اچھا بھئی، آگے تصدیق کی بحث شروع ہو رہی ہے۔ تصدیق کی بحث سے پہلے آئیے اب تک جو اسباق ہم پڑھ چکے ہیں ‏مختصراً ان کو جلدی جلدی کر لیتے ہیں بھئی۔ سب سے پہلے سبق اول میں آپ نے علم کی تعریف اور اس کی قسمیں پڑھیں۔ آپ نے پڑھا کہ علم کا معنی ہے جاننا، کسی ‏شے کی صورت کا تمہارے ذہن میں آنا۔ مثلاً میں نے کہا درخت، کتاب، چادر، دیوار، گھر، مدرسہ۔ دیکھیے جو جو چیزیں ‏میں ذکر کر رہا ہوں آپ کے ذہن میں ان کی صورتیں آتی جا رہی ہیں اور ان کی اس کی پہچان آپ کے ذہن میں آتی جا رہی ‏ہے۔ معلوم ہوا آپ کو ان چیزوں کا علم ہے۔ اگر علم نہ ہوتا تو اس کی پہچان بھی آپ کے ذہن میں نہ آتی۔ پھر یہ جو علم ہے یہ دو قسم پر ہے، یا یہ تصور ہو گا یا تصدیق ہو گا۔ تصدیق میں آپ نے پڑھا ہے کہ دو چیزیں ہوتی ‏ہیں: ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت ہوتا ہے یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہوتی ہے۔ مثلاً میں نے کہا: ‏‏"زید کھڑا ہے" یا میں نے، یا میں نے یوں کہوں، میں نے کہا: "زید عالم ہے" یا میں نے کہا: "زید عالم نہیں ہے"، تو اس ‏میں اثبات بھی ہو سکتا ہے اور نفی بھی ہو سکتی ہے۔ اور دیکھیے دو چیزیں ہیں: زید اور عالم۔ زید ایک الگ ذات کا نام ‏ہے، عالم جاننے والے کو کہتے ہیں، یہ الگ مع، چیز ہے۔ لیکن میں نے جوڑ دیا عالم کو زید کے ساتھ کہ زید کیا ہے؟ ‏عالم ہے، اس کے لیے صفت علم ثابت ہے۔ تو تصدیق میں بھی اس طرح دو چیزیں ہوتی ہیں۔ میں، مثلاً میں آج بازار گیا ‏تھا، دیکھو میں یہ متکلم بات کرنے والا ایک ذات ہے اور بازار جانا یہ دوسری چیز ہے تو میں نے اپنے لیے کیا ثابت ‏کیا؟ بازار جانا ثابت کیا۔ یا میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ بڑے منطقی ہیں، تو دیکھیے آپ، یہ ایک چیز ہوئی آپ کی ذات اور منطقی ہونا دوسری چیز ‏ہوئی جس کو میں نے آپ کی ذات کے ساتھ جوڑ دیا۔ تو تصدیق میں ہمیشہ دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک چیز کے لیے دوسری ‏چیز کا ثبوت ہوتا ہے یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہوتی ہے۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھیے کہ تصدیق میں اس چیز ‏اس بات کو مان لینا بھی ضروری ہے۔ مثلاً میں نے کہا: "زید عالم ہے" اور اس بات کو میں نے ذہن میں بھی مان لیا، تسلیم ‏کر لیا کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے، تو اب اس کو تصدیق کہیں گے۔ اور اگر میرے ذہن میں شک ہوا کہ پتہ نہیں وہ زید عالم ‏ہے یا زید عالم نہیں، پچاس فیصد خیال ہے اس کے عالم ہونے کا تو پچاس فیصد ذہن دوسری طرف بھی جاتا ہے کہ ہو ‏سکتا ہے عالم نہ ہو، تو اس کو پھر تصدیق نہیں کہیں گے۔ تصدیق میں کیا ضروری ہے کہ آپ اس چیز کا اعتقاد بھی کر ‏لیں، اس کو مان بھی لیں۔ اور اگر اس میں شک ہے یا وہ وہم ہے تو وہ تصدیق نہیں بلکہ وہ کیا ہے؟ تصور ہے۔ اور تصور اس کی چار صورتیں میں نے آپ کو بتلائی تھیں: تصور میں پہلی صورت یہ ہے کہ بات ہی پوری نہ ہو یعنی ‏ایک ہی چیز ہو۔ میں نے کہا صرف زید یا میں نے صرف کہا درخت یا میں نے کہا صرف کتاب، دیکھو ایک ایک چیز ‏ہے۔ تو ایک چیز ہو تو یہ بھی تصور ہے۔ جب ایک چیز ہے تو ظاہر سی بات ہے بات پوری ہی نہیں ہے۔ تو یہ تصور ‏ہے۔ ایک سے زیادہ چیزیں ہوں لیکن بات پوری نہ ہو جیسے زید اور عمر، زید اور عمر اور بکر اور خالد۔ دیکھو تین تین ‏لفظ آ گئے۔ مدرسہ اور گھر، دیکھیے دو دو تین تین لفظ ہیں لیکن بات پوری نہیں۔ اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ تصور۔ تیسری صورت تصور میں یہ آ گئی کہ بات تو پوری ہو لیکن اس میں شک یا وہم ہو۔ شک اور وہم کسے کہتے ہیں میں نے ‏بتلایا تھا کہ اگر آپ کو ایک چیز کے جتنا ہونے کا خیال ہے اتنا ہی نہ ہونے کا بھی خیال ہے ذہن میں تو اس کو شک ‏کہتے ہیں۔ جیسے آپ، میں نے مثال ذکر کر دی، زید عالم ہے، اب تو پچاس فیصد خیال آپ کے ذہن میں ہے کہ وہ عالم ہے ‏اور پچاس فیصد ہی خیال ذہن میں کیا آتا ہے کہ شاید وہ عالم نہیں ہے، دونوں طرف ذہن جاتا ہے آپ کو پکا پتہ نہیں ہے ‏تو اس کو شک کہتے ہیں۔ تو اس شک میں جانبین برابر ہوتی ہیں۔ اس کو کیسے بولتے ہیں؟ شک میں جانبین دونوں جانبین ‏برابر ہوں، کیا معنی دونوں جانبین؟ یعنی ہونے کا جتنا خیال ہوتا ہے نہ ہونے کا بھی اتنا ہی خیال ہوتا ہے تو اس میں ‏دونوں جانبین برابر ہوتی ہیں۔ جبکہ ایک ہے وہم اور ظن۔ بعض اوقات ایک بات آپ کے ذہن میں آتی ہے آپ اس کو مان لیتے ہیں کہ زید عالم ہی ہے ‏لیکن پھر بھی تھوڑا سا کچھ خیال کبھی آ جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے عالم نہ ہو، باتوں سے تو عالم لگتا ہے ہو سکتا ہے عالم، ‏ویسے باتیں اچھی کرتا ہو لیکن ہو سکتا ہے عالم نہ ہو، تو آپ کا ستر اسی فیصد خیال ہے وہ عالم ہے لیکن تھوڑا سا کبھی ‏ویسے وہم سا آ جاتا ہے کہ شاید ہو سکتا ہے عالم نہ ہو۔ تو یہ جو ستر اسی فیصد یعنی نصف سے زائد خیال ہے آپ کا اس ‏کو کہتے ہیں ظن۔ طا ظا، یہ ظا اور نون ہے، ظن بھئی۔ تو اس کو ظن کہتے ہیں اور ظن جو ہے یاد رکھیے یہ تصدیق کی ‏قسم ہے۔ جبکہ جو تھوڑا سا جو پندرہ بیس فیصد خیال ہے اس کو کہتے ہیں وہم۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم۔ اور وہم تصور کی قسم ‏ہے۔ تو ظن کس کی قسم ہے؟ تصدیق کی، جس میں زیادہ خیال ہوتا ہے۔ بات آپ نے تصدیق، مانی تو نہیں ہے ذہن میں، ‏تھوڑا خیال دوسرا پھر بھی آ جاتا ہے لیکن بہرحال مان لینے کے قریب ہی ہے۔ ستر اسی فیصد خیال ہے نا تو مان لینے ‏کے قریب، یا یوں سمجھو گویا مان ہی چکے ہیں تقریباً آپ، تو اس لیے یہ بھی کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ تو یہ ظن تصدیق کی ‏قسم ہے جبکہ وہم کس کی قسم ہے؟ تصور۔ یہ تصور کی تیسری قسم آ گئی یعنی شک اور وہم۔ اور چوتھی قسم ہے تصور کی کہ جملہ انشائیہ ہو۔ بعض جملے آپ آگے چل کر پڑھیں گے، وہ آپ کو نحومیر نحومیر پڑھ ‏رہے ہیں آپ؟ ہاں اس میں شاید ذکر آ چکا ہو گا کہ جملہ انشائیہ ہوتا ہے اور جملہ انشائیہ اس کی دس قسمیں ہیں۔ مثلاً میں ‏نے کسی کو آواز دی: "یا زیدُ"، "یا زیدُ" اے زید، یہ ندا ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ندا، پکارنا کسی کو، آواز دینا۔ یہ انشا ‏ہے، انشا ہے۔ انشا اس کو کہتے ہیں جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ میں نے کسی کو آواز دی: "اے ‏زید"، اب اس میں مجھے کوئی سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں نے تو بات کی ہی کوئی نہیں، میں نے تو صرف ‏اس کو آواز دی ہے۔ تو انشا کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا، یہ فرق ہے۔ تو تصور کی کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چار: ایک چیز ہو، دوسری صورت یہ کہ ایک سے زیادہ چیزیں ہوں لیکن بات پوری ‏نہ ہو، تیسری صورت بات تو پوری ہے لیکن اس میں شک یا وہم ہے، اور چوتھی صورت یہ کہ جملہ انشائیہ ہو۔ جبکہ ‏باقی قسمیں تصدیق میں آ گئیں اور تصدیق میں آپ سمجھ گئے کہ دو چیزیں ہوں گی: ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ‏ثبوت ہو گا یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہو گی اور نیز آپ کو اس بات کا اعتقاد بھی ہو گا، آپ اس کو ذہن میں ‏مان بھی لیتے ہیں، تسلیم بھی کر لیتے ہیں کہ ایسا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے تصدیق۔ تو ہمارا جتنا علم ہے نا یہ ‏سارا انہی دو قسموں میں بند ہے، یا وہ تصور ہو گا یا تصدیق۔ جتنا جو کچھ آپ جانتے ہیں، بچپن سے لے کر آج تک جتنا ‏کچھ آپ نے جانا ہے، آپ سب ہر ہر بات پہ غور کر لیں یا وہ تصور ہو گا یا تصدیق، تیسری کوئی صورت نہیں۔ پھر اگلے دوسرے سبق میں آپ نے پڑھا تھا تصور اور تصدیق کی قسمیں۔ آپ نے پڑھا تصور کی بھی دو قسمیں ہیں: ‏بدیہی اور نظری، اور تصدیق کی بھی دو قسمیں ہیں: بدیہی اور نظری۔ تصور بدیہی اس کو کہتے ہیں کہ جو خود بخود ‏فوراً سمجھ میں آ جائے، اس میں کوئی تعریف کرنے کی اور دماغ لڑانے کی اور سوچنے کی ضرورت نہ ہو، اس کو کیا ‏کہتے ہیں؟ تصور بدیہی۔ اور اگر آپ کو سوچنا پڑے، دماغ لڑانا پڑے، ذہن دوڑانا پڑے تو پھر اس تصور کو بدیہی نہیں ‏کہیں گے بلکہ تصور نظری کہیں گے۔ اسی طرح تصدیق بھی دو قسم پر ہے یا بدیہی ہو گی یا نظری۔ تصدیق بدیہی وہ ہے ‏جو خود بخود سنتے ہی فوراً آپ کو بات سمجھ میں آ جائے، اس میں غور و فکر نہ کرنا پڑے تو وہ تصدیق بدیہی ہے اور ‏اگر آپ کو سوچنا پڑے، دماغ لڑانا پڑے تو پھر یہ تصدیق نظری ہے۔ اگلے سبق میں آپ نے نظر و فکر، منطق کی تعریف اور منطق کی غرض و موضوع پڑھا تھا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ ہمارا ‏جو علم ہے وہ تصور یا تصدیق، اور پھر ہر تصور کا ہمیں علم نہیں، کچھ تصور تو ہمیں معلوم ہیں، کچھ تصور ہمیں ‏معلوم نہیں، ان کو کہیں گے تصور مجہول۔ مجہول کا کیا معنی ہے؟ جو معلوم نہیں۔ اسی طرح تصدیق بھی یا تو وہ معلوم ‏ہو گی یا مجہول۔ کچھ تو ہمیں علم ہے وہ تصدیق معلوم کہلائے گی اور کچھ جن کو ہم نہیں جانتے وہ تصدیق مجہول ‏کہلائے گی۔ اب یہ جو تصور مجہول ہے اس کو کیسے حاصل کریں گے؟ یہ جو تصدیق مجہول ہے اس کو کیسے حاصل کریں گے؟ ‏انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تصور مجہول کو حاصل کرنے کے لیے دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو جوڑیں تو آپ کو ‏مجہول تصور حاصل ہو جائے گا۔ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو جوڑیں گے تو آپ کو کیا حاصل ہو جائے گا؟ مجہول ‏تصور حاصل ہو جائے گا۔ مثلاً دیکھو، آپ کو انسان کی حقیقت کا پتہ نہیں۔ لیکن آپ کو حیوان کا بھی پتہ چل چکا ہے اور ‏آپ کو ناطق کا بھی پتہ چل، فرض کریں ابھی انسان کا آپ کو پتہ نہیں ہے لیکن حیوان بھی آپ سمجھ گئے ہیں اور ناطق ‏بھی سمجھ۔ تو حیوان یہ بھی تصور، ناطق یہ بھی ایک تصور۔ ان دونوں تصوروں کو ترتیب دیا اور جوڑ دیا، کیا بن گیا؟ ‏حیوان ناطق۔ اس سے آپ کو انسان کی حقیقت کا پتہ چل گیا کہ اچھا، انسان کیا ہے؟ حیوان ناطق ہے، حیوان بھی ہے اور ‏ناطق بھی ہے، باتیں بھی کرنے والا ہے، تو آپ کو انسان کی حقیقت کا پتہ چل گیا۔ تو دیکھا، دو معلوم تصوروں کو جوڑا ‏تو کس کا پتہ چل گیا؟ ایک مجہول تصور کا پتہ چل گیا۔ تو یہ جو دو معلوم تصور جوڑے کس کو حاصل کرنے کے لیے؟ ‏مجہول تصور کو حاصل کرنے، تو اس کو کہتے ہیں نظر و فکر۔ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو جوڑنا تاکہ کیا حاصل ہو ‏جائے؟ مجہول تصور، اسے کہتے ہیں نظر اور فکر۔ چاہے صرف نظر کہہ دیں، چاہے صرف فکر کہہ دیں، ایک ہی بات ‏ہے، چاہے دونوں لفظ بول دیں کہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظر اور فکر۔ اسی طرح تصدیق بھی دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملا کر ایک مجہول تصدیق حاصل کی جاتی ہے تو اس کو کیا کہتے ‏ہیں؟ نظر اور فکر۔ تو اس کو نظر و فکر کہتے ہیں۔ تو یہ جو دو معلوم تصور جن کو آپ نے ملایا اور جن سے آگے چل ‏کر کیا حاصل ہوا؟ مجہول، تو یہ جو دو معلوم تصور ہیں ان کو کہتے ہیں تعریف اور معرف اور قول شارح۔ اور اسی ‏طرح یہ جو دو یا زیادہ معلوم تصدیقات ہیں جن کو ملایا اور جوڑا تو آگے مجہول تصدیق حاصل ہوئی تو یہ جو معلوم ‏تصدیقات جن کو آپ نے جوڑا تھا ان کو کہتے ہیں دلیل اور حجت۔ دیکھا، یہ جو دو یا تین چیزیں تھیں یہ آپ کو اگلی چیز ‏کی پہچان کروا رہی ہیں۔ توجہ ادھر دیکھو بھئی، یہ جو دو یا تین چیزیں ہیں آپ کو کیا کر رہی ہیں؟ اگلی چیز کی پہچان۔ ‏تو یہ دو یا تین چیزیں جن کو آپ نے جوڑا ہے اگر یہ تصور ہیں تو ان کا نام ہے تعریف اور معرف اور قول شارح۔ اور ‏اگر یہی دو یا تین چیزیں جو آگے مجہول کی پہچان کروا رہی ہیں اگر یہ جوڑی جانے والی چیزیں تصدیق ہوں تو ان کا نام ‏کیا ہے؟ دلیل اور حجت۔ ہیں ایک ہی جیسی، بایں اعتبار کہ دونوں آگے ایک مجہول کی پہچان کروا رہی ہیں۔ دونوں کیا کر ‏رہی ہیں؟ مجہول کی پہچان کروا رہی ہیں، لیکن نام اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اگر یہ پہچان کروانے والی چیزیں ‏تصور ہیں تو اس کو کہیں گے تعریف اور معرف یا قول شارح، اور اگر یہ پہچان کروانے والی چیزیں تصدیق ہیں تو اس ‏کا نام کیا ہے؟ دلیل اور حجت۔ تو یہ جو آپ دو یا تین چیزوں کو ملاتے ہیں اور ایک مجہول چیز کو حاصل کرتے ہیں اس میں بعض اوقات غلطی ہو ‏جاتی ہے۔ جیسے آپ نے حیوان اور ناطق کو ملایا تو کس کا پتہ چلا؟ حیوان ناطق یعنی انسان کا۔ تو آپ نے تو صحیح ‏جوڑا دو چیزوں کو اور انسان کا پتہ چل گیا۔ ایک آدمی اور ہے وہ کوئی اور لفظ جوڑ کر انسان کی حقیقت بیان کرتا ہے تو ‏دیکھو، معلوم ہوا اس سے کیا ہو گئی؟ غلطی ہو گئی۔ انسان کے، یہ تو حیوان ناطق ہے کچھ اور تو نہیں ہے لیکن اس نے ‏بھی اپنی طرف سے دو یا تین چیزوں کو جوڑ کر کیا کیا؟ انسان کی حقیقت بتانے کی کوشش کی۔ یہ جو ہم تصور یا ‏تصدیق دو یا زیادہ کو جوڑتے ہیں اس میں بعض اوقات غلطی بھی ہو سکتی ہے تو اس غلطی سے بچانے کے لیے ایک ‏علم کی ضرورت ہوئی اور وہ علم کون سا ہے؟ علم منطق ہے۔ تو منطق یہ نظر اور فکر میں غلطی سے ہمیں بچاتا ہے۔ ‏نظر اور اور نظر اور فکر میں کیا ہوتا ہے؟ یا تعریف ہوتی ہے یا دلیل ہوتی ہے۔ یہی دو چیزیں ہیں نا؟ تعریف، معرف ‏اور قول شارح۔ یہ ایک، اور دوسرا کیا ہو گا؟ دلیل اور حجت۔ تو یوں کہو، منطق وہ علم ہے جو تعریف میں اور دلیل میں ‏ہمیں غلطی سے بچاتا ہے، تعریف بنانے میں اور دلیل بنانے میں ہم غلطی سے ہماری، یا یوں کہہ لو، منطق، توجہ ہے؟ ‏منطق وہ علم ہے جو نظر اور فکر میں ہماری غلطی سے، اور نظر اور فکر کسے کہتے تھے؟ نظر اور فکر میں کیا ہوتا ‏تھا؟ یا تعریف ہوتی تھی یا دلیل ہوتی تھی، دو ہی صورتیں تھیں نا۔ تو اب یوں کہہ لو، علم منطق وہ علم ہے جو نظر اور ‏فکر میں غلطی سے ہمیں بچاتا ہے، چاہے یوں کہہ لو، چاہے نظر اور فکر کی جگہ تعریف اور دلیل کو دونوں کو لے آؤ، ‏منطق وہ علم ہے جو تعریف اور دلیل بنانے میں غلطی سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ اور اس علم کا مقصد بھی آپ کو پتہ چل گیا۔ جب تعریف کی، علم کی تعریف کی تو اس کا مقصد بھی پتہ چل گیا۔ علم منطق ‏کا مقصد کیا ہے؟ ہم کیوں اس کو سیکھتے ہیں؟ تاکہ نظر و فکر میں غلطی سے ہماری حفاظت کرے۔ دیکھو، تعریف سے ‏مقصد بھی سمجھ میں آ گیا۔ اور اس علم کا موضوع کیا ہے؟ موضوع یاد رکھیے وہ چیز ہوتی ہے جس کے بارے میں ‏کسی علم میں بحث کی جائے۔ مثلاً تفسیر جو ہے، علم تفسیر، اس میں ساری بحث قرآن کے بارے میں ہوتی ہے، قرآن کے ‏الفاظ کا یہ معنی ہے، ان کا یہ معنی ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح علم حدیث جو ہے اس میں ساری حدیث ‏کے بارے میں بحثیں ہوتی ہیں کہ حدیث کی اتنی قسمیں ہیں اور اس کی یہ تعریف ہے اور یہ تعریف ہے وغیرہ۔ تو علم ‏تفسیر کا موضوع قرآن ہوا، علم حدیث کا موضوع حدیث ہوئی۔ اسی طرح ڈاکٹر ساری بحث، ساری بحث جو کرتے ہیں اپنی ‏کتابوں میں وہ انسان کے بارے میں کرتے ہیں کہ انسان کو یہ دوا، یہ دوائی دی جائے تو یہ فلاں بیماری سے فائدہ ہو گا، ‏فلاں چیز کمی آ جائے تو انسان کو یہ تکلیف لاحق ہو جاتی ہے، اس کا علاج پھر ایسے کیا جائے گا۔ تو ڈاکٹروں کی ‏کتابوں میں ساری باتیں کس کے بارے میں ہوتی ہیں؟ انسان کے بارے میں۔ تو معلوم ہوا ڈاکٹری کا موضوع انسان ہے ‏یعنی انسان کا بدن ہے، انسان کا بدن ہے بھئی۔ تو جس چیز کے بارے میں کسی علم میں بحث کی جائے اس کو اس علم کا موضوع کہتے ہیں۔ تو منطق کا موضوع کیا ‏ہے؟ یاد رکھیے، منطق کا موضوع وہ وہ معلوم تصورات ہیں اور وہ معلوم تصدیقات ہیں، لیکن ہر معلوم تصور نہیں، ہر ‏معلوم تصدیق نہیں بلکہ وہ والے معلوم تصور جو ہمیں کہاں تک پہنچاتے ہیں؟ مجہول تک۔ اسی طرح وہ والے معلوم ‏تصدیقات جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجہول۔ تو لہٰذا علم منطق کا موضوع وہ معلوم تصورات ہیں اور وہ معلوم تصدیقات ‏ہیں اس حیثیت سے کہ وہ ہمیں کہاں پہنچائیں؟ مجہول تصور اور مجہول تصدیقات تک۔ اس کے بعد اگلے سبق میں، چوتھے سبق میں ہم نے دلالت، وضع اور دلالت کی قسمیں پڑھی تھیں بھئی۔ بھئی، دلالت اس ‏کو کہتے ہیں پھر اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ ہم آگے تصدیق کی بحث شروع کرنے جا رہے ہیں، یہ ساری چیزیں آپ کے ‏ذہن میں ہونی چاہئیں۔ دلالت کا مطلب ہوتا ہے پتہ بتلانا، رہنمائی کرنا۔ جب بھی ایک چیز سے دوسری چیز کا آپ کو پتہ ‏چلے تو اس کو دلالت کہتے ہیں۔ آپ کمرے میں بیٹھے تھے آپ کو دھوپ نظر آئی تو اس دھوپ سے آپ کو کیا پتہ چلا؟ ‏کہ سورج نکل آیا ہے، تو دیکھو دھوپ نے آپ کو سورج کا پتہ بتلایا۔ آپ کمرے کے اندر بیٹھے ہیں، کسی نے دروازہ ‏کھٹکھٹایا، آپ کو کیا پتہ چلا؟ معلوم ہوا کوئی باہر آیا ہے، تو اس کھٹکھٹانے نے آپ کو باہر کسی کے آنے کا پتہ بتلایا تو ‏اس کو کہتے ہیں دلالت۔ ایک چیز سے کس کا پتہ چل رہا ہے؟ دوسری چیز کا۔ یا اسی طرح آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، ‏باہر سے کسی نے آواز دی آپ کو پتہ چل گیا کہ باہر زید آیا ہے، آپ نے آواز پہچان لی۔ تو دیکھا، کس چیز نے بتلایا آپ ‏کو؟ آواز نے، اور کس کا بتلایا؟ زید کا۔ تو اس کو کہتے ہیں دلالت کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا آپ کو پتہ چل جائے۔ اور اس میں یاد رکھیے، جو پہلی چیز ہے جو پتہ بتانے والی ہے اس کو کہتے ہیں دال، دال الف اور لام مشدد ہے، دال۔ کیا ‏کہتے ہیں؟ دال۔ اور دوسری چیز جس کا پتہ بتلایا اس کو کہتے ہیں مدلول۔ دال اور مدلول۔ دیکھیے، آپ نے دھوپ دیکھی ‏آپ کو کس کا پتہ چلا؟ سورج کا۔ تو دال کون؟ دھوپ، اور سورج کیا؟ مدلول۔ میں نے کہا لفظ زید، جیسے ہی میں نے زید ‏کہا، آپ کا ایک دوست ہے، ساتھی ہے اس کا نام زید ہے، فوراً اس کی شکل و صورت آپ کے ذہن میں آ گئی۔ دیکھا، تو ‏دیکھو میں نے تو زبان سے لفظ زید کہا تو دیکھو اس لفظ نے اس ذات زید پر کیا کر دی؟ دلالت کر دی۔ تو لفظ زید کیا ہوا؟ ‏دال، اور وہ ذات زید کیا ہوئی؟ مدلول۔ دروازہ کھٹکا تو آپ کو پتہ چل گیا باہر کوئی آیا ہے، تو دال کیا؟ دروازے کا ‏کھٹکھٹانا، اور مدلول کیا؟ باہر کسی کا آنا۔ تو دلالت کسے کہتے ہیں کہ جب بھی ایک چیز سے آپ کو دوسری چیز کا پتہ لگ جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ ‏جیسے آپ نے دور کہیں دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، آپ کو فوراً پتہ چل گیا۔ کیا پتہ چلا؟ کہ نیچے آگ جل رہی ہے یا نیچے ‏آگ لگی ہوئی ہے، تو دیکھا دھوئیں نے دلالت کی کس پر؟ آگ پر۔ تو دال کون ہوا؟ دھواں، اور آگ کیا ہوئی؟ مدلول بھئی۔ اب اس کے بعد انہوں نے وضع کو ذکر کیا بھئی، وضع۔ وضع اس کو، وضع کا معنی ہے مقرر کرنا۔ وضع کا کیا معنی ‏ہے؟ مقرر کرنا۔ مثلاً دیکھو، میں آپ کے سامنے اردو زبان بول رہا ہوں، جو جو کچھ بولتا جا رہا ہوں آپ سمجھتے جا ‏رہے ہیں، کیونکہ ہم ہم لوگ اردو والوں نے ان معانی کے لیے یہ یہ الفاظ مقرر کیے ہیں۔ مثلاً مثلاً یہ جو میرے سامنے ‏ہے اس کا نام ہم نے کیا رکھا ہے؟ کتاب۔ جس سے ہم لکھتے ہیں اس کو ہم قلم کہتے ہیں۔ اور تو مختلف چیزوں کے ساری ‏دیکھو، یہ زبان میں جتنی چیزیں ہیں، جتنے لفظ ہیں یہ سارے کسی نہ کسی معنی کے لیے مقرر ہیں۔ مثلاً میں لفظ جو بھی ‏بولتا جاؤں گا دیکھیے آپ اس کا معنی سمجھتے جائیں گے: دیوار، درخت، پانی، صبح، شام، گرمی، سردی۔ دیکھیں، جو ‏جو میں لفظ بول رہا ہوں آپ سمجھتے جا رہے ہیں کہ نہیں؟ کیونکہ یہ جو معانی ہیں ان کے ان کے لیے ہم نے یہ یہ نام ‏مقرر کیے ہوئے ہیں۔ اب اردو والے جس کے، اردو بولنے والے جس شخص کے سامنے بھی یہ لفظ آپ ذکر کریں گے وہ ‏ان الفاظ کے معنی سمجھ لے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہم نے اس لفظ کو اس معنی کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ لیکن یہی لفظ ‏اگر آپ عربی کے سامنے، کسی عرب آدمی کے سامنے بولیں یا کسی انگریز کے سامنے بولیں، اس کو اب بات سمجھ میں ‏نہیں آئے گی کیونکہ انہوں نے انہی چیزوں کے یہ نام نہیں رکھے، انہوں نے اپنی زبان میں اور نام رکھے ہوئے ہیں۔ تو ‏انہوں نے اس چیزوں کے لیے وہ نام مقرر کیے ہیں اور ہم نے یہ والے نام مقرر کیے ہوئے ہیں۔ تو یہ تو تھا لفظ، ایک ‏لفظ کہ لفظوں کو ہم نے کس کے لیے مقرر کیا ہے؟ معنی کے لیے۔ اور بعض اوقات لفظ نہیں ہوتا اور چیزیں ہوتی ہیں جن ‏کو ہم نے مقرر کیا ہوتا ہے۔ اچھا، تو ہم نے یہ مقرر کیے ہوئے ہیں تو ادھر ہم لفظ بولتے ہیں وہ معنی آپ کے ذہن میں آ ‏جاتا ہے، تو لفظ ہوا دال اور اس کا معنی کیا ہوا؟ مدلول بھئی۔ اسی طرح بعض اوقات دال جو ہے ہم نے مقرر کیا ہوتا ہے لیکن وہ لفظ نہیں ہوتا۔ مثلاً دیکھیے، لفظ تو کسے کہتے ہیں ‏جس پر ہم تلفظ کرتے ہیں، جو ہم زبان سے بولتے ہیں وہ ہے لفظ۔ جبکہ اسی طرح ٹریفک کے اشارے دیکھ لیجیے کہ سبز ‏اشارہ ہو تو گاڑیاں چل پڑتی ہیں اور سرخ اشارہ ہو تو گاڑیاں رک جاتی ہیں۔ سبز اشارے کو گاڑی کے چلنے کے لیے ‏مقرر کیا ہے اور سرخ اشارے کو گاڑی کے روکنے کے لیے مقرر کیا ہے۔ تو دال کون ہوا؟ سرخ اشارہ، مثلاً سبز اشارہ ‏یہ کیا ہوا؟ دال، اور مدلول کیا ہوا؟ گاڑی کا چلنا۔ آپ گاڑی، آپ نے اشارے پر گاڑی روکی، سبز لائٹ جیسے ہی جلی آپ ‏نے گاڑی چلانا شروع کر دی، حالانکہ یہاں کوئی دال کوئی لفظ نہیں ہے۔ کوئی لفظ ہے، کسی نے کچھ زبان سے کہا؟ ‏نہیں، ہاں وہ اشارہ ہی مقرر کیا تھا ہم نے گاڑی چلانے کے لیے اور اس سے فوراً آپ کو پتہ چل گیا کہ اب گاڑی چلانی ‏ہے۔ تو دال لفظ ہوا یا غیر لفظ ہوا؟ غیر لفظ۔ سبز اشارے پر، سبز اشارہ جلے تو گاڑی چلانی ہے یہ خود بخود ہے یا ہم ‏نے مقرر کیا ہے؟ ہم نے مقرر کیا ہے۔ تو یہ دیکھ معلوم ہوا مقرر کرنا ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے، کبھی یہ لفظ ‏میں، دال لفظ ہو گا اور کبھی دال غیر۔ یا اسی طرح اور دیکھ لیجیے، مثلاً رمضان میں شام کے وقت سائرن بجتا ہے آپ افطاری کر لیتے ہیں۔ اب کسی نے زبان ‏سے کچھ نہیں کہا لیکن وہ سائرن سنتے ہی آپ کیا کر لیتے ہیں؟ افطار۔ کیوں؟ کیونکہ یہ سائرن اس کو ہم نے مقرر کیا ‏ہے کس کے لیے؟ افطاری کے لیے، تو سائرن ہوا دال اور افطاری کا وقت ہونا یہ کیا ہوا؟ مدلول ہوا، تو دال جو ہے کبھی ‏لفظ ہو گا اور کبھی غیر لفظ جبکہ اس میں وضع ہو یعنی ہم نے مقرر کیا ہو۔ اب آگے تقسیم سمجھ لیجیے بھئی، تقسیم بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے اس کو کہتے ہیں ‏دلالت، اور اس میں جو پہلی چیز ہے اس کو کہتے ہیں دال اور دوسری کو کہتے ہیں مدلول۔ تو یہاں یاد رکھیے دال کے ‏اعتبار سے دلالت دو قسم پر ہے: یا وہ دلالت لفظیہ ہو گی یا دلالت غیر لفظیہ۔ دال اگر لفظ ہے آپ نے زبان سے ادا کیا ہے ‏تو پھر یہ دلالت لفظیہ، اور اگر دال لفظ نہیں تو یہ دلالت غیر لفظیہ۔ مثلاً میں نے کہا زید، کس کی صورت ذہن میں آئی؟ ‏زید کی، اور تو لفظ زید کیا ہوا؟ دال، اور ذات زید کیا ہوئی؟ مدلول۔ تو دال لفظ ہے یا غیر لفظ؟ لفظ ہے۔ اور آپ نے دور ‏سے دھواں دیکھا، آپ کو کس کا پتہ چلا؟ آگ، تو دھواں کیا ہوا؟ دال، اور آگ کیا ہوئی؟ مدلول۔ اب بتائیے دال لفظ ہے یا ‏غیر لفظ؟ غیر لفظ۔ تو دیکھا، دال کبھی لفظ ہوتا ہے اور کبھی غیر لفظ، تو دال کے اعتبار سے دو قسمیں بنا دیں کہ دلالت یا ‏لفظیہ ہو گی یا غیر لفظیہ۔ لفظیہ وہ جس میں دال کیا ہو؟ لفظ۔ غیر لفظیہ وہ جس میں دال لفظ نہ ہو۔ پھر یہ دلالت لفظیہ یہ بھی تین قسم پر اور دلالت غیر لفظیہ یہ بھی تین قسم پر۔ اگر یہ جو دال ہے یہ ہم نے مقرر کیا ہے، ‏اگر دال ہم نے مقرر کیا ہے تو پھر یہ دلالت وضعیہ کہلائے گی۔ اس میں وضع کا دخل ہے نا، وضع کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ‏مقرر کرنا، تو اس میں مقرر کرنے کا دخل ہے۔ مثلاً میں نے کہا زید، آپ کے ذہن میں فوراً کس کی صورت آئی؟ زید۔ اب ‏بتائیے یہ اس کا نام خود بخود زید ہے یا اس کے، یا ہم نے مقرر کیا ہے یعنی اس کے والدین نے مقرر کیا ہے؟ وال دیکھا ‏مقرر کیا گیا ہے، تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ لفظیہ وضعیہ۔ اور اگر شام کو سائرن بجا اور آپ نے روزہ افطار کر لیا، اب ‏اس میں دال لفظ ہے یا غیر لفظ؟ غیر لفظ، اور خود بخود ہے یا ہم نے مقرر کیا ہے؟ ہم نے مقرر کیا ہے، تو یہ کون سی ‏ہوئی؟ دلالت غیر لفظیہ وضعیہ۔ اور اگر دال جو ہے اس کو وہ طبیعت کی وجہ سے پیدا ہو، دال کس کی وجہ سے پیدا ہو؟ طبیعت کی وجہ سے پیدا ہو تو ‏اس کو دلالت طبعیہ کہتے ہیں۔ دلالت طبعیہ کہتے ہیں۔ مثلاً گھوڑے کو بھوک لگی اور وہ تیزی سے اپنی جگہ پر چکر ‏لگانے لگ پڑا، باندھا ہوا ہے آپ نے، ادھر ادھر دائیں بائیں حرکت وہ بار بار کر رہا ہے آرام سے نہیں بیٹھ رہا، آپ ‏سمجھ گئے کہ اس کو کیا لگی ہے؟ بھوک۔ دیکھا، تو اس کا حرکت کرنا یہ ہوا دال، اور کس چیز کا پتہ چلا؟ بھوک کا پتہ ‏چلا۔ اور مجھے بتائیے، یہ ادھر ادھر حرکت وہ خود کر رہا ہے یا اس کی طبیعت تقاضا کر رہی ہے؟ طبیعت تقاضا کر ‏رہی ہے۔ تو دیکھا، اس میں یہ جو دال ہے یعنی ادھر ادھر حرکت کرنا یہ کس وجہ سے پیدا ہوا؟ طبیعت کی وجہ سے، تو ‏اس کو کہیں گے دلالت طبعیہ۔ تو یہ دال لفظ ہے یا غیر لفظ ہے؟ غیر لفظ ہے، تو یہ دلالت غیر لفظیہ طبعیہ ہوئی۔ اور کبھی دلالت لفظیہ طبعیہ ہو گی، مثلاً آپ کو تکلیف پہنچی اور آپ نے "آہ" یا "اوہ" وغیرہ کیا۔ تو یہ "آہ" اور "اوہ" یہ ‏کیا ہے؟ لفظ ہے، اور کس وجہ سے کیا؟ فرض کریں سر میں درد ہوئی، پیٹ میں درد ہوئی آپ نے، تو یہ طبیعت نے ‏تقاضا کیا۔ اور اس سے دوسروں کو کیا پتہ چلا کہ اس کو معلوم ہوا تکلیف ہے۔ دیکھا، تو دال لفظ ہے یا غیر لفظ؟ لفظ ہے۔ ‏اور دال کس کی وجہ سے پیدا ہوا؟ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلالت لفظیہ طبعیہ۔ اور اگر دلالت میں نہ وضع کا دخل ہو نہ طبیعت کا دخل ہو پھر اس کو دلالت عقلیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ دلالت عقلیہ۔ ‏مثلاً آپ نے دور سے دھواں دیکھا، آپ کو کس چیز کا پتہ چلا؟ آگ کا۔ اب مجھے یہ بتائیے، یہ دھوئیں کو آگ کے لیے ہم ‏نے مقرر کیا ہے یا قدرتی ہے ہی ایسے؟ یہ ہے ہی ایسے، معلوم ہوا اس میں وضع کا دخل نہیں۔ اچھا دوسرا، کیا یہ طبیعت ‏کی وجہ سے ہوا ایسا؟ نہیں، یہاں طبیعت ہے ہی نہیں، حیوان تو ہے ہی نہیں یہاں پر، تو یہ دلالت کون سی ہوئی پھر؟ عقلیہ ‏ہوئی، اور دال لفظ ہے یا غیر لفظ؟ غیر لفظ، تو یہ دلالت غیر لفظیہ عقلیہ ہوئی۔ اور یا دلالت لفظیہ عقلیہ ہو گی، مثلاً دیوار کے پیچھے کسی شخص نے کہا: "زید"، کیا کہا؟ "زید"۔ کیا پتہ چلا آپ کو؟ ‏دیوار کے پیچھے کوئی ہے، اور نیز جب لفظ زید بولا اس نے تو کیا ذہن میں صورت آئی؟ زید کی صورت آئی۔ تو یہ جو ‏لفظ زید نے دلالت کی ذات زید پر، یہ کون سی دلالت ہوئی، لفظیہ یا غیر لفظیہ؟ لفظیہ، اور کون سی ہوئی؟ جی؟ غور کرو، ‏خود کتاب پہ نہ دیکھو، غور کرو۔ لفظ زید سے کس کی صورت ذہن میں آ رہی ہے؟ زید، تو جب تو یہ خود بخود ہے یا ‏مقرر کیا ہے زید کا لفظ اس کے لیے؟ تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ لفظیہ وضعیہ، شاباش۔ لیکن آپ کو یہ بھی پتہ چلا کہ ‏دیوار کے پیچھے کوئی ہے، تو کیا لفظ زید کو ہم نے اس کے لیے مقرر کیا ہے کہ ہمیں یہ پتہ چلے دیوار کے پیچھے ‏کوئی ہے؟ نہیں۔ یہ ایک الگ چیز خود بخود آپ کو معلوم ہو رہی ہے تو اس میں وضع کا کوئی دخل ہے؟ نہیں وضع کا ‏نہیں دخل۔ طبیعت کا کوئی دخل ہے؟ طبیعت کا بھی کوئی دخل نہیں، تو یہ کون سی ہوئی دلالت؟ عقلیہ، اور دال لفظ ہے کہ ‏غیر لفظ؟ لفظ ہے، تو یہ دلالت لفظیہ عقلیہ ہوئی۔ میں نے تو زید کی مثال دی، زید بولنے سے ذات زید کی ذات بھی ذہن میں ‏آ رہی تھی۔ صاحب کتاب نے زید کے بجائے "دیز" کی مثال دی، ایسا لفظ بولا جس کا معنی ہی کوئی نہیں تاکہ کوئی اور ‏چیز ذہن میں آئے ہی نہ۔ جب کسی نے دیوار کے پیچھے سے کیا کہا؟ "دیز"، "دیز" کا تو کوئی معنی ہی نہیں، معنی تو اب ‏ذہن میں آئے گا نہیں، صرف اتنا پتہ چلا کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے بھئی، تو یہ دلالت لفظیہ عقلیہ ہوئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصل کلام یہ ہوا کہ دلالت دو قسم پر ہوئی: یا وہ لفظیہ ہو گی یا غیر لفظیہ۔ پھر لفظیہ تین ‏قسم پر: یا دلالت وضعیہ ہو گی یا دلالت طبعیہ ہو گی یا دلالت عقلیہ۔ دلالت وضعیہ وہ جس میں وضع کا دخل ہو، دلالت ‏طبعیہ وہ جس میں طبیعت کا دخل ہو یعنی طبیعت کی وہ دال کو وجود دے، اور دلالت عقلیہ وہ جس میں نہ وضع کا دخل ‏ہو اور نہ طبیعت کا دخل ہو۔ عقلیہ عقلیہ نام سے آپ یہ نہ کہیں کہ اس میں عقل کا دخل ہے۔ عقل کا دخل تو سب میں ہے۔ ‏میں نے لفظ زید بولا، آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید کی۔ یہ خود بخود یا آپ کی عقل نے عقل نے آپ کو بتلایا؟ ‏عقل نے۔ اچھا، ایک ساتھی نے "آہ" یا "اوہ" کی آواز نکالی، آپ کو پتہ چل گیا کہ اس کو کوئی تکلیف ہے، یہ خود بخود پتہ ‏چلا یا آپ کی عقل نے آپ کو بتلایا؟ عقل نے، تو عقل تو ہر ایک میں ہے لیکن صرف نام رکھا ہے۔ جس میں وضع کا ‏دخل ہو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ وضعیہ، اگرچہ عقل کا دخل اس میں بھی ہے۔ جس میں طبیعت کا دخل تھا اس کا نام کیا ‏رکھا؟ طبعیہ رکھا، اگرچہ عقل کا دخل وہاں بھی ہے۔ تو تیسری قسم رہ گئی تھی وہ اس میں چونکہ نہ وضع کا دخل نہ ‏طبیعت کا دخل، لہٰذا اس کا نام عقلیہ رکھ دیا۔ اور اسی طرح دلالت غیر لفظیہ کی تین قسمیں ہیں: یا وہ وضعیہ ہو گی یا ‏طبعیہ ہو گی یا عقلیہ ہو گی بھئی۔ اس کے بعد میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ دلالت کی چھ قسموں میں سے سب سے سب سے زیادہ فائدہ دلالت لفظیہ وضعیہ ‏میں ہے، جس میں دال لفظ ہو اور دلالت کس کی وجہ سے ہو؟ وضع کی وجہ سے۔ اس میں سب سے زیادہ فائدہ ہے۔ بھئی ‏سب سے زیادہ فائدہ کس طرح ہے؟ بھئی آپ خود نہیں دیکھتے، یہ میں جتنی تقریر کر رہا ہوں یہ دلالت کون سی ہے؟ ‏لفظیہ وضعیہ۔ اس لفظ کو اس معنی کے لیے وضع کیا ہے، اس لفظ کو اس معنی کے لیے وضع کیا ہے، میں جو جو بولتا ‏جا رہا ہوں آپ سمجھتے جا رہے ہیں اس کو۔ تو تو یہ جتنی ہم آپس میں بات چیت وغیرہ کرتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں، یہ ‏علم ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں، یہ ساری کون سی دلالت ہوتی ہے؟ دلالت لفظیہ وضعیہ۔ تو لہٰذا اس کا فائدہ چونکہ سب ‏سے زیادہ ہے اس لیے مناطقہ اس سے بحث کرتے ہیں زیادہ۔ اور اب تو اگلے سبق پنجم میں آپ نے پڑھا کہ دلالت لفظیہ وضعیہ کی تین قسمیں ہیں: دلالت مطابقی، دلالت تضمنی اور ‏دلالت التزامی۔ دلالت مطابقی اس کو کہتے ہیں کہ لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرے۔ لفظ کیا کرے؟ اپنے ‏پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرے۔ جیسے انسان، انسان ہم نے نام رکھا ہے، کس کا؟ حیوان ناطق کا۔ کس کا؟ جب میں ‏نے کہا انسان، آپ کے ذہن میں فوراً کون سا حیوان آیا؟ حیوان ناطق۔ تو دیکھو، لفظ انسان کس کے لیے مقرر ہے؟ حیوان ‏ناطق کے لیے، اور انسان بولتے ہی پورا حیوان ناطق ذہن میں آیا یا نہیں؟ اس کو کہتے ہیں دلالت مطابقی کہ لفظ کیا ‏کرے، اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت۔ اچھا، جب پورا حیوان ناطق آپ کے ذہن میں آیا تو حیوان ناطق کے دونوں جز بھی آ گئے یا نہیں؟ کون سے؟ حیوان اور ‏ناطق۔ یہ دونوں جز آئے جب ہی تو پورا کامل حیوان ناطق ہوا، اگر ایک جز نہ آتا تو پورا حیوان ناطق ہو سکتا تھا؟ نہیں، ‏دونوں جز جب آئے ہیں تو کل پر بھی دلالت ہو گئی اور ہر ہر جز پر بھی دلالت۔ تو دلالت مطابقی کے ساتھ ساتھ دلالت ‏تضمنی بھی آ گئی۔ تو دلالت مطابقی کے ساتھ ساتھ دلالت تضمنی بھی آ گئی یعنی جب کل پر دلالت ہوئی تو ہر ہر جز پر ‏بھی کیا ہو گئی؟ دلالت۔ جیسے انسان کی دلالت کس پر؟ حیوان ناطق پر ہوئی، اسی طرح صرف حیوان پر بھی ہو گئی، ‏صرف ناطق پر بھی ہو گئی۔ آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ پورا حیوان ناطق۔ حیوان ناطق پورا تبھی آئے گا جب اس کا ایک ‏ایک جز کیا ہو، آپ کے ذہن میں۔ حیوان ناطق کے کتنے جز ہیں؟ دو: ایک حیوان اور ایک ناطق۔ تو پورا حیوان ناطق آپ ‏کے ذہن میں تبھی آئے گا نا جب دونوں جز آئیں، جب دونوں جز آ گئے تو ایک ایک جز آ گیا نہیں؟ ایک ایک جز آ گیا کہ ‏نہیں؟ کوئی رہ تو نہیں گیا؟ تو ہر ہر جز آ گیا تو ہر ہر جز پر بھی دلالت ہو گئی، یہ کیا ہوئی؟ دلالت تضمنی ہوئی۔ اور انسان جب ذہن میں آیا تو ساتھ ہی یہ بھی ذہن میں آ گیا کہ انسان تو ضاحک ہے یعنی اس میں اللہ نے ہنسنے کی ‏صلاحیت رکھی ہے، ساتھ ہی یہ بات بھی آ گئی کہ انسان تو کاتب بھی ہے، اللہ نے اس کو کتابت یعنی لکھنے پڑھنے کی ‏بھی صلاحیت، یہ نصیب فرمائی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ جب چیز کوئی ذہن میں آتی ہے تو اس کے جو ‏لازم ہوتے ہیں وہ بھی ذہن میں آ جاتے ہیں، جیسے مثلاً میں کہوں سورج، میں نے جیسے ہی سورج کہا آپ کے ذہن میں ‏اس کی روشنی بھی ذہن میں آ گئی اور اس کی دھوپ بھی ذہن میں آ گئی، حالانکہ میں نے تو دھوپ کا ذکر نہیں کیا، میں ‏نے تو روشنی کا ذکر نہیں کیا، میں نے تو صرف سورج کا ذکر کیا لیکن جب بھی کوئی چیز ذہن میں آتی ہے جو جو ‏چیزیں اس کے ساتھ لازم ہوتی ہیں، اس کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں، اس سے الگ نہیں ہو سکتیں وہ بھی ساتھ ذہن میں آ جاتی ‏ہیں۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے تو وہ بہت زیادہ ہنسی مذاق کرتا ہے فرض کریں۔ بہت زیادہ ہنسی۔ تو جب بھی اس کا نام ‏بولتے ہیں آپ کے ذہن میں وہ آتا ہے ساتھ ہی اس کی ہنسی مذاق والی صفت بھی آ جاتی ہے یا نہیں آتی؟ دیکھا، کیونکہ وہ ‏آپ نے دیکھا ہے کہ وہ ہمیشہ ہنسی مذاق کرتا ہے گویا ہنسی مذاق اس کے ساتھ لازم آپ نے سمجھ لیا ہے۔ تو جب بھی ‏کوئی چیز کو ذکر کیا جائے ساتھ ہی اس کے لازم بھی آ جاتے ہیں۔ تو جب انسان ذہن میں آیا تو اس انسان کا ضاحک ہونا بھی ذہن میں آ گیا اور ضاحک ہونا یہ انسان کا، انسان کو اس ‏ضاحک کے لیے مقرر کیا گیا ہے؟ نہیں۔ انسان کو تو حیوان ناطق کے لیے مقرر کیا گیا ہے تو انسان کی دلالت ضاحک ‏پر بھی ہو گئی وہ بھی ذہن میں آ گیا لیکن ضاحک یہ نہ انسان کا موضوع لہ ہے نہ اس کا جز ہے۔ انسان تو اس کے لیے ‏مقرر، موضوع لہ وہ معنی جس کے لیے اس کو مقرر کیا گیا ہے، موضوعٌ لہ اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ تو انسان کو ‏کس کے لیے مقرر کیا گیا ہے؟ حیوان ناطق، تو حیوان ناطق اس کا موضوع لہ ہوا اور حیوان صرف حیوان اس کا جز، ‏صرف ناطق بھی اس کا جز۔ تو جب انسان بولا تو پورا حیوان ناطق بھی ذہن میں آ گیا اور جب حیوان ناطق آیا تو معلوم ہوا ‏حیوان بھی آ گیا اور ناطق بھی آ گیا۔ ظاہر سی بات ہے، آپ کے ذہن میں پورا حیوان ناطق آ جائے اور حیوان نہ آئے یہ ‏کیسے ہو سکتا ہے؟ حیوان ناطق میں تو حیوان خود ہی داخل ہے یا نہیں؟ تو جب کل آئے گا ذہن میں تو جز خود بخود ذہن ‏میں ساتھ آئے گا، جز کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ اور جیسے ہی جب کل کے ساتھ جز آ گیا تو ساتھ اگر کوئی لازم ہوتا ہے ‏وہ بھی ذہن میں آ جاتا ہے تو ایک ہی لفظ میں تینوں دلالتیں ہو رہی ہیں: مطابقی بھی ہو رہی ہے، تضمنی بھی ہو رہی ہے ‏اور التزامی بھی۔ یہ ہمیشہ یاد رکھنا، جب بھی ہم کوئی لفظ بولتے ہیں ہمیشہ اولاً آتی ہے دلالت مطابقی اور اس کے ساتھ ساتھ کیا آ جاتی ‏ہے؟ تضمنی بھی اور التزامی بھی، کیونکہ جب کل ذہن میں آئے گا تو کل کہتے ہی کس کو ہیں؟ کل کسے کہتے ہیں؟ جس ‏میں سارے جز ہوں، تو سارے جز بھی آ گئے یا نہیں؟ تو سارے جز بھی آ گئے۔ اور ساتھ اس کے لازم بھی آ گئے یا نہیں ‏آ گئے؟ تو دلالت التزامی بھی ساتھ آ گئی۔ تو دلالت مطابقی بھی آئی، تضمنی بھی آئی اور التزامی، میں نے صرف لفظ انسان ‏بولا لیکن دلالتیں تینوں ہو گئیں۔ کل پر بھی ہو گئی دلالت اور جز پر بھی ہو گئی اور لازم پر بھی ہو گئی۔ تو طلبہ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ ایک وقت میں ایک دلالت ہوتی ہے، مطابقی ہو رہی ہے تو تضمنی نہیں ہے یا تضمنی ‏ہو رہی ہے تو مطابقی نہیں ہے، نہیں نہیں، یاد رکھو دلالت تو ہوتی ہی مطابقی ہے ہمیشہ۔ کیا ہوتی ہے؟ مطابقی کے بعد ‏دیکھو تضمنی اور التزامی بھی ہے یا نہیں۔ مطابقی کے ساتھ ہی تضمنی بھی ہو رہی ہو گی اور مطابقی کے ساتھ ہی ‏التزامی بھی۔ صرف دلالت تضمنی ہو اور مطابقی نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا، صرف دلالت التزامی ہو اور مطابقی نہ ہو ‏ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ یاد رکھو ہم جب بھی لفظ کو مقرر کرتے ہیں کسی معنی کے لیے مقرر کرتے ہیں نا، تو جب بھی وہ ‏لفظ بولو گے وہ پورا معنی ذہن میں آئے گا یا نہیں؟ وہ جب وہ پورا ذہن میں آیا تو مطابقی تو ہو گئی۔ کبھی ایسا ہو سکتا ‏ہے آپ نے ایک لفظ بولا اور آدھا معنی ذہن میں آیا آدھا نہیں آیا؟ نہیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا، ہمیشہ پورا معنی ذہن میں آئے ‏گا۔ تو ہمیشہ مطابقی تو ہمیشہ ہو گی، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا مطابقی نہ ہو۔ جب بھی لفظ بولیں گے کون سی دلالت ہو گی؟ ‏مطابقی۔ ہاں، انسان کے تو دو جز ہیں: حیوان اور ناطق۔ لیکن جس چیز، اگر ایک چیز کے جز ہی نہیں ہیں جیسے اللہ کی ‏ذات ہے۔ اللہ کی ذات، اللہ کی ذات بسیط ہے، مرکب نہیں، جز نہیں۔ کیونکہ جو جز جس کا جز ہو وہ ہمیشہ سے نہیں ہو ‏سکتا اور اللہ کی ذات تو ہمیشہ سے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ بحثیں انشاءاللہ آپ آگے پڑھ لیں گے۔ تو اللہ کی ذات کا جز ‏نہیں۔ تو جب میں نے کہا لفظ اللہ، آپ سمجھ گئے خالق ارض و سما کی بات ہو رہی ہے، وہ ذات جو زمین اور آسمان کو ‏پیدا کرنے والی ہے، جو ساری مخلوقات کو پیدا کرنے والی ہے، جو سب کو رزق دینے والی ہے، اس ذات کی بات ہو رہی ‏ہے۔ تو یہاں مطابقی تو ہو گئی لیکن دلالت تضمنی نہیں ہوئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کیونکہ جز ہے ہی نہیں۔ تو لہٰذا، لہٰذا ‏اگر ایک چیز کے جز ہی نہ ہوں تو وہاں مطابقی تو ہو گی لیکن تضمنی نہیں ہو گی، کیونکہ جز ہیں ہی نہیں۔ اور اسی طرح جب کوئی چیز ذہن میں آتی ہے تو اس کے ساتھ جو جو چیزیں لازم ہوتی ہیں، اس سے جدا نہیں ہوتی ہیں وہ ‏بھی ذہن میں آ جاتی ہیں۔ دلالت مطابقی کے ساتھ ہی کون سی دلالت آ جاتی ہے؟ دلالت التزامی بھی۔ لہٰذا اب دیکھو ادھر ‏دیکھو، ایک چیز ہے اس کے جز بھی ہیں اور اس کے ساتھ کچھ چیزیں لازم بھی ہیں، میں جیسے ہی اس چیز کا نام لوں گا ‏کون سی دلالت ہو گی؟ اس کے جز بھی ہیں اور چیزیں یاد رکھو، جیسے ہی میں نام لوں گا تینوں دلالتیں ہو جائیں گی۔ جب ‏میں اس کا نام لوں گا وہ پوری چیز ذہن میں آئے گی یا نہیں؟ جب پوری چیز ذہن میں آئی تو اس کا ایک ایک پرزہ بھی ذہن ‏میں آ گیا یا نہیں؟ پوری بنے گی تب جب ایک ایک پرزہ آئے ذہن میں، تو پوری تو دلالت تضمنی بھی ہو گئی، اور اس ‏کے ساتھ جو چیزیں لازم ہیں وہ بھی ذہن میں آئیں کہ نہیں آئیں؟ وہ بھی ذہن میں آئیں، تو کون سی دلالت ہوئی؟ التزامی بھی ‏ہو گئی۔ تو دیکھو میں جب بھی ایک چیز، پھر سنو، میں جب بھی ایک چیز کا نام لوں اور اس کے جز بھی ہوں اور اس ‏کے ساتھ کوئی چیز لازم بھی ہو تو کون سی دلالت ہو گی؟ تینوں ہو جائیں گی، کیا ہوں گی؟ تینوں: کل بھی ذہن میں آئے ‏گا، جز بھی آئے گا اور اس کے لازم بھی آ جائیں گے۔ لہٰذا میں نے کہا انسان، کون سی دلالت ہوئی؟ تینوں، شاباش، ہو ‏گئیں: مطابقی بھی کل پر بھی، جز پر بھی اور اس کے لازم یعنی انسان کے ضاحک اور کاتب ہونے پر بھی، صورت ‏سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک چیز ہے اس کے جز بھی ہیں اور اس کی لازم بھی ہیں تو جب میں اس چیز کا نام لوں گا کون ‏سی دلالتیں ہوں گی؟ تینوں ہو جائیں گی۔ اب ایک اور چیز ہے اس کا جز کوئی نہیں ہاں اس کے کچھ لازم ہیں، کیا ہیں؟ لازم ہیں۔ تو جب میں نے اس چیز کا نام لیا ‏کون سی دلالت ہوئی؟ مطابقی اور التزامی، تضمنی کیوں نہیں ہوئی؟ کیونکہ جز ہی نہیں ہے۔ اب ایک تیسری چیز ہے، اس ‏کا کل بھی ہے، اس کے اس کے جز بھی ہیں لیکن کوئی لازم نہیں۔ تو جب میں اس کا نام لوں گا کون سی دلالت ہو گی؟ ‏مطابقی اور تضمنی ہو گی، التزامی نہیں کیونکہ لازم ہے ہی کوئی نہیں۔ اب ایک چیز ایسی ہے نہ اس کا کوئی جز ہے نہ ‏اس کا کوئی لازم ہے، میں اس کا نام لیتا ہوں کون سی دلالت ہوئی؟ صرف مطابقی ہوئی کیونکہ لازم ہے ہی نہیں کہ دلالت ‏التزامی ہوتی اور جز بھی کوئی نہیں کہ دلالت تضمنی ہوتی۔ اور ہر ایک میں آپ دیکھ رہے ہیں مطابقی ہے یا نہیں؟ ‏مطابقی ہر ایک میں ہے لیکن کہیں پر التزامی نہیں ہے، کہیں تضمنی نہیں ہے اور کہیں دونوں نہیں ہیں۔ تو دلالت مطابقی ‏تو ہمیشہ ہو گی اس کے ساتھ کبھی التزامی اور تضمنی دونوں ہوں گی، کبھی ایک ہو گی، کبھی دونوں ہی نہیں ہوں گی ‏لیکن مطابقی ہر جگہ ضرور ہو گی کیونکہ لفظ کو مقرر ہی ایک معنی کے لیے کیا جاتا ہے وہ لفظ جب بھی بولو گے پورا ‏معنی سمجھ میں آئے گا۔ اب یاد رکھو، ایک لفظ میں نے بولا اس کے جز بھی ہیں اور اس کا لازم بھی، تو جب میں نے لفظ بولا کون کون سی ‏دلالتیں ہوئیں؟ تینوں ہو گئیں: مطابقی بھی، تضمنی بھی اور التزامی بھی۔ لیکن میرا ارادہ عموماً ایک کا ہو گا، کس کا؟ ایک ‏کا۔ یا تو میرا مراد پورا انسان، میں نے انسان بولا اور مراد کیا لے رہا ہوں؟ پورا انسان۔ یا میں انسان بولتا ہوں لیکن ارادہ ‏کس کا کرتا ہوں؟ صرف حیوان کا یا صرف ناطق کا، یا میں انسان بولتا ہوں اور صرف ضاحک یا کاتب کا ارادہ کرتا ‏ہوں۔ کر سکتا ہوں یا نہیں کر سکتا؟ کیونکہ دلالت ہو رہی ہے یا نہیں؟ ایک چیز سے دوسری چیز ذہن میں آ رہی ہے یا ‏نہیں؟ جب ذہن میں آ رہی ہے تو میں اس کا ارادہ بھی کر سکتا ہوں۔ یا تو میں مثلاً میں بول مثلاً میں بولوں بکری اور ارادہ ‏کروں ہاتھی کا، بکری بولنے سے تو ہاتھی ذہن میں ہی نہیں آتا، اب ارادہ کیسے کر رہے ہیں؟ ارادہ تو اس چیز کا کریں ‏جو ہو تو سکے، تو وہاں تو ارادہ نہیں ہو سکتا لیکن یہاں ساری چیزیں ذہن میں آ رہی ہیں یا نہیں؟ تو ساری میں سے جس ‏کا بھی میں چاہوں ارادہ کر سکتا ہوں۔ میں آپ سے باتیں کر رہا ہوں، باتیں کرتے کرتے میں نے انسان کا لفظ بولا اور ‏پورے حیوان ناطق کا ارادہ کیا، آپ کہیں گے یہ کون سی دلالت کا ارادہ کر رہے ہیں؟ دلالت مطابقی کا۔ میں نے انسان بولا ‏اور صرف حیوان کا ارادہ کیا یا صرف ناطق کا، آپ کہیں گے کون سی دلالت کا ارادہ کر رہے ہیں؟ تضمنی کا۔ میں نے ‏انسان بولا اور میں نے ارادہ کیا ضاحک یا کاتب کا، آپ کہیں گے کون سی دلالت کا ارادہ کر رہے ہیں؟ دلالت التزامی کا۔ ‏تو دلالتیں تو تینوں ہیں لیکن میں ارادہ ایک کا کر رہا ہوں۔ تو ارادہ اور چیز ہے اور دلالت ہونا اور چیز۔ ایک جگہ پر ‏دلالتیں ہوں گی باقی بھی، لیکن ایک وقت میں ارادہ کس کا ہو گا؟ ایک کا ہو گا۔ تو طلبہ یہ سمجھتے ہیں عموماً کہ شاید کل بول کر جب جز کا ارادہ کیا تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ کل بول کر ایک لفظ ‏بول کر اس کے جز کا ارادہ کیا، یہ کون سی ہوئی؟ تضمنی ہوئی۔ جب تضمنی ہوئی تو یہاں مطابقی نہیں ہے؟ نہیں بھئی، ‏مطابقی تو ہمیشہ ہو گی، مطابقی تو دلالت تو ہے لیکن ہم ارادہ اس کا نہیں کر رہے، ہم ارادہ کس کا کر رہے ہیں؟ دلالت ‏تضمنی کا۔ اور وہ کہے گا یہاں دلالت التزامی بھی نہیں، ہو سکتا ہے نہ ہو لیکن ہو سکتا ہے ہو بھی۔ اس چیز کا اگر لازم ‏ہے تو دلالت، تو ہاں تو دلالت ہو گی لیکن ہو سکتا ہے اس کا ارادہ آپ اس کا ارادہ نہیں کر رہے، تو ارادہ ہونا اور چیز ‏دلالت ہونا اور چیز ہے۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد ہم نے مفرد اور مرکب کے بارے میں پڑھا تھا: مفرد، تو مفرد اور مرکب عام علوم میں تو مفرد جو چیز ایک ‏ہو، اکیلی ہو اس کو کہتے ہیں مفرد، اور جب دو یا زیادہ ہوں تو کہتے ہیں مرکب۔ لیکن علم منطق میں ایسا نہیں ہے۔ منطق ‏میں مرکب اسے کہتے ہیں کہ جزء لفظ سے جزء معنی کا ارادہ کیا جائے، کیا کیا جائے؟ جزء لفظ سے جزء معنی پر ‏دلالت کا ارادہ کیا جائے۔ مثلاً میں نے کہا: "زید کھڑا ہے" اور آپ کو بات پوری سمجھ میں آ گئی یا نہیں؟ تو جزء لفظ سے ‏جزء معنی پر میں نے دلالت کا ارادہ کیا ہے اور تو یہ مرکب ہوا، کیا ہوا؟ مرکب ہوا۔ مرکب کہتے ہیں کہ جزء لفظ سے ‏جزء معنی پر دلالت کا ارادہ کیا جائے۔ یاد رکھو، لفظ جو ہے نا لفظ، ایک لفظ ہو اس کو بھی لفظ کہتے ہیں، دو، چار، چھ، دس جتنے بھی ہوں اس کو بھی لفظ ‏کہتے ہیں۔ زید یہ بھی کیا ہے؟ لفظ۔ زید اور بکر یہ بھی کیا ہے؟ لفظ۔ زید اور بکر دونوں میرے دوست ہیں، یہ بھی کیا ‏ہے؟ لفظ۔ جتنے بھی لفظ ہوں اس کو کہتے لفظ ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ لفظ کا اطلاق تھوڑے پر بھی ہوتا ہے اور زیادہ ‏پر بھی بولا جاتا ہے اس لفظ کو۔ تو مثلاً میں نے کہا: "زید کھڑا ہے"، یہ کیا ہے؟ لفظ، اور اس کے جز ہیں؟ کیا کیا؟ زید، ‏کھڑا، ہے۔ دیکھو زید الگ لفظ، یہ دلالت کر رہا ہے زید کی ذات پر۔ اچھا چلیے، بس کریں، بس بھئی۔ ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔