونا چاہیے، اگر وجود آپ کہتے ہیں یہ چیز موجود ہے تو وجود کے لیے دعوے کی ضرورت ہے، عدم کے لیے دعوے کی ضرورت نہیں، کیونکہ عدم تو اصلی ہے، ہر چیز کے اندر اصل کیا ہے؟ عدم نہ ہونا، پھر اس کو وجود ملتا ہے بھئی، مدعلی وہ ہے مَنْ يَتَمَسَّكُ بِالظَّاهِرِ جو ظاہر کے ساتھ تمسک کرتا ہے۔ کل جو ظاہر کے ساتھ استدلال کرتا ہے، كَالْعَدَمِ الْأَصْلِي جیسے کہ عدم اصلی ہے، تو عدم کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں پڑتی کہ اس چیز کا وجود نہیں ہے بھئی، کیونکہ ہر چیز میں اصل ہی کیا ہے؟ عدم ہے، وجود تو عدم کے بعد آیا کرتا ہے ہمیشہ بھئی، تو وجود کے لیے دلیل چاہیے، آپ کہتے ہیں یہ چیز ہے بھئی، دلیل کے چاہیے، کیسی کیا دلیل ہے بھئی یہ چیز ہے، لیکن عدم کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لَكِنَّ الِاعْتِبَارَ فِي هَذَا لِلْمَعْنَى دُونَ اللَّفْظِ لیکن اس کے اندر اعتبار معنی کا ہے نہ کہ لفظ کا بھئی۔ بھئی مدعی وہ ہے جو تمسک کرتا ہے خلاف ظاہر سے، اور مدعا علیہ ہے وہ ہے جو تمسک کرتا ہے ظاہر سے، ظاہر سے بھئی۔ تو یوں کہو مدعی کیا ہوتا ہے؟ دعوی کر رہا ہے اور مدعا علیہ کیا کر رہا ہے؟ انکار کر رہا ہے، مدعی دعوی کرنے والا اور مدعا علیہ انکار کرنے والا، لیکن اس کے اندر معنی کا اعتبار ہے، لفظوں کا اعتبار نہیں۔ مثلا ایک شخص کے پاس دوسرے سے امانت، ایک شخص کے پاس دوسرے نے اپنی امانت رکھوائی تھی بھئی، اب وہ مودع جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی اس نے دعوی کر دیا کہ میں امانت تمہیں واپس لوٹا چکا ہوں۔ جس کے پاس مودع جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی اس نے کیا دعوی کر دیا؟ تو میں واپس کر چکا ہوں اور مودع جس نے امانت رکھوائی تھی وہ انکار کرتا ہے، تو اب یہ نہ کہیں مولانا۔ کہ یہ مودع جو ہے یہ کیا بن گیا؟ مدعی اور وہ کیا بن گیا؟ مُودِع جس نے امانت رکھوائی تھی وہ کیا بن گیا؟ وہ منکر بن گیا، منکر بن گیا بھئی، تو لفظوں کو نہیں کہ دعوی جس نے کیا وہ مدعی بن جائے گا اور جس نے انکار کیا وہ کیا بن جائے گا؟ منکر آپ اس کو کہنے لگیں یعنی مدعا علیہ کہنے لگیں، بلکہ معنی کے اندر غور کرو، تو آپ نے غور کیا معنی کے اندر، تو دیکھا کہ جو مودع ہے۔ وہ دراصل اپنے اوپر سے زمان کا انکار کر رہا ہے کہ میں امانت ادا کر چکا ہوں میرے پاس میرے اوپر اب کسی قسم کا نقصان نہیں بھئی، میرا ذمہ داری پوری ہو چکی ہے اور دوسرا شخص وہ مدعا علیہ نہیں، دوسرا مودع بلکہ وہ کیا ہے؟ مدعی ہے۔ کیونکہ وہ زمان کا دعوی کر رہا ہے، گویا کس کا دعوی کر رہا ہے کہ تم نے میری امانت ابھی تک واپس نہیں کی تو میری امانت کیا کرو؟ واپس کرو، تو دراصل وہ مدعی ہوا اور یہ کیا ہوا؟ تو مودع یہاں بظاہر تو مودع کیا لگ رہا ہے؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ جی تو بظاہر تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ مودع مدعی ہے اور مودع کیا ہے؟ وہ مدعا علیہ ہے یا منکر ہے، لیکن دراصل مودع جو ہے وہ منکر ہے اور مودع کیا ہے یہاں پر؟ مدعی ہے، مودع گویا دعوی زمان کا کر رہا ہے اور مودع کیا کر رہا ہے؟ اس زمان سے انکار کر رہا ہے بھئی۔ لَكِنَّ الِاعْتِبَارَ فِي هَذَا لِلْمَعْنَى دُونَ اللَّفْظِ لیکن اس کے اندر اعتبار جو ہے معنی کا ہے یعنی مدعی اور مدعا علیہ کے اندر اعتبار معنی کا ہے دُونَ اللَّفْظِ نہ کہ لفظوں کا حَتَّى أَنَّ الْمُودَع یہاں تک کہ مودع جس کے پاس امانت رکھوائی جائے، إِذَا ادَّعَى جب اس نے دعوی کر دیا رَدَّ الْوَدِيعَةِ امانت کو واپس لوٹانے کا، وَهُوَ مُدَّعٍ فِي الظَّاهِرِ تو ظاہر میں تو وہ مدعی ہے، لَكِنَّهُ فِي الْمَعْنَى مُنْكِرٌ لِلزَّمَانِ لیکن معنی کے اعتبار سے وہ زمان کا منکر ہے، صورت سب کو سمجھ میں آگیا۔ وَهِيَ تَصِحُّ بِذِكْرِ شَيْءٍ عُلِمَ جِنْسُهُ وَقَدْرُهُ اور دعوی صحیح ہوتا ہے ایسی چیز کے ذکر کر دینے سے عُلِمَ جِنْسُهُ کہ جس کی جنس بھی معلوم ہو، بھئی دعوی کے اندر کیا ہونا چاہیے؟ جنس معلوم ہونی چاہیے، آپ دراہِم کا دعوی کر رہے ہیں یا دَنَانِير کا دعوی کر رہے ہیں یا گندم کا دعوی کر رہے ہیں یا چاول کا دعوی کر رہے ہیں، کس چیز کا؟ جنس معلوم ہونی چاہیے۔ وَقَدْرُهُ اور اس کے مقدار بھی کیا ہونی چاہیے؟ معلوم، مثلا دراہِم کا دعوی کیا تو پھر مقدار بھی معلوم ہو، ہزار دراہِم ہیں، دو ہزار ہیں یا چار ہزار ہیں بھئی، یا گندم ہے مثلا تو دو من ہے، چار من ہے یا دس من بھئی، مقدار معلوم ہونی چاہیے هَذَا فِي دَاعِوِ الدَّيْنِ یہ کس کے اندر ہے؟ دین کے اندر دعوی ہے بھئی، یعنی کسی جو معین چیز نہ ہو، دین ہو کسی پر، اس کے اندر جنس کا ذکر بھی ضروری اور مقدار کا ذکر بھی ضروری۔ جی تو یہ دین کے دعوی کے اندر ہے لَا فِي دَعْوَى الْعَيْنِ عین کے دعوی میں جنس اور مقدار نہیں ذکر ہوگی، فَإِنَّ الْعَيْنِ إِنْ كَانَتْ حَاضِرَةً عین کا تو حاضر کرنا ضروری۔ آپ نے کیا کیا؟ ایک شخص پر کس چیز کا دعوی کیا کہ یہ جو گاڑی ہے اس کے پاس، یہ میری ہے، تو اس گاڑی کا حاضر کرنا قاضی کے پاس ضروری تاکہ اس کی طرف اشارہ کر کے کہے کہ یہ گاڑی کس کی ہے؟ میری ہے۔ اچھا تو عين کے اندر والا جنس اور قدر کی ضرورت نہیں بلکہ اس کو حاضر کیا جائے گا فَإِنَّ الْعَيْنِ إِنْ كَانَتْ حَاضِرَةً اس لیے کہ عین جو ہے اگر وہ حاضر ہوئی، تَكْفِي الْإِشَارَةُ تو اشارہ ہی کافی ہے بِأَنَّ هَذَا مِلْكُلَّكَ کہ یہ میری ملکیت ہے وَإِنْ كَانَتْ غَائِبَةً اور اگر وہ معین چیز جو وہ غائب تھی، يَجِبُ أَنْ يَصِفَهَا تو واجب ہے مولانا أَنْ يَصِفَهَا کہ اس کی صفت بیان کریں۔ کیا کرے بھئی؟ اس اس قسم کی چیز ہے جسے کیا کیا جا سکتا ہے؟ عدالت میں حاضر نہیں کیا جا سکتا، اگر حاضر کیا جا سکتا ہے پھر تو اشارے سے ہی وہ ممتاز ہو جائے گی ہر چیز سے، لیکن اگر اس کو عدالت میں حاضر نہیں کیا جا سکتا تو اس صورت کے اندر اس کی صفت بیان کرے گا بھئی کہ عمدہ ہے۔ یا متوسط ہے یا ردی، کس قسم کی گاڑی ہے؟ گاڑی تو مسئلہ نہیں، کوئی ایسی چیز جو حاضر نہ کی جا سکے اس قسم کی چیز ہے وَيَذْكُرُ قِيمَتَهَا اور کیا کرے گا اس کی؟ قیمت ذکر کرے گا، اتنے والی گاڑی ہے وَأَنَّهُ فِي يَدِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ يَذْكُرُ قِيمَتَهَا یہ قیمت کیا ہے؟ یذکر کے لیے مفعول ہے، یہ قیمت ذکر کرے گا اس کی اور کیا ذکر کرے گا؟ أَنَّهُ فِي يَدِ الْمُدَّعِي یہ سارا بھی مفعول ہے اس کا قیمت پر ہے اور یہ بھی ذکر کرے گا کہ أَنَّهُ فِي يَدِ الْمُدَّعَى عَلَيْ کہ وہ چیز کس کے قبضے میں ہے؟ بھئی آپ دعوی کرنا چاہتے ہیں بھئی، کس کا دعوی کر رہے ہیں؟ اگر دین کا دعوی کر رہے ہیں تو اس کی جنس بیان کریں اور اس کی مقدار بیان کریں، اور اگر عین کا دعوی کر رہے ہیں تو اس کو حاضر کیا جائے گا، اگر حاضر نہیں کر سکتے تو پھر کیا ذکر کریں؟ اس کی صفت ذکر کریں کس قسم کی ہے اور قیمت ذکر کریں اور پھر ساتھ یہ بھی ذکر کریں کہ وہ چیز کس کے قبضے میں ہے؟ مدعا علیہ کے قبضے میں ہے، یہ بھی ذکر کرنا ضروری۔ کہتے ہیں هَذَا يَخْتَصُّ بِدَعْوَى الْأَعْيَانِ یہ جو ذکر کیا نا کہ یہ کہے کہ چیز کس کے قبضے میں ہے؟ مدعلی، کہتے ہیں یہ مختص ہے اعیان کے دعوی میں، کسی معین چیز کے دعوی میں ذکر کرنا یہ ضروری ہے بھئی، مثلا گاڑی کا آپ نے دعوی کیا تو یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ کس کے قبضے میں ہے؟ مدعا علیہ کے قبضے میں ہے جی۔ اور دین، دین تو اس کے ذمہ ہوا کرتے ہیں، کیا ہوتے ہیں؟ ذمہ ہوتے ہیں۔ وَفِي الْمَنْقُوعِ اور منقولی چیز کے اندر يَزِيدُ بِغَيْرِ حَقٍّ یہ لفظ بھی بڑھا دے بغیر حق کے۔ کیا بھئی؟ کیا لفظ بڑھا دے منقولی چیز میں؟ بھئی چیزیں دو قسم پر ہیں، کچھ منقولی ہیں، کچھ غیر منقولی، غیر منقولی جیسے مولانا گھر ہے، زمین ہے اور باغ وغیرہ، کھیت، جو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل نہیں ہو سکتی، باقی چیزیں کیا ہیں؟ منقولی ہیں۔ تو اگر منقولی چیز کا دعوی ہو، وہ معین چیز، تو يَزِيدُ تو بڑھا دے اس کے ساتھ یہ لفظ بھی بِغَيْرِ حَقٍّ بغیر حق کے ہے، أَنَّهُ فِي يَدِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِغَيْرِ حَقٍّ یوں کہے کہ وہ چیز مدعلی کے قبضے میں ہے، نا حق بھئی، نا حق، نا حق بھئی۔ بھئی یہ نا حق کی کید کیوں بڑھا دی؟ نا حق کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ کبھی ایک چیز بغیر مالک کے قبضے میں ہوتی ہے لیکن نا حق نہیں ہوتی بلکہ حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ کبھی ایک چیز کیا ہوتی ہے؟ غیر مالک کے قبضے، مالک کے قبضے میں نہیں ہے، کسی اور کے قبضے میں ہے لیکن نا حق میں نہیں ہے اس کا قبضہ، بلکہ اس کا قبضہ حق میں، مثلا میں نے آپ سے کوئی گاڑی خریدی ہے اور تو عقد کرتے ہی میں گاڑی کا کیا بن گیا؟ مالک، اب میں دعوی کرتا ہوں کہ یہ گاڑی اس کے قبضے مِیں ہے تو یہ مجھے دلائی جائے تو ساتھ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ گاڑی اس کے قبضے میں ناحق ہے، اس لیے ہو سکتا ہے آپ کا قبضہ اب بھی حق ہو۔ گاڑی میری ہے لیکن قبضہ آپ کا حق ہے، کیوں؟ کیونکہ آپ کو میں نے سَمَن ہی نہیں دی ہے تو آپ اس لیے گاڑی بھی مجھے حوالے... تو گاڑی آپ کے پاس تو ہے لیکن قبضہ ناحق ہے یا حق ہے مولانا؟ حق ہے بھئی۔ یہ اسی طرح مولانا رَہْن کے مسئلے میں بھئی، رَہْن کسی کے پاس ایک چیز رکھوائی ہے تو اس کا قبضہ بھی ناحق نہیں ہے، بلکہ تو وہ تو اس رَہْن کے عوض میں کیا کیا ہے بطور رَہْن کے، تو چیز غیر مالک کے پاس ہے لیکن بطور حق کے۔ فَانَّ الشَّیْءَ قَدْ یَکُونُ فِی یَدِ غَیْرِ الْمَالِکِ بِحَقٍّ، اس لیے کہ چیز کبھی کبھار جو ہے غیر مالک کے قبضے میں ہوتی ہے، لیکن حق کے ساتھ ہوتی ہے کَرَّہْنِ فِی یَدِ الْمُرْتَهِنِ جیسے رَہْن ہوتا ہے کس کے قبضے میں بھئی؟ مرتہن کے قبضے میں۔ اب بھئی مرتہن چیز رَہْن کا مالک تو نہیں لیکن اس کا قبضہ حق ہے۔ وَبِالْمَبِیْعِ فِی یَدِ الْبَائِعِ اور اسی طرح مبیعہ کبھی بائع کے قبضے میں ہوتا ہے لِاَجْلِ الثَّمَنِ کس کی وجہ سے؟ ثمن... تو یہ بھی قبضہ حق ہے۔ اَقُوْلُ، علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ ماتِن نے کیا ذکر کیا؟ کہ بغیر حق ان کا قول کس کے اندر بڑھائے؟ منقولی چیزوں کے اندر کہتے ہیں بھئی منقولی کے ساتھ یہ منقولی کا لفظ ماتِن نے کیوں ذکر کیا؟ مجھے اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ غیر منقولی کے اندر بھی کیا کہنا چاہیے؟ اس کو ذکر ہونا چاہیے، تو منقولی کی قید درست نہیں بھئی۔ اَقُوْلُ ہٰذِہِ الْعِلَّۃُ یَشْتَمِلُ الْعَقَارَ اَیْضاً کہ یہ علت جو ہے مولانا یعنی ناحق قبضہ عقار کا ترجمہ کرلیں غیر منقولی بھئی۔ یہ علت جو ہے غیر منقولی چیز کو کو بھی شامل ہے، یعنی اس میں بھی کبھی قبضہ حق ہوتا ہے اور کبھی قبضہ ناحق، تو وہاں پر بھی غیر حق کی قید بڑھانی چاہیے، تو منقولی کی قید کیوں لگائی؟ اس کی علت مجھے سمجھ میں نہیں... کہ یہ جو علت ہے کہ قبضہ ناحق ہے، یہ مشتمل ہے عقار کو بھی۔ فَلَا اَدْرِیْ بِسَبْیِ تَخْصِیْصِ الْمَنْقُوْلِ بِهٰذَا الْحُکْمِ کہ منقول کو اس حکم کے ساتھ خاص کرنے کی کیا وجہ ہے؟ وَفِی الْعَقَارِ لَا یَثْبُتُ الْیَدُ اِلَّا بِحُجَّۃٍ اَوْ عِلْمِ الْقَاضِی اور زمین وغیرہ غیر منقولی کے اندر لَا یَثْبُتُ الْیَدُ... یَد... قبضہ ثابت نہیں ہوگا، کس کا قبضہ مولانا؟ مدعا علیہ کا قبضہ ثابت نہیں ہوگا، اِلَّا بِحُجَّۃٍ مگر کسی بینہ کے ساتھ، اَوْ عِلْمِ الْقَاضِی یا قاضی کے جاننے سے۔ بھئی دیکھو، صورت یہ بھئی، میں نے آپ پر دعویٰ کیا، قاضی صاحب! اس نے میری زمین پر کیا کیا ہے؟ قبضہ کیا ہے، تو قاضی فورا مجھے یہ نہیں کہہ دے گا کہ لاؤ بھئی! بینہ پیش کرو، تم مدعی ہو اور مدعی پر کیا ہوتا ہے؟ بینہ پیش کرو کہ وہ زمین تمہاری ہے۔ بھئی وہ زمین میری ہے یا اس کی ہے، یہ بحث تو بعد میں آئے گی، پہلے یہ تو پتہ چل جائے کہ وہ زمین مدعا علیہ کے قبضے میں بھی ہے یا قبضے میں... پہلے یہ ثابت ہو جائے کہ وہ زمین آپ کے قبضے میں ہے، جب پتہ لگ گیا کہ یہ زمین اس کے قبضے میں ہے، اب میرا دعویٰ کیا ہوا؟ صحیح ہوا، اب میں اپنے دعویٰ پر کہ یہ زمین میری ہے، اس پر پھر میں دو گواہ الگ پیش کروں گا، تو پہلے دو گواہ کس پر پیش کروں گا؟ کہ وہ زمین کس کے قبضے میں ہے؟ مدعا علیہ کے قبضے میں ہے بھئی، یا تو اس پر بینہ پیش کرنا ضروری... یا قاضی کو خود پتہ ہے کہ وہ زمین کس کے قبضے میں ہے؟ مدعا علیہ کے قبضے میں ہے۔ کیوں بھئی؟ یہ کیوں ضروری؟ کیا ضرورت ہے مجھے بینہ پیش کرنے کی اس بات پر کہ زمین کس کے قبضے میں ہے؟ پہلے اس پہ بینہ پیش کروں کہ یہ زمین... یہ زمین اس کے قبضے میں ہے، پھر میں اس پر بینہ پیش کروں کہ یہ میری زمین ہے۔ کہتے ہیں بھئی دراصل یہاں تہمت کا خدشہ ہے۔ تہمت یہ کہ ہو سکتا ہے زمین کسی اور آدمی کی ہو، زمین کسی اور آدمی کی ہے اور قبضہ بھی اسی کا ہے، تیسرے آدمی کی زمین ہے اور قبضے میں بھی اسی کی ہے، یہ دو آدمی اٹھ کر آئے، فرضی مقدمہ بنا دیا قاضی کے سامنے آکر ان دونوں نے۔ ان دونوں نے آپس میں اتفاق کر لیا کہ ہم چل کر قاضی کے پاس جا کر مقدمہ لڑتے ہیں، تمہارے یا میرے حق میں فیصلہ ہو جائے گا اور پھر ہم زمین آپس میں کیا کر لیں گے؟ آپس میں ہم تقسیم کر لیں گے یا اس پر قبضہ کر لیں گے بھئی۔ تو آپس میں دو آدمی اتفاق کر لیتے ہیں، زید کی زمین ہے، قبضہ بھی زید کا ہے لیکن زید بیچارے کو پتہ نہیں، وہ اپنے گھر پر بیٹھا ہے، یہ دو آدمی مقدمہ لے کر قاضی کے پاس چلے گئے بھئی۔ قاضی صاحب! یہ ہے یہ مد... یہ مدعا علیہ ہے بھئی، اس میری زمین کیا ہے؟ میری زمین اس کے قبضے میں ہے، فلاں زمین ہے بھئی، فلاں جگہ پر اس اس قسم کا مکان ہے، اس کے دائیں فلاں کا مکان ہے، بائیں فلاں کا مکان ہے، پچھلی طرف فلاں گلی ہے بھئی اور آگے کی طرف فلاں گلی ہے، پورا حدود اربعہ بیان کر دیتا ہے، وہ والا جو قاضی صاحب مکان ہے، فلاں محلے کے اندر، وہ کس کا ہے؟ میرا ہے اور میرا ہے بھئی، جو اس کے قبضے میں ہے بھئی۔ اب قاضی کیا کہہ دیتا ہے مثلاً، قبضے پر بینہ پیش نہیں کرتے، بلکہ فورا مدعی کو کیا کہہ دیتا ہے؟ بینہ پیش کرو! کیا کرو؟ بینہ پیش کرو کہ وہ مکان تمہارا ہے بھئی۔ یہ کہتا ہے بینہ تو میرے پاس نہیں ہے بھئی، بینہ تو میرے پاس نہیں ہے۔ تو قاضی دوسرے کو کہتا ہے، تم قسم اٹھاؤ بھئی کہ وہ وہ زمین تمہاری ہے، یہ قسم سے انکار کر دیتا ہے۔ جب اس نے قسم سے انکار کر دیا، قاضی فورا فیصلہ کر دے گا، معلوم ہو مدعی سچا ہے، معلوم ہو مدعی... زمین اس کی ہے، قاضی لکھ کر دے دے گا، یہ فلاں مکان مدعی کا ہو گیا، میں نے فیصلہ کر دیا۔ حالانکہ مکان تو کس بیچارے کا تھا؟ اور زید تو گھر بیٹھا ہے، اس بیچارے کو پتہ بھی نہیں، ادھر قاضی نے اس کی زمین کس کے نام کر دی؟ مدعی کے نام کر دی۔ تو سمجھ میں آیا، تو دو آدمی اس طرح اتفاق کر سکتے ہیں اور اس طرح ایک تیسرے کی زمین ہتھیا سکتے ہیں، لہذا شریعت نے بھئی، فقہائے کرام نے اس راستے کو بھی بند کیا اور کیا فرمایا؟ کہ جب زمین کے اندر ایک شخص دوسرے پر کس چیز کا دعویٰ کرے؟ زمین کا دعویٰ کرے، دوسرے شخص پر زمین ہو، جائیداد ہو، غیر منقولی جو بھی چیز ہو، تو پہلے کیا ثابت کرنا پڑے گا بینہ کے ذریعے؟ کہ زمین یا وہ جائیداد کس کے قبضے میں ہے؟ مدعا علیہ کے قبضے میں ہے۔ جب یہ ثابت ہو جائے گا، اس کے بعد کیا کیا جائے گا، آگے مقدمہ چلایا جائے گا۔ صورت سب کو سمجھ میں آگئی؟ وَفِی الْعَقَارِ لَا یَثْبُتُ الْیَدُ اِلَّا بِحُجَّۃٍ اَوْ عِلْمِ الْقَاضِی اور غیر منقولی کی چیزوں کے اندر لَا یَثْبُتُ الْیَدُ... یَد... قبضہ ثابت نہیں ہوگا، اِلَّا بِحُجَّۃٍ مگر کس کے ذریعے؟ بینہ کے ذریعے بھئی۔ قبضہ ثابت نہیں ہوگا، کس کا قبضہ مراد ہے؟ مدعا علیہ کا قبضہ ثابت نہیں ہوگا، مگر بینہ کے ذریعے اَوْ عِلْمِ الْقَاضِی یا کس کے ذریعے؟ قاضی کے علم سے۔ قَالَ فِی الْھِدَایَۃِ ہدایہ میں فرماتے ہیں صاحب ہدایہ: اِنَّہُ لَا یَثْبُتُ الْیَدُ فِی الْعَقَارِ کہ قبضہ ثابت نہیں ہوگا بھئی مدعا علیہ کا فِی الْعَقَارِ کس کے اندر بھئی؟ غیر منقولی چیز کے اندر، اِلَّا بِالْبَیِّنَۃِ اَوْ عِلْمِ الْقَاضِی مگر بینہ کے ذریعے یا قاضی کے علم کے ذریعے، ھُوَ السَّحِیْح یہی قول صحیح ہے۔ بھئی کیوں بھئی؟ کیوں قبضہ ثابت نہیں ہوگا؟ کہتے ہیں: دَفْعاً لِتُھْمَۃِ الْمُوَا زَعَۃِ مواضعت کا معنی موافقات بھئی، باہمی اتفاق کرنا۔ زمین تیسرے کی ہے اور دو آدمی باہمی اتفاق کرکے فرضی مقدمہ بنا لیتے ہیں۔ دَفْعاً لِتُھْمَۃِ الْمُوَا زَعَۃِ موافقت یعنی باہمی اتفاق کی تہمت کو دور کرنے کے لیے، سمجھ میں آیا بینہ یا علم قاضی ضروری ہے۔ اِذِ الْعَقَارُ عَسَاہُ فِی یَدِ غَیْرِھِمَا بھئی اس لیے کہ وہ غیر منقولی چیز جو ہے عَسَاہُ شاید کہ فِی یَدِ غَیْرِھِمَا ان دونوں کے علاوہ کسی اور کے قبضے میں ہو، بِخِلَافِ الْمَنْقُوْلِ بخلاف کس کے بھئی؟ منقولی چیز کے، فَانَّ الْیَدَ فِیْہِ مُشَاہَدَۃٌ اس لیے کہ قبضہ اس کے اندر مشاہدہ ہے۔ بھئی دیکھو، یہ قید کیوں لگائی؟ کہ غیر منقولی کے اندر مدعا علیہ کے قبضے کے لیے کیا ضروری ہے؟ بینہ یا علم قاضی۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آرہا ہے کہ نہیں بھئی؟ کیا متن میں کیا مسئلہ ذکر کیا کہ غیر منقولی چیز کے اندر قبضے کے لیے کیا ضروری ہے؟ ہاں، تو ثبوت قبضے کے لیے بھئی بینہ یا علم قاضی ضروری... تو بھئی منقولی کے اندر کیوں یہ شرط نہیں لگائی؟ کہتے ہیں بھئی منقولی کے اندر تو قبضے کا خود مشاہدہ ہو جائے گا بھئی۔ میں نے ایک شخص کو دوسرے پر... میں نے ایک دوسرے شخص پر کیا گاڑی کا دعویٰ کیا کہ یہ گاڑی کس کی ہے؟ میری، تو وہاں پر تو قبضے کا باقاعدہ مشاہدہ ہو جائے گا کہ وہ گاڑی ہے ہی کس کے پاس اس وقت؟ جی... مدعا علیہ کے قبضے میں ہوگی، اس کے پاس ہوگی، اس کے مکان میں ہوگی، اس کا وہ چلانے والے کو اس کو بھئی، تو قبضے کا... منقولی چیز میں تو قبضے کا مشاہدہ ہو جاتا ہے بھئی، لیکن غیر منقولی کے اندر مشاہدہ نہیں ہو سکتا۔ وَخِلَافِ الْمَنْقُوْلِ بخلاف منقولی چیز کے، فَانَّ الْیَدَ فِیْہِ مُشَاہَدَۃٌ اس لیے کہ قبضہ جو ہے اس کے اندر مشاہدہ ہے۔ جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مشاہدہ بھئی، جس میں مفعول ہیں مولانا اور ید مونث سماعی ہے، اس لیے مُشَاہَدَۃٌ بھئی اس میں مفعول مؤنث لے کر آئے ہیں۔ فَتُھْمَۃُ الْمُوَا زَعَۃِ اَنَّ الْمُدَّعِیَ وَالْمُدَّعٰی عَلَیْہِ تَوَازَعَا فمواضعت کی تہمت وہ یہ ہے بھئی، اوپر کیا ذکر کیا بھئی کس چیز کو دور کرنے کے لیے یہ بینہ یا علم قاضی ضروری ہے؟ تہمت مواضعت کو بھئی۔ تہمت مواضعت وہ کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں وہ یہ کہ ان المدعی والمدعلیہ کہ مدعی اور مدعلیہ جو ہیں تَوَازَعَا اَی اِتَّفَقَا وہ دونوں کیا کر لیتے ہیں؟ اتفاق کر لیتے ہیں عَلٰی اَنْ یَّقُوْلَ الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ کہ مدعلیہ یوں کہے کہ ان الدار فی یدی کہ وہ گھر کس کے قبضے میں ہے؟ دیکھا دو آدمی ترکی بنے، اپنی طرف سے بنا رہے ہیں، وہ اتفاق کر رہے ہیں کہ مدعلیہ، تم قاضی کے پاس جا کر یوں کہنا کہ ان الدار فی یدی کہ وہ گھر میرے قبضے میں ہے، والْحَالُ اَنَّھَا فِی یَدِ ثَالِثٍ اور حال یہ ہوتا ہے کہ وہ گھر کس کے قبضے میں ہوتا ہے؟ کسی تیسرے کے قبضے میں ہوتا ہے، وَّیُقِیْمُ الْمُدَّعِی بَیْنَۃً بھئی تو مدعی قائم کر دیتا ہے بينہ اس پر، ویحکم القاضی بانھا ملک المدعی اور قاضی بھی اس بات کا فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ کس کی ملکیت ہے؟ مدعی کی ملکیت ہے۔ بھئی گواہ کس پر پیش کیے جاتے ہیں؟ خصم پر یا اس کی غیر موجودگی میں بھئی؟ بھئی قاضی بينہ علی الغائب سن سکتا ہے؟ نہیں، تو یہ بینہ تو اس غائب کے خلاف ہے، تو اس کا حضور ضروری تھا اور وہ تو یہاں پر حاضر نہیں، لہذا یہ درست نہیں بھئی۔ اور حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی تیسرے کے قبضے میں ہوتا ہے، فَقِیْمُ الْمُدَّعِی بَیْنَۃً تو مدعی بینہ قائم کر دیتا ہے، وَّیَحْکُمُ الْقَاضِی بِاَنَّھَا مِلْکُ الْمُدَّعِی اور قاضی بھی اس بات کا فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ مدعی کی ملکیت ہے۔ وَاِنَّمَا قَالَ فِی الْھِدَایَۃِ ھُوَّ السَّحِیْح ہدایہ میں ھُوَّ السَّحِیْح کا قول ذکر کیا بھئی صاحب ہدایہ نے کہ یہی قول صحیح ہے، معلوم ہوا یہاں ایک اور قول بھی یا اور اقوال بھی ہیں، کہتے ہیں بھئی لِاَنَّ عِنْدَ بَعْضِ الْمَشَائِخِ اس لیے کہ بعض مشائخ کے نزدیک یكفی تصدیق المد علیہ انھا فی یدہ مدعلیہ کی تصدیق ہی کافی ہے کہ وہ چیز اس کے قبضے میں ہے۔ اوپر متن میں تو کیا ذکر کیا بھئی؟ سبق کی طرف توجہ ہے؟ کہ سست بیٹھے ہیں سارے جو کہتے ہیں ہدایت کے اندر صاحب ہدایت فرماتے ہیں یہی قول صحیح ہے، معلوم ہوا یہاں اور قول بھی موجود ہیں بھئی۔ اس لیے کہ لِاَنَّ عِنْدَ بَعْضِ الْمَشَائِخِ یَکْفِیْ تَصْدِیْقُ الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ اَنَّھَا فِیْ یَدِہِ بھئی... بھئی صاحب متن میں تو فرمایا کہ عقار میں مدعلیہ کا قبضہ ثابت نہیں ہوگا جب تک کہ وہ بینہ پیش نہ کر دے یا قاضی کو اس کا علم نہ ہو۔ لیکن بعض مشائخ فرماتے ہیں نہیں بھئی، وہ عقار کے اندر بھی بینہ کی ضرورت نہیں۔ مدعلیہ اگر یہ کہہ دیتا ہے کہ وہ چیز میرے قبضے میں ہے، وہ زمین یا وہ مکان میرے قبضے میں ہے، تو یہ کہنا بھی کافی ہے۔ یہ معنی ہے، اس لیے کہ بعض مشائخ فرماتے ہیں یَکْفِیْ تَصْدِیْقُ الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ اَنَّھَا فِیْ یَدِہِ کہ وہ اقرار کیا ہے اس کے قبضے میں ہے، ولا يحتاج الی اقامۃ البینۃ اور وہ محتاج نہیں ہے بینہ قائم کرنے کا، مدعی محتاج نہیں ہے بینہ قائم کرنے کا، فانہ ان كان في يدہ واقر بذلِكَ اس لیے کہ اگر وہ چیز اس کے قبضے میں ہوئی واقر بذلک اور وہ اس کا اقرار بھی کر لیتا ہے، فالمعدی اخذھا منه تو مدعی لے لے گا اس سے ان ثبت ملكيته بالبینہ اگر اس کی ملکیت ثابت ہو جائے بینہ کے ذریعے او باقرار ذی الید یا قبضے والے کے اقرار کی وجہ سے او نكول یا اس کے قسم سے انکار کی وجہ سے۔ دیکھیے! بعض مشائخ علماء فرماتے ہیں کہ میں نے آپ پر مثلاً دعویٰ کر دیا کہ قاضی صاحب! اس کے پاس فلاں زمین ہے جو کہ میری ہے یا فلاں مکان ہے جو میرا ہے، تو متن میں تو ذکر کیا کہ مدعی کے ذمے ہے کہ بینہ بھی پیش کرے کہ وہ زمین کس کے قبضے میں ہے؟ مدعلیہ کے قبضے میں ہے۔ لیکن بعض مشائخ فرماتے ہیں نہیں بھئی، یہ بینہ اس پر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر مدعلیہ خود ہی تصدیق کر دیتا ہے کہ ہاں وہ چیز کیا ہے میرے قبضے میں ہے، تو یہ کافی ہے بھئی، وہ یہ کیا ہے؟ کافی ہے، اب بینہ کی ضرورت نہیں۔ تو اب دوست حادثہ سے خالی نہیں، یا تو وہ زمین واقعی وہ گھر واقعی اس کے قبضے میں ہوگا یا قبضے نہیں۔ اگر اس کے وہ گھر اس کے قبضے میں ہے اور فیصلہ اس کے خلاف ہو گیا... اگر وہ گھر اس کے قبضے میں ہے اور فیصلہ اس کے خلاف ہو گیا، تو مدعی کیا کر لے گا اس زمین کو اس سے لے لے گا، کیونکہ اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ آ گیا اور قاضی کا فیصلہ کس کے ذریعے آئے گا؟ یا تو بینہ کے ذریعے آئے گا یا مدعلیہ کے اپنے اقرار کے ذریعے کہ بھئی اقرار کر لے گا، یہ واقعی مدعی کی زمین ہے یا وہ کیا کرے گا؟ قسم سے انکار کر دے گا۔ تو تینوں صورتوں میں وہ مدعی مدعلیہ سے زمین کو لے لے گا۔ اور دوسرا حال یہ ہے کہ زمین اس کے قبضے میں اگر نہیں ہے، تو بھی کوئی خرابی نہیں بھئی، قاضی فیصلہ کر بھی دے، تو یہ فیصلہ اس حاضر کے خلاف تو ہے، اس غائب کے خلاف فیصلہ نہیں ہے، جس کے قبضے میں زمین تھی بھئی، تو وہ زمین تو اس تیسرے کے قبضے میں ہے اور وہ تو غائب ہے اور غائب کے خلاف قاضی فیصلہ... لہذا اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ نہیں۔ جب اس کے خلاف فیصلہ نہیں، تو اب یہ مدعی جا کر اس سے زمین زبردستی لے بھی... اس قاضی کے فیصلے کی وجہ سے نہیں لے سکتا، کیونکہ اس کے خلاف یہ فیصلہ ہی نہیں۔ یہ معنی ہے بھئی۔ وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ یَدِہِ اور اگر وہ زمین مدعی کے قبضے میں نہیں ہے... وَاَقَرَّ بِذَالِکَ اور لیکن یہ کیا کر لیتا ہے؟ اقرار کر لیتا ہے کہ ہے میرے قبضے میں ہے اور ہے کس کی؟ اس مدعی کی ہے بھئی، تو بھی کوئی حرج نہیں۔ لَا یَکُوْنُ لِلْمُدَّعِیْ وِلَایَۃُ الْاَخْذِ مِنْ ذِلْ یَدِ تو مدعی کو کوئی ولایت نہیں ہے کہ اس زمین کو لے لے من ذی الید قبضے والے سے یعنی اس تیسرے آدمی سے جا کر لے لے۔ وَإِنْ أَقَامَ الْمُدَّعِي الْبَيِّنَةَ اگرچہ مدعی کیا قائم کر دے؟ بینہ بھی قائم کر دے، لِأَنَّ الْبَيِّنَةَ قَامَتْ عَلَى غَيْرِ خَصْمٍ اس کے لیے کہ بینہ کس پر قائم ہوئی ہے؟ غیر خصم پر قائم ہوئی ہے۔ فَعُلِمَ پتہ لگ گیا، أَنَّهُ إِذَا أَقَرَّ ذُو الْيَدِ بِالْيَدِ تو جب قبضے والا اقرار کر لے قبضے کا، فَلَا يَحْلَقُ الضَّرَرُ إِلَّا بِذِي الْيَدِ تو ضرر وہ ملحق نہیں ہوتا مگر قبضے والے ہی کے ساتھ بھئی، وَلَا يَلْحَقُ إِلَى غَيْرِهِ اور غیر کے ساتھ وہ ملحق نہیں ہوتا۔ بھئی اس نے اگرچہ اقرار بھی کر دیا قاضی کے سامنے کہ قاضی صاحب! وہ زمین میرے قبضے میں ہے اور قاضی نے اس کے خلاف فیصلہ بھی کر دیا، تو ضرر اسی کو ہوگا، اگر وہ زمین تیسرے شخص کے قبضے میں ہے، تو اس کو کوئی ضرر نہیں ہوگا۔ یہی بات بتلا رہے ہیں۔ تو ضرر ملحق نہیں ہوگا مگر قبضے والے کے ساتھ، یعنی جو بظاہر دعویٰ کر رہا ہے قبضے کا، اسی کو ضرر لاحق ہوگا، وَلَا يَلْحَقُ إِلَى غَيْرِهِ غیر کے ساتھ وہ ضرر ملحق نہیں... فَتُھْمَۃُ الْمُوَا زَعَۃِ مَدْفُوْعَۃٌ بھئی، تو مواضعت یعنی اتفاق... باہمی اتفاق کی جو تہمت ہے وہ مدفوع ہو جائے گی، دور ہو گئی بھئی۔ عَلَى أَنَّ تُهْمَةَ الْمُوَاضَعَةِ إِنْ كَانَتْ ثَابِتَةً هَاهُنَا فَفِي صُورَةِ إِقَامَةِ الْبَيِّنَةِ ثَابِتَةٌ أَيْضاً نِیز، پہلے فقہاء نے کیا فرمایا تھا جو متن میں کیا ضروری ہے بھئی؟ زمین کے اندر مدعلیہ کے قبضے کے لیے بھی بینہ یا علم قاضی کا ہونا ضروری... بینہ کا ہونا ضروری اور یہاں پر بعض مشائخ کا قول ذکر کیا، وہ کیا فرماتے ہیں؟ بینہ کا ہونا ضروری نہیں بلکہ مدعی علیہ کی تصدیق بھی کافی ہے۔ یہ مشائخ فرماتے ہیں کہ بھئی، بَيِّنَةٍ، آپ فرماتے ہیں کہ بَيِّنَةٍ قائم کرے، اس سے وہ مۆاضَعَت کی تہمت کیا ہو جائے گی؟ دور۔ اور آپ فرماتے ہیں تصدیق کی صورت میں مۆاضَعَت کی تہمت ہے، بَيِّنَةٍ کی صورت میں مۆاضَعَت کی تہمت نہیں ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، بَيِّنَةٍ کی صورت میں بھی مۆاضَعَت کی تہمت موجود ہے۔ بَيِّنَةٍ کی صورت میں بھی کیا ہے؟ مۆاضَعَت کی تہمت موجود ہے، کس طرح بھئی؟ بھئی مکان تھا زید کا، لیکن اس نے دوسرے آدمی کے پاس بطور امانت کے رکھوایا بھئی کہ میرے اس مکان کی حفاظت کرنا، میں ذرا سفر پر جا رہا ہوں۔ اب یہ جو مدعا علیہ ہے، قبضہ تو اسی کا ہے، قبضہ کس کا ہے؟ اسی کا ہے، لیکن کیا وہ مالک ہے؟ کیا اب اس کے ساتھ مقدمہ لڑ کر اسے مکان لیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ وہ تو اس کا قبضہ تو ہے، لیکن اس کا قبضہ ملکیت والا قبضہ نہیں ہے، بلکہ کون سا ہے؟ امانت والا ہے۔ تو اب یہ شخص جس کا قبضہ امانت والا ہے، اس پر میں نے کیا پیش کر دیا؟ بَيِّنَةٍ بھی پیش کر دی، قاضی صاحب، یہ مکان میرا ہے، مجھے دلایا جائے، قاضی کہتا ہے بھئی بَيِّنَةٍ پیش کرو کہ یہ مدعا علیہ کے قبضے میں بھی ہے مکان یا قبضے میں، میں نے بَيِّنَةٍ قائم کر دی، دو گواہوں نے گواہی دے دی کہ مکان واقعی اس مدعا علیہ کے قبضے میں ہے، تو بھئی، پھر بھی... اور میں نے آپ سے کہا تھا بھئی کہ ہاں آپ نے قاضی کے سامنے جا کر کیا کہنا ہے کہ مکان میرے قبضے میں بھی ہے بھئی، یا اگر، یا میں بَيِّنَةٍ پیش کر دیتا ہوں بھئی، تو پھر بھی اتفاق تو پھر بھی اس صورت میں ہوا، اس نے قاضی کے سامنے یہ نہیں بیان کیا کہ قاضی صاحب! میرا قبضہ ملکیت والا نہیں ہے، بلکہ کون سا ہے؟ امانت والا ہے، ہم دونوں نے باہم اتفاق کر لیا تھا کہ قاضی کو یہ نہ بتانا کہ تمہارا قبضہ امانت والا ہے بھئی، تو باہم موافقت یہاں بھی آگئی یا نہیں آگئی بھئی؟ اور قاضی نے فیصلہ بھی کر دیا، تو لہٰذا... حالانکہ مالک تو اس زمین کا کوئی اور ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ عَلَى أَنَّ الْعَلَاوَةَ، تو ہم وہ کہتے ہیں، وہ بَيِّنَةٍ تصدیق کی صورت میں بھی مۆاضَعَت کی تہمت دور ہو جائے گی، عَلَى أَنَّ تُهْمَةَ الْمُوَاضَعَةِ إِنْ كَانَتْ ثَابِتَةً هَاهُنَا، علاوہ اس کے کہ اگر باہم موافقت کی تہمت اگر وہ یہاں ثابت ہے، یعنی تصدیق کی صورت میں ثابت ہے، وَفِي صُورَةِ إِقَامَةِ الْبَيِّنَةِ ثَابِتَةٌ أَيْضًا، تو بَيِّنَةٍ قائم کرنے کی صورت میں بھی قائم ہے، فَإِنَّ الدَّارَ إِذَا كَانَتْ فِي يَدِ رَجُلٍ أَمَانَةً، اس لیے کہ اگر گھر جو ہے، کسی شخص کے قبضے میں کیا ہوا؟ بطور امانت کے ہوا، وَوَاضَعَ الْمُدَّعِيَ وَذُ الْيَدِ، تو مدعی نے باہم اتفاق کر لیا، مدعی نے اور قبضے والے نے، کون سا قبضے والا؟ جس کے پاس مکان کیا ہے؟ امانت ہے، عَلَى إِثْبَاتِ أَنَّ ذَا الْيَدِ لَا يَقُولُ أَنَّهَا لَا يَقُولُ إِنَّهَا أَمَانَةٌ فِي يَدِهِ، کہ قبضے والا یہ نہیں کہے گا قاضی کے پاس کہ إِنَّهَا أَمَانَةٌ فِي يَدِهِ کہ یہ چیز کیا ہے اس کے قبضے میں امانت ہے، حَتَّى يُقِيمَ الْمُدَّعِي الْبَيِّنَةَ عَلَى أَنَّهَا فِي يَدِ ذِي الْيَدِ، یہاں تک کہ مدعی پھر بَيِّنَةٍ قائم کر دیتا ہے اس بات پر کہ یہ چیز، یہ مکان ذُو الْيَدِ کے قبضے والے کے قبضے میں ہے، مدعا علیہ کے قبضے میں ہے، ثُمَّ يُقِيمُ بَيِّنَةً عَلَى أَنَّهَا مِلْكُ الْمُدَّعِي، پھر وہ بَيِّنَةٍ قائم کر دیتا ہے کہ یہ کس کی ملکیت ہے؟ مدعی یعنی میری ملکیت ہے، مدعی بَيِّنَةٍ قائم کر رہا ہے نا، تو وہ اس بات پر بَيِّنَةٍ قائم کر دیتا ہے کہ یہ میری ملکیت ہے، فَيَقْضِي الْقَاضِي وَيَأْخُذُ الْمُدَّعِي الدَّارَ، تو قاضی کیا کر دیتا ہے؟ فیصلہ کر دیتا ہے اور مدعی کیا کر لیتا ہے گھر کو لے لیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو اتفاق جیسے تصدیق کی صورت میں باہمی اتفاق ممکن ہے، یہاں بَيِّنَةٍ کی صورت میں بھی باہمی اتفاق ممکن ہے، صورت بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ فَالْحَاصِلُ أَنَّهُ إِذَا ظَهَرَ أَنَّهُ فِي يَدِ سَالِسٍ، حاصل کلام یہ ہے کہ جب یہ بات ظاہر ہو جائے کہ مکان جو تھا، وہ جائیداد جو تھی، وہ تو تیسرے کے قبضے میں تھی، جی، تیسرے کے قبضے میں تھی، وَذُو الْيَدِ أَقَرَّ أَنَّهُ فِي يَدِهِ، اور قبضے والے نے اقرار کیا تھا کہ یہ تو کس کے قبضے میں ہے؟ مکان کس کے قبضے میں تھا بھئی؟ کسی تیسرے کے قبضے میں تھا، اور یہاں پر قاضی کے سامنے ذُو الْيَدِ نے کیا اقرار کیا تھا؟ مدعا علیہ نے کیا اقرار کیا تھا؟ کہ میرے قبضے میں ہے، تو قاضی نے فیصلہ کر دیا، تو لَا يَصِيرُ الثَّالِثُ مَحْكُومًا عَلَيْهِ، تو تیسرا شخص جو ہے وہ محكوم علیہ نہیں ہوا بھئی، اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ نہیں ہوا، وَكَذَا إِنْ ظَهَرَ أَنَّ يَدَ ذِي الْيَدِ يَدُ أَمَانَةٍ لَا يَدُ خُصُومَةٍ، اور اسی طرح اگر یہ بات بھی ظاہر ہو گئی کہ ذُو الْيَدِ کا جو قبضہ ہے، وہ امانت والا قبضہ ہے، خصومت والا قبضہ نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ حاصل کلام دوبارہ سن لو بھئی۔ ماتن نے یہ بات ذکر کی کہ جائیداد کے اندر اگر کسی سے دعویٰ کسی پر کیا جائے تو، اس دعوے پر بَيِّنَةٍ پیش کرنے سے پہلے مدعا علیہ کے قبضے میں ہے وہ مکان، اس پر بھی بَيِّنَةٍ پیش کرنا ضروری ہے، یا قاضی کا جاننا ضروری ہے، بھئی بَيِّنَةٍ کی کیا ضرورت ہے یہاں پر؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ہو سکتا ہے، مکان اس مدعا علیہ کے قبضے میں ہی نہ ہو، اور مدعی اور مدعا علیہ دونوں باہم اتفاق کر لیں کہ ہم قاضی کے پاس یوں جائیں گے، تم کہ میں تمہارے اوپر دعویٰ کروں گا مکان کا، اور تم قاضی کے سامنے کیا کہنا؟ میری تصدیق کر دینا کہ مکان واقعی تمہارے قبضے میں ہے بھئی، مکان تمہارے قبضے میں ہے، پھر مقدمہ آگے چلے گا، میں بَيِّنَةٍ پیش کر دوں گا، یا بَيِّنَةٍ نہیں ہوئی تو تم ان کا قسم سے انکار کر دو گے، تو کسی ایک کو مکان مل جائے گا، اور پھر ہم دونوں اس کو اس میں کیا ہو جائیں گے؟ شریک آپس میں نصف کر لیں گے بھئی، تو دیکھو موافقت کا تہمت کا خدشہ ہے، لہٰذا فقہاء فرماتے ہیں یہاں کیا کرنا پڑے گا؟ قبضے کے لیے بھی پہلے بَيِّنَةٍ قائم کرنا پڑے گی، بعض مشائخ فرماتے ہیں نہیں بھئی، بَيِّنَةٍ قائم کرنے کی ضرورت نہیں بھئی، بَيِّنَةٍ قائم کرنے کی اور علامہ صدر الشریعہ نے بھی اس قول کو ترجیح دی ہے، چنانچہ لمبی تقریر اس پر ذکر فرما کہ بعض مشائخ فرماتے ہیں بَيِّنَةٍ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ مدعا علیہ اگر تصدیق کر دے کہ وہ مکان میرے قبضے میں ہے تو یہ بھی کافی ہے، اس لیے کہ جب یہ تصدیق کر دیتا ہے اور پھر اس کے بعد قاضی فیصلہ کر دیتا ہے، مکان مدعی کو دلوا دیتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں، فیصلہ اس مدعا علیہ کے خلاف ہوا ہے، حالانکہ مکان تو کس کا ہے؟ تیسرے آدمی کا ہے اور تیسرے ہی کے قبضے میں ہے، تو یہ فیصلہ اس حاضر کے خلاف تو ہوا، اس غائب کے خلاف تو یہ مدعی جا کر اس مکان کو نہیں لے سکتا بھئی۔ اور دوسری بات آپ نے یہ کی بھئی کہ بَيِّنَةٍ ضروری ہے، تصدیق کی صورت میں موافقت کا امکان ہے، کہتے ہیں بَيِّنَةٍ کی صورت میں بھی تو موافقت کا امکان موجود ہے، وہ کس طرح؟ کہ ایک آدمی نے دوسرے کے پاس اپنی چیز، اپنی زمین بطور امانت کے رکھوائی بھئی، اب مدعی جو جس کے پاس امانت رکھوائی، وہ صاحبِ قبضہ جو ہے، وہ اور ایک اور آدمی دونوں آپس میں اتفاق کر لیتے ہیں، وہ کہتا ہے میں قاضی کے پاس جا کر دعویٰ کروں گا کہ مکان تمہارے قبضے میں ہے اور میں اس کا مالک ہوں، مجھے مکان دلایا جائے بھئی، تو... تو تم، اور قاضی پھر مجھے کہے گا بھئی کہ اس بات پر بَيِّنَةٍ پیش کرو کہ یہ مکان اس مدعا علیہ کے قبضے میں ہے، میں وہاں پر بَيِّنَةٍ قائم کر دوں گا اس بات پر کہ مکان کس کے قبضے میں ہے؟ تمہارے قبضے میں ہے، لیکن تم یہ نہ بولنا وہاں پر کہ مکان تمہارے پاس بطور ملکیت کے نہیں ہے، بلکہ بطور امانت کے ہے، بس یہ بات نہیں بولنی، تمہارا قبضہ ثابت کر رہے ہیں، اور مکان تو ہے واقعی تمہارے قبضے میں، تو بَيِّنَةٍ کے ذریعے وہ جا کر کیا کر دیتا ہے قاضی کے سامنے ثابت کر دیتا ہے کہ مکان کس کے قبضے میں ہے؟ یہ جو مدعا علیہ ہے، جب مکان اس کے قبضے میں ثابت ہو گیا، اب قاضی کہتا ہے ہاں بھئی، اب اس بات پر بھی گواہ پیش کرو کہ مکان کے مالک اے مدعی! تم ہو، مدعی اب اس کی ملکیت پر اپنے گواہ پیش کر دیتا ہے اور قاضی کیا کر دیتا ہے؟ فیصلہ کر دیتا ہے، تو دیکھو بَيِّنَةٍ بھی آئی، اور اتفاق بھی دونوں کا، تو دیکھو باہمی اتفاق بَيِّنَةٍ کی صورت میں بھی ممکن ہے، جیسے کہ تصدیق کی صورت میں ممکن تھا، تو کہتے ہیں بھئی کوئی حرج نہیں ہے، فقہاء کرام حاصل کلام یہ ہوا کہ اگر قاضی فیصلہ کر بھی دے، لیکن قبضے میں مکان تیسرے کے ہو، تو اس تیسرے کے خلاف یہ فیصلہ شمار نہیں ہوگا بھئی۔ وَالْمُطَالَبَةُ بِهِ، بھئی وَالْمُطَالَبَةُ بِهِ اس کا عطف ہے، ما قبل میں کیا گزر رہا تھا بھئی؟ بھئی 203 صفحے کی سب سے پہلی سطر میں آ رہا ہے، وَيَذْكُرُ قِيمَتَهَا، مدعی کیا کرے گا؟ اس معین چیز کی قیمت ذکر کرے گا، اور یہ ذکر کرے گا کہ أَنَّهُ فِي يَدِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ کہ وہ چیز کس کے قبضے میں ہے؟ مدعا علیہ کے قبضے میں ہے، وَمَاذَا ذَكَرَ؟ وَالْمُطَالَبَةُ بِهِ بھئی، اس کا عطف بھی أَنَّهُ فِي يَدِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ پر ہے بھئی، اور وہ مفعول ہے يَذْكُرُ کے لیے، تو وَالْمُطَالَبَةُ بِهِ یہ بھی کیا بنے گا؟ مفعول بنے گا، وَيَذْكُرُ الْمُطَالَبَةَ مُطَالَبَةً بِهِ، اور اس کے مطالبے کو بھی ذکر کرے گا، مدعی کیا کہے گا؟ قاضی صاحب! یہ فلاں چیز ہے، اس شخص کے قبضے کے اندر ہے، اور مدعا علیہ کے قبضے میں ہے، ناحق طور پر ہے، اور میں اس کا مطالبہ کرتا ہوں، وہ چیز مجھے دلائی جائے، تو مطالبے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وَالْمُطَالَبَةُ بِهِ اور اس کا مطالبہ کرنا اس کو یہ بھی ذکر کرے گا، حَقٌّ عَلَى قَوْلِهِ یہ عطف ہے ماتن کے اس قول پر وَأَنَّهُ فِي يَدِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ پر، وَإِحْضَارُهُ، اس کا عطف کس پر ہے بھئی؟ بھئی صفحہ 202، 202 کے بالکل آخر میں آیا تھا، يَجِبُ إِحْضَارُهُ، کہتے ہیں اگر وہ عین جو چیز کیا ہے؟ بھئی جس چیز جو دعویٰ کیا گیا کس چیز کا کیا گیا؟ کسی معین چیز کا، کسی معین چیز کا میں نے دعویٰ کیا ہے دوسرے پر، مثلاً گاڑی کا کہ اس کے پاس ایک گاڑی ہے، جس کا مالک میں ہوں، تو اگر وہ چیز غائب ہے، يَجِبُ إِحْضَارُهُ، اس کا حاضر کرنا واجب ہے، إِنْ أَمْكَنَ، اگر ممکن ہو، اگر ممکن ہو تو کیا کیا جائے اس چیز کو؟ حاضر کرنا ضروری ہے، کیوں بھئی؟ حاضر کرنا کیوں ضروری ہے؟ لِيُشِيرَ إِلَيْهِ الْمُدَّعِي، تاکہ مدعی کیا کرے اس کی طرف اشارہ کرے۔ بھئی دعوے کے اندر کیا ضروری تھا؟ جی؟ بھئی دعوے کے اندر جس چیز کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کا ذکر ضروری تھا یا نہیں تھا؟ اور ایسے طور پر اس کا ذکر ضروری ہے کہ وہ باقی چیزوں سے وہ ممتاز ہو جائے، مثلاً اگر دَین ہے، تو جنس ذکر کرے گا اور اس کے، یا اگر وہ معین چیز وہ چیز یعنی معلوم ہو جائے، تو اگر وہ چیز دَین ہے، تو اس کی جنس اور مقدار ذکر کرے گا، اور اگر عین ہے، تو ایسے طریقے پر ذکر کرے گا کہ وہ باقی چیزوں سے ممتاز ہو جائے، اس کا پورا پتہ چل جائے، اور پورا پتہ، کامل طور پر کسی چیز کا علم جو ہے، وہ اشارے سے ہوتا ہے بھئی، جب میں نے کہہ دیا، گاڑی سامنے کھڑی ہو، میں نے کہا یہ گاڑی میری ہے، اس سے بڑھ کر اب کوئی چیز ممتاز ہو سکتی ہے؟ اشارے کے علاوہ کوئی چیز اسے ممتاز کر سکتی ہے؟ اشارے سے وہ چیز کامل طور پر ممتاز ہو جاتی ہے بھئی۔ تو مدعی تاکہ لِيُشِيرَ إِلَيْهِ الْمُدَّعِي، تاکہ مدعی کیا کرے اس کی طرف اشارہ کرے کہ میں اس گاڑی کا مدعا کر رہا ہوں، وَالشَّاهِدُ، اور گواہ بھی اس کی طرف اشارہ کریں بھئی، گواہ بھی گواہی دیتے ہوئے کہیں، اس گاڑی کا مالک فلانی بلکہ فلاں ہے، وَالْحَالِفُ، اور قسم اٹھانے والا بھی کیا کرے؟ اشارہ کرے، بھئی قسم کس پر آیا کرتی ہے؟ منکر پر، مدعی کے پاس گواہ نہیں تھے، تو اب قسم آ گئی دوسرے پر، تو وہ قسم اٹھاتے ہوئے اس گاڑی کی طرف کیا کرتا ہے؟ اشارہ کرتا ہے، یہ معنی ہے، تاکہ اشارہ کرے اس کے ساتھ مدعی بھی، گواہ بھی، اور قسم اٹھانے والا بھی۔ وَالذِّكْرُ، اس کا عطف احضار پر ہے، يَجِبُ إِحْضَارُهُ، وَيَجِبُ ذِكْرُ قِيمَتِهِ، اور واجب ہے اس کی قیمت کا ذکر کرنا، إِنْ تَعَذَّرَ، اگر ممکن نہ ہو بھئی، اس کا حاضر کرنا ممکن نہ ہو، سمجھ میں آیا؟ ایسی چیز ہے جس کا حاضر کرنا ممکن نہیں، اگر حاضر کر سکتا ہے تو پھر حاضر کرے، اگر حاضر کرنا ممکن نہیں ہے تو اس کی قیمت ذکر کرے بھئی۔ وَالْحُدُودُ الْأَرْبَعَةُ أَوْ الثَّلَاثَةُ فِي الْعِقَارِ، اور ذکر کرے چاروں حدود کو یا تین حدود کو غیر منقولی چیز کے اندر بھئی، بھئی میں نے آپ پر دعویٰ کیا، کس چیز کا دعویٰ کیا؟ مکان کا دعویٰ کیا، غیر منقولی چیز کا، تو اس میں ضروری ہے کہ میں مکان کے حدودِ اربعہ ذکر کروں، کہ قاضی صاحب! فلاں مکان ہے، فلاں محلے کے اندر، جس کے دائیں طرف فلاں کا مکان ہے، بائیں طرف فلاں کا مکان ہے، آگے کی طرف فلاں گلی ہے، پیچھے کی طرف فلاں گلی ہے، بھئی! أَوْ الثَّلَاثَةُ، یا کم از کم کتنے حدود بیان کرے؟ تین حدود بیان کرے، فِي الْعِقَارِ، غیر منقولی چیز کے اندر۔ وَأَسْمَاءُ أَصْحَابِهَا، اور اس غیر منقولی جائیداد کے مالکوں کے نام بھی ذکر کرے، وَنِسْبَتُهُمْ إِلَى الْجَدِّ، اور دادا تک ان کی نسبت بھی ذکر کرے بھئی، ان کا نسب بھی کیا کرے؟ ذکر کرے، سمجھ میں آیا؟ مثلاً میں کہتا ہوں بھئی، قاضی صاحب! فلاں محلے کے اندر جو فلاں مکان ہے، اتنے اتنے اس کی لمبائی ہے، اتنی چوڑائی ہے، اور اس کے دائیں طرف جو ہے، اس کے دائیں طرف کس کا مکان ہے؟ جی! مستندر خان بن قلندر خان بن فلاں خان، فلاں کا ہے مکان، اور بائیں طرف کس کا ہے؟ اللہ رکھا ابن اللہ دتہ ابن قاری خدا بخش بھئی، فلاں اس طرف اس کا مکان ہے، اور پچھلی طرف کیا ہے؟ فلاں محلے کی فلاں گلی ہے اس کی طرف بھئی، اور آگے کی طرف فلاں، تو ساری طرفیں ذکر کرنی پڑیں گی، جس جس کی زمین ہے، جس جس طرف ان کے نام ذکر کرے گا، اور صرف نام نہیں بلکہ ان کے دادا تک بھئی، تاکہ وہ کامل طور پر ممتاز ہو جائے بھئی۔ یہ معنی ہے بھئی۔ ذِكْرُ الْحُدُودِ يُشْتَرَطُ فِي دَعْوَى الدَّارِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، بھئی حدود کا ذکر کرنا شرط ہے گھر کے دعویٰ کے اندر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، وَإِنْ كَانَتْ مَشْهُورَةً، اگرچہ وہ کیا ہو بھئی؟ وہ گھر مشہور ہی کیوں نہ ہو، سب کو پتہ ہے اس زمین کا فلاں زمین ہے، فلاں مکان ہے، لیکن پھر بھی کیا کرنا ضروری؟ حدودِ اربعہ کا ذکر کرنا ضروری ہے، وَعِنْدَهُمَا لَا يُشْتَرَطُ، اور صاحبین کے نزدیک شرط نہیں ہے، حدود کو ذکر کرنا، اگر وہ گھر کس قسم کا ہے؟ وہ زمین کس قسم کی ہے؟ مشہور ہے، سب کو پتہ ہے۔ ثُمَّ ذِكْرُ الْحُدُودِ الثَّلَاثَةِ كَافٍ عِنْدَنَا، خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، پھر بھئی، حدودِ ثلاثہ کو ذکر کرنا کافی ہے ہمارے نزدیک، بخلاف امام زفر کے، اس لیے کہ ان کے نزدیک چاروں کا ذکر کرنا ضروری، ہمارے نزدیک تین اطراف بھی ذکر کر دے تو یہ کافی ہے، فَإِنَّهُ إِذَا ذَكَرَ ثَلَاثَةَ حُدُودٍ، كَمَا فِي هَذِهِ الصُّورَةِ، فَالْحَدُّ الرَّابِعُ خَطٌّ مُسْتَقِيمٌ آخَرُ، اس لیے کہ جب مدعی نے تین حدود ذکر کر دیں، جیسے کہ اس صورت کے اندر ہے، جیسے کہ بھئی! معلوم ہوا، علامہ صدر الشریعہ نے یہاں کوئی صورت بنائی ہوگی بھئی، کیا کیا ہوگا؟ لیکن نسخوں کے اندر وہ صورت ملتی نہیں بھئی، جو نسخے نقل ہوتے چلے آئے ہیں، ان کے اندر وہ صورت کاتبوں نے بنائی... ہاں، یہ محشی نے جانب میں بنائے ہیں، دو تین سورتیں ہیں بھئی۔ دیکھو، اب صورتِ اولیٰ کے اندر، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تین جانبیں ہیں بھئی، اور ایک طرف لکھا ہوا ہے، طَرَفٌ لَمْ يُذْكَرَ، یہ وہ جانب ہے جس کو ذکر نہیں کیا گیا، تو دیکھو تین جانبیں ذکر کر دیں، اس طرف فلاں کی زمین ہے، اس طرف فلاں کی، اس طرف فلاں کی، اور چوتھی طرف ذکر نہیں کی، تو کہتے ہیں کوئی حرج نہیں، چوتھی جانب ایک سیدھا خط ہوگا بھئی، کیا ہوگا؟ سیدھا تو دیکھو یہ سیدھا خط ہے یا نہیں بھئی؟ سیدھی خط، خط بھئی۔ دوسری تصویر دیکھیں بھئی، صورتِ ثانیہ بھئی، اس میں بھی دیکھو، ایک حد ذکر کی، دوسری اور تیسری، لیکن ایک طرف ہے چھوٹی اور ایک طرف بھئی، سمجھ میں آیا؟ دائیں طرف بھئی جو ہے، کیا ہے؟ چھوٹا خط ہے، اور بائیں طرف بڑا خط، تو طَرَفٌ لَمْ يُذْكَرَ نظر آیا بھئی؟ تو یہاں بھی ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک کیا فرض کیا جاتا ہے؟ سیدھا خَطّ فَرض كِيَا گِيَا، إِيك کونے سِے دُوسرِے کونے تک، إِسِي طرح اگلی تصوِیر مِیں بھِی بھَائى۔ تُو همارے نزدِیک طِین کا ذِکر إِى کافِی هَے، چَوتھِی طرف خَطّ مُستَقِیم مانا جائے گا۔ فَإِنَّہ إِذَا ذَکَرَ ثَلاثَۃَ حُدُودٍ إِس لِیے کہ مُدَّعِی نے جَب تِین حُدُود ذِکر کر لِیں کَما فِی ھٰذِہِ الصُّورَۃِ جَیسے کہ إِس صُورت کے اَندَر هَیں، فَالْحَدُّ الرَّابِعُ خَطٌّ مُسْتَقِيمٌ آخَرُ تو چَوتھِی حَد جو هَے، وہ إِیک اَور سِیدھا خَطّ هوگا۔ وَنِسْبَۃٌ إِلَى الْجَدِّ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ دَادَا تک نِسبَت کِیوں كِی جائے گی؟ كَہتے هَیں يہ اِمام بُو حَنِیفَہ رَحِمَه‌اللہ کا قَول هَے، اُن کے نزدِیک يہ ضَرورِی هَے، فَإِنْ كَانَ رَجُلًا مَّشْھُورًا يُكْتَفَىٰ بِذِكْرِهِ هَاں اگر اُن مِیں سے بھَائى جو همسائے هَیں، جِن كے آپ نے دَادَا تک نَام ذِکر كرنے هَیں، اُن مِیں سے اگر كوئِي مَشهُور آدَمِی هَے، تو يُكْتَفَىٰ بِذِكْرِهِ تو إِكتِفَا كِیا جائے گا اُس كے ذِکر پر، پھِر دَادَا تک ذِکر كرنے كِی ضَرورت نهِیں بھَائى۔ وَھٰذَا فِي دَعْوَىٰ الْأَعْيَانِ يہ تو كِس كے اَندَر تھا؟ اَعيان مُتَعَيِّن چِیزوں كے دَعوٰى مِیں تھا، اَمَّا فِي دَعْوَىٰ الدَّيْنِ بَاقِی دَين كے دَعوٰى كے اَندَر فَلَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ الْجِنْسِ وَالْقَدْرِ كَمَا مَرَّا تو ضَرورِی هَے اِس كے اَندَر جِنس کا ذِکر كرنا بھِی اور مِقدار کا ذِکر كرنا بھِی کَما مَرَّا جَیسے کہ گُذر گئِی بات، وَذُكِرَ فِي الزَّخِيرَةِ اور زَخِيرَة كِتاب كے اَندَر يہ بات بھِی ذِکر كِی گئِی هَے أَنَّهُ إِذَا كَانَ مَوْزُونِيًّا اگر وہ مُدَّعا کِيا هَے؟ جِس کا دَاجِ جِس چِیز کا دَعوٰى كِیا گَیا، وہ وَزنِی چِیزوں مِیں سے هَے كَالثَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ جَیسے کہ سُونا اور چَاندِی هَے، لَا بُدَّ أَنْ يَذْكُرَ الصِّفَاتِ ضَرورِی هَے كہ اُس كِی صِفَت كا بھِی ذِکر كرے بِأَنَّهُ جَيِّدٌ أَوْ رَدِيٌّ كہ وہ اَعمَلِ اُمّدہ قِسم کا هَے یا رَدِّی هَے، وَأَنْ يَذْكُرَ نَوْعَهُ اور يہ بھِی ذِکر اس كے نَوع کا بھِی ذِکر كرے نَحْوَ بُخَارِيِّ الضَّرْبِ أَوْ نَيْشَابُورِيِّ الضَّرْبِ كہ وہ بُخارِیُّ الضَّرب هَے یا نَیشاپورِیُّ الضَّرب ضَرب دَھلائِی، دَھلائِی مَولانا مُھر لگائِى، بھَائى دِرهَمَ و دَنانِير بَنَائے جاتے تھے، تو اُن پر باقِعدہ مُھر لگتِی تھی بھِى، سَمَجھ مِیں آيَا؟ وَزن وَغَيرا حِساب كے ساتِھ بَن کر پھِر اُس پر مُھر لگتِی تھی بھَائى۔ تُو يہ كہ يہ بُخارَا كے ضَرب والے هَیں، بُخارَا كِی مُھر والے هَیں یا نَیشاپور كِی مُھر والے هَیں، يہ ذِکر كرنا بھِی ضَرورِی كِيوَنكہ بُخارَا كے دِرهَمُوں کا وَزن اَلگ، نَیشاپور كے دِرهَمُوں کا وَزن اَلگ، تو يہ بھِی ذِکر كرنا ضَرورِی هَے، وَإِذَا صَحَّتْ اور جَب صَحِیح هوجَائے وَإِذَا صَحَّتْ اور جَب صَحِیح هوجَائے ضَمِیر راجِع هَے دَعوٰى كو، یَعنِی كيا صَحِیح ثَابِت هوجَائے؟ دَعوٰى بھَائى، يَعنِی (يَعنِی اِس كِی شَرَائِط جَب دَعوٰى كِی پُورِی هوجَائى، يہ مَعنَى هَے، دَعوٰى صَحِیح هوجَائے كيا مَعنَى اِس كِی شَرَائِط پُورِی هوجَائى بھَائى، دَعوٰى كِی شَرَائِط بھَائى يہ آپ كے حَاشِيے مِیں كُچھ دِی هُوئِی هَیں بھَائى۔ حَاشِيے مِیں ذِکر هَیں بھَائى۔ سَمَجھ مِیں آيَا بھَائى؟ اور كِیا لِكھا هَے؟ شُرُوطُ الصِّحَّةِ سِتَّتٌ بھَائى، چِھ شَرَائِط هَیں بھَائى۔ الْعَقْلُ فِي الْخَصْمَيْنِ اَوَّل کِیا هَے؟ دُونوں خَصم كَیسے هُوں؟ اُن مِیں عَقل هُوں، یَعنِی دُونوں عَاقِل هُوں، عَاقِل هُوں بھَائى۔ جِی، اگے دُوسرا آرها هَے حُضُورُهُمَا وَلَوْ نِيَابَةً كہ دُونوں حَاضِر هُوں، مُدَّعِی بھِی حَاضِر هو، اور مُدَّعَى عَلَيْهِ چَاہے نِيَابَةً هُوں، يَعنِی اُن كے نَائِب بھِی كِیوں نہ حَاضِر هُوں، بَطَورِ نَائِب كے، چَاہے وہ هُوں، چَاہے اُن كے وَكِیل حَاضِر هُوں، تِیسرا هَے وَحُضُورُ مَجْلِسِ الْقُضَاةِ بھَائى، كِیا هَے مَجلِسِ قُضَاۃ ہو سِرّ جِی، قَاضِی کِی مَجلِس هو، چَوتھِی وَمَعْلُومِيَّةُ الْمُدَّعَى بِهَا مُدَّعَى جِس چِیز کا دَعوٰى کِیا جا رَها هَے، وہ بھِی كَیا هُونِی چَاہيے؟ مَعلُوم هُونِی چَاہيے، وَعَدَمُ التَّنَاقُضِ اور كَلَام مِیں اُس كے تَنَاقُض بھِی نہ ہو بھَائى! مُدَّعِی كے۔ سَمَجھ مِیں آيَا؟ جَیسے اِس كِی مِثَال ذِکر كِی، كہ گھر کا دَعوٰى کِیا، پَهلِے کہتا هَے يہ مِیرے لِیے بَطَورِ وَرَاثَت كے هَے، پھِر کہتا هَے نهِیں! يہ تو مَينے خَرِیدا هَے، تو تَنَاقُض آ رَها هَے كَلَام مِیں، اور جِی! چھَٹِی يہ كہ عَاقِلًا وہ مَحَال بھِی نہ ہو بھَائى، عَاقِلًا یا عُرفاً وہ چِیز مَحَال بھِی نہ ہو، مَثَلاً كوئِي شَخص كِسِی كے بَارے مِیں دَعوٰى كَرتا هَے كہ يہ مِیرا بِيٹا هَے، حَلانكہ اِس کا نَسَب تو مَعروف هوتا هَے۔ تو إِيك کا نَسَب إِيك سِے ہی ہو سَکتا هَے، دُو سِے نهِیں ہو سَکتا، یا اُس سے عُمر مِیں بَڑا هَے، اور يہ كہہ كِیا رَها هَے، يہ مِیرا بِيٹا هَے، تو يہ عَاقِلًا مَحَال هَے يہ شَرَائِط۔ تو كَہتے هَیں جَب دَعوٰى صَحِیح هوجَائے، یَعنِی اِس كِی شَرَائِط پُورِی هوجَائى، سَأَلَ الْقَاضِي الْخَصْمَ مِنْهَا تو قَاضِی سُوال كَرے گا، قَاضِی پُوچھے گا الْخَصْمَ خَصم سِے مِنْهَا اَی مِنْ دَعوَى كِس كے بَارے مِیں؟ دَعوٰى كے بَارے مِیں۔ دَعوٰى كے بَارے مِیں کہ بھَائى! اِس مُدَّعِی نے آپ پر يہ دَعوٰى كِیا هَے، آپ إِس بَارے مِیں كَیا كَہتے هَیں؟ مَثَلاً مُدَّعِی نے كَها يہ گَاڑِی مِیرِی هَے، يہ دَعوٰى كَر رَها هَے، فَإِنْ أَقَرَّ اگر خَصم نے كَیا كَر لِیا إِس بَات کا؟ إِقرَار کر لِیا كہ ہَاں گَاڑِی وَاقِع اِسِی كِی هَے، حَكَامًا قَاضِی كَیا كَر دے گا؟ فَيسلَہ كَر دے گا۔ اگے هَے وَإِنْ أَنْكَراً، يہ مَولانا وَإِنْ أَنْكَرا هُونا چَاہيے۔ وَإِنْ أَنْكَرا وَسَعَلا نهِیں بھَائى، يہ واؤ بھِی غَلَط هَے، كِتابَت کِی غَلَطِی هَے بھَائى، يہ واؤ بھِی نهِیں هونا چَاہيے۔ اُچھا بھَائى! فَإِنْ أَقَرَّ اگر مُدَّعا عَلَيه كَیا کر لِیدا هَے؟ إِقرَار کر لِیا، قَاضِی فَيسلَہ کر دے گا، وَإِنْ أَنْكَرا اور اگر وہ كَیا كَر دِیتا هَے؟ إنكَار كہ نهِیں گَاڑِی تو مِيرِی ہی هَے، سَأَلَ الْمُدَّعِيَ سَأَلَ الْـ... مُدَّعِيَةَ بَيِّنَتَهُ تو قَاضِی مَانگے گا مُدَّعِی سِے اُس كِی بَيِّنَہ بھَائى، فَإِنْ أَقَامَ قَضَا عَلَيْهِ اگر وہ بَيِّنَہ قَائِم کر دِیتَا هَے، تو مُدَّعا عَلَيه كے خِلَاف كَیا كَر دے گا؟ فَيسلَہ كَر دے گا، وَإِنْ لَمْ يُقِمْ اور اگر اُس نے بَيِّنَہ قَائِم نہ كِی، يُحَلِّفُهُ بھَائى كَیا كَریں گے؟ يُحَلِّفُهُ إِنْ طَلَبَهُ خَصْمُهُ بھَائى، تو بھَائى مُدَّعِی كے پَاس بَيِّنَہ پھِر كِیا كِیا جائے گا؟ دِيكھُو! سَب سِے پَھلے تو يہ يَاد رَھكُو، آپ جَب قَاضِی بَن جَائى، بھَائى! سَمَجھ مِیں اِنشاء اﷲ بُہت جَلد إِسلامِی نِظام آيَا جِی، اﷲ آپ سَب كو بَڑے بَڑے قُضَات بَنَائے بھَائى، اور صَحِیح فَيسلے كَرنے كِی، اِنصَاف كے ساتِھ فَيسلے كَرنے كِی آپ سَب كو توَفِیق دے اﷲ بھَائى، اِنشاء اﷲ بھَائى، اِنشاء اﷲ آيَا، بَڑِی جَلد آپ دِيكھینگے بھَائى اِنشاء اﷲ۔ تُو آپ كے پَاس كوئِي دَعوٰى لِیکر آيَا، كہ فُلاں شَخص ne فُلاں چِیز مِیرِی دِینِی هَے، آپ فَوْرَن دَعوٰى سُننا نہ شُروع كَر دِیں اور كَہجَاوَ بھَائى مُدَّعا عَلَيه كُو لِیکر آؤ، مُدَّعا عَلَيه كُو فَوْرَن طَلب ہَاں اگر قَرِیب هَے، اُسِ دِن مِیں آ سَکتا هَے اور اَپنے گھر وَاپِس جا سَکتا هَے، پھِر تو كَیا كَریں قَاضِی اُس كو اُسِ اُس كے صِرف دَعوٰى پر ہی كَیا كَر لے؟ مُدَّعا عَلَيه كُو بھِی طَلب کر لے، لِیکن اگر وہ دُوسرے گَاؤں مِیں رَھتا هَے، ذَرَا دُور رَھتا هَے، تو پھِر نهِیں بھَائى، پھِر اُس کو بِلَا وَجوہ تَكلِیف نهِیں دِی جَائے گی، بَلکِہ پَھلے مُدَّعِی سِے ثُبوت مَانگَا جَائے گا كوئِی بھَائى، یا اُس سِے قَسم بَات تُو قَھلا لِيكھتیں هَیں کہ اُس سِے قَسم لِى جَائے گی كہ تُم اَپنے دَعوٰى مِیں كَیا هو؟ سَچّے هو، يہ پَھلے قَسم كھا لے گا، مَاں اَب كَیا کر لِیں گے مُدَّعا عَلَيه كُو بھِی بُلوا لِینگے اور مُقَدِّمَہ چَل پَڑے گا، ورنہ بِلَا وَجوہ اُس كُو تَكلِیف نهِیں دِیں گے۔ اُچھا، اِس كے بَعد بھَائى، آپ نے پَڑھا بھَائى، کہ دَعوٰى جَب صَحِیح ہو گَیا، شَرَائِط هو گئِیں بھَائى، سَارِی پُورِی ہو گئِیں، مُدَّعِی كَون هَے؟ عَاقِل هَے مَولانا، مُدَّعا عَلَيه بھِی وہ مَوجُود هَے، اور مَجلِس بھِی قَاضِی كِی هَے، اور دَعوٰى بھِی صَحِیح هُوا سَارا، تو اَب قَاضِی اُس دَعوٰى كے بَارے مِیں كِس سِے پُوچھے گا؟ سَب سِے پَھلے كِس سِے پُوچھے گا؟ مُدَّعا عَلَيه سِے پُوچھے گا بھَائى، ہَاں بھَائى! اِس نے يہ دَعوٰى كِیا هَے، تُم اِس دَعوٰى كے بَارے مِیں كَیا كَہتے ہو؟ اگر وہ إِقرَار کر لِیتَا هَے سَب سِے پَھلے ہی، تو كَیا اَب بَيِّنَہ كِی ضَرورت هَے؟ بَيِّنَہ كِی ضَرورت ہی نهِیں، قَاضِی اُس كے إِقرَار پر ہی كَیا كَر دے گا؟ فَيسلَہ كَر دے گا، اگر وہ إِقرَار نهِیں كَرتا، إنكَار كَر دِیتَا هَے، تو پھِر قَاضِی مُدَّعِی سِے كَیا كَہے گا، لَاؤ بھَائى! اَب بَيِّنَہ پِیش كرو، اور اگر وہ بَيِّنَہ پِیش کر دِیتَا هَے، تو قَاضِی اِس بَيِّنَہ پر كَیا كَر دے گا؟ فَيسلَہ، اگر وہ كَہتا هَے قَاضِی صَاحِب مِیرے پَاس تو كوئِي بَيِّنَہ نهِیں، مِیرے گَواہ نهِیں اِس مَسألے مِیں بھَائى، تو اَب صُورت مِیں كَیا كَرے گا قَاضِی؟ مُدَّعِی سِے قَسم نهِیں بھَائى! اَیسے ہی نهِیں قَسم لِه لے گا، اَگَر مُدَّعِی نے قَسم کو طَلَب كِیا، مِیرے پَاس گَواہ تو نهِیں، لِیکن اِس سِے كَیا طَلَب كِی جائے؟ قَسم طَلَب كِی جائے، تو يہ جو قَسم هَے نا، يہ مُدَّعِی کا حَق هَے، اَگَر وہ اِس کو طَلَب كَرتا هَے، تو مُدَّعا عَلَيه سِے قَسم لِی جائے گی، ورنہ قَسم نهِیں، تو مُدَّعِی نے اَب مُطَالَبَہ بھِی كِیا كہ ہَاں قَاضِی صَاحِب اِس سِے كَیا لِی جائے؟ قَسم، تو اَب اُس سِے قَسم لِی جائے گی بھَائى۔ سَمَجھ مِیں آيَا بھَائى؟ قَسم لِی جائے گی، اور وَیسے قَسم نہ لِی جَائے بھَائى، قَاضِی اِس کو تِين دَفَعہ بَتَلائے بھَائى۔ تِين دَفَعہ کہ بھَائى، آپ قَسم تُمہیں كھَانَا پَڑے گِی، اور اِس یاد رَھكُو اگر تُم نے قَسم نہ اُٹھَائِی، تو مَیں تُمہارے خِلَاف كَیا كَر دُونْگا؟ فَيسلَہ كَر دُونْگا، مَعلُوم هُوا مُدَّعِی کا دَعوٰى كَیا هَے؟ صَحِیح هَے، تو تُمہارے خِلَاف فَيسلَہ هوجَائے گا، پَھلے اُس کو بَتلا دے، هو سَكتا هَے اِس بِيچارے كے پَتَا ہی نہ ہو، وَیسے قَسم سے إنكَار كَر دے، اَور قَاضِی فَيسلَہ كَر دے، تو يہ دُرُست نهِیں هے۔ يہ مَعنَى هَے وَإِنْ لَمْ يُقِمْ يُحَلِّفُهُ۔ خَلَّفَ يُحَلِّفُ کا مَعنَى قَسم دِلانَا، قَسم اُٹھوَانَا، تو يُحَلِّفُهُ أَيْ يُحَلِّفُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بھَائى، قَاضِی قَسم اُٹھوَائے گا كِس سِے؟ مُدَّعِی سِے كَب؟ إِنْ طَلَبَهُ خَصْمُهُ بھَائى، اَگَر اِس کا فَرِیق مُخَالِف كَیا هَے؟ قَسم کو كِيوَنكہ مَينے آپ ko بَتلايَا بھَائى، قَسم كِس کا حَق هَے؟ مُدَّعِی کا حَق هَے، تو مُدَّعِی اُس قَسم کو طَلَب كَرتا هَے، تو قَاضِی اُس سِے كَیا كَرے گا؟ قَسم دِلائے گا بھَائى، فَإِنْ نَكَلَ مَرَّۃً فَإِنْ نَكَلَ مَرَّۃً بھَائى دِيكھُو! آپ نے، آپ هَیں قَاضِی بھَائى، آپ نے مُدَّعِی سِے كَیا كَہا كہ بھَائى! اَب قَسم آپ كےُ اوپر آگئِی هَے، مُدَّعِی كَہہ رَها هَے قَاضِی صَاحِب إِس کو قَسم دِی جَائے، تو اَب قَاضِی مُتَوَجِّہ هُوا مُدَّعِی كِی طَرَف بھَائى قَسم کھَالُو، ورنہ كَیا كَر دِیا جائے گا؟ تُمہارے خِلَاف اِس مَسألے مِیں فَيسلَہ كَر دِیا جائے گا۔ إِيك دَفَعہ كَہ دِیا۔ وہ خَامُوش رَهَا، كوئِي جَوَاب ہی نهِیں دِیتَا، بَغَیر كِسِی عِلَّت كے خَامُوش هَے، نہ وہ گُونگا هَے، نہ وہ بَہرا هَے، خَامُوش هَے خَامُوش هَے۔ تو خَامُوش هَے، تو قَاضِی فَيسلَہ كر دِیتَا هَے، تو دُرُست هَے مَولانا، قَاضِی كَیا كَر دِیتَا هَے؟ یا وہ كَہ دِیتَا هَے مَیں قَسم نهِیں اُٹھَاؤں گا، قَاضِی فَيسلَہ كَر دِیتَا هَے، تو فَيسلَہ دُرُست هَے، لِيكِن إِحْتِيَاط إِس مِیں هَے كہ تِین مَرتبہ اِس پر قَسم پَیش کِی جائے، اُس كے بَعد كَیا كِی جاۓ؟ فَيسلَہ، إِيك دَفَعہ كِیا اُس نے كَها مَیں قَسم نهِیں اُٹھَاؤں گا، پھِر پَیش كِی اُس نے كَها مَیں نهِیں اُٹھَاؤں گا، پھِر پَیش کِی پھِر اِس نے كَها نهِیں، اُٹھَاؤں گا، اَب فَيسلَہ كِیا جائے، يہ مَعنَى هَے بھَائى! فَإِنْ نَكَلَ مَرَّۃً اَگَر اُس نے إنكَار كَر دِیا إِيك مَرتبہ، اَی قَالَ لَا أَحْلِفُ اُس نے كَها مَیں قَسم نهِیں اُٹھَاتَا، يُوں كَہكَر إنكَار كِیا، أَوْ سَكَتَ بِلَا آفَتٍ یا خَامُوش رَہا بَغَیر كِسِی آفَت كے (يَعنِی گُونگا اور بَہرا بھِی نهِیں)، وَقَضَى بِالنُّكُولِ اور قَاضِی نے پھِر فَيسلَہ کر دِیا بِالنُّكُولِ إنكَار كِی وَجہ سِے، صَحَّہ تو يہ فَيسلَہ كرنا، إِيك دَفَعہ بھِی اَگَر وہ خَامُوش رَهتا هَے یا إنكَار كَرتا هَے، تو فَيسلَہ صَحِیح، وَعَرْضُ الْيَمِينِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْقَضَاءُ اور تِين مَرتبہ قَسم كو پَیش کرنا، پھِر فَيسلَہ کرنا، أَحْوَطُ اِس مِیں كَیا هَے؟ اِس مِیں زيادَہ إِحتِيَاط هَے۔ وَلَا يُرَدُّ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعِي وَإِنَّكَ لَكَصْمُهُ اور جِی، بَس! اِمامِ شَافِعِی رَحِمَه‌اللہ کا مَذھَب يہ هَے بھَائى۔ آپ نے بھَائى قَسم كِس پر پَیش کِی تھی؟ مُدَّعا عَلَيه پر، تِين مَرتبہ قَسم آپ نے پَیش كِی، اِس نے تِینوں مَرتبہ إنكَار كَر دِیا کہ مَیں قَسم نهِیں اُٹھَاؤں گا، اِمامِ شَافِعِی رَحِمَه‌اللہ فَرْمَاتے هَیں، اَبھی بھِی فَيسلَہ نهِیں كِیا جائے گا، اَبھی بھِی فَيسلَہ نهِیں، بَلْكَ اَقَاضِی فِیر مُدَّعِی كِی طَرَف مُتَوَجِّه هوجَائے گا، کہ بھَائى مُدَّعا عَلَيه نے تو قَسم كھَانِے سِے إنكَار كَر دِیا هَے، اَب تُم قَسم اُٹھَاؤ کہ تُم اَپنے دَعوٰى مِیں سَچِّے ہو، جَب يہ قَسم اُٹھَا ليگا، تو قَاضِی اِس كے حَق مِیں فَوْرَن كَیا كَر دے گا؟ فَيسلَہ كَر دے گا۔ تو اِمامِ شَافِعِی رَحِمَه‌اللہ كے نزدِیک مُدَّعِی پر بھِی فِیر آخِر مِیں كَیا آتِی هَے؟ قَسم آتِی هَے، لِيكِن هَم كَہتے هَیں نهِیں، حَدِيث مَشهُور هَے، نَبِی كَرِيم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَرْمَاتے هَیں: الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، بَيِّنَہ كِس پَر هَے؟ مُدَّعِی پَر هَے، اور قَسم كِس پَر هَے؟ إنكَار كَرنے والے پَر هَے، مَعلُوم هُوَ اکہ مُدَّعِی پر قَسم نهِیں هَے، قَسم صِرف كِس کا كَون کھَا سَکتا هَے؟ مُدَّعا عَلَيه، اور بَيِّنَہ صِرف كِس كِی مُعتَبَر هَے؟ مُدَّعِی كِی، سَمَجھ مِیں آيَا؟ وَلَا يُرَدُّ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعِي اور قَاضِی قَسم ko لَوٹَائے گا نهِیں مُدَّعِی پَر، وَإِنْ نَكَلا خَصْمُهُ اگرچِہ اُسکا خَصم اُس کا مُقَابِل جو هَے، وہ قَسم سِے إنكَار ہی كَر دے، فِيھِ خِلَافٌ شَافِعِي رَحِمَه‌اللہ اِس مِیں اختِلَاف هَے اِمامِ شَافِعِی رَحِمَه‌اللہ کا، فَإِنَّ عِنْدَهُ إِذَا نَكَلا الْخَصْمُ إِس لِیے كہ اُن كے نزدِیک جَب خَصم إنكَار كَر دِیتَا هَے قَسم سِے، يَرُدُّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعِي يَرُدُّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعِي تو قَاضِی لَوٹَائے گا قَسم کو مُدَّعِی پَر، وَعِنْدَنَا هٰذَا بِدْعَةٌ اور هَمارے نزدِیک يہ بِدعَت هَے مَولانا، كَیا هَے؟ بِدعَت هَے، وَأَوَّلُ مَنْ قَضَى بِهِ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ اور سَب سِے پَھلے جِس جِس نے اِس كے ذَرِیے فَيسلَہ كِیا، وہ حَضرت مُعَاوِيَہ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ هَیں بھَائى، بِدعَت نئِی چِیز كو كَہتے هَیں، كِس كو كَہتے هَیں؟ نئِی چِیز كو كَہتے هَیں، سَمَجھ مِیں آيَا؟ تو يہ بِدعَت بِمَانِع شَۓ جَدِيد كے هَے، إِھاں كَیا مَعنَى هَے؟ شَۓ جَدِيد كے، اور صَاحِبِ اَللَّامَ صَدْرُ الشَّرِيعَةِ فَرْمَاتے هَیں، سَب سِے پَھلے جِس كے ذَرِیے فَيسلَہ کِیا، وہ كَون هَیں؟ حَضرت مُعَاوِيَہ بھَائى، وہ حَضرت مُعَاوِيَہ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْہ جَلِيلُ الْقَدْر صَحَابِی هَیں، كَاتِبِ وَحِی هَیں مَولانا، اور كَاتِبِ وَحِی هَیں، اور عَظِيمِ إِسلامِی سَلتَنَت كے مَالِك تھے بھَائى يہ! عَظِيمِ إِسلامِی سَلتَنَت كے۔ سَمَجھ مِیں آيَا؟ تو باقِعدہ اِس كے دَلَائِل هَیں مَولانا، اُن كے بھِی دَلَائِل هَیں، هَمَارِی دَلِیل حَدِيث وَغَيرا هَے، تو اُن كے بھِی دَلَائِل هَیں، چُنانچِہ اِمامِ شَافِعِی رَحِمَه‌اللہ وَغَيرا نے إِسِيلِیے اِس كو إِختِيَار كِیا كہ اِس كے باقِعدہ دَلَائِل مَوجُود هَیں حَدِيث وَغَيرا سِے بھَائى۔ جِی۔ وَھُوَ مُخَالِفٌ لِلْحَدِيثِ الْمَشْھُورِ اور يہ مُخَالِف هَے كِس كے؟ حَدِيث مَشہُور كے۔ سَمَجھ مِیں آيَا بھَائى؟ تو هَمَارے نزدِیک اِسِيلِیے كھا: وَعِنْدَنَا هٰذَا بِدْعَةٌ، هَمَارے نزدِیک يہ كَیا هَے؟ بِدعَت هَے كہ نئِی چِیز هَے، هَاں اِمامِ شَافِعِی رَحِمَه‌اللہ كے نزدِیک تو يہ سُنَّت هَے، ثَابِت هَے مَولانا۔ وَلَا يُحَلَّفُ فِي نِكَاحٍ وَرَجْعَةٍ وَفَئِينْ فِئِيلَائٍ وَاسْتِيلَادٍ وَرِقٍّ وَنَسَبٍ وَوَلَاءٍ اور قَسم نهِیں دِی جائے گی نِكاح كے مَسألے مِیں، اور رُجُوع كَرنے كے مَسألے مِیں، وَفِـ... وَفَئِينْ فِي إِيلَاءٍ فَئِ کا مَعنَى بھِی رُجُوع كرنا، إِلا كے اَندَر رُجُوع كے مَسألے مِیں، إِلا جَانتے هَیں یا نهِیں جَانتے؟ خَاوَند قَسم اُٹھَا لِیتَا هَے کہ مَیں چَار مَاہ تک یا چَار مَاہ se زِيَادَہ كِی قَسم اُٹھَا لِیتَا هَے، مَیں اَپنِی بِیوی كے پَاس نهِیں جَاؤں گا، تو يہ إِلا هَے مَولانا۔ سَمَجھ مِیں آيَا؟ تو اگر چَار مَاہ تک نهِیں جاتا، تو شَرِيعَت نے اِسِے طَلَاقِ بَائِن کا حُكْم دے دِیا، بِیوی كَیا هوجَائے گی اُس سِے جُدَا هوجَائے گِی۔ تو رُجُوع كرنا فِی إِلا إِنْ كِس كے اَندَر بھَائى! فَـ... بھَائى رَجَعَت کلا لِستِعمال كِیا اور آگے فَی کا لَفْظ إِستِعمال کِیا، اِس کا مَعنَى بھِی رُجُوع هَے، دَرَاصَل قُران مِیں اِس كے لِیے فَی کا لَفْظ إِستِعمال هُوا هَے، اِس لِیے إِلا كے ساتِھ فُقَہَاء كَرَام بھِی كَیا كَرتیں هَیں؟ فَی کا لَفْظ إِستِعمال كرنے، ورنہ مَعنَى إِيك ہی هَے دُونوں کا بھَائى۔ تو قُران كے اِتِّباع كَرتے هُوئِی، فَی کا لَفْظ إِستِعمال كرتے هَیں، اور إِلا كے اَندَر رُجُوع كرنے مِیں، وَاسْتِيلَادٍ اور اُمّ وَلَد بَنَادے مِیں، وَرِقٍّ اور غُلام مِیں، وَنَسَبٍ اور نَسَب كے اَندَر، وَوَلَاءٍ اور وَلا كے اَندَر، إِنْمَا قَسَم نهِیں دِی جائے گی اِمامِ اَعظَم اَبُو حَنِیفَہ رَحِمَه‌اللہ كے نزدِیک بھَائى، اور اَگلِے صَفحے par آ رَها هَے آخِر مِیں مَولانا۔ وَحَدٌّ وَلِعَانٍ اور حَد اور لِعَان، إِنكے اَندَر بھِی اِمام صَاحِب كے نزدِیک قَسَم نهِیں دِی جائے گی۔ بَائى دِيكھُو إِيك شَخص دُوسرے پر دَعوٰى كَرتا هَے، تو مُدَّعِی پر كَیا هوتِی هَے، اَور كَیا چِیز آتِی هَے؟ مُدَّعِی پَر بَيِّنَہ اور مُنكِر پر كَیا آيَا كرتِی هَے؟ قَسَم، لِيكِن يہ جو مَسچِیزیں ذِکر ہوئیں مَتَن كے اَندَر، إِن كے اَندَر مُدَّعِی اگر بَيِّنَہ پِیش نہ كَر سَكے، تو مُدَّعَا عَلَيه پر قَسَم نهِیں آئِگی۔ نِكاح كے اَندَر بھِی قَسَم نهِیں دِی جائے گی، كَیا هَے نِكاح كِی صُورت؟ إِيك آدَمِی ne إِيك عَورَت پَر نِكاح کا دَعوٰى كَر دِیا، كہ يہ مِيرِی بِیوی هَے، مِیرے اِس سے نِكاح ہو چُکا هَے، قَاضِی كَہيگا لَاؤ بھَائى بَيِّنَہ پِیش کرو، وہ كَہتا هَے مِیرے پَاس بَيِّنَہ نهِیں هَے، تو عَورَت كُو قَسَم نهِیں دِی جَائے گی، بَس! مَولانا۔ سَمَجھ مِیں آيَا دَعوٰى خَتَم بھَائى، صُورت سَمَجھ مِیں آگئِی۔ اور رَجَت رُجُوع كرنے کا مَس_بھَائى، رُجُوع كَیسے؟ اِخا خَاوَند ne بِیوی كُو طَلَاق دِی بھَائى۔ طَلَاقِ رَجَعِی بھَائى، اور عِدَّت گُذر گئِی، عِدَّت كے بَعد خَاوَند كَہتا هَے مَينے تو رُجُوع كَر لِیا تھا، اَب بِیوی كَہتِی هَے إِس نے كوئِي رُجُوع نهِیں كِیا، قَاضِی خَاوَند سِے كَہيگا بھَائى گَواہ پِیش کرو، خَاوَند كَہتا هَے مِیرے پَاس تو كوئِي گَواہ نهِیں، تو بِیوی پَر قَسَم نهِیں آئِگی۔ وَفَعْ إِنْ فِي إِلا إِنْ، إِلا كے اَندَر بھِی بھَائى رُجُوع كے اَندَر، خَاوَند نے قَسَم اُٹھَائِی کہ مَیں چَار مَاہ تک بِیوی کے پَاس نهِیں جَاؤں گا، مُدَّت گُذر گئِی، تو اَب مُدَّت كے گُذرنے كے بَعد خَاوَند كَہتا هَے مَيں نے رُجُوع کر لیا تھا مدت میں، بیوی کہتی ہے اس نے رُجُوع نہیں کیا تو خاوند سے گواہ طلب کیے جائیں گے اگر گواہ نہ ہوئے تو بیوی سے قسم نہیں لی جائے گی۔ وَٱسْتِيلَادٍ، أُمَّ وَلَد بنانے کے اندر بھئی، باء اس میں باندی دعویٰ کرنے والی ہے۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا، اگر ایک شخص کی باندی ہو اور اس باندی سے اس شخص کی اولاد پیدا ہو تو وہ اس کے لیے کیا بنے گی؟ نہیں بھئی، نہیں، ایسے نہیں بنے گی۔ کیا بتلایا تھا میں نے؟ وہ دعویٰ بھی کرے کہ یہ میری اولاد ہے، اب أُمَّ وَلَد بن گئی، بغیر دعویٰ کے أُمَّ وَلَد نہیں بنے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اس، تو بھئی اوپر جو صورت بنائی تھی بھئی، تو یہاں پر بھئی دعویٰ عورت کی باندی کی طرف سے ہوتا ہے، مرد کی طرف سے نہیں۔ ہاں، اگر مرد کی طرف سے دعویٰ ہو جائے پھر تو وہ ویسی ہی أُمَّ وَلَد بن جائے گی بھئی، کیونکہ مرد نے دعویٰ کر دیا بھئی۔ ہاں، اس کو کرو بھئی، دعویٰ کس کی طرف سے ہے؟ آگے شریح میں بھی بتلائیں گے۔ باندی نے دعویٰ کیا کہ قاضی صاحب! میں کیا ہوں؟ اس شخص کی أُمَّ وَلَد ہوں۔ کیسے أُمَّ وَلَد ہوں؟ میرا بچہ پیدا ہوا تھا اس شخص سے، مالک سے اور پھر اس مالک نے اس کا دعویٰ بھی کیا تھا کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ میرا بچہ ہے اور وہ بچہ مر گیا تو میں اس کی أُمَّ وَلَد ہوں بھئی۔ قاضی کہے گا لاؤ بھئی بَیِّنَة پیش کرو۔ وہ کہتی ہے میرے پاس بَیِّنَة تو کوئی نہیں ہے، تو اس مرد کو قسم نہیں دی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ رِقٍّ، رَقِیَّت کے اندر بھئی، غلامی کے اندر ایک شخص ایک مجھول النَّسَب آدمی کے بارے میں دعویٰ کر دیتا ہے یہ میرا غلام ہے۔ قاضی، جی، سمجھ میں آیا؟ تو قاضی کیا کرے گا؟ کہے گا گواہ لاؤ بھئی۔ اگر وہ گواہ لے آیا تو ٹھیک بھئی، اگر گواہ نہیں لاتا تو وہ دوسرے پر قسم نہیں۔ وَنَسَبٍ، ایک آدمی کیا کرتا ہے بھئی؟ ایک مجھول النَّسَب کے بارے میں دعویٰ کر دیتا ہے یہ میرا بیٹا ہے۔ یہ کیا ہے؟ میرا بیٹا ہے۔ قاضی کہتا ہے لاؤ، وہ دوسرا انکار کر رہا ہے، نہیں میں اس کا بیٹا نہیں ہوں۔ قاضی کیا کرے گا اس سے؟ کہے گا گواہ لے کر آؤ۔ یہ کہتا ہے میرے پاس گواہ نہیں، تو دوسرے کو قسم نہیں دی جائے گی۔ وَلَاءٍ، وَلَاء دو قسم پر ہے، ایک وَلَاءُ ٱلْعِتَاقَةِ ہے اور ایک وَلَاءُ ٱلْمَوَالَاتِ ہے۔ وَلَاء، وَلَاء کس کو، وَلَاءُ ٱلْعِتَاقَةِ کس کو کہتے ہیں؟ مِیراث، مِیراث بھئی! ایک آدمی غلام کو آزاد کرتا ہے، وہ غلام بھئی بعد میں، غلام جب مرتا ہے، تو اس کا جو مال بچا ہوتا ہے کس کو دیا جاتا ہے؟ آقا کو جس نے اس کو آزاد کیا تھا، جس کو وَلَا کہتے ہیں، وَلَاءُ ٱلْعِتَاقَةِ کہتے ہیں بھئی، وَلَاءُ ٱلْعِتَاقَةِ۔ اور اسی طرح وَلَاءُ ٱلْمَوَالَاتِ ہے بھئی۔ ایک آدمی نیا نیا مسلمان ہوا اور اس نے ایک مسلمان کے ساتھ عَقْدِ مُوَالَات کر لیا کہ اگر میں مر گیا تو میری ساری جائیداد تمہاری، میرے وارث تم ہوگے۔ اور اس زندگی کے اندر اگر میں نے کوئی جنایت وغیرہ کی تو دِیَت وغیرہ تم ادا کرو گے۔ سمجھ میں آیا؟ تاوان، زمان وغیرہ تم دو گے، تو یہ عَقْدِ مُوَالَات کہلاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو وَلَاءُ ٱلْعِتَاقَةِ یا وَلَاءُ ٱلْمَوَالَاتِ کے اندر ایک نے دعویٰ کیا دوسرے پر اور دوسرا کیا کرتا ہے اس کا؟ اِنْكَار کرتا ہے۔ ایک شخص کہتا ہے یہ میں نے اس غلام کو آزاد کیا ہے لہذا اس کی وَلَا مجھے ملے گی اور وہ شخص دوسرا کیا کرتا ہے؟ اِنْكَار کرتا ہے۔ تو اب اس مُدَّعِي کے ذمے تو گواہ ہیں، اُس اِنْكَار کرنے والے کے ذمے قَسَم نہیں ہے۔ یا وَلَاءُ ٱلْمَوَالَاتِ میں ایک دوسرے پر دعویٰ کر دیتا ہے، اس نے ایسا میرا کیا ہوا ہے؟ عَقْدِ مُوَالَات ہوا ہے، تو مُدَّعِي کے ذمے تو کیا ضروری ہے؟ گواہ، لیکن مُنْكِر کے ذمے قَسَم ضروری نہیں۔ اسی طرح ایک شخص دوسرے پر حَد کا دعویٰ کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ حَد کا دعویٰ کرتا ہے کہ تم نے میرے اوپر زِنا کی تہمت لگائی تھی تو تمہارے اوپر کیا آئے گی؟ حَدِّ قَذْف آنی چاہیے، حَدِّ قَذْف آتی ہے تمہارے اوپر بھئی۔ تو قاضی کیا کرے گا؟ مُدَّعِي سے بَیِّنَة طلب کرے گا لیکن دوسرے مُنْكِر کو قَسَم نہیں دی جائے گی۔ اور یا اسی طرح لِعَان کے مسئلے میں بھئی، بیوی کیا کرتی ہے خاوند پر مثلاً خاوند پر اِلْزَام لگاتی ہے کہ تم نے مجھ پر تہمت لگائی تھی زِنا کی اور لہٰذا تمہارے اوپر اب کیا ضروری ہے؟ لِعَان ضروری ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہاں پر بھی اگر بیوی کے پاس گواہ نہیں تو خاوند پر قَسَم نہیں آئے گی۔ صورتیں ساری سمجھ میں آگئیں؟ وَلَا يُحْلَفُ فِي نِكَاحٍ وَرَجْعَةٍ وَقَسَمٍ نہیں لی جائے گی نکاح کے اندر بھئی اور رُجُوع کرنے کے اندر وَفَاءِ اِيلَاءٍ اور ايلَاء کے اندر رُجُوع کرنے کے اندر وَٱسْتِيلَادٍ اور أُمَّ وَلَد بنانے میں وَرِقٍّ اور غلامی میں وَنَسَبٍ اور نَسَب کے اندر وَبَلَاءٍ اور وَلَا کے اندر۔ أَعْلَمُ بَى، جان لے تو إِنَّ فِي هَذِهِ الصُّوَرِ لَا يُسْتَحْلَفُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَعِنْدَهُمَا يُسْتَحْلَفُ۔ ان تمام صورتوں کے اندر قَسَم طلب نہیں کی جائے گی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اور قَسَم طلب کی جائے گی۔ وَصُورَتُهَا، ساروں کی صورتیں بتائیں گے۔ صورت اس کی یہ ہے اِدَّعَى الرَّجُلُ النِّكَاحَا، ایک آدمی نے کیا ہے؟ نکاح کا، ایک عقد پر نکاح کا دعویٰ کیا وَأَنْكَرَتِ الْمَرْأَةُ اور عورت کیا کرتی ہے؟ اِنْكَار تو آدمی کے ذمے گواہ، اگر گواہ نہ لایا تو عورت پر قَسَم نہیں۔ وَبِٱلْعَكْسِ، یہ اس کا عَكْس ہے، عورت نے کیا ہے کسی مرد پر نکاح کا دعویٰ تو عورت کے ذمے گواہ، اگر وہ گواہ نہ لائے اور مرد اِنْكَار کر رہا ہے تو مرد پر قَسَم نہیں۔ أَوْ اِدَّعَى الرَّجُلُ بَعْدَ الطَّلَاقِ وَانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ الرَّجْعَةَ فِي الْعِدَّةِ، یہ دعویٰ کیا ایک آدمی نے طلاق اور عِدَّة کے گزر جانے کے بعد بھئی۔ طلاق اور عِدَّة کے گزر جانے کے بعد ایک آدمی نے دعویٰ کیا الرَّجْعَةَ فِي الْعِدَّةِ کہ اس نے عِدَّة میں کیا کر لیا تھا؟ تو عِدَّة میں رُجُوع کرنے کا دعویٰ کیا وَأَنْكَرَتِ الْمَرْأَةُ اور عورت کیا کرتی ہے؟ اِنْكَار کرتی ہے۔ وَبِٱلْعَكْسِ، یا اس کا کیا ہے؟ عَكْس ہے، عورت کہتی ہے اس نے رُجُوع کر لیا تھا اور مرد کہتا ہے میں نے رُجُوع نہیں کیا تھا تو مُدَّعِي کے ذمے گواہ ہوں گے لیکن بوسے کے ذمے قَسَم نہیں ہوگی۔ اِدَّعَى الرَّجُلُ بَعْدَ انْقِضَاءِ مُدَّةِ الْإِيلَاءِ الْفَيْءَ فِي الْمُدَّةِ، یہ دعویٰ کرتا ہے ایک آدمی مُدَّة کے ايلَاءِ کے گزر جانے کے بعد کس چیز کا دعویٰ کرتا ہے؟ الْفَيْءَ فِي الْمُدَّةِ کہ اس نے اس مُدَّة کے اندر ہی کیا کر لیا تھا؟ رُجُوع کر لیا تھا وَأَنْكَرَتِ الْمَرْأَةُ اور عورت کیا کرتی ہے؟ اِنْكَار کرتی ہے۔ تو اس صورت میں مُدَّعِي پر کیا ہے؟ بَیِّنَة ہے لیکن مُدَّعَى عَلَيْهِ پر قَسَم نہیں۔ وَبِٱلْعَكْسِ، یا اس کا عَكْس ہو، عورت کیا کہتی ہے؟ اس نے مُدَّة کے اندر کیا کر لیا تھا؟ اور مرد کیا کرتا ہے؟ اِنْكَار کرتا ہے۔ اِدَّعَى الرَّجُلُ عَلَى رَجُلٍ مَجْهُولِ النَّسَبِ أَنَّهُ ابْنُهُ، یہ دعویٰ کرتا ہے ایک آدمی کسی مَجْهُولِ النَّسَب شخص پر کہ أَنَّهُ ابْنُهُ کہ یہ کیا ہے اس کا؟ بیٹا ہے أَوْ عَبْدُهُ، یہ رَقِیَّت کے اندر یا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ مَجْهُولِ النَّسَب اس کا غلام ہے وَأَنْكَرَ الْمَجْهُولُ، اور وہ مَجْهُولِ النَّسَب کیا کرتا ہے؟ اِنْكَار کرتا ہے تو مُدَّعِي پر تو بَیِّنَة ہے لیکن مُنْكِر پر قَسَم نہیں۔ وَبِٱلْعَكْسِ، یا اس کا کیا ہے؟ عَكْس ہو وہ مَجْهُولِ النَّسَب دعویٰ کرتا ہے کہ میں اس کا بیٹا ہوں یا میں اس کا غلام ہوں اور وہ شخص کیا کرتا ہے؟ اِنْكَار تو مُدَّعِي پر تو بَیِّنَة ہے لیکن مُنْكِر پر قَسَم نہیں۔ أَوْ اِخْتَصَمَا فِي وَلَاءِ الْعِتَاقَةِ أَوْ وَلَاءِ الْمَوَالَاتِ، یا جھگڑا کرتے ہیں دو شخص بھئی وَلَاءِ عِتَاقَة کے اندر یا وَلَاءِ مُوَالَات کے اندر عَلَى هَذَا الْوَجْهِ اسی طریقے پر۔ کیا معنیٰ؟ ایک آدمی مَجْهُولِ النَّسَب پر کیا کرتا ہے؟ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ میرا غلام تھا، میں نے اسے آزاد کیا ہے لہذا جب یہ مر جائے گا تو اس کی وَلَا مجھے ملے گی اور وہ مَجْهُولِ النَّسَب کیا کرتا ہے؟ اِنْكَار کرتا ہے تو مُدَّعِي پر تو بَیِّنَة ہے لیکن مُنْكِر پر قَسَم نہیں۔ یا اسی طرح یا اس کا عَكْس ہو جائے مولانا مَجْهُولِ النَّسَب دعویٰ کرتا ہے اور وہ شخص کیا کرتا ہے؟ اِنْكَار۔ یا اسی طرح وَلَاء مُوَالَات کے اندر بھئی، ایک نومسلم ہے وہ دعویٰ کرتا ہے کہ فلاں شخص سے میرا کون سا عَكْد ہوا ہے؟ عَقْدِ مُوَالَات ہوا ہے۔ میرے مرنے کے بعد وہ میرا وارث ہوگا اور زندگی میں میں جو جنایت کروں گا اس کی ضمان یہ ادا کرے گا اور وہ شخص کیا کرتا ہے؟ اِنْكَار تو مُدَّعِي پر تو بَیِّنَة ہے لیکن مُدَّعَا عَلَيْهِ پر قَسَم نہیں۔ یا، وہ آدمی کیا کرتا ہے، دعویٰ کرتا ہے اور وہ نومسلم کیا کرتا ہے؟ اِنْكَار تو دونوں صورتوں میں اسی طرح ہے۔ یہ معنیٰ ہے أَوْ اِخْتَصَمَا فِي وَلَاءِ الْعِتَاقَةِ أَوْ وَلَاءِ الْمَوَالَاتِ یہ دونوں نے جھگڑا کیا وَلَاءِ عِتَاقَة کے اندر یا وَلَاءِ مُوَالَات کے اندر عَلَى هَذَا الْوَجْهِ اسی طریقے پر۔ اِدَّعَتِ الْأَمَةُ عَلَى مَوْلَاهَا، بھئی یہ اِسْتِلَاد والے کی صورت بتلا رہے ہیں اِسْتِلَاد بھئی۔ دعویٰ کر دیا باندی نے عَلَى مَوْلَاهَا کس پر؟ اپنے آقا پر کس پر؟ بھئی ترجمہ غور سے سننا یہاں مشکل ہے۔ دعویٰ کر دیا باندی نے عَلَى مَوْلَاهَا کس پر؟ اپنے آقا پر۔ أَنَّهَا وَلَدَتْ مِنْهُ وَلَدًا، کہ اس باندی جو ہے، اس نے جنم دیا تھا مِنْهُ اس آقا سے وَلَدًا کس کو؟ ایک بچے کو۔ بچے کو جنم دیا تھا وَدَعَاهُ، اور آقا نے اس کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ یہ لفظ یاد رکھنا، آقا نے کیا کیا تھا؟ کہ وہ میرا بچہ ہے وَقَدْ مَاتَ الْوَلَدُ، اور تحقیق وہ بچہ مر چکا ہے۔ تو اس میں دیکھو دعویٰ کرنے والی کون؟ باندی وَلَا يَجْرِي فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ الْعَكْسُ، اور اس مسئلہ میں عَكْس جاری نہیں ہوتا کہ آقا دعویٰ کرنے والا نہیں ہو سکتا، کیوں؟ لِأَنَّ الْمَوْلَى إِذَا اِدَّعَى، اس لیے کہ اگر آقا جب یہ دعویٰ کر دے، إِذَا اِدَّعَى ذَالِكَ، یہ دعویٰ آقا کر دے، فَسِيْرُ أُمَّ وَلَدٍ، تو یہ باندی کیا بن جائے گی؟ فَوْرًا اس کی أُمَّ وَلَد بن جائے گی بِإِقْرَارِهِ، آقا کے اِقْرَارِہی سے وَلَا اِعْتِبَارَ لِإِنْكَارِ الْأَمَةِ، اور پھر باندی کے اِنْكَار کا کوئی اِعْتِبَار نہیں۔ وَإِنَّمَا يُسْتَحْلَفُ عِنْدَهُمَا، اور صَاحِبَيْنِ کے نزدیک قَسَم دی جائے گی۔ بھئی دلیل سن لو! صَاحِبَيْنِ کیا فرماتے ہیں؟ ان تمام مسائل میں کیا کیا جائے گا؟ قَسَم دی جائے گی۔ اب دلیل ذکر کرنے لگے ہیں دلیل توجہ سے سننا بھئی۔ صَاحِبَيْنِ کی دلیل یہ مولانا صَاحِبَيْنِ فرماتے ہیں کہ ان مسائل میں مُدَّعَى عَلَيْهِ اِقْرَار کر سکتا ہے۔ ان مسائل میں کیا ہے؟ اِقْرَار کر سکتا ہے یا اِقْرَار نہیں کر سکتا؟ مُدَّعَى عَلَيْهِ کو اِقْرَار کا حَق ہے۔ مُدَّعَى عَلَيْهِ کو اِقْرَار کا حَق ہے۔ توجہ سے سننا بھئی۔ اور قَسَم سے اِنْكَار یہ بھی دراصل اِقْرَار ہوتا ہے۔ میں نے آپ سے کہا بھئی یہ آپ کے پاس جو گاڑی ہے میری ہے، آپ پر میرے پاس بَیِّنَة نہیں تھی، آپ پر کیا؟ قَسَم۔ آپ قَسَم سے اِنْكَار کر دیتے ہیں۔ جب قَسَم سے اِنْكَار کیا تو گویا آپ نے کیا کر دیا؟ کیا کر دیا؟ میرے لیے اس گاڑی کا، یہ گاڑی واقعی آپ کی ہے تو قاضی کیا کر دیتا ہے میرے حق میں فیصلہ۔ تو اِنْكَار عَنِ الْقَسَم بھی کس کے درجے میں ہے؟ اِقْرَار کے درجے میں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ تو یاد رکھو صَاحِبَيْنِ کی دلیل یہ کہ ان مسائل کے اندر مُدَّعَى عَلَيْهِ کو کس چیز کا حَق ہوتا ہے؟ اِقْرَار کا حَق ہوتا ہے اور اِنْكَار عَنِ الْقَسَم یہ بھی کس کے درجے میں ہے؟ اِقْرَار کے درجے میں ہے اور جب اِنْكَار عَنِ الْقَسَم یہاں آگیا تو پھر قَسَم بھی آگئی، کیونکہ قَسَم ہوگی تو اِنْكَار عَنِ الْقَسَم ہو سکتا ہے ورنہ اِنْكَار عَنِ الْقَسَم نہیں ہو سکتا تو جب، لہٰذا ان پر قَسَم بھی ثابت ہوا، ان پر قَسَم بھی آجائے گی، صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی، وَإِنَّمَا يُسْتَحْلَفُ عِنْدَهُمَا، اور صَاحِبَيْنِ کے نزدیک جو ہے قَسَم دی جائے گی لِأَنَّ النُّكُولَ اِقْرَارٌ، اس لیے کہ نُكُول کا کیا معنی ہے؟ اِنْكَار عَنِ الْقَسَم بھئی، نُكُول سے مراد ہے یہاں۔ اچھا، اس لیے کہ اِنْكَار جو ہے وہ اِقْرَار، اِنْكَار عَنِ الْقَسَم وہ اِقْرَار ہے لِأَنَّ الْحَلْفَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ، اس لیے کہ قَسَم جو ہے مُدَّعَى عَلَيْهِ پر واجب تھی عَلَى تَقْدِيرِ صِدْقِهِ فِي إِنْكَارِهِ، کس تقدیر پر بھئی؟ کہ وہ اپنے اِنْكَار میں اگر وہ وہ، بھئی! ایک آدمی نے دوسرے پر عورت پر کیا دعویٰ کیا؟ کہ یہ میری بیوی ہے، میرے اس سے کیا ہو چکا؟ نکاح ہو چکا اور وہ وہ عورت کیا کر رہی ہے؟ اِنْكَار کر رہی ہے۔ جب یہ اِنْكَار کر رہی ہے، اگر وہ اپنے اِنْكَار میں سچی ہے تو اس پر کیا واجب ہوتی ہے؟ قَسَم آنی چاہیے، اسے کیا کھانی چاہیے؟ قَسَم کھانی چاہیے لِأَنَّ الْحَلْفَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ سے کہ قَسَم اس پر مُدَّعَى عَلَيْهِ پر واجب ہوتی ہے عَلَى تَقْدِيرِ صِدْقِهِ فِي إِنْكَارِهِ اگر وہ اپنے اِنْكَار میں، اپنے اِنْكَار میں سچے ہونے کی تقدیر پر فَإِذَا اَمْتَنَعَ، جب وہ باز رہا قَسَم سے، عُلِمَ أَنَّهُ غَيْرُ صَادِقٍ فِي الْإِنْكَارِ، تو جان لیا گیا کہ وہ اِنْكَار کے اندر سچا وہ کہہ رہا تھا نہیں میں اس کی بیوی، وہ عورت کہہ رہی تھی میں اس کی بیوی نہیں، معلوم ہوا وہ اپنے اور قَسَم بھی نہیں کھا رہی، معلوم ہوا وہ اپنے اِنْكَار میں سچی نہیں۔ إِذْ لَوْ كَانَ صَادِقاً لَأَقْدَمَ عَلَى أَدَاءِ الْوَاجِبِ، اس لیے کہ اگر وہ سچا ہوتا وہ مُدَّعَى عَلَيْهِ، تو وہ البتہ پیش قدمی کرتا، اِقْدَامَا کا کیا معنی؟ پیش قدمی کرتا عَلَى أَدَاءِ الْوَاجِبِ، اس ادائے واجب پر۔ اس واجب کو ادا کرنے میں پیش قدمی دکھاتا یعنی قَسَم اٹھا لیتا، کیا کر لیتا؟ اگر وہ اپنے اِنْكَار وہ اِنْكَار کر رہا ہے، وہ اِنْكَار میں سچا ہے تو قَسَم اٹھا لے بھئی، فورا قَسَم اٹھانی چاہیے تھی اس کو اور وہ تو نہیں اٹھا رہا، معلوم ہوا وہ سچا نہیں۔ تو وہ البتہ پیش قدمی کرتا عَلَى أَدَاءِ الْوَاجِبِ، اس واجب کی ادائے کی پر، بھئی وہ واجب کیا ہے؟ کہتے ہیں هُوَ الْحَلْفُ، وہ قَسَم ہے۔ وَإِذَا كَانَ النُّكُولُ اِقْرَاراً عِنْدَهُمَا، اور جب یہ نُكُول صَاحِبَيْنِ کے نزدیک اِقْرَار ہے، وَالْإِقْرَارُ يَجْرِي فِي هَذِهِ الْأُمُورِ، اور اِقْرَار تو کیا ہے؟ ان امور کے اندر جاری ہوتا ہے فَيُحْلَفُ، تو کیا کی جائے گی؟ اس سے قَسَم لی جائے گی۔ حَتَّى إِذَا نَقَلَ يَقْضِي بِالنُّكُولِ، یہاں تک کہ اگر وہ کیا کر دے؟ اِنْكَار کر دے گا تو فیصلہ کس کی وجہ سے کر دیا جائے گا؟ قَسَم سے اِنْكَار کی وجہ سے۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امامِ اعظم ابو حَنِيفَة رحمہ اللہ فرماتے ہیں أَنَّ الْمَرْأَةَ كَثِيرًا مَا يَحْتَرِزُ عَنْ الْيَمِينِ الصَّادِقَةِ، کہتے ہیں کوئی شخص جو ہے، کوئی شخص جو ہے كَثِيرًا مَا بَسّ اوقات جو ہے، يَحْتَرِزُ عَنْ الْيَمِينِ الصَّادِقَةِ، سچی قَسَم سے بھی بچتا ہے بھئی۔ بھئی بس سے بہت سے لوگ کیا ہوتے ہیں؟ سچی وہ سچے ہوتے ہیں ایک معاملے کے اندر لیکن پھر بھی وہ سچی قَسَم اٹھانے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں فَيَبْذُلُ شَيْئاً وَلَا يَحْلِفُ، پس وہ شخص کسی چیز کو تو خرچ کر دیتا ہے لیکن قَسَم نہیں اٹھاتا۔ مثلاً، ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے قاضی کے پاس مقدمہ گیا، قاضی نے بَیِّنَة مُدَّعِي سے طلب کی، مُدَّعِي نے کیا کہا میرے پاس تو بَیِّنَة نہیں۔ تو قاضی نے مُدَّعَى عَلَيْهِ سے کہا اب تم قَسَم اٹھاؤ ورنہ تمہیں کیا کرنا پڑیں گے؟ پیسے دینا پڑیں گے۔ اب وہ سچا ہے، اس نے واقعی کوئی پیسہ نہیں دینا لیکن وہ سچی قَسَم کھانے سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے اور مال خرچ کر دیتا ہے، لیکن قَسَم اٹھانے کو تیار نہیں، وہ لاکھ روپیہ ادا کر دے گا کہ میں لاکھ کے لیے بھی قَسَم نہیں اٹھا سکتا بھئی۔ فَيَبْذُلُ شَيْئاً تو مُدَّعَى عَلَيْهِ کوئی چیز تو خرچ کر دیتا ہے وَلَا يَحْلِفُ، لیکن قَسَم نہیں اٹھاتا۔ وَإِذَا أَنْكَرَ حَمْلَهُ عَلَى الْبَذْلِ لَا يَثْبُتُ الْإِقْرَارُ بِالشَّكِّ، اور جب اِنْكَار حَمْلَهُ عَلَى الْبَذْلِ، اِس سے اِنْكَار کو بَذْل پر محمول کرنا، لَا يَثْبُتُ الْإِقْرَارُ بِالشَّكِّ، تو شک کے ساتھ اِقْرَار ثابت نہیں ہوتا۔ مُدَّعِي کے پاس بَیِّنَة، مُدَّعِي نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میرے کتنے پیسے دینے ہیں؟ ایک لاکھ۔ اب قاضی نے مُدَّعِي کو کہا گواہ لاؤ، مُدَّعِي کہتا ہے میرے پاس تو گواہ نہیں۔ قاضی مُدَّعَى عَلَيْهِ کی طرف متوجه ہوا کہ قَسَم اٹھاؤ بھئی۔ مُدَّعَى کیا کرتا ہے؟ قَسَم اٹھانے سے اِنْكَار کرتا ہے بھئی، قَسَم اٹھانے سے اِنْكَار کرتا ہے۔ اب اس کے اِنْكَار میں دو احتمال ہیں، ہو سکتا ہے اِنْكَار اس لیے کر رہا ہے کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب یہ جھوٹا ہے تو یہ تو قَسَم اٹھانے سے اس لیے، یا ہو سکتا ہے یہ اِنْكَار اس لیے کر رہا ہو کہ یہ سچا ہے تو سچا، لیکن قَسَم اٹھانے سے اپنے آپ کو بچا رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اِنْكَار عَنِ الْقَسَم میں دو احتمال آگئے، ہو سکتا ہے کہ وہ مُدَّعِي، وہ مُدَّعِي کے دعویٰ کی کیا کرتا، اس کا کیا کرتا؟ اِقْرَار کرے کہ ہاں یہ سچا ہے میں کیا ہوں؟ جھوٹا ہوں اور ہو سکتا ہے وہ ہے تو سچا لیکن قَسَم سے اپنے آپ کو بچا رہا ہے، تو قَسَم سے اِنْكَار میں کتنے احتمال آگئے؟ دو۔ ایک کیا؟ یا تو دعوے کا اِقْرَار۔ اور جب اِقْرَار میں احتمال ہو تو شک کی وجہ سے اِقْرَار ثابت نہیں ہوتا۔ وإِنَّمَا يُسْتَحْلَفُ عِنْدَهُمَا اور صَاحِبَيْنِ کے نزدیک جو ہے قَسَم دی جائے گی۔ لِأَنَّ النُّكُولَ إِقْرَارٌ اس لیے کہ نُكُول، اِنْكَار عَنِ الْقَسَم نکول سے مراد ہے یہاں۔ اچھا، اس لیے کہ اِنْكَار جو ہے وہ إِقْرَار، اِنْكَار عَنِ الْقَسَم وہ اِقْرَار ہے لِأَنَّ الْحَلْفَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ اس لیے کہ قَسَم جو ہے مُدَّعَى عَلَيْهِ پر واجب تھی۔ عَلَى تَقْدِيرِ صِدْقِهِ فِي إِنْكَارِهِ کس تقدیر پر؟ کہ وہ اپنے اِنْكَار میں سچا ہو تو قَسَم اس پر واجب ہوتی ہے فإذا اِمْتَنَع جب وہ باز رہا قَسَم سے، عُلِمَ أَنَّهُ غَيْرُ صَادِقٍ فِي الْإِنْكَارِ تو جان لیا گیا کہ وہ اِنْكَار کے اندر سچا نہیں۔ إِذْ لَوْ كَانَ صَادِقاً لَأَقْدَمَ عَلَى أَدَاءِ الْوَاجِبِ اس لیے کہ اگر وہ سچا ہوتا وہ مُدَّعَى عَلَيْهِ، تو وہ البتہ پیش قدمی کرتا اس واجب کے ادائے پر، أَقْدَمَ کا کیا معنی؟ پیش قدمی کرتا عَلَى أَدَاءِ الْوَاجِبِ اس ادائے واجب پر، وہ واجب کیا ہے؟ وَهُوَ الْحَلْفُ اور وہ قَسَم ہے۔ وَإِذَا كَانَ النُّكُولُ إِقْرَاراً عِنْدَهُمَا اور جب یہ نُكُول صَاحِبَيْنِ کے نزدیک اِقْرَار ہے وَالْإِقْرَارُ يَجْرِي فِي هَذِهِ الْأُمُورِ اور اِقْرَار تو ان امور کے اندر جاری ہوتا ہے فَيُحْلَفُ تو کیا کی جائے گی؟ اس سے قَسَم لی جائے گی۔ حَتَّى إِذَا نَقَلَ يَقْضِي بِالنُّكُولِ یہاں تک کہ اگر وہ کیا کر دے؟ اِنْكَار کر دے گا تو فیصلہ کس کی وجہ سے کر دیا جائے گا؟ قَسَم سے اِنْكَار کی وجہ سے۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امامِ اعظم ابو حَنِيفَة رحمہ اللہ فرماتے ہیں أَنَّ الْمَرْأَةَ كَثِيرًا مَا يَحْتَرِزُ عَنْ الْيَمِينِ الصَّادِقَةِ کہتے ہیں کوئی شخص جو ہے، کوئی شخص جو ہے كَثِيرًا مَا بَسّ اوقات جو ہے، يَحْتَرِزُ عَنْ الْيَمِينِ الصَّادِقَةِ سچی قَسَم سے بھی بچتا ہے بھئی۔ بھئی بس سے بہت سے لوگ کیا ہوتے ہیں؟ سچی وہ سچے ہوتے ہیں ایک معاملے کے اندر لیکن پھر بھی وہ سچی قَسَم اٹھانے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ فَيَبْذُلُ شَيْئاً وَلَا يَحْلِفُ پس وہ شخص کسی چیز کو تو خرچ کر دیتا ہے لیکن قَسَم نہیں اٹھاتا۔ مثلاً، ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے۔ قاضی کے پاس مقدمہ گیا، قاضی نے بَیِّنَة مُدَّعِي سے طلب کی، مُدَّعِي نے کیا کہا میرے پاس تو بَیِّنَة نہیں۔ تو قاضی نے مُدَّعَى عَلَيْهِ سے کہا اب تم قَسَم اٹھاؤ ورنہ تمہیں کیا کرنا پڑیں گے؟ پیسے دینا پڑیں گے۔ اب وہ سچا ہے، اس نے واقعی کوئی پیسہ نہیں دینا لیکن وہ سچی قَسَم کھانے سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے اور مال خرچ کر دیتا ہے، لیکن قَسَم اٹھانے کو تیار نہیں، وہ لاکھ روپیہ ادا کر دے گا کہ میں لاکھ کے لیے بھی قَسَم نہیں اٹھا سکتا بھئی۔ تو فَيَبْذُلُ شَيْئاً تو وہ مُدَّعَى عَلَيْهِ کوئی چیز تو خرچ کر دیتا ہے وَلَا يَحْلِفُ لیکن قَسَم نہیں اٹھاتا۔ وَإِذَا أَنْكَرَ حَمْلَهُ عَلَى الْبَذْلِ لَا يَثْبُتُ الْإِقْرَارُ بِالشَّكِّ۔ بھئی دیکھو۔ مُدَّعِي کے پاس بَیِّنَة، مُدَّعِي نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میرے کتنے پیسے دینے ہیں؟ ایک لاکھ۔ اب قاضی نے مُدَّعِي کو کہا گواہ لاؤ، مُدَّعِي کہتا ہے میرے پاس تو گواہ نہیں۔ قاضی مُدَّعَى عَلَيْهِ کی طرف متوجه ہوا کہ قَسَم اٹھاؤ بھئی۔ مُدَّعَى کیا کرتا ہے؟ قَسَم اٹھانے سے اِنْكَار کرتا ہے بھئی، قَسَم اٹھانے سے۔ اب اس کے اِنْكَار میں دو احتمال ہیں، ہو سکتا ہے اِنْكَار اس لیے کر رہا ہے کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب یہ جھوٹا ہے تو یہ تو قَسَم اٹھانے سے اس لیے، یا ہو سکتا ہے یہ اِنْكَار اس لیے کر رہا ہو کہ یہ سچا ہے تو سچا، لیکن قَسَم اٹھانے سے اپنے آپ کو بچا رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اِنْكَار عَنِ الْقَسَم میں دو احتمال آگئے، ہو سکتا ہے کہ وہ مُدَّعِي وہ مُدَّعِي کے دعویٰ کی کیا کرتا، اس کا کیا کرتا؟ اِقْرَار کرے کہ ہاں یہ سچا ہے میں کیا ہوں؟ جھوٹا ہوں اور ہو سکتا ہے وہ ہے تو سچا لیکن قَسَم سے اپنے آپ کو بچا رہا ہے، تو قَسَم سے اِنْكَار میں کتنے احتمال آگئے؟ دو۔ ایک کیا؟ یا تو دعوے کا اِقْرَار۔ یا کیا کر رہا ہے؟ مال کو خرچ کر رہا ہے۔ اقرار یا بَذْل، اقرار یا بَذْل، دو صورتیں آ گئیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قسم سے انکار، اس کے اندر دو احتمال ہیں۔ یا تو وہ کیا کر رہا ہے دعوے ہی کا اقرار کر رہا ہے یا کیا کر رہا ہے؟ ہے تو سچا، لیکن مال کو خرچ کر رہا ہے۔ تو اقرار اور بَذْل، دو احتمال آ گئے۔ اقرار کا بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے اس نے اقرار کی وجہ سے انکار کیا ہے قسم سے، ہو سکتا ہے اس نے بَذْل کی وجہ سے کیا ہے قسم سے انکار کیا۔ اچھا، تو اب شک آ گیا۔ پتا نہیں یہ انکار کس وجہ سے ہے؟ اقرار کی وجہ سے ہے یا بَذْل کی وجہ سے؟ توجہ سے بیٹھو بھئی، مشکل دلیل ہے۔ کیا شک آ گیا؟ کہ یہ جو انکار کر رہا ہے قسم، پتا نہیں کس اقرار کی وجہ سے کر رہا ہے یا بَذْل کی وجہ سے کر رہا ہے۔ بھئی اگر ہم اقرار پر محمول کریں کس پر محمول کریں؟ کہ اس نے دعوے کا اقرار کر لیا، تو اس صورت میں تو بیچاروں مدّعی علیہ کی تکذیب لازم آئے گی۔ اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ کہ یہ جھوٹا تھا، یہ جو انکار کر رہا تھا، انکار میں کیا تھا؟ جھوٹا تھا۔ لہٰذا اقرار پر محمول نہیں کرنا چاہیے، کس پر محمول کرنا چاہیے؟ کیونکہ اگر اقرار پر محمول کریں تو مدّعی علیہ کیا بن جاتا ہے؟ جھوٹا بن جاتا ہے، تو لہٰذا کس پر ہم محمول کرنا اولیٰ ہے؟ بَذْل پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔ معلوم ہوا یہ جو قسم سے انکار کر رہا ہے، کس لیے کر رہا ہے انکار؟ مال تو خرچ کرنا چاہتا ہے، لیکن قسم اٹھانے کو تیار اگرچہ معاملے میں سچا ہے۔ تو اس کو کس پر محمول کرنا اور ہے؟ بَذْل پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔ اور ان معاملات کے اندر بَذْل جاری نہیں ہوتا۔ ان معاملات کے اندر بَذْل جاری نہیں ہوتا، نکاح کے اندر بھئی، استیلاء کے اندر، رقیت کے اندر، نسب کے اندر وغیرہ جو چیزیں جاری، ان میں بَذْل جاری نہیں ہوتا۔ کیسے بَذْل جاری نہیں ہوتا؟ دیکھو مال میں تو بَذْل جاری ہو سکتا ہے، ان مسائل میں بَذْل جاری نہیں ہو سکتا کہ انسان کوئی چیز تو خرچ کر دے، لیکن کوئی چیز خرچ کر دے۔ یہاں پر ایسا دیکھو مال کا دعویٰ دیکھو بھئی، مثلاً ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر کس چیز کا دعویٰ کیا؟ مال کا دعویٰ کیا کہ قاضی صاحب اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے۔ وہ دوسرے مدّعی پر بجّینہ آئی، مدّعی کے پاس بجّینہ نہیں۔ تو قاضی مدّعی علیہ سے کیا کہے گا؟ کیا پیش کرو؟ اور کیا کرو؟ قسم اٹھاؤ۔ وہ کیا کرتا ہے؟ قسم اٹھانے سے انکار کرتا ہے۔ کیوں؟ وہ بَذْل کر رہا ہے۔ مال خرچ کر رہا ہے، اپنے آپ کو তো مال دے دیتا ہے، وہ چیز جو دعویٰ تھا وہ مان لیا، مال دے دیا، لیکن اپنے آپ کو قسم سے تو مال کے مسئلے میں تو بَذْل جاری ہوتا ہے، ان مسئلوں میں بَذْل جاری کیسے جاری؟ دیکھو، ایک آدمی نے دوسری عورت پر نکاح کا دعویٰ کیا۔ ایک آدمی نے ایک عورت پر یہ عورت میری بیوی ہے، میرا اس سے نکاح ہو چکا ہے۔ قاضی نے مدّعی سے کہا، اس آدمی سے کہا، گواہ پیش کرو۔ اس نے کہا، میرے پاس تو کوئی گواہ نہیں ہے، تو اس صورت میں عورت پر کیا آتی؟ قسم آتی اور قسم سے وہ انکار کیا کرتا ہے، بعض اوقات مدّعی علیہ بھئی، کس لیے انکار کرتا ہے؟ بَذْل کے لیے، لیکن یہاں بَذْل نہیں ہو سکتا۔ مثلاً عورت یوں کہتی ہے۔ قسم آئی اس پر اور عورت نے قسم اٹھانے سے انکار کر دیا کہ میں قسم کہتی یہ ہے کہ بھئی، میں ہوں تو اس شخص کی بیوی نہیں۔ نہیں، اس آدمی کی بیوی نہیں۔ میں اس آدمی کی بیوی نہیں ہوں، یہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے، لیکن اس وقت میرے پر قسم آ رہی ہے، اور میں تو سچی قسم بھی نہیں اٹھاتی، چلو میں اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیتی ہوں، اس کی بیوی اپنے آپ کو تسلیم کر لیتی ہوں بھئی، تو اپنے نفس کو میں خرچ کر دیتی ہوں، لیکن سچی قسم بھی یہاں پر اٹھاؤں گی، تو یہاں بَذْل ہو سکتا ہے، بھئی اپنے نفس کو دے سکتی ہے بھئی، تو یہاں بَذْل جاری ہی نہیں ہو سکتا اس میں۔ تمام میں اسی طرح ہے، تمام صورتوں میں اسی طرح ہے۔ یہ معنیٰ ہے بھئی۔ تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص جو ہے وہ کثیر مَا یَحْتَرِزُ عَنِ الْیَمِیْنِ الصَّادِقَةِ دی، وہ بسا اوقات اپنے آپ کو سچی قسم سے بھی بچاتا ہے تو فَيَبْذُلُ شَيْئًا وَلَا يَحْلِفُ تو وہ کوئی چیز تو خرچ کر دیتا ہے، لیکن قسم نہیں اٹھاتا وَإِذَا أَمْكَنَ حَمْلُهُ عَلَى الْبَذْلِ لَا يَسْقُطُ الْإِقْرَارُ بِالشَّكِّ اور جہاں ممکن ہے اس نکول کو محمول کرنا بھئی، اس نے جو قسم سے انکار کیا، اس کو محمول کرنا ممکن ہے عَلَى الْبَذْلِ کس پر؟ بَذْل پر جب محمول کرنا ممکن ہے لَا يَسْقُطُ الْإِقْرَارُ بِالشَّكِّ تو اقرار شک کی وجہ سے ثابت تو اقرار کو نہ ثابت کریں، بلکہ وہاں کس کو ثابت کریں؟ بَذْل فَيَحْمَلُ عَلَى الْبَذْلِ تو محمول کیا جائے گا اس کو بَذْل پر وَالْبَذْلُ لَا يَجْرِي فِي هَذِهِ الْأَشْيَاءِ اور بَذْل تو ان اشیاء میں جاری جیسے دیکھو ایک اور بھی چیز دیکھ، دو صورت بھئی، ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ یہ میرا غلام ہے، یہ کیا ہے میرا؟ تو مدّعی کے ذمے کیا ہے؟ بجّینہ لیکن مدّعی علیہ پر امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ قسم نہیں، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں بَذْل جاری نہیں ہو سکتا۔ غلام پر قسم آ گئی، غلام کہتا ہے میں تو سچی قسم بھی نہیں اٹھاؤں گا، لیکن اس کا دعویٰ مجھے چونکہ تکلیف دے رہا ہے، میں یوں کرتا ہوں اپنے آپ کو اس کا غلام بنا دیتا ہوں۔ بَذْل جاری ہو سکتا ہے بھئی؟ یہاں پر بھی بَذْل جاری جو اپنے نفس کو سپرد کر کے اس کا غلام بنا دے، یہاں پر یہ بَذْل جاری نہیں ہو سکتا۔ وَيُمْكِنُ أَنْ يُقَالَ جی، والْبَذْلُ لَا يَجْرِي فِي هَذِهِ الْأَشْيَاءِ اور بَذْل جاری نہیں ہوتا ان اشیاء میں، وَيُمْكِنُ أَنْ يُقَالَ اور ممکن ہے بھئی، علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ يُمْكِنُ أَنْ يُقَالَ یہ کہنا ممکن ہے، لَمَّا لَمْ يَجْرِ الْبَذْلُ فِي هَذِهِ الْأَشْيَاءِ کہ جب بَذْل جاری نہیں ہوتا ان چیزوں کے اندر، لَا يُجْعَلُ النُّكُولُ بَذْلًا تو اس انکار عن الیمن کو بَذْل نہیں بنایا جائے گا، فَيَحْمَلُ عَلَى الْإِقْرَارِ تو اس کو محمول کس پر کیا جائے گا؟ اقرار پر۔ کس پر؟ علامہ صدر الشریعہ اعتراض کر رہے ہیں بھئی، ایک آدمی جب کسی مقدمے میں قسم کھانے سے انکار کر دے تو وہاں کتنے احتمال میں نے ذکر کیے؟ دو، یا تو وہ ایک قسم سے انکار اس لیے کر رہا ہے کہ وہ دعوے کا اقرار کر رہا ہے یا وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ بَذْل کرنا چاہتا ہے۔ علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر بَذْل جاری نہیں ہو سکتا، جب بَذْل جاری نہیں ہو سکتا تو دوسرا احتمال تو ابھی بھی باقی ہے تو اس کو کس پر محمول کر لو؟ اقرار پر محمول کر لو بھئی، کس پر محمول کر لو؟ اقرار پر تو محمول ہو سکتا ہے، لہٰذا قسم دی جانی چاہیے یہاں پر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جی، لیکن محشی اس کا پھر جواب دیتے ہیں کہ نہیں بھئی، اقرار پر محمول ہم کرتے ہیں تو یہ تو مدّعی علیہ کی توہین ہے، اس کو ہم کیا قرار دے رہے ہیں؟ جھوٹا قرار دے رہے ہیں، حالانکہ جب تو یہ درست نہیں۔ تو لَا يُجْعَلُ النُّكُولُ بَذْلًا تو یہاں پر نکول کو بَذْل نہیں بنایا جائے بنایا جا سکتا، فَيَحْمَلُ عَلَى الْإِقْرَارِ تو اس کو کس پر محمول کرنا چاہیے؟ اقرار پر۔ یہ علامہ صدر الشریعہ نے اعتراض کیا ہے بھئی۔ وَفِي فَتاوى قَاضِي خَانْ بھئی فتاویٰ قاضی خان کے اندر ہے: أَنَّ الْفَتْوَى عَلَى قَوْلِهِمَا فِي النِّكَاحِ کہ فتویٰ کس کے قول پر ہے؟ صاحبین کے قول پر ہے نکاح کے باب میں۔ جی۔ وَ حَدٌّ وَلِعَانٍ اور قسم نہیں دی جائے گی مولانا حد اور لعان میں، كَمَا إِذَا ادَّعَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ جیسے دعویٰ کیا ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر أَنَّكَ قَذَفْتَنِي بِالزِّنَا کہ تو نے مجھ پر تہمت لگائی تھی زنا کی، وَعَلَيْكَ الْحَدُّ اور تیرے اوپر کیا لازم ہے؟ حد لازم ہے، لَا يُسْتَحْلَفُ بِالْإِجْمَاعِ بھئی تو بھئی اب مدّعی کے ذمے بجّینہ تھا، لیکن مدّعی کے پاس بجّینہ نہیں تو مدّعی علیہ سے قسم نہیں لی جائے گی تو لَا يُسْتَحْلَفُ بِالْإِجْمَاعِ بالاجماع اس سے قسم نہیں لی جائے گی۔ وَكَذَا إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الزَّوْجِ اسی طرح جب دعویٰ کر دے کوئی عورت خاوند پر أَنَّكَ قَذَفْتَنِي بِالزِّنَا وَعَلَيْكَ اللَّعَانُ تو نے مجھ پر کیا قذف لگائی تھی؟ زنا، زنا کی تہمت لگائی تھی وَعَلَيْكَ اللَّعَانُ اور تو تجھ پر کیا واجب ہے؟ لعان تو اس صورت میں عورت کے ذمے تو بجّینہ ہے، لیکن اگر عورت کے پاس بجّینہ نہیں تو خاوند سے قسم نہیں لی جائے گی۔ چلیے مولانا ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام