اچھا بھئی، ہم گزشتہ اسباق کا خلاصہ کر رہے تھے۔ اور گزشتہ سبق میں ہم نے تقریباً پانچ اسباق کا خلاصہ کر لیا بھئی۔ اور آخری بحث جو ہم نے ذکر کی تھی گزشتہ سبق میں، وہ دلالتِ مطابقی، دلالتِ تضمنی اور دلالتِ التزامی کے بارے میں تھی۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ دلالتِ مطابقی کے ساتھ کبھی دلالتِ تضمنی آئے گی، کبھی صرف دلالتِ التزامی اس کے ساتھ آئے گی، اور کبھی دونوں آئیں گی، اور کبھی دونوں نہیں ہوں گی، لیکن مطابقی ہمیشہ ہو گی۔ دلالتِ مطابقی۔ تو کل چار صورتیں بن گئی تھیں۔ دلالتِ مطابقی ہو اور دلالتِ تضمنی بھی نہیں اور التزامی بھی نہیں۔ کیوں؟ دلالتِ تضمنی اس لیے نہیں کیونکہ اس چیز کا کوئی جز ہی نہیں، جب جز نہیں تو جز پر دلالت بھی نہیں ہو سکتی۔ دلالتِ التزامی اس لیے نہیں کیونکہ اس چیز کا کوئی لازم ہی نہیں، جب لازم نہیں تو لازم پر دلالت بھی نہیں ہوئی۔ تو صرف کون سی ہوئی؟ دلالتِ مطابقی۔ اور کبھی دلالتِ مطابقی کے ساتھ دونوں دلالتیں ہوں گی، دلالتِ تضمنی بھی اور دلالتِ التزامی بھی۔ کہ ایک چیز کا جز بھی ہو اور لازم بھی ہو، تو جب کل پر دلالت ہوئی تو جز پر بھی دلالت ہو گئی اور لازم پر بھی دلالت ہو گئی۔ اور کبھی دلالتِ مطابقی کے ساتھ صرف دلالتِ تضمنی ہو گی، التزامی نہیں۔ مثلاً ایک چیز ہے اس کا جز تو ہے لیکن لازم کوئی نہیں، تو تضمنی تو ہو گی لیکن التزامی نہیں۔ اور کبھی دلالتِ مطابقی کے ساتھ صرف التزامی ہو گی، تضمنی نہیں۔ التزامی اس لیے کیونکہ اس کا لازم تو ہے، لیکن تضمنی نہیں کیونکہ اس کا کوئی جز نہیں۔ تو دیکھو ان چاروں صورتوں میں آپ دیکھ رہے ہیں دلالتِ مطابقی ضرور ہے۔ باقیوں میں سے کبھی ایک ہے، کبھی دوسری ہے، کبھی دونوں ہیں اور کبھی ایک بھی نہیں۔ تو مطابقی ہمیشہ ہوتی ہے۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ ایک ہی وقت میں دلالتیں سب ہو جاتی ہیں۔ جو جو ہوں گی وہ سب ہو جائیں گی۔ البتہ پھر ارادہ ہونا ایک اور چیز ہے۔ بعض اوقات ہم ایک کا ارادہ کرتے ہیں، کبھی دوسری کا، کبھی تیسری کا۔ کبھی ہم دلالتِ تضمنی کا ارادہ کریں گے، کبھی مطابقی کا، اور کبھی التزامی کا۔ لیکن دلالتیں سب پائی جائیں گی۔ مثلاً میں ایک لفظ ذکر کرتا ہوں، دیکھتے ہیں آپ کو دلالتِ مطابقی، تضمنی اور التزامی پوری طرح سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی۔ میں کہتا ہوں: سائیکل۔ سائیکل آپ جانتے ہیں کہ اس میں دو پہیے ہوتے ہیں، پیڈل ہیں، اور وہ سیٹ اس کی، گدی ہے، اور ہینڈل وغیرہ، یہ اجزا ہیں اس کے سارے۔ اور سائیکل کے ساتھ ایک چیز لازم بھی ہے یعنی اس کا کوئی نہ کوئی رنگ بھی ہو گا۔ تو میں نے بولا لفظِ سائیکل۔ جی، کون سی دلالت ہوئی؟ شاباش! شاباش! معلوم ہوا سب کو سمجھ میں آ گیا، تینوں دلالتیں ہو گئیں۔ ہاں، اب میرا ارادہ سائیکل بول کر پوری سائیکل مراد ہو گا یا پوری سائیکل کا ایک جز مراد ہو گا یا اس کے کوئی لازم مراد ہو گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: میری سائیکل گم ہو گئی۔ اب میں نے لفظِ سائیکل بولا، دلالتیں تینوں ہو رہی ہیں لیکن میں نے کون سی کا ارادہ کیا؟ ساری سائیکل گم ہوئی ہے یا کچھ اس کا حصہ گم ہوا ہے یا اس کا کوئی لازم گم ہوا ہے؟ ظاہر سی بات ہے ساری سائیکل، تو سائیکل بول کر پوری سائیکل مراد تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ مطابقی۔ معلوم ہوا ہیں تو تینوں دلالتیں: مطابقی بھی، التزامی بھی اور تضمنی بھی، لیکن ارادہ کون سی کا ہے؟ دلالتِ مطابقی کا یہاں ارادہ ہے۔ اور ارادہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جب دلالت ہو رہی ہے تو اس کا ارادہ بھی ہو سکتا ہے۔ اچھا، دوسری صورت: ایک شخص نے میری سائیکل کا پہیہ توڑ دیا تو میں آپ سے کہتا ہوں: اس نے میری سائیکل توڑ دی۔ اب بتائیے، کون سی دلالت؟ تضمنی۔ پوری سائیکل تو نہیں توڑی، اس کا ایک جز توڑا ہے، تو سائیکل بول کر اس کا ایک جز یعنی پہیہ مراد ہے۔ تیسری صورت: کہ ایک شخص نے میری سائیکل کا رنگ خراب کر دیا۔ میں کہتا ہوں: اس نے میری سائیکل خراب کر دی۔ جی؟ کیا؟ کون سی مراد ہو گی؟ مثلاً تو دلالتِ مثلاً التزامی مراد۔ جی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس طرح دلالتیں ساری ہوتی ہیں، لیکن ارادہ ان میں سے کسی ایک کا ہوتا ہے۔ شاباش بھئی! اب آگے آئیے بھئی، مفرد اور مرکب بھئی، مفرد اور مرکب۔ میں پہلے بیان کر چکا کہ عام علوم کے اندر مفرد اسے کہتے ہیں جو اکیلا ہو، ایک ہو۔ اور جو دو یا زیادہ چیزیں ہوں تو ان کو مرکب کہا جاتا ہے۔ ایک چیز ہو تو مفرد، دو یا زیادہ ہوں تو اسے مرکب۔ لیکن علمِ منطق میں نہیں، علمِ منطق میں الگ تعریف کی جاتی ہے مفرد اور مرکب کی۔ یہاں پر مرکب اسے کہتے ہیں کہ جزءِ لفظ سے جزءِ معنی پر دلالت کا ارادہ کیا جائے۔ جزءِ لفظ سے جزءِ معنی پر دلالت کا ارادہ کیا جائے۔ مرکب جو ہے نا مرکب، اس میں چار چیزیں ہوں گی۔ ایک تو یہ کہ لفظ کا جز ہو گا۔ دوسرا یہ کہ وہ جز معنی دار بھی ہو گا، اس کا کوئی معنی ہو گا۔ اور ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت بھی کرے۔ اور چوتھی چیز یہ کہ اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے تو اس کو کہیں گے مرکب۔ پھر دہرا لیں، کیا کیا ہو اس میں؟ ایک سے زیادہ لفظ ہوں، اور ہر لفظ معنی دار ہو، اور ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت بھی کرے، اور چوتھی چیز کہ اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے۔ یہ چاروں چیزیں ہوں گی تو اس کو مرکب کہیں گے۔ اگر ان میں سے ایک بھی چیز کم ہو گئی تو اس کو مرکب نہیں کہیں گے، پھر اس کو مفرد کہیں گے۔ فرض کریں لفظ ہے اس کا جز ہی کوئی نہیں، تو یہ بھی کیا ہے؟ مفرد۔ دوسری صورت: لفظ بھی ہے، اس کا جز بھی ہے لیکن اس کا کوئی معنی نہیں، تو پھر اس کو بھی مفرد کہیں گے۔ تیسری صورت: لفظ بھی ہے، اس کے جز بھی ہیں، جز معنی دار بھی ہیں، لیکن یہ ان معنی پر دلالت نہیں کر رہے، ہر ہر جز اپنے معنی پر دلالت نہیں کر رہا، تو یہ بھی کیا ہے؟ مفرد۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ لفظ کے جز بھی ہیں، جز معنی دار بھی ہیں اور وہ لفظ کا ہر جز اپنے معنی پر دلالت بھی کر رہا ہے لیکن آپ نے اس کا ارادہ نہیں کیا، تو بھی اس کو کیا کہیں گے؟ مفرد ہی کہیں گے۔ میں نے مثال سے وضاحت کی تھی، غالباً اس وقت میں نے مثال ذکر کی تھی: رمضان کا مہینہ۔ دیکھو، رمضان ایک مخصوص مہینے کا نام۔ کا، کے، کی، یہ نسبت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، کہ ایک چیز دوسری چیز کے ساتھ متعلق ہے، منسوب ہے۔ اور مہینہ تیس دنوں کو کہتے ہیں۔ تو دیکھو، رمضان کا مہینہ، کتنے لفظ؟ تین لفظ۔ یاد رکھو ایک ہو یا زیادہ ہوں، سب کو لفظ کہتے ہیں۔ ایک ہو تو وہ بھی لفظ، زیادہ ہوں تو وہ بھی لفظ۔ تو یہاں کل کتنے لفظ ہیں؟ تین۔ لیکن ان سارے کو بھی لفظ ہی کہیں گے۔ تو بتاؤ لفظ کے جز ہیں کہ نہیں؟ تین جز ہیں۔ اور ہر جز معنی دار بھی ہے؟ ہے بھی۔ اور آپ نے بھی اسی معنی کا ارادہ کیا یا نہیں؟ رمضان کے مہینے سے رمضان کے مہینے کا معنی کا ہی ارادہ کیا یا کسی اور معنی کا ارادہ کیا؟ رمضان کے مہینے ہی کا۔ تو دیکھو، لفظ کے جز بھی ہیں اور جز معنی دار بھی ہیں اور ہر جز اپنے معنی پر دلالت بھی کر رہا ہے، رمضان سے رمضان کا مہینہ مراد ہے، کا سے نسبت مراد ہے، مہینے سے تیس دن مراد ہیں، اور آپ اس معنی کا ارادہ بھی کرتے ہیں، تو یہ کیا ہے؟ مرکب ہے۔ اسی کو صاحبِ کتاب نے اپنے لفظوں میں بیان کیا تھا کہ جزءِ لفظ سے جزءِ معنی پر دلالت کا ارادہ کیا جائے۔ لفظ کے کتنے جز ہیں یہاں؟ تین۔ معنی کے بھی کتنے جز؟ تین۔ تو جزءِ لفظ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ جزءِ معنی پر، اور آپ نے بھی اس کا ارادہ کیا ہے۔ تو جزءِ لفظ سے جزءِ معنی پر دلالت کا ارادہ کیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکب کہتے ہیں۔ تو اس کے مقابلے میں مفرد کی چار قسمیں تھیں۔ پہلی صورت یہ تھی لفظ کا جز ہی نہ ہو، جیسے انہوں نے مثال دی تھی اردو میں لفظِ "کہ" ہے۔ "کہ" میں ہا کو جو ساتھ ملایا گیا ہے، وہ کسرہ کو ظاہر کرنے کے لیے ہے، اصل کاف ہی ہے، کاف۔ تو یہ جب صرف ایک حرف ہے تو لفظ کا کوئی جز ہوا؟ لفظ کا جز ہی نہیں، تو یہ ایک صورت مفرد کی۔ دوسری صورت: لفظ کے جز تو ہوں لیکن ان کا معنی کوئی نہ ہو، جیسے زید۔ زید کا ایک جز زا ہے، ایک یا ہے، ایک دال، لیکن زا، یا، دال یہ حروفِ تہجی ہیں، یہ تو بولنے کے لیے ہوتے ہیں، ان کا کوئی معنی نہیں ہوتا۔ تو لفظ کے جز تو ہیں لیکن ان کا کوئی معنی نہیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ لفظ کے جز بھی ہیں اور معنی دار بھی ہیں، لیکن لفظ ان پر دلالت نہیں کر رہا، جیسے کسی ساتھی کا نام عبد اللہ رکھ دیں۔ کیا رکھ دیں؟ عبد اللہ۔ اب دیکھیں لفظ کے دو جز ہیں، ایک لفظِ عبد، ایک لفظِ اللہ، اور ہر ایک کا اپنا معنی بھی ہے، عبد غلام اور بندے کو کہتے ہیں اور لفظِ اللہ نام ہے ذاتِ باری تعالیٰ کا جو خالقِ ارض و سما ہے بھئی۔ تو دیکھو ہر لفظ کیا ہے؟ معنی دار بھی ہے، لیکن یہ لفظ اپنے معنی پر دلالت نہیں کر رہا جب آپ نے کسی کا نام رکھ دیا۔ جب آپ آپ کے ایک ساتھی کا نام عبد اللہ ہے، جب آپ اس کو پکارتے ہیں: عبد اللہ ادھر آؤ، تو کیا وہاں معنی کا ارادہ ہوتا ہے؟ نہیں، معنی کی طرف آپ کا ذہن بھی نہیں جاتا۔ کوئی بھی اس کو بلائے گا وہ عبد اللہ ہی سے بلائے گا۔ اب بچے بھی اس کو لفظِ اس کو کہیں گے عبد اللہ ادھر آؤ، اب بچوں کو تو ظاہر سی بات ہے ان کو تو عربی کے الفاظ کے معنی کا پتہ نہیں، تو وہاں معنی مقصود ہوتا ہی نہیں۔ اور تیسری صورت یہ تھی کہ لفظ کے جز ہوں، معنی دار بھی ہوں، اور وہ لفظ اس معنی پر دلالت بھی کر رہا ہو لیکن آپ اس کا ارادہ نہیں کرتے، جیسے کسی انسان کا نام کیا رکھا؟ حیوانِ ناطق۔ اب حیوانِ ناطق، لفظ کے کتنے جز؟ دو۔ اور جو معنی ہے، جس ذات کا نام ہے، اس کے بھی کتنے جز؟ دو ہی جز: ایک حیوان اور ایک ناطق یعنی انسان کے۔ اور یہ حیوانِ ناطق اس انسان کے اجزا پر دلالت بھی کر رہا ہے، لیکن آپ اس کا ارادہ نہیں کرتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کو پھر مفرد کہتے ہیں بھئی۔ اس کے بعد آپ نے کلی اور جزئی کی بحث پڑھی تھی۔ آپ نے پڑھا تھا، مفہوم اس شے کو کہتے ہیں جو ذہن میں آئے۔ میں کوئی لفظ بولتا ہوں، اس کا معنی آپ کے ذہن میں آتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفہوم، مفہوم۔ اور یہ مفہوم دو قسم پر ہے: کبھی کلی ہو گا اور کبھی جزئی۔ اگر یہ کثیرین پر صادق آئے تو اس کو کیا کہیں گے؟ کلی۔ اور اگر کثیرین پر صادق نہ آئے تو اس کو جزئی کہیں گے۔ تو کلی اور جزئی ہونا یہ مفہوم کا نام ہے۔ کس کا نام ہے؟ مفہوم کا نام ہے۔ مثلاً میں نے کہا: انسان۔ انسان، بولیے، کلی ہے، جزئی ہے؟ جی؟ زید بھی انسان، زید بھی انسان، عمرو بھی انسان، بکر بھی انسان، خالد بھی انسان، دیکھو کثیرین پہ صادق آ رہا ہے یہ مفہوم۔ تو انسان کیا ہے؟ کلی۔ اور جن پر یہ لفظ بولا جائے، ان کو کیا کہتے ہیں؟ کلی کے افراد اور کلی کی جزئیات کہتے ہیں بھئی، جزئیات کہتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا تھا حقیقت اور ماہیت کے بارے میں۔ حقیقت اور ماہیت کسی شے کے وہ پرزے ہیں جن سے وہ شے مل کر بنے، جیسے انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ حیوان اور ناطق یہ دو چیزیں ہوں گی تو انسان پایا جائے گا، ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہوئی تو انسان کا وجود نہیں ہو گا۔ تو کسی شے کی وہ چیزیں جن سے مل کر وہ شے بنے، اسے اس چیز کی حقیقت اور ماہیت کہتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ اس کے علاوہ وہ چیزیں جو کسی چیز میں پائی تو جائیں لیکن ان پر اس چیز کے وجود کا دارومدار نہ ہو، ان کو عوارض کہتے ہیں، یعنی صفات کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ صفات کہتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا کلی کی دو قسمیں ہیں: کلی ذاتی اور ایک کلی عرضی۔ کلی ذاتی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، جو ذات میں داخل ہے، یعنی ایسے جو جو اپنی جزئیات کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو، اس کو کہتے ہیں کلی ذاتی۔ اور کلی عرضی وہ ہے جو اپنے جزئیات کی نہ پوری حقیقت ہو اور نہ حقیقت کا جز ہو، جیسے ضاحک۔ کیا انسان کی حقیقت میں داخل ہے؟ نہیں، تو یہ کلی عرضی ہے۔ کاتب، یہ انسان کی حقیقت میں داخل ہے؟ نہیں، تو یہ کیا ہے؟ کلی عرضی۔ جبکہ حیوان یہ انسان کی حقیقت میں داخل ہے، یہ کیا ہے؟ کلی ذاتی۔ اسی طرح حیوان کس کو کہتے ہیں؟ جسم نام حساس متحرک بالارادہ۔ تو جسم یہ بھی کلی ذاتی، جسم نامی یہ بھی کیا ہے؟ کلی ذاتی، حساس یہ بھی کیا ہے؟ کلی ذاتی، اور متحرک بالارادہ یہ بھی کیا ہے؟ کلی ذاتی، کیونکہ حیوان کیا تھا؟ انسان کے لیے کلی ذاتی ہے نا؟ جب حیوان کلی ذاتی ہے تو حیوان کس حیوان سے کیا کیا مراد ہے؟ جسم نامی، حساس، متحرک بالارادہ۔ تو ظاہر سی بات ہے یہ سارے ہی کیا ہے؟ کلی ذاتی ہیں بھئی، حقیقت میں داخل ہیں۔ تو کلی عرضی وہ ہے جو اپنے جزئیات کی نہ پوری حقیقت ہو اور نہ حقیقت کا جز۔ اس کے بعد آپ نے کلیاتِ خمسہ پڑھی تھیں بھئی، کلیاتِ خمسہ۔ یعنی جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرضِ عام۔ پھر دہراؤ، نمبر ایک: جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرضِ عام۔ ان میں سے تین جو ہیں وہ کلی ذاتی ہے اور دو کلی عرضی۔ کلی ذاتی کیا کیا ہیں؟ جنس، نوع اور فصل، اور کلی عرضی کون سی؟ خاصہ اور عرضِ عام۔ کلی ذاتی جنس ہے، جنس کسے کہتے ہیں؟ جنس، جنس وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد اور جزئیات پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، جیسے حیوان۔ یہ انسان پر بھی بولا جاتا ہے اور گائے، بیل، بکری وغیرہ پر بھی بولا جاتا ہے، اور ان سب کی حقیقتیں کیا ہیں؟ الگ الگ۔ تو جنس کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی ذاتی ہے، پہلے شروع میں وہ لفظ لائیں جس سے پتہ چل جائے کہ یہ کلی ذاتی ہے یا عرضی ہے، تو جنس وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد اور جزئیات پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں۔ اور نوع وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد اور جزئیات پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو۔ اور فصل وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد اور جزئیات پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو اور اس کو دوسری حقیقتوں سے جدا کر دے، جیسے ناطق۔ یہ انسان کے لیے کیا ہے؟ فصل ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور کلی عرضی کی دو قسمیں ہیں: خاصہ اور عرضِ عام۔ خاصہ کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد اور جزئیات پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو، جیسے ضاحک، یہ انسان کے لیے کیا ہے؟ کلی عرضی ہے۔ اور کاتب، یہ کیا ہے انسان کے لیے؟ کلی عرضی ہے۔ اور عرضِ عام وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، جیسے ماشی۔ ماشی کا کیا معنی؟ پاؤں سے چلنے والا۔ تو ماشی انسان بھی ہے، گھوڑا، گدھا، گائے، بیل، بکری سب ماشی ہیں اور سب کی حقیقت ایک ہے یا الگ؟ الگ الگ ہے۔ تو یہ ایسی کلی ہے جو ایسے افراد پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں الگ ہیں۔ اور کیا یہ حقیقت میں داخل ہے یا خارج ہے؟ خارج ہے، تو یہ پھر عرضِ عام ہوا۔ اگر حقیقت میں داخل ہوتا تو یہ جنس ہوتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد ہم نے "ما ہو" کے بارے میں پڑھا تھا۔ میں نے بتلایا تھا کہ یہ مناطقہ کی اصطلاح ہے۔ اصطلاح کسے کہتے ہیں؟ اصطلاح کسی علم والوں کا کسی لفظ کو کسی ایک معنی کے ساتھ خاص کر دینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اصطلاح۔ جیسے دیکھو، تصور کا ویسے معنی ہے سوچنا۔ آپ اردو میں بھی بولتے ہیں کہ آپ تصور کریں ذرا، بولتے ہیں یا نہیں بولتے؟ تو تصور کا ویسے معنی ہے سوچنا، سوچنا۔ لیکن منطق کے اندر تصور کا معنی سوچنا ہے یا یہ علم کی ایک خاص قسم کا نام ہے؟ دیکھا، انہوں نے تو منطق جس نے منطق نہیں پڑھی اس کو اس معنی کا پتہ نہیں چلے گا۔ ہاں، جو منطق پڑھے گا اس کو پتہ چل جائے گا۔ معلوم ہوا منطق والوں نے اس لفظ کو ایک خاص معنی کے ساتھ جوڑ دیا، تو یوں کہیں گے یہ منطق والوں کی اصطلاح ہے، ان کے ہاں تصور کا یہ معنی ہوتا ہے۔ جیسے علمِ نحو والے، اسم، اسم عام زبان میں نام کو کہتے ہیں، لیکن علمِ نحو کے اندر اسم کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ ایسا کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا نہ ہو۔ دیکھا، تو یہ ان کی اصطلاح ہے، وہ جب اسم بولیں تو اسی معنی کا ارادہ کرتے ہیں جو ان کے ہاں متعین اور مقرر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اصطلاح کسے کہتے ہیں؟ کہ کسی علم والے ایک لفظ کو کسی ایک معنی کے ساتھ خاص کر لیں، خاص کر لیں تو کہتے ہیں یہ ان کی اصطلاح ہے یعنی ویسے تو اس لفظ کا یہ معنی نہیں لیکن ان کی اصطلاح ہے، ان کے نزدیک اس لفظ کا یہ معنی ہوتا ہے۔ تو میں نے بتلایا تھا کہ علمِ منطق والوں کی اصطلاح ہے کہ وہ "ما ہو" کے ذریعے حقیقت کا سوال کرتے ہیں اور "ای شیء" کے ذریعے فصل کا سوال کرتے ہیں۔ جب انہوں نے کسی چیز کی حقیقت پوچھنی ہو تو وہ "ما ہو" سے سوال کرتے ہیں اور اگر انہوں نے فصل پوچھنا ہو جس سے وہ چیز دوسروں سے جدا ہو جائے تو وہ "ای شیء" کے ذریعے سوال کرتے ہیں۔ اور پھر "ما ہو" کے ذریعے اگر ایک چیز کا سوال کیا جائے تو جواب میں اس کی پوری حقیقت بیان کرو، اور اگر دو یا زیادہ چیزوں کا سوال کیا جائے تو ان کا تمامِ مشترک بیان کرو۔ تمامِ مشترک کیا معنی؟ جو جو جز یا یوں کہو جو جو پرزے ان میں مشترک ہیں وہ سارے کیا کر دو؟ ذکر کر دو۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا: الانسان ما ہو؟ انسان کیا چیز ہے؟ آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوانِ ناطق، شاباش بھئی۔ تو پوری حقیقت، ایک چیز کا پوچھا پوری حقیقت ذکر کرو، اور اگر دو یا زیادہ کا پوچھیں تو تمامِ مشترک یعنی جو جو پرزے مشترک ہیں۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا: الانسان والشجر ما ہما؟ انسان اور درخت کیا چیز ہیں؟ آپ نے کہا شاباش، آپ نے کہا: جسم نامی۔ ان میں دو پرزے مشترک ہیں: ایک تو جسم ہو اور دوسرا جسم بھی کون سا ہو؟ نامی ہو، بڑھنے والا ہو۔ اور جبکہ "ای شیء" کے ذریعے فصل کا سوال کرتے ہیں، فصل۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا: الانسان ای حیوان ہو؟ انسان کون سا حیوان ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ ناطق، صرف ناطق کہیں گے، فصل جواب میں ذکر کریں گے۔ میں نے پوچھا: البقر ای حیوان ہو؟ گائے بیل کون سا حیوان ہے؟ آپ کہیں گے: ذو خوار، آپ کیا کہیں گے؟ ذو خوار کہیں گے جواب میں۔ اس کے بعد ہم نے جنس اور فصل کی قسمیں پڑھی تھیں۔ آپ نے پڑھا جنس کی دو قسمیں ہیں: ایک جنسِ قریب اور ایک جنسِ بعید۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں، میں نے بتلایا تھا کہ انسان کے لیے مثلاً حیوان یہ بھی جنس ہے، حیوان سے اوپر جائیں تو جسم نامی یہ بھی جنس ہے، اس سے اوپر جائیں جسم یہ بھی کیا ہے؟ جنس، اور اس سے اوپر جوہر یہ بھی کیا ہے؟ جنس ہے۔ جوہر میں وہ ساری چیزیں آ گئیں جن کا وجود ہے، چاہے جسم ہے چاہے جسم نہیں۔ اس میں ہوا بھی داخل ہو گئی، اس میں اللہ کی ذات بھی داخل ہو گئی۔ اب ہوا کا جسم نہیں، آپ ہوا کو محسوس کرتے ہیں، جانتے ہیں، لیکن ہوا کا کوئی جسم نہیں ہے۔ تو ہوا جوہر تو ہے لیکن جسم نہیں۔ تو انسان کے لیے حیوان بھی جنس، اس سے اوپر جسم نامی بھی جنس، اس سے اوپر جسم یہ بھی جنس اور جوہر بھی جنس۔ تو کئی جنسیں ہو گئیں، اب کس کو جنسِ قریب کہیں گے اور کس کو جنسِ بعید؟ آپ نے پڑھا تھا کہ جنسِ قریب وہ ہوتی ہے کسی ماہیت کی کہ اس جنس کے کوئی سے دو یا زیادہ افراد کو لے کر سوال کیا جائے تو جواب میں ہمیشہ وہی جنس آئے، تو سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ جنسِ قریب۔ اور اگر کبھی جواب میں وہ جنس آئے اور کبھی کوئی اور دوسری جنس جواب میں آئے تو سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ جنسِ بعید ہے۔ مثلاً انسان کے لیے جنسِ قریب حیوان ہے۔ حیوان کے کوئی سے بھی دو افراد پکڑ لیں: انسان اور بقر، جواب میں کیا آئے گا؟ حیوان۔ انسان اور غنم، بھیڑ بکری، تو جواب میں کیا آئے گا؟ حیوان آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جنسِ قریب کسے کہتے ہیں؟ کسی ماہیت کی وہ جنس ہے کہ اس کے کوئی سے دو یا زیادہ افراد کو لے کر سوال کریں تو جواب میں ہمیشہ وہی جنس آئے، وہ جنسِ قریب ہے، اور اگر وہ کبھی جواب میں آئے اور کبھی نہ آئے تو وہ کیا ہے؟ جنسِ بعید ہے۔ تو انسان کے لیے حیوان جنسِ قریب اور باقی سب کیا ہیں؟ جنسِ بعید۔ اسی طرح فصل بھی آپ نے پڑھا دو قسم پر ہے: ایک فصلِ قریب اور ایک فصلِ بعید۔ فصلِ قریب وہ ہے، کسی ماہیت کے لیے فصلِ قریب وہ ہے جو جنسِ قریب کے افراد سے اس کو جدا کرے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصلِ قریب۔ اور جو جنسِ بعید والوں سے تو جدا کرے، جنسِ قریب والوں سے جدا نہ کرے، اس کو فصلِ بعید کہتے ہیں۔ جیسے ناطق، ناطق نے انسان کو حیوان یعنی جنسِ قریب کے سارے افراد سے جدا کر دیا کیونکہ ناطق صرف انسان ہے اور کوئی بھی نہیں، تو انسان سب سے جدا ہو گیا، تو یہ کیا ہے؟ ناطق انسان کے لیے فصلِ قریب ہے۔ اور اسی انسان کے لیے اگر آپ جسم نامی کہیں، جسم نامی کس کے لیے؟ انسان کے لیے، تو اس نے جسم والوں سے جسم میں جا کر تو جدا کر دیا کہ کچھ جسم نامی ہیں اور کچھ غیر، تو غیر نامی سے اس نامی کو جدا کر دیا کہ یہ نامی ہے، غیر نامی نہیں ہے۔ تو یہ انسان کے لیے کیا ہے؟ فصلِ بعید ہے، قریب والوں سے جدا نہیں کیا، حیوان سے حیوان سے نہیں جدا کیا کیونکہ حیوان میں تو سارے ہی جسم نامی ہیں۔ اس کے بعد آپ نے دو کلیوں میں نسبت کا بیان پڑھا تھا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ کوئی بھی سی دو کلیاں لیں، ان میں ہمیشہ چار نسبتوں میں سے ایک نسبت ضرور ہو گی: یا تو ان میں تساوی کی نسبت ہو گی، یا تباین کی، یا عموم و خصوص مطلق کی، یا عموم و خصوص من وجہ۔ تساوی یہ ہے کہ دونوں کلیوں میں سے ہر کلی دوسری کے افراد پر صادق، یوں کہیں کہ ایک کلی دوسری کے ہر فرد پر صادق آئے اور دوسری کلی پہلی کے ہر فرد پر صادق آئے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تساوی۔ جیسے انسان اور ناطق، ہر انسان کیا ہے؟ ناطق، اور ہر ناطق کیا ہے؟ انسان۔ یا جیسے ناطق اور ضاحک، ہر ناطق کیا ہے؟ ضاحک، اور ہر ضاحک کیا ہے؟ ناطق۔ تو ان میں تساوی کی نسبت ہے۔ توجہ، ادھر دیکھیے، یہ انسان اور ناطق میں کون سی نسبت؟ تساوی، یعنی برابر ہیں، تساوی کا معنی برابر ہونا۔ چاہے آپ لفظِ انسان بول دیں، چاہے آپ لفظِ ناطق بول دیں، ایک ہی بات ہے۔ انسان سے جو جو مراد ہے، ناطق سے بھی وہی مراد ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: اس کمرے میں سب انسان بیٹھے ہیں، یا میں کہتا ہوں: اس کمرے میں سب ناطق بیٹھے ہیں، ایک ہی بات ہے بھئی، چاہے میں انسان بولوں چاہے ناطق۔ تو ان دو کلیوں میں کیا ہے؟ تساوی ہے یعنی برابر ہیں، جو بھی لفظ بول دیا جائے برابر ہے بھئی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ اور دوسری نسبت ہے تباین کی۔ تباین یہ ہے کہ پہلی کلی دوسری کے کسی فرد پر صادق نہ آئے اور دوسری کلی پہلی کے کسی فرد پر صادق نہ آئے، اس کو تباین کہتے ہیں، جیسے انسان اور پتھر۔ کوئی انسان پتھر نہیں ہے اور کوئی پتھر انسان نہیں۔ جیسے انسان اور درخت، کوئی انسان درخت نہیں اور کوئی درخت انسان نہیں۔ کوئی سی دو دنیا کی کلیاں پکڑ لیں، ان میں سے ان چار میں سے ایک نسبت ضرور ہو گی۔ تو یہ تھا تباین بھئی۔ اور تو جن دو کلیوں میں تساوی کی نسبت ہو ان کو متساویین کہتے ہیں، جن دو کلیوں میں تباین کی نسبت ہو ان کو متباینین کہتے ہیں۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ ایک تیسری نسبت جو ہے وہ عموم و خصوص مطلق ہے۔ عموم و خصوص مطلق کسے کہتے ہیں؟ کہ پہلی کلی تو دوسری کے ہر فرد پر صادق آئے لیکن دوسری کلی پہلی کے ہر فرد پر صادق نہ آئے، بعض پر صادق آئے بعض پر صادق نہ آئے، جیسے انسان اور حیوان۔ حیوان انسان کے ہر فرد پر صادق آئے گا، ہر انسان حیوان ہے۔ کیا کوئی انسان غیر حیوان ہے؟ نہیں، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے، تو ہر انسان پر حیوان لفظ بولا جائے گا۔ لیکن ہر حیوان پر انسان نہیں بولا جائے گا۔ کیا ہر حیوان انسان ہے؟ نہیں، بعض انسان ہیں، بعض انسان نہیں بھئی۔ تو ان میں کون سی نسبت؟ عموم و خصوص مطلق۔ عموم و خصوص مطلق میں یاد رکھیے ایک کلی جو دو کلیوں میں سے ایک بڑی ہوتی ہے، ایک چھوٹی ہوتی ہے، اور چھوٹی اس بڑی کے اندر ہی داخل ہوتی ہے، جیسے حیوان۔ حیوان میں انسان داخل ہے یا نہیں؟ انسان اس کے اندر داخل ہے۔ اور چوتھی نسبت تھی عموم و خصوص من وجہ کہ پہلی کلی دوسری کلی کے بعض افراد پر صادق آئے، بعض پر صادق نہ آئے، اور دوسری کلی پہلی کلی کے بعض افراد پر صادق آئے، بعض پر صادق نہ آئے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عموم و خصوص من وجہ۔ مثلاً کیا مثال لیں اس کی؟ کوئی مثال دو جن میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو۔ پہلے تو مثال دیں کوئی عموم و خصوص مطلق کی کوئی مثال دیں۔ عموم و خصوص مطلق میں میں نے بتا دیا ایک کلی بڑی ہو گی، ایک چھوٹی جو اسی کے اندر داخل ہو گی۔ مثلاً لاہوری اور پاکستانی۔ لاہوری پاکستانی کے اندر داخل ہے یا نہیں؟ جی، تو یہ چھوٹی کلی ہوئی لاہوری، اور پاکستانی کیا ہوئی؟ بڑی کلی۔ ہر پاکستانی لاہوری نہیں، بعض ہیں بعض نہیں، لیکن ہر لاہوری کیا ہے؟ پاکستانی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ عموم و خصوص مطلق ہے۔ اور عموم و خصوص من وجہ کسے کہتے ہیں؟ دونوں کلیاں ایک دوسرے کے بعض افراد پر صادق آئیں، بعض پر صادق نہ آئیں۔ مثلاً مسلمان اور پاکستانی۔ مسلمان اور مجھے بتائیے، کیا ہر مسلمان دنیا کا پاکستانی ہے؟ نہیں، کچھ ہیں کچھ نہیں۔ اور مجھے بتائیے، کیا ہر پاکستانی مسلمان ہے؟ نہیں، بعض ہیں بعض نہیں۔ تو ان میں کون سی نسبت؟ عموم و خصوص من وجہ۔ بعض پاکستانی مسلمان ہیں، بعض یہاں پر بھی کیا ہیں؟ غیر مسلم ہیں بھئی، اور اسی طرح سب مسلمان پاکستانی نہیں، کچھ پاکستان میں رہتے ہیں تو کچھ دوسرے ممالک میں رہتے ہیں بھئی۔ اس کے بعد آخری سبق جو ہم نے پڑھا تھا وہ معرف اور قولِ شارح کا بیان تھا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ترتیب دے کر مجہول تصور کو حاصل کیا جاتا ہے، تو یہ جو معلوم تصور جن کو آپ نے جوڑا اور ترتیب دیا، ان کو کیا کہتے ہیں؟ تعریف، معرف اور قولِ شارح، جو یہ جو ہمیں پہنچا رہے ہیں مجہول تصور تک بھئی۔ تو اس کے ذریعے کسی چیز کی پہچان ہوتی ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا: انسان کیا چیز ہے؟ تو آپ نے کہا: حیوانِ ناطق۔ فرض کرو مجھے پتہ نہیں تھا، میں نے آپ سے کیا پوچھا؟ انسان کیا چیز؟ آپ نے کیا کہا؟ حیوانِ ناطق۔ تو حیوان ایک تصور اور ناطق دوسرا تصور، اور ان دو معلوم تصوروں کو جوڑا تو ایک نامعلوم یا یوں کہو مجہول تصور یعنی انسان ہمیں حاصل ہو گیا، اس کی حقیقت کا ہمیں پتہ چل گیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعریف اور معرف اور قولِ شارح۔ میں نے بتلایا تھا تعریف کا معنی ہے پہچان کروانا، معرف کا معنی ہے پہچان کروانے والا، اور قولِ شارح کا معنی ہے وہ قول جو شرح کر رہا ہو، جو معنی بیان کر رہا ہو، جو وضاحت کر رہا ہو۔ تو میں نے پوچھا انسان کیا ہے؟ مجھے انسان کی تعریف کا پتہ نہیں تھا، آپ نے مجھے اس کی تعریف بتا دی، وہ کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو حیوانِ ناطق یہ انسان کی تعریف ہوئی، یہ انسان کے لیے معرف ہوا، یہ انسان کے لیے قولِ شارح ہوا یعنی اس کے معنی کو بیان کرنے والا ہے۔ تو جب بھی آپ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے، آپ اس کے لیے کوئی تعریف ذکر کرتے ہیں جس سے دوسرے کو اس کی پہچان ہو جائے۔ اور یہ تعریفیں چار قسم پر ہیں: یا وہ حدِ تام ہو گی، یا حدِ ناقص، یا رسمِ تام، یا رسمِ ناقص۔ اب کس کو حد کہیں گے اور کس کو رسم؟ میں نے بتلایا تھا ذاتیات کے ذریعے اگر کسی چیز کی تعریف کریں تو اس کو کہیں گے، صرف ذاتیات کے ذریعے کسی چیز کی تعریف کریں اس کو حد کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ حد۔ اور اگر عرضیات کے ذریعے کسی چیز کی تعریف کریں اور پہچان کروائیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رسم، رسم کہتے ہیں۔ تو یہ ذاتیات کے ذریعے آپ کسی چیز کی پہچان کرواتے ہیں، یہ پھر دو قسم پر ہے: یا تو آپ ایک چیز کی پوری پہچان کروا دیں گے یعنی پوری حقیقت بیان کر دیں گے، یا پوری حقیقت بیان نہیں کریں گے۔ اگر پوری حقیقت بیان کر دیں تو وہ ہے حدِ تام۔ اگر پوری حقیقت کا پتہ نہ چلے لیکن ہوئی تعریف ذاتیات کے ذریعے، تو اس کو حدِ ناقص کہتے ہیں۔ اور حدِ تام کیسے ہو گی؟ آپ نے کتاب میں پڑھا تھا کہ حدِ تام وہ تعریف ہے جو جنسِ قریب اور فصلِ قریب سے بنے۔ میں نے پوچھا: انسان کیا ہے؟ آپ نے کیا کہا؟ حیوانِ ناطق۔ دیکھا جنسِ قریب حیوان اور فصلِ قریب ناطق کو ذکر کیا، تو یہ حیوانِ ناطق انسان کے لیے کیا ہے؟ حدِ تام۔ اور اگر میں نے آپ سے پوچھا انسان کیا ہے اور آپ جواب میں مجھے جنسِ بعید اور فصلِ قریب ذکر کر دیتے ہیں یا صرف فصلِ قریب ذکر کر دیتے ہیں، تو یہ حدِ ناقص ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا انسان کیا ہے؟ آپ نے کہا: جسمِ ناطق، کیا کہا؟ جسمِ ناطق۔ دیکھو ناطق فصلِ قریب تو ذکر کیا، لیکن ساتھ جنسِ قریب کو نہیں ذکر کیا بلکہ جنسِ بعید کو ذکر کیا۔ یا آپ نے جواب میں صرف کہہ دیا: ناطق، میں نے پوچھا انسان کیا ہے؟ آپ نے کہا: ناطق، صرف فصلِ قریب کو ذکر کیا، تو دیکھو یہ کیا ہے؟ حدِ ناقص۔ دیکھو ذاتیات کے ذریعے آپ نے مجھے پہچان کروائی اور پہچان ہو گئی۔ یہ جتنی تعریفیں ہیں ان سے چیزوں کی پہچان ہو جاتی ہے۔ جب آپ کسی کو کہیں گے کسی نے پوچھا انسان کیا ہے، آپ نے کیا کہا: ناطق، تو پہچان ہو گئی۔ معلوم ہوا سارے ناطق کیا ہیں؟ انسان ہی ہے نا، انسان اور ناطق کیا ہے ایک دوسرے کے برابر ہیں یا نہیں؟ اس سے پہچان ہو جاتی ہے۔ لیکن پوری پہچان ہوئی؟ نہیں، پوری پہچان یہ تھی کہ جنسِ قریب کا بھی پتہ چلتا اور فصلِ قریب یعنی پوری حقیقت کا پتہ چل جاتا، اور یہاں پوری حقیقت کا پتہ چلا نہیں، تو کون سی حد ہوئی؟ حدِ ناقص۔ اور جبکہ صفات کے ذریعے جو تعریف ہو اس کو رسم کہتے ہیں، اور پھر وہ دو قسم پر ہے: ایک رسمِ تام اور ایک رسمِ ناقص۔ رسمِ تام وہ ہے جس میں جنسِ قریب اور خاصہ ذکر ہو۔ جنسِ مثلاً میں نے پوچھا انسان کیا ہے؟ جنسِ قریب کیا؟ حیوان، اور خاصہ کو ذکر کرو انسان کا: ضاحک۔ آپ نے کہا: حیوانِ ضاحک، یا آپ نے کہا: حیوانِ کاتب، تو یہ کیا ہے؟ رسمِ تام، کیا ہے؟ رسمِ تام ہے۔ اور اور اگر آپ نے جنسِ بعید اور خاصے کو ذکر کیا یا صرف خاصے کو ذکر کیا، آپ نے کہا: جسمِ ضاحک، دیکھو جنسِ بعید ذکر کیا اور خاصہ ذکر کیا، یا صرف خاصہ، صرف ضاحک ذکر کیا تو یہ کیا ہے؟ رسمِ ناقص ہے بھئی، رسمِ ناقص ہے بھئی۔ اللہ! چلیے جی، کل ان شاء اللہ ہم تصدیقات کی بحث شروع کریں گے۔ چلیے بس بھئی، ہٰذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔